Ayah 18:63قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا (63)۔
شاگرد کی معذرت : مجبوراً شاگرد کو راز سے پردہ اٹھانا پڑا۔ جھجکتے اور ڈرتے ہوئے بولے کہ کیا عرض کروں جب ہم نے پہاڑی کے دامن میں پناہ لی تھی تو میں وہی مچھلی بھول آیا تھا اور یقیناً یہ شیطان ہی کی حرکت تھی کہ میں اس کو یاد رکھنے سے قاصر رہا۔ پھر جا کے دیکھا تو مچھلی نے نہایت حیرت انگیز طریقہ سے دریا میں اپنی راہ نکال لی۔
" ارئیت " کا لفظ یہاں قائل کی جھجک کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے ہم بولتے ہیں " کیا عرض کروں " ذرا دیکھیے تو سہی۔ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ ، کے الفاظ نہایت شستہ الفاظ میں اپنی کوتاہی کی معذرت کے لیے ہیں۔
Ayah 18:64قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (64)۔
منزل کا سراغ : شاگرد نے تو بات ڈرتے ڈرتے بتائی کہ یہ سن کر معلوم نہیں کیا عتاب نازل ہو لیکن حضرت موسیٰ یہ مژدہ سن کر پھڑک اٹھے۔ فرمایا اسی کی تو تلاش تھی ! معلوم ہوتا ہے کہ وحی یا رویا کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ کو منزل مقصود کا سراغ یہی بتایا گیا تھا کہ جس مقام پر ان کے ناشتہ کی مچھلی زندہ ہو کر پانی کی راہ لے گی وہیں ان کی ملاقات اس بند ﷺ خاص سے ہوگی جو ان پر زندگی کے کچھ خاص راز فاش کرے گا۔ چناچہ وہ یہ سراغ پاتے ہی الٹے پاؤں اپنے نقش قدم کو تلاش کرے، اس مقام پر واپس آئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
Ayah 18:65فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا (65)
حضرت خضر سے ملاقات : یہاں ان کی ملاقات ایک خاص بندے سے ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا اور جس کو اس نے اپنے کچھ خاص علم سے نوازا تھا۔ یہ کون تھے ؟ قرآن نے ان کا نام نہیں بتایا ہے۔ صرف ان کے بعض مخصوص اوصاف کا ذکر کیا ہے۔ بعض حدیثوں میں ان کا نام خضر آیا ہے۔ چونکہ ان حدیثوں کے اکار کی کوئی وجہ ہمارے پاس نہیں ہے اس وجہ سے یہی نام ہم اختیار کرلیتے ہیں۔
حضرت خضر نبی تھے : حضرت خضر علیہ السلا بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی تھے۔ اس کا اول قرینہ تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر نبی بلکہ رسول کو ان کے پاس حصول علم اور حصول تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ اگر حضرت خضر نبی نہیں تھے تو ایک نبی کا غیر نبی کے پاس حصول علم و تربیت کے لیے بھیجا جانا بالکل ناموزوں سی بات ہے۔ اگرچہ اس نام کے کسی نبی کا ذکر قرآن یا تورات میں نہیں ملتا لیکن یہ چیز کچھ اہمیت رکھنے والی نہیں ہے۔ قرآن میں، خود اس کی اپنی تصریح کے مطابق، بہت سے انبیاء کا ذکر نہیں ہے۔ یہی حال تورات کا بھی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، اپنے ہر نبی کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت دی ہے۔ حضرت خضر کو بھی ایک خاص پہلو سے فضیلت حاصل تھی اور اسی طرح حضرت موسیٰ کو بھی فضیلت حاصل تھی۔ حضرت موسیٰ کا ان سے کچھ باتیں سیکھنا اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ حضرت خضر کو حضرت موسیٰ پر مطلب فضیلت حاصل تھی۔
دوسرا قرینہ یہ ہے کہ ان کے جو اوصاف اللہ تعالیٰ نے بیان فرائے ہیں وہ حضرات انبیاء ہی سے مناسبت رکھتے ہیں۔ مثلا یہ کہ وہ ہمارے بندوں میں سے ایک خاص بندہ تھا، ہم نے اپنی طرف سے اس پر خاص فضل کیا تھا، ہم نے اس کو اپنے پاس سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔ علی ہذا القیاس انہوں نے خود اپنے کاموں سے متعلق فرمایا کہ " میں نے کوئی کام بھی خود اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ خدا کے حکم سے کیا ہے " یہ سب باتیں دلیل ہیں کہ وہ صاحب وحی نبی تھے اور ان کو یہ خاص امتیاز بھی حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے بعض ارادوں کے راز کھول دیے تھے۔
Ayahs 18:66–68تفسیر آیات 66 تا 68: قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (66) قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (68)۔
حضرت خضر اور حضرت موسیٰ کے مابین معاہدہ رفاقت : رُشْدًا کے معنی علم و حکمت کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ خاص علم ہے جو اسرار کائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت خضرت کو بخشا۔ حضرت موسیٰ نے ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اس علم خاص میں سے، جو اللہ نے آپ کو بخشا ہے، مجھے بھی کچھ سکھائیں تو کچھ عرصہ اپنی خدمت میں مجھے رہنے کی اجازت دیجیے۔ حضرت خضر نے فرمایا کہ مجھے اجازت سے تو انکار نہیں ہے لیکن تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے۔ میرے ہاتھوں ایسے کام صادر ہوں گے جن کے بھید اور جن کی حکمت سے تم واقف نہیں ہوگے اور وہ کام تمہاری نگاہوں میں عجیب اور ناگوار ہوں گے تو آخر تم ان پر کس طرح صبر کروگے ؟
Ayah 18:69قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا (69)۔ حضرت موسیٰ نے وعدہ کیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے ہر مرحلہ پر صابر پائیں گے اور میں ہرگز آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔
Ayah 18:70قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا (70)۔ حضرت خضر نے اس وعدے کے بعد اس شرط پر ان کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی کہ جو کچھ وہ کریں اس کو چپ چاپ وہ دیکھتے رہیں، اس کے متعلق اس وقت تک وہ کوئی سوال نہ کریں جب تک حضرت خضر اس کو خود نہ چھیڑیں۔
Ayah 18:71فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا (71)۔
" امر " کے معنی عجیب اور منکر کام کے ہیں۔
