Ayah 15:41قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ توحید کا راستہ، جس سے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی تو دھمکی دے رہا ہے، کوئی کج پیچ والا راستہ نہیں ہے بلکہ یہ مجھ تک پہنچا دینے والی نہایت سیدھی اور ہموار راہ ہے۔ میرے جو بندے مجھ تک پہنچا چاہیں گے اگر وہ اس راہ کو اختیار کریں گے تو یہ راہ خود بخود ان کو میرے آستانے پر لا ڈالے گی، اس میں کج روی اور گمراہی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ صرف شامت زدہ ہی ہوں گے جو اس سیدھی راہ کو چھوڑ کر کوئی کج پیچ والی راہ اختیار کریں گے۔
یہاں صراط کے بعد عَلَيَّ جو آیا ہے۔ یہ عربی زبان کے مخصوص اسلوب کے مطابق ہے۔ عربی زبان میں کسی سیدھے راستہ کی تعریف کے لیے یہ اسلوب بیان موجود ہے کہ یہ راستہ ایسا سیدھا ہے کہ راہرو کو خود منزل پر لا ڈالتا ہے۔ کلام عرب کے شواہد نقل کرنے میں غیر ضروری طوالت ہوگی اس وجہ سے ہم صرف قرآن کے بعض نظائر پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ سورة ہود میں ہے " انی توکلت علی اللہ ربی و ربکم۔ ما من دابۃ الا ھو اخذ بناصیتہا، ان ربی علی صراط مستقیم : میں نے اللہ پر، جو میرا بھی خداوند ہے اور تمہارا بھی بھروسہ کیا، ہر جاندار کی پیشانی اس کی گرفت میں ہے۔ بےشک، میرا رب، سیدھی راہ پر ہے "۔ " بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے " یعنی اس کو پانے اور اس تک پہنچنے کے لیے مجھے بہت سی کج پیچ والی وادیاں قطع نہیں کرنی ہیں، اس کے پانے اور اس تک پہنچنے کے لیے یہ کافی ہے کہ میں توحید کی شاہراہ پر قائم و استوار اور اس کی بندگی میں سرگرم رہوں اور اس پر بھروسہ رکھوں کہ وہ ہر مشکل میں میری مدد فرمائے۔ اسی طرح سورة نحل آیت 9 میں ہے۔ " وعلی اللہ قصد السبیل ومنہا جائر۔ ولو شاء لہداکم اجمعین : اور اللہ تک پہنچانے والی سیدھی راہ ہے اور بعض راہیں بالکل کج ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر کردیتا "۔
Ayah 15:42إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ۔
ابلیس کی مہلت کی حد : " سلطان " کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس پر یہ بھی واضح فرما دیا کہ تجھے مہلت جو کچھ مل رہی ہے وہ صرف اس بات کی مل رہی ہے کہ تو لوگوں کو اپنی راہ پر چلنے کی ترغیب دے سکے اور ان کو بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرے۔ اس مہلت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تجھے یہ اختیار مل گیا ہے کہ تو جس کو چاہے گمراہی کے راستہ پر ڈال ہی دے۔ تیرا زور بس انہی پر چلے گا جو تیری پیروی کرنا چاہیں گے اور گمراہی کو پسند کریں گے۔ میرے ان بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا جو تیرے فتنوں سے محفوظ اور تیری تمام ترغیبات کے علی الرغم میری بتائی ہوئی سیدھی راہ پر گامزن رہیں گے۔
Ayahs 15:43–44تفسیر آیات 43 تا 44: وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ (43) لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ (44)۔ یہ ان لوگوں کا انجام بتایا گیا ہے جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ ایسے سارے لوگ جو میری صراط مستقیم کو چھوڑ کر ابلیس کی راہ اختیار کریں گے، خواہ وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے اور خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوگی۔ ان کو جس عذاب کی آج خبر دی جا رہی ہے اس سے وہ دوچار ہوں گے۔ لفظ " اجمعین " کے زور کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے قول لاغوینہم اجمعین پر نظر رہے۔ ابلیس نے بڑے طنطنہ کے ساتھ دعوی کیا کہ میں سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو جواب بھی بھرپور ملا کہ اگر تو سب کو گمراہ کرکے چھوڑے گا تو میں بھی ان سب کو جہنم کے حوالہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں گا۔ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، یہ جہنم کی وسعت کی تعبیر ہے اور اگر غور کیجیے تو اس میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ وہ مہلکات جو انسان کو تباہ کرنے والے اور اس کو جہنم کی راہ پر ڈالنے والے ہیں اپنی اصل کے اعتبار سے سات ہیں۔ شیطان انہی میں سے کسی ایک میں یا بالآخر ان سب ہی میں مبتلا کرکے انسان کو جہنم کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔
نظم کلام کے پہلو سے آیت کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار و بےنہایت مخلوق کو سزا دینے کے لیے ایسی وسیع جہنم کہاں سے مہیا کی جائے گی جو سب کو اپنے اندر سمیت لے۔ خدا نے ایسے مجرموں کو سزا دینے کے لیے بڑی وسیع جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں سات پھاٹک ہوں گے اور اس کے ہر پھاٹک سے جہنمیوں کے گروہ الگ الگ داخل ہوں گے۔ جُزْءٌ مَقْسُومٌ کے الفاظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہونے والوں کے درمیان ایک خاص نوعیت کی درجہ بندی ہوگی۔ اس درجہ بندی کی بنیاد کس چیز پر ہوگی، اس باب میں کوئی قطعی بات کہنا، جب کہ خود قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، مشکل ہے۔ لیکن ہمارا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ قرآن نے جن چیزوں کا اصولی مہلکات کی حیثیت سے ذکر کیا ہے وہ اگر شمار کی جائیں تو وہ سات عنوانات کے تحت آتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔ 1۔ شرک، 2۔ قطع رحم، 3۔ قتل، 4۔ زنا، 5۔ جھوٹی شہادت۔ 6۔ کمزوروں پر ظلم۔ 7۔ بغی۔ ان میں سے ہر ایک کے تحت طویل تفصیلات ہیں جن کے ذکر کا یہ محل نہیں ہے۔ ان پر تفصیلی بحث انشاء اللہ سورة بنی اسرائیل میں آیات 22 تا 38 کے تحت آئے گی۔
Ayahs 15:45–48تفسیر آیت 45 تا 48:۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (45) ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ (46) وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (47) لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (48)
خدا ترسوں کا انجام نیک : اہل دوزخ کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے ہیں۔ فرمایا کہ وہ باغوں اور چشموں کے درمیاں ابدی زندگی کے عیش و آرام میں ہوں گے۔ ان کے لیے خدا کی طرف سے یہ بشارت ہوگی کہ ادْخُلُوهَا بِسَلامٍ آمِنِينَ اب ہر قسم کے فکر و اندیشہ سے بالکل بےخوف اور نچنت ہو کر اس میں رہو اور اپنے رب کی ابدی نعمتوں سے متمع ہو۔ ان کے دل ایک دوسرے سے بالکل صاف ہوں گے اس وجہ سے وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف رخ کیے ہوئے آمنے سامنے جنت کے تختوں پر فروکش ہوں گے۔ جن لوگوں کے اندر نفسانی کدورتیں ہوتی ہیں اگر ہو کسی مجلس میں مجتمع ہوتے بھی ہیں تو ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرنے والوں میں اول تو نفسانی کدورتیں ہوتی ہی نہیں اور اگر تاویل و اجتہاد، رائے و قیاس اور رجحان و ذوق کے کسی اختلاف کے باعث ان کے اندر کوئی شکر رنجی ہوتی بھی ہے تو کشف حقیقت کے بعد وہ بھی دور ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کے اثرات سے بھی انکے دلوں کو پاک کردے گا اور وہ باہم بالکل شیر و شکر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جائیں گے۔ لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ بہتر سے بہتر عیش و آرام کی زندگی بھی ہوگی اور ہر لمحہ خدا کی نعمتوں میں ایسی گوناگی و بوقلمونی ہوگی کہ اہل جنت کی طبیعت کبھی اس سے اچاٹ نہیں ہوگی۔ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ، یہ خلود کی بشارت ہے اور یہ سب سے بڑی بشارت ہے۔ بہتر سے بہتر عیش و آرام کی زندگی بھی حاصل ہو لیکن اس کے ساتھ یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ کہ یہ ارضی یا فانی ہے تو سارا عیش کر کرا ہو کے رہ جاتا ہے۔ اہل جنت اس کھٹکے سے بالکل محفوظ ہوں گے۔ انہیں عیش و آرام کی جو زندگی حاصل ہوگی اس سے وہ کبھی محروم نہیں کیے جائیں گے ،
