Ayah 3:154’ امنۃ ‘ کا مفہوم : امنۃ کے معنی راحت، سکون اور اطمینان کے ہیں۔ نعاس اونگ اور نیند کو کہتے ہیں یہاں یہ بدلیت کے طریقے پر امنۃ کی گویا وضاحت ہے۔ نیند۔ اطمینا و راحت کا ذریعہ بھی ہے اور دل کے اطمینان اور دماغ کی یکسوئی کی شہادت بھی۔ جس کا ذہن پریشان اور دماغ منتشر ہو اس کی نیند اڑجایا کرتی ہے اور ایسے شخص کے لیے کوئی کام عز و حوصلہ اور استقلال و عزیمت کے ساتھ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ ہے دورانِ جنگ میں فوج کے لیے سونے کا موقع ملنا اور اس موقع سے فائدہ اٹھانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ چناچہ نیند کی اسی اہمیت کی وجہ سے دشمن فوج کے حوصلے کو پست کرنے والی تدابیر میں سے ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ اس کو سونے کا موقع نہ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے اگر کسی فوج کو اس کا موقع ملے، اور وہ اس سے فائدہ بھی اٹھا سکے کیونکہ اس سے فائدہ اٹھا سکنا صرف موقع ملنے ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کا بہت کچھ انحصار سونے والے کی ذہنی و قلبی صلاحیت پر بھی ہے۔ غزوہ بدر سے متعلق سورة انفال میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو احسانات گنائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جنگ سے پہلے والی رات میں خوب سوئے اور اس طرح صبح کو لڑنے کے لیے خوب چاق و چوبند ہوگئے۔ یہاں آیت زیر بحث میں فرمایا ہے کہ ایک گروہ تو آرام سے سویا لیکن ایک دوسرے گروہ کو برابر اپنی جانوں کی پڑی رہی۔ اگرچہ دشمن واپس جا چکا تھا لیکن وہ اپنے خوف اور بزدلی کے سبب سے یہی سمجھتے رہے کہ ابھی وہ سر ہی پر کھڑا ہے۔
يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً میں حال کا صیغہ صورت حال کی تصویر کے لیے ہے يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ غیر الحق کی وضاحت ہے اور مقصود اس وضاحت سے ان کے خیال کے گھنونے پن کو ظاہر کرنا ہے کہ باوجودیکہ یہ لوگ مسلمان بنے پھرتے ہیں لیکن اب تک خدا کی صفات اور انسانی زندگی سے اس کے تعلق کے باب میں ان کے خیالات و تصورات وہی ہیں جو زمانہ جاہلیت کی تاریکی میں تھے۔ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا الایہ ان کے ظن جاہلیت کی ایک مثال بھی ہے اور وہ اپنے دل میں جو کچھ چھپائے ہوئے تھے اس کا اظہار وبیان بھی۔
حذف کی ایک مثال : وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ کا معطوف علیہ حذف ہے اور اس طرح کے مواقع میں نہ صرف یہ کہ معطوف علیہ محذوف ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات وہ چیز بھی محذوف ہوتی ہے جس کی ان صیغوں کے ذریعے سے علت بیان ہوتی ہے۔ اس کی مثال سورة حدید کی اس آیت میں بھی ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے۔ اگر سیاق وسباق کی روشنی میں اس محذوف کو کھول دیا جائے تو پوری بات گویا یوں ہوگی کہ اگر تم اپنی ہی رائے پر عمل کرتے جب بھی تم، اگر تمہاری موت مقدر ہوچکی ہوتی، اپنے آپ کو موت سے نہ بچا سکتے بلکہ انہی مقامات میں پہنچ کر قتل ہوتے جن مقامات میں تمہارا قتل ہونا اللہ نے لکھ رکھا ہے۔ لیکن یہ رسول کے ہاتھوں اللہ نے اس لیے کرایا کہ تمہارے دلوں میں یہ حسرت کا ایک کانٹا بنے اور تمہارے دلوں میں جو کمزوریاں ہیں وہ ابھر کر سامنے آئیں۔
احد کے واقعات پر تبصرہ۔ یہ آیت بھی پوری کی پوری احد کی شکست سے ظاہر ہونے والے واقعات و حالات پر تبصر ہے وعدہ برحق ہے لیکن جماعت کے اندر جو کمزوریاں چھپی ہوئی تھیں ان کا علاج بھی ضروری تھا۔ فرمایا کہ احد کی شکست کے بعد تم میں ایک گروہ تو بیشک ایسے لوگوں کا رہا جو خدا اور رسول سے شاکی اور بدگمان نہیں ہوا۔ اس نے اپنا حوصلہ قائم رکھا۔ اس نے اس افتاد کو جو پیش آئی جماعت ہی کی بعض خامیوں کا نتیجہ سمجھا۔ اور خدا کے فیصلے پر راضی رہا۔ چناچہ بد دل و ہراساں ہونے کے بجائے وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والی شب میں اطمینان کے ساتھ سویا جو اس کی دل جمعی اور ایمانی مضبوطی کی ایک شہادت ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک دوسرا گروہ بھی تھا جسے برابر اپنی جانوں کی پڑی رہی، وہ خدا سے اس قسم کی بدگمانیوں میں مبتلا رہا جو ایمان واسلام کے شایانِ شان نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت سے مناسبت رکھنے والی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ معاملات فیصلے کرنے میں پیغمبر استبداد اور خود رائی سے کام لیتے ہیں۔ ان کے مشوروں کی کوئی قدر نہیں کرتے۔ اگر ان کی رائے مان لی جاتی اور مدینہ کے اندر محصور ہو کر جنگ کی جاتی تو یہ افسوسناک صورت پیش نہ آتی اور ہم یہاں اس ذلت کے ساتھ قتل نہ ہوتے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ تمہارے یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں بند ہوتے جب بھی جس کو جہاں مرنا تھا وہیں مرتا وہیں مرتا۔ یہ امور تمہاری تدبیر کے تابع نہیں۔ بلکہ خدا کی مقدر کی ہوئی تقدیر کے تابع ہیں۔ تمہارے اندر چونکہ یہ کمزوریاں موجود تھیں اس وجہ سے اللہ نے چاہا کہ ایسے حالات پیش آئیں کہ تمہاری کمزوریاں ظاہر ہوں، تمہارے دلوں کی جانچ ہو اور تمہارے کھوٹ باہر آئیں۔ اللہ دلوں کے امراض اور ان کے علاج سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 3:155اوپر آیت 122 کے تحت گزر چکا ہے کہ منافقین کی شرارت خاص کر ابن ابی کے حوصلہ شکن طرز عمل سے کچھ کمزور قسم کے مسلمان بھی متاثر ہوئے جن میں سے کچھ تو فوراً ہی سنبھل گئے لیکن بعض سے کمزوری صادر ہوگئی۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ معاف فرما دیا اس لیے کہ بعد میں ان میں سے ہر شخص کو خود اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح فرما دیا کہ ان کی کچھ پچھلی غلطیاں تھیں جن کے سبب سے شیطان نے ان کو ٹھوکر کھلائی۔ گناہ سے گناہ جنم لیتا ہے اور شیطان کے داؤں انہی لوگوں پر زیادہ آسانی سے کارگر ہوتے ہیں جن کے اندر گناہ کی کوئی جڑ موجود ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ جب آدمی سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو دل میں جگہ نہ پکڑنے دے بلکہ استغفار اور توبہ نصوح کے ذریعہ سے اس کا استیصال کردے۔ ورنہ اسی قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں کے لیے وجہ ابتلا بن جاتے ہیں۔ اوپر آیات قرآن کی روشنی میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ احد کے معرکے میں مسلمانوں کو جو ابتلا پیش آیا وہ بعض گروہوں کی اسی طرح کی کمزوریوں کے نتیجہ میں پیش آیا۔
