Ayah 16:112آگے کا مضمون۔ آیات 112 تا 124۔ قریش کے لیے ایک بستی کی مثال : آگے قریش کی تنبیہ کے لیے ایک بستی کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو اس بستی والوں کا ہوا۔ نیز ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اپنے جی سے حرام و حلال نہ ٹھہراؤ اللہ نے جن چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے ان کو کھاؤ بترو، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ اسی ذیل میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ یہود پر بھی وہی چیزیں حرام کی گئی تھیں جو اس ملت میں حرام ہیں لیکن انہوں نے اپنی سرکشی کے سبب سے بعض چیزیں از خود اپنے اوپر حرام کرلیں اور ان کی حرمت کو وہ اب ملت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم کو نہ یہودیت و نصرانیت سے کوئی علاقہ تھا نہ ملت مشرکین سے۔ ان کی ملت ان سب سے الگ تھی اور وہی ملت ہے جس کی پیروی کی ہدایت تمہیں کی گئی ہے سبت کے احترام کا تعلق بھی یہود سے تھا، ملت ابراہیم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 112
قریہ، مرکزی بستی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اس کے توابع اور ملحقات ہوں یہاں قریہ کی تصریح نہیں ہے لیکن مراد سبا ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ سبا کی طرف ہے اہل مکہ کے سامنے اس بتی کی مثال کئی جگہ تفصیل کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ مثلا ملاحظہ ہوں ایات 15 تا 20 سورة سبا۔ اس بستی پر اللہ کا بڑا فضل وکرم تھا دورویہ سرسبز و شاداب باغوں کی قطار تھی نہر تھی، چشمے تھے لیکن اس کے باشندوں نے اللہ کی ناشکری کی اور اس کی نعمتوں کی ناقدری کی تو اللہ کا عذاب ایک بےپناہ سیلاب کی شکل میں نودار ہوا اور اس نے سب کو تباہ کرکے رکھ دیا۔
فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف۔ اس میں عربیت کے اعلی اسلوب کے مطابق حذف ہے اگر اس حذف کو کھول دیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی۔ فاذاقھا اللہ طعم الجوع والبسھا لباس خوف۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفران نعمت کی پاداش میں ان کو بھوک کا مزہ چکھایا اور امن و اطمینان کی جگہ ان کو خوف خطرے کا جامہ پہنادیا۔
Ayah 16:113وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ
یعنی ان میں انہیں میں سے ایک رسول ان کو متنبہ کرنے کے لے آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب نے ان کو آدبوچا اور یہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے اپنی ناشکری سے اس کے اسباب انہوں نے خود فراہم کیے۔
Ayah 16:114فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ
اہل مکہ کو اہل سبا کا انجام یاد دلا کر ان کو یاددہانی فرمائی کہ تمہیں بھی اللہ نے جو چیزیں حلال وطیب بخشی ہیں ان کو کھاؤ برتو اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی پرستش کرنے والے ہو یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل سبا اور اہل مکہ میں بڑی مماثلت تھی اوپر اہل سبا کے باب میں جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کو پڑھیے پھر حرم مکہ کی شان میں یہ الفاظ، اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شئی رزقا من لدنا۔ قصص 57۔ پڑھیے تو دونوں کی مماثلت واضح ہوجائے گی جس طرح اہل سبا کو امن وچین کی زندگی حاصل تھی اسی طرح اہل مکہ کو بھی امن و اطمینان کی زندگی حاصل تھی خانہ کعبہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہ شہر امن وامان کا شہر تھا کسی کی مجال نہ تھی کہ بلدامین پر حملہ کرنے کی جرات کرسکے تمام ملک سے تجارتی قافلے یہاں بےخوف وخطر آت اور اس شہر کے باشندوں کی خوش حالی کا ذریعہ بنتے خود اہل مکہ کے تجارتی قافلے ہر موسم میں بےخوف وخطر دور دور کے سفر کرتے لیکن ان کو نقصان پہنچانا تو الگ رہا راستہ کے بدوی قبائل ان کی حفاظت کے لیے بدرقہ فراہم کرتے یہ بیت اللہ کے خادم اور متولی ہیں ان نعمتوں کا حق یہی تھا کہ یہ ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کے شکر گزرا رہتے لیکن انہوں نے شرک میں مبتلا ہو کر اللہ کے بخشے ہوئے جانوروں کی قربانی اپنے مزعوسہ شریکوں کے تھانوں اور استھانوں پردی، محض اپنے مشرکانہ اوہام کے تحت اپنے جی سے ان کو حلال و حرام ٹھہرایا اور اسی طرح اسی کفران نعمت کے جرم کے مرتکب ہوئے جس کے مرتکب ہو کر اہل سبا کیفر کردار کو پہنچے۔
