Ayah 18:26قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب دلوایا گیا ہے کہ جس طرح اصحاب کہف کی تعداد سے متعلق ان کے اندازے بالکل اٹکل پچو ہیں اسی طرح غار میں ان کی مدت قیام کے بارے میں بھی ان کا اندازہ بالکل غلط ہے۔ ان کو بتا دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ لوگ کتنی مدت غار میں رہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان لوگوں کے خیال کی نفی کر رہا ہے جو ولبثوا فی کفہم ثلاث مائۃ سنین۔۔۔ الایۃ کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مدت قیام کی خبر ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے معاً بعد یہ کہنے کا کوئی مناسب محل نہیں تھا کہ اللہ ہی ان کی مدت قیام کا بہتر علم رکھنے والا ہے۔ یہاں زبان کا یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھیے کہ اگر یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر کے مفہوم میں ہوتی تو کلام کا آغاز حرف عطف سے نہ ہوتا بلکہ حرف عطف کے بغیر ہوتا۔ حرف عطف اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ یہ انہی بےسروپا باتوں کے تحت ہے جو ان لوگوں کی طرف سے اوپر نقل ہوئی ہیں۔
آسمانوں اور زمین کے تمام رازوں کا حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے : لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ۔ یعنی آسمانوں اور زمین کے تمام رازوں کا حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ دوسروں کو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا اس نے بتایا ہے باقی سب رطب و یابس کا مجموع ہے۔ اس کی حیثیت یہ نہیں ہوسکتی کہ اس کی بنیاد پر انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے علم کا مذاق اڑائے آج انسان نے زمین تہوں کو الٹ پلٹ کر معلومات کا جو ذخیر جمع کیا ہے اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ قرآن کے بیان کردہ حقئق کے مقابل میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم : أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ۔ یہ مبالغہ اور غایت درجہ تعریف کا اسلوب بیان ہے۔ یعنی کیا کہنے ہیں اس کے دیکھنے اور سننے کے ! وہ بہت ہی خوب دیکھنے اور سننے والا ہے ! آسمانوں اور زمین کی کوئی بات اور کوئی چیز بھی اس کے احاطہ سمع و بصر سے باہر نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب اس علیم وخبیر نے ایک سوال کا جواب دے دیا تو اب اس سے زیادہ جاننے والا کون ہے کہ اس سے رجوع کرنے کی ضرورت باقی رہے۔ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا۔ جب بات اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم تکپہنچ گئی تو یہیں سے اس کے تمام شرکاء و شفعاء کی نفی کے لیے راہ صاف ہوگئی کہ جو خود ہر بات سے سب سے زیادہ آگاہ ہے اس کے مقابل اگر لوگوں نے کچھ کارساز و مددگار سے اپنے لیے فرض کر رکھے ہیں تو وہ ذرہ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں کامل اور سب سے مستغنی ہے۔ وہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں بناتا۔
Ayah 18:27آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 31:۔ آگے کا مضمون تمہید سورة کے مضمون سے متصل ہے۔ یاد ہوگا، سورة کی تمہید میں آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کے پیچھے پریشان ہونے سے روک دیا گیا جو زخارف دنیا کے عشق میں خدا اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں اور قرآن کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا ذکر آگیا تھا جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں اٹھنے والے بندوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کی ڈھارس بندھاتا، ان کی حوصلہ افزائی کرتا اور راہ حق میں ان کو جو مشکلیں پیش آتی ہیں، ان میں غیب سے ان کی مدد فرماتا ہے۔ اب آگے اسی تمہید والے مضمون کو پھر لے لیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم پر جو کتاب وحی کی جا رہی ہے اس کو لوگوں کو سناؤ اور مخالفین کے نت نئے مطالبات اور ان کے اعراض و استکبار کی پروا نہ کرو۔ ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں اللہ کا جو قانون ہے وہ بدل نہیں سکتا۔ تم ان اغنیاء و مستکبرین سے بےپروا ہو کر اپنے غریب ساتھیوں پر اپنی ساری توجہ مرکوز کرو اور ان متکبرین کو سنا دو کہ جس کا جی چاہے، ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کرے، جو کفر کرے گا وہ اپنا انجام خود دیکھ لے گا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا۔
یہ پیغمبر ﷺ کو تاکید ہے کہ جو کتاب تم پر وحی کی جا رہی ہے، بس اس کو سناؤ۔ نہ مخالفین کے نت نئے مطالبات کی پروا کو، نہ ان کے سوالات سے پریشان ہو اور نہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی پر غم کرو۔ اللہ نے ہدایت و ضلالت کے لیے جو قانون بنا دیا ہے وہ اتل ہے، خدا کے قوانین و ضوابط کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ ہدایت وہی پائیں گے جن کو ہدایت کی توفیق حاصل ہوگی اور توفیق انہی کو حاصل ہوگی جو اس نعمت کے لیے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیں گے۔ یہ معاملہ تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے اور خدا کے سوا کوئی مرجع و ماوی نہیں۔
Ayah 18:28وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
فرط کے معنی اسراف ظلم اور حدود سے تجاوز کے ہیں۔ الامر الفطرت وہ معاملہ جو حدود سے بالکل متجاوز ہوگیا ہو۔