کشی کا واقعہ : اس قول وقرار کے بعد دونوں اپنے تربیتی سفر پر چلے اور ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی پر سوار ہونے کے بعد حضرت خضر نے کسی جگہ سے کشتی کا کوئی تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور وہ اپنے قول وقرار کو نظر انداز کرکے بول اٹھے کہ یہ حرکت کیا آپ نے اس لیے کی ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں۔ یہ تو بڑی ہی ناروا حرکت آپ نے کی۔
Ayahs 18:72–73تفسیر آیات 72 تا 73: قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (72) قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (73)۔
" ارھاق " کے معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا۔ کسی کو مبتلائے آفت کرنا، " ارھقہ عسرا " کے معنی ہوں گے اس کو تنگی میں ڈال دیا۔
خضر ؑ نے حضرت موسیٰ کو اپنی بات یاد دلائی کہ میں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے ! حضرت موسیٰ نے فوراً معذرت کی کہ بھول ہوئی، معاف کیجیے، میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری سے کام نہ لیجیے۔
Ayahs 18:74–76تفسیر آیات 74 تا 76: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76)
لڑکے کے قتل کا واقعہ : پھر کہیں کو چکے۔ راستہ میں ایک لڑکا ملا۔ خضر نے اس کو قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ پر بپھر گئے۔ بولے یہ آپ نے کیا کر ڈالا، ایک معصوم کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو، آپ نے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی بھونڈی حرکت کی ! حضرت خضر نے پھر ان کو اپنی بات یاد دلائی کہ کیا میں نہ کہہ چکا ہوں کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے۔ حضرت موسیٰ نے پھر معافی مانگی اور کہا کہ اگر میں اس کے بعد کوئی سوال کروں تو آپ کو حق ہوگا کہ آپ مجھے اپنے اتھ نہ رکھیں۔ پرھ آپ میری طرف سے معذور ہوں گے۔
Ayahs 18:77–78تفسیر ٓیات 77 تا 78: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77)۔ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78)
بستی والوں کا واقعہ : پھر آگے کو چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے۔ بھوکے تھے اس وجہ سے بستی والوں سے کچھ کھلانے کی فرمائش کی۔ شریف لوگ بن کہے بھی مسافروں کی میزبانی ایک سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس بستی کے لوگ ایسے لئیم نکلے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے دو شریف مسافروں کو، ان کی درخواست پر بھی، روٹی دینے سے انکار کردیا۔ ان کی اس کمینگی کے باوجود حضرت خضر نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ ان کی بستی کی ایک دیوار، جو گرا چاہتی تھی، محنت کرکے درست کردی۔ آخر حضرت موسیٰ سے اس پر نہ رہا گیا۔ انہوں نے ٹوکا کہ ان ناہلوں اور کمینوں کے لیے آپ نے یہ محنت بےمرد کیوں برداشت کی ؟ اور کچھ نہیں تو ان سے اس محنت کی کچھ مزدوری ہی ٹھہرا لیتے ! حضرت خضر نے فرمایا کہ بس جناب اب محبت عام ہوچکی۔ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہے۔ آئیے میں ان باتوں کی حقیقت آپ کو بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ قرینہ دلیل ہے کہ حضرت خضر نے جدائی کا یہ اعلان صرف اس بنا پر نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ پر خود ان کے اقرار کے مطابق، حجت تما ہوچکی تھی بلکہ حکمت کی وہ تعلیم بھی مکمل ہوچکی تھی جو حضرت موسیٰ کو وہ دینا چاہتے تھے۔
Ayah 18:79واقعات کی حکمت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا (79)۔
اب یہ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو اپنے ایک ایک فعل کی وہ حکمت بتائی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ فعل کرائے۔ کشتی کے اندر چھید کرنے کی حکمت یہ بتائی کہ یہ کشتی مسکینوں کی تھی جو اسی کے ذریعہ سے دریا میں محنت مزدور کرکے اپنے پیٹ پالتے تھے۔ پرے ایک بادشاہ تھا جو علاقہ کی تمام کشتیوں کو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے زبردستی قبضہ میں کررہا تھا۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ چاہا کہ مسکینوں کی اس کشتی کو عیب دار کردوں تاکہ بادشاہ اپنے مقصد کے لیے اس کو ناکارہ سمجھ کر اس پر قبضہ نہ کرے اور یہ غریب اپنی معاش کے اس واحد ذریعہ سے محروم ہونے سے محفوظ رہیں۔
یہ مثال ہے اس امر کی کہ دنیا میں غریبوں، مسکینوں اور نیکوں کو اگر کوئی مالی و معاشی نقصان پہنچا ہے تو اس نقصان کے اندر انہی کا وئی فائدہ مضمر ہوتا ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ اس پر صبر کریں، اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہیں اور اس امر پر یقین رکھیں کہ خدا کا کوئی فیصلہ بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن کوئی شخص ان حکمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا
Ayahs 18:80–81تفسیر آیات 80 تا 81: وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81)
رُحم کے معنی رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت کے ہیں۔ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا، یعنی طبیعت اور اخلاق کی پاکزگی کے اعتبار سے اس سے بہتر اور دردمندی اور مروت کے اعتبار سے اس سے زیادہ پاس ولحاظ والا۔
لڑکے کے قتل کی حکمت : اب یہ لڑکے کے قتل کی حکمت بتائی کہ اس کے ماں باپ مومن تھے اور یہ کفر پر اٹھنے والا تھا، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ جوان ہو کر ماں باپ کو اپنی سرکشی و ناسپاسی سے مبتلائے اذیت کرے گا۔ ہم نے چاہا کہ اس سرکش و نافرمان کی جگہ اللہ ان کو ایسی اولاد دے جو پاک نفس اور ہمدردی کرنے والی ہو۔ یہ مثال ہے اس بات کی کہ اہل ایمان کو اگر کوئی مصیبت جانی پہنچتی ہے تو اس میں بھی ان کے لیے کوئی خیر عظیم مضمر ہوتا ہے جس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اس وجہ سے اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کریں۔ جس دن اس کی حکمت واضح ہوگی معلوم ہوجائے گا کہ جو کچھ خدا نے کیا اسی میں خیر و فلاح تھی۔
