17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے نہیں کیا وہ بولا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا

آگے کا مضمون۔ آیات 61 تا 65:۔ استکبار کا اصلی سبب : آگے ان لوگوں کے طغیان و استکبار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ اس کا اصل سبب وہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کو عذاب کی کوئی نشانی نہیں دکھائی گئی بلکہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنی نعمتوں سے نوازا تو یہ نعمتوں کو پا کر اس کے شکر گزار بندے بننے کے بجائے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ یہ روش اختیار کرنے میں انہوں نے ٹھیک ٹھیک ابلیس کے نقش قدم کی پیروی کی ہے اور ابلیس نے ذریت آدم کے بارے میں اپنا جو گمان ظاہر کیا تھا۔ ان کے اوپر اپنے اس گمان کو حرف حرف سچ کردکھایا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا۔ آدم اور ابلیس کے اس ماجرے کے تمام اجزاء پر سورة بقرہ اور اعراف کی تفسیر میں بحث ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم گفتگو سیاق وسباق کلام کی وضاحت ہی کی حد تک محدود رکھیں گے۔ کفار کے انکار کی اصل علت : یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان لوگوں کے انکار کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان کو عذاب کی کوئی نشانی نہیں دکھائی گئی بلکہ اس کی اصل وجہ ان کا استکبار ہے اور اس معاملے میں انہوں نے ٹھیک ٹھیک اپنے امام ابلیس کی سنت کی پیروی کی۔ جس طرح اس کو جب حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرے تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں ایک برتر مخلوق ہو کر ایک خاکی مخلوق کو کس طرح سجدہ کروں اسی طرح یہ لوگ بھی خدا کی نعمتیں پا کر سیادت و امارت کے پندار میں اندھے ہوگئے ہیں اور ان کا یہ پندار ان کو اجازت نہیں دے رہا ہے کہ وہ تمہیں رسول ان کو تمہاری برتری اپنے اوپر تسلیم کرلیں اور اپنی زعامت کے پندار سے دست بردار ہوجائیں۔
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

اس نے کہا ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو میں، ایک قدرے قلیل کے سوا، اس کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا۔ " ارء یتک " کا اسلوب خطاب طنز و تحقیر کے لیے بھی آتا ہے اور احتنک الجراد الارض، کے معنی ہوں گے کہ ٹڈی دل نے زمین کی ساری روئیدگی چٹ کرلی۔ قصہ آدم و ابلیس کا سبق : یعنی آدم و ابلیس کی یہ دشمنی ختم نہیں ہوگئی بلکہ یہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ اس نے جوش حسد میں خدا سے یہ مہلت مانگی تھی کہ اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دے دی تو میں آدم کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا اور یہ ثابت کردوں گا کہ آدم اور اس کی ذریت میرے اور میری ذریت کے مقابل میں کسی شرف کے حقدار نہیں ہیں۔ اس کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ابلیس اور اس کی ذریات کے نرغے میں آئے ہوئے لوگ ہیں اور اس نے روز اول جو دعوی کیا تھا ان لوگوں کے معاملے میں اس نے وہ سچ کردکھایا ہے۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا۔ یعنی ابلیس نے خدا سے قیامت تک کے لیے ذریت آدم کو ورغلانے کی جو مہلت مانگی تھی خدا نے اس کو وہ مہلت دے دی تھی کہ جا جو کچھ تجھے کرنا ہے کر، تیرا اور تیری پیروی کرنے والوں کا پورا پورا بدلہ چکا دینے کے لیے جہنم کافی ہے۔ یعنی تجھ کو یہ مہلت دینے سے کسی فرصت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہے کہ تمہاری سزا میں کوئی کسر رہ جائے گی اس لیے کہ جہنم ایسی چیز ہے کہ وہ ایک ہی ساتھ ساری کسر پوری کردے گی۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے غوغا سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیدل چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کرلے اور شیطان ان سے محض دھوکے ہی کے وعدے کرتا ہے

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ " استفزاز " کے معنی گھبرا دینے اور پریشان کردینے کے ہیں اور " صوت " سے مراد یہاں شور و غوغا، ہنگامہ اور پروپیگنڈا ہے۔ ابلیس کی مہلت کی حد : ابلیس اور اس کی ذریات کو اضلال کی مہم چلانے کی جس حد تک مہلت ملی ہوئی ہے یہ اس کی طرف اشارہ ہے تاکہ لوگ اس کو کوئی آسان بازی نہ سمجھیں بلکہ جو اس کے فتنوں سے اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہوں وہ ہر وقت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چوکس رہیں۔ ابلیس کے فتنوں کی گوناگونی : وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ۔ یعنی جا، لوگوں کو صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم میں اپنے شور و غوغا، اپنے نعرے اور ہنگامے، اپنے ریڈیو اور سینما، اپنے گانے بجانے، اپنے جلسوں اور جلوسوں، اپنی تقریروں اور اعلانات، اپنے اخبارات و رسائل اور اس قبیل کی ساری ہی چیزوں سے جو فائدہ اٹھا سکتا ہے اٹھا لے اور جن کے قدم اکھاڑ سکتا ہے اکھاڑ دے۔ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ ، خیل، سواروں کی جماعت اور رجل پیادوں کی ٹولی۔ یعنی اپنے لشکر ضلالت کے سواروں، اور پیادوں کو بھی پر چڑھا لا اور اس طرح بھی اگر تیرا بس چلے تو ان کو ایمان سے پھیرنے کی کوشش کر دیکھ۔ یہ ملحوظ رہے کہ سوار اور پیادے چڑھا لانا محض استعارہ ہی نہیں ہے بلکہ امر واقعی بھی ہے۔ وہ تمام جنگیں جو دشمنانِ اسلام نے اہل ایمان کو دین حق سے پھیرنے کے لیے برپا کی ہیں وہ سب اس میں داخل ہیں۔ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ، یعنی جو مال اور اولاد ہم نے لوگوں بخشے ہیں تو اگر کرسکے تو جا کر ان میں ساجھی بن جا۔ تیرے پرستار ان میں تجھ کو شریک کریں گے۔ اپنے مال میں سے تیرا حصہ نکالیں گے، اپنی اولاد کے نام تیرے نام پر رکھیں گے اور بعض تیری رضا جوئی کے لیے ان کو قربان بھی کردیں گے۔ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ یعنی تو ان کو نہایت لذیذ اور سنہرے وعدوں کے سبز باغ بھی دکھا لے جن میں مبتلا ہو کر زندگی کی حقیقی ذمہ داریوں سے وہ بالکل فارغ ہو بیٹھیں۔ اس کے بعد یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا، یعنی شیطان جتنے وعدے بھی کرتا ہے سب محض فریب کے ہوتے ہیں۔ مثلا مشرکین عرب کا یہ وہم کہ ہم جن فرشتوں کو پوجتے ہیں وہ ہمیں خدا کا مقرب بنا دیں گے یا یہود کا یہ وہم کہ ہم خدا کے بیٹے اور چہیتے ہیں اس لیے ہمیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

