Ayah 3:97کعبہ کے بیت اللہ ہونے کی نشانیاں : فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ، یعنی اس میں نہایت واضح نشانیاں اس بات کی موجود ہیں کہ یہی گھر حضرت ابراہیم ؑ کا بنایا ہوا ہے۔ ان نشانیوں کو اگرچہ یہود نے مٹٓنے کی کوشش کی لیکن تورات میں آج بھی ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جو یہود کی تمام تحریفات کا پردہ چاک کر کے اصل حقیقت کو بالکل بےنقاب کردیتے ہیں ہم نے سورة بقرہ کی تفسیر میں قبلہ کی بحث میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ جو لوگ تفصیل کے طالب ہوں اس بحث کو پڑھیں، یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہوگی۔
نشانیوں کا بالاجمال ذکر کرنے کے بعد جس طرح عام کے بعد خاص کا ذکر ہوتا ہے تین چیزوں کی طرف خاص طور پر اشارہ فرمایا ہے۔ ایک یہ کہ یہ مقام ابراہیم ہے، دوسری یہ کہ جو اس حرم میں داخل ہوجائے وہ امن میں ہوجاتا ہے۔ تیسری یہ کہ تمام اہل استطاعت پر اس گھر کا حج فرض ہے۔
اگرچہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ان ساری چیزوں پر ہم بحث کرچکے ہیں لیکن بالاجمال ہم یہاں بھی ان تینوں چیزوں کے ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں جن سے اس امر کا ثبوت بہم پہنچتا ہے کہ درحقیقت یہی گھر حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ ہے اور یہی ملت ابراہیم کا مرکز ہے۔
’ مقام ابراہیم ‘ سے مراد : مقام ابراہیم سے مراد، جیسا کہ ہم نے تفسیر سورة بقرہ میں بدلائل واضح کیا ہے، یہ ہے کہ اسی مقام کو حضرت ابراہیم نے ہجرت کے بعد اپنے قیام کے لیے منتخب فرمایا، یہیں مروہ کے پاس اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی کی، یہیں ان کو بیت اللہ کی خدمت اور نماز کئے اہتمام کے لیے بسایا اور یہیں ان سے نسبت رکھنے والی ایک پوری قوم صدیوں سے آباد ہے۔ یہ ساری باتیں خود تورات کے دلائل سے اس قدر قطعیت کے ساتھ ثابت ہیں کہ کوئی صاحبِ انصاف ان کا انکار نہیں کرسکتا۔
مکہ امن کا شہر ہے : وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا، سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حضرت ابراہیم نے اس سرزمین میں اپنی اولاد کو بساتے ہوئے اس کے لیے امن کی جو دعا کی تھی یہ سرزمین اور یہ گھر اس دعا کی مقبولیت کا مظہر ہیں۔ حضرت ابراہیم کی دعا قرآن میں یوں نقل ہوئی ہے ”ذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأصْنَامَ : اور جب کہ ابراہیم نے دعا کی اے میرے پروردگار اس سرزمین کو اس کی سرزمین بنا اور مجھے میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے محفوظ رکھ“ (ابراہیم :35) یہ اسی دعا کی برکت ہے کہ اشہر حرم کی سنت قائم ہوئی اور اس گھر کے جوار میں آدمی تو درکنار کسی جانور کو بھی ایذا پہنچانا جرم ٹھہرا۔
وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ الایۃ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اس سرزمین اور اس گھر کے لیے مرجعیت کی جو دعا کی تھی اس کی مقبولیت بھی اس کے چپے چپے سے نمایاں ہے۔ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا ذکر قرآن میں یوں ہے ”رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ : اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو، اسماعیل کو، ایک بن کھیتی کی سرزمین میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا، اے ہمارے رب تاکہ یہ نماز قائم کریں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی دے کہ یہ تیری شکر گزاری کریں۔“ (بقرہ :37)۔
حج کی سنت : اسی طرح حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت اس گھر کے لیے اعلان حج کی ملی تھی اس کی سنت بھی ان کے عہد سے لے کر آج تک چلی آرہی ہے۔ ”وَإِذْ بَوَّأْنَا لإبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (26) وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27): اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کے پاس اس ہدایت کے ساتھ بسایا کہ میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیو اور میرے گھر کو طواف، قیام اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھیو اور لوگوں میں حج کی منادی کردو، لوگ تمہارے پاس پیادہ اور لاغر اونٹنیوں پر تمام گہرے راستوں سے آئیں گے“ (الحج :26-27)۔
ان تمام نشانیوں کے حوالے دینے سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اہل کتاب پر یہ ثابت کرنا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی گھر حضرت ابراہیم کا بنایا ہوا اور ان کی ملت اور ان کی دعوت کا مرکز ہوسکتا ہے تو یہی مکہ کا بیت اللہ ہوسکتا ہے تو یہی مکہ کا بیت اللہ ہوسکتا ہے۔ اہل کتاب کی تمام تحریفی کوششوں کے باوجود آج بھی یہود کے صحیفوں میں ایسے اشارات و قرائن موجود ہیں جو اصل حقیقت کو کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ ان اشارات کی تفصیل کے لیے ہماری سورة بقرہ کی تفسیر پڑھیے۔
وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : یعنی ان تمام تفصیلات کے بعد بھی جو اہل کتاب اپنی ضد پر اڑے ہی رہ جائیں گے اور یہی دعوی کرتے رہیں گے کہ ملت ابراہیم وہی ہے جس پر وہ ہیں اور ملت ابراہیم کا مرکز بیت المقدس ہے تو یہ لوگ اللہ کی آیات کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ حجت تمام کردینے کے بعد اس بات سے بےپروا ہوجاتا ہے کہ کون کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون ایمان کی۔ آیت کے اسی آخری ٹکڑے پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص استطاعت کے باوجود حج سے بےپروا ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں رہ جاتی کہ وہ یہودی ہو کے مرے گا یا نصرانی ہو کر۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے رویے میں درحقیقت یہودو نصاری کی اس بےپروائی کا ایک عکس ہے جو انہوں نے بیت اللہ کے معاملے میں اختیار کی اور جس کے نتیجے میں وہ اپنا ہی گنوا بیٹھے۔
