Ayah 18:1اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ۔ سابق سورة بنی اسرائیل جس مضمون پر ختم ہوئی تھی (ملاحظہ ہوں آیات 105 تا 111) اسی مضمون سے اس سورة کا آغاز فرمایا۔ قرآن کی صورت میں جو نعمت عظمی اہل عرب پر نازل ہوئی تھی یہ اس کے حق کا اظہار ہے کہ یہ نعمت شکر کی موجب ہونی چاہیے نہ کہ کفر کی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی ناقدری کریں اور اس کی تکذیب کے لیے نت نئے بہانے تلاش کریں۔
قرآن کی سنت : وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا۔ قَيِّمًا، یہ اس کتاب کی صفت ہے کہ اس کتاب میں خدا نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ نہ بیان کے اعتبار سے نہ معنی کے اعتبار سے۔ زبان اس کی عربی مبین ہے اور رہنمائی اس کی اس صراط مستقیم کی طرف ہے جس کے مستقیم ہونے کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور قرآن نے ان کو اتنے گوناگون طریقوں سے بیان کردیا ہے کہ کوئی عقل سے کام لینے والا ان کے سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا۔ صرف وہی ان سے محروم رہیں گے جو عقل سے کام نہیں لے رہے۔ قرآن کی یہی صفت سورة بنی اسرائیل میں بھی بیان ہوئی ہے۔ " ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوم : بیشک یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے "۔
Ayah 18:2قرآن کا مقصد:
لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ : یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار و ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں " للکافرین " یا " للمکذبین " محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں " مومنین " موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کررہا ہے۔ فعل " ینذر " کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور " عبد " یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کردے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا رسول لوگوں کو خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب شدید سے متنبہ کردے۔ پہلی صورت میں " من لدنہ " کا لفظ اہتمام و عنایت پر دلیل ہوگا کہ اس مقصد کے لیے خدا نے خاص اپنے پاس اور اپنی نگرانی میں انتظام فرمایا۔ دوسری صورت میں اس سے عذاب کی شدت کا اظہار ہوگا کہ یہ عذاب کوئی ایسا ویسا عذاب نہیں ہوگا بلکہ قہر الٰہی ہوگا جس سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکے گا۔
Ayah 18:3مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا : اس " اجر حسن " میں ہمیشہ رہیں گے یعنی اس بہشت میں ہمیشہ رہیں گے جو اس " اجر حسن " کے ثمرہ اور نتیجہ کے طور پر حاصل ہوگی۔ شے کو بول کر اس سے اس کے نتیجہ کو مراد لینا عربیت کا ایک معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
Ayah 18:4وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ یعنی خاص طور پر ان لوگوں کو آگاہ کردے جو خدا کے لیے اولاد فرض کر کے ان کی عبادت میں لگے ہوئے اور ان کی شفاعت کے اعتماد پر خدا سے بالکل مستغنی ہو بیٹھے ہیں۔ اس سے مراد مشرکین عرب بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاری حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔
Ayah 18:5مشرکین کی اندھی تقلید : مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلا لآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلا كَذِبًا۔ علم سے مراد یہاں دلیل وبرہان ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں فرض کرکے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے یہ افسانہ محض اپنے جی سے گھڑا ہے۔ نہ خدا نے کہیں یہ بات کہی ہے ورنہ ان بوالفضولوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ یہ اپنے جن آباء و اجداد کی تقلید میں یہ حماقت کررہے ہیں ان کے پاس بھی اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ محض جہالت سے انہوں نے یہ ضلالت اختیار کی اور یہ بھی جہالت ہی سے ان کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہی سنگیں بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت و بہتان اور اس کی غیرت کو چیلنج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی گستاخی سے باز نہ آئے تو عنقریب اپنا حشر دیکھیں گے۔
Ayah 18:6آنحضرت ﷺ کو پر محبت تسلی:
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور تسلی دینے کا انداز بہت پیارا ہے فرمایا کہ تم تو ان کے ایمان کے غم سے اس طرح گھلے جا رہے ہو کہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو ان کے پیچھے تم اپنے آپ کو ہلاک کرکے رہوگے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنے فرض رسالت کی ادائیگی کا احساس کتنا شدید تھا۔ آپ دعوت کے کام کے لیے اپنے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو مبادا اس میں آپ کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس کے باعث آپ کی مشقت اور آپ کے غم دونوں میں برابر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت پر محبت انداز میں ٹوکا کہ اپنی ذمہ داری کے احساس میں اس درجہ غلو صحیح نہیں ہے۔ یہ ناشکرے اور ناقدرے لوگ جو اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ اس کے سمجھنے میں ان کو کوئی دشواری پیش آرہی ہے یا تمہاری طرف سے فرضِ دعوت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہورہی ہے بلکہ اس کا اصل سبب کچھ اور ہے۔
Ayah 18:7منکرین کے انکار کا اصل سبب : إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا۔ یہ ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل وتمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا۔ اس کے مال و اولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں اور چمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بیشمار جانکاہ مصیبتیں نقد نقد اسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا ان کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے لیکن وہ اس عجوزۂ ہزار داماد کو اس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عقل و دل کی آنکھیں اندھی کرلی ہیں اور اپنی خواہشوں کے پرستار بن کے رہ گئے ہیں وہ اس نقد کو آخرت کے نسیہ کے لیے قربان کرنے پر تیار نہیں ہوسکتے۔ اگرچہ اس کے حق ہونے پر اس کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔
Ayah 18:8اس دنیا کا انجام : وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا۔ " جرز " بےآب وگیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بیوقوف لوگ اس زمین کی جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان ساری چیزوں کو مٹا کر اس کو چٹیل اور بےآب وگیاہ میدان کی طرح کردیں گے۔ یہی مضمون آگے آیات 46۔ 48 میں آ رہا ہے وہاں انشاء اللہ اس کی مزید تفصیل ہوگی۔
Ayah 18:9آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 26: اہل کتاب کے القا کیے ہوئے سوالات : قریش جس انداز سے قرآن اور نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے اس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزرا۔ اسی مخالفت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے اہل کتاب جو مختلف قسم کے اینڈے بینڈے سوالات القا کرتے قریش ان کو بھی اٹھا لیتے اور آپ سے ان کے جواب کا مطالبہ کرتے۔ توح کے متعلق، ذوالقرنین کے متعلق اور اس نوع کے بعض دوسرے سوالات، جن کا قرآن نے حوالہ دیا ہے، اہل کتاب کے اٹھائے ہوئے سوالات تھے۔ اسی نوع کا ایک سوال اصحاب کہف سے متعلق اہل کتاب نے اٹھایا اور ان کے اشارے سے قریش نے اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ یہ غیر متعلق سوالات ظاہر ہے کہ حصول علم اور تحقیق کے مقصد سے نہیں کیے جاتے تھے بلکہ صرف آنحضرت ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے کیے جاتے۔ مقصد مخالفین کا صرف یہ ہوتا کہ اگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو اس جواب نہ دینے کو مخالفت کا بہانہ بنائیں گے کہ دیکھو یہ نبوت کا دعوی کرتے ہیں لیکن ہمارے اس سوال کا جواب نہ دے سکے اور اگر جواب دیا اور کوئی بات ان کے مزعومات کے خلاف ہوئی تو اس کو مخالفت کا بہانہ بنائیں گے کہ دیکھو یہ شخص کیا بےپر کی اڑا رہا ہے۔ اصل بات تو یوں ہے اور یہ اس کے برعکس یوں کہہ رہا ہے۔
قصہ اصحاب کہف کے زیر بحث آنے کی نوعیت : یہ بات کہ اصحابِ کہف کا قصہ یہاں مخالفین کے سوال کے جواب میں زیر بحث آیا ہے خود قرآن سے واضح ہے۔ آگے آیات 22 تا 24 میں یہ بات تصریح سے آئے گی کہ قرآن نے اس قصہ سے تعرض سوال کے جواب میں کیا ہے۔ اس قسم کے سوالوں کے باب میں قرآن نے جو رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی ہے وہ تو، جیسا کہ اگے واضح ہوگا، یہ ہے کہ ان سے تعرض ہی نہ کیا جائے بلکہ ان کو ٹال دیا جائے۔ لیکن کوئی سوال اگر مفید ہوا ہے یا اس کے جواب کو کسی مفید تعلیم کا ذریعہ بنایا جاسکا ہے تو قرآن نے اس کا بقدر ضرورت جواب دے دیا ہے۔ اصحابِ کہف کی زندگی چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لیے، دعوت کے اس پر آزمائش دور میں، نہایت سبق آموز ہوسکتی تھی اس لیے کہ آپ اور آپ کے صحابہ انہی مراحل سے گزر رہے تھے جن سے اصحاب کہف کو گزرنا پڑا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرگزشت کا اتنا حصہ سنا دیا جتنا حق تھا۔ اس طرح گویا سوال کرنے والوں کے سوال کا جواب بھی ہوگیا، ماضی کی ایک پاکیزہ سرگزشت سے پیغمبر اور صحابہ کو صبر و عزیمت کی تعلیم بھی مل گئی اور اہل حق کی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب، جو افسانوں کے حجاب میں گم تھا، ہر قسم کے گردوغبار سے بالکل پاک صاف ہو کر ازسرنو سامنے آگیا۔
اصحابِ کہف کون تھے ؟ اصحابِ کہف کون تھے ؟ ان کا تعلق تاریخ کے کس دور سے ہے اور یہ کن کے اسلاف میں سے ہیں ؟ ان سوالوں کا کوئی قطعی جواب دینا نہایت مشکل ہے۔ ان کے باب میں قطعیت کے ساتھ اتنی ہی بات کہی جاسکتی ہے جتنی قرآن نے بیان کردی ہے۔ باقی جو کچھ ہے اس کی حیثیت محض افسانہ کی ہے۔ قرآن نے ان کی سرگزشت کا صحیح اور سبق آموز حصہ بیان کرکے ان کے باب میں مزید کھوج کرید کرنے سے، جیسا کہ معلوم ہوگا، منع کردیا ہے۔ اس وجہ سے ہم ایک ایسی چیز کے درپے ہونا پسند نہیں کرتے جس سے قرآن نے روکا ہے۔ البتہ قیاسات و قرائن سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ان لوگوں کا تعلق قریش یا یہود کی تاریخ سے نہیں ہے بلکہ نصاریٰ کی تاریخ سے ہے۔ ان کے ہاں ایسی روایات ملتی ہے جو اصحابِ کہف کے واقعہ سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ نصاریٰ اپنی تاریخ کے ابتدائی دور میں، جب دین کی خاطر رومیوں کے ہاتھوں ستائے گئے ہیں، اصحابِ کہف نے دعوت حق کی راہ میں وہ بازی کھیلی ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں نے توحید اور آخرت کی دعوت حق کی راہ میں وہ بازی کھیلی ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں نے توحید اور آخرت کی دعوت پوری بےخوفی سے دی یہاں تک کہ ان کا پورا ماحول ان کا دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا اور خطرہ پیدا ہوگیا کہ مخالفین ان کو سنگسار کردیں گے۔
جب معاملہ اس حد کو پہنچ گیا تو ان لوگوں نے ایک غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس غار میں ان کی حفاظت کے لیے وہ سامان بہم پہنچائے جو صرف اللہ ہی بہم پہنچا سکتا تھا۔ بعد میں جب ان کے حالات لوگوں کے علم میں آئے اور تائید الٰہی کی جو شانیں ان کے لیے ظاہر ہوئیں ان کا چرچا ہوا تو ان کی یادگاریں قائم ہوئیں اور ہر گروہ ان کے ساتھ اپنی نسبت کا دعویٰ کرنے لگا۔ اس طرح نصاریٰ میں ایک مقدس روایت کی حیثیت سے ان کا ذکر باقی رہا لیکن یہ ذکر آہستہ آہستہ بس چند کر امتوں اور چند لاطائل بحثوں تک محدود رہ گیا۔ ان کی زندگی کا اصل کارنامہ نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوگیا۔ اس سوال پر تو ان کے ہاں مناظرے ہوتے کہ ان کی تعداد کیا تھی ؟ ان کا کتا تین کا چوتھا یا پانچ کا چھٹا ؟ لیکن یہ خبر کسی کو نہ تھی کہ ان کی دعوت کیا تھی اور اس دعوت کی راہ میں انہوں نے کیا قربانیاں دیں اور یہ بحثیں بھی غالباً اسی زمانہ تک باقی رہیں جب تک اصل نصرانیت کے کچھ بقایا موجود رہے۔ بعد میں جب پال نے نصرانیت کا حلیہ بالکل بگاڑ ڈالا تو نصاریٰ کے اصل اسلاف کی تمام روایتیں بھی پردۂ خفا میں چھپ گئیں۔ عرب کے نصاری میں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے متعلق کچھ روایات باقی تھیں لیکن بالکل مسخ ہوکر۔ انہی نصاریٰ کی شہ سے یہ سوال آنحضرت ﷺ کے سامنے لایا گیا اور قرآن نے اس لیے اس کا جواب دیا کہ اس سے دعوت کے اس پر آشوب دور میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بڑی تقویت حاصل ہوسکتی تھی۔ جس طرح اصحاب کہف اپنے ماحول میں ہدف مظالم بنے تھے اسی طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بھی قریش کے مظالم کے ہدف تھے اور جس طرح اصحاب کہف کو غار میں پناہ لینی پڑی اسی طرح آپ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے سامنے بھی ہجرت حبشہ، غار ثور اور ہجرتِ مدینہ کے مراحل آنے والے تھے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت کیجیے۔