بیشک میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا۔ ایمان پر جمے رہنے والوں کو تسلی : " سلطان " کے معنی اختیار اور قدرت کے ہیں۔ یعنی مذکورہ سارے فتنے برپا کرنے کی تو تجھے مہلت دی گئی لیکن تجھے یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ میرے جو بندے میری بندگی پر قائم و ثابت قدم رہنا چاہیں ان کو تو بزور برگشتہ کردے۔ یہ ایمان پر جمے رہنے والوں کے لیے تسلی ہے کہ شیطان جو کچھ بھی گزرے لیکن یہ اختیار مطلق اس کو حاصل نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے ایمان سے پھیر دے۔ اخیار مطلق صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ پھر مزید تسلی کے لیے فرمایا کہ وکفی بربک وکیلا، یعنی اللہ کے جو بندے شیطان کے فتنوں کے علی الرغم اپنے ایمان پر قائم رہنا چاہیں گے اور اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ اپنے رب کے حوالے کردیں گے خدا ان کا کارساز ہے اور وہ کارسازی کے لیے کافی ہے۔ وہ سخت سے سخت حالات کے اندر بھی اپنے بندے کی حفاظت فرمائے گا۔ اور اس کے ایمان کو بچالے گا۔
Ayahs 17:66–67

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو۔ بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو خشکی طرف بچا لاتا ہے تو تم اعراض کر بیٹھتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 66 تا 72:۔ سرکشوں اور غافلوں کی تمثیل : آگے انسان کی اس حالت کی تمثیل ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پکڑا جاتا ہے تب وہ خدا خدا پکارتا اور اسی کے آگے روتا اور گڑگڑاتا ہے لیکن جوں ہی اس مصیبت سے نجات پا جاتا ہے پھر اکڑنے اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اسے یہ بات بالکل فراموش ہوجاتی ہے کہ اگر خدا چاہے تو اس کو پھر اسی حالت میں گرفتار کرسکتا ہے اور اس طرح گرفتار کرسکتا ہے کہ پھر اس سے کبھی رہائی نصیب نہ ہو۔ اس کے بعد دو گروہوں کی تمثیل ہے ایک ان لوگوں کی جو دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں اور دوسری ان لوگوں کی جو ہمیشہ اندھے بنے رہتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا آخرت میں جو انجام ہوگا وہ بیان فرمایا۔ یہ ساری تصویر و تمثیل قریش کے کفار کی ہے جو قرآن کے مخاطب اول تھے لیکن یہی رویہ دوسرے سرکشوں کا بھی ہوتا ہے اس وجہ سے بات عام الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ تفسیر آیات 66 تا 67: رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا۔ وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا۔ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری : یہ تمثیل ہے اس بات کی کہ ہر نعمت جو انسان کو ملتی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ل۔ اس کا حق یہ ہے کہ انسان اس نعمت سے متمتع اور اپنے رب کا شکر گزار ہو لیکن یہ انسان کی عجیب بدبختی ہے کہ جب اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ خدا سے اکڑتا ہے اور ہر چیز کو اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ اور اپنے مزعومہ دیویوں دیوتاؤں کا فضل و کرم سمجھتا ہے لیکن جب کسی گردش میں آجاتا ہے تو خدا خدا پکارنے لگتا ہے، اس وقت سارے دیوی دیوتا اس کو بھول جاتے ہیں۔ پھر جب اللہ اس گردش سے اس کو نجات دے دیتا ہے تو وہ پچھلی خرمستی اس پر عود کر آتی ہے اور خدا کو وہ پھر طاق نسیاں پر رکھ دیتا ہے۔ کشتی اور دریا کی ایک مثال : اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کشتی اور دریا کے سفر کی مثال دی ہے کہ یہ خدا ہی کی قدرت ہے کہ ہزاروں ٹن کا وزنی جہاز سمندر کے سینے پر چلتا ہے۔ اللہ نے یہ انتظام اس لیے فرمایا ہے کہ انسان اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھائے اور خدا کے اس فضل و رحمت پر اس کا شکر گزار ہو لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب کشتی رواں دواں رہتی ہے اس وقت تک تو خدا کا اس کو کبھی خیال بھی نہیں آتا لیکن جب کشتی کسی طوفان میں گھر کر ہچکولے کھانے لگتی ہے تو اس وقت اس کو اپنی اکڑ بھی بھول جاتی ہے اور دوسرے دیوی دیوتا بھی بھول جاتے ہیں، اس وقت وہ صرف خدا ہی سے فریاد و استغاثہ کرتا ہے لیکن یہ حالت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک کشتی گردابِ بلا میں رہتی ہے۔ جو ہی کشتی اس گرداب بلا سے نکلی اور انسان نے خشکی پر قدم رکھا پھر نہ اسے مصیبت کی وہ ساعت یاد رہتی ہے اور نہ اس کو خدا سے اپنا رونا اور گڑگڑانا یاد رہتا۔ اس تمثیل میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ قریش کے سرکش لوگ تم سے عذاب کی جو نشانی مانگ رہے ہیں اگر نشانی ان کو دکھا دی گئی تو یہ ایمان و ہدایت کی راہ اختیار کرلیں گے بلکہ جب مصیبت میں پھنسیں گے تو خدا خدا پکاریں گے لیکن اس سے چھوٹتے ہی پھر اپنی پچھلی بدمستیوں ہی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ایمان و ہدایت کی راہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کی صداؤں پر کان دھرے اور اپنی عقل کی رہنمائی کو قبول کرے۔ یہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو عذاب کی کسی نشانی سے ان کو ہدایت کی راہ کس طرح مل جائے گی۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے نچنت ہوگئے کہ وہ خشکی کی جانب تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے یا تم پر باد تند بھیج دے، پھر تم کسی کو اپنا کارساز نہ پاؤ

سرکشوں سے چند سوالات : اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا۔ اب یہ سوال فرمایا ہے کہ دریا سے خشکی میں آجانے کے بعد خدا سے بےخوف اور بےپروا کیوں ہوجاتے ہو ؟ کیا سمجھتے ہو کہ خدا کی خدائی دریا ہی تک محدود ہے۔ خشکی اس کی خدائی سے باہر ہے ؟ اگر وہ خشکی میں زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے یا تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی باد تند بھیج دے جو تم کو اور تمہارے مکانوں کو تہس نہس کر کے رکھ دے تو آخر کون ہے جو تم کو خدا سے بچانے والا بن سکے گا۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا تم اس سے نچنت ہوگئے کہ تم کو دوبارہ اسی میں لوٹائے پھر وہ تم پر باد تند کا جھونکا بھیج دے پس وہ تمہاری ناشکری کی پاداش میں تم کو غرق کردے اور تم اس پر ہمارا کوئی پیچھا کرنے والا اپنے لیے نہ پاؤ

