6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 6:29–32

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اور مرنے کے بعد ہم اٹھائے نہیں جانے کے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، وہ ان سے پوچھے گا، کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے ؟ وہ جواب دیں گے، ہاں، ہمارے رب کی قسم، یہ امر واقعہ ہے ! فرمائے گا پس چکھو اپنے کفر کی پاداش میں۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی اچانک آپہنچے گی وہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو اس باب میں ہم سے ہوئی ! اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ یہ اٹھائیں گے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے البتہ دار آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقوی رکھتے ہیں تو کیا تم سمجھتے نہیں !

29 تا 32: ان آیات میں کوئی ادبی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ مکذبین قرآن کے بعد اب یہ مکذبین قیامت کا انجام بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا کی زندگی ہی کو زندگی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے یا تو قائل ہی نہ تھے یا اس کو بہت ہی بعید از قیاس و امکان چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ ایک دن یہ سب اپنے رب کے حضور لا کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے سوال ہوگا کہ کیوں یہ دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور قیامت کا آنا ایک امر واقعہ ثابت ہوا یا نہیں ؟ اس وقت وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم ! یہ تو ایک امر واقعہ ہے۔ حکم ہوگا کہ پھر اب اس دن کے انکار کی پاداش میں چکھو مزا عذاب کا۔ اس کے بعد مکذبین کو تنبیہ کے ساتھ اہل ایمان تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جن شامت زدوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا وہ سخت گھاٹے میں پڑے، جب قیامت کی گھڑی اچانک آدھمکے گی تو یہ حسرت سے اپنے سر پیٹیں گے اور کہیں گے ہم نے دنیا کی زندگی پر ریجھ کر اس دن کی تیاریوں میں جو کوتاہی کی اس افسوس ! فرمایا کہ اس دن ان کی تصویر یہ ہوگی کہ سب اپنے اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے، نہ ان کے ساتھ ان کے اعوان و انصار ہوں گے نہ شرکا و شفعاء، نفسی نفسی کا عالم۔ لاتزر وازرۃ وزر اخری، کوئی جان بھی کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہ بنے گی۔ پھر آگاہی دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا ہی برا ہوگا وہ بوجھ جس کو یہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اس لیے کہ یہ بوجھ ان کے سروں سے پھر کبھی اترنے والا نہیں۔ اس کے بعد آخرت سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے تسلی کا پہلو اور زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا کی زندگی جس نے انہیں آخرت سے غافل کردیا ہے کیا ؟ محض بےنتیجہ لہو و لعب، چند روزہ دل کا بہلاوا ! اصل شے تو دار آخرت اور اس کی زندگی ہے جو آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے اس دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ پس کیا تم سمجھتے نہیں۔ اگلی آیات 33-50 کا مضمون : پیغمبر ﷺ کو تسلی : اوپر کا مجموعہ آیات، جیسا کہ آپ نے دیکھا، تسلی کے مضمون پر ختم ہوا ہے۔ اب وہی تسلی کا مضمون آگے بڑھ رہا ہے۔ البتہ اس تسلی میں کچھ تیزی بھی آگئی ہے، اگرچہ یہ تیزی، جہاں تک پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کا تعلق ہے، اپنے اندر نہایت دلنواز ٹھنڈک رکھتی ہے اس لیے کہ اس میں عتاب و غضب کا جو پہلو ہے اس کا رخ تمام تر ان ہٹ دھرم منکرین کی طرف ہے جو درپے تھے کہ پیغبر کوئی معجزہ دکھائیں تب وہ مانیں گے کہ یہ پیغمبر ہیں اور جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں یہ خدا کا کلام و پیغام ہے۔ قدرتی طور پر پیغمبر ﷺ پر اور عام مسلمانوں پر بھی ان کے اس مطالبے کا اثر پڑتا تھا۔ خاص طور پر پیغبر ﷺ جو سراپا رافت و رحمت تھے اور اپنی قوم کے ایمان کے لیے اپنے اندر نہایت گہری تڑپ رکھتے تھے اس مطالبے سے متاثر ہو کر اس بات کے خواہش مند ہوجاتے تھے کہ ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ ظاہر ہوجائے، شاید یہ اس طرح ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تو پیغمبر ﷺ کو یہ تسلی دی کہ ان کا یہ مطالبہ تمہارے لیے وجہ پریشانی نہ بنے۔ یہ تمہاری تکذیب نہیں بلکہ آیات الٰہی کی تکذیب ہو رہی ہے تو جب خدا سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے اور ان کا مطالبہ پورا کرنے کی قدرت کے باوجود، پورا نہیں کر رہا ہے تو تم کیوں پریشان ہو۔ تم سے پہلے جو انبیا آئے ان کی بھی اسی طرح تکذیب ہوئی، انہوں نے برداشت کیا اسی طرح تم برداشت کرو۔ سنت الٰہی یہی ہے۔ اس کے بعد نہایت تیکھے اور تند انداز میں فرمایا کہ اگر اللہ بجبر و زور ان کو ایمان کی راہ پر لانا چاہتا تو سب کو آن کے آن میں مومن و مسلم بنا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہی پسند فرمایا کہ لوگ اپنی عقل و فہم سے کام لیں اور اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان کی راہ اختیار کریں تو تم ان کے ایمان کی خواہش سے مغلوب ہو کر کیوں اس بات کے لیے بےقرار ہوتے ہو کہ لازماً کوئی ایسا معجزہ ظاہر ہو ہی جائے جو ان کو قائل کر کے خدا کے آگے جھکا ہی دے۔ خدا تو یہ بات نہیں چاہتا۔ تم اگر چاہتے ہو تو آسمان و زمین جہاں سے ہوسکے اس طرح کا معجزہ لا کر دکھا دو۔ اس کے بعد بتایا کہ کن صفات کے لوگ ایمان لائیں گے، کن صفات کے لوگ معجزے ہی مانگتے رہیں گے۔ پھر ان کے مطالبہ کے مطابق معجزہ نہ بھیجنے کی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا اور اس کائنات میں قدرت کے جو بیشمار معجزات ہیں اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو دلائل وبراہین بیان فرمائے ہیں ان کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ جو لوگ ان چیزوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں وہ گونگے بہرے اور اندھے ہیں۔ ان کی آنکھیں کوئی چیز بھی نہیں کھول سکتی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر یہ لوگ کوئی نشانیٔ عذاب مانگتے ہیں تو ان سے پوچھو کہ اگر کوئی عذاب آیا یا قیامت ہی آگئی تو اس سے بچاؤ کا کیا سامان انہوں نے کر رکھا ہے ؟ اس وقت تو خدا خدا ہی پکاریں گے۔ اس سلسلے میں انبیاء اور ان کی قوموں کی تاریخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان قومون کو ہم نے اپنی اس طرح کی نشانیاں دکھائیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تباہ کردی گئیں۔ اسی طرح اگر یہ کسی ظاہری یا باطنی پکڑ میں آگئے تو اس سے ان کو خدا کے سوا کون بچانے والا بنے گا ؟ آخر میں انبیاء کا فریضہ منصبی بتا دیا کہ ان کا کام انذار وتبشیر ہے نہ کہ معجزے اور عذاب کی نشانیاں دکھانا اور پیغمبر ﷺ کی زبان سے اعلان کرادیا کہ نہ میں خدا کے خزانوں کا مالک ہوں، نہ غیب جانتا ہوں، فرشتہ ہونے کا مدعی ہوں، بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو خدا کی طرف سے مجھ پر آتی ہے۔ جس کا جی چاہے اس کو مانے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ پر بہرحال ثابت ہے کہ خدا کے ہاں اندھے اور ڈھٹیارے دونوں ایک درجہ میں نہیں ہوں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم آگاہ رہے ہیں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے تم کو غم ہوتا ہے تو صبر کرو، یہ تو تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ ، بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مضارع پر اس طرح قد آتا ہے تو وہ پتہ دیتا ہے کہ یہاں فعل ناقص محذوف ہے۔ گویا قَدْ نَعْلَمُ اصل میں قد کنا نعلم ہے جس سے مضمون میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ یہ بات برابر خدا کے علم میں رہی ہے اور ہے وہ اس سے کبھی بیخبر نہیں ہوا کہ جو کچھ یہ ہٹ دھرم منکرین و مکذبین کہتے ہیں اس سے تمہیں غ پہنچتا ہے۔“ جو کچھ کہتے ہیں ”سے مراد اسی طرح کی باتیں ہیں جن کی طرف آیت 8 میں اشارہ گزر چکا ہے یا اگے آیا 37 تا 50 میں آ رہا ہے کہ اگر یہ خدا کے فرستادہ ہیں تو یہ کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتے، ان پر ان کی صداقت کی منادی کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا، یہ آسمان سے براہ راست کوئی کتاب مابین الدفتین اترتی کیوں نہیں دکھاتے، یہ کسی خزانے کے مالک کیوں نہ ہوئے، جس عذاب کے ڈراوے سنا رہے ہیں اس کا کوئی نمونہ کیوں نہیں دکھاتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ فرمایا کہ یہ سب باتیں ہم جانتے، دیکھتے، سنتے رہے ہیں تو پھر علم اور قدرت کے باوجود اگر ہم نے ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا تو اطمینان رکھو ہم نے اسی میں حکمت اور بہتری سمجھی۔ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ ، یہ تسکین و تسلی کا نہایت دلنواز جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے علم اور قدرت کے باوجود ان کی ان خرافات کا کوئی نوٹس نہیں لیا تو تم بھی صبر کرو، یہ تمہاری تکذیب تو نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس تمام خاکبازی اور اس تمام استہزا کے ہدف تنہا تمہی تو نہیں ہو۔ اصل ہدف تو ہم اور ہماری کتاب ہے۔ پھر تم اپنے دل کو آزردہ کیوں کور، معاملے کو ہم پر چھوڑو۔ ساتھ ہی ان کے لیے ظالمین کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ اس سے نقصان کسے پہنچ رہا ہے، خود انہی کو، یہ بدقسمت اور نامراد لوگ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ نہ تمہارا کچھ بگار رہے ہیں، نہ خدا کا۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور پیغمبروں کی کچھ سرگزشتیں تو تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں۔

