18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة کہف کا تعارف اور مضامین (الف) ۔ سورة کا زمانۂ نزول، عمود اور سابق سورة سے تعلق : سابق سورة کی طرح یہ سورة بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب حق و باطل کی کشمکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ قریش اپنے تمام حربوں کے ساتھ قرآن کی دعوت کو مٹا دینے پر تل گئے تھے اور یہود و نصاری نے بھی جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیںِ درپردہ قریش کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی کہ انہی کے ہاتھوں یہ دعوت اپنے مرکز ہی میں ختم ہوئے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے خود انہیں میدان میں نہ اترنا پڑے۔ ان حالات کے تقاضے سے اس سورة میں چند بناتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔ 1 ۔ قریش کو انذار و تنبیہ کہ وہ اپنی دنیوی کامیابیوں کے غرے میں ایک بدیہی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش نہ کریں۔ اب عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگر وہ اپنی رعونت سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ اس عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ 2 ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے مظلوم صحابہ کو صبر و عزیمت کی تلقین۔ آنے والے مراحل یعنی ہجرت وغیرہ کی طرف بعض لطیف اشارات، ان مراحل میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو جو غیبی فتوحات حاصل ہونے والی ہیں ان کی بشارت۔ 3 ۔ جس طرح سابق سورة ۔ بنی اسرائیل۔ میں یہود کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اسی طرح اس سورة اور اس کے بعد کی سورة ۔ سورة مریم۔ میں نصاری کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے اگر ان کی شہ پر خدا کی اس نعت کی ناقدری کرو گے جس سے اس نے تم کو سرفراز کرنا چاہا ہے تو یاد رکھو کہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھوگے۔ (ب) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : سورة کے مطالب کا تجزیہ بالاجمال یہ ہے : (آیات 1 تا 8) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین صبر کہ تمہاری ذمہ داری صرف انذاروتبشیر ہے۔ اگر یہ متمردین، قرآن پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں کوئی کج پیچ یا تمہاری دعوت و تبلیغ میں کوئی کسر ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ زخارج دنیا کی محبت میں اندھے ہو رہے ہیں تو تم ان کے پیچھے اپنے تئیں ہلکان نہ کرو۔ ایک وقت آنے والا ہے جب اس دنیا کے چہرے کا یہ مصنوع غازہ اتر جائے گا اور یہ اپنے اصل روپ میں نمایاں ہوجائے گی اس وقت یہ بدبخت لوگ اپنے سر پیٹیں گے۔ (9 تا 26) ۔ اصحہاب کہف سے متعلق مخالفین کے اٹھائے ہوئے ایک سوال کا جواب جس سے ان کی اصل زندگی، لاطائل تفصیلات سے بالکل پاک ہو کر، اس طرح سامنے آگئی ہے کہ اس کے آئینہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں کو گویا دکھا گیا ہے کہ تم اس وقت دعوت حق کی راہ میں جس مرحلہ سے گزر رہے ہو۔ یہ مرحلہ اصحاب کہف کو بھی پیش آچکا ہے۔ اگر تم بھی انہی کی طرح تمام خطرات کے علی الرغم، جادۂ حق پر استوار رہے تو اللہ تمہارے لیے بھی اسی طرح مشکلات کو آسان کرے گا جس طرح ان کے لیے آسان کیں۔ اور اسی طرح تمہارے لیے بھی پردۂ غیب سے اسباب و وسائل مہیا کرے گا جس طرح ان کے لیے مہیا فرمائے۔ اللہ اپنی راہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ (27 تا 31) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دولت دنیا کے متوالوں سے بےنیاز ہوکر، اپنے ان غریب و نادار ساتھیوں کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت جو اگرچہ دولت دنیا سے مھروم تھے لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال اور شب و روز اللہ کی یاد اور اس کے دین کی دعوت میں سرگرم تھے۔ اسی ذیل میں آپ کو منکروں کی حالت پر غم کھانے سے روک دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور سنت الٰہی کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ (33 تا 49) ۔ ایک تمثیل جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کی کامیابیوں کو اصل کامیابی سمجھے بیٹھے ہیں ان پر خدا اور آخرت کی یقین دہانی بڑی شاق گزرتی ہے۔ وہ اپنی انہی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل تصور کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی اللہ کا بندہ ان کو خدا اور آخرت سے ڈراتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ بتاؤ تماہرا حال اچھا ہے یا ہمارا ؟ اگر ہمارا حال اچھا ہے اور بالبداہت اچھا ہے تو ہم یہ کیوں نہ باور کریں کہ ہماری ہی زندگی اور ہمارا ہی عقیدہ و عمل بھی صحیح ہے۔ اس ذہن کے لیے لوگ یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ جو جاہ و اقبال ان کو آج حاصل ہے اس پر کبھی زوال بھی آسکتا ہے۔ وہ قیامت کو ایک بہت بعید از امکان چیز سمجھتے ہیں اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اپنی زندگی کی موجودہ کامرانیوں کو دلیل بنا کر یہ گمان کرلیتے ہیں کہ اگر ہمیں خدا کے پاس جانا ہی پڑا، جیسا کہ یہ سرپھرے مسلمان ڈراتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں اس سے بہتر مرتبہ و مقام حاصل ہوگا۔ اس تمثیل کو پیش کرنے سے مقصود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ واضح کرنا ہے کہ آج بعینہ اسی طرح کے مغروروں سے تمہیں سابقہ ہے۔ یہ لوگ تمہاری بات سننے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب برق خرمن سوز ان کے سارے خرمن کو خاکستر کرکے رکھ دے گی۔ سو تم اس دنیا اور اس کی اس زندگی کی، جس پر یہ ریجھے ہوئے ہیں، حقیقت ایک تمثیل سے سمجھا دو کہ یہ دنیا اور اس کی ساری رونقیں اور بہاریں چند روزہ ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ساتھ جانے والی نہیں ہے۔ ساتھ صرف نیک اعمال جائیں گے تو جن کو جمع کرنا ہو یہ سرمایہ جمع کرنے کی فکر کریں۔ (50 تا 59) ۔ آدم اور ابلیس کی سرگزشت کی یاد دہانی جس سے مقصود قریش کے مغروروں کو ان کی بدبختی پر متنبہ کرنا ہے کہ انہوں نے اپنی شامت اعمال سے ابلیس اور اس کی ذریات کو اپنا دوست اور کارساز بنا رکھا ہے حالانکہ اولادِ آدم کے ساتھ ان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ اسی ضمن میں ان کی اس بدبختی پر بھی ملامت کی گئی ہے کہ اللہ نے تو ان پر عظیم فضل فرمایا کہ ان کی ہدایت کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو ہر حقیقت کو گوناگون پہلوؤں سے واضح کردینے والی ہے لیکن یہ اس کو قبول کرنے کے بجائے اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ ان کو وہ عذاب دکھا دیا جائے جس سے قرآن ان کو ڈرا رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے، وہ رحمت میں سبقت کرتا ہے، عذاب میں جلدی نہیں کرتا لیکن یہ شامت کے مارے لوگ عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہی۔ (60 تا 82) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک تربیتی سفر کی سرگزشت۔ یہ سفر اللہ کی ہدایت کے تحت انہوں نے اس لیے کیا کہ ایک بندۂ خاص کے ذریعے سے وہ اس کائنات کے اس رمز سے اچھی طرح آگاہ ہوجائیں کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب ارادۂ الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور ارادہ الٰہی سرتاسر حکمت و برکت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس دنیا میں بظاہر سرکشوں اور نافرمانوں کو ڈھیل ملتی ہے اور اہل حق مختلف قسم کی آزمائشوں اور تکلیفوں میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال بہتوں کے ایمان کو متزلزل کردیتی ہے اور ان کے لیے جادۂ حق پر ثابت قدم رہنا نہایت ابتلا کا کام بن جاتا ہے۔ اس ابتلا میں ثابت قدم صرف وہی لوگ رہتے ہیں جن پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے سب ارادۂ الٰہی کے تحت اور اس کی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہورہا ہے لیکن انسان کا محدود علم اس کی حکمتوں اور مصلحتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے صحیح رویہ یہ ہے کہ راہ حق میں ناموافق و نامساعد جو حالات بھی پیش آئیں آدمی ان سے دل شکست و مایوس نہ ہو بلکہ پورے عزم و جزم کے ساتھ موقف حق پر ڈٹا رہے، حکمت الٰہی کے ظہور کا انتظار کرے اور امید رکھے کہ اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں اس کا ظہور ہو کے رہے گا۔ یہی حکمت، صبر کی اساس و بنیاد ہے جس پر سارا دین قائم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ کو ایک عظیم مہم کے لیے انتخاب فرمایا تو اس صبر کی تربیت کے لیے ان کو اپنے ایک خاص بندے کے پاس بھیجا کہ یہ چیز صرف جاننے کی نہیںٰ بلکہ عملی تربیت کی بھی محتاج تھی۔ بعینہ یہاں یہ سرگزشت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے واسطہ سے آپ کے اس دور کے ساتھیوں کو اس مقصد سے سنائی گئی ہے کہ باغیوں اور نافرمانوں کو جو دندناتے دیکھ رہے ہو اور تم حق پر ہوتے ان کے مظالم کے جو ہدف بنے ہوئے ہو اس سے ہراساں اور مرعوب نہ ہونا۔ اس دنیا میں اگر مسکینوں کی کشتی میں چھید کیا جاتا ہے تو اس میں بھی حکمت خیر ہوتی ہے اور اگر ظالموں کی کسی بستی میں، کسی گرتی دیوار کو سہارا دیا جاتا ہے تو اس میں بھی خیر ہی مضمر ہوتا ہے لیکن انسان کا محدود علم خدا کے سارے اسرار کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ (83 تا 101) ۔ ایک سوال کی تقریب سے ایک سلطان عادل۔ ذوالقرنین۔ کا ذکر جس سے مقصود قریش کے ان متمردین کو عبرت دلانا ہے جو پیغمبر کے انذار کو مذاق اور اپنے اقتدار کو لازوال سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے خود انہی کے سوال پر یہ واضح فرمایا کہ ایک بندہ مومن ذوالقرنین تھے جن کا حال یہ تھا کہ تمام مشرق و مغرب کو فتح کرلینے کے بعد بھی وہ ہر کامیابی کو اللہ کا انعام اور اس کا فضل سمجھتے اور ہر قدم اس کی مرضی کے مطابق اٹھاتے تھے اور ایک تم ہو کہ ذرا سا اقتدار جو مل گیا ہے تو اس کے نشہ میں خدا اور آخرت سب کا مذاق اڑانے لگے ہو۔ (102 تا 110) ۔ خامتہ سورة میں اسی تہدید و انذار کے مضمون کا پھر اعادہ ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا ہے گویا آخر میں ایک نئے اسلوب سے اسی حقیقت کی پھر یاد دہانی فرما دی جو سورة کا عمود ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کا جواب بھی دے دیا جو قرآن کی پر حکمت باتوں کا مذاق اڑاتے اور کسی حسی معجزہ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فرمایا اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں تو آفاق وانفس میں خدا کی اتنی نشانیاں ہیں کہ اگر سمندر روشنائی بن جائیں جب بھی ان کو قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اعلان کرادیا کہ معجزے اور نشانیاں دکھانا خدا کا کام ہے، میں تو تمہاری ہی طرح خدا کا ایک بندہ ہوں، تمہیں وہی سناتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے۔ سورة کے مطالب کا یہ اجمالی تجزیہ اس کے نظام اور عمود کو واضح کردینے کے لیے کافی ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورة کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ۔