Ayahs 3:98–99تفسیر آیت 98-99: اب یہ اہل کتاب کو زجر اور ملامت ہے کہ اللہ کی جو نشانیاں ملت ابراہیم، بیت اللہ اور آخری رسول سے متعلق خود تمہارے اپنے صحیفوں میں موجود ہیں ان کو اور ان کے مصداق کو جان بوجھ کر کیوں جھٹلاتے ہو ؟ اور لوگوں کے ذہن میں کیوں شبہات بھر رہے ہو ؟ یہ بات تمہیں معلوم رہنی چاہیے کہ اللہ اور اس کی آیت کے ساتھ یہ شرارت جو تم کر رہے ہو یہ گویا اللہ کی موجودگی میں کر رہے ہو اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی توفیق سے یہ راہ پالی ہے اب تم یہ چاہتے ہو کہ ان کے ذہن میں شبہات پیدا کر کے ان کو کسی ایسے رخ پر موڑ دو کہ ان کی ملی ہوئی راہ پھر گم ہو کر رہا جائے حالانکہ تم کو اللہ نے پہلے سے اس راہ پر اس لیے کھڑا کیا تھا کہ تم لوگوں کو رستہ بتاؤ گے لیکن تم نے شہداء اللہ ہو کر رہزنوں اور بٹ ماروں کا پیشہ اختیار کرلیا، یاد رکھو کہ یہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔
اگلی آیات 109 تا 100: یہاں تک خطاب کا اصلی رخ اہل کتاب کی طرف تھا، ان پر حجت تمام کردینے کے بعد اب آگے کی آیت سے خطاب مسلمانوں سے ہوگیا ہے اور ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اگر تم نے اہل کتاب کی بات مانی تو یہ تم کو پھر اسی کفر و جاہلیت کے گڑھے میں گرا کے رہیں گے جس سے نکل کر تم ایمان واسلام کی روشنی میں آئے ہو۔ پھر اس عظیم نعمت کی قدردانی اور شکر گزاری کا احساس دلاتے ہوئے جو انہیں پیغمبر اور قرآن کی شکل میں حاصل ہوئی ہے، اس طریقے کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جس کو اختیار کر کے وہ ان فتنوں سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں جو اہل کتاب ان کو گمراہ کرنے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی اس اجتماعی نظام کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے جو اس ملت کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ اس ملت کا انجام بھی وہی ہوگا جو اہل کتاب کا ہوا۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:100مسلمانوں کو اہل کتاب کے اشرار سے بچتے رہنے کی تاکید : فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ سے اہل کتاب کا وہی گروہ مراد ہے جس کی مخالفتوں اور وسوسہ اندازیوں کا اوپر تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔ اہل کتاب میں ایک گروہ، جیسا کہ اوپر بھی ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی آ رہا ہے، اہل انصاف کا بھی تھا، اس وجہ سے قرآن نے جگہ جگہ اس امر کو ملحوظ رکھا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہونے پائے۔ چناچہ یہاں بھی مسلمانوں کو اہل کتاب کی وسوسہ اندازیوں اور خاکبازیوں سے بچتے رہنے کی جو تاکید فرمائی ہے تو تعین کے ساتھ اس گروہ کی طرف انگلی اٹھا دی ہے جس سے بچانا پیش نظر ہے۔ یہ انصاف کا بھی تقاضا تھا اور دعوت و تبلیغ کے نقطہ نظر سے بھی یہی بات مطابق حکمت ومصلحت تھی۔
اس آیت میں تنبیہ کا خاص پہلو یہ ہے کہ یہ ہیں تو اہل کتاب میں سے، اس وجہ سے ایک نیک نیت آدمی کو یہ حسن ظن ہوسکتا ہے کہ بھلا یہ دیندار لوگ کوئی گمراہی کی بات کس طرح سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اسلام کے ایسے پکے دشمن ہیں کہ جو مسلمان ان کی باتوں میں آجائے گا۔ یہ اس کو پھر کافر بنا کے چھوڑیں گے۔
Ayah 3:101فتنوں سے محفوظ رہنے کی تدبیریں : اعتصام کے معنی کسی شے کو مضبوطی سے پکڑنے اور تھامنے کے ہیں۔ اعتصام باللہ کے معنی اللہ کے احکام و ہدایات اور اس کی کتاب پر مضبوطی سے نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں مخالفت و موافقت سے بےنیاز ہو کر قائم رہنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو کفر و ارتداد ہر حالت میں انسان کی بدبختی اور اس کی شامت کی دلیل ہے لیکن آج تم نے اگر یہ راہ اختیار کی جب کہ اللہ کی آیات تمہیں سنائی جا رہی ہیں اور خدا رسول تمہارے اندر موجود ہے تو یہ محرومی و بدبختی کی انتہا ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اور اپنے لیے عذر کا کوئی شائبہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر اس قسم کی ٹھوکر سے بچنے کی تدبیر بتا دی کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہارے قدم جادہ مستقیم پر استوار رہیں اور تمہارے مخالفین تمہیں ٹھوکر نہ کھلا سکیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو مضبوط پکڑو، یعنی اللہ کی جو آیات و ہدایات تمہیں سنائی جا رہی ہیں۔ انہیں حرز جان بناؤ اور تمام مخالفتوں اور تمام خاکبازیوں کے علی الرغم ان پر قائم و دائم رہو۔
Ayah 3:102اعتصام باللہ کی حقیقت : یہ اعتصام باللہ کی حقیقت واضح فرما دی کہ اللہ کو مضبوط پکڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے اس طرح ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرتے رہنے کا حق ہے۔ یہ تقوی اگرچہ مطلوب تو اسی حد تک ہے جس حد تک بندے کی استطاعت میں ہے، اس کی وضاحت خود قرآن ہی نے فرما دی ہے کہ ”فاتقوا اللہ ما استطعتم“ (تغابن :16) لیکن خدا سے ڈرتے رہنے کا حق ہے۔ اول تو بندے پر خدا کے جو حقوق ہیں وہ کسی اور کے نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ خدا نے جو حدود وقیوم قائم کیے ہیں اور ان کے توڑنے کی جو سزا مقر کی ہے وہ تمام تر بندوں کی دنیوی و اخروی بہبود کے لیے کی ہے، ان کی پابندی سے خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ بندوں ہی کو پہنچتا ہے۔ تیسری یہ کہ خدا کی آنکھیں ہر جگہ نگراں ہیں یہاں تک کہ وہ دلوں کے وسوسوں سے بھی باخبر ہے۔ چوتھی یہ کہ خدا کی پکڑ سے کوئی دوسرا بچا نہیں سکتا اور دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دے سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیے دے سکتا ہے۔ خدا سے ڈرنے میں جب تک بندہ ان تمام پہلوؤں کو مد نظر نہ رکھے وہ خدا سے ڈرنے کا صحیح مفہوم سمجھ بھی نہیں سکتا چہ جائیکہ وہ اس کا صحیح حق ادا کرپائے۔ بہت سے لوگ جو انسانوں سے ڈر کر خدا اور اس کی شریعت کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ان کی بنیادی گمراہی یہی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی مخالفت اور خدا کے غضب میں فرق نہیں کرپاتے۔
وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ میں یہ لطیف حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خدا سے یہ ڈرنا صرف عارضی اور وقتی طور پر مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔ اسی پر جینا اور اسی پر مرنا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے یہ جدو جہد شروع ہوتی اور زندگی کی آخری سانس پر تمام ہوتی ہے۔ اگر آخری مرحلے میں بھی یہ تسلسل کہیں ٹوٹ گیا تو ساری عمر کی محنت برباد گئی۔ آیت کے اسلوب میں یہ بات بھی مخفی ہے کہ یہ راہ بہت ہموار نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سے نشیب و فراز اور ہر قدم پر اتار چڑھاؤ ہیں۔ اس میں آزمائشوں اور فتنوں سے دوچار ہونا ہوگا اور شیاطین کے شب خونوں اور معاندین کی دراندازیوں اور فساد انگیزیوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ کبھی طمع ورغلانے کے لیے عشوہ گری کرے گی۔ کبھی خوف دھمکانے کے لیے اپنے اسلحہ سنبھالے گا۔ جو ان سب مرحلوں سے اپنا ایمان واسلام بچاتا ہوا منزل پر پہنچا اور اسی حال میں اس نے جان، جان آفرین کے سپرد کی درحقیقت وہ ہے جو خدا سے اس طرح ڈرا جس طرح خدا سے ڈرنے کا حق ہے اور یہی ہے جس کو اعتصام باللہ کا مقام حاصل ہوا۔
