9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں وہ اور کہتے ہیں وہ تو بس کان ہی کان ہیں۔ کہہ دو وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔ اہل ایمان کی بات باور کرتا اور تم میں سے جو ایمان لائے ان کے لیے رحمت ہے اور جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچا رہے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے

آیات 61۔ 72 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے انہی منافقین کی بعض شرارتوں اور ایذا رسانیوں کا ذکر اور ان کو تہدید و وعید ہے۔ پھر منافقین و منافقات اور مومنین و مومنات دونوں کے کردار وصفات کا تقابل کیا ہے تاکہ ایمان و نفاق دونوں واضح ہو کر ہر شخص کے سامنے آجائیں۔ یہ تقابل حقائق کو نمایاں کرنے بھی سب سے زیادہ مددگار ہوتا ہے اور اس سے مقصد اصلاح کو بھی بڑی مدد ملتی ہے اگر اس سے صحیح فائدہ اٹھایا جائے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ اُذُنٌ کا مفہوم : وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ۔ اذن کے معنی کان کے ہیں۔ جب یہ کسی شخص کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا جائے تو اس کے اندر ہجو ملیح کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ یعنی بس وہ نرا کان ہی کان ہے۔ ہر ایک کی بات سن لیتا اور اس کو باور کرلیتا ہے۔ ہم نے اس کو ہجو ملیح اس لیے قرار دیا ہے کہ عموماً یہ الزام بڑے لوگوں پر ان کے حاسدین یا منافقین لگاتے ہیں کہ ہے تو بڑا آدمی، اس میں بہت سی خوبیاں بھی لیکن کان کا کچا ہے۔ ہر ایرے غیرے کی بات سن لیتا اور مان لیتا ہے۔ ہجو ملیح کا مضمون اس میں یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ ہر ایک کی بات سن لینا جہاں آدمی کی شرافت اور کریم النفسی کی دلیل ہے وہیں پہ اس کی سادگی، بھولے پن اور بےبصیرتی کی بھی دلیل ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لیے منافقین کی ہجو : منافقین نبی ﷺ کے لیے یہ لفظ اس کے انہی مفہوم کو پیش نظر رکھ کر استعمال کرتے۔ وہ اپنی نجی مجسلوں میں اللہ، اس کے رسول اور آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے۔ جب آنحضرت ﷺ تک کسی ذریعہ سے اس کی خبر پہنچتی اور آپ اس پر کچھ خفگی یا ناراضی کا اظہار فرماتے تو منافقین اپنی صفائی میں لوگوں سے یہ کہتے کہ یہ نیک آدمی ہیں جو بات کوئی شخص کان میں ڈال جاتا ہے اس کو سچ جان لیتے ہیں اور اس کی بنا پر ہم جیسے وفا شعاروں اور اطاعت گزاروں سے بدگمان ہوجاتے ہیں ورنہ بھلا ہماری زبانوں سے اللہ ور سول کی شان میں کوئی توہین کا کلمہ قصداً نکل سکتا ہے ؟ ازراہ سخن گستری، مذاقا اور تفریحا بلا ارادہ تحقیر کوئی لفظ زبان سے نکل گیا ہو تو اس کی بات اور ہے۔ منافقین کو جواب : ۭقُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ۔ یہ منافقین کی بات کا جواب دلوایا ہے کہ اگر تم نبی کو سراپا کان سمجھتے ہو تو اس کا وہ پہلو جو تمہارے ذہن میں ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے۔ ان کے کان ہر وقت اس تمنا میں کھلے ہوئے ہیں کہ ان میں تمہاری اچھی باتوں، اچھے کاموں، اچھے ارادوں کی خبریں پڑیں اور ان سے وہ مسرور ہوں۔ وہ تمہاری بری خبریں اور بری سرگوشیاں سننے کے لیے کان نہیں لگائے ہوئے ہیں کہ کوئی آئے اور تمہاری کسی بری حرکت کی خبر سنا جائے اور وہ اس کو قیمتی سوغات سمجھ کر اپنے حافظہ میں محفوظ کرلیں۔ باپ اپنے بیٹوں کے لیے جتنا شفیق ہوتا ہے نبی اس سے کہیں زیادہ اپنی امت کے لیے شفیق ورحیم ہوتا ہے۔ وہ ان کی خرابیوں کی ٹوہ میں نہیں بلکہ بھلائیوں کی ٹوہ میں رہتا ہے اور ہر آن وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کے کانوں میں کوئی نہ کوئی اچھی ہی بات ان کی بابت پڑے۔ پس اگر تم اس کو سراپا کان سمجھتے ہو تو اس پہلو سے بیشک وہ تمہارے لیے سراپا کان ہی ہے اور یہ چیز تمہارے لیے مبارک ہے نہ کہ کوئی ایسی چیز جس کو تم ہجو اور تحقیر کا موضوع بنا لو۔ نبی کا اعتماد اللہ اور اہل ایمان پر : يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔ یعنی پیغمبر کے متعلق تمہارا یہ گمان بھی بالکل غلط ہے کہ وہ ہر ایرے غیرے کی بات سن لیتے اور اس کو باور کرلیتے ہیں۔ ان کا ایمان اللہ پر ہے اور وہ صرف وہ بات باور کرتے ہیں جو سچے اور پکے اہل ایان کے ذریعہ سے ان کو پہنچتی ہے۔ اللہ اگر تمہارے باب میں کوئی خبر دے تو اس سے سچی اور پکی خبر اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اسی طرح اگر اہل ایمان تمہارے باب میں نبی کو کوئی اطلاع پہنچائیں تو آخر نبی اس کو کیوں نہ باور کرے ؟ مطلب یہ کہ تمہارے باب میں نبی کے ذرائع اطلاع نہ تو ہوائی ہیں اور نہ پیغمبر ایسے بھولے بھالے ہیں کہ وہ ہوائی باتوں پر رائے قائم کرتے اور بدگمان ہوتے چلیں۔ وہ خدا کی رہنمائی میں چلتے اور اہل ایمان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ایمان کا صلہ جب " ل " کے ساتھ آئے تو وہ صرف کسی کی بات کو ماننے اور باور کرنے کے مفہوم میں ہوتا ہے۔ نبی سراپار حمت : وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۔ یعنی تم میں سے جو لوگ صحیح ایمان کی روش اختیار کریں پیغمبر ان کے لیے سراپا شفقت و رحمت ہیں۔ وہ تمہارے بد خواہ نہیں ہیں کہ وہ اپنے کان تمہارے بدخواہوں کے لیے کھول دیں۔ وہ تمہاری اصلاح اور فلاح چاہتے ہیں اور تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی کامرانی اس بات میں ہے کہ تم صحیح ایمان کی روش اختیار کر کے پیغمبر کی رحمت و شفقت کے سزوار بنو۔ فعل امنوا، یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنوں میں ہے یعنی ان لوگوں کے لیے جو محض زبانی مدعی ایمان ہونے کے بجائے سچے اور پکے مومن بن جائیں۔ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ رہے وہ لوگ جو محض زبانی جمع خرچ کے اعتماد پر مومن بنے رہنا چاہتے ہیں اور اپنی باتوں اور حرکتوں سے پیغمبر کو دکھ پہنچا رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

وہ تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تمہیں مطمئن کریں، حالانکہ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ اس کو راضی کریں

