3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار رہ سکو۔

ایمان اور توکل کا تقاضا واضح کرنے کے بعد بدر کے واقعہ کی بھی یاد دہانی فرما دی کہ جب تمہاری عددی قلت اور مادی بےسروسامانی کے باوجود ابھی کل خدا نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہیں شاندار فتح دی تو اس خدا سے کیوں مایوس ہوتے ہو وہ آج بھی تمہارا حامی و ناصر اور ولی و کارساز ہے۔ ’ اذلۃ ‘ کا مفہوم : ’ اذلۃ ‘ ذلیل کی جمع ہے۔ ذلیل عزیز کا مقابل لفظ ہے۔ عزیز کے معنی ہیں غالب، زور آور اور دوسروں کی دسترس سے باہر، ذلیل کے معنی کمزور، ناتوان اور دوسروں کے لیے لقمہ تر کے ہیں۔ اخلاقی رذالت اس لفظ کے بنیادی اجزا میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے لوازم بعیدہ میں سے ہے۔ چناچہ یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ”أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ : وہ مسلمانوں کے لیے نہایت نرم اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہیں“۔ یعنی اگر کفار ان کے اندر انگلی دھنسانا اور ان کو اپنے اغراض کے لیے نرم کرنا چاہیں تو وہ پتھر کی چٹان ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے نہایت نرم خو ہیں۔ وہ ان سے جس طرح چاہیں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں بھی یہ لفظ مسلمانوں کی صرف اس وقت کی عددی و مادی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، اس میں اخلاقی ضعف و ذلت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ، میں تقوی کا لفظ، جیسا کہ ہم آیت 120 کے تحت اشارہ کرچکے ہیں، اپنے وسیع معنی میں ہے، یعنی ایمان اور توکل اور خدا کو ولی اور کارساز ماننے کے تقاضے کے خلاف بزدلی اور بےہمتی کی راہ اختیار کرنے سے بچو۔ خدا کی شرک گزاری کا صحیح حق ادا کرنے کے لیے یہ تقوی ضروری ہے۔ جو لوگ عزم و ہمت سے خالی ہوں گے وہ شیطان سے ہر قدم پر مار کھائیں گے اور حق کے بجائے باطل کی راہ اختیار کرلیں گے۔ ایسے لوگ خدا کی شکر گزاری کا حق ادا نہ کرسکیں گے۔
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

یاد کرو کہ جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے ؟۔

’ مسومین ‘ کا مفہوم : ’ مسومین ‘ سومۃ، سیمۃ، سے ہے جس کے معنی علامت اور نشان کے ہیں الخیل المسومۃ، ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جن پر نشان لگے ہوئے ہوں۔ فرشتوں کے لیے مسومین کی صفت سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خاص اہتمام کے ساتھ اس مہم کے لیے بھیجے گا اور وہ خاص اس جنگ کے لیے اپنے امتیازی نشان اور بیج لگائے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس بات کا حوالہ ہے جو نبی ﷺ نے مسلمانوں کا حوصلہ بحال کرنے کے لیے اس وقت فرمائی جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس ہوگیا اور مسلمانوں کی بعض جماعتوں میں، جیسا کہ اوپر والی آیت میں ذکر ہے، اس سے بد دلی پھیلی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تین سو آدمی الگ ہوگئے تو کیا ہوا ؟ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تین سو کمزور اور پست ہمت آدمیوں کی جگہ تین ہزار تازہ دم اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے سے تمہاری مدد فرمائے ”اتارے ہوئے“ سے مقصود اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اسی کار خاص کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تازہ دم کمک کے طور پر آسمان سے اتارے جائیں گے۔
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور بچتے رہو گے اور وہ تمہارے اوپر بھی آدھمکے، تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا، جو اپنے خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے۔

بَلٰٓى ۙاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کے بھروسے پر لائی تھی کہ یہ تین سو آدمیوں کی کمی تین ہزار فرشتوں سے پوری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اس بات کی تائید فرما دی اور اپنے فضل سے اس پر دو ہزار فرشتوں کا اور اضافہ فرما دیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا، اگر تم ثابت قدم رہے اور خدا اور رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچتے رہے، جنگ احد کے واقعات شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کو پورا فرمایا۔ چناچہ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی حملے میں کفار کو اچھی طرح تہ تیغ کیا اور ان کو شکست دے دی۔ لیکن شکست دے چکنے کے بعد ان کی ایک جماعت نے کمزوری دکھائی اور رسول کی صریح ہدایت کے خلاف مال غنیمت کی طمع میں ایک نہایت اہم مورچہ خالی چھوڑ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حاصل کی ہوئی فتح صبر وتقوی کی کمزوری کے سبب سے شکست میں تبدیل ہوگئی۔ آگے اسی سورة میں اس بات کا ذکر اس طرح ہوا ہے ”وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ : اور اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جب کہ تم خدا کے حکم سے ان کافروں کو تہ تیغ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ تم نے کمزوری دکھائی اور تعمیلِ حکم میں اختلاف کیا۔ اور اس وقت نافرمانی کی جب کہ خدا نے تمہیں تمہاری محبوب چیز، فتح، دکھا دی۔ تم میں کچھ دنیا کے طالب ہوئے اور کچھ آخرت کے، تو خدا نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے“ (آل عمران :152)
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر تمہارے لیے بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں، اور مدد نہیں آتی مگر خدائے غالب و حکیم ہی کے پاس سے۔

’ جعلہ ‘ میں ضمیر کا مرجع وہ وعدہ نصرت ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ سے جو تمہاری مدد کا خاص طور پر وعدہ فرمایا تو یہ اس لیے کہ یہ تمہارے لیے بشارت کا باعث ہو اور تمہیں مخالفین و منافقین کے رویّے سے جو بد دلی ہوئی ہے وہ دور ہوجائے۔ اگر یہ بشارت نہ بھی اترتی جب بھی اہل ایمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ فتح و نصرت ہمیشہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ عزیز و غالب ہے جس کو چاہے فتح و غلبہ عطا فرمائے، اور حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس آیت پر مزید بحث ہم سورة انفال میں کریں گے۔
Ayah 3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کردے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں۔

لِيَقْطَعَ طَرَفًا الایہ۔ یہ مقصد بیان ہوا ہے اس موقع پر خاص اہتمام کے ساتھ حوصلہ افزائی کا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس جنگ میں یا تو قریش کی قوت بالکل پامال ہوجائے اور وہ ذلیل و خوار ہو کر واپس ہوں یا کم از کم ان کی طاقت کا ایک حصہ ٹوٹ جائے۔
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں، خدا ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے۔ کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

