11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 11:59–60

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ قوم عاد ہے۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جبار و سرکش کی بات کے پیچھے لگے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے روز بھی۔ سن لو کہ عاد نے اپنے رب کا انکار کیا، سن لو کہ ہلاکی ہو ہود کی قوم عاد کے لیے

تفسیر آیات 59۔ 60:۔ وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔ وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ :۔ قریش کو تنبیہ : " تلک " کا اشارہ مخاطب یعنی قریش کو اس سرگزشت کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے کہ ان کے انجام سے سبق لو اور عبرت پکڑو یہ کسی دوسرے کی سرگزشت نہیں، تمہاری اپنی ہی سرزمین کا ماجرا ہے۔ جحدوا بایات ربہم، انہوں نے بھی تمہاری ہی طرح اپنے رب کی نشانیوں کا دیدہ و دانستہ، جیسا کہ دوسری جگہ تصریح ہے، انکار کیا۔ وعصوا رسولہ، اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اگرچہ بظاہر انہوں نے نافرمانی ایک ہی رسول۔ حضرت ہود۔ کی کی تھی لیکن لفظ جمع کا رسل استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعتبار اصل علت فعل کا ہوتا ہے نہ کہ مخصوص فعل کا۔ جس علت کی بنا پر انہوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا اس کی موجود گی کی صورت میں کسی رسول کے ساتھ بھی ان کا معاملہ اس سے مختلف نہیں ہوسکتا تھا۔ واتبعوا امر کل جبار عنید۔ یعنی رسولوں کی تو انہوں نے نافرمانی کی اور سرکشوں اور ضدیوں کی بات مانی۔ انجام اس بدبختانہ روش کا یہ ہوا کہ واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ ویوم القیامۃ، اس دنیا میں بھی انکے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور آخر میں بھی ان کے پیچھے یہ لعنت لگی رہے گی۔ یہ حقیقت بھی یہاں پیش نظر رہے کہ اس دنیا میں انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ ایک رحمان کا، دوسرا شیطان کا اور انہی میں سے کسی ایک کی پیروی اس کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر وہ رحمان کے راستہ کو نہیں اختیار کرے گا تو لازماً شیطان کی پیروی کرے گا۔ بیچ کی کوئی اور راہ نہیں ہے۔ آخر میں قریش کو پھر متبہ کیا کہ کان کھول کر سن لو کہ عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ الا بعدا لعاد قوم ھود، سن لہ کہ قوم عاد پر خدا کی مار۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے دعوت دی اے میری قوم کے لوگوں اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، میرا رب قریب بھی ہے، قبول کرنے والا بھی

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ۔ عاد کے بعد عرب کی قدیم اقوام میں ثمود نے اپنی تمدنی و تعمیری ترقیوں کے اعتبار سے بڑی شہر حاصل کی۔ اعراف 74 کے تحت ان کی تعمیری ترقیوں کا ذکر گزر چکا ہے۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کے اپنے ہی بھائی بند تھے تاکہ قومی اجنبیت کسی وحشت و بیگانگی کا باعث نہ بنے۔ انہوں نے توحید کی دعوت کے ساتھ اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ یہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کا اور تمہیں اس کی تعمیر و ترقی میں لگا دیا۔ ھو انشاکم من الارض واستعمراکم فیہا، استعمرہ فی المکان، کے معنی ہیں اس کو اس کی اصلاح و تعمیر میں لگا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو تعمیر و تمدن میں جو ترقی نصیب ہوئی ہے تو یہ بھی خدا ہی کا عطیہ ہے، اسی کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی بدولت تم یہ کارنامے انجام دینے کے قابل ہوئے تو ان کارناموں پر مغرور ہو کر زمین میں فساد برپا کرنے والے نہ بنو بلکہ اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرو۔ ان ربی قریب مجیب۔ میرا رب قریب بھی ہے اور دعاؤں اور التجاؤں کو قبول کرنے والا بھی۔ یعنی اس کو پانے کے لیے یہ کافی ہے کہ تم اخلاص کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرو۔ تمہارے ان شفاء و شرکاء کی مطلق ضرورت نہیں ہے جن کو تم اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے شرط لازم ٹھہراتے ہو۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ بولے کہ صالح، اس سے پہلے تو ہمارے اندر تم بڑی امیدوں کے مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ! اور ہم تو اس چیز کے سبب سے جس کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو بڑی ہی سخت الجھن میں پڑگئے ہیں

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۔ مرجو، سے مراد وہ شخص ہے جس کی اٹھان ایسی اچھی رہی ہو کہ وہ قوم وقبیلہ کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز بن جائے اور لوگ مستقبل میں اس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرنے لگیں۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ نخل فطرت کے بہترین ثمر تھے اس وجہ سے منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی وہ اپنی پوری قوم میں اپنی اعلی صلاحیتوں اور اپنے پاکیزہ اخلاق و اوصاف کے اعتبار سے نہایت ممتاز ہوئے ہیں۔ ان کے اس وصف کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب وہ نبوت کے دعوے کے ساتھ سامنے آتے تو لوگ سنجیدگی کے ساتھ ان کی بات پر غور کرتے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ انبیاء کی قوموں کا معاملہ بالعموم اس کے برعکس رہا ہے۔ جس شخص کو وہ زندگی بھر صادق اور امین مانتے رہے جو نہی اس نے اپنی نبوت کا اظہار کیا اس کو کذاب اور مفتری کہنے لگے اور اس کی جان کے درپے ہوگئے۔ صرف تھوڑے لوگ ایسے نکلے جنہوں نے معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی توفیق پائی۔ حضرت صالح پر قوم کے اعتراضات : حضرت صالح کی قوم کو بھی پہلے ان سے بڑا حسن ظن تھا لیکن جب وہ نبی کی حیثیت سے سامنے آئے، توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا تو ان کا سارا حسن ظن غائب ہوگیا۔ وہ بولے کہ ہم تو تم سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے کہ تم سے باپ دادا کا نام روشن اور دین آبائی کی عزت و عظمت میں اضافہ ہوگا لیکن تم اچھے نکلے کہ ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روکنے اٹھ کھڑے ہوئے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے۔ بھائی، سچی بات تو یہ ہے کہ اس دعوت کے سبب جو تم ہمیں دے رہے ہو ہم سخت شک اور الجھن میں پڑگئے ہیں۔ اتنھانا ان نعبد میں " عن " محذوف ہوگیا ہے۔ اصل میں " عن ان نعبد " ہے، مما تدعوانا الیہ سے حضرت صالح کی دعوت توحید مراد ہے۔ شک کے ساتھ مریب کی صفت سے مضمون میں یہ اضافہ ہوگیا ہے کہ تمہاری اس دعوت سے ہماری امیدوں کو بڑا دھکا لگا ہے۔ ہم کیا توقعات لیے بیٹھے تھے اور تم کیا فتنہ لے کر اٹھ کھڑے ہو۔ " ارابہ " کے معنی لغت میں اذعجہ واتلقہ کے ہیں۔ یعنی اس نے اس کو اضطراب اور الجھن میں ڈال دیا۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے رحمت خاص سے بھی مجھے نوازا تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی پکڑ کے وقت کون میرا مددگا ہوگا۔ سو تم میری بربادی ہی میں اضافہ کرو گے

