Ayah 3:75”امیین“ سے مراد بنی اسماعیل ہیں۔ اس لفظ پر مفصل بحث ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ ”سبیل“ کے معنی یہاں الزام اور مواخذہ کے ہیں۔ لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ یعنی امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی الزام اور مواخذہ نہیں۔
یہ قرآن نے امیین سے متعلق بنی اسرائیل کے ذہن اور ان کے مجموعی کردار کو واضح کیا ہے کہ وہ ان کی امانتوں میں خیانت کرنے اور ان کے مال کو ہڑپ کرجانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے بلکہ اس کو اپنی دینداری کا حق سمجھتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ تورات میں غصب، خیانت اور سود خواری وغیرہ کی جو ممانعت وارد ہے اس کا تعلق غیر قوموں خصوصاً کافر قوموں سے نہیں ہے۔ اپنے اس من گھڑت شرعی فتوے کے تحت انہوں نے دوسری قوموں سے ہر قسم کی بدمعاملگی جائز کرلی تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ عرب بنی اسماعیل کو بھی اسی فہرست میں داخل کرتے تھے اس وجہ سے ان کے مال کو بھی خیانت، بد عہدی یا سود وغیرہ کی راہ سے ہڑپ کرنا ان کے نزدیک کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔ اہل عرب، یہودی سود خواروں اور مہاجنوں کے پاس اگر کوئی چیز بطور امانت یا رہن رکھتے تو بڑا ہی کوئی قسمت والا ہوتا جو ان کے حلق سے اپنا مال نکالنے میں کامیاب ہوتا۔ وہ اس کو دبا بیٹھتے اور اپنے اس فعل کو ثواب ثابت کرنے کے لیے انہوں نے اپنے مولویوں سے فتوے بھی حاصل کر رکھے تھے کہ کافروں کا مال ہڑپ کرجانے میں کوئی عیب نہیں ہے۔ قرآن نے ان کا یہ کردار یہ نمایاں کرنے کے لیے واضح کیا ہے کہ جو تمہاری چند روپوں کی امانت واپس کرنے میں یہ لیت و لعل کرتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اس اہتمام سے شرعی حیلے ایجاد کر رکھے ہیں، ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ تمہارے نبی اور تمہارے مذہب و شریعت کے بارے میں یہ پچھلے نبیوں کی جن پیش گوئیوں کے امین بنائے گئے تھے ان کو وہ آسانی سے ادا کریں گے اور خلق کے سامنے ان کی شہادت دینے کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ جو لوگ دنیا کی نہایت حقیر چیزوں میں خائن ہیں وہ اتنی بڑی امانت ادا کرنے کے لیے دل گردہ کہاں سے لائیں گے ! لیکن یہود جیسی ذلیل قوم کے اس کردار کو بیان کرتے ہوئے بھی قرآن نے انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں جو اچھے کردار کے لوگ تھے ان کے کردار کی اچھائی کی داد دی بلکہ پہلے انہی کا ذکر کیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ اس میدان میں اور وہ آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی لوگ تھے جو بعد میں اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے۔
وَيَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ، یہ ان کے اس من گھڑت اور خانہ ساز فتوے کی تردید کی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا، کہ امیوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ اخلاق و شریعت پر ان کا بہتان تھا اور اس کے خلافِ شریعت ہونے سے وہ خود بھی واقف تھے لیکن محض اپنی خواہشات کی پیروی اور حرص دنیا میں انہوں نے اس قسم کے حیلے ایجاد کرلیے تھے۔ بعد میں یہی فتوے تحریف کی راہ سے تورات میں داخل ہوگئے۔ یہاں تک کہ اب اگر کوئی تورات کو پڑھے تو وہ عام اخلاقی و انسانی حقوق و معاملات میں بھی محسوس کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے شریعت کچھ اور ہے اور غیر بنی اسرائیل کے، جن کو تورات میں اجنبیوں اور پردیسیوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، کچھ اور۔
Ayah 3:76اس آیت میں اور اس اسلوب پر جتنی بھی آیات ہیں سب میں جواب شرط محذوف ہوتا ہے۔ اس کی بعض مثالیں سورة بقرہ میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ یہاں اگر جواب شرط کو واضح کیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہاں جو لوگ اللہ کے عہد کو پورا کریں اور حدود الٰہی کی حفاظت کریں تو وہ لوگ متقی ہیں اور اللہ متقین ہی کو دوست رکھتا ہے۔
اوپر والی باتوں پر استدراک : یہ آیت یہود کی اوپر والی باتوں پر استدراک کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے لیے خدا کے ہاں کوئی خاص مرتبہ و مقام ہے جس کے سبب سے وہ دوسروں سے بالاتر اور امیوں کے معاملے میں ذمہ داریوں سے بری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کے ہاں جو مرتبہ و مقام بھی ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو خدا سے باندھے ہوئے عہد کو پورا کریں اور ہر طرح کے حالات میں اس عہد کے تحت قائم کردہ حدود کی نگہداشت کریں۔ جن لوگوں کی روش یہ ہوگی وہ اللہ کے نزدیک متقی ہیں اور اللہ ایسے ہی متقی بندوں کو دوست رکھتا ہے۔ جو لوگ خدا کے عہد اور اس کے حدود کو توڑنے میں بےباک ہیں اور اس کے باوجود تقوی اور محبوبِ الٰہی ہونے کے مدعی ہیں وہ محض خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔
عام طور پر مترجمین قرآن نے اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ کا ترجمہ ”اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں“ کیا ہے میرے نزدیک ضمیر کا مرجع اللہ ہے۔ قرآن کے نظایر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ آگے والی آیت ملاحظہ ہو۔ ابن جریر نے بھی یہی تاویل کی ہے۔