Ayah 3:103’ حبل اللہ ‘ سے مراد : ’ حبل ‘ کے معنی رسی کے ہیں۔ اپنے اسی معنی سے ترقی کر کے یہ لفظ تعلق اور ربط کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ رسی دو چیزوں میں ربط وتعلق کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ایک حماسی شاعر کا مشہور شعر ہے۔ ولکنی وصلت الحبل منہ۔ مواصلۃ بحبل ابی بیان : لیکن میں نے اس سے اپنا تعلق جوڑے رکھا، ابوبیان کے تعلق سے وابستگی کی بنا پر۔ پھر مزید ترقی کر کے یہ لفظ معاہدہ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا اس لیے کہ رسی جس طرح دوچیزوں کو ایک ساتھ باندھ دیتی ہے اسی طرح معاہدہ بھی دو قوموں کو ایک دوسرے سے باندھ دیتا ہے۔ معاہدہ کے مفہوم میں یہ لفظ خود قرآن میں استعمال ہوا ہے ”الابحبل من اللہ وحبل من الناس“ (مگر اللہ کے او لوگوں کے کسی معاہدے کے تحت)۔ آیت زیر بحث میں حبل سے مراد قرآن ہے اس لیے کہ یہی ہمارے رب اور ہمارے درمیان ایک عہد و میثاق ہے۔ خدا کو مضبوطی سے پکڑنا ظاہر ہے کہ اپنے ظاہری مفہوم میں نہیں ہے اس لیے کہ خدا چھونے اور پکڑنے کی چیز نہیں۔ اس کو مضبوطی سے پکڑنے کی شکل یہی ہوسکتی ہے کہ ہم اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں جو ہمارے اور اس کے درمیان واسطہ ہے۔ گویا اوپر والی آیت میں ومن یعتصم باللہ جو فرمایا تھا، واعتصموا بحبل اللہ کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرما دی۔ سلف میں سے قتادہ، سدی، عبداللہ بن عباس، مجاہد اور ضحاک کی یہی رائے ہے۔ ابن جریر نے ابوسعید خدری کے واسطے سے ایک روایت بھی نقل کی ہے ”قال رسول اللہ ﷺ کتاب اللہ ھو حبل اللہ الممدود من السماء الی الارض“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے ہے جو آسمان سے زمین تک خدا اور اس کے بندوں کے درمیان تنی ہوئی ہے۔ گویا یہی چیز ہے جو بندوں کو خدا سے جوڑتی ہے۔ جس نے اس کو تھام لیا، گویا خدا کو تھام لیا۔ سلف میں سے جو لوگ حبل اللہ کی تعبیر عہد اللہ سے کرتے ہیں وہ بھی درحقیقت حبل اللہ سے قرآن ہی کو مراد لیتے ہیں، اس لیے کہ ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان معاہدہ کی حیثیت قرآن ہی کو حاصل ہے۔ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں کو میثاق اور عہد سے اسی بنا پر تعبیر کیا گیا ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة مائدہ میں آئے گی۔
مضبوط پکڑنے کے ساتھ ساتھ ”جمیعاً“ کی تاکید اور ”ولا تفرقوا“ کی نہی نے یہ بات واضح کردی ہے کہ یہ چیز جماعتی حیثیت سے مطلوب ہے۔ سب مل کر اس کو مضبوطی سے تھا میں۔ اسی حبل اللہ سے مسلمانوں کی شیرازہ بندی ہوئی ہے، اس کو چھوڑ کر وہ اپنے شیرازے کو پراگندہ نہ کریں۔ اگر اس کے ساتھ تعلق میں ضعف پیدا ہوگیا، اس کی جگہ انہوں نے دوسری رسیوں کا سہارا لے لیا اور حق و باطل کے جانچنے کے اس سے الگ کچھ معیارات بنا لیے تو وہ بھی اسی طرح پراگندہ ہوجائیں گے جس طرح یہودونصاری پراگندہ ہوگئے۔
مسلمانوں کو ایک تنبیہ : اس کے بعد اس عظیم احسان کی یاد دہانی فمرائی ہے جو اس کتاب کے ذریعہ سے عرب قوم پر ہوا۔ اس کتاب کے نزول سے پہلے عرب کا ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن تھا۔ ان میں باہم خونریز جنگیں برپا رہتی تھیں۔ ان کے دیوتا الگ الگ اور ان کے اغراض ومفادات باہم متصادم تھے۔ لیکن اس حبل اللہ نے ان کو ایک رشتہ میں پرو کر ان کو موتیوں کی لڑی بنا دیا اور وہ جو ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے ایک دوسرے کے جگری دوست اور غمخوار بھائی بن گئے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس حالت کو باقی رکھنا چاہتے ہو تو اس حبل اللہ کے ساتھ اپنی وابستگی کو برابر قرار رکھو۔ اگر یہ رشتہ کمزور ہوا تو پھر وہی جاہلیت کی حالت لوٹ آئے گی، جس میں اس سے پہلے مبتلا تھے۔ تم تباہی کے گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے۔ خدا نے تم کو اس سے بچایا ہے۔ اس کو چھوڑ کر پھر اسی گڑھے میں گرنے کا سامان نہ کرلینا۔
چونکہ یہ مقام بہت اہم ہے، جو ہدایات یہاں دی جا رہی ہیں وہ مسلمانوں کے مستقبل سے بڑا گہرا تعلق رکھنے والی ہیں، ان میں معمولی غلطی یا غلط فہمی بھی بڑے ہولناک فتنوں کے دروازے کھول سکتی تھی، اس وجہ سے یہاں، جیسا کہ اوپر کے سلسلہ کلام سے واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایات بڑی وضاحت سے بیان فرمائی ہیں تاکہ کسی گمراہی کے لیے کوئی وجہ باقی نہ رہے۔ اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ الایۃ۔
Ayah 3:104خلافت کے قیام کا بنیادی مقصد : یہ امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہے جو اعتصام بحبل اللہ پر قائم رہنے اور لوگوں کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ ہدایت ہوئی کہ مسلمان اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکیے۔ معروف و منکر سے مراد شریعت اور سوسائٹی دونوں کے معروفات و منکرات ہیں اور ان کے لیے امر و نہی کے جو الفاظ و استعمال ہوئے ان کا غالب قرینہ یہی ہے کہ یہ کام مجرد وعظ و تلقین ہی سے نہیں انجام دینا ہے۔ بلکہ اختیار اور قوت سے اس کو نافذ کرنا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ یہ گروہ امت کی طرف سے سیاسی اقتدار و اختیار کا حامل ہو۔ اگر تنہا دعوت و تبلیغ ہی سے یہ کام لینا مد نظر ہوتا تو اس مطلب کو ادا کرنے کے لیے يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ کے الفاظ کافی تھے يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ (الایہ) کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارے نزدیک اس آیت سے اس امت کے اندر خلافت کے قیام کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چناچہ اسی حکم کی تعمیل میں مسلمانوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد پہلا کام جو کیا وہ خلافت علی منہاج النبوت کا قیام تھا اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ اس امر کی نگرانی کرے کہ مسلمان اعتصام باللہ کے نصب العین سے ہٹنے نہ پائیں۔ اس کے لیے جو طریقے اس کو اختیار کرنے تھے وہ اصولی طور پر تین تھے۔ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، انہی تین سے خلافت راشدہ کے دور میں وہ تمام شعبے وجود میں آئے جو ملت کی تمام داخلی و خارجی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔
وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کا تعلق صرف اس مخصوص گروہ ہی سے نہیں ہے بلکہ یہ اشارہ پوری امت کی طرف ہے کہ جو امت اعتصام باللہ کے لیے یہ اہتمام کرے گی وہی دنیا اور آخرت میں فلاح حاصل کرنے والی بنے گی۔
Ayah 3:105اس آیت میں یہود و نصاری کے انجام سے مسلمانوں کو عبرت دلائی ہے کہ وہ خدا کی واضح تنبیہات کے باوجود خدا کی رسی چھوڑ بیٹھے اور پھر جس کے ہاتھ میں جو رسی آگئی وہ اسی کو حبل اللہ سمجھ بیٹھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان ایسے اختلافات پھوٹ پڑے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی۔ فرمایا کہ تم بھی انہیں یہود و نصاری کی طرح اپنی دنیا و عاقبت نہ برباد کرلینا۔ یہ فلاح کی راہ نہیں بلکہ عذاب الیم کی مستوجب ہے۔
Ayahs 3:106–109تفسیر آیت 160 تا 109: مسلمانوں کو چند تنبیہات : نظمِ کلام کی روشنی میں ان آیات پر غور کیجیے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے۔ اول یہ کہ اعتصام بحبل اللہ سے محروم ہوجانے کے بعد اہل کتاب اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوئے اور یہ انتشار و اختلاف در حقیقت ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹ جانے کے ہم معنی ہے۔ دوم یہ کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ سرفرازی و سرخروئی بخشتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں خود اپنی رسی پکڑاتا ہے اگر وہ اپنی شامت اعمال سے اس رسی کو چھوڑ کر دوسرے پھدنے اپنی گردنوں میں ڈال لیتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اسی درجے کی روسیاہی بھی حاصل ہوگی جس درجے کی ان کو سرخ روئی بخشی گئی تھی۔ چہرے روشن ان کے ہوں گے جو ہر طرح کے حالات میں اس رسی کو تھامے رہیں گے۔ یہ لوگ بیشک اللہ کے فضل و رحمت کے حق دار ہوں گے۔ سوم یہ کہ یہ ساری تنبیہات بالحق ہیں یعنی ہر بات شدنی ہے۔ ان کو محض خالی خولی دھمکی سمجھ کر جو لوگ نظر انداز کریں گے وہ اپنی روسیاہی کا سامان خود کریں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری انہی پر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آگاہی پہلے سے اسی لیے منادی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ کسی کو سزا اس پر حجت تمام کیے بغیر دے۔ چہارم یہ کہ آسمان و زمین میں سارا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ سارے امور اسی کے حضور پیش ہوں گے اور اسی کا فیصلہ ناطق و نافذ ہوگا۔ اگر کسی نے کسی اور سے امید باندھ رکھی ہو تو اس کی یہ امید محض ایک واہمہ ہے جو حقیقت کے ظہور کے بعد بالکل سراب ثابت ہوگی۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہ ساری تنبیہات مسلمانوں کو سنائی جا رہی ہیں کہ ان تمام خطرات سے بچ کے رہنا۔
اگلی آیات 110 تا 120 کا مضمون : اوپر کی تنبیہات کے اندر یہ حقیقت خود بول رہی تھی کہ اہل کتاب جس منصب امامت پر اب تک سرفراز رہے ہیں ہر پہلو سے وہ اس کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے وہ اس منصب سے معزول ہوئے اور خدا نے یہ امانت اس امت کے سپرد فرمائی جو اس کی اہل ہے۔ ساتھی ہی مسلمانوں کو یہ بشارت دی ہے کہ اب یہ اہل کتاب تمہاری مخالفت میں جتنا زور چاہیں لگا لیں وہ تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے بلکہ ہر جگہ منہ کی کھائیں گے اور ان کے لیے ذلت مقدر ہوچکی ہے۔ اثنائے کلام میں اہل کتاب کے اس گروہ کی تحسین بھی فرمائی ہے جو حق پر قائم تھا اور جو بالآخر دولت اسلام سے سرفراز ہوا۔ پھر اہل کتاب کی اصل بیماری کی طرف اشارہ ہے جو فی الحقیقت قبول حق میں ان کے لیے حجاب بنی اور یہ واضح فرمایا کہ اس حق سے محروم رہنے کے بعد اب وہ اپنی دینداری کا بھرم رکھنے کے لیے جو ظاہر داری بھی کریں گے سب اکارت جائے گی، اس کا کچھ حاصل نہیں ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اب تم ان سے تمام تعلقات دوستی و محبت ختم کرلو اس لیے کہ اب تمہارے لیے ان کے دلوں میں دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:110’ کان ‘ یہاں تامہ ہے جس طرح کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْماً میں ہے۔ خَیْرَ اُمَّۃٍ میں اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اب دین کی صحیح شاہراہ پر تمہی ہو۔ اللہ نے جو دین نازل فرمایا تھا، اہل کتاب نے اس میں کج پیچ کی راہیں نکال کر اصلی دین کو گم کردیا۔ اب خلق کی رہنمائی کے لیے خدا نے تم کو کھڑا کیا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة بقرہ میں کذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس الایہ کے الفاظ سے واضح فرمایا ہے۔ وہاں ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ امت چونکہ ٹھیک نقطہ اعتدال اور وسط شاہراہ پر ہے اس وجہ سے یہ خیر امت ہے۔ لِلنَّاسِ میں ایک مضاف محذوف ہے یعنی لوگوں کی اصلاح، رہنمائی اور ان پر اللہ کے دین کی گواہی دینے کے لیے، جیسا کہ فرمایا ہے، لتکونوا شہداء علی الناس۔
خیر امت کا منصب صفات کے ساتھ مشروط ہے : تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ، یہ اس امت کے خیر امت ہونے کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس لیے خٰر امت ہو کہ تم معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے روکتے ہو، اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس منصب پر تم نسل و نسب کی بنا پر نہیں سرفراز ہوئے ہو، جیسا کہ اہل کتاب نے اپنی بابت گمان کیا، بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری نے تمہیں اس کا استحقاق بخشا ہے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ یہ منصب صفات اور ذمہ اریوں کے ساتھ مشروط ہے۔ کسی مخصوص گروہ کے ساتھ اللہ نے اس کو باندھ نہیں چھوڑا ہے کہ لازماً یہ اس کے ساتھ بندھا ہی رہے، اگرچہ وہ یہود نصاری کی طرح معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنا کے رکھ دے۔
