Ayah 17:28وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا۔
یہ اس حالت کے لیے ہدایت ہے جب کہ بروقت کوئی شخص اس پوزیشن میں نہ ہو کہ وہ اوپر بیان کیے ہئے حقوق ادا کرسکے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے حالات ایسے ہوں کہ مذکورہ حق داروں میں سے کسی کی امداد سے تمہیں مجبوراً اعراض ہی کرنا پڑجائے اور تمہیں توقع ہو کہ مستقبل قریب میں تمہارے حالات درست ہوجائیں گے اور تم اس کی مدد کرسکوگے تو اس سے دلداری اور ہمدردی کی بات کرو اور آئندہ کے لیے اچھے وعدے کے ساتھ اس کو رخصت کرو۔
Ayah 17:29وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔
ہاتھ کو گردن سے باندھ لینا، تعبیر ہے انتہائی بخل اور خست کی اور ہاتھ کو بالکل کھلا چھوڑ دینا تعبیر ہے اسراف و تبذیر کی۔
اوپر آیات 26۔ 27 میں اسراف و تبذیر کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے اس کے باب میں غلط فہمی سے بچانے کے لیے یہ صحیح نقطہ اعتدال کی وضاحت فرمادی کہ منشائے الٰہی یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی ضروریات کے معاملے میں بالکل ہی بخیل و خسیس بن کر رہا جائے بلکہ صرف یہ مطلوب ہے کہ وہ اعتدال و کفایت شعاری کا رویہ اختیار کرے، نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ ہی لے، نہ ان کو بالکل کھلا چھوڑے دے، بلکہ اعتدال کے ساتھ اپنی جائز ضروریات پر بھی خرچ کرے اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔ تَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا، یہاں تقعد اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آیت 22 میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے ہاتھ بالکل ہی کھلے ہوئے چھوڑ دوگے تو بالآخر اس کا نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ دوسروں کے حقوق کے معاملے میں سزاوار ملامت بھی ٹھہرو گے اور ادائے حقوق سے قاصر و درماندہ بھی ہو کر رہ جاؤگے۔
Ayah 17:30اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۔
یہاں " یقدر " کے بعد بھی " لمن یشاء " ہے جو وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کردیا گیا ہے۔
رزق کی تنگی و کشادگی خدا کی مشیت پر منحصر ہے : اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اور نہ تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ کے رکھو، یہ آیت اسی کی وضاحت میں ہے کہ رزق کی تنگی و کشادگی کا انحصار آدمی کی اپنی تدبیروں پر نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر خدا کی حکمت و مشیت پر منحصر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح باخبر اور ان کا نگران و نگہبان ہے۔ وہی اپنی مشیت و حکمت کے تحت جس کے لیے رزق کو چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بندے کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ احتیاط و اعتدال کے ساتھ اپنی ضروریات پر بھی خرچ کرے اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو اس نقطہ اعتدال سے منحرف ہو، خواہ وہ کسی سمت میں ہو۔
Ayah 17:31وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا۔
قتل اولاد کی ممانعت : یہ اوبر والی بات ہی پر متفرع ہے۔ یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے کہ اصل رازق خدا ہی ہے تو کسی دوسرے کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسری جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کردے کہ وہ کھائے گی کیا۔ عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردینے کی جو سنگ دلانہ رسم جاری تھی اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت کوئی کماؤ فرد تو ہے نہیں تو لڑکیوں کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔ قرآن نے اس سنگ دلانہ جرم کے اصل محرک پر ضرب لگائی اور اس بربریت کا خاتمہ یا۔ موجودہ زمانے میں ضبط ولادت کے نام سے جو تحریک چل رہی ہے اور جس کو بروئے کار لانے کے لیے روز نت نئی ترکیبیں ایجاد ہورہی ہیں۔ وہ بظاہر تو وحشیانہ نہیں ہیں لیکن فلسفہ اور عیقدہ بنیادی طور پر اس کے اندر بھی وہی کار فرما ہے جو عرب جاہلیت کی بربریت کا محرک تھا۔ جاہل عربوں کی طرح موجودہ زمانے کا متمد انسان بھی اپنے آپ کو دوسروں کا رازق سمجھ بیٹھا ہے۔ قرآن نے " نحن نرزقھم وایاکم " فرما کر اس گمراہی کی اصلاح کی ہے۔ عرب کے وحشی تو اس حقیقت کو سمجھ گئے اور انہوں نے اپنی اصلاح بھی کرلی لیکن اس زمانے کے پڑھے لکھے جناتوں کو کون سمجھائے۔
Ayah 17:32وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا۔
منہیات کا بیان : آیت 31 پر قرآنی اوامر، عدل، احسان، ایتائے ذی القربی، سے متعلق بنیادی مسائل ختم ہوئے اب آگے قرآنی منہیات۔ فحشاء، منکر، بغی کے تحت جو چیزیں آتی ہیں ان کا بیان شروع ہورہا ہے۔
زنا اور اس کے محرکات کی ممانعت : منہیات کے باب میں سب سے پہلے زنا کو لیا ہے اس لیے کہ یہ برائی صالح معاشرہ کی جڑ پر کلہاڑا مارنے والی برائی ہے۔ صالح معاشرہ کی بنیاد صالح خاندان پر ہے۔ صالح خاندان صحیح فطری جذبات کے ساتھ صرف اسی صورت میں وجود پذیر ہوسکتا ہے جب والدین کے ساتھ اولاد کا تعلق صحیح خون، صحیح نسب اور پاکیزہ رحمی رشتہ پر استوار ہو اگر یہ چیز مفقود ہوجائے تو خاندان خاندان نہیں بلکہ فطری و روحانی جذبات و عوطف سے بالکل محروم نا آشنا حیوانات کا ایک گلہ ہے۔ حیوانات کا کوئی گلہ نہ کسی صالح معاشرہ کی بنیاد رکھ سکتا نہ کسی صالح تمدن کا مقدمۃ الجیش بن سکتا۔