Ayah 15:49آگے کا مضمون۔ آیات 49 تا 79: قریش کے مغروروں کو تنبیہ : آگے پہلے تو ایک مختصر تمہید ہے جس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ خدا کی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ بڑا غفور و رحیم بھی ہے اور بڑا منتقم وقہار بھی۔ پھر قریش کے ان مغروروں کو جو پیغمبر ﷺ فرشتوں کو دکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ متنبہ کیا گیا ہے کہ فرشتوں کا آنا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ وہ جب آتے ہیں تو کسی مہم ہی پر آتے ہیں۔ اس حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے قوم لوط کی سرگزشت سنائی گئی ہے جن کی بستیوں پر سے قریش کو اپنے تجارتی سفروں میں آئے دن گزرنے کے مواقع ملتے تھے اس سرگزشت کو سنانے سے مقصود قریش کو آگاہ کرنا ہے کہ اگر فرشتوں کو دیکھنے کا ارمان رکھتے ہو تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے بھی تیار رہو جو قوم لوط کا ہوا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت کیجیے۔
تفسیر آیت 49 تا 50۔ نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (49) وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الألِيمُ (50)
اللہ تعالیٰ سے متعلق صحیح تصور : یہ آیت اللہ تعالیٰ سے متعلق صحیح تصور کی وضاحت کرتی ہیں کہ اس کی ڈھیل سے کسی کو اس مغالطے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ نیک اور بد دونوں اس کی نظر میں یکساں ہیں۔ وہ بڑا مہربان بھی ہے اور بڑا ہی منتقم اور قہار بھی۔ جو لوگ اس کی سیدھی راہ پر چلتے ہیں ان کے صبر کی آزمائش کے لیے ان کو امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے لیکن بالآخر وہی لوگ کامیاب وبامراد ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اس کی راہ سے انحراف اختیار کرتے ہیں اگرچہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو ڈھیل ملتی ہے تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے لیکن بالآخر ان کو ان کے اس انحراف کی سزا مل کے رہتی ہے۔
Ayahs 15:50–53تفسیر آیات 51 تا 53: وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ (51)إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ (52) قَالُوا لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ (53)
تاریخ کی ایک شہادت : مذکورہ بالا حقیقت کی تائید میں یہ تاریخ کی ایک شہادت پیش کی گئی ہے کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لیے صاعقہ عذاب لے کر آئے۔ قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ ، فرشتوں سے حضرت ابراہیم کا یہ ارشاد اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ فرشتوں کا یوں علانیہ آنا کسی مہم ہی کے لیے ہوسکتا ہے اس وجہ سے ان کی اس آمد سے ان کو اندیشہ ہو اور انہوں نے اپنے اندیشے کا ان کے سامنے اظہار بھی کردیا۔ قریب ہی قوم لوط موجود تھی اور اس کا اخلاقی فساد اپنی آخری حد کو پہنچ چکا تھا اس وجہ سے فرشتوں کو دیکھ کر حضرت ابراہیم نے یہ محسوس فرمالیا ہوگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط کی شامت اب آگئی ہے اور یہ فرشتے ان کی اسی شامت کا پیش خیمہ ہیں۔ فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اطمینان دلایا کہ آپ اپنے باپ میں کسی بات کا اندیشہ نہ کریں، جہاں تک آپ کا تعلق ہے ہم آپ کے لیے تو ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے ہیں۔ فرزند کے لیے " علیم " کی صفت کا حوالہ دے کر فرشتوں نے گویا ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی کردیا کہ وہ فرزند صرف فرزند ہی نہیں ہوگا بلکہ علم نبوت سے بھی سرفراز ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس چیز نے اس بشارت کی قدروقیمت بہت بڑھا دی۔ بیٹے کے لیے بڑی سے بڑی چیز جس کی حضرت ابراہیم تمنا کرسکتے تھے وہ یہی ہوسکتی تھی کہ وہ نبی ہو۔
Ayah 15:54قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ۔ حضرت ابراہیم کا حسن طلب : حضرت ابراہیم ایک ذی علم فرزند کی بشارت سن کر جس قدر خوش ہوئے ہوں گے وہ ظاہر ہے لیکن ظاہری حالات کے اعتبار سے اس بشارت کا ظہور میں آنا چونکہ نہایت مستبعد تھا اس وجہ سے آپ نے چاہا کہ اس کی مزید تصدیق کرالیں چناچہ انہوں نے نہایت خوب صورت پیرایہ میں فرمایا کہ کیا یہ بشارت آپ لوگ مجھے اس وقت دے رہے ہیں جب کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے تو کس بل پر یہ بشارت دے رہے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بشارت من جانب اللہ ہے تو اس کی تصریح ہوجائے۔