اگلی آیات 156 تا 189 کا مضمون : جنگ احد سے پیدا شدہ حالات و خیالات پر جو تبصرہ اوپر سے چلا آ رہا ہے، اسی سلسلے کی کچھ مزید باتیں ارشاد ہو رہی ہیں۔
Ayahs 3:156–158تفسیر آیت 156 تا 158:۔ ’ لِ ‘ کا مفہوم : وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ میں ’ لِ ‘ اس طرح کا ہے جس طرح وقال الذین کفرو للذین امنوا لوکان خیرا ما سبقونا الیہ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ نئی دعوت کوئی خیر و برکت والی چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہیں کرسکتے تھے) میں ہے۔ یعنی بابت اور متعلق کے معنی میں۔ ’ اخوان ‘ سے مراد بھائی بند اور تعلق و رشتہ کے لوگ ہیں۔ ’ غزی ‘ غازی کی جمع ہے۔ ’ لیجعل ‘ سے پہلے اس کا متعلق محذوف ہے۔ یعنی یہ بات جو ان کے ذہن میں گھسی ہوئی ہے یہ اس لیے گھسی ہوئی ہے کہ ان کی منافقت کی وجہ سے اللہ یہ چاہتا ہے کہ یہ بدعقیدگی ان کے دلوں میں خار غم بن کر کھٹکتی رہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں گزر چکی ہیں۔
موت اور زندگی خدا کے اختیار میں ہے : یہ مسلمانوں کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ کفار و منافقین کی روش کی تقلید سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو۔ ان کی بزدلی کی اصلی وجہ ان کی یہ بدعقیدگی ہے کہ وہ موت اور زندگی کو اپنی تدبیروں کے تحت سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان کے بھائی بندوں میں سے کوئی کسی سفر یا جنگ میں مارا جائے تو بڑی حسرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس ہوتا یا ہمارے مشورے پر عمل کرتا تو یہ افتاد اس کو پیش نہ آتی۔ چناچہ یہی بات انہوں نے جنگ احد کے مقتولوں کے بارے میں بھی کہی۔ حالانکہ موت و زندگی کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے زندگی دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے موت دیتا ہے۔ اس نے جس کی موت جو وقت، جس مقام، اور جس شکل میں لکھ رکھی ہے وہ آ کے رہے گی اگرچہ وہ اپنے آپ کو آہنی قلعوں کے اندر بند کو چھوڑے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تدبیروں سے موت کو ٹال سکتے ہیں وہ اس وہم سے ایک دائمی خلشِ غم اور بزدلی کے سوا کچھ نہیں حاسل کرسکتے۔ اہل ایمان کو چاہئے وہ اپنے آپ کو اس فتنہ سے محفوظ رکھیں۔ زندگی اور موت خدا ہی کے اختیار میں ہے اور وہ ہمارے ہر عمل کو قدم قدم پر دیکھ رہا ہے۔
مزید حوصلہ افزائی کے لیے ارشاد ہوا کہ اگر تم کو خدا کی راہ میں شہادت حاصل ہوئی یا کسی اور طرح سے موت آگئی تو یہ چیز غم کرنے کی نہیں ہے اس لیے کہ اس کے صلے میں جو مغفرت و رحمت تمہیں حاصل ہوگی وہ ان تمام فانی ذخیروں سے کہیں بہتر ہے جو اس زندگی کے پرستار اپنے لیے جمع کر رہے ہیں۔
یہ ملحوظ رہے کہ یہ آیت تہور کی دعوت نہیں دے رہی ہے بلکہ اس حقیقت سے آگاہ کر رہی ہے کہ فرائض سے فرار زندگی بچانے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آدمی کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ جو فرض جب عائد ہوجائے پورے عزم و جزم کے ساتھ اس کو ادا کرے اور یہ یقین رکھے کہ موت اس وقت آئے گی جب اس کا وقت مقرر ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھے کہ ادائے فرض کی راہ میں مرنا اس دنیا کی زندگی اور اس زندگی کے تمام اندوختوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت آگے آیا 167 تا 171 کے تحت آرہی ہے۔
آخر میں فرمایا کہ جو مرتا یا قتل ہوتا ہے بہرحال خدا ہی کے پاس پہنچتا ہے تو مومن خدا کے قرب سے کیوں گھبرائے۔ یہی تو قربانی کی حقیقت اور اس کا اصل مدعا ہے !
Ayahs 3:159–160159 تا 160: فَبِمَا رَحْمَةٍ میں زبان کا وہی اسلوب استعمال ہوا ہے جو فبما نقضہم میثاقہم میں ہے۔ اہل نحو اس طرح کے مواقع میں عموماً ’ ما ‘ کو تاکید کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعض مواقع میں یہ محض فقرے کے آہنگ کو ٹھیک رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
فظ کا مفہوم : ’ فظ ‘ کے معنی درشت خو اور غلیظ القلب کے معنی سخت دل کے ہیں۔
منافقین کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے رویہ کی تصویب : یہ آیت بطور التفات وارد ہوئی ہے۔ اوپر سخت الفاظ میں منافقین پر جو تنقید ہوئی ہے اس کا اثر نبی ﷺ پر اور پھر قدرتی طور پر باحمیت مسلمانوں پر یہ پڑ سکتا تھا کہ آپ کا اور آپ کے مخلص صحابہ کا رویہ ان کے بارے میں سخت ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرحلے میں یہ پسند نہیں فرمایا کہ یہ تبدیلی واقع ہو۔ اگرچہ منافقین کی روش نہایت قابل اعتراض تھی۔ وہ حضور کی رافت اور چشم پوشی سے بہت غلط فائدہ اٹھا رہے تھے لیکن یہ مریض تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا کہ ابھی ان کو اصلاح حال کی مزید مہلت دی جائے تاکہ جن کے اندر ادنی گنجائش بھی اصلاح پذیری کی باقی ہے وہ اپنی اصلاح کرسکیں۔ چناچہ اس حکمت کے پیش نظر آنحضرت ﷺ کے اسی کریمانہ طرز عمل کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و تصویب فرما دی گئی جو اب تک ان لوگوں کے ساتھ رہا تھا اور اس کی مصلحت بھی واضح فرما دی گئی کہ یہ منافقین اپنی صحت اور اصلاح کے اتنے قدردان نہیں ہیں کہ اس کے لیے کوئی تلخ گھونٹ برداشت کرسکیں، یہ تو اللہ کی عنایت ہی تھی کہ اس نے تم کو نہایت نرم خو اور حلیم بنایا اور تم نے اسی نرم خوئی اور اسی رافت و شفقت کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کی۔ اگر تم ذرا بھی ان کے ساتھ سخت گیری کی روش اختیار کرتے تو یہ ایسے وحشی اور ناقدے ہیں کہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے، اگرچہ دنیا جہان کے روگ ان کے ساتھ چمٹے رہتے، تو ان کے ساتھ ابھی اپنی رافت و رحمت کی یہی روش قائم رکھو، ان کی ناقدریوں سے درگزر کرو اور ان کے لیے اللہ سے استغفار کرتے رہو۔
یہ ملحوظ رہے کہ بعد میں جب منافقین کے ایک گروہ نے اپنے رویہ سے بالکل مایوس کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ چشم پوشی کی روش سے یہ لوگ اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں تو آخر میں آنحضرت ﷺ کو بھی اور مسلمانوں کو بھی ہدایت ہوئی کہ ان لوگوں کے بارے میں اپنے رویے کو بدل دیں اور نرمی سے اگر یہ غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں تو سختی سے ان کو صحیح راہ پر لائیں۔ اس پر مفصل بحث توبہ کی آیات 73، 123 اور تحریم کی آیت 9 کے تحت آئے گی۔