قرآن نے زنا کے اس مفسدے کے باعث اس کو اپنی منہہیات کے باب میں سب سے پہلے لیا ہے اور ایسے لفظوں میں اس سے روکا ہے جو زنا اور زنا کے تمام دواعی و محرکات کا سدباب کرنے والے ہیں۔ فرمایا لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى، جس کے معنی ہیں زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ " زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو " یعنی ان تمام باتوں سے بھی دور دور رہو جو زنا کی محرک، اس پر اکسانے والی اور اس کے قریب لے جانے والی ہیں۔ یہاں بات صرف اصولی حیثیت سے فرمائی گئی ہے۔ اس وجہ سے اس کی کوئی تفصیل نہیں آئی ہے۔ اس کی تفصیل سورة نور میں آئے گی جو اس گروپ کی آخری سورة ہے۔ اس کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم واضح کریں گے کہ قرآن نے کن کن باتوں سے محض اس بنیاد پر روکا ہے کہ وہ زنا کے مقدمات و محرکات میں سے ہیں۔
اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا، یہ زنا کی ممانعت کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ یہ کھلی ہوئی بےحیائی اور نہایت ہی بری راہ ہے، کھلی ہوئی بےحیائی، یعنی اس کے برائی اور بےحیائی ہونے پر کسی منطقی بحث و حجت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ فطرت انسانی کی قدیم ترین جانی پہچانی ہوئی حقیقتوں میں سے ایک واضح ترین حقیقت ہے۔ انسان جب سے دنیا میں موجود ہے اس نے مرد اور عورت کے آزادانہ تعلق کو کبھی گوارا نہیں کیا بلکہ اس پر ہمیشہ نہایت سخت پابندیاں رہی ہیں اور وہ لوگ کبھی خوش دلی کے ساتھ معاشرے میں گوارا نہیں کیے گئے ہیں جنہوں نے ان پابندیوں کو توڑا ہے۔ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا، یعنی اس طریق اقوم سے یہ بالکل منحرف راہ ہے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ جو لوگ اس راستہ پر چل پڑتے ہیں وہ صالح خاندان، صالح معاشرہ اور بالآخر صالح حکومت سب کی جڑیں اکھاڑ کے رکھ دیتے ہیں۔
Ayah 17:33وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا۔
قتل کی ممانعت اور اسلامی قانون کا مزاج : النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ ، یعنی ہر وہ جان جس کو اللہ نے محفوظ و مصئون قرار دیا ہے۔ جو مباح الدم نہیں ہے، کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو قتل کرے مگر حق کی بنا پر۔ یعنی صرف اس صورت میں جس میں شریعت نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قانونی جواز کے بغیر قتل ہوا تو وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی صورت میں فرمایا کہ " فقد جعلنا لیولیہ سلطانا " ہم نے اس کے اولیاء کو قاتل کے اوپر پورا اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس سے قصاص لیں، چاہیں تو خون بہا لیں اور اگر چاہیں تو معاف بھی کرسکتے ہیں۔ پورا اختیار دینے کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی حکومت اولیائے مقتول کی مرضی لازماً نافذ کرائے گی۔ فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا، یہ اولیائے مقتول کے لیے ہدایت ہے کہ چونکہ ان کو قانون اور حکومت کی حمایت حاصل ہے اس وجہ سے ان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ قاتل کو قتل کرنے کے معاملے میں حدود سے تجاوز کریں مثلاً یہ کہ اصل قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کردیں یا قتل کے ایسے طریقے اختیار کریں۔ جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ مثلاً آگ میں جلانا یا مثلہ کرنا۔
اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اسلامی قانون میں قتل کے معاملے میں اصل مدعی کی حیثیت حکومت کی نہیں بلکہ اولیائے مقتول کی ہے۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اولیائے مقتول کی مرضی ٹھیک ٹھیک نافذ کرادے۔ حکومت مدعی صرف اس شکل میں ہوگی جب مقتول لاوارث ہو یا وراث ہوں تو سہی لیکن کسی سبب سے ان کو مقتول کے معاملے سے کوئی دل چسپی نہ رہ گئی ہو۔ موجودہ قوانین میں سارا اختیار صرف حکومت ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ اولیاء کو سرے سے کوئی تعلق رہ ہی نہیں جاتا۔ ہمارے نزدیک موجودہ قوانین اسلامی قانون کی بہت سی برکتوں سے خالی ہیں۔ ہم نے اس مسئے پر اپنی ایک دوسری کتاب میں بحث کی ہے۔ یہاں اس کے اعادے کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 17:34وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ۠وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا۔
مال یتیم کی حفاظت : اوپر جس شدت کے ساتھ زنا اور اس کے دواعی و محرکات سے روکا ہے اسی شدت کے ساتھ یہ یتیم کے مال میں کسی ناجائز تصرف سے روکا ہے۔ فرمایا کہ بجز بہتری و بہبود کے ارادے کے یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یعنی یتیم کے مال میں اولیاء کی صرف وہی مداخلت جائز ہے جو اس کی ترقی، اس کی حفاظت اور اس کے نشوونما کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہو۔ ان سے الگ ہو کر جو تصرف بھی ہوگا وہ خیانت ہے اس لیے کہ یتیم کا مال اولیاء کے ہاتھ میں درحقیقت امانت ہوتا ہے۔ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ، یعنی اولیاء کی یہ نگرانی صرف اس وقت تک کے لیے ہے جب تک یتیم اپنی پختگی اور سن رشد کو نہیں پہنچ جاتا۔ جب وہ بلوغ و رشد کو پہنچ جائے وہ اپنے مال کا مالک و مختار ہے۔ اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے۔
ایفائے عہد کی ہدایت : واوفوا بالعہد ان العہد کان مسئولا، یتیم کے مال میں خیانت کی ممانعت کے ساتھ ہی یہ تمام عہود و مواثیق میں خیانت سے منع فرمایا کہ ہر عہد جو کرو اس کو پورا کرو، اس میں کوئی خیانت نہ کرو۔ اس لیے کہ ہر عہد کی بابت عنداللہ پرسش ہونی ہے۔ اس عہد میں ہر قسم کے عہد شامل ہیں۔ خواہ وہ کسی معاہدے کی صورت میں وجود میں آئے ہوں، یا معاہدے کی شکل میں تو وجود میں نہ آئے ہوں لیکن مادۃً اور عرفاً ان کو عہد ہی سمجھا اور مانا جاتا ہو۔ جس نوعیت کا بھی عہد ہو اگر وہ خلاف شریعت نہیں ہے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ سورة مائدہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح کرچکے ہیں کہ شریعت کی حیثیت بھی درحقیقت بندوں اور خدا کے درمیان ایک معاہد کی ہے۔ انہی عہود کے ایفا پر صالح خاندان، صالح معاشرہ اور صالح حکومت کا قیام و بقا منحصر ہے۔