آنحضرت ﷺ کو تسلی : یہ آیت آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہے۔ اس جنگ کے سلسلے میں منافقین نے جو روش اختیار کی اور اپنی روش سے جو اثر دوسرے مسلمانوں پر انہوں نے ڈالا اس کی طرف اشارہ اوپر گزرا۔ قدرتی طور پر اس بات سے نبی ﷺ کو صدمہ پہنچا ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اس معاملے میں نہ تم کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کی تم پر کوئی ذمہ داری ہے۔ تم نے اپنا فرض کما حقہ انجام دے دیا۔ اب اگر کوئی گروہ خود اپنی جان پر ظلم ڈھاتا ہے تو اس کا غم تم کیوں کرو۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے گا۔ یہ توبہ کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔ اور اگر وہ اس کے اہل نہ ہوں گے تو ان کو سزا دے گا۔
Ayah 3:129

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔

آسمان و زمین کا سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ آخر میں اپنی صفاتِ غفور رحیم کا حوالہ دے کر یہ ظاہر فرما دیا کہ خدا غفور رحیم ہے۔ اس وجہ سے اگر وہ کسی کو سزا دے گا تو اسی وقت دے گا جب وہ اس کو سزا کا مستحق پائے گا۔ اگلی آیات 130 تا 143 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے اسی جہاد کے تعلق سے جس کا ذکر ہوا انفاق پر ابھارا ہے، پھر احد کی شکست سے جو بددلی پیدا ہوئی تھی اس کو دور کرنے کے لیے اس کی بعض حکمتیں اور مصلحتیں واضح فرمائی ہیں تاکہ جن مسلمانوں کے اندر کچھ افسردگی پیدا ہوگئی ہے ان کے اندر از سرِ نو انفاق و جہاد کی حرارت پیدا ہوجائے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن سیاق وسباق دلیل ہے کہ روئے سخن خاص طور پر انہی مسلمانوں کی طرف ہے جن سے اس جنگ کے دوران میں کوئی کمزوری صادر ہوئی تھی، یا جنگ کے نتیجہ نے ان کے ذہن پر کوئی برا اثر ڈالا تھا۔ گویا اس جنگ نے بہت سی طبیعتوں کے اس میل کچیل کو اوپر ابھار دیا تھا جو اب تک اندر دبا ہوا تھا اور اب وقت آگیا تھا کہ اس کو دھو کر صاف کیا جائے۔ چناچہ اب آگے کا سلسلہ بیان زیادہ تر اسی نوعیت کا ہے۔ یہ گویا تزکیہ وتطہیر کے باب کا ایک حصہ ہے۔ انفاق کے مضمون کا آغاز سود کی ممانعت کے ذکر سے کیا ہے اس لیے کہ سود خوری اور انفاق میں نسبت ضدین کی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب بہت استعمال ہوا ہے کہ جب ایک چیز بیان ہوتی ہے تو بالعموم اس کے ضد کا بھی اس کے ساتھ ذکر ہوتا ہے۔ چناچہ سورة بقرہ میں بھی انفاق کے ذکر کے ساتھ سود کی حرمت کا ذکر ہوا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ بقرہ میں سود کی حرمت کا ذکر انفاق کے بعد ہے، اور اس سورة میں انفاق سے پہلے ان دونوں اسلوبوں کے الگ الگ فوائد ہیں۔ لیکن اس مسئلے پر بحث کے لیے یہ مقام موزوں نہیں۔ یہاں نظم کلام کی وضاحت کے لیے بس اتنی بات یاد رکھیے کہ انفاق کے حکم سے پہلے سود سے روکنے کی بات بالکل ایسی ہی ہے جس طرح سچ بولنے کی ہدایت سے پہلے جھوٹ سے باز رہنے کی تاکید کی جائے۔ سود اور انفاق کے تعلق پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس موقع پر ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! سود نہ کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

’ اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ‘ کی قید کا مقصد : لفظ ربوا کی تحقیق اور اس سے متعلق دوسرے بعض اہم سوالات پر سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کی جو قید لگی ہوئی ہے اس سے مقصود یہ ہے نہیں کہ اسلام میں ممنوع صرف سود در سود ہے، بلکہ یہ قید، جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں ’ لایسالون الناس الحافا ‘ کے تحت متعدد مثالوں سے واضح کرچکے ہیں، محض صورت حال کی تصویر اور اس کے گھنونے پن کے اظہار کے لیے ہے۔ جس طرح ’ لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا : اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ قید نکاح میں آنا چاہتی ہیں ‘ میں ’ ان اردن تحصنا ‘ کی شرط سے مقصود یہ نہیں ہے کہ اگر وہ قید نکاح میں نہ آنا چاہیں تو ان کو پیشہ کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ مقصود اس سے صرف حال کی تصویر اور اس کے نفر انگیز ہونے کا اظہار ہے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کی قید ہے۔ یہاں اس قید کے نمایاں کرنے میں بلاغت کا ایک نکتہ بھی ہے۔ اوپر ہم ظاہر کرچکے ہیں کہ یہاں اصل مضمون جو بیان ہو رہا ہے وہ جہاد کے سلسلہ سے انفاق کا ہے۔ اس کی تمہید کے طور پر یہ سود خوری کی ممانعت کا ذکر ہوا ہے اس لیے کہ یہ انفاق کا ضد ہے۔ انفاق کا ذکر یہاں جس نوعیت سے ہوا ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کو اس راہ میں مسابقت یعنی ایک دوسرے کے مقابل میں بڑھنے، بازی لے جانے اور میدان مارنے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا اہل ایمان کے لیے مقابلہ و مسابقت کا میدان اگر ہے تو یہ ہے۔ چناچہ اس مضمون کی تمہید ”سَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ الایہ : اور مسابقت کرو اپنے رب کی رحمت اور ایسی جنت۔۔۔“ ہے۔ یہ مضمون اس بات کا مقتضی ہوا کہ اس میدانِ مسابقت کی دعوت دینے سے پہلے لوگوں کو اس میدان سے موڑا جائے جس میں یہودی ساہو کار اور مہاجن اب تک ایک دوسرے پر سبقت کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی عربوں کو بھی اس کا چسکا لگ رہا تھا۔ عربی زبان کا جن لوگوں کو کچھ ذوق ہے وہ اندازہ کرسکیں گے کہ سود خوری کے میدان میں اس مسابقت کا اظہار اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کے الفاظ سے ہورہا ہے۔ اگر یہ الفاظ نہ ہوتے تو یہ حقیقت پوری طرح سامنے نہ آتی۔ قرآن نے یہ چاہا ہے کہ لوگ اس ناپاک میدان میں اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً کی غلاظت کا انبار جمع کرنے کے بجائے اس جنت کے لیے بازیاں لگائیں جس کی پہنائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔
Ayahs 3:131–132