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ۔ حضرت صالح کا جواب : بینۃ اور رحمۃ پر آیات 17 آیت 28 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تو جو دعوت دے رہا ہوں وہ میری فطرت کی آواز بھی اور مزید برآن وحی الٰہی کی تعلیم بھی جو مجھے براہ راست حاصل ہوئی تو اب اگر میں اس راہ سے ہٹ کر کوئی اور راہ اختیار کروں تو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے والا کون بنے گا ؟ فما تزیدوننی غیر تخسیر۔ یعنی اگر میں یہ راہ چھوڑ کر تمہاری توقعات پوری کرنے میں لگ جاؤ تو تم میری بدبختی اور نامرادی ہی میں اضافہ کروگے، خدا کے مقابل میں میری کوئی مدد ہیں کرسکو گے۔
Ayahs 11:64–65

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لیے ایک نشانی تو اس کو چھوڑو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرے چگے اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ ایک قریبی عذاب تمہیں آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ تب اس نے کہا کہ اب تین دن اور اپنی بستی میں رس بس لو۔ یہ دھمکی جھوٹی نہیں ہونے کی

تفسیر آیات 64۔ 65:۔ وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌفَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۔ ناقہ کا معجزہ : بعینہ یہی مضمون کم و بیش انہی الفاظ میں اعراف آیت 73 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے تمام اہم اجزا کی بھی تشریح کی ہے اور ناقہ کی شانی کے ظہور کا موقع و محل اور اس کا مقصد بھی واضح کیا ہے۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پس جب ہمارا حکم صادر ہوا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے اپنے خاص فضل سے اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی بیشک تمہارا رب ہی قوی اور غالب ہے

فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ۔ قریش کو تنبیہ آنحضرت ﷺ تسلی : " امر " سے مراد وہ عذاب ہے جو ثمود پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آیا۔ اس عذاب کو لفظ امر سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت ہے کہ جونہی حکم صادر ہوا معاً عذاب آدھمکا۔ گویا امر ہی کے اندر عذاب مضمر تھا۔ نجینا صالحا والذین امنوا معہ برحمۃ منا، یعنی ہم نے اپنے خاص فضل سے صالح اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ ورنہ یہ آفت ایسی بےپناہ اور ہمہ گیر تھی کہ اللہ کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز اس سے نجات دلانے والی نہیں بن سکتی تھی۔ ومن خزی یومئذ یعنی ونجیناہم من خزی یومئذ جس طرح اوپر آیت 58 میں ہے۔ ونجیناہم من عذاب غلیظ۔ وہاں فعل کو ظاہر کردیا ہے۔ یہاں قرینہ کی موجودگی کے سبب سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ان کو کسی معمولی آفت سے نجات بخشی بلکہ اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی جس کی رسوائی معروف خواص و عوام ہے۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ رسول کی تکذیب کے نتیجہ میں جب کسی قوم پر عذاب آیا ہے تو وہ کامل تذکیر و تبلیغ اور کامل اتمام حجت کے بعد ان لوگوں پر آیا ہے جو اپنے غرور کے سبب سے کسی بات کو سننے اور سجھنے کے لی تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے اس کا نمایاں پہلو یہ بھی رہا ہے کہ اس نے ان کو صرف پامال ہی نہیں کیا بلکہ آخری درجہ میں ذلیل اور رسوا کر کے بھی رکھ دیا۔ ان ربک ھو القوی العزیز۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پیام تسکین و تسلی ہے کہ قوت اور عزت کا اصل مالک تو تیرا رب ہی ہے۔ اگر اس میں سے کسی کو کوئی حصہ نصیب ہوتا ہے تو اسی کی عنایت سے نصیبت ہوتا ہے تو تم مطمئن رہو جس طرح اس نے صالح کے دشمنوں کو ذلیل و پامال کر کے رکھ دیا اسی طرح تمہارے دشمنوں کو بھی ایک دن رسوا کردے گا اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں بن سکے گا۔
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا خدا کی ڈانٹ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ سن لو ثمود نے اپنے رب کی ناشکری کی۔ سن لو کہ ہلاکی ہو ثمود کے لیے

تفسیر آیت 67 تا 68: وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَآ اِنَّ ثَمُــوْدَا۟ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۔ قوم ثمود پر عذاب کی نوعیت : صیحۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو قوم ثمود پر آیا چونکہ لحاظ لفظ کا نہیں بلکہ مفہوم کا ہوا اس وجہ سے فعل اس کے لیے مذکر استعمال ہوا۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے سرما کی باد صرصر اور کڑک، اولے اور زلزلے کا عذاب بھیجا، فاصبحوا فی دیارہم جاثمین کان لم یغنوا فیہا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے کے پڑے رہ گئے اور اس طرح بےنام و نشان ہوئے گویا کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ الا بعدا لثمود یہ اظہار نفرت و لعنت کا جملہ ہے۔ اس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ابراہیم کے پاس ہمارے فرستادے خوش خبری لے کر آئے۔ کہا سلامتی ہو۔ اس نے بھی کہا سلامتی ہو۔ دیر نہیں گزری کہ اس نے ان کے آگے بھنا ہو بچھڑا پیش کیا

