Ayah 16:80وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ۔
خود اپنے حالات پر غور کرنے کی دعوت : یعنی پرندوں کو تو تم نے دیکھا کہ ان کا خیمہ و خرگاہ سب ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب ذرا اپنے حالات پر غور کرو کہ اللہ نے کس کس طرح تم کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو وجہ سکون و راحت بنایا، دن بھر کے تھکے ماندے جب تم اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہو تو کیسی راحت پاتے ہو اور رات کی تای کی میں کیسی حفاظت کا احساس کرتے ہو۔ پھر خدا ہی ہے جس نے جانوروں کی کھالوں کو خیمے بنانے کے لیے موزوں بنا دیا جن سے تم خیمے بنالیتے ہو جو تمہارے کوچ و قیام کے لیے نہایت ہلکے پھلکے ہوتے پھر انہی جانوروں کی اون اور ان کے بالوں سے تم اپنے دوسرے سامان اور ضرورت کی چیزیں تیار کرلیتے ہو جو تمہارے کام آتی ہیں۔
Ayah 16:81وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ ۭكَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ۔
بعض اور نشانیوں کی طرف اشارہ : پھر اور دیکھو، یہ خدا ہی ہے جس نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں تمہارے لیے سایہ پیدا کردیا۔ تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنادیں، تمہارے لیے ایسے لباس بنا دیے جو گرمی اور سموم کی لپٹ سے تمہیں باتے اور جنگوں میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ نے یہ اتمام نعمت تم پر اس لیے کیا کہ تم خدا کے سوا کسی اور کے محتاج نہ روہ اور اپنے آپ کو کلیۃً اپنے رب ہی کے حوالے کرو۔
لباس کے ذکر میں گرمی سے حفاظت کا جو حوالہ آیا ہے یہ قرآن کے ابتدائی مخاطب اہل عرب کی رعایت سے ہے بلکہ اس سے اوپر جو چیزیں مذکور ہوئی ہیں ان میں بھی اہل عرب اور ان کی بدویانی زندگی کی رعایت ملحوظ ہے۔ کلام کے حسن اور اس کے اثر کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے خطاب کے اس پہلو کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی نعمت : یہ امر بھی ملحوظ رکھیے کہ اوپر جن چیزوں کے حوالے آئے ہیں یہ روز مرہ زندگی کی عام چیزیں ہیں جن سے مخاطب گروہ کے ہر شخص کو سابقہ تھا۔ قرآن نے ان کا ذکر کر کے گویا توجہ دلائی ہے کہ جب ان چیزوں میں سے بھی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کو تم خدا کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکو تو خدا کے سوا تم دوسروں کو کیوں پوجتے ہو، آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں ؟ پھر تو تمہیں بالکلیہ اپنے آپ کو خدا ہی کے حوالے کرنا چہایے جس نے تمہاری چھوٹی چھوٹی ضروریات تک کا اہتمام کیا۔
Ayah 16:82فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْن۔ یہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد ہے کہ اگر یہ اعراض و انکار پر جم گئے تو تم زیادہ ان کے درپے نہ ہو تمہارے اوپر ان کے ایمان کی ذمہ داری نہیں ہے، صرف واضح طور پر حق کو پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ تم اپنا فرض ادا کرکے ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی اس ضد کا انجام خود دیکھیں گے۔
Ayah 16:83يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا وَاَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہ آرہی ہوں، آخر ایسا کو دن کون ہوسکتا ہے کہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں۔ یہ لوگ جان کر انجان بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر نا شکرے ہیں، ان کے اندر سے ایمان لانے والے تھوڑے ہی نکلیں گے۔ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ خود بھگتیں گے۔
Ayah 16:84آگے کا مضمون۔ آیات 84 تا 90:۔ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہے : اوپر رسولوں کی ذمہ داری کی آخری حد واضح کردی گئی ہے۔ آگے اسی تعلق سے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد کسی قوم کے لیے گمراہی پر قائم رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے گا جس کو وہ خدا کے سامنے پیش کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں حق کی تبلیغ اور اتمام حجت کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ وہ ان سے قیامت کے دن گواہی دلوادے گا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں کو پہنچا دیا۔ یہی حیثیت نبی ﷺ کی اس امت کے لوگوں کے لیے ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے۔ اس کتاب کا جو بنیادی پیغام ہے آخر میں اس کا اجمالی حوالہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ
امۃ سے یہاں مراد امت دعوت ہے جس کی طرف کسی رسول کی بعثت ہوتی ہے، شہید سے مراد رسول ہے اس لیے کہ وہی دنیا میں اپنی قوم کے لوگوں پر حق کی گواہی دیتا ہے اور وہی قیامت کے دن گواہ بنا کر کھڑا کیا جائے گا اور گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا دین لوگوں کو پہنچا دیا تھا۔ ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا کے بعد کلام میں حذف ہے جس پر قرینہ دلیل ہے۔ یعنی قیامت کے روز رسولوں کی گواہی کے بعد کافروں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ عذر و معذرت کے لیے زبانیں کھولیں۔ استعتاب کے معنی ہیں کسی کا کسی سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اس کی وجہ شکایت کو رفع کرکے اس کو راضی کرتے۔ یہاں اس سے یہ مراد ہے کہ قیامت میں کافروں اور نافرمانوں سے یہ فرمائش نہیں کی جائے گی کہ وہ خدا کو راضی کرنے کی کوشش کریں اس لیے کہ اس وقت سعی و عمل کے دروازے بند ہوچکیں گے اور جزا و سزا کا مرحلہ شروع ہوجائے گا۔ مابعد الموت من مستعتب ولا بعد الدنیا دار الا الجنۃ او النار۔
کفار کو تنبیہ : یہ کفار ہے کہ اپنی سرکشی میں بہت آگے نہ بڑھتے جاؤ اس دن کو بھی یاد رکھو جس دن ہر امت میں سے اس کی طرف بھیجے ہوئے رسول کو ہم گواہ بنا کر اٹھائیں گے اور اسی سے گواہی دلوادیں گے کہ اللہ کا پیغام اس نے پورا پورا لوگوں کو پہنچا دیا تھا۔ پھر نہ کسی کو عذر و عمذرت پیش کرنے کے لیے زبان کھولنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ کسی سے یہ کہا جائے گا کہ وہ اللہ کے غضب کو دور اور اس کو راضی کرنے کی کوشش کرے اس لیے کہ رسول کے اتمام حجت کے بعد۔ نہ کسی عذر و معذرت کا موقع باقی رہتا اور نہ قیامت قیامت کے بعد خدا کو راضی کرنے کے لیے کسی سعی کا۔
