Ayahs 9:107–108107۔ 108: وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ۭوَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰى وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّھُمْ لَكٰذِبُوْنَ۔
یہ منافقین کے سب سے زیادہ شریر گروہ کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کی جس شرارت کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ مدینہ میں دو مسجدیں پہلے سے موجود تھیں، ایک مضافات شہر میں مسجد قبا، دوسری شہر کے اندر، مسجد نبوی۔ لیکن انہوں نے اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ایک الگ مسجد بنائی۔ مقصود تو ان کا یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں وہ کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ایک اڈا مہیا کریں لیکن اس کو نام مسجد کا دیا تاکہ اس طرح پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں پر اپنی دینداری کی دھونس بھی جمائیں اور اپنے مقاصد بھی پورے کرسکیں۔ اس کو مسلمانوں کی نظروں میں مقبول اور مقدس بنانے کے لیے انہوں نے یہ کوشش بھی کی کہ خود پیغمبر ﷺ اس میں ایک مرتبہ نماز پڑھ دیں تاکہ اس کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں وہی احترام حاصل ہوجائے جو مسجد قبا کو حاصل ہے لیکن نبی ﷺ نے ان کے اغراض مشئومہ بھانپ کر پہلے تو ان کو ٹال دیا پھر جب اس کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوگئیں تو اس میں نماز پڑھنا تو الگ رہا آپ نے تبوک سے واپسی پر اس کو گروا بھی دیا۔
مسجد ضرار کی تعمیر کے مقاصد فاسدہ : اس نام نہاد مسجد کی تعمیر جن اغراض فاسدہ کے لیے ہوئی تھی قرآن نے ان سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس کی پہلی غرض یہ بتائی ہے کہ ’ ضرار ‘ کے لیے بنائی گئی ہے۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ مسجد، اقامت نماز اور اقامتِ دین کا مرکز ہوتی ہے۔ لیکن یہ دام ہمرنگ مسجد اس لیے بچھایا گیا تھا کہ مسلمان اس میں پھنسیں اور پھر ان کے اندر آہستہ آہستہ نفاق کا زہر اتارا جائے۔ دوسرا مقصد اس کا ’ کفر ‘ بتایا ہے۔ یعنی جو کفر ان کے اندر رچا بسا ہوا تھا اس کی پرورش اور اس کی تائید وتقویت کے لیے ایک پر وش گاہ بنائی گئی تھی۔ مسجد ایمان کی تربیت گاہ ہوتی ہے لیکن یہ نام نہاد مسجد اس کے بالکل برعکس کفر کی خدمت کے لیے تعمیر کی گئی۔ تیسرا مقصد اس کا تفریقا بین المومنین بتایا ہے یعنی یہ اس غرض سے بنائی گئی کہ مسلمانوں کے شیرازے کو پراگندہ کیا جائے۔ اسلام میں مسجد ہی ہے جو مسلمانوں کو ایک سلک میں پروتی اور ان کی اجتماعی زندگی میں وحدت و تالیف پیدا کرتی ہے۔ ان منافقین نے یہ چاہا کہ ایک مسجد بنا کر پہلے مسلمانوں کو اس کی طرف کھینچیں اور پھر اپنی وسوسہ اندازیوں سے ان کو ملت سے کاٹ دیں۔ چوتھا مقصد اس کا ارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل بتایا گیا ہے۔ یعنی یہ ان لوگوں کے لیے ایک کمین گاہ کا کام دے جو اللہ اور رسول سے برسر پیکار رہ چکے ہیں۔ ان منافقین کے متعلق یہ بات پیچھے واضح ہوچکی ہے کہ ان کی تمام ہمدردیاں اسلام سے برسر پیکار طاقتوں کے ساتھ تھیں۔ یہ رات دن انہی کی کامیابی کے متمنی اور مسلمانوں کے اندر انہی کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ اس مرحلے میں آ کر انہوں نے یہ سوچا کہ مسجد کے نام سے اپنا ایک اڈا بھی بنا لیں تاکہ ان کی معاندانہ سرگرمیوں پر پردہ بھی پڑا رہے اور اس پردے میں وہ مسلمانوں کے عین مستقر میں اسلام کے دشمنوں کے لیے ایک کمین گاہ بھی فراہم کردیں۔
وَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰى ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّھُمْ لَكٰذِبُوْن۔ یعنی اس نام نہاد مسجد کی تعمری سے مقاصد تو وہ پیش نظر ہیں جو مذکور ہوئے لیکن یہ منافقین تمہیں قسمیں کھا کھا کے اطمینان دلانے کی کوشش کریں گے کہ یہ کام انہوں نے محض اسلام اور مسلمانوں کی بہبود پیش نظر رکھ کیا ہے کہ عبادت کے لیے ایک مسجد کا اضافہ ہوجائے، اللہ کے ذکر اور اس کی بندگی کا ایک گھر تعمیر ہوجائے، جو مسلمان اندھیری راتوں یا سردی اور بارش میں، مسجد قبا کی دوری کے سبب سے، جماعت کی حاضری سے محروم رہ جاتے ہیں، ثواب جماعت سے محروم نہ رہیں۔ فرمایا کہ یہ قسمیں کھا کھا کے تمہیں یقین دلائیں گے لیکن اللہ بھی قسم کھاتا ہے کہ یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ واللہ یشہد کے الفاظ قسم کے مفہوم میں آتے ہیں۔
حذف خبر کی ایک مثال : اس آیت سے متعلق ایک شبہ بھی ہے کہ اس میں خبر مذکور نہیں ہے۔ مفسرین نے عام طور پر تاویل یوں کی ہے کہ اوپر جن منافقین کا ذکر ہوا ہے انہیں منافقین کے زمرے میں یہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے مسجد ضرار بنائی لیکن اس بات سے صرف حرف عطف کی توجیہہ سامنے آتی ہے خبر کا مسئلہ اس سے حل نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک یہاں خبر محذوف ہے۔ عربی زبان میں بعض اوقات شدت غضب کے مواقع میں خبر محذوف ہوجاتی ہے گویا متکلم کی شدت لہجہ خود خبر کی قائم مقام بن جاتی ہے۔ اس کی نہایت عمدہ مثالیں انشاء اللہ آخری گروپ کی سورتوں کی تفسیر میں آئیں گی۔
لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ۭ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ۔ منافقین نے یہ فتنہ کھڑا کرنے کو تو کھڑا کرلیا لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس امر پر تھا کہ اس کے افتتاح کے لیے وہ نبی ﷺ کو لانے میں کامیاب ہوجاتے لیکن اس کوشش میں، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ پہلے تو حضور نے ان کی بات ٹال دی، بعد میں سفر تبوک کے دوران ہی میں یہ آیتیں اتریں جن سے ان کی سازش بےنقاب ہوگئی اور آپ کو اس نام نہاد مسجد میں نماز تو درکنار کھڑے ہونے سبھی روک دیا گیا۔ اگرچہ شدت لہجہ کا رخ حضور کی طرف نہیں بلکہ بالواسطہ منافقین کی طرف ہے۔
مسجد قبا اور اس کے نمازیوں کی تعریف : لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى سے مراد، قرینہ دلیل ہے، مسجد قبا ہے۔ اس لیے کہ مسجد ضرار اسی کے توڑ پر بنائی گئی تھی۔ منافقین نے تو اس کا توڑ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی اس تعریف سے اس کو اور اس کے نمازیوں کو زندہ جاوید بنادیا۔ فرمایا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد روز اول سے تقوی پر رکھی گئی ہے تمہارے قیام کی اصلی حق دار وہ ہے نہ کہ وہ جس کی بنیاد ضرار، کفر، تفریق ملت اور سازش پر رکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی اس کے نمازیوں کی تعریف فرمائی کہ وہ ظاہر و باطن کی پاکیزگی کو عزیز رکھتے ہیں اور اللہ ایسے ہی پاکیزہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔ اس میں مسجد قبا کے نمازیوں کی تعریف کے ساتھ مسجد ضرار کے مفسدین پر تعریض بھی ہے کہ ان کا ظاہر و باطن دونوں گندا ہے۔ اور جب اللہ کے نزدیک وہ مبغوض ہیں تو تمہارا ان سے اور ان کی اس نام نہاد مسجد سے کیا تعلق
