4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کے ذمہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور خوں بہا ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ پس اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد ہو لیکن وہ بذات خود مسلمان ہو تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد ہے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو خوں بہا بھی ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی۔ جس کو یہ استطاعت نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے

92۔ 93۔ دار الحرب کے مخلص مسلمانوں کی جان کا تحفظ : اوپر جو احکام بیان ہوئے ہیں اگرچہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان التباس رفع کردینے کے لیے کافی تھے لیکن کفار کے علاقوں میں بہت سے مخلص مسلمان بھی تھے جو خود تو ہجرت کے دل سے آرزو مند تھے لیکن مجبوریوں نے ان کی راہ روک رکھی تھی۔ جنگ پیش آجانے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ مبادا ان کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کوئی گزند پہنچ جائے۔ اس وجہ سے قرآن نے قتل مومن کے جرم کی سنگینی بھی واضح فرما دی اور اس سلسلے میں ایسے واضح احکام بھی دے دیے جن کے بعد کسی خدا ترس مسلمان کے لیے اس معاملے میں کسی بےاحتیاطی و سہل انگاری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پہلے فرمایا کہ : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــــًٔـا ۚ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــــًٔا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَھْلِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّصَّدَّقُوْا :۔ کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے، غلطی سے یہ فعل صادر ہوجائے تو اس کی بات دوسری ہے۔ غلطی کی صورت میں بھی لازم ہے کہ جس سے یہ غلطی صادر ہوئی ہے وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرے الا آنکہ وارثانِ مقتول خون بہا معاف کردیں۔۔ پھر اس اجمال کی وضاحت فرمائی : فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۭ وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَھْلِهٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ۡ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ کہ اگر مقتول مسلمان، دشمن قوم یا قبیلہ کا فرد ہو تب تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کردینا ہی کافی ہے۔ لیکن اس کا تعلق اگر معاہد قوم اور قبیلہ سے ہے تو اس صورت میں خوں بہا ادا کرنا بھی ضروری ہوگا اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی۔ اگر کوئی شخص غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں اس کو لگاتار دو ماہ کے روزے رکھنے ہوں گے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی مشروع کی ہوئی توبہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ قتل عمد کے جرم کی سنگینی : قتل خطا کے احکام بیان کرنے کے بعد قتل عمد کے بارے میں فرمایا کہ : وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا۔ کہ جو مسلمان کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غض﷽ اور اس کی لعنت ہے اور اس کے لیے عذاب دردناک خدا نے تیار کر رکھا ہے۔ یہاں قتل عمد کے جرم کی جو سزا بیان ہوئی ہے وہ بعینہ وہی سزا ہے جو کٹر کافروں کے لیے قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اس آیت کو پڑھ کر ہر مسلمان کا دل لرز اٹھتا ہے۔ اس سزا کی سنگینی کی علت سمجھنے کے لیے اس امر کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر سب سے بڑا حق اس کی جان کا احترام ہے، کوئی مسلمان اگر دوسرے مسلمان کی جان لے لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ حقوق العباد میں سے اس نے سب سے بڑے حق کو تلف کیا جس کی تلافی و اصلاح کی بھی اب کوئی شکل باقی نہیں رہی اس لیے کہ جس شخص کے حق کو اس نے تلف کیا وہ دنیا سے رخصت ہوچکا اور حقوق العباد کی اصلاح کے لیے تلافی مافات ناگزیر ہے۔ پھر اس کا ایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے۔ وہ یہ کہ یہ ایک ایسے مسلمان کے قتل کا معاملہ ہے جو دارالکفر اور دارالحرب میں گھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے اسلامی شریعت کے ان تحفظات سے بھی محروم تھا جو دار الاسلام میں ایک مسلمان کو حاصل ہوتی ہیں۔ اپنے دین اور اپنے نفس کے معاملے میں اس کو اگر کسی سے خیر کی امید ہوسکتی تھی تو وہ مسلمانوں ہی سے ہوسکتی تھی۔ اب اگر کوئی مسلمان ہی اس کو قتل کردے اور وہ بھی عمداً اور ایسی جگہ پر جہاں اس کو اسلامی قانون کی حفاظت بھی حاصل نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ نہ ایسے مقتول سے بڑھ کر کوئی مظلوم ہوسکتا ہے اور نہ ایسے قاتل سے بڑھ کر کوئی ظالم ! عرف پر مبنی احکام حالات کی تدبیلی سے متغیر ہوتے ہیں : خوں بہا کے مسئلے کے بعض پہلوؤں پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی گفتگو کرچکے ہیں۔ اسلام نے اس معاملے میں عرب کے معروف کو قانون کی حیثیت دے دی تھی۔ اور یہ بات ہم دوسرے مقام میں لکھ چکے ہیں کہ جن معاملات کا تعلق معروف سے ہو وہ زمانہ اور حالات کے تغیر سے اپنے اصل مقصد کو باقی رکھتے ہوئے متغیر ہوجاتے ہیں۔ مثلاً خوں بہا میں اونٹوں اور بکریں کی جگہ نقد بھی دیا جاسکتا ہے اور نقد کی مقدار بھی معاشی حالات کی تبدیلی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس تغیر کی نوعیت کو طے کرنا ارباب اجتہاد کا کام ہے اور سلف کے اجتہادات کی نظیریں اس باب میں موجود ہیں۔ غلام کا بدل : زیر بحث آیت میں توبہ کے طور پر غلام آزاد کرنے کا حکم بھی ہے۔ اس زمانے میں چونکہ غلامی ختم ہوچکی ہے اور یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کا ختم ہونا عین منشائے اسلام کے مطابق ہوا ہے اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانے میں وہ شخص کیا کرے جو غلام آزاد کرنے کے مقدرت تو رکھتا ہو لیکن غلام میسر نہیں ہیں اور شریعت نے اس کا کوئی بدل بھی معین نہیں فرمایا ہے۔ ہمارے نزدیک اس زمانے میں اس کا بدل صدقہ ہے جو غلام کی قیمت کے تناسب سے ہو۔ اور اگر یہ صدقہ غریب و نادار مسلمانوں کے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے رہن شدہ مکانوں اور سامانوں کے چھڑانے پر صرف کیا جائے تو انشاء اللہ یہ طریقہ شریعت کے منشا کے خلاف نہ ہوگا۔ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا، کا ٹکڑا بھی خاص طور پر قابل غور ہے۔ ہم دوسرے مقام میں لکھ چکے ہیں کہ جب مفعول اس طرح فعل کے بغیر آئے تو اس پر خاص تاکید اور عزم کے ساتھ زور دینا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں خوں بہا کے ساتھ ساتھ ایک غلام آزاد کرنے اور غلام آزاد کرنے کی مقدرت نہ ہونے کی صورت میں مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنے کی جو ہدایت ہوئی تو اس پر خاص تاکید کے ساتھ زور دیا کہ یہ خدائے علیم و حکیم کی طرف سے مقرر کردہ توبہ ہے، نہ کوئی اس کو شاق سمجھے، نہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ قتل مومن، غلطی ہی سے سہی، عظیم گناہ ہے۔ اس گناہ کو دھونے کے لیے صرف خوں بہا کافی نہیں ہے بلکہ غلام بھی آزاد کیا جائے اور اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے جائیں تاکہ دل پر سے ہر داغ اس گناہ کا دھل جائے۔ گویا ایسے سنگین معاملے میں زبانی توبہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کے مؤیدات بھی ہونے ضروری ہیں۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو، جب تم خد ا کی راہ میں نکلا کرو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو اور تمہیں سلام کرے اس کو دنیوی زندگی کے سامان کی خاطر یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اللہ کے پاس بہت سامانِ غنیمت ہے۔ تمہارا حال بھی پہلے ایسا ہی رہ چکا ہے۔ اللہ نے تم پر فضل فرمایا، تو تحقیق کرلیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے

دارالحرب کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے مزید اہتمام : دارالحرب میں پھسنے ہوئے مسلمانوں کے تحفظ ہی کے پہلو سے مزید ہدایت یہ ہوئی کہ : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيْرَةٌ ۭكَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا، کہ جب کسی علاقے پر حملہ کے لیے نکلو تو اس علاقے کے اندر جو مسلمان ہوں ان کے متعلق پوری تحقیق کرلو کہ مسلمان کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں تاکہ تمہارے حملے سے وہ محفوظ رہیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان کی شہادت کے لیے تمہیں سلام کرے تو مال غنیمت کی طمع میں اس کے ایمان کا انکار نہ کرو۔ مال غنیمت کے طالبوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا کے پاس غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ کل تک یہی حال تمہارا بھی رہ چکا ہے۔ تم بھی انہی مظلوموں کی طرح کفار کے حصار میں گھرے ہوئے تھے۔ اب اللہ نے تمہیں دارالاسلام کی آزاد اور کھلی ہوئی فضا نصیب کی ہے تو تمہیں کسی احساسِ برتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اچھی طرح تحقیق کر کے اقدام کرنا چاہیے۔ اگر کسی نے اس معاملے میں بےپروائی اور سہل انگاری کو راہ دی یا مال غھیمت کی طمع میں کسی مسلمان کو قتل کردیا تو یاد رکھو کہ خدا تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ مومن کی جان کے احترام کی آخری حد یہی ہوسکتی ہے جو اس آیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ دارالحرب میں عین دورانِ جنگ میں بھی اگر ایک شخص اپنے ایمان کے اظہار کے لیے سلام کردے یا کلمہ پڑھ دے تو مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ بغیر تحقیق کے اس خلاف تلوار اٹھائے۔ جنگ کے ہنگامی حالات میں اس طرح کی تحقیق اگرچہ نہایت مشکل کام ہے اور یہ اندیشہ بھی ہے کہ اس سے دشمن فائدہ اٹھائے لیکن اسلامی غزوات میں اس ہدایت کی پوری پابندی کی گئی۔ ایک غزوہ میں ایک صحابی سے اس معاملے میں بےاحتیاطی ہوگئی تو حضور ﷺ نے اس طرح اس پر تنبیہ فرمائی کہ سننے والوں کے دل دہل گئے۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی غزوات کا اصل مقصود فتوحات حاصل کرنا اور مال غنیمت جمع کرنا نہیں تھا بلکہ، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، مظلوم مسلمانوں کو کفار کے پنجہ سے چھڑانا تھا۔ جب اصل مقصد یہ تھا تو اس کے لیے تو ہر خطرہ گوارا کیا جاسکتا تھا لیکن یہ بات کس طرح گوارا کی جاسکتی تھی کہ کسی مسلمان کی جان خطرے میں پڑے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

مسلمانوں میں غیر معذور بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت کا بخشا ہے۔ یوں دونوں سے اللہ کا وعدہ اچھا ہے لیکن اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی فضیلت دی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اس کی طرف سے درجے بھی اور مغفرت و رحمت بھی۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے

95۔ 96:۔ اب یہ تمام غیر معذور مسلمانوں کو جہاد پر ابھارا گیا ہے۔ گویا آیات 71 میں جہاں سے بات چلی تھی اور پھر جہاد سے جان چرانے والوں کا ذکر آگیا تھا، کلام پھر اسی طرف لوٹ آیا۔ فرمایا کہ جن مسلمانوں کے پاس کوئی معقول عذر نہیں ہے، پھر بھی وہ جہاد کے لیے نہیں اٹھ رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خدا کے ہاں اجر کے لحاظ سے ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکیں گے جو آج خدا کی راہ میں جان و مال دونوں سے جہاد کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس اعتبار سے دونوں گروہ اللہ کے ہاں اچھے اجر کے مستحق ہیں کہ دونوں اسلام کے مخلص ہیں، ان میں سے منافق اور اسلام کا بدخواہ کوئی بھی نہیں ہے تاہم مجاہدین کا درجہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے۔ ان کے لیے خدا کے ہاں اجر عظیم ہے۔ اس آیت نے جہاد کی ترغیب و تشویق کے ساتھ یہ بات بھی واضح فرما دی کہ اگرچہ وہ مسلمان جو بغیر کسی عذر و مجبور کے جہاد میں عملاً حصہ نہیں لے رہے ہیں درجے اور مرتبے میں ان مسلمانوں کے برابر نہییں ہوسکتے جو عملاً جہاد میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے یہ منافق نہیں سمجھے جاسکتے۔ اس لیے کہ جہاد میں عملاً حصہ نہ لینا اس صورت میں نفاق ہے جب آدمی اس سے جی چرائے، دوسروں کی ہمت پست کرے یا جہاد کی نفیر عام ہوجانے کے باوجود گھر میں بیٹھا رہے۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو جہاد ایک فضیلت ضرور ہے جس کے حاصل کرنے کا جذبہ ہر شخص کے اندر ہونا چاہیے لیکن اس کی حیثیت ایک درجہ فضیلت ہی کی ہے، یہ شرائط ایمان میں سے نہیں کہ جو اس کو حاصل نہ کرے وہ منافق خیال کیا جائے۔ وکلا وعد اللہ الحسنی، کے الفاظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس تنبیہ کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اوپر منافقین کو اس جہاد ہی کے معاملے میں جس طرح ملامت کی گئی ہے اور ان سے مسلمانوں کو جس طرح متنبہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اس سے بعض لوگوں کے اندر یہ تاثر پیدا ہوسکتا تھا کہ ان مخلص مسلمانوں کے بارے میں بھی ان کا زوایہ نگاہ بدل جاتا جو نہایت سچے مسلمان تھے لیکن اب تک جہاد میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ اس آیت نے ایک طرف تو ان کو جہاد پر ابھارا، دوسری طرف یہ واضح کردیا کہ یہ مخلص مسلمان ہیں ان کے اخلاص کے بارے میں کسی کو بدگمانی نہیں ہونی چاہیے، اللہ کے ہاں ان کے درجے اور مرتبے کے لحاظ سے ان کے لیے بھی اجر ہے۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے ہیں وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں پڑے رہے۔ وہ جواب دیں گے ہم تو اس ملک میں بالکل بےبس تھے۔ وہ کہیں گے کہ خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

البتہ وہ بےبس مرد، عورتیں اور بچے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکتے اور نہ کوئی راہ پا رہے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

یہ لوگ توقع ہے کہ اللہ ان سے درگز فرمائے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے گا وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے گا، پھر اس کو موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے لازم ہوگیا اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

