Ayah 17:1سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۔
سُبْحٰنَ تنزیہہ کا کلمہ ہے : سُبْحٰنَ ، جیسا کہ متعدد مواقع میں تصریح ہوچکی ہے، تنزیہہ کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے کلام کا آغاز اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں مقصود خدا کے باب میں کسی سوئے ظن یا غلط فہمی کو رفع کرنا ہو۔ یہاں واقعہ معراج کی تمہید اس لفظ سے اس لیے اٹھائی ہے کہ یہ واقعہ بھی خدا کے باب میں یہود اور مشرکین کے ایک بہت بڑے سوء ظن کو رفع کرنے والا تھا۔ یہ دونوں ہی گروہ خدا کے دین کے دو سب سے بڑے مرکزوں پر قابض تھے اور ان کو انہوں نے، ان کے بنیادی مقصد کے بالکل خلاف نہ صرف شرک و بت پرستی کا اڈا بلکہ جیسا کہ سیدنا مسیح نے فرمایا ہے کہ، تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے، ان کو انہوں نے چوروں اور خائنوں کا بھٹ ہی بنا ڈالا تھا۔ یہ دونوں ہی مقدس گھر بالکل خائنوں اور بےایمانوں کے تصرف میں تھے 1؎۔ اور یہ ان میں اس طرح اپنی من مانی کر رہے تھے گویا ان گھروں کا اصل مالک کانوں تیل ڈال کر اور آنکھوں پر پٹی باندھے سو رہا ہے اور اب کبھی وہ اس کی خبر لینے کے لیے بیدار ہی نہیں ہوگا۔ معراج کا واقعہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے۔ اس بات کی تمہید تھا، کہ اب ان گھروں کی امانت اس کے سپرد ہونے والی ہے جو ان کے اصلی مقصد تعمیر کو پورا کرے گا اس وجہ سے اس کے بیان کا آغاز سُبْحٰنَ کے لفظ سے فرمایا اور آیت کے آخر میں اپنی صفات اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ کا حوالہ دے کر یہ واضح فرما دیا کہ جو نادان خدا کو نعوذ باللہ اندھا اور بہر سمجھے بیٹھے تھے اب وہ اپنے کان اور اپنی آنکھیں کھولیں۔ اب ان کی عدالت کا وقت آگیا ہے۔ حقیقی سمیع وبصیر خدا ہی ہے اور اب وہ اپنے کامل علم و خبر کی روشنی میں لوگوں کا انصاف کرے گا۔
" عبد " سے مراد آنحضرت ﷺ : اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا، اسراء کے معنی شب میں سفر کرنے کے ہیں اور جب " ب " کے ذریعے سے یہ متعدی ہوجائے تو اس کے معنی شب میں کسی کو کہیں لے جانے کے ہیں۔ اگرچہ اس کے مفہوم میں شب میں نکلنے یا لے جانے کا مفہوم خود داخل ہے لیکن عام استعمال میں یہ لفظ کبھی کبھی اس مفہوم سے مجرد ہوجایا کرتا ہے اس وجہ سے " لَيْلًا " کی قید سے اس بات کو موکد کرنا مقصود ہے کہ یہ واقعہ شب ہی میں پیش آیا۔ بِعَبْدِهٖ میں عبد سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ اس موقع پر حضور کے لیے اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کے غایت درجہ اختصاص، آپ کے ساتھ اللہ کی غایت درجہ محبت اور آپ کے کمال درجہ عبدیت کی دلیل ہے۔ گویا آپ کی ذات کسی اور تعریف و تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ لفظ عبد نے خود انگلی اٹھا کر ساری خدائی میں سے اس کو ممیز کردیا جو اس لفظ کا حقیقی محمل و مصداق ہے۔
مسجد حرام اور مسجد اقصی سے مراد : " مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ "۔ مسجد حرام سے تو ظاہر ہے کہ خانہ کعبہ مراد ہے۔ رہی دوسری مسجد تو اس کا تعارف دو صفتوں سے کرایا ہے۔ ایک " اقصی " دوسری الَّذِيْ بٰرَكْنَا حولہ۔ اقصی کے معنی ہیں دور والی۔ یہ مسجد، حرم مکہ کے باشندوں سے، جو اس کلام کے مخاطب اول ہیں کم و بیش 40 دن کی مسافت پر یروشلم میں تھی اس وجہ سے اس کو اقصی کی صفت سے موصوف فرمایا تاکہ ذہن آسانی سے اس کی طرف منتقل ہوسکے۔ پھر " الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ " کی صفت اس کے ساتھ لگا کر اس سرزمین کی طرف بھی اشارہ کردیا جس میں یہ مسجد واقع ہے۔ یہ اس سرزمین کی روحانی اور مادی دونوں قسم کی زرخیزیں کی تعبیر ہے۔ روحانی برکات کے اعتبار سے اس کا جو درجہ تھا اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جتنے انبیاء کا مولد و مدفن ہونے کا شرف اس سرزمین کو حاصل ہوا ؟ کسی دوسرے علاقے کو حاصل نہیں ہوا۔
1؎۔ مسجد اقصی کی حالت کا اندازہ کرنے کے لیے تو حضرت مسیح کے الفاظ ہی کافی ہیں۔ اگر حرم ابراہیمی کی حالت کا اندازہ کرنا ہو۔ تو فراہی کی تفسیر سورة لہب پر ایک نظر ڈال لیجیے کہ ابولہب نے اس میں کیا اودھم مچا رکھی تھی۔
معراج کے سفر کی غایت : لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا، یہ اس سفر کی غایت بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ اسلوب بیان کی یہ بلاغت ملحوظ رہے کہ اوپر کی بات غائب کے صیغہ سے بیان ہوئی ہے جو تفخیم شان پر دلیل ہے اور یہاں صیغہ متکلم کا آگیا ہے جو التفات خاص کو ظاہر کر رہا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے یہ سفر اس لیے کرایا تاکہ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ یہ نشانیاں کیا تھیں اس کا کوئی ذکر یہاں نہیں ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ وہ آثار و مشاہد اور وہ انوار و برکات ہیں جن سے یہ دونوں ہی گھر معمور تھے۔ مقصود ان کے دکھانے سے ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہوجائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔ گویا دعوت کے اس انتہائی مشکل دور میں آپ کو اللہ کی مدد و نصرت کی جو بشارت دی جا رہی تھی معراج کے اس سفر نے اس پر ایک مزید مہر تصدیق ثبت کردی اور جو کچھ ہونے والا تھا وہ آپ کو دکھا بھی دیا گیا۔
رہا یہ سوال کہ یہ جو کچھ آپ کو دکھایا گیا رویا میں دکھایا گیا یا بیداری میں تو اس سوال کا جواب اسی سورة میں آگے قرآن نے خود دے دیا ہے۔ فرمایا ہے : " وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ : اور ہم نے اس رویا کو جو ہم نے تمہیں دکھائی لوگوں کے لیے فتنہ ہی بنا دی " (اسراء :60)۔ ظاہر ہے یہاں جس رویا کی طرف اشارہ ہے اس سے اس رویا کے سوا کوئی اور رویا مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جس کا ذکر آیت زیر بحث میں " لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا " کے الفاظ سے ہوا ہے۔ لفظ " اراءت " قرآن میں متعدد مقامات میں، رویا میں دکھانے کے لیے آیا بھی ہے اور مفسرین نے اس سے یہی رویا مراد بھی لی ہے۔ اس وجہ سے اس کا رویا ہونا تو اپنی جگہ پر واضح بھی ہے اور مسلم بھی لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ " رویا " کو خواب کے معنی میں لینا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ خواب تو خواب پریشان بھی ہوتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو جو رویا دکھائی جاتی ہے وہ رویائے صادقہ ہوتی ہے اس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں جو ذہن میں رکھنے کے ہیں۔