یہاں عفو اور استغفار کی ہدایت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت بھی ہوئی کہ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ یعنی معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔ اس بات کے ذکر کا یہاں ایک خاص موقع ہے جس کو مختصراً سمجھ لینا چاہئے۔
اسلامی نظام میں شورائیت کا درجہ : آنحضرت ﷺ معاملاتِ دین میں کسی کے مشورے کے محتاج نہیں تھے اس لیے کہ آپ ہر کام وحی الٰہی کی رہنمائی میں کرتے تھے، لیکن سیاسی و انتظامی معاملات میں آپ اپنے صحابہ سے برابر مشورہ کرتے رہتے تھے اور اس طرح گویا حضور نے خود اپنے طرز عمل سے اس شورائیت کی بنیاد ڈالی جو اسلام کے سیاسی نظام کی ایک بنیادی خصوصیت رہی ہے۔ اسی شورائیت کے پیش نظر آپ نے غزوہ احد کے موقع پر بھی، جس کے اثرات و نتائج یہاں زیر بحث ہیں، صحابہ سے مشورہ کیا کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر سے کیا جائے یا باہر نکل کر۔ مقصود اس مشورے سے، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، یہ تھا کہ جماعت کے اندر جو کمزور لوگ ہیں وہ کھل کر سامنے آجائیں، چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جو کمزور اور منافق قسم کے لوگ تھے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے اندر محفوظ ہو کر مقابلہ کیا جائے اور اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اس طرح وہ اپنی کمزوری اور نفاق کو چھپانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن مخلصین اور جاں نثاروں کی رائے اس کے خلاف ہوئی اور یہی رائے صائب اور حضور کی رائے کے مطابق تھی، اس وجہ سے حضور ﷺ نے اسی رائے پر عمل فرمایا 1؎۔ منافقین کو جب اپنا مشورہ منوانے میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنا غصہ نکالا۔ ایک گروہ تو یہ بہانہ بنا کر عین موقع پر فوج سے الگ ہوگیا کہ اس کے مشورے کی قدر نہیں کی گئی۔ دوسرا گروہ جو بادل ناخواستہ ساتھ رہا، اس نے شکست کے بعد مسلمانوں میں یہ بد دلی پھیلانا شروع کردی کہ جنگ کا یہ نتیجہ اس وجہ سے نکلا کہ اس کے مشورے کی قدر نہیں کی گئی، اگر ان کی رائے مان لی جاتی تو یہ افتاد پیش نہ آتی۔ ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں کا مقصود شرار اور مسلمانوں میں بد دلی پھیلانا تھا لیکن اس مرحلے میں مصلحت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی تھی کہ ان منافقین سے درگزر کی روش اختیار کی جائے اور جو مجلسی اور جماعتی حقوق ان کو حاصل ہیں وہ ان کی ان غلطیوں کے باوجود بھی ابھی باقی رہیں۔ چناچہ جس طرح حضور کو ان کے لیے عفو و استغفار کی ہدایت ہوئی اسی طرح اس بات کی بھی ہدایت ہوئی کہ جو امور مشورہ کے تحت آتے رہیں ان میں آپ بدستور ان سے مشورہ لیتے رہیں۔ اگرچہ ان کی کمزوری اور بدخواہی واضح ہوچکی ہے۔
1؎۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں یہ بات جو نقل ہوئی ہے کہ خود آنحضرت ﷺ کی رائے بھی یہی تھی کہ مدینہ کے اندر محصور رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے لیکن پرجوش صحابہ نے آپ کو نکلنے پر مجبور کردیا، یہ بالکل بےثبوت بات ہے۔ آں حضرت ﷺ نے جس وقت لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا اس کے بارے میں خود اپنی رائے ظاہر نہیں فرمائی تاکہ ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنی رائے ظاہر کرسکے اور مقصود اس سے لوگوں کے حوصلہ کا جائز لینا تھا تاکہ جنگ سے پہلے فوج کی صحیح صحیح حالت کا اندازہ ہوجائے۔ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے شہر کے اندر سے مقابلہ پر اصرار کیا اور جاں نثاروں نے باہر نکل کر۔ آپ نے اس تدبیر سے جب کمزروں اور حوصلہ مندوں کا اندازہ فرما لیا تو گھر کے اندر داخل ہوئے اور اسلحہپہن کر باہر تشریف لائے یہ اس امر کا اظہار تھا کہ مقابلہ باہر نکل کر کرنا ہے۔ جاں نثاروں کو بطور خود یہ گمان ہوا کہ مبادا حضور نے یہ رائے ان کے اصرار کی وجہ سے اختیار فرمائی ہو اس وجہ سے انہوں نے معذرت کے ساتھ اپنی رائے واپس لینی چاہی۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ نبی ہتھیار پہن کر اتار نہیں کرتا۔ یعنی اب جب کہ عزم ہوچکا تو یہ بدل نہیں سکتا، جب منافقین نے دیکھا کہ ان کی بات نہیں چلی تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ الگ ہوگیا، یہ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کسی اہم جنگ کے لیے نکلنے سے پہلے فوج کے حوصلے کا اندازہ کرنے کے لیے کوئی حکیمانہ تدبیر ضرور اختیار فرماتے تھے، بدر کے موقع پر بھی آپ نے یہ تدبیر اختیار فرمائی تھی اور اسی موقع پر انصار کے لیڈر نے وہ تقریر کی تھی جو اسلام کی تاریخ میں ہمشیہ یاد رہے گی
اکثریت اور اقلیت کے باب میں صحیح نقطہ نظر : وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ کے بعد فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ انتظامی و سیاسی امور میں مشورے کی یہ ہدایت صاحب امر کی تقویت اور اس کے اطمینان کے پہلو سے ہے مشورہ کرنا تو بہرحال ضروری ہے لیکن مشورے کے بعد جس بات پر اس کا دل ٹھک جائے اللہ کے بھروسے پر وہ کام اسے کر گزرنا چاہیے، صاحب امر کے اطمینان کے بعد یہ امر کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کہ جو رائے اس نے اختیار کی وہ اکثریت کی ہے یا اقلیت کی۔ نہ اکثریت فی نفسہٖ دلیلِ صحت و صواب ہے نہ اقلیت دلیل خطا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اکثریت کی رائے میں فی الجملہ صحت کا گمان غالب ہے۔ اس وجہ سے فصل نزاعات میں اگر اس کو فیصلہ کن مانا جاے تو مصلحت کے پہلو سے یہ راہ مامون ہے۔ بالخصوص اس زمانے میں جب کہ اتباع ہوا کا زور ہے اور اختیار و اقتدار کو حدود کے اندر استعمال کرنے لوگ کمتر ہی ہیں۔