اگلی آیت 77 تا 80 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے تو اہل کتاب کی اس عہد شکنی بلکہ عہد فروشی پر عتاب ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ان کو اپنے کلام و پیام سے نوازا، ان کے لیے تعلیم و تزکیہ کا اہتمام فرمایا اور ان کو اپنی نگاہ لطف و کرم سے مشرف کیا لیکن انہوں نے دنیا کے حقیر مفادات کے بدلے میں اللہ کے عہد کو فروخت کیا اور اس کی بےپایاں عنایات کی نہایت بےدردی کے ساتھ ناقدری کی اس وجہ سے اب آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔ پھر ان کی بعض تحریفی کوششوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ نے جو کتاب انہیں ہدایت و رہنمائی کے لیے عطا فرمائی، انہوں نے اس میں توڑ موڑ اور لچک لچکا کر اس غرض کے لیے تصرفات کیے کہ جو چیز اللہ کی کتاب کی نہیں تھی وہ کتاب کی سمجھی جائے۔ پھر اہل کتاب بالخصوص نصاری کو دعوت دی ہے کہ وہ عقل سلیم کی روشنی میں غور کریں کہ آج جن باتوں کو وہ مسیح کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ باتیں وہ کتاب و حکمت اور نبوت کے حامل ہوتے ہوئے کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ ارشاد ہے۔
Ayah 3:77”اشتراء“ کے لفظ پر سورة بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے۔ جب مبادلہ چیز کا چیز سے ہو، جس کا عموماً قدیم زمانہ میں رواج تھا تو ہر شے مبیع بھی ہوسکتی ہے اور ثمن بھی۔ اس وجہ سے کسی شے کا اشتراء در حقیقت اس مفہوم میں خریدنا نہیں ہوتا تھا جس مفہوم میں ہم خریدنا بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم مبادلہ ہوتا تھا۔ اس وجہ سے ”اشتراء“ کا لفظ بدلنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پھر اس مفہوم سے ترقی کر کے ترجیح دینے کے معنی میں بھی۔ عَهْدِ اللّٰهِ سے مراد کتاب و شریعت ہے اس لیے کہ کتاب و شریعت کی حیثیت اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان معاہدے کی ہوتی ہے۔ یہاں اس عام مفہوم کے اندر ایک خاص اشارہ اس عہد کی طرف بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے آخری بعثت کے باب میں لیا تھا اور جس کو اہل کتاب نے نہ صرف نسیاً منسیا کردیا تھا بلکہ اس کے آثار انہوں نے اپنی کتابوں سے بھی مٹا ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ”اَیْمَان“ سے مراد وہ عام عہد و پیمان ہیں جن پر اجتماع و تمدنی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور جن سے معاشرتی زندگی اور معاملات میں اعتماد اور حسن ظن کی فضا بنتی ہے۔ یہود کا اس معاملے میں جو حال تھا وہ اوپر واضح ہوچکا ہے کہ انہوں نے امانتوں میں خیانت کرنے اور اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے کیسے کیسے شرعی حیلے ایجاد کرلیے تھے۔ لَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ میں فعل کی نفی اس کے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان سے اس معنی میں کلام نہیں کرے گا یا ان کی طرف نظر نہیں کرے گا کلام کرنے اور نظر کرنے کا اصلی مفہوم ہے۔ یہ اسلوب عربی زبان میں عام ہے بلکہ ہر زبان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنے قول وقرار کو اس طرح خریدنی و فروختنی چیز بنائے ہوئے ہیں اور اپنے دنیوی مفادات پر (جن کی بڑی سے بڑی مقدار بھی اجرِ آخرت کے بالمقابل حقیر ہی ہے) ان کو اس بےدردی سے قربان کرر ہے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ اپنے جواہرات کو کوڑیوں کے عوض فروخت کرچکے ہیں اور جو لوگ اللہ کی امانت کے معاملے میں ایسے نااہل ثابت ہوئے ان سے نہ تو اللہ اب بات کرے گا، نہ ان کی طرف نظر کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ اب آخرت میں ایسے شامت زدوں کے لیے دردناک عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
یہود سے شدید نفرت کا اظہار : الفاظ کے تیور جو لوگ پہچانتے ہیں وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہاں ان کے اندر کتنی نفرت اور کیسی شدید بیزاری چھپی ہوئی ہے لیکن اہل کتاب بالخصوص یہود اپنی ان کارستانیوں کے باعث جن کا اوپر ذکر ہوا اسی کے سزا وار تھے، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ یہ وہ قوم تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے پیغمبر کے واسطہ سے اپنے خاص کلام و خطاب کے شرف سے نوازا۔ یہ فرعونیوں کے قدموں کے نیچے روندی جارہی تھی تو خدا نے اس پر عنایت کی نظر کی اور اس کو اس ذلت سے نکال کر سیادت و امامت کے تخت پر بٹھایا۔ اس کے تزکیہ کے لیے کتاب نازل فرمائی اور اس کو سنوارنے اور سدھارنے کے لیے اس کے اندر اپنے نبی اور رسول بھیجے لیکن اس قوم نے نہ تو اس خطاب و کلام کی کچھ قدر کی اور نہ اس نظر شفقت و عنایت اور اس تزکیہ وتطہیر کی، جس کا خدا اور اس کے نبیوں نے یہ کچھ اہتمام کیا تو اب اس قوم کا کیا منہ ہے کہ اللہ اس سے بات کرے، یا اس کی طرف نظر کرے یا اس کو پاک کرے۔ اس نے تو اپنے اوپر امید کے سارے دروازے خود بند کرلیے۔ اس آیت میں تزکیہ کی جو نفی ہے اس کے دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت تزکیہ کا محل نہیں ہے۔ اس کا محل یہ دنیا ہے۔ جب انہوں نے یہاں اس کا موقع ضائع کردیا تو آخرت میں وہ اس کو حاصل نہ کرسکیں گے۔ دوسرا یہ کہ ان کے جرائم ایسے نہیں ہیں کہ یہ آخرت میں تھوڑی بہت سزا پا کر ان سے پاک ہوجائیں بلکہ یہ جرائم ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں لے ڈوبنے والے ہیں۔
Ayah 3:78”لَوٰی، یَلْوِیْ ، لَیًّا“ کے معنی کسی چیز کو بٹنے، تورنے مروڑنے اور اینٹھنے کے ہیں۔ يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْكِتٰبِ کے معنی یہ ہوئے کہ کتاب الٰہی کے بعض الفاظ ادا کرتے ہوئے وہ اپنی زبان اس طرح توڑتے مروڑتے ہیں کہ الفاظ کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں۔