Ayah 15:55قَالُوا بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلا تَكُنْ مِنَ الْقَانِطِينَ۔ " حق " کے معنی امر واقعی اور ہو کے رہنے والی بات کے ہیں۔
فرشتوں کی اطمینان دہانی : فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اطمینان دلایا کہ آپ ظاہری حالات کی نامساعدت سے بد دل اور مایوشس نہ ہوں، ہم نے آپ کو جو بشارت دی ہے ایک امر واقعی کی بشارت دی ہے اور حالات ظاہر خواہ کتنے ہی ناموافق و نامساعد ہوں لیکن یہ بات ہو کے رہے گی۔ فرشتوں کے اس جواب میں یہ بات مضمر ہے کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہے اور جو بات من جانب اللہ ہے اس میں حالات کی مساعدت و نامساعدت کا سوال پیدا نہیں ہوتا اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 15:56قَالَ وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلا الضَّالُّونَ۔ حضرت ابراہیم کو جب یہ اطمینان ہوگیا کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہی ہے تو بےساختہ ان کی زبان مبارک سے یہ کلمہ نکلا کہ جس سے ان کا وہ جذبہ شکر وسپاس بھی ظاہر ہورہا ہے جو اس بشارت کے باب میں اطمینان حاصل ہوجانے کے بعد ان کے اندر پیدا ہوا اور یہ بات بھی ظاہر ہورہی ہے کہ فرشتوں سے جو سوال انہوں نے کیا وہ خدا کے فضل و رحمت سے مایوسی کی بنا پر نہیں تھا بلکہ محض ظاہری اسباب کی نامساعدت کی بنا پر تھا۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی انہوں نے ظاہر فرمادی کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی جو لوگ خدا کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں وہ ایمان سے محروم اور گمراہ ہوتے ہیں۔
Ayah 15:57قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ۔ لفظ " خطب " کا غالب استعمال کسی اہم معاملہ اور کسی امر عطیم کے لیے ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم یہ بشارت سن کر اپنے معاملے میں تو مطئن ہوگئے لیکن ان کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ محض ایک فرزند کی ولادت کی خوش خبری پہنچانے کے لیے تو اس طرح فرشتوں کی ایک پوری جماعت کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا اس صورت میں آنا تو ضرور کسی اہم مقصد ہی کے لیے ہوسکتا ہے۔ پھر قریب ہی قوم لوط کا اخلاق فساد اپنی آخری حد کو پہنچ چکا تھا اور ان کے حالات سے حضرت ابراہیم بیخبر نہیں تھے اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں یہ خیال بھی گزرا ہو کہ ہو نہ ہو یہ بجلی اسی خرمن فساد پر گرنے والی ہے۔ چناچہ انہوں نے فرشتوں سے یہ سوال کر ہی دیا کہ فرزند کی ولادت کی خوش خبری تو میں نے سن لی، اب یہ بتائیے کہ اس وقت آپ لوگ کس مہم پر مامور کرکے بھیجے گئے ہیں۔
Ayahs 15:58–60تفسیر آیت 58 تا 60: قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُجْرِمِينَ (58)إِلا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ (59)إِلا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ (60)۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں، اس اسلوب بیان سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک تو اس سے فرشتوں کے اس غصہ و غضب کا اظہار ہو رہا ہے جو ان کو قوم لوط پر تھا۔ چناچہ انہوں نے بجائے یہ کہنے کہ ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے یہ کہا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر اس قوم کے خلاف اتنی شدید نفرت تھی کہ ان کو اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں ہوا۔