متکبرین کے باب میں پیغمبر کو ہدایت : آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کے سرداروں اور مالداروں کے ایمان کی فکر خدانخواستہ اپنی ات کے لیے نہیں تھی بلکہ صرف دین کی سربلندی کی خاطر تھی۔ آپ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کا ایمان دوسروں کے ایمان کی راہ کھولے گا۔ اس خیال کے تحت آپ ان لوگوں کی ناز برداری میں بسا اوقات اپنے جاں نثار ساتھیوں کے حقوق سے غافل ہوجاتے۔ اس آیت میں آپ کو اس چیز سے روک دیا گیا۔ ارشاد ہوا کہ جو لوگ صبح و شام خدا کی یاد اور اس کی رضا جوئی میں سرگرم ہیں اپنی توجہ کا مرکز ان کو بناؤ۔ ان سرگشتگان دنیا کو جو اپنی خواہشوں کے پیرو ہیں اور جن کا معاملہ اب تمام حدود سے تجاوز کرچکا ہے، خاطر میں نہ لاؤ۔ تمہاری دعوت اپنا زاد و راحلہ اور اپنی عزت و شوکت خود اپنے ساتھ رکھتی ہے، ان لوگوں کے مال و متاع کی محتاج نہیں کہ تم ان کی طرف آنکھ اٹھاؤ۔ اس آیت کے لب و لہجہ میں جو تیزی ہے اہل وق جانتے ہیں کہ ان کا رخ پیغمبر ﷺ کی طرف نہیں بلکہ متکبرین اور اغنیاء کی طرف ہے جو صحابہ کو حقیر سمجھتے اور آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ان کو دور کریں تب ہم بات سننے کے روادار ہوں گے۔
Ayah 18:29وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا۔
متکبرین کو آگاہی دے دو کہ یہی بات حق ہے جو خدا کی طرف سے اتری ہے اور جو میں نے تمہیں پہنچا دی ہے۔ اب کسی کے کفر و ایمان کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کرے۔ جو کفر کریں گے تو ایسے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی اور جب یہ پانی پانی پکاریں گے تو ان کو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کا پانی دیا جائے گا جو چہروں کو بھون کے رکھ دے گا۔ نہ پانی کی برائی کی کوئی حد ہوگی نہ ٹھکانے کی دونوں کی ہولناکی ایک سے ایک بڑھ کر۔
مرتفقا کے معنی ٹیک لگانے کی جگہ کے ہیں۔ ہم نے اس کے وسیع مفہوم کے اعتبار سے اس کا ترجمہ ٹھکانا کیا ہے۔ شوی یشوی کے معنی بھوننے کے ہیں۔ مھل (پگھلے ہوئے تانبے) کے لیے اس کا استعمال اس کی شدت وحدت کے اظہار کے لیے ہے۔
Ayahs 18:30–31تفسیر آیات 30 تا 31: ایمان لانے والوں کو صلہ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا۔ أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الأرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔
کفر کرنے والوں کے انجام کے بیان کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو قرآن کی دعوت پر ایمان لائے۔ امراء و اغنیاء چونکہ ان لوگوں کو، ان کی غربت کے سبب سے، بہت حقیر سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے صلہ کے بیان میں ان چیزوں کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو وقت کے امراء کے لیے سرمایہ فخر و ناز تھیں۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیے ہم ان خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔ ان کے لیے ہمیشگی کے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سندس وا ستبرق کے سبز لباس پہنیں گے، تختوں پر ٹیک لگائے ہوں گے۔ کیا ہی خوب صلہ اور کیا ہی خوب ٹھکانا ہوگا۔
جنت اور دوزخ کے احوال سے متعلق ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ یہ متشابہات میں داخل ہیں۔ جن تمثیلات و تشبیہات سے اس نادیدہ عالم کے احوال کو ہمارے ذہن کے قریب لایا جاسکتا ہے، قران ان کے ریعہ سے ان کو ہمارے ذہن کے قریب کرتا ہے۔ رہی ان کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ دوزخ کے محل یا جنت کے کنگن اور سندس اور استبرق کی حقیقت یہاں نہیں معلوم کی جاسکتی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرآن ان چیزیں کے بیان میں اہل عرب ہی کی معلومات اور انہی کے ذوق کو ملحوظ رکھتا ہے اس لیے کہ تشبیہ و تمثیل میں موثر وہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے مخاطب واقف ہوں۔
Ayah 18:32آگے کا مضمون۔ آیات 32 تا 44:۔ مومن اور کافر کی ذہنیت کی تمثیل : آگے دو شخصوں کی ایک تمثیل کے ذریعے سے مومن اور کافر دونون کی زہنیت واضھ فرمائی ہے کہ مومن اس دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک کافر اس کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس تمثیل سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ جو لوگ قرآن اور نبی ﷺ کی مخالفت کررہے تھے ان کا اصل مغالطہ کیا تھا۔ وہ درحقیقت اپنی اس دنیا کی کامیابی کو اپنے فکر و عمل کی صحت و صداقت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور جب مسلمان ان کو خدا اور آخرت سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ جب دنیوی اعتبار سے ہمارا حال تم سے اچھا ہے تو لازماً ہمارا ہی عقیدہ اور ہمارا ہی طریقہ بھی اچھا ہے۔ پھر وہ یہیں سے یہ نتیجہ بھی نکال لیتے کہ اول تو آخرت و قیامت وغیرہ محض ایک ہوّا ہے اور بالفرض ہو بھی تو ہم وہاں بھی تم سے اچھے ہی رہیں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلا رَجُلَيْنِ جَعَلْنَا لأحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
قریش کے سامنے تمثیل کا ایک آئینہ : یہ قریش کے متمردین کو ایک تمثیل سنائی جا رہی ہے تاکہ وہ اس کے آئینہ میں اپنا ظاہر و باطن بھی دیکھ لیں اور اس کشمکش حق و باطل کا انجام بھی ان کے سامنے آجائے جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان برپا تھی۔ یہ تمثیل دو ایسے شخصوں کی ہے جن میں سے ایک کو خدا نے دو بہترین باغ دیے تھے اور دوسرے کو اگرچہ اس قسم کی کوئی متاع حاصل نہیں تھی لیکن اس کا سینہ ایمان کی دولت سے مالا مال اور دل خدا کی معرفت سے باغ باغ تھا۔
دو باغوں کا ذکر تکمیل نعمت کی تعبیر کے لیے : دو باغوں کا ذکر تکمیل نعمت کے اظہار کے لیے ہے۔ سورة رحمان میں اہل جنت کے لیے بھی دو جنتوں کا ذکر آتا ہے۔ اس سے مقصود تکمیل نعمت ہے۔ اہل عرب کے نزدیک بہترین باغ کا تصور یہ تھا کہ انگوروں کا باغ ہو، کنارے کنارے کھجوروں کے درخت ہو جو پھل بھی دیں، باغ کی خوب صورتی میں بھی اضافہ کریں اور سموم وغیرہ کی آفتوں سے باغ کی حفاظت بھی کریں۔ علاوہ ازیں باغ میں چھوٹے چھوٹے زراعتی قطعات بھی ہوں جن میں موسم کے حاظ سے ضروری چیزوں کی کاشت کی جاسکے اور بیچ میں نہر ہو جس کی نالیاں باغ کے ہر گوشے میں دوڑا دی گئی ہوں
Ayah 18:33كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلالَهُمَا نَهَرًا
جن کو اس طرح کا باغ حاصل ہو، وہ بھی ایک چھوڑ دو دو، اسے دنیا میں اور کیا چاہیے۔ فرمایا کہ دونوں باغوں نے خوب پھل دیے، ذرا کمی نہیں کی۔ باغ کے بیچ میں نہر جاری تھی جو اس کی شادابی، طراوت اور زرخیزی کی ضامن تھی۔