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ، یہ اسی تسکین و تسلی کے مضمون کی تائید وتقویت کے لیے اس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور ان کی امتوں کے امتحان کے لیے پسند فرمائی ہے۔ وہ یہ کہ انبیا اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی براہ راست مدد سے ہمکنار ہونے کے لیے ابتلا و امتحان کے ایک طویل اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر خدا کی نصرت ظاہر نہیں ہوتی۔ اس دوران میں ان انبیاء کی قوموں کی طرف سے برابر ان کی تکذیب ہوتی ہے۔ ان کو ہر قسم کی ایذائیں دی جاتی ہیں اور ہر پہلو سے ان کو زچ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح جو کچھ حق کے مخالفین کے اندر ہوتا ہے وہ بھی ابھر کر باہر آجاتا ہے اور جو جو ہر نبی اور اس کے ساتھیوں کے اندر ہوتا ہے وہ بھی نکھر کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ وقت ہوتا ہے کہ منکرینِ حق پر خدا کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور نبی اور ان کے ساتھی سزا وار ہوتے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی مدد ظاہر ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی سنت ہے اور اللہ کی سنت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ تمام رسولوں کی سرگزشتیں اس سنت اللہ پر شاہد ہیں اور تمہیں ان سرگزشتوں کا کچھ حصہ سنایا بھی جا چکا ہے جس سے تم پر اس حقیقت کو واضح کرنا مقصود ہے کہ جس طرح کے حالات سے انہیں گزرنا پڑا ہے اسی طرح کے حالات سے تمہیں بھی گزرنا ہے۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کا اعراض تم پر گراں گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی زینہ ڈھونڈ سکو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لا دو تو کر دیکھو۔ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو۔

وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ ، اس جملہ میں جواب شرط محذوف ہے اور فصیح عربی میں جواب شرط کا حذف ایک معروف بات ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔ جہل کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں تفصیل کے ساتھ بھچ کر کے بتا چکے ہیں کہ عربی میں یہ لفظ علم اور حلم دونوں کے ضد کی حیثیت سے آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال ‘ حلم ’ کے ضد کی حیثیت ہی سے ہے اسی وجہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جذبات سے مغلوب ہوجانا۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اپنی طہارت فطرت کے سبب سے جذبات نفس اور خواہشات نفس سے تو کبھی مغلوب نہیں ہوتے لیکن جذبات خیر میں سے کسی جذبہ کا غلبہ ان پر بھی کبھی کبھی اتنا ہوجاتا ہے جو حد مطلوب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بجائے خود نہایت اعلی بات ہے لیکن حضرات انبیا چونکہ معیار اور کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پہلو میں بھی ان کو حد مطلوب سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیے کہ نبی کے اندر اس بات کی شدید آرزو ہوتی ہے کہ اس کی قوم ایمان لائے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ یہ جذبہ نبی کی رافت و رحمت کی دلیل اور اس کی غیرت حق کی شہادت ہے لیکن یہ جذبہ بھی مطلوب اسی حد تک ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ کی اس سنت سے ہم آہنگ ہے جو لوگوں کے کفر و ایمان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی طرف آیت 34 میں اشارہ گزرا۔ اگر اس حد سے اس کے آگے بڑھنے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات تو وہی مانیں گے جو سنتے سمجھتے ہیں، رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ والموتی۔ یسمعون، یہاں اپنے حقیقی معنی میں ہے یعنی جو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ جو سنتے ہیں اور سمجھت نہیں ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہے۔ ‘ موتی ’ سے مراد یہاں عقل اور دل کے مردے ہیں اس لیے کہ زندگی درحقیقت عقل اور دل ہی کی زندگی ہے۔ ع۔ مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔ نبی کے لیے محبت آمیز عتاب : ان آیات میں بظاہر نبی ﷺ پر عتاب ہے لیکن یہ عتاب بڑا محبت آمیز عتاب ہے اور اگر اس میں کوئی تلخی اور ترشی ہے تو اس کا رخ تمام تر ان ضدیوں اور ہٹ دھرموں کی طرف ہے جن کی ایمان کی آرزو پیغمبر کے اندر اتنی شدید تھی کہ آپ ان میں سے کو بھی ایمان سے محروم دیکھنے پر راضی نہ تھے اور چاہتے تھے کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی نہ کوئی معجزہ دکھا ہی دیا جائے کہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا ایمان نہ لانا تم پر اتنا ہی شاق گزر رہا ہے تو تم زمین کے اندر کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کر کے ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا ہی دیا جائے کہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا ایمان نہ لانا تم پر اتنا ہی شاق گزر رہا ہے تو تم زمین کے اندر کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی تلاش کر کے ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ لا سکو تو لا دو۔ ہم تو معجزوں کے بل پر دلوں کے اندر ایمان اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم نے تو ایمان کے لیے جو راہ پسند کی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنے کان، آنکھ اور عقل و ادراک کو استعمال کریں، آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں، پیغمبر کی باتیں سنیں، سوچیں اور سمجھیں اور اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان کی راہ اختیار کریں۔ اگر بجبر اور بزور لوگوں کو ہدایت پر جمع کردینا ہوتا تو ہمارے لیے یہ کیا مشکل کام تھا۔ ہم چشم زدن میں سب کو ایمان و ہدایت کی راہ پر چلا دیتے۔ تو تم ان کے ایمان کی آرزو میں اتنے جذبات سے مغلوب نہ ہوجاؤ کہ اس باب میں جو اللہ کی حکمت اور سنت ہے وہ نگاہوں سے اوجھل ہوجائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمہاری دعوت تو وہی قبول کریں گے جو سننے سمجھنے والے ہیں اور جن کے دل زندہ ہیں، جو گونگے بہرے ہیں اور جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں ان کو بس اللہ کے حوالے کرو، جب یہ قیامت کو اٹھیں گے تو ان پر سارے حقائق کھل جائیں گے۔ ان کے پیچھے تم اپنے کو مبتلائے غم نہ کرو۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں، اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی۔ ان سے کہہ دو کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ۔ اس سے مراد یوں تو ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی بھی ہوسکتی ہے جن کا کفار کی طرف سے مطالبہ تھا لیکن قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان لوگوں کو جواب دیا جا رہا ہے جو کسی ایسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جو یہ ثابت کردے کہ اگر انہوں نے پیغمبر کی تکذیب تو ان پر عذاب آجائے گا۔ آگے کی آیات سے بالتدریج یہ قرینہ خود بخود ابھر کر سامنے آجائے گا اس وجہ سے دلائل کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سورة میں بھی اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی کفار کا یہ مطالبہ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں سے نقل ہوا ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم نے تمہاری تکذیب کی تو ہم پر عذاب آجائے گا تو اس عذاب کا کوئی نمونہ ہمیں دکھا دو جس کی دھمکی سنا رہے ہو، بس اسی سے ہمارے اور تمہارے جھگڑے کا فیصلہ ہوجائے گا۔ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ، فرمایا کہ خدا تو اس طرح کا کوئی نشان دکھا دینے پر ہر وقت قادر ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔“ اکثر لوگ جانتے نہیں ”بظاہر نہایت مجمل جواب ہے لیکن اس اجمال کے اندر بڑی تفصیل پوشیدہ ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ یہ نادان اور مغرور لوگ اس طرح کی نشانی کے ظہور کے نتائج سے آگاہ نہیں۔ ان کے ندیک یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے حالانکہ یہ نشانی اگر ظاہر ہوگئی تو سب کی کمر توڑ کر رکھ دے گی۔ دوسری یہ کہ یہ خدا کی اس حکمت اور سنت سے واقف نہیں ہیں جو انبیا اور ان کے مکذبین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے۔ تعالیٰ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو فوراً پکڑ لے بلکہ وہ ان کو ایک خاص مدت تک مہلت دیتا ہے جس میں ان پر ہر پہلو سے خدا کی حجت پوری کردی جاتی ہے۔ جب یہ حجت پوری ہوچکتی ہے تب خدا ان کو پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو پھر ان کو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ تیسری یہ کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ پیغمبر کی دھمکی جھوٹی ہے یا خدا کے ہاتھ ہی بےبس ہیں حالانکہ خدا سرکشوں کو جو ڈھیل پر ڈھیل دیتا ہے تو اس وجہ سے کہ اس کی تدبیر بڑی محکم ہوتی ہے۔ وہ رسّی کتنی ہی دراز کردے لیکن اس کا کوئی امکان نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے قابو سے باہر نکل سکے۔ چوتھی یہ کہ یہ بدقسمت لوگ اس رحمت سے نا آشنا ہیں جو اس مہلت کے اندر مضمر ہے بشرطیکہ اس سے فائدہ اٹھائیں اللہ تعالیٰ رحمت میں سبقت کرتا ہے، غضب میں سبقت نہیں کرتا، وہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ وہ توبہ اور اصلاح کے دروازے اس وقت تک کھلے رکھتا ہے جب تک بندے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے خود ان کو اپنے اوپر بند نہ کرلیں۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور کوئی جانور نہیں جو زمین پر چلتا ہو اور کوئی پرندہ نہیں جو فضا میں اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتا ہو مگر یہ سب تمہاری ہی طرح امتیں ہیں۔ اور ہم نے اپنی کتاب میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر یہ سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کیے جائیں گے۔

وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ، اس ٹکڑے ٰمیں حذف کا وہی اصول ملحوظ ہے جو سورة نساء کی آیت 134 میں ہے۔ یعنی جملے میں مقابل کے بعض الفاظ حذف ہوگئے ہیں اس لیے کہ مذکور محذوف پر خود دلیل بن گیا ہے۔ مثلاً جملہ کے پہلے حصہ میں فی الارض کا لفظ ہے تو دوسرے حصے میں فی السماء کا لفظ حذف ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے حصے میں یطیر بجناحیہ کے الفاط ہیں تو پہلے حصے میں تدب علی رجلیہا، یا علی ارجلہا کے الفاظ حذف ہوگئے ہیں۔ فصیح عربی میں اس طرح کا حذف معروف ہے لیکن اردو میں یہ اسلوب نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس طرح کے مواقع میں محذوف کو کھول دینا زیادہ بہتر ہے ورنہ یا تو پوری بات ادا نہیں ہوپاتی یا جملہ کا در و بست ٹھیک نہیں ہوتا چناچہ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ آفاق کی نشانیوں کی طرف اشارہ : اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ کے الفاظ تو بظاہر نہایت مجمل ہیں لیکن غور کیجیے تو ان میں بڑی تفصیل پوشیدہ ہے۔ نشانیاں مانگنے والوں کو یہ آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم کوئی ایک نشانی مانگے ہو، خدا کی توبہ پوری کائنات نشانیوں سے بھری پڑی ہے، زمین پر چلنے والا ہر جاندار اور فضا میں اڑنے والا ہر پرندہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ غور کرو تو تم دیکھ سکتے ہو کہ جس طرح تمہارے انفرادی اور اجتماعی وجود کے اندر خدا کی قدرت، حکمت، ربوبیت کی بیشمار نشانیاں ہیں جو تم پر توحید، جزا و سزا اور پیغمبر کی دعوت کی صداقت کی گواہی دے رہی ہیں اسی طرح اس کائنات کی دوسری مخلوقات کے اندر بھی خالق کی قدرت حکمت اور ربوبیت کے دلائل موجود ہیں، جس طرح تم ایک نوع ہو اسی طرح یہ بھی الگ الگ نوعیں ہیں، جس طرح تم ایک فطرت رکھتے ہو، اسی طرح یہ اپنے جبلی تقاضوں اور اپنے منشائے تخلیق کے اعتبار سے یہ بھی اپنے اندر شعور، اداراک اور جذبات رکھتے ہیں، جس طرح تمہارے اجتماعی شعور نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ تم اپنے آپ کو ایک سیاسی نظام کے اندر باندھ کر رکھو اسی طرح ان کی ہر نوع کے اندر بھی اپنی اجتماعی ہستی کا ایک شعور ہے جو انہیں آمادہ کرتا ہے کہ یہ ایک وحدت کے اجزا کی طرح اپنے اجتماعی وجود کے بقا و تحفظ کا سامان کریں اور اپنے نوعی مقصد کی تخلیق کی تکمیل میں ان کا ہر فرد اپنا حصہ ادا کرے۔ سورة نحل میں قرآن نے اسی حقیقت کے ثبوت میں، جس کی طرف یہاں اشارہ ہے، شہد کی مکھی کا کر فرمایا ہے اور اس کے نوعی نظام میں خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے جو آثار نمایاں ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آج سائنس نے حیوانات کی مختلف الانواع کے جبلی خصائص و عجائب سے جو پردے اٹھائے ہیں یوں تو ان میں سے ہر انکشاف انسان کو حیران کردینے کے لیے کافی ہے لیکن نہایت حقیر اور چھوٹی چیزوں میں سے شہد کی مکھی اور چیونٹی ہی کو لیجیے اور ان کا مشاہدہ کیجیے تو آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی۔ ان کے اندر اولاد کی پرورش کا کیسا انتظام ہے، خطرات سے بچاؤ کے لیے کیسی بیداری ہے، مستقبل کے حالات سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے کیسی پیش بینی ہے، جماعتی فرائض کا کیسا شدید احساس ہے۔ کیسی اعلی تقسیم کار ہے، کس درجہ مضبوط نظام امر وطاعت ہے، ضروریات کی فراہمی کے لیے کیسی انتھک سرگرمی ہے۔ رہائش اور اپنے ذخائر کی حفاظت کے لیے تعمیر کا کیسا کمال فن ہے، تلاش و جستجو کا کیسا عمیق جذبہ اور حصول مطلوب کے لیے کیسی زیرکی و ہوشیاری اور پھر کتنی جان بازی و قربانی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ وجود میں آگیا ہے اور اپنے ہی بل پر چل رہا ہے یا اس کے پیچھے کوئی خالق و مدبر ہے ؟ اگر اس کے پیچھے کوئی خالق و مدبر ہے تو کیا وہ سب کچھ بنا کر ایک گوشہ میں بےتعلق ہو کر بیٹھ گیا ہے یا براہ است اس پوری کائنات کی حفاطت فرما رہا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ کسی اندھی بہری قوت قاہرہ کا ظوہر ہے یا کسی قادر وقیوم، علیم و حکیم اور رحمان و رحیم ہستی کی قدرت و رحمت کا فیضان ہے ؟ کیا یہ مختلف ارادوں، متضاد قوتوں اور بیشمار دیویوں، دیوتاؤں کی ایک رزم گاہ ہے یا ایک ہی خدائے وحدہ لا شریک کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و ربوبیت کی ایک جلوہ گاہ ہے، کیا یہ سارا کا خانہ بالکل بےمقصد، بےغایت اور بےانجام نظر آتا ہے یا اس کی ایک چیز پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جس کا ظہور قطعی اور یقینی ہے ؟ کیا اس کے ظاہر و باطن سے یہ شہادت مل رہی ہے کہ انسان کے اندر شتر بےمہار بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کھائے پیے، عیش کرے اور ایک دن ختم ہوجائے یا اس سے یہ شہادت مل رہی ہے کہ جس قادر نے یہ دنیا بنائی ہے، جس حکیم نے اس کے ایک ایک زرے میں اپنی حکمت کی شان دکھائی ہے، جس رحیم نے اپنی ربوبیت و رحمت کے یہ خوان نعمت بچھائے ہیں وہ ایک دن سب کو ضرور اکٹھا کرے گا اور ہر ایک کی نیکی بدی کو ضرور تولے گا اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرے گا۔ انسان کی فطرت اگر مسخ اور اس کی عقل اگر مفلوج نہ ہوگئی ہو تو وہ اس اعتراف پر مجبور ہے کہ ان سب باتوں میں سے دوسری ہی بات صحیح ہے۔ اگر یہی بات صحیح ہے اور بدیہی طور پر یہی صحیح ہے تو قرآن اسی کو ماننے کی دعوت دے رہا ہے۔ پھر اس کو ماننے کے لیے کسی معجزے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس حقیقت کی شہادت تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے۔ زمین پر چلنے والا ہر جاندار اور فضا میں اڑنے والا ہر پرندہ اس کا گواہ ہے۔ اگر انسان اپنے وجود کے اندر کی شہادتوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے تو باہر کی ان نشانیوں ہی کو آنکھیں کھول کر دیکھ لے جو نیچے بھی موجود ہیں اور اوپر بھی۔ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ ، میں عام طور پر لوگوں نے، کتاب، سے وہ خدائی رجسٹر مراد لیا ہے جس میں سب کچھ مندرج ہے۔ اگرچہ یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے لیکن سیاق وسباق کی روشنی میں ہمارا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہاں، الکتاب، سے مراد قرآن مجید ہے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ کائنات ان نشانیوں سے مملو ہے جو پیغمبر کی دعوت کی حقانیت کی شاہد ہیں اسی طرح ہم نے قرآن میں بھی اپنے دلائل وبراہین بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوری ہے۔ ایک ایک دعوے کو ایسے ناقابل انکار دلائل سے ثابت کیا ہے اور اتنے مختلف اسلوبوں اور پہلوؤں سے حجت قائم کی ہے کہ صرف عقل و دل کے اندھے اور بہرے ہی ان کے سمجھنے سے قاصر رہ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ کے الفاظ میں یہ لطیف تعریض ہے کہ جہاں تک نشانیوں اور دلائل کا تعلق ہے ان سے تو یہ صحیفہ کائنات بھی مملو ہے اور یہ صحیفہ قرآن بھی معمور ہے لیکن جو کسی بات کو سمجھنا ہی نہ چاہین ان کا کیا علاج ؟ یہ تو اب اپنے رب کے سامنے جب حاضر کیے جائیں گے تب ہی آنکھیں کھولیں گے اور مانیں گے۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا یہ بہرے اور گونگے تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ۔ بایتنا میں ایات سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں ان کی مثال ایسے گونگے اور بہرے لوگوں کی ہے جو گونگے بہرے ہونے کے ساتھ تاریکی میں گھرے ہوئے بھی ہیں، نہ سن سکتے ہیں نہ کسی کو پکار رسکتے نہ کسی پکارنے والے کی بات کا جواب دے سکتے، نہ کسی کے اشارے کو دیکھ سکتے، نہ کسی نشانی سے رہنمائی حاصل کرسکتے، ایسے اندھے بہرے لوگوں کا کیا علاج ؟ مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ الایہ میں، جیسا کہ ہم مختلف مواقع میں واضح کرچکے ہیں، اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت کسی کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے اور کوئی گمراہی کا سزوار قرار پاتا ہے۔ اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جو لوگ اپنی آنکھیں اور اپنے کان نہیں کھولتے خدا ان کے اندر زبردستی اپنی ہدایت نہیں اتارتا، خدا کی توفیق صرف ان کو سہارا دیتی ہے جو راہ حق پر چلنے کا خود ارادہ کرتے ہیں اور خدا کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں۔ اجزا کی اس تشریح سے آیات کا مفہوم اور نظم خود بخود واضح ہوگیا ہے۔ سورة نحل میں یہ مضمون مختلف پہلوؤں سے زیر بحث آئے گا۔ اس وجہ سے ہم یہاں اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
Ayahs 6:40–41

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہہ دو ، بتاؤ، اگر تم پرا للہ کا عذاب آجائے یا قیامت آدھمکے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ؟

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکاروگے تو وہ دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے تم اس کو پکارتے ہو اگر چاہتا ہے اور جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو ان کو بھول جاتے ہو۔

