Ayah 17:97ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الہی : وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرما دی کہ اللہ ہی جس کو ہدایت دیتا ہے وہ ہدایت پاتا اور وہ جس کو گمراہ کردے اس کے لیے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ یہ سنت الٰہی جس اساس پر بمبنی ہے اس کی طرف وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ اپنی آنکھیں اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے، اپنی زبانیں حق کی گواہی کے لیے اور اپنے کان اللہ، اور رسول کی باتیں سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کو تو خدا کی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ان لوگو کا چونکہ یہی حال ہے اس وجہ سے ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوگی اور قیامت کے دن ان کو ان نعمتوں کی ناقدری کی سزا ہم یہ دیں گے کہ ان کو ہم ان کے مونہوں کے بل اس حال میں گھسیٹتے ہوئے اکٹھا کریں گے کہ یہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ نھشرہم کے بعد " علی " اس بات پر دلیل ہے کہ یہ مونہوں کے بل گھسیٹتے ہوئے اکٹھے کیے جائیں گے ل۔ دوسری جگہ " یوم یسحبون فی النار علی وجوہہم " کے الفاظ وارد ہوئے جن سے اس مضمون کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ وہ چہرے جن کو اللہ نے سمع و بصر اور نطق کی صلاحیتوں سے مزین فرمایا لیکن اس کے باوجود وہ اندھے، بہرے اور گونگے ہی بنے رہے بلاشبہ وہ اسی قابل ہیں کہ ایسی بھڑکتی آگ پر گھسیٹے جائیں جس کی لو کبھی دھیمی نہ ہونے پائے۔
Ayah 17:98فرمایا کہ۔ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا۔ یہ سزا ان کو اس لیے دی جائے گی کہ قدم قدم پر ہماری قدرت اور حیات بعد الممات کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود وہ قیامت کے انکار ہی پر اڑے رہے اور بڑے طنطنہ کے ساتھ یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے اور سڑ گل کر ریزی ریزہ ہوجائیں گے تو بھلا از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ یعنی ان کے خیال میں یہ بالکل ناممکن اور محال ہے۔ فرمایا کہ ہم اسی محال کو واقعہ بنا کر ان کو اس کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 17:99قیامت کے لیے وقت مقرر ہے : أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلا لا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلا كُفُورًا۔ یعنی ان کو آخر دوبارہ اٹھائے جانے میں اتنا استبعاد کیوں نظر آتا ہے ؟ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جو خدا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیو قاصر رہ جائے گا ؟ کیا ان کو دوبارہ پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے ؟ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلا لا رَيْبَ فِيهِ۔ رہا یہ سوال کہ قیامت آنی ہے تو آ کیوں نہیں جاتی تو اس کے لیے جلدی نہ مچائیں خدا نے اس کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا وہ یوم موعود بھی آجائے گا۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلا كُفُورًا، یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے لوگ اس کے لیے تیار کرنے کے بجائے اس کے انکار ہی پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 17:100کفار کی متکبرانہ ذہنیت پر ضرب : قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا۔
ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اس تمام رد و انکار میں قریش کے لیڈروں کی اس متکبرانہ ذہنیت کو بھی بڑا دخل تھا کہ جب دنیا کی تمام نعمتیں ہمیں ملی ہیں تو خدا اگر نبوت و رسالت کے منصب پر کسی کو سرفراز کرنے والا ہوتا تو ہم ہی میں سے کسی کو سرفراز کرتا، آخر یہ منصب جلیل ہم سادات کو چھوڑ کر اس غریب آدمی کے حوالہ کیوں کردیتا۔ ان کی اسی متکبرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک تم ہوتے تب تو بلاشبہ تم اس کے تنہا اجارہ دار بن بیٹھے اور اپنے سوا اس میں سے کسی کو بھی اس ڈر سے کچھ نہ دیتے کہ مبادا یہ ختم ہوجائے لیکن اپنے فضل و رحمت کے خزانوں کا مالک میرا رب خود ہی ہے۔ اس نے جن خزف ریزوں کا اہل تم کو پایا وہ تمہارے حوالے کیے اور جس فضل عظیم کے لیے میرا انتخاب فرمایا، تمہارے اور بنی اسرائیل کے علی الرغم، اس سے مجھ کو نوازا۔ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا میں انسان کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اشارہ انہی لوگوں کی طرف ہے کہ اگر یہ تنگ دل ہیں، اپنے سوا ان کے دل میں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے تو آخر خدا کو انہوں نے اپنے جیسا کیوں گمان کر رکھا ہے۔
Ayah 17:101مطالبۂ معجزات کا جواب : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لأظُنُّكَ يَا مُوسَى مَسْحُورًا۔
اوپر آیت 90 سے 93 تک ان معجزات کا ذکر گزر چکا ہے جن کا قریش مطالبہ کرتے تھے۔ یہ اسی مطالبہ کا جواب ہے کہ ایمان و ہدایت کی راہ معجزات سے نصیب نہیں ہوتی۔ ہم نے موسیٰ کو فرعون کی طلب پر نو نہایت کھلے کھلے معجزے دیے لیکن فرعون نے یہ سارے معجزے دیکھ کر کہا تو یہ کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے اثر سے تم اس قسم کی بہکی بہکی باتیں میرے سامنے کرنے لگے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح تمہیں بھی اگر تمہاری طلب کے مطابق معجزے دکھا دیے گئے تو تم بھی کوئی نہ کوئی بات بنا لو گے۔
حضرت موسیٰ کی مثال : فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، میں ایک لطیف تلمیح ہے۔ وہ یہ کہ اس مرحلے میں بنی اسرائیل اسلام کی مخالفت کی مہم میں پوری طرح شریک ہوگئے تھے اور قریش یہ معجزات کے مطالبے زیادہ تر انہی کی شہ پر کرتے تھے۔ وہ قریش کو یہ سکھاتے تھے کہ ہمارے پیغمبر نے تو یہ معجزے دکھائے تو یہ اگر نبوت کے مدعی ہیں تو یہ بھی اسی طرح کے معجزے دکھائیں۔ ان کی اسی حرکت کے سبب سے قرآن نے انہی کو گواہ بنا کر پیش کیا کہ ان کے نبی نے معجزے دیکھائے تو سہی لیکن انہی سے پوچھو کہ یہ سارے معجزے دکھانے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ اگر نتیجہ یہی نکلا کہ فرعون اور اس کی قوم غرق ہو کے رہی تو آخر یہ راستہ وہ قریش کو کیوں دکھاتے ہیں۔
Ayah 17:102حضرت موسیٰ کا جواب فرعون کو : قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلاءِ إِلا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لأظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا۔
" مثبورا " کے معنی ہلاکت زدہ کے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کو جواب بالکل ترکی بہ ترکی دیا۔ فرمایا کہ تجھے خوب مدلوم ہے کہ یہ معجزے کسی سحر و شعبدہ کے کرشمے نہیں ہوسکتے۔ ان کی نوعیت ہی گواہی دیتی ہے کہ ان کو اتار سکتا ہے تو آسمانوں اور زمین کا رب ہی اتار سکتا ہے اور اسی نے تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے ان کو اتارا ہے۔ اگر ان کو دیکھنے کے بعد بھی تیری آنکھیں نہیں کھلیں تو تجھ پر اللہ کی حجت تمام ہوگئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تیری ہلاکت کا وقت، اے فرعون ! سر پر آپہنچا ہے۔
Ayah 17:103فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِنَ الأرْضِ فَأَغْرَقْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ جَمِيعًا۔ چناچہ اس کے بعد اس نے اپنا پورا زور صرف کردیا کہ حجرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے قدم سرزمین مصر سے اکھاڑ دے اور اس کی سزا اس کو یہ ملی کہ خدا نے اس کو اور اس کے سارے ساتھیوں کو غرق کردیا۔
Ayah 17:104فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر انعام : وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔ فرعون کو غرق کرنے کے بعد یہ بنی اسرائیل پر انعام ہوا کہ اللہ نے ان کو ارض مقدس میں بسایا۔ " الارض " سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ارض مقدس ہے جس کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا۔ اس وعدے کو پورا کرتے وقت اللہ نے ان کو آخرت کا وعدہ بھی یاد دلا دیا تھا کہ اس کامیابی کی خوشیوں میں آخرت کو نہ بھول جانا۔ جس طرح اپنے وعدے کے مطابق ہم تم کو سمیٹ کر یہاں لائے ہیں اسی طرح اپنے وعدے کے بموجب ایک دن سمیٹ کر حساب کتاب کے لیے حشر کے میدان میں جمع کریں گے۔ لیکن بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی اس یاد دہانی کو بالکل بھول گئے۔