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار ہے۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ کا ٹکڑا اس سیاق میں اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اس تنبیہ کے بعد بھی جو لوگ سود خوری پر مصر رہیں گے وہ کافر ہیں اور ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے اس نکتہ پر ہم سورة بقرہ میں بحث کرچکے ہیں۔ درحقیقت ایسے لوگ اپنی آگ کے لیے اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ایندھن خود فراہم کر چھوڑتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی آگ بالکل تیار ہے۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کے لیے مسابقت کرو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار ہے۔

جنت کی وسعت کی ایک تمثیل : یعنی سود کے ذریعہ سے اگر بہت تیر ماروگے تو ایک کا دس یا بیس یا سو یا ہزار بنا لوگے اور اس کا نفع بہرحال اسی زندگی تک محدود رہے گا۔ آخرت میں یہ سارا اندوختہ تمہارے جلانے کے لیے ایندھن بنے گا۔ برعکس اس کے اگر اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو اس کے بدلے میں خدا کی مغفرت کے حق دار اور اس کے نتیجے میں ایسی وسیع جنت کے وارث ٹھہروگے جس کی وسعت کے آگے تمام آسمانوں اور پوری زمین کی وسعت گرد ہو کے رہ جائے گی۔ پھر ایک بند گلی کی ایک محدود تنگ نائے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے کے بجائے ابدی زندگی کی یہ ناپید اکنار بادشاہی حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کیوں نہ کرو۔ یہی مضمون سورة حدید میں اس طرح آیا ہے ”اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الأمْوَالِ وَالأوْلادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ (20) سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالأرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (21): جان رکھو کہ یہ دنیا کی زندگی، لہو ولعب، زینت، باہمی تفاخر، مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے کا مقابلہ، اس کی تمثیل اس بارش کی ہے جس کی اگائی ہوئی نباتات کسانوں کے دل موہ لیں۔ پھر وہ خشک ہو کر رہ جائیں پھر تو دیکھے ان کو زرد، پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور آخرت میں سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی ہے اور یہ دنیا کی زندگی محض دھوکے کی ٹٹی ہے۔ مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کی طرح ہے یہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ دے گا جس کو چاہے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے“ (حدید :20-21)۔ جنت کی وسعت کی یہ تمثیل بھی بہرحال ایک تمثیل ہی ہے جس سے انسان اس کی وسعت کا بس ایک دھندلا سا تصور کرسکتا ہے۔ اصل حقیقت اس کی وسعت کی کیا ہے۔ یہ صرف اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن اس وسعت کے باوجود انسان اگر چاہے تو خدا کی راہ میں انفاق کر کے اس کو خرید سکتا ہے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے جو کشادگی اور تنگی ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں، غصہ کو ضبط کرنے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ الایہ میں اس انفاق کی بعض وہ خصوصیات بیان کردی گئی ہیں جن کے اہتمام کے بغیر نہ تو انفاق کا حق ادا ہوتا ہے اور نہ اس انفاق کو احسان کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان خصوصیات پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں غصہ کو دبانے اور لوگوں سے درگزر کرنے کی جو تاکید ہے اس کا خاص پہلو ہے۔ اس کی توجیہ آیات 262۔ 265 بقرہ کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 3:135–136

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

یہ لوگ جب کسی کھلی برائی کا ارتکاب یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشے۔ اور یہ جانتے بوجھتے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ ان کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کے لیے !۔

تفسیر 135-136۔ انفاق کی ایک راہ کی ایک مزاحمت : یہ راہ انفاق کی ایک نہایت اہم مزاحمت کا بیان ہے جس طرح سود خوری کی علت روپے کی ایسی تونس پیدا کردیتی ہے کہ آدمی کے لیے کسی اچھے کام میں خرچ کرنا پہاڑ ہوجاتا ہے اسی طرح بدکاری اور عیاشی کی چاٹ بھی کسی نیکی کے کام میں خرچ کرنے کی راہ بند کردیتی ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں اس طرح بےبس ہوجاتے ہیں کہ ان کو کسی اور طرف نگاہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ اس وجہ سے قرآن نے انفاق کی تعلیم کے سلسلے میں جہاں سود خوری سے روکا ہے وہین بدکاری و بےحیائی اور اس کے لازمی نتیجہ اسراف و تبذیر سے بھی روکا ہے۔ بقرہ کی آیت 268 کے تحت ہم اس پر بحث کر آئے ہیں۔ مزید بحث اس پر بنی اسرائیل کی آیت 26۔ 27 کے تحت آئے گی۔ فرمایا کہ اس انفاق کی راہ میں وہی لوگ بڑھ سکیں گے جو بدکاری و عیاشی کی لت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں گے۔ جو لوگ جانتے بوجھتے اپنے گناہوں پر اصرار کیے چلے جائیں گے وہ اپنے اوپر اس سعادت کے دروازے بند کرلیں گے۔ سعادت کی راہ یہ ہے کہ آدمی اگر غلبہ جذبات سے کسی بڑے یا چھوٹے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو خدا کی یاد اس کو چوکنا کردے اور وہ فوراً اس سے معافی مانگے۔ خدا کے سوا کوئی نہیں ہے جو معافی دے سکے۔ جو لوگ دوسروں کی سفارش کی امید پر گناہوں کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں، وہ صرف اپنی شامت اعمال سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔

’ سنن ‘ کا مفہوم : ’ سنن ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ ضابطے اور قاعدے ہیں جن کے تحت وہ قوموں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ ایک قوم اگر اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات کی تعمیل اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو برومند اور کامیاب کرتا ہے۔ برعکس اس کے اگر کوئی قوم خدا کے احکام و قوانین کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کردیتا ہے۔ اس سنت کے مظاہر خدا کی زمین میں بیشمار ہیں۔ سرزمینِ عرب میں بھی، جس کے بسنے والے اس آیت میں مخاطب ہیں، اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے مظاہر عاد، ثمود، اہل مدین، قوم لوط وغیرہ کے آثار کی شکل میں موجود تھے۔ عدلِ الٰہی کے انہی مظاہر کو یہاں ”سنن“ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ اس مفہوم میں بار بار استعمال ہوا ہے۔ ”سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل : یہ اللہ کی سنت رہی ہے گزشتہ قوموں میں“ (احزاب :28)۔ ”فھل ینظرون الا سنۃ الاولین : یہ لوگ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے لیے بھی اللہ کی وہی سنت ظاہر ہوجائے جو اگلوں کے لیے ظاہر ہوئی“ (فاطر :13) سود خوری کی ممانعت اور اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت کے بعد یہ دو آیتیں تنبیہ و تہدید کی نوعیت کی ہیں۔ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں کہ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن پیش نظر خاص طور پر وہ لوگ ہیں جو یا تو ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے تھے یا صریح نفاق میں مبتلا تھے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کے انجام کا اندازہ کرنے کے لیے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے اپنے ہی ملک میں کافی سامانِ عبرت موجود ہے۔
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ تنبیہ ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت و نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لیے۔