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا۔
صیغہ واحد کا خطاب جماعت سے : " حَسِبْتَ " کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت ﷺ ہی سے ہو بلکہ " الم تر " کے خطاب کی طرح یہ عام بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے خطاب میں، جیسا کہ ہم پیچھے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ذکر کرچکے ہیں، مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور جمع کے خطاب کے بالمقابل اس میں زیادہ زور ہوتا ہے۔ خود اسی سلسلہ کلام میں آگے متعدد خطابات بصیغۂ واحد ہیں۔ لیکن ان سب میں خطاب آنحضرت ﷺ سے نہیں بلکہ مخاطب کردہ سے ہے۔ مثلاً وتری الشمس آیت 17، لو اطلعت، لولیت، ولملئت،
یہ خطاب سوال کرنے والوں سے ہے : یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے یہ فرمانے کا کیا محل ہے کہ کیا تم اصحابِ کہف و رقیم کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ عجیب چیز خیال کرتے ہو ؟ آنحضرت ﷺ اول تو اس سرگزشت سے واقف ہی نہیں تھے۔ اول اول آپ اس وحی کے ذریعہ ہی سے اس سے واقف ہوئے اور بالفرض آپ کچھ واقف رہے بھی ہوں تو اس میں آپ کے لیے تعجب اور حیرت کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ عجیب سرگزشتیں آپ کو سابق انبیائے کرام کی سنائی جاچکی تھیں۔ پھر آپ کے اصحاب کہف کے معاملہ کو عجیب اور نادر سمجھنے کی کیا وجہ ہوسکتی تھی ! ہمارے نزدیک یہ سوال خطاب کرنے والوں سے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ان کے پیش نظر اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی نظر میں آنحضرت ﷺ اور اور آپ کے صحابہ کی وقعت گھٹائیں کہ ہمارے ہاں تو اصحابِ کہف جیسے اولیائے کبار گزرے ہیں جن کے لیے خدا کی قدرت کی نہایت عظیم شانیں ظاہر ہوئیں تو ہم کسی اور کی ہدایت و رہنمائی کے محتاج کب ہوسکتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے نبی کی ہدایت کے جس کے اندر ہم اس طرح کی کوئی بات بھی نہیں پا رہے ہیں۔ یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ اس دور میں یہود و نصاری دونوں کھلم کھلا یہ بات کہنے لگے تھے کہ جس کو ہدایت کی طلب ہو وہ یہودی بنے یا نصرانی، یہ نیا دین بھلا کیا ہے، اس سے بہتر تو مشرکین ہی کا دین ہے ! سوال اٹھانے والوں کی اس پس پردہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قرآن نے جواب کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ اگر تم اصحابِ کہف کے ماجرے کو بہت عجیب چیز سمجھتے ہو تو یہ بہت عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ خدا کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں، اور آئندہ بھی ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوں گی جن کے لیے خدا چاہے گا۔ یہ نشانیاں خدا کے اختیار میں ہیں۔ ان پر کسی خاص گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔
آیت کے خطاب کے معاملے میں ہماری رائے یہی ہے لیکن کوئی شخص اس کا مخاطب آنحضرت ہی کو قرار دینا چاہے تو اس صورت میں آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ اگر معروف روایات کی بنا پر اصحاب کہف کے ماجرے کو عجیب سمجھتے ہو تو یہ کوئی عجیب چیز نہیں۔ خدا کی اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ظاہر ہوں گی۔ اس میں گویا آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لیے بشارت ہے کہ جس طرح خدا نے پہلے اپنے دین کے علمبرداروں کی حفاظت کے لیے اپنی قدرت کی شانیں ظاہر کی ہیں اسی طرح تمہارے لیے بھی ہر مرحلہ میں اس کی شانیں ظاہر ہوں گی۔
اصحاب کہف و رقیم کی وجہ تسمیہ : رہا یہ سوال کہ ان لوگوں کو اصحاب کہف و رقیم کیوں کہا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کے اہل کتاب میں یہ لوگ اسی لقب سے معروف تھے۔ " کہف " کی طرف تو ان کی نسبت ظاہر ہے کہ غار میں پناہ لینے کی وجہ سے ہوئی۔ رہا " رقیم " تو اس کے بارے میں ہمارے نزدیک راجح قول وہ ہے جس کی روایت عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے کی ہے کہ حضرت کعب کا خیال تھا کہ رقیم اس بستی کا نام تھا، جس سے نکل کر اصحابِ کہف نے غار میں پناہ لی۔ رقیم وادی کو بھی کہتے ہیں۔ ناموں کے بارے میں یہ تحقیق کہ ان کی اصل کیا ہے غیر ضروری بھی ہے اور نہایت مشکل بھی۔ عجمی نام عربی کے قابل میں آ کر اس قدر بدل جاتے ہیں کہ ان کی اصل کی تحقیق کوہ کنی کے مترادف بن جاتی ہے اور مقصد تعلیم کے پہلو سے اس کی کوئی خاص اہمیت بھی نہیں۔ اگر یہ نام قرآن نے رکھا ہوتا تب تو اس کے معنی اور اس کی اصل کی جستجو کی ایک خاص اہمیت بھی نہیں۔ اگر یہ نام قرآن نے رکھا ہوتا تب تو اس کے معنی اور اس کی اصل کی جستجو کی ایک خاص اہمیت تھی۔ لیکن یہ نام، جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔ عرب کے اہل کتاب بالخصوص نصاری کا اختیار کردہ ہے۔ قرآن نے اسی کو اختیار کرلیا ہے۔ دورِ حاضر کے بعض محققین کی رائے میں رقیم وہی شہر ہے جسے پیٹرا کے نام سے شہر ملی اور عرب اسے بطرا کے نام سے جانتے ہیں۔
Ayah 18:10إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔
" رشد " کا مفہوم : " رشد " کے معنی ہیں اس نے ہدایت اور استقامت پائی۔ رَشِدَ امرہ کے معنی ہوں گے س نے اپنے معاملے میں ہدایت پائی وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ کا مفہوم ہوگا کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے اس راہ میں جو ہم نے اختیار کی ہے تو رہنمائی اور استقامت کا بدرقہ مہیا فرما۔