97 تا 100:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ میں لفظ مَلٰىِٕكَةُ اسی طرح جمع آیا ہے جس طرح آل عمران کی آیات 39، 42 اور 45 میں آیا ہے۔ وہاں فنادتہ الملئکۃ کے تحت ہم اس کے جمع لانے کی وجہ بیان کرچکے ہیں۔ بعض مرتبہ جمع سے مقصود صرف جنس کا اظہار ہوتا ہے۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حال ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم سے مقصود یہاں ہجرت کی استطاعت کے باوجود دارالکفر میں پڑے رہنا اور اس طرح اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ فِيْمَ كُنْتُمْ (تم کہاں پڑے رہے) یہ سوال زجر و توبیخ کی نوعیت کا ہے۔ مستضعف کے معنی ہیں بےبس، مجبور، دبا ہوا، زیردست۔ مراغم کے معنی ایسی جگہ کے ہیں جہاں انسان نکل کے جا سکے تمام غیر معذور مسلمانوں کو ہجرت کا حکم : ان تمام غیر معذور مسلمانوں کو جو اب تک دارالحرب میں پڑے ہوئے تھے، ہجرت پر ابھارا ہے اور یہ گویا ان کے لیے آخری تنبیہ ہے۔ اس کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ جو لوگ اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود بلا کسی شدید مجبوری و عذر شرعی کے اب تک دارالکفر میں پڑے ہوئے ہیں، اسی حالت میں ان کی موت آئی تو فرشتے ان سے سوال کریں گے کہ یہ تم کس حال میں پڑے رہے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہم تو بےبس و مجبور تھے۔ فرشتے جواب دیں گے، کیا خدا کی زمین تمہارے لیے کہیں سمائی نہیں تھی کہ تم وہاں ہجرت کرجاتے۔ پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ نہایت برا ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو حقیقۃً بےبس اور معذور ہیں۔ فرمایا : اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا۔ خدا کے ہاں معذور صرف وہ مرد عورتیں اور بچے قرار پائیں گے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہے، یہ لوگ امید ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے گا۔ اس کے بعد ہجرت کی راہ میں کمر ہمت باندھ کر اٹھ کھڑے ہونے والی کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ : وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَةً ۭ وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا، جو اللہ کی راہ میں ہجرت کے لیے اٹھ کھڑآ ہوگا وہ خدا کی زمین میں بہت ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا آخر میں یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ ہجرت کے اجر عظیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی دارالہجرت میں پہنچ ہی جائے بلکہ صرف یہ کافی ہے کہ اللہ و رسول کی طرف ہجرت کے ارادے سے آدمی گھر سے نکل کھڑا ہو۔ جو گھر سے نکل کھڑا ہوا اگر فوراً ہی اس کی موت آگئی یا وہ قتل کردیا گیا تو اس سے اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اللہ کے اوپر اس کا اجر لازم ہوگیا۔ ہجرت سے متعلق بعض حقائق : ان آیات سے ہجرت کے متعلق مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں۔ اک یہ کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایک ایسے مقام کو جہاں اس کے لیے اپنے دین و ایمان پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایک ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں اسے توقع ہو کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرسکے گا۔ دوسرا یہ کہ اگر دارالاسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ باز ہو، کوئی سخت مجبوری بھی نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کرکے درالاسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ تیسرا یہ کہ ہجرت کے معاملے میں ہر عذر، عذر نہیں ہے، معتبر عذر یہ ہے کہ ادمی تنا بےبس ہو کہ اس سے خود کوئی تدبیر بن آرہی ہو نہ اس کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ ایسی مجبوری میں بھی اس پر اپنے ایمان کی حفاظت بہرحال لازم ہے۔ اگرچہ اس کو اصحاب کہف کی طرح کسی غار ہی میں پناہ لینی پڑجائے۔ چوتھا یہ کہ ہجرت کا اجر آخرت میں تو جو ہے، وہ ہے، دنیا میں بھی مہاجر کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص بدرقہ فراہم ہوتا ہے۔ خدا کی زمین اس کے لیے راہیں کھولتی ہے اور غیب سے اس کے لیے اسباب و سامان فراہم ہوتے ہیں۔ پانچویں یہ کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیت خالص اور ارادہ راسخ ہو تو گھر سے نکلتے ہی مہاجر کو موت آجائے تو ہجرت کا اجر اس کے لیے لازم ہوگیا۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم اس سفر میں نکلو تو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے۔ بیشک یہ کفار تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔

آگے کا مضمون۔ آیات 101 تا 104: آگے صلوۃ الخوف یعنی جنگ کے خطرات کے دوران نماز باجماعت کی شکل بتائی گئی ہے۔ جہاد کے اس ذکر کے ساتھ نماز، بالخصوص نماز باجماعت، کے اس اہتمام سے کوئی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔ جہاد کی اصل روح نماز ہے : پہلی یہ کہ اس سے نماز کی دین میں عظمت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس سورة کی آیت 77 کے نماز اور جہاد کے باہمی ظاہر ظاہری و باطنی تعلق پر ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نماز وہ چیز ہے کہ جنگ کے خطرات کے اندر بھی یہ نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جنگ، خونریزی اور لوٹ مار کے لیے نہیں ہے بلکہ جیسا کہ دوسرے مقامات میں واضح ہوچکا ہے، اس لیے ہے کہ خدا کی زمین سے اس ظلم و جبر کا خاتمہ کیا جائے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی سے روکنے کے لیے اللہ کے دشمنوں کی طرف سے برپا کیا جاتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو جہاد کی اصل روح نماز ہی ہے۔ اسی سے جہاد، اللہ کی عبادت بنتا ہے۔ اگر اس کے اندر یہ روح نہ ہو تو یہ بھی اسی طرح فساد فی الارض ہے جس طرح اللہ کے باغیوں کی ہر جنگ گساد فی الارض ہے۔ اس روح کے تحفظ کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ عین میدان جنگ میں بھی تاحد امکان نماز سے غفلت نہ ہوتا کہ ہر مجاہد کو اس حقیقت کی اد دہانی ہوتی رہے کہ اس کی میدان جنگ کی صفیں بھی اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے اس کی نماز کی صفوں سے مختلف نہیں ہیں۔ نماز باجماعت کی اہمیت : دوسری یہ کہ اس سے نماز باجماعت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ سورة بقرہ کی آیت 239 میں فان خفتم فرجالا اور کبانا الایۃ کے تحت یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ لڑائی کے دوران میں حالات بہت پر خطر ہوں۔ نماز اس کے آداب کے مطابق ادا کرنی ممکن نہ ہو تو سوار، پیادہ، کھڑے، بیٹھے، چلتے، بھاگتے جس طرح ممکن ہو ادا کرنے کی کوشش کی جائے، یہاں تک کہ قبلہ رو ہونے کی پابندی بھی ضروری نہیں ہے۔ لیکن ان سب رخصتوں کے ساتھ زیر بحث آیات سے یہ حقیقت بھی واضح ہو رہی ہے کہ اگر نماز باجماعت کا اہتمام ممکن ہو تو میدان جنگ میں بھی اس کا اہتمام باقی رکھا جائے۔ چناچہ اس کے لیے قرآن نے ایک ایسی شکل بیان فرمائی ہے جس سے نماز باجماعت کا مقصد بھی حاصل ہوتا ہے اور دفاع کا بھی۔ دفاع کی اہمیت : تیسری یہ کہ اس سے دفاع کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اول تو یہی بات اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز جیسی اہم عبادت میں تخفیف فرما دی۔ (یہ امر ملحوظ رہے کہ نماز میں قصر کی رخصت اصلاً سفر جہاد کے تعلق ہی سے نازل ہوئی ہے۔ دوسرے سفروں میں اس کی حیثیت اصل کی نہیں بلکہ، جیسا کہ نبی ﷺ کے ایک ارشاد سے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صدقے کی سی ہے۔ ہم اس پر آگے بحث کریں گے)۔ دوسری یہ کہ نماز کی جو شکل بیان فرمائی ہے اس میں اس امر کا پورا اہتمام ملحوظ ہے کہ دشمن کو اس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کردینے کا کوئی موقع نہ ملے۔ گویا اس مضمونِ جہاد کے آغاز میں مسلمانوں کو خذوا حذرکم (اپنے سامان دفاع سے لیس رہو) کا جو حکم دیا تھا تو اس کا اہتمام نماز میں بھی پوری طرح قائم رکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دین فطرت میں توکل اور تدبیر، شجاعت اور حکمت، تہور اور احتیاط کا کیسا معتدل اور حسین امتزاج ہے کہ نماز بھی جہاد بن جاتی ہے۔ پیغمبر ﷺ کے اقتداء کی اہمیت : چوتھی یہ کہ اس سے نبی ﷺ کی اقتدا کے جذبے اور اس کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ آگے ہم واضح کریں گے کہ نماز کی یہ خاص شکل جو یہاں بیان ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میدان جنگ میں نبی ﷺ کی موجودگی کی صورت میں صحابہ کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ حضور نماز باجماعت کی امامت کرائیں اور کوئی مسلمان اس جماعت کی شرکت سے محروم رہنے پر راضی ہو۔ صحابہ کا یہ جذبہ چونکہ فطری تھا اور دین میں اس جذبے کی اہمیت بالکل واضح ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نماز کی ایک ایسی شکل بیان فرما دی جس سے اس جذبے کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دفاع کے مقصد کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس روشی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ڰ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا۔ نماز میں قصر کی اجازت دفاع کے تعلق سے : اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ نماز میں قصر کی یہ اجازت خذوا حذرکم کے حکم کے تعلق سے نازل ہوئی۔ جب حکم ہوا کہ اپنے سامانِ دفاع سے لیس اور کفار کے مقابلے کے لیے مستعد رہو تو یہ سوال آپ سے آپ پیدا ہوا کہ اس حکم میں اور نماز میں تطبیق کی کیا صورت ہوگی۔ کیونکہ نماز کی حالت میں دفاع کے لوازم پورے نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے ایک تو نماز میں قصر کی اجازت ہوئی اور آگے کی آیات میں نماز باجماعت اور بیماری اور بارش وغیرہ کے حالات میں جو شکلیں اختیار کی جانی چاہئیں وہ بیان ہوئیں۔ قصر کی شکل جو نبی ﷺ اور صحابہ کے عملی تواتر سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو نمازیں چار رکعت والی ہیں وہ دو رکعت پڑھی جائیں۔ مغرت اور فجر میں قصر نہیں ہے۔ قصر کی اجازت ایک رخصت ہے : فلیس علیکم جناح، کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ قصر کی اجازت ایک قسم کی رخصت ہے۔ رخصتوں کے متعلق سورة بقرہ کی تفسیر میں، ایک مستقل فصل میں، ہم واضح کرچکے ہیں کہ ان سے فائدہ اٹھانے کو تقوی کے خلاف سمجھنا دین میں تشدد اور غلو کے رجحان کی غمازی کرتا ہے جس کو قرآن و حدیث دونوں میں مذموم ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی غلو سے خالی نہیں قرار دی جاسکتی کہ کسی رخصت کو عزیمت اور وجوب کا درجہ دے دیا جائے یہاں تک کہ اس کی خلاف ورزی سے گناہ لازم آئے۔ اس باب میں تفصیل کے طالب مذکورہ فصل پر ضرور ایک نظر ڈال لیں۔ قصر کی اجازت سفرِ جہاد ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ قصر کی یہ اجازت اس میں شبہ نہیں ہے کہ نازل تو ہوئی ہے سفر جہاد ہی کے تعلق سے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ بس سفر جہاد ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ سفر کوئی بھی ہو اس میں فی الجملہ بےاطمینانی، آپا دھاپی اور سروسامان کی فکر ہوتی ہی ہے۔ بس یہ فرق ہوتا ہے کہ کسی میں کم، کسی میں زیادہ، یہ عین ممکن ہے کہ جہاد کا ایک سفر زیادہ اطمینان سے گزر جائے اور تجارت یا حج کے سفر میں زیادہ الجھنیں پیش آجائیں۔ اس اشتراکِ علت کی وجہ سے دوسرے سفر بھی اصلاً نہ سہی تبعاً اسی حکم میں داخل ہیں۔ چناچہ اسی بنیاد پر نبی ﷺ نے دوسرے قسم کے سفروں میں بھی قصر کی اجازت دی۔ خود بھی اس پر عمل فرمایا اور صحابہ نے بھی اس پر عمل کیا۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے کہ الفاظ یہاں واذا ضربتم فی الارض (جب تم سفر میں نکلو) کے استعمال ہوئے ہیں جو ہر سفر کے لیے عام ہیں۔ اس میں سفر جہاد کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ جہاد کے سفر کے لیے خاص لفظ اذا ضربتم فی سبیل اللہ (جب تم اللہ کی راہ میں نکلو) کا ہے جو آیت 94 میں گزر چکا ہے۔ اس وجہ سے الفاظ کا تقاضا یہی ہے کہ قصر کی اجازت ہر سفر کے لیے عام ہو رہی اس کے بعد ان خفتم کی شرط تو وہ صرف آیت کے موقع نزول کے اعتبار سے اس علت کو ظاہر کر رہی ہے جس کے سبب سے یہ اجازت مرحمت ہوئی۔ اس سے یہ بات تو ضرور نکلتی ہے کہ یہ رخصت بہرحال رخصت ہے جو حالات کے تابع ہے لیکن یہ بات نہیں نکلتی کہ یہ سفر جہاد ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ تقریبا یہی صورت تعدد ازواج والے مسئلے میں بھی ہے جس کی بحث سورة کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور نماز میں ان کی امامت کر رہے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور وہ اپنے ہتھیار لیے ہوئے ہو، پس جب وہ سجدہ کرچکیں تو وہ تمہارے پیچھے ہوجائیں اور دوسرا گروہ آگے آئے جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور یہ بھی انی حفاظت کا سامان اور اپنے اسلحہ لیے ہوئے ہوں۔ کافر یہ تمنا رکھتے ہیں کہ تم اپنے اسلحہ اور اپنے سامان سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں اور اس بات میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں کہ اگر تمہیں بارش کے سبب سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے اسلحہ اتار دو البتہ اپنی حفاظت کا سامان لیے رہو۔ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ وَلْيَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ ۚ وَدَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَاَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيْلُوْنَ عَلَيْكُمْ مَّيْلَةً وَّاحِدَةً ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَكُمْ ۚ وَخُذُوْا حِذْرَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ حذر کا مفہوم : لفظ حذر پر آیت 71 کے تحت گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ لفظ جب تنہا استعمال ہو تو اس سے ہر قسم کے اسلحہ مراد ہوسکتے ہیں، خواہ مجرد دفاعی و حفاظتی نوعیت کے ہوں مثلا سپر، خود اور زرہ وغیرہ یا جارحانہ نوعیت کے ہوں، مثلاً تلوار اور بندوقو وغیرہ۔ لیکن جب لفظ اسلحہ، کے ساتھ استعمال ہو، جیسا کہ زیر بحث آیت میں ہے۔ ان تضعوا اسلحتکم وخذوا حذرکم (اپنے اسلحہ رکھ دو اور اپنے احتیاطی و حفاظتی سامان لیے رہو) تو اس سے مراد صرف وہی چیزیں ہوں گی جن کو ایک ساہی اپنے دشمن سے بچاؤ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دفاع اور نماز باجماعت کے تقاضوں میں تطبیق جب کہ امامت پیغمبر ﷺ فرمائیں : اس آیت میں وہ شکل بیان ہوئی ہے جو نماز باجماعت کے لیے میدانِ جنگ میں اختیار کی جاسکتی ہے۔ میدانِ جنگ میں نبی ﷺ کی موجودگی کی صورت میں ایک مشکل یہ پیدا ہونے کا امکان تھا کہ قیام جماعت کے امکان کی شکل میں جب حضور نماز کی امامت کے لیے کھڑے ہوتے، ہر سپاہی کی یہ آرزو ہوتی کہ وہ آپ ہی کی اقتدا میں نماز ادا کرے۔ یہ آرزو ایک فطری آرزو تھی جس کا لحاظ بھی ضروری تھا اور ساتھ ہی دفاعی تدبیروں کا اہتمام بھی ناگزیر تھا کہ دشمن مسلمانوں کی مصروفیت نماز سے فائدہ اٹھا کر اچانک کوئی حملہ نہ کردے۔ یہ دونوں تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے قیامِ جماعت کی تدبیر یہ بتائی کہ ایک گروہ اسلحہ کے ساتھ امام کے پیچھے نماز کے لیے کھڑا ہو، دوسرا گروہ حفاظت کا فرض انجام دے، جب پہلا گروہ سجدہ کرچکے تو پیچھے ہٹ کر وہ حفاظت و نگرانی کا کام سنبھالے اور دوسرا گروہ، جس نے نماز نہیں پڑھی ہے، امام کے پیچھے اسی مسلح حالت میں نماز کے لیے کھڑآ ہو۔ اس صورت میں نماز باجماعت کے قیام، نبی ﷺ کی اقتدا اور دفاع، تینوں کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔ لیکن مقتدیوں اور امام کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کیا ہوگی ؟ اس سوال کا جواب اس آیت سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا جس کے سبب سے اس باب میں فقہا کی رائیں مختلف ہوئیں جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ہمارے لیے یہ ساری تفصیل نہ یہاں پیش کرنے کی گنجائش ہی ہے اور نہ چنداں اس کی ضرورت ہی ہے اس لیے کہ یہ شکل، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس مشکل کے حل کرنے کے لیے بتائی گئی تھی جو نبی ﷺ کی موجودگی کی صورت میں پیدا ہوسکتی تھی۔ حضور کے بعد کسی ایک ہی امام کی اقتدا کی خواہش نہ تو اتنی شدید ہوسکتی اور نہ اس کی اتنی اہمیت ہی ہے، اس وجہ سے دفاع کے تقاضوں کے مطابق اہل لشکر الگ الگ اماموں کی اقتدا میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ صلوۃ خوف کی شکل آیات 142 کی روشنی میں : آیت کے الفاظ سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ امام قصر نماز دو رکعت ادا کرے اور مقتدیوں کے دونوں گروہ ایک ایک رکعت امام کے پیچھے اور ایک ایک رکعت بطور خود ادا کر کے اپنی نماز پوری کریں۔ امام دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے اتنا توقف کرے کہ پہلی جماعت اپنی دوسری رکعت اختصار کے ساتھ ختم کر کے پیچے ہٹ سکے اور دوسری جماعت اس کی جگہ لے سکے۔ اس طرح مقتدی اور امام دونوں کی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ امام چار رکعت پڑھے گا اور مقتدیوں کے دونوں گروہ دو دو رکعتوں میں اس کی اقتدا کریں گے۔ اس صورت میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ امام تو اتمام کرے گا اور مقتدی قصر کریں گے۔ حالانکہ قصر کی اجازت جس طرح مقتدیوں لیے ہے اسی طرح امام کے لیے بھی ہے۔ امام ومقتدی دونوں کے حالات بھی بعینہ ایک ہی طرح کے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں، امام دو رکعتیں ادا کرے گا اور مقتدیوں کے دونوں گوہ اس کے پیچھے ایک ایک رکعت ادا کر کے اپنی نماز ختم کردیں گے۔ اس شکل میں مقتدیوں کی نماز صرف ایک رکعت کی ہوجاتی ہے حالانکہ قصر میں بھی کوئی نماز ایک رکعت نہیں ہے۔ ہمارے اس رجحان کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس طرح امام اور مقتدی دونوں کی نماز میں کامل توافق ہوگا، نیت کے اعتبار سے بھی اور ظاہر کے اعتبار سے بھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت میں فاذا سجدوا کے الفاظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ایک رکعت مقتدیوں کو اپنے طور پر بھی ادا کرنی ہے۔ اگر یہ رکعت ادا نہ کرنی ہوتی یا امام کی اقتدا ہی میں ادا کرنی ہوتی تو فاذا سجدوا کی جگہ فاذا سجدت کے الفاظ ہوتے۔ اس امر کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ سجدہ درحقیقت رکعت کی تعبیر ہے اس لیے کہ رکعت سجدہ ہی سے پوری ہوتی ہے۔ اس خاص شکل کا تعلق نبی ﷺ کی موجودگی سے تھا : اس اشارے پر ہم یہاں اکتفا کرتے ہیں۔ اس کی زیادہ تفصیل میں ہم اس لیے نہیں جانا چاہتے کہ ہمارے نزدیک باجماعت صلوۃ الخوف کی شکل لازماً ہر حالت میں اور ہر زمانے میں یہی نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، خاص نبی ﷺ کی موجودگی سے تھا۔ آیت کے الفاظ میں خود اس کی تصریح موجود ہے، واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوۃ، ظاہر ہے کہ یہ خطاب آنحضرت ﷺ ہی سے ہے۔ آپ کو مخاطب کر کے ارشاد ہو رہا ہے کہ جب تم موجود ہو اور لوگوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہو تب یہ شکل اختیار کی جائے۔ آنحضرت کی موجودگی میں اس شکل کے اختیار کرنے کی ضرورت وہی تھی جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ہر شخص آپ کی اقتدا کا ثواب بھی حاصل کرسکے اور دفاع کے مقصد کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس زمانے میں اول تو جنگ کی صورت ہی بالکل تبدیل ہوچکی ہے۔ دوسرے حضور کی موجودگی کا سوال بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے حالات کے تقاضے کے مطابق ایام جماعت کی جو شکل اختیار کی جائے وہ اختیار کی جاسکتی ہے اور اگر قیام جماعت کا امکان نہ ہو تو جس طرح ممکن ہو پڑھی جاسکتی ہے۔ وَدَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا الایۃ، یہ وجہ بیان ہوئی ہے حالت نماز میں اس شدت کے ساتھ دفاع کے اس اہتمام کی۔ اس سے یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں احتیاط کے تقاضوں سے بےپروا ہونے کی اجازت کسی حال میں نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بیماری اور بارش وغیرہ کی تکلیف کے سبب سے اگر اسلحہ اتارنے کے لیے مجبور ہونا پڑے تو صرف اسلحہ اتار سکتا ہے۔ حذر، یعنی حفاظتی نوعیت کی چیزوں پھر بھی بےپروا ہونے کی اجازت نہیں ہے اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ آیت کے اس ٹکڑے میں یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ ان کفار کی سرکوبی کے لیے جہاں تک تمہار تعلق ہے تم پوری طرح مستعد رہو۔ ویسے اللہ نے تو ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر ہی رکھا ہے بات اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پس جب تم نماز ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے، پس جب حالت اطمینان میں ہوجاؤ تو پوری نماز قائم کرو۔ بیشک نماز اہل ایمان پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے

فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِكُمْ ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَـنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔ قصر کی اجازت سے نماز کے ظاہر میں جو کمی واقع ہوئی تو نماز سے فراغ کے بعد اس کی اصل حقیقت۔ ذکر الٰہی۔ کے اہتمام میں زیادہ سرگرم ہونے کی ہدایت فرمائی تاکہ اس کسر کا جہر بھی ہوجائے اور دوام ذکر الٰہی، جو روح دین ہے، کی یاد دہانی بھی ہوجائے۔ بالخصوص میدان جنگ میں اس کی خاص اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ تمام عزم و حوصلہ کا منبع درحقیقت اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ حالت خوف دور ہوجانے کے بعد جب حالت امن و اطمینان عود کر آئے تو معاً اقامتِ صلوۃ کا حکم بھی عود کر آئے گا۔ یعنی پوری نماز، جماعت اور وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنی ہوگی۔ اس آیت سے ایک تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اوقات کی پابندی اقامت صلوۃ کے شرائط میں سے ہے۔ دوسری یہ بات نکلتی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل ایمان پر جو کچھ فرض کیا ہے وہ عین اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فریضہ ہے۔ یہ بات اس طرح نکلتی ہے کہ نمازوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ اوقات کے اہتمام کے ساتھ فرض ہیں۔ در آنحالیکہ اوقاتِ نماز تمام تر نبی ﷺ کے مقرر کردہ ہیں، قرآن میں ان کی کوئی صراحت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ اشارات ہیں۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور دشمن کے تعاقب میں تھڑدلا پن نہ دکھاؤ۔ اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو آخر وہ بھی تو تمہاری ہی طرح دکھ اٹھاتے ہیں اور تم خدا سے وہ توقع رکھتے ہو جو توقع وہ نہیں رکھتے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے

وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِــيْما۔ " القوم " کا لفظ، جب اس سیاق وسباق میں آئے گا جس سیاق وسباق میں یہاں تو اس سے مراد دشمن اور حریف ہوگا۔ کلامِ عرب میں اس مخصوص استعمال کی مثالیں بہت ہیں۔ قرآن میں بھی اس کی مثال موجود ہے۔ مثلاً ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ : اگر تمہیں کوئی چوٹ پہنچی تو کوئی تعجب کی بات نہیں، آخر دشمن کو بھی اسی طرح کی چوٹ پہنچی۔ ترغیب جہاد کے مضمون کی مزید تاکید : یہ اسی ترغیب جہاد کے مضمون کی تاکدی مزید ہے جو اوپر سے چلا آرہا ہے بلکہ یہاں صلوۃ الخوف کا ذکر بھی، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اب یہ فرمایا کہ اگر تمہیں دشمن کے ہاتھوں کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس سے بد دل ہو کر اس کے تعاقب میں تمہیں پست ہمت نہیں ہونا چاہیے۔ نقصان جس طرح تمہیں پہنچتا ہے انہیں بھی پہنچتا ہے۔ اس اعتبار سے تم اور وہ یکساں ہو، رہی عاقبت کار کی کامیابی تو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، وہ سو فیصد تمہاری ہی ہے، اس میں ان کا سرے سے کوئی حصہ ہی نہیں ہے تو اس وقتی اور عارضی نقصان سے کیوں پست ہمت ہو۔ یاد رکھو کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ اگر وہ اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو کسی آزمائش میں ڈالتا ہے، ان کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ چیز اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوتی ہے جس سے اہل ایمان کی اصلاح و تبیت مقصود ہوتی ہے۔
Ayahs 4:105–108

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

ہم نے یہ کتاب تم پر حق کے ساتھ اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا ہے اور تم بدعہدوں کے حمایتی نہ بنو

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی وکالت نہ کرو جو اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو بدعہد اور حق تلف ہیں