Ayah 17:35وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔
ایفائے کیل و وزن کی تاکید : ایفائے عہد کی تاکید کے بعد یہ ایفائے کیل و وزن کی تاکید ہے کہ آپس کے لین دین میں جب کوئی چیز ناپو یا تولو تو ناپ تول میں کوئی خیانت نہ کرو۔ ناپو صحیح یمانے سے اور تولو ٹھیک ترازو سے۔ یہی طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے یہی اچھا ہے۔ یعنی معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے بھی یہی طریقہ سود مند ہے اور مآل کار کے پہلو سے بھی یہی طریقہ بہتر ہے اس لیے کہ خدا کو پسند یہی طریقہ ہے۔ جو قوم ڈنڈی ماری کو شیوہ بنالیتی ہے۔ بظاہر اس کے کچھ افراد اپنی دانست میں نفع کماتے ہیں لیکن وہ درحقیقت اس عدل و صداقت کی بنیاد ہی کو ڈھادیتے ہیں جس پر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کا قیام و بقا منحصر ہے۔
Ayah 17:36وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا۔
" قفوتہ، قفوت اثرہ کے معنی ہیں میں اس کے پیچھے لگایا ہولیا۔ لَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ، یعنی جس چیز کے بارے میں تمہیں قابل اطمینان علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ ہولیا کرو اور محض اٹکل اور گمان کی بنا پر کسی کے بارے میں کوئی بات نہ لے اڑو۔
قذف اور تہمت وغیرہ کی ممانعت : یہ قذف اور تہمت وغیرہ کی قسم کی ساری باتوں کی ممانعت ہے۔ قرآن جو معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس کی بنیاد حسن ظن اور اعتماد پر ہے اس وجہ سے کسی کے باب میں کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جو محض گمان یا افواہ پر مبنی ہو اور وہ اس کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ فرمایا کہ جو لوگ اس طرح کی غیر زمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل ہر ایک سے اس طرح کی باتوں کی بابت ایک روز پرسش ہونی ہے۔
Ayah 17:37وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۔
غرور وتکبر کی ممانعت : " مرح " کے معنی اکڑ کر اور اترا کر چلنے کے ہیں۔ جو شخص اکڑ کر اور اترا کر چلتا ہے وہ زمین پر پاؤں مارتا ہوا اور گردن کو اٹھا کر چلتا ہے۔ یہ متکبرین اور مغروروں کی چال ہے۔ فرمایا کہ یہ مغروروں اور متکبروں کی چال نہ چلو۔ یاد رکھو کہ تم کتنا ہی زمین پر پاؤں مارتے ہوئے چلو لیکن تم خدا کی زمین کو پھاڑ نہیں سکتے، اسی طرح تم کتنا ہی سینہ تان کر اور گردن اور سر کو اونچا کر کے چلو۔ لیکن تم پہاڑوں کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے۔ مطلب یہ کہ جس خدا کی قدرت کی یہ شانیں دیکھتے ہو کہ اس نے تمہارے پاؤں کے نیچے یہ طویل و عریض زمین بچھا دی جس کے اور تمہاری حیثیت ایک بھنگے اور چیونٹی کی بھی نہیں اور جس نے یہ فلک بوس پہاڑ تمہارے آگے کھڑے کردیے جن کے سامنے تم ایک گلہری کی بھی حیثیت نہیں رکھتے اس کی زمین پر اکڑنے اور اترانے کے کیا معنی ؟ اپنی حیثیت پہچانو اور خدا کی عظمت اور اس کے جلال کے آگے ہمیشہ سرفگندہ رہو۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آدمی کی یہ حالت اس کے باطن پر عکس ڈالتی ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی اس شخص کے دل میں خدا کی عظمت وقدرت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جن کے دلوں کے اندر خدا کی عظمت وقدرت کا تصور سمایا ہوا ہوتا ہے۔ ان پر تواضع اور فروتنی کی حالت طاری رہتی ہے۔ وہ اکڑنے اور اترانے کے بجائے سر جھکا کر دبے پاؤں چلتے ہیں۔
Ayah 17:38كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا۔
یہ اوپر کی تمام منہیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ہر کام کی برائی تیرے رب کے نزدیک نہایت مکرو ہے۔ لفظ " مکرو " یہاں فقہی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی یہ ساری باتیں خدا کے نزدیک نہایت مبغوض اور قابل نفرت ہیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو ان میں سے کسی چیز کے بھی مرتکب ہوں گے وہ بھی خدا کے نزدیک قابل نفرت ٹھہریں گے۔
Ayah 17:39ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۭ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا
یہ باتیں اجزائے حکمت میں سے ہیں : " ذالک " کا اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر سے لے کر یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔ یہ ساری باتیں حکمت کے اجزاء میں سے ہیں۔ یعنی یہ وہ ٹھوس، راسخ اور غیر متزلزل حقیقتیں ہیں جو عقل، فطرت اور شریعت میں نہایت مضبوط بنیادیں رکھتی ہیں۔ تمہارے رب نے اپنے پیغمبر کے واسطہ سے یہ تمہاری طرف وحی کی ہیں کہ تم اپنی زندگیاں ان سے سنوارو۔
توحید کے مضمون کی یاد دہانی : وَلَا تَجْعَلْ۔۔۔ الایۃ۔ یہ ٓخر میں توحید کے اس مضمون کی پھر یاد دہانی کردی جس سے ٓیت 22 میں اس بحث کا آغاز فرمایا تھا۔ گویا توحید ان ساری تعلیمان کے لیے حصار اور شہر پناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب تک یہ شہر پناہ قائم ہے اس وقت تک یہ تعلیمات بھی قائم ہیں اور اگر اس شہر پناہ میں کوئی رخنہ پیدا ہوگیا تو یہ ساری حکمت کی باتیں بھی ایک ایک کر کے ناپید ہوجائیں گی۔ توحید سے آغاز اور توحید ہی پر اختتام کی مثالیں قرآن مجید میں اور بھی ہیں بلکہ تورات میں اس کی مثالیں موجود ہیں اگر بحث کے دوسرے گوشوں میں نکل جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہاں ان کا حوالہ دیتے۔
