Ayah 3:54لفظ مکر کا اصلی مفہوم : ’ مکر ‘ کے معنی ہیں کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی مخفی تدبیر کرنا۔ اس میں مذمت کا پہلو یہاں سے پیدا ہوا کہ مخفی تدابیر کا استعمال آدمی کی کمزوری کی دلیل ہے۔ چونکہ عام طور پر صورت یہی ہوتی ہے کہ خفیہ تدبیریں کمزور لوگ ہی استعمال کرتے ہیں اس وجہ سے اس کی مذمت کا پہلو ذہنوں پر غالب ہوگیا اور یہ گمان کیا جانے لگا کہ مکر لازماً مذموم ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ خفیہ تدبیر بعض حالات میں کسی مکر کرنے والے کے مکر کے توڑ یا اس کی سزا کے طور پر بھی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ایک خفیہ چالیں چلنے والے کے خلاف اگر کوئی علانیہ انتقامی کاروائی کی جائے تو وہ اس کو ظلم و زیادتی قرار دے گا اور حالات سے ناواقف اس کو حق بجانب ٹھہرائیں گے۔ اسی طرح کوئی مخفی تدبیر کسی سزاشی دشمن کے خلاف بعض اوقات اس کو متنبہ کرنے کے لیے اختیار کرنی پڑتی ہے تاکہ اس پر یہ ظاہر ہوجائے کہ اس کی ساشیں مخفی نہیں ہیں۔ جن کے لیے وہ یہ جال بن رہا ہے وہ اس کے اس جال سے واقف ہیں۔ یہ چیز اس کو رسوا بھی کرتی ہے اور آئندہ کے لیے اس کو ایسی حرکتوں سے باز رکھنے میں بھی مددگار ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت ہو۔ یہاں جس مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس سے مراد یہی مکر ہے جو حق کے دشمنوں کی سازشوں کے توڑ یا ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ اختیار فرماتا ہے۔ یہ تدبیریں ایسی تیر بہدف ہوتی ہے کہ دشمنوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے خلق کو بیشمار برکتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح کو یہود کے شر سے بچانے کے لیے کیا تدبیر اختیار فرمائی تو اس کے جواب کے لیے موزوں موقع سورة نساء میں آئے گا۔
حضرات انبیاء کی زندگی کی ایک مشترک حقیقت : اس آیت میں جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی زندگی کی ایک مشترک حقیقت ہے، تمام انبیاء کی زندگی شہادت دیتی ہے کہ جب انہوں اپنی قوم کے اعیان و اکابر سے مایوس ہو کر اپنی پوری توجہ اپنے غریب ساتھیوں اور قوم کے عام لوگوں پر مرکوز کی ہے اور ان کی دعوت ان لوگوں کے اندر اپنے اثرات پھیلانے لگی ہے تو یہ اعیان و اکابر اس چیز کو اپنے اقتدار کے لیے ایک شدید خطرہ سمجھ کر نبی کے خلاف مختلف قسم کی سازشوں میں مصروف ہوگئے ہیں تاکہ اس کے قتل کا کوئی بہانہ پیدا کر کے اپنے خیال کے مطابق اس مصیبت سے پیچھا چھڑائیں۔ یہ مرحلہ آزمائش یوں تو ہر نبی کی زندگی میں، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پیش آیا ہے، لیکن ہم یہاں سیدنا مسیح سے متعلق یہود کے اعیان و اکابر کی بعض ساشوں کا ذکر کرتے ہیں۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے علماء اور ان کے کاہنوں اور فقیہوں نے اس موقع پر آنحضرت ؑ کے خلاف مختلف قسم کے جال پھیلائے۔ ایک تو انہوں نے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اسلام کی روایات توڑنے اور بزرگوں کی توہین و تحقیر کا الزام لگایا تاکہ عوام کے جذبات ان کے خلاف بھڑکائے جاسکیں۔ دوسرا جال انہوں نے یہ بچھایا کہ اپنے مخصوص آدمی بھیج بھیج کر ان سے ایسے سوالات کیے جن کے جوابوں سے ان کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے کا مواد فراہم ہوسکے۔ یہ کام یہود کے فقیہوں اور فریسیوں نے بڑی سرگرمی سے انجام دیا اور سیدنا مسیح کی تمثیلوں اور تشبیہوں کے اندر سے انہوں نے اپنی دانست میں وہ مواد فراہم کرلیا جس کی بنیاد پر ان کے واجب القتل ہونے کا فتوی دیا جاسکے۔ تیسرا یہ کہ اس زمانے میں چونکہ ملک پر سیاسی اقتدار رومیوں کا تھا اس وجہ سے ان کو بھڑکانے کے لیے مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے تو خراج کی ادائیگی سے متعلق سیدنا مسیح ؑ سے سوالات کیے گئے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ شخص لوگوں کو قیصر کو خراج دینے سے روکتا ہے۔ لیکن اس قسم کے والوں کے جواب سیدنا مسیح نے ایسے دندان شکن دئیے کہ علمائے یہود اپنا منہ لے کر رہ گئے۔ پھر انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ شخص اسرائیل کا بادشاہ ہونے کا مدعی ہے۔ اس کے لیے حضرت مسیح کے بعض تمثیلی اقوال سے مواد حاصل کرنے اور اس کے ذریعہ سے رومی حکومت کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ چوتھی تد یہ کی گئی کہ سیدنا مسیح کے بارہ شاگردوں میں سے ایک شاگرد یہودا کو، جو منافق تھا، یہود نے رشوت دے کر اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ آنحضرت ؑ کی مخبری کرے اور ان کو گرفتار کرائے۔ ان تمام سازشوں کی تفصیل انجیلوں میں موجود ہے۔ اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہ سارا مواد ایک مناسب ترتیب کے ساتھ یہاں جمع کردیتے لیکن بہتر یہی معلوم ہوا کہ جس طرح قرآن نے صرف اشارے پر اکتفا کیا ہے اسی طرح ہم بھی اشارات ہی پر اکتفا کریں۔
پیغمبر کی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں وہ قوم کو چھوڑ کر اور اپنے دشمنوں سے اعلان براءت کر کے ہجرت کرتا ہے اور یہ ہجرت مختلف شکلوں میں، جن کی تفصیل اپنے مقام میں آئے گی، ظاہر ہوتی ہے۔
Ayah 3:55حضرت مسیح کی حفاظت کے لیے تدبیر الٰہی : اب یہ بیان ہو رہا ہے اس بہترین مخفی تدبیر کا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح ؑ کو یہود کی سازش سے بچانے کے لیے اختیار فرمائی اور جس سے ان کی سازش کے تمام تار پود بکھر کر رہ گئے۔ ”توفی“ کے اصل معنی عربی لغت میں ’ الاخذ بالتمام ‘ کسی شے کے پورا پورا لے لینے یا کسی چیز کو اپنی طرف قبض کرلینے کے ہیں۔ موت دینے کے معنی میں اس لفظ کا استعمال حقیقۃً نہیں بلکہ مجازاً ہوا ہے۔ ایسے الفاظ جو اپنے حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اپنے صحیح مفہوم کے تعین میں قرائن کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہاں مندرجہ ذیل قرائن اس بات کے خلاف ہیں کہ اس کے معنی یہاں موت دینے کے لیے جائیں۔ ایک یہ کہ موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا مسیح اور ان کے ساتھیوں کے لیے بشارت اور وعدہ نصرت کا ہے۔ جملہ رسولوں کی سرگزشتیں اس امر کی شاہد ہیں کہ جب ان کی قوموں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حفاظت و نصرت کی بشارت دی ہے۔ یہاں بھی آیت پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ پوری آیت بشارت وعدہ نصرت ہی کی ہے۔ اس سیاق وسباق میں آخر یہ کہنے کا کیا محل ہے کہ میں تمہیں موت دینے والا ہوں، تو ہی دچیز ہوتی جس کے خواہاں یہود تھے۔ فرق صرف ذریعے کا ہوتا کہ موت یہود کے ہاتھوں نہیں بلکہ قدرت کے ہاتھوں واقع ہوتی۔ دوسرا یہ کہ اگر اس لفظ سے یہاں موت دینا مراد ہے تو اس کے بعد ’ رافعک الی ‘ کے الفاظ بالکل غیر ضروری ہو کے رہ جاتے ہیں۔ آخر یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ میں تمہیں موت دینے ولا اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں ؟ موقع دلیل ہے کہ یہاں ’ مُتَوَفِّيْكَ ‘ کے بعد ’ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ‘ کے الفاظ توفی کے مفہوم کو واضح کر رہے ہیں کہ تمہاری توفی کی شکل یہ ہوگی کہ میں تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ تیسرا یہ کہ ’ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ‘ کے معنی مجرد رفع درجات لینا صحیح نہیں ہے۔ اس صورت میں ’ اِلَیَّ ‘ کا لفظ بالکل بےضرورت ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن میں کوئی لفظ بھی بےضرورت استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر صرف درجے کی بلندی کا اظہار مقصود ہوتا تو عربیت کے لحاظ سے ’ رافعک ‘ کا فی تھا ’ اِلَیَّ ‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں دیکھ لیجیے جہاں بھی یہ لفظ بلندی مرتبہ کے مضمون کے لیے استعمال ہوا ہے بغیر الی کے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ”مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ : اور ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ نے بات کی اور بعض کے مدارج بلند کیے“ (بقرہ :253)۔ ”وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ : اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے سے ان کا رتبہ بلند کرتے لیکن وہ زمین ہی کی طرف جھکا رہا“ (اعراف :176)۔ ”وَرَفَعْنٰہُ مَکَاناً عَلِیًّا : اور ہم نے اس کو فائز کیا انچے درجے پر“ (مریم :57)۔ اگر حرف ’ اِلیٰ ‘ کا صحیح صحیح حق ادا کیا جائے اور یہ حق ادا کرنا ضروری ہے تو ’ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تم کو عزت و اکرام کے ساتھ اپنی جانب اٹھا لینے والا ہوں۔ چوتھا یہ کہ قرآن نے دوسرے مقام میں جہاں یہ مضمون بیان کیا ہے وہاں مُتَوَفِّيْكَ کا لفظ بالکل اڑا دیا ہے، قتل اور سولی کی نفی کے بعد جس چیز کا اثبات کیا ہے وہ صرف اٹھا لیے جانے کا ہے۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ : بلکہ اللہ نے اس کو اپنی جانب اٹھا لیا“۔ یہ اس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ قرآن نے یہ ”توفی“ کی اصل شکل بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ آیت ملاحظہ ہو ”وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (157) بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (158): اور نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کو سولی دی بلکہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، انہیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں، محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں اور انہوں نے اس کو قتل یقیناً نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے“ (نساء :157-158)۔ یہ آیت سب سے زیادہ موزوں مقام اپنے اندر رکھتی تھی اس بات کے بیان کے لیے کہ حضرت عیسیٰ کی موت کس طرح ہوئی ؟ اس لیے کہ یہاں قرآن نے بڑی تاکید اور شدت کے ساتھ ان لوگوں کی تردید کی ہے جو ان کے قتل یا ان کی سولی کے مدعی تھے۔ اگر آپ کی موت واقع ہوئی ہوتی تو اس موقع پر قرآن صاف صاف یوں کہتا کہ نہ ان کو قتل کیا گیا اور نہ ان کو سولی دی گئی بلکہ اللہ نے ان کو وفات دی۔ لیکن قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ کہا نہیں بلکہ ’ توفی ‘ کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا، صرف رفعہ اللہ الیہ کا لفظ استعمال کیا۔ ھر صاحب ذوق اندازہ کرسکتا ہے کہ قتل اور سولی کی نفی کے بعد اس رفع سے موت مراد لینے کی کس حد تک گنجائش ہے۔
وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، یعنی اس گندے معاشرے سے الگ کر کے تمہیں صالحین و ابرار کے زمرے میں داخل کروں گا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے لیے سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ جس قوم کی اصلاح کے لیے بھیجے جاتے ہیں اس کے اندر اس وقت تک وہ قیام کرتے ہیں جب تک ان کے ایمان لانے کی کچ توقع ہوتی ہے۔ یہ توقع اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب قوم کے لوگ نبی کے قتل کے درپے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت نبی بحکم الٰہی ہجرت کرجاتا ہے۔ پھر جس طرح روح کی علیحدگی کے بعد جسم کے لیے سڑنے اور گلنے کے سوا کوئی اور شکل باقی نہیں رہ جاتی اسی طرح نبی کی علیحدگی کے بعد اس کے جھٹلانے والوں کے لیے ہزیمت اور ذلت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ نبی اور اس کے ساتھی گندے ماحول سے نکل کر پاکیزہ اور صحت بخش ماحول میں داخل ہوجاتے ہیں جس سے ان کی روحانی قوت و صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ برعکس اس کے نبی کے دشمن زندگی بخش عناصر سے یک قلم محروم ہو کر پوری تیزی کے ساتھ ہلاکت کی وادی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ استاذ اما نے سورة کافرون کی تفسیر میں ہجرت کے ان اثرات و نتائج پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ سیدنا مسیح کا یہ رفع آسمانی بھی چونکہ ایک نوعیت کی ہجرت ہی ہے اس وجہ سے جس طرح تمام رسولوں کو ہجرت کے بعد فتح و کامیابی کی بشارت ملی اسی طرح آپ کو بھی اس ہجرت کے ساتھ کامیابی و فتحمندی کی، جیسا کہ آگے بیان ہے، بشارت ملی۔
وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا الایۃ۔ اس میں اس بات کی بشارت ہے کہ حضرت مسیح کے نام لیوا، ان کے منکرین پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ تاریخی طور پر یہ بات ایک امر واقعہ ہے کہ نصاریٰ من حیث القوم اس بشارت کے بعد سے یہود پر ہمیشہ حاوی و غالب رہے ہیں۔ آج بھی جب کہ بظاہر یہود کی ایک چھوٹے سے خطہ میں سلطنت قائم ہوچکی ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ پر اسی طرح قائم و ثابت ہے جس طرح پہلے قائم و ثابت تھی۔ اس لیے کہ یہود کی یہ نام نہاد و سلطنت قائم بھی نصاری ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے اور باقی بھی اسنہی کے بل بوتے پر ہے۔
ایک شبہ کا ازالہ : ایک بات یہاں دل میں ضرور کھٹکتی ہے وہ یہ کہ یہ نصاری خود متبع مسیح کب ہیں ؟ یہ تو بالکل مبتدع اور حضرت مسیح کی تعلیم سے یک قلم منحرف ہیں ؟ اس کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ سے یہاں مراد صرف ان کے صحیح قسم کے متبعین ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں ان کے عام متبعین اور نام لیوا بھی شامل ہیں۔ ہماری اس رائے کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ قرآن ’ اھل الکتاب ‘ اور ’ الذین اوتوا الکتاب ‘ کے الفاظ بھی دو مختلف مفہوموں میں استعمال ہوئے ہیں۔ بعض جگہ ان سے اہل کتاب کو بحیثیت گروہ کے مراد لیا گیا ہے، اس سے بحث نہیں کہ فی الواقع ان کے عقائد و اعمال کیا ہیں، اور بعض جگہ ان سے صرف حقیقی اہل کتاب مراد لیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے نزدیک الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ ، اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔ حضرت مسیح کے تمام منتسبین اس میں شامل ہیں۔ عام اس سے کہ وہ ان کے حقیقی پیرو ہیں یا محض نام لیوا ہیں۔ دوسری یہ کہ یہاں الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ کے مقابل الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا رکھا ہے جس سے قرینہ یہی نکلتا ہے کہ تقابل در حقیقت منکرین مسیح اور منتسبین مسیح کے درمیان ہے نہ کہ مخلصین و مبتدعین کے درمیان۔ تیسری یہ کہ موقع بشارت کا ہے۔ بشارت کا تقاضا یہی ہے کہ اس میں وسعت ہو۔ اگر الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ سے، صرف حقیقی متبعین ہی مراد ہوتے تو بشارت کا دائرہ بہت محدود ہو کر رہ جاتا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ذریت ابراہیم کے لیے رزق کی جو بشارت دی تو اس کو صرف اہل ایمان ہی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اہل ایمان اور غیر اہل ایمان سب کے لیے عام رکھا ہے، اسی طرح یہاں الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ بھی خالص اور غیر خالص متبعین کے لیے عام ہے۔