ان کنتم ایاہ تعبدون۔ کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے اس بات کو یاد رکھیے کہ مشرکین مکہ شرک کی تمام خرافات میں مبتلا ہونے کے باوجود دعوی یہی کرتے تھے کہ وہ پرستش خدا ہی کی کرتے ہیں بتوں کی پرستش کے حق میں انہوں نے یہ دلیل پیدا کردی تھی کہ ہم ان کی پرستش تو محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا کے قریب کردیں، مانعبدھم الالیقربونا الی اللہ زلفی۔ ان کا زعم یہ تھا کہ یہ خدا کے مقرب ہیں اور چہیتے ہیں اگر یہ راضی رہیں تو خدا سے سفارش کرکے اپنے پرستاروں کو جو چاہیں دلواسکتے ہیں اسی زعم کے تحت وہ ان کو نذرانے اور چڑھاوے پیش کرتے اور ان کے نام پر جانور چھوڑ دیتے جن کو تقدس کا درجہ حاصل ہوجاتا تاکہ ان کا دودھ اور گوشت کھانا جاز ہوتا اور نہ ان پر سوری کی جاسکتی قرٓن نے ان کے اسی مغالطہ کو یہاں رفع کیا ہے کہ اگر خدا ہی کی پرستش کا دعوی ہے تو اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو، اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو نہ دوسروں کی طرف منسوب کرو نہ ان کے لیے ان کی قربانی پیش کرو نہ ان کے نام پر ان کو حرام و حلال ٹھہراؤ۔
Ayah 16:115اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
جانوروں میں سے تمہارے اوپر حرام صرف مردار اور کون، لحم خنزیر اور وہ جانور ہے جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور اسمیں بھی یہ رعایت ہے کہ اگر کسی شخص کو بھوک سے جان پر آبنی ہو توبقدر سدرمق وہ انمیں سے کسی چیز کو کھا کر اپنی جان بچاسکتا ہے ایسی حالت میں خدا اس کو معاف کردے گا اور اس پر رحم فرمائے گا۔ غیرباغ ولاعاد۔ بس یہ ایک شرط اسی کے ساتھ ہے نہ اس حرام کو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ سدرمق کی حد سے متجاوز ہو یعنی یہ نہ کرے کہ اضطرار کو حرام کو ری کا بہانہ بنائے اور پھر خوب حرام پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردے مزید تفصیل کے طالب مائدہ آیت 3 اور انعام 145 کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیں۔
Ayah 16:116وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ
یعنی حلال و حرام کرنے کا حق صرف اللہ ہی کو ہے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی خدائی سند کے محض اپنے مزعومات کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام قرار دینا شروع کردے یہ اللہ پر جھوٹا افترا ہے کیونکہ جو بات اس نے نہیں فرمائی وہ تم اس کی طرف منسوب کرتے ہو اور یاد رکھو خدا پر جھوٹا افترا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ۔ یعنی جن کے باب میں محض تمہاری اپنی زبان کے جھوٹے اور بےبنیاد دعوے ہیں ان کے حق میں تمہارے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ۔ یعنی اپنے جی سے حلال و حرام قرار دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے بالآخر یہ بات خدا پر جھوٹے افترا تک منتہی ہوتی ہے جو شدید ترین جرائم میں سے ہے۔
Ayah 16:117مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۠ وَّلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
یہ لایفلحون کی وضاحت ہے یعنی اللہ پر افترا کرنے والوں کے لیے بس اس دنی ا کی چند روزہ زندگی اور اس کا عیش و آرام ہے اس کے بعد ان کے لیے ایک ابدی عذاب الیم ہے۔
Ayah 16:118وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ
یعنی اصلا یہودی پر بھی وہی چیزیں حرام تھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات 115 میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جوان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس کی وضاحت نساء کی ٓیت 160 کے تحت گزرچکی ہے تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈالیں۔
Ayah 16:119ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
یہ اوپر کی تنبیہات کے بعد ایک بشارت ہے پیغمبر کو خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ خدا کی واضح ہدایات کے باوجود اب تک غلطیوں، جہالتوں اور تعصبات میں گرفتار رہے ہیں ان کے لیے اب بھی نجات کی راہ کھلی ہوئی ہے تمہارا رب ان لوگوں کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ جنہوں نے جہالت کے سبب سے برائیاں کیں پھر اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی مطلب یہ ہے کہ تمہاری بعثت سے قبل جو تاریکی کا دورگزرا ہے اس میں لوگوں نے جو خدا کی نافرمانیاں کیں ہیں اگر تمہاری اس دعوت کے بعد انہوں نے توبہ اور اصلاح کرلی تو ان کے لیے خدا کی رحمت میں داخل ہونے اور اس کی مغفرت کے مستحق ہونے کا موقع اب بھی باقی ہے بدقسمت ہی ہوں گے جو اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں۔
Ayah 16:120اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ یہود ونصاری اور مشرکین سب اپنی اپنی بدعات کی تائید میں حضرت ابراہیم ؑ کے نام کو بطورسند استعمال کرتے تھے اور ان میں سے ہر گروہ کا دعوی یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ہی کے طریقہ پر ہیں اور حرام و حلال کے معاملہ میں ملت ابراہیمی ہی کی پیروی کررہا ہے نصاری بھی جنہوں نے خنزیر تک کو جائز کرلیا اسی خبط میں مبتلا تھے مشرکین مکہ کا توپوچھنا ہی کیا وہ تو تھے ہی اپنے زعم میں ملت ابراہیمی کی پیروی کررہا ہے یہ سب بجائے اپنے اپنے رویہ کا جائزہ لینے کے خود نبی ﷺ کو مطعون کرتے تھے کہ یہ حضرت ابراہیم کے طریقہ سے ہٹے ہوئے ہیں حرام و حلال کے معاملہ میں ان کے ضابطہ کی پیروی نہیں کررہے ہیں بلکہ ان سے الگ الگ اپنی راہ انہوں نے نکالی ہے قرآن نے ان سب کا یہ جواب دیا ہے کہ ابراہیم ایک الگ امت تھے وہ اللہ کے فرمان بردار اور اس کی طرف یکسو تھے وہ مشرکین میں سے نہ تھے اسی طرح آل عمران میں فرمایا ہے کہ، ماکان ابراہیم یھودیا ولانصرانیا ولکن کان حنیفا۔ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ اللہ کی طرف یکسو تھے۔
امہ۔ کا لفظ ایک طرف تو حضرت ابراہیم کی انفرادیت کا اظہار کررہا ہے کہ وہ یہودی نصاری اور مشرکین کسی میں سے نہیں تھے بلکہ ان سب سے الگ وہ ایک حنیف ومسلم تھے دوسرے ان کی اس جامعیت ومرکزیت کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ جو اللہ نے ان کو بخشی تھی اس لیے وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک عظیم امت کے بانی تھے۔
Ayah 16:121شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ ۭ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ
یہ حضرت ابراہیم کی مزید تعریف ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر اللہ ہی کے شکرگزار تھے تمہاری طرح اللہ کی نعمتوں کو اصنام وانصاب کی طرف منسوب کرکے خدا کی ناشکری کرنے والے نہیں تھے اور ان کی اسی شکرگزاری کی یہ برکت تھی کہ خدا نے ان کو منصب نبوت کے لیے انتخاب فرمایا اور ایک صحیح راہ کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔
Ayah 16:122وَاٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً ۭ وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ
یعنی دنیا میں اللہ نے ان کو مال وجاہ عطا فرمایا یہاں تک کہ ان کی حیثیت ایک حکمران کی ہوگئی اور آخرت میں بھی وہ زمرہ صالحین میں اپنا درجہ اور مقام حاصل کریں گے۔
Ayah 16:123ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
یعنی ملت ابراہمی کی پیروی کے یہ سارے مدعی، یہود، نصری اور مشرکین، تو بالکل جھوٹے ہیں ہاں ہم نے تمہاری طرف البتہ یہ وحی کی کہ تم ملت ابراہیم کی پیروی کرو چناچہ تمہاری ملت ابراہیم کی ملت ہے۔