تورات کے احکام عشرہ : تورات میں کم و بیش یہی بات جس انداز میں کہی گئی ہیں ان سے واقف رہنا بھی فائدہ سے خالی نہیں ہوگا اس وجہ سے ہم اس کا ضروری حصہ یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ " پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا، بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہہ کر تم پاک رہو کیونکہ میں جو خداوند تمہارا خدا ہوں پاک ہوں۔ تم میں سے ہر ایک اپنی ماں اور اپنے باپ سے ڈرتا ہے اور تم میرے سبتوں کو ماننا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ تم بتوں کی طرف رجوع نہ ہونا اور نہ اپنے لیے ڈھالے ہوئے دویتا بنانا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں اور جب تم خداوند کے حضور سلامتی کے ذبیحے گزراؤ تو ان کو اس طرح گزراننا کہ تم مقبول ہو۔۔۔۔ اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو تو اپنے کھیت کے کونے کونے تک پورا پورا نہ کاٹنا اور نہ کٹائی کی گری پڑی بالوں کو چن لینا۔ اور تو اپنے انگورستان کا دانہ دانہ نہ توڑلینا اور نہ اپنے انگورستان کے گرے ہوئے دونوں کو جمع کرنا، ان کو غریبوں اور مسافروں کے لیے چھوڑدینا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ تم چوری نہ کرنا اور نہ دغا دینا اور نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولنا اور تم میرا نام لے کر جھوٹی قسم نہ کھانا جس سے تو اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرائے۔ میں خداوند ہوں تو اپنے پڑوسی پر ظلم نہ کرنا نہ اسے لوٹنا۔ مزوروں کی مزدوری تیرے پاس ساری صبح تک رہنے نہ پائے۔ تو بہرے کو نہ کو سنا اور نہ اندھے کے اگے ٹھوکر کھلانے کی چیز کو دھرنا بلکہ اپنے خدا سے ڈرنا۔ میں خداوند ہوں۔ تم فیصلہ میں ناراستی نہ کرنا۔ نہ تو تو غریب کی رعایت کرنا نہ بڑے آدمی کا لحاظ بلکہ راستی کے ساتھ اپنے ہم سایہ کا انصاف کرنا۔ تو اپنی قوم میں ادھر ادھر لترا پن نہ کرتے پھرنا اور نہ اپنے ہم سایہ کا خون کرنے پر آمادہ ہونا، میں خداوند ہوں۔ تو اپنے بھائی سے بغض نہ رکھنا۔۔۔۔۔ تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہم سایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔ میں خداوند ہوں۔ تم میری شریعتوں کو ماننا " (احبار باب 19)
Ayah 17:40آگے کا مضمون۔ آیات 40 تا 57:۔
کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصلی سبب : آگے کفار قریش کی قرآن سے بیزاری کے اصلی سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ لوگ چونکہ اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑنے اور آخرت تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں اس وجہ سے قرآن اور پیغمبر سے چڑتے ہیں۔ اسی ضمن میں بطور جملہ معترضہ مسلمانوں کو یہ ہدایت بھی فرما دی گئی کہ تم دعوت میں حکیمانہ طریقہ اختیار کرو۔ مخالفین کے رویے سے متاثر ہو کر زبان سے کوئی ایسا کلمہ نہ نکال بیٹھو جو ان بدکے ہوئے لوگوں کے لیے مزید وحشت کا سبب بن جائے۔
اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا۔
تردید شرک نئے اسلوب سے : اوپر کے مجموعہ آیات کو شرک کی تردید پر ختم فرمایا تھا، اسی مضمون کو ایک نئے اسلوب سے پھر لے لیا۔ فرمایا کہ کیا تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں کے لیے مخصوص کرلیا اور خود اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لیں۔ یہ واضح رہے کہ فرشتوں کو مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور اس وہم کے ساتھ ان کی پرستش کرتے تھے کہ یہ اپنے باپ سے ان کے لیے سفارش کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کی اس دوہری حماقت پر توجہ دلائی ہے کہ اول تو کسی کو خدا کا شریک ٹھہرانا ہی حماقت ہے۔ پھر ستم بالائے ستم تم نے یہ کیا ہے کہ خدا کے لیے بیٹیاں منتخب کی ہیں جن کو خود اپنے لیے سخت ناپسند کرتے ہو۔ انَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا۔ یعنی یہ تو تم بڑی ہی بھونڈی اور نہایت ہی سنگین بات کہتے ہو۔ یہ صرف حماقت ہی نہیں بلکہ حماقت در حماقت ہے کہ اپنے رب کے لیے اس چیز کا انتخاب کرتے ہو جس کو اپنے لیے گوارا کرنے پر آمادہ نہیں۔ گویا خدا کو تم نے خود اپنے سے بھی گرادیا۔
Ayah 17:41وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا۔
" تصریف " کے معنی گردش دینے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد کسی حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں طریقوں سے پیش کرنا ہے۔ مثلاً توحید ہی کا مضمون قرآن میں اتنے مختلف اسلوبوں اور طریقوں سے بیان ہوا ہے کہ غبی سے غبی آدمی بھی، اگر ہٹ دھرم نہ ہو تو اس کو زہن نشین کرسکتا ہے۔ لیکن جو لوگ ضدی اور جھگڑالو ہوتے ہیں، بات کو ماننا نہیں چاہتے، ان کی بیزار اور نفرت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے جتنی کہ بات واضح ہوتی جاتی ہے اس لیے کہ اس کی وضاحت کو وہ اپنی شکست اور رسوائی سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں توحید کی حقیقت اور شرک کی شناعت گوناگوں پہلوؤں سے واضح کی کہ یہ لوگ یاد دہانی حاصل کریں۔ لیکن جتنی ہی ان کی دوا کی گئی اتنا ہی ان کا مرض بڑھتا گیا۔
Ayah 17:42قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا۔
مشرکین عرب دنیوی بادشاہوں اور بادشاہتوں پر قیاس کر کے اللہ تعالیٰ کو تو صاحب تخت و تاج یعنی معبود اعظم مانتے تھے اور اس کے تحت بہت سے دوسرے دیوی دیوتاؤں کو بھی مانتے تھے جن کی نسبت ان کا گمان تھا کہ وہ خدائی میں شریک ہیں اور اپنے پجاریوں کے لیے وہ صاحب عرش کے تقرب کا بھی ذریعہ بنتے ہیں اور ان کی خواہشیں اور ضرورتیں بھی اس سے پوری کرا دیتے ہیں۔ یہ ان کے اسی واہمہ کی تردید ہے۔ فرمایا کہ اگر خدا کے ساتھ اس کے کچھ شریک وسہیم بھی ہوتے، جیسا کہ تم گمان کیے بیٹھے ہو، تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور صاحب عرش سے منازعت و مخاصمت کی راہ ڈھونڈھ لیتے اور یہ آسمان و زمین کا سارا نظم درہم برہم ہو کے رہ جاتا۔ مطلب یہ ہے کہ جس زمین کے بادشاہوں اور بادشاہتوں پر قیاس کرکے تم یہ تخیل آراستہ کیا ہے اس میں تو دیکھتے ہو کہ آئے دن حکومتوں کے نقشے بگڑتے بنتے رہتے ہیں۔ اگر اسی طرح خدا کے بھی کچھ شریک وسہیم اور حریف ہوتے تو آخر وہ کیوں چپکے بیٹھے رہتے، وہ کیوں نہ صاحب عرش بننے کے لیے زور لگاتے لیکن یہاں تو دیکھتے ہو کہ نہ ایک دن کے لیے سورج اپنے محور سے کھسکا اور نہ زمین اپنے مدار سے منحرف ہوئی۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقام میں یوں واضح فرمایا ہے " لوکان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا : اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے کے معبود بھی ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتے۔