ایمان ہر نیکی کی جڑ ہے : تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل بنیاد اللہ پر ایمان ہے۔ کسی کو جو کچھ بھی عزت و فضیلت اللہ کی نگاہوں میں حاصل ہوتی ہے وہ اسی کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی معتبر وہی ہے جو ایمان باللہ کے ساتھ ہو۔ منبروں اور اسٹیجوں سے خدا پرستی اور دینداری کے جو وعظ کھوکھلے سینوں سے نکلتے ہیں ان کی حیثیت وہی ہے جس کا ذکر قرآن نے علمائے یہود سے متعلق فرمایا ہے کہ ”اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم : کیا تم دوسروں کو نیکی اور تقوی کے وعظ سناتے ہو لیکن اپنے آپ کو بھول جاتے ہو“۔
فسق کا لفظ یہاں ایمان و اطاعت سے نکل جانے کے معنی میں ہے۔ اس کی تشریح ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔
اس امت کے منصب امامت کا اعلان : نظم کے اعتبار سے یہ آیت، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، اس امت کے منصب امامت کا اعلان ہے اس سورة کی تمہید میں اللہم مالک الملک والی دعا کے ضمن میں ہم یہ لکھ آئے کہ اس کے اندر اہل کتاب کی معزولی اور امت مسلمہ کی تقرری کا فیصلہ مضمر ہے۔ چناچہ پوری تفصیل کے ساتھ یہود و نصاری دونوں کی بدعہدیاں واضح کرچکنے کے بعد یہ اعلان کردیا گیا کہ اب خیر امت کے منصب کے حق دار یہ اہل ایمان ہیں نہ کہ یہود و نصاری۔ یہود و نصاری کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ قرآن اور پیغمبر پر ایمان لاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا ”بہتر ہوتا“ کے الفاظ کے اندر جو ابہام و اجمال ہے یہ متکلم کے اس غضب کا غماز ہے جس کے متحمل الفاظ نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے بعد بانداز حسرت فرمایا کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود ان میں ایمان لانے والے تھوڑے نکلے، اکثریت بد عہدوں اور نافرمانوں ہی کی نکلی۔
Ayah 3:111’ اذی ‘ کا مفہوم : اذی کے معنی دکھ اور تکلیف کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان کی جڑ کٹ چکی ہے۔ ان کے اندر اب اتنا دم خم نہیں ہے کہ تمہیں کوئی بڑا نقصان پہنچا سکیں۔ بس زیادہ سے زیادہ جو یہ کرسکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کچھ طعن وتشنیع، کچھ زبان درازی اور کچھ افترا پردازی و تہمت تراشی کرلیں۔ اس سے زیادہ کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے۔ اور اگر یہ تم سے لڑنے کے لیے نکلے تو پیغھ دکھائیں گے اور پھر ایسے ذلیل و خوار ہوں گے کہ کسی طرف سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔ بعد کے واقعات نے قرآن کی اس پیشین گوئی کی حرف بہ حرف تصدیق کردی۔ یہی مضمون آگے اس طرح بیان ہوا ہے ”وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا : اور تم ان لوگوں کی طرف سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین کی طرف سے بہت سی تکلیف دہ باتین سنو گے“
Ayah 3:112ذلت کی مار : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ یعنی جس طرح دیوار پر گیلی مٹی تھوپ دی جاتی ہے اسی طرح ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ انہوں نے ع زت کی جگہ ذلت کی راہ اختیار کی تو ان پر پوری طرح ذلت مسلط کردی گئی۔ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا سے اس ذلت کے احاطہ اور اس کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں کہیں بھی یہ ہیں ذلت ان پر مسلط ہے۔ یہاں تک کہ اپنے مرکز میں بھی یہ ذلیل و خوار ہیں۔ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں ان کو عزت حاصل ہو اور یہ اپنی کمر کے بل بوتے پر کھڑے ہوں۔ اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ کہیں قائم ہیں تو اپنی سطوت و عزت کے اعتماد پر نہیں بلکہ یا تو اللہ والوں کے کسی معاہدے نے ان کو امان دے رکھی ہے یا اپنے پاس پڑوس کے قبائل سے انہوں نے کوئی اسی قسم کا سہارا حاصل کر رکھا ہے۔ یہ سہارے وقتی اور عارضی ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ابتداء ان کے مختلف قبائل سے جو معاہدے کیے تھے ان کی عہد شکنیوں اور شرارتوں کی وجہ سے بعد میں وہ ختم کردئیے گئے اور یہ یا تو اپنے جرائم کی پاداش میں قتل کردئیے گئے یا جلا وطن کردئیے گئے۔ دوسرے قبائل سے انہوں نے جو معاہدے کر رکھے تھے وہ قبائل بھی آہستہ آہستہ اسلام کے زیر اثر آگئے تو وہ معاہدے بھی عملاً بےاثر ہو کر رہ گئے۔ جس درخت کی اپنی جڑیں کھوکھلی ہوں وہ تھونیوں کے سہارے آخر کب تک کھڑا رہ سکتا تھا۔ اس زمانے میں یہود کی نام نہاد سلطنت اسرائیل بھی، جیسا کہ ہم اس کتاب میں کہیں اشارہ کرچکے ہیں، اسی حکم میں داخل ہے۔ وہ بھی درحقیقت اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ بحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ امریکہ اور انگلستان کے سہارے پر کھڑی ہے اور جو چیز دوسرے کے سہارے کھڑی ہو اس کا کھڑا ہونا اور نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔
وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ کا مفہوم : وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ کا مفہوم سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ یہ یہود کی شامت اعمال اور ان کی بدبختی کا بیان ہے کہ جہاں سے ان کو عزت و سرفرازی کی دولت دو جہاں لے کے لوٹنا تھا یہ اپنی دوں ہمتی کی وجہ سے وہاں سے خدا کا غضب لے کر لوٹے، جس کے نتیجے میں ان پر ذلت مسلط کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصب امامت و شہادت پر مامور فرمایا تھا۔ اگر یہ اس کی ذمہ داریاں ادا کرتے اور اپنے عہد پر استوار رہتے تو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا مقام بہت اونچا تھا لیکن یہ اپنی دنیا پرستی اور پست ہمتی کی وجہ سے اس کی ذمہ داریاں نہ سنبھال سکے اور خدا کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ یہ حقیقت یہاں پیش نظر رہے کہ جو مقام جتنا ہی اونچا ہوتا ہے اس کی چڑھائی اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور پھر اسی اعتبار سے اس کے گرنے کا انجام بھی نہایت خطرناک ہوتا ہے۔