40 تا 41۔ ارءیتم اور ارءیتکم کا محل استعمال اور مفہوم ایک ہی ہے۔ چناچہ آگے آیت 46 میں بالک اسی محل میں ارءیتم آیا ہے۔ توحید کی ایک نفسی دلیل۔ یہ مطالبہ نشانی عذاب کا جواب بھی ہے اور انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو سے توحید کی ایک ناقابل تردید انفسی دلیل بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہو کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اس کے مقابلہ یا اس سے بچاؤ کا کیا سامان کر رکھا ہے ؟ کون سی ناقابل تسخیر داعی لائن تم نے بنا لی کہ اس زعم کے ساتھ خدا کو چیلنج کر رہے ہو ؟ فرض کرو۔ جس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو خدا وہی بھیج دیتا ہے یا جس قیامت سے تمہیں خبر دار کیا جا رہا ہے وہی آ دھمکتی ہے تو کون ہے جس کو اپنی مدد کے لیے پکاروگے ؟ کیا خدا کے سوا کوئی اور ہے جس کو پکاروگے اور اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ اس کے کچھ دوسرے شریک بھی ہیں ؟ فرمایا کہ تمہارا یہ دعوی بالکل بےبنیاد ہے۔ اگر ایسا وقت آگیا تو تم خدا کے سوا سب کو بھول جاؤ گے اور صرف اسی کو پکارو گے اور وہی ہے جو اس مصیبت کو اگر چاہے گا تو دور کرے گا۔ اوپر والی آیات میں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، توحید کے آفاقی دلائل کی طرف اشارہ تھا۔ یہ یہاں توحید کی اس انفسی دلیل کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوئی ہے۔ اس دلیل کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت میں چونکہ ایک ہی خدا کی شہادت موجود ہے، دوسرے اصنام و الہ، جن کو وہ مانتا ہے، ان کی کوئی شہادت اس کی فطرت کے باطن میں موجود نہیں ہوتی بلکہ وہ محض خیالی ہوتے ہیں، اس وجہ سے جب اس کی زندگی میں کوئی ایسا مرحلہ آجاتا ہے جو اصل آزمائش کا ہوتا ہے تو انسان اپنے ان تمام فرضی سہاروں کو بھول جاتا ہے، صرف اسی خدا کو پکارتا ہے جس کی شہادت، وہ اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کو نہایت دل آوز تمثیلوں اور نہایت حقیقت افروز دلائل سے واضح کیا ہے۔ آگے یہ ساری چیزیں زیر بحث آئیں گی اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔
Ayahs 6:42–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس اپن رسول بھیجے پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو کیوں جب ہماری پکڑ آئی وہ خدا کی طرف نہ جھکے بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبا دیا جو وہ کرتے رہے تھے۔

42 تا 43: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ الایۃ۔ تضرء کے معنی تذلل کے ہیں یعنی خضوع و خشوع اور احساسِ عجز و فروتنی کے ساتھ کسی کی طرف جھکنا یہاں یہ لفظ دل کی خشیت اور احساس عبدیت وانابت کے ساتھ خدا کی طرف جھکنے کے لیے آیا ہے۔ اس کا مقابل لفظ قساوت استعمال ہوا ہے جو دل کی سختی، بےخوفی اور رعونت کی تعبیر کے لیے قرآن کا معروف لفظ ہے کسی قوم پر عذاب بھیجنے کے معاملہ میں سنت الٰہی : اب یہ ایک سنت اللہ بیان ہوئی ہے جس سے ایک طرف تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کسی قوم پر، جس میں اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے، عذاب بھیجنے کے معاملے میں وہ کیا طریقہ اختیار فرماتا ہے، دوسرے اس تاریخی شہادت کو سامنے لانا ہے کہ جس قوم نے بھی ایمان لانے کی شرط نشانی عذاب کو ٹھہرایا اس کو ایمان کی سعادت حاصل نہیں بلکہ بالاخر عذاب ہی کے ذریعہ سے اس کی جڑ کاٹ دی گئی۔ فرمایا کہ تم سے پہلے (خطاب نبی ﷺ سے ہے) ہم نے بہت سی قوموں کے پاس اپنے رسول بھیجے تو ان کو مختلف قسم کی مالی و جسمانی مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ ان کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا ہو اور وہ سوچیں کہ اگر انہوں نے نبی کی بات نہ مانی تو بالآخر خدا کی فیصلہ کن پکڑ آجائے گی اور وہ تباہ کردیے جائیں گے لیکن دیکھ لو، تاریخ شاہد ہے، کہ بجائے اس کے کہ ان خدائی تنبیہات سے ان کے دل کچھ نرم پڑتے وہ اور زیادہ سخت ہوگئے اور جن بد اعمالیوں میں وہ مبتلا تھے شیطان نے ان کو ان کی نگاہوں میں اس طرھ کھبا دیا کہ وہ ان سے باز آنے کے بجائے ان میں کچھ اور دلیر ہوگئے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

تو جب انہوں نے فراموش کردیا اس چیز کو جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے جو انہیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعۃً پکڑ لیا، وہ بالکل ہک دک رہ گئے۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ الایہ۔ ماذکرو بہ کے معنی ہوں گے جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی۔ یہاں اس سے اشارہ اسی باساء و ضراء یعنی مالی جسمانی مصائب کی طرف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے مبتلا کیا کہ وہ سمجھیں کہ اگر انہوں نے پیغمبر کی بات نہ مانی تو ان تنبیہات کے بعد اب آگے فیصلہ کن عذاب ہے کا مرحلہ ہے لیکن اس سے یہ سبق لینے کے بجائے انہوں نے ان کے گزر جانے کے بعد ان کو نظر انداز کردیا کہ قوموں کی زندگی میں اس طرح کے حوادث تو پیش آیا ہی کرتے، قحط، سیلاب، طوفات، وبا اور امراض سے کس قوم کو سابقہ نہیں پیش آیا ہے۔ قد مس آباءنا الضرا والسرا 4۔ اس طرح کے نرم و گرم حالات تو ہمارے اگلوں کو بھی پیش آ چکے ہیں۔ پھر یہ کیوں فرض کیا جائے کہ یہ کسی شخص کی تکذیب کا نتیجہ ہے۔ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً ، اب یہ مذکورہ بالا سنت اللہ کا اگے کا مرحلہ بیان ہورہا ہے جس کو قرآن کے دوسرے مقامات میں ‘ امہال ’ یعنی ڈھیل دینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب پیغمبر کی تکزیب کرنے والے خدا کی تنبیہات کو نظر انداز کردیتے ہیں تو خدا ان کی سی دراز کردیتا ہے، ان کی تمام مطلوبات کے دروازے ان پر کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی کامیابیوں پر مگن ہونے، اترانے اور اکڑنے لگتے ہیں۔ یہ وقت ان کے پیمانہ کے لبریز ہوجانے کا ہوتا ہے۔ اس وقت خدا دفعۃً ان کو پکڑتا ہے پھر وہ بالکل مایوس اور ششدر ہو کے رہ جاتے ہیں۔ ‘ ابلس ’ کے لفظ پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ اور شکر کا سزا وار حقیق اللہ ہے تمام عالم کا رب !