یہ واضح تنبیہ ہم نے نازل کردی ہے اس میں ان لوگوں کے لیے ہدایت و نصیحت کا پورا سامان موجود ہے جن کے اندر خدا کا خوف ہے۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمہی غالب رہو گے۔

’ وھن ‘ کا مفہوم : ’ دھن ‘ کے معنی ضعف کے ہیں۔ عام اس سے کہ یہ ضعف عمل کا ہو یا ارادے کا، جسم کا ہو یا کردار و اخلاق کا۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ ؓ سے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تم سیلاب کے خس و خاشاک کے مانند ہوجاؤگے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا تمہارے اندر ’ وہن ‘ پیدا ہوجائے گا۔ لوگوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! وہن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا، حب الدنیا و کراھۃ الموت، دنیا کی محبت اور موت کا ڈر، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزم و حوصلہ اور عمل و ارادہ کی وہ پستی جو دنیا اور دنیا کی زندگی کی محبت اور موت کے خوف سے پیدا ہوتی ہے اور انسان کو راہ حق میں جہاد سے روکتی ہے وہ ’ وہن ‘ ہے۔ یہ حدیث اس لفظ کی بہترین تشریح ہے۔ یہاں بھی ’ لاتھنوا ‘ سے یہی مراد ہے کہ احد میں جو افتاد تمہیں پیش آئی ہے اس سے مرعوب اور خوف زدہ ہو کر ہمت نہ ہار بیٹھو۔ گویا پوری بات یوں ہے لاتھنوا مما اصابکم ولا تحزنوا علی ما فاتکم، نہ اس شکست کے کے سبب سے جو تمہیں پیش آئی ہے حوصلہ ہارو اور نہ اس نقصان کا جو تمہیں پہنچا غم کرو۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی چوٹ پہنچے تو اس سے پست ہمت نہ ہو آخر دشمن کو بھی تو اسی طرح کی چوٹ پہنچی ہے۔ یہ ایام اسی طرح ہم لوگوں کے اندر الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان کرے اور ممیز کردے ایمان والوں کو، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

’ القوم ‘ سے مراد : ’ القوم ‘ کا لفظ اس سیاق وسباق میں جب آتا ہے تو اس سے مراد حریف مقابل اور دشمن ہوتا ہے۔ یہاں اشارہ کفار قریش کی طرف ہے۔ ’ الایام ‘ سے مراد : الایام جب اس طرح جمع کی شکل میں آتا ہے تو اس سے مراد تاریخ کے وہ دن ہوتے ہیں جن میں بڑے بڑے واقعات و حوادث پیش آئے ہوں۔ ایام العرب سے مراد اہل عرب کی جنگیں ہیں۔ قرآن میں ہے وذکرہم بایام اللہ یعنی دنیا میں قوموں پر اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کے جو بڑے بڑے واقعات پیش آئے ہیں ان کے ذریعہ سے لوگوں کو یاد دہانی کرو۔ آیت زیر بحث میں بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس طرح کے فتح وشکست کے جو واقعات پیش آتے ہیں، یہ ہر قوم کو پیش آتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے قانونِ آزمائش کے تحت پیش آتے ہیں۔ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ الآیہ کا معطوف علیہ یہاں مذکور نہیں ہے۔ ہم اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ذکر کرچکے ہیں کہ جب اس طرح عطف آئے تو اس کا معطوف علیہ محذوف ہوتا ہے اور وہ قرینہ سے معین ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے پہلے لنبتلیکم محذوف ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ ’ شہداء ‘ سے مراد : وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ میں شہدا سے مراد اللہ کی راہ میں شہادت کا درجہ حاصل کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو شہید کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس امت پر شہادت علی الناس کی جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اس کا حق یہ جان دے کر کرتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ مستحق ٹھہرے کہ ان کو شہید کے لقب سے ملقب کیا جائے۔ یہ گویا لفظ کا استعمال اس کے حقیقی مصداق کے لیے ہے۔ اس ٹکڑے سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شہادت کا مرتبہ ایسا عالی مرتبہ ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے اندر اسکی طلب اتنی شدید تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس میدان میں گوئے مسابقت لے جانے والوں کے شوق و جذبہ کی تسکین کے لیے موقع فراہم فرمائے۔ چناچہ احد میں جو افتاد پیش آئی اس میں جہاں دوسری حکمتیں اور مصلحتیں تھیں وہاں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ جن کے لیے یہ منصب عالی مقدر ہے وہ اس موقع پر اس سے سرفراز ہوجائیں۔
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ مومنوں کو چھانٹ کر الگ کردے اور کافروں کو مٹا دے۔

