7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ان کے سینے کی ہر خلش ہم کھینچ لیں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اور وہ کہیں گے شکر کا سزا وار ہے وہ اللہ جس نے اس چیز کی ہدایت بخشی، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت بخشی، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ بخشی ہوتی تو ہم تو ہدایت پانے والے نہ بنتے۔ ہمارے رب کے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے۔ اور ان کو پیغام دیا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارث ٹھہرائے گئے ہو

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْھٰرُ ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِھٰذَا ۣ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۭ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ زبان کا ایک خاص اسلوب : وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ ، اس ٹکڑے میں زبان کا وہ اسلوب ملحوط ہے جس کی ایک سے زیادہ مقامات میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ بسا اوقات ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اور مقصود اس سے اس کا لازم ہوتا ہے۔ مثلاً ارشاد ہوا ہے فالیوم ننسہم کما نسوا لقاء یومہم ھذا (پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا) ظاہر ہے کہ یہاں بھلا دینے سے اس کا لازم یعنی عدم التفات مراد ہے، ورنہ اللہ کے کسی چیز کو بھلا دینے کے کیا معنی ؟ وہ تو کوئی چیز بھی کبھی نہیں بلاتا۔ اسی طرح فرمایا۔ فاذکرونی اذ کر کم (پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا) میں تمہیں یاد رکھوں گا، یعنی میری نظر عنایت تم پر برابر رہے گی، ہر قدم پر تمہاری مدد کروں گا، اپنا ایک ایک وعدہ جو میں تم سے کیا ہے پورا کروں گا اور مزید برآں اپنے فضل ابدی سے نوازوں گا۔ اسی اسلوب پر یہاں وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ سے مراد اس کا لازم ہے یعنی اہل ایمان جنت میں ایک دوسرے سے تپاک اور محبت سے ملیں گے، ایک دوسرے کا خیر مقدم کریں گے، آمنے سامنے بیٹھ کر آپس میں تبادلہ مہر و محبت کریں گے، ان کے درمیان کسی رنجش و کدورت کا شائبہ نہ ہوگا۔ یہی مضمون دوسرے مقامات میں علی سرر متقابلین کے الفاظ سے ادا ہوا ہے۔ یعنی وہ آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے اس لیے کہ ان کے دل ایک دوسرے سے بالکل صاف ہوں گے۔ ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھنا باہمی رنجش کی دلیل ہے اور آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بیٹھنا باہمی اعتماد و محبت کی۔ قرآن نے یہاں وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ سے اہل جنت کی اسی حالت کا اظہار فرمایا ہے اور یہ بات ٹھیک ٹھیک اہل دوزخ کی اس حالت کے مقابل میں بیان ہوئی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ وہاں تو آپس میں لعنتوں کا تبادلہ ہوگا، جوتیوں میں دال بٹے گی اور یہاں مجلس مہر و محبت کی عطر بیزیوں سے معمور ہوگی۔ منزل پر پہنچنے کے بعد اہل جنت کا جذبہ شکر وسپاس : وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِھٰذَا، یہ وہ شکر ہے جو کسی طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے والا مسافر ادا کرتا ہے۔ هَدٰىنَا لِھٰذَا میں اللہ تعالیٰ کی اس توفیق بکشی کی طرف بھی اشارہ ہے جو طالبین حق کو ہر قدم پر حاصل ہوتی ہے اور اس رہنمائی کی طرف بھی جو اپنے نبیوں اور رسولوں کے ریعہ سے اللہ تعالیٰ مہیا فرمایا تا ہے۔ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ، میں اس سفر کے پر صعوبت ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس بات کی طرف بھی کہ اہل جنت کو جو کامیابی حاصل ہوگی وہ ان کی توقعات اور امیدوں، ان کے قیاسات اور اندازوں سے اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ اس کو خدا کا فضل ہی فضل سمجھیں گے، اس میں اپنی سعی و تدبیر کے کسی دخل کا ان کو گمان بھی نہ ہوگا۔ لَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۔ اللہ تعالیٰ کے شکر کے بعد یہ انبیاء و رسل کی عظیم خدمات اور ان کی کہی ہوئی ہر بات کی صداقت کا اعتراف ہے یعنی اہل جنت رسولوں کی دی ہوئی ہر خبر کو واقعہ کی شکل میں دیکھ کر پکار اٹھیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کہا حرف حرف حقیقت ثابت ہوا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جن کی تکذیب اور جن کے استکبار کا اوپر ذکر ہوا۔ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کے لیے منادی عام ہوگی کہ اس جنت کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارچ بنائے گئے۔ اہل جنت کا خود اپنا احساس تو اوپر یہ نقل ہوا ہے کہ وہ اس جنت کو اپنی سعی وعمل کے بجائے صرف خدا کے فضل و احسان کا ثمرہ سمجھیں گے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو ان کے سعی و عمل کا ثمرہ قرار دے گا۔ یہ تکمیل نعمت کی معراج ہے۔ بندوں کے اعمال کا درجہ اس آیت نے اتنا اونچا کردیا ہے کہ اس سے زیادہ اعنچے درجے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا میں ہم جو کچھ پاتے ہیں خدا کے فضل ہی سے پاتے ہیں۔ آخر میں بھی خدا کے فضل ہی سے پائیں گے لیکن رب کریم اس کو ہمارا حق اور ہماری محنت کا ثمرہ قرار دے گا۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اس ابدی بادشاہی کا جس کے متعلق ہر شخص کا شعور یہ ہوگا کہ اس نے اپنی کوششوں سے بنائی ہے اور یہ لازوال ہے۔ انسان صرف یہی نہیں چاہتا کہ اس کو نعمتیں حاصل ہوں بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ نعمتیں اس کی اپنی ہوں۔ اس احساس کے بغیر وہ کسی نعمت کا صحیح لطف نہیں اٹھا سکتا۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی فطرت کا یہ تقاضا بھی پورا کردے گا۔ ایک لطیف تلمیح۔ اس آیت میں وراثت کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس میں ایک لطیف تلمیح ہے اس ماجرے کی طرف جو اوپر آدم کے جنت سے نکالے جانے کا مذکور ہوا ہے۔ وہاں یہ ارشاد موجود ہے کہ اولادِ آدم میں سے وہی لوگ اپنے باپ کی اس جنت کے وارث ٹھہریں گے جو شیطان کی تمام فتنہ آرائیوں کے علی الرغم ایمان وعمل صالح کی صراط مستقیم پر قائم رہیں گے۔ یہاں اور ثتموھا کا لفظ استعمال کرکے گویا شاباش دے دی کہ بیشک تم نے بازی جیت لی اور اب تم حقدار ہو کہ تم اس جنت کے وارث بنائے جاؤ۔