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا۔ قاصف کے معنی توڑدینے والی اور تبیع کے معنی ناصر اور مددگار کے ہیں۔ یعنی تم ایک مرتبہ خدا سے چھوٹ جانے کے بعد یہ کیوں سمجھ بیٹھے کہ خدا سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوگئے۔ آخر یہ بھی تو ممکن ہے کہ خدا تمہیں کفرانِ نعمت کی سزا دینے کے لیے پھر ایسے حالات پیدا کردے کہ تمہیں دوبارہ پھر اسی سمندر سے سابقہ پیش آئے اور وہ تم پر ایسی باد تند بھیجے جو سب کچھ توڑ پھوڑ کر تمہیں غرق کردے اور تمہارا کوئی حامی تمہاری حمایت میں ہمارا تعاقب کرنے والا نہ بن سکے ! آگے آیت 75 میں اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا ہے " ثم لاتجد لک علینا نصیرا "
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور خشی اور تری دونوں میں ان کو سواری عطا کی۔ اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا۔ انسان کو اس کی ذمہ داری کی یاد دہانی : اب یہ انسان کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی ہے کہ ہم نے انسان کو جو عزت بخشی ہے، خشکی اور تری دونوں میں اس کے لیے سواری کا جو انتظام کیا ہے، اس کو جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اس کو اپنی بہت سی مخلوقات پر جو فضیلت دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ان نعمتوں کا حق پہچانے اور اپنے رب کی ان نعمتوں کو پا کر اس سے اکڑنے اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے کے بجائے اس کا شکر گزار اور فرماں بردار بندہ بنے۔ نعمت پا کر اکڑنا بالیس کی سنت ہے اور اس کا جو حشر ہوا وہ معلوم ہے۔ َفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا، سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ انسان کو دوسری مخلوقات پر جو فضیلت حاصل ہے وہ کلی نہیں ہے۔ خدا کی مخلوقات میں ایسی مخلوقات بھی ہیں جن پر انسان کی فضیلت نہیں ہے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم ہر گروہ کو اس کے رہنما سمیت بلائیں گے۔ سو جن کو ان کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں ملے گا وہ تو اپنے اپنے اعمال مانہ کو پڑھیں گے اور ذرا بھی ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۔ " اناس " کے معنی انسانوں کے گروہ کے ہیں اور امام سے مراد لیڈر اور پیشوا ہیں۔ جزا و سزا کے دن کی یاد دہانی : یہ اس دن کی یاد دہانی فرمائی ہے جس دن جزا اور سزا کی خدائی عدالت قائم ہوگی۔ فرمایا کہ اس دن ہم ہر گروہ کو ان کے لیڈروں اور پیشواؤں سمیت اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دیں گے۔ نیک بھی اپنے صالح پیشواؤں اور مقتداؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے اور اشرار و مفسدین بھی اپنے ناہنجار لیڈروں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے پھر نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ پکڑائے جائیں گے اور بدوں کو ان کے بائیں ہاتھ میں۔ تو جن کو ان کے ان اعمال نامے دہنے ہاتھ میں ملیں گے وہ ان کو پڑھیں گے اور وہ دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ ذرہ برابر بھی ناانصافی نہیں کی گئی ہے۔ ان کی ایک ایک نیکی، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، سب درج ہے اور ہر ایک کا ان کو بھرپور صلہ بھی عطا ہوا۔ " وہ ان کو پڑھیں گے " میں فعل اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ خوش ہو کر ایک ایک چیز کو پڑھیں گے اور اپنے رب کی ذرہ نوازی پر اس کے شکر گزار رہوں گے۔ یہاں اگرچہ اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ ان لوگوں کے تاثرات کیا ہوں گے جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے لیکن سیاق کلام سے خود یہ بات ظاہر ہے کہ یہ لوگ اپنے اعمال نامے پڑھنے کے بجائے اپنے سر اور منہ پیٹیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی کہ ہمارے ساتے اعمال نامے میں ایک نقطہ بھی روشن نہیں ہے۔ سب تاریکی ہی تاریکی ہے۔ ہر گروہ کو ان کے لیڈروں اور مقتداؤں کے ساتھ جمع کرنے میں اعزازو تکریم کا پہلو بھی ہے اور اتمام حجت کا پہلو بھی۔ اتقیاء کے لیڈر تو یہ دیکھیں گے کہ الحمد للہ جس اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے انہوں نے بازیاں کھیلیں اس کا انجام اس شاندار صورت میں سامنے آیا اور اشرار کے لیڈر اپنی کارستانیوں کے انجام دیکھیں گے اور ان کی پیروی کرنے والے ان پر لعنت بھیجیں گے اور ان کے لیے، جیسا کہ دوسرے مقام میں تصریح ہے، دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو اس دنیا میں اندھا بنا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ تر ہوگا

اصحاب الشمال کا انجام : وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا۔ اصحاب الیمین کے بعد یہ اصحاب الشمال کا انجام بیان ہورہا ہے کہ چونکہ یہ لوگ دنیا میں اندھے بنے رہے اس وجہ سے یہ آخرت میں بھی اندھے ہی اٹھیں گے اور اصل منزل سے جو دوری آج ان کو ہے وہ دوری آج کی نسبت کہیں زیادہ ہوجائے گی، اس لیے کہ آخرت کے ظہور کے بعد ان کے لیے صراط مستقیم کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ اس آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اصحاب الیمین کو جو مرتبہ و مقام حاصل ہوگا وہ اس بنا پر حاصل ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں آنکھیں بند کرکے زندگی نہیں گزاری بلکہ ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اللہ کی ایک ایک نشانی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
Ayahs 17:73–75

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور بیشک قریب تھا کہ تم کو فتنوں میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے تاکہ تم اس سے مختلف ہم پر افترا کر کے پیش کرو، اور تب وہ تم کو اپنا گاڑھا دوست بنا لیتے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑو

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اگر ایسا ہوتا تو ہم تم کو زندگی اور موت دونوں کا دوگنا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابل میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتے

آگے کا مضمون۔ آیات 73 تا 87: آنحضرت ﷺ کو موقف حق پر جمے رہنے کی تاکید : آگے نبی ﷺ کو یہ تاکید ہے کہ مخالفین کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر جمے رہو۔ یہ کتنا ہی زور لگائیں کہ تم قرآن میں ان کے حسب منشا کچھ ترمیم کردو تو وہ تمہارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن تم کو ایک شوشہ کے برابر بھی اس میں ترمیم و تغییر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تمہاری مخالفت میں یہ زیادہ سے زیادہ جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تم کو یہ اتنا تنگ کریں کہ تم یہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوجاؤ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر تمہارے بعد ان کو بھی اس شہر میں زیادہ ٹکنا نصیب نہ ہوگا۔ رسولوں کی ہجرت کے بعد ان کی قوموں کا جو حشر ہوا ہے وہی حشر ان کا بھی ہوگا۔ اس کے حصول صبر و استقامت کے لیے نماز خصوصاً تہجد کی تاکید ہوئی اور قرب ہجرت کی دعا تعلیم فرمائی گئی اور ہجرت کے ساتھ جو فتح وابستہ ہے اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ آخر میں مخالفین کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ قرآن جیسی چیز جو سرتاسر شفا اور رحمت ہے، ان لوگوں کی شامت اعمال سے ان کے لیے موجب وبال بن گئی۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ تفسیر آیت 73 تا 75: وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ ڰ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا۔ وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا۔ اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا۔ " یفتنونک " یہاں " یصرفونک " یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے جس کی طرف عن اشارہ کر رہا ہے مطلب یہ ہے کہ مخالفین نے اتنا زور باندھا تھا کہ قریب تھا کہ تم کو فتنوں اور آزمائشوں میں ڈال کر تم کو موقف حق سے ہٹا دیں لیکن اللہ نے تم کو اس فتنہ سے بچا لیا۔ کفار کی دعوت مصالحت کا جواب : رسولوں کی دعوت میں ایک مرحلہ یہ بھی آیا ہے کہ مخالفین نے جب یہ محسوس کرلیا ہے کہ اب یہ دعوت جڑ پکڑ چکی ہے، صرف اندھی بہری مخالفت سے اس کا ہلانا ممکن نہیں رہا تو اس وقت انہوں نے یہ سیاسی چال چلی ہے کہ کوئی تجویز باہمی سمجھوتے کی پیش کی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت میں بھی یہ مرحلہ پیش آیا۔ مخالفین نے جب دیکھا لیا کہ اب یہ دعوت دلوں میں گھر کر رہی ہے تو ان کی بعض جماعتوں نے، روایات میں قبیلہ بنی ثقیف وغیرہ کا نام بھی آیا ہے، آنحضرت ﷺ کے آگے یہ تجویز پیش کی کہ اگر فلاں فلاں احکام میں ترمیم کردیں تو ہم یہ دعوت قبول کیے لیتے ہیں، پھر ہم اور آپ گہرے دوست بن کے رہیں گے۔ یہ مرحلہ آنحضرت ﷺ کے لیے بڑا ہی سخت تھا۔ ایک طرف اللہ کے اتارے ہوئے احکام تھے جن میں ایک نقطہ کے برابر بھی آپ ترمیم کرنے کے مجاز نہ تھے، دوسری طرف آپ اپنی قوم کے ایمان کے انتہائی حریص تھے اور کسی ایسے موقعے کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تھے جس سے قوم کے ایمان کی راہ پر بڑھنے کی کچھ امید بندھتی ہو۔ اس صورت حال نے آنحضرت ﷺ کو تذبذب میں مبتلا کردیا۔ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ کے الفاظ اسی تذبذب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نازک مرحلے میں اپنے پیغمبر کی دستگیری فرمائی اور آپ کو تردد و تذبذب سے نکال کر صحیح شاہراہ پر کھڑا کردیا۔ " نبی کی عصمت " کا مفہوم : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی کے معصوم ہونے کے معنی یہ نہیں کہ اس کو کوئی تذبذب کی حالت پیش نہیں آتی یا کوئی غلط میلان اس کے دل میں خطور نہیں کرتا بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہی کہ اول تو اس کا میلان کبھی جانب نفس میں نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ جانب خیر میں ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ جانب خیر میں بھی اگر وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتا نظر آتا ہے جو صحیح نہیں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو بچا لیتا ہے اور صحیح سمت میں اس کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔ خطاب نبی سے، عتاب کفار پر : اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ۔۔۔ الایہ، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو زجر و عتاب ہے اس کا رخ سمجھوتے کی تجویز لانے والوں کی طرف ہے تاکہ وہ متنبہ ہوجائیں کہ جب اس قسم کے کسی اقدام پر خود پیغمبر کو دنیا اور آخرت میں دوگنے عذاب کی دھمکی ہے تو پھر اس کے بروئے کار آنے کا کیا امکان رہا۔ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ میں ایک مضاف محذوف ہے یعنی ضعف عذاب الحیوۃ و ضعف عذاب الممات، اور یہ دوگنے عذاب کی دھمکی رسول کے درجے اور مت بے کے اعتبار سے ان کی گفرت بھی ہوتی ہے اگر وہ کوئی غلطی کرتے ہیں۔
Ayahs 17:76–77

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور بیشک یہ اس سرزمین سے تمہارے قدم اکھاڑ دینے کے درپے ہیں تاکہ یہ تم کو یہاں سے نکال چھوڑیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو تمہارے بعد یہ بھی ٹکنے نہ پائیں گے

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

ہم تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے ان کے باب میں ہماری سنت کو یاد رکھو اور تم ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے

تفسیر آیات 76 تا 77: وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا۔ استفزاز کے معنی گھبرا دینے، پریشان کردینے اور اکھاڑ دینے کے ہیں اور " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مکہ ہے۔ مخالفین جب سمجھوتے کی کسی تجویز کے بروئے کار آنے سے بھی ماویس ہوگئے تو ظاہر ہے کہ ان کی مخالفت جو پہلے بھی کچھ کم نہ تھی اس مایوسی کے بعد دوچند ہوگئی۔ انہوں نے اپنا ایری چوٹی کا زور صرف کردیا کہ آپ کے قدم سرزمین مکہ سے اکھاڑ دیں کہ آپ یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اگر تم کو انہوں نے یہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا تو تمہارے بعد یہ بھی زیادہ ٹکنے نہ پائئیں گے۔ تم سے پہلے جو ہم نے رسول بھیجے ان کی ہجرت کے بعد جو حشر ان کی قوموں کا ہوا وہی حشر لازماً ان کا بھی ہوگا۔ اس معاملے میں اللہ کی جو سنت پہلے سے چلی آرہی ہے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے معاملے میں وہ بدل جائے۔ رسول کی ہجرت تک قوم مامون ہوتی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ رسول چونکہ اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے، نیز وہ جب تک قوم میں رہتا ہے اس کے لیے استغفار کرتا رہتا ہے اس وجہ سے اس کی موجودی تک قوم کو اللہ کے عذاب سے امان حاصل رہتی ہے لیکن جب قوم کی روش سے تنگ آ کر وہ ہجرت پر مجبور ہوجاتا ہے تو قوم ایک بالکل جسد بےروح ہو کر رہ جاتی ہے اور اتمام حجت کا مرحلہ ختم ہوچکتا ہے۔ اس کے بعد یا تو اللہ کا کوئی عذاب نمودار ہوتا ہے جو غلاظت کے اس ڈھیر سے زمین کو صساف کردیتا ہے یا اہل ایمان کی تلوار بےنیاز ہوتی ہے اور وہ ان کا خاتمہ کردیتی ہے۔ اہل مکہ کے اشرار کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیش آئی۔ " سُنَّةَ " میرے نزدیک " یوم " وغیرہ کی طرف فعل محذوف سے منصوب ہے یعنی " اذکر سنۃ من " ہم نے جو رسول تم سے پہلے بھیجے ان کے اور ان کی قوموں کے معاملے میں ہماری جو سنت رہی ہے اس کو یاد رکھو اس اسلوب میں فی الجملہ تخصیص ذکر کا پہلو مضمر ہوتا ہے اور یہ براہ راست اصل چیز کو نگاہ کے سامنے کردیتا ہے
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

نماز کا اہتمام رکھو زوال آفتاب کے اوقات سے لے کر شب کے تاریک ہونے تک اور خاص کر فجر کی قرات کا۔ بیشک فجر کی قرات بڑی ہی حضوری کی چیز ہے

