16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اتنا ہی ہمارا کہنا ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۔ یہ اس استبعاد کو رفع فرمایا ہے جس کی بنا پر کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ہم جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کسی اہتمام و انتظام کی ضرورت پیش نہیں آتی، ہم تو بس اتنا کہتے ہیں کہ ہوجا اور وہ کام ہوجاتا ہے تو ہمارے لیے لوگوں کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر ظلم ڈھائے گئے ہم ان کو دنیا میں بھی اچھی طرح متمکن کریں گے اور آخرت کا اجر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے، کاش وہ جانیں

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یہ ان مہاجرین کے لیے ہے جنہوں نے استقامت دکھائی اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

تفسیر آیت 41 تا 42:۔ وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً ۭ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۔ الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ یتَوَكَّلُوْنَ۔ مہاجرین حبشہ کی تحسین : یہ بات بھی یہاں قیامت کی ضرورت اور اس کے مقاصد کے تحت ہی بیان ہوئی ہے مطلب یہ ہے کہ آخر خدا کے بندے وہ بھی تو ہیں جو آج اس کی راہ میں، اس کے دین کی خاطر، طرح طرح کے مصائب و شداید کا ہدف بنے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر محض اپنے دین کو بچانے کی خاطر، اپنے وطن اور گھر در کو چھوڑ کر ایک غیر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔ کیا اللہ ان لوگوں کو ان کی ان جانبازیوں کا صلہ نہیں دے گا ؟ ضرور دے گا۔ دنیا میں بھی ان کو اچھی طرح متمکن کرے گا اور آخرت کا اجر تو اس سے کہیں بڑھ چرھ کر ہے۔ " لوکانوا یعلمون۔ یعی جو لوگ اللہ کے اس وعدے کی قدر و قیمت اور اس اجر آخرت کی عظمت سے واقف نہیں ہیں وہ جو چاہیں سمجھیں کاش وہ اس سے واقف ہوتے اگر واقف ہوتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ جن لوگوں کو وہ محروم سمجھ رہے ہیں انہوں نے دنیا اور آخرت دونوں کی کتنی بڑی بازی جیتی ہے۔ الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ یتَوَكَّلُوْنَ۔ یہ انہی مہاجرین کی تعریف ہے کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ہر قسم کے مصائب جھیلے لیکن متزلزل نہیں ہوئے بلکہ اپنے موقف حق پر ڈٹے رہے اور جب گھر چھوڑنے تک نوبت آگئی تو اللہ کے بھروسہ پر دامن جھاڑ کر اٹھ گئے ذرا اس بات کی پروا نہیں کہ کیا کھائیں گے اور کہاں سر چھپائیں گے۔ ہجرت کی حقیقت : ان آیتوں سے ہجرت کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر نقل مکان کو ہجرت نہیں کہتے۔ ہجرت یہ ہے کہ آدمی اپنے دین کے معاملے میں ستایا جائے یہاں تک کہ وہ اپنا محبوب وطن اور اپنا عزیز آشیانہ چھوڑ کر وہاں سے نکلتے اور دوسری سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنانے پر مجبور ہوجائے۔ اس راہ میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ اس کے سر پر آرے ہی کیوں نہ چل جائیں لیکن دین حق کی جو نعمت اس کو مل چکی ہے وہ اس سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہ ہو اور توکل کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں لیکن وہ یہ اعتماد رکھے کہ اللہ اس کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کی دست گیری فرمائے گا۔ یہی صبر و تکل ہجرت کی راہ میں زاد راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو دلائل اور کتابوں کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے رہے تو اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ منتظرین عذاب کو جواب : یہ ان لوگوں کا جواب ہے جن کا ذکر اوپر آیت 33 میں گزرا ہے کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا اللہ کا عذاب ہی آجائے۔ پہلے پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں سب بشر ہی تھے، بس یہ امتیاز ان کو حاصل ہوتا تھا کہ ان پر ہم اپنی وحی نازل کرتے تھے۔ پھر معترضن کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اس حقیقت سے بیخبر ہو تو جو پہلے کے حاملین کتاب ہیں ان سے پوچھ دیکھو وہ تمہیں بتائیں گے کہ انسانوں کے اندر منصب رسالت پر بشر ہی فائز ہوتے رہے ہیں، فرشت نہیں فائز ہوتے رہے ہیں۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر بھی یاد دہانی اتاری تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو اچھی طرح واضح کردو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے اور تاکہ وہ غور کریں

بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۭ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔ بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ، یعنی یہ رسول جو آتے رہے ہیں دلائل اور صحیفوں کے ساتھ ہی آتے رہے ہیں، عذاب الٰہی لے کر نہیں آتے رہے ہیں جس کا مطالبہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ۔۔ الایۃ یعنی جس طرح ہم نے پچھلے رسولوں کو دلائل اور صحیفوں کے ساتھ بھیجا اسی طرح تم پر بھی اپنی یاد دہانی (کتاب) اتاری تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو اچھی طرح واضح کردو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے اور وہ اختلاف رفع ہو جس میں وہ اپنے دین سے متعلق مبتلا ہوگئے تھے۔ اوپر آیت 39 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ ولعلہم یتفکرون۔ یعنی کتاب اتارنے کا یہ مقصد بھی ہے کہ اس پر وہ غور کریں تاکہ ان کی کجرویوں اور گمراہیوں کی اصلاح ہو۔ اگر عذاب آگیا تو اس چیز کا موقع ان کے لیے باقی نہیں رہے گا۔ یہ تو اللہ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے عذاب کے بجائے کتاب اتاری جو رفع اختلاف کے لیے روشنی اور عقل کے لیے رہنمائی ہے تو انہیں چاہیے کہ اس نعمت پر وہ اپنے رب کے شکر گزار ہوں، اس پر ایمان لائیں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں۔
Ayahs 16:45–47