دوسری اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ کسی قوم پر اللہ کا فیصلہ کن عذاب اس وقت آیا کرتا ہے جب آوے کا آوا ہی بگڑ جاتا ہے اور اس پر اخلاقی فساد اس طرح مسلط ہوجاتا ہے کہ ان کے اندر بھلے آدمی یا تو سرے سے رہ ہی نہیں جاتے یا کچھ افراد ہوتے بھی ہیں تو اس فاسد ماحول کے اندر ان کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جاتی ہے۔ إِلا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ۔ لفظ " اٰل " کے اندر چونکہ اتباع بھی شامل ہوتے ہیں اس وجہ بعید نہیں کہ کچھ لوگ حضرت لوط ؑ پر ایمان بھی لائے ہوں۔ فرشتوں نے حضرت ابراہیم کے سامنے حضرت لوط اور ان کے اتباع کے باب میں یہ تصریح اس لیے ضروری سمجھی کہ قوم لوط کے لیے عذاب کا فیصلہ سن کر قدرتی طور پر ان کے دل میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہوگی کہ لوط اور ان کے مال و اتباع کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟ فرشتوں نے ان کی یہ تشویش دور کرنے کے لیے بتا دیا کہ ہم ان سب کو اس عذاب سے بچا لیں گے۔ إِلا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ ، فرشتوں نے اس نجات سے صرف حضرت لوط کی بیوی کو مستثنی رکھا۔ اس کی بابت فرمایا کہ اس کو ہم نے تاک رکھا ہے کہ وہ مبتلائے عذاب ہونے والوں کے ساتھ ساتھ ہی رہے گی اور اسی عذاب میں مبتلائے عذاب ہونے والوں کے ساتھ ساتھ ہی رہے گی اور اسی عذاب میں مبتلا ہوگی۔ اس تصریح سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ خدا کا قانون بالکل بےلاگ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زد سے پیغمبر کی بیوی بھی محفوظ نہیں رہتی۔ بلکہ لفظ قدرنا کے صحیح مفہوم کو پیش نظر رکھیے تو اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ پیغمبروں اور نیکوں سے قرابت رکھنے کے باوجود اگر کوئی شخص، خواہ مرد ہو یا عورت، بدی کی راہ اختیار کرے تو وہ خدا کے غضب کا دوسروں کے مقابل میں زیادہ سزاوار ٹھہرتا ہے۔
Ayahs 15:61–62تفسیر آیات 61 تا 62: فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ (61) قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ (62)۔ حضرت ابراہیم کو بشارت دے کر یہ فرشتے حضرت لوط کے پاس پہنچے حضرت لوط نے ان کو دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ لوگ اس علاقے کے تو ہیں نہیں تو آخر یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس غرض سے آئے ہیں، بالآخر انہوں نے فرمایا کہ آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ لوگوں کو پہچان نہیں رہا ہوں۔ براہ کرم آپ لوگ اپنا تعارف کرائیے۔
Ayahs 15:63–64تفسیر آیت 63 تا 64: قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ (63) وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ (64)۔ فرشتوں نے کہا ہم آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے بلکہ ہم وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتے رہے ہو، لیکن وہ برابر شک ہی میں پڑے رہے، " حق " کے معنی یہاں، جیسا کہ آیت 8 میں گزر چکا ہے، عذاب اور شدنی کے ہیں۔ یہ ظاہر کردینے کے بعد کہ ہم عذاب کو لے کر آئے ہیں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ ہم فرشتے ہیں " وانا لصدقون " بطور تنبیہ و توثیق ہے کہ ہمیں بشر سمجھ کر کسی غلط فہمی میں نہ پڑنا۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ شدنی ہے تو اب جو ہدایت ہم کر رہے ہیں اس پر بلا تاخیر و تامل عمل کرو۔
Ayah 15:65فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ (65)۔ یہ وہ ہدایات ہیں جو فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کو اس موقع پر دیں۔ پہلی ہدایت یہ تھی کہ راتوں رات یہاں سے اپنے اہل و عیال سمیت نکل کر وہاں سے چلے جائیے جہاں کے لیے آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اس ہدایت کی وجہ، جیسا کہ آگے تصریح آرہی ہے، یہ تھی کہ صبح کو اس بستی پر عذاب الٰہی آ دھمکنے والا تھا۔ دوسری ہدایت یہ تھی کہ آپ ان سب کے پیچھے پیچھے چلیے جس طرح راعی اپنے گلے کے پیچھے چلتا ہے کہ کوئی بھیڑ ریوڑ سے الگ رہ کر بھیڑیے کا شکار نہ ہوجائے۔ تیسری ہدایت یہ تھی کہ بستی سے نکلنے کے بعد تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ کسی جگہ سے نکلتے ہوئے اس کی طرف مڑ مڑ کے دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے ساتھ انس اور لگاؤ ہے۔ یہ انس اور لگاؤ عام حالات میں تو ایک فطری چیز ہے اور ایک فطری تقاضے کو روکا یا دبایا نہیں جاسکتا لیکن جس بستی کے لیے اتمام حجت کے بعد عذاب الٰہی کا فیصلہ ہوچکا ہو اس سے نکلتے وقت اہل ایمان کو اس طرح دامن جھاڑ کے اٹھنا چاہیے کہ اس کے ساتھ دل کے لگاؤ کا کوئی شائبہ بھی باقی نہ رہ جائے۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ جب کبھی آپ کو معذب قوموں کی بستیوں پر سے گزرنے کا اتفاق پیش آتا تو آپ وہاں سے تیزی سے گزر جاتے اور دوسروں کو بھی اسی کی ہدایت فرماتے۔