نوجوانوں کی دعا : یہ وہ دعا ہے جو ان نوجوانوں نے اس وقت کی ہے جب انہوں نے غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا ہے آیات کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ نوجوان لوگ تھے۔ نوجوانوں میں جب ایک مرتبہ حق کی حمیت جاگ پڑتی ہے تو پھر نہ وہ مصالح کی پروا کرتی ہے اور نہ خطرات کی۔ لیکن ان لوگوں کے اندر صرف جوانی کا جوش ہی نہیں تھا بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی حکمت کا نور بھی تھا۔ اس وجہ سے اس نازک مرحلہ میں انہوں نے اللہ سے رہنمائی اور استقامت کی دعا کی اور یہی بات اہل ایمان کے شایان شان ہے۔
سرگزشت کا خلاصہ بطور تمہید : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی دو آیتیں اصل سرگزشت کے خلاصہ کے طور پر ہیں جن میں پہلے اجمال کے ساتھ سرگزشت قاری کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس کے بعد پوری سرگزشت تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گی۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا یہ طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مدعا نگاہ کے سامنے رہتا ہے۔ دوسری ضمنی باتیں اس کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتیں سرگزشتوں کے بیان میں یہ طریقہ قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے۔
Ayah 18:11فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا۔
" ضرب علی الاذان " کا مفہوم : " ضرب علی الاذان " کے لفظی معنی کانوں پر ٹھپہ لگانے یا تھپکنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ محاورہ کسی کو سننے سے روک دینے یا پیار و شفقت سے سلا دینے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو جب سلاتے ہیں تو اس کے کانوں پر تھپکتے ہیں۔ غار میں پناہ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان پر کوئی سالوں کے لیے نہایت آرام و سکون کی نیند طاری کردی۔ نیند کے لیے یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال ہوئے ہیں اور پیار کے ساتھ سلانے کے لیے یہ نہایت بلیغ استعارہ ہے۔
Ayah 18:12ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا۔
" لنعلم " پر " ل " غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور " نعلم " کے معنی یہاں دیکھنے اور جانچنے کے ہیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس طویل نیند کے بعد پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ بات اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ دو گروہ ہو کر آپس میں اس سوال پر بحث کریں کہ اس حالت خواب میں وہ کتنی مدت رہے ؟ کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ۔ اس طرح ہم ان کو جانچ لیں گے کہ اس مدت کا ان میں سے کوئی گروہ اندازہ کرسکا اور بالآخر یہ بات واضح ہوجائے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کا اندازہ نہ کرسکا۔ نیز ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہی حال برزخی زندگی کا ہوگا۔ اس کی مدت کا بھی کسی کو احساس نہیں ہوگا۔ ہر شخص اٹھنے پر یہی گمان کرے گا کہ بس ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ آگے آیت 19 میں یہ مضمون مزید وضاحت سے آ رہا ہے وہاں اس کے تمام مخفی گوشے سامنے آجائیں گے۔
Ayah 18:13اجمال کے بعد تفصیل بالحق کا مفہوم : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى۔
اب یہ اجمال کے بعد ان کی سرگزشت کی تفسیل سنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ " بالحق " کی قید ایک تو اس حقیقت کو ظاہر کررہی ہے کہ ان لوگوں کی نسبت جو روایات ان کے نام لیواؤں میں معروف تھیں قرآن نے ان سے غض بصر کرکے واقعہ کی اصل صورت پیش کی ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کے سامنے دوسروں کی طرح محض داستان سرائی نہیں ہے بلکہ اصل مقصود اس حکمت و موعظت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے جو اس سرگزشت کے اندر مضمر ہے فرمایا کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کی نگہداشت کی جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت میں افزونی عطا فرمائی۔ اس افزونی کا ظہور کس شکل میں ہوا ؟ اس کا بیان آگے والی آیت میں آ رہا ہے۔ یہاں " فتیۃ " کے لفظ پر نظر رہے۔ قرآن نے ان لوگوں کا جوانوں کے طبقہ سے ہونا ظاہر کرکے وقت کے نوجوانوں بالخصوص آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے نوجوانوں کو توجہ دلادی کہ وہ اس سرگزشت سے سبق حاصل کریں اور انہی کی طرح دعوت حق کی راہ میں بےپروا ہو کر چل کھڑے ہوں۔ خدا ہر مرحلہ میں ان کا ناصر و مددگار ہوگا۔
Ayah 18:14وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا
" ربط اللہ علی قلبہ " کے معنی ہوں گے خدا نے اس کے دل کو قوت و عزیمت دے دی۔ " سط " کے معنی دور ہونے اور " شطط " کے معنی تباعد عن الحق، یعنی حق سے انحراف اور دوری کے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ہرچند حالات بہت ہی سخت تھے۔ کلمہ حق کی دعوت دینا بڑا جان جوکھم کا کام تھا لیکن ان نوجوانوں کے ایمان میں خدا نے برکت دی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ صرف اپنے ہی ایمان پر قانع ہو کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ہر قسم کے خطرات سے بےپروا ہو کر دعوت توحید کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، جب اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور انہوں نے اپنی قوم میں عام منادی کردی کہ ہمارا رب صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اس کے سوا ہم کسی اور کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو رب مانیں گے تو ہماری یہ حرکت نہایت بےجا اور حق سے بہت دور ہٹی ہوئی ہوگی۔
Ayah 18:15قوم کو چیلنج : هَؤُلاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَوْلا يَأْتُونَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا۔
" قوم " سے مراد یہاں " رقیم " کے لوگ ہیں۔ یہ ان حق پرست نوجوانوں کا اپنی پوری قوم کے لیے ایک چیلنج ہے اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ھؤلاء کا لفظ جس انداز سے استعمال ہوا ہے اس سے ایک قسم کی حقارت کا بھی اظہار ہورہا ہے۔ پھر غائب کے صیغوں میں بھی حقارت مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کردیا کہ یہ ہماری قوم کے بدھوؤں نے اللہ کے سوا جو اور معبود بنا رکھے ہیں تو یہ اپنے ان معبودوں کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ آخر اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو خدا کے اوپر بہتان تراشے ! !
