Ayah 6:72وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّقُوْهُ ۭ وَهُوَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ، یہ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے تحت اور اسی کی عملی تصویر ہے لیکن اسلوب غائب سے بدل کر حاضر کر کردیا گیا ہے جس سے اس کے اندر براہ راست خطاب کا زور پیدا ہوگیا ہے۔ نماز کا ذکر یہاں اس اسلام کے اولین عملی مظہر کی حیثیت سے ہوا ہے جس کا ذکر وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ میں ہے۔ تقوی یہاں ان تمام حدود کی پابندی کے مفہوم میں ہے جن کی پابندی کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ میں آخرت اور توحید دونوں چیزیں جمع کردی گئی ہیں اور یہ اوپر والے احکام کی دلیل ہے کہ نماز کا قیام اور حدود الٰہی کا احترام اس لیے لازم ہے کہ ایک دن خدا کے آگے حاضر ہوتا ہے اور صرف اسی کے آگے حاضر ہونا ہے، اس دن کوئی اور مرجع و مولی نہیں ہوگا۔
Ayah 6:73وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ الایۃ : یہ ایک نہایت جامع آیت ہے جس میں نہایت مختصر الفاظ میں اوپر والے ٹکڑے، ھو الذی الیہ تحشرون، کے ہر جزو کی دلیل بیان ہوگئی ہے۔
کارخانہ کائنات کے ‘ بالحق ’ ہونے کا لازمی نتیجہ : آسمان و زمین میں خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے جو آثار و دلائل موجود ہیں وہ اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ یہ کارخانہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے جو اس نے محض اپنا جی بہلانے کے لیے بنایا ہو بلکہ یہ ایک قدیر، علیم، حکی اور رحمان و رحیم ذات کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اگر یہ یونہی چلتی رہے، اس کے اندر جو ظلم ہے اس کے انصاف کے لیے کوئی دن نہ آئے، جو عدل ہے اس کی داد کا کوئی وقت نہ آئے، اس کے اندر جو برے، شریر اور نابکار ہیں ان کو کوئی سزا نہ ملے، جو نیک، حق شناس اور عدل شعار ہیں ان کو ان کی نیکیوں کی جزا نہ ملے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ سارا کارخانہ بالکل عبث، بےغایت اور باطل ہے جس کے بنانے والے کے نزدیک خیر اور شر، ظلم اور عدل، حق اور باطل میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ یہ بات انسان کی عقل و فطرت کسی طرح بھی قبول نہیں کرسکتی، اس لیے کہ جس خالق کی خلقت کے ہر گوشے میں اس کی حکمت، قدرت، رحمت اور ربوبیت کے آثار موجود ہیں اور اتنی کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ انسان کسی طرح ان کا احاطہ نہیں کرسکتا اس کی نسبت وہ کس طرح یہ باور کرلے کہ اس کو ہماری نیکی بدی اور ہمارے عدل و ظلم سے کوئی بحث نہیں ہے۔ اگر بحث ہے اور ضرور بحث ہے اس لیے کہ یہ بحث نہ ہو تو یہ دنیا بالکل کھیل بلکہ نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے تو اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ اس دنیا کے لیے ایک یوم انصاف آئے جس میں خدا کی کامل رحمت اور اس کی کامل حکت ظاہر ہو اور ہر نیکی اپنا صلہ پائے اور ہر بدی اپنی سزا۔
وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ ، یعنی کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ اس دن کے لانے میں خدا کو کوئی دشواری پیش آئے گی، جس نے یہ دنیا مجرم اپنے حکم ‘ کن ’ سے بنائی ہے۔ وہ جب حشر برپا کرنا چاہے گا تو اسی کلمہ کن سے حشر بھی برپا کردے گا۔ آخر جب اس کو پہلا بار دنیا کے پیدا کردینے میں کوئی زحمت نہیں پیش آئی تو دوبارہ کیوں پیش آئے گی ؟ قَوْلُهُ الْحَقُّ میں حق کے معنی شدنی کے ہیں یعنی خدا کی ہر بات ہو کے رہتی ہے۔ اس میں ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، یعنی جس دن حشر کے لیے صور پھونکا جائے گا اس دن سارا اختیار اور ساری بادشاہی صرف خدائے واحد وقہار ہی کی ہوگی۔ اس دن نہ کسی کا کوئی زور چلے گا، نہ کسی کو کوئی اختیار حاصل ہوگا، نہ کسی کی سعی و سفارش اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کچھ نفع نہ پہنچا سکے گی، سب خدا کے آگے سرفگندہ ہوں گے صرف اسی کا حکم ناطق و نافذ ہوگا۔ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، وہ سارے غائب و حاضر کا علم رکھنے والا ہے اس وجہ سے نہ کسی کی کوئی ظاہر یا پوشیدہ بات اس سے مضفی ہوگی، نہ وہ کسی سے کوئی بات پوچھنے کا محتاج ہوگا، نہ کوئی اس کے علم میں کوئی اضافہ کرسکے گا، نہ کوئی غلط قسم کا عذر کرسکے گا۔ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ وہ حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کا ہر فیصلہ عدل و حکمت اور علم و خبر پر مبنی ہو۔ نہ اس کے عدل و حکمت میں کوئی نقص ہے کہ وہ کسی باطل کو حق اور حق کو باطل بنا دے۔ نہ اس کے علم وخبر میں کوئی خلا ہے کہ لا علمی اور بیخبر ی کے سبب سے کسی مغالطے میں پڑجائے یا کوئی اس کو مغالطہ میں ڈال کر حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے۔
Ayah 6:74فصل 11: آیات 74 تا 90 کا مضمون : سورة کے شروع سے جو بحث چلی آرہی تھی یہاں آ کر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اب آگے حضرت ابراہیم اور ان سے پہلے اور ان کے بعد پیدا ہونے والے تمام نبیوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ ان سب کی دعوت یہی تھی جو یہ پیغمبر دے رہے ہیں۔ پھر پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم بہر شکل اسی ہدایت یافتہ گروہ کی ہدایت کی پیروی کرو۔ اگر تمہاری یہ قوم تمہاری بات نہیں سنتی تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ، تمہاری ذہ داری صرف دعوت و تبلیغ کی ہے۔ ان کے دلوں میں ایمان و ہدایت اتار دینا تہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں خاص اہمیت کے ساتھ کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو بالکل ابتدا ہی میں انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو دی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی دعوت کے خاص طور پر ذکر کی وجہ، جیسا کہ ہم تفسیر سورة بقرہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کرچکے ہیں، یہ ہے کہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل دونوں ہی ان کو مسلم طور پر اپنا خاندانی بزرگ اور روحانی پیشوا مانتے تھے اور مدعی تھے کہ جس دین پر وہ ہیں ان کو انہی سے وراثت میں ملا ہے اور اپنی تمام مشرکانہ بدعات میں انہی کے نام نامی کو بطور سند پیش کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت بھی چونکہ ملت ابراہیم پر ہوئی تھی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جس طرح بقرہ اور آل عمران میں بنی اسرائیل پر یہ واضح کردیا گیا کہ ان کی ایجاد کردہ یہودیت و نصرانیت کو ملت ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح بنی اسماعیل پر بھی یہ واضح کردیا جائے کہ انہوں نے جو دین شرک اختیار کر رکھا ہے یہ ان کی اپنی ایجاد ہے، حضرت ابراہیم سے اس کو کوئی دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم کی دعوت اور ان کی زندگی کے ہر پہلو سے نبی ﷺ کو جو سبق حاصل ہوسکتے تھے وہ کسی اور طریقے سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہے کہ آپ اسی ملت بیضا کی تجدید و تکمیل کے لیے آئے تھے جس کی دعوت حضرت ابراہیم نے دی تھی اور اسی قوم کے اندر آئے تھے جو حضرت ابراہیم کی نام لیوا تھی، اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