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو بری بری چالیں چل رہے ہیں اس بات سے نچنت ہیں کہ اللہ ان کے سمتی زمین کو دھنسا دے یا ان پر عذاب وہاں سے آدھمکے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑلے تو وہ اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو عین اندیشہ کی حالت میں دھر لے۔ پس تمہارا پروردگار بڑا ہی شفیق و رحیم ہے

تفسیر آیات 45 تا 47:۔ اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45؀ۙاَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 46؀ۙاَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 47؀۔ مطالبۂ عذاب پر اظہارِ تعجب : یہ ان کے مطالبۂ عذاب پر اظہار تعجب اور ان کو ملامت ہے کہ اگر وہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر رہے ہیں ؟ خدا جہاں سے چاہے ان کو پکڑ لے۔ اس کی پکڑ سے بچنے کا انہوں نے کیا سامان کر رکھا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دے یا ان پر عذاب وہاں سے آدھمکے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو، یا چاہے تو عین ان کی آمدوشد کے دوران میں ان کو دھر لے، اگر وہ ایسا کرے جب بھی وہ اس کے قابو سے باہر نہیں کل سکتے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو عین اس وقت ان کو پکڑ لے جب کہ وہ خطرے کو پوری طرح محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے بیدار ہوں۔ غرض ہر حالت میں ان کو پکڑ سکتا ہے اگر وہ نہیں پکڑتا تو اس وجہ سے نہیں پکڑتا کہ وہ مہربان اور رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو آخری حد تک مہلت دیتا اور ان سے د رگزر فرماتا ہے۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ خدا نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے دہنے اور بائیں سے منقلب ہوتے ہیں اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور ان پر فروتنی ہوتی ہوتی ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 48 تا 60:۔ توحید کی آفاقی و انفسی دلیلیں : آگے کی آیات میں توحید کی بعض آفاقی اور انفسی دلیلیں بیان ہوئی ہیں اور مقصود ان کے بیان کرنے سے تنبیہ کے اس مضمون کو مؤکد کرنا ہے جو اوپر کی آیات 54 تا 47 میں گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کے لیے جلدی مت مچاؤ، اگر خدا کا عذاب آگیا تو اس سے نجات دینے والا خدا کے سوا کوئی اور نہیں بن سکتا۔ اگر کسی کو اپنے دیویوں دیوتاؤں پر اعتماد ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم یا مخل ہوسکے۔ اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ۔ " تفیا " کے معنی تقلب اور ردوبدل کے ہیں۔ یہ توحید کی تکوینی دلیل بیان ہوئی ہے کہ ہر چیز کا سایہ زمین پر بچھا رہتا ہے گویا وہ خدا کے آگے سجدہ میں ہے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ اٹھنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ جب سورج سمت راس میں آتا ہے تو سایہ بالکل کھڑا ہوجاتا ہے، پھر جب سورج جھکنا شروع ہوتا ہے تو سایہ دوسری سمت میں زمین پر بچھنا شروع ہوتا ہے ہر چیز کے سایہ کے چوبیس گھنٹے اسی رکوع و سجود میں گزرتے ہیں اور یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سایہ کا یہ سجدہ سورج کی بالکل مخالف سمت میں ہوتا ہے، سورج اگر پورب کی طرف ہے تو سایہ پچھم کی طرف پھیلے گا اور اگر سورج پچھم کی طرف ہے تو سایہ کا پھیلاؤ پورب کی طرف ہوگا۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ سایہ کی فطرت ابراہیمی ہے۔ آفتاب پرستی سے اس کو عار ہے۔ اس تکوینی شہادت کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ کوئی شخص اگر سورج یا کواکب میں سے کسی چیز کی پرستش کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اس کے اس فعل کی نفی کرتا ہے۔ وہ خود تو سورج کے آگے جھکتا ہے لیکن اس کا سایہ اس کی مخالف سمت میں جھکتا ے ہ۔ وہ طوعاً جس خدا کو سجدہ کرنے پر راضی نہیں ہے کرہاً اسی کے آگے سر بسجود ہے اس لیے کہ اس کا سایہ خدا ہی کے آگے جھکا ہوا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة رعد کی یہ آیت اشارہ کر رہی ہے۔ " وللہ یسجد من فی السموات والارض طوعا وکرھا وظلالہم بالغدو و الآصال : اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، راضی خوشی یا مجبورانہ اور ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ " مطلب یہ ہے کہ جو شخص طوعاً خدا کو سجدہ کرتا ہے اس کے سجدہ تکوینی اور سجدہ اختیار میں تو پوری پوری مطابقت ہوتی ہے، رہا وہ شخص جو غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اس کے اس سجدہ پر نکیر کرتا ہے۔ " وھم داخرون " یعنی اس تکوینی سجدہ میں ان پر عاجزی و فروتنی طاری ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس سے بارہ کی حالت میں خدا سے اکڑتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں اپنی اصل جبلت سے منحرف ہے۔
Ayah 16:49

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی، وہ سرتابی نہیں کرتے

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۔ فرشتوں کی فروتنی اور فرمانبرداری : یعنی آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں اس لیے کہ سب کی جبلت خدا پرستی ہی ہے۔ فرشتے بھی خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ نادان لوگ ان کو جو چاہیں بنا کر رکھ دیں لیکن وہ خود خدا کے فرمانبردار بندے ہیں وہ اس سے اکڑتے نہیں بلکہ بےچون و چرا اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے اوپر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۔ یعنی باایں ہمہ قرب و اتصال خدا کی بارگاہ عالی سے ان کا مقام بہت نیچے ہے۔ وہ اپنے اوپر خدا سے برابر ڈرتے رہتے ہیں۔ ناز اور تذلل کے فتنہ میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے، جو کچھ حکم ملتا ہے فورًا اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا کہ دو معبود نہ بنانا، وہ ایک ہی معبود ہے تو مجھی سے ڈرو

وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۔ توحید کے حق میں خدا کی شہادت : یہ توحید کے حق میں خود خدا کی شہادت کا حوالہ ہے جو اس کے انبیاء اور رسولوں، کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے سے لوگوں کو پہنچی ہے فرمایا کہ اس نے لوگوں کو اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ دو معبود نہ بنانا ہمیں ایک ہی معبود ہوں تو مجھی سے ڈرو۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے تو کیا تم تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا ۭ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ۔ دین کے معنی یہاں اطاعت کے اور واصب کے معنی دائم کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ وہی اطاعت کا حق دار ہے ہمیشہ۔ یعنی اس دنیا میں بھی اسی کی اطاعت ہونی چاہیے اور آخرت میں بھی اسی کی اطاعت ہوگی۔ اگر تم خدا کے سوا کسی اور سے ڈرتے ہو تو یہ سرتاسر تمہاری جہالت ہے۔
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے تم فریاد کرتے ہو

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۔ جار جاوا و جوارا کے معنی تضرع اور فریاد کرنے کے ہیں۔ توحید کی انفسی دلیل : یہ توحید کی انفسی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جتنی نعمتیں بھی تمہیں حاصل ہیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں اور جب کبھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تم خدا ہی کو پکارتے ہو۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اصل فطرت کے اندر صرف ایک ہی خدا کا شعو ہے، یہ دوسرے دیوی دیوتا جو تم نے بنا رکھے ہیں اصل فطرت کے اندر ان کی کوئی جگہ نہیں چناچہ جب کسی حقیقی پریشانی کا وقت آتا ہے تو یہ سارے بناوٹی دیوی دیوتا غائب ہوجاتے ہیں، صرف ایک ہی خدا باقی رہ جاتا ہے جس کا اعتقاد اصل فطرت کے اندر ودیعت ہے۔
Ayah 16:54

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ۔ پھر جب خدا مصیبت کو دور کردیتا ہے تو وہی پچھلی خرمستیاں پھر عود کر آتی ہیں۔ وہی دیوی دیوتا پھر جاگ پڑتے ہیں جو مصیبت کے وقت میں غائب ہوگئے تھے اور اسباب و وسائل کا وہی اعتماد پھر بحال ہوجاتا ہے جو پہلے دل و دماغ پر مسلط تھا۔ آدمی خدا کے بخشے ہوئے امن و اطمینان کو دوسروں کی طرف منسوب کرنا شروع کردیتا ہے اور خود خدا کو طاق نیساں پر رکھ دیتا ہے۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ ناشکری کریں اس چیز کی جو ہم نے ان کو بخشی ہے تو چند روزہ عیش کرلو، عنقریب تم جان لوگے

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ یہ اس صورت حال کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ اس طرح انسان خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا اور ان کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ فتمتعوا یہ دھمکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی ناشکری کرکے اس کی نعمتوں سے چند روز فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تمہارے سامنے اس کفران نعمت کا نتیجہ آجائے گا۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ان کا حصہ لگاتے ہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو دی ہیں۔ خدا کی قسم ! جو افترا تم کررہے ہو اس کی تم سے پرسش ہونی ہے

وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ ۭ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔ شرک خدا پر افتراء ہے : یعنی جن دیویوں دیوتاؤں کے بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل و ثبوت نہیں۔ محض وہم و گمان کی بنا پر انہوں نے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ ان کو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں میں حصہ دار بناتے ہیں۔ ان کے نام کے حصے بھی نکالتے ہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں کہ یہ ان کے فضل و کرم سے ان کو حاصل ہوئی ہیں۔ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔ یہ اپنی ذات کی قسم کھا کر ان کو دھمکی دی کہ یہ افتراٗ جو تم خدا پر کررہے ہو کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے، ایک دن اس کی تم سے پرسش ہونی ہے، خدا نے کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا ہے، یہ محض تہمت ہے جو تم اس پر جوڑ رہے ہو۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں، وہ ان چیزوں سے پاک ہے، اور ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ۔ یہ ان کے شرک کے دہرے گھنونے پن کو واضح فرمایا ہے کہ اول تو یہی بات نہایت بھونڈی ہے کہ خدا کا کسی کو شریک وسہیم ٹھہرایا جائے پھر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں لیکن خدا کے لیے انہوں نے بیٹیاں قرار دے رکھی ہیں یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اس خیال سے ان کی پوجا کرتے تھے کہ اگر یہ راضی رہیں تو اپنے باپ سے سب کچھ منوا لیتی ہیں۔ سبحنہ یعنی اللہ تعالیٰ اس طرح کی تمام نسبتوں سے پاک و منزہ ہے، کوئی اس کا بیٹا یا بیٹی نہیں، سب اس کی مخلوق ہیں۔
Ayahs 16:58–59

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہتا ہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

وہ اس منحوس خبر پر لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اس کو مٹی میں دفن کردے۔ افسوس، کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں

تفسیر آیت 58 تا 59:۔ یعنی خدا کی طرف تو انہوں نے بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں در آنحالیکہ بیٹیوں کے معاملے میں خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ ہر وقت رنج والم سے گھٹا گھٹا رہتا ہے، اس کو اپنے لیے ابعث ننگ سمجھ کر لوگوں چھپتا پھرتا ہے اور اس تردد میں پڑجاتا ہے کہ ذلت گوارا کرکے اس کو زندہ رکھے یا اس کو زمین میں دفن کرکے اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔ یعنی جس چیز کو اپنے لیے مکروہ سمجھتے ہیں اسی چیز کو خدا کی طرف یوں بےتکلف منسوب کرتے ہیں، اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ خدا کی طرف اس چیز کو منسوب کرنے میں احتیاط کرتے جس چیز کو اپنے لیے اس درجہ مکروہ سمجھتے ہیں۔ افسوس کتنا برا فیصلہ ہے جو انہوں نے کیا۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