Ayah 17:43سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔
یعنی اللہ تعالیٰ اس قسم کے اوہام و خرافات سے بالکل منزہ اور نہایت برتر ہے۔ ان قیاسات و تشبیہات اس کی اعلی صفات کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے۔
Ayah 17:44تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا۔
" تسبیح " کا مفہوم : " تسبیح " کی اصل روح تنزیہہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام نسبتوں اور صفتوں سے بری اور بالاتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ صفات اور شان کے منافی ہیں۔ اس کے ساتھ جب " بحمدہ " کی قید لگ جاتی ہے، جس طرح یہاں " یسبح بحمدہ " ہے تو اس کے اندر تنزیہہ کے ساتھ اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی اس کو تمام اعلی صفات سے متصف قرار دینا۔
مطلب یہ ہے کہ ایک خاص دائرہ کے اندر خدا نے تم کو اختیار بخشا ہے۔ اس سے غلط فائدہ اٹھا کر تم جو تہمتیں چاہو خدا پر جوڑو لیکن ساتوں آسمان اور زمین اور ان کے اندر جتنی مخلوقات ہیں سب خدا کی تسبیح کرتی ہیں لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا، یعنی تمہاری یہ حرکت تو ایسی ہے کہ تم پر آسمان ٹوٹ پڑتا لیکن اللہ بڑا ہی حلیم اور غفور ہے، تمہاری ان حرکتوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جارہا ہے۔
Ayah 17:45وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔
کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصلی سبب : یہ اس تعجب کو دور فرمایا ہے کہ قرآن جیسی واضح چیز، جس میں ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں سے، جیسا کہ آیت 41 میں فرمایا، بیان ہوئی ہے، ان لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہے۔ اور یہ اس سے اس درجہ وحشت زدہ کیوں ہیں ؟ فرمایا کہ یہ لوگ نہ آخرت کو مانتے ہیں اور نہ آخرت کو ماننا چاہتے ہیں۔ یہ چیز ان کے دلوں پر ایک مخفی حجاب بن کر چھا گئی ہے جس کا اثر یہ ہے کہ قرآن کے انوار ان کے دلوں پر منعکس نہیں ہوپاتے۔
Ayah 17:46وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا۔
" اکنۃ " " کنان " کی جمع ہے جس کے معنی پردہ ہے۔ ان یفقہوہ، یعنی کراھۃ ان یفقہوہ، " ان " سے پہلے مضاف حذف ہوگیا ہے۔ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا، کے بعد " ان یسمعوہ، حذف ہے قرینہ اس پر دلیل ہے۔
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے کہ وہ اس کو نہ سنیں، وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا، یہ ان کی قرآن سے وحشت کا دوسرا بڑا سبب ہے کہ چونکہ تم قرآن میں صرف اللہ واحد ہی کا ذکر سناتے ہو ان کے مزعومہ معبودوں کو کوئی درجہ نہیں دیتے، اور یہ لوگ آخرت کی طرح توحید سے بھی بیزار ہیں اس وجہ سے قرآن کو سنتے ہی وحشت زدہ ہو کر پیٹھ پیچھے بھاگتے ہیں۔
ختم قلوب کی سنت الٰہی : آیت میں دلوں پر پردہ اور کانوں میں ثقل پیدا کرنے سے اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں ختم قلوب کے عنوان سے ہوا ہے۔ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں پوری تفصیل کے ساتھ اس سنت الٰہی کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ یہاں اس کے اعادے میں طوالت ہوگی۔
Ayah 17:47نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا۔
یعنی یہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تو کبھی اس کو سنتے نہیں کہ اس سے ان کو نفع پہنچے۔ یہ تو اگر سنتے ہیں تو اس غرض سے سنتے ہیں کہ کوئی پہلو اعتراض اور نکتہ چینی کا ہاتھ آئے اور اس کو وہ اس کے خلاف بدگمانیاں پھیلانے کے لیے لے اڑیں۔ فرمایا کہ ہم ان کی اس نیت کو بھی خوب جانتے ہیں اور ان کی ان سرگوشیوں کو بھی خوب جانتے ہیں جب یہ مسلمانوں کو قرآن سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک بالکل خبطی اور سحر زدہ شخص کے پیچھے چل پڑے ہو۔
Ayah 17:48اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا۔
" ضرب مثل " سے مراد یہاں فقرے اور پھبتیان چست کرنا ہے۔ ملاحظہ ہو آیات 8-9 فرقان۔
مطلب یہ ہے کہ تم پر اور قرآن پر اعتراض کرنے کی کوئی راہ تو انہیں مل نہیں رہی ہے اس وجہ سے یہ بالکل کھوئے گئے ہیں۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ماننا چاہتے نہیں اور تردید کا کوئی پہلو ہاتھ نہیں آرہا ہے اس وجہ سے جس کے منہ میں جو کچھ آجاتا ہے، دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہی بک دیتا ہے۔ کوئی کاہن بتاتا ہے۔ کوئی مجنون، کوئی ساحر کہتا ہے، کوئی مسحور۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے حواس باختوں کی باتوں پر صبر کرو اور ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ اصل حقیقت بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی۔
Ayah 17:49وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا۔
کفار کی آخرت سے بیزاری : یہ آخرت کے بارے میں ان کے استبعاد کو نقل فرمایا ہے کہ وہ برسبیل استہزاء و طنز پوچھتے ہیں کہ کیا ہم جب سڑ گل کر ہڈیا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے ! !
