3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ اس نے دعا کی اے میرے پروردگار ! تو مجھے بھی اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا سننے والا ہے۔

ھُنَالِكَ ، سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ حضرت مریم کی حیرت انگیز حکمت و معرفت سے حضرت زکریا اس درجہ متاثر ہوئے کہ اولاد کی آرزو جو ان کے اندر دبی ہوئی تھی وہ دفعۃً بھڑک اٹھی کہ کاش حکمت و معفرت کا کوئی ایسا ہی وارث اللہ تعالیٰ ان کو بھی بخشے۔ چناچہ اس کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ مِنْ لَّدُنْكَ کے الفاظ سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کی وجہ سے ظاہری حالات کو تو وہ غیر مساعد پا رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے تھے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے فضل وقدرت سے ایک بوڑھے کی تمنا بھی بر آسکتی ہے اور ایک بڑھیا بانجھ کی گود بھی ہری ہوسکتی ہے۔ اسباب تو محض ظاہر کا پردہ ہیں، اصل چیز تو خدا کی قدرت اور اس کی عنایت ہے۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جب کہ وہ محرب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے، جو اللہ کے ایک کلمہ کے مصداق، سردار، لذاتِ دنیا سے کنارہ کش اور زمرہ صالحین سے نبی ہوں گے۔

مَلٰئِکَۃ کا لفظ یہاں اور خاص اس سیاق میں جہاں جہاں بھی آیا ہے جمع کی صورت میں آیا ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ حضرت زکریا نے ہاتف غیبی کی ندا سنی، تعین کے ساتھ انہوں نے فرشتے کو نہیں پہچانا، اس ابہام کے سبب سے قرآن نے کسی خاص فرشتہ کے بجائے فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے جس سے یہ بات تو نکلتی ہے کہ زکریا کو جو آواز سنائی دی وہ ملکوتی تھی لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اظہار ہو رہا ہے کہ یہ محض ایک غیبی آواز تھی جو ان کے کانوں میں پڑی۔ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ ، یعنی ہاتف غیبی کی یہ آواز انہیں اس وقت سنائی دی جب وہ حجرے کے اندر نماز میں کھڑے تھے، یہ ایک قرینہ تھا اس بات کا کہ یہ آواز ملکوتی ہی ہوگی اس لیے کہ نماز کی حالت فرشتے کے قرب و اتصال کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ ایک اور اشارہ اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ دعا و مناجات اور اپنے رب سے راز و نیاز کے لیے سب سے زیادہ موزوں وقت وہ ہوتا ہے جب بندہ نماز میں ہوتا ہے۔ اسی سے نماز میں زندگی اور حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہی نماز ہماری زندگی کا ربط براہ راست ہمارے خالق ومالک سے قائم کرتی ہے۔ قرآن میں تمام مشکلات و مسائل کے اندر نماز کی جو تاکید پیغمبر ﷺ کو کی جاتی ہے اس سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ زندگی کی مشکلات کے حل کی کلید اسی کے اندر ہے۔ احادیث میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی نمازوں کی جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نمازیں فی الواقع خدا سے راز و نیاز کی نمازیں تھیں، ان کی تمام دعائیں اور فریادیں نماز کے سجدوں اور قیام میں ہوتی تھیں اور وہ اپنی نمازوں سے جب لوٹتے تھے تو اپنے دامن اور اپنی جھولیاں بھر کے لوٹتے تھے۔ ان کے لیے نماز زندگی کی ایسی ہی ضرورت تھی جس طرح پیاسوں کو گھاٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری نمازوں کے اندر یہ شان باقی نہیں ہے۔ اب نمازیں صرف رسم داری کی نوعیت کی چیز بن کر رہ گئی ہیں، زندگی سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا ہے۔ اب ہم نمازیں تو بےجان اور بےروح پڑھتے ہیں اور لمبی لمبی دعائیں نمازوں سے فارغ ہو کر مانگتے ہیں، حالانکہ مانگنے کا اصلی وقت نمازوں میں ہوتا ہے جب کہ بندہ اپنے رب کے حضور میں ہوتا ہے۔ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى الایۃ، یہ وہی حضرت یحییٰ ہیں جن کا نام انجیلوں میں یوحنا آیا ہے۔ انجیلوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ سے صرف چھ ماہ پہلے پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ان کی تین خصوصیات بیان کی گئی تھیں۔ ایک یہ کہ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ ہوں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ کی تصدیق کریں گے اور اس کی بشارت دیں گے۔ کَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ چناچہ آگے آیت 45 میں تصریح کے ساتھ ان کا ذکر اسی لقب سے ہوا ہے يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ : اے مریم اللہ تم کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مرہم ہوگا۔ (ال عمران :45)۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ولادت اسباب کے عام ضابطے کے خلاف اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’ کن ‘ سے ہوئی۔ ’ کلمۃ ‘ کی ”تنکیر“ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان گنت کلمات میں حضرت عیسیٰ ؑ بھی ایک کلمہ ہیں۔ جس طرح اس کائنات کے بیشمار چیزیں مجرد کلمہ ’ کن ‘ سے ظہور میں آئی ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس کلمہ سے ظہور میں آئے ہیں۔ اس سے نصاری کے ایک دعوے کی تردید ہورہی ہے۔ وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ کلمۃ اللہ صرف حضرت مسیح ہیں اور پھر اس سے ان کی الوہیت کا عقیدہ ثابت کرتے ہیں۔ بِكَلِمَةٍ کی ’ ب ‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں تصدیق کا لفظ بشارت کے مفہوم پر بھی مشتمل ہے۔ یعنی حضرت یحیی، حضرت عیسیٰ کی تسدیق بھی کریں گے اور ان کی بشارت بھی دیں گے۔ انجیلوں سے ثابت ہے کہ انہوں نے یہ دونوں فرض انجام دئیے۔ انہوں نے خود اپنی زندگی کا جو مشن واضح کیا وہ یہی تھا کہ وہ آنے والے کی راہ صاف کرنے آئے ہیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے جان کی بازی لگا دی۔ ان کی زندگی سراپا سیدنا مسیح ؑ کی تصدیق تھی۔ ان کی ولادت بھی سمجھیے کہ ایک پہلو سے حضرت مسیح کی ولادت کی طرح خارق عادت ہی تھی۔ زہد و توکل اور تجرد میں بھی ہو بہو اپنے بعد آنے والے کا نقش اول تھے اور منادی تو انہوں نے جس شان سے حضرت عیسیٰ ؑ کی کی ہے واقعہ یہ ہے کہ اس سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی دوسری خصوصیت یہ کہ وہ ”سید“ ہوں گے۔ سید کے معنی سردار کے ہیں۔ نبی اپنی فطرت، اپنی دعوت اور اپنے مشن کے لحاظ سے سردار ہوتا ہے۔ وہ داعی بن کر لوگوں کو پکارتا، منذر بن کر لوگوں کو جگاتا اور ہادی و مرشد بن کر لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کام کے لیے وہ قدرت کی طرف سے تمام لوازم و اسلحہ سے مسلح ہوتا ہے۔ اسکا سینہ خلق کے لیے شفقت ورافت سے لبریز ہوتا ہے، اس کے کلام میں بےپانہ سطوت و جلالت ہوتی ہے، اس کی آواز اور اس کے انداز میں ہیبت ہوتی ہے، اس کی تابناک پیشانی اس کی عظمت و صداقت کی گواہی دیتی ہے۔ اگرچہ وہ کمل کی پوشاک پہنتا ہو اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتا ہو لیکن اس کے رعب و دبدبہ سے بادشاہوں پر لرزہ طاری ہوتا ہے۔ وہ حق کے لیے ان کو بھی اسی طرح سرزنش کرتا ہے جس طرح دوسروں کو کرتا ہے۔ انجیلوں میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ دونوں حضرات کے متعلق آتا ہے کہ وہ ’ بااختیار ‘ کی طرح بات کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے کلام میں با اختیاری کی یہ شان ان کی اس منصبی سرداری ہی کا ایک جلوہ تھی۔ اس کی تحویل میں قدرت کی طرف سے ایک گلہ بھی ہوتا ہے جس کی چرواہی اس کے سپرد کی جاتی ہے اور اس بات سے اس کی حیثیت عرفی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کہ گلے نے اس کی اطاعت کی یا نہیں کی۔ اگر اس نے اپنا فرض ادا کیا تو اس نے سرداری کا حق ادا کردیا اور یہی اس سے مطلوب ہوتا ہے۔ اس لفظ سے اس گمان کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے کہ حضرت یحییٰ کوئی راہب تھے اور ان کی زندگی خلق سے الگ تھلگ تھی، وہ اپنی ذات کے معاملے میں بلاشبہ زاہد تھے لیکن ان کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس توبہ کی منادی کے لیے وقف تھا جس کے لیے وہ مامور ہوئے تھے اور اسی راہ میں انہوں نے اپنا سر کٹوا دیا۔ (انجیل میں ہے کہ حضرت یحییٰ کمل کی پوشاک پہنتے تھے اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتے تھے لیکن وقت کے حکمران کو انہوں نے اس کی ایک بےہودگی پر سخت سرزنش کی) حضرت یحییٰ ؑ کی تیسری خصوصیت یہ کہ وہ ”حصور“ ہوں گے۔ حصور، حصر سے فعول کے وزن پر ہے جس کے لغوی معنی ہوں گے اپنے آپ کو گھیرے رکھنے والا۔ یہیں سے اس کا استعمال اس شخص کے لیے ہوا جو لذات دنیا سے منقطع اور اپنے آپ کو کامل ضبط میں رکھنے والا ہو۔ یوں تو یہ ضبط نفس اس سرداری کی خصوصیات میں سے ہے جس کا ذکر اوپر ہوا اس لیے کہ جو اپنے آپ کو ضبط میں رکھ سکے گا وہی خلق کو بھی ضبط میں رکھنے والا بن سکے گا۔ لیکن حضرت یحییٰ و حضرت مسیح (علیہما السلام) دونوں نبیوں کی زندگیاں بالکل درویشانہ تھیں، انہوں نے زندگی کی ان لذتوں سے بھی فائدہ نہیں اتھایا جو عام حالات میں کسی درجے میں بھی داخل دنیاداری نہیں قرار دی جا سکتیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے حالات خاص تھے۔ ان کے زمانے میں یہود پر دنیا کی محبت اتنی غالب آگئی تھی کہ ان کا رخ موڑنے کے لیے ان کو زندگی کا ایک بالکل زاہدانہ و درویشانہ نمونہ رکھنا پڑا۔ یہ علاج بالضد کی ایک شکل ہے جو جسمانیات کی طرح روحانیات و اخلاقیات میں بھی خاص حالات میں اختیار کرنی پڑتی ہے۔ مقصود تو اس سے یہ ہوگا کہ یہ امت بالتدریج اس نقطہ اعتدال کو اختیار کرنے کے قابل بنے جو بالآخر اللہ کے آخری دین میں ان کے سامنے آنے والا تھا لیکن نصاری نے ان کے اس زہد کو رہبانیت کا رنگ دے دیا اور بعد کے زمانوں میں رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کردیا۔ چوتھی خصوصیت یہ کہ وہ نبی ہوں گے نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ، نبی کا مفہوم واضح ہے۔ البتہ اس کے ساتھ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ کی جو وضاحت ہے اس سے مقصود ان کے زمرے کو بتانا ہے کہ وہ باہمہ صفات و کمالات تھے زمرہ صالحین ہی میں سے، یہ نہیں ہے کہ ان کو الوہیت کا کوئی مقام حاصل ہوگیا ہو۔ در آنحالیکہ کمالات و فضائل کے علاوہ حضرت عیسیٰ ؑ سے رشتہ داری کا تعلق بھی رکھتے ہیں اور ان کی ولادت بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت سے بہت اشبہ ہے بلکہ انجیلوں سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہی نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بپتسمہ دیا اور حضرت عیسیٰ نے ان کی بابت فرمایا کہ ماؤں نے جن کو جنا ان میں سے یوحنا سے بڑا کوئی نہیں۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ؟ فرمایا، اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