’ افعل ‘ کا مخصوص استعمال : یہاں ’ احق ‘ کا لفظ ہے جس سے گمان ترجیح و تفضیل کی طرف جاتا ہے لیکن کلام عرب اور قرآن میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ افعل بعض مرتبہ نسبت اور تقابل سے مجرد ہو کر بھی استعمال ہوتا ہے، کسی موزوں مقام پر ہم اس کی مثالیں پیش کریں گے۔
مسجد کی بنیاد تقوی پر ہوتی ہے : اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ مسجد کی بنیاد در اصل زمین پر نہیں بلکہ بانیوں کے دلوں پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بانیوں کے دلوں میں تقوی ہوا اور وہ اس تقوی پر مسجد کی بنیاد رکھیں تب تو وہ مسجد ہے اگر دلوں میں شر و فساد ہو تو وہ مسجد نہیں بلکہ بت خانہ ہے جو اپنے بانیوں اور پجاریوں سمیت، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہوگا، ایک دن جہنم میں جا گرے گا۔
Ayah 9:109اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔
شَفا کسی چیز کے کنارے اور اس کی دھار کو کہتے ہیں۔ جرف، ندیوں، نالوں اور وادیوں میں دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات پانی کا زور کسی کنارے کے نیچے سے مٹی بہا لے جاتا ہے، اور چھجے کی طرح صرف کنارہ لٹکا رہ جاتا ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی اور بےثبات کگر کو عربی میں جرف کہتے ہیں۔ ھار، یہور ھورا سے ہے، ھار البناء کے معنی عمارت پھٹ کر مائل بہ سقط ہے، اسی کا فاعل ھائر بھی آتا ہے اور قلب ہو کر ھار بھی آتا ہے۔ جس طرح شائک السلاح اور شاکی الملاح دونوں آتا ہے۔
یہ تمثیل بیان ہوئی ہے ان لوگوں کی جو اپنے عمل کی بنیاد تقوی اور رضائے الٰہی کے بجائے کسی غرض فاسد پر رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنی عمارت ایک کھوکھلی، گرتی ہوئی کگر پر بنائے جو بالآخر اس کے سمیت جہنم میں جا گرے۔ ثبات وقرار اور اخروی فوز و فلاح صرف اسی عمل کے حصہ میں ہے جو اللہ کی خوشنودی کے لیے اللہ کے احکام کے مطابق کیا جائے۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، ہدایت میاں غایت و مقصود کی ہدایت کے معنی میں ہے یعنی اپنی جانوں پر اس طرح ظلم کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بامراد وفائز المرام نہیں کرے گا۔ یہ نامراد ہی رہیں گے۔
Ayah 9:110لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی یہ نام نہاد مسجد بنا کر ان منافقین نے اپنے اندر نفاق کی جڑ اتنی مستحکم کردی ہے کہ اب یہ ان کے دلوں کے ساتھ ہے۔ ان کا نفاق اس طرح ایک ایک رگ میں جڑ جما چکا ہے کہ اب اس کو اکھاڑن دلوں کے پاش پاش ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح ہم اپنے محاورے میں کہتے ہیں یہ داغ تو اب کپڑے کے ساتھ ہی جائے گا۔ اسی طرح اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ تعلیق بالمحال کا ایک خوب صورت پیرایہ بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمل عمل کے اثرات و نتائج میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو نفاق کا ہر عمل اپنے اندر زہریلے اثرات رکھتا ہے لیکن مسجد ضرار جیسا فتنہ کھڑا کردینا ایک ایسا عمل ہے جس کے نتائج و اثرات سے جان چھڑانے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا۔ یہ رگ و پے میں جاری وساری ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:111اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۣ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔
نبی کے ہاتھ پر بیعت کے مقتضیات : اب یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے اس بیعت کی جو نبی کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور جس میں ہر مسلمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کر کے شامل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے اظہار سے یہاں مقصود اس بیعت کے مقتضیات ہر مسلمان کے سامنے رکھ دینا ہے تاکہ ہر شخص اس کی روشنی میں خود فیصلہ کرسکے کہ اس عہد کے تقاضے کیا ہیں اور کون سا رویہ اس کے منافی ہے جو نفاق اور کفر میں داخل ہے۔
فرمایا کہ یہ بیعت اللہ اور اہل ایمان کے درمیان بیع و شرا کا ایک معاہدہ ہے جس میں اہل ایمان اپنے مال اور اپنی جان اللہ کے حوالے کرنے کا اقرار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں ان کے لیے جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ انسان کو سب سے بڑا شرف جو حاصل ہے وہ یہی ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہونے کے باوجود یہ درجہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بیع و شرا کا ایک معاہدہ کرتا ہے جس میں وہ اپنے اوپر بھی اسی طرح کی ایک ذمہ داری لیتا ہے جس طرح بندوں پر ایک ذمہ داری ڈالتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کا یہ شرف مبنی ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص دائرے کے اندر اس کو اختیار بخشا ہے اور یہ چاہا ہے کہ انسان اپنی مرضی سے اپنے مال و جان پر اللہ کے حق کو تسلیم کرے اور پھر اس کے عوض میں جنت کا ابدی مقام حاصل کرے۔ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْن۔ یعنی اس معاہدہ بیع و شرا کے بعد کوئی راست باز مسلمان اپنے مال یا اپنی جان کو خدا سے چرانے کا روادار نہیں ہوسکتا چناچہ وہ اللہ کی راہ میں مال اور جان دونوں سے جہاد کرتے ہیں اور اس راہ میں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ اگر مارتے ہیں تو غازی اور مجاہد کا درجہ حاصل کرتے ہیں اور مرتے ہیں تو شہید کا مقام پاتے ہیں۔ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ۔ یعنی جان و مال کی قربانی کے عوض جنت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب کر رکھا ہے اور اس کا اظہار واقرار تورات، انجیل اور قرآن سب میں ہے یہ تمام آسمانی مذاہب اور خدائی صحیفوں کی ایک مسلمہ اور مشترکہ حقیقت ہے۔ مثلاً تورات میں ہے ”سن اے اسرائیل، خداوند ہمارا خدا اکیلا خداوند ہے۔ تو اپنے سارے ولی اور اپنے سارے جی اور اپنے سارے زور سے خداوند اپنے خدا کو دوست رکھ“ (استثنا۔ 6:، 4-5)۔