’ تمحیص ‘ کا مفہوم : وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الایۃ میں تمحیص کے معنی کسی چیز کو میل کچیل اور کھوٹ سے بالکل پاک صاف کردینا ہے محص الذھب بالنار کے معنی ہوں گے سونے کو غل و غش اور کھوٹ سے پاک صاف کردیا۔ آیات 139 تا مذکورہ آیت کے الفاظ کی تحقیق کے بعد اب ان آیات کے مطالب ترتیب کے ساتھ ہم پیش کرتے ہیں۔ احد کی شکست سے کمزور قسم کے لوگوں پر جو دل شکستگی طاری ہوئی اس نے بہت سے ذہنوں میں یہ خیال بھی پیدا کردیا کہ اسلام کے لیے فتح و غلبہ کی جو بشارتیں سنائی جاتی رہی ہیں وہ سب بس یوں ہی پا در ہوا باتیں تھیں۔ مقصود ان سے محض اپنی ہوا باندھنا اور لوگوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اب ساری حقیقت کھل گئی۔ منافقین اور مخالفین نے موقع غنیمت پا کر اس خیال کو خوب ہوا دی تاکہ مسلمانوں کو اسلام کے مستقبل کی طرف سے بالکل مایوس کردیں۔ قرآن نے یہاں اس پروپیگنڈے کا رد کیا اور مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ احد کے حادثہ سے دل شکستہ اور پست ہمت نہ ہو۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں غالب اور سربلند، جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے، تمہی رہو گے بشرطیکہ تم سچے اور پکے مومن بن جاؤ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے جیسا کہ جنگ احد میں پہنچ گیا تو یہ کوئی مایوس ہوجانے کی بات نہیں ہے۔ تمہارے دشمنوں کو بھی خود اسی جنگ میں اور اس سے پہلے بدر میں کافی چوٹ پہنچ چکی ہے۔ فتح و شکست کے یہ رد و بدل جو ہوتے ہیں خدا کی حکمت کے تحت اور اس کے حکم سے ہوتے ہیں، ان سے یہ نتیجہ نکال لینا جائز نہیں ہے کہ خدا کی سنت میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے اور اب وہ نیکوں کے بجائے بدوں کو ہی پیار کرنے لگا ہے بلکہ اس سے مقصود لوگوں کو جانچنا پرکھنا اور ان کی صلاحیتوں کو ابھارنا ہوتا ہے۔ اسی سے سچے اور کچے، مخلص اور منافق میں امتیاز ہوتا ہے اور حق کے لیے جان کی بازی کھیلنے والے شہدا کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔ توحید سے مقصود کفر کو مٹانا ہے : پھر فرمایا کہ یہ نہ خیال کرو کہ احد میں اگر قریش کو فتح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اب اہل ایمان کے بجائے ان ظالموں ہی سے محبت کرنے لگا ہے بلکہ درحقیقت یہ بھی اہل کفر کو مٹانے ہی کی ایک تدبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو امتحان کی بھٹی سے گزار کر یہ چاہتا ہے کہ ان کے اندر سے ہر قسم کا کھوٹ نکال کر ان کو بالکل زرِ خالص بنا دے اور کفر واہل کفر سے ان کو چھانٹ کر بالکل الگ کردے۔ اس علیحدگی کے بعد اہل ایمان اس زنجیر سے بالکل آزاد ہوجائیں گے جو ان کی ترقی میں مزاحم ہے اور ساتھ ہی پھر اہل کفر کا مٹ جانا بھی قطعی ہے، کیونکہ اس دنیا میں باطل صرف اسی وقت تک باقی رہ سکتا ہے جب تک اس کو کچھ حق کا سہارا حاصل رہے۔ اگر حق کا سہارا اس سے بالکل ہی چھن جائے تو اس کا نابود ہوجانا یقینی ہوجاتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے، اس وجہ سے کسی باطل مجرد کی پرورش اس کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ تمحیص کے ذکر کے بعد یمحق الکفرین سے اسی فلسفہ کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد اہل کفر پر جو عذاب آتا ہے اس میں بھی یہی رمز ہے۔ تفصیل اس کی سورة براءت میں آئے گی۔
Ayahs 3:142–143

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو ممیز نہیں کیا جنہوں نے جہاد کیا اور تاکہ ممیز کرے ثابت قدم رہنے والوں کو۔

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے ملنے سے پہلے سو اب تم نے اس کو دیکھ لیا، آنکھیں چار کر کے۔

’ علم یعلم ‘ کے مختلف معانی پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ ممیز کرنے اور چھانٹ کر الگ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ کے بعد اس کا مقابل جملہ الذین لم یجاھدوا عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق حذف کردیا گیا ہے وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ میں یَعْلَمَ کے فتحۃ کے بارے میں لوگوں نے مختلف توجیہیں پیش کی ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس کا عطف اوپر وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا پر ہے۔ وہاں چونکہ کلام قانون ابتلا کی دوسری حکمتوں کے بیان کی طرف مڑ گیا تھا اس وجہ سے صبر کے ذکر کو مضمونِ جہاد سے وابستہ کردیا لیکن اس کے فتحۃ سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ آزمائش کر کے اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو چھانٹنا چاہتا ہے ان میں صابرین بھی ہیں۔ راہِ حق میں آزمائشیں ناگزیر ہیں : احد کی شکست سے جو لوگ بد دل ہوئے تھے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ گمان تھا کہ حق کی راہ خطرات اور آزمائشوں سے خالی ہے اور تم اسلام کا دعویٰ کر کے ایک ٹھنڈی سڑک سے سیدھے سیدھے جنت میں جا براجوگے تو تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ خدا کی جنت میں کوئی شخص اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب ت امتحان سے یہ متعین نہ ہوجائے کہ یہ اللہ کی راہ میں جہاد کا ولولہ رکھتا ہے یا نہیں اور حق کے لیے آزمائشوں کی تاب لا سکتا ہے یا نہیں۔ چناچہ اسی چیز کی جانچ کے لیے تمہیں یہ حد کی آزمائش پیش آئی۔ اب تک تمہاری طرف سے جہاد کے لیے بڑے جوش و خروش کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس کی نوعیت صرف زبانی جمع خرچ کی تھی۔ ضرورت ہے کہ سچے اور جھوٹے، عاشق صدق اور بوالہوس کے درمیان امتیاز کے لیے کوئی ایسا موقع پیش آئے جب موت سے رو در رو ہو کر تمہیں لڑنا پڑے۔ چناچہ یہ موقع اللہ نے تمہیں دکھا دیا اور تمہارے کھرے اور کھ ﷺ تے میں امتیاز کی ایک کسوٹی سامنے آگئی۔ یہ بات یہیاں یاد رکھنے کی ہے کہ جو لوگ دل کے کمزور تھے بالعموم وہ زبان سے شوق جہاد کا اظہار زیادہ کرتے تھے تاکہ ان کی کمزوری پر پردہ پڑا رہے۔ سورة نساء میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ ہے أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلا تُظْلَمُونَ فَتِيلا (77): کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا۔ جن سے کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح خدا سے ڈرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہتا ہے کہ اے رب تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی، کچھ دن اور مہلت کیوں نہ دی ؟ اگلی آیات 144 تا 148: آگے کی آیات میں پہلے یہ غلط فہمی دور فرمائی کہ محمد ﷺ کوئی مافوق بشر ہستی نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں جس طرح بہت سے رسول گزر چکے ہیں اس طرح ایک دن ان کو بھی بہرحال وفات پانا ہے اور اس کا بھی امکان ہے کہ وہ شہید کردئیے جائیں لیکن اللہ کے دین کو ہمیشہ باقی رہنا ہے تو اس دین کے ساتھ آدمی کی وابستگی اس مفروضہ پر مبنی نہیں ہونی چاہئے کہ آپ اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ اس غلط فہمی کی اصلاح اس لیے ضرور تھی کہ اگر اس قسم کا کوئی وہم دلوں میں چھپا ہوا رہتا تو آپ کی وفات پر سب کے دل بیٹھ جاتے اور منافقین و معاندین، اسلام کی مخالفت میں اس سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے۔ چناچہ جوں ہی اس غلط فہمی کی موجودگی کے کچھ آثار نمایاں ہوئے قرآن نے اس کی اصلاح فرما دی۔ روایات میں آتا ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو یہ خبر بھی مشہور ہوگئی کہ خود سرور عالم ﷺ بھی شہید ہوگئے۔ اس اندوہناک خبر نے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے پست کردیے۔ انہوں نے خیال کیا کہ جب حضور ہی شہید ہوگئے تو اب بھلا کیا ہوسکتا ہے۔ اگرچہ ذی ہوش لوگوں نے یہ کہہ کر حالات کو سنبھالا کہ جب حضور شہید ہوگئے تو ہمارے زندہ رہنے سے کیا حاصل، ہمیں بھی اسی مقصد حق کے لیے شہید ہوجانا چاہئے جس کے لیے حضور شہید ہوئے، تاہم مسلمانوں کے اندر یہ ایک ایسی کمزوری نمایاں ہوئی تھی جس کی بروقت اصلاح خود قرآن کی زبان سے ضروری تھی تاکہ آئندہ کے لیے فتنوں کا سدباب ہوجائے۔ اس کے بعد پچھلے انبیا اور ان کے جاں نثار صحابہ کا ذکر بطور مثال کیا ہے کہ انہیں بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا پڑا، اور اس راہ میں انہیں تکلیفیں اور مصیبتیں بھی پہنچیں لیکن وہ دل شکستہ نہ ہوئے تو پھر تم کو اگر شکست ہوئی یا تمہارے پیغمبر کو کوئی تکلیف پہنچی تو تم کیوں دل شکستہ ہوتے ہو تم بھی انہی کی روش اختیار کرو جب کہ اسی کام کے لیے ا تھے ہو جس کے لیے وہ اٹھے تھے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔ ارشاد ہے۔
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