رویائے صادقہ کے امتیازی پہلو : پہلی چیز تو یہ ہے کہ رویائے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے اسی طرح کبھی رویا کی صورت میں بھی ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رویا نہایت واضح، غیر مبہم اور روشن صورت میں " کفلق الصبح " ہوتی ہے جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینان قلب ہوتا ہے۔ اگر اس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر واضح فرما دیتا ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے اس لیے کہ اس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آجاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آجاتے ہیں جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ رویا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آسکتا ہے لیکن رویائے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے، آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے لیکن رویا بیک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہوجاتی ہے، آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے۔ لیکن رویا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی لیکن وہ اس کی تاب نہ لاسکے۔ برعکس اس کے ہمارے نبی کریم ﷺ کو شب معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے وہ سب آپ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ کا موقع و محل اوپر واضح کیا جا چکا ہے۔ اس کے اندر حصر کا پہلو ہے۔ وہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ حقیقی سمیع وبصیر خدا ہی ہے۔ اس کے سمع و بصر سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے اگر دوسروں کو اس میں سے کوئی حصہ ملا ہے تو وہ خا ہی کا عطا کردہ اور نہایت محدود ہے۔ مقصود ان صفات کا حوالہ دینے سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، مشرکین قریش اور بنی اسرائیل دونوں کو متنبہ کرتا ہے کہ خدا کو اپنی کرتوتوں سے بیخبر نہ سمجھو، وہ ہر چیز کو دیکھ اور سن رہا ہے۔
Ayah 17:2آگے کا مضمون۔ آیات 2 تا 8: یہود کے کبر و غرور پر ضرب : آگے کی آیات میں یہود کے اس غرور پر ضرب لگائی گئی ہے کہ وہ اسرائیل کی اولاد اور خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں اس وجہ سے مذہبی پیشوائی ان کا اجارہ ہے۔ یہود اپنے اس غرور کے سبب سے اول تو اپنے خاندان سے باہر کسی کی نوبت و رسالت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کے شروع ہی سے شدید مخالف تھے، پھر جب آپ نے شب معراج کے مشاہدات بیان کیے اور وہ ان کے علم میں آئے تو ان کا پارہ اور چڑھ گیا کہ یہ لو، یہ شخص ہمارے نبیوں کی وراثت اور ہماری امامت کا بھی مدعی بن بیٹھا۔ قرآن نے ان کے دماغ سے یہ ہوا نکالنے کے لیے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا استحقاق کسی قوم کو بھی نسل و نسب کی بنا پر حاصل نہیں ہوتا بلکہ ایمان و عمل صالح کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔ اور اس پر خود انہی کی تاریخ کی شہادت پیش کی ہے کہ خود تمہارے صحیفوں میں ہے کہ تم دو مرتبہ بڑے پیمانہ پر خدا سے بغاوت کرو گے اور زمین میں فساد مچاؤگے اور دونوں مرتبہ خدا تم پر اپنے سخت گیر بندے مسلط کردے گا جو تمہارا کچومر نکال دیں گے۔ چناچہ یہ پیشین گوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں۔ جب تم نے اصلاح کی ہے خدا نے تم پر رحمت کی ہے اور جب تم نے فساد مچایا ہے خدا نے تم پر اپنے عذاب کے کوڑے برسائے ہیں۔ یہی مرحلہ اس وقت بھی تمہارے سامنے ہے۔ ہمارے رسول کی دعوت نے تمہارے لیے صلاح و فلاح کی راہ کھول دی ہے۔ اگر تم نے یہ دعوت قبول کرلی تو اس کی برکتوں میں برابر کے حصہ دار بنوگے اور اگر تم نے یہ دعوت رد کردی تو یاد رکھو کہ ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں۔ ہم پھر تمہاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح اس سے پہلے لے چکے ہیں۔ آیات تلاوت کیجیے :
وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا۔
" وکیل " کے معنی کارساز اور معتمد : کتاب سے مراد تورات ہے اور وکیل کے معنی کارساز، معتمد اور اس ذات کے ہیں جس پر کامل بھروسہ کرکے اپنے معاملات اس کے حوالہ کردیے جائیں۔
یہود کے بگاڑ کی تاریخ : یہ آیت تمہید ہے یہود کے اس بگاڑ اور فساد کے بیان کی جو آگے کی آیات میں آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کو بنی اسرائیل کے صحیفہ ہدایت بنایا جس میں صاف یہ ہدایت درج تھی کہ میرے سوا کسی کو کارساز اور معتمد نہ بنائیو۔ مقصود اس کا حولہ دینے سے یہ واضح کرنا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس اہتمام ہدایت کی کوئی قدر نہیں کی۔ اس کے صحیفہ ہدایت کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور شرک سے بچتے رہنے کی صریح ہدایت کے باوجود شرک کی نجاستوں اور آلودگیوں میں مبتلا ہوئے۔
تورات میں توحید کی تعلیم : کتاب کے ذکر کے بعد توحید کی تعلیم کا حوالہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ چیز تمام تعلیمات دین کے لیے مرکز ثقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی پر تمام شریعت کی بنیاد بھی ہے اور اسی کے ساتھ وابستہ رہنے تک کوئی جماعت دین سے وابستہ بھی رہتی ہے۔ جہاں اس مرکز ثقل سے وابستگی کمزور ہوئی پھر بالتدریج سارا دین غارت ہو کے رہ جاتا ہے۔
یہ امر محتاج بیان نہیں ہے کہ تورات توحید کی تعلیم سے بھری پڑی ہے۔ حوالے نقل کرنے میں طوالت ہوگی اس وجہ سے ہم صرف ایک حوالہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ خروج 2:2 میں ہے۔ " خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا، میں ہوں۔ میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے مت بنا تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں "
قرآن کے الفاظ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا اور تورات کے الفاظ " میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہو وے " میں کتنی مطابقت ہے لیکن ان واضح ہدایات کے باوجود یہود بار بار شرک و بت پرستی میں متبلا ہوئے جس پر ان کے نبیوں نے نہایت درد انگیز الفاظ میں ماتم بھی کیا ہے اور یہود کو ملامت بھی کی ہے۔ سیدنا مسیح نے تو یہود کو مخاطب کر کے یہاں تک فرما دیا کہ تو تو وہ ہے کہ تو نے پہلے شب میں چھنالا کیا۔
Ayah 17:3ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا۔
حرف ندا یہاں محذوف ہے۔ یعنی توحید کی اس تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو یہ یاد دہانی بھی کردی گئی تھی کہ اس بات کو ہمیشہ مستحضر رکھنا کہ تم ان باقیات الصالحات کی نسل سے ہو جن کو اللہ نے نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں بچایا۔ نوح اللہ کے ایک شکر گزار بندے تھے تو تم بھی انہی کی طرح خدا کے شکر گزار اور اس کی توحید پر قائم رہنا ورنہ یاد رکھو کہ جس طرح اللہ نے قوم نوح کے وجود سے، اس کے شرک کی پاداش میں اپنی زمین کو پاک کردیا اسی طرح تمہارے وجود سے بھی اپنی زمین کو پاک کردے گا۔
Ayah 17:4وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔
عربیت کا ایک اسلوب : " قضینا " کے بعد " الی " کا صلہ عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہے کہ ؛ ابلغنا " یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے فیصلہ کر کے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔
یہود کے دو بڑے فسادات : " فی الکتاب " میں الکتاب کا لفظ یہاں تمام اسفار یہود پر مشتمل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ تورات کے لیے بھی آیا ہے اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفوں کے لیے بھی۔ آیت میں یہود کے جن دو بڑے فسادات اور ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے ان میں سے پہلے فساد اور اس کے عبرت انگیز انجام سے حضرت داود، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل (علیہم السلام) نے اگاہ فرمایا اور دوسرے فساد اور اس کے عواقب سے سیدنا مسیح نے ڈرایا۔ " فساد " سے مراد جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، خدا کی توحید اور اس کی شریعت سے بغاوت ہے۔ اس قسم کے فسادات سے یوں تو یہود کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ چناچہ ایک فساد کی تفصیل سورة بقرہ میں تابوت کے چھن جانے کے واقعہ سے متعلق بھی گزر چکی ہے لیکن ہاں جن فسادات کا حوالہ ہے وہ ایسے فسادات ہیں کہ ان کے نتائج نے یہود کی پوری قوم کو ذلیل و پامال کر کے رکھ دیا۔ حضرت داؤد نے پہلے فساد اور اس کے انجام کی جن لفظوں میں پیشین گوئی فرمائی تھی وہ یہ ہیں : " انہوں نے (یعنی بنی اسرائیل نے) ان قوموں کو (یعنی مشرک قوموں) کو ہلاک نہ کیا، جیسا کہ خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لیے پھند بن گئے بلکہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو شیطان کے لیے قربان کیا اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون بہایا۔۔۔ اس لیے خدا کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے (یعنی بنی اسرائیل سے) نفرت ہوگئی اور اس نے انکو قوموں کے قبضے میں کردیا اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر حکمران بن گئے۔ (زبور باب 106۔ آیات 34۔ 41)۔
دوسرے فساد کی یشین گوئی کے سلسلہ میں سیدنا مسیح کے الفاظ یہ ہیں " میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرایا نہ جائے " (متی باب 24 آیت 3)
لوقا میں ہے " اے یروشلم کی بیٹیو ! میرے لیے نہ رو و بلکہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے روو، کیونکہ دیکھو وہ دن آتے ہیں جب کہیں مبارک ہیں بانچھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور چھاتیاں جنہوں نے دودھ نہ پلایا۔ اس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہیں گے کہ ہمیں چھپا لو " (باب 23 آیات 28۔ 20)
آیت کے آخر میں " فنعذبکم مرتین " یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے اور بہت سر اٹھاؤ گے اور ہم دونوں مرتبہ تم کو سخت سزا دیں گے۔ چونکہ یہ بات بالکل واضح بھی تھی نیز اس کی پوری تفصیل آگے والی آیات میں آرہی تھی اس وجہ سے یہاں اس کو حذف فرما دیا۔
Ayah 17:5فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔
" اذا " صرف مستقبل ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ بیان عادت و سنت اور بعض اوقات تصویر حال کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں تصویر حال ہی کے لیے ہے۔ ہم ترجمے میں اس کو ملحوظ رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چناچہ دیکھ لو جب پہلی بار کی میعاد آجاتی ہے تو ہم تمہیں اپنے عذاب کا مزا چکھانے کے لیے اپنے زور آور بندوں کو ابھار کر تم پر مسلط کردیتے ہیں تو تمہارے گھروں میں گھس پڑتے ہیں اور خدا کا شدنی وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے۔ " بعث " کا صلہ جب " علی " کے ساتھ آئے تو وہ ابھارنے اور اکسانے کے ساتھ ساتھ مسلط کردینے کے مفہوم پر بھی متضمن ہوجاتا ہے۔
یہود کی توہین و تذلیل کی تصویر : فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ، یہ یہود کی انتہائی توہین و تذلیل کی تصویر ہے اس لیے کہ جب دشمن اتنا زور آور ہو کہ گھروں کے اندر گھس پڑے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے عزت و ناموس ہر چیز کو تاراج کرکے رکھ دیا۔ یہاں صرف اتنے ہی کے ذکر پر اکتفا فرمایا ہے اس لیے کہ ذلت کی تصویر کے لیے یہی کافی تھا لیکن آگے اس بات کا حوالہ بھی آئے گا کہ اس دشمن نے صرف گھروں میں گھسنے ہی پر بس نہیں کیا بلکہ مسجد اقصی کی حرمت بھی پوری طرح برباد کی۔