انجیل میں ہے : ”جس کسی نے گھروں یا بھائیوں، بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سوگنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا“ (متی 19:، 29)۔ انجیلوں میں جنت کی تعبیر بالعموم آسمانی بادشاہت سے کی گئی ہے۔ تورات میں یہود نے حرص دنیا کے سبب سے تمام اخروی انعامات کو دنیوی انعامات سے بدل لیا ہے تاہم انبیاء کی تعلیمات میں بکثرت ابدی زندگی کے ابدی انعامات کا ذکر موجود ہے۔
وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ یہ ابھارا گیا ہے اللہ کی راہ میں بےخوف و خطر جان و مال کی قربانیاں پیش کرنے پر۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے تو جو سودا تم اس کے ساتھ کرچکے ہو اس پر تمہیں باغ باغ ہونا چاہیے۔ خدا کے ہاتھ جو بیچ چکے ہو وہ اس کی طلب پر اس کے حوالے کرو اور جو کچھ اس کے عوض میں تمہیں ملنا ہے اس کے لیے تیار رہو۔ اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ خدا کی جنت بڑی چیز ہے۔ یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ چند روزہ حیات کے بدلے ابدی زندگی کی بادشاہی ہے۔
Ayah 9:112اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ سچے اہل ایمان کی صفات : اوپر آیت 107 میں جس طرح خبر محذوف ہے اسی طرح اس آیت میں بھی محذوف ہے۔ زجاج کی رائے یہی ہے اور یہ رائے مجھے قوی معلوم ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ زور کلام خبر کو خود ظاہر کردیتا ہے اگرچہ وہ لفظوں میں ظاہر نہیں ہوتی۔ یہاں موقع کلام یہ ظاہر کرتا ہے کہ جن کی صفات یہ یہ ہیں وہی لوگ سچے مومن ہیں، ان مومنین کو خوش خبری پہنچا دو۔
سیاحت کا مفہوم : اس آیت میں جو الفاظ آئے سائحون کے سوا ان میں سے ہر لفظ کی تحقیق اپنے اپنے محل میں بیان ہوچکی ہے۔ سائحون کے ترجمے میں مجھے بڑی مشکل پیش آئی۔ ساح یسیح کے معروف معنی تو زمین پر چلنے پھرنے کے ہیں چناچہ اسی سورة کی دوسری ہی آیت میں فسیحوا فی الارض اربعۃ اشہر، آیا ہے۔ لیکن یہاں جس سیاق وسباق میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لغوی سیاحت کے مفہوم میں نہیں بلکہ اصطلاحی سیاحت کے مفہوم میں آیا ہے۔ لفظ سیاحت قدیم زمانے سے اہل دین کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم صاحب لسان نے یوں ادا کیا ہے۔ الذھاب فی الارض للعبادۃ والترھب، عبادت و ریاضت کے لیے کسی سمت کو نکل کھڑے ہونا۔ اسلام سے پہلے اکثر مذاہب میں عبادت کے پہلو سے اس بات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے کہ آدمی گھر در، بیوی بچوں اور دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر جنگلوں، پہاڑوں اور سنسان جگہوں میں نکل جائے، اپنا سارا وقت دھیان گیان، ذکر و عبادت، چلہ کشی اور ریاضت میں گزارے۔ قوت لایموت پر قناعت کرے۔ بھوک پیاس ستائے تو جنگل کے پھل پھلداری اور ندیوں چشموں کے پانی پر گزارہ کرے عیسائیوں کے راہبوں، گوتم بدھ کے بھکشوؤں اور ہندو جوگیوں اور سنیاسیوں کا محبوب طریقہ عبادت یہی رہا ہے۔ یہ لوگ اگر خلق کی طرف متوجہ بھی ہوتے تھے تو اس طرح کہ صبح کسی بستی میں اور شام کسی بستی میں۔ جہاں پہنچے نیکی اور پرہیز گاری کے چند کلمے لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔ اسی درویشانہ اور راہبانہ زندگی کے لیے قدیم اصطلاح سیاحت کی ہے۔
اسلام میں سیاحت کی حدود : اس سیاحت کی حدود : اس سیاحت کا جتنا حصہ رہبانیت کے حکم میں داخل ہے وہ تو اسلام میں ممنوع ہے اس لیے کہ اسلام دین فطرت ہے اور رہبانیت فطرت کے خلاف ہے لیکن اس کا جو حصہ زہد و توکل، ذکر و فکر، خلوت و تبتل ریاضت و مجاہدہ، جستجوئے حقیقت، طلب علم اور دعوت الی اللہ و جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق رکھتا ہے وہ اسلام میں بھی مطلوب و مطبوع ہے اور اس کو اسلام نے روزہ، اعتکاف، عمرہ، حج اور جہد میں سمو دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں سیاحت کے باب میں نفی اور اثبات دونوں طرح کی باتیں ملتی ہیں۔ ایک طرف یہ ارشاد ملتا ہے کہ لاسیاحۃ فی الاسلام (اسلام میں سیاحت نہیں ہے) دوسری طرف یہ چیز بھی ملتی ہے کہ سیاحۃ ھذہ الامۃ الصیام ولزوم المساجد، اس امت کے لیے سیاحت روزے اور مسجدوں کے ساتھ وابستگی ہے۔ ابو داود میں روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سیاحت اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا سیاحۃ امتی الجہاد فی سبیل اللہ (میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ سیاحت کا جو حصہ رہبانیت کی تعریف میں آتا ہے وہ تو اسلام نے اپنے نصاب سے خارج کردیا ہے لیکن اصل مقصد سیاحت اسلام میں بھی باقی ہے اور روزہ، اعتکاف، ہجرت، جہاد، دعوت و تبلیغ اور طلب علم و حصول تربیت کے لیے سفر، یہ سب چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ یہ سیاحت جس طرح مردوں کے لیے ہے اسی طرح، جیسا کہ سورة تحریم کے لفظ سائحات سے واضح ہے، عورتوں کے لیے بھی ہے۔ البتہ عورتیں ان چیزوں سے مستثنی رہیں گی جن سے شریعت نے ان کو مستثنی رکھا ہے مثلاً قتال وغیرہ۔
عام طور پر ہمارے مترجموں نے اس کا ترجمہ روزہ رکھنے والے، یا راہ خدا میں پھرنے والے، یا ’ بےتعلق رہنے والے ‘ کیا ہے۔ لیکن ان ترجموں سے سیاحت کا صرف ایک ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ در آنحالیکہ اس کے متعدد پہلو ہیں۔ میں نے ’ ریاض کرنے والے ‘ ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ میں اس پر پوری طرح مطمئن تو نہیں ہوں لیکن میرے نزدیک یہ ترجمہ نسبۃً لفظ کی روح سے قریب تر اور اس کے کل نہیں تو اکثر اطراف کا جامع ہے۔ والعلم عند اللہ۔
منافقین کے سامنے ایک آئینہ توبہ : اوپر والی آیت میں بیعت ایمان و اسلام کی حقیقت واضح فرمائی تھی۔ اس آیت میں اہل ایمان کا اصلی کردار پیش کیا جا رہا ہے اور مقصود اس سے منافقین کے سامنے ایک آئینہ رکھ دینا ہے تاکہ وہ چاہیں تو اس آئینہ کو سامنے رکھ کر اپنے کو سنوار سکیں۔
یہاں اہل ایمان کے کردار کے جو اجزا بیان ہوئے ہیں ان میں سب سے پہلے توبہ کا ذکر ہے۔ توبہ کے معنی رجوع الی اللہ کے ہیں۔ خدا کی بندگی اور اطاعت کی راہ میں بندے کا پہلا قدم یہی ہے کہ وہ شیطانی راہوں میں ہرزہ گردی چھوڑ کر اپنے رب کی طرف لوٹتا ہے اور اس کی صراط مستقیم پر چلنے کا عزم کرتا ہے۔ پھر یہی توبہ ہے جو ہر گام پر اس کو سنبھالتی ہے۔ جب کبھی اس کا کوئی قدم راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے یہ توبہ اس کی دست گیری کرتی اور اس کو راہ پر لگاتی ہے۔