آزر کے نام کے بارے میں روایات کا اختلاف : آزر، حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا نام ہے۔ تورات کے عربی اور انگریزی ترجموں اور تالمود، سب میں اس کا تلفظ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قرآن نے یہاں جس تصریح کے ساتھ اس نام کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں یہود کے ہاں روایات کا جو اختلاف ہے وہ اس کو رفع کرنا چاہتا ہے اور قرآن چونکہ قدیم صحیفوں کے لیے کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے اور براہ راست وحی الٰہی پر مبنی ہے اس وجہ سے ماننا چاہیے کہ یہی نام صحیح ہے۔
انبیاء کی دعوت کا ایک خاص اسلوب : یہود کے مذہبی لٹریچر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آزر صرف بت پرست ہی نہیں بلکہ بت گر اور بت فروش بھی تھے بلکہ عجب نہیں کہ بت خانے کے پروہت بھی رہے ہوں۔ ایسے حالات میں آزر کے گھر میں ابراہیم کا پیدا ہونا اور باپ کے سارے کاروبار بت پرستی و بت فروشی پر بیٹے ہی کے ہاتھوں یہ ضرب کاری لگنا قدرت الٰہی کا ایک کرشمہ ہے۔ حضرات انبیاء کی صداقت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ انہوں نے جس حق کی دعوت دنیا کو دی ہے اس کی اذا سب سے پہلے ان کے کانوں میں دی ہے جو ان کے سب سے زیادہ قریب بھی تھے اور ان کو سب سے زیادہ عزیز بھی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو جو دعوت دی ہے اس کی طرف یہاں صرف اجمالی اشارہ ہے۔ قرآن میں دوسرے مقامات میں اس کی تصریح بھی ہے“إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45) قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لأرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا (46): یاد کرو جب اس نے اپنے باپ سے کہا، اے میرے باپ، آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے میرے باپ، میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا تو میری پیروی کیجیے میں آپ کو سیدھی راہ دکھاؤں گا۔ اے میرے باپ شیطان کی بندگی نہ کیجیے۔ شیطان خدائے رحمان کا بڑا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو خدائے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب نہ آپکڑے کہ آپ شیطان کے ساتھ بن کے رہ جائیں۔ اس نے جواب دیا، ابراہیم ! کیا تم میرے معبودوں سے منحرف ہو رہے ہو۔ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا۔ اب تم میرے پاس سے یک دم دفع ہوجاؤ ”(سورة مریم :42 تا 46)۔
اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً ، یعنی اپنے ہی ہاتھوں کے گھڑے ہوئے بت اور ان کو معبود بنا ڈالا ہے، یہ تو ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں آپ بھی مبتلا ہیں اور آپ کی قوم بھی ! دوسری جگہ فرمایا ہے“ اتعبدون ما تنحتون : کیا تم پوجتے ہو ان چیزوں کو جن کو خود اپنے ہی ہاتھوں گھڑتے ہو ”(صافات :95)
Ayah 6:75وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ ، دوسرے مقام میں ہم اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ در اصل کُنَّا نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ ہے، عربی زبان کے معروف اسلوب کے مطابق یہاں ‘ کنا ’ محذوف ہوگیا ہے۔
لفظ ملکوت کی تحقیق :‘ مَلَکُوْت ’ جس طرح ‘ رہبۃ ’ سے ‘ رہبوت ’ ہے اسی طرح ملک سے ملکوت ہے، ملکوت کا لغوی مفہوم تو عزت و اقتدار، بادشاہی اور سلطنت ہے لیکن قرآن میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم ہے۔ اس ملکوت الٰہی پر غور کرنے کی دعوت مختلف اسلوبوں سے قرآن میں بار بار دی گئی ہے“ اولم ینظروا فی ملکوت السموات والارض : کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین میں خدا کی بادشاہی پر غور نہیں کیا ”(اعراف :185)۔“ سبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون : پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ”۔
ملکوت الٰہی میں تفکر تمام علم کی کلید ہے : یہاں یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ آسمان و زمین کے نظام پر غور کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق بکشی سے ان پر اپنی معرفت کے وہ اسرار و حقائق کھولے جو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم پر واضح کیے۔ یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ اسی ملکوت پر غور کرنے سے وہ کلید ہاتھ آتی ہے جس سے صحیح فکر اور صحیح عمل کے دروازے کھلتے ہیں اسی سے زندگی کا سرا بھی ہاتھ آتا ہے اور اسی سے اس کے منتہا کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس دنیا کا کوئی خالق ہے یا یہ خود ہی آ دھمکی ہے ؟ اگر کوئی خالق ہے تو وہ یکہ و تنہا ہے یا اس کے اور بھی شریک وسہیم ہیں ؟ یہ پیدا ہو کر کبھی ختم ہوگی یا اسی طرح ہمیشہ ہمیش چلتی رہے گی، اگر اس کا کوئی خالق ومالک ہے تو اس کی صفات و خصوصیات کیا ہیں اور کس لیے اس نے اتنا بڑا عالم کھڑا کردیا ہے ؟ اس دنیا میں حق و باطل کے لیے کوئی معیار ہے یا یہ کوئی اندھیر نگری ہے ؟ انسان اپنے اقوال و افعال کے لیے مسئول اور جواب دہ ہے یا بالکل مطلق العنان اور شتر بےمہار ہے ؟ آسمانوں اور زمین ایک ہی قادر وقیوم کی تدبیر و حکمت کار فرما ہے یا ان کے اندر الگ الگ مشیتیں اور الگ الگ ارادے زور آزمائی کر رہے ہیں ؟ یہ اور اس قبیل کے دوسرے بہت سے سوالات ہیں جن کے صحیح حل پر پر ہی صحیح فکر اور صحیح عمل کی بنیاد ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے آسمان و زمین کے اس نظام پر غور کرنے کی دعوت بھی دی ہے اور صحیح نتائج تک پہنچنے میں ہمارے فکر کی رہنمائی بھی فرمائی ہے۔