بری تمثیل ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ کے لیے اچھی صفتیں ہیں۔ وہ غالب اور حکیم ہے

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے بری تمثیل ہے اور اللہ کے لیے اعلی صفتیں ہیں لیکن ان لوگوں نے معاملہ اس کے برعکس کررکھا ہے۔ اللہ کی طرف تو وہ چیزیں منسوب کرتے ہیں جن کو خود اپنے لیے بری سمجھتے ہیں اور اپنے لیے اچھے نتائج اور اچھے انجام کے مدعی ہیں، ویجعلون للہ مایکرھون و تصف الستہم الکذب ان لہم الحسنی (اور وہ اللہ کے لیے وہ چیزیں قرار دیتے ہیں جن کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ دعوی کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام ہے)
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں سے ان کی حق تلفی پر فوراً مواخذہ کرتا ہوتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک وقت معین تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے تو جب ان کا وقت معین آجائے گا تو اس سے نہ وہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے

آگے کا مضمون۔ آیات 61 تا 64:۔ مشرکین کو تنبیہ، پیغمبر ﷺ کو تسلی : آگے مشرکین کو تنبیہ ہے کہ خدا نے اگر تم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس لیے دے رکھی ہے کہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو پھر انہ اس سے پیچھے ہٹ سکوگے نہ آگے بڑھ سکوگے۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آ رہا ہے یہی کچھ تم سے پہلے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مومن و موحد بنا دینا نہیں ہے بلکہ لوگوں پر صرف اللہ کی حجت تمام کردینا ہے۔ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۔ کفر و شرک ظلم ہے۔ " ظلم " کے اصل معنی حق تلفی کے ہیں۔ چونکہ شرک و کفر سب سے بڑی حق تلفی ہے، جس کا ارتکاب کرکے بندہ اپنے رب کے سب سے بڑے حق کو بھی تلف کرتا ہے اور خود اپنی جان پر بھی سب سے بڑا ظلم ڈھاتا ہے، اس وجہ سے قرآن نے جگہ جگہ کفر و شرک کو ظلم تعبیر کیا ہے۔ مطالبۂ عذاب کا جواب : یہ کفار کے مطالبۂ عذاب کا جواب ہے کہ اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے کفر و شرک پر ان کو فورًا پکڑ لے۔ اگر وہ ایسا کرنے والا ہوتا تو زمین پر ایک جاندار کو بھی جینے کی مہلت نہ ملتی۔ بلکہ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ایک وقت معین تک مہلت دیتا ہے تاکہ جس کو توبہ و اصلاح کرنی ہو وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ و اصلاح کرلے ورنہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلے۔ ہاں جب وہ وقت معین آجاتا ہے تو پھر اس سے نہ پیچھے ہٹنے کا موقع ملتا ہے نہ آگے بڑھنے کا
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے لیے وہ چیز قرار دیتے ہیں جو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام ہے، لازماً ان کے لیے دوزخ ہے اور وہ اسی میں پڑے چھوڑ دیے جائیں گے

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى ۭ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ۔ افرط الشیء، نسیہ و ترکہ، اس چیز کو بھلا دیا، چھوڑ دیا، یعنی کفار و مشرکین دوزخ میں ڈال کر اسی میں پڑے چھوڑ دیے جائیں گے، پھر ان کی خبر نہیں لی جائے گی۔ مشرکین کی حماقت در حماقت : یہ ان کی حماقت در حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ اول تو یہی بات عجیب ہے کہ انہوں نے خدا کی طرف بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں جن کی نسبت خود اپنی طرف ان کو گوارا نہیں پھر ان کے اعتماد پر یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اگر آخرت وغیرہ کا کوئی مرحلہ بالفرض پیش آیا تو ان کی بدولت ان کے لی سب خیریت اور ہر مرحلہ میں کامیابی ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے لازماً دوزخ ہے اور وہ اس میں ایک مرتبہ ڈال کر ہمیشہ کے لیے اس طرح چھوڑ دیے جائیں گے کہ پھر ان کی خبر بھی نہیں لی جائے گی۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

خدا کی قسم ! ہم نے تم سے پہلے بھی قوموں کی طرف رسول بھیجے تو شیطانوں نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیے تو اب وہی ان کا رفیق ہے اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ کفار کو دھمکی، پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ کفار کو دھمکی اور پیغمبر ﷺ کے لی تسلی ہے کہ آج جو کچھ تمہیں پیش آرہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ کچھ تم سے پہلے آنے والے رسولوں، ان کی قوموں کی طرف سے، پیش آچکا ہے۔ ہم نے اپنے رسوسل بھیجے کہ لوگ ان کے ذریعے سے ہدایت کی راہ اختیار کریں لیکن لوگوں نے رسولوں کے بجائے شیطان ہی کو اپنا رہنما بنایا۔ اس نے ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے اور وہ اپنی گمراہیوں سے نکلنے پر راضی نہ ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہی ان کا رفیق اور ساتھی ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ تم ان پر اس چیز کو اچھی طرح واضح کردو جس میں وہ مختلف ہوگئے ہیں اور یہ ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی آخری حد : یہ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بتا دی گئی ہے کہ یہ کتاب ہم نے تم پر اس لیے نہیں اتاری کہ لازماً تم اس کو لوگوں سے قبول ہی کرادو، اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے، تمہاری ذمہ داری صرف اس قدرت ہے کہ اس کے ذریعہ سے اس دین حق کو اچھی طرح واضح کردو جس میں لوگ مختلف ہوگئے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی ﷺ احساس فرض کی شدت کے سبب سے بسا اوقات یہ محسوس فرمانے لگتے کہ لوگ جو ہدایت کی راہ اختیار نہیں کر رہے ہیں تو اس میں کہیں آپ کی کسی کوتاہی کو دخل نہ ہو۔ آپ کی اس الجھن کو دور کرنے کے لیے آپ کی ذمہ داری بتا دی گئی کہ آپ پر صرف واضح طور پر دین کو پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور بس۔ آگے اس مضمون کو مزید واضح فرمادیا ہے۔ " ویوم نبعث فی کل امۃ شہید علیہم من انفسہم وجئنا بک شہیدا علی ھؤلاء ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین : اور اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں اسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھائیں گے اور ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو واضح کردینے کے لیے اور ہدایت و رحمت اور بشارت بنا کر اسلام اختیار کرنے والوں کے لیے " ھُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔۔ یعنی یہ کتاب ہدایت ہے اپنے آغاز کے لحاظ سے اور رحمت ہے اپنے انجام کے لحاظ سے۔ جو لوگ اس ہدایت کو قبول کرلیں گے بالآخر وہی خدا کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا پس اس سے زمین کو زندہ کردیا اس کے خشک ہوجانے کے بعد۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو بات کو سنتے ہیں