Ayah 18:16وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا
مرفق اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کی ضرورت اور منفعت کی ہو وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا، یعنی اس مرحلہ میں جس چیز کے تم محتاج ہوگے اللہ تعالیٰ وہ تمہارے لیے مہیا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی بشارت : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے بشارت ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کلام کا اتنا حصہ حذف ہے جو سیاق کلام سے خود واضح ہے یعنی بالآخر ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کش مکش اتنی بڑھ گئی کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ لوگ ان کو، جیسا کہ آیت 20 سے واضح ہوتا ہے، سنگسار کردیں گے۔ اس وقت ان لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک خاص غار میں جو پہلے سے انہوں نے منتخب کرلیا تھا، پناہ گزیں ہوجائیں گے۔ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی وحی کے ذریعہ سے بشارت دی کہ اب جب کہ تم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اپنے منتخب کردہ غار میں پناہ گیر ہوجاؤ۔ تمہار رب تمہارے لیے اپنے فضل و رحمت کا دامن پھیلائے اور تمہاری تمام ضروریات کا سامان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بس یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمت کرکے اس کی راہ پر چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جب وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آگے کی منزل کے لیے زاد و راحلہ وہ خود فراہم کرتا ہے۔ من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔
ایک شبہ کا ازالہ : ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوا پیدا ہو کہ کیا یہ لوگ صاحب وحی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کے ذریعہ سے بشارت دی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وحی اسی قسم کی وحی تھی جس کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ کی والدہ کو یہ ہدایت ہوئی کہ وہ بچہ کو ایک صندوق میں رکھ کے دریا میں ڈال دیں۔
ترک دنیا کے حق میں ارباب تصوف کا غلط استدلال : اس واقعہ سے بعض صوفی حضرات نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کی زندگی کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اس غار میں پناہ اس وقت لی ہے جب وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے لیے جان بازی کھیل کر اپنی قوم کے ہاتھوں سنگسار کردیے جانے کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں۔ مرحلہ بعینہ وہی مرحلہ ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ کو پیش آیا اور آپ کو غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔ ان لوگوں نے یہ غار نشینی رہبانیت کے لیے نہیں اختیار کی تھی بلکہ عدائے حق کے شر سے اپنی جانیں بچانے کے لیے اختیار کی تھی۔
مفسرین کی ایک غلط فہمی : عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس آیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے مفہوم میں نہیں لیا ہے بلکہ اس کو خود اصحاب الکہف کا قول سمجھا ہے کہ انہوں نے آپس میں اپنے ساتھیوں سے یہ بات کہی، لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آیت میں جس قطعیت کے ساتھ اللہ کی مدد و نصرت کا وعدہ ہے، کوئی متواضع بندہ اس قطعیت کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ سکتا۔ کوئی متواضع بندہ اس طرح کی بات کہے گا تو امید و رجا اور دعا ہی کے الفاظ میں کہے گا۔ چناچہ آیت 10 میں ان لوگوں کی دعا کا حوالہ بھی ہے۔
Ayah 18:17وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
تز اور اصل میں تتز اور ہے۔ اس کے معنی ہٹ جانے، کترا جانے اور منحرف ہوجانے کے ہیں۔ تقرضہم قرض کے معنی کاٹنے اور کترانے کے ہیں۔ اسی سے " قرض المکان " کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی ہیں اس جگہ سے ہٹ گیا، کترا گیا، گریز کر گیا۔ فجوۃ دو چیزوں کے درمیان خلاء شگاف اور گوشہ کو کہتے ہیں یہیں سے اس کا اطلاق مکان کے صحن پر بھی ہوتا ہے۔
غار میں ضروریات زندگی کا غیبی اہتمام : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے غار میں جن ضروریات و مرافق کے مہیا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اب یہ ان کا بیان ہو رہا ہے کہ اگر تو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں کو بچتا ہوا طلوع ہوتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں کو کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ اس غار کے صحن میں آرام کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غار کا دہانہ اس طرح واقع ہوا تھا کہ اس کے اندر ہوا، روشنی اور حرارت، جو زندگی کی ضروریات میں سے ہیں۔ باسانی پہنچتی تھیں۔ لیکن آفتاب کی تمازت اس کے اندر راہ نہیں پاتی تھی۔ ہمارے مفسرین نے غار اور اس کے دہانے کی سمت و جہت متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیکی یہ کاوش غیر ضروری ہے۔ اس کی مختلف شکلیں فرض کی جاسکتی ہیں لیکن ان میں سے کسی کے متعلق جزم کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ صحیح بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتا دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے اپنی تدبیر و کارسازی سے اپنے بندوں کے لیے ایک ایسا غار مہیا فرما دیا جہاں بغیر کسی کاوش کے ان کے لیے ساری ضروریات زندگی فراہم تھیں اور معلوم ہوتا کہ سورج بھی ان کے پاس سے گزرتا ہے تو ادب و احترام سے گزرتا ہے کہ ان کی خدمت کی انجام دہی کا شرف تو حاصل ہو لیکن ان کے آرادم و سکون میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
ایک تنبیہ : ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ الایۃ اسی آیات الٰہی کے تعلق سے یہ تذکیر فرما دی کہ جہاں تک اللہ کی نشانیوں کا تعلق ہے۔ ایک سے ایک بڑی نشانی موجود ہے۔ لیکن نشانیوں سے رہنمائی وہی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ توفیق بخشتا ہے۔ جو اس توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں، کوئی دوسرا ان کا کارساز و رہنما نہیں بن سکتا۔