عبادت : توبہ کے بعد عبادت کا ذکر ہے۔ یہ خدا کے سب سے بڑے حق کا حوالہ ہے۔ جو بندہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اس پر خدا کا اولین حق اس کی عبادت کا عائد ہوتا ہے اور چونکہ خدا کے سوا کوئی اور اس حق میں ساجھی نہیں ہے اس وجہ سے اس کا بلا شرکت غیرے ہونا اس کی صفت لازمی ہے اور ساتھ ہی اطاعت بھی چونکہ اس کا بدیہی تقاضا ہے اس وجہ سے وہ بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔
حمد : عبادت کے ساتھ حمد کا ذکر ہے جو تمام عبادات کی روح ہے اس لیے کہ نماز اور زکوۃ وگیرہ، جیسا کہ اپنے مقام پر واضح ہوچکا ہے، سب خدا کی شکر گزاری اور اس کی نعمتوں کے اعتراف کے مظاہر ہیں۔ اگر بندے کے اندر شکر گزاری اور اعتراف نعمت کا جذبہ بطور ایک صفت کے راسخ نہ ہو تو نہ تو وہ عبادت کا حق ادا کرنے پر آمادہ ہی ہوتا ہے اور نہ اس کی عبادت کے اندر کوئی روح ہی ہوتی ہے۔
سیاحت : اس کے بعد سیاحت کا ذکر ہے۔ اس کی وضاحت ہم اوپر کرچکے ہیں۔ یہ ان تمام سرگرمیوں، مشقتوں اور ریاضتوں کی ایک جامع تعبیر ہے جو آدمی اپنے ظاہر و باطن کی تربیت و اصلاح، دین کو سمجھنے اور سمجھانے، اس کو پھیلانے اور بڑھانے کے لیے والہانہ اور سرفروشانہ اختیار کرتا ہے اور جن کی راہ میں اپنی زندگی کی لذتیں، راحتیں، امنگیں اور خوشیاں بےدریغ قربان کرتا ہے
خلوت کی نمازیں : پھر نماز کا ذکر ہے جس کے لیے الراکعون الساجدون کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ نماز کا ذکر قرآن میں جہاں جہاں اس اسلوب سے ہوا ہے۔ وہاں صرف فرض نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ خلوت کی نمازیں مراد ہیں۔ یہی نمازیں ان تمام چیزوں کی محافظ بھی ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے اور یہی اس ریاضت کو بھی زندگی اور نشوونما بخشتی ہیں جو سیاحت کے لفظ سے تعبیر کی گئی۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر : اس کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر ہے۔ اوپر جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان کا بیشتر تعلق فرد کی اپنی اصلاح و تربیت سے ہے۔ اب یہ ان کا تعلق قوم اور جماعت کے ساتھ واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہیں۔ وہ دوسروں کے خیر و شر سے بےتعلق رہ کر زندگی نہیں گزارتے بلکہ دوسروں کی اصلاح و تربیت کے لیے بھی اپنے اندر تڑپ رکھتے ہیں اور اپنی طاقت و صلاحیت کے مطابق اصلاح منکر کا فرض انجام دیتے ہیں۔
حفاظت حدود الٰہی : آخر میں حفظ حدود اللہ کا ذکر ہے۔ یہ درحقیقت تقوی کی تعبیر ہے اور خاتمہ پر ایک ایسی صفت کا حوالہ دے دیا گیا ہے جو سب سے زیادہ جامع ہے۔ یعنی وہ زندگی کے تمام مراحل میں برابر چوکنے رہتے ہیں کہ خدا نے جو حدود قائم فرمائے ہیں ان میں کوئی حد ٹوٹنے نہ پائے۔ نہ وہ خود کسی حد کو توڑنے کی جسارت کرتے ہیں اور نہ اپنے امکان کی حد تک کسی دوسرے کو اس کے توڑنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اہل ایمان کے کردار کے یہ پہلو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہاں اس لیے بیان ہوئے ہیں کہ منافقین کے سامنے سچے اہل ایمان کی تصویر آجائے کہ مومن ان صفات کے حامل ہوتے ہیں نہ کہ ہر مدعی ایمان جو کردار و اعمال میں تو اس کے بالکل برعکس ہے لیکن اپنا نام اہل ایمان کے رجسٹر میں لکھوانا چاہتا ہے۔
Ayahs 9:113–114آیات 113 تا 129 کا مضمون :
خاتمہ سورة : آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خطاب براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ تمام عناصر فاسدہ سے ان کو پاک کردینے کے بعد آخر میں یہ بعض ہدایات اور بشارتیں دی جا رہی ہیں۔ پہلی یہ ہدایت فرمائی کہ پیغمبر یا اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے خدا سے استغفار کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو استغفار کیا، اس کا صحیح پہلو واضح فرما دیا تاکہ یہ واقعہ کسی کے لیے غلط فہمی کا سبب نہ بنے۔ اس ہدایت سے مقصود مسلمانوں کو باطل کے ہر لوث اور ہر شائبہ سے بالکل پاک کر کے صرف حق کے لیے جینے اور مرنے کے نصب العین پر قائم کرنا ہے۔ اگر حق کے سوا کسی اور حمیت کا کوئی ادانی شائبہ بھی آدمی کے اندر باقی رہے تو یہیں سے نفاق اور کفر کی راہیں کھلتی ہیں اس وجہ سے پوری شدت کے ساتھ اس دروازے کو بند کردیا گیا ہے۔
اس کے بعد ان تمام مسلمانوں کو قبولیت توبہ کی بشارت سنائی گئی ہے جو ان تنبیہات کے بعد، جو اس سورة میں وارد ہوئی ہیں، اپنی کمزوریوں کی اصلاح کے لیے بےچین و بےقرار ہوگئے تھے اور توبہ و استغفار میں سرگرم تھے۔ پھر اہل مدینہ اور اعراب کے تائبین کو یہ نصیحت فرمائی کہ اپنے آپ کو ہمیشہ راست بازوں اور صداقت شعاروں کے ساتھ وابستہ رکھو تاکہ ان کی صحبت و معیت تمہاری کمزوریوں کی اصلاح کا ذریعہ بنے، نیز اس عظیم اجر کو یاد رکھو جو اللہ نے اپنی راہ کی ہر چھوٹی بڑی نیکی کے عوض دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں خاص طور پر اہل بادیہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ ان کی جماعتیں برابر مرکز سے وابستہ رہیں تاکہ صحبت نبوی کی برکتوں سے وہ خود بھی مستفید ہوسکیں اور اپنی قوم کو بھی مستفید کرسکیں۔ آگے مسلمانوں کو اپنے اپنے گرد و پیش کے کفار سے جنگ کرنے اور ان کے مقابل میں سخت ہونے کی تاکید فرمائی۔ اور ان تمام تنبیہات کے بعد بھی جو لوگ ابھی نفاق کی آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے تھے ان کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
آخر میں مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ واضح فرمایا کہ کیسی عظیم نعمت و رحمت ہے جو اس پیغمبر کی صورت میں تمہیں نصیب ہوئی ہے تو صدق دل سے اس کی قدر کرو اور اعراض کرنے والوں سے، پیغمبر ﷺ کی زبان سے، کہلوایا ہے کہ مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
113۔ 114: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۔
مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت : یہ مسلمانوں کو ایک نہایت خفی شائبہ شرک سے، جو نفاق کا ایک چور دروازہ ہے، پرہیز کرنے کی ہدایت ہے۔ وہ یہ کہ جن لوگوں پر حق پوری طرح واضح کیا جا چکا ہے اور جن سے اتمام حجت کے بعد اعلان براءت ہوچکا ہے، پھر بھی وہ ایمان نہ لائے، ان کے لیے اہل ایمان مغفرت نہ مانگیں اس لیے کہ اس قسم کے معاندین، خدا کے غضب کے مستحق ہیں۔ ان کے لیے رشتہ قرابت یا کسی اور رابطہ محبت کی بنا پر رحمت کی دعا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ حمتی قرابت، حمیت حق پر غالب ہے۔ آیت میں مشرکین کا لفظ یہاں مشرکین عرب کے لیے ہے جن سے اس سورة میں جیسا کہ آپ پیچھے تفصیل سے پڑھ آئے ہیں، نہایت آشکارا الفاظ میں اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان براءت ہوچکا ہے۔ اور منافقین کی بڑی کمزوریوں میں سے یہ کمزوری بتائی گئی ہے کہ وہ ان سے اپنی قرابت اور دوستی کے روابط کاٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کے ساتھ تمام روابط ختم کردینے کے بعد اہل ایمان کو یہ ہدایت ہوئی کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی نہ کی جائے۔ یاد ہوگا کہ اوپر یہ ممانعت نبی ﷺ کو کٹر منافقین کے باب میں بھی ہوئی ہے کہ آپ نہ ان کے لیے استغفار کریں نہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔ حضرات انبیاء علیم السلام کی دعوت میں ایک مرحلہ آتا ہے جب ان کو اور اہل ایمان کو کفار کے لیے ہدایت ومغفرت کی دعا سے بھی روک دیا جاتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر وہ وقت بھی آتا ہے جب کہ رب لاتذر علی الارض من الکفرین دیا را، کے الفاظ بھی ان کی زبان سے ان کفار کے حق میں نکلتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اہل باطل کے ساتھ کوئی تسمہ بھی اہل حق کا لگا رہنے نہیں دینا چاہتا تاکہ جو عذاب ان کے لیے مقدر ہوچکا ہے وہ اس کو بھگتنے کے لیے ہر امان سے محفوظ ہوجائیں۔ سورة انفال میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ نبی اور اہل ایمان کی دعائیں ان کی قوم کے لیے امان کا کام دیتی ہیں۔ یہاں نبی اور اہل ایمان کو استغفار سے روک کر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو گویا آخری امان سے بھی محروم کردیا۔ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى، کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ نبی کے ساتھ بھی کسی کی رشتہ داری ایمان کے بغیر خدا کے ہاں کچھ کام آنے والی نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد دوسرے رشتوں ناتوں کی کیا اہمیت باقی رہی۔ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ کے الفاظ سے یہ بات تو واضح طور پر نکلتی ہے کہ جن کا جہنمی ہونا قطعی طور پر معلوم ہوچکا ہو ان کے لیے اہل ایمان کو استغفار کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس سے کسی کافر کے لیے ہدایت کی دعا کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی اس لیے کہ آیت میں جن مشرکین کا ذکر ہے ان کا جہنمی ہونا خود اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا۔ رسول کے بعد، کسی کے باب میں قطعی طور پر اس بات کے معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ ہدایت نہیں اختیار کرے گا۔ لازمی جہنمی ہی ہوگا۔ اس وجہ سے ایسے لوگوں کی ہدایت کی دعا کرنے میں کوئی قباحنت نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص کفر ہی پر مرا ہے تو اس کے لیے نجات کی دعا نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہ اس سے ایمان کی بےوقعتی اور خدا کے قانون وعدل کی نفی ہوتی ہے جس سے احتراز اہل ایمان کے لیے لازمی ہے۔
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ: حضرت ابراہیم ؑ کے استغفار کی نوعیت :
یہ ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے یعنی کوئی یہ نہ خیال کرے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے کافر باپ کے لیے مغفرت کی دعا کی تو آخر وہ اپنے کافر عزیزوں کے لیے استغفار کیوں نہیں کرسکتا ؟ فرمایا کہ ابراہیم نے جو کچھ کیا وہ محض ایک وعدے کا ایفا تھا جو وہ اپنے باپ سے کرچکے تھے۔ پھر یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب ان پر یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی کہ باپ فی الحقیقت اللہ کا دشمن ہے۔ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی، انہوں نے اس سے اعلان براءت کردیا۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں واضح ہونے سے مراد یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آگاہ فرما دیا کہ بس اب اس کا پیچھا چھوڑو یہ ایمان لانے والا نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم کے جس وعدے کا یہاں حوالہ ہے وہ قرآن میں کوئی جگہ مذکور ہے۔ سورة مریم میں ہے ”قال سلام علیک ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا : اس نے کہا اچھا۔ السلام علیکم۔ میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت مانگوں گا۔ وہ میرے حال پر بڑا مہربان ہے“ (مریم :47)۔ اس سے وعدے کی غایت درجہ اہمیت واضح ہوتی ہے۔ آدمی اگر کسی سے وعدہ کر بیٹھے، خاص طور پر دعاء استغفار کا، تو حد جواز و امکان کے اندر اس کو ضرور پورا کرے۔
اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ۔ اواہ کے معنی کثیر التادہ، یعنی درد مند، غم خوار اور رقیق القلب کے ہیں اور حلیم کے معنی بردبار کے ہیں۔ یہاں ان الفاظ سے حضرت ابراہیم کی تعریف دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی باپ کے معاملے میں دردمندی اور بربادی بہت پسند آئی۔ اوپر سورة مریم کی جس آیت کا حوالہ ہم نے دیا ہے اس کے پیش و عقب کو قرآن میں پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ آذر نے اس موقع پر حضرت ابراہیم کے ساتھ نہایت سنگدلانہ برتاؤ کیا تھا لیکن سعادت مند بیٹے نے حلم و بردباری سے نہ صرف باپ کی جھڑکی اور دھمکی کو برداشت کیا بلکہ غایت دردمندی کے ساتھ اس کے لیے دعا و استغفار کا وعدہ بھی کرلیا۔ غور کیجیے کہ ایک ایسے درد مند اور حلیم بیٹے نے جب باپ سے اعلان براءت کیا ہوگا تو جگر پر کتنا بھاری پتھر رکھ کر کیا ہوگا ؟ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ بندہ اس کی محبت میں مومن بھی بنے اور پتھر بھی اس وجہ سے حضرت ابراہیم نے اپنے دل کے یہ دونوں پہلو نمایاں کیے اور یہی صحیح نمونہ ہے دین کے خدمت گزاروں کے لیے۔ جب تک ان کے سینہ میں درد مند دل نہ ہو خلق کی ہدایت کے لیے ان کا اٹھنا بےود اور جب تک عزم میں لوہے کی صلابت اور پہاڑ کی استقامت نہ ہو دین کے لیے ان کا وجود بالکل ناکارہ۔