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ۔ حضرت لوط اور قوم لوط کی سرگزشت : اب آگے حضرت لوط اور ان کی قوم کی سرگزشت آرہی ہے۔ یہ آیت اس سرگزشت کی تمہید کے طور پر یہاں وارد ہوئی ہے اس لیے کہ جو فرشتے قوم لوط کے لیے عذاب لے کے آئے تھے وہی حضرت ابراہیم کے لیے بیٹے اور پوتے کی بشارت بھی لے کے آئے تھے۔ رسل سے مراد یہاں وہی فرشتے ہیں۔ بشری سے مراد جیسا کہ آگے آیت 71 میں تصریح ہے۔ حضرت اسحاق اور پھر ان سے حضرت یعقوب کی ولادت کی خوش خبری ہے۔ حضرت ابراہیم کی میزبانی فرشتوں کے لیے : قالوا سلاما قال سلام۔ یعنی انہوں نے صالح اور شائستہ لوگوں کی طرح حضرت ابراہیم کو سلام کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا۔ اور چونکہ وہ انسانی بھیس میں تھے اس وجہ سے حضرت ابراہیم فوراً ان کی میزبانی کی فکر میں لگ گئے۔ فما لبث ان جاء بعجل حنیذ اور زیادہ دیر نہیں گزری کہ انہوں نے ان کے آگے بھنا ہوا بچھڑا پیش کردیا۔ اس سے حضرت ابراہیم کی فیاضی اور مسافر نوازی کا اندازہ ہوتا ہے کہ چند آدمی دروازے پر آتے ہیں، جن سے دید و شنید کچھ بھی نہیں لیکن وہ بلا تاخیر ان کے لیے گلے سے بچھڑا ذبح کروا دیتے ہیں اور اس کے بھنا ہوا گوشت ان کے کے آگے پیش کردیتے ہیں۔ عجل کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ مسلم بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا گیا ہو بلکہ زبان کا یہ معروف اسلوب ہے کہ کبھی کل بول کر اس سے مراد جزو لیتے ہیں اس وجہ سے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے آگے انہوں نے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا ہو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں یہ ضیافت نہایت فیاضانہ تھی کہ تین آدمیوں کی میزبانی کے لیے حضرت ابراہیم نے گلے کا ایک بچھڑا ذبح کرادیا۔ ان کی اس فیاضی کو نمایاں کرنے کے لیے گوشت کے بجائے بچھڑے کا ذکر فرمایا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اس نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خدشہ محسوس کیا۔ وہ بولے کہ تم کوئی اندیشہ نہ کرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً ۭ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ۔ حضرت ابراہیم کی تشوش اور فرشتوں کی اطمینان دہانی : اب تک حضرت ابراہیم کو یہ گمان تھا کہ قرب و جوار کے کسی علاقے کے چند شریف اور صالح آدمی ہیں لیکن ان کی اتنی محنت اور اتنے ذوق و شوق سے تیار کی ہوئی ضیافت کی طرف جب انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو قدرتا انہوں نے کچھ بیگانگی محسوس کی اور دل ہی دل میں کچھ ڈرے کہ یہ کیا بات ہے۔ انہوں نے ان کی ضیافت قبول نہیں کی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ فرشتے ہوں۔ اور اگر یہ فرشتے ہیں تو لازماً یہ کسی بڑی مہم پر نکلے ہوں گے اس لیے کہ فرشتوں کا ظہور کسی بڑی مہم ہی کے لیے ہوا کرتا ہے۔ اس موقع پر ان کے ذہن میں قدرتی طور پر قوم لوط کا بھی خیال آیا ہوگا جو پاس ہی حضرت لوط ؑ کا بھی خیال آیا ہوگا جو پاس ہی حضرت لوط کی جدوجہد کے علی الرغم اپنے طغیان کے اس مرحلے میں داخل ہوچکی تھی جس کے بعد لازماً خدا کا عذاب آجایا کرتا ہے۔ فرشتوں نے یہ محسوس کر کے حضرت ابراہیم تشویش میں پڑگئے ہیں ان کو تسلی دی کہ آپ کسی تشویش میں مبتلا نہ ہوں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی موقع پر انہوں نے ان کو بیٹے کی بشارت سنائی۔
Ayahs 11:71–72

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بیوی پاس کھڑی تھی وہ ہنسی پس ہم نے اس کو اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے آگے یعقوب کی

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی کہ ہائے شامت ! کیا اب میں بچہ جنوں گی جب میں خود بھی ایک بڑھیاں ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں ! یہ تو ایک نہایت ہی عجیب بات ہوگی !

71۔ 72:۔ وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ۔ قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِيْ شَيْخًا ۭ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ / حضرت سارہ کی حیرت اور مسرت : سرگزشت کا آغاز، جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری سے ہوا تھا۔ لیکن مہمانوں کو دیکھتے ہی معاً حضرت ابراہیم ان کی خاطرومدارات کے اہتمام میں لگ گئے۔ اس وجہ سے بشارت کے سننے کی نوبت اب آئی اور اس وقت ان پر یہ انکشاف ہوا کہ جن کو وہ آدمی سمجھتے تھے وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ جس وقت فرشتوں نے بشارت سنائی حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ بھی دروازے سے لگی کھڑی تھیں۔ فضحکت یعنی یہ بشارت سن کر وہ ہنسیں۔ یہ ہنسی حیرت، تعجب اور مسرت کے گوناگون جذبات کا مظہر تھی۔ اس تعجب کا اظہار انہوں نے جن لفظوں میں فرمایا اس کا حوالہ آگے آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے اس مسرت آمیز اظہار حیرت پر مزید جوش میں آگئی۔ چناچہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے صرف بیٹے ہی کی نہیں بلکہ تعین نام کے ساتھ بیٹے اور اس سے آگے پوتے کی بھی بشارت دے دی گئی فبشرناہا باسحق و من وراء اسحاق یعقوب، فبشرناہا، میں عنایت خاص اور تکمیل مسرت کے جو گوناگوں پہلو ملحوظ ہیں وہ محتاج بیان نہیں اور بیٹے کے ساتھ پوتے کی بشارت نے گویا یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ بیٹا زندہ رہے گا، اچھی عمر پائے گا اور اس کی صلب سے نامور پوتا بھی پیدا ہوگا۔ قالت یویلتی۔۔ الایۃ۔ یہ حضرت سارہ کے اظہار تعجب کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر فضحکت کے لفظ سے اشارہ فرمایا تھا۔ وہ خالص نسوانی انداز میں بولیں۔ ہائے شامت ! کیا اب میں بچہ جنوں گی جب کہ بڑھیا بانجھ ہوچکی ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ہیں ؟ یہ تو نہایت ہی عجیب بات ہوگی ! ! بظاہر یہ فرقہر اظہار تعجب کا ہے لیکن اس کے لفظ لفظ کے اندر سے جو باطنی خوشی جھلک رہی ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ حضرت سارہ کے اظہارِ تعجب کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس بشارت کے ظہور کی راہ میں جو ظاہری رکاوٹیں ہیں ان کا ذکر کر کے یہ اطمینان حاصل کرلیں کہ ان کے باوجود یہ پوری ہو کے رہے گی۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے، کیا خدا کی بات پر تعجب ! اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اے اہل بیت نبی، بیشک وہ سزاوار حمد و بزرگ ہے

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ ۭ اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ فرشتوں کی اطمینان دہانی : اتعجبین کے لفظ سے صاف واضح ہے کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کی ہنسی اور ان کے فقرے کو اس کے بالک صحیح یعنی اظہار تعجب کے مفہوم میں لیا اور نہایت ادب و احترام کے انداز میں انہوں نے حضرت سارہ کو توجہ دلائی کہ اے اہل بیت نبی خدا کے کسی کام اور اس کے کسی ارادہ پر تعجب کی کہاں گنجائش ہے، پھر آپ پر تو اس کے خاص افضال اور اس کی خاص رحمتیں اور برکتیں ہیں وہ بڑا ہی سزاوار حمد اور بڑا ہی بزرگ و برتر ہے۔ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت، میں علیکم، ضمیر مذکر جمع کا استعمال عربی زبان کے شائستہ انداز خطاب کی مثال ہے۔ عورتوں کے اس انداز خطاب میں پردہ داری اور احترام کی جو شان ہے وہ محتاج اظہار نہیں۔ قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی نہایت واضح اور لطیف مثالیں موجود ہیں۔ سورة احزاب میں ہے۔ " یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطہیرا : اللہ چاہتا ہے کہ تم سے دور کرے ناپاکی کو اے اہل بیت نبی اور تم کو پاک کرے اچھی طرح "۔ امرء القیس کا ایک شعر بھی قابل ذکر ہے : فلو کان اھل الدار فیہا کعہدنا : جدت مقیلا عندہم و معرسہا۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