بخت نصر کا حملہ اور یہود کی غلامی : یہ اشارہ بابل و نینوا کے بادشاہ بخت نصر یا بنوکد نضر کے حملہ کی طرف ہے جس نے 586 قبل مسیح میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ یرمیاہ نبی نے اس کی پیشین گوئی یوں فرمائی تھی : " رب الافواج یوں کہتا ہے۔ اس لیے کہ تم نے میری باتیں نہ سنیں دیکھ میں اتر کے سارے گھرانوں کو اپنے خدمت گزار شاہ بابل بنوکدنضر کو بلا بھیجوں گا " (یرمیاہ 25، 8-9)
ان کے انذار کی مزید تفصیل سنیے : " میں ایسا کروں گا کہ ان کے درمیان خوشی کی آواز اور خرص کی آواز، دل ہے کی آواز دلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی باقی نہ رہے اور یہ ساری سرزمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہوجائے گی اور یہ قومیں ستر برس تک بابل کے بادشاہ کی غلامی کریں گی " (یرمیاہ 25، 9-10)
یرمیاہ نبی کا نوحہ سنیے : " خداوند نے صیہوں کی بیٹی کو اپنے قبر تلے چھپا دیا۔ اس نے اسرائیل کے جمال کو آسمان سے زمین پر پٹک دیا اور اپنے قہر کے دن اپنے پاؤں رکھنے کی کرسی کو یاد نہ کیا۔ خداوند نے یعقوب کے سارے مکانوں کا غارت کیا اور رحم نہ کیا۔ اس نے اپنے قہر میں یہوداہ کی بیٹی کے قلعوں کو ڈھا دیا۔ اس نے انہیں خاک کے برابر کردیا۔ اس نے بادشاہت اور امیروں کو ناپاک کیا۔ اس نے اپنے قہر شدید میں اسرائیل کا ہر ایک سینگ بالکل کاٹ ڈالا " (یرمیاہ کا نوح 2، 271)۔
آیت میں بخت نصر (یا بنوکدنضر) اور اس کی فوجوں کے لیے عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ (اپنے زور آور بندے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ ان کے دین اور تقوی کے اعتبار سے نہیں استعمال ہوئے ہیں بلکہ صرف اس حیثیت سے استعمال ہوئے ہیں کہ انہوں نے خدا کے ارادہ کے اجراء و نفاذ کے لیے آلہ و جارحہ کا کام دیا۔ یہ اگرچہ خود گندے تھے لیکن گندگی کے ایک بہت بڑے ڈھیر کو صاف کرنے میں انہوں نے مشیت الٰہی کی تنفیذ کی اس وجہ سے انہیں بھی فی الجملہ خدا سے نسبت حاصل ہوگئی۔ بنی اسرائیل کو غرہ تھا کہ نحن ابناء اللہ و احباءہ۔ ہم خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں خدا نے ان پر واجح کردیا کہ جن جوتوں سے تم پٹے ہو وہ تو خدا کی نظروں میں کچھ وقعت رکھتے ہیں لیکن تم کوئی وقعت نہیں رکھتے۔
Ayah 17:6ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا۔ ایک عرصہ کی غلامی اور بدحالی کے بعد بنی اسرائیل میں کچھ اصلاح حال کا جذبہ ابھرا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی طرف توجہ فرمائی، ان کے مال و اولاد میں برکت دی، اور تائید الٰہی ان کے لیے اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ دارائے اول سائرس شاہ ایران نے 739 ق، م میں کلدانیوں کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا اور یہود کو جلا وطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد بنی اسرائیل کو از سر نو خاصا فروغ حاصل ہوا۔
Ayah 17:7اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا۔
" تائییس " کے ہاتھوں یہود کی دوسری تباہی : " ان احسنتم۔۔۔۔ الایۃ " یعنی ایک طویل غلامی کے بعد یہ جو نجات حاصل ہوئی تھی اس کے اندر خود یہ درس مضمر تھا کہ اب اگر تم بھلائی کی روش اختیار کروگے تو اس کا نفع خود اپنے ہی کو پہنچاؤگے اور اگر پھر وہی سرکشی کی روش اختیار کروگے تو اس کا انجام بھی ویسا ہی بھگتوگے۔ یہ نوشتہ دیوار بھی موجود تھا اور اس سے تمہارے نبیوں نے بھی تمہیں اچھی طرح آگاہ کردیا تھا لیکن ہوا وہی جس کی پیشین گوئی پہلے ہوچکی تھی یعنی تم اسی طرح کے فساد میں پھر مبتلا ہوگئے جس طرح کے فساد میں پہلے مبتلا ہوئے تھے چناچہ جب تمہاری سرکوبی کی دوسری میعاد آجاتی ہے تو ہم تم پر اپنے دوسرے زور آور بندے مسلط کردیتے ہیں تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ یہ بھی مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے والے گھس گئے تھے اور تاکہ یہ ہر اس چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیں جس پر ان کا زور چلے۔ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ سے بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ کے الفاظ محذوف ہیں۔ چونکہ اس کا قرینہ واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کردیا اور لیسوء و پر جو لام ہے وہ اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کر رہا ہے۔
بائیبل ہسٹری کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس تباہی کی طرف اشارہ ہے جو 70 ء میں رومی شاہنشاہ طیطاؤس (ٹائیٹس) ہاتھوں یہود پر آئی، جس کی طرف حضرت مسیح نے اشارہ فرمایا تھا۔
Ayah 17:8عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا
" حصیر " کا ٹھیک ترجمہ باڑا ہے جس میں جانوروں کو بند کرتے ہیں۔
نبی ﷺ یہود کے لیے نجات : یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قران کی مخالفت میں کفار قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے۔ ان سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے وہ تمہیں سنایا جا چکا۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امری ﷺ کی دعوت نے تمہارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے، اس کو اختیار کرو، اور اپنے مستقبل کر سنوار لو۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرلی تو خدا بھی تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھ اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسی کہ پہلے کرتے آئے ہو تو ہم بھی تمہاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح پہلے لے چکے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے وہ تو ہوگی ہی۔ آگے تمہارے جیسے کافروں کے لیے جہنم کا باڑا ہے جس میں سارے کے سارے بھردیے جائیں گے۔
اس آیت کے تیور لحاظ رکھنے کے قابل ہیں۔ پہلے تو بات غائب کے صیغے سے فرمائی۔ پھر " ان عدتم عدنا " میں متکلم کا صیغہ آگیا۔ پہلے ٹکڑے میں بےپروائی کا انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم یہ صحیح راہ اختیار کرلوگے تو اپنے ہی کو نفع پہنچاؤ گے اور اگر نہ اختیار کروگے تو اپنی ہی شامت کو دعوت دوگے، خدا کا کچھ نہیں بگاڑوگے، دوسرے ٹکڑے میں نہایت ہی سخت وعید ہے اس وجہ سے اول تو متکلم کا صیغہ آیا جو تہدید و وعید کے لیے زیادہ موزوں ہے پھر اس میں ابہام و اجمال بھی ہے۔ یہ تو بتایا کہ ہم لوٹیں گے، یہ نہیں بتایا کہ ہم کس شکل میں لوٹیں گے۔ یہ بات سمجھنے والوں کی سمجھ پر چھوڑ دی ہے اور اس جملے کی ساری شدت اس ابہام کے اندر مضمر ہے۔