رسول اپنی قوم کے لیے عدالت ہوتا ہے : اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ انبیاء میں سے جو رسول کے درجے پر فائز ہوتے ہیں وہ اپنی قوم کے لیے عدالت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعے سے لازماً قوم کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے مخالفین شکست کھاتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ یہ غلبہ رسول کی موجودگی میں حاصل ہو یا اس کے رخصت ہوچکنے کے بعد، سیدنا مسیح کے متعلق قرآن کی تصریح کی روشنی میں اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ وہ صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کے اس منصب کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان کے متبعین کو ان کے مخالفین پر وہ غلبہ حاصل ہوتا جس کی اس آیت میں بشارت ہے۔ ”لاغلبن انا ورسلی“ والی آیت میں بھی اسی سنت اللہ کا بیان ہے۔ یہی وہ عدالت ہے جس کا ذکر انجیلوں میں بار بار آتا ہے۔ رسولوں کی اس امتیازی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو یہ مہلت نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کردیں۔ چناچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں۔ یہ بات بھی نصاری کے اس دعوے کے خلاف جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھا یا گیا۔ اس مسئلے پر مفصل بحث سورة مائدہ میں آئے گی۔
Ayah 3:56یہ اسی عدالت کا ظہور ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اور جو کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس میں عذاب دنیا اور عذاب آخرت دونوں کی دھمکی ہے۔ یہود پر اس دنیا میں جو دل ہلا دینے والی آفتیں آئیں سب ان کے اسی کفر کا نتیجہ تھیں۔
Ayah 3:57وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ مسیح پر ایمان رکھنے کے مدعی بھی اگر ایمان کے بعد شرک و بدعت میں مبتلا ہوگئے تو آخرت کی پکڑ سے وہ بھی نہ بچ سکیں گے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو ایمان کے بعد شرک و بدعت میں مبتلا ہوں اور اس طرح اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں۔
Ayah 3:58پیغمبر کی طرف التفات : یہ آیت اور اس کے ساتھ کی پانچ آیتیں نبی ﷺ کی طرف التفات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اثنائے کلام میں آپ کو مخاطب کر کے مخالفین خصوصا نصاری کے رویے کے مقابل میں تسلی بھی دی گئی ہے۔ اور بعض ضروری ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو عیسیٰ کی پوری تاریخ تمہیں سنائی گئی ہے۔ تو یہ ہے اصل حقیقت مسیح کی۔ یہ اس قسم کی من گھڑت داستان نہیں ہے جیسی کہ نصاری نے تصنیف کر رکھی ہے بلکہ یہ اللہ کی آیات ہیں اور یہ ایک پر حکمت یاد دہانی ہے۔ یعنی نصاری نے تو اس کو ایک میتھالوجی بنا کر رکھ دیا ہے جس سے صرف گمراہی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اللہ نے اس کو از سرِ نو تمہارے ذریعے سے آشکار کیا ہے تاکہ اس سے حق ہدایت اور حکمت و موعظت کی راہیں کھلیں۔ بعینہ اسی قسم کا التفات آگے آیت 108 میں آ رہا ہے۔ اس سے اس آیت کے بعض الفاظ کی وضاحت بھی ہو رہی ہے۔ ارشاد ہے تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ : یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ دنیا والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا (آل عمران :108)۔ یعنی یہ حق کو از سرِ نو اس لیے واضح فرما دیا ہے تاکہ لوگوں کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے عذر باقی نہ رہ جائے۔ اور اگر وہ گمراہی پر جمے رہیں تو ذمہ ان کی اپنی ہو۔
Ayah 3:59عیسیٰ ؑ کی مثال آدم ؑ کی ہے : یہ آیت اس باب میں خاتمہ بحث کی آیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کو فرمایا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے کلمہ ’ کن ‘ سے عیسیٰ ؑ کو پیدا کردیا۔ بلکہ ولادت کے معاملے میں آدم کو اس اعتبار سے عیسیٰ ؑ پر فضیلت حاصل ہے کہ ان کی ولادت میں نہ باپ کو دخل ہے نہ ماں کو تو جب نصاری ان کو معبود نہیں مانتے تو آخر حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود کیوں بنا بیٹھے ؟
”لفظ ’ ابن ‘ کا استعمال دوسروں کے لیے : جس طرح پیدائش کے معاملے سے کسی مغالطے کے لیے کوئی وجہ موجود نہیں تھی، اسی طرح ’ ابن ‘ کے لفظ سے بھی، اگر نصاری عقل سے کام لیتے تو کسی گمراہی میں پڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، تورات اور انجیل میں ’ ابن ‘ کا لفظ صرف عیسیٰ ؑ ہی کے لیے نہیں استعمال ہوا ہے بلکہ حضرت آدم کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ ملاحظ ہو لو قا 3 : 38۔ فرشتوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، ملاحظہ ہو پیدائش 6 : 2، 4۔ حضرت یعقوب ؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہو استثنا 14 : 1۔ نصاری کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ یوحنا 1 : 11-12۔ اگر کسی کو معبود بنا دینے کے لیے یہ لفظ کافی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی کوئی تخصیص نہیں رہ جاتی، پھر تو معبودوں کا ایک پورا لشکر تیار ہوسکتا ہے، نصاری نے صرف حضرت عیسیٰ ؑ ہی پر کیوں قناعت کرلی ؟
Ayah 3:60گویا بحث اتمام حجت کے آخری نقطہ پر پہنچ گئی اس وجہ سے قرآن نے یہ کہہ کر کہ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ الایۃ، مزید بحث و گفتگو کا دروازہ بند کردیا۔ اس جملے میں ہمارے نزدیک مبتدا محذوف ہے اور یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ جب مبتدا کو حذف کرتے ہیں تو اس سے مقصود مخاطب کی ساری توجہ خبر پر مرکوز کرانی ہوتی ہے۔ یعنی حضرت مسیح سے متعلق اصل حقیقت یہی ہے جو قرآن نے واضح کردی ہے، باقی جو کچھ ہے وہ سب نصاری کی افسانہ طرازی ہے۔ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ میں ظاہر خطاب اگرچہ پیغمبر ﷺ ہے لیکن اس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مواقع میں واضح کرچکے ہیں، روئے سخن پیغمبر کی طرف نہیں بلکہ امت کی طرف ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی عتاب مضمر ہوتا ہے تو اس کا تعلق درحقیقت مخالفین سے ہوتا ہے۔ لیکن وہ لائقِ خطاب نہیں رہ جاتے اس وجہ سے ان کے بجائے اپنوں کو خطاب کر کے بات کہہ دی جاتی ہے۔