تو جب ابراہیم کا خود دور ہوا اور اس کو بشارت ملی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں بحث کرنے لگا

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ وَجَاۗءَتْهُ الْبُشْرٰي يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ۔ قوم لوط کے لیے حضرت ابراہیم کی سفارش : یجادلنا، یعنی صار یجادلنا، مضارع سے پہلے فعل ناقص کے حذف کردینے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ آیت 38 میں ویصنع الفلک بھی اسی اسلوب پر ہے۔ لفظ مجادلہ یہاں مجادلۂ حسن کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حسن ادب اور محبت و اعتماد کے ساتھ کسی سے اپنی بات باصرار و الحاح منوانے کی کوشش کرنا۔ حضرت ابراہیم پر جب تک فرشتوں کا اصل منصوبہ واضح نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو وہ متردد اور فکر مندر ہے لیکن جب ان کو بیٹے کی بشارت مل گئی اور خود اپنے باپ میں اطمینان ہوگیا تو انہیں قوم لوط کی فکر ہوئی اور وہ ان کے باب میں اللہ تعالیٰ سے سفارش میں لگ گئے اور اپنی بات منوانے کے لیے سارے جتن کرڈالے۔ ہم تورات سے اس مجادلہ کی تفصیل نقل کرتے ہیں تاکہ کچھ اندازہ ہوسکے کہ کس نوعیت کا مجادلہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں پسندیدہ ہے۔ " پر ابرہام خداوند کے حضور کھڑا ہی رہا۔ تب ابرہام نے نزدیک جا کر کہا کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا ؟ شاید اس شہر میں پچاس راست باز ہوں۔ کیا تو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس راستبازوں کی خاطر جو اس میں ہوں اس مقام کو نہ چھوڑے گا ؟ ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہوجائیں۔ یہ تجھ سے بعید ہے۔ کیا تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا اور خداوند نے فرمایا کہ اگر مجھے سدوم میں شہر کے اندر پچاس راست باز ملیں تو میں ان کی خاطر اس مقام کو چھوڑ دوں گا۔ تب ابرہام نے جواب دیا، کہا کہ دیکھئے میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرات کی اگرچہ میں راکھ اور خاک ہوں، شاید پچاس راست بازوں میں پانچ کم ہوں۔ کیا ان پانچ کی کمی کے سبب سے تو تمام شہر کو نیست کر دے گا ؟ اس نے کہا اگر مجھے وہاں پینتالیس ملیں تو میں اسے نیست نہیں کروں گا۔ پھر اس نے کہا کہ شاید وہاں چالیس ملیں۔ تب اس نے کہا میں ان چالیس کی خاطر بھی یہ نہیں کروں گا۔ پھر اس نے کہا کہ خداوند ناراض نہ ہو تو میں کچھ اور عرض کروں۔ شاید وہاں تیس ملیں۔ اس نے کہا اگر مجھے وہاں تیس بھی ملیں تو بھی میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر اس نے کہا دیکھئے میں نے خداوند سے بات کرنے کی جرات کی۔ شاید وہاں بیس ملیں۔ اس نے کہاں میں بیس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔ تب اس نے کہا خداوند ناراض نہ ہو تو میں ایک اور اور کچھ عرض کروں۔ شاید وہاں دس ملیں۔ اس نے کہا میں دس کی خاط بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔ (پیدائش باب 18۔ 23، 32) حضرت ابراہیم کا اپنے رب کے ساتھ یہ مجادلہ اپنے اندر محبت، اعتماد، ناز اور دردمندی و ہمدردی کے جو پہلو سمیٹے ہوئے ہے زبان قلم ان کی تعبیر و تشریح سے قاصر ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس پر حضرت ابراہیم کی تحسین فرمائی۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم نہایت ہی بردبار، دردمند اور پنے رب کی طرف دھیان رکھنے والا تھا

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ۔ " اواہ " آہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا لغوی مفہوم ہے کثرت سے آہ آہ کرنے والا یعنی نہایت درد مند، نہایت غم خوار اور صاحب درد۔ جب حضرت ابراہیم قوم لوط سجیسی ناہنجار قوم کی سفارش میں اس طرح اپنے دل کو نچوڑ کر رکھ دیتے ہیں تو ان کے حلم اور ان کی دردمندی میں کیا شک کی گنجائش رہی اور کمال انابت کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے کہ بظاہر معلوم ہے کہ اب قوم لوط کا پیمانہ لبریز ہے لیکن وہ برابر دعا اور التجا میں سرگرم ہیں۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم یہ بحث چھوڑو، اب تمہارے رب کا حکم ہوچکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جو ٹالے نہ ٹالا جا سکے

يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ۔ حضرت ابراہی کو جواب : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اس ہمدردو دردمندی اور اس دعا والتجا کی تو تعریف فرمائی لیکن ساتھ ہی آگاہ بھی فرما دیا کہ اب دعا و سفارش کا وقت گزر چکا ہے۔ انہ قد ضاء امر ربک۔ اب تیرے رب کا حکم یعنی حکم عذاب آچکا ہے۔ اور ان پر نہ ٹلنے والا عذاب آ کے رہے گا۔ عذاب غیر مردود سے ایک تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عذاب کوئی تنبیہی نوعیت کا نہیں ہے کہ محض توتنبیہ کر کے گزر جائے بلکہ فیصلہ کن عذاب ہے جو ان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ دوسرے اس بات کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے کہ یہ عذاب کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکے گا اس لیے کہ حکم الٰہی کے مقابلہ کی طاقت کسی میں بھی نہیں ہے
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے وہ ان کے سبب سے غمگین ہوا اور اس کا دل بھنچا اور بولا کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ۔ فرشتوں کی آمد پر حضرت لوط کی تشویش : حضرت ابراہیم کو بشارت پہنچانے اور قوم لوط کے انجام سے باخبر کرنے کے بعد یہ فرشتے حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ حضرت لوط نے جب دیکھا کہ چند خوبرو نوجوان دروازے پر ہیں تو وہ سخت منقبض اور دل تنگ ہوئے۔ دل میں کہا کہ آج کا دن تو بڑا کٹھن دن ہوگا۔ اس انقباض و پریشانی کی وجہ ظاہر ہے کہ جب قوم کی قوم اس فساد اخلاق میں مبتلا ہو جس میں حضرت لوط کی قوم مبتلا تھی تو ایسے خوش شکل نوواردوں کا دروازے پر آنا گویا شہر کے سارے غنڈوں کو دعوت دینے کے ہم معنی تھا۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے باب میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی مرد معقول نہیں !

وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ۭ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ ۭ قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ۔ حضرت لوط کی فریاد : چناچہ ان کا اندیشہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ جب اوباشوں نے دیکھا کہ حضرت لوط کے دروازے پر پر چند خوبرو لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ تو وہ جھپٹے ہوئے پہنچے۔ حضرت لوط نے ان کے تیور دیکھے تو فرمایا یقوم ھؤلاء بناتی ھن اطہر لکم فاتقوا اللہ ولا تخزون فی ضیفی۔ یہ پیشکش نہیں بلکہ اپنی قوم کے ضمیر کو جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے گویا حضرت لوط کی آخری بیتابانہ فریاد تھی کہ وسوچیں کہ ایک اللہ کا بندہ یہ ہے جو اپنے مہمانوں کی عزت کے معاملے میں اتنا احساس ہے کہ اس کے لیے اپنی عزیز سے عزیز شے کو قربان کرنے پر تیار ہے اور ایک ہم ہیں کہ اندھے ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے اللہ کا خوف بھی یاد دلایا اور آخر میں الیس منکم رجل رشید کہہ کر گویا پوری طرح ان پر حجت تمام کردی۔ اس لیے کہ کسی کے اندر اگر رائی برابر بھی حق کی حمیت و حمایت کا احساس ہوتا تو اس فقرے کے بعد تو اس کو ضور حرکت میں آجانا تھا لیکن جب اس کے بعد بھی کوئی ضمیر بیدار نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کسی کے اندر جس انسانیت و شرافت سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی تھی۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہاری بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں اور تم خوب جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیں

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ۔ قوم لط کی ضد : وہ جواب میں بولے کہ زیادہ بات کو بڑھانے اور الجھانے سے کیا فائدہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ہم تمہاری لڑکیوں پر ہاتھ ڈالیں۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ تم سے مخفی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہماری اس خواہش میں مزاحم کیوں ہوتے ہو ؟ ہم جو کچھ چاہتے ہیں کرلینے دو۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

اس نے کہا کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقت ور سہارے کی پناہ لے سکتا ! !

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۔ حضرت لوط کی طرف سے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش حضرت لوط کی زبان سے یہ فقرہ انتہائی اضطراب اور غنڈوں کے رویہ سے آخری درجے میں مایوس ہوجانے کے بعد نکلا ہے۔ فرمایا کہ کاش ! میرے پاس یا تو خود اپنی اتنی قوت و جمعیت ہوتی کہ تم سے نبٹ سکتا یا کوئی ایسا صاحب جمعیت اور باثر شخص ہی ہوتا کہ میں اس کی پناہ لے سکتا اور وہ مجھے تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا سکتا۔ یہ آخری فقرہ بھی حضرت لوط نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عرب میں کسی مصیبت زدہ اور مظلوم کو پناہ دینا، جب کہ وہ طالب پناہ ہو بڑے شرف کی بات سمجھی جاتی تھی اور اسی طرح کسی طالب پناہ کو پناہ نہ دینا انتہائی رذالت کی دلیل تھی۔ حضرت لوط نے یہ فقرہ فرما کر گویا آخری حجت بھی تمام کردی۔ اس حجت کے تمام ہوجانے کے بعد فرشتوں نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور بولے۔ (اگلی آیت دیکھیے)
Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرستادوں نے کہا اے لوط ہم تو تمہارے رب کے فرستادے ہیں، یہ ہرگز تم تک پہنچ نہیں سکتے تو تم اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی اس سے مستثنی ہے، اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو ان پر مقدر ہوچکی ہے۔ ان کے عذاب کا وقت مقررہ صبح ہے، کیا صبح قریب نہیں !

قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ ۭ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ۔ بولے اے لوط تم پریشان نہ ہو، ہم چھوکرے نہیں ہیں، جیسا کہ یہ شیاطین سجھے ہوئے ہیں، بلکہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں۔ یہ ہرگز تم تک نہیں پہنچسکتے تو یوں کرو کہ راتوں رات اس بستی سے اپنے اہل و عیال سمیت نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ ہاں، تمہاری بیوی تمہارے اہل سے مستثنی ہے۔ اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو پوری قوم کے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ انکے وقت موعود صبح کا وقت ہے۔ کیا صبح کا وقت قریب ہے ؟
Ayahs 11:82–83

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پس جب آیا ہمارا عذاب تو ہم نے اس بستی کو یک قلم تلپٹ کر کے رکھ دیا اور اس سنگ گل کی بارش کی، تہ بہ تہ ،

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

تمہارے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے، اور وہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