Ayah 16:124اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِـيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ
یہ یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے یہود نبی اور مسلمانوں پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ یہ لوگ سبت کا احترام نہیں کرتے قرآن نے اس کا یہ جواب دیا کہ سبت کا احترام ملت ابراہیم کا کوئی جزو نہیں ہے بلکہ سبت یہود کے لیے مشروع ہوا تھا اور انہوں نے بھی اس کے باب میں اختلاف پیدا کرکے اس کی حرمت برباد کردی۔ اب ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے روز ہگا۔ سبت کے آداب و احکام کے بارے میں ان کے ہاں جو اختلافات ہیں ان کی تفصیل بڑی طولانی ہے ہمارے لیے اس میں پڑنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 16:125آگے کا مضمون۔ آیات 125 تا 128:۔ خاتمۂ سورة : آگے کی آیات خاتمۂ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں جس میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اللہ کے دین کی دعوت پر جمے رہنے اور مشکلاتِ راہ کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ساتھ ہی حصول صبر کا طریقہ بتایا گیا ہے اور یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کی معیت اس کے متقی بندوں ہی کو حاصل ہوگی ہے اور انجام کی کامیابی انہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے
حکمت اور موعظت حسنہ : اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۔ حکمت سے مراد یہاں دلائل وبراہین ہیں اور موعظت حسنہ سے مشفقانہ انداز میں تذکیر و تنبیہ۔ دعوتِ دین میں یہی دو چیزیں اصول کار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی جو بات بھی کہتے دلیل وبرہان کی روشنی میں کہے اور انداز دھونس جمانے کا نہیں بلکہ اس کے سچے جذبہ خیرخواہی و ہمدردی کا غماز ہو تاکہ مخاطب بدکنے کے بجائے اس کی باتوں کے سننے اور ان پر غور کرنے کی طرف مائل ہو۔ اگرچہ ہٹ دھرم لوگ اس سے بھی پسیجتے لیکن خیروبرکت کا طریقہ ہے یہی۔
پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو ہدایت : پیغمبر ﷺ اور آپ کے واسطہ سے آپ کے صحابہ کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم اللہ کے راستہ کی دعوت حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں، جیسا کہ پیچھے کی آیات سے واضح ہوچکا ہے، مخالفین کے رویہ نے بڑی گرما گرمی پیدا کردی تھی، پھر اب آنحضرت ﷺ بھی تنہا نہیں تھے بلکہ آپ کے ساتھ مومنین کی ایک جماعت میدان عمل میں آگئی تھی۔ ایسی حالت میں یہ بات بعید از امکان نہیں تھی کہ مبادا مخالفین کے رویہ سے تنگ آ کر مسلمان بھی کوئی سخت رویہ اختیار کرلیں اور اس کا اثر دعوت کے مزاج پر پڑے۔ اس سوے دعوت کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ہدایت فرما دی گئی کہ دعوت دین کے معاملے میں قدم حکمت اور موعظت کے جادۂ مستقیم سے منحرف نہ ہونے پائیں۔
حکمتِ تبلیغ : وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ، دعوت کے کام میں بحث و گفتگو سے تو مفر نہیں لیکن اس میں بھی یہ قید لگا دی گئی کہ اس کے لیے بہتر طریقہ استعمال کیا جائے۔ اگر حریف اشتعال انگیز رویہ اختیار کرلے تو اس کے رویہ سے متاثر ہو کر آدمی اینٹ جواب پتھر سے دینے کی کوشش نہ کرے بلکہ ہر حالت میں اپنی شائستگی برقرار رکھے۔ سورة بنی اسرائیل میں اسی حقیقت کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے۔ قل لعبادی یقولوا التی ہی احسن ان الشیطان ینزغ بینہم ان الشیطان کان للانسان عدوا مبینا : میرے بندوں کو ہدایت کرو کہ وہ ہی بات کہیں جو بہتر ہے۔ بےشک، شیطان ان کے مابین وسوسہ اندازہ کرتا ہے بیشک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ، یعنی ایسے حالات میں معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، وہ گمراہوں سے بھی خوب واقف ہے اور جو ہدایت پر ہیں ان سے بھی خوب باخر ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔ داعی کی ذمہ داری صرف دعوت تک محدود ہے اگر اس نے اپنا فرض صحیح طور پر انجام دے دیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ رہا یہ معاملہ کہ کون گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون ہدایت کا تو اس کا تمام تعلق اللہ سے ہے اور اس کو اسی پر چھوڑنا چاہیے۔