Ayah 3:61”العلم“ کے لفظ پر ہم دوسری جگہ گفتگو کرچکے ہیں کہ قرآن میں اس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی آتا ہے۔ اس کا مقابل لفظ ”ظن“ ہے۔
آیت کے بعض محذوفات : اس آیت میں عربی زبان کے اسلوب کے مطابق بعض چیزیں حذف ہیں۔ اگر محذوفات کو ظاہر کردیا جائے تو پوری بات گویا یوں ہوگی۔ نَدْعُ نحن اَبْنَاۗءَنَا وانتم اَبْنَاۗءَكُمْ ونحضر نحن وَاَنْفُسَنَا وانتم َاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ نحن وانتم۔ ہم نے اپنے ترجمے میں ان محذوفات کو کھول دیا ہے۔
مباہلہ کا موقع و محل : ”ابتہال“ کے معنی دعا اور تضرع کے ہیں لیکن اس کے اندر ترک کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اس وجہ سے یہ ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا کے لیے معروف ہے۔ جن معاملات میں بنائے اختلاف کوئی عقلی و استدلالی چیز ہو ان میں تو مسئلے کو طے کرنے کا صحیح طریقہ عقل و استدلال ہی ہے لیکن جہاں عقل و استدلال کے تمام مرحلے طے ہوچکے ہوں، مخاطب دلیل وحجت سے بالکل عاری ہو، حق اس کے سامنے سورج کی طرح روشن ہو، اس کے لیے اس سے گریز و فرار کی کوئی راہ نہ ہو لیکن وہ محض اپنی بات کی پچ اور ہٹ دھرمی کی آن قائم رکھنے کے لیے اپنی بات پر اڑا ہو تو ایسے مواقع کے لیے مباہلہ کا طریقہ آخری چارہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ نصاری نے قرآن کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرات نہیں کی جس سے یہ بات آخری درجے میں واضح ہوگئی کہ سیدنا مسیح کے بارے میں وہ اپنے موقف کو صحیح نہیں سمجھتے تھے بلکہ محض اپنے گروہی تعصب کے تحت اس کی حمایت کرتے تھے۔ برعکس اس کے آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ کھلا ہوا چیلنج اس بات کا نہایت کھلا ہوا ثبوت ہے کہ آپ کو اپنے موقف کی صحت و صداقت پر پورا پورا یقین تھا۔ مباہلے میں اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال اور اپنے اعزا و متعلقین کی شمولیت اس کی سنجیدگی اور اہمیت کو دو چند بلکہ دہ چند کردیتی ہے اس لیے کہ کوئی شخص جانتے بوجھتے اپنے زن و فرزند اور اپنے محبوں اور محبوبوں پر لعنت کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔
Ayah 3:62یعنی حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی۔ ان کا جو درجہ و مرتبہ بھی ہے۔ خدا کے ایک بندے اور اس کے نبی ور سول کی حیثیت سے ہے۔ خدا کی خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ عزیز اور حکیم ہے۔ عزیز، یعنی سب پر غالب اور سب سے بالا تر، حکیم، یعنی اس کا ہر کام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے، یہ دونوں صفتیں شرک کی کامل نفی کرتی ہیں۔
Ayah 3:63اس آیت میں فرمایا کہ مباہلہ اس قضیے کو طے کرنے کی آخری صورت تھی لیکن اگر وہ اس پر بھی راضی نہیں ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ حق کی پیروی نہیں کرنا چاہتے بلکہ حق کی مخالفت کر کے خدا کی زمین میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ شرک تمام فساد کی جڑ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں بہت سے معبود ہوتے تو ان کا سارا نظام تکوینی درہم برہم ہو کر رہ جاتا، اسی طرح اگر دین میں شرک کے لیے کوئی گنجائش تسلیم کرلی جائے تو اس دنیا کا سارا نظام عدل و قسط درہم برہم ہو کر رہ جائے۔
آگلی آیات 64 تا 71 کا مضمون : حضرت مسیح ؑ کی اصلی حقیقت واضح اور نصاری پر حجت تمام کردینے کے بعد یہود و نصاری دونوں کو مخاطب کر کے ان کو توحید اور اسلام کی دعوت دی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح فرمایا ہے کہ توحید کو ایک مشترک حقیقت قرار دیا ہے کہ جس طرح اسلام اس کی دعوت لے کر آیا ہے اسی طرح پچھلے انبیا اور صحیفوں نے بھی اسی چیز کی دعوت دی ہے اس وجہ سے اگر تم توحید کو جھٹلاتے ہو تو صرف قرآن کو نہیں جھٹلاتے بلکہ خود اپنے انبیا اور اپنے صحیفوں کو بھی جھٹلاتے ہو۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کا حوالہ دیا ہے کہ اپنی بدعات کی تائید میں ان کے نام کو کیون ملوث کرتے ہو، وہ تو نہ یہودی تھے، نہ نصرانی وہ تو ایک حنیف مسلم تھے۔ تورات اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئیں اور یہہودیت و نصرانیت کے شاخسانے تم نے ان کے بعد کھڑے کیے، پھر اپنی حمایت میں ان کو کیوں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہو ؟ ان کے ساتھ نسبت اور قربت کے حقدار تو وہ ہوسکتے ہیں جو ان کی ملت اسلام کی پیروی کریں، اور یہ شرف اگر حاصل ہے تو محمد ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہے نہ کہ تم کو جو اسلام کی مخالفت میں پیش پیش ہو۔ اس کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ ان اہل کتاب کے فتنوں سے بچ کے رہو۔ ان کی ساری کوشش اس بات کے لیے ہے کہ تمہیں صراط مستقیم سے ہٹا کر گمراہی کی راہ پر ڈال دیں۔ ساتھ ہی اہل کتاب کو بھی سرزنش کی ہے کہ جانتے بوجھتے کہ حق کیا ہے، اس حق کی مخالفت کرنا اور دوسروں کو بھی اس حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرنا آخر یہ کیا پیشہ ہے جو تم نے اہل کتاب ہوتے ہوئے اپنے لیے پسند کیا ہے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:64”یا اھل الکتب“ کا خطاب اگرچہ یہود و نصاری دونوں سے یکساں ہے لیکن اس سورة میں نصاری چونکہ خاص طور پر مخاطب ہیں اس وجہ سے روئے سخن ان کی طرف زیادہ ہے۔ ”لفظ ’ سواء ‘ کی تحقیق“: سواء کے معنی وسط کے ہیں۔ سواء الراس، سر کے بیچوں بیچ ہوگی وہ دونوں میں یکساں مشترک، مسلم اور اور جانی پہچانی ہوئی ہوگی۔ توحید کے متعلق قرآن مجید کا دعوی یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان یکساں مشترک و مسلم ہے۔ قرآن نے اسی مشترک کلمہ کو بنیاد قرار دے کر ان سے بحث کا آغاز کیا ہے کہ جب توحید ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مشترک حقیقت ہے تو موازنہ کور کہ اس قدر مشترک کے معیار پر قرآن اور اسلام پورے اترتے ہیں یا یہودیت اور نصرانیت ؟ بحث کا یہ طریقہ قرآن کے اس قرار داد وہ طریقہ کے بالکل مطابق ہے جس کی اس نے آیت ”ادع الی ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ : اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور چھی نصیحت کے ذریعہ سے دعوت دو“ میں تلقین فرمائی ہے۔ اس طریقہ حکمت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اگر مخاطب سے بحث کے لیے کوئی مشترک بنیاد مل سکتی ہو تو اسی پر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے، خوامخواہ اپنی انفرادیت کی دھون جمانے کی کوشش نہ کیا جائے۔ چناچہ قرآن نے یہاں یہی طریقہ اختیار فرمایا ہے۔ اہل کتاب آسمانی صحیفوں کے حامل ہونے کے سبب سے توحید کی تعلیم سے اچھی طرح آشنا بھی تھے اور اس کے علمبردار ہونے کے مدعی بھی تھے۔ ان کے صحیفوں میں نہایت واضح الفاظ میں توحید کی تعلیم موجود تھی۔ انہوں اگر شرک اختیار کیا تھا تو اس وجہ سے نہیں کیا کہ ان کے دین میں شرک کے لیے کوئی گنجائش تھی بلکہ اپنے نبیوں اور صحیفوں کی تعلیمات کے بالکل خلاف محض بدعت کی راہ سے انہوں نے یہ چیز اختیار کی اور پھر متشابہات کی پیروی کر کے، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، اس کے حق میں الٹی سیدھی دلیلیں گھڑنے کی کوشش کی۔ قرآن نے ان کو دعوت دی کہ یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مسلم ہے کہ اللہ کے سوا نہ کسی کی بندگی کی جائے، نہ اس کا کسی کو ساجھی ٹھہرایا جائے اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب ٹھہرائے، پھر اس مسلم و مشترک حقیقت کے برخلاف تم نے خدا کی عبادت میں دوسروں کو شریک کیوں بنا رکھا ہے اور اپنے احبارو رہبان اور فقیہوں صوفیوں کو اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ کا درجہ کیوں دے دیا۔ اسی نقطہ سے بحث کا آغاز کیا ہے اور پھر بتدریج اس کے تقاضے اور لوازم واضح فرمائے ہیں اور جو چیزیں اس کے تقاضوں کے خلاف اہل کتاب میں پیدا ہوگئی تھیں ان کی تردید فرمائی ہے۔ یہ بات کہ توحید بنیادی طور پر ہمارے اور اہل کتاب کے درمیان ایک مشترک حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے، وضاحت کی محتاج نہیں ہے۔ جو شخص بھی تورات اور انجیل پر نگاہ رکھتا ہے، وہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔ جہاں تک تورات کا تعلق ہے اس میں تو توحید کی تعلیم اس قدر وضاحت و قطعیت اور اتنی کثرت کے ساتھ ہے کہ اس کے حوالے نقل کرنا محض بات کو طول دینا ہوگا۔ البتہ انجیل سے کچھ حوالے یہاں ہم پیش کرتے ہیں اس لیے کہ توحید کے معاملے میں سب سے زیادہ گمراہی نصاری کو پیش آئی ہے۔ اور آیت میں در حقیقت، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، روئے سخن ہے بھی انہی کی طرف۔
انجیلوں میں توحید کے شواہد : لوقا 4 : 8 میں ہے۔ یسوع نے جواب میں اس سے کہا۔ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اسی کی بندگی کر۔ مرقس 12 : 29-30 میں ہے : ”یسوع نے جواب دیا کہ اول (حکم) یہ ہے اسے اسرائیل سن ! خداوند ہمارا ایک ہی خداوند ہے۔ یوحنا 3:17 میں ہے : ”اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ کو خدائے واحد و برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جائیں“۔ متی 17:19 میں ہے ”اس نے اس سے کہا کہ تو مجھ سے نیکی کی بات کیوں پوچھتا ہے ؟ نیک تو ایک ہی ہے“۔ یہاں جس لفظ کا ترجمہ ”نیکی“ کیا گیا ہے، ہمارے نزدیک اس کا ترجمہ ”پاکی“ ہونا چاہئے۔ اس طرح ”نیک تو ایک ہی ہے“ بھی ٹھیک ترجمہ نہیں ہے۔ یہ در اصل ”پاک تو ایک ہی ہے“ ہوگا۔ انجیل کے اس ٹکڑے کا ترجمہ بعض دوسرے نسخوں میں مختلف ہے۔ اگرچہ غلط یہ بھی ہے لیکن اس میں نسبۃً وضاحت ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ”تو مجھے نیک کیوں ٹھہراتا ہے، نیک تو ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے“۔ یہ فقرہ بھی در اصل یوں ہے ”تو مجھے پاک کیوں ٹھہراتا ہے ؟ پاک تو ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے“۔
توحید کی ان واضح تعلیمات کی موجودگی میں اہل کتاب سے قرآن کا یہ مطالبہ کتنا معقول ہے کہ وہ بھی ان نصوص کی روشنی میں اپنے عقائد کا جائز ہیں اور جو باتیں ان کے بالکل خلاف، محض بدعات و متشابہات کی پیروی کر کے، انہوں نے اپنے عقائد میں شامل کرلی ہیں ان سے اپنے عقائد کو پاک کریں۔ پھر آخر میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اگر یہ لوگ اپنے ہی نبیوں اور صحیفوں کی تعلیمات سے اعراض کرتے ہیں تو تم یہ واضح کردو کہ ہم تو ان حقائق سے اعراض کرنے والے نہیں ہیں، ہم تو اپنے آپ کو اسی ربِ واحد کے حوالہ کرتے ہیں اور یہی درحقیقت اصل اسلام ہے۔ اس آیت میں یہ بات جو آئی ہے کہ ”ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنائے“ اس کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوئی ہے کہ اہل کتاب نے اس ہدایت کے برخلاف اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لیا۔ اس پر بعض اہل کتاب کی طرف سے آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ ”ہم احبارو رہبان کو رب نہیں مانتے“ ؟ حضور نے جواب میں فرمایا کہ ”کیا یہ بات نہیں ہے کہ جس چیز کو وہ حرام ٹھہرا دیں تم اس کو حرام ٹھہرا دیتے ہو اور جس چیز کو حلال ٹھہرا دیں اس کو حلال“۔ سائل نے اقرار کیا کہ یہ بات تو ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہی ان کو رب بنا دینا ہے۔ اور جب اس طرح کسی کی اطاعت کی جائے کہ اس کے لیے تحریم و تحلیل کا حق تسلیم کرلیا جائے تو درحقیقت یہ چیز اس کی عبادت کرنے کے ہم معنی ہے اگرچہ بظاہر اس کو سجدہ و رکوع کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ آیت کے آخر میں یہ بات بھی واضح فرما دی کہ اگر یہ اہل کتاب توحید کی اس مشترک حقیقت کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو تم ان کو صاف صاف سنا دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ یہ ”گواہ رہو“ کے الفاظ بطور اظہار براءت ہیں۔ یعنی سن رکھو اور اس بات کے گواہ رہو کہ ہم نے تمہیں پوری وضاحت کے ساتھ سنا دیا تھا۔ اب کل کو خدا کے حجور ساری ذمہ تمہاری ہے۔ ہم اپنا فرض ادا کرچکے ہیں۔ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ یہی توحید اس سپردگی اور حوالگی کی روح ہے جس سے اسلام عبارت ہے اور جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ جس کو یہ توحید حاصل نہیں اس کو اسلام حاصل نہیں اور جس کو اسلام حاصل نہیں اس کو خدا حاصل نہیں۔
Ayahs 3:65–68تفسیر آیات 65 تا 68: ان آیات میں کوئی نحوی یا ادبی اشکال نہیں ہے۔ مضمون بھی ان کا پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں ہی کے مسلم خاندانی وروحانی پیشوا تھے اس وجہ سے یہود، نصاری اور مشرکین تینوں ہی گروہ اپنی اپنی بدعات کی حمایت میں ان کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہود کہتے کہ حضرت ابراہیم ہمارے طریقہ پر تھے۔ نصاری ان کو اپنے طریقہ پر بتاتے اور مشرکین عرب اپنے طریقہ پر، یوں تو یہ ادعائے فخر ان میں سے ہر گروہ کو ایک دوسرے کے مقابل میں ہمیشہ رہا لیکن اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اس کی مخالفت میں خاص حربہ جو ان تینوں ہی گروہوں نے استعمال کیا وہ یہی تھا کہ نیا دین دین ابراہیمی کے خلاف ہے، اصل دین ابراہیمی کے حامل ہم ہیں اور محمد ﷺ ہم کو ہمارے اصلی جدی دین سے ہٹا کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن نے یہاں ان کے اس پروپگنڈے کی تردید کی ہے کہ تورات اور انجیل کا نزول تو حضرت ابراہیم کے صدیوں بعد ہوا ہے، پھر وہ یہودیت یا نصرانیت پر کس طرح ہوئے ؟ بےوقوفی کی بات کے لیے بھی آخر کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی بنیاد ہوا کرتی ہے۔ تم نے بعض ایسے معاملات میں بھی حجتیں پیدا کی ہیں جن کے بارے میں تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا، ان کے لیے تم کسی جواز کا سہارا لے سکتے ہو اور اپنے آپ کو تسلی دے سکتے ہو لیکن تمہاری یہ بات تو بالکل ہی پا در ہوا ہے، آخر جس چیز کے باب میں تمہیں کچھ معلومات ہی نہیں اس میں دخل در معقولات کے لیے جواز کی کیا گنجائش ہے، حق کی مخالفت و عداوت کا یہ کیسا جنون ہے کہ اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے !
اس کے بعد قرآن نے حضرت ابراہیم ؑ کا دین بتایا کہ وہ نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ حنیف مسلم تھے۔ ”حنیف“ کے معنی، جیسا کہ سورة بقرہ میں وضاحت ہوچکی ہے، یکسو کے ہیں، یعنی وہ توحید کی صراط مستقیم پر تھے۔ انہوں نے اس سے ہٹ کر کج پیچ کی مشرکانہ راہیں نہیں اختیار کی تھیں اور وہ مسلم یعنی اپنے رب کے فرمانبردار تھے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ یہودیت اور نصرانیت توحید سے ہٹی ہوئی کج پیچ کی راہیں ہیں جو ہدایت کے بجائے ضلالت کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت فرما دی کہ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو یہودیت اور نصرانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح ان کو مشرکین سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ بات جملے کے عام سیاق سے الگ کر کے اس لیے فرمائی کہ یہ مشرکین بنی اسماعیل کی تردید میں ہے جو اس سورة میں براہ راست مخاطب نہیں ہیں۔ اس سورة کا خطاب، جیسا کہ اوپر وضاحت ہوچکی ہے، اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ سے ہے، مشرکین کی تردید میں اگر اس میں کوئی بات آئی ہے تو وہ ضمناً ہی آئی ہے۔ یہ بات بھی ضمنی باتوں ہی میں سے ہے، اور اس کے ذکر کی ضرورت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس لیے تھی کہ جس طرح یہود اور نصاری حضرت ابراہیم ؑ کے نام کو اپنی گمراہیوں کی تائید میں پیش کرتے تھے اسی طرح بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ زور و شور کے ساتھ قریش کے مشرکین ان کے نام کو اپنی حمایت میں پیش کرتے تھے بلکہ ان کا تو یہ دعوی تھا کہ جس دین پر وہ ہیں، یہ دین ان کو حضرت ابراہیم ہی سے وراثت میں ملا ہے۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ ابراہیم سے نسبت کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ یعنی یہ نسبت صرف خاندان اور نسب سے حاصل ہونے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اتباع اور اطاعت سے ہے۔ اس اعتبار سے حضرت ابراہیم سے سب سے زیادہ اولی و اقرب یہ پیغمبر (محمد ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے صحابہ ہیں، نہ کہ یہود و نصاری اور مشرکین جنہوں نے دین ابراہیمی کو بالکل مسخ اور برباد کیا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہی اہل ایمان ہیں جن کا ساتھی اللہ ہے، وہ ان کی مدد فرمائے گا اور ان کے مخالفوں پر ان کو غالب کرے گا اس لیے کہ یہ یہی اس دین حق پر ہیں جو حضرت ابراہیم لے کر آئے تھے۔
Ayahs 3:69–70تفسیر آیت 69 تا 70: ان میں سے پہلی آیت کا خطاب مسلمانوں سے بطور تنبیہ ہے کہ یہود اور نصاری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو یہودیت اور نصرانیت کی ان بدعات سے کوئی ادنی تعلق بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ محض اس لیے پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ تمہیں تمہارے دین حق سے برگشتہ کریں حالانکہ اس کوشش سے وہ صرف اپنی ہی محرومی اور گمراہی کا سامان کر رہے ہیں۔ جو شخص اپنی گمراہی کو ہدایت ثابت کرنے کے لیے دیدہ و دانستہ دوسرے کو راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ سب سے پہلے خود اپنے ہی کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے۔ لیکن دوسرے کی مخالفت کے جوش میں اس کو اپنی اس حرکت کے اصلی نتیجہ کا احساس نہیں ہوتا۔۔ بعد کی دو آیتوں میں خطاب اہل کتاب سے ہے اور دونوں میں ”یا اہل الکتاب“ کی تکرار سے حسرت اور ملامت کا اظہار ہورہا ہے کہ افسوس ہے کہ اہل کتاب ہو کر تم نے رہنمائی کے بجائے گمراہ کرنے اور اظہار حق کے بجائے کتمانِ حق کا پیشہ اپنے لیے پسند کیا۔
وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آج تم اللہ کی جن آیات کا انکار کر ہے ہو، تمہارے دل ان کے باب میں گواہی دے رہے ہیں کہ یہ اللہ کی آیات ہیں۔ دوسرا یہ کہ آج حسد اور عداوت کے جوش میں تم جس حق کو جھٹلانے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہو اس کی تائید و تصدیق اور خلق کے آگے اس کی شہادت دینے کا تم سے عہد لیا جا چکا ہے اور تم اس ذمہ داری کے اٹھانے کا اقرار کرچکے ہو۔ پہلا مضمون محتاج ثبوت نہیں ہے۔ اس دوسرے مطلب کے لیے نظیر اسی سورة میں آگے موجود ہے۔ فرمایا ہے ”وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : اور یاد کرو جب کہ اللہ نے تم سے نبیوں کے بارے میں میثاق لیا کہ چونکہ میں نے تم کو کتاب و حکمت عطا فرمائی ہے تو جب آئے تمہارے پاس ایک رسول سچی ثابت کرتا ہو ان پیشین گوئیوں کو جو تمہارے اپنے پاس موجود ہیں تو تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے، پوچھا کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور اس پر میری طرف سے تم نے ذمہ داری اٹھائی ؟ بولے ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اس پر گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ اس کے گواہوں میں سے ہوں“ (آل عمران :81)۔ اس آیت کی پوری تشریح آگے آرہی ہے۔
Ayah 3:71حق اور باطل کو ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی وضاحت سورة بقرہ کی تفسیر میں اچھی طرح ہوچکی ہے۔ یہود نے یوں تو پوری تورات کو اپنی تحریفات سے مسخ کر ڈالا تھا جس کے سبب سے حق و باطل کا امتیاز مشکل ہوگیا تھا لیکن یہاں خاص طور پر ان کی ان تحریفات کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور تعمیر بیت اللہ سے متعلق حالات و واقعات اور آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئیوں کے اندر کی تھیں۔ ان تحریفات کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم کا تعلق مکہ اور بیت اللہ سے اس طرح کاٹ دیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق انبیا کے بیان کردہ حقائق پر پردہ ڈالا جاسکے۔ قرآن کے الفاظ ”وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نزول قرآن کے علمائے یہود بھی ان تحریفات سے واقف تھے اور فی الواقع ان تحریفات کی نوعیت ہے ہی ایسی کہ بادنی تامل ان پر گرفت کی جاسکتی ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث یہود کے عوام کا کردار نہیں بلکہ ان کے علماء کا کردار ہے۔ سیاق وسباق اور آیت کے الفاظ اس پر دلیل ہیں۔