Ayah 18:34وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالا وَأَعَزُّ نَفَرًا
نعت پا کرنا شکری : اب یہ بتایا کہ اس نعمت کو پا کر اس نعمت والے نے رویہ کیا اختیار کیا۔ ہونا تو یہ تھا کہ اس کا بال بال اس رب کا شکر گزار ہوتا جس نے اس کو یہ نعمت بخشی لیکن ہوا یہ کہ جب اس کے ساتھی نے اس کو خدا کا شکر گزارو فرمانبردار بندہ بننے کی نصیحت کی اور ناشکری کے انجام اور خدا کے قہر و غضب سے ڈرایا تو اس نے بحث شروع کردی کہ بتاؤ تمہارا حال اچھا ہے یا میرا ؟ میں مال بھی تم سے زیادہ اور میری جمعیت بھی تہاری جمعیت سے قوی، تو تم مجھے کیا ڈراتے ہو ؟ مجھے جو کچھ حاصل ہے یہ خود اس امر کی ایک ناقابلِ انکار شہادت ہے کہ تمہارے عقیدہ و عمل سے میرا عقیدہ و عمل زیادہ صحیح ہے۔ " وکان لہ ثمر " سے اس بات کی طرف اشارہ ہورہا ہے کہ یہ بحث فصل کی تیار کے زمانے میں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ دولت کا نشہ باغ والے کے انر پھلوں کی تیاری کے زمانے میں دو چند ہوجاتا ہے۔
Ayahs 18:35–36تفسیر آیات 35 تا 36: وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا (35) وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لأجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا (36)۔
ظالم لنفسہ، کا مفہوم : ظالم لنفسہ یعنی وہ اپنی دولت و ثروت پر غرور کرتا اور اکڑتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا اور بولا کہ میں کبھی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ میرا یہ باغ تباہ ہوجائے گا۔ قیامت و آخرت اول تو ہے نہیں لیکن اگر ہوئی، جیسا کہ یہ ملا ڈراتا ہے تو میں بہرحال وہاں اس سے بھی زیادہ بہتر زندگی پاؤں گا۔
Ayah 18:37قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلا۔
بندہ مومن کی موعظت : بندہ مومن نے یہ اس مستکبر کے استکبار اور انکار قیامت پر معارضہ کیا کہ اگر تم قیامت کے منکر ہو تو یہ کفر ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد خدا دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ کیا تم نے خود اپنی ہستی پر غور نہیں کیا کہ تم جس آدم کی اولاد ہو خدا نے ان کو مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے اولاد آدم کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا اور اسی پانی کی بوند سے تہیں ایک بھلا چنگا مرد بنا کھڑا کیا۔ اگر خدا کی یہ قدرت دیکھتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ خدا تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے ! یہ تو صریحاً خدا کی قدرت و حکمت کا انکار ہے جو کفر ہے۔
Ayah 18:38لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا۔
یہ بندہ مومن نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایمان کے لیے صرف خدا کو مان لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ خدا ہی کو اپنا رب، پروردگار اور آقا ومالک بھی مانے اگر کوئی شخص اللہ کا اقرار کرتا ہے لیکن رب دوسروں کو بھی مانتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور یہ شرک بھی کفر ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مال و جاہ پر مغرور ہے، اس کو اپنی قابلیت کا ثمرہ و نتیجہ اور اپنے استحقاق ذاتی کا کرشمہ خیال کرتا ہے اور یہ خناس اس کے دماغ میں سمایا ہوا ہے کہ اس کو اس سے کوئی چھین نہیں سکتا تو یہ بھی شرک ہے اس لیے کہ ایسا شخص اپنے آپ کو خدا کی خدائی میں ساجھی سمجھتا ہے۔ توحید کا مطالبہ یہ ہے کہ بندہ کو جو نعمت بھی ملے اس کو خدا کا فضل و عطیہ سمجھے، اس کے لیے برابر اپنے رب کا شکر گزار رہے، اس کے باب میں اپنے آپ کو خدا کے آگے مسئول سمجے اور یہ عقیدہ رکھے کہ خدا جب چاہے اس نعمت کو چھین سکتا ہے۔
Ayah 18:39وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْكَ مَالا وَوَلَدًا
ایمان کا تقاضا : یہ بندہ مومن نے اس مستکبر کو ایمان کا صحیح تقاضا بتایا ہے کہ اگر تم نے مجھے مال و اولاد میں سے اپنے سے کم تر پایا تھا تو یہ چیز اکڑنے اور مغرور ہونے کی نہیں تھی بلکہ اس پر تمہیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا کہ تمہارے رب نے تم کو اپنے فضل سے نوازا۔ اس کا حق یہ تھا کہ جب تم اپنے ہرے بھرے، میووں سے لدے باغ میں داخل ہوتے تو ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہتے، یعنی یہ اعتراف کرتے کہ یہ سب کچھ رب کریم کا عطیہ ہے، اس کے بغیر کسی کو کوئی قوت و طاقت حاصل نہیں کہ کچھ بنا یا بگاڑ سکے۔ " انا " یہاں دونوں مفعولوں کے درمیان بطور ایک فاصل کے آگیا ہے۔ اس کو جملہ سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اس قسم کے زائد استعمال کی مثالیں کلام عرب میں بھی موجود ہیں اور ہماری اپنی زبان میں بھی۔
Ayah 18:40فَعَسَى رَبِّي أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا۔
حسبان، حسبانۃ کی جمع ہے۔ حسبانہ کڑک اور اولے کو کہتے ہیں۔ زلق، اس زمین کو کہتے ہیں جو بالکل چٹیل سبزہ اور روئیدگی سے یک قلم محروم ہو۔ یعنی اگر تم نے میری غربت پر مغرورانہ طعن کیا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر باغ دے اور تمہارے باغ پر کڑک اور اولے کا کوئی آسمانی عذاب بھیج دے اور وہ ایک چٹیل میدان ہو کے رہ جائے
Ayah 18:41أَوْ يُصْبِحَ مَاؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَبًا۔ غار الماء غورا کے معنی ہیں پانی زمین میں نیچے اتر گیا۔ یعنی رعد اور اولے نہ سہی، یہ نہر جاری جس سے باغ سیراب ہوتا ہے اگر زمین میں غائب ہوجائے تو تم یا کوئی دوسرا کیا کرسکتا ہے۔