Ayah 15:66وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الأمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَؤُلاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ۔ قضینا کے بعد الی کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں " ابلغنا " یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس بات کا فیصلہ کرکے اس کو آگاہ کردیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔
Ayah 15:67وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ۔ " مدینہ " سے مراد یہاں قوم لوط کی بستی سدوم ہے۔ سدوم کے گنڈوں اور بدمعاشوں کو جب پتہ چلا کہ حضرت لوط کے پاس کچھ خوب رو مہمان آئے ہوئے ہیں تو وہ خوش خوش ان کے گھر پہنچے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے، آج جی بھر کے اپنے ارمان نکالیں گے۔
Ayahs 15:68–69تفسیر آیت 68 تا 69:۔ قَالَ إِنَّ هَؤُلاءِ ضَيْفِي فَلا تَفْضَحُونِ (68) وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِ (69)۔ حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ گنڈوں نے ان کے گھر پر ہلا بول دیا ہے، ان کی اور ان کے مہمانوں کی عزت و آبرو خطرے میں ہے تو نہایت مؤثر انداز میں ان کو اپنی عزت و آبرو کا بھی واسطہ دیا اور خوف خدا کا بھی حوالہ دیا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں، ان کی عزت و آبرو کی حفاظت مجھ پر اخلاقاً فرض ہے، اگر ان پر تم نے کوئی دست درازی کی تو میں ان کی نگاہوں میں بالکل ذلیل ہو کر رہ جاؤں گا، یہ کہیں گے کہ اچھے کے گھر مہمان اترے کہ اس نے ہمیں گنڈوں اور بدمعاشوں کے حوالہ کردیا۔ پھر ان کو خوف خدا بھی یاد دلایا کہ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کی بےعزتی کرکے مجھے رسوا نہ کرو کہ میں کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہ جاؤں۔ یہ اپیل، اگر مخاطبوں کے اندر اخلاق حس کی کوئی رمق باقی ہوتی، نہایت مؤثر ہوتی اس لیے کہ مہمانوں کی عزت برے سے برے لوگوں کے اندر بھی ایک اعلی صفت سمجھی گئی ہے لیکن جن کی اخلاقی حس بالکل مردہ ہوچکی ہو ان پر اس کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔
Ayah 15:70قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ۔
بدمعاش سے بد معاش لوگ بھی اپنی بدمعاشی کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ چناچہ ان گنڈوں نے بھی اپنے اس اقدام کے لیے یہ سیاسی جواز پیدا کیا کہ تم باہر کے لوگوں سے ساز باز رکھتے ہو۔ باہر کے لوگ تمہارے پاس آتے ہیں اور تم ان سے ملتے جلتے ہو۔ تمہاری یہ سازش کسی نہ کسی دن ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے اس وجہ سے ہم یہ دھوکا کھانے کے لیے تیار نہیں کہ تم مہمانوں کے پردے میں ہمارے لیے ایک دن کوئی مصیبت لا کھڑی کرو۔
Ayah 15:71قَالَ هَؤُلاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ۔ قوم کی اخلاقی حس بیدار کیرنے کی آخری تدبیر : ان بدمعاشوں کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے یہ حضرت لوط کا آخری حربہ تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ پاجی لوگ کسی طرح اپنی خباثت سے باز آنے ولے نہیں ہیں تو فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں جو کچھ تم کرنا چاہتے ہو ان کے ساتھ کرلو لیکن خدارا میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ سورة ہود آیت 78 کے تحت ہم یہ حقیقت واضح کرچکے ہیں کہ یہ حضرت لوط کی طرف سے کوئی پیشکش نہیں تھی بلکہ یہ اپنی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کی آخری تدبیر تھی۔ اگر ان لوگوں کے اندر اخلاق حس کی کوئی رمق بھی ہوتی تو وہ سوچ سکتے تھے کہ ایک یہ شخص ہے جو اپنے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے اپنی عزت تک خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہے اور ایک ہم ہیں کہ اس کی اور اس کے مہمانوں کی عزت کے درپے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے جس طرح ایک اعلیٰ کردار کا آدمی دوسرے کی جان یا آبرو بچانے کے اپنی جان اور اپنے وقار کو خطرے میں ڈال دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