جہاں تک غور کرنے کا تعلق ہے اس ملکوت پر غور تو ایک سائنس دان بھی کرتا ہے لیکن وہ سارا غور و فکر اپنی ذات یا اپنے محدود ماحول کو محور بنا کر کرتا ہے۔ اس کی نگاہ صرف اپنے نفع عاجل پر ہوتی ہے اس وجہ سے وہ ان حقائق تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتا جو اس کی نگاہ کو اس کے مطلوب نفع عاجل سے ہٹا دیں۔ وہ چمن میں کھلے ہوئے گلاب کو اس نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس سے گل قند یا اسی طرح کی کوئی اور چیز تیار ہوسکتی ہے جس سے فلاں فلاں فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اسچکر میں نہیں پڑتا کہ اس پھول کے حسن و جمال اس کی رعنائی و دل کشی، اس کی عطر بیزای و مشام نوازی میں اس کے صانع کی قدرت کاری گری، حکمت، رحمت اور ربوبیت کے جلوے دیکھنے کی کوشش کرے اور ان جلووں سے بےخود ہو کر پھول سے گزر کر پھول کے پیدا کرنے والے کے جمال و کمال کے مشاہدے میں غرق ہوجائے۔ اے گل بتوخر سندم تو بوئے کسے داری۔ حالانکہ ایک صاحب نظر کے لیے پھول کا یہی پہلو زیادہ جاذبِ نظر ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر پھول سے مقصود صرف گل قند ہی ہوتا تو صرف اس مقصد کے لیے اس کی ایک ایک پنکھڑی پر قدرت کو اس فیاضی کے ساتھ گل کاری کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ گل کاری اور صنعت گری تو اسی لیے فرمائی گئی ہے کہ پھول کی ایک ایک پتی معرفتِ کردگار کے دفتر کا کام دے۔
نیوٹن نے سیب کے درخت سے ایک سیب زمین پر گرتے دیکھا۔ اس سے اس کا ذہن زمین کی کشش کے اصول کی طرف منتقل ہوگیا۔ پھر اس اصول سے بہت سے اصول دریافت ہوگئے جو علمی تحقیقات قور انکشافات میں بہت کار آمد ثابت ہوئے لیکن نگاہ ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس اصول کی تمام کار فرمائیاں بس اسی دنیا کی تنگ نائے کے اندر محدود رہ گئیں۔ ورنہ یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، جذب و کشش کے اس قانون سے باندھ رکھا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا ایماندارانہ جواب یہی ہوسکتا ہے کہ“ ذالک تقدیر العزیز العلیم ”یہ سارا کارخانہ ایک غالب و مقتدر اور ایک حکیم وعلیم کا بنایا ہوا ہے لیکن اس سوال اور اس کے جواب سے چونکہ بہت بھاری ذمہ داریاں انسان پر عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے ہمارے سائنس دان اس سے بھاگتے ہیں۔
حضرات انبیاء کی بلند نگاہی : زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ“ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمان و زمین میں ملکوتِ الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے ”تو اس سے اسی بلند نگاہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی ہدایت سے حضرات انبیاء کرام کو بالخصوص حاصل ہوتی ہے اور ابقدر استعداد اس توفیق میں سے وہ لوگ بھی حصہ پاتے ہیں جو ایمان دارانہ اس کائنات پر غور کرتے ہیں اور اپنے غور و فکر کے نتائج سے گریز کے بجائے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں“ و یتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا ”میں اسی گروہ کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔
وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ ، یہاں عربی زبان کے اس معروف قاعدے کے مطابق جس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، معطوف علیہ محذوف ہے جس کا تعین قرینہ کرے گا، یہاں آگے وضاحت موجود ہے کہ اس مشاہدہ ملکوت سے اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی وحدانیت کی اس دلیل کی طرف رہنمائی فرمائی جو انہوں نے اپنی قوم پر قائم فرمائی۔ چناچہ فرمایا ہے“ وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ : اور یہ ہے ہماری وہ دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل عطا فرمائی ”اس قرینہ کی روشنی میں اگر اس محذوف کو کھولا جائے تو پوری بات یوں ہوگی کہ“ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں ملکوت الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے اپنی قوم پر حجت قائم کرے اور تاکہ وہ اہل یقین میں سے بنے ”۔
یقین کے ساتھ علاج : یہاں جس یقین کا ذکر ہے یہ وہ یقین ہے جو ایمان کے اوپر کا درجہ ہے جس کو حق الیقین سے تعبیر کرسکتے ہیں، ایمان ایک عام چیز ہے جس کے لیے اگر فطرت سلیم ہو تو اندر کا وجدان بھی کافی ہوتا ہے لیکن یقین، فکر و نظر، تفکر و تدبر اور ملکوت الٰہی کے علم و مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے مراتب و مدارج کی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ چناچہ آگے نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاء میں اسی کے مراتب عالیہ کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ یہی یقین جب ایمان کے اندر پیدا ہوتا ہے تب اس کا فیضان متعدی ہوتا ہے یہاں تک کہ بسا اوقات اس سے دشت و جبل گونج اٹھتے ہیں۔ حضرات انبیا چونکہ خلق کی ہدایت پر امور ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ اس میں حصہ وافر پاتے ہیں اور پھر ان کے بعد ان لوگوں کا درجہ ہوتا ہے جو ان کے متبعین باحسان میں شامل ہوتے ہیں۔
Ayah 6:76ان آیات (آیت 76 تا 79) میں لغت یا اسلوب زبان کا کوئی اشکال نہیں ہے۔ نظم کے پہلو سے یہ اوپر والی کے اجمال کی تفصیل ہے۔ پہلے حوالہ دیا کہ کس طرح ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے دین کے کھوکھلے پن کو ان کے سامنے بےنقاب کیا اور ان کی کھلی ہوئی گمراہی پر ان کو ملامت کی۔ پھر اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح ہم ابراہیم ؑ پر آسمان و زمین میں اپنی ملکوت کے اسرار و حقائق بےنقاب کرتے تھے تاکہ وہ اپنی قوم پر ہماری حجت قائم کرے اور تاکہ وہ کاملین یقین میں سے بنے۔ اس کے بعد اب یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ ابراہیم ؑ نے کس طرح اپنی قوم پر یہ واضح کیا کہ وہ اس کائنات کی جن چیزوں کو معبود سمجھ کر ان کی پرستش کر رہی ہے وہ ساری چیزیں خود اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہیں کہ وہ ملکوتِ الٰہی کے تابع اور اس کے احکام وقوانین مسخر ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ سرِ مُو ادھر ادھر ان سے تجاوز کرسکیں۔ اس وجہ سے عبادت کا اصلی مستحق وہ ہے جو ان سب کا خالق و فاطر ہے نہ کہ یہ جو محکوم و مقہور ہیں۔ اب ہم حضرت ابراہیم کے اس استدلال کی وضاحت کریں گے لیکن اس وضاحت سے پہلے چند باتیں حضرت ابراہیم ؑ کے طرز خطاب و استدلال سے متعلق سمجھ لینی ضروری ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کے طرز استدلال کی بعض خصوصیات : حضرات انبیاء (علیہم السلام) یوں اپنی دعوت اور اپنے مقصد کے اعتبار سے تو بالکل یک رنگ و ہم آہنگ ہوتے ہیں لیکن اپنے مخاطبوں کے مزاج، ان کی افتادِ طبع اور ان کے ذوق کے اختلاف کے سبب سے ہر نبی کے طرز خطاب اور طریقہ استدلال و بحث میں کچھ امتیازی خصوصیات پیدا ہوگئی ہیں۔ مثلاً حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ؑ زیادہ تر تمثیلوں میں بات کرتے تھے۔ بعض انبیا میں موعظت کا رنگ غالب ہے بعض کے ہاں قانون کا انداز نمایاں ہے۔ یہ فرق، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، زیادہ تر نتیجہ ہے مخاطب کے ذوق و مزاج کے فرق و اختلاف کا، لیکن کچھ اس میں ذوق رجحان کو بھی دخل ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر طبیعت میں الگ الگ ودیعت فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم، جیسا کہ قرآن میں بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے، بڑی مناظرہ باز اور حجرت طراز قوم تھی۔ اول تو لوگ بات سننے کے لیے آسانی سے تیار ہی نہ ہوتے اور اگر کبھی سنانے کا کوئی موقع نکلتا بھی تو بڑی جلدی بدک جاتے اور مباحثہ و مناظرہ کے لیے آستینیں چرھا لیتے۔ ان کے مزاج کی اس وحشت کی وجہ سے حضرت ابراہیم بحث و خطاب میں استدراج کا طریقہ زیادہ اختیار فرماتے۔ استدراج کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطب پر اس راہ سے درجہ بدرجہ گھیرے ڈالتے جدھر سے اس کو سان گمان بھی نہ ہوتا کہ وہ گھیرے میں آسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال اس واقعہ میں موجود ہے جو سورة انبیاء میں بیان ہوا ہے۔ انہوں نے ایک دن موقع نکال کر قوم کے بت خانے کے سارے بت ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیے۔ صرف بڑے بت کو سلامت چھوڑ دیا۔ جب پوچھ گچھ شروع ہوئی اور حضرت ابراہیم سے سوال ہوا کہ کیا یہ تمہارا فعل ہے، انہوں نے جھٹ جواب دیا کہ یہ تو اس بڑے بت کی کارستانی معلوم ہوتی ہے اور ٹوٹے ہوئے بتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے جن پر یہ مصیبت گزری ہے۔ اگر یہ بولتے ہیں تو اپنی مصیبت کی داستان خود ہی سنا دیں گے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ بات سن کر پہلے تو سب پر شرم سے گھڑوں پانی پڑگیا کہ فی الواقع ہم کتنے احمق ہیں کہ ایسی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں جو خود اپنی حفاظت سے بھی قاصر ہیں۔ جب یہ خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتیں تو بھلا ہماری حفاظت کیا کریں گی۔ اس طرح اندر سے ان کا اعتقاد متزلزل ہوگیا۔ لیکن پھر حمیت جاہلیت کے جوش میں حضرت ابراہیم ؑ کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی تو اس کوشش میں اپنی حماقت کا اعتراف بھی کر گئے۔ بولے کہ یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ ان کے اس اعتراف پر حضرت ابراہیم ؑ کو ایک نہایت عمدہ موقع ان کی حماقت پر توجہ دلانے کا مل گیا اور انہوں نے ایک نہایت موثر تقریر کی کہ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ کسی نفع پر قادر ہیں نہ کسی نقصان پر۔ اس طریقہ استدراج کے تقاضے سے حضرت ابراہیم ؑ کبھی کبھی توریہ سے بھی کام لیتے تھے۔ توریہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی کوئی اسکیم پوری کرنے کے لیے حریف کے سامنے اپنی بات اس طرح پیش کرتے کہ بات تو بالکل صحیح ہوتی لیکن اس کے پیش کرنے کا انداز ایسا ہوتا کہ حریف اس سے مغالطہ میں پڑجاتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ہوشیاری کے باوجود وہ اسکیم کے بروئے کار آجانے سے پہلے اس سے آگاہ نہ ہوپاتا۔ اس کی نہایت لطیف مثال سورة صافات میں ہے۔ انشاء اللہ ہم اس پر اس کے مقام میں گفتگو کریں گے اور وہیں بعض الفاظ کی وضاحت بھی کریں گے جن کے صحیح مفہوم سے بیخبر ی کے باعث بہت سے لوگ نہایت افسوسناک قسم کی غلط فہمیوں کے شکار ہوگئے۔
اس استدراج اور اس توریہ میں کہیں کہیں پاکیزہ ظرافت بھی شامل ہوجاتی ہے جو کچھ تو اس استدراج اور توریہ کا فطری تقاضا ہوتی ہے اس لیے کہ ہر کام ایک مخصوص انداز اور مخصوص اسلوب کا طالب ہوتا ہے اور کچھ اس میں اس لطافتِ ذوق کی نمود بھی ہوتی ہے جو حضرت ابراہیم کے مزاج کی ایک خصوصیت ہے۔ اس کی نہایت عمدہ مثالیں سورة انبیا اور سورة صافات میں آئیں گی۔
اس تمہید کے بعد اب زیر بحث آیات (آیت 76 تا 79) پر غور فرمائیے۔
حجت ابراہیمی کی وضاحت : ایک انہوں نے ایک ستارے کو چمکتے دیکھا (ہوسکتا ہے کہ یہ ستارہ زہرہ ہو جس کو ان کی قوم پوجتی تھی یا کوئی اور ستارہ ہو) تو بولے کہ ‘ ہاں بھائی یہ میرا رب ’ قرینہ صاف بتا رہا ہے کہ یہ بات انہوں نے خود اپنے آپ کو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی ہوگی کہ دوسروں کے کان میں بھی پڑجائے۔ سننے والوں نے جب ان کی زبان سے یہ بات سنی ہوگی تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ چلو، یہ بھی غنیمت ہے۔ ایک ایسا شخص جو باپ دادا کے دین اور ہمارے معبودوں سے بالکل بیزار ہے جس حد تک بھی ہمارے ساتھ موافقت کر رہا ہے اسی پر قناعت کرو اور زیادہ اس کے درپے نہ ہو، حضرت ابراہیم ؑ یہ بات لوگوں کے کانوں میں ڈال کر خاموش ہو رہے۔ پھر جب ستارہ ڈوب گیا تو انہوں نے بالکل اسی انداز میں اپنے کو مخاطب اور دوسروں کو سناتے ہوئے کہا کہ میں ان ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ آس پاس والوں کا سابق اطمینان تو ان کی یہ بات سن کر رخصت ہوگیا ہوگا لیکن وہ اس سوچ میں ضرور پڑگئے ہوں گے کہ اس نوجوان کا ہمارے معبودوں سے انحراف محض نوجوانی کی ترنگ اور بےقیدی وآزادی کی لا ابالیانہ خواہش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کی سوچ نے اس کے عقیدے کو متزلزل کردیا ہے چونکہ بات ان کو براہ راست مخاطب کر کے تحدی کے انداز میں ہیں کہی گئی تھی اس وجہ سے وہ زیادہ مشتعل بھی نہیں ہوئے ہوں گے بلکہ وہ اس فکر میں پڑگئے ہوں گے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہماری بات ہی میں کوئی کمزوری ہے۔
کسی جمود کا اس حد تک ہل جانا بھی بایک بڑی کامیابی ہے، حضرت ابراہیم نے اس طرح ان کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ ان ستاروں کا طلوع ہونا اور چمکنا ہی کیوں دیکھتے ہو۔ طلوع ہونے کے بعد ان کا ڈوب جانا کیوں نہیں دیکھتے ؟ جب طلوع کے ساتھ غروب اور آنے کے ساتھ جانا بھی ہے اور اس پابندی اور محکومی کے ساتھ کہ مجال نہیں ہے کہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی وقت یا سمت میں یا ہیئت اور شکل میں سرِ مو تغیر ہوجائے تو یہ تو گویا وہ خود زبان حال سے بتا رہے ہیں کہ ہم آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہیں اور جاتے نہیں بلکہ لے جائے جاتے ہیں۔ (ع)۔ لائی حیات آئے، قضا لے چلی، چلے۔۔۔ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔
اس حقیقت کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم نے یہ بات بھی ان کے کانوں میں ڈال دی کہ خالق ومالک کے ساتھ بندے کا تعلق محبت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ مجرد خوف کی بنیاد پر، مجرد خوف ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی کا کوئی حق قائم ہوجائے اور حق بھی اس کی عبادت کا۔ مشرکین کے لیے یہ بات بھی ایک نئی رہنمائی دینے والی بات تھی اس لیے کہ شرک کی بنیاد تمام تر خوف پر ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے گویا بتایا کہ میں مجرد خوف کی بنیاد پر کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ محبت کی بنا پر عبادت کرتا ہوں اور محبت کی سزوار یہ آنی جانی چیزیں نہیں بلکہ صرف وہ ہے جس کے حکم سے یہ چیزیں آتی جاتی ہیں۔