یہ سوال تعجب یا شک یا انکار کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ نہایت حسین وبلیغ انداز سے طلب تصدیق ہے۔ ان کے سامنے اس بشارت کے ظاہر ہونے میں جو رکاوٹیں تھیں وہ بیان کر کے حضرت زکریا نے چاہا کہ یہ تصریح کرا لیں کہ ان رکاوٹوں کے باوجود یہ بشارت ظاہر ہونے کی شکل یہ ہوگی۔ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ، یہ بات یوں ہی ہوگی۔ یعنی اللہ کا ارادہ یوں ہی ہے کہ یحییٰ کی ولادت بوڑھے باپ اور بانجھ ماں کے ہاں ہو۔ اصل چیز اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی ہے۔ اسباب تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اللہ چاہے تو پتھر کے اندر سے پانی چشمے جاری ہوسکتے ہیں اور صحرا کے سینے سے حباب اٹھ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس قسم کا سوال و جواب حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت میں بھی منقول ہے، اس کی نوعیت بھی بعینہ یہی ہے۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا مگر اشارے سے۔ اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کیجیو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیجیو

حضرت زکریا ؑ نے یہ باتیں ایک ہاتف غیبی سے سنی تھیں اور اچھی ساعت اور اچھے حالات میں سنی تھیں اس وجہ سے ان کو گمان تو یہی تھا کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہی ہے، لیکن وہ نہایت متواضع، متقی اور محتاط بندے تھے اس وجہ سے دل کے ایک گوشے میں کھٹک یہ بھی تھی کہ ممکن ہے یہ اپنے ہی گنبد دل کی صدائے باز گشت سنائی دی ہو، ممکن ہے اس کے اندر نفس کی مخفی آرزؤوں کو کوئی دخل ہو جن سے شیطان نے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہو، اس وجہ سے انہوں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ اے رب میرے لیے کوئی ایسی نشانی ٹھہرا دے جس سے مجھے یہ اطمینان ہوجائے کہ یہ بشارت تیری ہی طرف سے ہے، اس میں نفس یا شیطان کا کوئی دھوکا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ درخواست منظور فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شبانہ روز کسی سے کوئی بات زبان سے نہ کرسکوگے، صرف اشارے سے کرسکوگے، البتہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کر سکوگے سو اس دوران میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنا اور شام و صبح اپنے پروردگار کی تسبیح میں مشغول رہنا۔ ظاہر ہے کہ ایک خاص مدت کے لیے آدمی پر ایک ایسی حالت کا طاری ہوجانا کہ وہ زبان سے کوئی دنیوی قسم کی بات تو نہ کرسکے لیکن تسبیح و تہلیل کرسکے کسی شیطانی تصرف کا نتیجہ نہیں ہوسکتی، یہ ہوسکتی ہے تو رحمانی تصرف ہی کا کرشمہ ہوسکتی ہے۔ کسی شیطانی اثر سے یہ بات پیدا ہوتی تو اس کا نتیجہ اس کے بالکل برعکست ظاہر ہونا تھا، یعنی آدمی اپنی دنیا داری کی باتیں تو کرسکتا لیکن اللہ اللہ کرنا اس پر شاق گزرتا۔ اگر حضرت زکریا پر یہ حالت غیر اختیار طور پر طاری کردی گئی تو یقیناً یہ اس بات کی ایک قطعی نشانی تھی کہ ان کو بیٹے کی جو بشارت ملی ہے من جانب اللہ ہے، اس میں شیطانی دھوکے کو کوئی دخل نہیں ہے۔ قرآن نے یہاں ضمنا اس بات کی تردید بھی کردی جو انجیل لوقا میں بیان ہوئی ہے کہ حضرت زکریا کو جو یہ حالت پیش آئی وہ ان کے اس جرم کی سزا کے طور پر تھی کہ انہوں نے فرشتے کی بات کا اعتبار نہ کیا اور سوال کر بیٹھے کہ مجھے اس کی کوئی نشانی دی جائے۔ جو لوگ قرآن کے اسلوبِ بیان سے اچھی طرح آشنا نہیں ہیں ان کو ممکن ہے یہ شبہ پیش آئے کہ آیت میں یہ تو مذکور ہے کہ تم تین دن کسی سے بجز اشارہ کے بات نہ کرسکو گے لیکن اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ ذکر و تسبیح کرسکو گے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت میں اس تصریح کی جگہ تسبیح و تہلیل کی ہدایت رکھ دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہدایت اسی لیے کی گئی ہے کہ وہ یہ کام کرسکتے تھے۔ اگر اس ہدایت کے ساتھ وہ تصریح بھی ہوتی تو یہ ایک بےفائدہ طوالت ہوتی جو قرآن کی بلاغت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ ، اور اس قسم کے دوسرے اسالیب، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم بولتے ہیں صبح و شام، رات دن اللہ کو یاد رکھو۔
Ayahs 3:42–43