عذر گناہ بدتر از گناہ : خطاب مسلمانوں سے ہے کہ، يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ ۚ وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ ، منافقین اپنے ایمان کے بارے میں تم کو اطمینان دلانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں حالانکہ ان کے اندر اگر ایمان ہوتا تو تمہارے اطمینان سے زیادہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی فکر ہوتی۔ یہ بڑی ہی برمحل گرفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حرکت جو یہ اپنے ایمان کو معتبر ثابت کرنے کے لیے کر رہے ہیں بجائے خود ان کی بےایمانی کی ایک واضح دلیل ہے، یہ اسی طرح کی گرفت ہے جس کی نہایت بلیغ مثال، الا فی الفتنۃ سقطوا، میں گزر چکی ہے۔ بسا اوقات آدمی کا عذر گناہ بد تر از گناہ بن جاتا ہے۔ منافقین نے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے جو روش اختیار کو وہ ان کو اور زیادہ مجرم ثابت کرنے والی بن گئی۔ وہ راست باز ہوتے تو اللہ اور رسول کو راضی کرنے کی کوشش کرتے نہ کہ جھوٹی قسموں کے ذریعہ سے مسلمانوں کے سامنے اپنے کو معصوم اور پیغمبر کو کان کا کچا ثابت کرنے میں لگ جاتے۔ یہ تو پیغمبر کے خلاف پروپیگنڈے کی نہایت عیارانہ مہم ہوئی۔ یہاں " یرضوہ :" میں واحد کی ضمیر بھی قابل لحاظ ہے۔ چونکہ اللہ اور رسول کی رضا ایک ہی ہے اس وجہ سے ضمیر واحد آئی ہے۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا انہیں علم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے

محادۃ کے معنی کسی کے مقابل میں دشمن بن کر اٹھنے کے ہیں۔ فان کا عطف، انہ پر ہے۔ منافقین کو عذاب کی دھمکی : اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ۭذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ۔ یہ مناقین کے مذکورہ بالا پروپیگنڈے پر ان کو دھمکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جرم پر اللہ سے معافی مانگنے اور رسول کو راضی کرنے کی جگہ انہوں نے جھوٹی قسموں کے بل پر مسلمانوں کے اندر اپنی معصومیت کی جو مہم چلا رکھی ہے اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے خلاف جو پارٹی انہوں نے بنائی ہے اس کو مزید مستحکم کریں تاکہ اپنا کام زیادہ موثر طریقے پر کرسکیں۔ کیا اتنی طویل تذکیر و تبلیغ کے بعد بھی ان پر یہ حقیقت واضح نہ ہوسکی کہ جو لوگ اللہ اور رسول کے حریف بن کر کھڑے ہوتے ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ ذٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيْمُ میں لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ آج کی رسوائی سے اپنے کو بچانے کے لیے جو کھیل یہ کھیل رہے ہیں بالفرض یہ اس میں کامیاب بھی ہوجائیں تو آخر اس سب سے بڑی رسوائی سے اپنے کو بچانے کی کیا تدبیر کریں گے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافقین کو اندیشہ ہے کہ مبادا ان پر کوئی ایسی سورة اتار دی جائے جو ان کو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کردے۔ کہہ دو مذاق اڑا لو، اللہ ظاہر کر کے رہے گا جس سے تم ڈرتے ہو

حَذِرَ یَحْذِرُ کے معنی خائف اور چوکنے ہونے کے ہیں۔ تنزل علیہم، تقرر علیہم، کے مفہوم میں ہے یعنی انہیں پڑھ کر سنا دی جائے۔ منافقین کو پردہ دری کا اندیشہ : منافقین نے مسلمانوں کے سامنے صفائی پیش کرنے کی جو مہم شروع کی تھی یہ اس کا پس منظر سامنے لایا جا رہا ہے کہ اب تک تو ان کے رویہ پر جو تنقید ہوئی تھی وہ اشارات کے انداز میں تھی کہ ان کا زیادہ فضیحتا نہ ہو اور یہ اصلاح کرنا چاہیں تو اصلاح کرلیں لیکن اس سورة میں ان کو لب و لہجہ بدلا ہوا جو نظر آیا ہے اور ان کی نج کی مجلسوں کے بعض اسرار جو زیر بحث آئے ہیں تو، يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭقُلِ اسْتَهْزِءُوْا ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ۔ وہ گھبرا اٹھے ہیں کہ، مبادا کوئی ایسی سورة نازل ہوجائے جو ان کے سارے اسرار درون پردہ بےنقاب کر کے رکھ دے۔ چناچہ اسی اندیشے کے پیش نظر جھوٹی قسموں کے سہارے انہوں یہ اپنی صفائی کی ہم چلائی ہے۔ فرمایا کہ ان کو خبردار کردو کہ اب تمہاری یہ پیش بندی کچھ کارگر ہونے والی نہیں۔ اللہ و رسول اور اللہ کی آیات کا جتنا مذاق اڑانا ہے اڑا لو۔ اب وقت آگیا ہے کہ جن چیزوں کے بےنقاب ہونے سے تم ڈر رہے ہو اللہ ان سب کو بےنقاب کر کے رہے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ یہ سورة جس طرح مشرکین اور اہل کتاب کے باب میں خاتمہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح منافقین کے باب میں یہ فیصلہ کن سورة ہے۔ اس میں، جیسا کہ آگے کے مباحث سے واضح ہوجائے گا، ان کو پوری طرح ننگا کردیا گیا ہے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو گے تو جواب دیں گے کہ ہم تو محض سخن گستری اور جی بہلانے کی باتیں کر رہے تھے۔ ان سے پوچھو کہ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مسخری کر رہے تھے ؟

" خوض " کا مفہوم : خوض کے اصل معنی تو دریا وغیرہ میں گھسنے کے ہیں لیکن بات کے تعلق سے یہ آئے تو اس کا مفہوم بال کی کھال ادھیڑنا بھی ہوسکتا ہے اور ایک بات سے دوسری اور دوسری سے تیسری بات نکالتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلنا بھی ہوسکتا ہے۔ ہم ترجمہ سخن گستری کا لفظ اختیار کیا ہے۔ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ، ایک اور عذر گناہ بد تر از گناہ : یہ منافقین کے ایک اور عذر گناہ بد تر از گناہ کی مثال پیش کی گئی ہے کہ اگر تم ان سے اس استہزا کی بابت دریافت کروگے جو وہ اپنی مجالس میں اللہ اور رسول کا کرتے ہیں تو جھٹ جواب دیں گے معاذ اللہ استہزا ؟ ہم تو بس کچھ ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے ! قرآن نے ان کو یہیں سے دھر لیا کہ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ ، کیا اب تمہاری ہنسی دل لگی اور مشق سخن گستری کے لیے اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی رہ گئے ہیں ؟ بازی بازی باریش ببا ہم بازی !
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

باتیں نہ بناؤ، تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم تمہاری کسی جماعت سے درگزر بھی کرلیں تو دوسری کسی جماعت کو ضرور سزا دیں گے بوجہ اس کے کہ وہ مجرم ہیں