چند نکات : مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ عام افراد کی طرح ارباب اقتدار و سیاست کے لیے بھی پسندیدہ روش نرمی و چشم پوشی ہی کی روش ہے۔ اسی سے افراد میں حسن ظن اور اعتماد پیدا ہوتا ہے جس سے اجتماعی نظام میں وحدت، قوت اور استحکام کی برکتیں ظہور میں آتی ہیں۔ سختی اور سخت گیری اس کی فطرت میں نہیں بلکہ اس کے عوارض میں سے ہے۔ جس طرح صحت کے لیے اصل شے غذا ہے لیکن کبھی کبھی کسی مرض کے علاج کے لیے دوا کی بھی رضرور پیش آجاتی ہے اسی طرح اجتماعی نظام میں اصل چیز نرمی ہے۔ سختی کبھی کبھی ضرورت کے تحت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ دوسری یہ کہ اجتماعی نظام میں شورائیت اس حسن ظن و اعتماد کا مظہر ہے جو راعی اور رعایا اور امیر و مامور میں ہونا چاہئے۔ اسی سے استبداد اور سخت دلی کی جڑ کٹتی ہے۔ اور راعی اور رعایا دونوں طرف سے وہ تعاون ظہور میں آتا ہے جو استحکام کی بنیاد ہے۔ تیسری یہ کہ توکل، بےعملی اور تعطل کا کوئی بہانہ اور گوشہ خمول کا کوئی تکیہ نہیں ہے بلکہ انفرادی واجتماعی زندگی کی تمام سرگرمیوں میں عزم و عمل کی بنیاد ہے۔ چوتھی یہ کہ اصل قوت توکل علی اللہ ہے۔ وسائل و اسباب کی حیثیت ثانوی ہے۔ پانچویں یہ کہ توکل ایمان کا لازمی تقاضا ہے، جو شخص خدا پر ایمان کا مدعی ہے لیکن اس کو خدا پر بھروسہ نہیں ہے اس کا ایمان بےمعنی ہے۔
Ayahs 3:161–163161 تا 163: لفط ’ غل ‘ کا صحیح مفہوم : ”غل یغل غلولا“ کے معنی خیانت، بد عہدی اور بےوفائی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل لفظ ’ نصح ‘ کا ضد ہے جس کے معنی خیر خواہی اور خیر سگالی کے ہیں۔ اصحابِ لغت میں سے زجاج نے مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ کی تشریح، جیسا کہ صاحب لسان العرب نے تصریح کی ہے، مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ یخون امتہ کے الفاظ سے کی ہے۔ لفظ غل جو قرآن میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے، غِش، عداوت، ضغن (کینہ) حقد اور حسد کے معنی استعمال ہوا ہے (لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا) اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں آئی۔
آنحضرت ﷺ پر منافقین کا الزام اور اس کا جواب : یہ منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے بعد آنحضرت ﷺ پر لگایا اور جس کو مسلمانوں کے اندر بد دلی پیدا کرنے کے ارادے سے اچھی طرح پھیلایا، الزام یہ تھا کہ ہم نے تو اس شخص پر اعتماد کیا، اس کے ہاتھ پر بیعت کی، اپنے نیک و بد کا اس کو مالک بنایا لیکن یہ اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ ہم نے تو واضح طور پر مشورہ دیا تھا کہ شہر کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے لیکن انہوں نے ہمارے مشوروں کی اور ہمارے بھائیوں کی جانوں کی کوئی قدر و قیمت نہ سمجھی اور ان کو ایک بالکل نا مناسب مقام میں لے جا کر دشمن سے تہ تیغ کرادیا، یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بےوفائی ہے۔
اس الزام کی طرف اوپر کی آیات میں بھی اشارات موجود ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آئے گی۔ قرآن نے یہ ان کے اس الزام کی تردید فرمائی ہے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے۔ کوئی نبی اپنی امت کے ساتھ کبھی بےوفائی و بدعہدی نہیں کرتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے بیخبر نہیں ہوتا کہ ہر بدعہدی و بےوفائی خدا کے حضور پیش ہوگی اور یہ بد عہد اپنے کیے کی پوری پوری سزا بھگتے گا۔ رضائے الٰہی کے طالب اور اس کے قہر و غضب کے سزوار یکساں نہیں ہوں گے۔ ان کے درجے اور ٹھکانے ان کے اعمال کے مطابق الگ الگ ہوں گے۔ اللہ ہر ایک کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
آیت کی یہ تاویل الفاظ قرآن اور نظم کلام کے مطابق ہے۔ ارباب تاویل میں سے بھی بعض لوگوں نے، جیسا کہ تفسیر ابن جریر سے واضح ہوتا ہے، یہی تاویل اختیار کی ہے۔ اس وجہ سے اس روایت کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے جو تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے کہ مال غنیمت میں سے ایک چادر گم ہوگئی تھی جس کا الزام منافقین نے آنحضرت ﷺ پر لگایا تھا اور یہ اس کی تردید ہے۔ اول تو یہ روایت بدر کے مال غنیمت سے متعلق بیان کی جاتی ہے (اس لیے کہ احد میں مال غنیمت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا، اس میں تو مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی) اور یہاں حالات پر تبصرہ ہورہا ہے احد کے اس بیچ میں بغیر کسی قرینہ اور بدون کسی حوالہ کے بدر کے کسی واقعہ کا جس پر ایک عرصہ گزر چکا تھا، ذکر کرنے کا کیا موقع تھا ؟ پھر سب سے زیادہ خیال کرنے کی بات یہ ہے کہ منافقین ایسے بیوقوف نہیں تھے کہ وہ آنحضرت ﷺ پر ایک ایسا الزام لگائیں جس کو کوئی بھی باور نہ کرے بلکہ جو شخص بھی سنے اس کو سن کر ہنس دے۔ منافقین تو درکنار آپ کے کٹر سے کٹر معاندین قریش تک کا حال یہ تھا کہ انہوں نے آپ پر کسی مالی خیانت کا، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، کوئی الزام لگانے کی جسارت کبھی نہیں کی۔ اسلام اور جاہلیت دونوں میں آپ امین کے لقب سے مشہور رہے اور آپ کی اس شہرت کی دھاک جس طرح دوستوں پر تھی، اسی طرح دشمنوں پر بھی تھی۔ مالی معاملات میں اگر بعض نادان لوگوں نے حضور کے خلاف کبھی کچھ کہا بھی ہے تو اس کی نوعیت الزام خیانت کی نہیں ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ کسی کے مقابل میں کسی کو کچھ زیادہ دے دینے کی ہے۔ ان مواقع پر بھی حقیقت واجح ہوجانے کے بعد الزام لگانے والے فریق نے سخت ندامت کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً فتح مکہ اور غزوہ حنین کے موقع پر، اس وجہ سے یہ بات تو بالکل بعید از عقل معلوم ہوتی ہے کہ منافقین آپ پر ایک حقیر چادر کی خیانت کا الزام لگائیں۔ البتہ یہ بات کہہ کر وہ کمزور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرسکتے تھے کہ (نعوذ باللہ) محمد ﷺ اپنی قوم کے وفادار اور بہی خواہ نہیں ہیں، وہ اپنے حوصلوں پر اپنی قوم کو قربان کر رہے ہیں۔ احد کی شکست کے بعد اس قسم کے پروپیگنڈے کے لیے ان کو ایک موقع ہاتھ آگیا تھا۔ جس انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ وہ شہر سے باہر نکل کر جنگ کے مخالف تھے لیکن جاں نثار صحابہ اور نبی ﷺ نے ان کی رائے قبول نہیں کی۔