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ نے تم کو برگزیدہ کیا۔ تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا کی عورتوں پر ترجیح دی۔

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری میں لگی رہو اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتی رہو۔

تفسیر آیت 42 -43:۔ ’ اصطفاء ‘ کے معنی چھانٹنے اور انتخاب کرنے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو کسی کار خاص کے لیے منتخب کرلینا ہے۔ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ یہ نشانی ایک بہت بڑی خدائی امانت بھی تھی جو ان کے سپرد ہونے والی تھی اور ساتھی ہی ایک عظیم ابتلا بھی۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس بار امانت کے اٹھانے کے لیے ان کی خاص تربیت فرمائے تاکہ وہ آنے والے مراحل میں حالات کا مقابلہ کرنے کی اہل بن سکیں۔ اسی تربیت کو یہاں ’ تطہیر ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اس اصطفاء کے متعلق تصریح فرمائی کہ یہ اصطفاء کوئی معمولی اصطفا نہیں تھا بلکہ یہ تمام عالم کی عورتوں پر تھا۔ اصطفا کے بعد علیٰ کا صلہ جب آتا ہے تو اس کے اندر ترجیح اور فضیلت کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم امانت سپرد کرنے کے لیے تمام دنیا کی عورتوں میں سے انہیں کا انتخاب فرمایا یہ ایک ایسا شرف ہے جس میں حضرت مریم کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ اس بار امانت کی تیاریوں کے لیے ہاتف غیبی نے ان کو ہدایت کی کہ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ الایۃ قنوت کے معنی دوسرے مقام پر ہم واضح کرچکے ہیں کہ پوری نیاز مندی اور پورے تذلل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جانے کے ہیں۔ اس نیاز مندی اور تذلل کا بہترین اظہار نماز میں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے بعد وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ گویا اقْنُتِىْ کے اجمال کی تفصیل ہوئی۔ بلاغت کا یہ نکتہ بھی یہاں ملحوظ رہے کہ نماز کا ذکر یہاں اس کے اہم اجزا سے ہوا ہے۔ یہ اسلوب قرآن نے جہاں جہاں اختیار کیا ہے اس سے نماز کے استغراق و انہماک، اس کی مداومت اور اس کے لیے اضطراب و بیقراری کا اظہار ہوتا ہے۔ اس نکتے کی خدا نے چاہا تو ہم آیت ”تراھم رکعا سجدا“ کی تفسیر کرتے ہوئے وضاحت کریں گے۔ اس کے ”مع الراکعین“ کی قید باجماعت کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے اور یہ اس نماز کی تصویر بھی ہے جس کی سعادت حضرت مریم (علیہا السلام) کو حاصل تھی۔ وہ چونکہ ہیکل ہی میں معتکف تھیں اس وجہ سے انہیں خلوت کی نمازوں کے ساتھ ساتھ جماعت کی نمازوں کی برکات بھی حاصل تھیں۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم کو وحی کر رہے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ اپنے قرعے ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی سرپرستی کرے اور تم اس وقت بھی انکے پاس موجود نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