Ayah 17:105دعوت کے معاملہ میں نبی کی ذمہ داری : وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا۔
یہ بات ذہن میں محفوظ رہے کہ یہ سلسلہ بحث اصلاً وحی و قرآن کے ذکر سے چلا تھا۔ پھر اسی سے متعلق بعض دوسرے مسائل زیر بحث آگئے۔ اب یہ مسائل ختم ہوئے تو اصل مسئلہ کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتار ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے۔ کسی باطل کی کوئی آمیزش نہ اس میں آگے سے ہوئی ہے نہ پیچھے سے۔ اگر ایسے بےآمیز حق کو بھی یہ لوگ طرح طرح کے شبہات کا ہدف بنا رہے ہیں تو تمہارے اوپر ایسے سرپھرے لوگوں کے ایمان و ہدایت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ تم صرف ایک مبشر و نذیر ہو۔ اپنا انذار وتبشیر کا فرض ادا کرکے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر یہ تمہاری بات نہیں سنیں گے تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔
Ayah 17:106قرآن کے تدریج کے ساتھ اترنے کی حکمت : وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلا، یعنی یہ قرآن جو جستہ جستہ اتر رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں، جیسا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ تم حالات کے مطابق سوچتے ہو اور جتنا تیار کرپاتے ہو اتنا سنا دیتے ہو، بلکہ یہ ہم ہی جستہ جستہ کرکے اس کو تم پر اتار رہے ہیں تاکہ تم اس کو بالتدریج لوگوں کو سناؤ کہ یہ لوگوں کے فکر و عمل کا جزو بنا جائے۔ اگر ان کا یہ گمان ہے کہ یہ خدائی کتاب ہوتی تو لازماً پوری کی پوری بیک دفعہ نازل ہوجاتی اس لیے کہ خدا کو کسی تیار کی ضرورت نہیں تھی تو یہ گمان بھی صحیح نہیں ہے۔ خدا کو تو بلاشبہ کسی اہتمام و تیاری کی حاجت نہیں ہے۔ وہ چاہتا تو پوری کتاب ایک ہی وقت میں نازل کردیتا لیکن اس نے بندوں کی ضرورت اور ان کے حالات کا لحاظ فرمایا اور اس کو نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ اتار ہے۔ " تنزیل " کا مفہوم، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، تدریج و اہتمام کے ساتھ اتارنا ہے۔
Ayahs 17:107–109صالحین اہل کتاب کا طرز عمل : قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا (108) وَيَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (109)۔
الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ سے یہاں مراد، قرینہ دلیل ہے کہ اچھے اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب میں جس طرح اشرار و مفسدین تھے جو اپنا ایڑی چوٹی کا زور قرآن کی مخالفت میں صرف کررہے تھے اسی طرح ایک گروہ ایسے صالحین کا بھی تھا جو اپنے نبیوں اور صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی روشنی میں ایک رسول اور ایک کتاب موعود کا منتظر تھا۔ اس گروہ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے صحیفہ کے اندر ان پیشین گوئیوں کی جھلک دیگھی جن کے ظہور کے لیے وہ چشم براہ تھا۔ چناچہ ان کا حال یہ تھا کہ ان کو جب قرآن سنایا جاتا تو بےتحاشا سجدے میں گر پڑتے اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے پورے ہونے پر دل و جان سے اس کا شکر بجا لاتے۔ یہ اسی مبارک گروہ کی طرف اشارہ ہے۔ پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ تم قریش اور بنی اسرائیل کے مکذبین کو سنا دو کہ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ میرے اطمینان کے لیے یہ کافی ہے کہ اہل علم کا ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اس قرآن کو سن کر بےتحاشا سجدے میں گر پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس ایفائے وعدہ کو دیکھ کر اس پر گریہ مسرت و شکر اور گریہ خشوع کی دوگونہ کیفیت و حالت طاری ہوجاتی ہے گریۂ شکر و مشرت کا پہلو تو اس میں ظاہر ہی ہے، زیادت خشوع کا اس میں یہ پہلو ہے کہ اس سے آخرت کے وعدے کی از سر نو یاد دہانی ہوئی ہے کہ جس رب نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا لازماً وہ اپنا آخرت کا وعدہ بھی پورا کرکے رہے گا۔