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ۔ سابق سورة بنی اسرائیل جس مضمون پر ختم ہوئی تھی (ملاحظہ ہوں آیات 105 تا 111) اسی مضمون سے اس سورة کا آغاز فرمایا۔ قرآن کی صورت میں جو نعمت عظمی اہل عرب پر نازل ہوئی تھی یہ اس کے حق کا اظہار ہے کہ یہ نعمت شکر کی موجب ہونی چاہیے نہ کہ کفر کی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی ناقدری کریں اور اس کی تکذیب کے لیے نت نئے بہانے تلاش کریں۔ قرآن کی سنت : وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا۔ قَيِّمًا، یہ اس کتاب کی صفت ہے کہ اس کتاب میں خدا نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ نہ بیان کے اعتبار سے نہ معنی کے اعتبار سے۔ زبان اس کی عربی مبین ہے اور رہنمائی اس کی اس صراط مستقیم کی طرف ہے جس کے مستقیم ہونے کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور قرآن نے ان کو اتنے گوناگون طریقوں سے بیان کردیا ہے کہ کوئی عقل سے کام لینے والا ان کے سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا۔ صرف وہی ان سے محروم رہیں گے جو عقل سے کام نہیں لے رہے۔ قرآن کی یہی صفت سورة بنی اسرائیل میں بھی بیان ہوئی ہے۔ " ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوم : بیشک یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے "۔
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک اعمال کر رہے ہیں، اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ ان کے لیے بہت اچھا اجر ہے

قرآن کا مقصد: لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ : یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار و ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں " للکافرین " یا " للمکذبین " محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں " مومنین " موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کررہا ہے۔ فعل " ینذر " کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور " عبد " یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کردے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا رسول لوگوں کو خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب شدید سے متنبہ کردے۔ پہلی صورت میں " من لدنہ " کا لفظ اہتمام و عنایت پر دلیل ہوگا کہ اس مقصد کے لیے خدا نے خاص اپنے پاس اور اپنی نگرانی میں انتظام فرمایا۔ دوسری صورت میں اس سے عذاب کی شدت کا اظہار ہوگا کہ یہ عذاب کوئی ایسا ویسا عذاب نہیں ہوگا بلکہ قہر الٰہی ہوگا جس سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکے گا۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا : اس " اجر حسن " میں ہمیشہ رہیں گے یعنی اس بہشت میں ہمیشہ رہیں گے جو اس " اجر حسن " کے ثمرہ اور نتیجہ کے طور پر حاصل ہوگی۔ شے کو بول کر اس سے اس کے نتیجہ کو مراد لینا عربیت کا ایک معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنائی ہوئی ہے آگاہ کردے

وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ یعنی خاص طور پر ان لوگوں کو آگاہ کردے جو خدا کے لیے اولاد فرض کر کے ان کی عبادت میں لگے ہوئے اور ان کی شفاعت کے اعتماد پر خدا سے بالکل مستغنی ہو بیٹھے ہیں۔ اس سے مراد مشرکین عرب بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاری حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں، نہ ان کو نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ نہایت ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہو سے نکل رہی ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیں

مشرکین کی اندھی تقلید : مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلا لآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلا كَذِبًا۔ علم سے مراد یہاں دلیل وبرہان ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں فرض کرکے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے یہ افسانہ محض اپنے جی سے گھڑا ہے۔ نہ خدا نے کہیں یہ بات کہی ہے ورنہ ان بوالفضولوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ یہ اپنے جن آباء و اجداد کی تقلید میں یہ حماقت کررہے ہیں ان کے پاس بھی اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ محض جہالت سے انہوں نے یہ ضلالت اختیار کی اور یہ بھی جہالت ہی سے ان کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہی سنگیں بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت و بہتان اور اس کی غیرت کو چیلنج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی گستاخی سے باز نہ آئے تو عنقریب اپنا حشر دیکھیں گے۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

تو شاید تم ان کے پیچھے اپنے تئیں غم سے ہلاک کرکے رہو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے

آنحضرت ﷺ کو پر محبت تسلی: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور تسلی دینے کا انداز بہت پیارا ہے فرمایا کہ تم تو ان کے ایمان کے غم سے اس طرح گھلے جا رہے ہو کہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو ان کے پیچھے تم اپنے آپ کو ہلاک کرکے رہوگے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے فرض رسالت کی ادائیگی کا احساس کتنا شدید تھا۔ آپ دعوت کے کام کے لیے اپنے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو مبادا اس میں آپ کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس کے باعث آپ کی مشقت اور آپ کے غم دونوں میں برابر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت پر محبت انداز میں ٹوکا کہ اپنی ذمہ داری کے احساس میں اس درجہ غلو صحیح نہیں ہے۔ یہ ناشکرے اور ناقدرے لوگ جو اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ اس کے سمجھنے میں ان کو کوئی دشواری پیش آرہی ہے یا تمہاری طرف سے فرضِ دعوت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہورہی ہے بلکہ اس کا اصل سبب کچھ اور ہے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے سنگار بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون بنتا ہے