Ayah 6:77فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا الایۃ، اسی طرح کسی دن، پورے چاند کی پھیلی ہوئی چاندنی میں انہوں نے پھر اس تعلیم کے لیے موقع پیدا کرلیا اور بالکل اسی لب و لہجہ اور اسی انداز میں انہوں نے چاند کے متعلق وہی بات کہی جو پہلے ستارے کے متعلق کہی تھی۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو انہوں نے اسی طرح اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے اور آس پاس والوں کو سناتے ہوئے فرمایا کہ لَىِٕنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ : اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہوجاؤں گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تعلیم کا قدم پہلے کی نسبت سے آگے ہے۔ یہاں صرف اتنی ہی بات نہیں ظاہر ہوئی کہ ڈوبنے والے سزوار عبادت نہیں بلکہ یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ ان ڈوبنے والوں کو معبود بنانا کھلی ہوئی ضلالت ہے۔ نیز یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ یہ ضلالت کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ بڑے حسرت واندوہ کی چیز ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ ہدایت کا سرچشمہ صرف خدا ہے، وہ ہدایت نہ بخشے تو انسان ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے درپے ہوجاتا ہے۔ یہ ساری باتیں حضرت ابراہیم ؑ نے چونکہ اپنے آپ سے کہیں اس وجہ سے سننے والوں میں سے جس کے کان میں پڑی ہوں گی اس کے لیے ان سے چڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی بلکہ جس کے اندر کچھ بھی غور و فکر کی صلاحیت رہی ہوگی وہ اس سوچ میں پڑگیا ہوگا کہ ایک یہ شخص ہے جو طلب ہدایت میں اس طرح بےقرار ہے اور ایک ہم ہیں کہ پتھر کی طرح اپنی جگہ سے کھسکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔
ایک حقیقت کا اظہار : یہاں حضرت ابراہیم ؑ نے جو یہ بات فرمائی کہ لَىِٕنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ تو یہ ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے۔ ہدایت ہمیشہ خدا ہی سے حاصل ہوتی ہے، اگر وہ ہدایت نہ دے تو کسی کو بھی ہدایت حاصل نہیں ہوسکتی۔ بعض لوگوں نے اس کو شرط فی الماضی کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ ان کے یہ بات کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس سے پہلے گمراہی میں تھے یا اپنے کو گمراہی پر سمجھتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی فطرت سلیم کا آئینہ دوسروں کے سامنے رکھا ہے کہ وہ لوگ اس آئینہ میں اپنے منہ دیکھیں۔ لیکن بس آئینہ رکھ دیا ہے خود ان کو مخاطب کر کے کچھ نہیں کہا ہے کہ وہ وحشت زدہ اور بدگمان نہ ہوں۔
Ayah 6:78اسی طرح ایک دن انہوں نے سورج کے طلوع و غروب کو اپنی تعلیم کا ذریعہ بنا لیا۔ سورج جب آب تاب سے نکلا اور نصف النہار پر پہنچا تو اسی انداز میں جس کا ذکر اوپر گزرا، انہوں نے سورج کے متعلق بھی وہی بات فرمائی جو تارے اور چاند کے متعلق فرمائی تھی۔ البتہ اس کے ساتھ اتنا اضافہ بھی فرما دیا کہ ‘ ھذا اکبر ’ یہ سب سے بڑا ہے ؟ قرینہ صاف پتہ دے رہا ہے کہ یہ بات انہوں نے طنز، تحقیر اور استہزاء کے طور پر فرمائی لیکن سننے والوں نے پھر اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ چلو، اس سر پھرے آدمی سے یہ بھی غنیمت ہے۔ زہر اور چاند کو نہیں مانتا نہ سہی، ہمارے بڑے دیوتا سورج کو تو مانتا ہے۔ لیکن ان کا یہ اطمینان بھی زیادہ دیر پا نہ ثابت ہوا۔ آخر سورج کو بھی ڈوبنا ہی تھا، وہ بھی ڈوب گیا، جب وہ بھی ڈوب گیا تو حضرت ابراہیم ؑ نے بالکل کھل کر اور سب کو مخاطب کر کے حق کا اعلان فرما دیا کہ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ، اے میری قوم کے لوگو ! تم جن چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے اپنے آپ کو بری کرتا ہوں۔ اب تک انہوں نے جو کچھ فرمایا تھا اس کی نوعیت خود اپنے اوپر اپنے تاثرات کے اظہار کی تھی، اگرچہ اس سے مقصود بالواسطہ قوم کی عقل اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا ہی تھا لیکن قوم کو براہ راست مخاطب نہیں فرمایا تھا۔ اب انہوں نے ان کو براہ راست مخاطب کر کے ان کے دین اور ان کے معبودوں سے اپنی براءت کا اعلان فرما دیا۔
Ayah 6:79اعلان براءت اور توحید کا زندہ جاوید کلمہ : اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، یہ اس اعلانِ براءت کی تعبیر اور اس کا کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے تمام معبودان باطل سے کٹ کر اور بالکل یکسو ہو کر اپنا رخ اس رب کی طرف کرلیا ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ لِلَّذِيْ کا ‘ ل ’ اس بات پر دلیل ہے کہ وَجَّهْتُ کا لفظ اَسْلَمْتُ کے مضمون پر بھی مشتمل ہے۔ یعنی میں نے اپنے آپ کو بالکلیہ آسمان و زمین کے خالق ومالک کے حوالہ کردیا۔ یہ توحید اور اسلام کی عظیم آیت اور ملت ابراہیمی کا کلمہ جامعہ ہے اور ہم چونکہ اپنی نمازوں میں اسی حقیقت کا اظہار و اعتراف کرتے ہیں اس وجہ سے ان کا آغاز اسی کلمہ جامعہ سے کرتے ہیں۔
Ayah 6:80وَحَاۗجَّهٗ قَوْمُهٗ :۔ قوم کی طرف سے ڈراوے اور حضرت ابراہیم کا جواب :، جب یہ بات یہاں تک پہنچ گئی، حضرت ابراہیم نے صاف صاف نہ صرف توحید کا بلکہ شرک اور شرکاء سے اپنی براءت کا بھی اعلان کردیا تو ان کی قوم ان سے بحث وجدال کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور شرک کی بنیاد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چونکہ تمام تر خوف اور وہم پستانہ اندیشوں پر ہوتی ہے اس وجہ سے قوم کے لوگوں نے طرح طرح سے ان کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا کہ معبودوں سے نفرت و بغاوت کا اعلات کرتے ہو تو ان کی پکڑ میں آجاؤ گے، اندھے ہوجاؤ گے، اپاہج ہوجاؤ گے، تم پر بجلی گرے گی، بری موت مروگے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جواب میں فرمایا کہ تم خدا کے باب میں مجھ سے جھگرتے ہو کہ میں تنہا اسی کو کیوں مانتا ہوں، اس کے شریک کیوں نہیں ٹھہراتا ؟ اسی خدا نے تو مجھے یہ ہدایت بخشی ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم خدا کی منکر نہیں تھی بلکہ اس کے شریک ٹھہراتی تھی اور یہ بات صرف حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی کوئی قوم بھی خدا کی منکر نہیں ہوئی ہے، جس نے بھی ٹھوکر کھائی ہے اس کی توحید کے باب میں ٹھوکر کھائی ہے، وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ رَبِّيْ شَـيْــــًٔـا، یہ قوم کے ڈراو وں کا جواب ہے کہ میں تمہارے ان فرضی شریکوں سے ذرا نہیں ڈرتا، مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، جب تک میرا رب مجھے کوئی نقصان نہ پہنچانا چاہے، نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، اس کے اذن کے بغیر کسی کی مجال نہیں ہے کہ میرا بال بیکا کرسکے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے اس وجہ سے مجھے یہ بھی اندیشہ نہیں ہے کہ کوئی اس کی لاعلمی میں مجھے کوئی نقصان پہنچا دے گا، یہ تم لوگ کیسی باتیں کرتے ہو، کیا تم لوگ سوچتے نہیں ؟ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہ میں تفویض الی اللہ کا مضمون ہے جس سے اس حقیقت کا اظہار ہو رہا ہے کہ میں یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں خدا کے اعتماد پر کہہ رہا ہوں۔ یہ مضمون حضرت شعیب ؑ کی زبان سے سورة اعراف میں بھی آیا ہے“ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمْ بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ : اگر ہم تمہاری ملت میں پھر لوٹ گئے بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات بخشی تو یہ ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھیں گے، یہ ہم سے تو ہوگا نہیں کہ ہم پھر اس میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ ہمارا رب چاہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا ”(اعراف :89)۔ اس سے معلوم ہوا کہ پاک سے پاک ارادے اور سچے سے سچے عزم کی تکمیل بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق پر ہی منحصر ہے۔ اس وجہ سے بندے کو کوئی بات بھی مجرد اپنے اعتماد پر دعوے کے ساتھ نہیں کہنی چاہیے بلکہ خدا کے اعتماد پر کہنی چاہیے۔ اس لیے کہ ہر راہ میں اس کی آزمائشیں ہیں اور ان آزمائشوں میں پورا اترنا اس کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔
Ayah 6:81وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ ، یعنی ڈرنا تو تمہیں چاہیے خدا کے غضب اور اس کے قہر سے کہ تم نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے جن کے بارے میں تمہارے پاس خدا کی اتاری ہوئی کوئی سند اور دلیل نہیں ہے کہ اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے لیکن الٹے تم ڈرا مجھے رہے ہو۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو تو تم بھی مانتے، میں بھی مانتا ہوں، یہ تو ایک مسلم بات ہوئی۔ اب خدا کے سوا کچھ اور بھی ہیں جو خدا کے شریک وسہیم ہیں تو اس کا بار ثبوت تم پر ہے۔ اگر تم بےثبوت ان کو شریک خدا بنائے بیٹھے ہو تو تم خدا کے اقرار مجرم ہو۔ اور اگر وہ تم کو اس کی سزا دے تو تم سزا کے مستحق ہو۔ میں نے کس کا جرم کیا ہے جس سے ڈروں ؟ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو تو بتاؤ کہ خدا کی امان کا حقدار میں ہوں یا تم ؟ لیکن یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ تم چور ہو کر الٹے کو توال کو ڈانٹتے ہو۔
Ayah 6:82اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ الایۃ، ظلم سے مراد، جیسا کہ ایک سے زیادہ مقامات میں ہم واضح کر آئے ہیں، شرک ہے۔ اب یہ توحید کے باب میں اصل حقیقت کا بیان ہے کہ خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہو۔ جس ایمان کے اندر شرک کی ملاوٹ ہو وہ ایمان خدا کے ہاں معتبر نہیں۔ تم امن کا ضامن اپنے شرکا کو سمجھتے ہو اور خدا سے بےنیاز ہو حالانکہ امن کے سزوار وہ ہیں جو ہر معاملے میں صرف خدا پر اعتماد رکھتے ہیں اور شرک سے بری ہیں۔ یہی لوگ ہدایت پر ہیں، اس کے سوا ہر راہ گمراہی کی راہ ہے۔
Ayah 6:83تِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ ، یہ اشارہ توحید کی اس دلیل کی طرف ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم پر قائم فرمائی اور جو اوپر تفصیل سے مذکور ہوئی۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ ہے ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل میں عطا فرمائی، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جو لوگ اس کو حضرت ابراہیم ؑ کا فکری ارتقا سمجھتے ہیں ان کا خیال قرآن کے بالکل خلاف ہے یہ حضرت ابراہیم کے فکر کا ارتقا نہیں بلکہ اس کو کہہ سکتے ہیں تو ان کی دعوت کا ارتقا کہہ سکتے ہیں۔ اگر یہ حضرت ابراہیم کے فکر کا ارتقاء بیان ہوا ہوتا تو ‘ علی قومہ ’ کے الفاط کی ضرورت نہیں تھی۔
یہاں چند اور باتیں بھی ذہن میں رکھیے۔ ایک یہ کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) فطرت سلیم پر پیدا ہوتے اور فطرتِ سلیم ہی پر پروان چرھتے ہیں۔ نبوت سے پہلے بھی انکو کبھی توحید و شرک کے معاملے میں اشتباہ پیش نہیں آتا۔ توحید تو عہد فطرت ہے جو خدا نے اولادِ آدم سے ان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی لیا ہے اور قرآن سے یہ ثابت ہے کہ اس عہد ہی کی بنا پر توحید کے معاملے میں ہر شخص عنداللہ مسئول ہوگا خواہ اسے کسی نبی کی دعوت پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو۔ ایسی حالت میں کسی نبی کے متعلق یہ گمان کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی کسی شرک سے آلودہ ہوسکتا ہے، نبوت سے پہلے بھی حضرات انبیاء جہاں تک مبادی فطرت کا تعلق ہے بالکل فطرۃ اللہ پر ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ نخل فطرت کے بہترین ثمر ہوتے ہیں اس دور میں انہیں جو جستجو ہوتی ہے وہ خدا کی نہیں بلکہ خدا کی مرضیات اور اس کے احکام کی ہوتی ہے۔ یہ جستجو بھی در حقیقت ان کی فطرتِ سلیم ہی کی پیاس ہوتی ہے جو اپنے بلوغ پر بھڑکتی ہے اور سیرابی و آسودگی کی خواہاں ہوتی ہے۔ یہ سیرابی ان کو وحی کے ابر نیساں سے حاصل ہوتی ہے۔ انبیا کے لیے وحی کی حیثیت تاریکی کے اندر روشنی کی نہیں بلکہ روشنی کے اوپر روشنی کی ہوتی ہے، نور علی نور یہدی اللہ لنورہ من یشاء۔ اس مسئلہ پر خدا نے چاہا تو ہم سورة نور کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کریں گے۔
دوسری یہ کہ حضرت ابراہیم کا ملکوت الٰہی سے جو استشہاد اوپر مذکور ہوا ہے وہ نبوت سے پہلے کا نہیں بلکہ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد کا ہے جب انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز فرمایا ہے۔ پہلے انہوں نے اپنے باپ کو دعوت دی اور یہی حضرات انبیاء کی معروف سنت رہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے سب سے زیادہ قریبی عزیزوں کو دعوت دی ہے۔ اس کے بعد اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کے سامنے بالتدریج اس طرح اعلانِ حق فرمایا جس کی تفصیل اوپر بیان ہوئی۔ اس بات کی دلیل کہ یہ نبوت کے بعد واقعہ ہے آیات 79 تا 80 میں موجود ہے۔ ان آشکارا الفاظ میں یہ زندہ جاوید کلمات ایک نبی کے سوا کون کہہ سکتا ہے۔
تیسری یہ کہ اگر یہ حضرت ابراہیم ؑ کا فکری ارتقا ہوتا تو واقعات کی یہ ترتیب بالکل خلاف فطرت ماننی پڑے گی۔ آخر سب سے پہلے ان کو ایک چھوٹے سے تارے ہی نے کیوں اپنی طرف متوجہ کیا، ہر صبح کو اس کروفرو سے طلوع ہونے والا سورج کہا چلا گیا تھا ؟ اس قسم کے خلاف فطرت مشاہدے کے لیے پھر اس سے زیادہ خلاف فطرت یہ روایت لوگوں کو گھرنی پڑی کہ حضرت ابراہیم کی ولادت ایک غار میں ہوئی تھی، اسی میں وہ پلے اور جوان ہوئے اور جب اس سے نکلے تو شب کا وقت تھا اور پہلی چیز جس کا انہوں نے اس کائنات کی جاذب نظر چیزوں میں سے مشاہدہ کیا وہ زہرہ ستارہ تھا۔