Ayah 3:164بعثت نبوی کی برکات : یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام اہم اجزا کی تشریح ہوچکی ہے۔ نظم کے پہلو سے یہ آیت اسی حقیقت کو مثبت پہلو سے پیش کر رہی ہے جو اوپر والی آیت میں منفی پہلو سے ظاہر کی گئی۔ اوپر کی آیت میں، جیسا کہ بیان ہوا، نبی ﷺ کو ملت کے ساتھ بدخواہی و بےوفائی کے الزام سے بری قرار دیا گیا ہے، اس آیت میں اس عظیم احسان کا اظہار کیا گیا ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کی شکل میں تمام دنیا پر اور خاص طور پر قوم عرب پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ احسان یہاں تین مختلف پہلوؤں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کے اندر انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرمایا تاکہ زبان کی اجنبیت، نسل و نسب کی غیریت، رجحانات و میلانات کی بیگانگی اور ماضی و حاضر سے بیخبر ی کسی تعصبت اور بدگمانی کا باعچ نہ بنے اور لوگ اس پر اپنے ہی بات اور بھائی کی حیثیت سے اعتماد کرسکیں اور اس کی آواز کو خود اپنے ضمیر کی آواز کی طرح پہچان اور سن سکیں۔ اس حقیقت کا اظہار من انفسکم کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔ دوسرے اس رسول کے مقصد اور مشن کے پہلو سے کہ یہ رسول، اللہ کی آیتیں سناتا ہے تم کو تمام عقلی، اخلاقی اور عملی گمراہیوں سے پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ بھلا جس کے فیوض و برکات سے تمہاری انفرادی و اجتماع اور ظاہر و باطنی زندگی کا ہر گوشہ یوں منور ہو رہا ہے اس سے بڑا بھی تمہارا کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے۔ تیسرے مخاطب کی ضرورت کے پہلو سے۔ اہل عرب دین و شریعت سے بیخبر اور نبوت و رسالت سے نا آشنا امی لوگ تھے۔ ایک زمانہ دراز سے کفر و جاہلیت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعے سے ان کی دستگیری فرمائی اور ان کو گمراہی کی وادیوں سے نکال کر کر ہدایت کی صراط مستقیم پر لا کھڑا کیا۔ اس حقیقت کا اظہار وان کانو من قبل لفی ضلل مبین کے الفاط سے ہورہا ہے۔ یہاں یہ ان مخففہ ہے جو اِنَّ کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بعد جول ہے یہ اس کا قرینہ ہے۔
Ayah 3:165”اَ“ حرفِ استفہام ہے اور ’ و ‘ حرفِ ربط ہے، عربی زبان میں حرف استفہام کی اصلی جگہ جملہ کے آغاز ہی میں ہے مثلا افبھذا الحدیث انتم مدھنون، الواقعہ : 81۔ یہ حرف استفہام اظہار تعجب کے لیے ہے اور حرفِ ربط اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات بھی منجملہ ان اعتراضات کے ایک اعتراض ہے جن کے جواب اوپر دیے گئے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ : اوپر یہ بات گزر چکی ہے کہ کچھ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ جو شخص خدا کا رسول ہو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہونا چاہئے، جب وہ کسی مہم پر نکلیں تو ان کے ساتھ خدا کے فرشتوں کی مدد ہونی چاہئے، جب انہیں کوئی جنگ پیش آئے تو ضروری ہے کہ وہ اس میں فتحمند ہوں، اس خیال کے لوگوں کو احد کی شکست سے قدرتی طور پر بڑا دھکا لگا، وہ سوچنے لگ گئے کہ اگر اسلام ایک سچا دین ہے اور محمد ﷺ سچ مچ خدا کے رسول ہیں تو یہ شکست ان کو کہاں سے پیش آئی، کمزوروں کی اس نفسیاتی کیفیت سے منافقین نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اس شکست کو آنحضرت ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کیا، قرآن نے اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں تفصیل کے ساتھ اس غلط فہمی کو دور کیا ہے اور اہل حق کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں ان کے حکمت واضح فرمائی ہے۔
اس آیت میں پہلی بات یہ فرمائی کہ جو افتاد تمہیں پیش آئی یہ صرف تمہی کو پیش نہیں آئی کہ تم اس کو بدگمانی اور مایوسی کی دلیل بنا لو بلکہ اس سے دو چند نقصان تمہارے ہاتھوں تمہارے دشمنوں کو پہنچ چکا ہے۔ بدر میں تم نے دشمن کے 70 آدمی قتل کیے، 70 قیدی بنائے۔ احد میں بھی پہلے تمہارا ہی پلہ بھاری تھا اور تمہارے ہاتھوں دشمن کے کچھ آدمی قتل اور زخمی بھی ہوئے۔ لیکن بعد میں خود تمہاری غلطی سے تمہیں شکست ہوگئی، اللہ فتح اور شکست دونوں پر قادر ہے اور اس کی قدرت ہمیشہ اس کی حکمت کے تحت ظاہر ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اس افتاد کے سبب تم خود ہوئے ہو، اس کی وضاحت اوپر آیت 152 میں الفاظ کے ساتھ ہوچکی ہے وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ حَتّٰى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ (اور اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جب کہ تم خدا کے حکم سے ان کو تہ تیغ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ تم کمزور پڑگئے، تم نے معاملے میں اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی جب کہ خدا نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جس کو تم عزیز رکھتے تھے تم میں کچھ دنیا کے طالب تھے، کچھ آخرت کے، پھر خدا نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اللہ نے تم سے درگزر کیا اور اللہ مومنوں پر بڑے فضل والا ہے)
Ayah 3:166راہ حق کی آزمائشوں کی حکمت : اب یہ اس ابتلاء کی حکمت واضح کی جا رہی ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے خدا کے حکم سے پیش آیا ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ سچے مسلمانوں اور منافقوں کو اچھی طرح واضح کردے تاکہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ کون لوگ جماعت کے اندر قابل اعتماد ہیں کون لوگ نہیں مقصد یہ ہے کہ یہ آزمائش جماعتی تطہیر کے لیے ضروری تھی۔ اگر مخلصین اور منافقین دونوں اسی طرح رلے ملے رہتے تو معلوم نہیں مفسد عناصر کس وقت پوری جماعت کا بیڑا غرق کردیتے۔
Ayah 3:167وَقِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا، یہ منافقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے جن کو اس موقع پر جہاد کی دعوت دی گئی کہ اٹھو، اگر جنگ ہوگئی تو جہاد کا ثواب حاصل ہوگا اور دشمن ہماری جمعیت سے مرعوب ہوگیا تو دفاع کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ لیکن یہ لوگ جہاد کے لیے نہ اٹھے اور اپنے نفاق اور بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لیے انہوں نے یہ بات بنائی کہ ہمیں علم ہے کہ اس موقع پر لڑائی نہیں ہونی ہے۔ اگر ہمیں لڑائی کا علم ہوتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ قرآن نے ان کے بابت فرمایا کہ یہ بات کہتے وقت یہ ایمان سے زیادہ کفر سے قریب تر تھے، اور انہوں نے زبان سے وہ بات کہی جو ان کے دل میں نہیں تھی۔ دل میں وہ جو کچھ چھپائے ہوئے تھے اس کا خدا کو خوب پتا ہے۔