Ayah 9:115مسلمانوں کو ایک تنبیہ : وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىھُمْ حَتّٰي يُبَيِّنَ لَھُمْ مَّا يَتَّقُوْنَ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ یہ آیت یوں تو اس عام سنت الٰہی کا بیان بھی ہوسکتی ہے جو قرآن میں بار بار مذکور ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی گمراہی کے حوالہ کرتا ہے اتمام حجت اور توضیح حق کے بعد ہی کرتا ہے اس وجہ سے اس طرح کے لوگ اس ہمدردی کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے لیے استغفار کیا جائے لیکن میرا ذہن بعد اذ ھداہم کے الفاظ سے بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ خدا نے تمہیں صراط مستقیم کی ہدایت دینے کے بعد اس راہ کے مسافر کو جن خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے، ان سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم ان خطرات سے بچو۔ اگر تم نہ بچے تو راہ پا کر اس سے بھٹکنے کی ذمہ داری خود تم پر ہوگی۔ اللہ ایسے لوگوں کو گمراہی کے لیے چھوڑ دیا کرتا ہے۔ گویا یہ اس ممانعت کی تاکید ہوئی جو مشرکین کے لیے استغفار کے باب میں مسلمانوں کو، اوپر والی آیت میں کی گئی ہے۔ یہ بات ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ جن کی حق دشمنی واضح ہوچکی ہے ان کے ساتھ کوئی ذہنی اور قلبی لگاؤ بسا اوقات آدمی کے لیے فتنہ بن جایا کرتا ہے۔ یہی لگاؤ بالتدریج ترقی کرتے کرتے بالآخر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اصول و عقائد نگاہوں کے سامنے سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور خون و نسب کا تعلق تمام حقائق پر غالب آجاتا ہے۔ آج جو لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے کے باوجود نحن ابناء الفراعنہ کا نعرہ لگاتے ہیں یا محمد بن قاسم کی بجائے راجہ داہر پر فخر کرتے ہیں وہ اسی فتنہ کا شکار ہوئے ہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ، بھی اسی تنبیہ کا جزو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ظاہر و باطن ہر چیز سے آگاہ ہے جس کے اندر بھی شرک و کفر کے ساتھ کوئی لوث اور لگاؤ ہوگا وہ خدا سے مخفی نہیں رہے گا۔
Ayah 9:116اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۔ یہ توحید کی آیت ہے اور یہ اوپر والے مضمون ہی کی تاکید ہے۔ یہ تاکید در تاکید اسی لیے ہے کہ شرک کا شائبہ مسلمانوں کے اندر سے یک قلم ختم ہوجائے۔
Ayah 9:117تاب، یتوب، توبہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں لیکن جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو اور صلہ علی کے ساتھ آئے تو، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ رحمت کے مضمون پر بھی متضمن ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا مفہوم کسی پر رحمت کی نظر کرنے کا ہوجاتا ہے جس کے لازم معنی بندے کی توبہ قبول کرنے کے بھی ہوئے۔
قبولیت توبہ کی عام بشارت : لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ اب یہ قبولیت توبہ کی اس عام بشارت کا اعلان ہورہا ہے جو اس سورة کی تنبیہات و تحذیرات کے بعد رحمت کی گھٹا بن کر ان لوگوں کے لیے برسی جنہوں نے اپنے آپ کو اس کا سزاوار ثابت کیا۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ اس سورة نے وقت کے پورے اسلامی معاشرہ کو چھاج میں پھٹک کر اس کو خس و خاشاک سے بالکل پاک صاف کردیا۔ اس تطہیر و تنقید کے بعد تمام عناصر فاسدہ چھٹ کر الگ ہوگئے۔ صرف وہ لوگ بچ رہے جو زرِ خالص کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان میں سے اگر کسی کے دل پر وقت طور پر کوئی غبار آگیا تھا تو اس کو بھی توبہ کی اس منادی عام سے بیدار ہوکر، لوگوں نے دعا و استغفار کے آنسوؤں کے ساتھ دھو لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان توبہ کی قبولیت کی بشارت سنا دی۔
نبی ﷺ کے ذکر کی نوعیت : اس فہرست میں سر فہرت نبی ﷺ کا ذکر ہے اس لیے کہ اس پاکیزہ معاشرہ کے گل سرسبد حضور ہی تھے۔ اس سیاق میں آپ کے ذکر کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ سے کوئی اس طرح کی غلطی صادر ہوئی تھی جس طرح کی غلطی بعض دوسرے لوگوں سے صادر ہوئی۔ بلکہ حضور اپنی طبعی رافت و رحمت کی بنا پر اب تک منافقین کے باب میں جو نرمی و چشم پوشی برتتے تھے جس کی طرف عفا اللہ عنک لم اذنت لہم الایہ اور بعض دوسری آیتوں میں اشارہ گزرا، یہ اس طرح کی چشم پوشیوں کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دامن عفو و رحمت میں جگہ دی۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق و عدل کی کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی ان مسامحتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا ہے جو اگرچہ ظہور میں تو آتی ہیں جذبہ خیر سے لیکن وہ اس معیار مطلوب سے متجاوز ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔
اسلامی معاشرہ میں فرق مراتب کی ترتیب : دوسرے درجہ پر اس میں مہاجرین اور پھر انصار کا ذکر آیا ہے۔ اس سے ایک طرف تو اسلامی معاشرہ میں فرق مراتب کی ترتیب واضح ہوتی ہے کہ اس معاشرہ میں پیغمبر ﷺ کے بعد سب سے اونچا درجہ مہاجرین کا ہے، اس کے بعد انصار کا ہے۔ دوسری طرف الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ کے الفاظ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں فرق مراتب کی بنیاد خاندان، نسب یا مال و جاہ پر نہیں بلکہ تمام تر اتباع رسول اور خدمت اسلام پر ہے۔ جو لوگ اس وصف خاص میں سب سے اونچے ہوئے وہ معاشرہ میں سب سے اونچے قرار پائے قطع نظر اس سے کہ وہ کس خاندان اور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیوی اسباب و وسائل کے اعتبار سے ان کا حال کیا ہے اور کیا رہا ہے۔
ساعۃ العسرۃ کے الفاظ سے اصلا تو تبوک کی مہم کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ وہ جیسا کہ سیرت و مغازی کی کتابوں سے واضح ہے۔ نہایت مشکل حالات میں پیش آئی تھی لیکن اس میں ایک جامع اشارہ ان مشکلات و مصائب کی طرف بھی ہے جن سے مہاجرین وا نصار کو شروع سے لے کر اب تک برابر گزرنا پڑا تھا۔ ان الفاظ کا حوالہ ایک تو اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ اصل ایمان ان کا ایمان ہے جو مصائب و شدائد کی کسوٹیوں پر جانچے اور پرکھے جا چکے ہوں۔ دوسری بات اس سے یہ نکلی کہ دراصل مہاجرین وانصار کے ایمان کی یہی خصوصیت ہے جو ان کے لیے سفارش بنی کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کی نظر اور ان کی توبہ قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وفادار و جاں نثار بندوں کو توفیق خیر سے محروم نہیں فرماتا۔ جب ان سے کوئی کمزوری صادر ہوجاتی ہے، ان کے دل میں وہ توبہ کی بےقراری پیدا کرتا ہے۔ پھر وہ توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ نظر انداز صرف ان کو کرتا ہے جو صرف زبان سے عشق کا دعوی کرتے ہیں، اس راہ میں چوٹ کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ مہاجرین و انصار کا سواد اعظم ہر قسم کے مصائب و شدائد کے باوجود ہر دور میں حق پر ثابت قدم اور استوار رہا۔ ان میں سے صرف ایک چھوٹے سے گروہ سے تبوک کے موقع پر کچھ کمزور صادر ہوئی لیکن تنبیہ کے بعد وہ بھی متنبہ ہوگئے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بھی توبہ قبول فرمائی۔