Ayah 15:72لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ۔
اتمامِ حجت اور عذاب : جب معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ حضرت لوط کا یہ آخری حربہ بھی ان بدمستوں پر کارگر نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ ان کو نہایت پیار کے انداز میں تسلی دی کہ تمہاری جان کی قسم یہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے ہورہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اب یہ راہ پر آنے والے لوگ نہیں ہیں تو تم ان کے پیچھے ہلکان نہ ہو۔ اب خدا کا عذاب ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔
Ayah 15:73فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ۔ صیحۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب الٰہی ہے جو دن نکلتے ہی ان پر آ دھمکا۔ چونکہ یہ عذاب۔ جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔ باد تند کے ساتھ رعد و برق کی صورت میں آیا تھا اس وجہ سے اس کے لیے " صیحۃ " کا لفظ نہایت موزوں ہے۔
Ayah 15:74فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ۔
عذاب کی نوعیت : یہ اس عذاب کی طرف اجمالی اشارہ ہے جو قوم لوط پر آیا۔ اس عذاب کی نوعیت پر ہمارے استاذ مولانا فراہی نے اپنی تفسیر سورة ذاریات میں مفصل بحث فرمائی ہے۔ ہم اس کا ضروری حصہ یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا کی تفسیر عربی میں ہے ہم اس کا اردو ترجمہ دے رہے ہیں۔ " قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو سخت ہو کر بالآخر حاصب (کنکر پتھر برسانے والی تند ہوا) بن گئی اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی پھر اس نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ چناچہ انہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا (ان میں سے بعض قوموں پر ہم نے کنکر پتھر برسانے والی آندھی بھیجی) نیز فرمایا، فجعلنا علیہا سافلہا وامطرنا علیہم حجارۃ من سجیل منضود (پس ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کردیا اور ان کے اوپر تہ بہ تہ سنگ گل کے پتھروں کی بارش کی) یعنی ایسی تند ہوا چلی کہ ان کے مکانات اور ان کی چھتیں سب زمین کے برابر ہوگئیں اور اوپر سے کنکریں اور ریت نے ان کو ڈھانک لیا جیسا کہ فرمایا، والمؤتفکۃ اھوی، فغشاھا ما غشی (اور الٹی ہوئی بستیاں جن کو الٹ دیا اور پھر ان کو ڈھانک دیا جس چیز نے ڈھانک دیا) " (تفسیر سورة ذاریات فراہی)
سجیل کی تحقیق : لفظ سِجِّيلٍ کی تحقیق مولانا فراہی نے سورة فیل کی تفسیر میں یہ بیان فرمائی ہے۔ ـسجیل دو فارسی لفظوں، سنگ (پتھر) اور گل (مٹی) سے معرب ہے۔ قرآن مجید نے دو طریقوں سے اس کی شرح کی ہے۔ ایک جگہ ہے " وامطرنا علیہم حجارۃ من سجیل، یعنی سجیل کے قسم کا کنکر، دوسری جگہ ہے بحجارۃ من طین، یہ لفظ چونکہ عربی زبان میں شامل ہوچکا تھا، اس وجہ سے قرآن نے اس کو استعمال کیا۔
Ayahs 15:75–77تفسیر آیات 75 تا 77: إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (75) وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُقِيمٍ (76)إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ (77)۔ " توسم " کے معنی بھانپنے تاڑنے اور کسی عبرت انگیز چیز سے درس عبرت حاصل کرنے کے ہیں۔ " سبیل مقیم " چلتا راستہ، عام گزرگاہ۔
قریش کے لیے درس عبرت : قوم لوط کی سرگزشت سنانے کے بعد اب یہ پہلے کفار قریش کو توجہ دلائی کہ اگر وہ آنکھیں رکھتے ہیں تو معذب بستیوں سے درس عبرت حاصل کریں جو ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے چلتے راستہ پر واقع ہیں جن سے آئے دن ان کو گزرنا پڑتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ سدوم اور عمورہ کی بستیاں حجاز اور شام کے تجارتی راستہ پر واقع تھیں اور یہ راستہ دونوں ملکوں کے تجارتی قافلوں کی عام گزرگاہ تھا۔