عہد الٰہی سے فرار کی ایک تدبیر : یہ اہل کتاب کی ان تدبیروں میں سے ایک تدبیر ہے جو انہوں نے عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے اختیار کی تھیں۔ تفسیر بقرہ میں جہاں ہم نے تحریف کے سوال پر بحث کی ہے وہاں بتایا ہے کہ تحریف کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ قراءت کی راہ سے لفظ یا جملہ کا تلفظ توڑ مروڑ کر اس طرح بگاڑ دیتے تھے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہو کر رہ جاتی تھی۔ اس جرم کا ارتکاب یہود اور نصاریٰ دونوں ہی نے کیا ہے۔ اس کی مثال میں ہم نے لفظ ”مروہ“ کا ذکر کیا ہے۔ یہ لفظ تورات میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت کے سلسلہ میں آیا ہے کہ اس مقام پر ان کو بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا۔ یہود نے اس قربانی کے واقعے میں جہاں کمی اور بیشی کی نوعیت کی بہت سی تبدیلیاں کی ہیں وہیں لفظ مروہ کی قراءت کو بگاڑ کر مریا، موریا، موریاہ، مورہ اور نہ جانے کیا کیا بنایا تاکہ مکہ کی مشہور پہاڑی مروہ کے بجائے اس سے بیت المقدس کے کسی مقام کو مراد لے سکیں اور اس طرح حضرت ابراہیم اور ان کی ہجرت وقربانی کے واقعہ کا تعلق بیت اللہ سے بالکل کاٹ دیں۔ مقصد اس ساری کاوش سے ان کا یہ تھا کہ اس ایر پھیر سے ان پیشین گوئیوں اور اشارات کا رخ موڑا جاسکے جو بنی اسماعیل اور ان کے اندر نبی آخر الزمان ﷺ سے متعلق تورات کے صحیفوں میں وارد تھیں۔ اسی طرح کی حرکت انہوں نے لفظ ”بکہ“ کی قراءت میں کی جس پر آگے چل کر ہم بحث کریں گے۔ اس سازش کے ذکر بعد ان کی جسارت اور ڈھٹائی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ حرکت وہ اس مقصد سے کرتے ہیں کہ جو چیز کتاب الٰہی کی نہیں ہے اس پر کتاب الٰہی کا لیبل چسپاں کردیں اور جو چیز اللہ کی طرف سے نہیں ہے اس کو اللہ کے نام پر پیش کریں۔ فرمایا کہ یہ جانتے بوجھتے اللہ کے اوپر جھوٹ باندھنا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بڑی جسارت اور کیا ہوسکتی ہے۔
Ayah 3:79”حکم“ کے معنی قضا اور فیصلہ کے ہیں۔ اپنے اسی مفہوم کی روح کرلیے ہوئے یہ قرآن میں تین مختلف پہلؤں سے استعمال ہوا ہے۔ بعض جگہ مجرد فیصلہ کے معنی میں مثلاً ”وَ کُنَّا لِحُکْمِھِمْ شَاھَدِیْن“: اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے“ (انبیاء :78) ”أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ : کیا وہ جاہلیت کے فیصلہ کے طالب ہیں اور اللہ سے بڑھ کر کون فیصلہ کرنے والا ہے“ (مائدہ :50)۔ بعض مقامات میں قوت فیصلہ اور بصیرت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلا ً ”وَلُوطًا آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا : اور لوط کو ہم نے قوت فیصلہ عطا فرمائی اور علم“ (انبیاء :74) ، ”وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا : اور ہم نے اس کو بچپن میں فیصلہ کی قوت دی“ (مریم :12)۔ بعض آیات میں امر وحکم کے معنی میں ہے مثلاً ”فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْر : پس حکم خدائے بلندو بزرگ کے لیے ہے“ ، ”وَلَہٗ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ : اور اسی کے لیے حکم ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے“ (قصص :70)۔
یہاں موقع محل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اپنے دوسرے اور تیسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے
(لفظ حکم کی یہ تحقیق استاذ امام کا افادہ ہے)۔
’ رَبَّانِیْ ‘ کے معنی خدا پرست اور اللہ والے کے ہیں۔ یہ لفظ عربی میں عبرانی سے آیا ہوا معلوم ہوتا ہے ”رِبِّی“ کا لفظ تورات اور انجیل میں بہت آیا ہے۔ صورت ذرا دونوں کی مختلف ہے لیکن معناً کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا۔ اس آیت کا رخ خاص طور پر نصاریٰ کی طرف ہے جو اس سورة میں اصلاً مخاطب ہیں۔ اب تک کی بحث بیشتر نقل پر مبنی تھی۔ اس آیت میں عقل سلیم کو مخاطب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ کسی طرح ممکن ہے کہ ایک انسان جس کو اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز فرمائے، وہ لوگوں کو اللہ کے بجائے اپنا بندہ بننے کی دعوت دے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری بدعات نہ صرف مسیح کی تعلیمات، تمہاری مسلمہ تاریخ، اور انبیا کے متفق علیہ عقائد کے بالکل خلاف ہیں بلکہ عقل سلیم بھی مسیح کی طرف ان کی نسبت قبول نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو نبوت و رسالت کے منصب پر سرفراز فرماتا ہے اور اس کو کتاب و حکمت عطا فرماتا ہے تو اس لیے کہ وہ لوگوں کو دوسروں کی بندگی اور غلامی سے چھڑا کر خدا کی بندگی و غلامی میں لائے نہ کہ ان کو خدا سے چھڑا کر اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ جس کو خدا نے اپنے گلّے کی تلاش کے لیے بھیجا وہ خود ہی اس کے گلّے کو بھٹکانے والا بن گیا۔ بھلا اس سے بڑی تہمت خدا کے ایک رسول پر اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اس کے بعد بتایا کہ ایک حامل کتاب و حکمت نبی اگر تمہیں دعوت دے سکتا ہے تو اس بات کی دے سکتا کہ لوگو ! خدا پرست اور اللہ والے بنو اس لیے کہ تمہارے کتاب الٰہی کے پڑھنے پڑھانے والے ہونے کا اگر کوئی صحیح تقاضا ہوسکتا ہے تو یہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:80پھر اس آیت میں فرمایا کہ جس طرح نبی لوگوں کو اپنا بندہ بننے کی دعوت نہیں دے سکتا اسی طرح وہ یہ دعوت بھی نہیں دے سکتا کہ فرشتوں اور نبیوں کو ”ارباباً من دون اللہ“ بنا لو اس لیے کہ دعوت ایمان کے ساتھ یہ کفر کی دعوت کس طرح جمع ہوسکتی ہے ؟ کیا جو شخص تمہارے لیے ایمان واسلام کی دعوت لے کر آئے گا وہی تمہیں مسلم بنانے کے بعد کفر میں جھونکنے کی کوشش کرے گا۔ اس آخری ٹکڑے میں خطاب میں ذرا وسعت پیدا ہوگئی ہے یعنی نصاریٰ کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اشارہ قریش کی طرف بھی ہوگیا ہے جو فرشتوں اور نبیوں کے بھی بت بنا کر پوجنے لگے تھے۔