Ayah 9:118ان تین معتوبین کو بشارت جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا : وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا ۭ حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّآ اِلَيْهِ ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
قبولیت توبہ کی عام بشارت کے بعد، جو اوپر مذکور ہوئی، یہ ان تین آدمیوں کی قبولیت توبہ کی بشارت ہے جن کا معاملہ آیت 106 میں آیندہ کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔ حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ ، یعی جب توبہ کے لیے ان کے اندر وہ خستگی اور بےقراری پیدا ہوگئی جو رحمت الٰہی کو متوجہ کرتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ، سے ان حالات کی طرف اشارہ ہے جو ان لوگوں کو پیش آئے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے پچاس دن ان لوگوں پر ایسے گزرے کہ ہر شخص نے ان سے آنکھیں پھیر لیں، یگانے بیگانے بن گئے۔ عزیزوں، رشتہ داروں اور بچپن کے ساتھیوں تک نے اس طرح بےرخی اختیار کرلی گویا کبھی آشنا ہی نہ تھے، یہاں تک کہ بیوی بچے بھی بالکل غیر بن کے رہ گئے، مدینہ وہی تھا، اس کی وسعتیں اور برکتیں بھی وہی تھیں، دلوں میں اسلام نے مہر و محبت اور اخوت و ہمدردی کی جو تخم ریزی کی تھی اس کی فصل بھی شباب پر تھی، لوگ آپس میں ملتے جلتے، کھاتے پیتے، ایک دوسرے کے لیے جاں نثاریاں اور غم گساریاں کرتے، صرف یہ تین شخص ایسے تھے جن کی طرف کوئی انکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا اس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے معتوب تھے۔ خدا کی زمین میں آدمی کے لیے بڑی وسعت ہے بشرطیکہ لوگوں کے دلوں کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوئے ہوں۔ لیکن جب لوگوں کے دلوں ہی کے دروازے اس کے لیے بند وجائیں تو زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود اس کے لیے ایک زندان بن کے رہ جاتی ہے۔ ان تینوں صاحبوں کے لیے مدینہ کی سرزمین کا یہی حال ہوگیا تھا اور یہ حالت دو دن نہیں بلکہ، جیسا کہ اوپر گزرا، پورے پچاس دن قائم رہی۔ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُھُمْ ، اوپر کے ٹکڑے میں اس حالت کی تصویر ہے جو ان لوگوں کو اپنے سے خارج کی دنیا میں پیش آئی، اس ٹکڑے سے خود ان کے باطن کا حال واضح ہورہا ہے۔ جس طرح باہر کی دنیا میں ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی اسی طرح خود ان کے اپنے باطن میں بھی ان کے لیے کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ باہر کی فضا خواہ کتنی ہی گھٹی ہوئی ہو آدمی کا اپنا دل اپنے رویے پر مطمئن ہو تو وہ خلق کی بےمہری سے زیادہ برداشتہ خاطر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے باطن میں امن و سکون کا کوئی گوشہ تلاش کر ہی لیتا ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا اور رسول کی ناراضگی پر ایک لمحہ کے لیے بھی صبر کرنے والے نہیں تھے چہ جائیکہ پورے پچاس دن اس حالت میں ان پر گزر جائیں کہ مدینہ کے در و دیوار شاہد ہوں کہ اللہ اور رسول ان سے ناراض ہیں۔ جن کے دلوں میں ایمان ہو ان کے لیے اس سے بڑے غم واندوہ کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ چناچہ ان لوگوں کا حال یہ ہوا کہ باہر کی دنیا ان سے جتنی بیزار تھی اس سے زیادہ یہ لوگ خود اپنے وجود سے بیزار تھے۔ اندازہ کیجیے کہ کیا حال ہوا ہوگا ان لوگوں کی دل شکستگی کا جن کو نہ تو باہر سے کوئی امید کی کرن نظر آرہی ہو اور نہ خود اپنا ہی دل کسی طرح تسلی قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّآ اِلَيْهِ ، یہ ان لوگوں کے دل کی حالت کی ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے کہ جتنی ہی شدت کے ساتھ ان لوگوں پر عتاب ہوا اتنی ہی بےقرار کے ساتھ ان لوگوں نے اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دیا کہ جب گرفت خدا کی طرف سے ہے تو اس سے پناہ صرف وہی دے سکتا ہے چناچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تین میں سے دو صاحبوں نے تو بالکل ہی خانہ نشینی اختیار کرلی، رات دن گرویہ وزاری اور توبہ و استغفار کے سوا ان کا کوئی کام ہی نہیں رہ گیا۔ تیسرے صاحب اگرچہ کسی کسی وقت باہر نکلتے لیکن صرف اس امید میں کہ شاید کسی گوشے سے خدا اور رسول کی رضا کی کوئی مہک آجائے۔ اگر ان کے اندر نفاق کا کوئی جرثومہ ہوتا تو جب یہ خدا اور رسول کی طرف سے پھینکے گئے تھے، کسی اور کی پناہ ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے لیکن یہ راسخ الایمان لوگ تھے اس وجہ سے ٹھیک اس بچے کی طرح جو ماں کی جھڑکی سے سہم کر خود ماں ہی سے چمتا ہے، یہ خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے خدا ہی کی طرف بھاگے، نہ کوئی جھوٹا عذر پیش کیا، نہ دوسروں سے مل کر کوئی ساز باز کرنے کی کوئی کوشش کی۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب، کعب بن مالک ؓ ، کے پاس انہی دنوں شاہ غسان کا قاصد خط لے کر آیا کہ " ہم نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر ستم توڑ رکھا ہے، تم کوئی حقیر اور ضائع کیے جانے کے لائق آدمی نہیں ہو، تم ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہاری قدر کریں گے "۔ تو انہوں نے اس خط کو چاک کر کے چولھے میں جھونک دیا۔ اس لیے کہ کعب بن مالک ؓ علیہ اس حقیقت پر ایمان رکھتے تھے کہ خدا کی گرفت سے بندہ صرف خدا ہی کی رحمت سے چھوٹ سکتا ہے۔ شاہ غسان اس سے نجات نہیں دلا سکتا۔ درحقیقت یہی عقیدہ روح ایمان اور مغز توحید ہے۔ بندہ اس عقیدے کے ساتھ، خدا کی کسی گرفت پر، اپنے آپ کو خدا ہی کے آگے ڈال دیتا ہے تو اس کی رحمت پہلے سے بڑھ کر اس کے لیے جوش میں آتی ہے۔ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ، یعنی جب ہجر و فراق کی یہ سختیاں جھیل کر ان کے دل اچھی طرح گداز ہوگئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی نظر فرمائی اور ان کو سچی اور خالص توبہ کی توفیق بخشی۔ لیتوبوا، فعل یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے۔ جہاں تک اعتراف گناہ کا تعلق ہے وہ تو، جیسا کہ پیچھے گزرا، ان لوگوں نے پہلے بھی کرلیا تھا لیکن اس وقت ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان حضرات کو اپنی سابقہ دینی خدمات پر اعتماد تھا۔ اس وجہ سے ان کو نہ تو اپنی غلطی کی سنگینی کا صحیح صحیح اندازہ ہی ہوسکا اور نہ ان کے اندر وہ سچی تڑپ اور بےقراری ہی پیدا ہوسکتی جو ان کے مرتبہ کے شایان شان تھی۔ آدمی سے توقع اس کے درجے اور مقام کے اعتبار سے کی جاتی ہے، ہر ایک کی وفا داری ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپی جاتی۔ جن کے رہے ہیں سو ان کو سوا مشکل ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزائش کے ایک سخت کورس سے گزارا تاکہ ان کو بھی اور ان کے واسطے سے دوسرے اہل ایمان کو بھی یہ تربیت حاصل ہو کہ سچی توبہ کے لی دل کی کس درجے کی خستگی اور کس نوعیت کی بےقرار اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