مغروروں کی آنکھ کا پردہ : اوپر مستکبر کا قول گزرا ہے کہ ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ اس نے اپنے شاداب اور پھلوں سے لدے ہوئے باغ کو دیکھ کر کہا کہ میں یہ گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کبھی تباہ ہوجائے گا۔ یہی ذہن دنیا کے تمام مغروروں اور متکبرین کا ہوتا ہے۔ ان کو جو چین اور عیش حاصل ہوتا ہے وہ اس میں اس طرح کھوجاتے ہیں کہ ان کے اوپر یہ تصور بڑا شاق گزرتا ہے کہ اس میں کہیں سے کوئی رخنہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی ان کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ آخر ان کے قلعہ میں دراڑ پیدا ہونے کا کیا امکان ہے ! لیکن جب وقت آجاتا ہے تو قدرت ایک ہی جنبش میں سارے قلعہ کو زمین بوس کرکے رکھ دیتی ہے اور اس وقت سب کو نظر آجاتا ہے کہ جس چیز کو اتنی بعید سمجھے تھے وہ بالکل پاؤں کے نیچے سے برآمد ہوگئی۔ اسی حقیقت کی طرف عبد مومن نے توجہ دلائی۔
Ayah 18:42وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ۔ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا۔
احیط بالشیء کے معنی ہیں وہ چیز تباہ کردی گئی
ندامت بعد از وقت : بالآخر وہی ہوا جس سے بندہ مومن نے ڈرایا تھا۔ کوئی آفت ارضی یا سماوی آئی اور اس نے سارے باغ کو آناً فاناً تباہ کرکے رکھ دیا۔ جن ٹٹیوں پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں وہ فرش زمین ہوگئیں اور سارا باغ ڈھے گیا۔ اب مغرور کی آنکھیں کھلیں، اس کو نظر آیا کہ جس باغ کی تباہی کو وہ بعید از امکان سمجھتا تھا وہ پلک جھپکتے یوں غارت ہو کے رہ گیا۔ تباہ شدہ باغ ایک میت کی طرح سامنے تھا اور وہ اس کی لاش پر کھڑا اپنے دونوں ہاتھ مل رہا تھا کہ اس سے کچھ یافت ہونی تو الگ رہی جو کچھ اس کے رکھ رکھاؤ پر خرچ کیا وہ بھی برباد ہوا۔ اس وقت اسے اپنے ناصح کی بات یاد آئی اور نہایت حسرت کے ساتھ بولا کہ کاش میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا۔
" اپنے رب کا شریک نہ بناتا " یعنی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس خبط میں نہ پڑتا کہ یہ سب کچھ میری قابلیت و صلاحیت کا کرشمہ اور میرے استحقاق ذاتی کا ثمرہ ہے بلکہ اس کو اپنے رب کا فضل سمجھتا اور اسی کا شکر گزار رہتا۔
Ayah 18:43وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا۔ یعنی جب عزاب آیا تو نہ وہ پارٹی کام آئی جس پر ناز تھا اور جس کے اعتماد پر کہا تھا " انا اکثر منک مالا واعز نفرا " اور نہ اپنے ہی اندر اتنا بل بوتا تھا کہ انتقام کے لیے اٹھ سکے۔
Ayah 18:44هُنَالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا
بدوں پر عذاب نیکوں کی داد رسی ہے : ھنالک، کا اشارہ ساعت عذاب کے ظہور کی طرف ہے۔ یعنی جب وہ وقت آجائے گا تو پھر تمام اختیار خدائے برحق ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ کسی دوسرے کی کچھ پیش نہیں کی جائے گی، اور وہ اپنے صالح بندوں کو بہترین ثواب اور بہتر انجام سے نوازے گا۔ اوپر بدکاروں کے انجام کا ذکر ہوچکا تھا اس وجہ سے یہاں صرف خوب کاروں کے انجام کا ذکر ہوا۔ نیز یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عذاب دنیا ہو یا عذاب آخرت اس سے اصل مقصود نیکوں کی داد رسی ہے۔ بدوں کو سزا دینا اس کا اصل مقصد نہیں بلکہ لازمی نتیجہ ہے۔
Ayah 18:45آگے کا مضمون۔ آیات 45 تا 49: آگے اس دنیا کی زندگی کی تمثیل پیش کی ہے جس محبت میں اندھے ہو کر یہ سرگشتگان غفلت قرآن اور پیغمبر ﷺ کی باتیں سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ فرمایا کہ اس دنیا کی جتنی زینتیں ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی ساتھ جانے والی نہیں ہے، صرف آدمی کے اعمال صالحہ اس کے ساتھ جائیں گے تو جس کو کمائی کرنی ہو وہ اعمال صالحہ کی کمائی کرے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الأرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا۔
" اختلط بہ نبات الارض " سے مطلب یہ ہے کہ زمین کی نباتات بارش کی بدولت خوب اپجیں اور اپنی کثرت اور اپنے زور کے باعث باہم دگر گتھم گتھا ہوجائیں۔ یہاں دنیا کی زندگی سے وہ زندگی ماد ہے جو اوپر والے پیرے میں زیر بحث آئی ہے۔ یعنی اس کی وہ زینتیں اور رونقیں جن پر فریفتہ ہو کر انسان خدا اور آخرت کو بھول بیٹھتا ہے۔ سورة حدید میں اس اجمال کی وضاحت فرما دی۔ ملاحظہ ہو : " اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولہو وزینۃ و تفاخر بینکم تکاثر فی الاموال والاولاد کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرا ثم یکون حطاما : یاد رکھو کہ دنیا کی زندگی، یعنی کھیل کود، آرائش و زیبائش، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے مسابقت کی تمثیل اس طرح ہے کہ بارش ہو جس کی اپجائی ہوئی نباتات کافروں کے دلوں کو موہ لیں۔ پھر وہ خشک ہوجائے اور تم دیکھو کہ وہ زرد پڑگئی ہے پھر وہ چورا ہوجائے "
دنیا کی زندگی کی تمثیل : اس آیت میں کئی چیزیں قابل بحث ہیں جن پر ہم ان کے محل میں گفتگو کریں گے۔ یہاں صرف اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ دنیا کی جس زندگی کی تمثیل دی گئی ہے آیت میں اس کی وضاحت بھی فرما دی گئی ہے کہ اس سے مراد لہو ولعب اور تفاخر و تکاثر کی زندگی ہے جس میں پھنس کر امراء و اغنیاء تمام حقائق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ عیش و تنعم، سینما اور تھیٹر، کار اور کوٹھی، مال و جائداد، روپیہ اور بندک بیلنس، عہدے اور مناصب کے سوا کسی اور چیز کی ان نگاہوں میں کوئی قدر باقی رہ جاتی اور نہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کے لیے ان کے پاس فرصت ہی ہوتی۔ اسی طرح آیات زیر بحث میں فرمایا کہ یہ دنیا کی جس زندگی پر ریجھے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔ ان کو بتا دو کہ اس کی یہ بہار چند روزہ ہے۔ بارش نے وقتی رونق پیدا کردی ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب اس پر خاک اڑتی نظر آئے گی۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ جس طرح اس نے یہ بہار دکھائی اسی طرح وہ اس کی خزاں بھی دکھا دے۔
Ayah 18:46الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلا
خالی زینتیں : عرب میں چونکہ حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندانی اور قبائلی عصیت ہی پر تھا اس وجہ سے آدمی کی بڑائی کی علامتوں میں سے مال کے ساتھ اولاد کی کثرت بھی تھی۔ وہ اپنی باہمی مفاخرت کی مجلسوں میں کثرت اولاد کا ذکر خاص طور پر کرتے۔ اوپر جو مفاخرت مذکور ہوئی ہے اس میں بھی انا اکثر منک مالا و اعز نفرا، کے الفاظ اسی ذہن کی غمازی کررہے ہیں۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد جنکے عشق میں تم دیوانے ہو رہے ہو۔ یہ تو محض اس دنیا کی زینتیں ہیں اور یہ دنیا اور اسکی تمام زینتیں چند روزہ ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی بقا اور پائداری حاصل نہیں۔ خدا کے ہاں اجر اور امید کے لحاظ سے بہتر وہ اعمال صالحہ ہیں جو ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ اگر امید باندھنی ہے تو ان سے باندھو۔ ابدی برکات و نتائج انہی سے حاصل ہوں گے۔
Ayah 18:47وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الأرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا
وَتَرَى الأرْضَ بَارِزَةً۔ یعنی آج تو یہ زمین لدی پھندی نظر آتی ہے۔ اس میں پہاڑ گڑے ہوئے ہیں۔ عالیشان ایون و محل کھڑے ہیں۔ یہ باغوں اور چمنوں سے آراستہ ہے لیکن ایک دن آئے گا کہ دوسری چیزوں کا تو کیا ذکر اس کے پہاڑ بھی اکھاڑ دیے جائیں گے اور یہ ایک صفا چٹ میدان بن جاے گی۔ اس کی ہر رونق اس سے چھین لی جائے گی۔ فرمایا کہ اس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے، کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے، نہ امیر کو، نہ غریب کو، نہ آقا کو، نہ غلام کو، نہ عابد کو نہ معبود کو۔
Ayah 18:48وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا
خالی ہاتھ واپسی : اس دن سب کی پیشی تیرے رب کے حضور ہوگی صف بستہ۔ آج یہ اپنی امرت و ریاست کے گھمنڈ میں اکڑتے ہیں لیکن اس دن یہ غلاموں کی طرح اپنے رب کے آگے صف باندھے ہوئے حاضر ہوں گے اور ہم ان سے کہیں گے کہ دیکھ لو، جس طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ گئے تھے اسی طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ گئے تھے اسی طرح آج خالی ہاتھ تم ہمارے پاس حاضر ہوگئے۔ یعنی نہ آج تمہارے ساتھ تمہارے خدم و حشم ہیں اور نہ وہ اموال و اسباب جن پر تم دنیا میں نازاں تھے۔ " وترکتم ما خولناکم واء ظہورکم، جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا تھا وہ سب تم نے اپنے پیچھے چھوڑا۔ َلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا، یعنی اس بےبسی اور محرومی کا تو تمہیں بھلا کیا گمان ہوتا، تم تو اس زعم میں مبتلا تھے کہ تمہارے حساب کتاب کے لیے سرے سے کوئی دن ہی مقرر نہیں ہے۔
Ayah 18:49وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا۔
دفتر اعمال : الکتاب سے مراد لوگوں کے اعمال کا دفتر ہے۔ فرمایا کہ یہ دفتر لوگوں کے سامنے لایا جائے گا۔ اس وقت مجرم چونکہ اپنی کرتوتوں سے واقف ہوں گے۔ اس دفتر کے کھلنے سے لرزاں و ترساں ہوں گے اور جب وہ کھلے گا اور سب کا سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا تو وہ پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت ! عجب ہے یہ کتاب کہ کوئی چھوٹی بڑی بات بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں رہ گئی ہے اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ فرمایا کہ یہ اہتمام اس لیے ہوگا کہ تماہرا رب کسی پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ وہ ہر ایک کو وہی کچھ دے گا جو اس نے کمایا ہوگا۔
Ayah 18:50آگے کا مضمون۔ آیات 50 تا 59:۔ آگے آدم و ابلیس کے ماجرے کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ کیا ہے کہ تم اس انکار و تکذیب میں بالکل سنت ابلیس کی پیروی کر رہے ہو۔ تم نے اسی ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا کارساز اور معبود بنا رکھا ہے جس نے قیام تک کے لیے اولاد آدم کو دشمنی کا چیلنج دے رکھا ہے۔ یہ تم نے خدا کو چھوڑ کر نہات ہی برا بدل اپنے لیے تلاش کیا ہے۔ یہ قرآن جو تم کو سنایا جا رہا ہے، تمہارے لیے عظیم رحمت ہے۔ یہ حقیقت کو تمہارے سامنے گوناگون پہلوؤں سے پیش کر رہا ہے کہ بات تمہارے ذہن نشین ہوجاے لیکن تم رحمت کی جگہ عذاب کے اور روٹی کے بجائے پتھر کے طالب ہو اور مطالبہ کر رہے ہو کہ جب تک وہ عذاب تم کو نہ دکھا دیا جائے جس سے قرآن تمہیں ڈراتا ہے اس وقت تک تم اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو۔ آخر میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ رسول کا کام عذا لانا نہیں ہوتا بلکہ صرف انذار وتبشیر ہوتا ہے۔ تم اپنا فرض انجام دو اور ان لوگوں کو، جن کے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں ان کے حال پر چھوڑو، تمہارا رب غفور رحیم ہے اس وجہ سے ان کو مہلت دے رہا ہے۔ وہ اگر فورًا عذاب دینا چاہے تو ابھی ان کی کمر توڑ کے رکھ دے لیکن اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے تو اسی پر بھروسہ کرو اور صبر کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت کیجیے :
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا۔
ابلیس جنات میں سے تھا : آدم اور ابلیس کے ماجرے پر سورة بقرہ اعراف میں تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہاں ابلیس کی اصل و نسل سے متعلق اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ جنات میں سے تھا۔ اس نے خدا کے حکم کی نافرمانی کی اور راندہ ہوا۔ ابلیس کوئی مستقل اور غیر فانی مخلوق نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں بلکہ یہ اس جن کا لقب ہے جس نے حضرت آدم کو دھوکا دیا۔ حضرت آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ اس کی دشمنی معلوم و مشہور ہے۔ اس کی ذریت اپنے جد اعلی کے مشن کو پوری مہارت کے ساتھ پورا کر رہی ہے اور اس نے خود انسانوں میں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے ایسے پر فن دجال جیت لی ہیں کہ خود ابلیس بھی ان کو دیکھے تو ان کی کارروائی پر عش عش کر اٹھے اور ان کو داد دے کہ شاباش میرے فرزندو، خلقِ خدا کو گمراہ کرنے کے فن میں تم نے میرے بھی کان کتر لیے !