پھر خاص طور پر آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کو توجہ دلائی کہ اس سرگزشت میں ان کے لیے بھی بہت بڑی نشانی ہے کہ اہل حق کو اگرچہ امتحانات پیش آتے ہیں لیکن بالآخر وہی خدا کی رحمت کے سزاوار ٹھہرتے ہیں اور ان کے دشمن پامال ہو کے رہتے ہیں۔
Ayah 15:78آگے کا مضمون۔ آیات 78 تا 96: آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض دوسری قوموں کا اجمالی تذکرہ اور ان کی اس تکذیب کے انجام کا بیان ہے پھر نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم اپنی دعوت حق پر جمے رہو، اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے بھی اپنی پیش رو قوموں ہی کی تقلید کی تو ان کا بھی وہی انجام ہونا ہے جو ان کا ہوا اور تم ان کے رویہ سے بددل نہ ہو بلکہ خوبصورتی سے درگزر کرو۔ انجام کار کی کامیابی تمہارا اور تمہارے ساتھیوں ہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلات کیجیے۔
وَإِنْ كَانَ أَصْحَابُ الأيْكَةِ لَظَالِمِينَ۔ " اصحٰب الایکۃ " سے مراد۔ " اصحب الایکۃ " سے مراد اصحاب مدین ہیں جن کی طرف حضرت شعیب ؑ رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ " ایکہ " کے معنی جھاڑی اور ربن کے ہیں۔ مدین کے پاس ایک بہت بڑا بن بھی تھا اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے بھی معروف تھے۔ اس سورة میں چونکہ قریش کو عذاب الٰہی کے ان زمینی نشانات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن پر سے ان کو اپنے تجارتی سفروں میں برابر گزرنے کے مواقع معلتے تھے اس وجہ سے معذب قوموں کا ذکر مقامات اور ارضی نشانات کی نسبت کے ساتھ ہی آیا ہے۔ " ظالمین " سے یہاں ان کے شرک و کفر اور صراط مستقیم سے انحراف کی طرف اشار ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ جو لوگ اس ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں وہ خدا کے سب سے بڑے حق (توحید) سے بھی انکار کرتے ہیں اور خود اپنی جانوں پر بھی ظلم ڈھاتے ہیں اور بالآخر اس انجام سے دوچار ہوتے ہیں جو اس ظلم کی پاداش میں قدرت کی طرف سے ان کے لیے ظاہر ہوتا ہے۔
Ayah 15:79فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ۔ " انتقام " سے مراد یہاں وہ پاداش عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ان کے لیے ظاہر ہوئی۔ " وانہما " میں مثنی کی ضمیر سے اصحاب الایکہ کے ساتھ قوم لوط کی بستی کی طرف بھی اشارہ کردیا جس کا ذکر اوپر گزرچکا ہے کہ ان دونوں ہی بستیوں کے آثار و نشانات ڈھکے چھپے نہیں ہیں بلکہ ایک کھلی شاہراہ پر واقع ہیں جس سے اہل عرب کے قافلوں کو آئے دن گزرنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ امام مبین کا مفہوم بالکل وہی ہے جو اوپر سبیل مقیم کا بیان ہوچکا ہے۔ کھلی شاہراہ، عام گزرگاہ، چلتا راستہ۔ راستہ چونکہ رہنما ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے " امام " کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 15:80وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ۔ حجر شمالی عرب اور شام کے درمیانی علاقہ کو کہتے ہیں۔ یہ علاقہ قوم ثمود کا مسکن تھا جن کے اندر حضرت صالح ؑ کی بعثت ہوئی۔ اوپر ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں قریش کو معذب اقوام کے ان آثار و نشانات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن پر سے ان کو برابر گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ اسی وجہ سے قوم ثمود کا ذکر بھی ان کے مسکن کی نسبت کے ساتھ ہوا، سرزمین لوط، سرزمین شعیب اور علاقہ حجریہ تینوں خطے باہم متصل ہیں اور عرب قافلوں کی یہ عام گزرگاہ تھے۔
ایک سوال اور اس کا جواب : ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قوم ثمود نے تکذیب تو صرف حضرت صالح ؑ کی کی تھی تو لفظ " مرسلین " جمع کیوں استعمال ہوا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے ان کے جرم کی شدت اور سنگینی ظاہر ہورہی ہے۔ خدا نے جتنے رسول بھیجے سب کی دعوت ایک اور سب کا پیغام واحد رہا ہے۔ اس وجہ سے جس نے ان رسولوں میں سے کسی ایک کی بھی تکذیب کردی اس نے گویا سب کی تکذیب کردی۔