Ayah 3:168یہ ان کے دل کا راز کھول دیا کہ یہ خود تو سخن سازی کر کے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن ان کے جو بھائی بند جہاد میں شریک اور شہید ہوئے، ان کی بابت انہوں نے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ ہوتے، مقصد یہ ہے کہ اصل چیز جو ان کے لیے مانع ہوئی وہ ہے تو موت کا خوف لیکن انہوں نے بات یہ بنائی کہ وہ اس لیے نہیں اٹھ رہے ہیں کہ جنگ ونگ کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔
آخر میں فرمایا کہ اگر یہ موت و زندگی کے مواقع سے ایسے ہی باخبر ہیں تو وہ اپنے آپ کو موت سے بچائیں۔
Ayahs 3:169–171169 تا 171: یہ ان منافقین کو تنبیہ ہے کہ خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ سمجھو، مردہ وہ نہیں ہیں بلکہ تم ہو وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے جوار رحمت میں اس کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ تم اپنی جہالت اور بےبصیرتی سے تر کھا رہے ہو کہ وہ مارے گئے اور خیال کر رہے ہو کہ اگر وہ تمہاری رائے پر چلتے، تمہاری ہی طرح گھروں میں بھیٹھ رہتے تو نہ مارے جاتے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس فضل و نعمت پر فرحاں و شاداں ہیں جس سے اللہ نے ان کو نواز رکھا ہے۔ تمہیں ان کی موت پر حسرت و وفسوس ہے اور ان کا عالم یہ ہے کہ دم بدم ان کو اپنے ان اخلا و اولاد سے متعلق جو ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان سے ملنے کے آرزو مند ہیں اگرچہ ابھی ملے نہیں ہیں، یہ بشارت مل رہی ہے کہ وہ بھی عنقریب ان سے ملیں گے اور ان کو بھی انہی کی طرح وہ مقام حاصل ہوگا جہاں نہ تو مستقبل کا کا کوئی اندیشہ ہوگا نہ ماضی کی کوئی حسرت۔
شہداء کے باایمان اخلاف کے ساتھ رعایت : یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن میں یہ حقیقت مختلف اسلوبوں سے سے واضح کی گئی ہے کہ عالی مقام اہل ایمان کے ساتھ جنت میں ان کی ذریعت اور ان کے اخلاف میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کردیا جائے گا جن کا خاتمہ ایمان پر ہوگا اگرچہ اپنے عمل کے لحاظ سے یہ ان کے درجے کے نہ ہوں یہ شہدا اور صدیقین پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوگا کہ ان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کی باایمان ذریت کو ان کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اسلام کا درجہ نیچا نہیں کیا جائے گا بلکہ اخلاف کا درجہ بلند کردیا جائے گا اس مسئلہ پر خدا نے چاہا تو ہم سورة طور کی تفسیر میں بحث کریں گے
ان آیات پر غور کیجیے جو معلوم ہوگا کہ قرا ان نے نہایت بلاغت کے ساتھ ان تمام برے اثرات کو مٹٓیا ہے جو منافقین مسلمانوں کے دلوں پر عموماً اور شہدا کی ذریات اور ان کے اخلاف پر خصوصاً ڈالنا چاہتے تھے۔
Ayah 3:172اَلَّذِيْنَ ، ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اس صفت کے اضافے نے کلام کو بالکل مطابق حال بنا دیا اور اوپر والی آیت میں جو اصولی بات فرمائی گئی تھی اس کا ایک متعین محمل سامنے آگیا، یعنی اس عظیم اجر کے مستحق وہ لوگ ٹھہریں گے جن کے عزم و ایمان کا حال یہ ہے کہ احد کی شکست کا زخم کھانے کے بعد بھی ان میں کوئی خم نہیں پیدا ہوا بلکہ جوں ہی اللہ و رسول کی طرف سے ایک تازہ مہم کی منادی ہوئی وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ احد میں مسلمانوں کی شکست کے بعد قریش کی فوج اول اول تو واپس چلی گئی لیکن روحاء کے مقام تک پہنچنے کے بعد اوب سفیان اور ان کے ساتھیوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے اس قدر جلد واپس ہونے میں سخت غلطی کی ہے، لگے ہاتھوں انہیں مدینہ کا قصہ بھی پاک کردینا تھا، یہ سوچ کر انہوں نے اپنی فوج کی از سرِ نو تنظیم شروع کردی، اور ادھر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے منافقین کے ذریعے سے یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ قریش نئے ساز و سامان سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ حضور کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے بھی لوگوں کو قریش کے تعاقب میں کے لیے تیار ہوجانے کا حکم دے دیا، اس فوج میں صرف انہی لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت دی گئی جو پہلے روز کی جنگ میں شریک رہے تھے، یہ احتیاط غالبا اس لیے کی گئی کہ منافقین کے لوث سے یہ لشکر پاک رہے چناچہ حضور ﷺ جاں نثاروں کی ایک جماعت ساتھ ابو سفیان کے تعاقب میں نکلے اور حمراء الاسد تک گئے جو دمینہ سے 8 میل کے فاصلے پر ہے۔ ابو سفیان نے جب دیکھا کہ ابھی مسلمانوں کے حوصلہ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے تو ارادہ بدل دیا اور مسلمان کامیاب و بامراد واپس آپس آگئے۔
لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اللہ، یہاں احسان، اللہ و رسول کی وفاداری کے حق کو بہتر سے بہتر شکل میں ادا کرنے اور تقوی، نفاق کی تمام آلائشوں سے بچنے کے معنی میں ہے، یہ درجہ ایک نہایت اونچا درجہ ہے اور اسکے لیے جد و جہد کرنے والوں کے درجات و مراتب ان کے باطن خلوص اور ان کے ظاہری اعمال و اقدامات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔
Ayahs 3:173–174تفسیر آیت 173۔ 174۔ اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ الایہ، میں مذکورہ اصحاب احسان کا بیان ہے کہ جب منافقین نے کو ہراساں کرنے کے لیے یہ افواہ پھیلائی کہ قریش نئے ساز و سامان کے ساتھ حملہ کی پھر تیاریاں کر رہے ہیں تو یہ خبر بجائے اس کے کہ ان کے اندر خوف و ہراس پیدا کرتی، ان کے عزم و ایمان کو بڑھانے کا سبب بن گئی۔ قاعدہ ہے کہ جس کنوئیں کے سوتے زور دار ہوں اس کے اندر سے جتنا ہی پانی نکالا جائے اتنا ہی اس کے سوتے اور زیادہ جوش کے ساتھ ابلتے ہیں۔ اسی طرح آگ اگر قوت ور ہو تو گیلی لکڑی بھی اس میں ڈالیے تو اس کو بھی اپنی غذا بنا کر مزید طاقت ور بن جاتی ہے۔ یہی حال اصحاب عزم و ایمان کا ہے۔ ان کو بھی رکاوٹیں ضعیف کرنے کے بجائے اور زیادہ پر عزم اور پر حوصلہ بنا دیتی ہیں۔ ہر آزمائش ان کی مخفی صلاحیتوں کے لیے مہمیز کا کام دیتی ہے اور ہر امتحان ان کے لیے فتحمندی کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔ رکتی ہے تو مری طبع ہوتی ہے رواں اور۔ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۔ یہ اس زیادتِ ایمان کا مظہر ہے جس کا ذکر فزادہم ایماناً کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اہل ایمان کی قوت و طاقت کا خزانہ در حقیقت یہی حَسْبُنَا اللّٰهُ کا عقیدہ ہے مومن کا ایمان اس بات پر ہوتا ہے کہ تمام قوت و طاقت اللہ وحدہ لا شریک ہی کے ہاتھ میں ہے تو جب بندہ خدا کے مقرر کیے ہوئے کسی فرض کو ادا کرنے کے لیے خود خدا ہی کے حکم سے اٹھ رہا ہے تو اس کو دنیا کی کوئی طاقت کس طرح ڈرا سکتی ہے۔ بہترین ہستی جس کو بندہ اپنا معاملہ سپرد کرسکتا ہے وہ خدا کی ہستی ہے تو جس نے خدا کو اپنا وکیل و معتمد بنایا اب اس کے لیے کسی خوف و ہراس کی گنجائش کہاں باقی رہی !۔
کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
Ayah 3:175اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ الایہ، یعنی یہ ڈراوے سب شیطان کی طرف سے تھے اور اس طرح وہ تم پر اپنا اور اپنے ساتھیوں اور دوستوں کا رعب جمانا چاہتا تھا تو تم شیطان اور اس کے ساتھیوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھی سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو، ظاہر ہے کہ یہاں شیطان اور اس کے اولیا سے اشارہ قریش اور ان کے ساتھیوں کی طرف ہے اور ان سے جس ڈر کی ممانعت کی گئی ہے یہ وہ ڈر ہے جس کا ہوا منافقین دکھا رہے تھے کہ ان کے ڈر سے خدا کے دین کے احکام و مطالبات کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
Ayahs 3:176–178آیات نمبر 176 تا 179، یہ آیتیں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ احد کی شکست کے بعد، جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے اور ہم سورة کی تمہید میں بھی اشارہ کرچکے ہیں۔ وہ لوگ جو منافقانہ اسلام کی صفوں میں آگھسے تھے یا تو علانیہ کفر کی طرف پلٹ گئے یا پلٹ جانے کے لیے تمہیدیں استوار کرنے لگ گئے۔ یہ لوگ اس طمع خام میں مبتلا ہوگئے کہ قریش کی حمایت کر کے اس دین کو شکست دی جاسکتی ہے۔ چناچہ ان کی تمام سرگرمیاں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور کفر اور اہل کفر کی حمایت کے لیے وقف ہوگئیں۔ اس صورت حال پر ارشاد ہوا کہ اس سے ذرا بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کفر کی راہ میں ان لوگوں کی یہ سرگرمیاں اللہ اور اس کے دین کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ جو لوگ کفر کو ایمان پر ترجیح دے رہیں اللہ بھی ان کے لیے یہی چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا حصہ صرف دردناک عذاب ہو۔ اللہ نے ان کی معاندانہ سرگرمیوں کے باوجود ان کو جو ڈھیل دے رکھی ہے اس ڈھیل کو یہ اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی کامیابی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کے گناہوں کا پیمانہ اچھی طرح لبریز ہوجائے تاکہ جب ان کی کشتی ڈوبے تو پھر اس کو ابھرنا نصیب نہ ہو اس ڈھیل کے بعد ان کے لیے صرف ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ایسا عذاب جس کے بعد کسی کو بھی ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی بلکہ صرف دنیا اور آخرت کی رسوائی ہوگی۔
Ayah 3:179واقعہ احد کی حکمت : مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الایہ، یہ اشارہ ہے اس حکمت کی طرف جو احد کی اس آزمائش میں اہل ایمان کے لیے مضمر تھی۔ فرمایا کہ اب تک مسلمانوں کی جماعت خام و پختہ، خبیث و طیب اور مخلص و منافق ہر قسم کے افراد پر مشتمل رہی ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھی کہ جو جماعت تمام دنیا کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بننے والی ہے وہ اس طرح صالح و فاسد کا ملغوبہ بنی رہے۔ چناچہ اس نے چاہا کہ اس کے فاسد عناصر کو اس سے الگ کیا جائے تاکہ مخلص اہل ایمان ابھر کر سامنے آئیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروان چڑھیں۔ اس کے لیے ایک شکل تو یہ تھی کہ تمام مسلمانوں کو غیب کا علم دے دیا جاتا کہ وہ خود معلوم کرسکتے کہ کون ان کے اندر مخلص ہے، کون منافق۔ لیکن یہ بات اللہ کی سنت کے خلاف ہے کہ وہ غیب کے اسرار سے ہر ایک کو واقف کر دے۔ غیب کی باتوں کے لیے اپنے رسولوں میں سے وہ جن کو چاہتا ہے منتخب کرتا ہے اور ان کو امور غیب میں سے جس چیز سے چاہتا ہے آگاہ فرماتا ہے۔ اس کی دوسری شکل یہ تھی کہ تمہاری جماعت کو کوئی ایسا امتحان پیش آئے جو خود تمہارے کھرے اور کھوٹے اور مخلص و منافق کو چھانٹ کر الگ کردے۔ یہی شکل اللہ کی سنت کے مطابق ہے چناچہ واقعہ احد کی صورت میں یہ امتحان تمہارے سامنے آگیا۔ اور اس امتحان نے تمہارے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کردیا۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِہ الایہ۔ یہ اس امتحان کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے اور ایمان وتقوی کے تمام تقاضے پورے کرتے رہنے کی تاکید ہے تاکہ اس تطہیر کے بعد نفاق کی بیماری کو پھر جماعت کے اندر گھسنے کی راہ نہ ملے۔ یہاں یہ فعل اپنے کامل معنی میں ہے اور آخر میں اس کے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔
Ayah 3:180منافقین کی کمزوری انفاق کے معاملے میں :۔ اہل نفاق جس طرح اپنی جان کے معاملے میں چور ہوتے ہیں اسی طرح اپنے مال کے معاملے میں بھی چور ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی اس کمزوری پر بھی تنبیہ فرمائی تاکہ مسلمان اس بیماری سے بھی ہوشیار رہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے سے دریغ کر رہے ہیں در آنحالیکہ وہ خدا ہی کا بخشا ہوا ہے اور خدا نے ان کو کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنے فضل سے بخشا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ اپنے مستقبل کی مصلحت کے لیے وہ کوئی بڑا مفید کام کر رہے ہیں۔ خدا کے حقوق و فرائض سے چرا چرا کر جو مال جمع کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے دن ان کی گردنوں کا بوجھل طو وق بنے گا اور سونے کے جو طوق آج زینت و فخر کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں یہ سانپوں اور اژدہوں کی شکل میں تبدیل ہوجائیں گے۔
مزید فرمایا کہ آسمان و زمین کی ساری میراث بالآخر خدا ہی کی طرف پلٹ جانے والی ہے۔ جو کچھ جس کو ملا، خدا ہی سے ملا ہے اور پھر یہ سب کچھ اسی کی طرف لوٹ جانے والا ہے۔ یہ ساری چیزیں خدا نے ہمیں بطور امانت بخشی ہیں اور مقصود اس سے ہمارا امتحان ہے۔ وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر ہے کہ ہم نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں میں کس طرح کا تصرف کیا ہے اور اپنے اس علم کے مطابق وہ جزا یا سزا دے گا۔