آگے کا مضمون۔ آیات 65 تا 83:۔ مشرکین کو ملامت اور پیغمبر ﷺ کو تسلی : اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بخش رکھی ہیں آگے ان میں کچھ کو گنا کر مشرکین کو ملامت کی گئی ہے کہ ان میں سے کس نعمت کو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ پھر پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں ان کو راستہ پر لا کھڑا کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، تمہاری ذمہ داری صرف حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۔ توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے : آسمانوں سے پانی برسانا اور زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد اس پانی سے ازسر نو زندہ اور شاداب کر دنیا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ آسمان اور زمین دونوں میں ایک ہی خدائے حکیم و قدیر کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر ان کے اندر الگ الگ مختلف ارادے کارفرما ہوتے، جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں۔ تو یہ توافق کہاں سے وجود میں آتا جس پر اس دنیا کے بقا کا انحصار ہے۔ پھر یہ نہایت واضح نشانی قیامت اور بعث و نشر کی بھی ہے۔ جو خدا زمین کے چٹیل اور خش و مردہ ہوجانے کے بعد بارش کے ایک ہی چھینٹے سے اس کو حیات تازہ بخش دیتا ہے اس کے لیے قیامت کے دن لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔ فعل اپنے حقیقی معنی میں : فعل " یسمعون " یہاں اپنے حقیقی معنی میں ہے۔ یعنی جو لوگ بات کو کان کھول کر سنتے، اس کو سمجھتے اور اس کو قبول کرتے ہیں ان کے لیے تو اس کے اندر توحید اور قیامت سب کی دلیل موجود ہے۔ رہے وہ لوگ جو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں تو وہ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کانوں کو کوئی چیز بھی نہیں کھول سکتی۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں بھی بڑا سبق ہے۔ ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں، پنے والوں کے لیے نہایت خوشگوار

وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ۔ دودھ کی نعمت کی طرف اشارہ : پانی کی نعمت کے بعد یہ دودھ کی نعمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ غور کرنے والوں کے لیے چوپایوں کے اندر بھی خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کی توحید کے بڑے درس موجود ہیں۔ یہ چوپائے اسی زمین کی گھاس اور سبزیاں چرتے ہیں، جو ان کے پیٹوں میں ایک مرحلہ میں گوبر بنتی ہیں اور ایک مرحلہ میں خون، پھر اسی گوبر اور خون کے درمیان کے مرحلہ دودھ پیدا ہوتا ہے جس میں نہ گوبر کا کوئی شائبہ ہوتا ہے اور نہ خون کا، وہ ہر آمیزش سے بالکل پاک اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار، لذیذ اور غذا بخش ہوتا ہے۔ یہ ساری صورت حال اس بات کی شاہد ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ہی صناع و حکیم اور ایک ہی قدری و رحیم کے ارادے کے تحت چل رہی ہے یا اس بات کی شاہد ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے اپنے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں حصول عبرت علم کی کلید ہے : " عبرۃ " کے معنی ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک پہنچ جانا ہے۔ یہی عبرت علم کی کلید ہے۔ جس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے لیے ایک دروازہ کھل جائے تو اس کی روشنی میں دوسرے دروازے خود کھلتے جاتے ہیں۔ جو لوگ اپنی اس صلاحیت کو مردہ کردیتے ہیں، ان کے عقل و دل کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں، وہ دیکھتے سب کچھ ہیں لیکن ان کو سوجھتا کچھ بھی نہیں۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی اچھی چیزیں بھی۔ بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ بعض اور نشانیوں کی طرف اشارہ : یعنی جس طرح اس نے چوپایوں سے تمہارے لیے دودھ پیدا کیا ہے اسی طرح کھجور اور انگور سے بھی تمہارے لیے غذا فراہم کی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور پاکیزہ غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ یہاں " رزقا " کے ساتھ " حسنا " کی صفت لگا کر ضمناً اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ کھجور اور انگور اور اس طرح کی چیزوں سے نشہ آور چیزیں تیار کرنا ان کا صحیح استعمال نہیں ہے بلکہ یہ ان چیزوں کا سوء استعمال ہے۔ ان کا صحیح استعمال یہی ہے کہ ان سے پاکیزہ اور صحت بخش گذا حاصل کی جائے جس سے جسم اور عقل دونوں کو توانائی حاصل ہو نہ کہ ان کو ایسی شکل میں تبدیل کردیا جائے کہ وہ عقل اور دل کو ماؤف کردینے والی بن جائیں۔ ان تنوعات کی حکمت : انَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ یعنی اللہ نے اپنی نعمتوں میں یہ گوناگونی و بوقلمونی اس لیے رکھی ہے کہ سوچنے والے سوچیں اور سمجھنے والے سمجھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دنیا اپنی بقا کے یے ان تنوعات کی محتاج نہیں تھی، یہ بالکل سادہ اور یک رنگ بلکہ بالکل بےرنگ بھی ہوسکتی تھی لیکن اس کے خالق نے یہ چاہا کہ اس کی صفات کا ایک پرتو اور مظہر ہو تاکہ غور کرنے والے غور کریں اور اس کی ایک ایک چیز سے اس کے مالک کی اعلی صفات، اس کی بےنہایت قدرت و حکمت، اس کی غیر محدود رافت و رحمت، اس کی بےمثال ربوبیت و پروردگاری اور اس کی کامل وحدت ویکتائی کا کچھ تصور اور اس کی روشنی میں اپنے فرائض اور ذم داریوں کا احساس کریں۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر القا کیا کہ تو پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو چھتیں اٹھاتے ہیں ان میں چھتے بنا ،