آیات الٰہی کا استہزاء کفر ہے : لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ یعنی باتیں نہ بناؤ، تمہارا یہ عذر گناہ تمہارے گناہ سے بھی بدتر ہے۔ اگر کوئی گروہ اللہ اور اس کی آیات کو ہنسی دل لگی کا کھلونا بنا لے تو اس کے مجرم ہونے کے لیے اور کیا چاہے ؟ یہ تو صریحاً ایمان کے اظہار کے بعد کفر کا اعلان ہے۔ تم نے ایمان کا دعوی کیا تھا تو اس کا حق تو یہ تھا کہ اپنے عمل سے اس کا ثبوت فراہم کرتے لیکن اپنے عمل سے تم نے ثبوت فراہم کیا ہے کفر کا اس لیے کہ اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا استہزا کفر ہے۔ انعام آیت 70 کے تحت اس مسئلہ پر گفتگو ہوچکی ہے۔ منافقین کی بعض خطرناک ٹولیاں : اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ الایہ : اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ منافقین کی بہت سی ٹولیاں تھیں جن کے نفاق کی نوعیتیں اور ان کے شر و فساد کے درجے مختلف تھے۔ ان کی بعض ٹولیاں، جیسا کہ آگے اسی سورة میں واضح ہوگا، نہایت خطرناک تھیں۔ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسی ایسی چالیں چلیں کہ ان میں سے ایک چال بھی اگر کامیاب ہوجاتی تو کھلے معاندین کی تمام چالوں پر بھاری ہوتی۔ ایسی ہی بعض ٹولیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَاۗىِٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ ، اگر ہم نے تمہاری بعض ٹولیوں سے اس دنیا میں درگزر بھی کرلیا اور ان کے معاملے کو آخرت ہی پر اٹھا رکھا تو بعض ٹولیاں تو لازماً اسی دنیا میں ہمارے عذاب کی زد میں آئیں گی اور ہم ان کے جرائم کی پاداش میں ان کی بیخ کنی کر کے رہیں گے۔ چناچہ آگے اسی سورة میں مسجد ضرار کے بانیوں اور بعض دوسرے گروہوں کا ذکر آئے گا۔ اور ان کا جو حشر ہوا وہ بھی بیان ہوگا۔
Ayahs 9:67–70

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں۔ یہ برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے روکتے اور ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا رکھا ہے تو اللہ نے بھی ان کو نظر انداز کردیا ہے یہ منافق بڑے ہی بد عہد ہیں

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

منافق مردوں، منافق عورتوں اور کفار سے اللہ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ان کے لیے کافی ہے اور ان پر اللہ کی لعنت اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

ان لوگوں کی مانن جو تم سے پہلو ہو گزرے۔ وہ قوت و شوکت میں تم سے زیادہ اور مال و اولاد میں تم سے بڑھ چرھ کر تھے تو انہوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا لیا جیسا کہ تمہارے اگلوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اسی طرح بکواس کی جس طرح انہوں نے کی۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ڈھے گئے اور یہی لوگ نامراد ہونے والے ہیں

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا انہیں ان لوگوں کی سرگزشت نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے۔ قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم ابراہیم، اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی، ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ان کے اوپر ظلم کرنے والا نہیں بنا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے

67۔ 70: اسلامی معاشرہ کی تطہیر منافقین سے : اب تک منافقین اپنے دعائے ایمان کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ رلے ملے ہوئے تھے۔ یہ پہلی بار ان کی علامتیں بتا کر ان کو اہل ایمان سے چھانٹ کر الگ اور دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبار سے ان کو مسلمانوں کے بجائے کفار و مشرکین کا شریک وسہیم قرار دیا گیا ہے۔ یہ منافقین کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ اپنے کو مسلمانوں کے اندر گھسائے رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اور مسلمانوں کو بھی آگاہی ہے کہ وہ اس رنگ کی بھیڑوں کو اپنے گلے میں شامل نہ ہونے دیں۔ یہ گویا اسلامی معاشرہ کی غیر مطلوب عناصر سے تطہیر کی راہ میں پہلا قدم ہے اور یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح مسلمانوں نے کفار و مشرکین اور اہل کتاب سے اعلان براءت کردیا ہے اسی طرح اپنے اندر کے ان نام نہاد مسلمانوں کو بھی چھانٹ کر الگ کریں جو اپنے اعمال و اخلاق میں انہی کفار و مشرکین کے ہم رنگ ہیں۔ منافقین اور منافقات دونوں کا ایک ہی انجام : اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ، یہاں منافقین کے ساتھ منافقات کا بھی ذکر تصریح کے ساتھ فرمایا ہے اور دونوں کو برابر شریک جرم قرار دیا ہے تاکہ ان کو بھی تنبیہ ہو کہ جو انجام ان کے مردوں کا ہونے والا ہے وہ بھی اس سے بچنے والی نہیں ہیں اگر انہوں نے اپنے کو خدا کے غضب سے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ دین کے معاملے میں تبعیت اور ماتحتی کوئی عذر نہیں ہے بلکہ اپنی نجات کے لیے جدوجہد ہر نفس کی، مرد ہو یا عورت، خود اپنی ذمہ داری ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اس نفاق کے کھیل میں عورتوں کا بھی نمایاں حصہ تھا خاص طور پر اس پہلو سے کہ جان اور مال کی محبت نفاق کے اولین اسباب میں سے ہے اور اس محبت کو مردوں پر مستولی کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ عورتوں کا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ بیوی بچے آدمی کو بخیل اور بزدل بنا چھوڑتے ہیں۔ اوپر جن منافقین کا ذکر گزرا ہے ان کی اصل بیماری یہی بتائی گئی ہے کہ مال واولاد کی محبت دین کے تقاضوں کے مقابل میں ان پر غالب آگئی ہے۔ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ لْمَعْرُوْفِ وَيَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ۔ منافقین کی ہر بات دین کے برعکس : یعنی ان کی ہر بات دین کے برعکس ہے۔ جن چیزوں کے لیے لوگوں کو ابھارنا چاہیے۔ ان سے یہ لوگوں کو روکتے ہیں اور جن چیزوں سے روکنا چاہیے ان کے لیے لوگوں کو ورغلاتے ہیں۔ بخل کے سبب سے خود اپنی مٹھیاں بھی بھنچے رہتے ہیں اور اللہ کے جو بندے اپنی گاڑھی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ ان پر بھی فقرے اور پھبتیاں چت کر کے ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ منافقین کی بےتوفیقی کا اصلی سبب : ۭنَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ۔ یہ ان کی اس بےتوفیقی اور محرومی کا سبب بیان ہوا ہے کہ یہ الٹی چال یہ اس لیے چل رہے ہیں کہ یہ خدا کو بھلا بیٹھے ہیں اور سنت الٰہی، جیسا کہ ومن یعش عن ذکر الرحمن الایہ، والی آیت میں بیان ہوئی ہے، یہ ہے کہ جو لوگ خدا کو بھلا بیٹھتے ہیں ان پر ایک شیطان مسلط ہوجاتا ہے جو ان کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ پھر ایسے لوگوں کو خدا بھی بھلا دیتا ہے " بھلا دیتا ہے " یعنی ان کو نظر انداز اور توفیق خیر سے محروم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور رہنمائی انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اس کو یاد رکھتے ہیں۔ اصلی غدار : اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، فاسق یہاں بدعہد اور نافرمان کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان منافقوں کو ان کے اظہار اسلام کی بنا پر کوئی یہ نہ خیال کرے کہ ہیں تو بہرحال یہ اسلام کے نام لیوا۔ یہ اسلام کے نام لیوا نہیں بلکہ اصلی عہد شکن اور غدار یہی ہیں۔ انہوں نے سمع وطاعت کا عہد کر کے اس کو توڑا ہے اور اسلام کا کلمہ پڑھ کر اس کی بیخ کنی کی کوشش کی ہے۔ اس وجہ سے بدعہدی اور غدار میں جو درجہ ان کا ہے کسی کا بھی نہیں۔ غداروں کا انجام : وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا۔ یہ ان کا آخر میں انجام بیان ہوا ہے کہ یہ اسلام کے مدعی ہونے کے سبب سے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے بلکہ جس طرح کھلے ہوئے کفار جہنم میں ہمیشہ کے لیے جھونک دیے جائیں گے اسی طرح اسلام کے یہ غدار جہنم میں ہمیشہ کے لیے جھونک دیے جائیں گے۔ ۭھِىَ حَسْبُهُمْ ، یعنی یہ جہنم ہی ان کو کچومر نکال دینے کے لیے کافی ہوگی۔ مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ، یعنی اللہ کی طرف سے ان پر لعنت ہوجائے گی جس کے نتیجے میں امید کے سارے دروازے ان پر بند ہوجائیں گے۔ ایک دائمی عذاب ان پر مسلط ہوگا جس سے کبھی بھی ان کو رہائی نصیب نہیں ہوگی۔ منافقین کو براہ راست دھمکی : كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّاَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۭ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِيْ خَاضُوْا ۭ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ، یہ دھمکی ہے جو منافقین کو براہ راست مخاطب کر کے دی گئی ہے جس سے اس میں زیادہ شدت پیدا ہوگئی ہے فرمایا کہ مال و اولاد کی کثرت جو تمہارے حصہ میں آئی ہے اس سے یہ غرّہ نہ ہو کہ خدا کی نظروں میں تمہارا رویہ مبغوض نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس نے تم کو یہ کچھ دے رکھا ہے۔ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں ان کو تم سے بھی زیادہ اللہ نے دے رکھا تھا۔ لیکن کیا ہوا ؟ ان کے لیے اس دنیا سے جتنا فائدہ اٹھانا مقدر تھا جب انہوں نے اتنا فائدہ اس سے اٹھا لیا تو خدا نے ان کو ہلاک کردیا۔ انہی کی طرح تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا لیا اور انہی کی طرح کی موشگافیاں اور بوالفضولیاں بھی کرچکے تو تمہاری تباہی کی ساعت بھی آئی کھڑی ہے۔ جس طرح ان کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ڈھے گئے اور وہ نامراد ہوئے اسی طرح تمہارے اعمال بھی دنیا اور آخرت میں ڈھے جائیں گے اور تم بھی نامراد ہوگے۔ مطلب یہ کہ مال و اولاد کو نہیں، اپنے اعمال کو دیکھو۔ مال و اولاد تو خدا شریروں اور بدبختوں کو بھی دے دیتا ہے۔ اس کے فیصلے اعمال و کردار پر صادر ہوتے ہیں۔ اقوام ماضی کے انجام کا حوالہ : اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ڏوَقَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكٰتِ ۭاَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ یہ اوپر والی آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ جن قوموں کی طرف اشارہ فرمایا تھا ان کا حوالہ دے دیا۔ ان تمام اقوام کی سرگزشتیں سورة اعراف میں بیان ہوچکی ہیں۔ قوم ابراہیم سے مراد ان کی وہ قوم ہے جس کو انہوں نے توحید کی دعوت دی، پھر ان سے مایوس ہو کر اللہ کے حکم سے انہوں نے ہجرت فرمائی۔ مؤتفکٰت سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اس لفظ سے ان بستیوں کی تعبیر کی وجہ دوسرے مقام میں واضح ہوچکی ہے۔ فرمایا کہ یہ قومیں جو تباہ ہوئیں تو اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اپنے رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی پر اڑی رہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدا نے ان کو تباہ کردیا۔ مطلب یہ کہ اس سرگزشت کا اعادہ تمہارے ذریعہ سے ہونے والا ہے۔
Ayahs 9:71–72