اگلی آیات 81 تا 91 کا مضمون : اب آگے پہلے ایک جامع میثاق کا حوالہ دیا ہے جو اہل کتاب سے انبیا (علیہم السلام) خصوصاً آخری نبی محمد ﷺ کی تائید و حمایت کے لیے لیا گیا تھا اور اہل کتاب نے من حیث الجماعت اس کا اقرار کیا تھا لیکن اب وہ، جیسا کہ اوپر تفصیلات گزریں، اس کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کر رہے ہیں۔ پھر اہل کتاب سے بانداز تعجب سوال کیا ہے کہ اگر وہ آخری نبی پر ایمان لانے اور اپنے باندھے ہوئے عہد کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کر رہے ہیں تو کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں، اللہ کا دین تو اسلام ہے اور یہی دین اس تمام کائنات کا دیھن ہے اس لیے کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنے دائرہ تکوینی میں طوعاً وکرہاً بہرحال اللہ ہی کی اطاعت کرتی ہے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے کلمہ جامعہ کا حوالہ دیا ہے کہ اگر یہ اہل کتاب اپنے تعصبات کی جکڑ بند سے آزاد نہیں ہونا چاہیے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور یہ اعلان کردو کہ ہم تمام انبیا پر ایمان لاتے ہیں، ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم خدا ہی کے فرمانبردار ہیں۔ پھر آگے کی آیات میں ان اہل کتاب کے انجام بد کا ذکر فرمایا ہے کہ بھلا یہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کی راہ اختیار کی ہے اور آخری رسول کو پہچاننے کے بعد اس کی تکذیب کی ہے، خدا کی ہدایت سے کس طرح بہرہ مند ہوسکتے ہیں۔ یہ تو اس کے سزا وار ہیں کہ ان پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام خلق کی لعنت ہو۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayahs 3:81–82تفسیر آیت 81-82: انبیاء کے باب میں بنی اسرائیل سے میثاق : ”میثاق النبیین“ میں اضافت فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیا سے میثاق لیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ انبیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا۔ یہ میثاق، جیسا کہ آیت میں ذکر ہے، اس بات کے لیے تھا کہ بنی اسرائیل چونکہ کتاب و حکمت کے حامل اور امین بنائے گئے ہیں اس وجہ سے ان کے اس منصب کا فطری تقاضا یہ ہے کہ جو انبیاء آئیں خاص طور پر آخری نبی جب آئیں تو سب سے آگے بڑھ کر ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس عہد کا ذکر قرآن میں مختلف اسلوبوں سے ہوا ہے۔ مثلاً سورة مائدہ میں ہے ”وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لأكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلأدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور اٹھائے ہم نے ان میں سے بارہ نقیب اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کا اہتمام کرتے اور زکوۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی عزت کی اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہے۔ میں تمہارے گناہ تم سے جھاڑ دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا تو وہ وسط شاہراہ سے بھٹک گیا“۔
نبی امی کے باب میں میثاق : اس آیت میں رسل کا لفظ ہے جو عام ہے لیکن ایک دوسری آیت میں نبی امی ﷺ کی تصریح بھی ہے۔ ملاحظہ ہو ”وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ (156) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْلالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (157): پس میں اپنی اس رحمت کو ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقوی اختیار کریں گے، زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے یعنی ان لوگوں پر جو اس رسول اور نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو کو حلال ٹھہراتا ہے، ان پر گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے اس بوجھ اور ان پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر اب تک رہی ہیں۔ تو جو لوگ اس پر ایمان لائے، اس کی توقیر اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس پر اتاری گئی، وہی فلاح پانے والے ہیں“۔
ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصاری دونوں ہی سے نبی امی ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی تائید و نصرت کا عہد لیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس عہد کی کوئی پروا نہیں کی اس عہد کے کچھ آثار تورات اور انجیل میں بھی موجود ہیں لیکن اب وہ تحریف کے گرد و غبار سے بہت بڑی حد تک دھندلے ہوچکے ہیں۔ مناسب موقع پر وہ زیر بحث آئیں گے۔
رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ سے مراد نبی امی ﷺ ہیں۔ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ کی وضاحت ہم بقرہ میں کرچکے ہیں۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک خاص اہمیت رکھنے والا پہلو یہ ہے کہ نبی ﷺ کے ظہور اور آپ کی صفات اور کارناموں سے ان پیشین گوئیوں کا مصداق سامنے آیا تھا جو تورات اور انجیل میں موجود تھیں اور جن کے مصداق کے ظہور کے لیے اہل کتاب منتظر بھی تھے اور ان کو منتظر ہونا چاہیے بھی تھا۔ اس لیے کہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق سے سب سے پہلے انہی کا سر اونچا ہوتا۔ لفظ تصدیق کے اس مفہوم کے لیے ایک حماسی شاعر کا یہ شعر پیش نظر رکھیے۔
فدت نفسی وما ملکت یمینی۔۔۔ فوارس صدقوا فیھم ظنونی
میری جان اور میرا مال ان شہسواروں پر قربان جنہوں نے اپنے بارے میں میرے سارے گمان سچے ثابت کردئیے۔
اس پہلو سے اگر یہود و نصاری غور کرتے تو وہ دیکھتے کہ حضور کی بعثت سے خود ان کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق ہو رہی ہے لیکن یہ ان کی شامت تھی کہ جس نے ان کی تصدیق کی اس کو انہوں نے جھٹلایا اور جس کی حجت اور جس کی شہادت کا بار گراں وہ اتنی مدت تک اٹھائے پھرے جب وہ آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کردی۔