اگلی آیات کا مضمون۔ آیت 72-76:
یہود کی بعض شرارتیں : آگے اہل کتاب، بالخصوص یہود کی بعض سازشوں اور شرارتوں کا ذکر کیا ہے جن کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیریں۔ پھر اس گہرے بغض و حسد کا پتہ دیا ہے جو بنی اسرائیل کے اندر بنی اسماعیل کے خلاف تھا جس کے سبب سے وہ کسی طرح بھی اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ بنی اسماعیل بھی ان کی طرح کتاب و شریعت کے حامل سمجھے جائیں اور اللہ کے ہاں ان کے جرائم کے گواہ بنیں۔ گویا اس جوش عداوت میں خدا کے فضل کے اجارہ دار وہ خود بن بیٹھے تھے کہ جس کو چاہیں اس میں سے حصہ دیں اور جس کو چاہیں محروم کردیں۔ اس عداوت و حسد نے بنی اسماعیل کے خلاف بنی اسرائیل کے مجموعی باخلاق و کردار کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا تھا۔ وہ ان کے معاملے میں کسی اخلاقی و شرعی ضابطے کی پابندی کے قائل نہیں تھے۔ ان کی رکھی ہوئی امانتوں میں خیانت کرنا وہ ثواب سمجھتے تھے کہ یہ کافر کا مال ہے، اس کو دبا بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن نے ان باتوں کا حوالہ اس لیے دیا کہ مسلمانوں کو متنبہ کرے کہ جن کا حسد اور بغض تمہارے خلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ ان کا کوئی مشورہ تمہارے لیے خیر خواہانہ ہوسکتا ہے اور تمہارے حق میں ان کی زبان سے کوئی سچی بات نکل سکتی ہے۔ یہ تو تمہارے ایک پیسے کی بھی چوری کرسکتے ہیں، پھر ان سے یہ توقع کیسے رکھتے ہو کہ یہ تمہاری ایک لاکھ کی امانت ادا کردیں گے اور تمہارے نبی کے بارے میں اس حق کی شہادت دیں گے جس کے وہ امین بنائے گئے تھے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:72اہل کتاب کی اس سازش کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے اس بات کی تصریح فرما دی ہے کہ یہ ان کے ایک مخصوص گروہ کی سازش ہے۔ یہ تصریح اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اپنے مخالفین کے جرائم بیان کرتے ہوئے بھی حق و انصاف کے حدود سے سرِ مو تجاوز نہیں کرتا۔ اگر ایک جرم مخالف گروہ کی کسی مخصوص پارٹی ہی کا جرم ہے تو وہ اس کی ذمہ داری اسی پارٹی پر ڈالتا ہے، یہ نہیں کرتا کہ چند کی شرارت کی ذمہ داری مخالفت کے جوش میں پورہ قوم پر اڑھا دے۔ بہ انصاف پسندی صداقت کے عام نصب العین سے قطع نظرت دعوت حق کے نقطہ نظر سے بھی نہایت بابرکت اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ آگے اس کی بعض نہایت موثر مثالیں آرہی ہیں۔
منافقانہ شرارت کی ایک خاص قسم : یہاں جس شرارت کا ذکر ہے وہ منافقانہ شرارت کی ایک مخصوص قسم ہے۔ وہ یہ کہ اپنے حریف کے سامنے اپنے آپ کو اس کا دوست اور ساتھی ظاہر کر کے اندر سے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہود نے اپنے اس منصوبے کے تحت جو مختلف قسم کی چالیں چلیں، ان میں سے ایک چال یہ بھی تھی کہ ان کے لیڈروں نے اپنے کچھ آدمیوں کو اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ پہلے اپنے ایمان و اسلام کا اظہار و اعلان کر کے مسلمانوں کے اندر شامل ہوں، پھر اسلام کی کچھ خرابیوں کا اظہار کر کے اس سے علیحدگی اختیار کرلیا کریں۔ اس کا فائدہ انہوں نے ایک تو یہ سوچا ہوگا کہ اس طرح بہت سے جدید العہد مسلمانوں کا اعتماد اسلام پر سے متزلزل ہوجائے گا۔ وہ یہ سوچنے لگیں گے کہ فی الواقع اسلام میں کوئی کر ابی ہے جس کے سب سے یہ پڑھے لکھے لوگ اسلام کے قریب آ کر اس سے بدک جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس تدبیر سے وہ خود اپنی قوم کے عوام کو اسلام کے اثر سے بچا لے جائیں گے۔ جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ان کی اپنی قوم کے کچھ پڑھے لکھے لوگ اسلام کو آزما کر چھوڑ چکے ہیں تو ان کی وہ رغبت کمزور ہوجائے گی جو اسلام اور مسلمانوں کی کشش کے سبب سے ان کے اندر اسلام میں داخل ہونے کے لیے پیدا ہوتی تھی۔ اس ساش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہود نے جب بھی کسی ملت کو اپنا نشانہ بنایا ہے اس کے لیے تدبیر یہی اختیار کی ہے کہ اس کے گھس کر اس کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دین مسیحی کو بگاڑنے کے لیے پال نے جو کامیاب کوشش کی وہ مذاہب کی تاریخ کی ایک نہایت درد انگیز داستان ہے۔ پھر مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو مسخ کرنے کے لیے یہود و نصاریٰ دونوں نے جو فتنے خود ہمارے کتب خانوں میں بیٹھ کر ہمدردانہ بھیس میں اٹھائے ہیں، وہ بھی کوئی مخفی چیز نہیں ہے، اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہاں بعض حقائق کی طرف اشارہ کرتے۔
Ayah 3:73اسلوب کی بعض مشکلات : اس آیت کی تشریح و تفسیر میں ہمارے ارباب تاویل کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اسلوب کی بعض مشکلیں ہیں۔ ہم پہلے ان اسلوبوں کی وضاحت کریں گے اس کے بعد آیت کی صحیح تاویل بیان کریں گے۔
اس میں پہلی سمجھنے کی چیز ”قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ : کہہ دو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے“ کے ٹکڑے کا جملہ کے اندر مقام ہے۔ یہ ٹکڑا در اصل سلسلہ کلام کا جزو نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک جملہ معترضہ کی ہے۔ یعنی سلسلہ کلام کے بیچ میں مخاطب کی ایک غلط بات کی برسر موقع تردید فرما دی گئی ہے۔ اصل سلسلہ کلام یوں ہے کہ ”وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ“ ، یہود جن لوگوں کو سکھا پڑھا کر مذکورہ بالا سازش کے لیے مسلمانوں کے اندر بھیجتے تھے ان کو پورے اہتمام کے ساتھ یہ تاکید بھی کردیتے تھے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اسلام کا اظہار تو کرو لیکن بات بہرحال ماننی اپنے لوگوں کی ہے، اپنے دائرہ سے باہر کسی کی بات، ماننا ہمارے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ بات چونکہ یہود کی تمام گمراہیوں کی جڑ تھی اس وجہ سے قرآن نے بالکل بر سرِ موقع اس پر ٹوک دیا کہ یہ کیا اندھا بہرا گروہی تعصب ہے جس میں یہ مبتلا ہیں، ان سے کہو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے جس کی ان کو پیروی کرنی چاہئے، خواہ وہ کسی اسرائیلی پیغمبر کے ذریعہ سے ملے یا کسی اسماعیلی پیغمبر کے واسطہ سے نجات کے حصول کا ذریعہ تو خدا کی ہدایت کی پیروی ہے نہ کہ یہودیت و نصرانیت۔ یہ بات چونکہ سورة بقرہ کی تفسیر میں پوری وضاحت سے بیان ہوچکی ہے، نیز آگے کی سورتوں میں بھی اس کی طرف اشارات آئیں گے اس وجہ سے یہاں اس کے شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری چیز اس آیت میں یہ سمجھنے کی ہے کہ ”ان“ سے پہلے عربی زبان میں بعض اوقات لفظ مخافۃ یا اس کے کوئی ہم معنی لفظ محذوف ہوجاتا ہے۔ اس حذف کی مثالیں کلام عرب میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی۔ فراہی ؒ نے اس کے نظائر اپنی کتاب اسالیب القرآن میں جمع کردیے ہیں۔ ہم بھی اپنی اس تفسیر میں جگہ جگہ اس کو واضح کر رہے ہیں۔