محمد تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا گئے یا قتل کردئیے گئے تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤ گے جو پیٹھ پیچھے پھرجائے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر گزاروں کو صلہ عطا فرمائے گا۔

’ عقب ‘ کے معنی ایڑی کے ہیں۔ انقلب علی عقبیہ پیٹھ پیچھے پھرنے کی تعبیر ہے۔ یہاں اس سے مراد اسلام کو چھوڑ کر پھر جاہلیت کی طرف مڑ جانا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں بہت سے رسول گزرے ہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی اللہ کے ایک رسول ہیں۔ جس طرح کی آزمائشیں اور مصیبتیں دوسرے رسولوں کو پیش آئیں اسی طرح کی آزمائشیں اور مصیبتیں انہیں بھی پیش آسکتی ہیں۔ جس طرح تمام رسولوں کو موت کے مرحلہ سے گزرنا پڑا انہیں بھی ایک دن وفات پانا ہے۔ ان کے رسول ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ وفات نہیں پائیں گے یا قتل نہیں ہوسکتے یا کسی مصیبت یا ہزیمت کا ابتلا انہیں پیش نہیں آسکتا۔ اگر کسی نے اس غلط فہمی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور اب احد کے حادثے کے بعد کسی تذبذب میں مبتلا ہوگیا ہے اور وہ از سرِ نو جہلیت کی زندگی کی طرف پلٹ جانا چاہتا ہے تو پلٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا بلکہ اپنی ہی دنیا اور آخرت برباد کرے گا۔ جو لوگ اسلام کو دیکھ کر بھی جاہلیت اور اسلام کے فرق کو سمجھ نہ سکے اور اسلام کے قدردان نہ بنے اللہ کو ان کی کو چھ پروا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا حق دار ان کو سمجھتا ہے جو اسلام کی نعمت پانے پر اپنے رب کے شکر گزار ہیں، جاہلیت کی طرف باز گشت کا ان کے ذہن میں خیال بھی نہیں گزرتا۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق۔ جو دنیا کا صلہ چاہتے ہیں ہم انہیں دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو اجرِ آخرت کے طالب ہیں ہم انہیں اس میں سے دیں گے اور ہم شکر گزاروں کو بھر پور صلہ دیں گے۔

كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا، اس طرح کی ترکیب ہے جس طرح وعد اللہ یا صنع اللہ الذی اتقن وغیر ہے۔ اس آیت میں کمزور اور منافق قسم کے لوگوں کی دو کمزوریوں کی نشان دہی کی ہے۔ منافقین کی دو خاص کمزوریاں : ایک یہ کہ یہ اس بات پر عقیدہ نہیں رکھتے کہ ہر شخص کی موت کے لیے ایک نوشتہ الٰہی ہے، جب تک اس نوشتہ کی مقررہ مدت پوری نہیں ہوگی اس وقت تک کسی کی موت نہیں آسکتی، اسی طرح جب نوشتہ پورا ہوجائے گا تو کسی کی موت ایک منٹ کے لیے ٹل بھی نہیں سکتی۔ اس وجہ سے خدا کے مقرر کردہ فرائض سے فرار کے بجائے آدمی کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ عزم و جزم کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے اور موت کے معاملے میں اطمینان رکھے کہ اس کا وقت بھی خدا کے ہاں لکھا ہوا ہے اور اس کی شکل بھی متعین ہے۔ دوسری کمزوری یہ ہے کہ یہ اپنے دنیوی مفادات کو تمام تر اپنی سعی و تدبیر ہی پر منحصر سمجھتے ہیں اور یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ اگر آخرت کے پیچھے زیادہ پڑے تو دنیا سے یک قلم محروم ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ خدا دنیا کے طالبوں کو دنیا میں سے اتنا ہی حصہ دیتا ہے جتنا ان کے لیے مقدر ہوتا ہے اور وہ آخرت کے اجر سے بالکل ہی محروم رہتے ہیں۔ برعکس اس کے جو آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آخرت کے انعامات سے بھی نوازتا ہے اور دنیا میں سے بھی ان کو اتنا دیتا ہے جتنا ان کے لیے مقدر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے صحیح رویہ یہ نہیں ہے کہ آدمی آخرت کو چھوڑ کر صرف دنیا کا بندہ بن کر رہ جائے بلکہ یہ ہے کہ آخرت کا طالب بنے اور دنیا میں سے اللہ تعالیٰ جو کچھ بخشے اس پر قناعت کرے۔ آگے کی آیت میں اس مضمون کی وضاحت آرہی ہے۔ وَ سَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ میں قرینہ دلیل ہے کہ فعل اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور ”شاکرین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کے دل سے قدر دان ہیں جو انہیں آخری اور کامل ہدایت کی صورت میں ملی ہے۔ فرمایا کہ ہم انہیں اس قدر دانی کا بھر پور صلہ دیں گے۔ رہے وہ لوگ جو اس روشنی کو دیکھ کر بھی ظلمت ہی کے طالب ہیں وہ تاریکی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دئیے جائیں گے۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور کتنے انبیا گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو وہ ان مصیبتوں کے سبب سے جو انہیں خدا کی راہ میں پہنچیں نہ تو پست ہمت ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے گھٹنے ٹیکے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