Ayah 16:85وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ۔۔ الذین ظلمو سے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک کر کے خدا کے حقوق بھی تلف کیے اور اپنی جانوں پر بھی ظلم ڈھائے۔ فرمایا کہ یہ ظالم لوگ جب قیامت کے دن خدا کے عذاب کی پکڑ میں آجائیں گے تو پھر نہ اس عذاب میں کوئی تخفیف ہی ہوگی اور نہ عارضی طور پر ہی ان کو اس سے مہلت نصیب ہوگی، پھر وہ عذاب سخت سے سخت تر بھی ہوتا جائے گا اور اس کے تسلسل میں بھی کوئی انقطاع واقع نہ ہوگا۔
Ayah 16:86وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَاۗءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ شُرَكَاۗؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ ۚ فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ۔
مشرکین اور ان کے شریکوں میں رد و بدل یعنی آج یہ مشرکین اپنے جن شریکوں پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں وہ بھی رو در رو ان کو جھوٹا قرار دیں گے۔ یہ جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے تو پکاریں گے کہ اے پروردگار ! یہی ہیں وہ جن کو ہم تیرے سوا پکارتے رہے ہیں وہ جھٹ ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم بالکل جھوتے ہو۔ یعنی ہمیں کیا خبر کہ تم ہمیں پکارتے رہے ہو۔ اگر تم اس حماقت و جہالت میں مبتلا رہے ہو تو ذمہ داری سرتاسر تمہاری ہے، تم اس کو بھگتو، ہمیں اس میں کیوں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہو، ہم نے تم سے کب کہا تھا کہ تم خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کا یہ کہنا کہ یہیں ہیں ہمارے شریک جن کو ہم تیرے سوا پکارتے رہے، فی الجملہ اپنے آپ کو بری ٹھہرانے کے لیے ہوگا کہ اصلی مجرم یہ ہیں جن کے سبب سے ہم گمراہ ہوئے، اس روشنی میں دیکھیے تو شرکاء کے جواب کی تلخی کا اصل رخ واضح ہوگا۔
Ayah 16:87وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ لفظ سلم کی تحقیق آیت 28 کے تحت گزر چکی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ جن کی زندگی بھر پوجا کرتے رہے وہی رو در رو ان کو جھوٹا قرار دیں گے تو ان کے لیے عذر و معذرت اور اپنی بریت میں کچھ کہنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جائے گی پھر تو وہ بالکل بےبس ہو کر سپر ڈال دیں گے اور ان کے وہ دیوی دیوتا، جن کو خدا پر افترا کرکے انہوں نے خدا کا شریک بنایا تھا، سب غائب ہوجائیں گے۔
یہاں شرک کو افتراء سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین جن کو پوجتے تھے ان کی نسبت بالکل بےسند وہ یہ دعوی بھی کرتے تھے کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صریح افراء علی اللہ ہے۔
Ayah 16:88اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن۔
شرک کے لیڈروں کے لیے مزید عذاب۔ یہ کفار و مشرکین کے ان لیڈروں کی طرف اشارہ ہے جو صرف خود ہی مبتلائے کفر و شرک نہیں تھے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ فرمایا کہ ہم ان کے اس افساد کی پاداش میں ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے۔ ان کو خود ان کی گمراہی کی بھی سزا بھگتنی ہوگی اور دوسروں کی گمراہی میں ان کا جو حصہ ہوگا اس کے بقدر وہ اس کی سزا بھی بھگتیں گے۔
Ayah 16:89وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔
یہ مضمون اوپر آیت 84 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں یہ اضافہ ہے کہ جئنا بک شہیدا علی ھؤلاء یعنی جس طرح ہم تمام امتوں میں سے ایک گواہ ان پر کھڑا کریں گے اسی طرح تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر اٹھائیں گے۔ " ان لوگوں پر " یعنی ان اہل عرب پر جن کی طرف تمہاری بعثت براہ راست ہے اور جو تمہاری امت دعوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی ﷺ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے اہل عرب کی طرف آپ کی بعثت براہ راست ہوئی اور تمام خلق کی طرف آپ کی امت کے واسطہ سے جس کو شہداء اللہ فی الارض کی حیثیت حاصل ہے اور جس پر اب قیامت تک خلق کی رہنمائی کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔
کتاب الٰہی اتمام حجت کا ذریعہ ہے : وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ۔ یہ اس چیز کا حوالہ ہے جو اس دنیا میں حق کی گواہی اور لوگوں پر اتمام حجت کا ذریعہ ہے۔ فرمایا کہ تمہارے اسی فرض منصبی کے تقاضے سے ہم نے تم پر کتاب اتار دی ہے جو شہادت حق کے لیے تمام پہلوؤں سے جامع اور امکمل اور ہر متعلق چیز کو اچھی طرح واجح کردینے والی ہے تاکہ کسی کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اس کتاب کی تعریف میں مزید یہ فرمایا کہ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے جو اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردیں۔ یہ ان کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے گی پھر جو اس صراط مستقیم کو اختیار کرلیں گے ان پر خدائے رحمان و رحیم کی عظیم رحمت ہوگی اور یہ عظیم رحمت کی پیشگی بشارت ہے۔
Ayah 16:90قرآنی اوامر اور منہیا کا خلاصہ : اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔
یہ عظیم آیت تمام قرآنی اوامر اور منہیات کا خلاصہ ہے۔ قرآن جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کی بنیادیں بھی اس میں واضح کردی گئی ہیں اور جن چیزوں سے وہ روکتا ہے ان کی اساسات کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے تمام قرآنی اوامر کی بنیاد عدل، احسان اور ذوی القربی کے لیے انفاق پر ہے اور اس کی منہیات میں وہ چیزیں داخل ہیں جن کے اندر فحشاء منکر اور بغی کی روح فساد پائی جاتی ہے۔ یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود ان لوگوں کو متنبہ کرنا ہے جو قرآن کی مخالفت میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے تاکہ وہ سوچیں کہ جس چیز کی وہ مخالفت کر رہے اس کی تعلیم کیا ہے اور اس کی مخالفت سے کس عدل و خیر کی مخالفت اور کس شر و فساد کی حمایت لازم آتی ہے۔
