Ayahs 9:23–24تفسیر آیات 23، 24۔
آیت 23۔ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ۔
سچے اہل ایمان کی صفات : اوپر آیت 16 میں یہ مضمون گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اہل ایمان کے اندر وہ لوگ بھی رلے ملے رہیں جو ایمان کا دعوی بھی رکھتے ہیں اور کفار و مشرکین سے دوستی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں اور اللہ و رسول اور اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد نہ بنائیں۔ اب یہ اسی مضمون کو دوسرے اسلوب سے نہایت واضح اور فیصلہ کن لب و لہجہ میں، تمام مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے تاکہ ہر شخص اپنی راہ اور اپنی منزل کا انتخاب کرلے۔
فرمایا کہ تمہارے درمیان تعلق، دوستی اور اعتماد کی بنیاد نسب اور خاندان پر نہیں بلکہ ایمان پر ہے۔ اگر تم میں سے کسی کے باپ اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تو تم ان کو اپنا معتمد اور دوست نہ بناؤ۔ جو ایسا کرے گا تو یاد رکھے کہ وہ خود اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا بنے گا فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ یعنی اس کے نتیجہ میں جو وبال اس پر دنیا اور آخرت دونوں میں آئے گا اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی۔ اس میں کسی دوسرے کی کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔
آیت 22۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔
یہ نہایت فیصلہ کن انداز میں اس باب کی آخری تنبیہ ہے۔ انسان کی تمام محبوبات میں سے ایک ایک چیز کو گنا کر فرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کسی کو اللہ اور رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز و محبوب ہے تو وہ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے۔
اللہ و رسول کے محبوب رکھنے کا مطلب : کسی چیز کا اللہ اور رسول سے زیادہ عزیز و محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب دو بالکل متضاد مطالبے آئیں، ایک طرف اللہ و رسول کا مطالبہ ہو، دوسری طرف مذکورہ چیزوں میں کسی چیز کی محبت کا مطالبہ اور آدمی خدا اور رسول کے مطالبے کو نظر انداز کر کے دوسری چیز کے مطالبہ کو ترجیح دے دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ اور رسول سے زیادہ اس کو وہ چیز محبوب ہے اور اگر اس کے برعکس وہ اس چیز کے مطالبہ پر اللہ و رسول کے مطالبہ کو مقدم رکھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اللہ و رسول کی محبت کو ترجیح دی۔ اللہ و رسول سے یہ محبت ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کے بغیر کسی کا دعوائے ایمان معتبر نہیں ہے اور یہ محبت الٰہی کے جانچنے کے لیے ایک ایسی کسوٹی ہے جس سے ہر شخص اپنی روز مرہ کی زندگی میں اپنے ایمان اور اپنی محبت کو جانچ سکتا ہے۔
مرغوبات نفس اور ایمان کا تقاضا : یہاں جن محبوبات و مرغوبات کی فہرست گنائی ہے ان میں نہایت لطیف نفسیاتی ترتیب ہے جو بجائے خود واضح ہے۔ پہلے باپ، بیٹے، بھائی، بیوی اور خاندان کو لیا ہے جن کی محبت یا عصبیت آدمی کے لیے حق کی راہ میں حجاب اور آزمائش بنتی ہے پھر اموال، کاروبار اور مکانات کا ذکر کیا ہے جو اصلاً مذکورہ متعلقین ہی کے تعلق سے مطلوب و مرغوب ہوتے ہیں اور آدمی صاحب توفیق نہ ہو تو اس کے لیے یہ فتنہ بن جاتے ہیں۔ اموال کے ساتھ اقترفتوھا کی قید ہے۔ اقتراف کے معنی اکتساب کے ہیں۔ یہ قید اس مال کے محبوب ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ قاعدہ ہے کہ جس مال کو آدمی نے خود کمایا اور بڑھایا ہو وہ اس کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اسی طرح تجارت کے ساتھ تخشون کسادھا کی قید اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ تجارت کامیاب اور چلتی ہوئی تجارت ہے اس لیے کہ کامیاب اور چلتی ہوئی تجارت ہی وہ چیز ہے جس کے متعلق تاجر کو ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ اس پر کساد بازاری کا جھونکا نہ آجائے اور اس خطرے سے اس کو بچائے رکھنے کے لیے وہ سارے جتن کرتا ہے یہاں تک کہ وہی اس کی معبود بن جاتی ہے۔ پھر نہ تو اسے حلال و حرام کی تمیز باقی رہ جاتی ہے اور نہ ہجرت، جہاد اور اللہ کی راہ میں قطع علائق کی آزمائشیں اسے گوارا ہوتیں، فرمایا کہ ان میں سے ہر چیز ایک بت ہے اور جب تک بندہ اللہ کی خاطر ان میں سے ہر بت کو توڑنے کے لیے تیار نہ ہوجائے۔ وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔
جھوٹے مدعیان ایمان کا انجام : فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ دھ کی ہے اور نہایت سخت دھمکی۔ اس کے ابہام کے اندر بڑی تفصیل پوشیدہ ہے۔ اوپر مکذبین رسول کا انجام بیان ہوچکا ہے۔ یہاں اسی کی طرح اشارہ فرمایا ہے کہ جو انجام مکذبین رسول کے لیے مقدر ہوچکا ہے اسی انجامِ بد سے دوچار ہونے کے لیے وہ مدعیان ایمان بھی تیار رہیں جو کفر اور ایمان دونوں کی کشتی پر بیک وقت سوار رہنا چاہتے ہیں۔
وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ جس طرح اوپر مشرکین کی بابت فرمایا تھا کہ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظلمین۔ اللہ مشرکوں کو بامراد نہیں کرے گا اسی طرح یہاں کفر و اسلام دونوں کے درمیان ڈانواں ڈول لوگوں کی بابت ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے فاسقوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ فسق کا لفظ خروج عن الایمان کے مفہوم میں ہے جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ اللہ و رسول کے مقابل میں اہل کفر کو اپنا دوست اور معتمد بناتے ہیں وہ ایمان کے دعوے کے باوجود ایمان سے نکل جاتے ہیں۔
Ayahs 9:25–27تفسیر آیت 25، 27۔
آیت 65۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔
کمزروں کی ہمت افزائی : لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ۔ یہ بات انہی مذبذبین کی ہمت افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے کہ ان سے جنگ کرنے میں ہچکچاؤ نہیں، جس خدا نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی ہے اس کی مدد اب بھی تہارے شامل حال ہے۔ ہجرت کے بعد سے فتح مکہ تک متعدد جنگیں مشرکین کے ساتھ ہوچکی تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ اب ان سب کا حوالہ دے کر فرمایا کہ جس خدا کی نصرت ہمیشہ تمہارے ہمرکاب رہی ہے اس پر بھروسہ رکھو، وہ تمہیں اپنی مدد سے محروم نہیں کرے گا۔
غزوہ حنین کی مثال سے کمزوروں کی ہمت افزائی : وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا۔ یہ ایک شبہ کا، جو مذکورہ و عدہ نصرت سے متعلق کمزور ذہنوں میں پیدا ہوسکتا تھا، برسر موقع ازالہ ہے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ حنین میں مسلمانوں کو اول اول شکست کی افتاد سے سابقہ پیش آچکا تھا۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس حادثہ کی اصلی نوعیت واجح کردی جائے۔ فرمایا کہ حنین کے دن بھی اللہ نے تمہاری مدد فرمائی البتہ یہ ہوا کہ شروع شروع میں تمہاری کثرت تعداد نے تمہارے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی اور بےپروائی پیدا کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمہیں شکست سے سابقہ پیش آیا اور تم میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مومنین مخلصین پر عزم و حوصلہ اتارا اور تمہاری مدد کے لیے اپنی غیبی فوجیں بھیجیں اور کفار کو تمہارے ہاتھوں پامال کروایا۔
غزوہ حنین میں ابتدائی شکست کی وجہ : مطلب یہ کہ فتح تو اللہ نے تمہیں اس جنگ میں بھی دی البتہ تمہاری غلطی پر تمہیں تنبیہ کرنے کے بعد دی۔ غزوہ حنین میں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو لشکر 12 ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔ مسلمان اس سے پہلے بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ وہ جب پہلی بار ایک لشکر جرار کی شکل میں نکلتے تو یہ خیال تو ان کے دل میں پیدا ہونا ہی تھا کہ بھلا آج ہمارے مقابل میں کون ٹک سکتا ہے ؟ اس غلط خود اعتمادی سے قدرتی طور پر ان کے اندر بےپروائی پیدا ہوگئی۔ بہتوں کے اندر نہ اللہ کی طرف وہ توجہ ہی باقی رہ گئی جس کی ہدایت سورة انفال کی آیت 45 میں فرمائی گئی تھی کہ اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون (جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ کامیابی حاصل کرو)۔ اور نہ نظم اور ڈسپلن، امر و اطاعت اور اخلاص وانابت کا وہ اہتمام ہی باقی رہا جس کی تاکید آیت 46۔ 47 میں فرمائی گئی ہے اطیعو اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحک واصبروا ان اللہ مع الصابرین ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارہم بطرا ورئاء الناس (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اختلاف رائے نہ پیدا ئنے دو ورنہ ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہارے ہوا اکھڑ جائے گی، ثابت قدم رہو کیونکہ اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہوتا ہے اور ان لوگوں کی مانند نہ ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے اور نمائش کرتے نکلے)۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح پیغمبر کی حکم عدولی اور تنازع فی الامر نے احد میں شکست سے دوچار کیا اسی طرح کثرت تعداد کے عجب و غرور نے حنین میں خطرے سے دوچار کیا اس لیے کہ اس غرے میں اس بطر و ریا کی جھلک تھی جو اللہ کو ناپسند ہے اور جس سے اس نے اپنی راہ میں جہاد کے لیے نکلنے والوں کو روکا ہے۔ اس قسم کا غرہ آدمی کا اعتماد اللہ کے بجائے اسباب و وسائل پر جما دیتا ہے در آنحالیکہ مومن کا اعتماد ہر حال میں اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔ اگر اللہ کا بھروسہ کمزور ہوجائے تو بڑی سے بڑی تعداد اور زیادہ سے زیادہ اسباب و وسائل سب خس و خاشاک بن کے رہ جاتے ہیں اور جن لوگوں کو یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ کوئی ہمارے مقابل میں ٹک نہیں سکتا ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ زمین اپنی تمام وسعتوں اور پہنائیوں کے باوجود ان پر اس طرح تنگ ہوجاتی ہے کہ انہیں کوئی راہ فرار سمجھائی نہیں دیتی۔ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ میں اسی صورت حال کی تصویر ہے۔
آیت 26: ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ۔
غزوہ حنین میں شکست کے بعد فتح : ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ۔ اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا محض بطور تنبیہ و تذکیر پیش آیا۔ اس تنبیہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جما دیے اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے پیغمبر اور اس کے مخلص جاں نثاروں پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی سکینت دوسروں کے اندر سکینت پیدا کرنے کا باعث ہوئی۔ اس جنگ کے جو حالات سیرت و مغازی کی کتابوں میں مذکور ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فوج میں بھگدڑ مچ گئی تو صرف سرور عالم ﷺ تھوڑے سے جاں نثاروں کے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہے۔ بالآخر آپ ہی کی عزیمت و استقامت نے دوسروں کے اندر روح پھونکی اور منتشر شیرازہ از سر نو مجتمع ہوا اور اللہ نے شکست کے بعد فتح سے نوازا اور مومنین کے ہاتھوں کفار کو وہ سزا ملی جو ان کے لیے مقدر ہوچکی تھی، سکینت سے مراد جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واجح کرچکے ہیں، قرار، عزم اور حوصلہ ہے۔ اور جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا سے اشارہ ملائکہ کی غیبی افواج کی طرف ہے جو ہر جگہ اہل ایمان کی ہمرکاب ہوتی ہیں گو وہ ناسوتی نگاہوں سے نظر نہیں آتیں۔
آیت 27: ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
اپنے کافر عزیزوں کے باب میں تشویش میں مبتلا لوگوں کے لیے بشارت : ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ الایہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان سب واقعات کے بعد بھی ان لوگوں کو توبہ کی توفیق دے گا جن کے اندر صلاحیت کی کوئی رمق باقی ہے۔ یہ گویا ایک قسم کی بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے کافر عزیزوں کے باب میں تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہ مضمون آیت 15 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ بشارت نہایت واضح الافظ میں سورة نصر میں بھی وارد ہوئی ہے۔