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس پھر اپنے پروردگار کے ہموا راستوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے مشروب نکلتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں

تفسیر آیت 68 تا 69: وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ 68؀ۙثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۭ يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 69؀ وحی سے یہاں مراد وہ جبلی اور فطری وحی ہے جو ہر مخلوق کو اپنے اندر کی ودیعت کردہ صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے فاطر فطرت وجبلت کی طرف سے ہوئی ہے۔ ذلل ذلول کی جمع ہے جس کے اصلی معنی مطیع و منقاد کے ہیں۔ یہاں یہ سبل کی صفت ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہموار، سیدھے اور پٹے ہوئے راستہ کے ہوں گے شہد کی نعمت کی طرف اشارہ : پھلوں کی نعمت کے بعد یہ شہد کی نعمت کا ذکر فرمایا جو شہد کی مکھیاں انہی پھلوں سے تیار کرتی ہیں۔ فرمایا کہ تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو یہ القا کیا کہ تو پہاڑوں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی چھتوں میں اپنے چھتے بنا، پھر ہر قسم کے رس چوس اور تیرے رب نے تیری صلاحیتوں کے ظہور کے لیے جو راستے ہموار کردیے ہیں ان پر سرگرمی کے ساتھ مصرف کار رہ۔ چناچہ وہ اپنی جبلت کی رہنمائی میں پوری سرگرمی کے ساتھ مصروف کار رہتی ہے جس کے نتیجہ میں ان مکھیوں کے پیٹوں سے ایک مشروب برآمد ہوتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور جن میں لوگوں کے لیے ان کے مختلف امراض کا علاج ہے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ یہ ایک شہد کی مکھی کے اندر سے اللہ نے اپنی جو اتنی قدرت و حکمت اور اتنی رحمت و ربوبیت کا اظہار فرمایا یہ اس لیے فرمایا کہ لوگ تفکر و تدبر کریں، اس کائنات کے خالق کی صفات کو سمجھیں اور ان کے تقاضوں کی روشنی میں اپنی دنیا اور آخرت کو سنواریں۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی بالترتیب تین صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یسمعون یعنی وہ کھلے کانوں سے معقول باتوں کو سنتے اور ان کو قبول کرتے ہیں، دوسری یعقلون، یعنی وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہیں اور سوچنے سمجھے کی کوشش کرتے ہیں۔ تیسری یتفکرون یعنی وہ برابر اسرار کائنات میں تفکر و تدبر کرتے اور حقائق سے حقائق تک پہنچے کی سعی میں لگے رہتے ہیں۔ یہی صفتیں انسانی کا اصلی جوہر ہیں اور ان میں ایک حکیمانہ تدریج و ترتیب ہے۔ پہلا مرحلہ یسمعون۔ اس کائنات کے حقائق میں سے بیشمار حقائق ایسے ہیں جو بدیہیات فطرت کے حکم میں داخل ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لیے کسی بڑی کاوش کی ضرورت نہیں ہے ایک معقول انسان اول تو ان کو خود سجھتا ہے اور اگر خود نہیں سمجھتا ہے تو چونکہ معقول باتوں کے لیے اس کے کان کھلے ہوئے ہوتے ہیں اس وجہ سے دوسرے کسی معقول آدمی کی زبان سے ان کو سنتے ہی از دل ریزد بردل ریز کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یعقلون کا ہے جہاں سوچنے سمجھنے اور عقل سے کام لینے کی ضرورت پڑتی ہے، جہاں مقدمات کی ایک ترتیب ہوتی ہے اور پھر ان سے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یہ محرلہ پہلے مرحلہ سے اونچا ہے اور علم میں راہ میں اس کے ثمرات بھی زیادہ وقیع ہیں لیکن ہے یہ عام عقل کی دسترس کی چیز جو لوگ اپنی عقل کی قدر کرتے اور اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ اس کی برکات سے محروم نہیں رہتے۔ تیسرا مرحلہ یتفکرون کا ہے یہ سب سے اونچا مرحلہ ہے۔ یہ ان لوگوں کا مقام ہے جو اسرار کائنات میں برابر غور کرتے اور علم کے مدارج برابر طے کرتے رہتے ہیں۔ یہ حکماء کا درجہ ہے۔ جس طرح شہد کی مکھی اپنی بےمثال کاوش سے طرح طرح کے پھولوں سے رس چوس کر شہد بناتی ہے جس میں لوگوں کے لیے غذا اور شفا ہے۔ اسی طرح یہ لوگ اپنے تدبر و تفکر کی کاوشوں سے حکمت کا شہد جمع کرتے ہیں جس میں عقل و دل کے امراض کا مداوا ہوتا ہے وہ خود بھی اس سے آسودہ رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سی فیض پہنچتا ہے۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا، پھر وہی تم کو وفات دیتا ہے اور تم میں سے بعض ارذل عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں کہ جاننے کے بعد وہ کچھ نہ جانیں بیشک اللہ ہی علم والا اور قدرت والا ہے