Ayah 18:18وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا
حفاظت کے لیے انتظام : یہ وہ انتظام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لیے فرمایا کہ باوجودیکہ وہ غار میں محو خواب تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ اگر اتفاق سے کوئی ان کو دیکھ پاتا تو یہ گمان نہ کرتا کہ وہ سو رہے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھتا کہ جاگ رہے ہیں۔ یعنی ان کو سوتا اور بیخبر سمجھ کر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کرسکتا بلکہ ان کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار و ہوشیار خیال کرتا۔ ان کے سونے کی ہیئت ایسی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ ذرا دم لینے کے لیے بس لیٹ گئے ہیں۔ ایسی نہیں کہ دیھئے والا سمجھے کہ انٹاغفیل پڑ کر سو رہے ہیں۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ۔ فرمایا کہ ہم ان کو دہنے بائیں کروٹ بھی بدلواتے رہتے تھے۔ یہ کروٹ صحت جسمانی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک ہی ہیئت پر پڑے پڑے جسم اکڑ نہ جائے۔ نیز یہ لوگ زمین پر ایک طویل وقفہ کے لیے سوئے تھے اگر ایک ہی کروٹ پر عرصہ تک پڑے رہتے تو یہ اندیشہ تھا کہ زمین ان کے جسم کو نقصان پہنچا دے۔ اس لیے جس طرح ایک شفیق ماں گہوارے میں لیٹے ہوئے بچے کے پہلو بدلتی رہتی ہے اسی طرح قدرت ان کے پہلو بھی بدلواتی رہتی تھی۔ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ۔ یہ بھی اسی حفاظتی انتظام کے سلسلہ کی بات ہے کہ ان کا وفادار کتا غار کے دہانے پر اپنے دونون ہاتھ پھیلائے اس طرح بیٹھا رہا کہ گویا پہرہ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کتا بھی اس دوران میں برابر سوتا ہی رہا۔ لیکن اس کے سونے کی ہیئت وہ نہیں تھی جو عام طور پر کتوں کے سونے کی ہوتی ہے بلکہ وہ تھی جو ڈیوڑھی پہردہ دینے والے کتے کی ہوتی ہے۔ یہ انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یا عام قسم کا جنگلی جانور غار میں گھسنے کی جرات نہ کرے۔ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا۔ ظاہر ہے کہ اگر اس طرح کے کسی منظر پر اتفاق سے کسی کی نظر پڑجائے تو وہ دہشت زدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔ وہ ششدر رہ جائے گا کہ آخر پہاڑوں کے بیچ میں، ایک غار کے اندر یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ انہیں بھلے آدمی سمجھے یا برے، چور اور ڈاکو خیال کرے یا راہب اور سنیاسی، آسمانی مخلوق خیال کرے یا ارضی، انسان خیال کرے یا جنات و ملائکہ، بہرحال اس پر اس حالت سے ایک انجانے قسم کا خوف ضرور طاری ہوگا۔ یہ خوف کی فضا وہاں قدرت نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے پیدا کردی تھی۔ دنیا کے حکمران خاردار تاروں سے محفوف محلوں میں سوتے ہیں اور مسلح سپاہی ان کا پہرہ دیتے ہیں لیکن ان کی جان کو امان نہیں۔ اللہ کے بندے غاروں اور جنگلوں میں ستے ہیں اور مجال نہیں کہ کوئی پرندہ وہاں پر مار سکے۔
Ayah 18:19وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا۔
کارسازی کی ایک اور نشانی : " وکذلک " یعنی ان کے معاملہ میں جس طرح اپنی کارسازی کی وہ شان ہم نے دکھائی جو اوپر مذکور ہوئی اسی طرح اپنی یہ شان بھی دکھائی کہ ان کو اس نیند سے بیدار کیا کہ ان کے اندر باہم اس امر میں سوال و جواب ہو کر یہ خواب کی حالت ان پر کتنی مدت طاری رہی اور بالآخر ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیں، صرف اللہ ہی اس مدت سے واقف ہے۔ چناچہ ان میں سے ایک صاحب نے ساتھیوں سے سوال کی کہ بھلا اس حال میں تم نے کتنے دن گزارے ہوں گے ؟ ساتھیوں نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ بالآخر اتفاق اس بات پر ہوا کہ اس مدت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے اس وجہ سے اس سوال پر غور کرنا بےسود ہے۔ البتہ یہ کرو کہ اپنے میں سے کسی کو یہ رقم دے کر شہر بھیجو، وہ پہلے تحقیق کرلے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے وہ کچھ کھانے کو لائے اور خبردار ! وہ دبے پاؤں جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے د۔
اصحاب کہف کی مدت قیام کے بارے میں باہمی سوال و جواب : یہی وہ سوال و جواب ہے جس کا اور آیات 12 میں اجمالاً حوالہ ہے۔ یہاں اس کی تفصیل ہوگئی جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ سوال و جواب انہی لوگوں کے درمیان ہوا۔ یہاں بھی لیتساء لوا پر " ل " غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ان کا یہ اٹھایا جانا اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ آپس میں سونے کی مدت سے متعلق سوال و جواب کریں اور یہ حقیقت ان پر واضح ہوجائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیںٰ اور یہیں سے ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجائے کہ مرنے کے بعد برزخ کی زندگی کا بھی یہی حال ہوگا۔ قیامت کو جب لوگ اٹھیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ اس حالت میں وہ ایک دن یا اس سے بھی کم رہے۔ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا، ایہا یعنی ای اطراف المدینۃ یا ای نواحی المدینۃ اور ازکی سے پاکیزہ کھانا مراد ہے۔
احتیاط کے ساتھ تحقیق کی تاکید : ان لوگوں نے جس وقت غار میں پناہ لی اس وقت شرک و کفر کے غلبہ کے سبب سے ان کی قوم میں حرام و حلال کی تمیز نہیں تھی اس وجہ سے ان لوگوں نے اس بات کی خاص طور پر تاکید کی کہ کھانا لانے والا اس امر کی اچھی طرح تحقیق کرلے کہ شہر کے کس حصہ میں نسبتاً زیادہ پاکیزہ کھانا ملنے کی توقع ہے۔ رقیم میں آخر کچھ اہل کتاب بھی تو رہے ہوں گے۔ اس وجہ سے توقع تھی کہ ان کے ہاں حرام و حلال کی تمیز ہوگی لیکن اس تحقیق میں یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں بات کھل نہ جائے۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ تاکید بھی کردی کہ پوری احتیاط ملحوظ رہے، کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔ تلطف ؛ کے معنی کسی کام کو زیرکی، ہوشیاری اور احتیاط سے ڈرتے ڈرتے کرنے کے ہیں۔ آیت میں لفظ ورق کا ترجمہ عام طور لوگوں نے سکہ یا روپیہ کیا ہے لیکن ہم نے رقم کیا ہے اس لیے کہ ورق کے معنی چاندی کے ہیں اور یہ بجائے خود بھی سکہ کے قائم مقام ہوسکتی ہے اس وجہ سے ہم نے ایسا لفظ اختیار کیا ہے جس کا الطاق مسکوک اور غیر مسکوک دونوں پر ہوسکتا ہے۔