منکرین کے انکار کا اصل سبب : إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا۔ یہ ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل وتمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا۔ اس کے مال و اولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں اور چمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بیشمار جانکاہ مصیبتیں نقد نقد اسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا ان کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے لیکن وہ اس عجوزۂ ہزار داماد کو اس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عقل و دل کی آنکھیں اندھی کرلی ہیں اور اپنی خواہشوں کے پرستار بن کے رہ گئے ہیں وہ اس نقد کو آخرت کے نسیہ کے لیے قربان کرنے پر تیار نہیں ہوسکتے۔ اگرچہ اس کے حق ہونے پر اس کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور ہم بالآخر اس پر جو کچھ ہے سب کو چٹیل میدان کرکے رہیں گے

اس دنیا کا انجام : وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا۔ " جرز " بےآب وگیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بیوقوف لوگ اس زمین کی جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان ساری چیزوں کو مٹا کر اس کو چٹیل اور بےآب وگیاہ میدان کی طرح کردیں گے۔ یہی مضمون آگے آیات 46۔ 48 میں آ رہا ہے وہاں انشاء اللہ اس کی مزید تفصیل ہوگی۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم نے کہف و رقیم والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ بہت عجیب خیال کیا !

آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 26: اہل کتاب کے القا کیے ہوئے سوالات : قریش جس انداز سے قرآن اور نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے اس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزرا۔ اسی مخالفت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے اہل کتاب جو مختلف قسم کے اینڈے بینڈے سوالات القا کرتے قریش ان کو بھی اٹھا لیتے اور آپ سے ان کے جواب کا مطالبہ کرتے۔ توح کے متعلق، ذوالقرنین کے متعلق اور اس نوع کے بعض دوسرے سوالات، جن کا قرآن نے حوالہ دیا ہے، اہل کتاب کے اٹھائے ہوئے سوالات تھے۔ اسی نوع کا ایک سوال اصحاب کہف سے متعلق اہل کتاب نے اٹھایا اور ان کے اشارے سے قریش نے اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ یہ غیر متعلق سوالات ظاہر ہے کہ حصول علم اور تحقیق کے مقصد سے نہیں کیے جاتے تھے بلکہ صرف آنحضرت ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے کیے جاتے۔ مقصد مخالفین کا صرف یہ ہوتا کہ اگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو اس جواب نہ دینے کو مخالفت کا بہانہ بنائیں گے کہ دیکھو یہ نبوت کا دعوی کرتے ہیں لیکن ہمارے اس سوال کا جواب نہ دے سکے اور اگر جواب دیا اور کوئی بات ان کے مزعومات کے خلاف ہوئی تو اس کو مخالفت کا بہانہ بنائیں گے کہ دیکھو یہ شخص کیا بےپر کی اڑا رہا ہے۔ اصل بات تو یوں ہے اور یہ اس کے برعکس یوں کہہ رہا ہے۔ قصہ اصحاب کہف کے زیر بحث آنے کی نوعیت : یہ بات کہ اصحابِ کہف کا قصہ یہاں مخالفین کے سوال کے جواب میں زیر بحث آیا ہے خود قرآن سے واضح ہے۔ آگے آیات 22 تا 24 میں یہ بات تصریح سے آئے گی کہ قرآن نے اس قصہ سے تعرض سوال کے جواب میں کیا ہے۔ اس قسم کے سوالوں کے باب میں قرآن نے جو رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی ہے وہ تو، جیسا کہ اگے واضح ہوگا، یہ ہے کہ ان سے تعرض ہی نہ کیا جائے بلکہ ان کو ٹال دیا جائے۔ لیکن کوئی سوال اگر مفید ہوا ہے یا اس کے جواب کو کسی مفید تعلیم کا ذریعہ بنایا جاسکا ہے تو قرآن نے اس کا بقدر ضرورت جواب دے دیا ہے۔ اصحابِ کہف کی زندگی چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لیے، دعوت کے اس پر آزمائش دور میں، نہایت سبق آموز ہوسکتی تھی اس لیے کہ آپ اور آپ کے صحابہ انہی مراحل سے گزر رہے تھے جن سے اصحاب کہف کو گزرنا پڑا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرگزشت کا اتنا حصہ سنا دیا جتنا حق تھا۔ اس طرح گویا سوال کرنے والوں کے سوال کا جواب بھی ہوگیا، ماضی کی ایک پاکیزہ سرگزشت سے پیغمبر اور صحابہ کو صبر و عزیمت کی تعلیم بھی مل گئی اور اہل حق کی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب، جو افسانوں کے حجاب میں گم تھا، ہر قسم کے گردوغبار سے بالکل پاک صاف ہو کر ازسرنو سامنے آگیا۔ اصحابِ کہف کون تھے ؟ اصحابِ کہف کون تھے ؟ ان کا تعلق تاریخ کے کس دور سے ہے اور یہ کن کے اسلاف میں سے ہیں ؟ ان سوالوں کا کوئی قطعی جواب دینا نہایت مشکل ہے۔ ان کے باب میں قطعیت کے ساتھ اتنی ہی بات کہی جاسکتی ہے جتنی قرآن نے بیان کردی ہے۔ باقی جو کچھ ہے اس کی حیثیت محض افسانہ کی ہے۔ قرآن نے ان کی سرگزشت کا صحیح اور سبق آموز حصہ بیان کرکے ان کے باب میں مزید کھوج کرید کرنے سے، جیسا کہ معلوم ہوگا، منع کردیا ہے۔ اس وجہ سے ہم ایک ایسی چیز کے درپے ہونا پسند نہیں کرتے جس سے قرآن نے روکا ہے۔ البتہ قیاسات و قرائن سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ان لوگوں کا تعلق قریش یا یہود کی تاریخ سے نہیں ہے بلکہ نصاریٰ کی تاریخ سے ہے۔ ان کے ہاں ایسی روایات ملتی ہے جو اصحابِ کہف کے واقعہ سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ نصاریٰ اپنی تاریخ کے ابتدائی دور میں، جب دین کی خاطر رومیوں کے ہاتھوں ستائے گئے ہیں، اصحابِ کہف نے دعوت حق کی راہ میں وہ بازی کھیلی ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں نے توحید اور آخرت کی دعوت حق کی راہ میں وہ بازی کھیلی ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں نے توحید اور آخرت کی دعوت پوری بےخوفی سے دی یہاں تک کہ ان کا پورا ماحول ان کا دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا اور خطرہ پیدا ہوگیا کہ مخالفین ان کو سنگسار کردیں گے۔ جب معاملہ اس حد کو پہنچ گیا تو ان لوگوں نے ایک غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس غار میں ان کی حفاظت کے لیے وہ سامان بہم پہنچائے جو صرف اللہ ہی بہم پہنچا سکتا تھا۔ بعد میں جب ان کے حالات لوگوں کے علم میں آئے اور تائید الٰہی کی جو شانیں ان کے لیے ظاہر ہوئیں ان کا چرچا ہوا تو ان کی یادگاریں قائم ہوئیں اور ہر گروہ ان کے ساتھ اپنی نسبت کا دعویٰ کرنے لگا۔ اس طرح نصاریٰ میں ایک مقدس روایت کی حیثیت سے ان کا ذکر باقی رہا لیکن یہ ذکر آہستہ آہستہ بس چند کر امتوں اور چند لاطائل بحثوں تک محدود رہ گیا۔ ان کی زندگی کا اصل کارنامہ نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوگیا۔ اس سوال پر تو ان کے ہاں مناظرے ہوتے کہ ان کی تعداد کیا تھی ؟ ان کا کتا تین کا چوتھا یا پانچ کا چھٹا ؟ لیکن یہ خبر کسی کو نہ تھی کہ ان کی دعوت کیا تھی اور اس دعوت کی راہ میں انہوں نے کیا قربانیاں دیں اور یہ بحثیں بھی غالباً اسی زمانہ تک باقی رہیں جب تک اصل نصرانیت کے کچھ بقایا موجود رہے۔ بعد میں جب پال نے نصرانیت کا حلیہ بالکل بگاڑ ڈالا تو نصاریٰ کے اصل اسلاف کی تمام روایتیں بھی پردۂ خفا میں چھپ گئیں۔ عرب کے نصاری میں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے متعلق کچھ روایات باقی تھیں لیکن بالکل مسخ ہوکر۔ انہی نصاریٰ کی شہ سے یہ سوال آنحضرت ﷺ کے سامنے لایا گیا اور قرآن نے اس لیے اس کا جواب دیا کہ اس سے دعوت کے اس پر آشوب دور میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بڑی تقویت حاصل ہوسکتی تھی۔ جس طرح اصحاب کہف اپنے ماحول میں ہدف مظالم بنے تھے اسی طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بھی قریش کے مظالم کے ہدف تھے اور جس طرح اصحاب کہف کو غار میں پناہ لینی پڑی اسی طرح آپ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے سامنے بھی ہجرت حبشہ، غار ثور اور ہجرتِ مدینہ کے مراحل آنے والے تھے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت کیجیے۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا۔ صیغہ واحد کا خطاب جماعت سے : " حَسِبْتَ " کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت ﷺ ہی سے ہو بلکہ " الم تر " کے خطاب کی طرح یہ عام بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے خطاب میں، جیسا کہ ہم پیچھے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ذکر کرچکے ہیں، مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور جمع کے خطاب کے بالمقابل اس میں زیادہ زور ہوتا ہے۔ خود اسی سلسلہ کلام میں آگے متعدد خطابات بصیغۂ واحد ہیں۔ لیکن ان سب میں خطاب آنحضرت ﷺ سے نہیں بلکہ مخاطب کردہ سے ہے۔ مثلاً وتری الشمس آیت 17، لو اطلعت، لولیت، ولملئت، یہ خطاب سوال کرنے والوں سے ہے : یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے یہ فرمانے کا کیا محل ہے کہ کیا تم اصحابِ کہف و رقیم کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ عجیب چیز خیال کرتے ہو ؟ آنحضرت ﷺ اول تو اس سرگزشت سے واقف ہی نہیں تھے۔ اول اول آپ اس وحی کے ذریعہ ہی سے اس سے واقف ہوئے اور بالفرض آپ کچھ واقف رہے بھی ہوں تو اس میں آپ کے لیے تعجب اور حیرت کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ عجیب سرگزشتیں آپ کو سابق انبیائے کرام کی سنائی جاچکی تھیں۔ پھر آپ کے اصحاب کہف کے معاملہ کو عجیب اور نادر سمجھنے کی کیا وجہ ہوسکتی تھی ! ہمارے نزدیک یہ سوال خطاب کرنے والوں سے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ان کے پیش نظر اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی نظر میں آنحضرت ﷺ اور اور آپ کے صحابہ کی وقعت گھٹائیں کہ ہمارے ہاں تو اصحابِ کہف جیسے اولیائے کبار گزرے ہیں جن کے لیے خدا کی قدرت کی نہایت عظیم شانیں ظاہر ہوئیں تو ہم کسی اور کی ہدایت و رہنمائی کے محتاج کب ہوسکتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے نبی کی ہدایت کے جس کے اندر ہم اس طرح کی کوئی بات بھی نہیں پا رہے ہیں۔ یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ اس دور میں یہود و نصاری دونوں کھلم کھلا یہ بات کہنے لگے تھے کہ جس کو ہدایت کی طلب ہو وہ یہودی بنے یا نصرانی، یہ نیا دین بھلا کیا ہے، اس سے بہتر تو مشرکین ہی کا دین ہے ! سوال اٹھانے والوں کی اس پس پردہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قرآن نے جواب کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ اگر تم اصحابِ کہف کے ماجرے کو بہت عجیب چیز سمجھتے ہو تو یہ بہت عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ خدا کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں، اور آئندہ بھی ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوں گی جن کے لیے خدا چاہے گا۔ یہ نشانیاں خدا کے اختیار میں ہیں۔ ان پر کسی خاص گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔ آیت کے خطاب کے معاملے میں ہماری رائے یہی ہے لیکن کوئی شخص اس کا مخاطب آنحضرت ہی کو قرار دینا چاہے تو اس صورت میں آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ اگر معروف روایات کی بنا پر اصحاب کہف کے ماجرے کو عجیب سمجھتے ہو تو یہ کوئی عجیب چیز نہیں۔ خدا کی اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ظاہر ہوں گی۔ اس میں گویا آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لیے بشارت ہے کہ جس طرح خدا نے پہلے اپنے دین کے علمبرداروں کی حفاظت کے لیے اپنی قدرت کی شانیں ظاہر کی ہیں اسی طرح تمہارے لیے بھی ہر مرحلہ میں اس کی شانیں ظاہر ہوں گی۔ اصحاب کہف و رقیم کی وجہ تسمیہ : رہا یہ سوال کہ ان لوگوں کو اصحاب کہف و رقیم کیوں کہا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کے اہل کتاب میں یہ لوگ اسی لقب سے معروف تھے۔ " کہف " کی طرف تو ان کی نسبت ظاہر ہے کہ غار میں پناہ لینے کی وجہ سے ہوئی۔ رہا " رقیم " تو اس کے بارے میں ہمارے نزدیک راجح قول وہ ہے جس کی روایت عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے کی ہے کہ حضرت کعب کا خیال تھا کہ رقیم اس بستی کا نام تھا، جس سے نکل کر اصحابِ کہف نے غار میں پناہ لی۔ رقیم وادی کو بھی کہتے ہیں۔ ناموں کے بارے میں یہ تحقیق کہ ان کی اصل کیا ہے غیر ضروری بھی ہے اور نہایت مشکل بھی۔ عجمی نام عربی کے قابل میں آ کر اس قدر بدل جاتے ہیں کہ ان کی اصل کی تحقیق کوہ کنی کے مترادف بن جاتی ہے اور مقصد تعلیم کے پہلو سے اس کی کوئی خاص اہمیت بھی نہیں۔ اگر یہ نام قرآن نے رکھا ہوتا تب تو اس کے معنی اور اس کی اصل کی جستجو کی ایک خاص اہمیت بھی نہیں۔ اگر یہ نام قرآن نے رکھا ہوتا تب تو اس کے معنی اور اس کی اصل کی جستجو کی ایک خاص اہمیت تھی۔ لیکن یہ نام، جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔ عرب کے اہل کتاب بالخصوص نصاری کا اختیار کردہ ہے۔ قرآن نے اسی کو اختیار کرلیا ہے۔ دورِ حاضر کے بعض محققین کی رائے میں رقیم وہی شہر ہے جسے پیٹرا کے نام سے شہر ملی اور عرب اسے بطرا کے نام سے جانتے ہیں۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب کہ کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش اور ہمارے اس معاملے میں ہماری لیے رہنمائی کا سامان فرما

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ " رشد " کا مفہوم : " رشد " کے معنی ہیں اس نے ہدایت اور استقامت پائی۔ رَشِدَ امرہ کے معنی ہوں گے س نے اپنے معاملے میں ہدایت پائی وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ کا مفہوم ہوگا کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے اس راہ میں جو ہم نے اختیار کی ہے تو رہنمائی اور استقامت کا بدرقہ مہیا فرما۔ نوجوانوں کی دعا : یہ وہ دعا ہے جو ان نوجوانوں نے اس وقت کی ہے جب انہوں نے غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا ہے آیات کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ نوجوان لوگ تھے۔ نوجوانوں میں جب ایک مرتبہ حق کی حمیت جاگ پڑتی ہے تو پھر نہ وہ مصالح کی پروا کرتی ہے اور نہ خطرات کی۔ لیکن ان لوگوں کے اندر صرف جوانی کا جوش ہی نہیں تھا بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی حکمت کا نور بھی تھا۔ اس وجہ سے اس نازک مرحلہ میں انہوں نے اللہ سے رہنمائی اور استقامت کی دعا کی اور یہی بات اہل ایمان کے شایان شان ہے۔ سرگزشت کا خلاصہ بطور تمہید : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی دو آیتیں اصل سرگزشت کے خلاصہ کے طور پر ہیں جن میں پہلے اجمال کے ساتھ سرگزشت قاری کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس کے بعد پوری سرگزشت تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گی۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا یہ طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مدعا نگاہ کے سامنے رہتا ہے۔ دوسری ضمنی باتیں اس کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتیں سرگزشتوں کے بیان میں یہ طریقہ قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے۔
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر کئی برس کے لیے تھپک دیا

فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا۔ " ضرب علی الاذان " کا مفہوم : " ضرب علی الاذان " کے لفظی معنی کانوں پر ٹھپہ لگانے یا تھپکنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ محاورہ کسی کو سننے سے روک دینے یا پیار و شفقت سے سلا دینے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو جب سلاتے ہیں تو اس کے کانوں پر تھپکتے ہیں۔ غار میں پناہ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان پر کوئی سالوں کے لیے نہایت آرام و سکون کی نیند طاری کردی۔ نیند کے لیے یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال ہوئے ہیں اور پیار کے ساتھ سلانے کے لیے یہ نہایت بلیغ استعارہ ہے۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو زیادہ صحیح شمار میں رکھنے والا نکلتا ہے

ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا۔ " لنعلم " پر " ل " غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور " نعلم " کے معنی یہاں دیکھنے اور جانچنے کے ہیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس طویل نیند کے بعد پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ بات اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ دو گروہ ہو کر آپس میں اس سوال پر بحث کریں کہ اس حالت خواب میں وہ کتنی مدت رہے ؟ کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ۔ اس طرح ہم ان کو جانچ لیں گے کہ اس مدت کا ان میں سے کوئی گروہ اندازہ کرسکا اور بالآخر یہ بات واضح ہوجائے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کا اندازہ نہ کرسکا۔ نیز ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہی حال برزخی زندگی کا ہوگا۔ اس کی مدت کا بھی کسی کو احساس نہیں ہوگا۔ ہر شخص اٹھنے پر یہی گمان کرے گا کہ بس ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ آگے آیت 19 میں یہ مضمون مزید وضاحت سے آ رہا ہے وہاں اس کے تمام مخفی گوشے سامنے آجائیں گے۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم تمہیں ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں مزید افزونی عطا فرمائی

اجمال کے بعد تفصیل بالحق کا مفہوم : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى۔ اب یہ اجمال کے بعد ان کی سرگزشت کی تفسیل سنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ " بالحق " کی قید ایک تو اس حقیقت کو ظاہر کررہی ہے کہ ان لوگوں کی نسبت جو روایات ان کے نام لیواؤں میں معروف تھیں قرآن نے ان سے غض بصر کرکے واقعہ کی اصل صورت پیش کی ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کے سامنے دوسروں کی طرح محض داستان سرائی نہیں ہے بلکہ اصل مقصود اس حکمت و موعظت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے جو اس سرگزشت کے اندر مضمر ہے فرمایا کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کی نگہداشت کی جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت میں افزونی عطا فرمائی۔ اس افزونی کا ظہور کس شکل میں ہوا ؟ اس کا بیان آگے والی آیت میں آ رہا ہے۔ یہاں " فتیۃ " کے لفظ پر نظر رہے۔ قرآن نے ان لوگوں کا جوانوں کے طبقہ سے ہونا ظاہر کرکے وقت کے نوجوانوں بالخصوص آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے نوجوانوں کو توجہ دلادی کہ وہ اس سرگزشت سے سبق حاصل کریں اور انہی کی طرح دعوت حق کی راہ میں بےپروا ہو کر چل کھڑے ہوں۔ خدا ہر مرحلہ میں ان کا ناصر و مددگار ہوگا۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا جب کہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم یہ حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات کہیں گے

وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا " ربط اللہ علی قلبہ " کے معنی ہوں گے خدا نے اس کے دل کو قوت و عزیمت دے دی۔ " سط " کے معنی دور ہونے اور " شطط " کے معنی تباعد عن الحق، یعنی حق سے انحراف اور دوری کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہرچند حالات بہت ہی سخت تھے۔ کلمہ حق کی دعوت دینا بڑا جان جوکھم کا کام تھا لیکن ان نوجوانوں کے ایمان میں خدا نے برکت دی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ صرف اپنے ہی ایمان پر قانع ہو کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ہر قسم کے خطرات سے بےپروا ہو کر دعوت توحید کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، جب اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور انہوں نے اپنی قوم میں عام منادی کردی کہ ہمارا رب صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اس کے سوا ہم کسی اور کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو رب مانیں گے تو ہماری یہ حرکت نہایت بےجا اور حق سے بہت دور ہٹی ہوئی ہوگی۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان کے حق میں واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ! تو ان سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھیں

قوم کو چیلنج : هَؤُلاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَوْلا يَأْتُونَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا۔ " قوم " سے مراد یہاں " رقیم " کے لوگ ہیں۔ یہ ان حق پرست نوجوانوں کا اپنی پوری قوم کے لیے ایک چیلنج ہے اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ھؤلاء کا لفظ جس انداز سے استعمال ہوا ہے اس سے ایک قسم کی حقارت کا بھی اظہار ہورہا ہے۔ پھر غائب کے صیغوں میں بھی حقارت مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کردیا کہ یہ ہماری قوم کے بدھوؤں نے اللہ کے سوا جو اور معبود بنا رکھے ہیں تو یہ اپنے ان معبودوں کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ آخر اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو خدا کے اوپر بہتان تراشے ! !
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور اب کہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو، جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں، چھوڑ کر الگ ہوگئے ہو تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور تمہارے اس مرحلہ میں تمہاری مایحتاج مہیا فرمائے گا

وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا مرفق اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کی ضرورت اور منفعت کی ہو وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا، یعنی اس مرحلہ میں جس چیز کے تم محتاج ہوگے اللہ تعالیٰ وہ تمہارے لیے مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی بشارت : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے بشارت ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کلام کا اتنا حصہ حذف ہے جو سیاق کلام سے خود واضح ہے یعنی بالآخر ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کش مکش اتنی بڑھ گئی کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ لوگ ان کو، جیسا کہ آیت 20 سے واضح ہوتا ہے، سنگسار کردیں گے۔ اس وقت ان لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک خاص غار میں جو پہلے سے انہوں نے منتخب کرلیا تھا، پناہ گزیں ہوجائیں گے۔ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی وحی کے ذریعہ سے بشارت دی کہ اب جب کہ تم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اپنے منتخب کردہ غار میں پناہ گیر ہوجاؤ۔ تمہار رب تمہارے لیے اپنے فضل و رحمت کا دامن پھیلائے اور تمہاری تمام ضروریات کا سامان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بس یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمت کرکے اس کی راہ پر چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جب وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آگے کی منزل کے لیے زاد و راحلہ وہ خود فراہم کرتا ہے۔ من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ ایک شبہ کا ازالہ : ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوا پیدا ہو کہ کیا یہ لوگ صاحب وحی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کے ذریعہ سے بشارت دی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وحی اسی قسم کی وحی تھی جس کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ کی والدہ کو یہ ہدایت ہوئی کہ وہ بچہ کو ایک صندوق میں رکھ کے دریا میں ڈال دیں۔ ترک دنیا کے حق میں ارباب تصوف کا غلط استدلال : اس واقعہ سے بعض صوفی حضرات نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کی زندگی کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اس غار میں پناہ اس وقت لی ہے جب وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے لیے جان بازی کھیل کر اپنی قوم کے ہاتھوں سنگسار کردیے جانے کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں۔ مرحلہ بعینہ وہی مرحلہ ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ کو پیش آیا اور آپ کو غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔ ان لوگوں نے یہ غار نشینی رہبانیت کے لیے نہیں اختیار کی تھی بلکہ عدائے حق کے شر سے اپنی جانیں بچانے کے لیے اختیار کی تھی۔ مفسرین کی ایک غلط فہمی : عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس آیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے مفہوم میں نہیں لیا ہے بلکہ اس کو خود اصحاب الکہف کا قول سمجھا ہے کہ انہوں نے آپس میں اپنے ساتھیوں سے یہ بات کہی، لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آیت میں جس قطعیت کے ساتھ اللہ کی مدد و نصرت کا وعدہ ہے، کوئی متواضع بندہ اس قطعیت کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ سکتا۔ کوئی متواضع بندہ اس طرح کی بات کہے گا تو امید و رجا اور دعا ہی کے الفاظ میں کہے گا۔ چناچہ آیت 10 میں ان لوگوں کی دعا کا حوالہ بھی ہے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور تم دیکھے سورج کو کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کے صحین میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے تو تم اس کے لیے کوئی دستگیری کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا نہیں پا سکتے

وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا تز اور اصل میں تتز اور ہے۔ اس کے معنی ہٹ جانے، کترا جانے اور منحرف ہوجانے کے ہیں۔ تقرضہم قرض کے معنی کاٹنے اور کترانے کے ہیں۔ اسی سے " قرض المکان " کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی ہیں اس جگہ سے ہٹ گیا، کترا گیا، گریز کر گیا۔ فجوۃ دو چیزوں کے درمیان خلاء شگاف اور گوشہ کو کہتے ہیں یہیں سے اس کا اطلاق مکان کے صحن پر بھی ہوتا ہے۔ غار میں ضروریات زندگی کا غیبی اہتمام : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے غار میں جن ضروریات و مرافق کے مہیا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اب یہ ان کا بیان ہو رہا ہے کہ اگر تو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں کو بچتا ہوا طلوع ہوتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں کو کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ اس غار کے صحن میں آرام کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غار کا دہانہ اس طرح واقع ہوا تھا کہ اس کے اندر ہوا، روشنی اور حرارت، جو زندگی کی ضروریات میں سے ہیں۔ باسانی پہنچتی تھیں۔ لیکن آفتاب کی تمازت اس کے اندر راہ نہیں پاتی تھی۔ ہمارے مفسرین نے غار اور اس کے دہانے کی سمت و جہت متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیکی یہ کاوش غیر ضروری ہے۔ اس کی مختلف شکلیں فرض کی جاسکتی ہیں لیکن ان میں سے کسی کے متعلق جزم کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ صحیح بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتا دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے اپنی تدبیر و کارسازی سے اپنے بندوں کے لیے ایک ایسا غار مہیا فرما دیا جہاں بغیر کسی کاوش کے ان کے لیے ساری ضروریات زندگی فراہم تھیں اور معلوم ہوتا کہ سورج بھی ان کے پاس سے گزرتا ہے تو ادب و احترام سے گزرتا ہے کہ ان کی خدمت کی انجام دہی کا شرف تو حاصل ہو لیکن ان کے آرادم و سکون میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ ایک تنبیہ : ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ الایۃ اسی آیات الٰہی کے تعلق سے یہ تذکیر فرما دی کہ جہاں تک اللہ کی نشانیوں کا تعلق ہے۔ ایک سے ایک بڑی نشانی موجود ہے۔ لیکن نشانیوں سے رہنمائی وہی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ توفیق بخشتا ہے۔ جو اس توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں، کوئی دوسرا ان کا کارساز و رہنما نہیں بن سکتا۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو جاگتا گمان کرتے حالانکہ وہ سو رہے ہوتے اور ہم ان کو داہنے بائیں کروٹیں بھی بدلواتے اور ان کا کتا دونوں ہاتھ پھیلائے دہلیز پر ہوتا، اگر تمہاری نظر ان پر پڑجاتی تو تم وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتی

وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا حفاظت کے لیے انتظام : یہ وہ انتظام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لیے فرمایا کہ باوجودیکہ وہ غار میں محو خواب تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ اگر اتفاق سے کوئی ان کو دیکھ پاتا تو یہ گمان نہ کرتا کہ وہ سو رہے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھتا کہ جاگ رہے ہیں۔ یعنی ان کو سوتا اور بیخبر سمجھ کر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کرسکتا بلکہ ان کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار و ہوشیار خیال کرتا۔ ان کے سونے کی ہیئت ایسی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ ذرا دم لینے کے لیے بس لیٹ گئے ہیں۔ ایسی نہیں کہ دیھئے والا سمجھے کہ انٹاغفیل پڑ کر سو رہے ہیں۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ۔ فرمایا کہ ہم ان کو دہنے بائیں کروٹ بھی بدلواتے رہتے تھے۔ یہ کروٹ صحت جسمانی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک ہی ہیئت پر پڑے پڑے جسم اکڑ نہ جائے۔ نیز یہ لوگ زمین پر ایک طویل وقفہ کے لیے سوئے تھے اگر ایک ہی کروٹ پر عرصہ تک پڑے رہتے تو یہ اندیشہ تھا کہ زمین ان کے جسم کو نقصان پہنچا دے۔ اس لیے جس طرح ایک شفیق ماں گہوارے میں لیٹے ہوئے بچے کے پہلو بدلتی رہتی ہے اسی طرح قدرت ان کے پہلو بھی بدلواتی رہتی تھی۔ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ۔ یہ بھی اسی حفاظتی انتظام کے سلسلہ کی بات ہے کہ ان کا وفادار کتا غار کے دہانے پر اپنے دونون ہاتھ پھیلائے اس طرح بیٹھا رہا کہ گویا پہرہ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کتا بھی اس دوران میں برابر سوتا ہی رہا۔ لیکن اس کے سونے کی ہیئت وہ نہیں تھی جو عام طور پر کتوں کے سونے کی ہوتی ہے بلکہ وہ تھی جو ڈیوڑھی پہردہ دینے والے کتے کی ہوتی ہے۔ یہ انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یا عام قسم کا جنگلی جانور غار میں گھسنے کی جرات نہ کرے۔ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا۔ ظاہر ہے کہ اگر اس طرح کے کسی منظر پر اتفاق سے کسی کی نظر پڑجائے تو وہ دہشت زدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔ وہ ششدر رہ جائے گا کہ آخر پہاڑوں کے بیچ میں، ایک غار کے اندر یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ انہیں بھلے آدمی سمجھے یا برے، چور اور ڈاکو خیال کرے یا راہب اور سنیاسی، آسمانی مخلوق خیال کرے یا ارضی، انسان خیال کرے یا جنات و ملائکہ، بہرحال اس پر اس حالت سے ایک انجانے قسم کا خوف ضرور طاری ہوگا۔ یہ خوف کی فضا وہاں قدرت نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے پیدا کردی تھی۔ دنیا کے حکمران خاردار تاروں سے محفوف محلوں میں سوتے ہیں اور مسلح سپاہی ان کا پہرہ دیتے ہیں لیکن ان کی جان کو امان نہیں۔ اللہ کے بندے غاروں اور جنگلوں میں ستے ہیں اور مجال نہیں کہ کوئی پرندہ وہاں پر مار سکے۔
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا، تم یہاں کتنا ٹھہرے ہوگے ؟ وہ بولے ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھہرے ہوں گے۔ بولے تمہاری مدت قیام کو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ پس اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ رقم دے کر شہر بھیجو تو وہ اچھی طرح دیکھ لے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لائے اور چاہیے کہ وہ دبے پاؤں جائے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے

وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا۔ کارسازی کی ایک اور نشانی : " وکذلک " یعنی ان کے معاملہ میں جس طرح اپنی کارسازی کی وہ شان ہم نے دکھائی جو اوپر مذکور ہوئی اسی طرح اپنی یہ شان بھی دکھائی کہ ان کو اس نیند سے بیدار کیا کہ ان کے اندر باہم اس امر میں سوال و جواب ہو کر یہ خواب کی حالت ان پر کتنی مدت طاری رہی اور بالآخر ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیں، صرف اللہ ہی اس مدت سے واقف ہے۔ چناچہ ان میں سے ایک صاحب نے ساتھیوں سے سوال کی کہ بھلا اس حال میں تم نے کتنے دن گزارے ہوں گے ؟ ساتھیوں نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ بالآخر اتفاق اس بات پر ہوا کہ اس مدت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے اس وجہ سے اس سوال پر غور کرنا بےسود ہے۔ البتہ یہ کرو کہ اپنے میں سے کسی کو یہ رقم دے کر شہر بھیجو، وہ پہلے تحقیق کرلے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے وہ کچھ کھانے کو لائے اور خبردار ! وہ دبے پاؤں جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے د۔ اصحاب کہف کی مدت قیام کے بارے میں باہمی سوال و جواب : یہی وہ سوال و جواب ہے جس کا اور آیات 12 میں اجمالاً حوالہ ہے۔ یہاں اس کی تفصیل ہوگئی جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ سوال و جواب انہی لوگوں کے درمیان ہوا۔ یہاں بھی لیتساء لوا پر " ل " غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ان کا یہ اٹھایا جانا اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ آپس میں سونے کی مدت سے متعلق سوال و جواب کریں اور یہ حقیقت ان پر واضح ہوجائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیںٰ اور یہیں سے ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجائے کہ مرنے کے بعد برزخ کی زندگی کا بھی یہی حال ہوگا۔ قیامت کو جب لوگ اٹھیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ اس حالت میں وہ ایک دن یا اس سے بھی کم رہے۔ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا، ایہا یعنی ای اطراف المدینۃ یا ای نواحی المدینۃ اور ازکی سے پاکیزہ کھانا مراد ہے۔ احتیاط کے ساتھ تحقیق کی تاکید : ان لوگوں نے جس وقت غار میں پناہ لی اس وقت شرک و کفر کے غلبہ کے سبب سے ان کی قوم میں حرام و حلال کی تمیز نہیں تھی اس وجہ سے ان لوگوں نے اس بات کی خاص طور پر تاکید کی کہ کھانا لانے والا اس امر کی اچھی طرح تحقیق کرلے کہ شہر کے کس حصہ میں نسبتاً زیادہ پاکیزہ کھانا ملنے کی توقع ہے۔ رقیم میں آخر کچھ اہل کتاب بھی تو رہے ہوں گے۔ اس وجہ سے توقع تھی کہ ان کے ہاں حرام و حلال کی تمیز ہوگی لیکن اس تحقیق میں یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں بات کھل نہ جائے۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ تاکید بھی کردی کہ پوری احتیاط ملحوظ رہے، کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔ تلطف ؛ کے معنی کسی کام کو زیرکی، ہوشیاری اور احتیاط سے ڈرتے ڈرتے کرنے کے ہیں۔ آیت میں لفظ ورق کا ترجمہ عام طور لوگوں نے سکہ یا روپیہ کیا ہے لیکن ہم نے رقم کیا ہے اس لیے کہ ورق کے معنی چاندی کے ہیں اور یہ بجائے خود بھی سکہ کے قائم مقام ہوسکتی ہے اس وجہ سے ہم نے ایسا لفظ اختیار کیا ہے جس کا الطاق مسکوک اور غیر مسکوک دونوں پر ہوسکتا ہے۔
Ayah 18:20

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری خبر پا جائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں اپنی ملت میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی فلاح نہ پاسکوگے

إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا۔ اس سے اس اندیشہ کا اظہار ہوتا ہے جس کی بنا پر احتیاط اور راز داری کی تاکید کی گئی۔ جس زمانے میں ان لوگوں نے غار میں پناہ لی ہے اہل حق پر ظلم و تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ان لوگوں نے سنگسار کردیے جانے کے اندیشے سے یہ پناہ ڈھونڈی تھی۔ اسی اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فرایا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔ پہلے تو کسی نہ کسی بچ نکلے لیکن اب اگر پا گئے تو یا تو سنگسار کردیں گے یا مرتد کرکے چھوڑیں گے۔ پھر کسی طرح بھی ان سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے وہ وقت بھی خیال کرو جب لوگ آپس میں ان کے معاملے میں جھگڑ رہے تھے تو بولے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنوا دو۔ ان کا رب ان کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غالب آئے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے غار پر ایک مسجد بنائیں گے

وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا اس کذلک کا عطف اوپر والے کذلک پر ہے یعنی جس طرح ہم نے وہ شان دکھائی اسی طرح ہم نے یہ شان بھی دکھائی کہ لوگوں کو ان سے باخبر کردیا۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ لوگ ان سے کس طرح آگاہ ہوئے۔ ہوسکتا ہے جو صاحب کھانا لینے کے لیے بازار گئے۔ انہی کو دیکھ کر بعض زیرک لوگوں نے تاڑ لیا ہو اور پھر ان کا سراغ لگانے کے رپے ہوگئے ہوں اور اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی رسائی غار تک ہوگئی ہو۔ غور کرنے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب کہف کو جب یہ اندازہ ہوگیا کہ ان کی سن گن کچھ باہر پہنچ چکی ہے تو وہ پنے غار میں معتکف ہوگئے اور اسی حال میں اللہ نے ان کو وفات دے دی۔ لوگوں کو ان کی پوری پوری اطلاع ان کی وفات کے بعد ہی ہوئی۔ واقعہ میں قیامت کے باب میں شہادت : لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيهَا۔ یعنی اللہ نے لوگوں کو ان کے حال سے اس لیے آگاہ کیا کہ یہ اس بات کی نشانی ہو کہ اللہ کا وعدہ قیامت شدنی ہے اور اس کے ظہور میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قیامت کے باب میں منکرین کو سب سے بڑا شبہ یہی پیش آتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بہت ہی مستبعد سمجھتے ہیں۔ اصحاب کہف کے واقعہ نے اس استبعاد کو رفع کرنے کے لیے ایک تازہ شہادت پیش کردی کہ ایک مدت تک سوتے رہنے کے بعد وہ اپنے رب کے حکم سے پھر اٹھ بیٹھے۔ قرائن اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کو ان کے غار سے آگاہ فرمایا اسی طرح اس بات سے بھی آگاہ فرمادیا کہ ان لوگوں کی زندگی غار میں کس طرح گزری۔ اگرچہ آیت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ لوگوں کو یہ بات معلوم تھی اور درحقیقت یہی چیز تھی جس کے سبب سے ان کی زندگی لوگوں کی نگاہوں میں ایک اعجوبہ بنی اور مرنے کے بعد یہ خلق کے مرجع عقیدت بن گئے۔ ہوسکتا ہے کہ جس زمانے میں لوگوں نے ان کی ٹہ نکالنے کی کوشش کی ہے اسی زمانے میں یہ راز بھی کھلا ہو اور بعد میں اس کا علم عام ہوگیا ہو اور پھر اس کی روایت نے تواتر کی حیثیت حاصل کرلی ہو۔ إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا۔ اصحاب کہف کی وفات کے بعد قوم کا انقلاب : اب یہ قرآن نے اس انقلاب حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوا کہ ایک دن تو وہ تھا کہ یہ بےچارے سنگ سار کردیے جانے کے ڈر سے ایک غار میں چھپے یا وہ دن آیا کہ لوگ ان کے ساتھ نسبت حاصل کرنے کے لیے آپس میں جھگڑنے لگے۔ ظاہر ہے کہ یہ تنازع مختلف گروہوں، فرقوں اور خاندانوں میں واقع ہوا ہوگا۔ اور اس لیے ہوا ہوگا کہ ہر ایک ان کو اپنے گوہ، اپنے فرقے اور اپنے مسلک و عقیدہ کے ساتھ منسوب کرنے کا خواہش مند رہا ہوگا۔ اہل حق کے ساتھ اس ظالم دنیا نے ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے۔ زندگی میں تو ان کو لوگوں کے پتھر کھانے پڑے لیکن مرنے کے بعد ان کے بت پوجے گئے۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی مرنے کے بعد یہی ہوا کہ مختف گروہ اور فرقے ان کے ساتھ قرب کے مدعی بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہوئی کہ ان کے مزہب و مسلک کا معاملہ تو اللہ کے حوالے کیا جائے البتہ ان کی یادگار میں ان کے غار پر ایک عمارت بنا دی جائے۔ یکن دوسرے گروہ نے جس کو اکثریت حاصل تھی۔ کہا کہ ہم ان کی یادگار میں ایک مسجد بنائیں گے اور اسی گروہ کی رائے غالب رہی۔ اس سے اس انقلاب حال کا کچھ اندازہ ہوتا ہے جو ان جانبازوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں برپا ہوا کہ ملک میں ان لوگوں نے اکثریت حاصل کرلی جو موحد اور خدا پرست تھے۔ دوسرے لوگ جو موحد اور خدا پرست نہیں تھے ان کے اندر بھی اتنی تبدیلی اور رواداری واقع ہوگئی کہ اصحاب کہف کی یاد گار قائم کرنے کی سعادت وہ بھی حاصل کرنے کے متمنی ہوئے۔ بارگاہ میں مسجد کی تعمیر : " ربہم اعلم بہم " میں ہمارے نزدیک عربیت کے معروف قاعدہ کے مطابق ایک مضاف محذوف ہے یعنی اعلم بدینہم معلوم ہوتا ہے اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ ان کے دین و عقیدہ کی بحث نہ چھیڑی جائے بلکہ قوم کے متف علیہ بزرگوں اور پیشواؤں کی حیثیت سے ان کی یادگار میں ان کے غار پر ایک ہیکل کی تعمیر کی جائے لیکن دوسرے گروہ نے یہ تجویز قبول نہیں کی بلکہ اس نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی رائے غالب رہی۔ علیہم مسجدا میں بھی ہمارے نزدیک ایک مضاف محذوف ہے یعنی " علی کہفہم "۔ قرآن مجید نے لوگوں کی یادگار کو مسجد سے تعبیر کرکے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ یہ موحد اور خدا پرست لوگ تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے خدا کی عبادت کا گھر بنایا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہود اور نصاری کے عبادت خانے اصلاً مسجد ہی تھے۔ ان میں خرابی تو اس وقت سے پیدا ہوئی ہے جب ان قوموں نے مشرکانہ عقائد اختیار کیے اور اپنے معبدوں کو شرک سے آلودہ کیا۔ یاد ہوگا قرآن نے یہود اور نصاری کے " صوامع " اور " بیع " کو مسجد ہی کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو سورة حج
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب یہ کہیں گے یہ تین تھے، ان کا چوتھا ان کا کتا تھا اور کہیں گے یہ پانچ تھے ان کا چھٹا ان کا کتا تھا۔ کہہ دو میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کو بس تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں اور تم ان کے باب میں نہ بحث کرو مگر ٹالنے کے انداز میں اور ان کے باب میں ان میں سے کسی سے نہ پوچھو