کسی قوم کی جڑ کب کٹتی ہے ؟ ‘ دابر ’ کے معنی اصل اور جڑ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب مکذبین رسول اپنی بدمستی کی اس حد کو پہنچ جاتے ہیں تب ایسے ظالموں کی خدا جڑ کاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ اس میں اس بات کی طرف نہایت لطیف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے اس طرح کے مجرموں پر ابتلا کے جو جھنکے آتے ہیں ا سے ان کے شجر ہستی کے صرف برگ و بار متاثر ہوتے ہیں اور وہ بھی وقتی طور پر ان کی جڑ محفوط رہتی ہے لیکن جب یہ وقت آجاتا ہے تو خدا ان پر عذاب بھیجتا ہے جو ان کے وجو قومی ہی کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیتا ہے اس لیے کہ جو درخت زہریلا ہوچکا اور اب صرف زہریلے ہی پھل دے رہا ہے اس کا باقی رہنا اس دنیا کی مصلحت کے خلاف ہے جو اس کے رحمان و رحیم خالق ومالک نے اپنی رحمت اور اپنے دل کے ظہور کے لیے بالحق پیدا پیدا کی ہے۔ وہ عالم کا رب ہے۔ رب کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے چمن میں ایک ایسے درخت کو جگہ گھیرے رکھنے کے لیے چھوڑ دے جس کی زہریلی ہوا اور جس کے مسموم برگ و بار پورے چمن کو غارت کر کے رکھ دیں۔ پس حمد و شکر کا سزا وار ہے وہ رب العالمین جو ایسی نابکار قوموں کی جڑ کاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ اجزا کی تشریح کے ذیل میں آیات کا نظم اور مدعا واضح ہوگیا ہے البتہ جس سنت اللہ کا یہاں حوالہ ہے اس کی تاریخی شہادت کی طرف یہاں صرف اشارہ ہے، اس کی تفصیل نہیں آئی ہے۔ یہ تفصیل آگے والی سورة اعراف میں آئے گی جو اس سورة کے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، مثنی کی حیثیت رکھتی ہے، اس میں عرب کی پچھلی معذب قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے جس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان قوموں نے بھی اپنے اپنے رسولوں سے عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دلوں کو نرم کرنے اور ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کو مختلف مالی و جسمانی آزمائشوں میں مبتلا کیا لیکن انہوں نے ان سے سبق لینے کے بجائے ان کو اتفاقی حوادث پر محمول کر کے بالکل نظر انداز کردیا۔ ان کی اس سرکشی کے بعد خدا نے ان کو پوری ڈھیل دے دی۔ ہر راہ میں ان کو کامیابی ہی کامیابی نظر آنے لگی۔ شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی کہ جس راہ پر چل رہے ہو یہی کامیابی کی راہ ہے، شاباش، آگے بڑھے چلو۔ بالآخر جب ان کو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آنے لگا اور کامیابیوں کے نشہ نے ان کو بد مست کردیا تو دفعۃ خدا کے عذاب نے ان کو آدبوچا اور ان کا سارا نشہ ہرن ہوگیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی مرحلہ تمہارے جھٹلانے والوں اور تم سے عذاب کی نشانی مانگنے والے کو بھی درپیش ہے۔ اگر انہوں نے حالات سے سبق نہ لیا تو وہی تاریخ یہ بھی دہرائیں گے۔ تم مطمئن رہو۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

کہو، بتاؤ، اگر اللہ تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو اس کو واپس لا دے، دیکھو، کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوؤں سے پیش کرتے ہیں، پھر بھی وہ اعراض کر رہے ہیں۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ الایہ :‘ صدف، یصدف، صدفاً ’ کے معنی کسی چیز سے اعراض و انحراف اختیار کرنے اور اس سے رک رہنے کے ہیں۔ مطالبہ عذاب کا جواب ایک اور پہلو سے : یہ اسی مطالبہ عذاب کا جواب ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر خدا تم پر کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج دے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں اب ارشاد ہوا کہ اگر خدا تمہیں کسی عقلی، باطنی اور روحانی عذاب میں گرفتار کرلے تو بھی تمہیں کوئی بچانے والا نہیں۔ ابھی تو تمہارے سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں زندہ ہیں لیکن تم ان سے کام نہیں لے رہے ہو۔ اگر خدا تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دل پر ٹھپہ لگا دے تو بتاؤ اللہ کے سوا کون ہے جو تمہاری ان صلاحیتوں اور قوتوں کو پھر بحال کرسکے ؟ پھر فرمایا، یہ تو ایک نشانی مانگ رہے ہیں۔ دیکھو ہم اپنی آیتیں کتنے گوناگوں پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں لیکن یہ سننے اور سمجھنے کے بجائے بدستور اعراض ہی کیے جا رہے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

پوچھو، بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر بیخبر ی میں اچانک آدھمکے یا ڈنکے کی چوٹ آئے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا ؟

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً الایۃ۔ بغتۃ کے معنی کسی چیز کے اچانک، دفعۃً بغیر کسی نوٹس کے، بالکل بیخبر ی میں آجانے کے ہیں ، ‘ جھرۃ ’ کے معنی ہیں کھلم کھلا، ڈنکے کی چوٹ، دن دہاڑے۔ مطلب یہ ہے کہ نشانی عذاب کا مطالبہ تو یہ کر رہے ہیں، ان سے پوچھو کہ خدا کا عذاب چپکے سے یا کھلم کھلا دن دہاڑے آئے۔ اول تو اس کو روکے گا کون، پھر ان سے یہ پوچھو کہ یہ بجلی گری تو کن پر گرے گی، انہی ظالموں پر تو گرے گی جو اپنی شامت سے اس کو دعوت دے رہے ہیں اور جو اپنی بد اعمالیوں سے اس کے سزوار ہیں یا کسی اور پر۔ ؟ فیصلہ کن عذاب کے باب میں سنت الٰہی : یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں پر اتمامِ حجت کے بعد آتا ہے۔ اس عذاب کے معاملے میں سنت اللہ یہ ہے کہ نبی کے جھٹلانے والے ہلاک کردیے جاتے ہیں اور اہل ایمان بچا لیے جاتے ہیں۔ رہی وہ آزمائشیں اور تکلیفیں جو تنبیہ و تذکیر کے لیے آتی ہیں، جن کا ذکر اوپر باساء اور ضراء کے الفاط سے گزرا ہے تو وہ اس امتیاز کے ساتھ نہیں آتیں بلکہ ان میں سب، حصہ پاتے ہیں۔ البتہ اہل ایمان ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اہل کفر بدستور اپنی شرارت پر جمے ہی رہ جاتے ہیں بلکہ، جیسا کہ اوپر گزرا، اس سے کچھ اور ڈھیٹ ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 6:48–49

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف خوش خبری دینے والے اور خبردار کرنے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں تو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اصلاح کرلی تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ کوئی غم ہوگا۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان کی نافرمانی کی پاداش میں ان کو عذاب پکڑے گا۔

48 تا 49: رسولوں کی بعثت کی اصل غایت : اب یہ اسی مطالبہ کے تعلق سے رسولوں کی بعثت کا اصل مقصد واضح فرما دیا کہ وہ عذاب کی نشانیاں دکھانے یا عذاب لانے یا خوارق و عجائب کی نمائش کرنے کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ وہ خدا کی رحمت کی خوش خبری دینے والے اور بصورت تکذیب و نافرمانی اس کے عذاب سے خبردار کردینے والے بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ خوش خبری کی وضاحت یوں فرما دی کہ فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے رویہ کی اصلاح کرلی نہ ان کے لیے مستقبل میں کوئی اندیشہ ہے اور نہ ماضی کا کوئی غم) اور انذار کی تفصیل یوں فرمائی کہ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ (اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ان کو ان کی نافرمانی کی پاداش میں خدا کا عذاب پکڑے گا)۔ اس سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ اللہ کے رسول خدا کی رحمت کے مظہر ہوتے ہیں، عذاب ان کی بعثت کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ ان کی تکذیب کے لوازم و نتائج میں سے ہے۔ دوسری یہ کہ رسولوں سے لوگوں کو چاہنی وہ چیز چاہیے جس کے لیے وہ آتے ہیں یعنی ایمان اور عمل صالح کی ہدایت نہ کہ وہ چیز جس سے وہ لوگوں کو بچانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں، تیسری یہ کہ یہ خوارق و عجائب نہ رسولوں کے خصائص میں سے ہیں اور نہ ان کی تعلیم و دعوت کے لوازم میں سے بلکہ ان کا ظہور اگر ہوتا ہے تو محض اتمام حجت کے طور پر ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، چوتھی یہ کہ اس میں رسول کے لیے پیام تسکین ہے کہ وہ اپنا تعلق اپنے اصل مقصد بعثت، بشارت اور انذار، سے رکھے، جو باتیں اس کے فرائض سے غیر متعلق ہیں ان کو خدا پر چھوڑے، بلا وجہ ان کے پریشان نہ ہو۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو ، میں تہارے سامنے یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ اور نہ میں غیب جانتا اور نہ یہ دعوی کرتا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ کہہ دو ، کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟

فیصلہ کن اعلان : اب یہ پیغمبر کی زبان سے اس باب میں ایک آخری اور فیصلہ کن اعلان کرادیا کہ مجھ سے بحث کرنی ہے تو اس چیز پر کرو جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اور جس کا داعی ہوں۔ ان چیزوں پر کیوں جھگڑتے ہو جن کا میں نے سرے سے کوئی دعوی ہی نہیں کیا ؟ اگر میرے پاس خزانے نہیں ہیں تو میں نے کب کہا کہ میرے پاس خزانے ہیں ؟ اگر میں یہ نہیں بتا سکتا کہ تم پر عذاب کب آئے گا یا قیامت کب آئے گی تو میں کب دعوی کیا کہ میں غیب جانتا ہوں ؟ اگر میں فرشتہ نہیں ہو تو میری زبان سے کب نکلا کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو اس وحی کی پیروی کر رہا ہوں جو مجھ پر آئی ہے اور اسی کی دعوت تمہیں دے رہا ہوں۔ آخر میں ارشاد ہوا کہ ان سے پوچھو کہ اگر یہ ذرا بھی سوچنے سجھنے والے ہیں تو یہ بتائیں کہ کیا خدا کے ہاں اندھے اور بینا یعنی آنکھیں کھول کر چلنے والے اور اپنی خواہشوں کے پیچھے اندھے ہو کر چلنے والے یکساں ہوجائیں گے ؟ کیا اپنی عقل و بصیرت سے کام لینے والے اور اپنی عقلوں پر پٹی باندھ کر زندگی گزارنے والے برابر ہوجائیں گے ؟ کیا نیکو کار اور بدکار دونوں کا انجام ایک ہی ہوگا ؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور بالبداہت نفی میں تو یہی سورج سے زیادہ بدیہی حقیقت وہ وحی تمہارے سامنے پیش کر رہی ہے جس کی میں دعوت دے رہا ہوں تو اس پر تمہاری یہ معارضہ کیا عنی رکھتا ہے کہ میں تمہیں کوئی نشانی عذاب کیوں نہیں دکھاتا ؟ میں آج تمہیں عذاب کی کوئی نشانی نہیں دکھاتا تو کیا اس سے جزا اور سزا کا وہ قانون باطل ہوگیا جس کی میں منادی کر رہا ہوں۔ خدا کے بندو، تم اس پر غور نہیں کرتے۔ اگلی آیات 51 تا 55 کا مضمون : آگے فرمایا کہ جو لوگ نشانیوں اور عذاب کے طالب و منتظر ہیں، ان کو تو تم (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے)۔ ان کے حال پر چھوڑو، البتہ جن لوگوں کے اندر خوف خدا اور خوف آخر ہے ان کو اسی کتاب کے ذریعہ سے ڈراؤ جو تم پر وحی کی جا رہی ہے۔ پھر فرمایا کہ تمہاری شفقت و تربیت اور تمہاری توجہ و عنایت کے اصلی مستحق تو یہ غربائے مسلمین ہیں جو خدا کی رضا کے طالب ہیں اور جن کو دین کی طلب نے تمہارے ارد گرد جمع کردیا ہے۔ رہے یہ مغرور اور متمرد لوگ جو تم سے نشانیاں اور معجزے مانگتے اور اکڑتے پھر رہے ہیں تو تم نہ ان کی پروا کرو، نہ ان کے پیچھے اصلی حقداروں کے حقوق میں غفلت کرو اور نہ ان کے کہے پر تم غریب مسلمانوں کو اپنے سے دور کرو۔ یہ لوگ اس بات میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں کہ ان غریبوں کے پہلو بہ پہلو تمہاری مجلس میں بیٹھیں یا تمہاری بات سنیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر تم ان کو اپنے سے قریب کرنا چاہتے ہو تو پہلے ان لوگوں کو اپنے سے دور کرو جو ان کے ہم سر نہیں ہیں اور جن کے پاس آنے میں ان کی سبکی ہے۔ تم ان کی اس رعونت کی ذرا حوصلہ افزائی نہ کرو۔ اگر وہ اپنے اس غرور کے سبب سے ایمان سے محروم رہے تو اس کی ذمہ داری تم پر نہیں۔ ان کی پرسش خدا کے ہاں تم سے نہیں ہونی ہے۔ اسی طرح جو مسوئلیت تم پر ہے اس کا کوئی حصہ قیامت کے دن یہ اٹھانے والے نہیں بنیں گے کہ ان کے مطالبے پر تم اہل ایمان کو اپنے سے دور کر کے اپنے سر ایک ظلم عظیم کی ذمہ داری لو۔ پھر فرمایا کہ ان مغروروں کے لیے ان کا مال و جاہ اور ان کا حسب و نسب ایک حجاب بن گیا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جب دنیا کی ساری سرفرازیاں ہمارا حصہ ہیں تو اگر یہ نیا دین اپنے اندر کوئی خیر کا پہلو رکھتا ہوتا تو کیا اس کے لیے خدا کو یہی لوگ ملے جن کو دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانکنے کو صحیح سالم کپڑے بھی نصیب نہیں۔ ان ظالموں کو یہ پتہ نہیں کہ اس دنیا کے خزف ریزے تو خدا اہلوں اور نا اہلوں دونوں ہی کو دے دیتا ہے لیکن دین کی دولت گرانمایہ صرف اس کے شکر گزار بندوں ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان غربائے مسلمین کی دلداری فرمائی تاکہ ان مغروروں کے اس طعن سے اگر ان کی دل شکنی ہوئی ہو تو اس کا اندمال ہوجائے۔ اس دلداری کے لیے خود خدائے رب العزت کی طرف سے جو سلام و پیام ان غریبوں کے نام آیا ہے اس کا ایک ایک حرف اپنے اندر زندگی جاوید کی خوش خبری اور خواجگی کون و مکان سرفرازی رکھتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور تم اسی کے ذریعہ سے خبردار کرو ان لوگوں کو جو ڈر رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس اکٹھھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ اس کے سامنے نہ ان کا کوئی حامی ہوگا نہ شفیع، تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔

پیغمبر کو اہل خشیت کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت : اوپر کے پیرے میں یہ اعلان پیغمبر کی زبان سے کرا دیا گیا کہ نہ میں خزانوں کا مالک ہوں، نہ غیب جانتا ہوں نہ فرشتہ ہونے کا مدعی ہوں میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اب یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ کسی نشانئ عزاب کے منتظر ہیں ان کو تو ان کے حال پر چھوڑو، البتہ جو عقل و فکر سے کام لینے والے ہیں اور جو اپنے دلوں کے اندر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ ایک دن بہرحال خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس طرح حاضر ہونا ہے کہ ان کا کوئی حامی و شفیع ایسا نہ ہوگا جو ان کو خدا کی پکڑ سے بچا سکے، ان کو اس کتاب کے ذریعہ سے جو تم پر وحی کی جا رہی ہے بیدار اور خبردار کرو۔ جن لوگوں کے اندر یہ ڈر موجود ہوگا وہی اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں گے اور وہی تقوی اختیار کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کریں گے۔ جن کے اندر آخرت کا کوئی اندیشہ ہی نہیں یا جو شرکاء و شفعا بنائے بیٹھے ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ خواہ کچھ ہو ہی وہ ان کو خدا سے چھڑا ہی لیں گے، وہ دنیا جہان کی نشانیاں دیکھ کر بھی اسی طرح ایمان سے محروم رہیں گے۔ اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ انذار کے لیے فطری اور عقلی چیز یہ قرآن ہے نہ کہ عذاب کی نشانیاں۔ دوسری یہ کہ قرآن بھی نافع ان لوگوں کے لیے ہے جن کے اندر فطرت کی صلاحیتیں زندہ ہیں۔ جن فطری صلاحیتیں مردہ ہوچکی ہیں ان کو قرآن سے بھی نفع نہیں پہنچے گا۔ تیسری یہ کہ تقوی اور خدا ترسی کے لیے سب سے بڑا حجاب شفاعت باطل کا عقیدہ ہے۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو اپنے دور نہ کیجیو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ تم پر نہیں اور نہ تمہاری ذمہ داری کا کوئی حصہ ان پر ہے کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے ظالموں میں سے بن جاؤ۔