Ayah 18:20إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا۔
اس سے اس اندیشہ کا اظہار ہوتا ہے جس کی بنا پر احتیاط اور راز داری کی تاکید کی گئی۔ جس زمانے میں ان لوگوں نے غار میں پناہ لی ہے اہل حق پر ظلم و تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ان لوگوں نے سنگسار کردیے جانے کے اندیشے سے یہ پناہ ڈھونڈی تھی۔ اسی اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فرایا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔ پہلے تو کسی نہ کسی بچ نکلے لیکن اب اگر پا گئے تو یا تو سنگسار کردیں گے یا مرتد کرکے چھوڑیں گے۔ پھر کسی طرح بھی ان سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ ہوگا
Ayah 18:21وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا
اس کذلک کا عطف اوپر والے کذلک پر ہے یعنی جس طرح ہم نے وہ شان دکھائی اسی طرح ہم نے یہ شان بھی دکھائی کہ لوگوں کو ان سے باخبر کردیا۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ لوگ ان سے کس طرح آگاہ ہوئے۔ ہوسکتا ہے جو صاحب کھانا لینے کے لیے بازار گئے۔ انہی کو دیکھ کر بعض زیرک لوگوں نے تاڑ لیا ہو اور پھر ان کا سراغ لگانے کے رپے ہوگئے ہوں اور اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی رسائی غار تک ہوگئی ہو۔ غور کرنے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب کہف کو جب یہ اندازہ ہوگیا کہ ان کی سن گن کچھ باہر پہنچ چکی ہے تو وہ پنے غار میں معتکف ہوگئے اور اسی حال میں اللہ نے ان کو وفات دے دی۔ لوگوں کو ان کی پوری پوری اطلاع ان کی وفات کے بعد ہی ہوئی۔
واقعہ میں قیامت کے باب میں شہادت : لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيهَا۔ یعنی اللہ نے لوگوں کو ان کے حال سے اس لیے آگاہ کیا کہ یہ اس بات کی نشانی ہو کہ اللہ کا وعدہ قیامت شدنی ہے اور اس کے ظہور میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قیامت کے باب میں منکرین کو سب سے بڑا شبہ یہی پیش آتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بہت ہی مستبعد سمجھتے ہیں۔ اصحاب کہف کے واقعہ نے اس استبعاد کو رفع کرنے کے لیے ایک تازہ شہادت پیش کردی کہ ایک مدت تک سوتے رہنے کے بعد وہ اپنے رب کے حکم سے پھر اٹھ بیٹھے۔ قرائن اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کو ان کے غار سے آگاہ فرمایا اسی طرح اس بات سے بھی آگاہ فرمادیا کہ ان لوگوں کی زندگی غار میں کس طرح گزری۔ اگرچہ آیت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ لوگوں کو یہ بات معلوم تھی اور درحقیقت یہی چیز تھی جس کے سبب سے ان کی زندگی لوگوں کی نگاہوں میں ایک اعجوبہ بنی اور مرنے کے بعد یہ خلق کے مرجع عقیدت بن گئے۔ ہوسکتا ہے کہ جس زمانے میں لوگوں نے ان کی ٹہ نکالنے کی کوشش کی ہے اسی زمانے میں یہ راز بھی کھلا ہو اور بعد میں اس کا علم عام ہوگیا ہو اور پھر اس کی روایت نے تواتر کی حیثیت حاصل کرلی ہو۔
إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا۔
اصحاب کہف کی وفات کے بعد قوم کا انقلاب : اب یہ قرآن نے اس انقلاب حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوا کہ ایک دن تو وہ تھا کہ یہ بےچارے سنگ سار کردیے جانے کے ڈر سے ایک غار میں چھپے یا وہ دن آیا کہ لوگ ان کے ساتھ نسبت حاصل کرنے کے لیے آپس میں جھگڑنے لگے۔ ظاہر ہے کہ یہ تنازع مختلف گروہوں، فرقوں اور خاندانوں میں واقع ہوا ہوگا۔ اور اس لیے ہوا ہوگا کہ ہر ایک ان کو اپنے گوہ، اپنے فرقے اور اپنے مسلک و عقیدہ کے ساتھ منسوب کرنے کا خواہش مند رہا ہوگا۔ اہل حق کے ساتھ اس ظالم دنیا نے ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے۔ زندگی میں تو ان کو لوگوں کے پتھر کھانے پڑے لیکن مرنے کے بعد ان کے بت پوجے گئے۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی مرنے کے بعد یہی ہوا کہ مختف گروہ اور فرقے ان کے ساتھ قرب کے مدعی بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہوئی کہ ان کے مزہب و مسلک کا معاملہ تو اللہ کے حوالے کیا جائے البتہ ان کی یادگار میں ان کے غار پر ایک عمارت بنا دی جائے۔ یکن دوسرے گروہ نے جس کو اکثریت حاصل تھی۔ کہا کہ ہم ان کی یادگار میں ایک مسجد بنائیں گے اور اسی گروہ کی رائے غالب رہی۔ اس سے اس انقلاب حال کا کچھ اندازہ ہوتا ہے جو ان جانبازوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں برپا ہوا کہ ملک میں ان لوگوں نے اکثریت حاصل کرلی جو موحد اور خدا پرست تھے۔ دوسرے لوگ جو موحد اور خدا پرست نہیں تھے ان کے اندر بھی اتنی تبدیلی اور رواداری واقع ہوگئی کہ اصحاب کہف کی یاد گار قائم کرنے کی سعادت وہ بھی حاصل کرنے کے متمنی ہوئے۔
بارگاہ میں مسجد کی تعمیر : " ربہم اعلم بہم " میں ہمارے نزدیک عربیت کے معروف قاعدہ کے مطابق ایک مضاف محذوف ہے یعنی اعلم بدینہم معلوم ہوتا ہے اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ ان کے دین و عقیدہ کی بحث نہ چھیڑی جائے بلکہ قوم کے متف علیہ بزرگوں اور پیشواؤں کی حیثیت سے ان کی یادگار میں ان کے غار پر ایک ہیکل کی تعمیر کی جائے لیکن دوسرے گروہ نے یہ تجویز قبول نہیں کی بلکہ اس نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی رائے غالب رہی۔ علیہم مسجدا میں بھی ہمارے نزدیک ایک مضاف محذوف ہے یعنی " علی کہفہم "۔
قرآن مجید نے لوگوں کی یادگار کو مسجد سے تعبیر کرکے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ یہ موحد اور خدا پرست لوگ تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے خدا کی عبادت کا گھر بنایا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہود اور نصاری کے عبادت خانے اصلاً مسجد ہی تھے۔ ان میں خرابی تو اس وقت سے پیدا ہوئی ہے جب ان قوموں نے مشرکانہ عقائد اختیار کیے اور اپنے معبدوں کو شرک سے آلودہ کیا۔ یاد ہوگا قرآن نے یہود اور نصاری کے " صوامع " اور " بیع " کو مسجد ہی کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو سورة حج