Ayahs 17:50–51تفسیر آیات 50 تا 51:۔ قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۭ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا۔
قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ۔ فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجانا تو درکنار اگر تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت تر چیز جو تمہارے خیال میں زندگی قبول کرنے کی صلاحیتوں سے بالکل خالی ہو، جب بھی تم از سر نو اٹھائے جاؤ گے۔ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا، فرمایا کہ تمہاری اس بات پر وہ کہیں گے کہ بھلا کون ہمیں اٹھائے گا۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی وہ کہیں گے کہ بھلا سڑ گل جانے کے بعد کون ہمیں دوبارہ اٹھا سکتا ہے ! ! اس کا جواب بتایا کہ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، ان سے کہہ دینا کہ " وہی جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، یہ جواب نہایت مختصر لیکن بھرپور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کو تمہیں عدم محض سے پیدا کرنے میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی، آخر تمہیں دوبارہ وجود میں لانے سے وہ کیوں عاجز ہوجائے گا۔ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ۔ انغاض کے معنی سر ہلانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس مسکت جواب کے بعد بھی یہ چپ رہنے والے اسامی نہیں ہیں بلکہ اس کے بعد بانداز استہزاء وہ یہ سوال کریں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ اس کا جواب یہ بتایا کہ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا، کہہ دیجیو کہ بہت ممکن ہے کہ اس کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔ اس جواب کے اندر یہ حقیقت مضمر ہے کہ جہاں تک قیامت کے وقت کا تعلق ہے اس کا پتہ تو اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر کو بھی اس کا علم نہیں ہے لیکن جو چیز شدنی ہے وہ بہرحال شدنی ہے۔ وہ دیر سویر ہو کے رہے گی، اس کو محض اس بنیاد پر تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا ٹھیک ٹھیک وقت ہمارے میں نہیں ہے وقت تو اپنی موت کا بھی کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن احمق ہی ہوگا جو اس کا اس بنا پر انکار کر بیٹھے کہ اس کو اس کا وقت معلوم نہیں ہے۔
Ayah 17:52يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا۔
اب یہ ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ آج تو بہت اکڑتے ہو لیکن اس دن کو یاد رکھو جس دن پکار ہوگی اور تم اس پکار پر خدا کی حمت کرتے ہوئے دوڑو گے۔ اس دن سارے حجابات چاک ہوجائیں گے اور ایک ایک حقیقت آنکھوں سے نظر آجائے گی۔ نیز یہ مدت جو تمہارے اور قیامت کے درمیان حائل ہے اور تمہیں بہت طویل نظر آرہی ہے، اس دن ایسا محسوس کروگے کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو مرا بس سمجھو کہ اس کی قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے کہ برزخ میں جو زندگی گزرے گی اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔
Ayah 17:53وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا
مسلمانوں کو حکمت تبلیغ کی تعلیم : اوپر کی آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس دور میں مخالفین نے طنز و تعریض کے تمام ترکش سنبھال لیے تھے۔ جب جب کوئی موقع گفتگو کا نکلتا مسلمانوں کی بھی تحقیر کرتے اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی گستاخی اور بدتمیزی سے پیش آتے۔ اوپر آیات 47 میں اس کی ایک مثال گزر چکی ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اس باب میں مسلمانوں کو ضرور ہدایت دے دی جائیں تاکہ وہ کفار کے رویہ سے متاثر ہو کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھا بیٹھیں جو دعوت کے مزاج کے منافی ہو۔ فرمایا کہ میرے بندوں (مسلمانوں) سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو۔ یعنی مخالفین کی بےہودہ باتوں کا جواب دینے کی کوشش نہ کریں۔ صرف صحیح اور سچی بات پہنچا دینے کی کوشش کریں اور اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ شیطان جو انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے، ہر وقت اس گھات میں لگا ہوا ہے کہ کب کوئی موقع ہاتھ آئے اور وہ وسوسہ اندازی کر کے سارے کام کو خراب کردے۔ بعینہ یہی ہدایت اسی طرح کے مواقع کے لیے سورة نحل میں ان الفاظ میں گزر چکی ہے۔ " ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ " (نحل 125)۔ سورة اعراف کی آیات 198 تا 201 میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 17:54رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔
دعوت کے معاملہ میں مومنین کی ذمہ داری : یہ دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبر کی ذمہ داری کی حد واضح فرمادی تاکہ کفار کے معاندانہ رویے سے ان کے دل تنگ نہ ہوں۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہوگا اور کون عذاب کا مستح ہے اور وہ گمراہی پر جما رہے گا اور عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کی ذمہ داری صرف دعوت کو پہنچا دینے کی ہے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لازماً سب کو مومن بنا ہی دیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم کوئی داروغہ تو ان پر مقرر نہیں ہوئے ہو کہ ان کے کفر و ایمان کے معاملے میں تمہیں جواب دہی کرنی ہو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف حق پہنچا دینے کی ہے وہ پہنچا دو ، ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے اور اس کی پرسش خدا کے ہاں انہیں سے ہونی ہے تم سے نہیں ہونی ہے تو تم بلاوجہ زیادہ پریشان کیوں ہو ؟
Ayah 17:55وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرً۔