82۔ 83:۔ فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۭ وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ۔ یعنی جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان پر ایسی تند آندھی بھیجی کہ اس نے ان کے مکانوں کو بالکل تلپٹ کر کے رکھ دیا وامطرنا علیہاحجارۃ من سجیل، سجیل، سنگ گل کا معرب ہے۔ یعنی ہم نے ان کی بستی پر خوب سنگ گل کی تہ بہ تہ بارش کردی۔ مسومۃ عند ربک۔ وہ تیرے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے یعنی خدا کے علم اور اس کی قدرت میں پہلے سے مقدر اور مقرر تھے۔ گویا ان کے چٹے لگا کر پہلے سے ان پر نشان لگا دیا گیا تھا کہ یہ چٹے قوم لوط کی بستی پر برسانے کے لیے ہیں۔ وما ہی من الظالمین ببعید۔ اور سنگ گل کے چٹے ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہ تھے کہ ان کو وہاں سے اٹھا کر لانے میں کچھ وقت لگتا بلکہ وہیں ان کے پاؤں کے نیچے ہی سے ہماری بھیجی ہوئی باد تند (حاصب) نے اٹھایا اور ان کے سروں پر برسا دیا۔ ظالمین سے مراد قریش ہیں : وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ۔ اس ٹکڑے کی تاویل میں بھی گنجائش ہے کہ " ھی " کا مرجع لوط کی بستی کو سمجھا جائے اور ظالمین سے قریش مراد لیے جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ لوط کی بستی قریش سے کچھ دور بھی نہیں، وہ اپنے سفر شام میں اسی بستی پر سے گزرتے ہیں۔ اگر دیدہۂ عبرت نگاہ رکھتے ہیں تو اس سے عبرت حاصل کریں۔ آگے آیت 89 میں حضرت شعیب نے اپنی کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ وما قوم لوط منکم ببعید۔ قوم لوط کے عذاب کی نوعیت : قوم لوط کے عذاب کے بارے میں مولانا فراہی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے۔ " قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو سخت ہو کر بالآخر حاصب (کنکر پتھر برسانے والی تند آندھی) بن گئی۔ اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ چناچہ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا (ان میں سے بعض قوموں پر ہم نے کنکر برسانے والی آندھی بھیجی) نیز فرمایا ہے " فجعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہم حجارۃ من سجیل منضود (پس ہم نے اس بستی کو تلپٹ کردیا اور ان کے اوپر تہ بہ تہ سنگ گل کے پتھروں کی بارش کی)۔ یعنی ایسی تند ہوائیں چلیں کہ ان کے مکانات اور چھتیں سب زمین کے برابر ہوگئیں اور اوپر سے کنکریوں اور ریت نے ان کو ڈھانک لیا " (تفسیر سورة ذاریات فراہی۔ فصل 15)
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے دعوت دی کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ میں تمہیں فارغ البالی کی حالت میں دیکھ رہا ہوں اور تم پر ایک گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ۔ قوم شعیب کے فساد کی نوعیت : اس امر کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے کہ ہر قوم کے اندر انہی میں انہی کے ایک بھائی کو رسول بنا کر مبعوث کرنے میں، اتمام حجت کے نقطہ نظر سے کیا مصلحت ہے ؟ اور یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ توحید کو تمام انبیاء کی دعوت میں مرکز ثقل اور محوری نقطہ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے انحراف تمام انحرافات کے دروازے کھولتا ہے اور اسی کی طرف باز گشت سے صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ اسی نقطہ سے حضرت شعیب نے بھی اپنی دعوت کا آغاز فرمایا اور پھر اپنی قوم کی اس برائی کی اصلاح کی طرف توجہ فرمائی جو پوری قوم میں نہ صرف یہ کہ عام ہوچکی تھی بلکہ وہ برائی کے بجائے ہنر اور قبلیت اور حق و صواب سمجھی جانے لگی تھی۔ ان کی قوم۔ اہل مدین۔ تجارت پیشہ قوم تھی۔ اس وجہ سے ان کا فساد مزاج سب سے زیادہ اسی میدان میں ابھرا اور ناپ تول میں کمی کرنے کو اپنا پیشہ ورانہ ہنر بنالیا۔ اس فن کے ایک سے ایک بڑھ کر ماہر ان میں پیدا ہونے لگے اور کسی کے اندر اس امر کا احساس بھی باقی نہیں رہا کہ یہ ترقی و کامرانی راہ نہیں بلکہ فساد فی الارض کی راہ ہے۔ حضرت شعیب نے ان کو اس اصلاح کی دعوت دی فرمایا ولا تنقصوا المکیال والمیزان انی راکم بخیر وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط۔ لوگو۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو، میں اس وقت تمہیں رفاہیت اور خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں جو تمہیں بالکل اپنے گھیرے میں لے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تمہیں جو رفاہیت اور خوش حالی حاصل ہے اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے قانون عدل و قسط کے فرمانبردار بنو۔ اللہ تعالیٰ رفاہیت و خوش حالی بخشتا ہی کسی قوم کو اس لیے ہے کہ دیکھے کہ وہ قوم خدا کی شکر گزار بنتی ہے یا ناشکر اور نافرمانی کی راہ اختیار کرتی ہے۔ اگر وہ یہ دوسری راہ اختیار کرلیتی ہے تو یہی خوش حالی و رفاہیت اس کے یلے ایک عذاب کا دیباچہ بن جاتی ہے جو اس طرح گھیر لیتا ہے کہ پھر کوئی بھی اس کے گھیرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ میں تمہارے موجودہ موٹاپے کے اندر اسی مرگ ناگہانی کے آثار دیکھ رہا ہوں تو تم جلد سے جلد اپنی خبر لو۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! ناپ اور تول کر پورا رکھو پورے عدل کے ساتھ اور لوگوں کی چیزوں میں ان کی حق تلفی نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلانے والے بن کر نہ ابھرو

وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۔ حضرت شعیب کی دعوت اصلاح : قسط کے معنی عدل و انصاف کے ہیں۔ یعنی ناپ ہو یا تول دونوں میں پورے پورے عدل و انصاف کو مدنظر رکھو۔ ولا تبخسوا الناس اشیاء ھم۔ اور لوگوں کے ساتھ ان کی چیزوں کی ناپ تول میں کوئی ناانصافی اور کمی نہ کرو۔ ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ یعنی زمین میں بڑھو تو خیر و صلاح اور عدل و قسط کے حامل اور علم بردار بن کر بڑھو۔ اس کے عدل و قسط کو درہم برہم کرنے والے اور اس میں فساد برپا کرنے والے بن کر نہ بڑھو۔ اس طرح کے بڑھنے کو اس زمین کا خالق ومالک بس ایک خاص حد ہی تک مہلت دیتا ہے۔ اس مہلت کے گزرتے ہی وہ ایسے مفسدین سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا بخشا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سچے ایمان والے ہو۔ اور میں تم پر نگران نہیں ہوں

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ڬ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ۔ بقیت اللہ سے مراد جائز نفع ہے۔ اگر ایک تاجر ناپ تول میں ٹھیک ٹھیک عدل کو ملحوظ رکھے، جھوٹ فریب ملاوٹ اور اس قسم کے دوسرے ہتھکنڈوں سے بچے، دوسروں کی ریس میں غلط راستے نہ اختیار کرے تو گو وہ اتنا زیادہ منافع نہ لوٹ سکے جتنا دوسروں نے جنوں نے حرام و حلال کی تمیز اٹھا دی۔ لوٹا ہو لیکن اس کا حاصل کیا ہوا نفع بقیۃ اللہ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ قلیل بھی ہو تو دوسروں کے کثیر سے ہزار درجہ افضل ہے اس لیے کہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں میں برکت ہوگی۔ اس کے برعکس بےایمانی کا حاصل کیا ہوا نفع دنیا میں بےبرکت اور آخرت میں دہکتی ہوئی آگ بنے گا۔ وما انا علیکم بحفیظ، یعنی میں نے نیک وبد تمہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور یہی میری ذمہ داری تھی۔ مانوگے تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ نہ مانوگے تو تمہی اس کا انجام بد دیکھوگے، مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں تو صرف ایک منذر و مبشر ہوں، تم پر کوئی نگران اور داروغہ نہیں مقرر ہوا ہوں کہ تمہارے ایمان نہ لانے کی پرسش مجھ سے ہو۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے شعیب، کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ بیٹھیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے آئے یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ؟ بت تمہیں تو ایک دانشمند اور راست رو رہ گئے ہو !