Ayahs 17:9–10آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 21: آگے کی آیات میں مشرکین قریش اور یہود دونوں کو اس قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو فطرت کی اسی صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ اس دعوت پر ایمان لانے والوں اور اس کی تکذیب کرنے والو، دونوں کا انجام واضح فرما دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں اور قرآن کی واضح آیات سے آنکھیں بند کیے ہوئے عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی ذیل میں بالاجمال اس سنت الٰہی کو وضاحت کردی گئی ہے جو قوموں کو عذاب دینے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمائی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 9۔ 10: اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا۔ وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۔
ا " قوم " کا مفہوم : اقوم کے معنی سیدھا اور مستقیم یعنی وہ راستہ جو ٹھیک فطرت اور عقل کے مطابق اور خدا تک پہنچنے اور پہنچانے والا ہے۔
یہود اور مشرکین کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت : یہ بنی اسرائیل اور مشرکین قریش دونوں کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت ہے کہ اگر خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تو کچ پیچ بھٹکنے کے بجائے اس راستہ کو اختیار کرو جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے۔ یہ ان لوگوں کو اجر عظیم کی خوش خبری دیتا ہے جو اس پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے سبب سے اس قرآن کو بھی ٹھکرا رہے ہیں ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔
Ayah 17:11وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔
یہ حالت انہی مخالفین قرآن کی بیان ہوئی جو اس پر ایمان لانے کے بجائے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ مطالبہ چونکہ نہایت احمقانہ اور خود ان کے حق میں نہایت مہلک تھا اس وجہ سے بات ان سے منہ پھیر کر عام الفاظ میں بانداز تاسف فرما دی گئی کہ ان سان کا عجیب حال ہے کہ جس سرگرمی کے ساتھ اس کو خیر کا طالب ہونا چاہیے اس سرگرمی کے ساتھ وہ اپنے لیے آفت اور تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مہلت جو ان لوگوں کو ملی ہوئی اس سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگی کو بنانے سنوارنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس عذاب ہی کو دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 17:12وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا۔
اس آیت کے پہلے ٹکڑے میں " فمحونا ایۃ الیل " کے بعد " مظلمۃ لتستریحوا " یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں جن پر بعد کے الفاظ مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم روشنی ڈال رہے ہیں۔ یعنی ہم نے شب کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں راحت حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں خدا کے رزق و فضل کے طالب بنو۔
عذاب کی نشانی کے طالبوں کے لیے آفاقی نشانیاں : یہ عذاب کی نشانی مانگنے والوں کو آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر نشانی ہی مطلوب ہے تو یہ کیا ضرور ہے کہ کوئی عذاب ہی کی نشانی آئے۔ آخر یہ رات اور رات کے بعد دن کے طلوع کو کیوں نہیں دیکھتے کیا یہ کچھ کم نشانی ہے ؟ رات آتی ہے تو تمہارے لیے راحت اور سکون کا بستر بچھا دیتی ہے جس میں تم دن کے تھکے ماندے آرام کرکے ازسرنو چاق و چوبند ہوجاتے ہو، اسی لیے خدا نے اس کو تاریک اور پرسکون بنایا ہے۔ پھر دن آتا ہے جس میں تم تازہ دم ہو کر اپنی معاشی سرگرمیوں اور خدا کے رزق و فضل کی طلب میں سرگرم ہوتے ہو چناچہ اسی لیے تمہارے پروردگار نے اس کو روشن بنایا ہے۔
وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، روز و شب کی یکے بعد دیگرے، پابندی اوقات کے ساتھ، آمد و شد کا یہ ایک مزید فائدہ بتا دیا کہ اس طرح تم مہینوں اور سالوں کا حساب بھی معلوم کرلیتے ہو اور دوسرے حساب بھی جان لیتے ہو۔ اگر یہ روز و شب کا فرق نہ ہوتا تو آخر کسی چیز کے تعین کے لیے تم نشان اور علامت امتیاز کس چیز کو ٹھہراتے ؟
وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا، یعنی آفاق کی ان نشانیوں کے علاوہ ہم نے تم پر یہ احسان بھی کیا ہے کہ اپنی اس کتاب میں بھی ہر ضروری چیز کی تفصیل کردی ہے تاکہ غور کرنے والے کے اطمینان کے لیے یہ کتاب ہی کافی ہوجائے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے اور دن کی آمدوشد سے جس حقیقت کی طرف یہاں توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآن نے صرف اسی پر بس نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے مقامات پر اس کے مزید پہلو واضح فرمائے ہیں، مثلاً تضاد کے باوجود ان کے درمیان جو توافق ہے اس سے توحید پر استدلال کیا ہے۔ رات کے بعد صبح کی آمد سے حشرونشر کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان چیزوں کی تفصیل پیچھے بھی اس کتاب میں گزر چکی ہے اور آگے بھی ان کی تفصیلات آئیں گی۔
Ayahs 17:13–14تفسیر آیات 13۔ 14:۔ وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۔ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۔
" طائر " کا مفہوم : طائر کے اصل معنی تو پرندے کے ہیں لیکن اہل عرب پرندوں سے چونکہ فال لیتے تھے اور اپنے زعم کے مطابق ان سے قسمت بھی معلوم کرتے تھے اس وجہ سے یہ لفظ قسمت، حظ اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر یہ جلدی اپنے مزعومہ شرکاء و شفعا کے بل پر مچائے ہوئے ہیں تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کی گردن کے ساتھ لٹکا رکھا ہے جس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کی پوری تفصیل ایک کھلے ہوئے رجسٹر کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہوگی اور ہم اس سے کہیں گے کہ تم اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو، تم اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہو، اس میں کسی اور کی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حساب کے دن کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ ہر ایک کے اعمال اس کے سامنے ہوں گے اور ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہوگا۔