Ayahs 3:181–182181-182۔ منافقین کا طنز اللہ جل شانہ کی شان میں :۔ لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا الایہ، یہ منافقین کے اس استہزا پر تہدید و وعید ہے جو وہ اپنی مجلسوں میں قرآن کی دعوت انفاق کا کیا کرتے تھے۔ قرآن جب یہ کہتا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے۔ تو یہ مناقین اس پر یہ فقرہ چست کرتے کہ ان دنوں اللہ میاں بہت غریب ہوگئے ہیں اور ہم ان سے زیادہ امیر ہیں کہ وہ ہم سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔ یہ منافقین زیادہ تر یہود میں سے تھے اس وجہ سے خدا پر طنز کرنے میں بھی انہوں نے بالکل یہود ہی کی ہمنوائی کی۔ سورة مائدہ میں یہود کا یہ قول جو نقل ہوا ہے کہ ید اللہ مغلولۃ، اس کی نوعیت بھی، جیسا کہ ہم تشریح کریں گے، بالکل یہی تھی۔ وہ بھی قرا ان کی مذکورہ بالا دعوت انفاق کا مذاق اڑانے کے لیے کہتے کہ آج کل مسلمانوں کے اللہ میاں کا ہاتھ بہت تنگ ہے کہ وہ بندوں سے قرض مانگتے پھرتے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سنکتب ما قالوا، یہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کو ہم نوٹ کر رکھیں گے۔ فنِ بلاغت کے ادا شناس اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان دو لفظوں کے اندر جو قہر و غضب چھپا ہوا ہے اس کی تعبیر ہم عاجزوں کے قلم سے صفحوں میں بھی ممکن نہیں ہے۔ پھر اس سے زیادہ بلیغ بات یہ ہے کہ اسی پر عطف کردیا ہے وَقَتْلَھُمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ کو، یعنی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی ہم نے لکھ رکھا ہے۔ یہ قتل انبیاء کا جرم ظاہر ہے کہ یہود کا ہے۔ منافقین کے ایک قول اور یہود کے ایک فعل کو ایک ہی زمرے میں اس طرح شمار کرنا اور دونوں کے لیے ضمیر بھی ایک ہی استعمال کرنا یہاں دو باتوں پر دلیل ہے۔ ایک تو اس بات پر کہ یہ سنگین بات کہہ کر یہ منافقین یہود کی اسی برادری میں پھر جا شامل ہوئے ہیں جس سے نکل کر انہوں نے اسلام میں داخل ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔ دوسری یہ کہ منافقین کا یہ استہزا اور یہود کا یہ عمل دونوں ایسے سنگین جرائم ہیں کہ خدا ان کو بھولنے والا نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک دن ان سے کہے گا کہ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ ، خدا کا یہ عذاب چکھو اور یہ عذاب جو کچھ بھی ہوگا ان کے اعمال ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہوگا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی قسم کا ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
Ayah 3:183بات جب منافقین کے ذکر سے یہود کے ذکر تک پہنچ گئی تو ان کی ایک اور شرارت کا حوالہ دے کر اس کی بھی لگے ہاتھوں تردید فرما دی اور ساتھ ہی پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ ابھی اس طرح کی بہت سی دل آزار باتیں تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دیکھنی اور سننی پڑیں گی۔ یہ تمہارے صبر و عزیمت کا امتحان ہے۔
یہود کی ایک شرارت : یہود کی جس شرارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چپ کرانے کے لیے یہ کہتے کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہے کہ ہم کسی شخص کے دعوائے رسالت کی اس وقت تک تصدیق ہی نہ کریں جب تک اس سے یہ معجزہ نہ صادر ہو کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو کھانے کے لیے قبولیت کے نشان کے طور پر، آسمان سے آگ اترے، یہ بات یہود محض شرارت کی وجہ سے کہتے تھے۔ تورات میں بعض انبیا سے اس معجزے کا صادر ہونا مذکور ہے مثلاً سلاطین 18، : 37-38 میں ایلیا نبی کے متعلق اور تواریخ 1:7 میں حضرت سلیمان کے متعلق، لیکن یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ یہ معجزہ لوازم و شرائط نبوت میں سے ہے، جب تک کوئی نبی یہ معجزہ نہ دکھائے اس کا دعوائے نبوت ہی قابل غور نہیں، بالخصوص آخری نبی سے متعلق تو ان کے ہاں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قسم کے تکلفات سے بالکل ہی خالی ہیں یہ عذر یہود نے محض شرارت سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، گھڑا تھا اس وجہ سے قرآن نے ان کے ذہن کو سامنے رکھ کر جواب دے دیا کہ ان سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے ایسے رسول آ چکے ہیں جو نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے اور وہ معجزہ بھی انہوں نے دکھایا جس کا تم نے ذکر کیا تو تم نے ان کو قتل کیوں کیاْ تمہارا یہ فعل تو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تم اپنی اس بات میں بھی جھوٹے ہو۔ اگر تم کو یہ معجزہ بھی دکھا دیا جائے گا جب بھی تم اپنی اسی ضد پر اڑے رہو گے اور ایمان نہ لانے کا کوئی اور بہانہ تلاش کرلو گے۔
Ayah 3:184نبی ﷺ کی طرف التفات : پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو تم اس کا غمنہ کرو، نہ یہ بات تمہاری کسی کوتاہی کے سبب سے ہے اور نہ اس وجہ سے ہے کہ تم ان کے حسب منشا ان کو معجزہ نہیں دکھا رہے ہو بلکہ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ یہ لوگ تم پر ایمان نہیں لانا چاہتے۔ یہ معاملہ خاص تمہی کو نہیں پیش آیا ہے، تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے حالانکہ وہ معجزے، صحیفے اور روشن کتاب سب کچھ لے کر آئے تھے، خالی ہاتھ نہیں آئے تھے۔
یہاں تین لفظ استعمال ہوئے۔ بینات، زبر، کتاب منیر۔ بینات کے معنی واضح اور روشن کے ہیں۔ یہ لفظ آیات کی صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں جہاں کہیں یہ لفظ تنہا بغیر موصوف کے استعمال ہوا ہے دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ واضح اور مسکت دلائل کے معنی میں یا حسی معجزات کے معنی میں۔ زبر، زبور کی جمع ہے۔ اس کے معنی ٹکڑے، قطعے اور صحیفے کے ہیں۔ مزامیر داود کے لیے اس کا استعمال معروف ہے۔ یہاں اس سے مراد انبیا کے وہ صحائف ہیں جو تورات کے مجموعہ میں شامل ہیں۔ کتاب منیر سے مراد تورات ہے، قرآن سے پہلے کی نازل شدہ چیزوں میں سے تورات ہی ہے جس اس لفظ کا اصلی مصداق ہو سکتی ہے۔