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا۔ " اقامت صلوۃ " کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرنا ہے۔ " دلوک " کے معنی زوال کے ہیں۔ سورج کے زوال کے تین درجے ہیں۔ ایک وہ جب وہ سمت راس سے ڈھلتا ہے۔ دوسرا جب " مرئ العین " سے نیچے کی طرف جھکتا ہے۔ تیسرا جب وہ افق سے غائب ہوتا ہے۔ یہ تینوں اوقات ظہر، عصر اور مغرب کی نمازوں کے ہیں۔ " دلوک " پر " ل " وقت کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی کے لیے یہ عربی میں معروف ہے۔ جس مفہوم کو ہم لفظ " پر " سے ادا کرتے ہیں بعض مواقع میں وہی مفہوم " ل " ادا کرتا ہے مثلا الصلوۃ لوقتہا کے معنی ہوں گے نماز اس کے اوقات پر، اقم الصلوۃ لدلوک الشمس، نماز کا اہتمام کرو زوال آفتاب پر۔ غَسَقِ الَّيْلِ ، اول شب کی تاریکی جب کہ وہ گا رھی ہوجائے۔ یہ نماز عشا کا وقت ہے۔ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ، اس کو اگرچہ " اقم " کے تحت بھی رکھ سکتے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا نصب تخصیص ذکر کے پہلو سے ہے یعنی " اخص بالذکر قرآن الفر "۔ اس تخصیص ذکر سے نماز فجر کی خاص اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا، قرآن سے مراد یہاں نماز فجر میں قرآن کی تلاوت ہے۔ یہ لفظ یہاں فی الجملۃ طول قرآئت کی طرف بھی اشارہ کر ہو رہا ہے جو خاص طور پر نماز فجر میں امام اور مقتدیوں دونوں کو حاصل ہوتا ہے اور ملائکہ کی اس حاضری کی طرف بھی جو اس وقت مبارک کی برکات میں سے ہے اور جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دن رات میں پانچ نمازوں اور ان کے اوقات کا ذکر خود قرآن میں ہے۔ بلکہ آگے والی آیت سے معلوم ہوگا کہ تہجد اور اس کے وقت کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اتنی واضح آیات کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ قرآن میں پانچ وقت کی نمازوں کا کوئی ذکر نہیں ہے تو ایسے سرپھرے لوگوں کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔ اشیائے کائنات کا رکوع و سجود : نمازوں کے اوقات کے تعین میں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی بڑی نشانیوں کے رکوع و سجود کے اوقات کو ملحوظ رکھا ہے زیر بحث آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ سورج شب و روز کے تمام اوقات میں قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تمام چیزوں کا بھی یہ حال ہوتا ہے جن پر سورج کا عکس پڑتا ہے۔ وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ اپنے رب کے آگے برابر قیام، رکوع اور سجود میں رہتی ہیں۔ ظلالہم بالغدو والآصل اور ان من شیء الا یسبح بحمدہ وغیرہ آیات میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ تمام مخلوقات اپنی صورت وہیئت سے انسان کو گویا دعوت دیتی ہیں کہ جس طرح وہ خدا کے آگے رکوع و سجود کرتی ہیں اسی طرح وہ بھی ان کا ہم آہنگ ہو کر اپنے رب کی نماز پڑھے لیکن یہ انسان کی عجیب بد قسمتی ہے کہ وہ کائنات کی مخلوق میں سے تو حقیر سے حقیر چیزوں کے آگے گھٹنے اور ماتھے ٹیکتا ہے لیکن اپنے اس رب حقیقی سے اکڑتا ہے جس کے آگے اس کی مسجود چیزیں بھی ہر وقت رکوع و سجود میں ہیں۔ اسی آفتاب کو لیجیے جس کے رکوع و سجود کا یہاں ذکر ہے، کون اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ دنیا میں کتان پجا اور کتنا پج رہا ہے۔ نماز حصول صبر و استقامت کے لیے : یہاں نماز کے اس اہتمام کی تاکید، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، اس مشکل مرحلہ میں حصول صبر و استقامت کے لیے ہے جو اس وقت آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو درپیش تھا۔ راہ حق میں جو سخت مراحل آزمائش کے پیش آتے ہیں ان میں حق پر استقامت اللہ کی معیت کے بغیر ممکن نہیں اور اللہ معیت کے حصول کا سبب سے بڑا ذریعہ نماز بالخصوص تہجد کی نماز ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور شب میں تہجد پڑھو، یہ تمہارے مزید برآں ہے۔ توقع رکھو کہ تم کو تمہارا رب محمود اٹھانا اٹھائے

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔ " تہجد " سے مراد : " تہجد " کے معنی لغت میں تو شب میں کچھ سونے کے بعد اٹھنے کے ہیں لیکن اصطلاح قرآن میں اس سے مراد وہ نماز ہے جو شب میں کچھ سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جائے۔ " بہ " میں " ب " میرے نزدیک ظرفیہ ہے اور ضمیر مجرور کا مرجع " لیل " ہے۔ نافلۃ کا مفہوم : " نافلۃ " اصل پر جو شے زائد ہو اس کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال کسی نعمت و رحمت پر زیادتی کے لیے ہوتا ہے، کسی بار اور مصیبت پر زیادتی کے لیے نہیں ہوتا۔ یعنی یہ نماز ان پنجوقتہ نمازوں پر تمہارے لیے مزید ہے۔ " لک " سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے یہ نماز آپ کے لیے ضروری تھی۔ چناچہ آپ نے زندگی بھر اس کا اہتمام رکھا۔ نمازوں کے اس اہتمام کی تاکید، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، شطانی قوتوں کے مقابلہ کے لیے حصول قوت کے مقصد سے تھی۔ اسی مقصد کے لیے یہ تہجد کے اہتمام کی تاکید ہوئی اور اس کی نسبت فرمایا گیا کہ نافلۃ لک یعنی یہ تمہارے لیے مزید کمک کے طور پر ہے جو راہ حق کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہارے صبر و ثبات میں مزید اضافہ کرے گی۔ عام امتیوں کے لیے یہ نماز اگرچہ ضروری نہیں ہے لیکن جو لوگ شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرنے اور حق کو دنیا میں برپا کرنے کے لیے اٹھیں ان کے لیے خا کی نصرت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی نماز ہے۔ چناچہ امت کے صالحین نے جنہوں نے اس دنیا میں دین کی کوئی خدمت کرنے کی توفیق پائی ہے، اس نماز کا ہمشہ اہتمام رکھا ہے۔ " عسی " کا لفظ اصلاً امید و رجا، توقع اور ظن غالب کے اظہار کے لیے آتا ہے لیکن جب یہ اللہ تعالیٰ کی نسبت کے ساتھ آئے تو اس صورت میں امید و رجا کا تعلق اللہ تعالیٰ کے بجائے مخاطب یا متکلم سے ہوجائے گا۔ مثلا عسی ربکم ان یرحمکم کا ترجمہ ہوگا، تم توقع رکھو کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ عسی اللہ ان یاتینی بہم جمیعا کا ترجمہ ہوگا، میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لائے گا۔ اسی طرح عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا، کا ترجمہ ہوگا، تم امید رکھو کہ خدا تمہیں محمود اٹھانا اٹھائے گا، اس توجیہ سے وہ شبہ رفع ہوجاتا ہے جو عربیت سے نا آشنا لوگ اٹھاتے ہیں کہ خدا کے نزدیک تو ہر چیز معلوم و معین ہے تو اس کی طرف توقع اور ظن و گمان کی نسبت کے کیا معنی ؟ آگے کسی موزوں مقام پر ہم واضح کریں گے کہ " لعل " اور اس کے ہم معنی الفاظ و حروف بھی جب خدا کی نسبت سے آتے ہیں تو ان میں بھی وہی مفہوم ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ مقام محمود : " مقاما محمودا " " مقام " ہمارے نزدیک ظرف کے معنی میں نہیں بلکہ مصدر کے معنی میں ہے اور یہ یہاں مفعول مطلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ لفظ بعث اور مقام میں معنی کا اشتراک موجود ہے اور لیے کہ بعث کے معنی اٹھانے اور مقام کے معنی کھڑے ہونے اور اٹھنے کے ہیں اس وجہ سے اس کے مفعول مطلق واقع ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو تمہاری مخالفت و مذمت میں یہ شور و غوغا برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ لیکن تم اپنے موقف حق پر ڈٹے ہو، نمازوں کا بالخصوص تہجد کا خاص اہتمام کرو اور یہ توقع رکھو کہ تمہارا رب تمہیں اس حال میں اٹھائے گا کہ ایک عظیم امت کی زبانوں پر تمہارے لیے ترانہ حمد ہوگا اور عنداللہ بھی تمہاری تمہاری مساعی محمود و مشکور ہوں گی۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور دعا کرو کہ اے میرے رب مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور مجھے نکال عزت کا نکالنا اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت نصیب کر