Ayah 18:22سَيَقُولُونَ ثَلاثَةٌ رَابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلا قَلِيلٌ فَلا تُمَارِ فِيهِمْ إِلا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا
فضول سوالات سے گریز کی ہدایت : اب یہ ایک جملہ معترضہ کے طور پر نبی ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اصحاب کہف کی اصل حقیقت تو یہی ہے جو تمہیں سنا دی گئی لیکن یہ نہ سمجھو کہ یہ سوال کرنے والے اس سے مطمئن ہوجائیں گے اور ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں گے بلکہ اب کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ یہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا۔ فرمایا کہ یہ ساری باتیں " رجما بالغیت " یعنی محض اٹکل پچو ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ علاوہ ازیں کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ تم اس سے کہہ دو کہ میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کی تعداد سے صرف تھوڑے ہی لوگ واقف ہیں۔ فَلا تُمَارِ فِيهِمْ إِلا مِرَاءً ظَاهِرًا۔ ممارات کے معنی بحث و مناظرہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر لوگ تمہارے سامنے اس طرح کے سوالات لے کر آئیں اور تم سے بحث وجدال کرنا چاہیں تو ان سے نہ الجھنا بلکہ سرسری طور پر بات کرکے ان کو ٹال دینے کی کوشش کرنا۔ اب اصحاب کہف کے باب میں کسی سے کچھ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں جب ان کی اصل سرگزشت اللہ نے بیان کردی تو اللہ سے زیادہ کون جاننے والا ہے جس سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جن لوگوں کو بحث و مناظرہ کا روگ لگ جاتا ہے ان کو اصل حقیقت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کے مناظرہ کی ایک راہ بند کیجیے تو وہ کوئی دوسری راہ نکال لیں گے اس وجہ سے کسی دانش مند کے لیے یہ زیبا نہیں کہ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے درپے ہو۔ ایسے لوگوں سے جان چھڑانے ہی میں خیر ہے۔ ان کے ساتھ سنجیدہ ہو کر بحث کرنے کی بجائے ان کو خوبصورتی سے ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بعض اہل تاویل نے اصحاب کہف کی تعداد سے متعلق آخری قول کو اقرب الی الصواب قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پہلو دو قولوں کو تو قرآن نے صاف رجما بالغیب قرار دیا ہے لیکن تیسرے قول سے متعلق کوئی اس طرح کی بات نہیں فرمائی ہے۔ یہ استنباط قرین صواب ہے لیکن ان کی تعداد سے متعلق ہمارا قول وہی ہے جو قرآن نے بتایا ہے قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلا قَلِيلٌ۔
Ayahs 18:23–24تفسیر آیت 23 تا 24: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا (23)إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لأقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا (24)۔
وعدہ مشروط بمشیت الٰہی کیا جائے : اسی ذیل میں نبی ﷺ کو یہ ہدایت بھی فرما دی کہ کسی امر میں یوں غیر مشروط وعدہ نہ کرلیا کرو کہ میں یہ کام کل کردوں گا۔ اس ہدایت کی ضرورت غالبا یوں پیش آئی کہ اصحاب کہف کے متعلق جب پوچھنے والوں نے پوچھا ہوگا تو آپ نے یہ وعدہ کرلیا ہوگا کہ میں اس کا جواب کل دے دوں گا۔ اس قسم کے سوالات، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آپ سے امتحانا کیے جاتے تھے اس وجہ سے فطری طور پر آپ کی یہ خواہش ہوتی کہ ان کا جواب جلد دیا جائے اور آپ وحی کی رہنمائی کے بھروسہ پر وعدہ کربیٹھتے۔ جہاں تک جواب جلد دینے کی خواہش کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ کے دل کے اندر اپنی دعوت کی سربلندی کی جو شدید آرزو تھی اس کی وجہ سے آپ یہ چاہتے تھے کہ معترضین و مخالفین کے ہر سوال و اعتراض کا جواب فوراً دیا جائے تاکہ اپنی طرف سے ان کے لیے قبول حق میں کوئی عذر باقی نہ رہے لیکن اس معاملہ کا ایک اور پہلو بھی تھا جو نظر انداز ہوگیا تھا وہ یہ کہ بسا اوقات حکمت الٰہی کا تقاضا کسی سوال سے متعلق یہ ہوتا ہے کہ اس کا جواب نہ دیا جائے یا جواب تو دیا جائے لیکن فوراً نہ دیا جائے۔ اس وجہ سے نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ وحی کے بھروسہ پر کوئی غیر مشروط وعدہ کر بیٹھے بلکہ اس کو ہر وعدہ خدا کی مشیت کی شرط کے ساتھ کرنا چاہیے اور اگر کبھی بھول چوک ہوجائے تو یاد آنے پر اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے اور جن سے وعدہ ہوا ہے ان سے کہ ان چاہی کہ کیا عجب کہ میرا رب موعودہ مدت سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمادے۔
Ayah 18:25وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔
آیت 25 کا تعلق اوپر کے الفاظ سے : آیت 22 سے جو جملہ معترضہ شروع ہوا تھا وہ آیت 24 پر ختم ہوا۔ اب یہ آیت انہی اقوال سے متعلق ہے جو اوپر اصحابِ کہف کی تعداد سے متعلق نقل ہوئے ہیں۔ یعنی جس طرح وہ ان کی تعداد کے بارے میں یہ کہیں گے اسی طرح غار میں ان کی مدت قیام سے متعلق دعوی کریں گے کہ وہ غار میں تین سو سال اور مزید برآں نو سال رہے۔ عام طور پر لوگوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر کے مفہوم میں لیا ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کی مدت قیام کے باب میں قرآن نے کوئی قطعی بات نہیں کہی ہے۔ آیت 11 میں سنین عددا کے الفاظ ہیں۔ وہ اس بات پر تو ضور دلیل ہیں کہ یہ لوگ غار میں کئی سال رہے لیکن تین سو نو سال کی مدت کی تعبیر کے لیے، عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ الفاظ بالکل ناموزوں ہیں۔ پھر اس کے بعد کی آیت قل اللہ اعلم بما لبثوا اس مطلب سے بالکل ابا کرتی ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ وہ تین سو نو سال غار میں رہے تو پھر یہ کہنے کے کیا معنی کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کی مدت قیام کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں اس تاویل میں منفرد ہوں۔ متعدد دوسرے ائمہ تفسیر کی رائے بھی یہی ہے۔ والعلم عند اللہ۔