بنی اسرائیل میں میثاق لینے کی ایک صورت : قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ، کا ایک خاص موقع و محل ہے جس کو نگاہ میں رکھنا چاہیے تب اس ٹکڑے کا زور سمجھ میں آجائے گا۔ موسوی شریعت میں یہ قاعدہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس طرح کی ہدایت اترتیں تو حضرت موسیٰ ان کو انفرادی طور پر اپنے صحابہ کو صرف سنا دینے ہی پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ بنی اسرائیل کی پوری جماعت یا کم از کم ان کے تمام سرداروں کو خیمہ عبادت میں جمع کرتے، تابوت سامنے ہوتا، حضرت موسیٰ وعظ و تذکیر کے بعد خداوند خدا کا حکم سنتا پھر سب سے اس کی اطاعت کا اقرار لیتے۔ سب کے اقرار کے بعد لوگوں کو اس کا گواہ رہنے کی تاکید کرتے، اور خدا کو اس پر گواہ ٹھہراتے۔ آخر میں اس حکم کی نافرمانی کے بعد دنیوی و اخروی عواقب و نتائج سے بھی آگاہ فرما دیتے۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ کا ہر امر و نہی اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے درمیان ایک عہد و میثاق کا درجہ حاصل کرلیتا۔ اب یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ جس شریعت کے تحفظ کے لیے یہ جتن کیے گئے اس کے حاملوں نے اس کے ایک ایک عہد کے پرزے اڑا کے رکھ دئیے۔ اس روشنی میں فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ کے الفاظ پر غور کیجیے تو بَعْدَ ذٰلِكَ کا حقیقی وزن محسوس ہوگا کہ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے عہد سے منہ موڑیں تو ان سے بڑھ کر عہد شکن کون ہوگا ؟ فاسق کا لفظ یہاں عام معنوں میں نہیں ہے بلکہ جس طرح ابلیس کے بارے میں وارد ہے کہ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ کہ وہ اپنے رب کے حکم سے نکل بھاگا اسی مفہوم میں یہاں بنی اسرائیل کے لیے استعمال ہوا۔
Ayah 3:83اسلام تمام کائنات کا دین ہے : اہل کتاب کے اس تمام گریز و فرار پر اب یہ بانداز استعجاب سوال کیا ہے کہ آخر اسلام اور پیغمبر اسلام سے اس سعی فرار کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اللہ کے دین کے سوا یہ اہل کتاب کسی اور دین کے طلبگار ہیں۔ اللہ کا دین ازل سے اسلام ہے۔ یہی دین اس نے تمام نبیوں اور رسولوں کو دیا اور یہی دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ سورج، چاند، ابر، ہوا اور آسمانِ و زمین سب اسی دین کے پیرو ہیں۔ اسلام کی حقیقت اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا ہے۔ کسی کی مجال ہے جو خدا کے حکم اور اس کے قانون سے سرتابی کرسکے۔ جو اپنے محدود دائرہ اختیار میں (اور یہ دائرہ اختیار بھی خدا ہی کا قائم کردہ اور اسی کی مشیت کے تحت ہے)۔ کوئی سرتابی کرتے بھی ہیں تو وہ بھی دائرہ تکوینی کے اندر خدا کے قوانین کے تحت عاجز و سرفگندہ ہیں۔ کس کی تاب ہے کہ وہ زندگی اور موت کے طبعی قوانین سے بھاگ سکے۔ پس فطرت اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے محدود دائرہ اختیار میں بھی اسی خالق ومالک کے قوانین کی طوعاً تابعداری کرے جس کے قوانین کی تابعداری اپنے دائرہ تکوینی میں کرہاً کر رہا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی اس پوری کائنات کے ذرہ ذرہ سے ہم آہنگ و ہم رنگ ہوجائے گی۔ اس کے دائرہ اختیار اور دائرہ تکوینی دونوں میں کامل موافقت پیدا ہوجائے گی اور انسان خدا کی بخشی ہوئی آزادی کو خدا ہی کی شریعت کے حوالہ کر کے اپنے آپ کو فرشتوں اور نبیوں کی طرح خدا کے رنگ میں رنگ لے گا۔ یہی اسلام ہے۔ یہی صبغۃ اللہ ہے۔ یہی خدا کا دین ہے۔ یہی مذہب آدم، یہی دعوت نوح اور یہی ملت ابراہیم ہے اور اسی کی دعوت لے کر یہ آخری نبی ﷺ آئے ہیں۔ پھر اس دین فطرت اور اس دین کائنات کو چھوڑ کر یہ اہل کتاب۔ اہل کتاب ہو کر۔ کس دین کے طلبگار ہیں۔
وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح اس زندگی میں خدا کے قانون سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے اسی طرح آگے بھی راہ رندھی ہوئی ہے۔ جو مر کے اس سے چھوٹتا ہے وہ بھی چھوٹتا نہیں بلکہ وہ بھی خدا ہی کے پاس جاتا ہے اور اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کرتا ہے۔
Ayah 3:84اسلام کا کلمہ جامعہ : یہ آیت بعینہ سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام الفاظ اور مطالب پر بحث ہوچکی ہے ملاحظہ ہو آیت 136 بقرہ۔ یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اسلام کے کلمہ جامعہ کا اعلان کرایا گیا ہے اور سیاق کلام یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگر اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں تو انہیں ان کی خواہش کے حوالہ کرو۔ شیطان جس وادی میں چاہے ان کو ٹھوکر کھلائے۔ تم ان کے پیچھے اپنی اوقات رائیگاں نہ کرو بلکہ اعلان کردو کہ ہم تو اللہ اور اس کے اس دین پر ایمان لائے جو تمام انبیا کا دین ہے۔ ہم ان انبیا میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں، کسی کو نہ مانیں۔ ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم خدا ہی کے فرمانبردار ہیں اور اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کرتے ہیں۔
Ayah 3:85اسلام کے حق میں دلائل واضح کردینے کے بعد اب یہ صاف الفاظ میں اعلان فرمادیا کہ جو لوگ اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب بنیں گے یا اس پر جمے رہیں گے، عام اس کہ وہ یہودیت ہو یا نصرانیت یا کوئی اور دین، وہ اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا، ایسے لوگ آخرت میں محروم و نامراد ہوں گے۔
Ayahs 3:86–89تفسیر آیت 86 تا 89: لفظ ”ہدایت“ کا خاص مفہوم : لفظ ’ ہدایت ‘ پر ہم بقرہ میں بحث کرچکے ہیں کہ اس کے تین مرحلے ہیں۔ آخری مرحلہ اس کا ہدایت آخرت کا ہے۔ اس مرحلہ میں غایت و مقصود کی طرف ہدایت ہوتی ہے اور بندہ اپنی مساعی کے ثمرہ سے بہرہ مند اور اپنی جدو جہد زندگی کے حاصل سے با مراد ہوتا ہے۔ ہدایت کا لفظ اس معنی میں بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ ’ یہدی ‘ اس آیت میں اسی معنی میں ہے۔ استاذ مرحوم اس سے ہدایت کا عام مفہوم ہی مراد لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہاں بنی اسرائیل کے لیے جس ہدایت کی نفی ہے وہ من حیث القوم ہے، من حیث الافراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو قوم ایسے شدید جرائم کی مرتکب ہوئی ہے اس کے لیے اسلام کی راہ کس طرح کھل سکتی ہے !