ایک التفات : یہ ایک آیت اثنائے کلام میں نبی ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت رکھتی ہے۔ آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ غیب کی باتیں ہیں یعنی تمہارے علم و اطلاع سے باہر کی ہیں اس لیے کہ نہ تو یہ ساری باتیں تورات و انجیل ہی میں موجود ہیں اور نہ تم شخصاً ہی ان واقعات کے پیش آنے کے وقت موجود تھے، پھر اس صحت و صداقت کے ساتھ تمہارا ان واقعات کا پیش کرنا کہ اہل کتاب کی بھی آنکھیں کھل جائیں بغیر اس کے کس طرح ممکن ہوا کہ اللہ نے تم کو منصب رسالت سے نوازا اور شرف وحی سے ممتاز کیا۔ یہ اہل کتاب پر تمہاری نبوت و رسالت کی ایک بہت بڑی حجت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انجیلوں میں اہل کتاب کی تاریخ کا یہ حصہ تقریباً غائب ہے، بس کچھ غیر مربوط باتیں لوقا میں حضرت یحییٰ ؑ کے متعلق ملتی ہیں اور بعض اشارات حضرت مریم کے متعلق، اور سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ حضرت مریم کا ذکر جو ہے بھی وہ ایک عام عورت کا ذکر معلوم ہوتا ہے، حد یہ ہے کہ انجیل کے بعض مقامات سے تو یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح بھی ان کا اس طرح احترام نہیں کرتے تھے جس طرح ماں کا احترام کرنا چاہئے۔ عیسائیوں نے عقیدے کے طور پر چاہے حضرت مریم کو جو درجہ بھی دیا ہو لیکن انصاف یہ ہے کہ ان کا اصلی اور حقیق شرف قرآن ہی نے نمایاں کیا ہے۔ آگے مناسب مقامات پر ہم اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔ اقلام سے مراد قرعے کے تیر ہیں۔ جوئے کے تیروں کا استعمال تو شریعت میں حرام ہے لیکن قرعے کے لیے تیروں کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ حقوق مساوی ہونے کی صورت میں تصفیہ نزاع کے لیے قرعے کا طریقہ بالکل جائز ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ قرعہ اندازی کا یہ طریقہ صرف حضرت مریم کی کفالت ہی کے باب میں اختیار کیا گیا یا دوسرے زیر تربیت خدام ہیکل کے لیے بھی یہی طریقہ رائج تھا۔ ہمارے نزدیک دونوں ہی باتوں کا امکان ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ تمام نووارد خدام کی کفالت کا فیصلہ اسی طرقہ سے ہوتا رہا ہو اور اس کا بھی امکان ہے کہ حضرت مریم کا معاملہ لڑکی ہونے کی وجہ سے خاص نزاکت سے کا حامل تھا اس وجہ سے قرعہ سے اس کا فیصلہ کیا گیا ہو۔ قرعہ ایک اشارہ غیبی پر بھی محمول کیا جاتا ہے۔ ہیکل میں اس کے خدام کے فرائض کی تقسیم کے لیے قرعہ کا طریقہ رائج تھا۔ لوقا میں ذکر ہے کہ جس روز حضرت زکریا کو بیٹے کی بشات ملی ہے اس روز جس خدمت پر وہ مامور تھے اس کا فیصلہ قرعہ ہی کے ذریعے ہوا تھا۔ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ، میں جس جھگڑے کا ذکر ہے اس کا تعلق صرف حضرت مریم (علیہا السلام) کی سرپرستی سے نہیں معلوم ہوتا، ایسا ہوتا تو اس کا ذکر الگ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ اس کو بھی پہلے ٹکڑے ہی کے تحت آنا تا۔ ہمارے خیال میں یہ جھگڑا خدام ہیکل میں اس سوال پر ہوا ہوگا کہ ایک لڑکی ہیکل کے زمرہ خدام میں شامل ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں کہ اس کی روایت ہیکل کی تاریخ میں کم از کم معروف نہیں تھی۔ اس وجہ سے یہ سوال موجب نزاع ہوسکتا تھا۔ ویسے یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ محض تنافس فی الخیر اس جھگڑے کا باعث ہوا ہو اس لیے کہ ایک ایسی لڑکی کی کفات جو معبد کی خدمت کے لیے وقف کی جا رہی ہو اور جس کی قبولیت روز اول سے نمایاں ہو، ایک بہت بڑی سعادت تھی جس سے محروم ہونا ہیکل کے خدام میں سے کوئی بھی پسند نہ کرسکتا تھا۔ اگلی آیات 45 تا 63 کا مضمون : اب یہ وہ اصل بات آرہی ہے جو در حقیقت سورة کا عمود ہے۔ ہم تمہید میں اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں خطاب نصاری سے ہے اور مقصود ان پر حضرت عیسیٰ ؑ کے باب میں حقیقت حال کا اظہار ہے۔ اوپر خاندانِ عمران کا شجرہ، حضرت مریم کی ولادت اور ان کے بارے میں ان کی ماں کی نذر، حضرت زکریا کی بیٹے کے لیے دعا اور حضرت یحییٰ کی ولادت کے واقعات جو بیان ہوئے ہیں، سب حضرت عیسیٰ ؑ کے ذکر کی تمہید و تقریب کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اب آگے یہ بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح فرشتے نے حضرت زکریا کو بیٹے کی بشارت دی تھی اسی طرح فرشتے نے حضرت مریم کو بھی بشارت دی کہ ان کے ہاں اللہ کے کلمہ ’ کن ‘ کے ذریعے سے ایک فرزند کی ولادت ہوگی جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ جس طرح حضرت یحییٰ کے باب ارشاد ہوا کہ وہ سردار، ضابط، نبی اور صالح ہوں گے پھر جس طرح حضرت زکریا نے اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ پن کے باعث اس بشارت پر تعجب کا اظہار کیا اسی طرح حضرت مریم نے بھی تعجب کا اظہار فرمایا کہ جب انہیں کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا تو انہیں اولاد کس طرح ہوگی۔ فرشتے نے جو جواب حضرت زکریا کو دیا تھا وہی جواب حضرت مریم کو دیا کہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو ہوجانے کا حکم دیتا ہے اور وہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ اسی کلمہ ’ کن ‘ کے ذریعے سے وہ مسیح عیسیٰ بن مریم کو پیدا کرے گا اور ان کو کتاب اور حکم ت کی تعلیم دے گا اور ان کو بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا۔ اس کے بعد تین آیتوں میں حضرت عیسیٰ کی زبان سے وہ ابتدائی پیغام ہے جو انہوں نے اپنی رسالت کے اثبات اور اس مقصد کے اظہار کے طور پر بنی اسرائیل کو دیا ہے۔ پھر دو آیتوں میں اس امر کا بیان ہے کہ جب بنی اسرائیل کے علما اور فقیہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپ کو مایوس کردیا تو آپ نے ان کو چھوڑ کر ان غریبوں کو اپنا معتمد اور ساتھی بنایا جو ان پر ایمان لائے تھے اور انہی کو اللہ کے دین کی نصرت و حمایت کے لیے کمر بستہ ہونے کی دعوت دی چناچہ یہی لوگ آپ کے ساتھی بنے اور حضرت نے انہی کو تبلیغ دین کی مہم پر روانہ کیا۔ اس کے بعد چار آیتوں میں اس رد عمل کا ذکر ہوا ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ کی اس آخری کوشش کا بنی اسرائیل کے لیڈروں، فقیہوں اور فریسیوں پر ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی مدد فرمائی اور آئندہ مدد فرمانے کا وعدہ کیا اس کا حوالہ ہے۔ اس کے بعد پانچ آیتیں التفات کی ہیں جن میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ واضح فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی ہے۔ اگر اس وضاحت کے بعد بھی نصاری تم سے حجت کرتے رہیں تو ان سے کہو کہ آؤ مباہلہ کریں، اگر وہ اس سے بھی گریز کریں تو سمجھ لو کہ یہ پکے مفسد ہیں، ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات ملاحظہ کیجیے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

یاد کرو، جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذی وجاہت اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔

’ اِذ ‘ کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں جو بات کہی جا رہی ہے یہ اس سے الگ ہے جو اوپر کہی گئی۔ پہلے حضرت مریم کو دعا اور عبادت میں مشغول ہوجانے کی تاکید ہوئی پھر کچھ عرصے کے بعد فرشتہ یہ بشارت لے کر حضرت مریم کے پاس آیا۔ ’ کلمۃ ‘ کا مفہوم اور اس کے نکرہ لانے کا فائدہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ یہاں موقع کی رعایت سے ایک نکتہ توجہ کے لائق ہے۔ وہ یہ کہ اصل بشارت تو یہ تھی کہ حضرت مریم کے ہاں بغیر مرد کی ملاقات کے مجرد اللہ تعالیٰ کے امر و حکم سے ایک بیٹٓ ہوگا لیکن بات حضرت مریم سے کہی جا رہی تھی جو کنواری بھی تھیں اور شرم و حیا کی پیکر بھی۔ اس وجہ سے نہایت اختصار بلکہ ابہام کے ساتھ صرف کلمہ کی بشارت دی گئی۔ البتہ آگے حضرت عیسیٰ کے نام اور صفات کے ذکر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کلمہ سے مراد کیا ہے۔ ”مسیح“ حضرت عیسیٰ ؑ کا لقب ہے۔ لقب کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ نام سے پہلے اس کو لاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ روایت رہی ہے کہ ان کے ہاں جو نبی ہونے والا ہوتا اس کے سر پر اس کا پیشرو نبی ایک قسم کا مقدس تیل مل کر اس کو اپنا جانشین بناتا۔ جب نبوت کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں بادشاہی کا سلسلہ شروع ہوا تو مسح کرنے کی یہی روایت بادشاہوں کے لیے بھی اختیار کی گئی۔ جو وقت کا نبی ہوتا وہ ہونے والے بادشاہ کے سر پر مقدس تیل ملتا۔ جس سے واضح ہوجاتا کہ یہ مستقبل کا بادشاہ بھی ہے اور خدا کا بر گزیدہ بھی، تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت اور حضرت داود کو سموئیل نبی نے اس طرح مامور کیا تھا۔ حضرت مسیح کے بارے میں انجیلوں سے یہ تو ثابت ہے کہ حضرت یحییٰ نے ان کو بپتسمہ دیا لیکن تیل ملنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ پیدائشی مسیح تھے۔ بخاری شریف میں ان کا جو حلیہ بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سر کا حال یہ تھا کہ گویا اس سے تیل ٹپک رہا ہے۔ ممکن ہے ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے ان کو مسیح کا لقب عنایت ہوا ہو۔ انجیل میں ان کے لیے ”خدا کا مسیح“ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ ”وجیہ“ کے لفظ سے اس سرداری کی شان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جس کا ذکر اوپر حضرت یحییٰ کے بیان میں گزر چکا ہے۔ لوقا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 سال کی عمر میں حضرت مسیح نے پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی لیکن اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم کی حکمت و معرفت، کلام کی بلاغت و جزالت اور لب و لہجہ کی عظمت و جلالت کا عالم یہ تھا کہ فقیہ اور فریسی، سردار کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ وہ حیرانی کے عالم میں ایک ایک سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے جو اس شکوہ سے بات کتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو اختیار ملا ہوا ہے۔ یہودیہ کی بستیوں میں جب انہوں نے تبلیغ شروع کی تو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہلچل مچ گئی۔ خلقت ان پر ٹوٹی پڑتی تھی۔ فقیہ اور فریسی سب پر ایک سراسیمگی کا عالم تھا، وہ ان کو زچ کرنے اور عوام میں ان کی مقبولیت کم کرنے کے لیے ان سے طرح طرح کے سوالات کرتے لیکن سیدنا مسیح دو دو لفظوں میں ان کو ایسے دندان شکن جواب دیتے کہ ھر ان کو زبان کھولنے کی جرات نہ ہوتی۔ تھوڑے ہی دنوں میں ان کی وجاہت کا یہ غلغلہ ہوا کہ عوام ان کو اسرائیل کا بادشاہ کہنے اور ان کی بادشاہی کے گیت گانے لگے، یہاں تک کہ رومی حکام، ہیرودیس اور پیلا طوس، کے سامنے بھی یہ مسئلہ ایک نہایت اہم مسئلہ کی حیثیت سے آگیا لیکن وہ بھی اپنی تمام قوت و جبروت کے باوجود سیدنا مسیح کی عظمت و صداقت اور ان کی بےپناہ مقبولیت سے مرعوب ہوگئے۔ اس وجاہت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ باوجودیکہ سیدنا مسیح بن باپ کے پیدا ہوئے اور بن باپ کے پیدا ہونے والے کسی بچے کے لیے عام حالات میں کسی عزت و وجاہت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن سیدنا مسیح چونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’ کن ‘ سے پیدا ہوئے تھے اس وجہ سے اس کا معجزانہ اثر یہ ظاہر ہوا کہ روز اول سے ان کو خلق کی نگاہوں میں وہ جاہت حاصل رہی جو اس عہد میں کسی کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔ وہ زندگی بھر اپنے جانی دشمنوں میں گھرے رہے لیکن اس پہلو سے کسی کو ان پر طعن کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہود کے ایک گروہ نے اگر جسارت بھی کی تو بعد کے زمانوں میں کی، ان کے عہد مبارک میں کسی کو بھی اس قسم کی جرات نہ ہوسکی۔ ان کی اس وجاہت کی بشارت ان کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ہی حضرت مریم کو اس لیے دی گئی کہ ان کو اس پہلو سے کوئی خلجان نہ ہو کہ بن باپ کے پیدا ہونے کے سبب سے بچے کی یا خود ان کی وجاہت پر کوئی اثر پڑے گا۔ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے ان تمام خرافات کی تردید ہو رہی ہے جو انجیلوں میں مذکور ہیں کہ یہودیوں نے سیدنا مسیح کے نعوذ باللہ طمانچے لگائے، ان کا مذاق اڑایا، ان کو گالیاں دیں، ان کے منہ پر تھوکا۔ ان خرافات کا اکثر حصہ، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے، غلط ہے۔ اللہ کے رسولوں کے دشمن ان کی توہین و تحقیر کی جسارت تو کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ڈھیل بھی مل جاتی ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے، جب کوئی قوم اس حد سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور اس ناہنجار قوم کا بیڑا غرق کردیا جاتا ہے۔ آگے اس سنت اللہ کی ہم وضاحت کریں گے۔ حضرت مسیح، ابن مریم ہیں : اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو ابن مریم کہہ کر قرآن نے ان لوگوں کے لیے گفتگو کی ہر گنجائش ختم کردی ہے جو نہایت کمزور تاویلات کے ذریعے سے قرآن کے نہایت واضح نصوص کی تحریف کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ کسی باپ کے بیٹے تے تو آخر قرآن کو مسیح بن مریم کہنے کے بجائے ان کے باپ کی طرف ان کی نسبت کرنے میں کیا رکاوٹ تھی ؟ قرآن بھی مسیح بن یوسف کہہ سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کہا۔ آخر کیوں کہا ؟
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور ادھیڑ ہو کر بھی اور وہ صالحین کے زمرے میں سے ہوگا۔

سیدنا مسیح کا گہوارے میں بات کرنا حضرت مریم کی پاکدامنی کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ تھا۔ اس معجزے کی بشارت بچے کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ہی حضرت مریم کو اس لیے دے دی گئی کہ وہ مطمئن رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے ان کو واسطہ بتایا ہے تو ان کے ناموس کو اعدا کی بد زبانیوں سے بچانے کے لیے بھی اس نے ایسا انتظام فرمایا ہے کہ کسی تہمت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ اپنی ایک مومنہ و قانتہ بندی کو ساری خدائی کی تہمتوں کا ہدف بنا دے اور اس کی مدافعت میں کوئی ایسی زبان نہ کھولے جو سب کی زبانیں بند کردے۔ ”کہل“ کے معنی ادھیڑ کے ہیں۔ موجودہ انجیلوں سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ادھیڑ ہونے سے بہت پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے تھے لیکن قرآن کی اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کو ضمنا حضرت عیسیٰ ؑ کے کہولت تک پہنچنے کی بھی بشارت دی گئی تھی۔ رسولوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت رہی ہے اس کے لحاظ سے یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ انجیل میں بھی بعض اشارات اس کی تائید میں ہیں۔ مثلاً یوحنا 8 : 57 میں ہے۔ ”اور یہودیون نے اس سے کہا تیری عمر تو ابھی پچاس برس کی بھی نہیں ہے پھر کیا تو نے ابرہام کو دیکھا ہے“۔ ظاہر ہے کہ یہ بات ایسے ہی شخص کو مخاطب کر کے کہی جاسکتی ہے جو پچاس سال کے قریب پہنچ رہا ہو۔۔ گہوارے میں کلام کے ساتھ ان کے کہولت کے کلام کا حوالہ دینے سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کی گہوارے کی بات بچوں کی سی نہیں ہوگی بلکہ اس کے اندر بھی پختہ سن و سال کی دانائی ہوگی۔ اس لیے کہ یہ بات من جانب اللہ ہوگی۔ آخر میں ومن الصلحین فرما کر، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، یہ واضح کردیا کہ وہ صالحین کے زمرے میں سے ہوں گے یعنی ان تمام کمالات و اوصاف کے باوجود یہ نہیں ہے کہ ان کو الوہیت کا کوئی درجہ حاصل ہوجائے، بس وہ اللہ کے صالح بندوں میں سے ہوں گے۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

وہ بولی کہ اے میرے پروردگار میرے کس طرح لڑکا ہوگا جب کہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ارشاد ہوا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

آیت 40 کے تحت اس آیت کے اہم اجزا کی وضاحت گزر چکی ہے۔ البتہ اس میں اس کلمہ کی وضاحت بھی ہوگئی ہے جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (اللہ جب کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے)
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور حکمت، تورات اور انجیل سکھائے گا۔