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ یہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز کا اہتمام کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے نوازے گا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ایسے باغوں کے لیے ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور پاکیزہ مکانوں کے لیے ابد کے باغوں میں اور اللہ کی خوشنودی بھی جو سب سے بڑھ کر ہے۔ بڑی کامیابی یہ ہے

مومنین اور مومنات کا کردار : منافقین اور منافقات کا کردار واضح کرنے کے بعد اب یہ مومنین اور مومنات کا کردار واضح کیا جا رہا ہے۔ ان کی بابت فرمایا تھا کہ ان کے مرد اور عورتیں سب ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں، نفاق کی پرورش میں دونوں کی سرگرمیاں یکساں ہیں۔ ان کی بابت فرمایا کہ، وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، یہ ایمان کے مقتضیات و مطالبات کی تعمیل و تکمیل میں ایک دوسرے کے ساتھی، دست وبازو اور ہمدرد و غم گسار ہیں۔ مومن بندے جب اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو مومنہ بندیاں ان کے پاؤں کی زنجیر اور گلے کا پھندا بننے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ سچے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور اپنے ایثار، اپنی دعاؤں اور اپنی بےلوث وفاداری اور امانت داری سے ان کے جہاد میں تعاون کرتی ہیں اور اس طرح خود بھی اجر وثواب میں شریک بنتی ہیں۔ منافقین اور منافقات کا حال یہ ہے کہ منکر کا حکم دیتے اور معروف سے روکتے ہیں، برعکس ان کے مومنین اور مومنات، یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، معروف کا حکم دیتے اور منکر سے روکتے ہیں۔ منافقین اور منافقات انفاق سے اپنے ہاتھ روکے ہوئے ہیں اور اللہ کو انہوں نے بھلا رکھا ہے لیکن مومنین اور مومنات کا حال یہ ہے کہ یقیمون الصلوۃ وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں جو ذکر الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، ویوتون الزکوۃ، زکوۃ ادا کرتے ہیں جو آدمی کے ہاتھ کو راہ خدا میں انفاق کے لیے کھولتی اور اس کے بخل کو دور کرتی ہے۔ منافقین اور منافقات کا حال یہ ہے کہ وہ بدعہد اور غدار ہیں، ان المنافقون ہم الفسقون، برعکس اس کے مومنین اور مومنات کا حال یہ ہے کہ یطیعون اللہ ورسولہ، اللہ اور رسول سے سمع وطاعت کو جو عہد انہوں نے باندھا ہے ہر مرحلہ میں پوری راستبازی اور کامل وفاداری سے اس کو نباہ رہے ہیں۔ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ، ظاہر ہے کہ جب اللہ کے ساتھ دونوں کا معاملہ الگ الگ ہے تو اللہ کا معاملہ بھی دونوں کے ساتھ مختلف ہے۔ منافقین اور منافقات کے لیے اوپر لعنت مذکور ہوئی ہے۔ اس کے مقابل میں مومنین اور مومنات کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔ خدا عزیز اور حکیم ہے۔ اس کی قدرت اور حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا ہر معاملہ عدل اور رحمت پر مبنی ہو۔ حرف " س " اس رحمت کے ظہور کی قربت کی بشارت ہے کہ اب اس میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ ظاہر ہی ہوا چاہتی ہے۔ مومنین اور مومنات کے لیے اللہ کا وعدہ : وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۭ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ آیات اوپر کی آیت 68 کے مقابل میں ہے۔ اس میں وعید منافقین اور منافقات کے لیے مذکور ہوئی اس میں اللہ کا وعدہ مومنین اور مومنات کے لیے بیان ہوا ہے۔ لفظ رضوان، اور لفظ عدن پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں یہ اس لعنت کے مقابل میں ہے جو اوپر منافقین کے لیے مذکور ہے۔ جس طرح لعنت تمام نقمتوں اور ابدی محرومیوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی طرح رضوان، تمام رحمتوں اور لازوال و بےپایاں نعمتوں اور مسرتوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ بہت بڑی چیز اور بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے اوپر اولئک ھم الخسرون کے ٹکڑے کو پیش نظر رکھیے۔ تقابل نظم کے کھولنے اور حقائق کی توضیح میں بہت معین ہوتا ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سخت بن جاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے

آیات 73 تا 80 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ یہ منافقین تمہاری کریم النفسی سے فائدہ اٹھا کر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ اب ان کے بارے میں اپنا رویہ سخت کرو تاکہ درست ہونا ہو تو یہ درست ہوں ورنہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ یہ اپنی مجلسوں میں کفریہ کلمات بکتے اور جھوٹی قسموں سے تم کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ارادے نہایت خطرناک تھے لیکن اللہ نے وہ پورے نہیں ہونے دئیے۔ اب ان کو مزید مہلت دینے کی گنجائش نہیں۔ اللہ اور رسول نے ان کو اپنے فضل سے جو نوازا تو یہ چیز ان کے لیے شکر گزاری اور ممنونیت کی بجائے شرارت اور اسلام دشمنی کا باعث بن گئی۔ یہ اظہار تو یہ کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مال دیا تو وہ پوری فیاضی سے خدا کی راہ میں خرچ کریں گے لیکن جب اللہ نے انہیں مال دیا تو انہوں نے اللہ اور رسول سے منہ پھیرا اور ان کے اس رویہ نے ان کے دلوں میں نفاق کی جڑیں اتنی مضبوط جما دی ہیں کہ اب وہ اکھڑ نہیں سکتیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہی نہیں کہ یہ خود بخیل بن بیٹھے ہیں بلکہ اللہ کے جو مخلص بندے اپنی گاڑھی کمائی میں سے، خوش دلی اور نیاز مندی سے خرچ کرتے ہیں یہ ان کا بھی مذاق اڑاتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں تاکہ وہ بھی خرچ کرنے سے رک جائیں۔ ساتھ ہی نہایت شدت کے ساتھ پیغبر ﷺ کو ان کے لیے استغفار کرنے سے روک دیا ہے کہ اب یہ تمہاری طرف سے اس رافت و رحمت کے سزوار نہیں رہے بلکہ ہر پہلو سے شدت ہی کے سزوار ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ منافقین کے شدید احتساب کا حکم۔ اصلاً تو یہاں مقصود صرف آنحضرت ﷺ کو اس امر کی تاکید ہے کہ آپا اپنا رویہ منافقین کے باب میں یکسر تبدیل کرلیں اور شدت کے ساتھ ان کا اھتساب کریں لیکن ساتھ ہی کفار کا بھی حوالہ دے دیا ہے جس سے اس امر کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اب یہ منافقین مسلمانوں کے زمرہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ یہ بھی کفار ہی کے زمرہ میں شامل ہیں۔ جہاد کا لفظ قتال اور شدت احتساب و دارگیر سب پر حاوی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ، کفار کے ساتھ اس نوعیت کا جہاد کرو جس کا تمہیں اعلان براءت کے تھت تفصیل سے حکم دیا جا چکا ہے اور ان منافقین کے احتساب اور داروگیر کا جہاد کرو۔ وَاغْلُظْ عَلَيْهِم، اسی احتساب اور داروگیر کی وضاحت ہے۔ یعنی اب تک تم نے ان کے ساتھ نرمی ورافت کا جو رویہ رکھا اس کی قدر انہوں نے نہیں پہچانی۔ یہ تمہاری کریم النفسی ہے فائدہ اٹھا کر اپنی شرارتوں میں اور دلیر ہوتے چلے گئے۔ جھوٹے بہانوں اور جھوٹی قسموں کو انہوں نے اپنے لیے سپر بنا رکھا ہے اور تم اپنی طبیعت کی نرمی کی سبب سے ان کی چالوں سے آگاہ ہونے کے باوجود طرح دے جاتے ہو۔ اب اس کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ اب ان کو اچھی طرح کسو اور یہ معاملے میں سخت کسوٹی پر پرکھوتا کہ ان پر واضح ہوجائے کہ یہ جھوٹ اور فریب کی نقاب ان کے چہروں پر باقی رہنے والی نہیں ہے۔ اب یا تو انہیں مسلمانوں کی طرح مسلمان بن کر رہنا ہوگا۔ یا اس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا جو کفار کے لیے مقدر ہوچکا ہے۔ آیات 43 عفا اللہ عنک لم اذنت لہم، الایۃ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے اس لیے کہ یہ ہدایت اسی کی توضیح مزید ہے۔ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ، یعنی اس دنیا میں یہ تمہاری اور اہل ایمان کی سختی اور سخت گیری کے سزوار ہیں اور اس کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس لیے کہ اس پر ایسے سخت گیر ملائکہ مامور ہیں جو ذرا بھی نرمی نہیں برتیں گے بلکہ ان کے باب میں خدا کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے۔ علیہا ملائکۃ غلاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرہم (التحریم : 6)۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور اپنے اسلام کے اظہار کے بعد کفر کا ارتکاب کیا اور انہوں نے وہ چاہا جو وہ نہ پا سکے۔ ان کا یہ عناد صلہ ہے صرف اس بات کا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل سے غنی کیا۔ اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ اعراض کریں گے تو خدا ان کو دردناک عاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں نہ کوئی ان کا یار ہوگا نہ مددگار

منافقین کا جھوٹ اور کفرِ غلیظ : يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا۔ اوپر آیت 65 میں گزر چکا ہے کہ منافقین اپنی مجالس میں اللہ کا، اس کی آیات کا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے لیکن جب ان سے پوچھ گچھ ہوتی تو اصل بات گول کر جاتے اور قسم کھا کر اطمینان دلاتے کہ ہم نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کہی، ہم تو محض ہنسی دل لگی کر ہر ہے تھے۔ فرمایا کہ ان کی یہ قسمیں جھوٹی ہیں۔ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ ، یہ کفر کا کلمہ بکتے ہیں اور پوچھ گچھ ہوتی ہے تو مکر جاتے ہیں۔ اوپر والی آیت میں ان کو زمرہ کفار میں جو شامل کیا ہے یہ گویا اس کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ ، یہ ان کے جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اظہار تو اسلام کا کیا لیکن اپنے اس استہزا سے ارتکاب کفر کا کیا۔ یہ امر واضح رہے کہ دعوی اسلام کا کرنا اور عمل سے ثبات کفر کا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک صریح کفر سے زیادہ مبغوض ہے۔ اس لیے کہ اس میں کفر کے ساتھ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کے ساتھ دھوکا بازی بھی شامل ہوجاتی ہے جو کھلے ہوئے کفر میں نہیں ہوتی اسی حقیقت کی طرف سورة صف میں یوں اشارہ فرمایا ہے، یا ایہا الذین لم تقولون ما لا تفعلون، کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ (اے ایمان والو، تم اس چیز کا دعوی کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں، اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ مبغوض ہے کہ تم جو کرتے نہیں اس کا دعوی کرو)۔ اسی بنا پر منافقین، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ منافقین کے خبیثانہ منصوبے اور ان کی نامرادی : وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا، یہ دو لفظوں میں نہایت بلاغت کے ساتھ ان کے تمام خبیثانہ منصوبوں اور ساتھ ہی ان کی محرومیوں اور ناکامیوں کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا بس چلتا تو انہوں تو وہ وہ منصوبے بنائے تھے کہ اسلام کی جڑ ہی اکھاڑ کے پھینک دیتے لیکن اللہ نے ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ آیات 48 کے تحت ہم منافقین کی بعض فتنہ پردازیوں اور شرارتوں کا ذکر کر کے آئے ہیں اور آگے ان کی مزید شرارتوں کا ذکر آئے گا لیکن ہر موقع پر انہوں نے منہ کی کھائی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے برسر موقع ان کا راز فاش کردیا۔ منافقین کی کمینگی اور ناسپاسی : ۚ وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِه۔ یہ ان کی تنگ ظرفی اور کمینگی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ و رسول نے تو ان پر احسان فرمایا لیکن انہوں نے اس احسان کا یہ حق ادا کیا کہ اللہ اور رسول کا مذاق اڑاتے اور رات دن اسلام کی بیخ کنی کی سازش کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مدینہ کے عام لوگ اسلام سے پہلے بیشتر نہایت غریب تھے۔ اسلام کے بعد جب فتوحات کے دروازے کھلے تو یوں تو بحیثیت مجموعی سب ہی کے حالات بدل گئے لیکن خاص طور پر منافقین کے تو دن پھرگئے۔ اول تو نبی ﷺ ان کی دلداری کے خیال سے ان کو دبتے بھی زیادہ تھے پھر اپنی طماعی کے سبب سے لیتے بھی سو بہانوں سے تھے۔ مزید براں ان کے پاس صرف لینے ہی والے ہاتھ تھے دینے والے ہاتھ سرے سے تھے ہی نہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی موقع آیا تو، اوپر بھی ذکر ہوا اور آگے بھی تفصیل آرہی ہے، صاف کتراجاتے۔ اس طرح یہ لوگ مال دار بن گئے، اور اس مال داری کا صلہ اسلام کو، جس کے نام پر وہ مالدار بنے، انہوں نے یہ دیا کہ ان کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرتے رہے۔ منافقین کو دھمکی : ٖ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۔ یہ ان کو دھمکی ہے کہ اگر یہ توبہ کرلیں تو نہی کے حق میں بہتر ہے ورنہ یاد رکھیں کہ خدا انہیں دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں بھی۔ یہ دنیا میں اس عذاب میں حصہ دار ہوں گے جو کفار و مشرکین کے لیے مقدر ہوچکا ہے اور آخرت میں بھی انہی کے ساتھ ہوں گے اور یہ بھی اچھی طرح یاد رکھیں کہ اس سرزمین پر ان کا کوئی یار ہوگا نہ مددگار۔ جن کے ساتھ ان کا ساز باز ہے ان سب پر عنقریب نفسی نفسی کا وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ خود اپنی مدد نہیں کرسکیں گے تو ان کی مدد کیا کریں گے۔
Ayahs 9:75–77