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۔ حضرت شعیب پر قوم کا طنز : یہ پورا فقرہ طنزیہ انداز میں ہے۔ وہ بولے کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہم ان کی عبادت تر کردیں اور اپنے مال میں اپنے صواب دید کے مطابق تصرف نہ کریں۔ تمہاری ان باتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری نگاہ میں سب اگلے پچھلے بیوقوف اور گمراہ تھے، بس تم ہی ایک دانا و بینا اور راہ یاب رہ گئے ہو۔ مطلب یہ کہ تم نماز وغیرہ پڑھتے تھے تو اس سے خیال تو یہ ہوتا تھا کہ تم سے باپ دادا کا نام بھی روشن ہوگا اور قوم کے لیے بھی کچھ کامیابی کی راہیں کھلیں گی مگر خوب نکلی تمہاری یہ نماز کہ وہ ماضی و حاضر سب کی بساط لپیٹ کر رکھ دینا چاہتی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت شعیب کی نیک اور پاکیزہ زندگی سے چونکہ مفسدین کو اندیشہ تھا کہ وہ لوگ متاثر ہوں گے جو بالطبع نیک ہیں اس وجہ سے انہوں نے ان کی نیکیوں ہی کو اپنے طنز کا ہدف بنا لیا گویا سارے فساد کی جڑ وہی ہیں۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، بتاؤ اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مزید اپنی جانب سے مجھے رزق حسن سے بھی نوازا (تو اس کے سوا میں تمہیں اور کس چیز کی دعوت دوں) اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہاری مخالفت کر کے وہی چیز خود اختیار کروں جس سے تمہیں روک رہا ہوں۔ میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جس حد تک کرسکوں۔ اور مجھے توفیق تو اللہ ہی کی مدد سے حاصل ہوگی۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ۔ ینۃ اور رزق حسن سے مراد : لفظ بینۃ کی تحقیق اوپر آیت 63 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ اذعان و اعتقاد ہے جو ہر فطرت سلیم کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے اور جو انسان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف کرتا ہے بشرطیکہ انسان نے غلط ماحول کے اثرات سے متاثر ہو کر اپنی فطرت مسخ نہ کرلی ہو، ورزقنی منہ رزقا حسنا، رزق حسن، سے یہاں اسی چیز کو تعبیر فرمایا ہے جس کو مذکورہ بالا آیت 63 میں رحمۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی وحی الٰہی۔ وحی الٰہی کو رزق حسن سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مادی رزق انسان کی مادی زندگی کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے۔ سیدنا مسیح نے اسی حقیقت کو یوں تعبیر فرمایا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔ پہلے جملہ میں جواب شرط محذوف ہے۔ اگر اس محذوف کو آیات 63 کی روشنی میں، جو بعینہ اسی مضمون کی آیت ہے، کھول دیا جائے تو پوری بات گویا یوں ہوگی۔ بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں، پھر اس نے مجھے اپنی جانب سے رزق حسن سے بھی نوازا تو اس کے بعد بھی اگر میں اس کی راہ سے ہٹ کر چلوں تو مجھے خدا کے غضب سے بچانے والا کون بنے گا ؟ مطلب یہ کہ میں یہ جو کچھ تمہیں بتا رہا ہوں۔ تم اس کو تصنع اور بناوٹ پر محمول کر کے مجھے طنز و تحقیر کا ہدف بنا رہے ہو، لیکن میں کیا کروں ؟ یہی میری فطرت کی آواز پہلے سے تھی اور پھر اسی کو مدلل اور مبرہن کرتی ہوئی مجھ پر میرے رب نے وحی بھی اتاری تو اگر میں تمہارے سامنے یہ نہ پیش کروں تو اور کیا پیش کروں ؟ وما ارید ان اخالفکم الی ما انھاکم عنہ، یعنی یہ بدگمانی نہ کرو کہ میں جو تمہیں ناپ تول میں بےایمانی سے روک رہا ہوں تو یہ چاہتا ہوں کہ تمہیں اس سے روک کر یہی کام خود کروں اور اس طرح تمہیں بازار سے بےدخل کر کے خود بازار پر قابض بن بیٹھوں۔ ممکن ہے حضرت شعیب ؑ اپنی معاش کے لیے کوئی چھوٹی موٹی تجارت خود بھی کرتے رہے ہوں۔ اس چیز سے شریروں نے فائدہ اٹھا کر یہ اشغلا چھوڑا ہو کہ یہ شخص جو اس شدومد سے ناپ تول میں ایمانداری کا وعظ سنا رہا ہے اس سے اس کی غرض صرف یہ ہے کہ ہم تو ایمان داری کے ہو کے رہ جائیں اور یہ اپنی من مانی کر کے پورے بازار پر قبضہ کرلے۔ حضرت شعیب نے ان کی یہ بدگمانی دور کرنے کی کوشش کی کہ میں جس بات سے تمہیں روک رہا ہوں اس لیے نہیں روک رہا ہوں کہ اس پر تنہا خود قابض ہونا چاہتا ہوں۔ ان ارید الا الاصلاح ماستطعت میں صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرا بس چلے۔ وما توفیقی الا باللہ۔ اور اس جدوجہد میں توفیق و رہنمائی جس حد تک بھی حاصل ہوگی اللہ ہی کی عنایت سے حاصل ہوگی۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم کہیں میری ضد تمہارے لیے اس امر کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی آفت نازل ہو جس طرح کی آفت قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر نازل ہوئی اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیں

وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ۔ حضرت شعیب کی تنبیہ : " شقاق " کے معنی ضد اور مخالفت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پرائے شگون پر اپنی ناک نہ کٹوا بیٹھو۔ میری ضد میں تم نے جو روش اختیار کی ہے کہیں وہ تمہارے لیے اس بات کا سبب نہ بنا جائے کہ تم پر کوئی اس طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کے عذاب قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر اس سے پہلے آ چکے ہیں اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قوم لوط زمانہ اور اپنے مسکن دونوں ہی اعتبار سے قوم شعیب سے قریب تھی۔ حضرت شعیب کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ میں تمہیں صرف ماضی بعید کے افسانے سنا رہا ہوں بلکہ تمہارے ماضی قریب اور تمہارے قرب و جوار کی شہادت بھی یہی ہے کہ تمہاری روش خدا کے عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب نہایت مہربان اور بڑی محبت کرنے والا ہے