Ayah 17:15مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔
اتمام حجت کے لیے رسول کی بعثت : یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اپنے ہی نفع کے لیے کرے گا اور جو گمراہی کی راہ چلے گا اس کا انجام خود ہی بھگتے گا۔ کوئی دوسری جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو قوموں پر عذاب کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اختیار فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے سے پہلے اتمام حجت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کے لیے تم کیا جلدی مچائے ہوئے ہو، اس کا ایک مرحلہ تو طے ہوچکا کہ اتمام حجت کے لیے خدا کا رسول تمہارے پاس آگیا۔ اب تو عذاب کے آنے میں صرف اتنی کسر باقی ہے کہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ تمہاری شامت ہی ہوگی اگر تم نے اس فرصت سے فائدہ نہ اٹھایا۔
Ayah 17:16وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا۔
" امر " کا مفہوم : " امر " صرف حکم دینے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے ور مہلت دے دینے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ " افعلوا ما بدا لکم " جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مفہوم امہال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت تمام کرچکنے کے بعد ان کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں۔ " مترفین " کسی قوم کے کھاتے پیتے خوش حال طبقہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ قوم کی باگ انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس وجہ سے سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی دعوت اصلاح میں سب سے پہلے اسی طبقہ کو خطاب کیا ہے۔ پھر جب اس طبقہ نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے نہ صرف ان کو مایوس کردیا ہے بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگیا ہے تو نبی نے ہجرت فرمائی اور قوم عذاب الٰہی کی گرفت میں آگئی ہے۔ یہ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے۔ فرمایا کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حالوں کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ اس میں خوب کھل کر خدا کی نافرمانیاں اور بدمستیاں کرتے تاآنکہ ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔ پھر خدا ان کو پکڑتا ہے اور اس بستی کو تہ وبالا کرکے رکھ دیتا ہے۔
Ayah 17:17وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ ۭوَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۔
یہ اسی مذکورہ سنت الٰہی کی تائید میں پہلے تاریخ کا حوالہ ہے کہ نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا ہے۔ اگر یہ لوگ دیدہ عبرت رکھتے ہیں تو ان کے حالات سے سبق لیں۔ پھر پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے کہ وہ تمہاری قوم کے سرکشوں کے جرائم سے بھی اچھی طرح باخبر ہے اور سارے حالات کو دیکھ رہا ہے۔ جب وقت آجائے گا تو وہ ان کا فیصلہ کرنے میں بھی دیر نہیں لگائے گا۔
Ayah 17:18مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔
" عاجلۃ " آخرت کا مقابل لفظ ہے یعنی یہ دنیا اور اس کا نفع عاجل۔
امہال کے باب میں سنت الٰہی : یہ امہال کے باب میں سنت الٰہی بیان ہورہی ہے کہ جو لوگ آخرت کو یک قلم نظر انداز کرکے صرف اسی دنیا اور اس کے نفع عاجل کے طلب گار بنتے ہیں خدا ان کو بھی محروم نہیں کرتا بلکہ ان میں سے بھی جس کے لیے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کا حصہ آخرت میں صرف جہنم ہے جس میں وہ مذموم ومطرود ہو کر داخل ہوں گے۔
اس آیت میں " مانشاء لمن نرید " کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ بات بھی دنیا طلبوں کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ جو شخص اس دنیا میں جتنا چاہے حاصل کرلے بلکہ یہ معاملہ کلیۃً خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
Ayah 17:19وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا۔
اصل فائز المرام گروہ : یہ آخرت کے طلبگاروں اور اصل فائز المرام گروہ کا بیان ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ آخرت کے طالب بنتے ہیں اور اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں اور ان کے سینے ایمان سے بھی منور ہیں، درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی عنداللہ مقبول ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ اس دنیا میں سے بھی جو کچھ ان کے لیے مقدر ہے پاتے ہیں اور آخرت تو ان کی کامیابی کا گھر ہے ہی۔
اس آیت میں بھی وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت صرف تمنا کرنے سے نہیں مل جائے گی، بلکہ اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش بھی مطلوب ہے اور ساتھ ہی شرک کی ہر آمیزش سے پاک ایمان بھی۔ جب تک یہ دونوں چیزیں طلب آخرت کے ساتھ نہیں ہوں گی اس وقت تک یہ تمنا لا حاصل ہی رہے گی۔
Ayah 17:20كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۔