تورات اور انجیل کے الفاظ یہاں کتاب اور حکمت کی تفسیر کے طور پر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان دونوں چیزوں کی تعلیم دے گا۔ سیدنا مسیح جہاں تک کتاب و شریعت کا تعلق ہے حضرت موسیٰ کی شریعت میں ہی کے پیرو اور داعی تھے، وہ تورات سے کوئی الگ شریعت لے کر نہیں آئے تھے۔ اس حقیقت کا اعلان بار بار بڑے زور اور تاکید کے ساتھ انہوں نے خود فرمایا ہے۔ انجیلوں میں ان کی تصریحات موجود ہیں۔ البتہ انہوں نے اس شریعت کی روح اور اس کی حکمت نہایت معجزانہ انداز میں بےنقاب فرمائی ہے اور اناجیل درحقیقت ان کی انہی حکمتوں کا مجموعہ ہیں۔ یہود نے تورات کو بالکل بےروح احکام اور بےجان رسوم کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا تھا اس وجہ سے ان کی شریعت زندگی سے بالکل خالی ان کے لیے صرف ایک بوجھ بن کر رہ گئی تھی۔ حضرت مسیح نے اس کے اندر اپنی تعلیم حکمت سے زندگی پیدا کی لیکن یہود نے اس کی قدر نہ کی۔
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ چناچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ میں تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندوں کی صورت کے مانند صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھوک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے اور میں اللہ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی کو اچھا اور مردوں کو زندہ کردیتا ہوں اور میں تمہیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں۔ بیشک ان باتوں کے اندر تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

”رسولاً“ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی یبعثہ رسولا، سیدنا مسیح حضرت یحییٰ کی طرح صرف ایک نبی نہیں تھے بلکہ جس طرح حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اسی طرح یہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ نبی اور رسول میں فرق : رسول اور نبی میں فرق ہوتا ہے، رسول جس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ اس کے لازماً اس قوم کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتی ہے تو نجات پاتی ہے اور اگر اپنے کفر پر اڑی رہ جاتی ہے اور اپنے نبی کو گزند پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو فنا کردی جاتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف حضرت یحییٰ نے مختلف اسلوبوں سے اشارہ فرمایا تھا۔ مثلاً یہ کہ میں تو تمہیں پانی سے بپتسمہ دے رہا ہوں، پر جو آ رہا ہے وہ تمہیں آگ سے بپتسمہ دے گا، یا یہ کیہ، اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے، یا یہ کہ، اس کے ہاتھ میں اس کا چھاج ہوگا اور وہ اپنے کھلیان کو اچھی طرح پھٹکے گا اور گندم کو بھس سے علیحدہ کرے گا، اس کی پوری تفصیل دوسرے مقام میں آئے گی۔ اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی رسالت کا بنی اسرائیل کے لیے خاص ہونا بھی واضح ہوگیا۔ سیدنا مسیح کا خود اپنا اعلان بھی یہی ہے۔ انہوں نے جب اپنے حواریوں کو تبلیغ دین کی مہم پر روانہ کیا تو ان کو غیر بنی اسرائیل کی طرف جانے سے نہایت صاف لفظوں میں روک دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لیے آیا ہوں ایک غیر اسرائیل عورت ان سے دعائے شفا کی طالب ہوئی تو انہوں نے اس جواب میں یہی کہا کہ ’ بچوں کے حصے کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا ٹھیک نہیں، انجیل میں ضیافت والی جو تمثیل ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ آپ کی دعوت جن معروفات پر مبنی تھی یہ معروفات بنی اسرائیل کے لیے دلیل و حجت بن سکتے تھے لیکن دوسری قوموں کے لیے ان کا سمجھنا ممکن نہیں تھا۔ اس وجہ سے یہ دعوت اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے دوسری قوموں کے لیے بالکل ناموزوں تھی۔ چناچہ واقعہ یہ ہے کہ دوسری قوموں نے جن کے سامنے یہ دعوت پیش کی گئی، اس کو بالکل نہیں سمجھا۔ انہوں نے انجیلوں سے بس یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰ نے بیشمار معجزے دکھائے ہیں۔ اس کا جو اثر ان پر پڑا وہ یہ کہ انہوں نے ان معجزات کے بل پر ان کو ایک معبود بنا کر رکھ دیا۔ سرگزشتوں کے بیان میں غیر ضروری حصے کا حذف : اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، یہاں رسولاً ، الی بنی اسراء یل کے بعد حضرت مسیح کی سرگزشت کا وہ سارا حصہ حذف ہے جو اس بشارت اور ان کے عملاً بنی اسرائیل کے سامنے دعوت رسالت لے کر اٹھنے کے درمیان کی مدت سے تعلق رکھنے والا ہے۔ قرآن نے انبیا (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کے بیان میں حذف کا یہ طریقہ بہت استعمال کیا ہے۔ اسی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قاری کی توجہ کلام کے اصل مقصد پر مرکوز رہتی ہے، کوئی زائد چیز بیچ میں مخل نہیں ہونے پاتی۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ ان کے مقصد بعثت کو واضح کردینے کے بعد گویا ان کو داعی بنا کر بنی اسرائیل کے سامنے کھڑا کردیا کہ انہوں نے ان کو یہ دعوت دی اور اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ نشانیاں دکھائی۔ تورات اور قرآن کے بیان کا ایک فرق : یہاں جو معجزات مذکور ہیں ان میں سے پہلے اور آخری کے سوا انجیل میں بھی سب مذکور ہیں۔ البتہ قرآن میں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ باذن اللہ کی قید لگی ہوئی ہے لیکن انجیل میں اس قسم کی تصریحات غائب ہیں۔ اس لیے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے خدا کا تصور پیدا ہوا ہوگا تو اس قسم کے الفاظ خدائی کے تصور سے بےجوڑ سمجھ کر نکال دئیے گئے ہوں گے۔ لیکن یہ لوگ کہاں کہاں حقائق کو چھپاتے ان کی ساری کوششوں کے علی الرغم آج بھی انجیلوں میں توحید خالص کی ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ان روشن شواہد کے ہوتے ہوئے نصاری شرک میں کس طرح مبتلا ہوگئے ؟ آگے بعض چیزوں کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ ، لفظ آیت کی تنکیر وحدت کو نہیں بلکہ تعمیم کو ظاہر کرتی ہے یعنی میں اپنی رسالت کے ثبوت میں اپنے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ اس سے قطع نظر کہ ان کی تعداد کیا ہے۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور میں مصداق ہوں اپنے سے پیشتر سے آئی ہوئی تورات کا اور اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزوں کو تمہارے لیے حلال ٹھہراؤں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں اور میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