Ayah 18:82وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا۔
دیوار کی مرمت کی حکمت : اب یہ ان لئیموں کی بستی کی ایک گرتی ہوئی دیوار کی مرمت کے لیے، بلا کسی معاوضے کے، انہوں نے جو رحمت برداشت کی اس کی حکمت سمجھائی کہ یہ دیوار درحقیقت یتیموں کی تھی، ان کے باپ نے، جو ایک نیک آدمی تھا، اس کے نیچے ایک دفینہ محفوظ کیا تھا کہ اس کے بعد یہ اس کے بچوں کے کام آئے گا، اگر یہ دیوار گرجاتی تو دفینہ بستی کے لئیموں کے ہاتھ لگ جاتا اور یہ یتیم اس سے محروم ہوجاتے۔ اس وجہ سے تمہارے رب نے یہ چاہا کہ یہ دیوار ان بچوں کے جوان ہونے تک قائم رہے تاکہ وہ جوان ہو کر اپنا دفینہ خود نکالیں یہ درحقیقت تمہارے رب نے ان یتیموں پر رحم فرمایا ہے نہ کہ اس بستی کے لئیموں پر۔ مَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي، آخر میں حضرت خضر نے یہ تصریح بھی فرما دی کہ ان کاموں سے کوئی کام بھی انہوں نے اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ ہر کام خدا کے حکم سے کیا ہے۔
یہ مثال ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں نابکاروں اور ناہنجاروں کو جو رعایت ملتی ہے اس سے قدرت کا اصل منشا نابکاروں کی پرورش کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کے پردے میں قدرت اپنی ہی کسی مصلحت، خیر کی پرورش کرتی ہے اگرچہ اس کا علم ہمیں نہیں ہوتا۔ اس قسم کی رعایتوں سے اشرار تو اپنے اور صرف خدا کی حجت پوری کراتے ہیں۔ البتہ خدا ان کے ہاتھوں اہل حق کو نکھارتا ہے اور وہی اس دنیا کی خلقت کی اصل غایت ہیں۔
ممجموعہ آیات 60 تا 82 کے بعض ضمنی فوائد : حضرت موسیٰ کی اس سرگزشت کی اصل حکمت کی طرف تو ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں لیکن اس کے بعض ضمنی فوائد بھی قابل توجہ ہیں۔ ہم بالاختصآر ان کی طرف بھی توجہ دلادینا چاہتے ہیں۔
حکمت صرف طالب صادق کو ملتی ہے : پہلی بات یہ ہے کہ جس چیز کو حکمت کہتے ہیں ہر مدعی اس کا اہل نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف طالب صادق کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ حلوائی کی دکان کا حلوا نہیں ہے کہ جس کے جیب میں پیسے ہوں، اس کو خرید لے بلکہ اس کے لیے بڑا ریاض کرنا پڑتا ہے۔ یہ گھر بیٹھے بیٹھے حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ بسا اوقات اس کی خاطر کسی خضر راہ کی تلاش میں ستو باندھ کر خشکی و تری کا سفر کرنا پڑتا ہے اور امکان اس کا بھی ہے کہ ساری عمر اس سفر ہی میں بیت جائے۔ یہ کوچۂ عشق ہے جس میں درجے اور مرتبے کے رکھ رکھاؤ سے دست بردار ہو کر سر کے بل جانا پڑتا ہے۔ اس کی خاطر اپنی انانیت قربان کرنی پڑتی ہے۔ جب تک کوئی شخص یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہ ہو وہ اس راہ میں قدم بھی نہ رکھے۔ یہ خیر کثیر کا خزانہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف ان لوگوں کے لیے خاص کیا ہے جو حکمت و معرفت کے سوا ہر خواہش و آرزو سے دست کش ہوجاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور خضر کی اس سرگزشت میں یہ ساری باتیں ازخود اس طرح واضح ہیں کہ ان کے دلائل نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری یہ کہ ہمارے لیے اصل رہنما شریعت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہر حال میں ہم اسی کی پیروی کریں اور اگر کسی کی کوئی بات اس کے خلاف دیکھیں تو اس پر نکیر کریں اگرچہ اس کا ارتکاب حضرت خضر جیسے مرشد ہی سے کیوں نہ ہوا ہو۔ چناچہ دیکھ لیجیے حضرت موسیٰ باوجودیکہ خضر کے پاس اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے گئے تھے لیکن انہوں نے ان کی کسی ایسی بات پر صبر نہیں کیا جس کو انہوں نے شریعت کے خلاف پایا۔ حضرت موسیٰ مطمئن اس وقت ہوئے ہیں جب حضرت خضر نے ان کو یہ اطمینان دلایا ہے کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے حکم خداوندی کی تعمیل میں کیا ہے، کوئی بات بھی اپنے جی سے نہیں کی ہے اور حضرت خضر کی اس بات پر بھی ان کو اطمینان مجرد ان کے کہنے پر نہیں ہوا بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ سے ان کو پہلے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ حضرت خضر خدا کے خاص بندے ہیں اور وہ جو کچھ بھی کریں گے خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔
اقطاب و ابدال کا تصور بےبنیاد ہے : اس وجہ سے ہم ان لوگوں کی بات بالکل بےسروپا سمجھتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہر دور میں حضرت خضر کی طرح کچ اقطاب و ابدال ہوتے ہیں جو بجائے خود حق و باطل کی کسوٹی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں شریعت پر نہیں پرکھی جاتیں کیونک ان کے کام براہ راست ارادۂ الٰہی کے تحت ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اقطاب و ابدال کی یہ اصطلاحات یک قلم باط ہیں۔ قرآن و حدیث میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لیکن فرض کرلیجیے کہ کوئی شخص قطب و ابدال ہے تو ہم اس کی خلاف شریعت باتوں کو کس طرح گوارا کرسکتے ہیں ؟ حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کی باتیں تو جیسا کہ معلوم ہوا، اس لیے گوارا فرمائیں کہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ حضرت خضر نے جو کچھ کیا ہے حکم خداوندی کی تعمیل میں کیا ہے لیکن ہمارے پاس کسی کے متعلق یہ معلوم کرنے کا کیا ذریعہ ہے کہ وہ قطب و ابدال ہے اور اس کو خدا نے اپنی شریعت کی خلاف ورزی کا اختیار دیا ہے ؟ خدا کی مرضیات و احکام معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہمارے پاس کتاب و سنت ہے۔ اس وجہ سے کوئی قطب و ابدال صاحب تو درکنار اگر خوجہ خضر بھی آج آجائیں اور کسی کو قتل کرکے یہ ٖصفائی پیش کریں کہ یہ انہوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں کیا ہے تو ہم ان کے عذر کو رد کرکے ان کے قتل کا فتوی دے دیں گے۔ اس لیے کہ ہمارے پاس " النفس بالنفس " کا حکم قرآن میں موجود ہے لیکن خوجہ خضر کے کسی قتل کا خدا کی طرف سے مجاز ہونے کا ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔
بعض شبہات کا ازالہ : تیسری چیز اس میں اسلوبِ بیان کا ایک اشکال ہے جو غور کرنے والے کے ذہن میں خلجان پیدا کرتا ہے وہ یہ کہ ایک طرف تو حضرت خضر اپنے ان تمام کاموں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں مَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي (میں نے ان میں سے کوئی کام بھی اپنی رائے سے نہیں کیا ہے)۔ لیکن دوسری طرف کشتی کے سلسلہ میں فرماتے ہیں فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا (میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں) پھر لڑکے کے باب میں ارشاد ہوتا ہے کہ " فخشینا " (پس ہم کو اندیشہ ہوا) " فاردنا " (پس ہم نے ارادہ کیا) پھر دیوار کے معاملہ میں کہتے ہیں کہ " فاراد ربک " (تیرے رب نے ارادہ کیا)۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی بات انہوں نے مختلف اسلوبوں سے کیوں فرمائی ؟ جب انہوں نے سب کچھ خدا کے حکم کی تعمیل میں کیا تو اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے واضح اسلوب " اراد ربک " کا تھا، پھر یہ کہنے کے کیا معنی کہ " میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں "۔ علاوہ ازیں یہ سب کچھ کیا تو تھا تنہا حضرت خضر نے نے تو آگے جمع کا صیغہ " اردنا " کیوں استعمال کیا ؟ اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کرلیا ہے تو اس سلسلہ میں " خشینا " کا لفظ جو استعمال ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل ہی ناموزوں ہے۔ خدا کو کسی چیز کا اندیشہ ہونے کے کیا معنی ؟ ان شبہات کے ازالہ کے لیے مندرجہ ذیل امور پیش نظر رکھیے :
ایک یہ کہ جب بندہ کا ارادہ بعینہ وہی ہے جو خدا کا ارادہ ہے تو وہ اس کو خدا کی طرف بھی منسوب کرسکتا ہے اور اپنی طرف بھی۔ اس میں اگر فرق ہوتا ہے تو محض بلاغت کے کسی تقاضے کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً بعض مرتبہ حسن ادب کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایک بات کو خدا کی طرف نسبت دینے کے بجائے بندہ خود اپنی طرف اس کو منسوب کرے۔ مثلاً یہاں کشتی میں چھید کرنے کا معاملہ فی الظاہر چونکہ ذرا بدنما تھا اس وجہ سے اس کو حضرت خضر نے اپنی طرف منسوب کیا۔ اور یتیموں کے دفینہ کو محفوظ کرانے کا معاملہ چونکہ فی الظاہر بھی اچھا تاھ اس وجہ سے اس کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب فرمایا۔
دوسری یہ کہ اس طرح کے مواقع میں جب متکلم اپنے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے تو گویا وہ اس پورے زمرہ کے قول یا ارادہ کی ترجمانی کرتا ہے جس کے نمائندے یا جس کے آلہ و جارحہ کی حیثیت سے وہ کسی کام کو انجام دیتا ہے۔ حضرت خضر نے یہ سارے کام چونکہ کارکنان قضا وقدر کے ایک آلہ و جارحہ کی حیثیت سے انجام دیے۔ اس وجہ سے وہ اس کی تعبیر کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرسکتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس طرح وہ فعل تنہا ان کا فعل نہیں رہا بلکہ کارکنان قضا و قدر کا فعل بن گیا۔
تیسری یہ کہ یہاں " خشینا " کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے نہیں استعمال ہوا ہے بلکہ اس کو حضرت خضر نے خاص اپنے اجتہاد کی تعبیر کے لیے استعمال کیا ہے۔ وحی یا فرشتہ کے ذریعہ سے ان کو جو حکم ہوا تھا وہ یہ تھا کہ فلاں لڑکے کو قتل کردو اس لیے کہ اس کے ماں باپ مومن ہیں اور یہ کافر و ناہنجار اٹھے گا۔ اس حکم سے خود حضرت خضر نے استنباط فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا اپنے ماں باپ پر تعدی کرے گا۔ اس وجہ سے اس کے قتل کا حکم ہوا ہے۔ یہ ان کا اپنا استنباط تھا۔ اس کی تصریح اصل حکم الٰہی میں نہیں تھی۔ اس وجہ سے حضرت خضر نے اس کو اپنے ایک اندیشہ کی حیثیت سے ذکر کیا اور اس کے لیے " خشینا " کا لفظ استعمال کیا۔
Ayah 18:83آگے کا مضمون۔ آیات 83 تا 98: یہود کا القا کردہ ایک سوال : آگے ذوالقرنین سے متعلق ایک سوال کا جواب آ رہا ہے۔ یہ سوال اٹھایا تو ہوگا یہود نے اور اس کے اٹھانے سے ان کا مقصد وہی رہا ہوگا جس کا ذکر ہم اصحاب کہف سے متعلق سوال کے ضمن میں کرچکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو پریشان کیا جائے اور دعوت حق کی راہ میں روکاٹیں ڈالی جائیں لیکن اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ انہوں نے قریش کو بنایا ہوگا۔ یہ بات کہ یہ سوال یہود کا القا کردہ ہے اس وجہ سے قرین قیاس ہے کہ ذوالقرنین سے اصل دلچسپی یہود ہی کو تھی۔ وہ ان کو، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، اپنا محسن بادشاہ سمجھتے تھے اور ان کے انبیاء کے صحیفوں میں ان کا ذکر بھی تھا۔ قرآن نے سوال کرنے والوں کی مفسدانہ ذہنیت کو جانتے ہوئے محض اس وجہ سے اس کا جواب دیا کہ ذوالقرنین کی زندگی ان متمردین اور سرگشتگان دنیا کے لیے بہت سبق آموز ہوسکتی ہے جن کی ذہنیت اس سورة میں شروع سے آخرت زیر بحث چلی آرہی ہے۔
ذوالقرنین : یہ ذوالقرنین کون تھے ؟ اس سوال کے جواب میں ہمارے مفسرین کی رائیں مختلف ہیں۔ عام طور پر لوگوں نے سکندر رومی کو ذوالقرنین قرار دیا ہے۔ بعض لوگ اس سے ایرانی بادشاہی کیخسرو (جسے خورس یا سائرس بھی کہا جاتا ہے) یا دارا کو مراد لیتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ایک حمیری بادشاہ کا ذکر ہے۔ ان میں آخر الذکر قول کے حق میں کوئی قابل ذکر دلیل نہیں ہے۔ سکندر پر بھی وہ صفت منطبق نہیں ہوتیں جو قرآن نے ذوالقرنین کی بیان کی ہیں۔ قرآن نے ذوالقرنین کو پکا موحد، سچا مومن بالآخر۔ نہایت ہی عادل اور رعایا پرور قرار دیا ہے جب کہ سکندر کے اندر ان میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں تھی۔ سکندر کی فتوحات کا دائرہ بھی اتنا وسیع نہیں ہے۔ جتنا وسیع قرآن نے ذوالقرنین کی فتوحات کا بیان کیا ہے۔ اس کے لیے ذوالقرنین کے لقب کے استعمال کی بھی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ دارا کی بعض مغربی و مشرقی مہمات کا ذکر تاریخوں میں ضرور ملتا ہے لیکن اس راہ میں اس کی حیثیت پیش رو کی نہیں ہے بلکہ وہ درحقیقت کیخسرو ہی کی قائم کردہ ریاست کو مستحکم کرنے والا تھا۔