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور خوب نیکیاں کرنے والوں میں سے ہوں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

تو اللہ نے جب ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیر لیا

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو اس کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے نفاق جما دیا جس دن وہ اس سے ملیں گے بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کی اور بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے

5 7 تا 77: وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۔ اسلام کی بدولت مال دار بننے والوں کی کمزوری : یہ انہی اسلام کی بدولت مال دار بنے ہوئے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب یہ غریب تھے تو اس وقت تو ان کا حال یہ تھا کہ ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے پھرتے تھے کہ اگر ہمارے حالات بھی اللہ نے سدھار دیے تو ہم بھی خدا کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑی خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی اور دینے کا وقت آیاتو اس طرح منہ پھیر کر چل دیے ہیں گویا اللہ اور رسول سے کبھی ان کا کوئی قول وقرار تھا ہی نہیں۔ " چل دینا " کبھی اس نوعیت کا ہوتا ہے جس کے بعد مڑ کے آنے کی توقع ہوتی ہے لیکن تولی کے بعد وھم معرضون کی قید نے یہ واضح کردیا کہ انفاق کا نام سن کر وہ اس طرح چل دیتے ہیں کہ پھر مڑ کے دیکھتے بھی نہیں۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ یہ انسان کی عجیب کمزوری ہے کہ جب تک ایک چیز اس کو حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک تو یہ تمنا کرتا ہے کہ اگر مجھے یہ حاصل ہوجائے تو دوسروں کی طرح اس کو کسی غلط مصرف میں ضائع نہیں کروں گا بلکہ اس کو فلاں اور فلاں اعلی مقاصد میں صرف کر کے نیکی اور عدل کی ایک نظیر قائم کردوں گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے دیتا ہے تو اسے یہ بات یاد بھی نہیں رہتی کہ اسی چیز کے لیے اس نے اپنے رب سے دل میں کیا کیا قول اقرار کیے ہیں اور کس کس طرح اپنی تمناؤں کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کو اپنی قابلیت اور اپنے استحقاق کا ثمرہ سمجھ کر وہ اس کا مالک بن بیٹھتا ہے اور خدا سے زیادہ اس کو شیطان کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بہت کم خوش قسمت ایسے نکلتے ہیں جو نعمت پا کر منعم کا حق پہچانیں اور اس کو صحیح صحیح استعمال کریں۔ فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ۔ اعقاب کے معنی ایک شے کے بعد دوسری چیز کو اس کے ثمرہ اور نتیجہ کے طور پر ظہور میں لانا ہے۔ یعنی جن لوگوں نے اللہ سے اپنے کیے ہوئے وعدے کی اس طرح خلاف ورزی کی اور برابر جھوٹ بولتے رہے۔ خدا نے ان کے اس عمل کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر نفاق کی ایسی جڑ جما دی ہے جو خدا کی ملاقات کے دن تک اسی طرح جمی رہے گی اور اسی وقت اکھڑے گی جب جزائے اعمال کا مرحلہ بالکل سامنے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے نفاق کی رضاعت و پرورش پر ایک مدت صرف کردی ہے۔ یہ چیز اتفاقاً ان کے اندر نہیں گھس آئی ہے بلکہ ان کے ایک دانستہ نقیض عہد اور طویل جھوٹ اور فریب کا مولود فساد ہے جس سے ان کی جان اب مر کے ہی چھوٹے گی۔ یہ توقع نہ رکھو کہ ان کو توبہ اور اصلاح کی توفیق ہوگی۔ اب تو ان کے دلوں کا یہ کثیت پردہ اسی وقت ہٹے گا جب یہ اصل حقیقت کو سورج کی طرح سامنے دیکھ لیں گے۔ اسی ملتی جلتی بات آگے مسجد ضرار کے بانیوں سے متعلق فرمائی ہے۔ لایزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم الا ان تقطع قلوبہ واللہ علیم حکیم (110) (یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ان کے دلوں میں ہمیشہ شک کی تعمیر بن کر جمی رہے گی۔ الا آنکہ ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں اور اللہ علیم و حکیم ہے)۔
Ayahs 9:78–79

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ ان کے راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور اللہ تمام غیب کو جاننے والا ہے

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

ان لوگوں کی سرگوشیوں کو جو خوش دلی سے انفاق کرنے والے اہل ایمان پر ان کے صدقات کے باب میں نکتہ چینی کرتے ہیں اور جو غریب صرف اپنی محنت مزدوری ہی سے انفاق کرتے ہیں تو ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کا مذاق اڑایا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

