Ayah 9:84وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ۔ منافقین کی نماز جنازہ اور دعائے استغفار کی ممانعت : یہ جماعت سے ان کو کاٹ پھینکنے کی اور سخت تر بلکہ آخری صورت اختیار کرنے کی ہدایت ہوئی۔ اور آیت 80 میں نبی ﷺ کو ان کے لیے استغفار کی ممانعت ہوچکی ہے، اب یہ ان کے جنازے کی نماز پڑھنے اور ان کی قبروں پر دعائے استغفار کے لیے کھڑے ہونے کی بھی ممانعت فرما دی گئی۔ گویا زندگی اور موت دونوں میں ان سے قطع تعلق کا اعلان کردیا گیا۔ جماعت زندگی سے آدمی کا آخری رشتہ یہی ہوتا ہے کہ مرنے پر اپنے جماعتی بھائیوں کے ہاتھوں دفن ہوتا اور ان کی دعاؤں کا زاد راہ لے کر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوتا ہے۔ اس ممانعت نے پیغمبر اور اہل ایمان کے ساتھ ان ان کا یہ آخری رشتہ بھی کاٹ دیا۔ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ۔ یہ اس ممانعت کی علت بیان ہوئی ہے کہ ان کی موت ایمان پر نہیں بلکہ کفر پر ہوئی۔ فسق یہاں بد عہدی اور غداری معنی میں ہے۔ یعنی اگرچہ یہ ایمان کے مدعی اور دکھاوے کے لیے اسلام کے بعض رسوم بھی ادا کرتے رہے لیکن اور اس کے رسول کے ساتھ انہوں نے جو عہد باندھا اس کو یہ توڑ چکے ہیں۔ اس کے شاہد ان کے وہ اعمال ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔
Ayah 9:85وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ۔ اس آیت کی وضاحت اسی سورة میں پیچھے گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 55
Ayah 9:8686۔ 87: وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَجَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْـتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِيْنَ۔ لفظ سورة کا مفہوم : جس طرح لفظ ’ کتاب ‘ یا ’ قرآن ‘ بعض مقامات میں قرآن کے کسی حکم یا اس کے کسی حصہ کے لیے خود قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح لفظ سورة یہاں اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ اس کے کسی حصہ یا ٹکڑے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَجَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ ، فعل اٰمنوا، یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اپنے ایماب اللہ کا ثبوت دو جو یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کے لیے نکلو۔ اسْـتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ۔ طول کے معنی قدرت اور غنا کے ہیں۔ یعنی جب ان سے اللہ کی راہ میں جہاد کا مطالبہ ہوتا ہے تو یہ اپنے دعائے ایمان بالکل پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے غربا اور مسکینوں کا کیا ذکر۔ ان میں جو مقدرت اور مال والے ہیں، تندرست جسم بھی رکھتے ہیں اور سامان جنگ فراہم کرنے کا وافر ذریعہ بھی، ان تک کا حال یہ ہے کہ کوئی عذر تراش کر پیغمبر کے پاس رخصت مانگنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ وَقَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِيْنَ۔ میرے نزدیک یہ ان کے مافی الذہن کو ان کے قول سے تعبیر فرمایا ہے۔ قرآن میں بعض جگہ یہود کا قول نقل ہوا ہے وقالوا سمعنا وعصینا۔ ہرچند وہ کہتے تو تھے سمعنا واطعنا لیکن چونکہ ان کے دل کی آواز یہی ہوتی تھی کہ سمعنا وعصینا، اور اپنے عمل سے بھی انہوں نے اسی کی گواہی دی اس وجہ سے قرآن نے ان کے دل کی شہادت کو ان کے قول سے تعبیر فرمایا، گویا انہوں نے سمعنا واطعنا نہیں بلکہ سمعنا وعصینا ہی کہا تھا۔ اس طرح ان منافقین نے اگرچہ پیش تو کیے عذرات اور کچھ مجبوریاں لیکن ان سب کے باطن میں مضمر تھی محض تن آسانی اور بزدلی۔ وہ نکلنے والے غازیوں کے ساتھی نہیں بلکہ بیٹھ رہنے والے بزدلوں، ناکاروں، اور معذوروں کے ساتھی بننا چاہتے تھے۔ ان کے عذرات اور بہانوں کی اسی مضمر حقیقت کو قرآن نے ان کے قول سے تعبیر کردیا ہے جس میں ایک نہایت لطیف قسم کا طنز پیدا ہوگیا ہے جس کی ایک سے زیادہ نظیریں قرآن میں موجود ہیں۔ یہی طنز آگے والی آیت میں ذرا تیز ہوگیا ہے جس کی ایک سے زیادہ نظیریں قرآن میں موجود ہیں۔ یہی طنز آگے والی آیت میں ذرا تیز ہوگیا ہے۔
Ayah 9:87رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ۔ مرد ہو کر عورتوں کے ساتھی : خوالف، عورتوں کو کہتے ہیں اس لیے کہ مرد جنگ و جہاد اور دوسرے مردانہ کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں اور یہ بچوں اور گھروں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں بیٹھتی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مرد ہو کر غازیوں کی ہم سفری اور ہم رکابی کی بجائے اپنے لیے یہی پسند کیا کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھیں۔ ان کی اس ایمانی اور اخلاق موت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، نہ اب وہ کوئی صحیح بات سوچتے ہیں۔ نہ کسی عزم و ہمت کے کام کے لیے ان کے اندر حوصلہ ہی پیدا ہوتا ہے۔
Ayahs 9:88–8988۔ 89۔ سچے اہل ایمان کا کردار : لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْخَيْرٰتُ ۡ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ اب یہ سچے اور پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان ہو رہا ہے اور مقصود اس سے ان مخلصین کی تحسین بھی ہے اور ان منافقین کو غیرت دلانا بھی کہ رسول کے جو سچے ساتھی ہیں وہ جب حکم جہاد ہوتا ہے تو ان منافقین کی طرح رخصت کی عرضیاں لے کر نہیں دوڑتے بلکہ اپنے مال اور سر لے کر رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ اصلاً انہی کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔
Ayah 9:90آیات 90۔ 99: اوپر زیادہ تر بحث شہری منافقین سے تھی جو مدینہ اور اس کے آس پاس آباد تھے۔ آگے ان منافقین کا ذکر آرہا ہے جو دیہاتوں رہائش رکھتے تھے۔ بیماریاں دونوں کی ایک ہی قسم کی ہیں اس وجہ سے حکم بھی دونوں کا ایک ہی بیان ہوا ہے۔ اسی ضمن میں حقیقی معذورین کی تفصیل بھی بیان کردی ہے تاکہ بہانہ بازوں اور حقیقی معذوروں کے امتیاز میں کوئی گھپلا پیش نہ آئے۔ منافقین کے باب میں چونکہ یہ فیصلہ کن بحث تھی، اندیشہ تھا کہ کوئی بےگناہ زد میں آجائے، اس وجہ سے دونوں کے درمیان ایک خط واضح کھینچنا ضروری ہوا۔ آیات ملاحظہ فرمائیے۔
وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْم۔ معذر کے معنی ہیں جھوٹا اور بالکل بےسروپا عذرات تراشنے والا بہانہ باز جو ہر ذمہ داری سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر گھڑ لیتا ہو۔ معذر اور معتذ میں یہ فرق ہے کہ معتذر کا عذر جھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور بعض حالات میں سچھا بھی۔ لیکن معذر کہتے ہیں اس کو ہیں جو نرا بہاز ہو۔ ’ اعراب ‘ اعرابی کی جمع ہے۔ ’ اعرابی ‘ سکان البادیہ، یعنی بدوی اور دیہاتی عربوں کو کہتے ہیں یہاں یہ اطرف مدینہ اور صحرائی علاقوں کے ان بادیہ نشینوں کے لیے استعمال ہوا ہے جن کی اکثریت نے اگرچہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اس کی سیاسی سیادت تسلیم کرلی تھی لیکن اسلام ان کے اندر رچا بسا نہیں تھا۔ اول تو یہ لوگ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اسلام کی طرف اس کی روحانیت کی جاذبیت سے زیادہ اس کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر آئے تھے۔ ثانیاً مرکز سے دور ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم وتربیت کا کماحقہ، انتظام نہ تو ممکن ہی تھا اور نہ یہ اپنی کھیتی باڑی اور مال مویشی کے دھندوں سے کچھ وقت اس مقصد کے لیے نکالنے پر آمادہ ہی ہوتے تھے کہ مرکز میں آ کر نبی ﷺ اور صحابہ کی بابرکت صحبت سے فائدہ اٹھائیں۔ ان میں جو لوگ اپنے اندر صلاحیت رکھتے تھے اوہ اگر چاہتے تو بجائے خود بھی اپنی اصلاح و تربیت کی کوشش کرتے اور وقتاً فوقتا مدینہ آ کر نبی اور صحابہ کی صحبت سے بھی فائدہ اٹھاتے لیکن اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو اسلام کا نام تو لیتے تھے لیکن اسلام کی حدود و قییود سے بھی فائدہ اٹھاتے لیکن اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو اسلام کا نام تو لیتے تھے لیکن اسلام کی حدود وقیود سے بالکل بیخبر اجڈ اور گنوار تھے۔ یہی لوگ بعد میں اس فتنہ ارتداد کی آگ کا ایندھن بنے جس کو بجھانے کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو سر دھڑ کی بازی لگا دینی پڑی۔
وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔ یعنی ان کے اندر کے کچھ بہانہ باز آئے تو عذر پیش کرنے اور رخصت مانگنے کے لیے آئے اور کچھ جو اللہ اور رسول سے سمع وطاعت کا عہد کرنے میں بالکل ہی جھوٹے تھے انہوں نے کوئی جھوٹا سچا عذر پیش کرنے کی بھی زحمت نہیں اٹھائی بلکہ دعوت جہاد کی پروا کیے بغیر یوں ہی گھر میں بیٹھ رہے۔ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ منہم یعنی من الاعراب۔ چونکہ ان اعراب میں جیسا کہ آگے تصریح آئے گی، ایک گروہ مومنین و مخلصین کا بھی تھا جو سچے دل سے اسلام لائے تھے اور دین کے ہر موقع پر، ایثار و قربانی میں پیش پیش تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ ان اعراب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے یعنی اظہار اسلام کے باوجود اس کے واجبات و فرائض سے جھوٹے بہانے بنا کر یا ان کو دیدہ دلیری سے نظر انداز کر کے گھروں میں بیٹھ رہے ہیں، ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا اور صرف وہ لوگ اس سے مستثنی رہیں گے جو اللہ رسول سے کیے ہوئے عہد پر قائم رہے ہیں یا وہ واقعی معذور و مجبور تھے۔
Ayahs 9:91–9391۔ 93:۔ اب یہ معذرین اور حقیقی معذورین کے درمیان فرق واضح کردیا گیا ہے تاکہ نہ تو ہر بہان باز اپنے کو معذور ٹھہرا سکے نہ کسی واقعی معذور پر نفاق کی عائد کی جاسکے۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یعنی کمزور مریض اور تنگ حال جو اپنے لیے زاد راہ اور سوار جو جہاد کے لیے تو بےقرار ہیں۔ لیکن اپنی ناداری کے سبب سے کسی سواری کا بندوبست خود کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اور جب تمہارے پاس کسی سواری کے لیے درخواست لے کر آتے ہیں تو تم بھی معذرت کا انتظام نہیں کرسکتے وہ حقیقی معذورین میں ہیں۔ یہ جہاد میں شامل نہ ہوسکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ اللہ کے دین اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔ یہ قید نہایت اہم ہے اس لیے کہ بہت سے مریض اور غریب ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو گھر بیٹھے بیٹھے اپنی ریشہ دوانیوں اور فتنہ پردازیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس قسم کے لوگ گناہ سے بری نہیں ہوں گے۔ گناہ سے بری صرف وہی ہوں گے جو اپنی کمزوری، بیماری یاغربت کے سبب سے اگر میدان جنگ میں نہ پہنچ سکیں تو جہاں ہیں وہیں اپنے امکان کے حد تک اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کریں اور کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے اپنے بستروں پر اور گھروں میں صدق دل سے اسلام اور مسلمانوں کی فتح مندی کی دعائیں اور اپنی محرومی پر غم کریں کہ افسوس ہے کہ وہ جہاد کے اہل نہیں رہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایسے ہوں گے وہی محسن یعنی خوب کار ٹھہریں گے ایسے خوب کاروں پر کوئی الزام نہیں ہے۔
وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو تمہارے پاس سواری کا سوال لے کر آتے ہیں اور تم ان کو واپس کردیتے ہو کہ ان کے لیے کسی سواری کا بندوبست نہی ہوسکتا۔ پھر وہ اس حالت میں تمہارے پاس سے لوٹتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوتی ہیں کہ افسوس وہ اس قابل نہیں کہ اپنے خرچ سے شرکت جہاد کا بندوبست کرسکیں۔ اگرچہ اس طرح کے لوگوں کا حکم اوپر والی آیت میں بھی موجود تھا لیکن ان کا ذکر خاص طور پر یہ ظاہر کرنے کے لیے فرمایا کہ جن لوگوں کے لیے مانع صرف غربت و ناداری ہو، ایمان کمزوری نہ ہو، ان کی صداقت کا شاہد ان کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو ایسے موقعوں پر ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے مواقع پر یہ خیال کر کے مطمئن ہو بیٹھتے ہیں کہ ہم تو نادار ہیں، ہمارے پاس نہ ہتھیار، نہ سواری، نہ زاد راہ، ہمیں تو جنگ و جہاد کی ذمہ داری سے اللہ ہی نے فارغ کر رکھا ہے، دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو آسانی سے اس سعادت سے محروم رہنے پر راضی نہیں ہوتے بلکہ جہاں سے بھی امید ہوتی ہے کہ ان کے لیے بھی کچھ بندوبس ہوجائے گا وہ اس کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اگر ان کو اس میں کامیابی نہیں ہوتی تو ان کے دل اپنی محرومی پر تڑپ اٹھتے ہیں اور ان کی اس تڑپ اور اس بےقرار کی گواہ ان کی آنسؤں سے لبریز آنکھیں ہوتی ہیں۔ گویا غریبوں کے لیے بھی ان کی ناداری اسی صورت میں سچا عذر ہے جب ان کا ہر بُنِ مُو ان کے جوش و جذبے کا شاہد ہو۔
اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِيَاۗءُ ۚ رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ اصلی معذرین یہ ہیں جو مال رکھتے ہیں، اسباب رکھتے ہیں، اسلحہ رکھتے ہیں، سواری رکھتے ہیں لیکن جب جہاد کا موقع آتا ہے تو رخصت کے مطلب گار بن کر آن کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کی بےحمیتی و بےغیرتی اس حد کو پہنچ گئی کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھے رہنے پر راضی ہیں۔ ان کی اس اخلاقی و ایمان موت کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے کہ وہ کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
Ayah 9:94يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ ۭ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ ۭ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
اعتذار یہاں باتیں بنانے اور جھوٹے عذر تراشنے کے معنی میں ہے۔ یعنی جب تم اس سفر سے (اشارہ سفر تبوک کی طرف ہے) پلٹو گے تو یہ منافقین اپنے رویہ کے باب میں تم کو (خطاب مسلمانوں سے ہے) مطمئن کرنے کے لیے اپنے گھڑے ہوئے عذرات کی داستان سنائیں گے۔ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ۔ قل یہاں واحد ہے درآنحالیکہ اوپر والے ٹکڑے میں خطاب جمع سے ہے اور بعد میں بھی لن نؤمن لکم اور نبانا اللہ، جمع ہی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے سب مسلمانوں کی طرف سے منافقین کو جواب دلوادیا گیا ہے۔ گویا پیغمبر کی زبان تمام تر مومین مخلصین کے دلوں کی ترجمان ہے۔ پیغمبر اور امت کے درمیان جو اعتماد، جو حسن ظن اور جو کامل ہم آہنگی تھی۔ یہ اسلوب اس کو بھی نہایت لطیف طریقہ سے ظاہر کرہا ہے اور اس میں منافقین پر تعریض کا جو پہلو ہے وہ بھی نمایا ہو رہا ہے۔ لن نومن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم، یعنی چونکہ خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے اس وجہ سے اب ہم تمہارے ان لاطائل عذرات کو یاد کرنے والے نہیں ہیں، ہمارے سامنے باتیں بنانے کی کوشش نہ کرو۔
معاملہ : میں ظاہری حالات کا اعتبار : اس سے معلوم ہوا کہ ان منافقین کے تمام عذرات جو ناقابل قبول ٹھہرے اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کا پردہ خود اللہ تعالیٰ نے اٹھا دیا تھا جو تمام غائب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ رسول کے سوا چونکہ دوسروں کا یہ درجہ نہیں ہے کہ وہ کسی کے باب میں اللہ کے بتائے ہوئے علم غیب کا دعوی کرسکیں اس وجہ سے وہ اس طرح کے معاملات میں صرف ظاہر حالات اور شرعی دلائل کی بنا پر ہی کوئی حکم لگائیں گے۔ اگر کسی کے عذر، کسی کے دعوے اور کسی کے بیان کی تردید کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے تو وہ بہرحال تسلیم کیا جائے گا اگرچہ وہ فی الحقیقت بالکل بےسروپا ہو۔ ہم ہر اس شخص کو مسلمان تسلیم کریں گے جو ایمان و اسلام کا دعوی کرتا ہے۔ اگر ہمارے پاس اس کے ایمان واسلام کے انکار کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اپنے باطن میں کٹر کافر یا منافق ہو۔ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یعنی عذرات بہانوں اور جھوٹی قسموں کو سپر بنانے کی بجائے اپنے عمل سے راست بازی اور وفاداری کا ثبوت دو ، اللہ و رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے۔ یہ لاطائل بہانے کام آنے والے نہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ ایک دن مہاری پیشی غائب و حاضر اور ظاہر و باطن سب کے جاننے والے کے آگے ہونے والی ہے۔ وہ تمہارا سارا کیا دھرا تمہارے سامنے رکھ دے گا اور جس عمل کے اندر جتنا اخلاص یا جتنا کھوٹ ہوگا وہ بھی تمہیں دکھا دے گا
Ayah 9:95سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ اس آیت میں ایک ہی لفظ ’ اعراض ‘ پہلو بہ پہلو نہایت بلاغت سے دو مختلف بلکہ متضاد معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اعراض کا ایک مفہوم تو کسی سے منہ پھیرلینا ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کسی کے عذر کو قبول کر کے اس سے درگزر کرلیں اور اس سے راضی ہوجائیں۔ فرمایا کہ تمہاری واپسی پر یہ قسمیں کھا کھا کے تمہیں راضی اور مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے کہ جو کچھ ہوچکا ہے اس کو نظر انداز کرو، سو ٹھیک ہے اب ان سے اعراض ہی کرو کیونکہ یہ گندے اور نجس ہیں اور نجاست سے اعراض ہی بہتر ہے۔ اس گندگی کے ڈھیر کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یہ اپنے اعمال کی پاداش میں اسی کے حوالہ ہوں گے۔
Ayah 9:96يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔ لترضوا عنہم سے اعراض کے اس مفہوم کی وضاحت ہورہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی یہ قسموں کے ذریعے سے تمہیں (خطاب مسلمانوں سے ہے) خوش کرنا چاہیں گے۔ اگر تم ان سے خوش بھی ہوگے تو یاد رکھو کہ اللہ ان بدعہدوں سے راضی ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ تو اسی وقت راضی ہوگا جب یہ اپنی توبہ اور اصلاح اور اپنے اعمال سے اس کو راضی کریں۔
Ayah 9:97اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ خدا کے غضب کا سبب تو کفر و نفاق : یہ سبب بیان ہوا ہے اس بات کا کہ کیوں یہ اللہ تعالیٰ کے ایسے غضب کے مستحق قرار پائے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو یہ راضی بھی کرلیں جب بھی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہونے والا نہیں ہے۔ فرمایا کہ یہ ہرگز کسی رعایت و نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔ یہ اپنے کفر و نفاق میں دوسری کی نسبت سخت تر ہیں۔ نہ انہوں نے نبی ﷺ اور صالحین کی صحبت اٹھائی اور نہ کتاب الٰہی کے حدود حرام و حلال سے آگاہ ہونے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر و نفاق کی بیماری کا حملہ سب سے زیادہ سخت ان پر ہوا۔ اگر انہیں ایمان عزیز ہوتا تو یہ اپنی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ اور صالحین سے ربط رکھتے اور اپنے ایمان اور علم کو برابر ترقی دیتے رہتے لیکن یہ شغلتنا موالنا، واھلونا، کا عذر کر کے ہمیشہ اپنی تربیت کے کام کو ٹالتے رہے۔ آگے اسی سورة میں ان لوگوں کی دین سے بےرغبتی اور مرکز سے بےتعلق کا ذکر یوں آیا ہے۔ ما کان المومنین لینفروا کافۃ۔ فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومہم اذا رجعوا الیہم لعلہم یحذرون (سارے مسلمانوں کا علم و تفقہ کے لیے نکلنا تو ممکن نہ تھا لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت دین کا علم و فہم حاصل کرنے کے لیے اٹھتی تاکہ جب علم حاصل کر کے لوٹتی تو اپنی قوم کو بھی آگاہ کرتی تاکہ دوسرے بھی ڈرنے والے بنتے)۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا دیہاتی ہونا ان کے لیے کوئی عذر نہیں ہے۔ اگر یہ دیہاتی ہیں تو انہیں اپنی تعلیم و تربیت کی راہ میں سرگرم ہونا تھا لیکن یہ تو اسلام کا دعوی کرکے برابر اپنے کفر و نفاق ہی کی پرورش میں لگے رہے تو جو جہل و نفاق ان کے اندر پروان چرھا وہ اسی کے سزاوار تھے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ اس کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ دین اور علم دین کسی کے سر نہیں منڈھتا بلکہ ہر ایک کو وہی دیتا ہے جس کا وہ اپنے کو سزاوار ثابت کرتا ہے۔
Ayah 9:98وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يَّتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَاۗىِٕرَ ۭ عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یعنی اسلام کے ساتھ ان کی بدخواہی کا حال یہ ہے کہ اول تو یہ اس کی راہ میں کچھ خرچ کرتے ہی نہیں اور اگر حالات سے مجبور ہو کر کچھ خرچ کرنا ہی پڑجائے تو یہ اس کو گراں محسوس کرتے ہیں، گویا ان کو جرمانہ بھرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی ہر وقت تمنا یہ ہے کہ تم پر کوئی گردش آئے تاکہ کسی طرح تم سے ان کی جان چھوٹے علیہم دائرۃ السوء یعنی یہ تمہارے لیے گردش کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ گردش خود انہی پر ہے اور گردش بھی نہایت بری گردش۔ اللہ سمیع وعلیم ہے۔ اس سے کوئی راز اور بھید مخفی نہیں ہے۔ وہ جو کچھ بتا رہا ہے سب سمع و علم پر مبنی ہے اور جو کچھ ان کے ساتھ معاملہ کرے گا وہ بھی سمع و علم پر مبنی ہوگا۔
Ayah 9:99وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ قربات، قربۃ کی جمع ہے۔ اس سے مراد برّ وتقوی اور احسان و انفاق کے وہ کام ہیں جو خدا کے تقرب کا وسیلہ و ذریعہ بنتے ہیں۔
اعراب میں مخلصین اور راست باز : اعراب، میں جو مخلص اور راست باز مسلمان تھے یہ ان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان اعراب میں سچے اور پکے مسلمان بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو یہ منافقین کی طرح جرمانہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے انفاق کو اور رسول کی دعاؤں کو خدا کے تقرب کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اوپر آیت 80 میں نبی ﷺ کو منافقین کے لیے استغفار سے اور آیت 84 میں ان کی نماز جنازہ سے روک دیا گیا ہے لیکن مخلصین کو یہ دونوں چیزیں حاصل تھیں۔ اس لیے فرمایا کہ وہ اپنے انفاق اور رسول کی دعاؤں کو تقرب الٰہی کا ذریعہ بناتے جب کہ منافقین ان دونوں ہی چیزوں سے محروم ہیں۔ الانہا قربۃ لہم، میں ضمیر مؤنث ہرچند واحد ہے لیکن سابق الذکر دونوں ہی چیزوں کی طرف لوٹے گی۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقام میں تفصیل سے ہم کرچکے ہیں۔
عام طور پر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ اپنے انفاق کو نبی کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں لیکن مجھے اس مطلب کے قبول کرنے میں تردد ہے۔ یہ مطلب لینے کے لیے کلام میں ایسے محذوفات ماننے پڑیں گے جن کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ مولانا فراہی کی تاویل بھی یہی ہے جو میں نے اختیار کی ہے۔ یہ مجھے زبان اور نظم کلام دونوں پہلوؤں سے صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 9:100آیات 100 تا 112 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے ان لوگوں کی تحسین فرمائی ہے۔ جو اسلام کی طرف سب سے پہلے سبقت کرنے والے بنے یا جنہوں نے کمال اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم کی پیروی کی۔ اسلامی معاشرہ کے اصل اجزائے ترکیبی یہی ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور فوز عظیم کی بشارت دی۔ پھر مدینہ اور دیہاتی علاقوں کے منافقین کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان کو دنیا اور برزخ اور آخرت تینوں ہی میں عذاب عظیم کی دھمکی دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ ان کو اسلام اور اسلامی معاشرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کو اس عظیم سورة نے جھنجھوڑ کر اپنے گناہوں کے اعتراف اور توبہ استغفار کے لیے بےچین کردیا تھا۔ ان کو قبولیت توبہ کی نوید سنائی گئی اور ان کی اصلاح و تربیت کے باب میں پیغمبر ﷺ کو بعض ہدایات دی گئیں۔ نیز بعض لوگوں کے بارے میں یہ ہدایت ہوئی کہ ان کی قبولیت توبہ کا معاملہ آئندہ پر ملتوی کیا جاتا ہے۔ وہ فیصلہ الٰہی کا انتظار کریں۔ اس کے بعد مسجد ضرار اور اس کے بانیوں کے معاملہ کو لیا ہے اور ان کے باب میں اپنے فیصلہ کا اعلان فرمایا ہے۔ آگے مسلمانوں اور اللہ کے مابین جو عہد و پیمان ہے اس کا حوالہ دیا ہے اور اس عہد و پیمان کے بموجب مسلمانوں کو جن اوصاف کا حامل ہونا چاہیے اس کی وضاحت فرمائی ہے تاکہ مسلم معاشرہ ہر قسم کے غیر مطلوب عناصر سے پاک صاف ہو کر اپنے اصلی رنگ میں نمایاں ہوجائے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔
اسلامی معاشرہ کے گل سرسبد لوگ : اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اسلامی معاشرہ کے گل سرسبد اور اصل سرمایہ کون لوگ ہیں۔ یہ بتانے سے مقصود ایک طرف تو عام مسلمانوں کے سامنے ان لوگوں کو پیش کردینا ہے جن کے عمل ان کے لیے مثال اور نمونہ ہیں اور جن کی انہیں پیروی اور تقلید کرنی ہے، دوسری طرف منافقین پر یہ واضح کردینا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قدوسیوں کی اس جماعت میں گھسائے رکھنے کی اب کوشش نہ کریں۔ اس جماعت میں شامل رہنا ہے تو ان کے رنگ ڈھنگ اختیار کریں ورنہ اپنے انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہیں۔ فرمایا کہ اس امت کا ہر اول دستہ مہاجرین وانصار میں سے وہ سابقون اولون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے نبی کی دعوت پر لبیک کہی، جو اس وقت اسلام کی طرف بڑھے جب ایک قدم بھی اس کی طرف بڑھنا گوناگوں مزاحمتوں کا مقابلہ کیے بغیر ممکن نہ تھا اور جو اس وقت نبی کی حمایت و مدافعت کے لیے اٹھے جب اس کی حمایت و مدافعت تمام احمر و اسود سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھی۔
اسلامی معاشرے میں دوسرے درجہ کے لوگ : دوسرے درجے پر وہ لوگ ہیں جو اگرچہ اولیت و اسبقیت کا درجہ تو حاصل نہ کرسکے تاہم انہوں نے پورے اخلاص اور پوری راست بازی سے سابقین اولین کے نقش قدم کی پیروی کی۔ اس پیروی میں انہوں نے کسی نمائش، کسی مصلحت، کسی غرض یا کسی نوع کے تذبذب اور نفاق کو دخیل نہیں ہونے دیا۔ ایک مرتبہ بڑھ کر انہوں نے پیچھے مڑنے کا نام نہیں لیا۔ جن سے کٹنا تھا ان کو کاٹا تو اس طرح کہ کوئی تسمہ لگا نہیں رہنے دیا اور جن سے جڑے تو اس طرح نہیں کہ، منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ۔ بلکہ اس طرح جڑے کہ، تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری۔ اسی خلوص و صداقت اور ظاہر و باطن کی اسی کامل ہم آہنگی اور ہم رنگی کو یہاں ’ احسان ‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ’ احسان ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ کسی کام کو کمال حسن و خوبی سے انجام دینے کے بھی ہیں۔
رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کی عظیم بشارت : رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ، یہ ان سابقین اولین کے لیے عظیم بشارت بھی ہے اور ان کی بڑی سے بڑی تعریف بھی جو اس دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوسکتی ہے۔ فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ ان سے اس لیے راضی ہوا کہ وہ اپنے بندوں سے حق کی راہ میں جو صبر و ثبات، جو عزیمت و استقامت، جو جانبازی و سرفروشی چاہتا ہے اس کا انہوں نے حق ادا کردیا اور انہوں نے اللہ اور رسول سے جو عہد باندھا زندگی کے تمام نشیب و فراز میں، تمام مزاحمتوں اور مخالفتوں کے علی الرغم، پوری خوبی سے اس کو نبھایا۔ ان کے رب نے ان کو جو قوتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائیں ان کو انہوں نے درجہ کمال تک پروان چڑھایا اور ان کو اپنے رب ہی کی رضا طلبی میں صرف کیا۔ شیطان کو ان میں ساجھی بننے کا، اپنے امکان کے حد تک کوئی موقع نہیں دیا۔ اللہ سے ان کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کو ہر رنگ میں انہوں نے اس کے عدل، اس کی حکمت اور اس کی رحمت پر محمول کیا۔ ان کو اگر کوئی افتاد پیش آئی تو اس کو انہوں نے اپنی کسی خامی کا علاج سمجھا، کوئی مشکل پیش آئی تو اس کو صبر و عزیمت کا امتحان جانا، سکھ ملا تو دل و جان سے اس کے شکر گزار ہوئے۔ دکھ ملا تو صابر و مطمئن رہے۔ کسی حال میں بھی اپنی امید کے چراغ کو انہوں نے گل نہیں ہونے دیا۔ طوفان اٹھے، بجلیاں چمکیں بلکہ کبھی کبھی برق خرمن سوز سارے خرمن کو جلا کر خاکستر بھی کرگئی لیکن ان کے نفس مطمئنہ کو کوئی چیز بھی ہلا نہ سکی۔ وہ بدستور راضیۃ مرضیہ کی چٹان پر جما رہا اور بالآخر اس نے فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی کی ابدی بشارت حاصل کی۔ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ یہ صلہ بیان ہوا ہے اس رضا و اطمینان پر فائز ہونے کا۔ فرمایا، اصل کامیابی یہ ہے۔ جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لیے بازی کھیلے۔ اس چند روزہ دنیا کے پیچھے، جس کی ہر چیز فانی ہے۔ زندگی برباد کرنا اپنے آپ کو ابدی خسران و نامرادی کے حوالہ کرنا ہے۔
Ayah 9:101وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ۔ منافقین کی نشان دہی : یہ منافقین کی نشان دہی ہے۔ فرمایا کہ بدوؤں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح اہل مدینہ میں بھی ایک گروہ منافقوں کا ہے۔ یہ لوگ محض اپنے اغراض و مفاد کے لیے مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں اور نفاق میں یہ اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کا پہچاننا مشکل ہے۔ اللہ ہی ان سب سے واقف ہے۔ مرد علی النفاق، مرن واستمر علیہ، یعنی یہ نفاق میں نہایت شاطر، مشاق اور پختہ کار ہوگئے ہیں اور اس مہارت سے انہوں نے اپنے اوپر اسلام کا نمائشی رنگ چڑھایا ہے کہ مسلمانوں کو بڑی کامیابی سے دھوکا دے دیتے ہیں۔ لا تعلمہم نحن نعلمہم۔ میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے اور ان منافقین کو بھی۔ مسلمانوں کو تنبیہ یہ ہے کہ ان کے معاملے میں بڑی زیرکی و ہوشیاری سے کام لو اور برابر چوکنے رہو۔ یہ ایسا بھگل بناتے ہیں کہ ہر شخص ان کو تاڑ نہیں سکتا۔ منافقین کو یہ تنبیہ ہے کہ خواہ تم کیسا ہی بھگل بناؤ، دوسرے تمہیں پہچاننے میں دھوکا کھا سکتے ہیں، لیکن اللہ تم کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو کیفر کردار کو پہنچائے گا۔ سنعذبہم مرتین، میں ایک تو اس سزا کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ان کو ملنے والی ہے۔ دوسرے اس عذاب کی طرف جس سے یہ عالم برزخ میں دو چار ہوں گے۔ ثم یردون الی عذاب عظیم۔ یہ عذاب آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ جو سب سے زیادہ سخت ہوگا۔ اوپر اہل ایمان کے لیے فوز عظیم کی بشارت گزری ہے۔ ان منافقین کے لی یہ عذاب عظیم ہے۔
Ayahs 9:102–105102۔ 105: وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اگرچہ کمزوریوں میں متلا رہے تھے اور تبوک کے موقع پر بھی ان سے کمزوری صادر ہوگئی تھی لیکن ایمان کی رمق ان کے اندر باقی تھی۔ جب اس سورة نے منافقین کو اچھی طرح جھنجھوڑا اور ان کے علم میں یہ باتیں آئیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے باتیں بنانے کی کوشش کے بجائے صدق دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نہایت بےچینی کے ساتھ اپنے آپ اللہ اور رسول کے آگے ڈال دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ تک کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیا کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے اور نہ اس وقت تک یہاں سے ٹلیں گے جب اللہ و رسول کی طرف سے معافی نہ ملے۔ بسا اوقات اپنے گناہوں بندے کی شرمساری اور توبہ کے لیے سچی بےقرار اللہ تعالیٰ کو اس کی نیکی سے بھی زیادہ پسند آتی ہے چناچہ ان کا اعتراف گناہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور جیسا کہ عسی اللہ ان یتوب علیہم کے الفاظ سے واضح ہے ان کو قبولیت توبہ کی امدی دلا دی گئی۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ جب قرآن دنیا میں آیا ہے تو اس کے الفاظ و کلمات کا دلوں پر کیا اثر پڑتا تھا اور اب ہمارے دلوں پر اس کی تاثیر کا کیا حال ہے ؟ قرآن وہی ہے اور نفاق کی بھی بدتر سے بدتر قسمیں ہمارے اندر موجود ہیں لیکن قلوب وہ نہیں ہیں جو قرآن کی آیتیں پڑھ کر یہ اثر لیں کہ اپنے اوپر خواب و خور حرام کرلیں۔ اس زمانے میں اپنی تنخواہوں میں چند روپے کے اضافہ کے لیے فاقہ کرنے والے بہتیرے مل جائیں گے لیکن اپنے گناہوں کے غم میں اپنی ایک رات کی نیند بھی قربان کرنے والے شاید کم ہی ملیں۔ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا، جو چیز ان کے حق میں سفارش بنی ہے، یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ نفاق ہی پر نہیں پلے اور بڑھے بلکہ بدیوں کے ساتھ انہوں نے نیکیاں بھی کمائی ہیں۔ نیکی راہ پر چلتے چلتے انہوں نے ٹھوکریں بھی کھائیں لیکن اس طرح نہیں کہ گر کر پھر اٹھنے کا نام ہی نہ لیا ہو، بلکہ گرنے کے بعد اٹھتے اور سنبھلتے بھی رہے ہیں۔ یہی چیز ان کے لیے اعتراف گناہ اور توبہ کا باعث ہوئی ہے اس وجہ سے یہ نظر انداز کیے جانے کے لائق نہیں بلکہ اللہ کی نظر عنایت کے سزاوار ہیں۔ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان کے لیے قبولیت توبہ اور رحمت کی بشارت ہے لیکن اسلوب بیان قطعی وعدے کا نہیں بلکہ لفظ عسی ظاہر کر رہا ہے کہ یہ بشارت مشروط ہے۔ چناچہ آگے والی آیت میں اس شرط کی طرف اشارہ بھی فرمایا دیا ہے۔ وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون۔ الایہ۔ یعنی ان سے کہہ دو کہ اب تم اپنے عمل سے ثابت کرو کہ تم اپنی توبہ میں راسخ ہو، اللہ اور رسول اور اہل ایمان تمہارے رویہ کو دیکھیں گے اور اسی رویہ پر تمہارے باب میں آخر فیصلہ کا انحصار ہے اس سے یہ بات نکلی کہ بروقت تو ان لوگوں کو معافی دے دی گئی لیکن اس شرط پر کہ وہ اپنے رویہ کو ائندہ زیادہ سے زیادہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کی پسند کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ یہ گویا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان پر احتساب بھی قائم رہے گا تاآنکہ یہ اپنے عمل سے اپنے آپ کو پورے اعتماد کے لائق ثابت کردیں۔
خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ پیچھے آیات 53، 54 سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس مرحلہ میں آ کر منافقین کے صدقات سے نبی ﷺ کو بالک بےپروائی برتنے کی ہدیت فرما دی گئی تھی چناچہ بعض کے صدقات آپ رد بھی فرما دیتے تھے۔ اسی طرح آیت 84 میں آپ کو ان کے لیے دعا و استغفار سے بھی منع فرما دیا گیا تھا۔ لیکن جن لوگوں کو معافی دے دی گئی ان کے ساتھ ہی برکت و رحمت کے یہ دونوں دروازے بھی کھول دیے گئے۔ فرمایا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، ان لوگوں کے پیش کردہ صدقات قبول کرلیا کرو اس لیے کہ اسی سے تم ان کو رذائل سے پاک اور فضائل سے آراستہ کروگے اور ان کے لیے دعا بھی کرتے رہو اس لیے کہ تمہاری دعا ہی ہے جو ان کے لیے سرمایہ سکینت بنے گی۔
تطہیر اور تزکیہ کا فرق : یہاں تطہیر اور تزکیہ کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں ان دونوں کے مواقع استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ تطہیر میں غالب پہلو ظاہری اور باطنی نجاستوں اور رذائل سے پاک کرنے کا ہے اور تزکیہ میں رذائل سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ صلاحیتوں اور خوبیوں کو نشوونما دینے اور فضائل اخلاق سے آراستہ کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے۔
مرض نفاق کا موثر علاج۔ اس ٹکڑے سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ نفاق کی بیماری کا سب سے زیادہ مؤثر علاج اللہ کی راہ میں انفاق ہے۔ یہ بیماری اصلاً محبت دنیا سے پیدا ہوتی ہے جو ان تمام رذائل کے پیدا ہونے کا سبب ہے جن کے مجموعے کا نام نفاق ہے۔ انفاق سے اس بیماری کی جڑ کٹتی ہے اور جب اس کی جڑ کٹ جاتی ہے تو ایک طرف رذائل مضمحل ہوجاتے ہیں دوسری طرف مکارم و فضائل پروان چڑھنا شروع کردیتے ہیں۔
انفاق کا اصلی فائدہ انفاق کرنے والے کو ہوتا ہے : دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ اللہ اور رسول پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ اصل احسان اللہ اور رسول کا ہے کہ ان کے انفاق کو قبول فرماتے ہیں۔ اس لیے کہ اس سے جو تطہیر و تزکیہ حاصل ہوتا ہے اس کے محتاج اللہ اور رسول نہیں ہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جن کو انفاق کی دعوت دی جاتی ہے۔
معافی یافتہ لوگوں کے ساتھ مزید رعایت : صل علیہم، میں عام دعا و استغفار کے ساتھ ساتھ نماز جنازہ بھی شامل ہے۔ منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے کی جو ممانعت آیت 84 میں وارد ہے، ان معافی یافتہ لوگوں کے باب وہ ممانعت اٹھا دی گئی۔
تسلی اور تنبیہ : واللہ سمیع علیم میں تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ اس کی وضاحت ایک سے زیادہ مواقع میں ہوچکی ہے۔
اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ اوپر والی آیت میں خطاب نبی ﷺ سے تھا۔ آپ کو یہ ہدایت فرمائی گئی تھی کہ جب انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے تو ان کو اپنی تربیت میں ازسر نو لے لو، ساتھ ہی جو چیز ان کی تربیت و اصلاح میں سب سے زیادہ موثر ہوسکتی تھی اس کی طرف بھی رہنمائی فرما دی۔ اس آیت میں خود ان لوگوں کو توبہ اور انفاق میں سرگرم ہونے پر ابھارا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ اور ان کے صدقات قبول فرماتا ہے، وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، تو جو خدا کی رضا اور قرب کے طالب ہوں انہیں چاہیے کہ وہ خدا کی پسند کے یہ کام زیادہ سے زیادہ کریں۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ توبہ اور اصلاح کا کام کوئی وقتی کام نہیں ہے بلکہ اس میں دوام اور استمرار مطلب ہے۔
وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ ہرچند اس وقت تمہیں معافی دے دی گئی ہے لیکن اس معافی پر مطمئن نہ ہو بیٹھنا بلکہ آئندہ اپنے عمل سے ثابت کرو کہ تم سچے دل سے خدا کی طرف رجوع ہوئے ہو۔ اللہ اور رسول اور اہل ایمان سب تمہارے رویہ پر نگاہ رکھیں گے۔ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، اگر تم رسول اور مومنین سے اپنی کوئی حرکت چھپا رکھنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو یاد رکھو کہ ایک دن تمہیں سارے غائب و حاضر کے علم رکھنے والے خدا کے سامنے بھی حاضر ہونا ہے، وہ تمہارا سارا کچھ چٹھا تمہارے آگے رکھ دے گا۔
Ayah 9:106وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ الجاء کے معنی کسی معاملے کو مؤخر اور ملتوی کرنے کے ہیں۔
بعض لوگوں نے اگرچہ اپنے گناہ کا نہایت سچائی سے اعتراف کرلیا تھا لیکن ان کو اس وقت معافی نہیں ملی بلکہ ان کے معاملے کا فیصلہ آئندہ پر اٹھا رکھا گیا۔ آگے آیت 118 میں ان کا حوالہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین آدمی تھے۔ روایات میں ان کے نام کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع مذکور ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ حضرات نفاق میں متہم نہیں تھے بلکہ اسلام کے لیے قربانیاں پیش کرنے والے لوگوں میں سے تھے، پچھلے غزوات میں بھی شریک رہ چکے تھے، لیکن تبوک کے موقع پر ان سے کمزور صادر ہوگئی اور بعض خاص وجوہ کی بنا پر، جن کی طرف ہم اشارہ کریں گے، دوسروں کے مقابل میں ان پر زیادہ سخت گرفت ہوئی، فرمایا کہ ان کا معاملہ خدا کے فیصلہ تک ملتوی کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ان کو سزا دے گا۔ چاہے گا تو ان کی توبہ قبول فرمائے گا، اللہ علیم و حکیم ہے۔ ان کے باب میں اس کے علم و حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہ اس کے مطابق فیصلہ نافذ فرمائے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر جب کہ بظاہر ان کا ماضی بےداغ بھی تھا، اس قدر قدر عتاب کیوں ہوا ؟ ہمارے نزدیک اس کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کسی پر عتاب اس نسبت سے ہوتا ہے جس نسبت سے اس پر اعتماد اور اس سے حسن ظن ہوتا ہے۔ دوسروں نے اگر غلطی کی تو ان کی کمزوریوں کی بنا پر ان سے بعید نہیں تھی لیکن ان لوگوں نے جو غلطی کی اس سے اپنے پچھلے بےداغ ریکارڈ کو بھی انہوں نے داغدار کیا اور پیغمبر کے اس اعتماد اور حسن ظن کو بھی ٹھیس پہنچائی جو ہر مومن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان لوگوں نے غالباً اس اعتماد کی بنا پر جو انہیں اپنی سابق خدمات پر رہا ہوگا، اپنی اس غلطی کا اس شدت کے ساتھ احساس بھی نہیں کیا جس شدت کے ساتھ انہیں اس کا احساس کرنا تھا چناچہ آگے والی آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ اپنی کسی غلطی پر احساسِ ندامت کی کمی توبہ کی اصل روح کے منافی ہے اس وجہ سے حکمت تربیت مقتضی ہوئی کہ ان کی توبہ کی قبولیت اتنے عرصہ تک ملوتی رہے جب تک ان کے اندر وہ بےقراری اور دل کی وہ خستگی و شکستگی نہ پیدا ہوجائے جو توبہ کی قبولیت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں سفارشی بنتی ہے۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس مرحلہ میں، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، منافقانہ ذہنیت پر آخری ضرب لگائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ نفاق کے خلاف مسلمانوں کی حس اتنی بیدار ہوجائے کہ وہ اس کی کسی قسم کو بھی اپنے اندر گوارا کرنے پر راضی نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے ایسے لوگوں پر گرفت سب سے زیادہ موثر ہوسکتی تھی جو اپنی اس غلطی سے پہلے معاشرے کے بےداغ لوگوں میں شمار ہوتے رہے ہوں۔ اس واقعہ نے منافقین کی آنکھیں بھی کھول دی ہوں گی کہ جب اس قسم کے لوگوں پر ایسی گرفت ہوسکتی ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ اور دوسرے مسلمانوں نے بھی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ دین میں اصل معیار مطلوب کیا ہے جس کی کسوٹی پر کسے جانے کے لیے ہر مسلمان کو تیار رہنا چاہیے۔