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ۔ یعنی زندگی اور موت اور عمر کی چھوٹائی اور بڑائی بھی خدا ہی کی طرف سے ہے۔ چناچہ تم میں سے کتنے ہیں جو بچپن یا جوانی ہی میں مرجاتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو ارذل عمر تک پہنچتے ہیں یہاں تک کہ ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے۔ علیم و قدیر خدا ہی ہے۔ وہی تمام علم کا منبع ہے اور وہی ہر چیز کے لیے اندازے اور پیمانے مقرر کرتا ہے۔ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ کا اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ اس سے پہلے کلام میں کچھ حذف ہے یعنی تم میں کچھ تو بچپن یا جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور کچھ ارذل عمر کو پہنچتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر کا طول و قصر خدا ہی کی طرف سے ہے، اس میں کسی دوسرے کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا میں لکی کا صحیح حق ادا کیجیے تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ قدرت کچھ لوگوں کو ارذل عمر تک پہنچا کر یہ حقیقت ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ علم و عقل اور قدرت و اختیار سب خدا ہی کا عطیہ ہے وہی انسان جس کو اپنے علم اور اپنی عقل پر بڑا ناز ہوتا ہے ایک وقت اس پر ایسا آتا ہے جب وہ خود بھی دیکھ لیتا ہے اور وسرے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ شیرخوار بچو کی طرح عقل و علم اور قدرت و اختیار سے بالکل عاری ہو کر رہ گیا ہے اس کو اپنے تن بدن تک کا کچھ ہوش نہیں رہ جاتا۔ وہ تمام تر دوسروں پر انحصار کرتا اور اپنی ضروریات میں ان کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کی تمام علمی و عقلی صلاحیتیں اسی خدا کی طرف واپس ہوجاتی ہیں جو ان کا اصلی عطا کرنے والا ہے اس لیے کہ علیم و قدیر خدا ہی ہے جس کو جس حد تک بھی علم وقدرت کی نعمت ملتی ہے خدا ہی سے ملتی ہے اس وجہ سے اس پر فخر و غرور جائز نہیں ہے بلکہ اس کا شکر واجب ہے۔rnۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق کے معاملہ میں برتری دے رکھی ہے تو جن کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو نہیں دے دیتے کہ وہ اس میں برابر ہوجائیں تو کیا وہ اللہ کے فضل کا انکار کرتے ہیں

وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌ ۭ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ۔ رزق بھی خدا ہی کا عطیہ ہے : عمر اور علم و عقل کی طرح رزق بھی خدا ہی کا عطیہ ہے۔ اسی نے کسی کو کم دیا ہے اور کسی کو زیادہ۔ یہ کسی کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ جتنا چاہے اپنے رزق میں اضاہ کرلے۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ خدا ہی کا شکر گزار ہو اور اللہ کے بخشے ہوئے رزق و فضل کو دوسروں کی طرف منسوب کرکے اصلی رازق کی ناشکری نہ کرے۔ انسانی فطرت کی ایک حقیقت : فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ۔۔۔ الایۃ، یہ انسانی فطرت کی ایک حقیقت کی طرف توجہ دلا کر اس سے جو سبق حاصل ہوتا ہے اس کو سامنے رکھا کہ تمہارا اپنا حال تو یہ ہے کہ جن کو رزق میں برتری حاصل ہے وہ یہ نہیں کرتے کہ اپنی دولت اپنے غلاموں میں بانٹ کر خود ان کے برابر ہوجائیں اور ان کو اپنے برابر کرلیں تو خدا کے متعلق تم نے کیسے یہ فرض کرلیا کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا اپنے غلاموں اور مملوکوں میں بانٹ کر خود ان کی سطح پر آگیا ہے۔ یہ تو خدا کی نعمتوں کا صریح انکار ہے کہ اس کی بخشی ہوئی چیزوں کو ان کی طرف منسوب کیا جائے جن کو ان کے پیدا کرنے میں سرمو دخل نہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائی اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو کیا یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ۔ بیوی بچوں کی نعمت خدا ہی سے ملی ہے : یعنی رزق و فضل کی طرح بیوی بچوں کی نعمت بھی تمہیں خدا ہی سے ملی ہے۔ اسی نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور ان سے بیٹوں اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا اور پاکیزہ چیزیں کھانے اور برتنے کو دیں۔ ان نعمتوں کا حق تو یہ تھا کہ لوگ خدا ہی کا شکر کرتے اور اسی پر ایمان لاتے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل معبودوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور اصل منعم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا ان چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ ان کے ایمان کے لیے آسمان سے کسی رزق پر اختیار رکھتی ہیں، نہ زمین سے اور نہ وہ اس کی استطاعت ہی رکھتی ہیں