قریش کی ناعاقبت اندیشی پر اظہارِ افسوس : یہاں قریش کے متکبرین کو ابلیس اور اس کی زریت کی اسی پشیتینی عداوت کو یاد دلا کر ان کے حال پر افسوس کیا گیا ہے کہ تمہاری بدبختی کی انتہا ہے کہ تم نے ابلیس اور اس کی ذریت کو تو اپنا مرجع اور کارساز بنایا اور خدا کو چھوڑ بیٹھے۔ پھر ان سے منہ پھیر کر فرمایا کہ کیا ہی برا بدل ہے جس کو خدا کی جگہ ان ظالموں نے اپنے لیے اختیار کیا !
مشرکین عرب میں جنات کی پوجا : یہاں وہ بات یاد رکھنی چاہیے جس کا ذکر ہم سورة انعام کی تفسیر میں کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب جنات کو مختلف شکلوں میں پوجتے تھے۔ وہ ہر وادی اور ہر پہاڑ کے الگ الگ جن اور بھوت مانتے اور ان کی آفتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی جے پکارتے اور ان کو نذرانے اور چڑھاوے پیش کرتے۔ بعض جن تو اتنے خطرناک سمجھے جاتے کہ ان کو راضی رکھنے کے لیے بدقسمت لوگ اپنی اولاد تک کی قربانی پیش کرتے۔ ان کا وہم یہ تھا کہ اگر اس جن کو اپنی کسی اولاد کی قربانی دے کر راضی نہ رکھا گیا تو وہ ساری اولاد کو چٹ کرجائے گا۔
قرآن نے اس آیات میں یاد دلایا کہ ابلیس جنوں میں سے تھا مشرکین کو غیرت دلائی کہ بےشرمو ! جن کے مورث اعلیٰ نے تمہارے جد اعلی کے ساتھ یہ کچھ دشمنی کی تم ان کے یوں مرید اور نیاز مند بن کے رہ گئے ہو !
شامت زدگی کی آخری حد : بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا سے مراد مشرکین ہیں۔ یہ جملہ اظہار تعجب اور اظہار افسوس کا ہے کہ ان ظالموں نے خدا کا بدل بھی ڈھونڈا تو اپنے باپ اور ان کی ذریت کے ابدی دشمن کو، یہ شامت زدگی کی آخری حد ہے۔
Ayah 18:51مَا أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَلا خَلْقَ أَنْفُسِهِمْ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا۔
طنزیہ اسلوب کا بیان : اس آیت کا اسلوب بیان طنزیہ ہے یعنی ان شیاطین کو اس فیاضی کے ساتھ میری خدائی اور میرے حقوق میں شریک بنا دیا گیا ہے حالانکہ نہ میں نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرتے وقت ان کو بلایا کہ ذرا اس مہم میں میری مدد کریں اور نہ خود انہی کو پیدا کرتے وقت ان کو دعوت دی کہ ذرا اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بنانے کا روا دار تھا لیکن آج یہ میری خدائی میں اس طرح شریک بنا دیے گئے ہیں کہ گویا سارے کارنامے انہی کے انجام دیے ہوئے ہیں۔
Ayah 18:52وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَوْبِقًا۔
موبق کے معنی ہلاکت کا کھڈ، تباہی کا گڑھا۔
نفسی نفسی کا دن : یہ اس دن کی محرومی کو یاد دلایا ہے جس دن وہ ان مشرکین سے فرمائے گا کہ جن کو تم میرا شریک مانتے رہے ہو اب ان کو اپنی مدد کے لیے پکارو چناچہ وہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ کوئی جواب نہ دیں گے اس لیے کہ ان کو خود اپنی پڑی ہوگی، وہ دوسروں کے قضیے کیا بنیڑیں گے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان ایک تباہی کا کھڈ حائل ہوگا، نہ یہ ان کے پاس جاسکیں گے اور نہ وہ ان کے پاس پہنچ سکیں گے۔
Ayah 18:53وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا۔
بے بسی کی تصویر : اور یہ مجرم کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ سامنے جہنم تیار ہے اور اب لازماً ان کو اسی میں گرنا ہے لیکن وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے۔ یہ ان کی بےبسی کی تصویر ہے کہ آنکھوں کو دیکھتے وہ اس جہنم میں گریں گے۔
Ayah 18:54وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الإنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا۔
" مثل " سے مراد : " مثل " سے مراد یہاں عالم غیب اور آخرت کے وہ حقائق ہیں جو تمثیل کے رنگ ہیں اوپر لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے سنائے گئے ہیں اور " انسان " سے وہی جھگڑالو مخاطب ہیں جن سے یہاں بحث چل رہی ہے لیکن ان سے بیزاری کے اظہار کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تو لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہر قسم کی تنبیہات اس قرآن میں گوناگوں پہلوؤں سے بیان کردی ہیں لیکن انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نہ کوئی پہلو اعتراض کا پہلو ڈھونڈھ ہی لیتا ہے۔
Ayah 18:55وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الأوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلا
۔ الناس۔ سے مراد یہاں بھی وہی لوگ ہیں جن سے بحث چل رہی ہے اور " قبل " کے معنی سامنے اور رو در رو کے ہیں۔
مائدہ آسمانی کی جگہ قہر آسمانی کی طلب : مطلب یہ ہے کہ قرآن نے تو ہر قسم کی تنبیہا سنا دی ہیں، کوئی چیز مخفی نہیں رہ گئی ہے، لیکن جو لوگ حقیقت سے گریز کرنا چاہتے ہیں وہ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈھ ہی لیتے ہیں۔ اب ان لوگوں کا یہ مطابہ ہے کہ یا تو ان پر اسی طرح کی تباہی آجائے جس طرح کی تباہی پچھلی قوموں پر آئی اور جس سے قرآن ڈرا رہا ہے یا کم از کم یہ کہ عذاب سامنے سے آتا دکھائی دے اور وہ اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ لیں۔ اس کے بغیر وہ اس ہدایت پر ایمان لانے اور توبہ و استغفار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن ان کے آگے مائدہ آسمانی بچھا رہا ہے لیکن یہ قہر آسمانی کے طلب گار ہیں ایسے شامت زدوں کا بھلا کیا علاج ! ان کو معلوم نہیں ہے کہ جب عذاب الٰہی نمودار ہوجائے گا تو وہ دیدار کرکے واپس نہیں چلا جائے گا بلکہ ان کا کچومر نکال کر رکھ دے گا تو اس کے بعد یہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔
Ayah 18:56وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنْذِرُوا هُزُوًا