توبہ کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے : تاب علیہم لیتوبوا، سے ایک اور حقیقت بھی واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ توبہ کی ابتدا اصلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ وہی پہلے بندے کے دل میں رجوع الی اللہ کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ پھر جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوبارہ اس پر رحمت کی نظر فرماتا اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ اگر اس کے اندر ایمان ہو تو ہر گناہ پر اس کا دل کڑھتا اور آزردہ ہوتا ہے اور ایک احساس ندامت کے ساتھ اس کے اندر اپنے رب کی طرف رجوع ہونے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اگر آدمی اپنے اس جذبے کے مطابق عمل کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل اور زبان پر وہ الفاظ اور کلمات بھی جاری فرما دیتا ہے جو اس کو پسند ہیں اور جن کو وہ شرف قبولیت بخشتا ہے۔ اس سے محروم صرف وہ بد قسمت لوگ رہتے ہیں جن کا ضمیر کند اور جن کا ایمان مردہ ہوجایا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا سے بےپروا ہوجایا کرتے ہیں جس کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ خدا بھی ان سے بےپروا ہوجاتا ہے۔ ادم و ابلیس کی سرگزشت، جو سورة بقرہ میں بیان ہوئی ہے، وہ اس کی نہایت حقیقت افروز مثال ہے۔ آیت فلقتی آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ (بقرہ :37) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 9:119راست بازوں کی صحبت اختیار کرنے کی ہدایت : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ : تطہیر و تزکیہ کا غسل دینے کے بعد اب یہ مسلمانوں کو بعض ہدایات دی جا رہی ہیں جن پر عمل کر کے وہ آیندہ اپنے آپ کو کفر و نفاق کی آلودگیوں سے پاک صاف رکھ سکتے ہیں۔ پہلی ہدایت یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کی صحبت اور معیت اور راسخ الایمان اور کامل الحیاء لوگوں کی رفاقت اختیار کرو۔ صحبت و معیت کو آدمی کے بناؤ اور بگاڑ میں بڑا دخل ہے۔ اگر آدمی کا رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا، کافروں، منافقوں اور جاہلوں کے ساتھ ہو تو کمزور تو درکنار بسا اوقات مضبوط آدمی بھی کچھ نہ کچھ ان کا اثر قبول کر ہی لیتا ہے۔ اسی طرح راسخ الایمان اور راسخ العمل لوگوں کے فیض صحبت سے کمزور آدمی کے اندر بھی اپنی کمزوریوں پر غالب آنے کا حوصلہ پیدا ہوجایا کرتا ہے اور وہ بالتدریج ان کے زمرے کا آدمی بن جاتا ہے۔ صحبت اور معیت کی اسی اہمیت کے سبب سے ان لوگوں کو جو دارالکفر میں پڑے ہوئے تھے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آنے کا حکم ہوا اور مسلمانوں کو جو مدینہ کے اطراف کے دیہاتوں میں آباد تھے یہ ہدایت ہوئی کہ ان کی جماعتیں برابر باری باری حصول تعلیم و تربیت کے لیے مدینہ آتی رہیں تاکہ ان کا ربط نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ قائم رہے۔ پیچھے منافقین اور اعراب کے جو حالات بیان ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی روحانی و اخلاقی بیماریوں میں بڑا دخل ان کے خراب ماحول کا تھا۔ اس وجہ سے احتیاطی تدابیر میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی کہ لوگ اللہ سے ڈرتے رہیں اور راست بازوں کی صحبت ورفاقت کا التزام کریں۔ خدا کا خوف دل کا پاسبان ہے۔ وہ اندر سے انسان کی حفاظت کرتا ہے اور راست بازوں کی صحبت باہر سے اس کو شیطان کے مقابل میں کمک پہنچاتی ہے۔ ّصادقینٗ کا لفظ یہاں خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں اس لفظ کی حقیقت واضح کرچکے ہیں۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے قول اور عمل میں پوری پوری مطابقت ہو۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ یہ لفظ منافقین کا ضد ہے۔
Ayahs 9:120–121تفسیر آیت 120۔ 121: اوپر کے مضمون کی مزید تاکید : مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ لِيَجْزِيَھُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
یہ بھی اوپر والے مضمون ہی کی تاکید مزید یعنی صادقین کی رفاقت و معیت اختیار کرنے کے لیے کمزور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ ہرچند اس راہ میں آزمائشیں، مشکلات اور خطرات ہیں لیکن حق کی راہ میں جس مشکل اور خطرے سے بھی بندہ گزرتا ہے، جو چوٹ بھی وہ کھاتا ہے، جو چرکا بھی وہ دشمن کو لگاتا ہے، ہر ایک کے بدلے میں اس کے کھاتے میں ایک عمل صالح درج ہوتا ہے اور جزا کے دن ہر شخص اپنے ہر عمل صالح کا بہتر سے بہتر صلہ پائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کا معاملہ اپنی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کے ساتھ یوں ہے تو اہل مدینہ اور اعراب میں سے کسی کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کا ساتھ دینے سے ہچکچاتا اور اپنی جان کو ان کی جان کے مقابل میں اہمیت دیتا۔ اور نہ آیندہ یہ کسی کے لیے جائز ہے کہ راہ حق کے خطرات اور اندیشوں سے ڈر کر حق اور حق پرستوں کا ساتھ چھوڑ کر باطل اور باطل پرستوں کا ہم سفر بن جائے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ میں لفظ محسنین اس شرط کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اللہ کے ہاں ان اعمال کی مقبولیت کے لیے ضروری ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ یہ اعمال احسان پوری خوبی کے ساتھ صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے انجام دیے جائیں، کسی اور غرض کا کوئی شائبہ اس میں شامل نہ ہو۔ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ ، سے مراد اس طرح کے اقدامات ہیں جو دشمن کے حوصلے کو پست کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ جن سے ان کے دل کو صدمہ پہنچتا ہے اور اہل حق کے حوصلے کی ان پر دھاک بیٹھتی ہے۔