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۔ یہ اس ایمان بالباطل اور ناشکری کی تفصیل ہے کہ وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ آسمان سے ان کے لیے کوئی رزق اتارنے پر اختیار رکھتی ہیں نہ زمین سے کوئی چیز برآمد کرنے پر۔ اور صرف یہی نہیں کہ بالفعل ان کو اختیار حاصل نہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی اور اس کے لیے اپنا پورا زور بھی صرف کرڈالیں جب بھی ان کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو تم اللہ کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ صفات الٰہی کے باب میں تمثیل سے احتراز کی ہدایت : " ضرب مثل " سے یہاں مراد تمثیل و تشبیہ کو ذریعہ بنا کر خدا کے لیے صفتیں بیان کرنا ہے۔ مثلاً یہ کہ اپنے اوپر قیاس کرکے یہ کہا جائے کہ خدا کے بیٹیاں ہیں یا دنیوی بادشاہوں پر قیاس کرکے خدا کو ان کی جیسی صفات سے متصف کیا جائے۔ شرک کے بیشتر دروازے اسی تمثیل و تشبیہ سے کھلے ہیں اس وجہ سے اوپر کی آیات میں خد ا کی صفات کے باب میں صحیح رہنمائی دے کر اس فتنہ کے دروازے کو بند کردیا۔ فرمایا کہ خدا کی صفات کے معاملے میں تشبیہ و قیاس کو رہنما نہ بناؤ۔ خدا اپنی صفات کو خود ہی جانتا ہے، تم نہیں جانتے اس وجہ سے اپنی صفتیں جو وہ بتاتا ہے ان کو مانو اور ان پر ایمان لاؤ یہی راستہ ہدایت کا ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اور اللہ مثال بیان کرتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، کیا یہ کساں ہوں گے ؟ شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ خدا کی بیان کردہ تمثیل : یعنی اگر مثال ہی سننی ہے تو خدا مثال بیان کرتا ہے اس کو سنو۔ ایک طرف ایک غلام مملوک جس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ہے اور دوسری طرف ایک آزاد ہے جس کو خدا نے خوب رزق و فضل دے رکھا ہے، وہ پوری آزادی سے پوشیدہ اور علانیہ اس میں سے خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو پھر خدا اور اس کے مملوکوں کو کس طرح یکساں کردیتے ہو ؟ الحمد للہ، یعنی صحیح طور پر سوچیں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان میں سے اکثر اس بدیہی حقیقت سے واقف نہیں۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ مثال بیان کرتا ہے دو شخصوں کی جن میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قادر نہیں ہے اور وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، جہاں کہیں بھی وہ اس کو بھیجتا ہے وہ کوئی کام درست کرکے نہیں لاتا۔ کیا وہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور وہ ایک سیدھی راہ پر ہے دونوں یکساں ہوں گے

ایک دوسری تمثیل : وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ یعنی ایک دوسری تمثیل سنو۔ دو شخص ہیں جن میں سے ایک گونگا بہرا غلام ہے، کسی چیز پر کوئی قدرت نہیں رکھتا، وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، وہ جہاں کہیں بھی اس کو بھیجتا ہے کوئی کام وہ صحیح کرکے نہیں لاتا اور ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے، دوسروں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستہ پر ہے۔ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہوں گے ؟ اگر نہیں تو پھر تم خدا اور اس کی عاجز و بےبس مخلوقات کو یکساں کیسے کیے دیتے ہو۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا بھید اللہ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا معاملہ بس آنکھ جھپکنے کی طرح یا اس سے بھی جلد تر ہوگا، بےشکا للہ ہر چیز پر قادر ہے

اثنائے کلام میں ایک تنبیہ : وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ یہ اثنائے کلام میں ضدی مخاطبوں کو ایک تنبیہ ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی ہی نہیں۔ آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے علم میں ہے۔ جب وہ اس کو لانا چاہے گا تو وہ آنکھ جھپکتے کی طرح آجائے گی بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے سمع و بصر اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو

وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ یعنی انسان جب پیدا ہوتا ہے تو صرف ایک مغضۂ گوشت ہوتا ہے۔ عقل و علم اور قوت وصلاحیت سے بالکل عاری۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی قوتیں عطا فرماتا ہے۔ ان نعمتوں کا حق یہ ہے کہ تم اللہ کے شکر گزار بنو لیکن اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پا کر ان کو خدا ہی کی ناشکری کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اسی مضمون کو سورة ملک میں یوں بیان فرمایا قل ھو الذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصاری والافئدۃ قلیلا ما تشکرون : کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہیں سمع و بصر و دل و عطا فرمائے لیلکن تم بہت کم شکر گزار ہوتے ہو۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے پرندوں کو آسمان کی فضا میں مسخر نہیں دیکھا ؟ ان کو بس اللہ ہی تھامے ہوئے ہوتا ہے۔ بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں

آیات الٰہی کی طرف : اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ یعنی اگر یہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ ہر چیز کو اس کی ضرورت کی چیزیں خدا ہی کی عنایت سے ملی ہیں پرندے فضا میں اڑتے ہیں۔ آخر خدا کے سوا کون ہے جو ان کو فضا میں تھامتا ہے۔ سورة ملک میں ہے۔ ولم یروا الی الطیر فوقہم صافات و یقبضن ما یمسکھن الا الرحمن انہ بکل شیء بصیر (کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ اپنے پروں کو پھیلائے بھی ہوتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، ان کو خدائے رحمان ہی تھامتا ہے، بےوہ ہر چیز کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ یعنی جو لوگ ایمان لانا چاہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس میں سب سے بڑی نشانی تو اس بات کی ہے کہ اس کائنات کا خالق رحمان و رحیم ہے، اس نے جو چیز بھی پیدا کی اس کو ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کیں اور اس کو ان کے استعمال کا سلیقہ عطا فرمایا۔ اس میں اس بات کی بھی نشانی ہے کہ یہ کائنات ایک ہی خدا وحدہ لاشریک لہ کے تصرف میں ہے، وہی اس کے اضداد میں توافق و سازگاری پیدا کرتا ہے اور فضا کو پرندوں کی جو لانگاہ بنا دیتا ہے۔ اس میں اس بات کی بھی نشانی ہے کہ جو چیز جہاں تھمی ہوئی ہے خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے اگر وہ نہ تھامے تو کوئی چیز بھی اپنی جگہ پر ت کی نہیں رہ سکتی۔ سورة ملک میں ہے ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی مناکبہا وکلوا من رزقہ والیہ النشورا امنتم من فی السماٗ ایخسف بکم الارض فاذا ھی تمور۔ ام امنتم من فی السماٗ ان یرسل علیکم حاصبا فستعلمون کیف نذیر : وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرمانبردار بنا دیا تو اس کے مونڈھوں پر چلو پھر، اور اس کے رزق میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اکٹھے ہونا ہے۔ کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہوگئے کہ وہ تم پر سنگریزے برسا دینے والی آندھی بھیج دے تو تم جان لوگے کہ میرا ڈراوا کچا ہے۔