شَہِدُوْا میں شہادات سے مراد دل کی شہادت ہے کہ ان اہل کتاب کے دل مانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں۔ ان کی وہ نشانیاں جو ان پر ظاہر ہوئی ہیں وہ اس قدر واضح ہیں کہ ان کی صداقت پر ان کے دل گواہی دیتے ہیں لیکن محض ضد، تعصب اور حسد کے سبب سے اس کو جھٹلاتے ہیں۔
وَاللّٰهُ لَايَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔ یہ اوپر والی آیت کی توجیہ بیان ہوئی ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کس طرح با مراد کرسکتا ہے جنہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا، جن کے پاس اس رسول کی صداقت کی کھلی ہوئی نشانیاں آچکی ہیں لیکن وہ ان کی تکذیب کر رہے ہیں، جن کے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ رسول برحق ہیں لیکن پھر بھی ان کی زبانیں اس کو جھٹلاتی ہیں ؟ ایسے لوگ اپنی فطرت، اپنی عقل اور اپنی روح پر بہت بڑا ظلم ڈھانے والے ہیں اور یہ سنت الٰہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بامراد نہیں کرتا جو خود اپنے ہوتھوں اپنے نشاناتِ راہ گم کریں اور اپنے آپ کو خود ٹھوکر کھلائیں۔ ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ ان پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور ساری خلقت کی لعنت ہو۔ ’ للناس ‘ کے ساتھ ’ اجمعین ‘ کی تاکید اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ قیامت کے دن ان پر نیک اور بد سب ہی لعنت کریں گے۔ نیکوں کی لعنت کی وجہ تو واضح ہے، بد اس لیے لعنت کریں گے کہ وہ ان کے سبب سے گمراہ ہوئے۔ چناچہ قرآن میں تصریح ہے کہ قیامت کے دن گمراہ لیڈر اور ان کے گمراہ پیرو دونوں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ پیرو کہیں گے کہ تم نے ہمیں برباد کیا، اگر تم ہماری راہ نہ مارتے تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ لیڈر کہیں گے ہم جیسے تھے ویسا ہی ہم نے تم کو بنایا، تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہدایت کی راہ اختیار نہ کی۔
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا میں ضمیر کا مرجع دوزخ ہے۔ اگرچہ دوزخ کا ذکر الفاط میں موجود نہیں ہے لیکن اوپر جس لعنت کا ذکر ہے اس نے اس کا ایسا واضح قرینہ بہم پہنچا دیا ہے کہ لفظوں میں اس کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ گویا لعنت خود عذاب کی قائم مقام بن گئی۔ زبان میں اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ سورة حدید کی تفسیر میں ہم اس اسلوب پر بحث کریں گے۔ اس عذاب کی نسبت فرمایا کہ نہ اس میں کسی مرحلے میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ اس سے ان کو کبھی مہلت ملے گی۔ اس میں پڑجانے کے بعد ان کے لیے امید کے سارے دروازے بند ہوجائیں گے البتہ وہ لوگ اس عذاب سے بچ جائیں گے جو ان تنبیہات کے بعد توبہ کر کے اپنے حالات کی اصلاح کرلیں گے اور جن حق پوشیوں کے اب تک مجرم ہوئے ہیں ان کا برملا اظہار واعلان کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 3:90–91تفسیر آیت 90 تا 91: ان لوگوں کا بیان جن کی توبہ قبول نہیں ہوتی : یہ ان لوگوں کا بیان ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان تمام جرائم کا ارتکاب کرکے، جن کا ذکر اوپر ہوا، ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوئے۔ پھر اس کفر پر ردے کے بعد ردے چڑھاتے چلے گئے۔ جب وقت آخر آیا تو زبان سے توبہ توبہ کرلی، نہ اپنے جرائم کی اصلاح کی، نہ اپنی حق پوشیوں کا پیغمبر اور اہل ایمان کے سامنے اظہار واعتراف کیا، نہ اللہ کی راہ میں انفاق اور پیغمبر کی حمایت و نصرت سے اپنے گناہ دھونے کی کوشش کی۔ بلکہ جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہے، اس غلط آرزو میں مر گئے کہ سَیُغْفَرُ لَنَا، اللہ ہماری ساری غلطیوں کو معاف فرما دے گا۔ قرآن نے یہاں واضح فرما دیا کہ جو لوگ اس قسم کی طمع خام میں مبتلا ہیں، نہ ان کی یہ توبہ توبہ ہے، نہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی توبہ کو پذیرائی بخشے گا۔
اسی طرح کا معاملہ ان لوگوں کا ہے جو ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوئے اور اسی حالت کفر میں مرگئے۔ فرمایا کہ اگر اس طرح کے لوگ زمین کے برابر سونا بھی اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے فدیہ میں دیں تو بھی قبول نہیں ہوگا۔ یہ اسلوبِ بیان محض ان کی نجات کے عدم امکان کی تعبیر کے لیے اختیار کیا گیا۔ ورنہ آخرت میں نہ کسی کے پاس فدیہ میں دینے کے لیے کچھ ہوگا، نہ آخرت اس قسم کے لین دین کی کوئی جگہ ہے۔ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ، میں ان لوگوں کی اس طمع خام کی نفی ہے جو یہ اپنے بزرگ اسلاف کی شفاعت کی رکھتے تھے۔ فرمایا کہ آخرت میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ آیت ہم یہاں بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ زیر بحث آیت کے بعض مضمرات روشنی میں آجائیں۔ فرمایا ہے ”إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ (159)إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (160)إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162): بیشک جو لوگ ان واضح آیات اور اس ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاری ہے، بعد اس کے کہ ہم نے اس کو اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے اچھی طرح واضح کردیا ہے، وہی لوگ ہیں جن پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے بھی لعنت کریں گے۔ البتہ وہ لوگ اس سے مستثنے ہیں جو توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کریں اور کھول دیں چھپائی ہوئی باتوں کو۔ یہی لوگ ہیں جن کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی حالت کفر میں مر گئے ان پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے، اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی“ (بقرہ :159-162)
اگلی آیات 92-99 کا مضمون : اوپر کا مضمون اگر ذہن میں موجود ہے تو آگے کا سلسلہ بیان سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ اوپر آیت 63 سے یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ یہود اور نصاری ملت ابراہیم پر ہونے کا جو دعوی کرتے ہیں محض بےبنیاد دعوی ہے۔ ملتِ ابراہیم پر یہ پیغمبر اور ان کے ساتھی ہیں لیکن یہ یہود و نصاری طرح طرح کی سازشوں اور تحریفوں سے اصل حقائق پر پردہ ڈالنا اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں کہ قربانی کوئی نہ دینی پڑے۔ بس دینداری کی چند جھوٹی سچی رسمیں ادا کر کے خدا کی وفا داری کے سب سے اونچے مقام کے حق دار سمجھے جاتے رہیں۔