رسولوں کی بعثت کا مقصد : یہ اوپر والے مطالبۂ عذاب کا جواب ہے فرمایا کہ ہم رسولوں کو عذاب لانے کے لیے نہیں بھیجا کرتے بلکہ صرف انذار وتبشیر کے لیے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ کافروں کو عذاب سے خبردار کریں اور ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دے دیں۔ ان سے عذاب اور قیامت کو دکھا دینے کا مطالبہ کرنا ایک بالکل بےتکی بات اور حق کو باطل کے ذریعے سے پسپا کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ یہ شرارت کر رہے ہیں انہوں نے عذاب اور قیامت کی حقیقت نہیں سمجھی ہے۔ انہوں نے ہماری تنبیہی آیات اور خدا کی پکڑ کو مذاق بنا لیا ہے۔
Ayah 18:57وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا
بدقسمتوں کے حال پر افسوس : یہ ان بدقسمت لوگوں کی حالت پر افسوس کیا ہے کہ اپنی جانوں پر ان سے بڑھ کر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جن کو آیات الٰہی کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے لیکن وہ اس سے نفع اٹھانے کے بجائے ان کو ٹھکرائیں اور عذاب کا مطالبہ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ جو اعمال انہوں نے کیے ہیں ان کی بنا پر وہ ہر وقت عذاب الٰہی کے سزاوار ہیں۔ اگر ان کو مہلت مل رہی ہے تو محض خدا کی رحمت کے سبب سے مل رہی ہے۔
ختم قلوب کی سزا : فرمایا کہ یہ اپنی کرتوتوں کے سبب سے ختم قلوب کے سزوار ہوچکے ہیں اس وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے کہ وہ اس کو نہ سنیں گویا اصل تالیفِ کلام یوں ہوگی۔ اکنۃ ان یفقہوہ و فی اذانہم وقرا من ان یسمعوہ۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق " ان " سے پہلے من یا کراھۃ کا لفظ محذوف ہوگیا اور تقابل کے اصول پر فی اذانہم وقرا کے بعد ان یسمعوہ کے الفاظ حذف ہوگئے۔ وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا۔ ظاہر ہے کہ جب خدا کے قانون کے تحت ان کے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں اور ان کے کان بہرے ہوچکے ہیں تو اب تم ان کو لاکھ اللہ کی آیات سناؤ وہ ہدایت قبول کرنے والے نہیں بن سکتے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو اور صبر کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہو تاآنکہ ان پر اچھی طرح حجت تمام ہوجائے۔
Ayah 18:58وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلا
مجرموں کو مہلت دینے کی حکمت : " موئل " کے معنی پناہ کی جگہ کے ہیں۔ اب یہ سبب بتایا جا رہا ہے اس بات کا کہ جب یہ ایسے نابکار لوگ ہیں کہ یہ کبھی ہدایت قبول کرنے والے نہیں ہیں تو آخر ان کو بار زمین بنائے رکھنے سے فائدہ کیا ؟ کیوں نہ ان کے اوپر وہ عذاب بھیج کر جس کا یہ مطالبہ کر رہے ان کو ختم ہی کردیا جائے۔ فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا بخشنے ولا اور رحمت کرنے والا ہے اس وجہ سے وہ مجرموں کو بھی انتہائی حد تک مہلت دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ ان کو فوراً پکڑنا چاہے تو ان کے اعمال کی پاداش میں فورًا پکڑ لے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکتا۔ لیکن اللہ جلدی نہیں کرتا بلکہ اس نے ان کی گرفتاری کے لیے ایک وقت ٹھہرا رکھا ہے۔ جب وہ آجائے گا تو یہ اس سے کہیں نہیں بھاگ سکیں گے۔
Ayah 18:59وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَوْعِدًا۔
تاریخ کی شہادت : یہ اوپر والی بات پر تاریخی شہادت کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ سامنے ان قوموں کی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کردیا۔ یہ ان کی بستیوں پر سے اپنے سفروں میں گزرتے ہیں ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے بھی ایک وقت مقرر کیا تھا چناچہ جب وہ آگیا تو وہ تباہ کردی گئیں۔
Ayah 18:60آگے کا مضمون۔ آیات 60 تا 82:۔ صبر کی عقائدی بنیادیں : پیچھے نبی کریم ﷺ کو اعدائے حق اور مستکبرین کے مقابل میں جس صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے آگے کی آیات میں اسی مضمون کی تکمیل کردی گئی ہے۔ گویا سورة اس مقام پر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ صبر کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ یہ کوئی نفی چیز نہیں بلکہ ایک مثبت حقیقت ہے۔ اسی پر تمام حق کے قیا و بقا کا انحصار ہے۔ جس کے اندر یہ صف راسخ نہ ہو وہ نہ تو خدا کا حق ادا کرسکتا ہے نہ بندوں کا۔ اس صفت کو راسخ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عقائدی بنیادیں دل کے اندر راسخ ہوں۔ جب تک یہ بنیادیں اچھی طرح راسخ نہ ہوں صبر کو اوپر سے چپکایا نہیں جاسکتا۔ یہ عقائدی بنیادیں تین ہیں۔
ایک یہ کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے سب خدا کے اذن اور اس کے ارادہ و مشیت کے تحت واقع ہوتا ہے۔ اس کے اذن و ارادہ کے بغیر ایک ذر بھی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتا۔
دوسری یہ کہ خدا خیر مطلق اور حکیم ہے اس وجہ سے اس کا کوئی ارادہ بھی خیر اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا وہ اگر اہل باطل کو ڈھیل دیتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ باطل سے محبت کرتا یا اس کے آگے بےبس اور مجبور ہے بلکہ اس کے اندر بھی وہ کسی خیر عظیم کی پر وش کرتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ اہل حق کو مصائب و آلام میں مبتلا کرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ اسے اہل حق کے مصائب سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ وہ اس طرح ان کے لیے کسی بڑے خیر کی راہیں کھولتا ہے۔ تیسری یہ کہ انسان کے علم کی رسائی محدود ہے اس وجہ سے وہ خدا کے ہر ارادہ کی حکمت کو اس دنیا میں نہیں معلوم کرسکتا۔ اس کے ارادوں کے تمام اسرار صرف آخرت ہی میں بےنقاب ہوں گے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ خدا کے تمام فیصلوں پر صابر و شاکر رہتے ہوئے اپنا فرض ادا کرے اور مطمئن رہے کہ آج کی تلخیوں کے اندر جو شیرینی چھپی ہوئی ہے اس کے روح افزا جام انشاء اللہ کل سامنے آئیں گے۔