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپتے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ وہ ناپسندیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 105۔ 115: آگے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے یہ ہدایت فرمائی کہ اللہ نے تمہیں جو کتاب عطا فرمائی ہے اب یہی حق و باطل کی کسوٹی ہے، تم اسی کسوٹی پر پرکھ کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرو جو اس پر پورے اتریں وہ مومن و مخلص ہیں، جو اس پر کھوٹے ثابت ہوں وہ عہد شکن اور غدار ہیں، تم خدا کے حضور میں ان کے سفارشی اور وکیل نہ بنو۔ خدا ایسے بدعہدوں اور گناہگاروں کو پسند نہیں کرتا۔ آیت 88 فمالکم فی المنافقین الایۃ میں جس بات کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا تھا اب یہ اس کی تفصیل آگئی۔ وہاں یہ بات گزر چکی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے دل میں منافقین کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ وہ ان کو جا و بیجا رعایت دینے کی کوشش کرتے اور بسا اوقات ان معاملات میں بھی انہیں معذور ٹھہراتے جن میں معذور ٹھہرانے کی کوئی بھی گنجائش نہ ہوتی۔ یہ رویہ اگرچہ طبیعت کی نرمی ہی کی بنا پر ہو لیکن خدا کی کتاب جنہیں معذور نہ ٹھہراتی ہو انہیں معذور ٹھہرانا اور ان کی حمایت کرنا نفاق کو شہ دینے بلکہ اس کی پرورش کرنے کے ہم معنی ہے۔ چناچہ یہاں سب سے پہلے خود پیغمبر ﷺ کو اس چیز سے روکا۔ حضور ﷺ کی طرف یہ خطاب اسی طرح کا ہے جس کی مثالیں ایک سے زیادہ اس کتاب میں گزر چکی ہیں اور ہم نے واضح کیا ہے کہ ان میں خطاب کا رخ تو حضور کی طرف ہوتا ہے لیکن جو عتاب ان میں مضمر ہوتا ہے اس کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جو اس طرف ہوتا ہے لیکن جو عتاب ان میں مضرم ہوتا ہے اس کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جو اس غلطی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرنے کے بعد براہ راست ان منافقین کی حمایت کرنے والے مسلمانوں کو مخاطب کرنے کے بعد براہ راست ان منافقین کی حمایت کرنے والے مسلمانوں کو مخاطب کیا کہ اس دنیا میں تو تم ان کی حمایت کر رہے ہو لیکن آخرت میں ان کی حمایت کون کرے گا ؟ اس کے بعد فرمایا کہ صحیح طریقہ نہ تو یہ ہے کہ اپنی غلطی کی حمایت کی جائے اور نہ یہ ہے کہ جب کسی پر گرفت ہو تو وہ اپنا بوجھ کسی دوسرے بےگناہ پر لادنے کی کوشش کرے، بلکہ توبہ و استغفار ہے۔ یہ تنبیہ اس لیے فرمائی گئی کہ منافقین اول تو انی کوئی غلطی تسلیم کرتے ہی نہیں تھے اور اگر کوئی غلطی اس طرح گرفت میں آجاتی کہ اس کی ذمہ داری سے بچنے کی کوئی سبیل ان کو نظر ہی نہ آتی تو جھوٹ اور بہتان کے ذریعے سے اس کو کسی بےگناہ کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ محض اللہ کا فضل و احسان اور اس کی بخشی ہوئی کتاب و حکمت کی برکت ہے کہ ان منافقین کے فتنوں اور ان کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہے ورنہ انہوں نے تو تمہیں راہ حق سے ہٹانے کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس کے بعد منافقین کی مفسدانہ سرگرمیوں پر ان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جو لوگ حق واضح ہوجانے کے بعد رسول کی عداوت اور مسلمانوں کے طریقہ کی مخالفت میں یہ سرگرمیاں دکھا رہے ہیں ان کو اللہ اسی راہ پر موڑ دے گا جو انہوں نے اپنے لیے اختیار کی ہے، اور یہ راہ جہنم کی راہ ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 105۔ 108: اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللّٰهُ ۭوَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا۔ وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِــيْمًا۔ يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطًا۔ " اراءت " کا مفہوم : اراءت کا لفظ قرآن میں اس وحی کے لیے بھی آیا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کو رویا میں ہوتی ہے جیسا کہ انفال آیت 43 میں ہے اور اس رہنمائی کے لیے بھی آیا ہے جو وحی متلو کے ذریعے سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ اس لفظ کے معنی چونکہ دکھا دینے کے ہیں اس وجہ سے اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ پیغمبر کو وحی کے ذریعے سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ گویا چشم سر سے حقائق کا مشاہدہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے اس سے ہٹ کر کوئی راہ اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آگے آیت 113 میں بھی یہ مضمون آرہا ہے۔ لفظ مجادلۃ اچھے اور برے دونوں معنوں میں : مجادلۃ کا لفظ قرآن میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں آیا ہے۔ اس کے معنی مناظرہ، کٹ حجتی اور جھگڑنے کے بھی ہیں اور اعتماد و تذلل کی بنیاد پر کسی سے شکوہ کرنے اور اصرار و الحاح کے ساتھ کسی کے حق میں سفارش کرنے کے بھی ہیں۔ حضرت ابراہیم کا مجادلہ قوم لوط کے بارے میں اور سورة مجادلہ میں جس مجادلہ کا ذکر ہے وہ اسی نوع کا ہے۔ منافقت خود اپنے ضمیر سے خیانت ہے : الَّذِيْنَ يَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ سے مراد منافقین ہیں جن کا ذکر خائنین کے لفظ سے ہوا ہے۔ خیانت اس بےوفائی اور غداری کے لیے ایک معروف لفظ ہے جو بیوی اپنے شوہر سے کرتی ہے۔ جس طرح ایک بےوفا عورت اپنے آپ کو حبالہ عقد میں تو کسی اور مرد کے دیتی ہے لیکن عشق کی پینگیں کسی اور کی طرف بڑھاتی ہے اسی طرح منافقین اطاعت ووفاداری کا عہد تو اللہ اور رسول سے کرتے ہیں لیکن دم دوسروں کا بھرتے ہیں۔ ان کی اس خیانت کی بابت ارشاد ہوا کہ یہ خود انے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اس لیے کہ ان کی اس خیانت سے خدا اور رسول کا کچھ نہیں بگڑتا، بگڑتا انہی کا ہے لیکن ان کو نظر نہیں آتا۔ علاوہ ازیں اس میں یہ پہلو بھی ہے کہ یہ خود اپنے ضمیر کی نگاہوں میں میں مجرم ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ یہ سامنے کیا کر رہے ہیں اور پیٹھ پیچھے کیا کر رہے ہیں ایسے لوگوں کی وکالت کرنا " مدعی سست گواہ چست " کا مصداق بننا ہے۔ خطاب پیغمبر سے، عتاب دوسروں پر۔ ولا تکن، واستغفر اللہ اور ولا تجادل میں بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں عتاب کا رخ ان مسلمانوں کی طرف ہے جو منافقین کی حمایت کرتے تھے۔ اس طرح کے خطاب، جیسا کہ ہم اس کتاب میں متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، آں نحضرت ﷺ سے بحیثیت امت کے وکیل کے ہوتے ہیں۔ بات آپ کو مخاطب کر کے کہی جاتی ہے لیکن مقصود یہ ہوتا ہے کہ جو یہ حرکتیں کر رہے ہیں وہ ان سے باز آئیں۔ اس اسلوب میں یہ بلاغت بھی ہوتی ہے کہ ان لوگوں سے ایک قسم کی بےالتفاتی و بےپروائی کا اظہار ہوجاتا ہے جن کو سرزنش مقصود ہوتی ہے۔ گویا وہ لائق خطاب نہیں اس وجہ سے اللہ نے اپنے رسول کو مخاطب کر کے جو بات فرمانی تھی وہ فرما دی۔ قرآن مجید میں اس طرح کے جو خطاب وارد ہوئے ہیں بالعموم کلام کے تدریجی ارتقا سے ان کا اصلی رخ بھی واضح ہوگیا کہ خطاب فی الحقیقت کن سے ہے۔ چناچہ یہاں بھی آگے والی آیت ھٰاَنتم ھؤلاء جدالتم عنہ الایۃ نے واضح کردیا ہے کہ اس میں اشارہ کن کی طرف ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الایۃ کے اسلوب میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ اور رسول اور مومنین کی پسند اور ناپسند کا معیار الگ الگ نہیں ہوسکتا۔ جن صفات و کردار کے لوگوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، کس طرح ممکن ہے کہ رسول اور مومنین انہیں پسند کریں۔ اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان کا دعوی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی پسند کرتے ہیں جو اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں تو وہ خود سوچ لیں کہ ان کی یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ اجزائے کلام کی وضاحت کے بعد آیات کا مدعا چنداں وضاحت طلب نہیں رہا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے کتاب جو اتاری ہے حق کے ساتھ اتاری ہے، اس وجہ سے اب حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لیے کسوٹی یہی ہے، اسی کسوٹی پر پرکھ کر تمہیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے کہ کون حق پر ہے کون بطال پر، کون مخلص ہے کون منافق۔ یہ اللہ کی دی ہوئی روشنی اور اس کی دکھائی ہوئی راہ ہے جس کے بعد تمہارے لیے بھٹکنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس وجہ سے تم ان لوگوں کے حمایتی اور وکیل نہ بنو جو اللہ اور رسول سے بدعہدی اور خیانت کر رہے ہیں۔ تم اللہ سے مغفرت مانگو، اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ جو لوگ اللہ سے بدعہدی کر رہے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگار رہے ہیں بلکہ خود اپنے ہی نفس سے بدعہدی کر رہے اور اپنے ہی قلب و ضمیر کے مجرم ہیں۔ خدا ایسے بدعہدوں اور حق تلفوں کو پسند نہیں کرتا۔ تو جو خود اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم اور خدا کے مبغوض ہیں، ان کی مدافعت تم کیوں کرو ؟ فرمایا کہ یہ انسانوں سے تو چھپتے ہیں اور چھپ چھپ کر اللہ و رسول کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں لیکن اس اللہ سے کہا چھپ سکتے ہیں جو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ اپنی ناپسندیدہ سرگوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ اللہ کا علم تو ہر چیز کو محیط ہے۔ ان منافقین کی درپردہ سازشوں اور سرگوشیوں کا ذکر اسی سورة کی آیت 81 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں بھی دیکھیے۔ اس پر تفصیلی بحث انشاء اللہ سورة مجادلہ میں ہوگی۔
Ayahs 4:109–112

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

یہ تم ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی مدافعت کی تو قیامت کے دن اللہ سے کون ان کی مدافعت کرے گا یا کون ان کا ذمہ دار بنے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کسی بدی کا ارتکاب کرے یا اپنی جان پر کوئی ظلم ڈھائے، پھر اللہ سے مغفرت چاہے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، رحم کرنے والا پائے گا

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگاتا ہے تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور گناہ لیا

109۔ 112:۔ ھٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ عَنْھُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۣ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا يَكْسِبُهٗ عَلٰي نَفْسِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيْۗئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهٖ بَرِيْۗـــــــًٔــا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنً۔ ھا عربی میں کلمہ تنبیہ ہے اس پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔ یہ جملہ کے شروع میں آتا ہے اور مقصود اس سے یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کان کھول کر بات سنے۔ لفظوکیل کے ساتھ جب علی ہو تو موقع کے لحاظ سے یہ تین معنوں میں آتا ہے۔ 1۔ مسئول اور ذمہ دار کے معنی میں۔ مثلا وما جعلناک علیہم حفیظا وما انت علیہم بوکیل : ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں بنایا ہے اور تم ان کے ایمان کے باب میں مسئول نہیں ہو (انعام :107)۔ 2۔ نگران کے معنی میں، مثلا خالق کل شیء فاعبدوہ وھو علی کل شیء وکیل : وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس اسی کی بندگی کرو اور وہی ہر چیز پر نگران ہے " 3۔ ضامن کے معنی میں۔ مثلا ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی واللہ علی ما نقول وکیل : دونوں میں سے مدت بھی میں پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور ہم جو قول و اقرار کر رہے ہیں اس پر اللہ ضامن ہے "۔ ظاہر ہے کہ امن من یکون علیہم وکیلا میں یہ پہلے معنی میں ہے۔ یعنی آج تو ان کی حمایت کرنے والے ان کی حمایت میں لڑ جھگڑ سکتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب خدائے علیم وخبیر کی عدالت میں ان کا مقدمہ پیش ہوگا تو ان کی طرف سے کون مسئول اور جواب دہ بن کر کھڑا ہوگا، اس دن تو بہرحال انہیں خود ہی جواب دہی کرنی ہوگی۔ اب یہ بات سامنے کھل کر آگئی کہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے اوپر کی آیات میں کن کے رویے پر سرزنش کی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ مخاطب نبی ﷺ شخصاً نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں میں سے وہ لوگ ہیں جو وقتاً فوقتا اپنے ذاتی تعلقات کی بنا پر منافقین حمایت میں آستینیں چڑھا لیتے اور ان کی صریح غلطیوں کے باوجود ان کی بریت کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرنے کی کوشش کرتے۔ چناچہ ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ لوگو، کان کھول کر سن لو کہ آج تو تم ان کی حمایت میں لڑ جھگڑ سکتے ہو لیکن کل جب خدا کے ہاں ان کی روبکاری ہوگی تو خدا سے ان کی مدافعت میں کون جھگڑے گا یا کون ان کی طرف سے مسئول بنے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ خدا سے چوٹنے کا راستہ یہ نہیں ہے کہ مجرم کی حمایت میں دوسرے پشت پناہ بن کر کھڑے ہوں بلکہ یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی برائی یا کسی ظلم نفس (شرک) کا ارتکاب ہوجائے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس سے مغفرت مانگے، جو شخص خلوص کے ساتھ استغفار کرے گا وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ خدا کے ہاں ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا، جو کسی گناہ کا مرتکب ہوگا اس کا وبال اسی پر آئے گا، اس لیے کہ خدا علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔ اس کے علم اور اس کے عدل و حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ زید کا حساب بکر کے کھاتے میں نہ پڑنے پائے بلکہ ہر ایک اپنے عمل کا جواب وہ خود بنے۔ سازشی گروہوں کا ایک خاص حربہ : ومن یکسب خطیئۃ الایۃ، میں منافقین کی ایک اور شرارت سے پردہ اٹھایا کہ یہ لوگ اپنی کسی غلطی یا کسی حق تلفی پر جب گرفت میں آجاتے ہیں تو اعتراف کے بجائے جھوٹ اور بہتان کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس کا بوجھ کسی بےگناہ پر لادنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا کہ خدا سے بریت کا یہ راستہ بھی غلطہ ہے۔ اس بہتان اور جھوٹ سے دنیا کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، خدا کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ خدا کے ہاں ایسے مجرم نہ صرف اپنے جرم کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ اپنے اصل جرم پر بہتان اور جھوٹ کا بھی اضافہ کرلیں گے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ اوپر منافقین کی سازوں اور سرگوشیوں کا ذکر گزرچکا ہے۔ سازشی گروہوں کا خاص حربہ اپنے دفاع کے لیے یہی ہوتا ہے کہ جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو اس کا الزام یا تو دوسرے بےگناہوں کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں یا کم از کم ان کو بھی اس میں ملوث کرنے کے لیے بہتان طرازی کرتے ہیں تاکہ اپنا بار گناہ کچھ ہلکا کرلیں۔
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے یہ ٹھان ہی لی تھی کہ تمہیں بےراہ کر کے رہے گا حالانکہ یہ آپنے آپ ہی کو بےراہ کر رہے ہیں، تمہارا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ اور اللہ نے تم پر کتاب و حکمت نازل فرمائی اور تمہیں وہ چیز سکھائی جو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ ۭوَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ ۭ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا یہ پیغمبر ﷺ کی طرف التفات اور آپ کے واسطے سے مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ یہ اللہ کا تمہارے اوپر خاص فضل و احسان ہے کہ تم ان منافقین کے شر سے محفوظ رہے ورنہ ان کی ایک جماعت کی تو رات دن کوشش اور سازش یہی ہے کہ تمہیں راہ سے بےراہ کرکے رہے لیکن اللہ نے اپنے فضلِ خاص سے تمہیں کتاب و حکمت کی جو روشنی عطا فرمائی ہے اس نے تمہیں لغزش سے محفوظ رکھا۔ اس میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ ہے کہ اس گروہ کی آفتوں اور فتنوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور ساتھ ہی اس سے محفوظ رہنے کی تدبیر بھی بتا دی کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب و حکمت کی جو نعمت ان کو ملی ہے اس کی سچے دل سے قدر کریں اور ان لوگوں کے چکموں میں نہ آئیں جو اس سے ہٹ کر اپنی راہ نکال رہے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ میں اس حقیقت نفس الامری کا بیان ہے کہ راہ حق سے منحرف ہو کر چلنے والے اگر راہ حق پر چلنے والوں کو حق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں تو پھر وہ اپنی تمام دانش فروشیوں کے باوجود صرف اپنے ہی کو گمراہ کرتے ہیں، جادہ حق پر استوار رہنے والوں کو وہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف حق پر ڈٹے ہوئے دیکھتے رہو کہ یہ تباہی کے کس کھڈ میں جا کر گرتے ہیں۔