چوتھی یہ کہ استدارجی طریقہ استدلال میں متکلم اگر حریف کی کسی بات کو مانتا ہے تو ماننے کے لیے نہیں مانتا بلکہ وہ اس کو اسی داؤں پر شکست دینا چاہتا ہے جس کو حریف اپنا خاص داؤں سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا کے مکذبین کے یلے اپنی جس سنت استدراج کا ذکر قرآن میں فرمایا ہے اس کی بھی خاص خصوصیت یہی بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ وہیں سے ان کو دھر لیتا ہے جہاں سے ان کو اپنی کامیابی و فتح مندی کا غرہ ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم کی قوم اگر سورج، چاند، زہرہ کی پرستش کرتی تھی تو آخر اس کے نزدیک ان کی خدائی کی دلیل کیا تھی ؟ یہی نا کہ وہ طلوع ہوتے اور چمکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اسی کو پکڑ لیا کہ اگر طلوع ہونا اور چمکنا ہی ان کی الوہیت کی دلیل ہے تو آؤ ان کا ڈوبنا اور تاریک ہونا بھی دیکھ لو اور بتاؤ تمہاری وہ دلیل کہاں گئی ! نفسیات انسانی کا یہ نکتہ بھی یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی خدائی کی دلیل ان کے وقتی کرو فر ہی سے اخذ کی گئی ہو ان کی بےثباتی اور ناپائداری پر سب سے مؤثر تقریر کا وقت وہی ہوتا ہے جب ان کی لاش ان کے پرستاروں کے سامنے پڑی ہو۔
پانچویں یہ کہ انبیاء کے طریقہ کار اور خطاب و استدلال میں، استدارج، مزاح، طنز، توریہ اور تدریج وغیرہ کے انداز جو کہیں کہیں پائے جاتے ہیں، یہ سب انسانی فطرت کے مقتضیات پر مبنی ہیں۔ ان میں سے ہر اسلوب کا ایک محل ہوتا ہے اور ہر انداز اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ بسا اوقات ایک وقفہ، جو بظاہر ٹھہراؤ ہوتا ہے، سفر کی ہزاروں منزلیں طے کرا دیتا ہے اور ایک دلآویز طنز، جو بظاہر طنز ہوتا ہے، ہزاروں حجتوں پر بھاری ہوجاتا ہے۔ خدا نے چاہا تو قرآن کے آخری گروپ میں دعوت انبیا کے یہ نفسیاتی پہلو تفصیل سے زیر بحث آئیں گے۔
نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ، درجات، جمع بھی ہے اور اس پر تنوین بھی ہے اس وجہ سے اس کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اوپر وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ کے تحت ہم نے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اسی کی تعبیر یہ دوسرے الفاظ میں ہے کہ جو لوگ ملکوت الٰہی پر غور کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح علم و معرفت اور ایمان و یقین میں ان کے مدارج بلند کرتا جاتا ہے۔ حکیم وعلیم کی صفات کا یہاں حوالہ اسی سنت اللہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اللہ نے اپنے اس چاہنے کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ یعنی اس کا یہ چاہنا، اس کے علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنے قرب کے مدارج آنکھ بند کر کے نہیں بانٹتا بلکہ ان کو بخشتا ہے جو اس کے سزوار ہوتے ہیں اور جو اس کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ اس میں نہایت لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ آدمی اگر عقل و فکر سے کام نہ لے تو اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھروں کو معبود بنا کر سجدے کرتا اور ان سے حاجت روائی کا امیدوار ہوتا ہے اور اگر عقل و فکر سے کام لے تو شمس و قمر اور زہرہ و مشتری سب اس کی راہ کی گرد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayah 6:84اس دنیا میں حضرت ابراہیم کے لیے رفع ذکر کی سرفرازی : اوپر کی آیات میں حضرت ابراہیم کی دعوت کے ساتھ ان کے روحانی و ایمانی مدارج کا بیان ہوا۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس دنیا میں اللہ نے ان کو اور ان کی دعوت کو رفع ذکر اور شہرت دوام کی عزت و سرفرازی عطا فرمائی۔ ان کی ذریت میں بڑے بڑے انبیاء اور بلند مرتبہ صالحین و مجددین ا تھے اور ان سب کا دین وہی دین توحید تھا جس کی دعوت ابراہیم نے اور ان سے پہلے نوح نے دی۔ مطلب یہ ہے کہ یہی تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور تم بھی اسی دین کی دعوت دے رہے ہو۔ اگر تمہاری قوم اس کو قبول نہیں کرنا چاہتی تو تم اس کی پروا نہ کرو۔ اللہ نے دوسروں کو کھڑا کردیا ہے جو اس کے حامل بنیں گے۔ تمہیں ان کی مخالفت سے بےنیاز ہو کر بہرحال انہی لوگوں کے دین کی پیروی کرنی ہے جن کو اللہ کی ہدایت نصیب ہوئی۔ تو تم انہی کی پیروی کرو اور ان مخالفوں سے صاف صاف کہہ دو کہ میں تم سے کسی عوض کا طالب تو ہوں نہیں کہ اگر تم نے میری دکان سے مال نہ خریدا تو میری دکان بیٹھ جائے گی۔ میں تو تمہارے سامنے جو کچ پیش کر رہا ہوں تمہارے لیے ایک یاد دہانی ہے۔ اس کو قبول کرو تو تمہارا اپنا نفع ہے، نہ قبول کروگے تو تم خود بھگتو گے، میر کچھ نہیں جائے گا۔
وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ الایہ : حضرت اسحق، حضرت ابراہیم کے بیٹے اور حضرت یعقوب ؑ پوتے ہیں، فرمایا کہ كُلًّا هَدَيْنَا ان میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت بکشی یعنی اسی دین توحید اور اسی صراط مستقیم کی جس کی دعوت ابراہیم ؑ نے دی۔ وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ یہ حضرت ابراہیم سے اوپر کے سلسلہ ہدایت کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ ابراہیم سے پہلے نوح کو بھی ہم نے اسی راستے کی ہدایت کی تھی اور اس نے اسی کی دعوت دی۔ تالمود سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح نے حضرت ابراہیم کی تربیت بھی فرمائی تھی۔ اس پہلو سے گویا اوپر اور نیچے دونوں کی کڑیاں مل گئیں۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ ، میں ضمیر حضرت ابراہیم کی طرف لوٹتی ہے۔ فرمایا کہ اس کی ذریت میں سے ہم نے داود، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی اسی صراط مستقیم کی ہدایت سے نوازا۔ یہاں یہ بات
انبیاء جن کو نبوت کے ساتھ سیاسی اقتدار بھی حاصل ہوا : یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ سارے حضرات جلیل القدر انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ خصوصیت بھی ان میں مشترک ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو بادشاہت یا کسی نہ کسی نوع کی سیاسی سیادت حاصل ہوئی۔ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انہیں یہ ہدایت اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ یہ خوب کار لوگ تھے، اللہ نے ان کو جو صلاحیتیں بخشیں ان کو انہوں نے صحیح استعمال کیا تو اللہ نے ان کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔ گویا اس کا کوئی تعلق خاندان کی وراثت سے نہیں بلکہ تمام تر صفات و اخلاق سے تھا۔