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والے دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم سے تو جو کچھ ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو بالکل سچا پایا، کیا تم نے بھی جو کچھ تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا اس کو سچا پایا، وہ جواب دیں گے، ہاں ! پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر

فصل 6۔ آیت 44 تا 53 کا مضمون : ان آیات میں وہ سوال جواب مذکور ہوا ہے جس کا تبادلہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان ہوگا۔ اہل جنت دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ ہم سے تو ہمارے رب نے جو وعدے کیے تھے وہ ایک ایک کر کے سب پورے ہوئے، تمبتاؤ، تم نے بھی وہ سب کچھ آنکھسوں سے دیکھ لیا یا نہیں جس کی تمہیں خبر دی گئی تھی ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں، سب دیکھ لیا، اس کے بعد ایک منادی ان پر اللہ کی لعنت کا علان کرے گا۔ پھر یہ بیان ہوا کہ اعراف کی برجیوں سے رجال امت کے ایک گروہ کو جنت و دوزخ کے احوال کا مشاہدہ کرایا جائے گا کہ وہ دیکھ لیں کہ اللہ کے جن وعدوں کے لیے وہ جیے اور مرے وہ کس طرح پورے ہوئے۔ یہ اصحاب الاعراف اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کو ان کی علاماتِ امتیاز سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ اہل جنت کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دیں گے اور اہل دوزخ کے قائدین کو پھٹکاریں گے کہ بتاؤ تمہاری ساری جمعیت اور تمہارا سارا غرہ کیا کام آیا، تم قسمیں کھا کھا کے جن کے باب میں یہ کہتے تھے کہ یہ کبھی کسی رحمت کے سزا وار نہیں ہوسکتے، وہ کہاں ہیں اور تم کہاں بھاڑ جھونک رہے ہو ؟ اس کے بعد یہ بیان ہوا ہے کہ اہل دوزخ پانی کے لیے تراہ تراہ کر رہے ہوں گے اور اہل جنت سے فریاد کریں گے کہ کچھ ادھر بھی نظر کرم کرو لیکن وہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل دوزخ کے لیے ان چیزوں کی مناہی کر رکھی ہے۔ آخر میں یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ جنت و دوزخ کا جو احوال سنایا جا رہا ہے، یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کو آگاہ کرنے کے لیے ایک کتاب اتاری جس میں اپنے علم قطعی کی روشنی میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کی تفصیل سنا دی ہے تاکہ جو ایمان لانا چاہیں وہ اس ہدایت کو اختیار کر کے اپنے آپ کو رحمت کا سزاوار بنا لیں لیکن یہ اپنی رعونت کے سبب سے منتظر ہیں کہ جب یہ ساری باتیں واقعات کی شکل میں ان کے سامنے آئیں گی تب ان کو مانیں گے لیکن وہ وقت ماننے کا نہیں ہوگا بلکہ سر پیٹنے کا ہوگا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ جنت میں انسانی قوتوں کا عروج :۔ یہ آیت ایک نہایت ہلکا سا تصور دیتی ہے اس انقلاب حال کا جو جنت میں پہنچ کر انسان کی قوتوں اور صلاحیتوں کے اندر برپا ہوگا۔ اس دنیا میں تو ہمارے سمع وبصر اور ادراک و ابلاگ کی قوتیں نہایت محدود ہیں۔ معمولی معمولی چیزیں ہماری ان قوتوں کی راہ میں روک بنی ہوئی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہ رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ جنت کے عالم سے جب چاہیں گے اہل جنت دوزخ والوں کو مخاطب کر کے ان سے سوال جواب کرلیں گے۔ اس سائنسی دور کے انسان کے لیے یہ بات ذرا بھی حیران کرنے والی نہیں ہونی چاہیے۔ جب آج انسان نے قدرت کے محض چند ضمنی قوانین کا رازش دریافت کر کے اپنے لیے ایسی دوبینیں ایجاد کرلی ہیں جن کی مدد سے ہزاروں میل کی مسافت پر جلنے والی شمع کی لو کو دیکھ سکتا ہے، ایسے فون بنا لیے ہیں جن کی وساطت سے جب چاہے پاکستان کا پر یسیڈنٹ امریکہ کے پر یسیڈنٹ سے بات کرسکتا ہے۔ ایسے ٹیلی ویژن بنا لیے ہیں جن پر ایک ملک کے لوگ کسی دور دراز ملک کے کسی خطیب کو اپنے ملک کے کسی مجمع کے سامنے تقریر کرتے، مجمع کو تالیاں پیٹتے اور نعرے لگاتے دیکھ اور سن سکتے ہیں، ایسے آلات بنا لیے ہیں جو اس کو لاکھوں میل کی مسافت سے نبض کی حرکت اور دل کی دھڑکن سے آگاہ کرسکتے ہیں تو آخر اس عالم کی باتوں پر حیران ہونے کی کیا وجہ ہے کہاں یہ سارے نوامیس طبیعی، جو آج ہمیں جکڑے ہوئے ہیں، بدل جائیں گے اور اس زمین و آسمان کی جگہ نئے آسمان و زمین پیدا ہوجائیں گے۔ اہل دوزخ کی تفضیح : اہل جنت کا یہ سوال اہل دوزخ سے جو یہاں نقل ہوا ہے، تبلیگ و تذکیر کے مقصد سے تو ظاہر ہے کہ ہو نہیں سکتا، اس لیے کہ اس کو وقت تو گزر چکا ہوگا، اس کا مقصد محض اہل دوزخ کی تفضیح ہوگا۔ اس کے جواب میں اہل دوزخ کا اعتراف گویا مجرم کا وہ آخری اعتراف ہوگا جس کے بعد اس کے اور اس کی سزا کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں رہ جائے گی۔ چناچہ ایک منادی ان ظالموں پر اللہ کی لعنت کا اعلان کرے گا اور یہ اعلان ہم معنی ہوگا اس کے کہ اب سزا اور عذاب کا باب شروع ہوگیا۔
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

ان پر جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۚ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ۔ عام طور پر لوگوں نے اس ٹکڑے کو منادی کے اعلان ہی کا ایک حصہ سمجھا ہے لیکن میرے نزدیک منادی کا اعلان لفظ ظلمین ہی پر تمام ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ٹکڑا بطور تضمین ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت کے طور پر اس کے ساتھ لگایا ہے تاکہ کلام محض مستقبل کی ایک حکایت بن کے نہ رہ جائے بلکہ حال پر بھی پوری طرح منطبق ہوجائے اس تضمین سے گویا یہ وضاحت ہوگئی کہ ظالمین سے مراد کون لوگ ہوں گے۔ فرمایا کہ وہی لوگ جو آج اللہ کی راہ سے لوگوں کو روک رہے ہیں، جو اس میں کجی پیدا کرنے کے لیے ساعی ہیں اور آخرت کے منکر ہیں۔ اس وضاحت کے بعد آخرت میں ہونے والی منادی وقت کے قریش پر ٹھیک ٹھیک اس طرح چسپاں ہوگئی، گویا۔ جامہ بود کہ بر قامت او دوختہ بود۔ اس قسم کی تضمینات قرآن مجید میں بہت ہیں پیچھے بھی اس کی مثالیں گزر چکی ہیں، آگے بھی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ اس کی ایک مثال آیت 51 میں بھی آرہی ہے۔ انہی تضمینات سے بالعموم اصولی باتیں یا مستقبل کے ماجرے یا ماضی کے سرگزشتیں حاضر اور حال کا جامہ پہنتی ہیں۔ اس وجہ سے ان پر خاص طور پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے ورنہ نظم کلام درہم برہم ہوجاتا ہے اور تاویل میں ایسے تکلف سے کام لینا پڑتا ہے جس سے نہ صرف ذوق ابا کرتا ہے بلکہ زبان کے آداب و قواعد بھی اس کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ چناچہ یہاں بھی جن لوگوں نے اس کو تضمین نہیں مانا انہیں وھم بالاخرۃ کفرون کے ٹکڑے کی تاویل میں تکلف کرنا پڑا۔ انہوں نے اس کو وھم بالاخرۃ کانوا کفرین کے معنی میں لیا حالانکہ یہ قرا ان میں ایک قسم کا اضافہ ہے۔ الذین یصدون، میں صد کا لفظ لازم اور متعدی یعنی رکنے اور روکنے کے دونوں معنوں میں آیا ہے، ایسے الفاظ کے ترجمے میں مشکل پیش آتی ہے۔ میرنے نزدیک ایسے الفاظ کے باب میں محتاط طریقہ یہ ہے کہ اگر قرینہ واضح ہو تب تو قرینہ کے تقاضے کے متعلق ترجمہ کرنا چاہیے ورنہ متعدی مفہوم کے اعتبار سے ترجمہ اولی ہے اس لیے کہ متعدی کے اندر لازم کا مفہوم خود مضمر ہوتا ہے۔ الزین یبغونہا عوجا میں عوج سے مراد تو اگرچہ وہ ساری کج رائیاں اور کج علمیاں ہوسکتی ہیں جو خدا کی راہ سے ہٹ کر انسان اختیار کرتا ہے لیکن نظائر قرآن کی روشنی میں میرے نزدیک اس کا مفہوم خدا کی صراط مستقیم یعنی توحید کی راہ میں کجی پیدا کر کے شرک کی پگڈنڈیاں نکالنا ہے، ان نظائر کی وضاحت کسی مناسب محل میں انشاء اللہ تفصیل سے آئے گی۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور ان کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہیں گے کہ آپ پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو، وہ اس میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن متوقع ہوں گے

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ 46؀۔ حجاب سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار ہے : وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ، حجاب مراد جیسا کہ خود قرا ان کے دوسرے مقام سے واضح ہے، وہ دیور ہے جو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑی کردی جائے گی۔ سورة حدید میں ہے۔ فضرب بینہم بسور (حدید۔ 14) (پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی) ایک ایسی دیوار کے طور و عرض کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم جنت اور سارے عالم دوزخ کے درمیان حد فاصل کا کام دے گا جب کہ صرف جنت کی وسعتوں کی تمثیل قرا ان نے آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے دی ہے۔ اعراف کا مفہوم : اعراف، عُرف کی جمع ہے، عرف گھوڑے کی پیشانی کی چوٹی اور مرغ کی کلگی کو کہتے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ کسی مینارہ یا برجی یا دیدبان کے لیے استعمال ہوا جو کسی اونچی دیوار یا پہاڑ پر بنا دیا جائے، جہاں سے تمام اطراف و جوانب کا بیک نظر مشاہدہ ہوسکے۔ قرآن کے اسلوب بیان سے واضح ہے کہ جنت و دوخ کے درمیان جو دیوار کھڑی کی جائے گی، یہ اعراف یعنی مینارے اور برجیاں اسی دیوار پر ہوں گے جہاں سے جنت و دوزخ کے تمام مناظر کا مشاہدہ ہوسکے۔ قرآن کے اسلوب بیان سے واضح ہے کہ جنت و دوزخ کے درمیان جو دیوار کھڑی کی جائے گی یہ اعراف یعنی مینارے اور برجیاں اسی دیوار پر ہوں گے جہاں سے جنت و دوزخ کے تمام مناظر کا مشاہدہ ہوسکے گا۔ رجال سے مراد : رجال کا لفظ یوں تو اپنے عام مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس سے بالعموم نمایاں اور ممتاز اشخاص مراد ہوتے ہیں۔ مثلا رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ (نور 37) (ایسے رجال جن کو تجارت اور خریدو فروخت یاد الٰہی سے غافل نہیں کرتی) ‘ من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ (احزاب :23) (اور اہل ایمان میں ایسے رجال ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچ کردکھایا جو خدا سے انہوں نے باندھا)۔ یہیں آیت 48 میں بھی یہ لفظ ائمہ کفر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ۔ ‘ کلا ’ لفظ کل ہم دوسرے مقام میں بتا چکے ہیں کہ جب یہ جماعتوں یا اشخاص کے ذکر کے بعد اس طرح آئے جس طرح یہاں آیا ہے تو یہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے معرفہ بن جاتا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہی گروہ یا اشکاص ہوں گے جن کا ذکر اوپر گزرا۔ یہاں اوپر اہل جنت اور اہل دوخ کا ذکر ہوا چناچہ اس سے مراد وہی دونوں گروہ بحیثیت گروہ ہیں۔ اہل جنت اور اہل دوزخ اپنی نمایاں علامتوں سے ممتاز ہوں گے :۔ سیما کے معنی علامت اور نشان کے ہیں مثلا سیماھم فی وجوہہم من اثر السجود، قرآن مجید اور احادیث دونوں میں اس بات کے اشارات موجود ہیں کہ قیامت میں اہل ایمان اور اہل کفر دونوں اپنے اپنے اعمال کے اثرات سے ممتاز و ممیز ہوں گے مسلم شریف میں ایک حدیث ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ کی امت میں سے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے آپ ان کو کیسے پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا، اگر ایک شخص کے پنچ کلیان گھوڑے دوسرے گھوڑوں میں ملے ہوئے ہوں تو کیا وہ ان کو پہچان نہ لے گا ؟ لوگوں نے کہا، یہ بات تو ٹھیک ہے یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا اسی طرح میری امت کے لوگ قیامت کے دن اپنے وضو کے آثار سے اس طرح نمایاں ہوں گے کہ ان کی پیشانیاں اور ان کے ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ ابولہب کی بیوی کے متعلق خود قرآن مجید میں مذکور ہے کہ قیامت کے دن اس کے گلے میں اس طرح کی رسی پڑی ہوئی ہوگی جس طرح کی رسی ایندھن جمع کرنے والی لونڈیاں اپنے گلے میں ڈال کر لکڑیاں چننے کے لیے نکلا کرتی ہیں۔ اس نوع کے بعض اشارات معراج سے متعلق احادیث میں بھی موجود ہیں۔ غرض یہ بات واضح ہے کہ اہل ایمان ہوں یا اہل کفر دونوں گروہ اپنے اپنے محل میں اپنی نمایاں نشانیوں اور علامات کے ذریعے ممتاز ہوں گے اور اہل اعراف ان علامات کے واسطہ سے اہل جنت کے صدیقین، شہدا اور صالحین و ابرار کو بھی پہچان لیں گے اور اہل دوزخ کے لیڈروں اور اشرار و مفسدین کو بھی۔ اجزائے کلام کی تشریح کے بعد قابل غور سوال صرف یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اصحاب الاعراف کون لوگ ہوں گے ابن جریر نے اس سوال کے جواب میں چار قول نقل کیے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں قول میں برابر برابر اتری ہوں گی، اس وجہ سے ان کا فیصلہ ابھی معلق ہوگا کہ دوخ میں بھیجے جائیں یا جنت میں۔ دوسرا یہ کہ یہ علما اور فقہا کا گروہ ہوگا۔ تیسرا یہ کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد میں حصہ لیا ہوگا۔ چوتھا یہ کہ یہ ملائکہ ہوں گے۔ ان میں سے مؤخر الذکر دونوں قول تو بالکل ہی بےجان ہیں۔ ان کی تائید میں کوئی ادنی اشارہ بھی قرآن میں موجود نہیں ہے اس وجہ سے ان پر کسی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلا قول اگرچہ بہت مشہور ہے یہاں تک کہ مصرع از دوزخیاں پرس کہ اعراف بہشت است، ہمارے لٹریچر میں ضرب المثل کی حیثیت حاصل کردیا ہے لیکن کئی پہلوؤوں سے یہ قول بھی ضعیف معلوم ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ یہاں ان کے لیے رجال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، جب اس طرح آتا ہے جس طرح یہاں آیا ہے تو اس سے مراد نمایاں اشخاص و رجال ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا حال یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی نیکیاں اتنی بھی نہ ہوں گی کہ ان کی بدیوں پر بھاری ہوسکیں آخر ان کا ایسا نمایاں وصف کیا ہے جس کے سبب سے ان کا ذکر اس لفظ سے کیا گیا ؟ دوسرا یہ کہ جن کی نیکیاں اور بدیاں دونوں برابر ہوں گی ضروری نہیں کہ وہ سب مرد ہی ہوں ان میں عورتین بھی ہوسکتی ہیں۔ پھر ان کے لیے رجال کا لفظ کیوں استعمال ہوا، کوئی ایسا لفظ کیوں نہ استعمال ہوا جو جامع نوعیت کا ہوتا مثلاً طائفہ یا امت یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ ؟ تیسرا یہ کہ یہاں کسی ایک لفظ سے بھی نہ تو یہ بات نکلتی کہ یہ ایک ایسے گروہ کا ماجر بیان ہو رہا ہے جس کا معاملہ ابھی معلق ہے اور نہ یہ بات نکلتی کہ ان کو عراف کی یہ سیر کرانے سے مقصود کیا ہے حالانکہ موقع ایسا ہے کہ یہ بات واضح ہونی چاہیے تھی۔ چوتھا یہ کہ یہ لوگ اہل جنت اور اہل دوزخ کو جس انداز میں مخاطب کریں گے، ان کو مخاطب کر کے جو جو باتیں فرمائیں گے اور ان کے ساتھ جس اعزازو اکرام کا معاملہ مزکور ہوا ہے وہ سب اس امر کے خلاف ہے کہ یہ ایک ایسے گروہ کا ذکر ہو جس کی اپنی نجات کا معاملہ ابھی معلق اور جس کی اپنی کارگزاری کی نوعیت یہ ہو کہ نیکی اور بدی دونوں برابر برابر ہو کر رہ گئی ہوں۔ قرا ان کے بیان سے واضح ہے کہ یہ لوگ اہل جنت کو مبارکباد دیں گے، اہل دوزخ کے لیڈروں کو سرزنش اور ملامت کریں گے کہ تم دنیا میں بہت اتراتے اور اکڑتے رہے ہو، بتاؤ تمہاری جمعیت اور تمہارا سارا سرمایہ غرور کہا گیا ؟ ان کو لتاریں گے کہ تم خدا کی ساری نعمتوں کا اجارہ دار تنہا اپنے آپو کو سمجھتے تھے، غریب مسلمانوں کو کسی فضل کا سزوار نہیں سمجھتے تھے، اب دیکھو تم کہا ہوں اور وہ کہاں ہیں ؟ آخر میں اہل جنت کو تمیکن اور دوام و استمرار کی بشارت دیں گے، غور کیجیے کہ یہ ساری باتیں ایسے لوگوں کی زبان سے کس طرح نکل سکتی ہیں جنہیں خود اپنی نجات کی طرح کی باتیں کسی مذبذبت و متردد گروہ کے منہ سے نکل سکیں اور نہ اخلاقی پہلو سے یہ ایسے لوگو کی زبان سے زیب دیتی ہیں جن کے اپنے کارنامے کچھ زیادہ وقیع نہ ہوں۔ ان وجوہ سے ہمارے نزدیک یہ قول اپنی شہرت کے باوجود کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ صحیح قول ہمارے نزدیک دوسرا ہے۔ ابن جریر نے یہ قول اپنی مجاہد کی طرف منسوب کیا ہے جن کا مرتبہ تفسیر میں معلوم و معروف ہے۔ مجاہد نے علماء اور صلحاء سے مراد ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو لیا ہے جو دنیا میں حق و باطل کی کشمکش میں حق کے علم بردار، خیر کے داعی اور منکر سے روکنے والے رہے ہیں۔ جنہوں نے حق کی حمایت میں اہل باطل کے چرکے سہے ہیں اور جو مظلوموں کی مدافعت میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوئے۔ ایسے علما و فقہاء یا بالفاظ دیگر رجال امت بلا شبہ قیامت کے دن اس اعزاز کے سزوار ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اعراف کی بلندیوں سے جنت اور دوزخ دونوں کا مشاہدہ کرائے تاکہ وہ حق و باطل دونوں کا آخری انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور اپنی زبانوں سے رفقائے حق کو مبارک باد دیں اور دشمنان حق کو سرزنش کریں۔ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ۔ یہ لوگ اعراف کی بلندیوں سے سب سے پہلے اہل جنت کو سلامتی و مبارکی کا پیغام دیں گے۔ لم یدخلوہا و ھم یطمعون سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کو جنت میں بھیجنے سے پہلے ہی یہ مشاہدہ کرایا جائے گا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کی سچائی ہر پہلو سے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جنت میں داخل ہوں۔ وھم یطمعون کے الفاظ سے ان کی تواضع جھلکتی ہے۔ باوجودیکہ یہ سارا اعزازو اکرام صاف شہادت رہا ہوگا کہ اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ و مقام کیا ہے لیکن وہ اپنی تواضع و فروتنی کے سبب سے اپنے آپ کو امیدوار رحمت ہی کے درجے میں سمجھیں گے چناچہ یہاں الفاظ ٹھیک ٹھیک ان کی ذہنی کیفیت کے اعتبار سے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ ملحوظ رہے کہ جو لوگ اللہ کی شانیں جانتے ہیں وہ اپنے آپ کو امید اور طمع کے درجے سے اونچا کبھی نہیں لے جاتے، یہ تنگ ظرفوں کا شیوہ ہے کہ وہ بہت تھوڑے میں بہک جاتے ہیں۔ حضرت ابراہی خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر فرماتے ہیں، والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین (شعراء :82) (اور وہ کہ جس سے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ جزا و سزا کے دن میری غلطی معاف فرمائے گا) ہمارے حضور نے ایک مرتبہ فرمایا، کوئی اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ بھی ؟ ارشاد ہوا ہاں میں بھی، الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ، میں بھی اسی وقت جنت میں جاؤں گا، جب اللہ کی رحمت مجھے ڈھانک لے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کو اہل دوزخ کی طرف طوجہ دلائی جائے گی، وہ پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ہمیں ان ظالموں کا ساتھی نہ بنائیو !

وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَاۗءَ اَصْحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔ یہ اسلوب بیان اکرام و اعزاز پر دلیل ہے۔ پہلے وہ اہل جنت کی کامرانیوں کا مشاہدہ کریں گے اور اس کے مشاہدے میں بالکل محو ہوجائیں گے اس لیے کہ وہاں حال یہ ہوگا کہ۔ زفرقر تا بقد ہر کجا کہ من نگرم۔ کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجاست۔ پھر اہل دوزخ کی طرف ان کو توجہ دلائی جائے گی کہ ذرا ایک نظر دشمنانِ حق کے انجام پر بھی ڈا لیجیے، ان پر نظر پڑتے ہی ان کی بان سے بےتحاشا تعوذ کی دعا نکلے گی۔ ربنا لا تجعلنا مع القوم المظالمین (اے ہامرے رب ہمیں ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیو) جس طرح اوپر وھم یطمعون کے الفاط سے ان کی تواضع و فروتنی پر عکس پڑتا ہے اسی طرح یہ دعا ان کے کمال خشیت کی بھی دلیل ہے اور جہنم کے منظر کی ہولناکی کی بھی۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور برجیوں والے کچھ اشخاص کو جن کو وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے، آواز دیں گے، کہیں گے، کیا کام آئی تمہارے تمہاری جمعیت اور تمہارا وہ سارا گھمنڈ جو تم کرتے تھے !