یہاں نہایت اجمال کے ساتھ صرف اوامرو منہیات کی اساسات کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کس طرح کے احکام ہیں جو عدل و احسان کے تحت آتے ہیں اور کس نوعیت کی منہیات ہیں جو فحشاء منکر یا بغی میں داخل ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل اس سے آگے کی سورة۔ سورة بنی اسرائیل آیات 22 تا 39 میں آئی ہے۔ سورة بنی اسرائیل سورة نحل کے مثنی کی حیثیت رکھی ہے اس وجہ سے اس میں اس اجمال کی وضاحت کے لیے نہایت موزوں مقام تھا ہم تکرار بحث سے بچنے کے لیے یہ مناسب خیال کرتے ہیں کہ اس اجمال کی وضاحت وہیں کی جائے، جب عدل احسان، انفاق اور فحشاء منکر بغی کے اہم اجزا بھی سامنے ہوں گے تو خیر و شر کے ان اصولوں کے سمجھنے میں بڑی آسانی ہوگی۔ وہیں انشاء اللہ ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ اس تفصیل میں اور تورات کے احکام عشرہ میں بڑی مطابقت ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیر و شر کے یہ اصول سابق ادیان میں بھی مسلم رہے ہیں۔
عدل کی توضیح : یہاں بالاجمال صرف یہ ذہن میں رکھیے کہ " عدل " یہ ہے کہ جس کا جو حق واجب ہم پر عاید ہوتا ہے ہم بےکم وکاست اس کو ادا کریں، خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور اور خواہ وہ ہم کو مبغوض ہو یا محبوب۔
احسان کی توضیح : احسان عدل سے ایک زائد شے ہے۔ یہ صف حق کی ادائیگی ہی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ مزید برآں یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ دوسرے کے ساتھ ہمارا معاملہ کریمانہ اور فیاضانہ ہو۔
" ایتاء ذی القربی سے مراد : ایتاء ذی القربی احسان کی ایک نہایت اہم فرع ہے۔ قرابت مند عدل و احسان کے حقدار تو ہیں ہی مزید برآں وہ بربنائے قرابت مزید انفاق کے مستحق ہیں، ہر صاحب مال کو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں پر فیاضی سے خرچ کرنا چاہیے۔
" فحشاء، منکر سے سے مراد : فحشاء کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں۔ مثلاً زنا اور لواطت اور اس قبیل کی دوسری برائیاں۔ منکر معروف کا ضد ہے۔ معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کا ہر اچھی سوسائٹی میں چلن ہو۔ مثلاً مہمانداری، مسافر نوازی، اور اس قبیل کی دوسری نیکیاں۔ منکر اس کا ضد ہے تو اس سے مراد وہ باتیں ہوں گی جو معروف اور عقل و عرف کے پسندیدہ طریقہ اور آداب کے خلاف ہوں۔
" بغی " سے مراد : بغی کے معنی سرکشی اور تعدی کے ہیں یعنی آدمی اپنی قوت و طاقت اور اپنے زور و اثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اس سے دوسروں کو دبانے کی کوشش کرے۔
یہاں ان اجمالی اشارات پر قناعت کیجیے، آگے والی سورة میں ان کی پوری تفصیل آئے گی۔
Ayah 16:91آگے کا مضمون۔ آیات 91 تا 95:۔ یہود کو ملامت : آگے کی آیات میں خطاب یہود سے ہے اور یہ خطاب بغیر نام لیے اچانک اس طرح سامنے آگیا ہے جس طرح خطیب بسا اوقات محض رخ کی تبدیلی سے روئے سخن کو بدل دیتا ہے۔ اگرچہ وہ نام نہیں لیتا کہ خطاب کن سے ہے لیکن اس کی باتیں خود مخاطب کو معین کردیتی ہیں۔ یہود اس مرحلہ میں اسلام کے باب میں غیر جانبدار نہیں رہ گئے تھے بلکہ وہ اس سے خطرہ محسوس کرکے اس کی مخالفت کے لیے اندر اندر سازشوں میں مصروف ہوگئے تھے۔ انہوں نے قریش کے ان لیڈروں کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی جو اس دعوت سے روکنے کے لیے پورے جوش خروش سے میدان میں نکل آئے تھے۔ قرآن نے یہاں یہود کی اسی حرکت پر ان کو ملامت کی ہے کہ تم اللہ سے عہد باندھنے کے بعد محض بربنائے حسد مخالفین کی صف میں جا کھڑے ہوئے ہو اور اس بڑھیا کے مانند جو اپنا کا تا بنا خود اپنے ہی ہاتھوں ادھیڑ کے رکھ دے، تم اللہ سے باندھے ہوئے عہد کے بخیے ادھیڑ رہے ہو۔ اللہ کے عہد کو متاع دنیا کے عوض نہ بیچو اور اپنی قسموں کو لوگوں کو حق سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَلَا تَـنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔
یہود کو ایفائے عہد کا حکم : اوپر آیت 88 میں قریش کے ان اشرار کا ذکر گزر چکا ہے جو اللہ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے۔ اب اس ضمن میں نام لیے بغیر یہود کو مخاطب کرلیا ہے اس لیے کہ اس مرحلہ میں انہوں نے بھی اپنے تمام مکر و فریب کے ساتھ اللہ کی راہ سے روکنے کی اس مہم کی پشت پناہی شروع کردی تھی۔ ان کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ اللہ سے جو عہد تم نے باندھا ہے اس کو پورا کرو اور اپنی قسموں کو جو موکد و موثق کرنے اور ان پر اللہ کو گواہ اور ضامن ٹھرہانے کے بعد نو توڑو۔ یاد رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اور جو کچھ کرو گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ شریعت کے ایک ایک حکم کو پوری جماعت کے سامنے پیش کرتے اور اللہ کو گواہ اور ضامن بنا کر لوگوں سے اس کی پابندی کا عہد لیتے اور لوگ قسم کھا کر اس کی پابندی کا عہد کرتے۔ اس طرح ان کی پوری شریعت کی حیثیت اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے درمیان ایک عہد نامہ کی تھی۔ چناچہ اسی بنا پر تورات کو عہد نامہ کہتے ہیں۔ یہ عہد نامہ جس طرح شریعت کے عام احکام و قوانین پر مشتمل ہے اسی طرح اس میں وہ عہد بھی شامل ہے جو بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں پیدا ہونے والے نبی امی کی تائید و نصرت کا کام لیا گیا تھا اوپر آیت ان اللہ یامر بالعدل الایۃ کے تحت ہم یہ اشارہ بھی کرچکے ہیں کہ جن احساسات پر قرآن کے اوامرو منہیات مبنی ہیں بعینہ انہی اساسات پر تورات کے احکام عشرہ مبنی ہیں۔ قرآن نے یہاں انہی عہود کو یاد دلایا ہے کہ خدا سے جو عہد تم باندھ چکے ہو اس کو پورا کرو اور پابندی عہد کی پکی پکی قسمیں کھانے اور ان پر اللہ کو ضامن اور گواہ ٹھہرانے کے بعد ان کو نہ توڑو یاد رکھو کہ آج جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے پوری طرف باخبر ہے اور کل تمہیں اس عہد کی جواب دہی کرنی ہوگی