مصدقا لما بین یدی، کے دو مفہوم : مصدقا، ہے تو حال لیکن یہ محض مشابہت کی وجہ سے سابق جملے پر عطف ہوگیا ہے۔ اس کے دو مفہوم ہیں اور ان دونوں مفہوموں کی دوسرے مقام میں ہم وضاحت کرچکے ہیں۔ ایک یہ کہ میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس تصدیق کے شواہد انجیلوں میں موجود ہیں۔ حضرت مسیح نے بڑے زور اور بڑی تاکید کے ساتھ یہ بات باربار فرمائی ہے کہ تورات کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ اس کو قائم کرنے آیا ہوں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن اس کا (تورات) ایک نقطہ بھی نہیں ٹل سکتا جب تک ہر بات پوری نہ ہولے، انہوں نے عملاً جس شریعت کی خود پیروی کی اور جس کی پیروی کی ہدایت اپنے پیروؤں کو دی وہ تورات ہی کی شریعت تھی، انہوں نے تورات پر جو اضافہ فرمایا ہے وہ شریعت کا نہیں بلکہ صرف حکمت کا ہے اور اس اضافے کی نوعیت یہ ہے کہ انہوں نے تورات کے اس باطن کو کھول دیا ہے جس سے یہود کے علما اور فریسیوں کی آنکھیں یہ ہے کہ انہوں نے تورات کے اس باطن کو کھول دیا ہے جس سے یہود کے علما اور فریسیوں کی آنکھیں بند تھیں۔ ان کے نام لیواؤں نے تورات سے بغاوت کا اعلان تو پال کے زمانے سے کیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق ہوں، میرے ظہور سے ان کی تصدیق ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے پیشرو نبیوں سے ایسی پیشین گوئیاں موجود تھیں جن کی بنا پر یہود کو ایک نبی کی بعثت کا انتظار تھا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ کی شہرت ہوئی تو بہت سے حلقوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ جس کا انتظار تھا وہ آگیا۔ بعض لوگ اس منتظر کا نام ایلیا لیتے تھے۔ انجیلوں میں حضرت یوحنا کے متعلق بھی منقول ہے کہ جب وہ ہیرودیس کے حکم سے جیل میں تھے تو انہوں نے اپنے چند شاگردوں کو حضرت مسیح کی خدمت میں بھیج کر پچھوایا، کہ ’ وہ جس کا انتظار تھا تو ہی ہے، یا ہم کسی اور کا انتظار کریں ‘۔ حضرت مسیح نے پیغام لانے والوں سے کہا کہ جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ جا کر بتا دو کہ ”لنگڑے چل رہے ہیں، گونگے بول رہے ہیں، اندھے دیکھ رہے ہیں، اب اور کس بات کا انتظار ہے ؟“۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے متعدد ایسی باتوں کا خود بھی حوالہ دیا ہے جو ان کے بارے میں پچھلے نبیوں نے فرمائی ہیں۔ یہ حوالے انجیلوں میں موجود ہیں۔ وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ یہ بھی معنی پر عطف ہے، بعض حرام کردہ چیزوں کے حلال کرنے سے ان چیزوں کو حلال کرنا مراد ہے جو علمائے یہود نے محض اپنے من گھڑت فتو وں اور اپنے غلو کی وجہ سے حرام کر رکھی تھیں اور یہ چیزیں روایت بن کر شریعت میں داخل ہوگئی تھیں۔ مثال کے طور پر سبت کے احترام کے مسئلہ کو لیجیے۔ اس حکایت کو یہود کے فقیہوں اور فریسیوں نے اس قدر بڑھا دیا تھا کہ سبت کے دن کسی مریض کو شفا کی دعا دینا بھی ان کے نزدیک احترامِ سبت کے منافی تھا، چناچہ احترامِ سبت کے مسئلے پر حضرت مسیح اور علمائے یہود کے درمیان متعدد مناظروں کا ذکر انجیلوں میں بھی ہے۔ اسی طرح متعدد ایسی روایات کا بھی انجیلوں میں ذکر ہے جن کو سیدنا مسیح اور ان کے شاگردوں نے علانیہ توڑا اور جب ان کے توڑنے پر علمائے یہود نے ان پر بےدینی کا الزام لگایا تو آپ ؑ نے ان کی اس جھوٹی دینداری کی اچھی طرح قلعی کھولی۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے، تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔

”خدا کے لیے لفظ ’ اب ‘ کے استعمال کی حقیقت : انجیلوں میں خدا کے لیے میرا باپ اور تمہارا باپ، کی جو تعبیر باربار آتی ہے، یہ قرآن نے اس کی تصحیح فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے در اصل جو بات فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، سو اسی کی بندگی کرو۔ لیکن نصاری نے متشابہات کی پیروی کی اور آپ کی واضح تعلیمات کو نظر انداز کردیا۔ عبرانی میں ’ اب ‘ کا لفظ باپ اور رب دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح ابن کا لفظ بیٹے اور عبد دونوں معنوں میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو سیاق وسباق متعین کرتا ہے کہ لفظ کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے لیکن جب نصاری نے حضرت مسیح کی الوہیت کا عقیدہ بنا لیا تو جو چیز بھی انہیں مفید مطلب نظر آئی اس کو انہوں نے اسی عقیدے کی تائید میں استعمال کرلیا قطع نظر اس سے کہ اس کا موقع و محل کیا ہے۔ پھر جب اصل انجیل کی جگہ صرف اس کے ترجمے رہ گئے تو ہر چیز کی تعبیر بھی یک قلم بدل کے کچھ سے کچھ ہوگئی۔ لیکن ان ساری تحریفات کے باوجود آج بھی انجیل میں ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے صاف واضح ہے کہ حضرت مسیح جب خدا کو ’ اب ‘ کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد ’ رب ‘ ہی ہوتی ہے چناچہ بعض مقامات میں انہوں نے دوسرے مترادف اس لفظ کے استعمال کر کے مطلب کو بالکل واضح کردیا ہے چناچہ یوحنا باب 20 : 18 میں ہے : ”لیکن میرے بھائیوں کے پاس جا کر ان سے کہہ کر میں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں“۔ اس ارشاد سے صاف واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ جس معنی میں اللہ تعالیٰ کو اپنا اب کہتے ہیں اس معنی میں وہ اس کو تمام خلق کا اب کہتے ہیں اور اس سے یہ بھی واضح ہے کہ وہ اس لفظ کو اللہ تعالیٰ کی تعبیر کے لیے اس کی ربوبیت کے پہلو سے استعمال کرتے ہیں نہ کہ اس کے ساتھ اپنا نسبی رشتہ جوڑنے کے لیے علاوہ ازیں وہ خدا کے لیے خدا کی تعبیر بھی استعمال کرتے ہیں اور اس کو جس طرح دوسروں کا خدا کہتے ہیں اسی طرح اس کو اپنا بھی خدا کہتے ہیں۔ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ، یعنی خدا تک پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے کہ اسی کو سب کا رب مانا جائے اپنا بھی اور دوسروں کا بھی اور اسی کی عبادت کی جائے۔ جن لوگوں نے دوسرے وسیلے اور واسطے بیچ میں پیدا کرلیے ہیں انہوں نے اس سیدھی راہ میں بہت سے کج پیچ پیدا کرلیے ہیں جس کے سبب وہ شرک و گمراہی کی وادیوں میں بھٹک گئے ہیں۔ یہ راہ بغیر کسی کجی (عوج) کے ہے، یہ سیدھی خدا تک پہنچاتی ہے۔ نکرہ یہاں اس شاہراہ فطرت کی اہمیت و شان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پس جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیا تو اس نے دعوت دی کہ کون میرا مددگار بنتا ہے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں۔