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ اصحاب الاعراف کا خطاب کفار کے لیڈروں سے : اصحاب اعراف کا یہ خطاب الفاظ سے واضح ہے کہ اہل دوزخ کے لیڈروں سے ہوگا اس لیے کہ اپنی جمعیت پر ناز اور اپنے مال و جاہ پر غرہ انہی کو تھا۔ دوخ میں یہ لوگ اپنے نمایاں نشان سے ممتاز ہوں گے اس وجہ سے اہل اعراف پہچان جائیں گے کہ یہ ابولہب ہے، ایہ ابوجہل، یہ فلاں اور یہ فلاں، ان کو مخاطب کر کے اہل اعراف ان سے یہ سوال بطور تفضیح کریں گے۔ ہر دور کے ائمہ کفر کا اپنے مال و اسباب اور اپنی تعداد و جمعیت پر غرہ قرآن میں تفصیل سے مذکور ہے۔ ہم نے یہاں ‘ ما ’ کو سوالیہ مفہوم میں لیا ہے۔ اس میں زور بھی زیادہ ہے اور قرآن کے نظائر سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ پھر بعد کا جملہ، جو اس سے متعلق ہے، واضح طور پر سوالیہ ہے بھی۔ اگر اس کو بعد والے جملے سے الگ مفہوم میں لیں گے تو کلام میں ہم آہنگی باقی نہیں رہے گی۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہی ہیں وہ لوگ جن کے باب میں تم قسمیں کھا کھا کے کہتے تھے کہ یہ کبھی اللہ کی کسی رحمت کے سزا وار نہیں ہوسکتے ! داخل ہو، جنت میں، اب نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا

اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۔ اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ۔ یہ سوال ان ائمہ کفر سے، اہل اعراف ساکنین جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کریں گے کہ بتاؤ کیا یہی وہ لوگ نہیں ہیں جن کے باب میں تم قسمیں کا کھا کے کہتے تھے کہ یہ کبھی خدا کے کسی فضل کے سزوار نہیں ہوسکتے ؟ قرآن میں مذکور ہے کہ سادات قریش اسلام کے خلاف ایک بہت بڑی دلیل یہی لاتے تھے کہ اگر اس میں کوئی خیر کا پہلو ہوتا تو کیا اس کے پیرو یہی فتو فقیر، فاقہ کش اور غلام و نادار بنتے ؟ خدا کی ساری نعمتوں کے سزوار تو ہم بنائے گئے، پھر اوس کے لیے ان کا انتخاب کیوں ہوا ؟ اہل اعراف ان کے اسی غرور کو سامنے رکھ کر سوال کریں گے کہ فرماؤ، جن کو تم کسی فضل و رحمت کا سزوار نہیں سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں اور تم کہاں ہو ؟ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۔ اوپر والا سوال تو اہل اعراف ائمہ کفر کو مخاطب کر کے کریں گے اور یہ بات وہ اہل جنت کو مخاطبت کر کے ان سے بطور تہنیت و تبریک کہیں گے جس سے برسر موقع ان کی توہین کرنے والوں کی تفضیح بھی ہوجائے گ۔ فعل تمکن و استمرار کے مفہوم میں : یہاں مکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اہل جنت تو بالفعل جنت میں براجمان ہوں گے ہی پھر ان کو مخاطب کر کے ادخلوا الجنۃ (جنت میں داخل ہو) کہنے کے کیا معنی ؟ غالباً اس سوال سے بچنے کے لیے ارباب تاویل نے اس جملہ کے مخاطب اور اس کے قائل کے تعین میں بڑے تکلف سے کام لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سارا تکلف انہیں اس وجہ سے کرنا پڑا کہ انہوں نے عربیت کے اس اسلوب کو ملحوط نہیں رکھا کہ عربی زبان میں فعل ہر جگہ اپنے ابتدائی معنی ہی پر دلیل نہیں ہوا کرتا، بعض مواقع میں وہ تمکن و استمرار پر دلیل ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھ لیجیے یہی اخلوا، سورة یوسف میں استعمال ہوا ہے جو اپنے ابتدائی مفہوم میں نہیں بلکہ تبریک و تہنیت اور تمکن و استمرار کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ وقال ادخلوا مصر انشاء اللہ امنین (یوسف :99) (پس جب وہ یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو انشاء اللہ امن کے ساتھ)۔ یہ اس موقع کا ذکر ہے جب حضرت یوسف کے سارے بھائی، ان کی ہدایت کے بموجب، اپنے والدین کو ساتھ لے کر، حضرت یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور حضرت یوسف ؑ نے اپنے دربار میں ان کی پذیرائی فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ان لوگوں کے مصر میں داخل ہونے کا سوال نہیں تھا۔ وہ مصر میں نہ صرف داخل ہوچکے تھے۔ اس وقت حضرت یوسف کا یہ فرمانا کہ ادخلوا مصر انشاء اللہ امینین، صریحا تبریک و تہنیت اور بشارتِ تمکن کے مفہوم ہی میں ہوسکتا ہے۔ ہمارے نزدیک ٹھیک اسی مفہوم میں اصحابِ اعراف کا اہل جنت کو مخاطب کر کے ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون۔ فرمانا بھی ہے۔ یعنی مال و جاہ کے غرور کے متوالے تو تمہیں نہایت حقیر و ذلیل سمجھتے رہے ہیں لیکن اللہ نے ان کے علی الرغم تمہیں جنت کی سرفرازی بخشی تم اس میں سرفراز رہو، اب نہ تمہارے لیے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے، جو اللہ نے تمہیں بخش رکھی ہیں، کچھ ہم پر بھی کرم فرماؤ، وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام کر رکھی ہیں

وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِيْضُوْا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاۗءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ۭ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۔ لفظ تحریم کا ایک خاص مفہمو : حَرَّمَهُمَا میں جس تحریم کا ذکر ہے یہ شرعی حرمت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس معنی میں ہے جس معنی میں فانہا محرمۃ علیہم اربعین سنۃ (مائدہ :26) (پس یہ سرزمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام کردی گئی) میں ہے۔ یعنی چالیس سال کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حتمی طور پر اس سرزمین سے محروم کردیا۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز سے حتمی طور پر محروم کردے تو نہ وہ چیز کسی طرح اس کو پہنچ سکتی اور نہ وہ اس کو کسی طرح پا سکتا۔ اہل جنت کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سوال کے پورے کرنے میں تو کوئی عذر نہیں ہے، ان کے پاس ہر نعمت کی فراوانی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے اہل دوزخ کو محروم کردیا ہے اس وجہ سے نہ یہ ان کو پہنچ سکتی ہیں نہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

ان کے لیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا، پس آج ہم ان کو نظر انداز کریں گے جس طرح انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ۔ ایک برمحل تضمین۔ یہ آیت بطور تضمین ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے جواب حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ کی وضاحت اپنی طرف سے فرما دی کہ کافرین سے کون لوگ مراد ہیں۔ اس تضمین سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا۔ گویا قریش پر یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف دوسروں کی حکایت ہے بلکہ یہ ان کی بھی حکایت ہے۔ اس قسم کی تضمین کی مثال اوپر آیت 45 میں بھی گزر چکی ہے۔ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا، یعنی اللہ نے جو چیز ان پر دین کی حیثیت سے اتاری اس کو انہوں نے ہنسی مسخری میں اڑایا، ہر چیز کا ایک محل و مقام ہوتا ہے۔ دین اس لیے آتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں صحیح نقطہ نظر متعین کرے تاکہ لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کی بجائے فلاح وسعادت کی راہ اختیار کریں۔ لیکن جن لوگوں نے زندگی کو بازیچہ اطفال سمجھ رکھا ہے وہ اپنی خواہشات کے پیچھے ایسے اندھے ہوجاتے ہیں کہ وہ خواہشات کے خلاف سنجیدہ سے سنجیدہ حقیقت کو بھی مذاق تصور کرتے اور مذاق ہی میں اس کو اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔rnَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا، یہ اس لا ابالیانہ طرز عمل کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ وہ کیوں زندگی کی نہایت سنجیدہ حقیقتوں سے اندھے بنے رہے۔ فرمایا کہ دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں رکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں، عیش کر رہے ہیں، دندنا رہے ہیں اور کوئی باز پرس ان سے نہیں ہو رہی ہے اس سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ بس دنیا اسی لیے پیدا ہوئی ہے۔ اگر کسی اللہ کے بندے نے ان کو توجہ دلائی کہ اس کے بعد ایک روز حساب کتاب بھی آنے والا ہے تو اس کے لتے لے ڈالے کہ یہ دیوانہ اور خبطی ہے۔ ہماری آزادی اور ہمارے عیش کو مکدر کر رہا ہے۔ فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا، یہاں ننساہم نظر انداز کردینے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور یہ فعل کا استعمال اس اسلوب پر ہے جس کو دوسری جگہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ استعمال بظاہر فعل ہوتا ہے لیکن مقصود اس سے اس کا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولتا نہیں۔ یہ بھولنا نظر انداز کرنے کی تعبیر ہے۔ قرآن کے نظائر سے واضح ہوتا ہے کہ ‘ لقاء ’ کہیں اپنے مفعول کی طرف مضاف ہوا ہے، کہیں اپنے ظرف کی طرف، لیکن مدعا دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ یعنی رب سے ملاقات آخرت میں، انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا، یعنی اس دن میں اپنے رب کی ملاقات کو بھلائے رکھا۔ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ ، یہ جملہ چونکہ اوپر والے جملے ہی پر عطف ہے اس وجہ سے یہ در اصل کما کانوا کے مفہوم میں ہے، کما کے اندر تشبیہ و تمثیل کے ساتھ ساتھ سببیت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ‘ اور بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ’ تو یہ ترجمہ بالکل صحیح ہوگا
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہمنے علم قطعی کی بنیاد پر کی ہے، ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰي عِلْمٍ هُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰي عِلْمٍ ، ھم کا مرجع قریش ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر اپنے اس احسانِ عظیم کا اظہار فرمایا ہے جو قرآن کی صورت میں ان پر فرمایا۔ اس کتاب کی صفت یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں ہم نے اپنے علم قطعی کی روشنی میں ان تمام امور کی تفصیل بیان کردی ہے جن سے آگاہ ہونا دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔ اس تفصیل سے ان تفصیلات کی طرف بھی اشارہ ہے جو اوپر اہل جنت، اہل دوزخ اور اصحاب الاعراف سے متعلق بیان ہوئی ہیں۔ جو ہیں اگرچہ عالم آخرت سے متعلق لیکن کوئی ان کو محض ہوائی اور خیالی باتیں (Fuction) بلکہ یہ پیش آنے والے حقائق ہیں تمام تر علی علم بیان ہوئے ہیں۔ یہاں لفظ علم کی تنکیر موقع کلام دلیل ہے کہ تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی یہ خدا کے عظیم، وسیع، محیط کل علم پر مبنی ہیں۔ ان میں سے ہر بات قطعی اور اٹل ہے۔ خدا قیامت کے روز کی باتیں بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح کل اور آج کی باتیں جانتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی نے ان کو خیالی باتیں قرار دے کر ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تو وہ سوچ لے کہ وہ دن دور نہیں جب وہ ایک ایک بات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور پکار اٹھے گا کہ اللہ کے رسول نے جن جن باتوں کی خبر دی تھی سب سچی ثابت ہوئیں۔ هُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ، ہدایت و رحمت کے دو لفظوں نے آغاز و انجام اور دنیا و آخرت دونوں کو سمیٹ لیا ہے۔ یعنی یہ کتاب لوگوں کے لیے دنیا میں ہدایت ہے اور اس ہدایت کو اختیار کرنے کا ثمرہ آخرت میں رحمت ہے۔ یومنون، فعل جیسا کہ ہم دوسرے محل میں واضح کرچکے ہیں ارادہ فعل کے معنی میں ہے۔ اس کا ترجمہ یوں کیجیے۔ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

یہ لوگ بس اس کی حقیقت کے مشاہدے کے منتظر ہیں جس روز اس کی حقیقت سامنے آئے گی، وہ لوگ جنہوں نے اس کو پہلے نظر انداز کیے رکھا، بول اتھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے تھے، تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی کہ ہماری سفارش کریں یا ہے کوئی صورت کہ ہم دوبارہ لوٹائے جائیں کہ اس سے مختلف عمل کریں جو پہلے کرتے رہے ہیں، ، انہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو کچھ وہ گھڑتے رہے تھے سب ہوا ہوگئے

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاۗءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ ۭقَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ ، تایل کے لفظ پر ہم سورة آل عمران کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ساری باتیں، جو قرآن سنا رہا ہے، ہیں تو اٹل حقیقتیں لیکن چونکہ ابھی یہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں بلکہ مستقبل کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں اس وجہ سے منکرین ان کو خالی خولی دھمکی سمجھتے ہیں اور منتظر ہیں کہ یہ واقعات کی شکل میں ظاہر ہوں تو ان کو دیکھ کر یقین کریں گے۔ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ باتیں واقعات کی شکل میں ظاہر ہوں گی تو آج جن کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ پکار اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسولوں نے جن باتوں سے ہمیں آگاہ کیا تھا وہ سب حقیقت ثابت ہوئیں۔ اس وقت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ ہے کوئی سفارشی کرے یا ہے کوئی صورت کہ ہم دنیا میں بھر جائیں اور کچھ نیکی کمائیں لیکن ان کی یہ حسرت حسرت ہی رہے گی اس لیے کہ نیکی کی کائی کا وقت نکل چکا ہوگا۔ جو وقت ان کو نیکی کمانے کے لیے ملا اس میں انہوں نے بدی کمائی اور جھوٹے سفارشیوں پر تکیہ کیے رہے۔ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ زندگی کی اصلی قیمت، جیسا کہ سورة العصر میں واضح فرمایا ہے، یہی ہے کہ اس میں نیکی کمائی جائے۔ جس نے نیکی نہ کمائی اس کی زندگی وبال بنی اور اس نے برے قیمتی سرمایہ سے اپنے لیے تباہی کا سودا کیا۔ ضل عنہم، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے فرضی معبود سب خواب و خیال ثابت ہوں گے اس لیے کہ ان کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ تھی ہی نہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے گھڑ کے ان کو خدا کی طرف منسوب کر رکھا تھا کہ خدا نے ان کو اپنا شریک و شفیع بنایا ہے۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ ڈھانکتا ہے رات کو دن پر جو اس کا پوری سرگرمی سے تعاقب کرتی ہے اور اس نے سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے جو اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ آگاہ کہ خلق اور امر اسی کے لیے خاص ہے۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، عالم کا رب !