رب کی عطاء بخشش عام ہے : لفظ " کل " جب مختلف جماعتوں کے ذکر کے بعد اس طرح آئے جس طرح یہاں آیا ہے تو وہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے۔ یعنی اس سے وہ جماعتیں مراد ہوتی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کی عطاء و بخشش کا دروازہ مذکورہ دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی بند نہیں۔ جو لوگ آخرت سے بالکل بےپروا رات دن دنیا ہی کی طلب میں سرگرم ہیں، ان کو بھی خدا اس دنیا میں سے جو کچھ ان کے لیے مقدر کررکھا ہے، دیتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ ان کی خدا فراموشی اور آخرت فراموشی کے جرم میں ان کو دنیسا سے محروم کردے۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے طالب بنتے ہیں خدا اس دنیا میں سے ان کا مقدر حصہ دیتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ دنیا سے بےپروائی کے سبب سے ان کو دنیا سے محروم کردے بلکہ ان کو اس دنیا میں سے بھی ان کا حصہ دیتا ہے اور آخرت میں بھی وہ اپنی کوشش کا بھرپور صلہ پائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو آدمی اس فانی اور حقیر دنیا کے پیچھے اپنے آپ کو آخر کی ابدی اور لازوال نعمتوں سے کیوں محرم کردے۔ وہ راستہ کیوں نہ اختیار کرے جس پر چل کر آخرت کی ابدی نعمتوں کا بھی حقدار بنے اور اس دنیا میں سے بھی جو کچھ اس کے لیے مقدر ہے اس سے بہرہ مند ہو۔
Ayah 17:21اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا۔
یعنی دیکھ لو یہ حقیقت اپنی جگہ پر بالکل واضح ہے کہ خدا ہی نے جس کو چاہا ہے زیادہ دیا ہے اور جس کو چاہا ہے کم دیا ہے یہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ جتنا چاہے حاصل کرلے۔ اسی طرح آخرت میں بھی تمام اختیار خد اہی کے ہاتھ میں ہوگا، وہی جس کو چاہے گا عزت دے گا اور جس کو چاہے گا ذلت دے گا، کسی دوسرے کو وہاں یہ زور و اثر حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے۔ یہ آخرت اپنے درجات و مراتب کے لحاظ سے اس دنیا کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگی تو جس کو کوشش کرنی ہو وہ اس کے درجات و مراتب کا طالب بنے اور اس کے لیے کوشش کرے، اس دنیا کے پیچھے آخرت کو کیوں برباد کرے۔
Ayah 17:22آگے کا مضمون۔ آیات 22 تا 39:۔ وپر آپ نے دیکھا کہ آیت 9 میں یہ فرما کر کہ اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ۔۔۔ الایۃ (یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے) کلام کا رخ بعض دوسری متعلق باتوں کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر کلام اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا اور قرآن خدا تک پہنچنے کے جس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس کی وضاحت شروع ہوگئی۔ یہی راستہ فطرت اور عقل کا سیدھا راستہ ہے اور یہی اس عدل و احسان کی زندگی کو جود میں لاتا ہے جو خدا کو پسند ہے اور جس پر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کی بنیاد ہے۔ یہاں سورة نحل کی آیت 90 ذہن میں پھر تازہ کرلیجیے جس میں قرآن کے اوامر اور منہیات کے کی اساسات واضح کی گئی ہیں۔ اس لیے کہ آگے کی آیات اسی اجمال کی شرح کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتائ ذی القربی وینہی عند الفحشاء والمنکر والبغی۔۔۔ الایۃ۔۔ آگے آیات کی تلاوت کیجیے۔
لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا
واحد کا خطاب جمع کے لیے : ہم متعدد مقامات میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ واحد کا خطاب بسا اوقات جمع کے لیے بھی آتا ہے۔ اس صورت میں گویا جماعت کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مخاطب ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ چناچہ بیچ بیچ میں خطاب کے لیے جمع کا صیغہ بھی استعمال ہوگیا ہے جس سے خطاب کی اصل نوعیت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس بیچ میں اگر کہیں خطاب آنحضرت ﷺ سے بھی ہوا ہے تو وہ جماعت کے امام کی حیثیت سے ہوا ہے اس کی حیثیت شخصی خطاب کی نہیں ہے۔
" فتقعد " کا مفہوم : فَتَقْعُدَ یہاں اس مفہوم میں آیا ہے جس مفہوم میں افعال ناقصہ مثلا فتکون، فتصیر وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ اردو میں بھی " بیٹھ رہو، " بیٹھ رہے " اس مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس صورت میں بیٹھنے کے معروف مفہوم سے یہ لفظ مجرد ہوجاتا ہے۔
قرآن کے طریق اقوم کی بنیادی دفعہ : قرآن جس عدل یا طریق اقوم کی تعلیم دیتا ہے یہ اس کی بنیادی دفعہ ہے کہ خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ خالق، مالک، رازق صرف خدا ہے تو اس کے حقوق اور اس کی خدائی میں کسی اور کو ساجھی بنانا عدل کے منافی اور بہت بڑا ظلم ہے۔ چناچہ اسی بنیاد پر قرآن میں شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے۔
خدا کا شریک بنانے کا انجام : فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا، یہ خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک بنانے کا انجام بیان ہوا ہے اور تقعد کا ظرف یوم القیامۃ یہاں محذوف ہے۔ یعنی اگر خدا کے ساتھ اس کے حقوق میں کسی اور کو شریک بناؤگے تو قیامت کے روز سزاوار مذمت اور مخذول ہو کر رہ جاؤگے۔ تم خود اپنی بدبختی کے ذمہ دار ہوگے اور تمہارے مزعومہ شرکاء و شفعاء میں سے نہ صرف یہ کہ کوئی تمہارا ساتھ نہ دے گا بلکہ وہ بھی تم پر لعنت اور نفرت کریں گے۔
Ayah 17:23وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۔
کدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا : یعنی یہ خدا ہی کا کام ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس کے حقوق میں کوئی شریک ہے یا نہیں ہے سو اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا تم کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ خدا کے بعد سب سے بڑا حق ہوسکتا ہے تو والدین کا اپنی اولاد پر ہوسکتا ہے اس لیے کہ ان کی پیدائش اور پرورش و پرداخت کا وہ ذریعہ بنتے ہیں لیکن ان کا حق بھی اللہ نے یہ نہیں قرار دیا کہ وہ اس کی عبادت میں شریک ٹھہرائے جائیں بلکہ ان کا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ احسان کیا جائے۔ " احساناً " یہاں فعل محذوف ہے مفعول مطلق ہے اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ان کے ساتھ نہایت بہتر سلوک کیا جائے۔ یہاں سیاق کلام سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اگر عبادت میں کسی اور کو شریک کرنے کی کوئی ادنی گنجائش بھی ہوتی تو اس کے حق دار والدین ہوسکتے تھے لیکن جب خدا نے ان کو بھی شریک نہیں کیا، ان کو صرف احسان ہی کا حقدار ٹھہرایا تو تابدیگراں چہ رسد !
اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۔
" اُف " دل کی بیزاری کے اظہار کا کلمہ ہے اور " نہر " کے معنی ڈانٹنے اور جھڑکنے کے ہیں۔ اوپر جس احسان کا حکم ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ اگر ماں باپ تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ ان کے خلاف دل میں کوئی بیزاری پیدا ہونے پائے اور نہ زبان سے ان کے سامنے کوئی کلمہ و ادب کا نکلے بلکہ جب بھی ان سے بات کرنے کا موقع آئے شریفانہ اور سعادت مندانہ بات کرو اور ان کی دلداری و تسلی کرتے رہو۔
والدین کا حق احسان : آیت میں بڑھاپے تک پہنچ جانے کا حوالہ محض اس لیے دیا گیا ہے کہ یہی زمانہ ہوتا ہے جس میں ان لوگوں کو ماں باپ بوجھ محسوس ہوتے ہیں جو ان کی ان قربانیوں اور جاں فشانیوں کو بھول جاتے ہیں جو انہوں نے ان کے لیے بچپن میں کی ہوتی ہیں۔ سعادت مند اولاد تو اس بات کو یاد رکھتی ہے کہ جس طرح کبھی ایک مضۂ گوشت کی صورت میں تجھ کو اپنے والدین کی گود میں ڈالا گیا تھا اسی طرح اب میرے والدین ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کی صورت میں میرے حوالے کیے گئے ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں ان کے احسان کا بدلہ احسان کی صورت میں دوں لیکن ہر شخص اس بات کو یاد نہیں رکھتا۔ یہ اسی بات کی یاد دہانی ہے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ والدین ہر دور میں محبت، تعظیم اور احسان کے حق دار ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں محفوظ رہے کہ اوپر والی آیت میں جس طرح سب سے بڑے عدل کا ذکر آیا ہے اس طرح اس آیت میں سب سے بڑے احسان کا ذکر ہے جو قرآنی تعلیمات میں دوسری اساسی تعلیم کا درجہ رکھتا ہے۔
Ayah 17:24وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا۔
والدین کا حق فرمانبرداری و خدمت : " ذل " کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں۔ اس کے لیے " جناح " کے استعارے میں یہ تلمیح مضمر ہے کہ تمہارے والدین نے تمہارے بچپن میں تمہیں اس طرح اپنے بازوؤں کے نیچے چھپائے رکھا جس طرح پرندہ اپنے بچے کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ انکے بڑھاپے میں تم بھی انہیں اپنی اطاعت و محبت کے بازؤں کے نیچے چھپائے رکھو۔ اس اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ " من الرحمۃ " کی قید اس کے منبع اور محرک کا پتہ دیتی ہے کہ یہ اطاعت و فرماں برداری تمام تر مہر و محبت اور شفقت و رحمت پر مبنی ہو، اس میں کسی اور جذبہ کو دخل نہ ہو اس لیے کہ ان کی شفقت و محبت کا حق اگر کچھ ادا ہوسکتا ہے تو مہرومحبت کے جذبہ ہی سے ہوسکتا ہے۔ بغیر اس جذبہ کے کوئی شخصد والدین کا حق ان کے بڑھاپے میں ادا نہیں کرسکتا۔
والدین کے لیے دعا کا حق : وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا۔۔۔ الایۃ۔ خدمت و محبت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے یہ دعا کرتے رہنے کی ہدایت ہوئی کہ اے میرے رب جس طرح شفقت و محبت کے ساتھ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا اسی طرح اس بڑھاپے میں تو ان پر اپنی محبت و رحمت نازل فرما۔ یہ دعا والدین کا حق بھی ہے۔ اس میں اس حق کی یاد دہانی بھی ہے جو والدین سے متعلق اولاد پر عائد ہوتا ہے اور یہ اس جذبہ محبت کی محرک بھی ہے جو والدین کے ساتھ سلوک کے معاملے میں مطلوب ہے۔
Ayah 17:25رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا۔
والدین کے لیے دلی محبت اور کامل سعادت مندی : بڑھاپے والدین کی خدمت و محبت اس طرح کرنا جس طرح قرآن نے ہدایت فرمائی ہے کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اس میں صرف ظاہری اطاعت ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ پاکیزہ قلبی جذبۂ محبت اور دلی لگاؤ بھی مطلوب ہے۔ اس کی اس مشکل کی وجہ سے قرآن نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ اصل مطلوب دلی محبت اور کامل سعادت مندی ہے۔ اگر یہ چیز موجود ہے تو خدا دلوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ اس کے ہوتے اگر کوئی چھوٹی موٹی اتفاقیہ کوتاہی صادر ہوگئی تو اس کی تلافی توبہ اور رجوع الی اللہ سے ہوسکتی ہے۔ جو لوگ اپنی اس طرح کی کوتاہیوں پر برابر اللہ سے معافی مانگتے رہیں گے تو اللہ ان کو معاف کردے گا۔
Ayahs 17:26–27تفسیر آیات 26 تا 27: وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا۔
قرابت دار، مسکین اور مسافر کا حق : عدل اور احسان کے حکم کے بعد قرآنی اوامر کی تیسری اساسی چیز ایتائے ذی القربی یعنی عزیزوں اور قرابت داروں کی خدمت ہے۔ اب یہ اس کا بیان ہورہا ہے۔ فرمایا کہ قرابت دار، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر صاحب مال کے مال میں اس کے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کا بھی حق ہے۔ یہاں لفظ " حق " کا استعمال اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس کی ذمہ داری حق واجب کی ہے جس کی ادائیگی صاحب مال پر لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص اس حق کو ادا نہ کرے گا تو وہ عنداللہ غصب حقوق کا مجرم ٹھہرے گا۔ قرابت دار کے بعد دوسرا درجہ مسکین کا ہے۔ قرابت دار تو مجرد قرابت کی بنا پر حق دار بن جاتا ہے لیکن مسکین کو اس کی مسکینی کی حقدار بناتی ہے۔ اگر کوئی قرابت دار مسکین بھی ہو تو اس کا حق دہرا ہوجائے گا۔ قرابت دار کے بعد معاً مسکین کا ذکر اسلامی معاشرے میں مسکین کے درجے اور مرتبے کو ظاہر کرتا ہے۔ مسکین کے بعد ابن السبیل یعنی مسافر کا حق ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسافر صرف مسافر ہونے کی بنا پر حقدار بنتا ہے، اس کا مسکین ہونا ضروری نہیں ہے، ورنہ اس کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ حالت سفر بجائے خود ایسی چیز ہے جو عام حالات میں آدمی کو دوسروں کی مدد کا محتاج بنا دیتی ہے اگرچہ وہ فقہی مفہوم میں مسکین کے حکم میں نہ آتا ہو۔
اعتدالی و کفایت شعاری کی ہدایت : وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا ظاہر ہے کہ جب ہر صاحب مال کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہوئے تو اس کو اللّے تلّلے خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ پھر تو اس کے لیے صحیح رویہ یہی ہوسکتا ہے کہ احتیاط و اعتدال اور کفایت شعاری کے ساتھ اپنی جائز ضروریات پر خرچ کرے اور بقیہ مال کے معاملے میں وہ اپنے آپ کو دوسرے حق داروں کا امین سمجھے، اور اس امانت کو نہایت احتیاط کے ساتھ ادا کرے۔ جو شخص اپنی ضروریات کے معاملے میں محتاط اور کفایت شعار نہیں ہوگا اس کو اپنے ہی شوقت پورے کرنے سے فرصت نہیں ہوگی تو وہ دوسروں کے حقوق کہاں سے ادا کرپائے گا۔
اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۔۔۔ الایۃ، فرمایا کہ جو لوگ فضول خرچ ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ جن لوگوں کو اللہ اپنی نعمت دیتا ہے اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمت کے شکر گزار ہوں اور اس کو انہی کاموں پر صرف کریں جو اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے موجب ہوں لیکن شیطان ان کو ورغلا کر اپنی راہ پر لگالیتا ہے اور خدا کا بخشا ہوا مال ان سے ان کاموں پر خرچ کراتا ہے جو ان کو خدا سے دور سے دور تر اور شیطان سے قریب سے قریب تر کردیں۔