یہاں سب سے پہلے تو یہ مغالطہ دور فرمایا کہ خدا کی وفاداری کا مقام محض جھوٹی رسم داری اور نمائشی دین داری سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ اصل شے یہ ہے کہ خدا کی راہ میں ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ جب تک انسان خدا کے لیے اپنی محبوبات کی قربانی کا عادی نہیں ہوتا اس وقت تک اس میں خدا کے عہد و پیمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوتا۔
مسلمانوں پر ملت ابراہیم کی مخالفت کا الزام : اس کے بعد ضمنی طور پر یہود کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کو ملت ابراہیم کے خلاف ثابت کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کے ہاں کھانے پینے کی بعض ایسی چیزیں جائز ہیں جو یہود کے زعم کے مطابق ابراہیمی شریعت میں حرام تھیں۔ مثلاً اونٹ کی نسبت ان کا دعویٰ تھا کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت میں حرام ہے لیکن مسلمانوں کے ہاں نہ صرف یہ کہ حلال طیب ہے بلکہ ان کے ہاں یہ محبوب ترین مال ہے اور وہ اس کے نحر اور قربانی کو بڑے ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے سے ان کا مقصد، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، محض عوام کو یہ باور کرانا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ملت ابراہیم سے برگشتہ ہیں۔ قرآن نے اس کا جواب دے دیا کہ یہ بات محض یہود کا افترا ہے۔ تورات خود اس بات پر شاہد ہے کہ اونٹ کی حرمت کا تعلق اگر ہے تو شریعتِ موسوی سے ہے نہ کہ شریعتِ ابراہیمی سے۔
اس ضمنی اعتراض کا جواب دینے کے بعد ان کو پھر ملت ابراہیمی کی پیروی کی دعوت دی ہے اور ان پیشین گوئیوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو تورات میں خانہ کعبہ کی اولیت، اس کی مرکزیت اور اس کے سرچشمہ برکت وہدایت ہونے کے باب میں وارد تھیں لیکن ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، نیز ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو صاف شہادت دیتی ہیں کہ اسی سرزمین کو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا مسکن بنایا، اسی کو دار الامن قرار دیا، اسی کو حج و عبادت کا مرکز ٹھہرایا اور ہزاروں سال سے ان کی ذریت اس سرزمین پر ان کے نام اور ان کی روایات کی حامل چلی آرہی ہے۔ آخر کی دو آیتوں میں اہل کتاب کو ملامت کی ہے کہ جس راہ کی نشان دہی کے لیے تم خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے تھے یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تم اس سے لوگوں کو روکنے اور اس کو گم کرنے کے لیے اپنی کوششیں صرف کر رہے ہو۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:92خدا کے ساتھ وفاداری کی شرط محبوب مال کا انفاق : لفظ ’ بِرّ ‘ کی تحقیق تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اس لفظ کی اصل روح ایفائے عہد اور ادائے حقوق وفرائض ہے عام اس سے کہ یہ خدا کے حقوق و فرائض ہوں یا اس کے بندوں کے۔ بنی اسرائیل ایفائے عہد اور ادائے حقوق کے معاملے میں تو بالکل صفر تھے لیکن محض چند رسوم کی ظاہردارانہ پیروی کر کے یہ سمجھتے تھے کہ خدا کی وفاداری میں جو مرتبہ و مقام ان کا ہے وہ کسی کا نہ ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ چناچہ اسی زعم میں وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم اور دوسرے تمام انبیاء کی وراثت کا تنہا اجارہ دار سمجھتے تھے اور یہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ کوئی اس میدان میں ان کا حریف ہوسکتا ہے۔ قرآن نے یہاں ان کے اسی زعم باطل پر ضرب لگائی کہ خدا کی وفاداری کا مقام مجرد خالی خولی دعو وں اور چند رسموں کے ادا کردینے سے نہیں حاصل ہوجاتا بلکہ اس کے لیے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک تم خدا کی راہ میں اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو اس وقت تک تمہارا یہ دعوی بالکل بےدلیل ہے۔ محبت اور وفا داری کی جانچ کے لیے یہ کسوٹی ایک ایسی کسوٹی ہے جو فی الحقیقت بنی اسرائیل کا سارا بھرم کھول دینے کے لیے کافی تھی اس لیے کہ دینداری کی بےخرچ ظاہر داریاں تو وہ کسی نہ کسی حد تک نباہنے کی کوشش کرتے تھے لیکن جہاں معاملہ خرچ کرنے کا پیش آجائے اور وہ بھی محبوب مال کے خرچ کرنے کا، تو پھر ان کا سارا دعوائے عشق و محبت ہرن ہوجاتا۔ حالانکہ جن حضرت ابراہیم کی پیروی اور جن کی وراثت و نیابت کے وہ تنہا اجارہ دار بنے بیٹھے تھے ان کے متعلق جانتے تھے کہ ان کو خدا کی وفاداری کا جو مقام حاصل ہوا محض زبانی جمع خرچ سے نہیں حاصل ہوا بلکہ اپنے محبوب کے اکلوتے بیٹے کی قربانی سے حاصل ہوا۔ قرآن نے یہود کی اس رسمی دینداری پر جگہ جگہ تعریض کی ہے مثلاً فرمایا ہے ”لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ : خدا کی وفاداری کا حق اس سے ادا نہیں ہوجاتا کہ اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف کرو بلکہ اصل وفاداری تو ان کی ہے جو اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے مال اس کے محبوب ہونے کے باوجود دیتے ہیں قرابت مندوں کو، یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافر کو، سائلوں کو نیز اس کو خرچ کرتے ہیں گردنوں کو آزاد کرانے میں اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور جب عہد کر بیٹھیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہیں اور خاص کر وہ لوگ جو بھوک اور بیماری میں اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں“ (بقرہ : 177)۔
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ (اور جو کوئی چیز بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تو اللہ اس سے باخبر ہے) سے مقصود اس کا لازم ہے۔ یعنی خدا جب تمہارے خرچ کیے ہوئے پیسے پیسے سے باخبر ہے تو اطمینان رکھو، کوئی حبہ ضائع جانے والا نہیں ہے۔ اگر ایک خرچ کروگے تو دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک پاؤ گے اور اللہ کا فضل مزید براں ہے جس کی کوئی حد و نہایت ہی نہیں۔