سرداران قریش کے غرور پر ضرب : اوپر کی آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پیغبر کو کن لوگوں کے ساتھ مشغول ہونا چاہیے اور کن لوگوں سے بےپروا ہوجانا چاہیے۔ اب یہ اس بات کی مزید وضاحت ہو رہی ہے کہ جو شامت زدہ لوگ اپنے غرور مال و جاہ میں مست ہیں تمہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ تم خزانوں کے مالک نہیں۔ تمہارے ساتھیوں کو اس وجہ سے حقیر سمجھتے ہیں کہ وہ بےنوا، غریب، مفلس اور عزت وجاہ سے محروم لوگ ہیں، ان کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہ کرو اور ان کے ایمان کی فکر میں ان لوگوں کے حقوق میں غفلت نہ ہو جو اللہ کی آیات پر ایمان لائے اور صبح و شام اس کی عبادت وطاعت میں سرگرم ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قریش کے اکابر آنحضرت ﷺ کی دعوت کی مخالفت کے جہاں وہ بہانے پیدا کرتے تھے جن کی طرف اوپر اشارہ ہوا وہیں یہ دلیل بھی لاتے تھے کہ آپ کے ساتھی بالکل غربا اور عوام کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں غلا اور لونڈیاں بھی شامل ہیں۔ اول تو یہ دین، اگر اللہ کا دین ہوتا، تو کیا اللہ اپنے دین کے لیے (نعوذ باللہ) انہی اراذل و انفار کو منتخب کرتا اور اگر یہی لوگ اس کے حامل قرار پائے ہیں تو پھر کسی شریف کے لیے کہاں گنجائش باقی رہی کہ ان کے اندر شامل ہو کر اپنی عزت خاک میں ملائے، ان کی اس ذہنیت کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ ان کو پانے کے لیے تم اپنوں کو کھونے کی غلطی نہ کرنا، کھوئی ہوئی آوارہ بھیڑوں کی جستجو میں اپنے اصلی گلہ سے غفلت نہ ہونے پائے۔ تم نے ان کو اللہ کی دعوت پہنچا دی۔ اب اگر یہ اپنی گمراہی میں پڑے رہے تو اس کی پرسش خدا کے ہاں بہرحال تم سے نہیں ہوگی۔ اب مواخذہ انہی سے ہونا ہے۔ ان کے حساب کی کوئی زمہ داری تم پر نہیں ہے اور اگر ان کے پیچھے تم نے ان اللہ کے بندوں سے بےپروائی کی تو کل کو تمہاری طرف سے یہ جواب دہ بننے والے نہیں ہیں کہ تم ان کی خاطر اپنے کو ظالموں میں شامل کرلو۔ آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ آپ سے یہ اندیشہ تھا کہ آپ اپنے ان ساتھیوں کو نظر انداز فرما دیں گے یا ان کو اپنے پاس سے الگ کردیں گے، بلکہ یہ سردارانِ قریش کے غرور پر ضرب لگائی گئی ہے لیکن بات ان کو مخاطب کر کے کہنے کے بجائے پیغمبر کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے تاکہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ ان کی یہ بات اس قابل بھی نہیں ہے کہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے اس کا جواب دیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو بکواس کرتے ہیں کرنے دو۔ اگر یہ چیز ان کے لیے اسلام کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ ہے تو وہ جس جہنم میں چاہیں گریں، تم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں، جو خدا کے طالب بن کر تمہارے پاس آئے ہیں تم ان کو اپنے پاس سے کس طرح دھتکار سکتے ہو ؟ تمہاری ذمہ داریاں تم پر ہیں۔ کل کو یہ تو تمہاری طرف سے ذمہ دار نہیں ہوں گے کہ تم ان کی خاطر ان لوگوں کے حقوق تلف کرو جو تمہاری توجہ اور شفقت کے اصلی حقدار ہیں۔ یہاں ‘ طرد ’ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ اپنے معنی کے اعتبار سے سخت ضرور ہے اس لیے کہ اس کے معنی کسی کو دھتکارنے اور دور دفع کرنے کے ہیں لیکن یہ لفظ سردارانِ قریش کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر استعمال ہوا ہے اس لیے کہ ان کی خواہش یہی تھی کہ محمد ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب ہم بات کرنے کے روادار ہوں گے۔ انبیاء کے کردار کا ایک خاص پہلو : حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے کردار کا یہ پہلو بھی یہاں نگاہ میں رہے کہ وہ اپنی قوم کے ایمان کے، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، نہایت حریص ہوتے ہیں۔ سیدنا مسیح نے اس باب میں ایک تمثیل بھی بیان فرمائی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا یہ بات نہیں ہے کہ جب تم میں سے کسی کوئی بھیڑ کھو جاتی ہے تو وہ اس کی تلاش میں ندیوں نالوں اور جنگلوں میں پریشان پھرتا ہے اور اپنے اصلی گلہ کو بھول جاتا ہے۔ پھر جب وہ مل جاتی ہے تو اس کو اپنے کندھے پر اٹھا کر لاتا ہے اور اپنے لوگوں میں آ کر کہتا ہے، اے لوگو، میرے ساتھ خوشی مناؤ، اس لیے کہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مجھے مل گئی۔ یہ تمثیل جس طرح اللہ تعالیٰ کی اس رافت کو ظاہر کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے ا بندوں کے لیے رکھتا ہے جو گمراہی کے بعد ہدایت کی طرف رجوع کرتے ہیں اسی طرح حضرات انبیا کی اس بیقراری کو بھی ظاہر کرتی ہے جو ان کے اندر اپنی قوم کے گمراہوں کے ایمان اور ان کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔ حضرات انبیاء کی اس صفت میں اللہ تعالیٰ کی صفت کا ایک عکس ہے اس وجہ سے یہ ایک محبوب اور پسندیدہ صفت ہے۔ لیکن یہ صفت بھی اپنے کچھ حدود وقیود رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں پسند فرماتا کہ پیغمبر کھوئی بھیڑوں کی تلاش میں اتنا سرگرداں رہے کہ اپنے اصل گلے کی دیکھ بھال میں غفلت ہوجائے۔ جو سرکش اور آوارہ بھیڑ قابو میں نہیں آتی وہ کسی بھیڑئیے ہی کا حصہ ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ یہ مغرور لوگ اگر اپنی ناز برداری اس حد تک چاہتے ہیں کہ تم ان کی خاط ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو جو صبح و شام رضائے الٰہی کی طلب میں سرگرم ہیں تو یہ کرنے کے تم مجاز نہیں ہو۔ ہمارے استاذ مولانا فراہی نے اس مضمون کو سورة عبس کی تفسیر میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے اور اس کے بعض نہایت اہم پہلو ہم بھی مناسب مواقع پر ظاہر کریں گے۔