Ayah 9:28اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت، مشرکین کو مسجد حرام کے پاس آنے کی ممانعت :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ یہ اس اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت ہے جس کا ذکر شروع سے چلا آ رہا ہے۔ فرمایا کہ یہ مشرکین نجس ہیں اس وجہ سے اس سال کے بعد سے یہ مسجد حرام کے پاس پھٹکنے نہ پائیں۔ نجاست سے مراد ظاہر ہے کہ یہاں وہ عقائدی نجاست مراد ہے جس کی تفصیلات دوسرے مقامات میں بیان ہوچکی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد بیت اللہ پر سے مشرکین کا تسلط تو ختم ہوچکا تھا۔ لیکن سن 9 ہجری کے حج تک ان کو یہ مہلت حاصل رہی کہ وہ حج کے لیے آتے اور اپنے جاہلی طریقے کے مطابق حج کے مراسم بھی ادا کرتے اور تجارتی خریدو فروخت بھی کرتے لیکن اسی حج کے موقع پر اعلان براءت کی عام منادی کے ساتھ ساتھ اس حکم کے بموجب یہ اعلان بھی کردیا گیا کہ آئندہ سے مشرکین حج کے لیے نہ آئیں۔ یہ گویا حجۃ الوداع کی تیاریوں کی تمہید تھی کہ سن 10 ہجری میں جب خود سرور دو عالم ﷺ حج ادا فرمائی تو مرکز ابراہیم شرک و کفر کی ہر آلائش سے بالکل پاک ہو۔
تجارتی کساد بازاری کے اندیشے کا ازالہ : وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ الایہ۔ عیلہ کے معنی فقر و مفلسی کے ہیں۔ یہاں یہ معاشی اور تجارتی نقصان کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ حج کو جس طرح ایک بہت بڑی مذہبی عبادت کی حیثیت حاصل تھی اسی طرح تجارتی اور کاروباری پہلو سے بھی اس کی بڑی اہمیت تھی۔ اس موسم باہر کا مال مکہ میں پہنچتا اور مکہ کی چیزیں باہر کے تاجر خریدتے۔ زمانہ جاہلیت میں اس کے کاروباری پہلو کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی تھی کہ قریش نے نسیئ کا قاعدہ ایجاد کر کے حج کو ایک خاص موسم میں کردیا تھا تاکہ موسموں کا تغیر تجارتی چہل پہل پر اثر انداز نہ ہو۔ اب اسلام کے دور میں آ کر جب یہ اعلان ہوا کہ آئندہ مشرکین حج کے لیے نہیں آسکتے تو ان لوگوں کو تشویش لاحق ہوئی جو کاروباری زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ مشرکین کو روک دینے سے کاروبار اور تجارت پر بڑا اثر پڑے گا جس سے مسلمانوں کو معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوجائے گی۔ ان لوگوں کو مطئن کرنے کے لیے فرمایا کہ معاشی بدحالی کا غم نہ کرو۔ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوا اور اس طرح پورا ہوا کہ ایک دن کے لیے بھی مکہ کی تجارت اس بندش سے متاثر نہ ہوئی اور کچھ عرصہ بعد تو یہ حال ہوا کہ مصر و شام اور روم و ایران کے خزانے بھی اونٹوں پر لد لد کر اسلام کے بیت المال میں پہنچنے لگے اور اللہ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس طرح غنی کردیا کہ لوگ اپنی زکوۃ کا مال مدینہ کی گلیوں میں لیے پھرتے تھے لیکن اس کا کوئی لینے والا نہیں ملتا تھا۔
اصلی قدر و قیمت ایمانی اقدار کی ہے : ان شاء۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ چیز بہرحال اللہ ہی کی مشیت اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ تنگی یا کشادگی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں، اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے اصل بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے جس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اصلی قدر و قیمت روحانی و ایمانی اقدار کی ہے۔ سیاسی اور معاشی مصالح ان کے تحت ہیں۔ ایمانی اقدار کے لیے معاشی مصالح قربان کیے جاسکتے ہیں لیکن پیٹ اور تن کے مفاد پر ایمان کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 9:29آیات 29 تا 35: آگے اہل کتاب۔ یہود و نصاری۔ سے جہاد کا حکم دیا ہے اور اوپر جس طرح مشرکین کے باب میں ایک واضح اور قطعی پالیسی سامنے رکھ دی ہے اسی طرح ان کے باب میں بھی ایک واضح اور قطعی پالیسی کا اعلان کردیا ہے کہ اب یہ اسلامی حکومت میں رہنا چاہتے ہیں تو صرف ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔ ان کے نقض عہد اور ان کی سازشوں کی تفصیل انفال میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی ان کے عقائد اور ان کے کردار کے ان پہلوؤں کی طرف بعض اشارات فرما دیے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مذہبی گروہ کی حیثیت سے اب ان کا وجود نہ صرف ایک ناکارہ وجود ہے بلکہ یہ سزاوار ہیں کہ اپنی کرتوتوں کی سزا بھگتیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
اہل کتاب کے جرائم اور ان کے بارے میں حکم : قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ۔
اہل کتاب کے مذہبی اور سیاسی جرائم کی تفصیلی بقرہ، آل عمران، مائدہ اور انفال سب میں بیان ہوچکی ہے۔ اگرچہ یہ لوگ نہ صرف ایمان کے مدعی تھے بلکہ اپنے آپ کو دین و شریعت کا تنہا اجارہ دار سمجھے بیٹھے تھے لیکن مذکورہ سورتوں میں پوری وضاحت سے ثابت ہوچکا ہے کہ اللہ، آخرت اور شریعت کسی چیز پر بھی یہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ایان کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ کے شرائط کے تحت ہو لیکن ان کا ایمان اپنی خواہشوں اور بدعات کے تحت تھا۔ مشرکانہ عقائد ایجاد کر کے انہوں نے خدا کی نفی کردی، اپنے آپ کو چہیتی اور مغفور امت قرار دے کر آخرت کا ابطال کردیا اور اللہ اور رسول کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو جائز بنا کر شریعت کو کالعدم کردیا۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کیا کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے سے، اپنے وعدے کے مطابق، جو دین حق بھیجا تو اس کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا بلکہ اس کی خالفت میں اپنا پورا زور صرف کردیا اور اس کے خلاف برابر سازشوں میں سرگرم رہے۔ فرمایا کہ اب یہ مفسدین کسی مزید مہلت کے حقدار باقی نہیں رہ گئے ہیں۔ ان سے بھی جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دیں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔
عن ید کا مفہوم : حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ۔ ید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ غلبہ، تسلط اور اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی ان کی طرف سے یہ ادائیگی، جزیہ تمہارے اقتدار و غلبہ کے نتیجہ میں ہو۔ ان سے جنگ کر کے ان کے کس بل اس طرح نکال دو کہ یہ تمہارے آگے گھٹنے ٹیک دیں اور ہاتھ باندھ کر جزیہ دینے پر راضی ہوں۔ وھم صغرون، یعنی تمہاری ماتحتی و محکومی قبول کریں اور اس کو غنیمت جانیں۔
جزیہ کی حیثیت : یہ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو تمام بالغ اور کماؤ افراد پر اس امان کے معاوضہ کے طور پر لگایا گیا جو ان کے جان و مال اور زن و فرزن کو اسلامی حکومت کے اندر حاصل ہوئی۔ اس کی مقدار افراد کی حیثیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی تھی جس میں چھوٹ اور رعایت کی بھی بڑی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تفصیلات اس کی ہماری کتاب اسلامی ریاست میں، غیر مسلموں کے حقوق کے باب میں ملے گی۔
اہل کتاب اور مشرکین میں فرق کی وجہ : یہاں ایک بات بہت نمایاں طور پر محسوس ہوگی کہ اہل کتاب کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وہ اس سے مختلف ہے جس کی ہدایت اوپر مشرکین کے باب میں کی گئی ہے۔ مشرکین باب میں تو یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ کفر سے توبہ کر کے اسلام نہ اختیار کرلیں اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو لیکن ان اہل کتاب کو جزیہ کی ادائیگی پر امان دے دینے کی ہدایت ہوئی۔ اس فرق کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب کی طرف رسول اللہ ﷺ کی بعثت براہ راست تھی۔ آپ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے، انہی کی زبان میں آپ ﷺ پر اللہ کا کلام اترا اور انہی کو آپ ﷺ کی بعثت براہ راست تھی، آپ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے، انہی کی زبان میں آپ ﷺ پر اللہ کا کلام اترا اور انہی کو آپ نے اپنی دعوت کا مخاطب اول بنایا اور ہر پہلو سے انہی کے معروف و منکر اور انہی کے مطالبات کے مطابق آپ نے ان پر اتمام حجت کیا۔ اس اہتمام کے بعد ان کے لیے کسی مزید مہلت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چناچہ مشرکین بنی اسماعیل ذمی نہیں بنائے جاسکتے تھے لیکن دوسرے غیر مسلموں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔
دوسرے غیر مسلموں کا حکم : اصلاً تو یہاں جو حکم بیان ہوا ہے وہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری سے متعلق ہے لیکن صحابہ کے زمانہ ہی میں یہ مسئلہ بھی طے پا چکا تھا کہ یہی حکم دوسرے غیر مسلموں کا بھی ہے۔ چناچہ مجوس کے ساتھ، ان کو مشابہ اہل کتاب قرار دے کر، یہی معاملہ کیا گیا جس کی ہدایت یہاں اہل کتاب کے باب میں ہوئی ہے۔ اس باب میں فقہا میں کوئی اختلاف رائے ہے تو وہ فروعی نوعیت کا ہے جس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
مفتوح اور معاہدان ذمہ کا حکم : یہ بات یہاں خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ آیت میں جو حکم بیان ہوا ہے وہ مفتوح اہل ذمہ کا ہے یعنی جنہوں نے اسلامی حکومت سے جنگ کی ہو اور شکست کھا کر اس کی اطاعت پر مجبور ہوئے ہوں۔ وہ اہل ذمہ اس سے الگ ہیں جن کو فقہاء نے معاہدہ یا اہل صلح سے تعبیر کیا ہے۔ معاہد اہل ذمہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بغیر کسی جنگ و قتال کے بطور خود اپنی مرضی سے اسلامی حکومت کی رعیت بن کر رہنا اختیار کیا ہو۔ ان لوگوں کے ساتھ حکومتِ اسلامی اس عہد نامے کے مطابق معاملہ کرے گی جو ان کے اور حکومت کے مابین طے پا چکا ہو۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس بات پر مصر ہوں کہ ان پر بھی اسی طرح کے مالی واجبات عائد کیے جائیں جو مسلمانوں پر عائد ہیں تو حکومت ان سے اپنی صواب دید کے مطابق اس شرط پر بھی معاہدہ کرسکتی ہے، دوسروں لفظوں میں اس فرق کو یوں سمجھیے کہ اگر جزیہ کی ادائیگی میں وہ عار اور ذلت محسوس کریں تو ان کو اس سے مستثنی کر کے ان کے لیے کوئی اور مناسب شکل اختیار کی جاسکتی ہے۔ ان لوگوں سے جو معاہدہ بھی طے پاجائے بلا کسی سبب معقول کے اس کو توڑنے کی اسلام میں سخت ممانعت آئی ہے۔ ہم نے اہل ذمہ کی ان دونوں قسموں پر اپنی کتاب اسلامی ریاست میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ جو لوگ مسئلہ کو دلائل کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہوں وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔
Ayahs 9:30–31تفسیر آیت 30، 31:
آیت 30: وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ۔ عیزر، کا نام تورات میں عزرا آیا ہے۔ ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ بخت نصر کے ہاتھوں یہود پر جو تباہی آئی اس میں تورات کے صحیفے بھی بالکل ناپید ہوگئے کہا جاتا ہے کہ یہ عزرا ہیں جنہوں نے اپنی یاد داشت سے ازسرنو تورات کو مرتب کیا۔ عجب نہیں کہ ان کے اسی کارنامے کی بنا پر یہود نے ان کو ابن اللہ بنا دیا ہوتا کہ اس دھونس سے ان کی مرتب کی ہوئی تورات کو درجہ استناد حاصل ہوسکے اور اگر کوئی اس پر شبہ وارد کرے تو اس کو یہ جواب دے کر چپ کیا جاسکے کہ یہ وہی تورات ہے جو موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی، اس کی گم شدگی کے بعد اللہ نے اپنے بیٹے عزرا کے ذریعہ سے اس کو زسر نو مرتب کرایا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اس دور کے مشرکانہ ماحول میں اس قسم کا کوئی اشغلا بہت کار آمد ہوسکتا تھا۔ مجھے یہود کے لٹریچر میں، یہود کے اس واہمہ کی کوئی تفصیل نہیں مل سکی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان شاہد ہے کہ یہود کے ہاں یہ ایک جانی پہچانی ہوئی بات تھی۔ اگر یہ جانی پہچانی ہوئی بات نہ ہوتی تو وہ قرآن کے اس بیان کے خلاف ضرور اعتراض اٹھاتے۔ چناچہ قرآن نے اس ذیل میں یہ جو فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا ہے تو بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ ہم احبار اور ربان کو رب تو نہیں مانتے آنحضرت ﷺ نے ان کے اس سوال کا ان کو مسکت جواب دیا تب وہ مطمئن ہوئے۔ اسی طرح اگر قرآن کی اس بات پر کسی کو شبہ یا اعتراض ہوتا تو وہ ضرور سوال اٹھاتا لیکن اس طرح کا کوئی اعتراض یا شبہ کہیں نقل نہیں ہے۔
حضرت مسیح کے ابن اللہ بنانے کی بحث پوری تفصیل سے آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو اس کے محل میں دیکھیے۔
اہل کتاب کے عدم ایمان کے دلائل : اوپر والی آیت میں یہود و نصاری کے متعلق یہ بات جو بیان ہوئی ہے کہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اب یہ اس کے دلائل بیان ہو رہے ہیں کہ یہود نے عزیر کو خدا کا بیٹا بنایا اور نصاری نے مسیح کو تو اس شرک کے بعد خدا پر ان کا ایمان معتبر نہیں۔ خدا پر ایمان کی یہ بنیادی شرط ہے کہ اس کی ذات، صفات اور اس کے حقوق میں کسی کو ساجھی نہ قرار دیا جائے۔ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ یعنی یہ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں جو انہوں نے خود گھڑی ہیں۔ خدا نے کہیں یہ نہیں کہا ہے کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں یا مسیح خدا کے فرزند ہیں۔
اہل کتاب میں اگلوں کی عامیانہ تقلید : يُضَاهِــــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ، مضاھات کے معنی مشابہت و مشاکلت کے ہیں۔ یعنی ان سے پہلے جن لوگوں نے یہ کلمہ کفر ایجاد کیا یہ بےسمجھے بوجھے طوطے کی طرح اس کی نقل کیے جا رہے ہیں۔ سورة آل عمران کی تفسیر میں ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہود اور نصاری نے اپنی بدعات میں نقل تو اڑائی ہے ہم عصر مشرک قوموں کی لیکن ان پر رنگ چڑھایا ہے اپنے ہاں کے متشابہ الفاظ و کلمات کا۔ مثلاً پال نے مسیحیت کو رومیوں اور یونانیوں میں مقبول بنانے کے لیے ان کے عقائد اور مشرکانہ تصورات سے مواد اخذ کیا اور پھر لفظ کلمہ اب، ابن وغیرہ کلی مدد سے، جو انجیلوں میں خدا اور مسیح کے لیے استعمال ہوئے تھے۔ ایک پوری متھالوجی تیار کردی۔ لفظ اب اور ابن جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، عبرانی میں باپ اور رب، بیٹے اور بندے کے معنوں میں استعمال ہوتے تھے اور اپنے محل میں یہ اپنے مفہوم کو بےتکلف واضح کرتے تھے لیکن جب عبرانی زبان ایک متروک زبان بن گئی اور مسیحیوں کے ہاتھوں میں صرف انجیلوں کے ترجمے رہ گئے تو ان الفاظ کے وہی مفہوم اصلی مفہوم بن گئے جو ترجمہ کی زبان میں معتبر تھے۔ مثلاً عرب کے عیسائی اب اور ابن کے الفاظ ٹھیٹھ باپ اور بیٹے کے معنی میں لینے لگے اس لیے کہ عربی میں ان کے یہی مفہوم معتبر تھے۔ یہی صورت حال دوسرے مقامات میں بھی پیش آئی کہ عقائد کا ماخذ اصل کتاب نہیں رہ گئی بلکہ ترجمہ کی زبان بن گئی۔ قرآن نے یہاں اسی گمراہی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے پیشرو گمراہوں نے ان کے لیے جو گورکھ دھندا کفر و ضلالت کا تیار کردیا ہے یہ آنکھ بند کر کے اسی کی تقلید کیے جا رہے ہیں اور اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانے والوں کی بات پر کان نہیں دھرتے۔
قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ، قاتلہم اللہ، عربی میں لغت کا کلمہ ہے، جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں، خدا ان کو غارت کرے۔ انی یوفکون، تعجب اور حسرت و افسوس دونوں کا حامل ہے اور اس موقع کے لیے موزوں ہے جب کوئی شخص بالکل بدیہی حقائق کے خلاف کوئی روش اختیار کرے۔
آیت 31۔ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔
احبار و رہبان کو رب بنانے کا مفہوم : اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔ اوپر فرمایا تھا ولا یحرمون ما حرم اللہ، اب یہ اس کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔ احبار، حبر، کی جمع ہے جس کا غالب استعمال یہود کے فہا کے لیے ہوا ہے۔ رھبان، راھب کی جمع ہے۔ یہ نصاری کے مشائخ اور صوفیوں کے لیے معروف ہے۔ ان کو رب بنانے کی حقیقت عدی بن حاتم کی ایک مشہور روایت سے واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہود و نصاری اپنے احبارو ربہان کو رب تو نہیں مانتے۔ حضور نے فرمایا، کیا یہ بات نہیں ہے کہ جو وہ حرام کردیں اس کو وہ حرام مان لیتے ہیں اور جس چیز کو جائز کردیں اس کو وہ جائز مان لیتے ہیں ؟ بولے یہ بات تو ہے۔ حضور نے فرمایا یہی ان کو رب بنانا اور یہی ان کی عبادت کرنا ہے۔
مسیح ابن مریم کے بارے میں مزعومات :‘ والمسیح ابن مریم ’ اسی سیاق میں فرمایا کہ نصاری نے مسیح ابن مریم کو رب بنا لیا لیکن فی الجملہ امتیاز پیدا کرنے کے لیے ان کا ذکر الگ کردیا تاکہ ان تمام مزعومات کی طرف اشارہ ہوجائے جو نصاری نے حضرت مسیح سے متعلق ایجاد کیے۔ وہ رب تو بنائے ہی گئے لیکن مزید برآں یہ ہوا کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا گیا۔ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یعنی یہ مشرک انہوں نے اس کے باوجود اختیار کیا کہ تورات و انجیل دونوں میں نہایت تاکید اور وضاحت کے ساتھ صرف الہ واحد کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے متعلق ضروری حوالے ہم تفسیر سورة آل عمران میں نقل کر آئے ہیں۔
‘ سبحنہ ’ کا مفہوم : سبھں ہ کا لفظ تنزیہہ کے لیے آتا ہے لیکن اس کے اندر توحید کی نہایت واضح منطقی دلیل بھی ہے۔ وہ یوں کہ کسی چیز کی مسل اور بنیادی صفات سے بالکل متناقض صفات کا اس کے ساتھ جوڑ ملانا بالبداہت خلاف عقل ہے۔ اس اصول کے مطابق خدا کا کسی کو شریک ٹھہرانا اس کی شان الوہیت کے منای ہے کیونکہ اس سے اس کی مسلمہ صفات کی نفی لازم آتی ہے۔ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث اپنے مقام میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 9:32–33تفسیر آیت 32، 33۔
آیت 32۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ،
حق کی مخالفت من گھڑت باتوں سے : يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا۔ اوپر آیات 29۔ 30 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اللہ نے ان کو گمراہی سے نکالنے کے لیے اپنا دین حق بھیجا ہے لیکن یہ اس کی پیروی پر آمادہ نہیں ہیں اور ان باتوں کی آڑ لے کر اس کی مخالفت کررہے ہیں جو محض ان کے منہ کی باتیں ہیں، نہ ان کے لیے ان کے پاس خدا کی کوئی سند ہے، نہ عقل و فطرت ہی کے اندر ان کی کوئی شہادت ہے۔ اب یہ اسی حقیقت کو ایک تمثیلی رنگ میں نمایاں کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے دین حق کی اپنی منہ زبانی باتوں کی سند پر مخالفت کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی سورج کو مٹی کا دیا سمجھ کر اس کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ تو یہ کوشش کر رہے ہیں لیکن اللہ نے یہ فیصلہ فرمالیا ہے کہ وہ اپنے نور کو کامل کر رکے رہے گا اور وہ افق سے خورشید جہاں تاب بن کر چمکے گا اور اللہ کا یہ فیصلہ ان کافروں کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم پورا ہوگا۔ یہ آیت سورة صف میں بھی زیر بحث آئے گی وہاں ہم اس کے بعض خاص پہلو نمایاں کریں گے۔
آیت 33َ۔ هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۔
دین حق کے غلبہ کی بشارت : هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ۔ اس آیت کے مضمون کی وضاحت بقرہ آیت 192 اور انفال آیت 39 کے تحت بھی ہوچکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ سرزمین حرم کفر و شرک کی ہر آلائش سے پاک ہوجائے اور دین حق کے سوا کوئی اور دین یہاں دین غالب کی حیثیت سے باقی نہ رہے تاکہ دعوت ابراہیمی کا یہ مرکز، دعائے ابراہیمی کے بموجب، تمام عالم کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ بن جاے۔ وہی بات یہاں فرمائی گئی کہ جس طرح یہ اہل کتاب اپنی پھونکوں سے خدا کے چراغ کو گل نہ کرسکیں گے اسی طرح مشرکین عرب کی کوششیں بھی اس دین کو مغلوب نہ کرسکیں گی بلکہ یہ ان کی تمام کوششوں کے علی الرغم اس سرزمین کے ہر دین پر غالب ہو کے رہے گا۔
Ayahs 9:34–35تفسیر آیت 34، 35۔
آیت 34۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔
اہل کتاب کے جرائم خلق کے باب میں : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ اوپر اہل کتاب کے وہ جرائم بیان ہوئے ہیں جن کے مرتکب وہ خالق کے حقوق کے باب میں ہوئے، اب یہ ان کے وہ جرائم بیان ہو رہے ہیں جن کے مرتکب وہ خلق کے باب میں ہوئے ہیں تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ کسی پہلو سے بھی اب ان کی کوئی افادیت باقی نہیں رہی ہے بلکہ ہر اعتبار سے یہ خدا کی زمین کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں، اور سزاوار ہیں کہ ان کے لعنتی وجود سے خلق خدا کو نجات ملے۔ یہ خاص پہلو بھی ملحوظ رہے کہ عوام کے کردار کے بجائے یہاں علماء اور مشائخ کے کردار کو بےنقاب کیا ہے تاکہ یہ حقیقت سامنے آجائے کہ جن کے علماء اور مشائخ کا کردار اس درجہ فاسد ہوچکا ہے ان کے عوام کا کیا ذکر اور اب ان کی اصلاح کی کیا توقع ! اصلاح کا یہ ذریعہ علماء و مشائخ ہی ہوسکتے تھے۔ جب وہی مال و دولت کے پجاری بن کر رہ گئے ہیں تو اصلاح کن کے ہاتھوں ہوگی۔
علمائے اہل کتاب کی زرپرستی : یہود کے ہاں قضا اور افتاء وغیرہ کے تام مناصب ان کے علماء اور فقہا ہی کے ہاتھ میں تھے۔ اور عیسائیوں کے پادری تو لوگوں کو نجات کے پروانے تک بانٹنے کے مجاز تھے پرھ اس پر مستزاد یہ کہ ان لوگوں نے صدقات و زکوۃ وگیرہ کی آمدنیوں کا مصرف اپنے آپ کو قرار دے لیا تھا اس وجہ سے ان کے لیے ناجائز ذرائع سے دولت سمیٹنے کے نہایت وسیع دروازے کھلے ہوئے تھے۔ سودی کاروبار بھی انہوں نے کھلے بندوں اختیار کر رکھا تھا۔ قرآن میں یہ اشارہ بھی ہے کہ غیر اسرائیلیوں کے مال کو یہ شیر مادر سمجھتے تھے۔ سیدنا مسیح نے ان لوگوں کی زرپرستی پر نہایت سخت الفاظ میں ملامت فرمائی۔ ہیکل کی انتظامیہ اور اس کے کارپردازوں کا جو حال تھا اس کو دیکھ کر حضرت مسیح نے فرمایا کہ تم نے میرے باپ (رب) کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا دیا ہے، یہ بھی فرمایا کہ تم اوروں کو زیرے اور سونف پر بھی عشر کا حساب بتاتے ہو لیکن خود دوسروں کا مال ہڑپ کر جاتے ہو۔
رہزن اور بٹ مار علماء : وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان علماء نے اپنے فرائض منصبی کے بالکل برعکس طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ علماء و مشائخ پر اللہ کی طرف سے تو یہ فریضہ عاید کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کا راستہ دکھائیں لیکن یہ اپنی ساری قابلیت لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے پر صرف کر رہے ہیں اور ہادی و مرشد بننے کے بجائے سیدنا مسیح کے الفاظ میں رہزن اور بٹ مار بن گئے ہیں۔ سورة بقرہ میں علماء یہود کی ان مفسدانہ کوششوں کا ذکر تفصیل سے ہوچکا ہے جو انہوں نے لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے کیں۔
انفاق کی حقیقت اور اس کی برکات : وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔ اگرچہ اس ٹکڑے میں اشارہ انہی زرپرستوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر گزرا لیکن اس کا اسلوب بیان عام تعلیم کا ہے کہ جو لوگ بھی دولت جمع کریں گے اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کریں گے ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ اس تعلیم کا واضح مدعا یہی ہے کہ دولت جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ خدا کی راہ میں کرچ کرنے کے لیے ہے۔ ‘ خدا کی راہ ’ سے مراد، جیسا کہ دوسرے مقام میں وضاحت ہوچکی ہے، وہ تمام مصارف خیر ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یا بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے تحت آتے ہیں۔ یہ بات یہاں پیش نظر رکھنے کی ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ مال و دولت ذخیرہ کریں گے اور اس کو راہ خدا میں خرچ نہیں کریں گے ان کے لیے یہ وعید ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ایتائے زکوۃ سے الگ چیز ہے۔ ہر صاحب مال سے اللہ تعالیٰ کے دو مطالبے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے، دوسرا یہ کہ وہ اپنا مال سینت کر رکھنے کی بجائے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ پہلا مطالبہ قانونی ہے اور ایک اسلام حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہر شہری سے زکوۃ، اگر محسوس کرے، بجبر و بزور وصول کرے۔ دوسرا مطالبہ اگرچہ جبر و زور کے ذریعہ سے پورا نہیں کرایا جاسکتا بلکہ یہ صاحب مال کے اختیار پر چھوڑا گیا ہے لیکن اللہ کے ہاں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا اصلی انحصار اسی آزادانہ اور رضاکارانہ انفاق پر ہے۔ اسی انفاق سے آدمی کے ایمان کو، جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں واضح کر آئے ہیں، ثبات و استحکام حاصل ہوتا ہے، یہی انفاق حکمت کا خزانہ بخشتا ہے، اسی سے نور قلب میں افزونی ہوتی ہے۔ اگر مال کے ڈھیر رکھتے ہوئے کوئی شخص اپنے پاس پڑوس کے یتیموں، بےکسوں، ناداروں سے بےپروا رہے یا دعوت دین، اقامت دین، تعلیم دین اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوسرے کاموں سے بےتعلق ہوجائے تو وہ عنداللہ مواخذہ اور مسئولیت سے بری نہیں ہوسکتا اگرچہ اس نے اپنے مال کا قانونی مطالبہ پورا کردیا ہو۔ آگے اسی سورة میں ان منافقین کا بیان آئے گا جو مال رکھتے ہوئے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے تھے۔ قرآن نے ان کی اس زر پرستی کو ان کے نفاق کی دلیل قرار دیا ہے اور نہایت ہی سخت الفاظ میں ان کو وعید سنائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وعید ان کو زکوۃ نہ ادا کرنے پر نہیں سنائی گئی ہے۔ زکوۃ تو وہ طوعاً و کرہاً بہرحال ادا کرتے ہی تھے۔ نہ ادا کرتے تو تلوار کے زور سے ادا کرتے۔ ان کا اصلی جرم یہی تھا کہ وہ مال دار ہونے کے باوجود جہاد کے لیے انفاق سے جی چراتے تھے اور جہاد کے لیے انفاق سے جی چرانا علامات نفاق میں سے ہے بلکہ بعض حالات میں تو یہ نہایت غلیظ قسم کا نفاق بن جاتا ہے جس کے اتھ ایمان جمع ہو ہی نہیں سکتا۔
صحابہ کرام کی دولت مندی کی نوعیت : بعض لوگ بعض صحابہ کی دولت مندی کو مثال میں پیش کر کے اس سے استدلال کرتے ہیں کہ ادائیگی زکوۃ کے ساتھ دولت جمع کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ صحابہ میں جو لوگ دولت مند تھے ان کی دولت مندی کاروباری اور تجارتی نوعیت کی تھی۔ جائز کاروبار اور تجارت میں سرمایہ لگانا اور اس کو بڑھانا کنز نہیں بلکہ اکتساب و علت ہے اور اسلام میں کوئی مذموم فعل نہیں بلکہ ایک محمود فعل ہے۔ اگر ایک شخص ایک جائز کاروبار میں سرمایہ لگائے، حلال راستوں سے روپیہ کمائے، اسراف اور بخل دونوں سے پرہیز کرتا ہوتا اپنی ضروریات پر خرچ کرے، اپنے مال کی زکوۃ نکالے اور اپنی فاضل دولت سرا اور علانیۃً اللہ کی راہ میں اپنی مرضی سے خرچ کرے تو وہ اسلامی معاشرہ کا ایک سچا خدمت گزار اور آخرت میں اللہ کا مقبول بندہ ہے۔ صحابہ میں سیدنا عثمان غنی ایسے ہی دولت مند تھے اور دوسرے اصحاب کی دولت مندی بھی اسی نوعیت کی تھی۔ عثمان غنی کی دولت سے مسلمانوں کو جو فائدے پہنچے اس سے کون انکار کرسکتا ہے ؟ پھر یہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے کہ یہ غنی دریا دل اپنی زندگی کے آخری دور میں اپنی انفاق کی عادت مستمرہ کے خلاف دولت جمع کرنے کی فکر میں لگ گیا ہوگا۔
زکوۃ اور انفاق میں فرق : لیکن یہ خوب یاد رکھیے کہ یہ انفاق زکوۃ کی طرح کوئی قانونی اور جبری چیز نہیں بلکہ اختیاری چیز ہے۔ اور اس کے اس اختیار ہونے ہی میں اس کی ساری برکتیں ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ میں یہ چیز ہر صاحب مال سے مطلوب ہے لیکن بالجبر نہیں بلکہ بالرضا۔ یہ حکومت کے فرائض میں ہے کہ وہ معاشرہ کے اندر لوگوں کے اندر دولت کی ذخیرہ اندوزی کی بیماری نہ پھیلنے دے بلکہ برابر اپنے تمام ترغیبی و تعلیمی ذرائع سے لوگوں کے جذبہ انفاق کو ابھارتی اور اکساتی رہے۔ اس کا سب سے زیادہ کارگر اور موثر طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ اولوالامر کے درجہ پر فائز ہوں وہ خود معیار زندگی متوسطانہ رکھیں اور دوسروں کو بھی اسی کی تعلیم دیں بلکہ ان رجحانات کی شدت سے حوصلہ شکنی کریں جو لوگوں معیار زندگی اونچا کرنے کے تنافس میں مبتلا کرنے والے ہوں۔
آیت 35: يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰي بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ۭهٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ۔
جمعِ مال کا انجام : يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ الایہ، یعنی راہ خدا سے بچا اور چرا کر جو دولت جمع کی جاتی ہے وہ قیامت کے دن پیشانی کا داغ اور پہلو اور پیٹھ کا زخم بنے گی۔ دولت جمع کرنے کی سرگردانی میں بڑا دخل دو چیزوں کو ہوتا ہے۔ ایک ہم چشموں میں اپنا سر اونچا رکھنے کی خواہش دوسری اپنے ذاتی آرام و راحت کی طلب۔ فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں سربلندی اور فخر کی خاطر دولت جمع کریں گے ان کی دولت بروز قیامت ان کی پیشانی پر داغ لگائے گی۔ اسی طرح جو لوگ نرم ریشمین و مخملین گدوں، غالیچوں، قالینوں اور صوفوں کے درپے ہو کر انفاق کی سعادت سے محروم رہیں گے ان کی یہ بچائی ہوئی دولت ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو زخمی کرے گی۔