78، 79:۔ اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔ منافقین کی بلادت : الم یعلموا ان اللہ، یہ اسلوب کلا استعجاب اور حسرت کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی طویل تعلیم وتربیت، ایسی مسلس سعی تطہیر و تز کیا اور اتنے بیشمار حقائق کے انکشاف کے بعد بھی کیا یہ لوگ اتنے ٹھس اور غبی ہیں کہ اتنی موٹی سے بات بھی یہ نہ سمجھ سکے کہ خدا ان کے سارے راز اور ساری سرگوشیوں کو جانتا ہے اور اللہ تمام غیب کا عالم ہے۔ یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ خدا ہر چیز کو فعلاً بھی جانتا ہے صفۃً بھی، اسی وجہ سے یہاں اور اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ قرآن کے دوسرے مقامات میں، خدا کے احاطہ علم کو فعل کے صیغہ سے بھی واضح کیا گیا ہے اور صفت کے صیغہ سے بھی۔ باعتبار نظم یہ آیات آگے والی آیت کی تمہید ہے جس میں ان منافقین کی ان نکتہ چینیوں اور سرگوشیوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو وہ مومنین مخلصین کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنے حلقوں میں کرتے رہتے تھے۔ اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ ۭ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ الذین یہاں میرے نزدیک نجواھم، میں ھم سے بدل ہے۔ اگرچہ مجھے اس پر پورا جزم نہیں ہے لیکن میں نے ترجمہ میں اسی کا لحاظ رکھا ہے۔ کشاف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ متطوع اور مطوع دونوں ایک ہی لفظ ہیں۔ مطوع اس کو کہتے ہیں جو صرف فرائض و واجبات ہی ادا کرلینے پر قناعت نہ کرے بلکہ اپنی خوشی اور حوصلہ مندی سے نفلی نیکیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ لمز کے معنی عیب لگانا، ہجو کرنا، مذمت کرنا۔ اوپر کی آیات میں یہ بیان ہوا تھا کہ منافقین اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ صرف یہی نہیں کرتے کہ خود خرچ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے دیکھ نہیں سکتے۔ جس کو خرچ کرتے دیکھتے ہیں اس کو اپنے ہمز و لمز کا نشانہ بنا لیتے ہیں جو فیاض اور مخلص مسلمان فیاضی اور خوش دلی سے خدا کی راہ میں دیتے ہیں ان کو تو کہتے ہیں کہ یہ ریاکار اور شہرت پسند ہے۔ اپنی دینداری اور سخاوت کی دھونس جمانے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ جو غریب بےچارے کچھ رکھتے ہی نہیں، اپنی محنت مزدوری کی گاڑھی کمائی ہی میں سے اللہ کی راہ میں کرچ کرتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کا یہ مذاق اڑاتے اور ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں کہ لو آج یہ بھی اٹھے ہیں کہ حاتم کا نام دنیا سے مٹا کر رکھ دیں۔ بخیلوں اور کنجوسوں کی نفسیات کا یہ پہلو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ دوسرے بھی بخیل بنے رہیں۔ نکٹا دوسروں کو بھی نکٹا ہی دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اسے کوئی نکٹا کہنے والا باقی نہ رہے۔ یہی نفسیات ان منافقین کی بھی تھی۔ پھر اس سے ان کے اسلام دشمنی کے جذبے کو تسکین ہوتی تھی۔ وہ خود اسلام کے لیے نہ کوڑی خرچ کرنا چاہتے تھے نہ اس پر راضی تھے کہ کوئی دوسرا خرچ کرے۔ اپنی اس خواہش کے برخلاف وہ دوسروں کو جب دیکھتے کہ وہ اسلام کے لیے سب کچھ اس دریادلی سے لٹا رہے ہیں گویا اپنے ہی گھر بھر رہے ہیں، یہاں تک کہ مزدور اپنی مزدوری ہی میں سے، بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر، اس خوشی سے دیتا ہے گویا اپنی سیر آدھ سیر کھجور یا جو کے عوض دولت کونین خرید رہا ہے تو ان منافقین کے سینے پر سانپ لوٹ جاتا۔ وہ غصہ سے کھولتے اور حسد سے جلتے۔ پھر اپنے دل کا بخار طعن وتشنیع، طنز اور پھبتی سے نکالتے۔ اللہ کی ڈھیل : سخر اللہ منہم، اسی طرح کا فرقہ ہے جس طرح بقرہ میں فرمایا ہے۔ اللہ یسہزئ بہم، یعنی یہ تو اہل ایمان کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے کہ ان کی رسی دراز کیے جا رہا ہے کہ یہ خوب کلیلیں کرلیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا ان کو سان گمان بھی نہ ہو۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

ان کے لیے مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بدعہدوں کو راہ یاب نہیں کرتا

منافقین کے باب میں سخت گیری کی سخت تاکید اور ان کے لیے استغفار کی ممانعت : اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ یہ اسی سختی اور سخت گیری کی تاکید پر مبنی ہے جس کی ہدایت واغلظ علیہم کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ نبی ﷺ سراپا رحمت و شفقت تھے اس وجہ سے ان منافقین کی تمام شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے باوجود، ان کی اصلاح اور بخالت، آپ کو اس قدر عزیز تھی کہ جس طرح آپ اپنی تمام امت کے لیے برابر خدا سے مغفرت چاہتے رہتے تھے اسی طرح ان کے لیے بھی برابر نجات کی دعا کرتے رہتے لیکن ان کی شقاوت اس درجہ بڑھ گئی کہ یہ اس بات کو بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ کوئی دوسرا اسلام کی کوئی خیر خواہی کرے بلکہ ہر خیر خواہ کے حوصلہ کو پست کرنا انہوں نے اپنا پیشہ ٹھہرا لیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان اشقیا کے لیے استغفار سے روک دیا اور اس شدت و قطعیت کے ساتھ کہ اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے استغفار کرو گے جب بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرنے کا۔ ظاہر ہے کہ یہاں ستر کا عدد گنتی کو نہیں بلکہ کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔ کثرت اور بےپایاں کثرت کے اظہار کے لیے یہ اسلوب عربی میں بھی معروف ہے اور ہماری زبان اردو میں بھی۔ منافقین کے کفر کا اعلان : ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔ یہ سبب بیا ہوا اس شدت و قطعیت کے ساتھ مغفرت سے محروم ہونے کا۔ یعنی مغفرت تو ان کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والے ہوں۔ یہ اللہ اور رسول کے ماننے والے کب ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ یہ واضح رہے کہ یہ ان لوگوں کے عدم ایمان کا اعلان ہو رہا ہے جو نہ صرف اللہ اور رسول پر ایمان کا دعوی کرتے تھے بلکہ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھ لیتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی انہیں کرتوتوں کی بنا پر جو اوپر مذکور ہوئیں ان کے ایمان کو تسلیم نہیں کیا۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ ہدایت یہاں غایت و مقصد کی ہدایت کے مفہوم میں ہے۔ اس کی وضاحت دوسرے مقام میں ہم تفصیل سے کرچکے ہیں، " فاسق " یہاں بد عہد اور غدار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر آیت 74 میں کفروا بعد اسلامہم کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے وہ اللہ کے رسول سے پیچھے بیٹھ رہنے پر بہت مگن ہوئے اور انہوں نے برا جانا کہ وہ اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا کہ اس گرمی میں نہ نکلو، کہہ و دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے کاش وہ سمجھتے ہوتے