سَيَقُولُونَ ثَلاثَةٌ رَابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلا قَلِيلٌ فَلا تُمَارِ فِيهِمْ إِلا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا فضول سوالات سے گریز کی ہدایت : اب یہ ایک جملہ معترضہ کے طور پر نبی ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اصحاب کہف کی اصل حقیقت تو یہی ہے جو تمہیں سنا دی گئی لیکن یہ نہ سمجھو کہ یہ سوال کرنے والے اس سے مطمئن ہوجائیں گے اور ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں گے بلکہ اب کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ یہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا۔ فرمایا کہ یہ ساری باتیں " رجما بالغیت " یعنی محض اٹکل پچو ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ علاوہ ازیں کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ تم اس سے کہہ دو کہ میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کی تعداد سے صرف تھوڑے ہی لوگ واقف ہیں۔ فَلا تُمَارِ فِيهِمْ إِلا مِرَاءً ظَاهِرًا۔ ممارات کے معنی بحث و مناظرہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر لوگ تمہارے سامنے اس طرح کے سوالات لے کر آئیں اور تم سے بحث وجدال کرنا چاہیں تو ان سے نہ الجھنا بلکہ سرسری طور پر بات کرکے ان کو ٹال دینے کی کوشش کرنا۔ اب اصحاب کہف کے باب میں کسی سے کچھ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں جب ان کی اصل سرگزشت اللہ نے بیان کردی تو اللہ سے زیادہ کون جاننے والا ہے جس سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جن لوگوں کو بحث و مناظرہ کا روگ لگ جاتا ہے ان کو اصل حقیقت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کے مناظرہ کی ایک راہ بند کیجیے تو وہ کوئی دوسری راہ نکال لیں گے اس وجہ سے کسی دانش مند کے لیے یہ زیبا نہیں کہ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے درپے ہو۔ ایسے لوگوں سے جان چھڑانے ہی میں خیر ہے۔ ان کے ساتھ سنجیدہ ہو کر بحث کرنے کی بجائے ان کو خوبصورتی سے ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بعض اہل تاویل نے اصحاب کہف کی تعداد سے متعلق آخری قول کو اقرب الی الصواب قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پہلو دو قولوں کو تو قرآن نے صاف رجما بالغیب قرار دیا ہے لیکن تیسرے قول سے متعلق کوئی اس طرح کی بات نہیں فرمائی ہے۔ یہ استنباط قرین صواب ہے لیکن ان کی تعداد سے متعلق ہمارا قول وہی ہے جو قرآن نے بتایا ہے قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلا قَلِيلٌ۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی امر کے لیے یوں نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب تم بھول جایا کرو تو اپنے رب کو یاد کرو اور کہو کہ امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے

تفسیر آیت 23 تا 24: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا (23)إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لأقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا (24)۔ وعدہ مشروط بمشیت الٰہی کیا جائے : اسی ذیل میں نبی ﷺ کو یہ ہدایت بھی فرما دی کہ کسی امر میں یوں غیر مشروط وعدہ نہ کرلیا کرو کہ میں یہ کام کل کردوں گا۔ اس ہدایت کی ضرورت غالبا یوں پیش آئی کہ اصحاب کہف کے متعلق جب پوچھنے والوں نے پوچھا ہوگا تو آپ نے یہ وعدہ کرلیا ہوگا کہ میں اس کا جواب کل دے دوں گا۔ اس قسم کے سوالات، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آپ سے امتحانا کیے جاتے تھے اس وجہ سے فطری طور پر آپ کی یہ خواہش ہوتی کہ ان کا جواب جلد دیا جائے اور آپ وحی کی رہنمائی کے بھروسہ پر وعدہ کربیٹھتے۔ جہاں تک جواب جلد دینے کی خواہش کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ کے دل کے اندر اپنی دعوت کی سربلندی کی جو شدید آرزو تھی اس کی وجہ سے آپ یہ چاہتے تھے کہ معترضین و مخالفین کے ہر سوال و اعتراض کا جواب فوراً دیا جائے تاکہ اپنی طرف سے ان کے لیے قبول حق میں کوئی عذر باقی نہ رہے لیکن اس معاملہ کا ایک اور پہلو بھی تھا جو نظر انداز ہوگیا تھا وہ یہ کہ بسا اوقات حکمت الٰہی کا تقاضا کسی سوال سے متعلق یہ ہوتا ہے کہ اس کا جواب نہ دیا جائے یا جواب تو دیا جائے لیکن فوراً نہ دیا جائے۔ اس وجہ سے نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ وحی کے بھروسہ پر کوئی غیر مشروط وعدہ کر بیٹھے بلکہ اس کو ہر وعدہ خدا کی مشیت کی شرط کے ساتھ کرنا چاہیے اور اگر کبھی بھول چوک ہوجائے تو یاد آنے پر اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے اور جن سے وعدہ ہوا ہے ان سے کہ ان چاہی کہ کیا عجب کہ میرا رب موعودہ مدت سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمادے۔
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو سال مزید برآں

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔ آیت 25 کا تعلق اوپر کے الفاظ سے : آیت 22 سے جو جملہ معترضہ شروع ہوا تھا وہ آیت 24 پر ختم ہوا۔ اب یہ آیت انہی اقوال سے متعلق ہے جو اوپر اصحابِ کہف کی تعداد سے متعلق نقل ہوئے ہیں۔ یعنی جس طرح وہ ان کی تعداد کے بارے میں یہ کہیں گے اسی طرح غار میں ان کی مدت قیام سے متعلق دعوی کریں گے کہ وہ غار میں تین سو سال اور مزید برآں نو سال رہے۔ عام طور پر لوگوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر کے مفہوم میں لیا ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کی مدت قیام کے باب میں قرآن نے کوئی قطعی بات نہیں کہی ہے۔ آیت 11 میں سنین عددا کے الفاظ ہیں۔ وہ اس بات پر تو ضور دلیل ہیں کہ یہ لوگ غار میں کئی سال رہے لیکن تین سو نو سال کی مدت کی تعبیر کے لیے، عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ الفاظ بالکل ناموزوں ہیں۔ پھر اس کے بعد کی آیت قل اللہ اعلم بما لبثوا اس مطلب سے بالکل ابا کرتی ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ وہ تین سو نو سال غار میں رہے تو پھر یہ کہنے کے کیا معنی کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کی مدت قیام کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں اس تاویل میں منفرد ہوں۔ متعدد دوسرے ائمہ تفسیر کی رائے بھی یہی ہے۔ والعلم عند اللہ۔