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ۔ یعنی خیریت چاہتے ہو تو میری بات سنو اور اپنے گناہوں کی اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ رجوع سے یہ مراد ہے کہ اپنی موجودہ روش سے باز آ کر وہ راہ اختیار کرو جو خدا کی پسندیدہ راہ ہے اور جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ توبہ کے دو بنیادی رکن ہیں ایک استغفار، دوسرا اصلاح یعنی آدمی اپنے رب اپنے جرائم کی معافی بھی مانگے اور صحیح راہ اختیار کر کے عملاً اپنے رویہ کی اصلاح کا ثبوت بھی دے۔ اس کے بغیر کوئی توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخورِ قبول نہیں ٹھہرتی۔ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ رحمت اور محبت کا حوالہ ہے۔ مقصود اس سے استغفار اور توبہ کی تشویق وترغیب بھی ہے اور نہایت لطیف انداز میں قبولیت توبہ کی بشارت بھی۔ مدعا یہ ہے کہ تمہارے جرائم کتنے ہی سنگین ہوں، لیکن جب تم صدق دل سے اس کی طرف رجوع کروگے تو وہ تمہیں ٹھکرائے گا نہیں، بلکہ معاف کر کے اپنی رحمتوں سے نوازے گا، وہ نہایت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے شعیب، جو باتیں تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور وجود خیال کرتے ہیں اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۔ حضرت شعیب کو سنگسار کردینے کی دھمکی : قوم نے حضرت شعیب کی اس ساری موعظت کا جواب نہایت رعونت سے یہ دیا کہ اے شعیب ! تمہار بہت ساری باتیں کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری یہ باتیں ہیں ہی نہایت مہمل اور دور از کار ورنہ معقول باتیں سمجھنے میں ہم سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے اس کے بعد دھمکی بھی دے دی کہ تمہاری کوئی جمعیت و جماعت تو ہے نہیں جس کا ہمیں اندیشہ ہو، ہم تو تمہیں اپنے اندر نہایت کمزور اور بےبس دیکھ رہے ہیں۔ اگر تمہارے خاندان کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو تمہیں سنگسار کردیتے۔ وما انت علینا بعزیز۔ یعنی بجائے خود تم پر ایسے گراں نہیں ہو کہ تم کو ٹھکانے لگا دینا ہمارے لیے کچھ مشکل ہو البتہ تمہارے کنبہ اور قبیلہ کا خیال دامن گیر ہوتا ہے کہ اس سے کیوں جھگڑا مول لیں۔ سنگسار کردینے کی دھمکی خاص طور پر اس لیے دی گئی کہ حضرت شعیب قوم کے بتوں کی تحقیر کرتے تھے، یاد ہوگا بتوں کی تحقیر پر یہی دھمکی سیدنا ابراہیم اور دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی تھی۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم، کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے اور اس کو تو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ حضرت شعیب کا توکل علی اللہ : حضرت شعیب نے اس دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ اے میرے ہم قومو، کیا میرے کنبہ و قبیلہ کا خوف ولحاظ تمہیں اللہ سے زیادہ ہے کہ تم کنبہ و قبیلہ کو تو اہمیت دیتے ہو جب کہ خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے ان ربی بما تعملون محیط، یاد رکھو میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو یا کرنے والے ہو سب کا احاطہ کیے ہئے ہے۔ مجال نہیں ہے کہ تم کوئی قدم اس کے اذن کے بغیر اٹھا سکو۔ مطلب یہ کہ میرا بھروسہ میرے رب پر ہے، تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ " ظہری " کے معنی ہیں وہ چیز جو پیچھے ڈال کر فراموش کردی جائے۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو تم اپنے طور پر کرو جو کر رہے ہو، میں بھی اپنے طور پر کر رہا ہوں، تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور کون ہے جو جھوٹا ہے اور انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۭ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۭ وَارْتَقِبُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ رَقِيْبٌ۔ انی عامل، یعنی انی عامل علی مکانتی، مکانۃ کے معنی جگہ اور منزلت کے ہیں۔ یعنی تم اپنی جگہ پر کام کرو۔ میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں۔ تم میری ضد اور مخالفت میں جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور میں اپنے رب کی جانب سے انذار وتبشیر کے جس مشن پر مامور ہوں گا وہ کرتا رہوں گا۔ سوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ومن ھو کاذب۔ جلد تم جان لوگے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے، وارتقبوا انی معکم رقیب۔ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ یعنی غیب کا علم تو مجھے بھی نہیں ہے کہ تعین کے ساتھ بتا سکوں کہ عذاب کس وقت آئے گا لیکن یہ واضح ہے کہ تم میں مستحق عذاب ہونے کی ساری علامتیں نمودار ہوچکی ہیں اس وجہ سے میں بھی اب اس کے ظہور ناگہانی کا منتظر ہوں۔
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا عذاب آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے اپنی رحمت سے نجات دی اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو ڈانٹ نے آپکڑا پس وہ اپنے گھروں میں اوندے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، ہاں، ہلاک ہوئے مدین جس طرح دفع ہوئے ثمود

94۔ 95:۔ وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۔ کم و بیش انہی الفاط میں یہی مضمون آیات 66۔ 68 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

ور ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے اعیان کے پاس اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت : اب آگے کی چند آیات میں حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کی طرف اجمالاً اشارہ فرایا ہے۔ یاد ہوگا، سورة یونس میں حضرت موسیٰ علہ السلام کی سرگزشت تو تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن دوسرے انبیاء کا صرف اجمالی حوالہ ہے اس کے برعکس اس سورة میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی طرف تو اجمالی اشارہ کردیا ہے البتہ دوسرے انبیاء کی سرگزشتیں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔ اس طرح یہ دونوں سورتیں مل کر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور یہی حقیقت ہے سورتوں کے زوج زوج ہونے کی۔ مقدمۂ کتاب میں ہم اس مسئلہ پر گفتگو کرچکے ہیں۔ بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ آیات سے مراد تو وہ عام نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھوں قدم قدم پر ظاہر ہوئیں اور سلطان مبین سے مراد خاص طور پر وہ نشانی ہے جس سے حضرت موسیٰ کو فرعون، اس کے درباریوں اور اس کے ساحروں پر کھلا ہوا غلبہ حاصل ہوا یعنی معجزہ عصا۔ گویا یہاں عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اور اس کو سلطان مبین کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی حیثیت درحقیقت ایک حجت قاہرہ کی تھی جس کے بعد فرعون اور اس کے درباریوں کی ساری ساکھ خود اپنے آدمیوں کی نگاہ میں اکھڑ گئی۔
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

تو انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات راست نہ تھی

اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ ۚ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ۔ یعنی ہم نے تو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنا پیغمبر بھیجا لیکن ان شامت کے ماروں نے پیروی فرعون کی رائے اور اس کے حکم کی کی۔ فعون کی رہنمائی صائب نہ تھی۔ اس وجہ سے یہ اس کھڈ میں گے۔ جس میں اس طرح کے لیڈروں کی پیروی کرنے والے گرا کرتے ہیں۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ میں لے جا اتارے گا اور کیا ہی برا گھاٹ ہوگا جس پر یہ اتریں گے !

يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۔ " ورد " کے معنی کسی گھاٹ پر پانی پینے پلانے کے لیے اترنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ فرعون ان تمام لوگوں کا لیڈر ہوگا جنہوں اس جہان میں اس کی پیروی کی اور وہ ان کو دوزخ کے گھاٹ پر اتارے گا جس سے زیادہ برا کوئی گھاٹ نہیں۔