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا۔ لفظ " قل " یہاں دعا کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 29 مومنون۔ لفظ صدق کی اصل روح، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، عزت، رسوخ اور استحکام ہے۔ " سلطان " کے معنی غلبہ اور تمکن کے ہیں۔ قرب ہجرت کا اشارہ اور ایک عظیم بشارت : اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حالات اتنے سخت ہوچکے تھے کہ اب آنحضرت ﷺ کے لیے مکہ سے ہجرت ناگزیر ہوچکی تھی لیکن اللہ کا رسول اللہ کے اذن کے بغیر ہجرت نہیں کرتا۔ اس وجہ سے آں حضرت ﷺ اپنی دعوت اور اپنے مقام پر ڈٹے رہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ آپ کو یہ دعا تلقین کی گئی جس میں نہ صرف یہ کہ قرب ہجرت کی طرف اشارہ ہے بلکہ یہ بشارت بھی مضمر ہے کہ آپ کے نکلنے سے پہلے ہی آپ کے دخل ہونے کا انتظام کرلیا گیا ہے، آپ کا نکلنا اور داخل ہونا دونوں عزت و قار اور رسوخ و استحکام کے ساتھ ہوگا اور یہ کہ اس سفر میں غلبہ اور نصرت الٰہی کا خاص خدائی بدرقہ آپ کے ہم رکاب ہوگا۔ دعا میں اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ کا اخرجنی پر مقدم ہنوا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے داخلہ کا انتظام تمہارے نکلنے سے پہلے ہی ہوچکا ہے اور " من لدنک " کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ گو ظاہری حالات کیسے ہی نامساعد و مخالف ہوں لیکن تمہارا رب اپنے پاس سے تمہارے لیے سارے انتظام فرمائے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ظاہری الفاظ کے اعتبار سے تو یہ ایک دعا ہے جو آپ کو تلقین فرمائی گئی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک عظیم بشارت ہے جو نہایت پر خطر حالات میں آپ کو دی گئی۔ پھر ہجرت کے سفر کی سرگزشت اور مدینہ کے حضور کے داخلہ کے حالات پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ خلق نے اس بشارت کے ایک ایک لفظ کو عملاً ظہور میں آتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور اعلان کرو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا اور باطل نابود ہونے والی چیز ہے

وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔ " حق " سے مراد قرآن اور وہ دین حق ہے جس کو لے کر قرآن آیا تھا اور باطل سے مراد وہ دین باطل ہے جس کو مٹانے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا۔ حق کی فتح اور باطل کی شکست کا اعلان : اوپر آپ کو ہجرت کی دعا سکھائی گئی تھی اب یہ انہیں نازک حالات کے اندر حق کی فتح اور باطل کی شکست کے اعلان کا آپ کو حکم ہوا۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں کہ ہجرت در حقیقت رسول کی فتح کا دیباچہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد رسول کے مخالفین لازماً مٹ جاتے ہیں اور دین حق کا بول بالا ہو کے رہتا ہے۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی فطرت کے اندر باطل کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ خود رو جھاڑیوں کی طرح اس وقت پھیلتا ہے جب اس کو صاف کرتے رہنے والے موجود نہیں ہوتے ہیں۔ جب اس کو صاف کرنے والے آموجود ہوتے ہیں تو حالات کے اعتبار سے گو انہیں مشقت اٹھانی پڑتی ہے لیکن بالآخر یہ نابود ہو کے رہتا ہے اور اس کی جگہ وہ کشت حق لہلہا اٹھتی ہے جس کا تخم اہل حق ڈالتے ہیں ا سلیے کہ انسانی فطرت کی زمین درحقیقت فاطر فطرت نے اسی کشت حق کی پرورش کے لیے بنائی ہے نہ کہ اس خار و خس کی پرورش کے لیے جو محض غفلت کی پیدا وار ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ پیشین گوئی عملاً پوری ہوگئی۔ اس وقت آنحضرت ﷺ نیزے کی انی سے خانہ کعبہ کے بتوں کو توڑتے جاتے اور یہ آیت پڑھتے جاتے گویا اس آیت کا مصداق منصہ شہود پر آگیا۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن میں سے جو اتارتے ہیں وہ شفا اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے اور ظالمون کے لیے یہ چیز ان کے خسارے میں ہی اضافہ کر رہی ہے

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا۔ قرآن کی تکذیب کرنے والوں کی محرومی : یہ قرآن کی تکذیب کرنے والوں کی محرومی اور شامت زدگی پر اظہار افسوس اور ملامت ہے کہ ہم تو قرآن میں سے جو کچھ اتار رہے ہیں اس میں ان کے تمام روحانی و عقلی روگوں کا مداوا، اور نتیجہ اور عاقبت کار کے اعتبار سے یہ ان کے لیے سرتاسر رحمت ہے لیکن جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں یہی چیز ان کے لیے مزید خسارے کا باعث بن رہی ہے کہ وہ اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کرکے اپنے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں میں شدید عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور پہلو بدل لیتا ہے اور جب اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے

وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا۔ " الانسان " کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے مراد قریش کے وہی اشرار و مفسدین ہیں جن کا کردار یہاں زیر بحث ہے۔ انہوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے متکبرانہ اعراض کی روش اختیار کی۔ جیسا کہ " اعرض و نا بجانبہ " کے الفاظ سے ظاہر ہورہا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے منہ پھیر کر عام صیغہ سے بات فرما دی۔ " اعرض " کے بعد " ونا بجانبہ " کے الفاظ سے ان کے اعراض کی تصویر سامنے آرہی ہے۔ کسی چیز سے اعراض شائستہ انداز میں بھی ہوسکتا ہے لیکن جب انسان نفرت، بیزار، اور غرور کے انداز میں کسی چیز سے اعراض کرتا ہے تو وہ پہلو بدل لیتا ہے اور مونڈھے سے پھیر لیتا ہے۔ فرمایا کہ انسان کا عجیب حال ہے۔ جب ہم اس پر اپنا فضل و انعام کرتے ہیں تب وہ ہم سے اکڑتا اور سرکشی کرتا ہے لیکن اس کے اعمال کی پاداش میں ہم اس کو کسی مصیبت میں گرفتار کرلیتے ہیں تو وہ دل شکستہ اور مایوس ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس کے لیے صحیح روش یہ تھی کہ ہمارے انعام پر ہمارا شکر گزار ہوتا اور کوئی آزمائش پیش آتی تو اس پر صبر کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حال ہے تمہارے ان مخالفین کا۔ ہم نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے تو ان کے غرور کا یہ حال ہے کہ تمہاری دعوت و تذکیر پر تم سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر ہم نے ان کو دھر لیا تو پھر سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور یاس و نامرادی کی تصویر بن کر رہ جائیں گے۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر ایک اپنی روش پر کام کرے گا تو تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح تر راستہ پر ہیں

قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا۔ لفظ " کل " اگرچہ نکرہ ہے لیکن بعض مواقع میں، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، یہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے یعنی اس سے وہی جماعتیں یا اشخاص مراد ہوتے ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہوتا ہے۔ معاملہ اللہ کے حوالے کرنے ہدایت : شاکلۃ کے معنی طریقہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری بات سننے پر آمادہ نہیں ہو تو تم اپنی روش پر گامزن رہو گے اور میں بہرحال اپنی دعوت پر قائم رہوں گا۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سیدھے راستے پر کون ہے، اپنے زعم کے مطابق تم یا میں اور میرے ساتھی۔ آگے آنے والے حالات بتا دیں گے کہ منزل پر کون پہنچتا ہے۔ یہ آیت گویا تفویض کی آیت ہے۔ پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ تم ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور خود اپنے موقفِ حق پر ڈٹے رہو۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور وہ تم سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم میں سے ہے اور انہیں تو بس تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 85 تا 111:۔ مخالفین کے اعتراضوں کے جواب : آگے مخالفین کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو وہ قرآن اور پیغمبر ﷺ کی رسالت کے خلاف اٹھاتے تھے۔ ساتھ ہی ان مطالبات کا حوالہ بھی ہے جو وہ اپنے ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کرتے تھے۔ ان مطالبات کو نقل کرکے ان کے جواب بھی دیے ہیں اور پیغمبر ﷺ کو یہ تسلی بھی کہ جن کے اندر علم کا نور ہے وہ اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں، رہے وہ لوگ جو طرح طرح کے معجزات کے مطالبے کر رہے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا۔ روح سے مراد : روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح و عقل اور دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ اس حقیقت کو سیدنا مسیح نے یوں واضح فرمایا ہے کہ " انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمے سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے، قرآن کو اسی پہلو سے جگہ جگہ روح سے تعبیر کیا ہے، مثلاً " ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ : وہ اتارتا ہے فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے امر میں سے جن پر چاہتا ہے ان بندوں میں سے " (نحل :2)۔ " یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ لینذر یوم التلاق : وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح القا کرتا ہے اپنے امر میں سے تاکہ وہ لوگوں کو ملاقات کے دن سے ہوشیار کردے " (غافر :15)۔ " وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا : اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف وحی کی روح اپنے امر میں سے " (شوری :52)۔ روح کے متعلق سوال کا جواب : کفار اسی روح سے متعلق سوال کرتے اور ان کا یہ سوال تحقیق کی غرض سے نہیں بلکہ محض اعتراض و استہزاء کے ارادہ سے ہوتا۔ یعنی نعوذ باللہ ان کے سوال کا مطلب یہ ہوتا کہ یہ روح کیا بلا ہے جس کے اتم اپنے اوپر اترنے کے مدعی ہو۔ ذرا اس کی حقیقت ہمیں بھی تو سمجھاؤ۔ جواب میں فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں علم تھوڑا ہی ملا ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ تم اس کائنات اور اس کے خالق کے ساسرے کام سمجھ جاؤ۔ اس روح کو وہی سمجھتے ہیں جن کو اس کا تجربہ ہوا ہے جس کے درد جگر نہ ہوا ہو۔ وہ اگر درد جگر کو دیکھنے کے لیے مچلے تو اس کو یہ درد کس طرح دکھایا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔ ان مخالفین قرآن کے ذہن میں یہ سوال کرتے وقت یہ بات بھی مخفی ہوتی کہ آخرت تمہارے ہی اوپر یہ روح کیوں اترتی ہے، ہمارے اوپر کیوں نہیں اترتی ؟ ان کے اسی مافی الذہن کو سامنے رکھ کر اوپر کی آیات میں علی من یشاء کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اس شرف کا مستحق ہر بولہوس نہیں ہوتا، اس کے لیے اللہ ہی جس کو چاہتا ہے انتخاب فرماتا ہے۔ " من امرہ، اور " من امرنا " کے الفاظ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہیں کہ یہ چیز امور الٰہیہ میں سے ہے جس کی اصل حقیقت خدا ہی جانتا ہے۔ ہر شخص اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو اس وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے تم پر کی ہے، پھر تم اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار بھی نہ پاسکوگے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

یہ تو بس تمہارے رب کا فضل ہے۔ بیشک اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے

تفسیر آیات 86 تا 87:۔ وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا۔ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا۔ وحی کی حالت ایک تصرف غیبی ہے : اس آیت کا خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن بات جو فرمائی گئی ہے اس کو انہی لوگوں کو سنانا مقصود ہے جن کا اوپر سوال نقل ہوا ہے فرمایا کہ یہ وحی کی حالت و کیفیت تو تمہارے لیے بھی ایک بالکل اضطرار کیفیت و حال ہے جس میں تمہارے اختیار و ارادہ اور تمہاری خواہش و کوشش کو کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ تم اس کو اپنے ارادے سے لاسکتے اور نہ اپنے ارادے سے روک سکتے۔ یہاں تک کہ اگر ہم اس وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے تم پر کی ہے تو کوئی طاقت ایسی نہیں جو تم کو یہ واپس دلا سکے۔ یہ محض ہمارا تصرف غیبی ہے جس سے تمہیں یہ چیز حاصل ہوتی ہے اور صرف ہمارا فضل ہے جس سے ہم نے تم کو سرفراز کیا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ تمہارے رب کا تمہارے اوپر بہت ہی بڑا فضل ہوا ہے۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمام انس و جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لادیں تو وہ اس جیسا نہ لا سکیں گے اگر وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں

قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۔ ظاہر ہے کہ جب خود پیغمبر کی خواہش و کوشش کو بھی اس وحی کے لانے میں کوئی دخل نہیں ہے اور وہ بھی اپنے اختیار و ارادے سے اس قسم کی کتاب پیش کرنے پر قادر نہیں در آنحالیکہ انہی کے واسطہ سے یہ ظہور میں آئی ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ دوسروں کی کیا تاب و مجال ہے کہ اس قرآن کے مثل کوئی کتاب لا سکیں۔ انسان تو کر کنار اگر انسان اور جناب دونوں آپس میں گٹھ جوڑ کرکے یہ زور لگائیں کہ اس طرح کی کوئی کتاب پیش کریں جب بھی وہ اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کا یہ چیلنج کم و بیش چودہ سو سال سے موجود ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ عرب و عجم میں سے کوئی اس کو قبول کرنے کی جرات نہ کرسکا اور اگر کسی نے اس کی نقالی کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنے آپ کو مضحکہ بنانے سے محفوظ رنہ رکھ سکا۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکار ہی پر اڑے ہوئے ہیں