’ حواری ‘ کا مفہوم : ’ حواری ‘ کا لفظ عربی میں عبرانی سے آیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لغوی مفہوم میں اہل لغت کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک اس کے معنی خیر خواہ، حامی، ناصر اور مددگار کے ہیں۔ جس طرح لفظ انصار مدینہ کے ان جانثاروں کے لیے خاص ہوا جنہوں نے ابتدائے دعوت ہی سے آنحضرت ﷺ کا ساتھ دیا اسی طرح ’ حواریین ‘ کا لفظ حضرت عیسیٰ ؑ کے ان خاص شاگردوں کے لیے استعمال ہوا جو آپ پر ایمان لائے، ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں آپ کے ساتھ رہے، آپ نے پوری شفقت اور دل سوزی سے شب وروز جن کی تعلیم وتربیت کی اور جو بالآخر آپ کے داعی، نقیب اور آپ کے پیغام بر بن کر بنی اسرائیل کی ایک ایک بستی میں پہنچے۔ ان شاگردوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ انجیل میں موجود ہے۔ ’ انصار ‘ ناصر کی بھی جمع ہے اور نصیر کی بھی۔ معنی واضح ہیں۔ ہمارے نزدیک، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، معنی کے اعتبار سے انصار اور حوارئین کے لفظ میں کچھ ایسا فرق نہیں ہے۔ چناچہ اسی اشتراک معنوی کے پہلو سے حوارئین کو قرآن نے، جیسا کہ ہم سورة صف میں بتائیں گے، انصارِ مدینہ کے سامنے بطور مثال پیش کیا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کے علماء اور سرداروں کے رویے سے یہ محسوس کرلیا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں تو انہوں نے اپنی ساری توجہ اپنے ان غریب ساتھیوں کی طرف پھیر دی جو اگرچہ منصب و جاہ نہیں رکھتے تھے لیکن دولت ایمان سے متمتع تھے۔ انبیا (علیہم السلام) کی یہ سنت رہی ہے کہ اول اول تو انہوں نے اپنی اپنی قوموں کے با اثر لوگوں کو جھنجھوڑنے اور جگانے کی کوشش کی ہے لیکن جب انہوں نے یہ دیکھ لیا ہے کہ یہ خواب غفلت کے ماتے لوگ کروٹ بدلنے والے نہیں ہیں تو انہوں نے ان سرمستوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی ساری توجہ اپنے غریب باایمان ساتھیوں پر مرکوز کردی ہے۔ قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو کفار سے اعراض کرنے اور اہل ایمان کو تذکیر کرنے کی جو بار بار ہدایت ہوئی ہے وہ اسی مرحلے کی بات ہے۔ اور یہی مرحلہ ہے جس میں سیدنا مسیح ؑ نے دریا کے کنارے کے ماہی گیروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے مچھلیوں کے پکڑنے والو آؤ، میں تمہیں آدمیوں کا پکڑنے والا بناؤں۔ انبیاء کے کردار کا ایک پہلو : اس آیت سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے کردار پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ حالات کے بگاڑ اور قوم کی ہٹ دھرمی سے مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتے۔ بلکہ خدا کی راہ میں وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں اگر زور و اثر رکھنے والے لوگ ان کا ساتھ نہیں دیتے تو وہ اپنے غریب، وفادار اور کمزور و بےاثر ساتھیوں ہی کو لے کر اپنا سفر شروع کردیتے ہیں۔ حالات کی تاریکی ان کے اندر روشنی اور قوم کی بےمہری ان کے اندر مزید قوت اور عزم پیدا کرتی ہے (ع) حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی۔ سورة نوح کی تفسیر میں انبیا کے کردار کے اس پہلو پر انشاء اللہ ہم تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ سے ایک طرف تو اس جوش دعوت کا اظہار ہو رہا ہے، جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے دوسری طرف ان کے اس اقدام اور اس عزم و جزم کا اظہار ہو رہا ہے جو اللہ کے سوا ہر معیت ورفاقت سے بالکل بےنیاز ہوتا ہے، غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ دعوت کی اس للکار میں یہ مضمون بھی مضمر ہے کہ میں تو اپنے رب کی راہ پر، یہ دیکھو، چل کھڑا ہوا ہوں، اب جس کے اندر حوصلہ ہو وہ اس وادی پر خار میں میرا ساتھ دے۔ نبی کا یہ فیصلہ کن عزم مردوں کے اندر بھی زندگی کی لہر دوڑا دینے کا اثر رکھتا ہے۔ جن روحوں کے اندر کچھ صلاحیت ہوتی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بیدار ہوجاتی ہیں بلکہ تڑپ اٹھتی ہیں اور جب تڑپ اٹھتی ہیں تو برسوں کی منزل لمحوں میں طے کرلیتی ہیں۔ زبان کا ایک نکتہ : جو لوگ عربی کے ادا شناس ہیں ان کے لیے یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے تو فرمایا کہ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ، لیکن حواریین نے جو جواب دیا وہ یہ نہیں ہے کہ نَحْنُ اَنْصَارُکَ اِلی اللّٰهِ ، بلکہ بےدھڑک جواب دیا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ ، سیدنا مسیح کے ارشاد میں ’ اِلیٰ ‘ اس مسافت کو واضح کر رہا ہے جو راہ اور منزل کے درمیان واقع ہے اور ایک داعی کی حیثیت سے ان کے شایان شان یہی تھا کہ اس راہ کی مشکلات اور درمیان کی مسافت سے آگاہ کردیں لیکن حواریین نے اپنے جواب میں جوشِ فدویت کی ایک ہی جست میں گویا ساری مسافت طے کرلی ہے اور دعوت حق کے اس نازک مرحلے میں ان کے جذبہ ایمان و اسلام کے شایان شان بات یہی تھی۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ حضرت مسیح کے سوال میں تو بڑا اختصار ہے لیکن حواریین کے جواب میں بڑی تفصیل ہے۔ انہوں نے اپنے ایمان کا بھی اقرار کیا، اپنے مسلم ہونے پر بھی حضرت مسیح کو گواہ ٹھہرایا، اور اپنے ایمان واتباع رسول کے اقرار کے ساتھ خدا سے دعا بھی کی کہ ان کو حق کی شہادت دینے والوں میں لکھا جائے۔ ”نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ“ کے مضمرات : اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حواریین اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اللہ کے انصار میں سے ہونے کے معنی کیا ہیں اور یہ اجمال کن تضمنات و مضمرات پر مشتمل ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کے تقاضوں میں سے یہ ہے کہ خدا پر صدق دل سے ایمان لایا جائے، اس کے جملہ احکام کی بےچون و چرا پیروی کی جائے، جو کچھ اس نے اتارا ہے اس کو مانا جائے، اس کے بھیجے ہوئے رسول کی پیروی کی جائے اور قول، عمل، زندگی اور موت سے اس حق کی شہادت دی جائے جس کا خدا نے امین بنایا ہے۔ یہی وہ شہادت ہے جو اگر جان دے کردی جائے تو اصل شہادت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ حواریین نے سیدنا مسیح کو جس چیز پر خاص طور پر گواہ ٹھہرایا ہے، وہ اپنا مسلم ہونا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ حواریین کے ذہن میں صرف اسلام اور مسلم کا تصور تھا، نصاری اور نصرانیت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یہ بات اس سورة کے عمود سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم سورة کے تمہیدی مباحث میں واضح کرچکے ہیں کہ اس سورة کا عمود اسلام ہے۔
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی سو تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ۔

فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ ، یہ اس بات کی دعا ہے کہ قیامت کے روز ان کا شمار حق کی شہادت دینے والوں میں لکھا ہو، حق کو چھپانے والوں میں نہ لکھا جائے۔ یہی شہادتِ حق وہ اصل ذمہ داری ہے جو ہر نبی کی امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی جاتی ہے۔ نبی، جان کی بازی لگا کر امت پر اللہ کے دین کی گواہی دیتا ہے اور نبی کے بعد یہ امت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس حق کی گواہی، ہر طمع اور ہر خوف سے بےپروا ہو کر، خلق پر دے، یہ گواہی دل، زبان، قول، عمل اور جان و مال کی قربانی، ہر پہلو سے دینے کا مطالبہ ہے۔ اس شہادت کا ضد کتمانِ حق ہے جو شریعتِ الٰہی کے شدید ترین جرائم میں سے ہے۔ مذاہب کی تاریخ سے ثابت ہے کہ یہود اس جرم کے سب سے بڑے مجرم ہوئے ہیں اور یہ جرم من جملہ ان جرائم کے ہے جن کے سبب سے وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق قرار پائے۔ حواریین کی اس دعا کے باطن پر غور کیجیے تو محسوس ہوگا کہ اس میں یہود کی اس حق پوشی پر بالواسطہ تعریض بھی ہے۔ اس آیت کا مضمون تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ سورة وصف میں بھی بیان ہوا ہے ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ : اے ایمان والو، اللہ کے مددگار بن جاؤ، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنتا ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار، تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا، اور ایک گروہ نے کفر کیا، پس ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابل میں مدد کی تو وہ ان پر غالب ہوگئے“ (صف :14)۔ یہاں یہ بات ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ مدد سے مراد اللہ کے رسول اور اللہ کے اس دین کی تائید و حمایت ہے جس کو قائم کرنے کی دعوت لے کر اللہ کا رسول اٹھتا ہے۔ من انصاری الی اللہ، کے الفاظ سے خود اس حقیقت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی امداد سے بےنیاز ہونے کے باوجود اس کو اپنی امداد سے جو تعبیر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام اللہ کو پسند ہے اور اس میں اس کے بندوں کی فلاح و بہبود ہے۔