’ مسکنت ‘ کا مفہوم : وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ مسکنت سے مراد بےحوصلگی اور پست ہمتی ہے۔ قرآن نے اہل کتاب کی پست ہمتی کو نہایت حقیقت افروز تمثیلوں سے جگہ جگہ واضح فرمایا ہے۔ ان تمثیلوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہود پر دنیا پرستی کا اتنا غلبہ تھا کہ آخرت کی طلب اور اس کے لیے ایثار و قربانی کا کوئی حوصلہ ان کے اندر باقی رہ ہی نہیں گیا تھا۔ وہ آخرت کے بڑے سے بڑے نسیہ اپنی دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے نقد کو قربان کرنے کی بھی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے تھے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ان کی اس بزدلی اور پست ہمتی پر بار بار ملامت کی ہے۔ بعد کے انبیاء نے بھی اس کا نوحہ کیا ہے۔ قرآن نے بھی جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ کتے والی تمثیل ان کی پست ہمتی ہی کی تمثیل ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی یہ پست ہمتی ہی تھی جس کے سبب سے وہ اس بات کے مستھق ہوئے کہ ان پر ذلت مسلط کردی جائے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ الایۃ، یہ علت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ ذلت، غضب اور مسکنت کے عذاب کے مستحق قرار پائے ؟ فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیات کا انکار اور انبیا کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ بلندی اور رفعت کا ذریعہ اللہ کی آیات ہیں۔ جو لوگ ان کا انکار کریں اور اس انکار کو اپنا شیوہ بنا لیں وہ اگر ذلت کے سزا وار نہ ہوں گے تو کسی چیز کے ہوں گے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے اس تمثیل میں پیش کیا ہے جس میں فرمایا ہے کہ ”ولوشئنا لرفعناہ بھا ولکنہ اخلد الی الارض : اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے سے اس کو بلند کرتے لیکن یہ تو برابر زمین ہی کی طرف جھکا رہا“۔ ایسا ہی معاملہ انبیا اور آمرین بالقسط کے قتل کا ہے۔ یہ انسانیت کے گل سرسبد ہوتے ہیں۔ انہی کے سہارے انسانیت سعادت اور کمال کے مدارج طے کرتی ہے۔ اگر کوئی گروہ ان کا قاتل رہا ہو تو وہ خدا کی طرف سے غضب اور ذلت کے سوا اور کس چیز کا حقدار ہوسکتا ہے ؟
ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ، یہ سبب بیان ہوا ہے ان کے کفر بآیات اللہ اور قتل انبیاء کا، یعنی نافرمانی اور حدود الٰہی سے تجاوز ان کی عادت رہی ہے۔ اسی چیز نے ان کو کفر اور قتل انبیا پر اکسایا۔ بالآخر یہ جرائم ان کے لیے خدا کے غضب کا باعث ہوئے اور ان پر ذلت و مسکنت تھوپ دی گئی۔
اجزا کی وضاحت کے بعد نظم کے پہلو پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا کہ اوپر کی آیت میں جو بات فرمائی گئی تھی، اس آیت میں اس کی دلیل بیان ہوگئی کہ بھلا وہ لوگ تمہارا کیا بگاڑ سکیں گے جن پر ہر جگہ خدا کی مار ہے اور جو اب تمہارے سہاروں ہی پر جی رہے ہیں۔
Ayah 3:113اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ، یعنی وہ گروہ جو اللہ کے عہد و میثاق اور اس کی شریعت پر قائم ہے۔ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ ، یعنی وہ شب کے اوقات میں کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ شب کی نماز و تلاوت ان کے عہد الٰہی پر قائم رہنے کا ثبوت ہے اس لیے کہ اس بےریا نماز و تلاوت کی بےقراری انہی لوگوں کے اندر پیدا ہوسکتی ہے جو اپنی عظیم ذمہ داری کا نہایت گہرا احساس رکھتے ہوں۔ نماز کی تعبیر سجدہ سے ایک تو اس پہلو سے ہے کہ سجدہ نماز کے اہم ترین ارکان میں سے ہے، دوسرے یہ خشیت اور تذلل کا سب سے بڑا مظہر ہے، تیسرے اس پہلو سے بھی ہے کہ یہود نے، جیسا کہ ہم اس کتاب میں کہیں ذکر کرچکے ہیں، سجدہ کو اپنی نماز سے خارج کردیا تھا۔
Ayahs 3:114–115تفسیر آیت 114-115: اہل کتاب کا باایمان گروہ : یہ اہل کتاب کے اس گروہ قلیل کا ذکر ہے جو اس اکثریت سے مستثنی ہے جس کا حال اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا کہ سب اہل کتاب اسی طرح کے نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے بلکہ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے عہد پر قائم، شب بیدار و تہجد گزار، اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے، امر بالمعروف و نہی عند المنکر کا فریضہ انجام دینے والے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں سبقت کرنے والے ہیں۔ اس گروہ میں وہ لوگ بھی تھے جو علی الاعلان آنحضرت ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو اگرچہ ان آیات کے نزول کے وقت تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرسکے تھے لیکن اندر سے وہ بالکل مومن صادق تھے اور بالآخر وہ اسلام لائے۔ ان لوگوں کو قرآن نے صالحین و متقین میں شمار کیا ہے۔ یہ لوگ جو نیکی بھی کریں گے اس کے اجر سے محروم نہیں رہیں گے۔ یہ اسلام میں آجانے کے بعد اپنی ان نیکیوں کا بھی پورا پورا اجر پائیں گے جو اسلام میں آنے سے پہلے انہوں نے کی ہیں۔ اسی گروہ کا ذکر اس سورة کے آخر میں فرمایا ہے ”وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ : اور بےشک، اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے اور جو ان کی طرف اتاری گئی ہے خدا سے ڈرتے ہوئے۔ یہ اللہ کی آیات کے عوض میں حقیر قیمت قبول نہیں کرتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا صلہ ہے۔ بیشک اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے“ (آل عمران :199)۔
Ayah 3:116کفر و شرک سے تمام نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں : یہ ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو اوپر والے گروہ کے برعکس اپنے کفر پر اڑے رہ گئے۔ ان کے بابت فرمایا کہ جس مال واولاد کی محبت نہیں انہیں خدا سے بےپروا کیا وہ ان کو خدا کی پکڑ اور دوزخ سے نہ بچا سکیں گے۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور اس سے کبھی نکل نہ سکیں گے۔
Ayah 3:117اس دنیا کی زندگی میں اپنی رسمی دینداری کی نمائش کے لیے جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کرنا بھی آخرت میں ان کے لیے کچھ سود مند نہیں۔ ان کے اس خرچ کی تمثیل اس کھیتی کی ہے جس پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ کفر و شرک کے ساتھ جو کام نیکی اور دینداری کی نوعیت کے کیے جاتے ہیں وہ سب اکارت جاتے ہیں۔ کفر و شرک ٹھنڈی آگ ہے جو ساری محنت کو راکھ کا ڈھیر بنا کے رکھ دیتی ہے۔ اوپر والی آیت میں بیان ہوا تھا کہ جو اہل کتاب اپنے ایمان پر قائم رہے اور قرآن کے نزول کے بعد قرآن پر بھی ایمان لائے ان کی پچھلی نیکیاں بھی سب شرف قبولیت پائیں گی۔ اس آیت میں واضح فرمایا ہے کہ جو لوگ نہ اپنے عہد پر قائم رہے نہ اسلام میں داخل ہوئے ان کا سارا کیا دھرا برباد ہوجائے گا۔
وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰهُ الایہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے یہ خدا کی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ظلم انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ہے۔ درخت اپنی جڑ کے سلامت رہنے سے سلامت رہتا ہے اگر درخت کی جڑ اکھاڑ دی جائے تو اس کی شاخوں اور اس کے پتوں پر پانی دینے میں خواہ کوئی کتنی ہی محنت اٹھائے اور کتنی ہی زحمت جھیلے سب بےسود ہے۔ اس کی محنت کی بربادی پر اگر قابل ملامت ہے تو وہ خود ہے نہ کہ قدرت اور قدرت کا قانون۔
Ayah 3:118لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً ، بِطانۃ لحاف وغیرہ کے استر کو کہتے ہیں۔ بطانۃ الرجل سے آدمی کے اہل و عیال اور اس کے خواص و محرمان راز مراد ہوتے ہیں (بطانۃ الرجل ولیجتہ الذی یکاشفہ باسرارہ ثقۃ بمودتۃ۔ اقرب المورد)۔ ’ خبال ‘ کے معنی فساد اور بگاڑ کے ہیں۔ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا یعنی تمہارے اندر فساد پیدا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ’ عنت ‘ کے معنی مشقت، زحمت اور تکلیف کے ہیں۔ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ یعنی تمہارے لیے وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ تمہیں اس راہ میں ٹھوکریں پیش آئیں اور تم زحمتوں میں پھنسو۔ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاهِھِمْ سے مراد اسلام دشمنی کی وہ باتیں ہیں جن سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اہل کتاب سب کچھ گوارا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں چناچہ قرآن نے ان کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ کھلم کھلا مشرکین تک کو بھی مسلمانوں پر ترجیح دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے تو کہیں زیادہ ہدایت پر یہ ہیں۔ (ھؤلاء اھدی من الذین امنوا سبیلا)۔
Ayah 3:119ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ میں ضمیر خطاب ھا اولاء کے بیچ میں آگئی ہے۔ ھا درحقیقت تنبیہ کا کلمہ ہے اس وجہ سے جب اس پر زور دینا ہوتا ہے تو اہل عرب یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرح ھا انا ذا بھی کہتے ہیں۔
اللہ کی پوری کتاب صرف قرآن ہے : وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ، پر تفصیل کے ساتھ ہم سورة بقرہ میں بحث کرچکے ہیں اصل میں پچھلے صحیفوں اور قرآن میں نسبت جزو اور کل کی ہے۔ اہل کتاب کو کتاب الٰہی کا صرف ایک حصہ دیا گیا تھا۔ پوری کتاب کا دیا جانا آخری بعثت پر اٹھا رکھا گیا تھا۔ چناچہ اہل کتاب کے متعلق بار بار یہ الفاظ آتے ہیں ”الم تر اولی الذین اوتوا نصیبا من الکتب : بھلا ان کو تو دیکھو جنہیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا“ (آل عمران :33)۔ اللہ تعالیٰ کی پوری کتاب قرآن ہے، جس طرح اس کا پورا دین اسلام ہے۔ اس وجہ سے جب مسلمان قرآن پر ایمان لاتا ہے تو خدا کی پوری کتاب پر ایمان لاتا ہے، اس پر بھی جو پہلے اتری اور اس پر بھی جو بعد میں اتری۔ قرآن سب کا جامع ہے۔
وَاِذَا خَلَوْا، یعنی جب وہ اپنی مجلسوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ سورة بقرہ میں بالکل اسی قسم کے سیاق میں فرمایا ہے ”واذا خلو الی شیاطینہم قالوا انا معکم : اور جب یہ اپنے لیڈروں کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ کے ساتھ ہیں“۔
مسلمانوں کو اہل کتاب سے ہوشیار رہنے کی ہدایت : ان آیات میں مسلمانوں کو اسی طرح کی تنبیہ ہے جس کی طرح کی تنبیہ آیت 28 میں گزر چکی ہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن پیش نظر، جیسا کہ ہم نے آیت 28 کے تحت اشارہ کیا ہے، وہ مسلمان ہیں جو یا تو اپنی سادگی کی وجہ سے اہل کتاب کی چالوں کو اچھی طرح سمجھتے نہیں تھے یا اپنی کمزوری کے سبب سے ان سے اپنے پچھلے روابط توڑنا نہیں چاہتے تھے در آنحالیکہ اس مرحلے میں اہل کتاب کے تعلقات کسی مسلمان کے ساتھ مخلصانہ نہیں رہ گئے تھے بلکہ جس حد تک بھی تھے محض سازشانہ اغراض و مقاصد کے لیے تھے۔ اس وجہ سے قرآن نے نہایت واضح الفاظ اور بالکل قطعی لب و لہجہ میں متنبہ کیا کہ اے ایمان والو ! اپنے سے باہر والوں کو اپنا محرم راز نہ بناؤ یہ تمہیں نقصقان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ یہ اس بات کے خواہشمند نہیں ہیں کہ تمہیں تمہارے مقاصد میں کامیابی حاصل ہو، بلکہ یہ تمہارے لیے زحمتوں اور پریشانیوں کے آرزو مند ہیں۔ ان کی دشمنی ان کی باتوں سے ہی ظاہر ہوچکی ہے لیکن دلوں میں جو کچھ ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ سخت و شدید ہے۔ فرمایا کہ ہم نے یہ بات اچھی طرح کھول کر سمجھا دی ہے۔ اب بھی اگر تم نہ سمجھے تو اس کا خمیازہ بھگتوگے۔
اس کے بعد غیرت دلائی ہے کہ تم تو ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو لیکن وہ تم سے ذرا محبت نہیں کرتے حالانکہ تم پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور تمام نبیوں پر ایمان لائے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب تم سے ملتے ہیں تو تمہیں دھوکا دینے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں، اور جب اپنوں کے اندر ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے دانت پیستے اور اپنی انگلیاں چابتے ہیں۔
اسی بیچ میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے ان دانت پیسنے والوں کو مخاطب کر کے کہلا دیا کہ تم اسی غیظ و غضب کی بھٹی میں چاہو تو جل کر مرجاؤ لیکن تم اسلام کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔
Ayah 3:120صبر اور تقویٰ : فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم کو کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انہیں بڑا رنج ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر تم نے ثابت قدمی دکھائی اور ان باتوں سے بچتے رہے جن سے بچتے رہنے کی تمہیں نہایت واضح ہدایات دے دی گئی ہیں تو ان کی چالیں تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری سرگرمیوں اور ساری چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس آخری ٹکڑے کی مزید وضاحت کے لیے اسی سورة کی آیات 125 اور 186 پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ان تصبروا وتتقوا کے تحت ابن جریر کا ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس تقوی کا حکم دیا گیا ہے اس میں سب سے مقدم لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ کی ہدایات پر عمل ہے یعنی کفار کو اپنا محرم راز بنانے سے احتراز۔