Ayah 16:92وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۭ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۭ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ۭ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔
انکاث نکث کی جمع ہے جس کے معنی ادھیڑی ہوئی رسی یا تار تار کیے کپڑے یا سوت کے ہیں۔ دخل کے معنی مکروفریب اور فساد کے ہیںَ
یہود کی مفسدانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ : ان یہود ہی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس عورت کے مانند نہ بنا جاؤ جو اپنا کا تا ہوا سوت، اس کو اچھی طرح کاتنے اور مضبوط کرنے کے بعد، خود اپنے ہی ہاتھوں تار تار کرکے رکھ دے۔ یعنی پہلے تو تم نے عہد باندھا اور قسمیں کھا کھا کے اس کو خوب موکد و محکم کیا لیکن جب اس کو پورا کرنے کا وقت آیا تو اس عہد کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے۔ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ ، یعنی تم اپنی قسموں کو افساد اور مکر و فریب اور اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے روکنے اور ان کے جمے ہوئے قدموں کو اکھاڑنے کا ذریعہ بناتے ہو۔ یہ یہود کی ان مفسدانہ کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ اسلام کی طرف مائل لوگوں کو اسلام سے روکنے یا اسلام قبول کرلینے والوں کو متزلزل کرنے کے لیے صرف کررہے تھے۔ یہ قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ یہ نیا دین سرتاسر خدائی دین کے خلاف ہے۔ ہمارے صحیفوں میں نہ اس کی کوئی سند موجود ہے اور نہ ہمارے نبیوں نے اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے۔ یہود کو چونکہ فی الجملہ مذہبی تقدس کی سند حاصل تھی اس وجہ سے ان کی یہ قسمیں ان لوگوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کرتی تھیں جو ان کی چالوں اور ان کے مخفی محرکات سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ۔ ان سے پہلے مخافۃ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ اکثر محذوف ہوجایا کرتا ہے۔
یہود کی سرگرمی کا اصل محرک : یہ یہود کی ان تمام مفسدانہ سرگرمیوں کے اصل محرک سے پردہ اٹھایا ہے کہ تمہاری یہ ساری تگ و دو اس حاسدانہ اندیشہ کی بنا پر ہے کہ تم ڈرتے ہو کہ کہیں یہ نئی قائم ہونے والی امت تمہاری امت سے عدد اور قوت میں بڑھ نہ جائے۔ اس خوف نے تمہیں حق کا حامی و ناصر ہونے کے بجائے اس کا دشمن بنا کر کھڑا کردیا ہے اس طرح خدا تمہاری آزمائش کررہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ تم حق کے حامی بنتے ہو یا اپنے تعصبات ہی کے جال میں پھنس کر رہ جاتے ہو۔ یہ یاد رکھو کہ جن چیزوں کو آج تم بنائے اختلاف بنائے ہوئے ہو قیامت کے دن اللہ ان کو اچھی طرح واضح کردے گا کہ حق کیا تھا اور تم نے کس طرح دیدہ و دانستہ اس پر پدے ڈالنے کی کوشش کی۔
یہود کی مثال بڑھیا سے : الذی اور التی اگرچہ معرفہ کے لیے آتے ہیں لیکن تمثیلات میں معرفہ لانے سے مقصود بسا اوقات صرف صورت حال کو نگاہوں کے سامنے مصور کرنا ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں کسی متعین بڑھیا کو مراد لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک ایس بڑھیا کو فرض کرلینا کافی ہے جس سے چشم تصور کے سامنے واقعہ کی پوری تصویر آجائے۔ جس طرح یہاں یہود کی مثال ایک بڑھیا سے دی ہے اسی طرح ان کی مثال اعراف 175 تا 176 میں ایک ایسے شخص سے دی ہے جس کو اللہ نے اپنی آیات وتعلیمات سے نوازا لیکن وہ ان سے نکل بھاگا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شیطان کے ہتھے چڑھ گیا اور گمراہ ہو کے رہ گیا۔ اس کے بعد ان کی تمثیل کتے سے دی ہے جو ہر وقت اپنی زبان نکالے رکھتا ہے۔ نہ ڈانٹا جائے جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے اور ڈانٹا جائے جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے۔ اس تمثیل میں بھی الذی استعمال ہوا ہے لیکن ہم نے اس کے محل میں واضح کیا ہے کہ اس سے مقصود محض تصویر حال ہے کہ کہ کسی متعین شخص کی طرف اشارہ۔
Ayah 16:93وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یعنی اگر اللہ اپنے جبر و زور سے کام لینا چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے جبر کے بجائے تمہیں اختیار بخشا ہے اور اس طرح تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے اختیار و ارادہ سے کام لے کر ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہو یا ضلالت کی، تو تم میں سے جو ہدایت کے طالب بنتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور جو ضلالت ہی پر جمے رہنا چاہتے ہیں ان کو اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا کی مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی اس بات کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں ہدایت و ضلالت میں امتیاز کرنے کے لیے عقل بھی عطا فرمائی ہے، پھر اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے بھی تم پر حجت تمام کردی ہے۔ اس وجہ سے ایک دن آئے گا جب تم میں سے ایک ایک سے جو کچھ تم کرتے رہے اس کی بابت پرسش ہونی ہے اور پھر تم اپنے اعمال ہی کے مطابق جزا و سزا پاؤگے
Ayah 16:94وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔
یہود کا ذریعہ افساد قسمیں تھیں۔ یہود لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے سب سے زیادہ جس ہتھیار سے کام لیتے تھے وہ ان کی قسمیں تھیں۔ جھوٹے لوگ اول تو اپنی نفسیاتی کمزوری کے سبب سے قسمیں کھاتے ہی زیادہ ہیں، پھر ان کے پاس دلیل کون سی تھی جس کو وہ اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف پیش کرسکتے لے دے کے قسموں ہی کا سہارا تھا۔ وہ انہی کے بل پر کوشش کرتے کہ جن لوگوں کے قدم اسلام میں جم چکے ہیں ان کو متزلزل کردیں اور جو لوگ ان کی طرف مائل ہورہے ہیں ان کو اس کی طرف بڑھنے سے روک دیں۔ یہ لوگ چونکہ سابق مذہب اور سابق انبیاء کے وارث ہونے کے بھی مدعی تھے اس وجہ سے اپنی مذہبی تقدس کے پردے میں وہ لوگوں کو قسمیں کھا کھا کے یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ اس نئے مذہب اور نئے پیغمبر کو سابق مذاہب اور سابق انبیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پیغمبر سابق مذاہب اور انبیاء کا جو حوالہ دیتے ہیں نعوذ باللہ اس میں وہ جھوٹے ہیں۔ وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ سوء کے معنی بدی اور برائی کے ہیں۔ یہاں سوء سے مراد نتیجہ سوء اور انجام سوء یعنی عذاب ہے۔ چونکہ عذاب الٰہی لوگوں کے اپنے اعمال ہی کا مثمرہ اور نتیجہ ہوگا اس وجہ سے یہاں فعل ہی سے نتیجہ فعل کو ظاہر کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو کہ تمہاری فریب کارانہ قسموں سے کسی کے حق پر جمے ہوئے قدم اکھڑ جائیں اور تمہیں اللہ کی راہ سے روکنے کے اس جرم کی پاداش میں اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑے۔ اگر ایسا ہوا تو تمہارے لیے ایک عذاب عظیم تم حق کے گواہ بنا کر کھڑے کیے گئے ہو اگر تمہی نے حق سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تو سزا بھی اس کی بہت ہی سخت بھگتو گے۔
Ayah 16:95وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
اشتراء بمعنی ترجیح و مبادلہ : لفظ اشتراء پر سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی بحث کرچکے ہیں اور آل عمران کی آیت 77 کے تحت بھی۔ جب مبادلہ چیز کا چیز سے ہو، جیسا کہ عموماً زمانہ ادیم میں رواج رہا ہے تو ہر شے مبیع بھی ہوسکتی ہے اور ثمن بھی۔ اس وجہ سے کسی شے کا اشتراء اس مفہوم میں خریدنا نہیں ہوتا جس مفہوم میں ہم خریدنا بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم مبادلہ ہوتا تھا۔ اس وجہ سے لفظ اشتراء مبادلہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پھر اس مفہوم سے ترقی کرکے ترجیح دینے کے معنی بھی۔ ثمن قلیل سے مراد دنیا اور متاع دنیا ہے اور ما عنداللہ سے مراد اجر آخرت ہے۔ اجر آخرت کے مقابل میں خواہ دنیا اور متاع دنیا کی کتنی ہی بڑی مقدار حاصل ہوجائے وہ بہرحال ناچیز اور حقیر ہی ہے اس لیے کہ وہ چند روزہ اور فانی ہے اور اجر آخرت ابدی اور لازوال ہے۔ فرمایا کہ عہد الٰہی کو حقیر منفعت دنیوی کے عوض نہ فروخت کرو۔ عہد الٰہی پر قائم رہنے کا اللہ کے ہاں جو صلہ ہے اس دنیا کی منفعتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہے اگر تم اس حقیقت کو سمجھو
Ayah 16:96آگے کا مضمون۔ آیات 96 تا 105:۔ مخالفین کے بعض اعتراضات کے جواب : آگے پہلے تو مخالفین حق کو دھمکی اور ان مسلمانوں کو جو حق کے مخالفین کے نرغہ میں تھے صبر و استقامت کی نصیحت اور اس کے اچھے انجام کی بشارت ہے۔ پھر قرآن کی دعوت کے سلسلہ میں جو چیز شیاطین کی رویشہ دوانیوں سے محفوظ رکھنے والی ہے اس کی ہدایت اور بعض ان اعتراضات کا جواب ہے جو یہود نے لوگوں کو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے بد ظن کرنے کے لیے پھیلائے تھے اور جن کو قریش نے بھی بےسمجھے بوجھ دہرانا شروع کردیا تھا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
مخالفین کے لیے تنبیہ اہل ایمان کے لیے بشارت : مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ۭ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ اس آیت کا پہلا ٹکڑا مخالفین کے لیے تنبیہ اور دوسرا ٹکڑا اہل ایمان کے لیے بشارت ہے جو اس وقت معاندین کے نرغے میں طرح طرح کے روحانی و جسمانی مصائب کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ مخالفین کو خطاب کرکے فرمایا کہ جس متاع دنیا کی محبت میں تم حق کی یہ مخالفت کر رہے ہو یہ ایک دن ختم ہوجانے والی ہے، باقی رہ جانے والی چیز دو اجر ہے جو اس دنیا میں کیے ہوئے اعمال کے بدلہ میں ملنے والا ہے۔ تو یہ سن لو کہ یہ اجر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو آج ہماری راہ میں مصائب جھیل رہے ہیں اور حق پر ثابت قدم ہیں۔ ان کا یہ اجر ان کے اعمال کی نسبت سے کہیں بہتر ہوگا۔
Ayah 16:97مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ یہ اسی بشارت کی تفصیل ہے، فرمایا کہ جو کوئی نیک عمل کرے گا، عام اس سے کہ وہ مرد ہے یا عورت، اگر وہ ایمان پر قائم ہے تو ہم اس کو اچھی اور پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا بہترین صلہ دیں گے۔ اچھی اور پاکیزہ زندگی بسر کرانے کا یہ وعدہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے ہے۔ جو لوگ ایمان پر قائم رہنے اور عمل صالح کی زندگی بسر کرنے کا عزم کرلیتے ہیں ان کو آزمائشیں تو پیش آتی ہیں۔ شیاطین جن و انس ان کو ستانے اور الجھنوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو اس کے لیے ڈھیل بھی ملتی ہے لیکن اس ڈھیل کی ایک معین حد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے بندوں کے صبر اور ان کی استقامت کا امتحان کرتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ اس امتحان کی حد کیا ہونی چاہیے، چناچہ جو ہی وہ حد پوری ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ شیاطین جن و انس کو اس سے اگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتا اہل ایمان ان امتحانات سے گزرنے کے بعد اپنے ایمان میں قوی سے قوی تر ہوجاتے ہیں۔ ان کی زندگی کی پاکیزگی اور ان کی طمانیت و سکینت میں روز افزوں اضافہ ہوتا ہے اور اگر اس راہ میں انہیں موت بھی پیش آتی ہے تو وہ اس کا بھی خندہ جبینی سے خیر مقدم کرتے ہیں اہل ایمان کی اس روحانی بادشاہی کا اندازہ وہ لوگ نہیں کرسکتے جو ایمان کی قوت اور اس کی حلاوت سے نا آشنا ہیں۔
آیت میں یہ وعدہ تصریح کے ساتھ مردوں اور عورتوں دوں کے لیے مذکور ہے۔ بظاہر اس تصریح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کا ایک خاص محل ہے۔ وہ یہ کہ اس دور میں جس طرح مسلمان مرد اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنے کے لیے نہایت کڑے امتحانات سے گزر رہے تھے اسی طرح بہت سی خواتین بھی اپنا ایمان بچائے رکھنے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے تھیں اور ان کا امتحان کمزور عنصر ہونے کے سبب سے مردوں کے امتحان سے بھی زیادہ سخت تھا۔ یہاں قرآن نے مردوں کے ساتھ خاص طور پر عورتوں کی تصریح کرکے ان کی دلداری اور حوصلہ افزائی کردی کہ اگر انہوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کرنے کا عزم کرلیا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو ضرور پاکیزہ زندگی بسر کرائے گا۔ شیاطین اس نعمت سے ان کو محروم نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ اس کا موقع ان کو نہیں دے گا۔