حضرت موسیٰ کا ایک تربیتی سفر : اس کائنات کے اس رمز کو سمجھنے کے لیے یہاں حضرت موسیٰ کے ایک ترتبیتی سفر کی سرگزت سنائی گئی ہے۔ حکمت کے اسرار واقعاتِ زندگی میں جس طرح مصور ہو کر سامنے آتے ہیں مجرد اظہار وبیان سے اس طرح سامنے نہیں آتے۔ حضرت موسیٰ کو اصلاح و تربیت کے لیے جو قوم ملی تھی وہ نہایت کمزور اور بودی تھی اور جس دشمن سے ان کا سابقہ تھا وہ نہایت جبار وقہار تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حکمت مقتضی ہوئی کہ وہ صبر میں نہایت راسخ و پختہ ہوجائیں تاکہ مخالف حالات کا پورے عزم و جزم کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔ چناچہ خدا نے ان کو اپنے ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جس کو اس نے کچھ خاص علم عطا فرمایا تھا۔ اس بندے نے حضرت موسیٰ پر خدا کے حکم سے اس کے ارادوں کے چند اسرار بےنقاب کیے جو تربیتِ صبر و رضا کے پہلو سے نہایت اہم تھے۔
مفسرین کی ایک غلط فہمی : ہمارے نزدیک حضرت موسیٰ کے اس سفر کا مقصد یہی تھا لیکن بعض مفسرین نے معلوم نہیں کہاں سے یہ فضول سی بات لکھ دی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت موسیٰ ترنگ میں آکر کسی دن یہ کہہ بیٹھے تھے کہ اس وقت مجھ سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بطور تادیب و تنبیہ ان کو اپنے ایک بندے کے پاس بھیجا کہ وہ دیکھ لیں کہ ان سے بھی بڑا ایک عالم موجود ہے۔ اول تو حضرت موسیٰ ایسی بےمحل بات فرماتے کیوں اور اگر انہوں نے فرمائی تو یہ کوئی غلط بات تو نہیں فرمائی۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ نبی سب سے بڑا عالم ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری قوم کے سامنے اس حقیقت کا آشکارا طور پر اعلان بھی کرتا ہے۔ یہ بات ہر نبی نے اپنی قوم سے کہی ہے۔ انی اعلم من اللہ ما لا تعلمون (اے میر قوم کے لوگو ! میں خدا کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)۔ لیکن کسی نبی کی یہ بات نہ تو فخر و تعلی پر محمول کی گئی اور نہ اس کی بنا پر وہ مستوجب تادیب قرار پایا تو آخر حضرت موسیٰ ہی اس کے سبب سے کیوں سزاوار تنبیہ ٹھہرے ؟ بہرحال یہ شان نزول بالکل لا یعنی ہے۔ اصل حقیقت وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ اب اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىهُ لَآ اَبْرَحُ حَتّٰى اَبْلُغَ مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا۔
" فتی " کا مفہوم : " فتی " کا ترجمہ میں نے " خامد " نوجوان " یا " لر کے " کے بجائے شاگرد کیا ہے۔ اس میں فی الجملہ " جوان " ہونے کا مفہوم بھی آجاتا ہے اور حضرت موسیٰ کے ساتھ اس جوان کے تعلق کی نوعیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس مہم میں رفاقت کے لیے جن الفاظ میں اس جوان سے استمزاج کیا ہے۔ اس سے یہی متبادر ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت محض ایک نوکر کی نہیں بلکہ ایک نوجوان صحابی کی تھی جو حضرت موسیٰ کے شاگرد بھی تھے اور ان کی خدت بھی کرتے تھے۔
" مجمع البحرن " سے مراد : " مجمع البحرین " سے مراد غالبا خلیج عقبہ اور سویز کا وہ مقام اتصال ہے جہاں سے بعد کے مراحل میں حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے ساتھ گزرے ہیں۔
" حقب " کا مفہوم : " حقب " کے معنی زمانہ، سال، 80 سال یا اس سے بھی زیادہ مدت کے ہیں۔
حضرت موسیٰ کو اس سفر کی ہدایت ظاہر ہے کہ وحی کے ذریعہ سے ہوئی ہوگی۔ انہوں نے اس کا اظہار اپنے شاگرد سے کیا اور ان کے لفظ لفظ سے اس سفر کے لیے ان کا عزم و جزم اور ذوق و شوق ٹیک رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں یا تو مجمع البحرین میں اس مقام تک پہنچ جاؤں گا جہاں پہنچنے کے لیے مجھے ہدایت ہوئی ہے یا پھر اسی منزل مقصود کی تلاش میں سالہا سال گزار دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمت ہے تو اس سفر میں ساتھ دو ورنہ یہ بندہ تو بہرحال اس محبوب سفر پر روانہ ہورہا ہے اور اس عزم کے ساتھ روانہ ہورہا ہے کہ
یا تن رسد بجانا یا جاں ز ترن بر آید۔
Ayah 18:61فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا۔
سرب کا مفہوم : سرب کے معنی برتن سے پانی کے بہہ جانے کے ہیں۔
ایک عجیب واقعہ : یہاں سرگزشت کا بہت سا حصہ حذف ہے۔ جو قرینہ سے واضح ہے۔ یعنی دونوں نے سفر کیا اور مجعم البحرین پہنچ گئے۔ یہاں ذرا دم لینے کے لیے ایک پہاڑی کے دامن میں بیٹھے، پھر وہاں سے چلے تو ناشتہ کے لیے جو مچھلی ساتھ لی تھی وہ ساتھ لینا بھول گئے۔ کچھ دور جانے کے بعد، معلوم ہوتا ہے، شاگرد کو یہ بات یاد آئی اور وہ مچھلی لینے کے لیے واپس لوٹے لیکن یہاں پہنچے تو دیکھا کہ مچھلی نے ان کے سامنے تڑپ کر پانی کی راہ لی یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ شاگرد نے غالبا اسی اندیشہ سے حضرت موسیٰ سے ذکر کرنے کی جرات نہیں کی کہ وہ اتنی عجیب و غریب بات باور نہیں کریں اور عجب نہیں کہ ان کے عتاب شدید سے دوچار ہونا پڑے چناچہ آگے کو چل پڑے، شاگرد اس حیص بیص میں رہا کہ اس واقعہ کا ذکر کروں یا نہ کروں اور حضرت موسیٰ نے خیال فرمایا ہوگا کہ شاگرد نے مچھلی اٹھا لی ہوگی۔
Ayah 18:62فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا (62)
غدا کے معنی ناشتہ اور نہاری کے ہیں اور نصب کے معنی تکان کے، یہاں غداء کا لفظ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ مچھلی بھنی ہوئی تھی۔ بےبھنی یا زندگہ مچھلی کے لیے غداء کا لفظ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔
بالآخر جب وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو حضرت موسیٰ نے شاگرد سے کہا کہ بھئی ! اس سفر نے تو تھکا دیا اب ناشتہ لاؤ تو کچھ کھالیا جائے۔