اس سلوب کو ذہن میں رکھنے کے بعد آیت سے مذکورہ بالا جملہ معترضۃ کو الگ کر کے اگر ”اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِيْتُمْ اَوْ يُحَاۗجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ“ کو ”وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ“ کے ٹکڑے سے ملائیے تو معلوم ہوگا کہ یہ درحقیقت ان کے اس باطنی محرک پر روشنی ڈالی جا رہی ہے جس کے تحت وہ اپنے آدمیوں کو بڑے شد و مد کے ساتھ یہ سبق پڑھاتے تھے کہ وہ کسی حال میں بھی کسی غیر اسرائیلی نبی کے دعوے کی صداقت تسلیم نہ کریں۔ یہ باطنی محرک یہ ہے کہ ان کے دل میں یہ چور تھا کہ کہیں اس طرح کی دینی سیادت و پیشوائی بنی اسماعیل کو بھی حاصل نہ ہوجائے جس طرح کی سیادت اب تک صرف ان کو حاسل رہی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی دل میں تھا کہ اگر ہماری طرف سے کوئی اعتراف اس دین اور اس نبی کے حق میں زبان سے نکل گیا تو مسلمان اس کو قیامت کے دن ہمارے خلاف حجت بنائیں گے کہ ہم نے حق واضح ہونے کے باوجود اس کی تکذیب کی۔ قرآن نے ان کے دل کے اس چور کو ایک دوسرے مقام میں بھی پکڑا ہے جہاں یہ واضح فرمایا ہے کہ یہود اپنے لوگوں کو اس بات کی سخت تاکید کرتے رہتے تھے کہ آخری نبی اور آخری دین کے باب میں تورات کے کسی اشارے کو مسلمانوں پر نہ کھولا جائے ورنہ وہ اس چیز کو قیامت کے روز ان کے خلاف دلیل بنائیں گے۔ چناچہ سورة بقرہ میں یہ مضمون گزر چکا ہے ”وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ (76) أَوَلا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (77): اور جب یہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم مسلمانوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تمہارے اوپر کھولی ہیں تاکہ مسلمان ان کی بنا پر تمہارے رب کے سامنے تمہیں قائل کریں۔ کیا تم لوگ یہ بات نہیں سمجھتے ؟ کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کی اس بات کو بھی جانتا ہے جو آپس میں راز دارانہ طور پر کہتے ہیں اور اس بات کو بھی جانتا ہے جو وہ مسلمانوں سے علانیہ کہتے ہیں“۔
ان دونوں اسلوبوں کے واضح ہوجانے کے بعد اب آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ یہود کے علما اور لیڈروں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنی قوم کے اندر اس تعصب کی آگ بھڑکا رہے ہو کہ کسی اسرائیلی کے لیے کسی غیر اسرائیلی کی نبوت کی تصدیق جائز نہیں۔ حالانکہ یہ بات محض حماقت اور تنگ نظری پر مبنی ہے۔ اصل شے تو خدا کی ہدایت ہے جس کا تمہیں طالب ہونا چاہیے۔ خواہ وہ بنی اسرائیل کے کسی شخص پر ناول ہو یا بنی اسماعیل کے۔ تمہارا یہ تعصب حق کی عصبیت و حمیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض خوف و حسد کا نتیجہ ہے۔ تم ڈرتے ہو کہ مبادا وہ سیادت و پیشوائی جو اب تک صرف تمہیں حاصل رہی ہے کسی دوسرے کو حاصل ہوجائے۔ آیت میں ”احد“ کا لفظ ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اس ”احد“ کا اشارہ بنی اسماعیل ہی کی طرف ہے جن کے اندر نبی امی ﷺ کی بعثت ہوئی تھی۔ چونکہ یہاں بنی اسرائیل کے دل کے ایک راز کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو مبہم ہی رکھا ہے۔ اَوْ يُحَاۗجُّوْكُمْ سے، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، ان کے اس اندیشے کی طرف اشارہ ہے کہ اگر آج اسلام اور پیغمبر اسلام کے حق میں ان کے کسی آدمی کی زبان سے کوئی بات نکل گئی تو اس کو قیامت کے دن مسلمان ان کے خلاف حجت بنائیں گے۔ قرآن نے اس پر فرمایا کہ اپنی جس سیادت و پیشوائی کو بچانے کے لیے تم یہ جتن کر رہے ہو، یہ تمہارے اختیار کی بات نہیں ہے۔ عزت و فضیلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہے بخشتا ہے اور جس سے چاہے چھینتا ہے۔ اسی نے تم کو یہ عزت بخشی تھی اور اب وہی اگر اس کے لیے کسی دوسرے کو منتخب کر رہا ہے تو تم اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتے۔ اس کا فیصلہ نافذ ہو کر رہے گا۔ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کو تمہارے تنگ پیمانوں سے ناپ کر نہیں دیتا جن میں تمہارے سوا کسی اور کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے بلکہ وہ بڑی سمائی رکھنے والی ہستی ہے اور اس کا ہر فیصلہ علم و خبر پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے اور کون مستحق نہیں ہے۔
Ayah 3:74يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ الایۃ میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ خاتم النبیین ﷺ کی رسالت میں ایک عظیم اور بےپایاں برکت و رحمت ہے۔ دوسری اس بات کی طرف کہ یہ بنی اسماعیل پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے کہ اس نے ان کے خاندان کو اس عظیم اور عالم گیر برکت کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا۔ اس سے لازمی نتیجہ کے طور پر دو باتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ بنی اسماعیل پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کی قدر کریں اور اس کے شکر گزار ہوں۔ دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کے غصہ اور حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم برکت سے امیوں کو نوازا۔ وہ جس کو چاہے اپنی رحمت کے لیے خاص کرے، اس کی مشیت میں خود اس کی حکمت کے سوا اور کسی کو بھی دخل نہیں ہے۔