تفضیل انبیاء میں صحیح نقطہ نظر : مباحثے کی گرما گرمی میں جو چیز سب سے زیادہ فتنہ کا سبب بنتی ہے وہ اپنے اپنے مقتداؤں کی متعصبانی ترجیح و تفصیل ہے۔ جو جس کو مانتا ہے ساری فضیلت بس اسی کے ساتھ باندھ کے رکھ دیتا ہے، کسی دوسرے کے لیے کسی فضیلت کے تسلیم کرنے میں وہ اپنی سبکی اور شکست محسوس کرتا ہے اس دور میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتنہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا یا اس کے اٹھ کھڑے ہونے کا اندیشہ تھا۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ یہود، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، اپنی تمام فتنہ سامانیوں کے ساتھ میدان مخالفت میں اتر آئے اور وہ مخالفین کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے۔ یہود کو، جیسا کہ بقرہ آیات 253 کے تحت گزر چکا ہے، اس فتنہ سے خاص دلچسپی تھی۔ قرآن نے اس فتنہ کا سر کچلنے کے لیے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ زمین اور آسمان میں جو ہیں سب سے اللہ ہی خوب واقف ہے، وہی جانتا ہے کہ کس کار درجہ کیا ہے اور کون کس مرتبہ پر سرفراز ہے۔ اس چیز کو دوسرے لوگ نہیں جانتے۔ رہا یہ سوال نبیوں میں سے کس کو کس پر فضیلت ہے تو اللہ نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پہ بعض اعتبارات سے فضیلت بخشی۔ مثلا حضرت موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا، حضرت عیسیٰ ابن مریم کو بینات عطا فرمائیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی، حضرت داود کو زبور عطا فرمائی۔ نبیوں کے باب میں یہی نقطہ نظر صحیح ہے اور مسلمانوں کو اسی پر جمے رہنے کی تاکید ہوئی وہ آنحضرت ﷺ کے اختصاص و امتیاز کے جو پہلو ہیں ان کا بھی اظہار و اعلان کریں اور دوسرے نبیوں کے جو امتیازی پہلو ہیں ان کو بھی تسلیم کریں۔ اس مسئلے پر بقرہ آیت 253 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ حضرت داؤد کو جو زبور عطا ہوئی اس کا خاص امتیازی پہلو یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں یہی ایک کتاب منظوم شکل میں ہے۔ جو تمام تر حمد و تمجید کے نغمات پر مشتمل ہے۔
Ayah 17:56قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا۔
کلام کا تعلق اوپر کے مضمون سے : اوپر کی تین آیتیں، جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں، اثنائے کلام میں، بطور جملہ معترضہ، برسر موقع تنبیہ و ہدایت کے لیے آگئی تھیں، اب پھر کلام اپنے اصلی سلسلہ یعنی آیات 51۔ 52 سے جڑ گیا۔ اوپر ارشد ہوا تھا کہ کہ جس ساعت کے ظہور کے لیے تم جلدی مچاہئے ہوئے ہو کیا عجب کہ اس وقت قریب آپہنچا ہو۔ اب یہاں فرمایا کہ جن کو تم خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہو اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ تمہاری مدد کریں گے تو ان کو بلا دیکھو، نہ وہ کسی مصیبت کو دور کرسکیں گے اور نہ یہی کرسکیں گے کہ کچھ دیر ہی کے لیے اس کا رخ کسی اور کی طرف موڑ دیں۔
Ayah 17:57اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۔ یعنی جن فرشتوں کو یہ خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ تو خود ہر وقت خدا کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور کیوں نہ ڈریں۔ تیرے رب کا عذاب چیز ہی ایسی ہے کہ اس سے ہر شخص ڈرے اور بچے، خواہ وہ کتنا ہی عالی مقام ہو۔
Ayah 17:58آگے کا مضمون۔ آیات 58 تا 60:
عذاب کے باب میں سنت الٰہی : پیچھے آیت 11 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ پیغمبر ﷺ جب مشرکین کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں تو وہ جھٹ عذاب کا مطالبہ شروع کردیتے کہ جس عذاب کی روز دھمکی سنا رہے ہو اس کو لا کر دکھاتے کیوں نہیں۔ اب یہاں اوپر والی آیات میں اس کا ذکر آیا تو اس باب میں جو سنت الٰہی ہے اس کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی طلب پر عذاب کی نشانیاں اگر نہیں دکھاتا تو کیوں نہیں دکھاتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔
" قریۃ " سے مراد یہاں، جیسا کہ ہم پیچے اشارہ کر آئے ہیں، وہ مرکزی بستیاں ہیں جو کسی قوم کے اعیان و مترفین کا مرکز ہوتی ہیں۔
مطالبۂ نشانی عذاب کا جواب : یہ کفار قریش کے مطالبۂ نشانی عذاب کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، ہر بستی جو کفر و طغیان کی راہ اختیار کرے گی وہ دو حالتوں میں سے کسی ایک سے لازماً دوچار ہو کے رہے گی۔ یا تو ہم اس کو ہلاک کرچھوڑیں گے یا اس کو سخت عذاب دیں گے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی ہے لیکن اسی سورة میں پیچھے وہ سنت الٰہی بھی بیان ہوگئی ہے جس کے تحت یہ بات واقع ہوتی ہے۔ آیت 16 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ " وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کردینا چاہتے ہ ہیں تو اس کے خوش حالوں کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں، پھر ان پر بات پوری ہوجاتی ہے پھر ہم اس کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیں "۔ یوں تو یہ سنت الٰہی ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی لیکن کفار قریش کے لیے یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین اس وجہ سے بن گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج دیا تھا۔ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو ایک خاص مدت تک مہلت پانے کے بعد وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا، یعنی یہ بات نوشۂ الٰہی یا خدا کے دفتر میں مرقوم ہے۔ اس نے یہ لکھ رکھا ہے کہ فلاں قوم ان ان جرائم کی اپنے ارادہ و اختیار سے مرتکب ہوگی اور ان کی پاداش میں وہ یوں اپنے کیفر کردار کو پہنچے گی۔
Ayah 17:59وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ ۭ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا ۭ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا۔
نشانی نہ بھیجنے کی حکمت : یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ حکمت و رحمت واضح فرمائی ہے جس کے سبب سے وہ لوگوں کے شدید مطالبہ کے باوجود کوئی نشانی عذاب نہیں بھیج رہا ہے۔ فرمایا کہ نشانیوں کا مقصد تو لوگوں کو ڈرانا اور متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ ان کو دیکھ کر اس عذاب الٰہی سے ڈریں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے لیکن پچھلی قوموں نے اپنی شامت اعمال سے ہمیشہ یہ کیا کہ ان نشانیوں سے متنبہ ہونے کے بجائے ان کی تکذیب کر کے اپنے لیے انہوں نے عذاب الٰہی کا دروازہ کھول لیا۔ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا، " ب " کا صلہ چونکہ " ظلموا " کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اس وجہ سے یہاں حذف مانیں گے یعنی " ظلموا انفسہم وکذبوا بہا " انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ناقہ کے نشانی ہونے کی تکذیب کردی۔
نشانیوں کی تکذیب کی ایک مثال : یہ مثال بیان ہوئی اوپر والی بات کی کہ عذاب کی نشانیوں کی پچھلی قوموں نے کسی طرح تکذیب کی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے قوم ثمود کو ناقہ ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کی حیثیت سے دی۔ اگر وہ ضد سے اندھے نہ ہوچکے ہوتے تو ان کے لیے وہ کافی تھی لیکن انہوں نے اس نشانی سے کوئی فائدہ اٹھانا تو درکنار ناقہ کی کوچیں کاٹ کر اس کو ہلاک کیا اور اس طرح خود اپنی ہلاکت کے لیے عذاب الٰہی کا دروازہ کھول لیا۔ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا، یعنی عذاب کی کوئی نشانی تو جب بھی ہم بھیجتے ہیں محض اصل عذاب سے متنبہ اور آگاہ کرنے کے لیے بھیجتے ہیں لیکن ہٹ درھم لوگ اس سے قائل نہیں ہوتے، وہ اس کی کوئی نہ کوئی تاویل کر کے اپنی خرمستیوں کے لیے بہانہ پیدا کر ہی لیتے ہیں۔ اگر کنکر برسا دینے والی ہوا (حاصب) کا کسی طرف سے طوفان اٹھے تو یہ کہیں گے کہ یہ تو ابر کرم ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ اگر کوئی اور آفت ارضی یا سماوی نمودار ہو تو کہیں گے کہ قوموں پر ایسے نرم و سخت دن تو آیا ہی کرتے ہیں۔ غرض کوئی نشانی جس کا مقصود محض تخویف و تنبیہ ہو وہ تو ان کو قائل کرنے والی بن نہیں سکتی، یہ تو اگر قائل ہوسکتے ہیں تو اصل عذاب سے قائل ہوسکتے ہیں لیکن اس کے ظہور کے بعد قائل ہونے اور نہ ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔
Ayah 17:60وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا۔
تنبیہی نشانیوں کے باب میں قریش کا رویہ : تخویفی و تنبیہی نشانیوں کے باب میں پچھلی قوموں کا جو رویہ رہا ہے اوپر کی آیات میں اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ اب یہ خاص آنحضرت ﷺ کی قوم کی بعض باتوں کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اگر ان کی طلب پر ان کو بھی کوئی تخویفی نشانی دکھائی گئی تو ان کا رویہ بھی پچھلی قوموں سے کچھ مختلف نہ ہوگا۔ یہ بھی اس کی تکذیب کردیں گے اس لیے کہ اب تکذیب کردیں گے اس لیے کہ اب تک جو باتیں ان سے تخویف و تنبیہ کے مقصد سے کہی گئی ہیں انہوں نے ان سب کا مذاق ہی اڑایا ہے۔ مثلاً جب ہم نے تم کو یہ خبر دی کہ تمہارے رب نے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے تو انہوں نے اس سے متنبہ ہونے کے بجائے اس کا مذاق اڑایا کہ تم دون کی لے رہے اور ڈینگیں مار رہے ہو۔
یہ اشارہ ان آیات کی طرف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اب ہم کفار مکہ کے زور و اثر کو اس کے اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مثلاً سورة رعد میں ہے " اولم یرو انا ناتی الارض ننقصہا من اطرافھا : کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم سرزمین (مکہ) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کے اطراف سے اس کو کم کرتے ہوئے "۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی تھی جب اطراف مکہ میں اسلام پھیلنے لگا اور مکہ اور اہل مکہ گویا آہستہ آہستہ اسلام کے گھیرے میں آرہے تھے۔ یہی مضمون آیت 44 انبیاء میں بھی ہے۔ پھر جب فتوحات کا دور شروع ہوا تو قرآن نے فتح مکہ کی پیشین گوئی ان الفاظ میں فرمائی۔ " واخری لم تقدروا علیہا قد احاط اللہ بہا : اور دوسری فتوحات بھی ہیں جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوسکے لیکن اللہ نے ان کو اپنے احاطے میں لے لیا ہے "۔ یہ باتیں ہوائی نہیں تھی بلکہ حالات ان کی صاف پیشین گوئی کررہے تھے لیکن قریش کے ضدی لیڈروں نے ان تمام تخویفات کا آخر وقت تک انکار ہی کیا یہاں تک کہ بالآخر انہیں مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پڑے۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ، یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی دوسری مثال بیان ہوئی۔ فرمایا کہ جو رویا ہم نے تم کو دکھائی اس میں بھی ان کے لیے تخویف و تنبیہ مضمر تھی لیکن وہ بھی ان کے لیے فتنہ ہی بنی اور انہوں نے اس کا بھی مذاق ہی اڑایا۔
واقعہ معراج پر رد عمل : " رویا " سے یہاں اشارہ واقعہ معراج کی طرف ہے جس کا ذکر سورة کے شروع میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ اس واقعہ کے اندر قریش اور بنی اسرائیل دونوں ہی کے لیے یہ تنبیہ مضمر تھی کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصی دونوں گھروں کی تولیت و امانت ان کے موجودہ خائن متولیوں سے چھین کر نبی امی ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کے حوالہ کی جانے والی ہے۔ لیکن اس تنبیہ سے دونوں میں سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ہر ایک نے طرح طرح سے اس کا مذاق اڑایا یہاں تک کہ جو چیز ان کی تنبیہ و تخویف اور ان کو ان کے مستقبل سے آگاہ کرنے کے لیے تھی وہ ان کی شامت اعمال سے ان کے لیے ایک فتنہ بن کے رہ گئی۔
(ہم پیچھے حجرات انبیاء کی رویا اور خواب کا فرق بھی واضح کرچکے ہیں۔ انبیاء علیہم السلا کی رویا رویائے صادقہ ہوتی ہے۔ یہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو متعدد بڑے بڑے واقعات رویا ہی میں دکھائے گئے۔ رویا کے مشاہدات بسا اوقات آنکھوں کے مشاہدات سے زیادہ قابل اعتماد ہوتے ہیں)
تنبیہات سے فائدہ نہ اٹھانے کی ایک اور مثال : وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ، یہ تیسری مثال بیان ہوئی تنبیہات سے ان کے فائدہ نہ اٹھانے کی۔ " شجرۃ ملعونہ " سے اشارہ شجرہ زقوم کی طرف ہے جس کے متعلق قرآن میں آیا ہے کہ وہ دوزخ میں ہوگا اس کو دوزخی بھوک سے بیتاب ہو کر کھائیں گے پھر اس پر پیاس سے بےتاب ہو کر کھولتا پانی پیاسے اونٹوں کی طرح پئیں گے۔ شجرہ کے لیے معلونہ کی صفت " مبارکہ " کی ضد ہے۔ ایک تو شجرہ مبارکہ ہوتا ہے جو اپنے سایہ، اپنی طراوت اور اپنے پھل ہر چیز سے خلق کو فیض پہنچاتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس شجرہ معلونہ ہوتا ہے جس میں نہ سایہ نہ پھل، صرف کانٹؤں کا ڈھیر، کڑواہٹ اور زہر سے بھرا ہوا، خلق کے لیے ایک لعنت اور مصیبت ہوتا ہے۔ زقوم کی صفت یہی ہے۔
ظاہر ہے کہ دوزخ کے یہ احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ غفلت کے ماتے لوگ متنبہ ہوں اور اس سے بچنے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہوں آج کرلیں لیکن قریش کے لال بجھکڑوں نے اس تنبیہ و تخویف سے فائدہ اٹھانے کے بجائے، اس عالم کے حالات کو اس عالم کے حالات پر قیاس کرکے یہ نکتہ آرائی شروع کردی کہ یہ دیکھو، یہ شخص آگ، پانی اور درخت سب کو ایک ہی جگہ جمع کیے دے رہا ہے ! بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ آگ بھی ہو اور اس میں درخت بھی ہو، آگ بھی ہو اور اس میں پانی بھی ہو۔ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا، یعنی ہم تو ان کو ان باتوں سے مستقبل کے خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ یہ ان سے کچھ بچنے کی فکر کریں لیکن یہ چیزیں ان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹے ان کے اس طغیان کبیر ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہیں جس میں یہ مبتلا ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے دماغ اتنے ٹیڑھے ہوچکے ہیں کہ سیدھی سے سیدھی بات بھی ان میں جا کر ٹیڑھی ہوجاتی ہے ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ ان کی طلب پر کوئی نشانی ان کو دکھا دی گئی تو یہ اس کو مان لیں گے۔ اس کو دیکھ کر بھی یہ کوئی نہ کوئی بات بنا ہی لیں گے۔ یہ نشانی عذاب سے فائدہ اٹھانے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ اصل عذاب سے قائل ہونے والے لوگ ہیں جس کے ظہور کے بعد قائل ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہ جاتا۔