Ayah 17:110قرآن پر ایک اعتراض کا بہانہ : قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا۔
جب کسی چیز کے خلاف شبہ اور بدگانی جڑ پکڑے لے تو اس سے تعلق رکھنے والی ان چیزوں پر بھی شبہ ہونے لگتا ہے جن کے اندر کسی ادنی شبہ کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ اور رحمان دونوں نام استعمال کرتے تھے۔ کلام جاہلیت میں یہ دونوں ہی نام ملتے ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور تھی کہ اسم رحمان زیادہ معروف اہل کتاب کے ہاں تھا۔ عرب کے ذہینوں یہیں سے اس نام کو بھی قرآن پر اعتراض کا بہانہ بنا لیا۔ انہوں نے یہ نکتہ پیدا کیا کہ اس کتاب کی تیاری میں اس شخص کو (آنحضرت ﷺ کو) اہل کتاب میں سے کچھ لوگ مدد دیتے ہیں۔ قرآن میں ان کا قول " واعانہ علیہ قوم اخرون " جو نقل ہوا ہے اس سے ان کا اشارہ اسی گروہ کی طرف ہوتا تھا۔ بعد میں جب اسم رحمان کی طرف ان کی توجہ ہوئی تو اس کو انہوں نے اپنے گمان کی تائید میں پیش کرنا شروع کردیا کہ دیکھ لو یہ شخص اپنے پیش کردہ کلام میں رحمان کا نام بہت لاتا ہے جو اہل کتاب سے اس کے تعلق کی دلیل ہے اور پھر یہیں سے انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہوگا کہ یہ ہمارے مذہب اور ہماری روایات پر اہل کتاب کے مذہب اور ان کی روایات مسلط کرنے کی ایک سازش ہے۔ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ کو خواہ اللہ کے نام سے پکارو یا رحمٰن کے، جس نام سے بھی اس کو پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ یعنی مجرد نام کا تعصب قبول حق میں مانع نہیں ہونا چاہیے۔ خدا کے نام اور بھی ہیں اور اس کو اس کے شایانِ شان ہر نام سے پکارا جاسکتا ہے۔
نماز میں وقار اور سنجیدگی کی تعلیم : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ۔۔۔ الایۃ۔ معلوم ہوتا ہے اسی نوعیت کا کوئی اعتراض اسلام کے طریقہ نماز پر بھی ان ذہنیوں کو ہوا۔ مشرکین کے طریقہ عبادت میں شوروغل اور مکاء و تصدیہ یعنی سیٹی اور تالی وغیرہ کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ برعکس اس کے اسلام میں نماز سنجدیگی اور وقار کا مظہر کامل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نماز کے اس وقار کا جوڑ بھی انہوں نے اہل کتاب سے ملا کر اس کو بھی اعتراض کا بہانہ بنا لیا ہو۔ اس باب میں ہدایت ہوئی کہ نہ تمہاری نمازیں اور دعائیں بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری بلکہ ان کے بین بین راہ اختیار کرو۔ یہ اشارہ ہوا اس بات کی طرف کہ تم امت وسط ہو اس وجہ سے تمہاری نمازوں اور دعاؤں میں بھی امت وسط کی شان ہونی چاہیے۔
Ayah 17:111اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کا اعلان : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا۔
یہ سورة کے آخر میں آپ کو خدا ہی کی حمد و تکبیر اور اس کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کے اعلان کی ہدایت ہوئی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس وادی میں چاہیں ٹھوکریں کھاتے پھریں لیکن تم یہ اعلان کردو کہ شکر کا سزاوار حقیقی وہ اللہ ہے جس نے نہ تو اپنے لیے کوئی اولاد بنائی، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کو کبھی ذلت و مقہوریت لاحق ہوتی ہے کہ اس سے بچانے کے لیے اس کو کسی حمایتی اور مددگار کی ضرورت پیش آئے۔ َلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حمایتی اور مددگار کی ضرورت اس کو پیش آتی ہے جس کو ذلت پیش آنے کا خطرہ ہو۔ جب خدا کی شان ذلت کے ہر شائبہ سے ارفع ہے تو اس کو حمایتی اور مددگار کی کیا ضرورت۔ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا، یعنی اس کی تمام اعلی صفات کا نہایت اہتمام سے اظہار و اعلان کرو، ان مشرکین کے علی الرغم۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین