Ayah 9:37اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ۭ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔
نسئ کی نوعیت : اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ نسا کے معنی موخر کرنے اور پیچھے ہٹانے کے ہیں۔ اسی سے نسا البعیر دفعہ عن الحوض ہے، جس کے معنی ہیں اونٹ کو پانے کے گھاٹ پر پہنچنے سے روک نسا الراعی فی ظمء الابل، چرواہے نے اونٹوں کے پانی پلانے کو چند دن پیچھے ہٹا دیا۔ اسی سے نسئ کا اسم بنا لیا گیا ہے جس سے عرب جاہلیت کی اصطلاح میں وہ مہینہ مراد ہوتا ہے جس کو چند دن پیچھے ہٹا کر اس کے دنوں میں اضافہ کردیتے تھے۔ شمسی سال قمری سال سے تقریباً گیارہ دن زیادہ ہوتا ہے۔ قمری سال کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اہل عرب یہ کرتے کہ اس میں کمی کے بقدر اضافہ کردیتے جس کی عملی شکل یہ تھی کہ ہر آٹھ سالوں میں تین ماہ بڑھائے جاتے گویا ہر دوسرے یا تیسرے سال کے خاتمہ پر ایک ماہ کبیسہ کا ہوتا۔ اس طرح اپنے زعم کے مطابق انہوں نے قمری مہینوں بالخصوص اشہر حرم کا احترام بھی قائم رکھا تھا اور اپنے تجارتی فوائد و مصالح کے نقطہ نظر سے اس کو شمسی بھی بنا لیا تھا۔ اہل عرب نے تو یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس تخیل کے تحت کیا کہ اس طرح اشہر حرم کی تعداد بھی پوری ہوجاتی ہے جو دیندار کا مقتضی ہے اور ان کا کاروباری مفاد بھی محفوط ہوجاتا ہے لیکن قرآن نے ان کی اس دینداری کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کو ان کے کفر میں ایک اضافہ قرار دیا جو راہ راست اور دین قیم، ملت ابراہیم سے ان کے مزید انحراف کا موجب ہوا۔
يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ۔ یہ دلیل ارشاد ہوئی کہ کیوں یہ چیز کفر میں ایک اضافہ ہے۔ فرمایا کہ اس وجہ سے کہ اس طرح خدا کے محترم کیے ہوئے مہینوں کی گنتی تو ضرور پوری ہوجاتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اللہ کے محترم قرار دیے ہوئے مہینے شمسی سال کے اس چکر میں آ کر کبھی محترم بن جاتے ہیں کبھی غیر محترم در آنحالیکہ اللہ نے جن مہینوں کو محترم قرار دیا محترم وہی ہیں، نہ یہ کسی دوسرے مہینے سے تبدیل ہوسکتے نہ ان کا احترام کسی دوسرے مہینے کی طرف منتقل ہوسکتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس طرح قمری سال کو شمسی سال میں تبدیل کرنے کی جو کارروائی عمل میں آتی اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ موسم حج اور اشہر حرم سب 33 سال کے لیے اپنی جگہ سے ہٹ جاتے۔ 33 سال کی گردش کے بعد پھر یہ اپنی جگہ پر ایک مرتبہ کے لیے واپس آتے۔ تقدیر الٰہی نے یہ انتظام کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، جب سرور عالم نے حج ادا فرمایا، اپنی گردش پوری کر کے حج ٹھیک اس تاریخ کو پڑا جو اس کی اصل خدائی اور ابراہیمی تاریخ تھی۔ چناچہ نبی ﷺ نے یہ اعلان فرمایا کہ ان الزمان استدار کھیئۃ یوم خلق السموات والارض (زمانہ گردش کر کے اپنی اصلی ہیئت پر آگیا ہے جو ہیئت اس کی اس دن قرار پائی تھی جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا)۔ اسی دن سے آپ نے اس خدائی تقویم کے نفاذ کا اعلان فرما دیا اور نسیئ کی تقویم ختم کردی۔ حضور کے الفاظ میں صاف اس آیت کی جھلک ہے جو اوپر گزر چکی ہے
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ۔
زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔ یعنی یہ کفر و اسلام دونوں کو جوڑ ملا کر اشہر حرم کی گنتی پوری کرنے کی جو نمائش کی گئی یہ دین داری نہیں ان کی بدعملی ہے جو ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے جس کو یہ دین سمجھے بیٹھے ہیں۔ اللہ ایسے کافروں کو بامراد نہیں کرے گا۔ اس طرح کی دینداری قیامت میں اکارت ہو کے رہ جائے گی۔
Ayah 9:38آیات کا 38 تا 42 مضمون :
اوپر مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف اعلان جہاد کردینے کے بعد آگے کلام کا رخ منافقین کی طرف مڑ گیا ہے اور آخر سورة تک انہی کا تعاقب فرمایا ہے۔ گویا کھلے ہوئے دشمنوں کے بعد اب یہ اسلام اور مسلمانوں کے چھپے ہوئے دشمنوں کی طرف توجہ فرمائی گئی ہے اور پوری تفصیل سے ان کی ایک ایک کمزور اور ایک ایک شرارت بےنقاب کر کے رکھ دی گئی ہے تاکہ مسلمان ان سے اچھی طرح آگاہ ہوجائیں اور ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں میں مبتلا نہ ہوں۔ اس سے پہلے منافقین کے رویہ پر جو تنقید بھی ہوئی اس کا لب وہ لہجہ نرم رہا ہے لیکن اس سورة میں جس طرح مشرکین اور اہل کتاب کے باب میں آخری فیصلہ کا علان کردیا گیا ہے اسی طرح منافقین کے بارے میں بھی ایک قطعی فیصلہ سنا دیا گیا ہے تاکہ ان میں سے جن کے اندر توبہ اور اصلاح کی کوئی صلاحیت باقی ہے وہ توبہ اور اصلاح کے لیے اسلام معاشرہ کے صالح جزو بن جائیں اور جو بالکل مردہ ہوچکے ہیں وہ خس و خاشاک کے اس ڈھیر میں شامل ہوجائیں جس کے صاف کردینے کا آخری فیصلہ قدرت کی طرف سے ہوچکا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ ۭ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ
نفار، نفور، نفیر کے معنی جنگ یا اسی نوع کے کسی اور مقصد کے لیے نکلنے اور اٹھنے کے ہیں۔ تثاقل اور اثاقل ایک ہی لفظ ہے۔ معنی اس کے کسی شے کو بوجھ محسوس کرنا اور لدھڑ بن جانا ہے۔ اس کے ساتھ الی الارض کے اضافہ نے مضمون کو بالکل مصور کردیا ہے کہ تمہیں جنگ کے واسطے اٹھنے کو کہا جاتا ہے اور تم لدھڑ بن کر زمین پر ڈھئے پڑ رہے ہو۔
منافقین سے خطاب : آیت میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن ان منافقین ہی کی طرف ہے جو اپنی تن آسانیوں اور مفاد پرستیوں کے سبب سے، جہاد کی منادی عام کے باوجود اس سے جی چرا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایمان کے مدعی ہو اور اس کے لیے بدیہی مطالبہ کے معاملے میں تمہارا حال یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بھاری بوجھ نے تمہاری کمریں توڑ کے رکھ دی ہیں اور تمہارے لیے اٹھنا پہاڑ ہو رہا ہے۔
منافقین کی اصل بیماری حب دنیا : اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ۔ یہ استفہام کے اسلوب میں ان کی اصل بیماری کا پتہ دیا گیا ہے کہ یہ آخرت سے صرف نظر کر کے صرف دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں اور راحتوں پر قانع ہوگئے ہیں۔ یہی دنیا ان کے لیے سب کچھ ہے۔ وہ اس عیش نقد کو کسی نسیہ کی خاطر منعض کرنا نہیں چاہتے حالانکہ آخرت میں جب حقیقت کھلے گی تب معلوم ہوگا کیسی حقیر چیز کے لیے کیسی لازوال بادشاہی انہوں نے کھو دی۔
Ayah 9:39منافقین کو دھمکی : اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
یہ ان منافقین کو دھمکی ہے کہ اگر تم خدا کی راہ میں جہاد کے لیے نہ اٹھے تو خدا کے دردناک عذاب کی پکڑ میں آجاؤ گے اور یہ نہ خیال کرو کہ اس نہ اٹھنے سے خدا کا کوئی کام بگڑ جائے گا۔ تمہارا اٹھنا خود تمہارے لیے موجب سعادت دنیا و آخرت ہے۔ ورنہ خدا کا کوئی کام تمہارے اوپر منحصر نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اپنے دوسرے بندے اٹھا کھڑا کرے گا جو تمہاری طرح تن آسان، پست ہمت اور مفاد پرست نہیں ہوں گے۔ سورة محمد میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لایکونوا امثالکم۔
اللہ تعالیٰ کی بےنیازی : واللہ علی کل شیء قدیر بیک وقت کئی حقیقتوں کی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ خدا تمہیں عذاب دینے پر قادر ہے۔ دوسری یہ کہ تمہاری جگہ دوسروں کو اٹھا کھڑا کرنے پر قادر ہے، تیسری یہ کہ وہ اپنے ہر اسکیم بروئے کار لانے پر قادر ہے، اپنے کسی بھی ارادے کی تکمیل میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
Ayah 9:40نصروہ میں ضمیر مفعول۔ آگے کے قرائن دلیل ہیں ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نمایندے کی حیثیت سے آپ نے لوگوں کو اسجہاد کی دعوت دی تھی۔
پیغمبر کے ساتھ خدا کی مدد : اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۭوَكَلِمَةُ اللّٰهِ ھِىَ الْعُلْيَا ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔
اوپر والی آیت منافقین سے جس بےنیازی کا اظہار فرمایا ہے اسی بےنیازی کی یہ دلائل کی روشنی میں مزید و ضاحت ہے۔ فرمایا کہ پیغمبر جس اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اٹھے ہیں اگ اس کام میں تم نے ان کا ساتھ نہ دیا تو یہ نہ سمجھو کہ یہ کام رک جائے گا۔ جس خدا نے ہجرت سے لے کر اب تک ہر قدم پر اس کی مدد فرمائی ہے وہ اب بھی اس کی مدد کو موجود ہے۔ یاد کرو کہ ایک دن وہ تھا جب کفار نے اس حال میں اس کو گھر سے نکالا کہ وہ صرف دو کا دوسرا تھا، کوئی تیسرا اس کے ساتھ نہ تھا (یہ اشارہ ہے سفر ہجرت کی طرف جس میں صرف حضرت ابوبکر صدیق آپ کے ساتھ تھے اور سارا قریش آپ کے خون کا پیاسا تھا لیکن آپ سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نکل آئے اور کوئی آپ کا بال بیکا نہ کرسکا)۔ پھر یاد کرو اس وقت کو جب نبی اور صدیق دونوں غار ثور میں پانہ گیر تھے اور دشمن تعاقب میں نقش قدم کی ٹوہ لگاتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ نبی کے واحد ساتھی کو یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ اب ہم دشمن کے نرغے میں ہیں اور خدانخواستہ پیغمبر ﷺ کی زندگی کے لیے آخری خطرہ سامنے آگیا ہے لیکن پیغمبر نے اپنے ساتھی کو تسلی دی کہ تم ذرا غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہ ہماری حفاظت فرمائے گا چناچہ اللہ نے اس پر اپنی جانب سے سکینت و طمانیت نازل فرمائی۔ پھر یاد کرو کہ کتنی جنگیں ان کفار کے ساتھ ہوچکی ہیں جن میں خدا کی غیر مرئی فوجیں پیغمبر کی مدد و نصرت کے لیے اس کے ہم رکاب رہی ہیں یہاں تک کہ کفر سرنگوں اور دین کا بول بالا ہوگیا۔ غور کرو کہ کیا یہ پیغمبر جس کی نصرت کے لیے خدا کی یہ شانیں ظاہر ہوئی ہیں وہ تم جیسے لوگی کی مدد کا محتاج ہوسکتا ہے ! اس کا خدا عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ وہ جس کام کو کرنا چاہے کسی کی طاقت نہیں کہ کوئی اس میں مزاحم ہوسکے اور اس کے ہر کام میں ایسی حکمت ہوتی ہے کہ کوئی اس حکمت کو پا نہیں سکتا۔
Ayah 9:41جہاد میں سروسامان کی کمی کوئی عذر نہیں ہے۔ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
خفاف، خفیف کی اور ثقال، ثقیل کی جمع ہے۔ یہاں خفیف کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے پاس عسرت کے سبب سے زیادہ سروسامان جنگ اور زاد سفر نہ ہو۔ ثقیل جس کا حال اس کے برعکس ہو، یعنی وہ سروسامان سے بھرپور اور اسلحہ سے لیس ہو۔ مطلب یہ ہے کہ سروسامان کی کمی کو، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جہاد سے غیر حاضری کے لیے عذر اور بہانہ نہ بناؤ۔ جو سروسامان بھی میسر آسکے، کم یا زیادہ، اس کو فراہم کر کے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔ اس کی سعادتوں اور برکتوں کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے اور بصورت محرومی اس کے خسران کی بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔
Ayah 9:42شقۃ اس مسافت کو کہتے ہیں جو ایک مسافر طے کرتا ہے۔ بعدت علیہم الشقۃ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ غزوہ تبوک میں منافقین کی کمزوری : ان آیات میں منافقین کی ان کمزوریوں پر تنبیہ کی جا رہی ہے جو غزوہ تبوک کے موقع پر ظاہر ہوئیں اس لیے کہ یہی غزوہ ہے جس میں موسم کی ناساز گاری کے ساتھ طول مسافت کی آزمائش سے بھی مجاہدین کو سابقہ پیش آیا۔ یہ غزوہ رجب سن 9 ہجری میں پیش آیا۔ موسم گرم تھا۔ فصل پک کر تیار تھی۔ مسافت طویل تھی پھر مقابلہ بھی ایک منظم اور کثیر التعداد فوج سے تھا اس وجہ سے منافقین کی کمزوری اس موقع پر بالکل ہی بےنقاب ہوگئی۔ انہوں نے بےسروسامانی کا عذر اور جھوٹے بہانے تراش کر اس جنگ کے لیے نکلنے سے گریز کیا۔ اگرچہ ان لوگوں کی بہانہ بازی آنحضرت ﷺ سے مخفی نہیں تھی لیکن آپ نے اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان سے اغماض فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں سے نقاب الٹ دی تاکہ جو اپنی اصلاح کرنا چاہی وہ اصلاح کرلیں ورنہ کم از کم مسلمان ان کی چھوت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو توقع ہوتی کہ صعوبت سفر اور کسی خطرے کے بغیر مال غنیمت ہاتھ آجائے گا تو تمہارے ساتھ ہولیتے لیکن سامنے کٹھن منزل تھی اس وجہ سے ان کی ہمتیں پست ہوگئیں لیکن یہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک ایک کو قسمیں کھا کھا کے اطمینان دلانے کی کوشش کریں گے کہ اس جہاد میں ان کی عدم شرکت کا باعث بزدلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے لیے سامان نہیں کرپائے۔ اگر سامان کرپاتے تو پیچھے رہنے والے نہیں تھے۔ فرمایا کہ یہلکون انفسہم ان جھوٹے عذرات سے وہ اپنے آپ کو اپنی دانست میں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنے کو بچا نہیں رہے ہیں بلکہ ہلات کے گڑھے میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے کہ نفیر عا کی صورت میں جہاد سے فرار کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔ بقرہ آیت 195 کے تحت ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا کے فرائض سے فرار درحقیقت ہلاکت کی طرف فرار ہے۔
Ayah 9:43آیات 42 تا 60 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے نبی ﷺ کو نہایت دلنواز انداز میں آپ کی اس نرمی پر ٹوکا ہے جو آپ بربنائے کریم النفسی منافقین کے تراشیدہ عذرات قبول کرلینے میں ظاہر فرماتے تھے۔ پھر آپ کے سامنے منافق اور مخلص کے درمیان امتیاز کے لیے ایک کسوٹی رکھ دی گئی ہے کہ سچے اور پکے مسلمان کبھی تمہارے سامنے جہاد سے معذرت پیش کرنے کے لیے نہیں آئیں گے۔ معذرت پیش کرنے کے لیے وہی آتے ہیں جن کے دلوں نفاق کا چور چھپا ہوا ہوتا ہے اور ان کے اس نفاق کے سبب سے اللہ نے ان کے لیے یہی چاہا ہے کہ وہ اس سعادت سے محروم ہی رہیں۔ پھر مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ منافقین جہاد کے لیے نہیں نکلے تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہوا اس لیے کہ اگر یہ نکلتے تو مسلمانوں کے اندر اسی طرح کی فتنہ انگیزیاں کرتے جس کے تجربے پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ یہ بظاہر ہیں تو تمہارے ساتھ لیکن یہ ایجنٹ دوسروں کے ہیں۔ اس کے بعد بعض ایسا منافقین کی طرف اشارہ فرمایا ہے جنہوں نے عذر تراشنے میں کچھ دینداری کی بھی نمائش کی تھی کہ گویا وہ اپنے دین و اخلاق کو فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لیے اس جنگ میں نہیں جا رہے ہیں۔ ان کی اس جھوٹی دینداری پر برسر موقع گرفت فرمائی اور اچھی طرح ان کی قلعی کھول کر دکھایا ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا بغض بھرا ہوا ہے۔
پھر منافقین کو دھمکی دی کہ تمہارا کوئی انفاق بھی خدا کے ہاں مقبول نہیں اس لیے کہ تم ایمان سے عاری ہو۔ تمہارا انفاق مجبورانہ اور تمہاری نماز ریاکارانہ ہے۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ ان لوگوں کو ذرا وقعت نہ دو۔ ان لوگوں کا مال دین کے کام آنے والا نہیں۔ یہ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں موجب وبال بننے والا ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اگر یہ تمہارے ساتھ بندھے ہوئے ہیں تو اس کا سبب یا تو ڈر ہے یا طمع چونکہ ان کے سامنے کوئی راہ فرار باقی نہیں رہی ہے اس وجہ سے یہ تمہارے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ ان کی طمع کا حال اس سے ظاہر ہے کہ تم پر الزام لگاتے ہیں کہ تم صدقات کی مدد سے ان کو بھرپور نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ ہی صدقات کے مصارف کی وضاحت فرما دی تاکہ کوئی شخص صدقات کی حرص میں ناخواندہ مہمان بننے کی کوشش نہ کرے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰي يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ۔
آنحضرت کی کریم النفسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش : چشم پوشی اور مسامحت کریم النفسی کا ایک لازمی مقتضا ہے۔ نبی ﷺ جس طرح تمام اعلی صفات انسانی کے مظہر تھے۔ اسی طرح آپ میں چشم پوشی کی صفت بھی کمال درجہ موجود تھی۔ منافقین آپ کی اس کریم النفسی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔ فرائض دینی بالخصوص فریضہ جہاد سے فرار کے لیے وہ مختلف قسم کے جھوٹے عذرات تراشتے اور آپ کی خدمت میں پیش کر کے گھر بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے۔ حجور ان کے ان بناوٹی عذرات سے اچھی طرح واقف ہوتے لیکن بربنائے کریم النفسی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، درگزر فرما جاتے اور ان کو اجازت دے دیتے۔ حضور کی اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر چونکہ ان کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا ایک موقع مل جاتا جس سے ان کی فریب کاری پختہ ہوتی جا رہی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو متنبہ فرمایا۔ لیکن متنبہ فرمانے کا انداز بہت دلنواز ہے۔ بات کا آغاز ہی عفو کے اعلان سے فرمایا کہ واضح ہوجائے کہ مقصود سرزنش اور عتاب نہیں بلکہ توجہ دلا دینا ہے کہ منافقین تمہاری کریم النفسی سے بہت غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تم اپنی چشم پوشی کی وجہ سے ان کے عذرات کو لاطائل سمجھنے کے باوجود ان کو اجازت دے دیتے ہو جس سے وہ دلیر ہوتے جاتے ہیں کہ ان کی مکاری کامیاب ہوگئی حالانکہ اگر تم اجازت نہ دیتے تو ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا۔ ان کے جھوٹوں اور سچوں میں امتیاز ہوجاتا۔ تمہاری اجازت کے بغری جو گھر میں بیٹھ رہتے ہر شخص پہچان جاتا کہ یہ منافق ہیں لیکن وہ تمہاری اجازت کو اپنے چہرے کی نقاب بنا لیتے ہیں۔
Ayahs 9:44–45تفسیر آیت 44، 45۔
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ۔ اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِيْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ۔
بااخلاق معذورین اور منافقین کے درمیان واضح فرق : یہ ایک نمایاں فرق واضح فرما دیا ہے مخلصین اور منافقین کے درمیان کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں وہ تمہارے پاس جہاد سے رخصت کی درخواستیں لے کر نہیں آتے اللہ اپنے متقی بندوں سے خوب باخبر ہے۔ یہ رخصت کی درخواستیں وہی لوگ لے کر آتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت پر سچا ایمان نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں سے شک کا روگ چمٹا ہوا ہے جس کے سبب سے وہ زبان سے تو اللہ اور رسول کے ساتھی بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے دل ڈانوا ڈول ہیں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث وہی لوگ ہیں جو خود تو جھوٹے عذرات کی آڑ لے کر اپنے کو معذور ٹھہراتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اپنے ان عذرات پر مطمئن نہیں کرسکتے تھے اس لیے کہ جہاد کے لیے جو چیزیں عذر بن سکتی ہیں وہ ایسی نہیں ہیں کہ دوسروں سے مخفی رہ سکیں۔ جو لوگ واقعی معذور ہوتے ہیں ان کا عذر بدیہی ہوتا ہے اور ہر شخص ان کو معذور ٹھہراتا ہے۔ چناچہ اسی سورة میں آگے ان حقیقی معذورین کی تفصیل بھی بیان فرما دی ہے۔ ”لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ : کمزروں، مریضوں اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے جن کو زاد و راحلہ میسر نہیں ہے جب کہ وہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں۔ خوب کاروں پر کوئی الزام نہیں ہے۔ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے اور ان لوگوں پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو تمہارے پاس آتے ہیں کہ تم ان کے لیے کوئی سواری کا انتظام کردو اور تم ان کو جواب دیتے کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی بندوبست نہیں ہے تو وہ تمہارے پاس سے اس حال میں لوٹتے ہیں کہ شدت غم سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوتی ہیں کہ افسوس ان کے پاس مصارف کا انتظام نہیں۔
میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ واللہ علیم بالمتقین میں ایسے ہی بااخلاص معذورین کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 9:46وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ۔
توفیق باندازہ ہمت : یعنی ان کے سارے عذرات محض بناوتی ہیں۔ اگر ان کے اندر جہاد کے لیے اٹھنے کا ارادہ موجود ہوتا تو کچھ نہ کچھ سامان تو یہ کر ہی لیتے۔ اگر بھرپور نہیں تو معمولی سامان، بقدر ضرورت مہای کرلینا تو ان کے لیے کچھ دشوار نہ ہوتا لیکن ان کے اندر ارادہ ہی موجود نہیں تھا اور سنت الٰہی ازل سے یہ مقرر ہے کہ جو لوگ نیکی کمانے کے لیے خود اپنے ارادے کو حرکت میں نہیں لائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو توفیق بھی ارزانی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے الیے بچوں اور عورتوں، بوڑھوں اور مریضوں کی طرح گھر میں بیٹھے رہنا پسند کیا تو خدا نے بھی ان کو عزم و حوصلہ سے محروم کردیا۔
توفیق کے باب میں سنت الٰہی :۔ " تثبیط " کے معنی کسی کو کسی کام سے روک اور ہٹا دینے کے ہیں۔ یہ توفیق کے باب میں سنت الٰہی کا بیان ہے جس کی وضاحت ہم متعدد مقامات میں کرچکے ہیں اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ میں اسلوب طنز کا ہے کہ جب میدان میں نکلنے کی ہمت سے عاری ہو تو جاؤ گھروں میں بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھو۔ آگے کی بعض آیات میں یہ طنز اور بھی تیز ہوگیا ہے۔
Ayahs 9:47–48تفسیر آیت 47-48: اگر یہ لوگ تم میں مل کر نکلتے تو تمہارے لیے خرای ہی بڑھانے کے باعث بنتے اور تمہارے درمیان ان کی ساری بھاگ دوڑ فتنہ انگیزی کے لیے ہوتی اور تم میں ان کی سننے والے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے۔ یہ پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرچکے ہیں اور انہوں نے واقات کی صورت تمہارے سامنے بدلی یہاں تک کہ ان کے علی الرغم حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا۔
لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَا۟اَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ يَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ ۚ وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ۔ " خبال " کے معنی خرابی اور فساد کے اور ایضاع کے معنی بھاگ دور کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ جنگ کے لیے نہیں نکلے تو مصلحت الٰہی یہ تھی کہ یہ نکلیں۔ اگر تمہارے ساتھ ہو کر نکلتے تو تمہارے لیے یہ مفید بننے کے بجائے الٹے مصیبت بنتے، ان کی ساری بھاگ دوڑ تمہارے درمیان کوئی نہ کوئی فتنہ اٹھانے کی راہ میں ہوتی۔ " وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لہم " یعنی تمہاری اپنی صفوں کے اندر بھی ان منافقین کی باتیں سننے اور ماننے والے موجود ہیں یہ اشارہ ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف ہے جو اگرچہ منافق نہیں تھے لیکن اپنی سادہ لوحی کے سبب سے بسا اوقات ان منافقین کے چکمے میں آجاتے تھے۔ ان دو لفظوں میں نہایت لطیف طریقے سے ان کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ مسلمان اپنے اندر کے ان لوگوں سے بھی بیخبر نہ رہیں جو فتنہ پردازوں کے فتنوں سے متاثر ہونے کے معاملے میں بڑے حساس اور بڑی آسانی سے آگ پکڑ لینے والے ہیں۔ سَمّٰعُوْنَ لہم کی لغوی تحقیق مائدہ کی آیت 41 کے تحت بیان ہوچکی ہے، وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ دھمکی کے موقع میں ہے۔ یعنی اللہ ان ظالموں سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن یہ کیفر کردار کو پہنچیں گے۔
لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰي جَاۗءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔ منافقین کی پچھلی شرارتوں کی طرف ایک اشارہ :
یہ اس گروہ منافقین کی بعض پچھلی شرارتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کے درمیان فساد برپا کرنے کے لیے کیں۔ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ۔ یعنی معاملہ کچھ اور تھا انہوں نے اپنی ملمع سازی اور فتنہ پردازی سے سے اس کو کچھ کا کچھ بنادینے کی کوشش کی۔ قرآن نے صرف اجمالی اشارے پر اکتفا کیا ہے اس لیے کہ یہ باتیں مسلمانوں سے مخفی نہیں تھیں۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ بدر کے موقع پر، جیسا کہ تفصیل گزری، اللہ اور رسول کا منشا واجح ہونے کے باوجود مسلمانوں کو قافلہ تجارت پر حملہ کرنے کی راہ سجھانے کی کوشش کی، انہی لوگوں نے جنگ احد کے موقع پر پہلے تو شہر میں محصور ہو کر مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا پھر جب ان کا مشورہ قبول نہیں ہوا تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر عین موقع پر الگ ہوگیا پھر جنگ کے بعد اسی کے ہم خیالوں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا کہ نعوذ باللہ آپ قوم کے بدخواہ ہیں کہ خیر خواہوں کے مشورے کے خلاف ایک غلط مقام پر لے جا کر ہمارے بھائیوں کو کٹوا دیا اور شکست کا سبب بنے۔ پھر یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ مریسیع کے موقع پر اپنی فتنہ انگیزی سے ایسی صورت پیدا کردی کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان تلوار چلتے چلتے رہ گئی۔ اسی سلسلے میں ان کی ایک نہایت سنگین شرارت واقعہ افک کی شکل میں ظاہر ہوئی جو بات کا بتنگڑ بنانے کی ایک نہایت گھنونی مثال ہے۔ حنین کے موقع پر تقسیم غنیمت کے معاملے میں انہوں نے اپنی بدطینتی سے دلوں میں سخت کدورت پیدا کردینے کی کوشش کی۔ غرض جو موقع بھی ان کے ہاتھ آیا اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی مفسدانہ سرگرمیوں کے علی الرغم ان کے فتنوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔
Ayah 9:49نفاق تقوی کے بھیس میں : وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ۔ یہ بعض ایسے منافقین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے جنگ تبوک میں عدم شرکت کے لیے یہ متقیانہ قسم کا بہانہ پیش کیا تھا کہ وہ عورت کے معاملے میں چونکہ بہت بےصبر ہیں اس وجہ سے انہیں اس جنگ کی شرکت سے معاف رکھا جائے مبادا وہ رومی عورتوں کے حسن و جمال سے کسی فتنہ میں مبتلا ہوجائیں۔ اگرچہ یہ عذر پیش تو ایک آدھ احمقوں نے ہی کیا ہوگا لیکن یہ عذر کی ایک ایسی قسم تھی جس پر تقوی اور دین داری کا ملمع چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کا خاص طور پر ذکر فرمایا تاکہ مسلمانوں کو شیطان کے ایک خاص حربے سے آگاہ کردیا جائے کہ کبھی کبھی وہ تقوی کے بھیس میں بھی حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ عذر اسی قسم کا عذر ہے جیسا کہ بعض مدعیان تقوی نماز باجماعت کی حاضری سے متعلق پیدا کرلیتے ہیں اور اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مسجدوں کی حاضری سے اس لیے بچتے ہیں کہ اپنے آپ کو ریا کے فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ یعنی تبوک پہنچ کر فتنہ میں مبتلا ہونا تو بھی دور کی بات تھی، یہ تو گھر بیٹھے ہی فتنہ میں اوندھے منہ گر پڑے۔ اس لیے کہ فرائض دینی سے فرار کے لیے اس قسم کا عذر تراشنا بجائے خود ایک ایسا فتنہ ہے جس کے بعد ان کی خانہ ویرانی کے لیے کسی اور فتنہ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ان کی ایمانی و اخلاقی موت کے لیے رومی حسیناؤں کے چرتر سے زیادہ ان کا یہ اپنا ہی چرتر مہلک ہے۔ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ سے ایک بات تو یہ نکلی کہ اس قسم کے سارے بہانہ باز کافر ہیں۔ دوسری بات یہ نکلی کہ یہ خدا سے فرار کے لیے جتنے بہانے چاہیں ڈھونڈ نکالیں لیکن خدا کی جہنم ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ اس سے نہیں بھاگ سکتے۔
Ayah 9:50منافقین کا اصل باطن : یہ ان کے اصل باطن سے پردہ اٹھایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذرات اور بہانے تو محض اوپر کا پردہ ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تو صرف تمہاری بد خواہی بھری ہوئی ہے۔ اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ، جب تمہیں کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو بڑا دکھ ہوتا ہے اور، وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، اگر تمہیں کوئی افتاد پیش آجائے تو بہت خوش ہو کر لوٹتے ہیں کہ خوب ہوا کہ ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا۔ قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا کی تاویل بعض لوگوں نے قَدْ اَخَذْنَآ حذرنا سے کی ہے ہمارے نزدیک یہ تاویل صحیح ہے۔
Ayahs 9:51–5251۔ 52: مومنین کے لیے مصیبت اور راحت، دونوں میں خیر ہے : یہ جواب ہے اوپر والی بات کا کہ اگر یہ تمہیں کسی افتاد کے پیش آنے سے خوش ہوتے ہیں تو انہیں بتا دو کہ ہمیں وہی کچھ پیش آئے گا جو خدا نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے، وہ ہمارا مولیٰ ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہبود ہے۔ اگر تم ہمارے لیے کسی مصیبت کے خواہاں ہو تو ہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ تمہارے کہنے سے نہیں آئے گی بلکہ ہمارے رب ہی کے چاہنے سے آئے گی اور اسی میں ہمارے لیے بہتری ہوگی۔ اہل ایمان کے لیے مصیبت اور راحت دکھ اور سکھ، موت اور زندگی دونوں ہی میں خیر ہے۔ ایک سے مومن کو صبر، کمزوریوں کی اصلاح اور توبہ وانابت کی تربیت ملتی ہے، دوسری سے شکر نعمت، ادائے حقوق اور احسان کی ترغیب و تشویق ہوتی ہے۔ مومن اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو غازی ہے، مرتا ہے تو شہید ہوتا ہے۔ البتہ تمہارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ تم نے جو روش اختیار کی ہے اس کی بنا پر ہم تمہارے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کی توقع رکھتے ہیں۔ یا تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عذاب بھیجے گا یا ہمارے ہی ہاتھوں تم کو سزا دلوائے گا اور ان میں سے کسی میں بھی تمہارے لیے خیر نہیں۔ تو تم ہمارے لیے جس چیز کا انتظار کر رہے ہو اس کا انتظار کرو، ہم بھی اب تمہارے لیے دونوں باتوں میں سے کسی ایک ظہور کے منتظر ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کامل اتمام حجت کے بعد کسی کے باب میں اس طرح کا انتظار تنگ دلی کی دلیل نہیں بلکہ یہ حالات و واقعات کے قدرتی نتیجہ کا انتظار ہے۔ انشاء اللہ سورة نوح کی تفسیر میں اس پر مفصل بحث آئے گی۔
Ayahs 9:53–5453۔ 54: قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ يُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ ۭاِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۔ وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّآ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ۔
نفاق کے ساتھ کوئی انفاق بھی قبول نہیں : یہ ان منافقین سے اظہارِ نفرت و کراہت ہے۔ فرمایا کہ ان کو سنا دو کہ تمہارا کوئی انفاق بھی، خواہ طوعاً ہو یا کرہاً ، خدا کے ہاں قبول نہیں۔ انفاق ان کا قبول ہوتا ہے جو خدا کے وفادار ہو۔ جو بدعہد اور غدار ہیں اور محض مارے باندھے یا دکھاوے اور نمائش کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کے انفاق کی خدا کے ہاں کوئی وقعت نہیں۔ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں کہ جس طرح بھی کوئی اٹھا کر دے دے وہ اس کو قبول کرے۔ وہ صرف انہی کے انفاق قبول کرتا ہے جو سچے ایمان اور پورے جذبہ اخلاص کے ساتھ اس کے دین کی خدمت کرتے ہیں۔ وَمَا مَنَعَهُمْ الایہ : یہ وضاحت انکم کنتم قوما فاسقین کی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ و رسول کے منکر ہیں۔ اس لیے کہ اللہ و رسول پر ایمان کے جو تقاضے ہیں ان میں سے یہ کسی تقاضے کو بھی پورا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ اگر نمازوں میں آتے ہیں تو مارے باندھے محض دکھاوے کے لیے آتے ہیں اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نمازوں میں شامل نہ ہوں تو مسلمانوں کے اندر اپنے آپ کو شامل رکھنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ اسی طرح اگر وہ دینی کاموں میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو خدمت دین کے لیے نہیں بلکہ بادل ناخواست محض اس خیال سے کہ مسلمانوں کے اندر شمار کیے جاتے رہیں اور اگر طوعاً بھی خرچ کرتے ہیں تو اس لیے کہ ان کی مالداری اور فیاضی کا مظاہرہ ہو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ جس طرح نمائش کی نماز مجبورانہ دوسروں کو دکھانے کے لیے ہوتی اسی طرح نمائش کا انفاق بھی محض دوسرو کو دکھانے ہی کے لیے ہوتا ہے اور خدا کے ہاں اس طرح کا کوئی عمل بھی مقبول نہیں ہوتا۔ سورة نساء آیت 43، واذا قاموا الی اصلوۃ قاموا کسالی کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں ہم نے واضح کیا ہے کہ منافقین کی نماز، نماز نہیں ہوتی تھی بلکہ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے ایک قسم کی ایکٹنگ ہوتی تھی تاکہ مسلمان ان کو اپنے اندر شامل سمجھیں۔ ظاہر ہے اس مقصد سے جو نماز پڑھی جائے گی۔ وہ کسالی ہی ہوگی، اس میں نشاط خاطر، جوش و جذبہ اور خضوع و خشوع کہاں سے آئے گا۔
Ayah 9:55مال و اولاد کی قدر و قیمت ایمان کے ساتھ ہے : جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ مال بھی بخشے اور اولاد سے بھی نوازے وہ ملت کے لیے بڑی دولت ہیں اگر ان کو ایمان و اخلاص بھی نصیب ہوجائے۔ ہر بہی خواہ ملت ایسے لوگوں کو قدر و وقعت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اس لیے کہ جان و مال دونوں سے اسلام کی جو خدمت ان کے امکان میں ہوتی ہے، دوسروں کے امکان میں نہیں ہوتی۔ ان منافقین میں بھی ایسے صاحب مال و اولاد موجود تھے جو اسلام کی بڑی خدمت اور آخرت میں بڑے مراتب حاصل کرسکتے تھے۔ چناچہ نبی ﷺ بھی ان کے لیے دل سے متمنی تھے کہ یہ ایمان و اخلاص سے بہرہ ور ہوں کہ اپنی ان نعمتوں کا حق ادا کر کے خدا کے ہاں مراتب عالیہ حاصل کریں لیکن سارے جتن کرنے کے بعد بھی جب یہ لوگ پھسڈی ہی ثابت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو آگاہ فرما دیا کہ، فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ ، ان بدبختوں کے مال و اولاد کو تم ذرا وقعت نہ دو ، یہ ان کے لیے ترقی و عروج کی کمندیں نہیں بلکہ غلامی کے پھندے ہیں۔ یہ ان کی بدولت دنیا میں بھی اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور ان کی موت بھی حالت کفر ہی میں ہوگی۔
مال و اولاد کا پھندا : یہاں دنیا میں ان کے لیے جس عذاب کا حوالہ ہے اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول اللہ ﷺ کے مکذبین کے لیے مقدر ہوچکا تھا اور جس کی تفصیلات پیچھے گزر چکی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ منافقین بھی وہی روش اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکتے تھے تو ان کا انجام بھی وہی ہونا تھا جو اس روش کے اختیار کرنے والے دوسرے لوگوں کا بیان ہوا۔ تزھق انفسہم سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ دنیا کے مال و اسباب کو اپنے لیے پھندا بنا لیتے ہیں ان کی جانیں گھٹ گھٹ کر نکلتی ہیں اور یہ پھندا اس طرح ان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ اس سے چھوٹ کر ان کے لیے ایمان کی راہ پر آنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ انما یرید اللہ، میں اس سنت الٰہی کا بیان ہے جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہم کرچکے ہیں۔
Ayahs 9:56–5756۔ 57: منافقین کی نفسیاتی بیماریاں : وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ۔ لفظ حلف بالعموم اچھے معنوں میں نہیں آتا۔ ہم دوسرے مقام میں یہ نفسیاتی حقیقت واضح کرچکے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس کردار کی حجت نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو معتبر ثابت کرنے کے لیے اکثر جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ چناچہ قرآن منافقین کے متعلق جگہ جگہ یہ واضح کیا ہے کہ یہ اپنے اخلاقی خلا کو جھوٹی قسموں سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو مطمئن رکھنے کے لیے ان کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے کہ ہم آپ ہی لوگوں میں سے ہیں۔ ہمارے باب میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن نے فرمایا کہ َمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ ، یہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں بلکہ یہ محض ڈر کے سبب سے تمہارے ساتھ بندھے ہوئے ہیں ! اب ان کے سامنے کوئی راہ فرار باقی نہیں رہی ہے۔ کفار و مشرکین کا حشر یہ دیکھ چکے ہیں۔ یہود و نصاری کا انجام بھی ان کے سامنے ہے۔ اب جائیں تو کہا جائیں ؟ ملک چھوڑ کر باہر جائیں تو مفادات دامن گیر ہوتے ہیں۔ چارو ناچار تمہارے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ فرق یفرق فرقا، کے معنی ڈرنے اور گھبرانے کے ہیں۔ فقرۃ بزدل اور ڈرپوک کو کہتے ہیں۔
لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو آج اگر کوئی جائے پناہ کوئی غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ مل جائے، جہاں اپنے مفادات کے ساتھ یہ اپنے کو محفوظ کرسکیں تو ایک دن بھی یہ تمہارے ساتھ رہنا پسند نہ کریں بلکہ رسی تڑا کر یہ بھاگیں گے۔ جمح الفرس کے معنی ہیں تغلب علی راکبہ وذھب بہ ولا ینثنی (گھوڑا سوار کے قابو سے باہر ہوگیا اور اس کو لے کر بگٹٹ بھاگا) یعنی تم سنھلاتے ہی رہ جاتے لیکن یہ بھاگ کھڑے ہوتے مگر وہ تو خیریت ہے کوئی ٹھکانا ان کو نہیں مل رہا ہے اس وجہ سے خوف اور بزدلی نے ان کو تمہارے ساتھ باندھ رکھا ہے۔
Ayahs 9:58–5958۔ 59: غیر مال دار منافقین کا حال : اوپر کی آیات میں مالدار منافقین کا حال بیان ہوا تھا۔ اب یہ غیر مالدار منافقین کا حال بیان ہورہا ہے۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ۔ کہ جس طرح ان کو خوف نے مسلمانوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے اسی طرح ان کو طمع نے باندھ رکھا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم (خطاب پیغمبر سے ہے) ان کو صدقات کی مد سے خوب دیتے رہو۔ تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر ذرا کمی کرو تو روٹھ کر تمہاری عیب چینی شروع کردیتے ہیں کہ دوسروں کو تو فیاضی سے دیا جارہا ہے لیکن ان کو ان کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔
صحیح روش : وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۙ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَـيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَرَسُوْلُهٗٓ ۙ اِنَّآ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۔ یہ ان کو صحیح روش یعنی اللہ اور رسول پر اعتماد اور قناعت کی تعلیم دی گئی ہے کہ اہل ایمان کی رغت مال کی طرف نہیں بلکہ اللہ کی طرف ہونی چاہیے۔ فرمایا کہ جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے خزانہ وجود سے بخشا اور رسول نے جتنا کچھ صدقات میں سے ان کو عطا فرما، اگر یہ اس پر قناعت کرتے، اللہ پر پورا بھروسہ اور اس سے مزید فضل اور رسول کی طرف سے مزید عنایت کی امید رکھتے، عیب چینی، بدگمانی اور شکوہ و شکایت کے بجائے حسنِ ظن سے کام لیتے تو یہ چیز ان کے حق میں بہتر ہوتی۔ اس سے ان کے لیے اللہ کے فضل کے مزید دروازے کھلتے اور رسول کی شفقت و عنایت بھی ان کو مزید حاصل ہوتی لیکن ان کی بدبختی پر افسوس ہے کہ انہوں نے یہ مومنانہ اور غیرت مندانہ روش اختیار کرنے کے بجائے رسول کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم شروع کردی۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ فصیح عربی میں اس قسم کے شرطیہ جملوں میں بالعموم جزا محذوف ہوجایا کرتی ہے جس سے کلام میں شدت پیدا ہوجاتی اگر موقع شدت کا ہو، اور حسرت، ملامت، زجر، شفقت، عنایت کے پہلو بھی زیادہ نمایاں ہو کر مخاطب کے سامنے آتے ہیں اگر موقع و محل ان کا ہو۔ ترجمہ میں ہم نے اس محذوف کو کھول دیا ہے۔
Ayah 9:60صدقات کے اصلی مستحقین : اب یہ صدقات کے مستحقین کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے تاکہ منافقین میں سے جو غیر مستحق محض حرص مال کے سبب سے صدقات میں حصہ بٹانا چاہتے تھے ان پر واضح ہوجائے کہ کون لوگ اس سے مال میں حق دار ہیں، کون نہیں۔ اس سے یہ لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ منافقین جو صدقات سے اپنی خواہش کے مطابق نہ پانے کے سبب سے آنحضرت ﷺ پر نکتہ چینی شروع کردیتے تھے۔ ان کی حیثیت زیادہ تر ناخواندہ مہمانوں کی تھی جو بغیر کسی استحقاق کے اس مال میں شریک بننا چاہتے تھے۔
صدقہ اور زکوۃ میں فرق : " صدقات " زکوۃ کی نسبت عام ہے۔ اس میں وہ تمام عطایا شامل ہیں جو بہ نیت اجر وثواب دیے جائیں۔ عام اس سے کہ وہ زکوۃ کا مال ہو یا انفاق و تبرع کی نوعیت کا کوئی اور مال۔ چونکہ اسی انفاق سے آدمی کے ایمان کی صداقت اور پختگی واضح ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو صدقہ کہتے ہیں جس کی اصل " صدق " ہے جس کی روح قول و فعل کی کامل مطابقت اور رسوخ و استحکام ہے۔ ان صدقات کے مندرجہ ذیل مستحقین اور مصارف یہاں بتائے گئے ہیں۔
فقراء اور مساکین سے مراد : فقراء اور مساکین، یہ دونوں لفظ اس اعتبار سے تو بالکل مشترک ہیں کہ دونوں کا الاق محتاجوں اور ناداروں پر ہوتا ہے چناچہ قرآن میں یہ دونوں ایک دوسرے کے محل میں استعمال بھی ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان فی الجملہ فرق بھی ہے۔ فقیر " غنی " کا مقابل ہے مثلا ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما (نساء :135)۔ اس وجہ سے ہر وہ شخص جو غنی نہیں بلکہ محتاج ہے وہ فقیر ہے، عام اس سے کہ وہ سوال کرتا ہے یا اپنی خود داری کی شرم رکھتے ہوئے سوال سے احتراز کرتا ہے۔ چناچہ بقرہ 273 میں ان خود دار محتاجوں کے لیے فقراء ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ " مسکین " کا لفظ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے فقر و مسکنت یا فقدانِ عزم و حوصلہ کے سبب سے زندگی کی جد و جہد میں حصہ لینے سے عاجز ہو، صرف دوسروں کی امداد ہی اس کا سہارا ہو۔ گویا فقر کے ساتھ اس کے اوپر مسکنت اور بےبسی کا بھی غلبہ ہو۔ اس اعتبار سے یہ لفظ فقیر کے مقابل میں سخت ہے۔ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات کی وصولی اور ان کے حساب کتاب پر حکومت کی طرف سے مامور ہوں۔ ان کی تنخواہیں اور ان کے دفاتر کے مصارف بھی اس مد سے ادا ہوں گے۔ وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ۔ مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی اسلامی حکومت کے مصالح کے تحت دل داری پیش نظر ہو۔ بسا اوقات حکومت کو بعض ایسے ذی اثر لوگوں کو سے معاملہ کرنا پڑتا ہے جو حکومت کی پوری رعیت نہیں ہوتے بلکہ ایسی پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ اگر ان کو بزور قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ دشمن سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں اس طرح کے لوگوں سے بڑے خطرے پہنچ سکتے ہیں اگر یہ دشمن بنے رہیں یا دشمن ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ اس طرح کے لوگوں کو اپنی حمایت میں رکھنا اسلامی حکومت کے مصالح کا تقاضا ہوتا ہے اور اس کی شکل یہی ہوتی ہے کہ ان کی کچھ مالی سرپرستی کی جاتی رہے تاکہ ان کی ہمدردیاں اسلام کے دشمنوں کی بجائے اسلامی حکومت کے ساتھ رہیں۔ یہ ایک پولیٹیکل مصرف ہے جس پر حکومت اپنی دوسری مددوں سے بھی خرچ کرسکتی ہے اور اگر ضرور محسوس کرے تو اس پر صدقات کی مد سے بھی خرچ کرسکتی ہے۔ یہ مؤلفۃ القلوب غیر مسلم بھی ہوسکتے ہیں اور نام کے مسلمان بھی۔ اس تالیف قلب سے ایک فائدہ یہ بھی متوقع ہوتا ہے کہ یہ غیر مسلم یا نام کے مسلمان مسلمانوں سے وابستہ رہنے کے سبب سے اسلام سے قریب تر ہوجائیں۔ ہمارے فقہاء کا ایک گروہ اس مصروف کو آنحضرت ﷺ کی وفات یا بالفاظ دیگر اسلام کے غلبہ کے بعد ساقط قرار دیتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ بات کچھ زیادہ قوی نہیں ہے۔ یہ مصرف، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک پولیٹیکل مصرف ہے جو حالات کے تابع ہے جس کی ضرورت کبھی پیش آتی ہے کبھی نہیں۔ ایک مضبوط سے مضبوط حکومت بھی بعض اوقات دفع شر کے اس طریقے کو اختیار کرتی ہے اس لیے کہ جبر اور طاقت کا ذریعہ اختیار کرنے میں نہایت پیچیدہ بین الاقوامی جھگڑے اٹھ کھڑے ہونے کے اندیشے ہوتے ہیں۔ جن میں بروقت الجھنا حکومت کے مصالح کے خلاف ہوتا ہے۔
فک رقبہ کی وضاحت : وَفِي الرِّقَابِ میں مضاف محذوف ہے یعنی فی فک الرقاب۔ غلاموں کو طوق غلامی سے نجات دلانا بھی ان مقاصد میں سے ہے جن پر صدقات کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ یہاں حرف فی کے استعمال سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی بہبود ترقی کے ایسے کام بھی صدقات سے کیے جاسکتے ہیں جو ان کی رفاہیت اور حصول آزادی میں معین ہوں۔
غارمین سے مراد : وَالْغٰرِمِيْنَ ، غرم فی التجارۃ کے معنی ہوتے ہیں فلاں نے اپنی تجارت میں گھاٹا اٹھایا۔ غرامۃ اور غرم، تاوان، نقصان اور جرمانہ کو کہتے ہیں۔ غارم اس شخص کو کہیں گے جو اپنے اکروبار میں نقصان یا کسی اور سبب سے ایسے بار اور قرضے کے نیچے آگیا ہو کہ اس کے لیے تنہا اپنے ذرائع سے اپنے آپ کو سنبھالنا ناممکن ہو رہا ہو۔ ایسے اشخاص کے قرضے اتارنے اور ان کو سہارا دینے پر بھی صدقات کی رقم صرف ہوسکتی ہے تاکہ وہ از سر نو سنبھل کر معاشرے کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچا سکیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اسلامی حکومت میں اکتساب کے تمام ناجائز ذرائع اور اسراف کے تمام حرام راستوں پر قدغن ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ غارم کسی خلاف شریعت طریقے کے اختیار کرنے کے سبب سے غارم ہوا ہے یا اس کو یہ افتاد ناجائز راستے میں پیش آئی ہے۔ کلام کا موقع و محل خود شاہد ہے کہ یہاں غارم سے مراد کوئی مجرم نہیں بلکہ وہ شخص ہے جس نے اپنی جائز معاشی جدوجہد کی راہ میں ٹھوکر کھائی ہو یا کسی سبب سے تاوان میں پڑگیا ہو۔ " وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ "، یہ ایک جامع اصطلاح ہے جس کے تحت جہاد سے لے کر دعوت دین اور تعلیم دین کے سارے کام آتے ہیں۔ وقت اور حالات کے لحاظ سے کسی کام کو زیادہ اہمیت حاصل ہوجائے گی کسی کو کم لیکن جس کام سے بھی اللہ کے دین کی کوئی خدمت ہو۔ وہ فی سبیل اللہ کے حکم میں داخل ہے۔
ابن السبیل سے مراد : وَابْنِ السَّبِيْلِ ، اس کا مستقل ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ مسافر، مجرد مسافر ہونے کی بنا پر اس بات کا حق دار ہوتا ہے کہ صدقات سے اس کو فائدہ پہنچایا جائے۔ مسافرت اس کو ایسی حالت میں ڈال دیتی ہے کہ قانونی اور اصطلاح اعتبار سے فقیر نہ ہونے کے باوجود بھی وہ ایک اجنبی جگہ میں اپنی بعض ضروریات کے لیے ایسا محتاج ہوتا ہے کہ اگر اس کی دست گیری نہ کی جائے تو وہ اپنے ذاتی ذرائع سے غریب الوطنی میں ان کا کوئی انتظام نہیں کرسکتا۔ اس طرح کے لوگوں کے لیے سرائیں، مسافر خانے، قیام و طعام اور رہنمائی کے مراکز قائم کرنا بھی ان کاموں میں شمار ہے جن پر صدقات سے خرچ کیا جاسکتا ہیہ امر ملحوظ رہے کہ یہ بھی " فی " کے تحت بیان ہوا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ سافروں کی سہولت اور آسائش کے تمام ضروری کام اس میں شامل ہیں۔
صدقات کے لیے تملیک ذاتی ضروری نہیں : ہمارے فقہا کا ایک گروہ، انما الصدقات للفقراء کے " ل " کو تملیکِ ذاتی کے مفہوم کے لیے خاص کرتا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ صدقات و زکوۃ کی رقوم فقراء و مساکین کی کسی ایسی اجتماعی بہبود پر صرف نہیں ہوسکتیں جس سے ملکیت ذاتی تو کسی کی بھی قائم نہ ہو لیکن اس کا فائدہ بحیثیت مجموع سب کو پہنچے۔ ہمارے نزدیک یہ رائے کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ اول تو " ل " کچھ تملیک ہی کے معنی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ یہ متعدد معانی کے لیے آتا ہے اور ان سب معانی کے لیے یہ خود قرآن میں استعمال ہوا ہے، تملیک ذاتی ہی کے معنی کے لیے اس کو خاص کردینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ آخر بہبود، نفع رسانی اور استحقاق کے معانی کے لیے بھی جب اس کا استعمال معروف ہے تو ان معانی میں یہ کیوں نہ لیا جائے ؟ پھر آیت میں آپ نے دیکھا کہ بعض چیزیں " فی " کے تحت بیان ہوئی ہیں اور " فی " کا متبادر مفہوم تملیک نہیں بلکہ خدمت، مصرف، رفاہیت اور بہبود ہی ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بدیہی ہے کہ صرف تملیک ذاتی کی صورت میں غرباء کو جتنا فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے اس سے کہیں زیادہ نفع ان کو بعض حالات میں اس صورت میں پہنچایا جاسکتا ہے اس سے کہیں زیادہ نفع ان کو بعض حالات میں اس صورت میں پہنایا جاسکتا ہے جب کہ ان کی اجتماعی بہبود کے لیے بڑے بڑے کام کیے جائیں پھر تملیک ذاتی کے ساتھ اس کو خاص کر کے اس نفع کو محدود کیوں کیا جائے ؟ یہاں ہم ان اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔ rnۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اس اسلوب کے فوائد پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔ اس میں اس حکم کے موکد اور واجب التعمیل ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے اور مبنی بر علم و حکمت ہونے کی طرف بھی۔