Ayah 9:36اوپر کی آیات میں میں مشرکین اور اہل کتاب دونوں گروہوں سے جنگ کا حکم دینے کے بعد آگے کی دو آیتوں میں چاروں محترم مہینوں کا احترام باقی رکھنے کی تاکید کردی۔ یہ اسی ہدایت کی تاکید مزید ہے جو آیت 5 میں گزر چکی ہے کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تب ان سے جنگ شروع کرو۔ اس احترام کی تاکید کے ساتھ ان مہینوں کے باب میں نسئ کی اس بدعت کی اصلاح بھی فرما دی جو مشرکین عرب نے اہل کتاب سے اخذ کی تھی۔ پیچھے ہم ذکر کر آئے ہیں کہ عربوں نے اپنے تجارتی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر کبیسہ کے قاعدے پر ایک ایسی جنتری بنا لی تھی کہ اشہر حرم برابر ایک ہی موسم میں پڑتے تھے۔ اس بدعت نے قمری مہینوں کو ان کی اصل جگہ سے ہٹا دیا تھا۔ چونکہ قمری مہینے ہی اصل خدائی مہینے ہیں اور سیدنا ابراہیم کے وقت سے یہی مہینے حج وعمرہ کی ادائیگی کے لیے قرار پائے تھے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اب جب کہ ملت ابراہیم کی تجدید کا کام اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہورہا ہے۔ مشرکین کی اس بدعت کی بھی اصلاح کردی جائے تاکہ اشہر حرم اور مناسک حج سب اپنی اصلی جگہ پر آجائیں۔ چناچہ حجۃ الوداع ٹھیک اس تاریخ کو ہوا جو قمری حساب سے اس کی اصلی تاریخ تھی۔ اس روشنی میں آیات تلاوت فرمائیے۔
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۔
خدائی تقویمہ : اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ۔ یہ بطور تمہید قمری مہینوں کی عظمت و اہمیت واضح کی گئی ہے کہ یہی مہینے کائنات، آفاقی اور خدائی مہینے ہیں اس لیے کہ ان کے تعین کے لیے قدرت نے کود، کائنات کے نظام میں ایک نہایت محکم انتظام کردیا ہے جو پوری باقاعدگی سے سال اور مہینوں کا حساب ایک عامی سے عامی آدمی کے لیے بھی واضح کرتا رہتا ہے۔ والقمر نورا وقدرہ منازل لتعلموا عدد السنین والحساب (یونس :5)۔ (اور چاند کو روشنی بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب کا تعین کرسکو)۔ یہی خدائی تقویم ہے جو نوشتہ الٰہی میں موجود اور اس دن سے جاری و نافذ ہے جس دن خالق کائنات نے اس آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کی کوئی کائنات شہادت ان تقویموں میں سے کسی بھی تقویم کے حق میں موجود نہیں ہے۔ جو انسانوں نے بنائی ہیں۔ یہ خائی کیلنڈر ہر مہینے میں افق پر نمایاں ہو کر، اپنے ہر روز بدلنے والے نمایاں اور چمک دار نشانوں کے ذریعہ سے دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب بتاتا رہتا ہے۔ اور کبھی اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ فی کتاب اللہ، یعنی اس خدائی کتاب میں، جس میں اس کائنات سے متعلق تمام احکام و قوانین مندرج ہوئے۔ یہ حکم بھی مندرج ہوا کہ اس میں قمری مہینوں کے حساب سے 12 مہینوں کا سال ہوگا جن میں سے چار مہینے حرمت والے قرار پائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بارہ مہینوں میں کوئی کمی یا بیشی کرنا یا ان کو آگے یا پیچھے ہٹانا اس خدائی کیلنڈر میں خلل پیدا کرنا ہے جو کائنات کے خالق کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔
اصلی دینی جنتری : ذالک الدین القیم : یعنی یہی صحیح، فطری اور کائناتی دینی تقویم ہے۔ جس طرح اسلام دین قیم ہے اس لیے کہ اس کی شہادت آفاق میں موجود ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ جس طرح ہماری کھیتی باڑی میں فصلوں اور موسموں کا اعتبار ہے۔ اسی طرح دینی امور میں بھی اوقات، ایام اور سالوں کا اعتبار ہے۔ جس طرح بےوقت اور بےموسم کی زراعت لا حاصل اور بےبرکت ہو کے رہ جاتی ہے اسی طرح بےوقت کی نماز، بےوقت کا روزہ اور بےوقت کا حج بھی لا حاصل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہوا کہ اس جنتری کو بھی شرعی اور دینی حیثیت حاصل ہو جس کے تحت دین کی عبادات اور اس کے احکام و مناسک منضبط ہوئے ہیں۔ اسی پہلو سے اس تقویم کو دین قیم کہا ہے اس لیے کہ یہ بھی دین ہی کا ایک حصہ اور نہایت ہی اہم حصہ ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کرنا دین میں تحریف کے ہم معنی ہے۔
محترم مہینوں کا احترام : فلاتظلموا فیہن انفسکم۔ یعنی نہ تو ان مہینوں میں ان کی حرمت کے خلاف کوئی کام کرو، نہ ان میں کسی قسم کا رد و بدل کرو۔ اگر تم نے خود پہل کر کے ان میں کوئی جنگ چھیری تو اس سے خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاؤ گے اس لیے کہ خدا نے ان مہینوں کو جو محترم ٹھہرایا ہے تو تمہارے ہی مفاد کے لیے ٹھہرایا ہے، اسی طرح اگر تم ان میں کوئی رد و بدل کرو گے تو یہ بھی تم اپنے ہی کو نقصان پہنچاؤ گے اس لیے کہ ان کے اندر خدا نے جو برکتیں رکھی ہیں تم ان سے محروم ہوجاؤ گے۔
مشرکین سے من حیث الجماعت جنگ کا حکم : وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ، مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں کے حد و حرمت کا لحاظ رکھتے ہوئے تم ان مشرکین سے جنگ کرو اور یہ جگ ان مشرکین سے من حیث الجماعت ہو۔ اس بنیاد پر ان کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہ کیا جائے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ رشتہ و قرابت یا دوستی کا کوئی تعلق ہے یا خاندان اور قبیلہ کی بنا پر کسی قبیلہ سے ہمدردی ہے یا ان کے کسی گروہ سے کوئی سیاہی یا تجارتی یا معاشی مفاد وابستہ ہے۔ اس قسم کے تمام تعلقات و مفادات بالائے طاق رکھ کے تمام مشرکین کے خلاف بلا استثنا اعلان جنگ کرو اس لیے کہ خود ان کا رویہ تمہارے ساتھ عملاً یہی ہے۔ وہ تمہارے دشمن من حیث الجماعت ہیں۔ لایرقبون فی مومن الا ولا ذمہ (وہ کسی مسلمان کے باب میں نہ کسی قرابت کا پاس رکھنے کے تیار ہیں، نہ کسی عہد کا) اسی طرح تم ان کے دشمن من حیث الجماعت ہو اور جس کو پاؤ اس کو قتل کرو۔ البتہ محترم مہینوں کا لحاط رکھو، ان میں کوئی جنگ پہل کر کے نہ چھیڑو، البتہ دفاعی جنگ، جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل گزر چکی ہے، ان میں بھی جائز ہے، یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کے ساتھ ہے جو اس کے حدود وقیود کا پاس ولحاظ رکھنے والے ہیں۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ عربوں میں خاندانوں اور خاندانوں کے مابین بھی بسا اوقات حلف اور ولا کی بنیاد پر بڑے گہرے تعلقات ہوتے تھے جن کی ذمہ داریوں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ یہاں اس عام اعلان براءت کے بعد جو اوپر مذکور ہوا مسلمانوں کو ہدایت ہوئی کہ مشرکین کے خلاف جہادِ عام میں اس قسم کی کسی پابندی کو حائل نہ ہونے دیں بلکہ تمام مشرکین کو بلا استثنا اعلان جنگ دے دیں۔