Ayah 3:93یہود کے ایک اعتراض کا جواب : یہ یہود کے اس اعتراض کا ضمنی جواب ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ یہود مدعی تھے کہ اصل ملت ابراہیم پردہ ہیں نہ کہ مسلمان۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں جو باتیں وہ کہتے تھے ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ مسلمانوں نے جو چیزیں جائز کر رکھی ہیں ان میں سے بعض چیزیں ملت ابراہیم میں حرام تھیں لیکن مسلمان نہ صرف یہ کہ ان کو جائز رکھتے ہیں بلکہ ان کے برّ وتقوی اور ان کے انفاق وقربانی کا انحصار انہی چیزوں پر ہے۔ ان کا اشارہ اونٹ کے ذبیحہ اور اس کی قربانی کی طرف ہوگا اس لیے کہ اونٹ عرب کے محبوب ترین اموال میں سے تھا، اور یہود کی شریعت میں، جیسا کہ احبار میں وارد ہے، وہ حرام ہے۔ قرآن نے یہاں مناسب موقعہ پر ان کے اس غلط خیال کی تردید کردی۔ فرمایا کہ جو چیزیں طیبات میں داخل اور کھانے پینے کی ہیں وہ سب ابتداءً بنی اسرائیل کے ہاں بھی حلال تھیں۔ ازاں جملہ اونٹ بھی ہے۔ البتہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے یعقوب نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں۔ چناچہ تورات میں دیکھ لو کہ اونٹ یا بعض دوسری چیزیں جن کو تم حرام قرار دیتے ہو ان کی حرمت کا کوئی ذکر عہد ابراہیمی میں نہیں ملتا، اگر ملتا ہے تو تورات میں ملتا ہے۔
یہود کی حرام کردہ طیّبات کی تین قسمیں : تورات میں ملت ابراہیمی کے خلاف جن طیبات کو حرام ٹھہرایا گیا ہے وہ تین قسم کی ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو محض یہود کے فقہا کی تحلیل و تحریم اور ان کی موشگافیوں کی پیدا کردہ ہیں۔ انہوں نے اپنے فتوے کے تحت کسی چیز کو حرام ٹھہرایا اور بعد میں ان کا یہی فتوی تورات میں شامل ہو کر اس کا ایک جزو بن گیا اور اس طرح فقیہوں کے ایک فتوے نے کتاب الٰہی کی حیثیت حاصل کرلی۔ تورات میں اس قسم کے جو گھپلے ہوئے ہیں ان پر یہاں بحث کا موقع نہیں ہے، ان کا تعلق تورات کی تاریخ سے ہے اور یہ ایک الگ موضوع ہے۔ دوسری وہ ہیں جو یہود کی سرکشی، ان کی کٹ حجتی اور ان کی سوال بازی کے سبب سے حرام ہوئیں۔ انہوں نے کسی چیز کے متعین کرانے میں اتنے سوالات اٹھائے کہ ان کے لیے جواز کی راہ تنگ سے تنگ ہوتی چلی گئی اور اچھی بھلی طیب و طاہر چیزیں بھی ان کے لیے حرام ہو کر رہ گئیں۔ تیسری وہ ہیں جن سے احتراز و اجتناب کا تصور ان کے ہاں بزرگوں سے چلا آرہا تھا۔ مثلاً بعض چیزیں حضرت یعقوب ؑ کسی احتیاط یا محض طبعی و ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر نہیں استعمال کرتے تھے۔ یہود نے اس طرح کی چیزوں کا سرا حضرت ابراہیم سے ملا دیا اور ان کی حرمت بھی تورات کی محرمات کی فہرست میں شامل ہوگئی۔ یہی وہ حرمتیں ہیں جن کو قرآن میں ”اصر و اغلال“ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہود کے صحیفوں میں ملت ابراہیم پر مبعوث ہونے والے پیغمبر کے بارے میں یہ پیشین گوئی موجود تھی کہ جب وہ آئیں گے تو یہود کے لیے تمام طیّبات کو حلال کریں گے اور جو طوق وسلاسل انہوں نے اپنے اوپر لاد رکھے ہیں ان سے ان کو نجات دیں گے اس مسئلہ پر ہم سورة انعام کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کرنے والے ہیں اس وجہ سے یہاں ان مختصر اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔
Ayah 3:94یعنی جو لوگ اس وضاحت کے بعد بھی اس اس بات پر اڑے رہیں کہ جن چیزوں کو انہوں نے حرام ٹھہرا رکھا ہے وہ ملت ابراہیم میں بھی حرام تھیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے تو یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے !
Ayah 3:95فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو محض اللہ پر جھوٹا بہتان ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا یہ سچ ہے۔ تو اپنی بدعات کو ملت ابراہیم ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس ملت ابراہیم کی پیروی کرو جس کی دعوت میں دے رہا ہوں۔ ابراہیم ؑ اسلام کی راہ پر بالکل یکسو تھے، نہ انہوں نے اسراہ سے دوسری پگڈنڈیاں نکالیں اور نہ وہ مشرکین میں سے تھے۔
Ayah 3:96”بکہ“ کی تحقیق : ”بَکَّہ“ سے مراد مکہ ہے۔ قدیم صحیفوں میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ لغوی معنی اس کے شہر کے ہیں مثلاً بعلبک (بعل کا شہر) یہود نے آخری بعثت کے نشانات گم کرنے کے لیے قراءت کے تور مروڑ یا بالفاظِ قرآن ”لَیِّ لِسان“ کے ذریعہ سے جو تحریفیں کی ہیں، ان کی ایک مثال یہ لفظ بھی ہے۔ اس کو یہود نے بگاڑ کر بکہ کے بجائے بکاء بنایا اور اس کو مصدر قرار دے کر ترجمہ اس کا رونا کردیا اور اس طرح وادی بکہ کو رونے کی وادی میں تبدیل کر کے اس سب سے بڑے نشان کو گم کردیا، (ملاحظہ ہو مزمور 84)۔ جس سے خلق کو آخری نبی کے بارے میں رہنمائی مل سکتی تھی۔ اس آیت میں قرآن نے مکہ کو بکہ کے نام سے ذکر کرکے مکہ کے اس قدیم نام کی یاد دہانی کی ہے جو تورات کے صحیفوں میں تھا۔ بلکہ بعض صحیفوں میں اب بھی ہے مثلاً زبور میں۔
(مولانا فراہی نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں لفظ مکہ پر لکھا ہے۔ ”لوگوں نے اس لفظ کے اشتقاق کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن اس امر میں شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ بکہ کی بدلی ہوئی صورت ہے چناچہ یہ لفظ خود قرآن میں آیا ہے۔ جس وقت حضرت اسماعیل اس وادی میں آباد کیے گئے ہیں اس وادی کا یہی نام تھا۔ اس کے معنی آبادی کے ہیں جیسا کہ لفظ بعلبک سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ چونکہ حضرت ابراہیم بابل سے تشریف لائے تھے اس وجہ سے انہوں نے مکہ کے نام کے لیے اپنی زبان کا لفظ پسند فرمایا)
اس آیت میں ان چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت کا وہ گھر جو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر فرمایا یہی مکہ کا بیت اللہ ہے۔ اسی گھر کو حضرت ابراہیم نے ملت ابراہیم کا مرکز بنایا اور اسی گھر سے ان کی مشہور دعا ”ربنا وابعث فیہم الایۃ“ کے بموجب اس پیغمبر کی دعوت بلند ہوئی، جو امیوں میں پیدا ہونے والے تھے اور جن کی دعوت سے ساری دنیا کو فیض پہنچنے والا تھا۔ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ میں اس بات کا اشارہ موجود ہے۔
یہ بات محتاج ثبوت نہیں ہے کہ تورات میں حضرت ابراہیم کے ہاتھوں جس بیت ایل (بیت اللہ) کی تعمیر کا ذکر ہے اس کا مصداق اگر کوئی ہوسکتا ہے تو مکہ کا بیت اللہ ہی ہوسکتا ہے نہ کہ بیت المقدس۔ اس لیے کہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت ابراہیم ؑ کے سینکڑوں سال بعد حضرت داود اور حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ یہ گھر ملت ابراہیم کی برکتوں کا مظہر ہوسکتا ہے نہ کہ بیت المقدس۔