فصل 8۔ آیات 54، 58 کا مضمون : اوپر بات شرک کی بےحقیقتی و بد انجامی پر ختم ہوئی تھی۔ آگے کی آیات میں توحید کے مضمون کی وضاحت فرما کر اس کی تکمیل کردی کہ آسمانوں اور زمین کا خالق خدا ہے اور وہ اس کائنات کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ اپنے عرش حکومت پر متمکن ہو کر تمام کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے۔ دن اور رات، سورج اور چاند، ستارے اور سیارے سب اسی کے احکام کی تعمیل میں شب و روز گردش میں ہیں۔ جس نے خلق کیا ہے اسی کا امر و حکم تمام کائنات پر جاری ہے اور خالق کائنات کے سوا دوسرا کوئی حق دار کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا کی خلق کی ہوئی کائنات میں اس کا حکم چلے، پھر یہ کائنات اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کو خلق کرنے والی ہستی بڑی ہی با فیض اور نہایت ہی بابرکت و رحمت ہستی ہے تو سرا و علانیۃ ً اسی کو پکارو اور امید و بیم بہرحان میں اسی سے لَو لگاؤ۔ خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک گرداننا خدا سے بغاوت اور اس کی سرزمین میں فساد برپا کرنا ہے اور خدا ان لوگوں کو کبھی پسند نہیں کرتا جو اس سے سرتابی کریں اور اس کی زمین میں فساد مچائیں۔ اس کے بعد بارش کی ایک تمثیل پیش کی ہے جس سے بیک وقت تین حقیقتیں واضح فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی رحمت اس کے نیکو کار بندوں سے بہت قریب ہے اس وجہ سے امید و بیم ہر حال میں خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، خدا اور اس کی رحمت کو دور سمجھ کر دوسروں کا سہارا نہیں پکڑنا چاہیے، یہ خدا ہی ہے جو زمین کے خشک ہوجانے اور تمہارے مایوس ہوجانے کے بعد اپنی رحمت کی گھٹائیں اٹھاتا اور تمام زمین کو جل تھل کردیتا ہے۔ دوسری یہ کہ جس طرح تم زمین کو دیکھتے ہو کہ بالکل بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار ہوجاتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تمہارے مر کھپ جانے کے بعد تمہیں از سرِ نو زندہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ تیسری یہ کہ جس طرح بارش کا اثر مختلف صلاحیت کی زمینوں پر مختلف شکل میں نمایاں ہوتا ہے، زرخیز زمین لہلہا اٹھتی ہے، بنجر زمین صرف خار و خس اگاتی ہے، اسی طرح قرآن کی شکل میں ہدایت و رحمت کی جو بارش اس زمین پر نازل ہوئی ہے اس سے بھی مختلف صلاحیت کی طبیعتیں مختلف اتر لیں گی، جنہوں نے اپنی فطرت کو مسخ ہونے سے بچایا ہے وہ اس سے فٰض پائیں گے اور ان کے دل نور ایمان سے جگمگا اٹھیں گے۔ لیکن جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے ان کے اندر صرف کفر وعناد کی جھاڑیاں اگیں گی۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔ جو خالق ہے وہی رب ہے : اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اہل عرب آسمان و زمین اور تمام دوسری چیزوں کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن رب انہوں نے اللہ کے سوا اور بھی بنا رکھے تھے۔ ان کا تصور یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا خلق کر کے اس کے انتظام و انصرام کے مختلف شعبے اپنے دوسرے کارندوں میں تقسیم کردیے ہیں اور اب ان شعبوں کے اصلی کرتا دھرتا وہی ہیں اس وجہ سے ان کی عبادت ضروری ہے۔ وہی خدا کے قرب کا واسطہ ہیں اور رزق و فضل اور مال و اولاد کے خزانوں پر عملاً انہی کا تصرف ہے۔ اگر ان کو نہ راضی رکھا جائے تو اکیلے اللہ تعالیٰ سے کام نہیں چل سکتا۔ انہی کارندوں کو وہ ارباب، شرکاء اور شفعاء کا درجہ دیتے تھے اور گو نظری طور پر ان کی میتھالوجی میں خدا کو خالق کائنات اور رب الارباب کی حیثیت حاصل تھی لیکن عملاً ان کی ساری وابستگی رب الارباب سے نہیں بلکہ ان فرضی ارباب ہی سے رہ گئی تھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی گمراہی پر ٹوکا ہے کہ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، وہی رب بھی ہے، جب خالق وہ ہے اور اس سے تمہیں انکار نہیں تو دوسروں کو رب کس منطق سے بنائے بیٹھے ہو۔ تخلیق کائنات میں تدریج و ارتقاء کی حکمتیں : فی ستتہ ایام : میں ایام سے رماد یہ ہمارے چوبیس گھٹے والے دن نہیں ہیں بلکہ اس سے خدائی دن مراد ہیں۔ خدا کی اسکییں اس کے اپنے دنوں کے حساب سے بروئے کار آتی ہیں جو ہمارے حساب سے، جیسا قرآن میں تصریح ہے، ہزار سال کے برابر بھی ہوتے ہیں اور پچاس ہزار سال کے برابر بھی۔ اس وجہ سے چھ دنوں سے مراد چھ ادوار ہیں۔ دنیا کا چھ ادوار میں پیدا ہونا تورات میں بھی مذکور ہے اور قرآن میں بھی بلکہ جہاں تک اس کے تدریجی ارتقا کا تعلق ہے فلسفہ جدید بھی بڑے شدومد سے اس کا مدعی ہے۔ اس وجہ سے بجائے خود اس کائنات کا ارتقا قدیم و جدید میں متنازع فیہ نہیں ہے البتہ نظریہ ارتقاء کی تقریر اس کے عَلَم برداروں کی طرف سے جس انداز میں کی جاتی ہے اس میں بہت سے منطقی خلا ہیں جو اس وقت تک نہیں بھر سکتے جب تک ان عقلی و فطری اصولوں کو تسلیم نہ کیا جائے جو قرا ان نے اس ارتقا کے بیان فرمائے ہم انشاء اللہ اس کے محل میں اس مسئلہ پر گفتگو کریں گے۔ دلائل توحید :۔ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو چھ دنوں، یا چھ ادوار میں پیدا کرنے کے بجائے اپنے ایک کلمہ کون سے آن کے آن میں بھی پیدا کرسکتا تھا۔ یہ بات اس کی قدرت سے بعید نہیں تھی۔ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ یہ چھ ادوار میں پیدا ہو۔ خدا نے اپنے خلق و تدبیر کے ہر شعبے میں جس طرح اپنی قدرت نمایاں فرمائی ہے اسی طرح اپنی حکمت، ربوبیت اور رحمت کی شانیں بھی نمایاں فرمائی ہیں اور اس کی ان شانوں کا نمایاں ہونا بھی انسان کے کمال عقلی و روحانی کے لیے اسی طرح ضروری ہے جس طرح خدا کے کمال قدرت کا نمایاں ہونا ضروری ہے۔ ہم نے سورة انعام کی تفسیر میں واضح کیا ہے کہ خدا کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں تھی کہ ہماری غذا کے لیے براہ راست آسمان سے روٹی برستی پھر یہ کیوں ضروری ہوا کہ ہوائیں چلیں، بادل اٹھیں، مینہ برسے، کھیتوں میں ہل چلیں، گندم بوئی جائے، انکھوے نکلیں، ڈنٹھل پیدا ہوں، اس میں برگ و بار نمایاں ہوں، فصل اپجے، خوشے نمودار ہوں، پھر ان میں دانے بیٹھیں، پھر گرم و خشک ہوائیں چلیں جو ان دانوں کو پکائیں اور اس طرح کہیں چھ مہینے کے گرم و سرد مراحل سے گزر کر گندم کا دانہ کھیت سے کسان کے کھتے تک پہنچے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ اس طرح اس کائنات کی ایک ایک چیز خدا کی آیت خالق و تدبیر اور اس کے عجائب قدرت و حکمت کا ایک دفتر بن گئی ہے۔ انسان اس کے جس گوشے پر بھی نظر ڈالتا ہے اگر آنکھیں کھلی ہوئی اور عقل بیدار ہو تو معرفتِ الٰہی کا ایک دبستان کھل جاتا ہے۔ ایک ایک شے نہ جانے کتنے بھیس بدلتی اور کتنے جامے تبدیل کرتی ہے تاکہ وہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرے اور ہم ان کے اندر خدا کی نشانیوں کو دیکھیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔ جو حال اس دنیا کے ذرے ذرے کا ہے وہی حال بحیثیت مجموعی اس دنیا کا ہے۔ یہ بھی ایک حادژہ کے طور پر یک بیک بن کر نہیں کھڑی ہوگئی ہے بلکہ اس کی عمیر کرنے والے نے بڑی تدریج و حکمت اور بڑے اہتام کے اتھ مختلف مراحل میں اس کو تکمیل تک پہنچایا ہے ویہاں تک کہ وہ وہ انسان فروکش ہونے کے لیے تمام ضروری و لوازم سے آراستہ ہوگئی۔ یہ اہتمام و تدریج شاہد ہے کہ یہ کوئی اتفاق حادثہ یا کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے بلکہ ایک باغایت و بامقصد کارخانہ ہے اور ضرور ہے کہ ایک دن وہ غایت و مقصد ظہور میں آئے۔ اس نکتہ پر مفصل بحث ہم سورة ہود کی آیت 7 کے تحت کریں گے جہاں اس اہتمام کے پہلو سے جزا و سزا پر استدلال کیا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ۔ یہ اس شان اہتمام کے ساتھ آسمان و زمین کو پیدا کرنے کا ایک بدیہی نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جس نے یہ سارا کارخانہ اس تدریج و اہتمام کے ساتھ بنایا سنوارا کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس کو پیدا کر کے اس کی تدبیر و انتظام سے بالکل بےتعلق ہو کر کسی گوشے میں جا بیٹھے، اس خلق کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کے بعد اس کے تخت حکومت پر متکمن ہو کر اس کے تمام امور و معاملات کا انتظام بھی فرمائے، چناچہ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے بعض جگہ استوی علی العرش کے ساتھ یدبر الامر بھی آیات ہے، خدا خلق تو کرے لیکن پھر اس کا انتظام نہ کرے یہ خدا پر نہایت ہی سفیہانہ تہمت ہے۔ ایک بادشاہ اگر بڑے اہتمام سے ملک حاصل کرے لیکن ملک حاصل کر کے کسی گوشے میں جا بیٹھے، اس میں امن و عدل کا اہتمام نہ کرے، مفسدین اس میں دھاندلی مچاتے پھریں تو ساری خلق اس کو نالائق بادشاہ کہے گی، پھر ایک معمولی بادشاہ کے لیے جو بات عیب میں داخل ہے آسمان و زمین کے خالق ومالک کے لیے وہ بات کس طرح باور کی جاسکتی ہے ؟ یہ مشرکین کے اس مزعونہ کی تردید ہے کہ خدا خالق تو ہے لیکن آسمان و زمین کو خلق کر کے اس نے عالم کا انتظام و انصرام اپنے دوسرے شرکاء کے حوالے کردیا ہے اور خود الگ تھلگ جا بیٹھا ہے۔ ساتھ ہی یہ ان کم سواد فلسفیوں کی بھی تردیدی ہے جو خدا کو صرف ایک گوشہ نشین علت العلل کا درجہ دیتے ہیں جس نے محرک اول کی حیثیت سے ایک حرکت تو پیدا کردی لیکن پھر اس کو اس سے کچھ بحث نہیں رہی کہ اس کی اس حرکت کے کیا نتائج نکلتے ہیں اور اس کو کنٹرول کرنا کس کی ذمہ داری ہے، فرمایا کہ خدا کائنات کے پیدا کر کے عرش پر متمکن ہے اور کائنات کا انتظام فرما رہا ہے۔ عرش، اقتدار کی تعبیر ہے اور استوی کے بعد جب علی آتا ہے تو اس کے معنی تمکن کے ہوجاتے ہیں۔ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا۔ حثیث، اور حثوث، کے معنی تیز اور سرگرم کے ہیں، یہ اس تدبیر و انتظام کی وضاحت ہو رہی ہے جو استوی علی العرش کے اندر مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نظام کائنات میں جو حرکت بھی ہو رہی ہے سب اس کے خالق ہی کی تدبیر و انتظام سے ہو رہی ہے۔ وہی ہے جو رات کو دن پر ڈھانکتا ہے اور اسی کے حکم اسے سرگرمی سے وہ اس کا تعاقب کر رہی ہے۔ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ، وہی ہے جس نے سورج اور چاند اور دوسرے تمام نجوم و کواکب پیدا کیے، مسخرات بامرہ، یعنی وہ اپنے اپنے معینہ فرائض اور اپنے اپنے معینہ حدود قیود کے خدا کے حکم سے پابند ہیں اور پوری سرگرمی کے ساتھ شب و روز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ ایک پل کے لیے بھی غافل ہوں یا بال برابر بھی اپنے حدود سے متجاوز جو خالق ہے اسی کو حکومت کا حق ہے : ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ، بیان واقعہ بھی ہے اور اظہار حق بھی۔ یعنی جس نے یہ کائنات خلق کی ہے اسی کا امر و حکم، اس کے گوشہ گوشہ میں جاری ہے، ذرہ ذرہ شب و روز اسی کے احکام کی تعمیل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگرم کار ہے اور یہی حق بھی ہے کہ اسی کا امر و حکم اس کے ہر گوشے میں چلے اس لیے کہ جس نے خلق کیا ہے اس کے سوا کسی اور کا حکم اس میں چل کس استحقاق کی بنا پر سکتا ہے یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ حثیثا کے لفظ سے اس امر کا اظہار ہو رہا ہے کہ ہر چیز پورے جوش و سرگرمی کے ساتھ اپنے مفوضہ فرائض انجام دے رہی ہے، کسی چیز سے بھی نیم دلی یا سرد مہری کا اظہار نہیں ہوتا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان کے لیے بھی خدا کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے یہی رویہ زیبا ہے کہ وہ اس کی بندگی اور اطاعت میں اسی طرح سرگرم ہو۔ دوسری بات یہ قابل لحاظ ہے کہ یہاں رات کی سرگرمی کا ذکر تو فرمایا لیکن دن کی سرگرمی کا ذکر نہیں فرمایا در آنحالیکہ دوسرے مقام میں رات کے ساتھ دن کا بھی زکر فرمایا ہے مثلا وھو الذی جعل اللیل والنہار خلفۃ لمن اراد ان یذکر او اراد شکور (الفرقان :62)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رات کے ذکر کے بعد سورج کا ذکر آگیا ہے جس سے مقابل پہلو خود بخود واضح ہوگیا۔ خدا اپنے جلال اور رحمت دونوں میں یکتا ہے : تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، تفاعل میں غایت درجہ مبالغہ کا مضمون پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے تبارک اللہ کے معنی ہوں گے، بڑی ہی برکت و رحمت والی ہستی ہے اللہ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے خلق و تدبیر کی جو شانیں واضح فرمائی ہیں ان سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، جس طرح خدا کی قدرت و عظمت کا اظہار ہو رہا ہے اسی طرح اس کی رحمت و ربوبیت، اس کے جود و نوال اور اس کی کرم نوازی و فیض بخشی کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ یہ خدا کے باب میں اس غلط فہمی کا ازالہ ہے جس میں مشرک قومیں بالعموم مبتلا ہوئیں۔ کہ انہوں نے خدا کی عظمت و جبروت کا تصور اس قدر بڑھایا کہ اس کی صفات رحمت و برکت کا تصور اس کے نیچے بالکل دب کر رہ گیا۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بندوں کے لیے خدا سے براہ راست تعلق و توسل ناممکن سمجھ لیا گیا اور پھر ایسے وسائل و وسایط کی تلاش ہوئی جو خدا سے مقصد برا آری کا ذریعہ بن سکٰں۔ ہم بقرہ کی تسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ صفات الٰہی کے باب میں یہ گمراہی شرت کے عوامل میں سے ایک بہتر بڑا عامل ہے۔ مشرکین نے بہت سے فرضی معبودوں کے پرستش، بالخصوس ملائکہ کی پرستش، اسی وجہ سے کرنی شروع کی کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں، یہ ہم سے راضی رہیں تو یہ اپنے باپ کو ہم سے راضی رکھیں گی اور پھر سارا جہان ہم پر مہربان ہوجائے گا۔ قرآن نے یہاں تبارک اللہ رب العالمین کے الفاط سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کائنات جس طرح اپنے خالق کی بےپایاں عظمت و جبروت پر شاہد ہے اسی طرح اس کی بےپایاں برکت و رحمت پر بھی گواہ ہے تو اس سے مانگنے کے لیے کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں، خوف اور طمع، امید اور بیم ہر حال میں اسی کو پکارو اور اسی سے مانگو، جس طرح وہ اپنے جلال میں یکتا ہے اسی طرح اپنی رحمت میں بھی یکتا ہے۔