اگلی آیات 121 تا 129 کا مضمون : اب آگے ان واقعات و حالات پر تبصرہ ہے جو غزوہ احد کے موقع پر پیش آئے اور یہ سلسلہ بیان سورة کے آخر تک چلا جائے گا۔ ہم اس سورة کے تمہیدی مباحث میں واضح کرچکے ہیں کہ غزوہ احد میں مسلمانوں کی اپنی ہی ایک جماعت کے بےتدبیری سے جو شکست پیش آئی اس نے اسلام اور کفر کی اس کشمکش سے تعلق رکھنے والے ہر گروہ پر کسی نہ کسی پہلو سے اثر ڈالا۔ مسلمانوں میں جو لوگ کمزور تھے وہ اس حادثہ سے بد دل ہوگئے اور ان کی اس بددلی سے منافقین نے فائدہ اٹھا کر ان کے دلوں میں اسلام، اسلام کے مستقبل اور نبی ﷺ کے خلاف مختلف قسم کے وسوسے بھرنے شروع کردئیے۔ یہود کو بھی اس حادثے سے بڑی شہ ملی، وہ از سرِ نو اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور پیغمبر ﷺ کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں سرگرم ہوگئے۔ قریش کو بدر کی شکست سے جو ضرب پہنچی تھی اس کا زخم بھی گویا اس واقعہ سے مندمل ہوگیا اور وہ پھر یہ حوصلہ کرنے لگے کہ اسلام کو زک پہنچائی جاسکتی ہے۔
یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ احد کے واقعات پر تبصرہ کر کے ان تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جو اس موقع پر مخالفین، ذہنوں میں پیدا کر رہے تھے۔ ساتھی ہی یہی بہترین موقع تھا اس بات کے لیے کہ مسلمانون کی کمزوریوں اور غلطیوں پر گرفت کی جائے اور آئندہ ان کو ان سے احتراز کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ یہ امت کمزوریوں سے پاک ہو کر اس منصب کی ان ذمہ داریوں کی صحیح طور پر اہل ہوسکے، جس پر ’ کنتم خیر امۃ ‘ والی آیت میں اس کو سرفراز کیا گیا ہے۔ چناچہ جب اس سورة میں بات یہاں تک پہنچی کہ تمہی غالب اور فتحمند ہوگے اور تمہارے مخالفوں کی کوئی چال بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی بشرطیکہ تم صبر اور تقوی پر قائم رہو تو بہترین موقع گویا احد کے واقعات پر تبصرہ کر کے یہ دکھانے کا آگیا کہ صبر اور تقوی کے پہلو سے وہ کیا خامیاں ابھی جماعتی زندگی میں موجود تھیں جو اس افتاد کا باعث ہوئیں اور اس سے انفرادی اور اجتماعی اصلاح و تزکیہ کے کیا کیا سبق ملتے ہیں۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:121’ بَوَّا، یُبَوِّئُ ‘ کے معنی ٹھہرانا، ٹکانا، مقیم کرنا، مامور کرنا۔ مقاعد، مقعد کی جمع ہے جس کے معنی بیٹھنے کی جگہ کے ہیں لیکن وسیع استعمال میں اس کے معنی گھات لگانے کی جگہ کے بھی ہوسکتے ہیں اور قرینہ موجود ہو جیسا کہ یہاں ہے تو اس سے جنگ کا مورچہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔
یہ آیت تمہید ہے اس تبصرے کی جو جنگ احد کے واقعات اور ان سے پیدا شدہ اثرات پر آگے آ رہا ہے۔ یہ جنگ چونکہ ابھی تازہ تازہ ہوئی تھی، اس وجہ سے ہر شخص کے سامنے تھی، نام لیے بغیر بھی اس کے واقعات کی طرف اشارہ کردینا کافی تھا۔ لیکن یہ تبصرہ چونکہ بعض ایسے حالات و اثرات پر بھی تھا جن کے بعض گوشے بعض پارٹیوں کی درپردہ سازشوں سے تعلق رکھنے والے تھے یا ان کا تعلق ذہنی و قلبی تصورات و تاثرات سے تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات، سمیع وعلیم، کا حوالہ دے کر تمہید ہی میں سب کو متنبہ کردیا کہ اس تبصرے پر کسی کے لیے چون و چرا، ردوقدح اور بحث و تردید کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ یہ تبصرہ اس کی طرف سے ہے جو سب کچھ جانتا سنتا ہے۔ اس نے جو کچھ بھی کہا ہے سب کچھ بےخطا سمع و علم پر مبنی ہے۔
Ayah 3:122’ فشل ‘ کے معنی ہمت ہار دینے اور حوصلہ چھوڑ دینے کے ہیں۔ جنگ میں اصل اہمیت حوصلہ وہمت کو حاصل ہے، اسلحہ اور دوسری چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے سب سے پہلے بعض جماعتوں کی اس کمزوری پر گرفت فرمائی۔
منافقین کی ایک شرارت : اس آیت میں جن دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے، مفسرین کے بیان کے مطابق، وہ قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اورس کے بنوحارثہ ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے اندر منافقین کی شرارت کی وجہ سے کچھ بزدلی پیدا ہوئی لیکن پھر وہ سنبھل گئے۔ منافقین درحقیت اس جنگ کے لیے نکلنا نہیں چاہتا تھے۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی اس کمزوری کا اندازہ تھا۔ چناچہ آپ نے یہ چاہا کہ نکلنے سے پہلے صحیح صورت حال سامنے آجائے۔ اس کے لیے امتحاناً آپ نے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ قریش کا مقابلہ مدینہ کے ھ اندر سے کیا جائے یا باہر نکل کر، اس کا جواب سچے اور پکے مسلمانوں کی طرف سے تو ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ باہر نکل کر، چناچہ انہوں نے پورے جوش وجذبے کے ساتھ یہی جواب دیا۔ لیکن منافقین نے مدینہ میں محصور ہو کر مقابلے کی مصلحتیں سمجھانے کی کوشش کی۔ آنحضرت نے جب صورت حال کا اندازہ کرلیا، منافقین کی کمزوری آپ پر واضح ہوگئی تو آپ نے وہی کیا جو آپ کے دل میں تھا اور جس کا اظہار آپ کے جان نثار ساتھیوں نے کیا تھا۔ منافقین نے جب دیکھا کہ ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی تو وہ نکلنے کو تو مسلمانوں کے ساتھ نکلے، للیکن نکلنے کے بعد ان کے لیڈر ابن ابی نے ان کو ورغلایا اور اس چیز کو بہانہ بنا کر کہ اس کے مشورے کی قدر نہیں کی گئی، راستے میں تین سو آدمیوں کے لشکر کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے قدرتی طور پر مسلمانوں کی بعض جماعتوں کے حوصلے پر اثر پڑا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار کفار کے مقابلے میں کل ایک ہزار تھی۔ ایک ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمیوں کا عین موقع پر فرار، ظاہر ہے کہ ایک اہم حادثہ تھا جس سے کمزور طبائع کا اثر لینا قدرتی امر تھا۔ قرآن نے اس کمزوری پر گرفت کی اور فرمایا کہ جو مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں اللہ ان کا مددگار اور کارساز ہوتا ہے اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان خدا کی مدد اور اس کی کارسازی پر پورا پورا بھروسہ رکھیں۔ جب خدا ساتھ ہے تو منافقوں اور بزدلوں کی کوئی جماعت ساتھ چھوڑ بھی دے تو اس سے کیا بنتا بگڑتا ہے۔