Ayah 16:126وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ۔
فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ میں مشاکلت ککا وہی اسلوب ملحوظ ہے جس کی مثال دناہم کما دانوا ہے۔ کما دانوا یعنی کما فعلو۔ اسی طرح اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم بدلہ لینا ہی چاہو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔ جرم اور سزائے جرم میں عدم توازن نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ تم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ علاوہ ازین منہیات سے اجتناب مسلمان کے لیے ہر صورت میں لازم ہے۔ اگر مخالف ہمیں گالیاں دے تو ہم اس کے جواب میں گالیاں نہیں دے سکتے۔ اپنے معروف اخلاقی خدود کے اندر رہتے ہوئے ہی ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ۔ چونکہ یہ مرحلہ نازک ہے ہر شخص حدود کو صحیح طور پر ملحوظ نہیں رکھ سکتا اور ان کے ملحوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کے عاید کردہ حدود وقیود بھی مجروح ہوں گے اور دعوت کے کام کو بھی اس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس وجہ سے اولی یہی ہے کہ صبر ہی کیا جائے۔ صبر کرنے والوں کے لیے بڑی نعمت ہے اس میں جو خیر و برکت ہے وہ انتقام میں نہیں ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ ہدایات اس دور سے متعلق ہیں جب مسلمان افراد کی صورت میں اپنے مخالفون کے اندر گھرے ہوئے اور ان کی چیرہ دستیوں کے شکار تھے۔ اس کا تعلق اس دور سے نہیں جب مسلمانوں کی باقاعدہ منظم حکومت قائم ہوگئی۔ ایک باقاعدہ منظم اسلامی حکومت کے حدود کار اور اس کے اختیارات اس سے مختلف ہیں۔ ان کی تفصیل پچھلی سورتوں خاص طور پر سورة انفال اور براءت میں گزر چکی ہے اور آگے مدنی سورتوں میں ان کی مزید تفصیل آئے گی۔
Ayah 16:127وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔
صبر کی ہدایت اور حصول صبر کی تدبیر : خطاب اگرچہ لفظا پیغمبر ﷺ سے ہے لیکن معنا، جیسا کہ اوپر والی آیت میں واضح ہوچکا ہے، تمام مسلمانوں سے ہے، گویا آپ کے واسطہ سے یہ تمام مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے۔ ہی صبر کی ہدایت بھی ہے اور حصول صبر کی تدبیر بھی۔ فرمایا وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ یعنی صبر نہیں حاصل ہوسکتا مگر اللہ کے تعلق سے۔ جو صبر کا مقام حاصل کرنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔ خدا کے ساتھ تعلق کا واسطہ اس کا ذکر ہے اور ذکر کا سب سے اعلی طریقہ نماز ہے اس وجہ سے قرآن کے دوسرے مقامات میں صبر کے ساتھ نماز خصوصاً تہجد کے اہتمام کی تاکید فرمائی گئی۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔ یعنی نہ ان شامت زدوں کی حالت پر غم کرو اور نہ ان کی ان چالوں سے جو یہ رات دن چل رہے ہیں ہراساں اور پیشان ہو۔
Ayah 16:128نصرت کا وعدہ اور اسلام کے غلبہ کی بشارت : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ یہ نصرت کا وعدہ بالآخر اسلام کے اور مسلمانوں کے غلبہ کی بشارت ہے۔ فرمایا کہ اللہ اہل تقوی اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو خوب کار ہیں۔ " محسنون " یعنی جو اپنے رب کی بندگی اور اس کی عبادت و اطاعت اس طرح کر رہے ہیں گویا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ انہی لوگوں کو اللہ کی معیت حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی معیت انہی کو حاصل ہے تو لازماً انجام کار کی کامیابی بھی انہی کا حصہ ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