Ayah 6:85وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى الایہ : انبیاء جن کا مشترک وصف زہد و توکل ہے : زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) مشہور پیغمبروں میں سے ہیں۔ الیاس سے مراد توریت کے ایلیا نبی ہیں۔ ان پیغمبروں کی نسبت بھی فرمایا کہ اللہ نے ان کو بھی اسی صراط مستقیم کی ہدایت بخشی جس کی ہدایت ابراہیم اور دوسرے نبیوں کو بخشی۔ یہ بھی توحید اور اسلام ہی کے داعی تھے، کسی اور دین کے داعی نہیں تھے۔ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ، یہ سب کے سب زمرہ صالحین میں سے تھے۔ اس سے ایک تو وہی بات، نکلی جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا ان کے صلاح وتقوی کی بنا پر حاصل ہوا، دوسری بات یہ نکلی کہ یہ تھے بہرحال خدا کے صالح بندوں ہی میں سے، ان میں سے کسی کو خدائی کا مقام حاصل نہیں تھا جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق گمان کیا، جس طرح مذکورہ بالا انبیاء میں حکومت و سیادت مشترک وصف کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح ان انبیاء میں زہد، فقر اور تبتل کی شان مشترک ہے۔
Ayah 6:86وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا الایۃ : الیسع کی تحقیق : ان ناموں میں سے تین نام اسمعیل، یونس اور لوط تو مشہور ہیں، قرآن میں بھی ان انبیاء کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں البتہ الیسع سے ملتے جلتے دو نبیوں کے نام ہیں۔ ایک الیشع جن کا زمانہ سن 13 ق۔ م بتایا جاتا ہے، دوسرے یسعیاہ جن کا زمانہ سن 620 ق۔ م بتایا گیا ہے۔ پہلا نام قرآن کے تلفظ سے قریب تر ہے۔ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ، میں اسی نصبی فضیلت کی طرف اشارہ ہے جو ہر نبی کو اس کے منصب کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ نبی چونکہ خلق کی ہدایت پر مامور ہوتا ہے اس وجہ سے اس کو یہ فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ یہاں ان انبیاء کے لیے جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ تمام انبیا کی مشترک صفات ہیں۔ الگ الگ بیان کرنے سے مقصود ان کی تخصیص نہیں، محض تعدید ہے تاکہ ہر صفت پر قاری کی الگ الگ توجہ ہوجائے۔
Ayah 6:87وَمِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ الایۃ، یعنی یہ ہدایت صرف ان نبیوں تک ہی محدود نہیں رہی، ان کے باپ دادوں، ان کی آل اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی کتنوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔ فرمایا کہ ہم نے انہیں بھی اپنی راہ دکھائی، انہیں برگزیدہ کیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی۔ اجتباہ، سے مراد یہاں وہ برگزیدگی ہے جو اللہ نے اپنی توحید اور ہدایت کی دعوت و اشاعت کے لیے ان کو بخشی، صراط مستقیم سے مراد یہاں توحید کی راہ ہے۔ اور اس کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے پہلو سے ہے۔
Ayah 6:88ہدایت وہ ہے جو انبیاء کو حاصل ہوئی : ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ ، یعنی یہی ہدایت جو ان تمام نبیوں کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوئی، یہی اللہ کی ہدایت ہے، باقی اس کے سوا جتنی راہیں سب شیطان کی نکالی ہوئی ہیں۔ یہ راہ اللہ اپنے ان بندوں پر کھولتا ہے جن کے لیے چاہتا ہے۔“ جن کے لیے چاہتا ہے ”سے اشارہ اس سنت اللہ کی طرف ہے جو اس نے ایمان و ہدایت کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اس کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ بھی جن کو اللہ نے یہ مرتبے عطا فرمائے اگر کہیں شرک میں مبتلا ہوجاتے تو ان کا سارا کیا دھرا برباد ہو کے رہ جاتا۔ مجرد اس بنیاد پر ان کی برگزیدگی قائم نہ رہتی کہ یہ نوح یا ابراہی کی اولاد ہیں۔ یہ تنبیہ اہل عرب کے لیے بھی ہے اور بنی اسرائیل کے لیے بھی کہ توحید سے منحرف ہو کر جو لوگ مجرد اس نسبت پر برگزیدگی کے خواب دیکھ رہے ہیں جو انہیں ابراہیم کی اولاد ہونے کے سبب سے حاصل ہے وہ نری حماقت میں مبتلا ہیں۔ یہ تو درکنار اگر وہ بھی شرک میں آلودہ ہوجاتے تو خدا کے ہاں ان کا بھی کوئی وزن باقی نہ رہ جاتا۔
Ayah 6:89اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ الایۃ۔ کتات کے ساتھ حکمت کا لفظ قرآن میں اکثر آیا ہے۔ یہاں حکم کا لفظ ہے۔ مولانا فراہی اپنی کتاب مفردات القرآن میں لفظ حکم پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حکم سے مراد صحیح فہم اور صحیح فہم کی روشنی میں معاملات کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہی چیز جب پختہ ہو کر ایک ملکہ راسخہ کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے تو اس کو حکمت کہتے ہیں، حکم اور حکمت کتاب الٰہی کے لوازم میں سے ہے اس لیے کہ کتاب الٰہی کا اصل مقصد ہی زندگی کے معاملات میں رہنمائی دینا ہے، عام اس سے کہ زندگی انفرادی ہو یا اجتماع اور عام اس سے کہ پیش آمدہ صورت معاملہ صریحاً کتاب میں بیان ہوئی ہو یا اجتہاداً واستنباطاً اس کا حکم نکالنا پڑے۔ کتاب کی طرح یہ حکم بھی عطیہ الٰہی ہے اور اسی سے کتاب الٰہی زندگی کی ایک عملی حقیقت بنتی ہے۔ اگر حاملین کتاب اس چیز سے محروم ہوجائیں تو پھر کتاب زندگی کے معاملات و مسائل سے بےتعلق ہو کر محض ایک ایسی تاریخی دستاویز بن کے رہ جاتی ہے جو نوادرات کے کسی عجائب خانہ میں رکھی ہو۔
آیت کا مطلب یہ ہے یہ کہ لوگ جن کا اوپر بیان ہو، جن کو ہم نے کتاب، حکم اور نبوت کی نعمت سے سرفراز کیا اور انہوں نے اس نعمت کی قدر کی، اب انہی نعمتوں سے ہم نے تمہارے واسطہ سے (اشارہ پیغمبر ﷺ کی طرف ہے) ان لوگوں کو (اشارہ اہل مکہ کی طرف ہے) نوازنا چاہا ہے، حق تو یہ تھا کہ یہ اس نعمت کی قدرت کرتے لیکن یہ لوگ اس نعمت کی اگر ناقدری کرتے ہیں تو تم ان کی پروا نہ کرو، ہم نے ایسے لوگوں کو اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے مقرر کردیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں۔ وَكَّلْنَا بِهَا میں ذمہ دار بنائے جانے کے ساتھ ساتھ ضامن اور زمین بنائے جانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ‘ ب ’ اس پر دلیل ہے۔ ‘ قوماً ’ سے مراد یہاں صحابہ کی وہ جماعت بھی ہے جو اس وقت تک داخل اسلام ہوچکی تھی اور وہ لوگ بھی ہیں جن کے لیے بعد میں اس کے حاملین میں داخل ہونا مقدر تھا، اگرچہ ان ٓآیات کے نزول کے وقت تک وہ ان میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ اس ٹکڑے میں صحابہ کی استقامت اور مستقبل میں امت کی کثرت کی پیشینگوئی ہے اور اس پہلو سے یہ آنحضرت ﷺ کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اس دور میں آپ کو دی گئی جب آپ مخالفتوں کے طوفان سے گزر رہے تھے۔ الفاظ سے تقدیر الٰہی کا وہ اٹل فیصلہ بھی مترشح ہو رہا ہے جو اس دعوت کو فتح مند کرنے کے لیے ہوچکا ہے اور یہ شارہ بھی نکل رہا ہے کہ اللہ نے اپنے جن بندوں کو اس کے لیے کھڑا کردیا ہے ان کی قلت تعداد پر نہ جاؤ، یہی لوگ اس دعوت کے علمبردار ہوں گے اور یہی قطرے ایک دن سمندر بنیں گے۔