البتہ کیخسرو کی شخصیت کے متعدد پہلو ایسے ہیں جن کی بنا پر اس کو قرآن میں مذکورہ ذوالقرنین کا مصداق قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک صاحب ایمان اور عادل بادشاہ تھا جس کی عالی ظرفی اور مقبولیت کا اعتراف تمام پرانے اور نئے مورخین کو ہے۔ قرآن نے اس کی تین مہمات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے مہمیں، مشرقی اور مغربی۔ تو تاریخ کی روشنی میں بھی ثابت ہیں۔ تیسری مہم کے بارے میں اگرچہ مورخین کوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہتے لیکن شواہد اور قرائن اس کے بھی موجود ہیں۔
یہود کے صحیفوں میں ذوالقرنین کا ذکر : یہود پر اس بادشاہ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے بابل کی اسیری سے ان کو نجات دلائی اور اس کی مدد سے بیت المقدس اور ہیکل کی ازسر نو تعمیر ہوئی۔ یہود کے انبیاء نے ان کی پیشین گوئی بھی کی تھی۔ یسعیاہ میں ہے : " خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کا دہنا ہاتھ پکڑآ کہ امتوں کو اس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں " (1۔ 54)۔
اس کی پیشین گوئی میں " خورس " " سائرس " کی ذرا سی بدلی ہوئی شکل ہے جو کیخسرو کے نام کا یونانی تلفظ ہے۔ اسی طرح دانیال نبی کا ایک مکاشفہ یوں منقول ہے : " تب میں نے آنکھ اٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑآ ہے جس کے دوسینگ ہیں۔ دونوں سینگ اونچے تھے لیکن ایک دوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دوسرے کے بعد نکلا تھا میں نے اس مینڈھے کو دیکھا کہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اس کے سامنے کھڑا ہوسکا اور نہ کوئی اس سے چھڑا سکا " (دانی ایل 8۔ 3۔ 4)
اس مکاشفہ کی تعبیر حضرت دانیال کو حضرت جبرائیل نے یہ بتائی کہ دو سینگوں سے مراد مادا اور فارس کی دو بادشاہتیں ہیں جن کو موعود بادشاہ زیر نگیں کرے گا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ کیخسرو نے یہ دونوں سلطنتیں زیرنگیں کرلیں اور اسی بنیاد پر اس کا لقب ذوالقرنین (دو سینگوں والا) قرار پایا۔ اس کا ایک مجسمہ ماضی قریب میں اصطخر کے قریب دریافت ہوا ہے جو اردشیر اول کے زمان کا نصب کردہ ہے۔ اس میں اس کے تاج میں دو سینگ بھی ابھرے ہوئے نظر آئے ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ مجرد جلال و جبروت کی علامت کے طور پر ابھارے گئے ہوں یا ان کے اندر وہی رمز پوشیدہ ہو جس کا حوالہ اوپر گزرا۔ اس روشنی میں اب آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا۔
سائرس (کیخسرو) کے لیے ذوالقرنین کا لقب : سائرس (کیخسرو) کے لیے ذوالقرنین کا لقب، معلوم ہوتا ہے، عرب کے یہود کا اختیار کردہ ہے۔ سَأَتْلُو میں ایک قسم کی اپیل مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پوچھتے ہو تو میں ان کی سرگزشت کا کچھ سبق آموز حصہ سناؤں گا۔ امید ہے گوش دل سے سنوگے اور اس سے فائدہ اٹھاؤگے۔ لفظ " ذکر " میں یاد دہانی، تذکری اور سبق آموزی کا جو مفہوم مضمر ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے۔
Ayah 18:84إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الأرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا۔
" سبب " کا مفہوم : " سَبَبَ " کے اصل معنی وسیلہ و ذریعہ کے ہیں۔ یہاں " مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا " کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مملکت میں ہر قسم کے وسائل و ذرائع موجود تھے۔
کیخسرو کی عظیم سلطنت : کیخسرو، جس کا اصل نام کو رش تھا، کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں اپنے والد کمبوچیہ کی چھوٹی سی ریاست انشان کا والی مقرر ہوا۔ برسرِ اقتدار آتے ہی اس کو مادا کے حکمران کے حملے کا مقابلہ کرنا پڑا جس میں اس کو فتح حاصل ہوئی۔ بعد کے چند سالوں میں اس نے وقت کی تمام بڑی ریاستوں کو زیر کرلیا اور بلخ اور مکران سے لے کر بحیر روم تک اس کا سکہ چلنے لگا۔ اس سے پہلے اس سے زیادہ وسیع اور پر شکوہ سلطنت کوئی اور قائم نہیں ہوئی۔
Ayah 18:85فَأَتْبَعَ سَبَبًا۔
" اتباع " کے معنی پیچھے لگنے، درپے ہونے، تعاقب کرنے کے ہیں۔ " اتبع سببا " کے معنی ہوں گے اس نے وسائل و ذرائع کا جائزہ لیا، اس کا اہتمام کیا۔ پھر یہیں سے ذرا وسیع معنی میں یہ کسی مہم کی تیاری کے لیے استعمال ہوا۔
Ayah 18:86حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا۔
مَغْرِبَ الشَّمْسِ کا مفہوم : مَغْرِبَ الشَّمْسِ تک پہنچا تعبیر ہے اس مفہوم کی کہ وہ مغرت میں ساحل سمندر تک پہنچ گیا۔ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ یعنی وہاں غروب آفتاب کے وقت ایسا نظر آتا کہ گویا وہ کسی سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے، یہاں اس ٹکڑے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ مغرب کی تمام دنیائے معلومہ جہاں تک اس وقت کے انسان کے قدم پہنچ سکتے تھے وہاں تک ذوالقرنین نے زیر نگیں کرلی۔ اب آگے سمندر تھا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ مغرب میں دنیا کی آخری حد یہی ہے اور سورج یہیں ڈوبتا ہے۔
کیخسرو کی مغربی مہم : یہ کیخسرو کی پہلی مہم کی طرف اشارہ ہے جو اس کے دارالسلطنت ہک متانہ (موجودہ ہمدان) سے مغرب کے لیے ہوئی۔ اس مہم میں اس نے مادا (موجودہ عراق و شام) اور لیڈیا (موجودہ ترکی) کو زیر نگین کیا۔ لیڈیا کے دار الحکومت سارڈیس (نزد سمرنا) میں وہاں کے حکمران کروسس کو اس نے شکست دی جس کو بابل، مصر اور اسپارٹا کی حکومتوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس مہم میں کیخسرو کے قدم بحیرہ روم کے ساحل ہی پر جا کے رکے۔
وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا۔
لفظ " قول " " صورت حال، اختیار اور رویہ " کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس فتح کے نتیجہ میں جو رعایا اس کے قبضہ میں آئی وہ اس طرح اس کے قدموں میں ہم نے ڈال دی اور ایسا اختیار اس پر اس کو دے دیا کہ چاہے وہ ان کو سزا دے چاہے ان کے ساتھ احسان کرے، کوئی اس کے اختیار و اقتدار میں مداخلت کرنے والا نہیں تھا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا نے قولاً اس کو اجازت دے دی کہ وہ چاہے ظلم کرے چاہے عدل، اس کو دونوں کا یکساں حق ہے۔ حق تو صرف عدل اور احسان کا ہے۔ ہر بادشاہ اور حکمران خدا کی طرف سے عدل و احسان پر مامور ہے لیکن اس کو چھوٹ ظلم و ناانصافی کے لیے بھی ملی ہوتی ہے۔ اگر وہ عدل کرے گا تو خدا سے اس کا انعام پائے گا اور اگر ظلم کرے گا تو اس کی سزا بھگتے گا۔ حکمرانوں کے لیے اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو خطاب کرکے دی ہے : " يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ (26): اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے، ان کے لیے سخت عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ روز حساب کو بھول بیٹھے " (ص۔ 26)
آیت زیر بحث میں ذوالقرنین سے اسی نوع کا خطاب ہے۔ جس طرح کا خطاب سورة ص میں حضرت سلیمان ؑ سے ہے : " هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39): یہ ہماری تمہارے اوپر بےحساب بخشش ہے تو چاہے تم لوگوں پر احسان کرو، چاہے روک رکھو " (ص۔ 39)
ظاہر ہے کہ یہ صرف اس آزادی کا بیان ہے جو انسان کو حاصل ہے کہ وہ چاہے کفر کی راہ اختیار کرے یا ایمان کی۔ اسی طرح اس کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اللہ کی نعمتیں پا کر چاہے جودوکرم اور احسان و انفاق کی راہ اختیار کرے چاہے خست و بخالت کی۔ اس کو آزادی دونوں کو ملی ہوئی ہے لیکن خدا کی نگاہوں میں ان میں سے پسندیدہ ایک ہی ہے اور اسی کا اس نے اپنے بندوں سے مطالبہ کیا ہے۔
Ayahs 18:87–88تفسیر آیات 87 تا 88:۔ قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا (87) وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا (88)۔
قول بلسانِ عمل : جس طرح اوپر کا قول بلسان حال ہے اسی طرح یہ قول بلسانِ عمل ہے یعنی اس نے اپنے رویہ اور طرز عمل سے یہ شہادت ہے کہ جو ظلم و فساد کی راہ اختیار کریں گے وہ اپنے ایمان و عمل کے صلہ میں خدا کے ہاں بھی اچھے انجام سے سرفراز ہوں گے اور ہم بھی ان کے معاملہ میں نہایت نرم پالیسی اختیار کریں گے۔
رویہ اور عمل کی تعبیر قول سے عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ قرآن میں یہود کا یہ قول جو نقل ہوا ہے کہ " قالوا سمعنا وعصینا " یہ، جیسا کہ بقرہ 93 کے تحت ہم نے اس کی تصریح کی ہے، ان کے عمل اور رویہ کی تعبیر ہے۔ خود اس آیات میں بھی وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا کے ٹکڑے میں قول سے مراد رویہ ہی ہے۔ اس لیے کہ اس کا ظاہر مفہوم یہی ہے کہ ہم بھی ان کے ساتھ نرم رویہ یا نرم پالیسی اختیار کریں گے بعض لوگوں نے محض اوپر کے۔ قلنا۔ اور اس " قال " کی بنیاد پر ذوالقرنین کو نبی مان لیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک مجرد یہ دلیل اس کو نبی ماننے کے لیے کافی نہیں ہے۔ البتہ اس کے ایک عادل اور خدا ترس بادشاہ ہونے کی شہادت ان آیات سے بھی ملتی ہے اور تاریخ سے بھی۔
ذوالقرنین کے متعلق تاریخ کی شہادت : مورخین لکھتے ہیں کہ سائرس کی فوج جس شہر کو فتح کرتی اس کے شہریوں کو ذرا بھی گزند نہ پہنچاتی۔ بادشاہ مفتوحہ قوموں کے لیے سراپا رحمت و شفقت تھا۔ اس نے تمام بھاری ٹیکس اور خراج بالکل معاف کردیے۔ اس کے سخت دشمن بھی جب اس کے سامنے گرفتار کرکے لائے گئے تو اس نے ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ اس کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر انہوں نے بادشاہ کو اپنی غیر مشروط وفاداری کا یقین دلایا۔ مادا کے حملہ آور بادشاہ کو، اس کے شکست کھانے کے بعد، کیخسرو نے اس کی موت تک اپنے محل میں رکھا۔ اس کو دس ہزار پیادے اور پانچ ہزار سوار عطا کیے۔ اس طرح اس کی شاہانہ حیثیت برقرار رکھی۔
ذوالقرنین مذہب زردشت کے پیرو تھے : ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ایک مومن، موحد اور آخرت پر یقین رکھنے والا بادشاہ تھا۔ تاریخوں سے بھی اس بات کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔ سائرس زردشت کا ہم عصر اور اس کا پیور تھا۔ زردشت کی اصل تعلیمات میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کا صحیح تصور ملتا ہے۔ اگرچہ بعد میں دوسرے مذاہب کی طرح یہ مذہب بھی تحریافات کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا بلکہ ثنویت کے تصورات اس پر غالب آگئے۔ دارا اپنے کتبوں میں اہورمزدا (اللہ) کا شکر ادا کرتا ہے، اپنی سلطنت کو اس کے فضل و کرم سے منسوب کرتا ہے اور اس سے راہ راست پر قائم رہنے کی توفیق مانگتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دیندار اس کو ذوالقرنین یہ سے وراثت میں ملی۔ ذوالقرنین کو انبیائے بنی اسرائیل سے بھی بڑی عقیدت تھی۔ یہ چیز بھی اس کے اندر دینی رجحانات کی تقویت کا باعث ہوئی۔
Ayahs 18:89–90تفسیر آیات 89 تا 90: ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (89) حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا (90)