قرآن کے ذریعے اتمام حجت : وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۔ " تصریف ؛" کے معنی یہاں ایک ایک حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں پیرایوں سے بیان کرنا ہے اور " ضرب مثل " سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا ہے۔ عربی میں اس مفہوم کے لیے اس محاورہ کا استعمال معروف ہے۔ کسی حماسی کا شعر مشہور ہے : یا بدر والامثال۔ یضربہا لذی اللب الحکیم۔ اے بدر، حکمت کی باتیں حکیم عاقل ہی کے لیے بیان کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ اس معجز کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد، جس میں حکمت کی ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں اور پیرایوں سے ہم نے بیان کی ہے ان لوگوں کے پاس یہ عذر باقی نہیں رہا کہ ان کے پاس خدا کی کوئی ہدایت نہیں آئی۔ اس کتاب نے ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی لوگوں کی اکثریت انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو یہ ان کی اپنی محرومی و بدبختی ہے۔
Ayahs 17:90–93

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری بات ماننے کے نہیں جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کردو

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ نہ ہوجائے پھر تم اس کے بیچ بیچ میں نہریں نہ دوڑا دو

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تم ہر پر آسمان سے ٹکڑے نہ گرا دو جیسا کہ تم دعوی کرتے ہو یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لا کھڑا کرو

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر نہ ہوجائے یا تم آسمان پر نہ چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی ماننے کے نہیں جب تک تم وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو جسے ہم پڑھیں۔ کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے، میں تو بس ایک بشر ہوں، اللہ کا رسول

تفسیر آیات 90 تا 93: مخالفین کے مطالبات برائے تصدیق رسالت : وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الأرْضِ يَنْبُوعًا (90) أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأنْهَارَ خِلالَهَا تَفْجِيرًا (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ قَبِيلا (92) أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولا (93)۔ " ایمان " کا صلہ جب " ل " کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ایمان لانے کے نہیں بلکہ مجرد کسی بات کے ماننے اور باور کرنے کے ہوتے ہیں۔ اب یہ مخالفین کے وہ مطالبات نقل ہورہے ہیں جن کو وہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی تصدیق کے لیے بطور شرط کے پیش کرتے تھے۔ وہ مطالبات مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ یہ کہ دیکھتے دیکھتے آپ زمین سے چشمہ جاری کردیں۔ 2۔ یا یہ کہ آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہوجائے اور آپ اس کے بیچ بیچ میں بہت سی نہریں نکال دیں۔ 3۔ یا یہ کہ آپ ہم پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں جیسا کہ آپ کا دعوی ہے یا یہ کہ اللہ اور فرشتوں کو رو در رو دکھا دیں۔ " رایتہ قبیلا " کے معنی ہوں گے۔ رایتہ عیانا و مقابلۃ۔ 4۔ یا یہ کہ آپ کے پاس ایک سونے کا مکان ہوجائے یا آپ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چرھ جائیں اور ہم آپ کے اس آسمان پر چڑھنے کو بھی اس وقت تک باور نہیں کریں گے جب تک آپ وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتاریں جو کو ہم پڑھیں۔ مطالبات کا جواب : ان سارے مطالبات کے جواب میں ارشاد ہوا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولا، ان سے کہہ دو کہ میرا رب ہر قسم کی شرکت سے پاک ہے، میں تو بس ایک بشر اور رسول ہوں۔ یعنی میں نے خدائی یا خدائی میں شرکت کا دعوی نہیں کیا ہے کہ تم مجھ سے اس قسم کے مطالبے کرتے، میرا رب ہر قسم کی شرکت سے منزہ، ارفع اور بالا تر ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں اور خدا کا ایک رسول۔ رسول کی حیثیت سے میرا فریضہ صرف یہ ہے کہ میں تم کو خدا کا پیغام پہنچا دوں۔ ان کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کردینے کا مجھے اختیار نہیں ملا ہوا ہے۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ایمان لانے سے، جب کہ ان کے پاس ہدایت آگئی، نہیں مانع ہوئی مگر یہ چیز کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے ایک بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجا

انسانوں کے لیے انسان کے نبی ہونے کی حکمت : وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولا۔ " الہدی " یعنی اللہ کی واضح ہدایت اپنے تمام دلائل وبراہین کے ساتھ۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اللہ کی ہدایت کا تعلق ہے وہ تو نہایت واضح شکل میں، اپنے ناقابل تردید دلائل کے ساتھ، ان کے سامنے آچکی ہے۔ اب تو اگر یہ کسی چیز کو اپنے ایمان نہ لانے کے بہانے کے طور پر پیش کر رہے ہیں تو وہ صرف یہ چیز ہے کہ کیا ایک بشر کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ! یعنی جہاں تک دلائل کا تعلق ہے اس سے انکار کی کوئی گنجائش تو باقی نہیں رہی ہے۔ لیکن ان کا کبر و غرور اس بات سے مانع ہے کہ وہ ایک بشر کو اپنا رسول مان لیں۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

کہہ دو ، اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتارتے

قُلْ لَوْ كَانَ فِي الأرْضِ مَلائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولا۔ یعنی اگر ان کا یہ خیال ہے کہ کسی بشر کے بجائے کسی فرشتے کو ان کی طرف رسول ہو کر آنا تھا تو ان سے کہہ دو کہ اگر زمین میں انسانوں کے بجائے فرشتے رہتے بستے ہوتے تب تو ہم اگر ان کی طرف رسول بھیجتے تو لازماً آسمان سے کوئی فرشتہ ہی اتارتے لیکن زمین میں انسان رہتے بستے ہیں تو آخر انسانوں کی طرف کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ؟ رسول اس لیے آتا ہے کہ اس کی زندگی لوگوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنے۔ آخر کسی فرشتہ کی زندگی انسانوں لیے اسوہ اور نمونہ کس طرح بن سکتی۔ " ملئکۃ " کے ساتھ " یمشون مطمئنین " کی قید سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہورہا ہے کہ زمین میں فرشتے آتے جاتے تو ہیں لیکن وہ خدا کے حکم تحت اس کی کسی مشیت کی تنفیذ کے لیے آتے جاتے ہیں۔ ان کی حیثیت یہاں کے مستقل باشندوں کی نہیں ہے۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے

معاملہ اللہ کے حوالے کرنے کی ہدایت : قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا۔ اب یہ اچھی طرح حجت تمام کردینے کے بعد نبی ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ دلائل کی عدم وضاحت تمہارے لیے ایمان سے مانع ہے یا تمہاری ضد اور انانیت۔ اللہ اپنے بندوں کے ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے۔ اب وہی فیصلہ فرمائے گا کہ تم پر یری رسالت کی صداقت واضح نہیں ہوئی تھی یا تم سب کچھ دیکھ، سن اور سمجھ کر اندھے بہر اور گونگے بنے رہے۔