Ayah 16:98شیطانی فتنوں سے پناہ مانگنے کی ہدایت : فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ لفظ قراءت یہاں عام ہے۔ یعنی خواہ یہ پڑھنا اپنی تلاوت کے طور پر ہو یا لوگوں کو دعوت دینے اور انہیں قرآن سنانے کے لیے، دنوں ہی حالتوں میں اس کے پڑھنے سے پہلے شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لی جائے۔
یہ آیت تمہید ہے ان اعتراضات کے جواب کی جو یہود نے قران کے خلاف اٹھائے تھے اور جن کے اٹھانے سے ان کا مقصد قرآن پر ایمان لانے والوں یا اس کی طرف مائل لوگوں کو اس سے بدظن اور برگشتہ کرنا تھا۔ قرآن نے آگے آیات 101 تا 103 میں ان اعتراضات کے جواب دیے ہیں اور اس جواب سے پہلے بطور تمہید یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جب تم قرآن کو پڑھو یا دعوت حق کے لیے اس کو سناو تو اس سے پہلے شیطان رجیم کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگ لیاکرو۔ یہ ہدایت اس لیے ہوئی کہ درحقیقت اصل دشمن قرآن کا شیطان ہی ہے۔ جب قرآن پڑھا یا سنایا جاتا ہے تو وہ اس کے خلاف وسوسہ اندازی کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے پڑھنے والوں اور سننے والوں کے دلوں میں وہ خود بھی وسوسے بھرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان لوگوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکنے کی اس مہم میں اپنا شریک کار بنا لیتا ہے جو انسانوں میں سے اس کے اولیاء اور دوست کی حیثیت رکھتے ہیں یہ تعوذ گویا ایک تعویذ ہے جو اس قسم کے تمام اشرار و شیاطین کے فتنوں اور ان کی وسوسہ اندازیوں سے آدمی کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس کی تاثیر آدمی کے دل کی حالت پر منحصر ہے۔ اگر آدمی محض زبان سے تعوذ کے الفاظ دہراتا ہے تو اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا لیکن جن کے دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلتی ہے وہ اس سے ایک ایسی قوت و طاقت حاصل کرتے ہیں جو شیطان اور اس کے اولیاء سے نبرد آزمائی میں بڑا سہارا بنتی ہے۔ یہ نبرد آزمائی اس سے کسی حالت میں مضر نہیں ہے۔ اسی سے آدمی کی اپنی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ تعوذ کی یہ برکت ہے کہ اگر آدمی کو اس کا سہارا حاصل ہو تو وہ شیطان اور اس کے ایجنٹؤں سے شکست نہیں کھاتا۔
Ayahs 16:99–100تفسیر آیات 99 تا 100:۔ اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔ اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۔ سلطان کے معنی قابو، زور اور اختیار کے ہیں۔
اہل ایمان پر شیاطین کا کوئی زور نہیں چلتا۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو یہ مہلت تو ضرور ملی ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کو بہکائیں اور ورغلائیں لیکن ان کو لوگوں پر زور و اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ لازماً ان کو گمراہ ہی کردیں۔ شیطان کا زور صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا دوست بناتے اور اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان لوگوں پر اس کو کوئی زور نہیں چلتا جو ایمان لائے ہوئے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس آیت نے گویا اطمینان دلا دیا کہ شیطان کے فتنے خواہ کتنے ہی خطرناک ہوں لیکن جو شخص ان سے محفوظ رہنا چاہے وہ اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ خدا پر مضبوط ایمان رکھے اور سخت سے سخت حالات میں بھی اس کے فضل اور اس کی کارسازی پر بھروسہ کرے۔ شیطان سے مار وہی کھاتا ہے جو اس کی طرف دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے اور جس کے اندر شرک کی کچھ آلائش ہوتی ہے۔
Ayah 16:101وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ آیت سے مراد کوئی حکم شرعی ہے۔
یہ ایک مثال ہے ان اعتراضات کی جو یہود لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کے لیے قرآن کے خلاف اٹھاتے تھے۔ فرمایا کہ جب ہم ایک حکم کو دوسرے حکم سے بدلتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تم تو نرے مفتری ہو۔ اپنے جی سے ایک بات گھڑتے ہو اور لوگوں پر دھونس جمانے کے لیے اس کو خدا کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ ورنہ اس کے کیا معنی کہ خدا ایک مرتبہ ایک قانون بنائے اور پھر اس قانون کو خود ہی دوسرے قانون سے بدل دے۔
یہ اشارہ ہے تحریم و تحلیل اور یوم السبت کے باب میں ان احکام کی طرف جن کا حوالہ، آگے اسی سورة کی آیت 114 تا 116 اور 124 میں آیا ہے۔ قرآن نے جب اس امت کے لیے یوم السبت کی حرمت ختم کردی اور کھانے پینے کے باب میں وہ احکام دیے جو ملت یہود یا ملت مشرکین کے بجائے ملت ابراہیم پر مبنی تھے تو یہود نے شور مچانا شروع کردیا کہ یہ دیکھو، یہ شخص ایک طرف تو ہماری شریعت کو خدائی شریعت مانتا ہے دوسری طرف اس کے احکام کو ان سے مختلف احکام سے بدلتا ہے۔ اگر یہ شخص خدا کا رسول ہوتا تو وہ خدا کے دیے ہوئے احکام کو کس طرح بدل سکتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک ٰیہ خدا کا رسول نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) ایک مفتری ہے۔ یہ بات کہی تو یہود نے لیکن یہ بےسمجھے بوجھے قریش کے ان لیڈروں نے بھی دہرانی شروع کردی۔ جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں کہی ہوئی ہر بات کو اپنی تائید سمجھتے تھے۔ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ۔ یہ قرآن نے مذکورہ بالا اعتراض کا جواب دیا ہے کہ انپی اتاری ہوئی چیزوں کی حکمت و مصلحت کو خدا ہی خوب جانتا ہے۔ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ، اکثر لوگ ان حکمتوں اور مصلحتوں کو نہیں جانتے۔
یہاں یہ بات اجمال کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے۔ آگے کی آیات میں اس اجمال کی تفصیل آئے گی۔ ہم یہاں چند اشارات صرف اس لیے کیے دیتے ہیں کہ آگے نظم کلام کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ قرآن کا یہ جواب دو مبادی پر مبنی ہے۔
شریعت میں تدریج کی مصلحت : اول یہ کہ خدا نے اپنی شریعت کے نازل کرنے میں ترتیب و تدریج ملحوظ رکھی ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے قدم شریعت میں خوب جم سکیں۔ یہ ترتیب و تدریج بعض حالات میں احکام میں تبدیلی کی مقتضی ہوئی ہے جو سرتا سر اہل ایمان کی مصلحت پر مبنی ہے۔ دوسری یہ کہ اس ملت کی بنیاد ملت ابراہیم پر ہے اور ملت ابراہیم ملت یہود اور ملت مشرکین سے بالکل الگ ملت تھی۔ اس میں حرام وہی چیزیں ہیں جو ملت ابراہیم میں حرام تھیں۔ یہی چیزیں اصلاً ملت یہود میں بھی حرام تھیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنی بدعات کے ذریعہ سے ان میں اضافے کرلیے جو اللہ نے ان کی سزا کے طور پر ان پر باقی رکھے لیکن اس ملت کی اساس چونکہ ملت ابراہیم پر ہے اس وجہ سے اس میں وہ اضافے ختم کردیے گئے۔
Ayah 16:102قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔
روح القدس سے مراد جبرئیل امین ہیں، اور حق سے مراد وہ خالص اور بےآمیز دین ہے جو اللہ کی طرف سے یہود و نصاری اور مشرکین کی تمام ملاوٹوں سے پاک و صاف ہو کر اترا ہے۔
یہ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ جو لوگ تمہیں مفتری کہتے ہیں ان کو جواب دے دو کہ یہ جو میں پیش کررہا ہوں اس کو اپنے جی سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب نہیں کر رہا ہوں بلکہ یہ خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین نے میرے رب کی جانب سے مجھ پر اتارا ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ شیاطین و مفسدین کی ہر ملاوٹ سے بالکل پاک و صاف۔ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔ یعنی اللہ نے دین کو تمام ملاوٹوں سے پاک کرکے اس لیے اتارا ہے تاکہ وہ ایمان لانے والوں کو حق پر جمادے اور وہ لغزشوں اور گمراہیوں سے بالکل محفوظ ہوجائیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر دین کے بعض اجزا میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے تو وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، تدریج کی مصلحت سے واقع ہوئی ہے اور مقصود اس سے لوگوں کو دین میں راسخ کرنا تھا۔ اگر سارا دین بیک دفعہ نازل کردیا جاتا تو یہ لوگوں پر بہت شاق ہوتا اور ان کے قدم دین میں خوب مضبوط نہ جم سکتے۔ وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔ یعنی مخالفین اس سے جو فنتے چاہیں اٹھائیں لیکن جو لوگ خدا کی ہر بات پر امنا و صدقنا کہنے کو تیار ہیں ان کے لیے تو یہ آغاز کے لحاظ سے ہدایت اور انجام کے اعتبار سے بشارت ہے۔
Ayah 16:103وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ ۭ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۔
مخالفین کے ایک اور فتنہ کا رد : وَلَقَدْ نَعْلَمُ در اصل وَلَقَدْ کنا نَعْلَمُ ہے یعنی بعض اوقات مضارع سے پہلے افعال ناقصہ کو حذف کردیتے ہیں۔ اس اسلوب پر پیچھے سورة بقرہ وغیرہ میں تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔
یہ مخالفین کے ایک دوسرے فتنے کا حوالہ دیا ہے جو وہ لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے ہوئے تھے وہ کہتے تھے کہ اس کلام کو وحی الٰہی اور فرشتہ کا لایا ہوا کہنا تو محض ایک دھونس ہے۔ یہ تو فلاں شخص ان کو سکھاتا ہے اور یہ حضرت اس کو سنا کر ہم پر رعب جماتے ہیں کہ اس کو خدا نے جبریل امین کے ذریعہ سے ان پر اتارا ہے۔ یہاں کسی متعین شخص کا نام مذکور نہیں، صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے۔ مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے۔ جن میں ایک نام سلمان فارسی کا بھی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مخالفین انہی کی طرف اشارہ کرتے رہے ہوں۔ قرآن کو ان کے نام سے بحث نہیں، صرف اعتراض سے بحث ہے۔ اور اسی کا اس نے جواب دیا ہے۔ جواب کی تمہید ہی اس طرح اٹھائی گئی ہے جس سے اس اعتراض کی لغویت واضح ہورہی ہے۔ اس لیے کہ ولقد نعلم کے اسلوب ہی میں یہ بات مضمر ہے کہ ہم برابر معترضین کی یہ بکواس سنتے رہے ہیں لیکن اس کی لغویت کے سبب سے ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر ان بوالفضولوں کو قرآن کے معانی و حقائق کی پرکھ نہیں ہے تو کم از کم اس کے بیان کی سطوت و جلالت اور اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اس اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ کہاں ایک کج مج بیان عجمی اور کہاں یہ حوض کوثر کی دھلی ہوئی عربی مبین۔ آخر ایسا کون کون ہوسکتا ہے جو منہ کے اڑائے چھینٹوں اور اسمان کی بارش میں امتیاز نہ کرسکے۔
یہ بات علی سبیل التنزل فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے معانی و حقائق تک تو ان لوگوں سے پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی جن کو گہر اور پشنیز میں امتیاز نہیں ہے لیکن ان کو اپنی طلاقت لسانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان ہی پر غور کرتے کہ ایک عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں ہے کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور اس کلام میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔
Ayah 16:104اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ یعنی ایمان و ہدایت کا راستہ صرف یہ ہے کہ اللہ کی آیات پر ایمان لایا جائے اس لیے کہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آئے تو جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو اللہ کی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے اپنے اوپر ہدایت کے دروازے بند کرلیے اور ان کے لیے آگے بس ایک دردناک عذاب ہی ہے۔
Ayah 16:105اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ۔
پیغمبر کو مفتری سمجھنے والوں کی لغویت : اوپر آیت 101 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر ﷺ کو) ایک مفتری قرار دیتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتری ہمارا پیغمبر نہیں ہے بلکہ مفتری وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر تو ایمان نہیں لاتے جو اللہ کی ہدایت معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن ایک دین انہوں نے تصنیف کر رکھا ہے اور اس کو اللہ کا دین بتاتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بالکل جھوٹا افتراء ہے اور اس کے تصنیف کرنے والے ہی اصل جھوٹے ہیں۔
Ayah 16:106آگے کا مضمون۔ آیات 106 تا 111:۔ مظلوم مسلمانوں کو صبرواستقامت کی تلقین : آگے ان مسلمانوں کی طرف توجہ فرمائی ہے جو اعدائے حق کے جوروستم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ ان کو خطاب کرکے صبر و استقامت کی تلقین فرمائی اور ساتھ ہی ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہے جو مخالفین سے مرعوب ہو کر اللہ کے دین سے برگشتہ ہوجائیں گے۔ اسی سلسلہ میں ان مسلمانوں کی طرف بھی ایک اشارہ ہے جنہیں اعدائے حق کے مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کرنی پڑی۔ ان کی تحسین فرمائی گئی ہے اور ان کے لیے مغفرت اور رضوان کی بشارت ہے۔ آیت کی تلاوت کیجیے۔
مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔
زیر ستم مسلمانوں کو آگاہی : یہ ان لوگوں کو آگاہی ہے جو اس دور میں کفار کی ستم رانیوں کے ہدف تھے۔ فرمایا کہ جو لوگ اعدائے حق کے شکنجہ میں ہیں ان کے لیے اس بات کی تو گنجائش ہے کہ وہ قلباً ایمان پر جمے رہتے ہوئے محض زبان سے کوئی کلمہ ایسا نکال دیں جس سے ان کی جان کے اس مصیبت سے چھوٹ جانے کی توقع ہو۔ لیکن اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اس جبر و ظلم کو بہانہ بنا کر اپنا سینہ کفر ہی کے لیے کھول دیں۔ جو لوگ ایسا کریں گے فرمایا کہ ان پر اللہ کا غضب اور بہت بڑا عذاب ہے۔ ان کا ایک مرتبہ ایمان کی طرف آجانا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اس چیز کی صحت و صداقت ان پر واضح ہوچکی ہے۔ اس کے بعد اس بات کی تو گنجائش باقی رہتی ہے کہ آدمی اسی کے تحفظ کے پہلو سے کوئی ایسی تدبیر اختیار کرسکے جو بظاہر اس کے خلاف ہو لیکن اس بات کی کوئی گنجائش بقی نہیں رہتی کہ آدمی اس سے کلیۃً دستبردار ہو کر کفر ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ فرمایا کہ جو لوگ تن آسانی کی یہ راہ اختیار کریں گے ان پر خدا کا غضب اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔
Ayah 16:107ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے۔ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنی دنیا کی زندگی کو آخر پر ترجیح دی ہے۔ اور خدا کی پکڑ سے بےپروا ہو کر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کردیا۔ اللہ ان لوگوں کے لیے تو اپنی ہدایت کی راہ کھولتا ہے جو ہر حال میں اس کی ہدایت ہی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں لیکن ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو مشکلات سے گھبرا کر کفر ہی کو اپنا ملجا و ماوی بنا لیتے ہیں۔
Ayah 16:108اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد، محض اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اس سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں، ان کے کانوں، اور ان کی آنکھوں پر مہر کردیا کرتا ہے اور وہ ہدایت کی توفیق سے بالکل ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود اصل حقیقت پر غور کرتے، نہ کسی دوسرے معقول آدمی کی بات سنتے اور نہ بصیرت حاصل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولتے۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت بقرہ کی آیت 7 کے تحت ہوچکی ہے۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ یعنی اصل بیخبر یہی لوگ ہیں اس لیے کہ ان کے دل اور ان کے کان آنکھ سب جپاٹ ہوچکے ہیں۔ کسی طرف سے بھی کوئی بصیرت کی کرن ان کے اندر داخل ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
Ayah 16:109لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ لَا جَرَمَ کے معنی لابد اور لا محالہ کے ہیں۔ اصلاً تو یہ کسی بات کی تاکید کے لیے اتا ہے لیکن موقع مقتضی ہو تو اس کے اندر قسم کا زور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے یہ اس کا لازمی نتیجہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی دنیا کی خاطر اس طرح آخرت سے بےپروا ہوجائیں گے آخرت میں سب سے زیادہ محروم و نامراد وہی ہوں گے۔
Ayah 16:110ہجرت حشبہ کے جانبازوں کے لیے بشارت : ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ بزدلوں اور پست ہمتوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان جانبازوں اور سرفروشوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے دین کی خاطر کفار کے ہاتھوں ہر قسم کے مصایب جھیلے لیکن وہ اس سے دست بردار ہونے پر تیار نہ ہوئے۔ ہجرت سے یہاں اشارہ ہجرت حبشہ کی طرف ہے اور جہاد و صبر سے یہاں ان کی وہ جاں بازیاں مراد ہیں جو دین پر استقامت کے معاملے میں انہوں نے دکھائیں۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے ان جاں گسل مصائب کا مقابل کرکے اپنے ایمان کی حفاظت کی ہے، خدا ان کی لغزشوں اور فروگزاشتوں سے درگزر فرمائے گا اور ان کی رحمت سے نوازے گا۔
Ayah 16:111آخرت کی یاد دہانی : يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔ یہ اس دن کی یقین دہانی ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے حضور سب لوگوں کی پیشی ہوگی اور وہ کامل انصاف کے ساتھ سب کے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا فرمایا کہ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا، اس دن ہر جان پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہوگی، نہ کوئی کسی کی وکالت کرسکے گا اور نہ کوئی کسی کا سفارشی بن کر کھڑا ہوگا، جس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا، ہر ایک کے ساتھ کامل عدل کا معاملہ ہوگا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