کیخسرو کی مشرقی مہم : یہ کیخسرو کی دوسری مہم کا ذکر ہے۔ بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مہم مشرقی سمت میں تھی اور اس مت میں بھی وہ آخری حدود تک پہنچ گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس کا سبب مکران، قندھار اور بلخ کے وحشی اور صحرا گرد قبائل کی سرکشی ہوئی۔ انہوں نے فارس کی مشرقی سرحد پر بدامنی پھیلا رکھی تھی۔ بالآخر ذوالقرنین کو ان کی سرکوبی کے لیے اٹھنا پڑا اور یہ سارے علاقے اس نے فتح کرلیے۔ قرآن نے ان قبائل کے باب میں یہ جو کہا ہے کہ ان کے اور سورج کے مابین کوئی پردہ حائل نہیں تھا، یہ ان کے انتہائی حشی اور غیر متمدن ہونے کی تصویر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبائل گھر در اور تعمیر و تمدن سے بالکل نا آشنا اپنی وحشت کے بالکل ابتدائی دور میں تھے، اور خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔
Ayah 18:91كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۔
ذوالقرنین اعلی صفات سے متصف تھے : یہ آیت بالکل اسی موقع و محل میں ہے۔ جس موقع و محل میں سورة انبیاء کی آیت " ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل و کنا بہ عٰلمین " ہے۔ وہاں حضرت ابراہیم کے منصب امامت و ہدایت پر سرفراز کیے جانے کی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ یعنی ہم نے اگر اس کو یہ سرفرازی بخشی تو یوں ہی نہیں بخش دی بلکہ اس کی ان صلاحیتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ جو اس کو اس منصب کا اہل ثابت کرتی تھیں۔ اسی طرح یہاں ذوالقرنین کی ان فتوحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو اللہ کی عنایات سے ان کو حاصل ہویں، فرمایا کہ اس وسیع اقتدار اور عظیم امانت کو سنھالنے کے لیے جس طرف اور جن صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ان کے اندر بدرجہ کمال موجود تھیں اور ہم ان سے اچھی طرح باخبر تھے۔
Ayahs 18:92–98تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا (97) قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا (98)۔
کیخسرو کی تیسری مہم اور سد کی تعمیر : یہ کیخسرو کی تیسری مہم کا ذکر ہے۔ مورخین نے اس مہم کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے لیکن وہ اتنا بتاتے ہیں کہ بابل کی فتح کے بعد وہ شمار مشرق کی سمت میں ایک سفر پر روانہ ہوا۔ غالباً اس کی منزل بحر خزر (کیسپین) کے مشرق میں ترکستان کی جانب تھی۔ اسی سفر کے دوران وہ کسی کھڈ میں گر کر ہلاک ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس مہم کے دوران اس سد کی تعمیر کا وہ واقعہ پیش آیا ہے جس کا قرآن نے یہاں تذکرہ کیا ہے۔
یاجوج و ماجوج : یہ سد، جیسا کہ قرآن سے واضح ہے یاجوج و ماجوج کے حملوں کو روکنے کے لیے تعمیر کی گئی۔ یاجوج ماجوجوج سے مراد نوح کے بیٹے یافث کی وہ اولاد ہے جو ایشیا کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئی۔ حزقی ایل فرماتے ہیں :" اور خاوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ اے آدم زاد جوج کی طرف جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش، مسک اور توبل کا فرماں روا ہے متوجہ ہوا اور اس کے خلاف نبوت کر " (حزقی ایل۔ 38: 1)۔ " اور کہہ خداوند یوں فرماتا ہے دیکھ اے جوج ! روش، مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے پھرا دوں گا اور تجھے لیے پھروں گا اور شمال کے دور اطراف سے چڑھا لاؤں گا " (حزقی ایل۔ 39، 1۔ 2)۔
روش، مسک اور توبل کے نام اب تک رشیا، ماسکو اور توبالسک کی صورت میں موجود ہیں اور یہ علاقے فلسطین سے شمال کے بعدی اطرفا میں ہیں یاجوج و ماجوج کے قبائل بحر خزر کے شمال کی جانب اور وسط ایشیا میں منگولیا کے علاقہ میں آباد تھے۔ ایران پر ان کی تاخت ترکستان کے رستے سے بھی ہوتی تھی اور کوہ قفقاز کے درّے کی راہ سے بھی۔ کوہ قفقاز کیخسرو کے دار الحکومت سے ٹھیک شمال کو ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ بادشاہ نے کو بند کرکے اس خطرے کا سدباب کردینا چاہا ہو۔
درّہ داریال کی آہنی دیوار : کوہ قفقاز کے درۂ داریال میں ایک آہنی دیوار موجود ہے۔ سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ روایات میں ہے کہ عاسی خلیفہ واثق نے اس دیوار کی تحقیقات پر پچاس افراد کی ایک ٹیم مقرر کی، جس نے اس کے اس موقع و محل کا سراغ لگایا۔ اس دیوار کو لوگ دارا یا نوشیرواں کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن زیادہ شواہد اس بات کے حق میں ہیں کہ یہ کیخسرو نے تعمیر کرائی ہوگی۔ مثلاً یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ کیخسرو کی سلطنت کی شمالی حد کوہ قفقاز تک تھی۔ اتنا وسیع علاقہ زیر نگین کرلینا صرف اس صورت میں ممکن ہے۔ جب اس نے اس علاقہ کو فتح کرنے کے لیے کوئی اقدام کیا ہو۔ کو رش نام کا ایک شہر اور ایک دریا کوہ قفقاز کے علاقے میں اب تک موجود ہے۔ آہنی دیوار کو گورا کا نام دیا جاتا ہے جو کو رش ہی کی بگڑی ہوئی شکل معلوم ہوتی ہے۔ یہ دیوار دھات سے دو پہاڑیوں کے درمیان بنی ہوئی ہے اور اس کے نچلے حصے میں برسات کے پانی کے نکلنے کے لیے کچھ جگہ چھوڑ دی گئی ہے۔ لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری قوموں سے بھی ان لوگوں کا کوئی میل جول نہ تھا۔ اپنے علاقہ کے اندر محدود اور دوسروں سے بالکل بےتعلق زندگی رکھنے کی وجہ سے یہ دوسروں کی زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔
ذوالقرنین کا جذبہ خدمت خلق : مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ۔ " قوۃ " سے مراد یہاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رعایا نے دیوار کی تعمیر کے لیے مصارف کی فراہمی کی جو پیشکش کی وہ ازراہ فیاضی ذوالقرنین نے قبول نہیں کی۔ فرمایا کہ جہاں تک مال کا تعلق ہے وہ جتنا کچھ میرے رب نے میرے تصرف میں دے رکھا ہے وہ بہتر ہے۔ اس " بہتر " کے لفظ میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ وہ کافی ہے اور یہ بات بھی اس میں ہے کہ یہ مال ظلم وتعدی اور لوٹ مار کی ہر آلائش سے بالکل پاک ہے۔ البتہ لیبر تم فراہم کرو، میں تمہارے اور مفسدین یاجوج و ماجوج کے درمیان ایک دیوار کھڑی کیے دیتا ہوں۔ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ۔۔۔ الایۃ، " زبر " " زبرۃ " کی جمع ہے۔ اس کے معنی آہن پارے کے ہیں۔ " صدف " خول اور خلا کو کہتے ہیں۔ یہاں اس کے مثنی استعمال کرنے میں اس کے دونوں طرفوں کا لحاظ ہے۔ جس طرح " مشرقین " اور مغربین میں ان کے دونوں اطراف کا لحاظ ہے اسی طرح " صدفین " میں اس کے دونوں کناروں کا لحاظ ہے۔ مقصود یہی بتانا ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کا خلا پورا بھر دیا گیا۔
هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا۔
" دکاء " اصل میں بےکوہان اونٹنی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ہموار اور برابر کردینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اتنی عظیم الشان آہنی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی ہوگئی کہ یاجوج و ماجوج کے لیے نہ اس پر چڑھنا ممکن رہا نہ اس میں نقب لگانا تو اس کو دیکھ کر ذوالقرنین نے تنک ظرفوں کی طرح غرور کے نشہ میں یہ نہیں کہا کہ میں یہ وہ کارنامہ کیے جا رہا ہوں کہ اس کے لیے کبھی زوال نہیں بلکہ پوری تواضع اور فروتنی کے ساتھ یہ کہا کہ یہ خدمت جو انجام پائی ہے محض میرے رب کے فضل و کرم کا کرشمہ ہے۔ آج یہ دیوار ناقابل تسخیر ہے لیکن جب میرے رب کے وعدے کے ظہور کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پست و پامال کردے گا اور میرے رب کا وعدہ شدنی ہے۔
پیچھے دو شخصوں کی تمثیل کے ذیل میں مغرورین دنیا کیا یہ ذہنیت آپ پڑھ چکے ہیں کہ جب وہ اپنی کامیابی کے ہرے بھرے باغ میں داخل ہوتے ہیں تو غرور کے نشہ میں کہتے ہیں کہ ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ میں گمان بھی نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوسکے گا۔ اس کے بعد ایک عبد شاکر کی ذہنیت نمایاں فرمائی ہے کہ وہ اپنے بڑے سے بڑے کارنامہ پر بھی اپنے رب کا شکر گزار ہوتا ہے اور اللہ کے شدنی وعدہ آخرت کو یاد رکھتا ہے۔
Ayah 18:99آگے کا مضمون۔ آیات 99 تا 110:۔ اب آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ یہ خاتمہ نہایت بلیغ گریز سے شروع ہوا ہے۔ ذوالقرنین نے اپنے عظیم بند کو دیکھ کر یہ جو فرمایا کہ جب میرے رب کے شدنی وعدہ قیامت کے ظہور کا وقت آئے گا تو یہ ساری بلندیاں پست اور یہ تمام تعمیرات مسمار ہوجائیں گی، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ قیامت کی یاد دہانی اور سرگشتان دنیا کی تنبیہ کا ذریعہ بنا لیا اور انذار کا وہ مضمون جس سے سورة کا آغاز ہو تھا ایک نئے اسلوب سے پھر سامنے آگیا۔ ہم نظم قرآن کی اس خصوصیت کی طرف متعدد مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں کہ سورتیں بالعموم اسی مضمون پر ختم ہوتی ہیں۔ جس مضمون سے ان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سورة کی تمہید اور خاتمہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے یہ خصوصیت یہاں بھی موجود ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا۔
بعض آثار قیامت کی طرف اشارہ : ذوالقرنین کے مذکورہ بالا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ۔۔ الایۃ پر عطف کرکے یہ اللہ تعالیٰ نے ظہور قیامت کے مزید آثار کی وضاحت فرما دی جس سے ذوالقرنین کی بات پوری ہوگئی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی جو حدبندیاں ہیں وہ سب ایک دن ختم ہوجائیں گی۔ اور قومیں ایک دوسرے اس طرح ٹکرائیں گی جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔ سائنس کی ترقیوں نے اب دریاؤں اور پہاڑوں کی رکاوٹیں تو یوں بھی ختم کردی ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ظہور قیامت کے وقت یہ رہی سہی رکاوٹیں بھی بےمعنی ہوجائیں گی۔ اس آیت سے اور سورة انبیاء کی آیت حتی اذا فتحت یاجوج و ماجوج وھم من کل حدب ینسلون سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ قرب قیامت میں یافث کی اولاد ایک طوفان کی طرح تمام دنیا پر چھا جائے گی اور پھر اسی طوفان کے اندر سے قیامت نمودار ہوجائے گی۔ یہ باتیں اگرچہ متشابہات کی نوعیت کی ہیں ان کا صحیح علم صرف خدائے عالم الغیب ہی کو ہے لیکن اس کے جو آثار دنیا میں نمودار ہورہے ہیں ان سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ فجمعنٰہم جمعاً میں " جمعاً " کی تاکید اس حقیقت کو ظاہر کررہی ہے کہ صور قیامت سب کو جمع کرے گا۔ چھوٹے اور بڑے، عابد اور معوبد، حاضر اور غائب کوئی بھی نہیں بچے گا۔ سب پکڑ ہلائے جائیں گے۔
Ayah 18:100وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا۔
جہنم کا مشاہدہ : یعنی آج تو عقل و دل کے اندھوں کو جہنم نظر نہیں آرہی ہے لیکن اس دن ہم پر یہ جہنم ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑی کردیں گے کہ لو جس چیز کو عقل کی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے اب اس کو تجربہ کی آنکھوں سے دیکھ لو۔
Ayah 18:101الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِي وَكَانُوا لا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا۔
جہنم کا مشاہدہ : یہ ان کافروں کی صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کی عقل اس طرح ماری گئی تھی کہ پیغمبر کی کوئی یاد دہانی بھی ان کی آنکھیں کھولنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور جب ہماری تنبیہات ان کو سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔
Ayah 18:102أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلا۔
شرکاء کی تردید : یہ مخاطبوں کو متنبہ کیا ہے کہ کیا ان بدبختوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ یہ ہمارے بندوں میں سے کچھ کو اپنا مددگار و کارساز بنا لیں گے جو قیامت کے دن ہم سے ان کی سفارش کرکے ان کو چھڑا لیں گے۔ یہ محض ان کی خوش فہمی ہے۔ ایسے تمام کافروں کے لیے ہمارے پاس جہنم بطور ضیافت تیار ہے جس سے کسی کی سعی و سفارش بھی ان کو چھڑا نہ سکے گی۔