آیات 81 تا 89 کا مضمون : غزوہ تبوک کے موقع پر جو منافقین بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھ رہے اور اپنی فریب کاری پر بہت خوش تھے ان کے باب میں یہ آیات عین میدان جنگ میں نازل ہوئی۔ سیاق وسباق بالکل واضح ہے۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ۔۔ مخلفون سے مراد : ’ مخلف ‘ کے معنی ہیں وہ جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ مخلفون سے یہاں ان لوگوں کو مراد لیا گیا ہے جو جھوٹے عذرات پیش کر کے تبوک کی مہم میں شریک ہونے سے گریز کر گئے۔ یہاں قرآن نے ان کے لیے مخلفون کا لفظ استعمال کر کے ان کی اصل حیثیت واضح کردی ہے کہ بظاہر تو وہ پنے زعم میں رسول سے رخصت حاصل کیے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ پیچھے چھوڑے اور نظر انداز کیے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے باطن کو بھانپ کر اللہ کے رسول نے، ان کے عذرات لا یعنی ہونے کے باوجود، صرف اس وجہ سے ان کی رخصت منظور کرلی کہ ایسے بزدل اور مفسد لوگ اپنے گھروں ہی میں بیٹھیں تو خیر ہے۔ جنگ کے لیے نکلیں گے تو معلوم نہیں کیا کیا فساد مچائیں۔ ’ خلاف ‘ کا مفہوم : لفظ خلاف قرآن میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک بےترتیب کے معنی میں مثلا او تقطع ایدیہم و ارجلہم من خلاف (مائدہ) (یا ان کے ہاتھ اور پاؤں بےترتیب کاٹ دیے جائیں۔)۔ دوسرے بعد اور پیچھے کے معنی میں مثلاً ”اذا لا یبثون خلافک الا قلیلا : تو تیرے پیچھے یہ بھی کچھ زیادہ نہ ٹک سکیں گے“ (اسراء :76)۔ یہاں یہ اسی دوسرے معنی میں ہے۔ یعنی یہ لوگ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ اللہ کا رسول تو اپنے جاں نثاروں کے ساتھ میدانِ جنگ کے لیے روانہ ہوا اور یہ بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھے رہنے میں کامیاب ہوئے حالانکہ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں بلکہ سوچیں تو ان کی شامت کی دلیل ہے۔ جو بھیڑ گلے یا چرواہے پیچھے رہ جاتی ہے شیطان بھیڑیاں بن کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ ”وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْ“ یہ فرح کا ضد ہے۔ یعنی جو بات خوش ہونے کی تھی وہ تو ان کو ناگوار ہوئی اور جو چیز ماتم کرنے کی تھی اس پر پھولے نہیں سماتے۔ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ۔ یعنی صرف اپنے ہی بیٹھ رہنے پر قانع نہیں ہوئے بلکہ موسم کی شدت کے ڈراوے سنا سنا کر دوسروں کو بھی ورغلانے کی کوشش کی کہ گرمی کا شباب ہے، اس آگ میں اس سفر کے لیے نہ نکلو۔ یہ واضح رہے کہ تبوک کی مہم نہایت گرم موسم میں پیش آئی تھی۔ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ ، یعنی انہیں بتا دو کہ ایسے تن آسانوں عافیت کو شوں کے لیے آگے جہنم کی آگ ہے جس کی گرمی سے اس گرمی کو کوئی نسبت نہیں ہے۔ یہ گرمی سے بھاگے اور جہنم کی آگ میں کودے ہیں۔ کاش یہ اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

پس وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ اپنے کیے کی پاداش میں

فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ عمل اور جزا دونوں سامنے : یعنی جب یہ موسم کی گرمی سے بھاگ کر جہنم کی آگ میں کودے ہیں تو اپنی اس کرتوت کی پاداش میں حق یہ ہے کہ یہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ لیکن جیسا کہ اوپر والی آیت میں گزرا، یہ فہم و بصیرت سے عاری ہوچکے ہیں اس وجہ سے اپنی اس شامت اور بدبختی پر خوش ہیں گویا انہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے عام طور پر مفسرین نے یہاں انشاء کو خبر کے معنی میں لیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ یہاں عمل اور جزا دونوں کو نگاہوں کے سامنے مستضر کردیا گیا ہے اس لیے کہ جس کے اندر بصیرت ہو وہ اس دنیا میں اپنے عمل کے آئینے میں اپنی جزا کو بھی دیکھ لیتا ہے اور اس پر اس کا اثر بھی وہی پڑتا جو پڑنا چہایے البتہ اندھے بہرے لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دیجیو کہ تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور یرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہیں لڑ سکتے تم پہلے بیٹھ رہنے پر راضی ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھو

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا ۭاِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْن۔ ’ رجع ‘ لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ ان آیات کا موقع نزول اور ان کے اشارات : اس آیت کے اسلوب بیان سے ایک تو یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ آیتیں تبوک کے سفر کے دوران ہی نازل ہوئی ہیں اس لیے کہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں خدا لوٹائے جو واضح قرینہ اسی بات کا ہے کہ اس سفر سے لوٹائے۔ دوسرا اشارہ یہ نکلتا ہے کہ منافقین کی ان حرکتوں کے سبب سے جو اوپر بیان ہوئی ہیں آنحضرت ﷺ ان سے اس درجہ بیزار اور متنفر ہوگئے تھے کہ ان کے منہ دیکھنے کے روادار نہیں رہ گئے تھے۔ حضور کی یہ بیزاری عین اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم ہی کے تحت تھی۔ اس وجہ سے ارشاد ہوا کہ ہرچند یہ لوگ اس قابل ہی نہیں رہ گئے ہیں کہ تم ان کی شکل دیکھو لیکن اگر اللہ تقدیر سے ان کی کسی ٹولی سے، اس سفر سے واپسی پر، ماہی دے اور یہ اپنی کھسیاہٹ مٹانے اور اپی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے تم سے کسی آئندہ جنگ میں شرکت کی درخواست کریں تو تم ان کی درخواست سختی سے رد کردینا۔ یہ گویا اس حکم کا ایک پہلو واضح فرمایا گیا ہے جو اوپر آیت 74 میں ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کی بابت دیا گیا ہے۔ تیسرا اشارہ اس میں منافقین کے اس گمان کی طرف ہے جو وہ اس موقع پر اپنے دلوں میں رکھتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ اب کے رومیوں کی منظم اور کثیر التعداد فوج سے مقابلہ ہے اس وجہ سے مسلمانوں کو گھر پلٹنا نصیب نہ ہوگا۔ ان کے اسی گمان کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اگر ان کے گمان اور ان کی خواہش کے علی الرغم خدا تم کو ان کی پلٹا ہی دے۔ اسی قسم کا گمان منافقین کو حدیبیہ کے موقع پر بھی تھا جس کی طرف سورة فتح کی آیت 13 میں اشارہ ہے۔ بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیہم ابدا الایہ (بلکہ تم نے گمان کیا کہ رسول اور مسلمانوں کو اپنے اہل و عیال میں پلٹنا نصیب ہوگا)۔ قُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ۔ جماعتی خدمات سے منافقین کی محرومی : یعنی ان کو صاف صاف بتا دینا کہ نہ اب تم کسی سفر میں میرے ساتھی بن سکے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے جنگ کرسکتے۔ تم جس طرح پہلے گھروں میں بیٹھ رہے اسی طرح جاؤ پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھو۔ یہ گویا سب سے بڑی جماعتی خدمت سے ان کو حکماً ، روک دینے کی شکل اختیار کرنے ہدایت ہوئی تاکہ یہ رسوا ہوں اور اب تک عذرات اور بہانوں کے پردے میں وہ مسلمانوں کے اندر جو گھسے ہوئے تھے یہ قصہ ختم ہو۔ اب تک تو وہ جہاد سے بچنے کے لیے رخصتیں مانگتے تھے، اب پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ اگر یہ جہاد میں شرکت کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت نہ دیجیو۔ اس لیے کہ انہیں تنبیہ، جیسا کہ سورة فتح آیت 15 سے واضح ہے، بہت پہلے کردی گئی تھی۔ یہ اسلوب بیان توفیق کی نفی کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور ممانعت کے لیے بھی۔ میرے نزدیک سورة فتح والی آیت تو نفی توفیق کے مفہوم میں ہے آیت زیر بحث ممانعت کے سیاق میں ہے۔ والعلم عند اللہ