’ وہن ‘، ’ ضعف ‘ اور ’ استکانت ‘ کا مفہوم : ’ رِبّی ‘ اور ’ وھن ‘ کے الفاظ پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ وہن، ضعف اور استکانت کے الفاظ اگرچہ اظہارِ کمزوری کے مفہوم کے لیے کچھ مشترک سے ہیں لیکن ان تینوں میں ایک نازک سا فرق بھی ہے۔ موت سے خوف اور زندگی کی محبت سے دل میں جو بزدلی پیدا ہوتی ہے، یہ وہن ہے۔ اس وہن سے ارادے اور عمل میں جو تعطل پیدا ہوتا ہے وہ ضعف ہے۔ اس ضعف سے حریف کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کا جو نتیجہ ظہور میں آتا ہے وہ استکانت ہے۔ انبیاء اور ان کے صحابہ کی ایک سنت : آیت کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ میں اس سے پہلے بھی ایسی مثالیں گزر چکی ہیں کہ اللہ کے نبیوں نے جہاد کیا اور اس جہاد میں اللہ کے بہت سے نیک بندوں نے ان کا ساتھ دیا ہے اور انہیں اس راہ میں مصیبتوں اور ہزیمتوں سے بھی سابقہ پیش آیا ہے لیکن اس چیز کا اثر ان پر یہ نہیں پڑا کہ وہ ہمت ہار جائیں، تھڑ دلا پن دکھائیں یا دشمن کے آگے گھٹنے ٹیک دیں بلکہ انہوں نے راہ حق میں استقامت دکھائی اور اللہ ایسے ہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔ یہ اشارہ ان جنگوں کی طرف جو حضرت موسیٰ ، حضرت داود، حضرت سلیمان ؑ اور بعض دوسرے انبیا کو لڑنی پڑیں۔ حضرت سموئیل کے زمانے کی ایک جنگ کا، جو غزوہ بدر سے مشابہ تھی، ذکر سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے مقصود اس اشارے سے ان لوگوں کو جو احد کی شکست سے بد دل ہو رہے تھے اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ نہ تو نبی اور اس کے صحابہ کے لیے جنگ کا پیش آنا کوئی انوکھی بات ہے اور نہ مصائب و شداید سے ان کا گزرنا کوئی نیا حادثہ ہے۔ یہ انبیا کی ایک سنت اور خدا کے قانونِ ابتلا کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو نبی ہوتا ہے وہ اور اس کے ساتھی امتحان سے گزرے بغیر ہی منزل پر جا پہنچتے ہیں۔ اللہ کو محبوب تو صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں استقامت دکھائیں نہ کہ ہر مدعی دینداری پھر جھوٹے اور سچے میں امتیاز آخر اس امتحان کے بغیر کیسے ہوگا ؟
Ayahs 3:147–148

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

ان کی دعا تو ہمیشہ بس یہ رہی کہ اے رب ہمارے گناہوں اور ہمارے معاملے میں ہماری بےاعتدالیوں کو بخش دے، ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں کے مقابل میں ہماری مدد فرما۔

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو اللہ نے ان کو دنیا کا صلہ بھی عطا فرمایا، اور آخرت کے اچھے اجر سے بھی نوازا۔ اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر آیت 148-149: وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا الایہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں جب مصیبتیں اور آزمائشیں پیش آئیں تو انہوں نے اس طرح کی باتیں نہیں بنائیں جس طرح کی باتیں آج کمزور قسم کے مسلمان اور منافق لوگ بنا کر پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا کر رہے ہیں، بلکہ جو افتاد انہیں پیش آئی اس کو انہوں نے خدا، اور رسول کی طرف منسوب کرنے کے بجائے خود اپنی کمزوری اور اپنے تجاوز پر محمول کیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی مانگی۔ اس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ دنیا میں بھی خدا نے ان کو اقتدار اور حکومت سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں بھی ان کے لیے نہایت اعلی صلہ و انعام موجود ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو مرتبہ احسان پر فائز ہیں اور اللہ ایسے ہی خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔ ۔۔۔ اگلی آیات 149 تا 155 کا مضمون : آگے بھی انہی کمزوریوں پر تبصرہ ہے جو جنگ احد اور اس کی شکست سے ابھر کر سامنے آئی تھیں۔ قرآن نے ان میں سے ایک ایک کو لے کر ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کی اصلاح کی تدبیریں بتائی ہیں اور اس آزمائش سے مسلمانوں کی تربیت و تطہیر کے جو مصالح پورے ہوئے ہیں ان کی طرف اشارے فرمائے ہیں۔
Ayahs 3:149–150

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو، اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو یہ تمہیں پیٹھ پیچھے لوٹا کے رہیں گے اور تم نامراد ہو کے رہ جاؤ گے۔

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

تمہارا مولی تو اللہ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔

تفسیر آیت 149-150: احد کی شکست کے بعد کفار اور یہود نے یہ چاہا کہ بدر کی فتح کے اثرات کو یک قلم مٹا کے رکھ دیں گے۔ چناچہ انہوں نے اپنے منظم پروپیگنڈے سے مسلمانون کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ محمد خدا کے کوئی فرستادہ ہیں اور ان کو خدا اور فرشتوں کی مدد حاصل ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو تم احد میں شکست کیوں کھاتے ؟ بدر میں تم نے فتح حاصل کی، احد میں ہم فتحمند رہے۔ یہ تدبیر اور وسائل کا کھیل ہے۔ اس کو خدا اور اس کے فرشتوں سے وابستہ کردینا اور اپنے آپ کو خدا کی مدد کا اجارہ دار سمجھ بیٹھنا محض طفلانہ خام خیالی ہے۔ پروپیگنڈے کا جواب : کفار کا یہ پروپیگنڈا ان مسلمانوں پر اثر انداز ہوا جو کمزور قسم کے تھے۔ منافقین نے بھی اپنی وسوسہ اندازیوں سے اس کو تقویت پہنچائی۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ اگر تم نے ان کفار کی باتوں کا اثر قبول کیا تو یہ تم کو پھر اسی جاہلیت کی تاریکی میں واپس لے جائیں گے جس سے نکال کر خدا تمہیں اسلام کی روشنی میں لایا ہے اور تمہاری کامیابی پھر نامرادی سے بدل جائے گی۔ تمہارے ولی و مرجع یہ کفار نہیں ہیں کہ تم اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں ان سے رجوع کرو اور ان سے رہنمائی چاہو بلکہ تمہارا مرجع و مولی اللہ ہے، تم اس کی طرف رجوع کرو اور اس سے مدد چاہو، وہ بہترین مددگار ہے۔ اوپر لاتتخذوا بطانۃ والی آیت میں بھی یہی مضمون گزر چکا ہے۔
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم ان کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے

یعنی اس وقت ذرا ان کا حوصلہ جو بڑ گیا ہے تو یہ محض ایک وقتی اور عارضی نشہ ہے۔ اس کی کوئی پائیدار بنیاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد ان کے حوصلے پست کردے گا اور ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کا رعب ڈال دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے جن کی کوئی شہادت نہ تو عقل و فطرت کے اندر موجود ہے، نہ نظام کائنات میں اور نہ خدا کے اتارے ہوئے صحیفوں میں۔ ایسی وہمی چیزیں اول تو حقائق کے مقابلے میں کچھ سہارا نہیں دے سکتیں، دوسرے اتنے مختلف دیوتاؤں کے ساتھ ان کی وابستگی ان کے دلوں اس طرح منتشر اور پراگندہ کیے ہوئے ہے کہ ان کو وہ دل جمعی، یکسوئی کبھی حاصل ہی نہیں ہوسکتی جو تمام عزم اور حوصلے کی بنیاد ہے۔ آیت میں ’ ظالمین ‘ سے مراد مشرکین ہیں۔ شرک کو ظلم سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر ہر دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ ازانجملہ یہ بات بھی ہے کہ شرک در حقیقت انسان کا خود اپنے نفس پر بہت بڑا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات سے اشرت بنایا ہے۔ اس شرف کا احساس ہی ہے جس کے اندر اس کی تمام قوت و عظمت کا راز مضمر ہے۔ انسان جب اپنے سے فروتر مخلوق کو اپنا راز و حاکم مان کر اس کی پرستش کرنے لگتا ہے تو گویا وہ شاہین ہو کر کنجشکِ فرومایہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے اور اس طرح نہ صرف اپنی شاہینی کھو دیتا ہے بلکہ کنجشک سے بھی زیادہ حقیر و فرومایہ ہو کر رہا جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث مکی سورتوں میں آئے گی۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور اللہ نے تو تم سے جو وعدہ کیا وہ سچ کر دکھایا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے تہ تیغ کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم خود ڈھیلے پڑگئے اور حکم میں تم نے اختلاف کی اور رسول کی نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی تھی جس کے تم تمنائی تھے۔ تم میں کچھ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کے۔ پھر خدا نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور اللہ مسلمانوں پر فضل فرمانے والا ہے۔

’ حَسَّ یَحِسُّ ‘ کا مفہوم : ’ حس یحس ‘ کے معنی دشمن کو اس طرح قتل کرنے کے ہیں کہ اس کو بالکل پامال اور اس کا استیصال کردیا جائے۔ ’ باذنہ ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ شاندار نتیجہ صرف تمہاری تدبیر اور تمہاری قوت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت کا کرشمہ تھا۔ ’ فشل ‘ کا مفہوم : فشل کے معنی سست پڑجانے، ڈھیلے پڑجانے اور کمزوری دکھانے کے ہیں۔ ’ مَّا تُحِبُّوْنَ ‘ کا مفہوم : مَّا تُحِبُّوْنَ میں اشارہ فتح کی تمنا کی طرف ہے۔ قرآن نے بعض جگہ اس ابہام کو کھول دیا بھی دیا ہے۔ مثلاً سورة صف میں ہے ’ واخری تحبونہا نصر من اللہ و فتح قریب : اور دوسری ایک اور چیز بھی جس کو تم محبوب رکھتے ہو، یعنی اللہ کی مدد اور جلد حاصل ہونے والی فتح“۔ اب یہ س پروپیگنڈے کی تردید ہو رہی ہے جو کفار و منافقین نے پھیلانا شروع کیا تھا کہ مسلمان خوامخواہ کو اس خبط میں مبتلا ہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگر مدد کرتے ہیں تو یہ مدد احد میں کہاں چلی گئی ؟ اوپر آیت 149 کے تحت ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ کمزور قسم کے مسلمان اس پروپیگنڈے سے مسموم ہوئے۔ اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے قرآن نے آگاہ فرمایا کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت کے پورے ہونے کا تعلق ہے وہ تو احد میں بھی پورا ہوا، اس لیے کہ شروع شروع میں تم نے کفار کو خوب تہ تیغ کیا، یہاں تک کہ وہ پسپا ہوگئے اور فتح بالکل تمہارے سامنے تھی لیکن قبل اس کے کہ تم دشمن کو اچھی طرح کچل کے اس کو ہتھیار ڈال دینے پر مجبور کردیتے، تم ڈھیلے پڑگئے۔ رسول ﷺ نے پشت کے درے کی حفاظت پر جن لوگوں کو اس قطعی ہدایت کے ساتھ مامور کیا تھا کہ وہ کسی حال میں بھی اس کو نہ چھوڑیں، انہوں نے رسول کے حکم کے منشا کے تعین میں اختلاف کیا اور ان کی اکثریت، یہ سوچ کر کہ اب تو فتح سامنے ہے، رسول ﷺ کے حکم کے خلاف مال غنیمت حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی، تم میں کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ لوگ آخرت کے۔ اسلام کی صفوں میں ایسے لوگوں کا موجود ہونا، جو دنیا کی خاطر رسول کے حکم کو نظر انداز کردیں، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس وجہ سے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ تمہیں امتحان میں ڈالے تاکہ جو لوگ دنیا کے طالب ہیں وہ تم سے چھٹ کر الگ ہوجائیں۔ چناچہ اس نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا اور تمہاری فتح شکست سے بدل گئی۔ خدا کا وعدہ نصرت مشروط ہے : مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کے لیے اللہ کا وعدہ نصرت غیر مشروط نہیں ہے کہ وہ جو رویہ بھی چاہیں اختیار کریں لیکن خدا کی نصرت ہر حال میں ان کے ہمرکاب ہی رہے، بلکہ یہ مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ مسلمان ادائے فرض میں ڈھیلے نہ پڑیں، اطاعتِ امر میں اختلاف نہ کریں، خدا اور رسول کی نافرمانی نہ کریں، آخرت کو چھوڑ کر دنیا کے طالب نہ بنیں۔ اگر اس طرح کی کوئی چیز ان کے اندر پائی جاتی ہے تو بھی اللہ تعالیٰ یہ نہیں کرتا کہ ان پر اپنا غضب نازل کردے بلکہ ان کو ایسی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے جن سے ان کی یہ کمزوریاں دور ہوں اور وہ زیادہ سے زیادہ خدا کی تائید و نصرت کے سزاوار بن سکیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عفو و در گزر اور اس کے فض ؒ و عنایت ہی کی ایک شکل ہوئی۔ چناچہ آیت کے آخر میں اس عفو اور فضل کی طرف بھی اشارہ فرما دیا۔ غزوہ احد کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس امر پر تمام ارباب سیر متفق ہیں کہ اس جنگ میں مسلمانوں کا ابتدائی حملہ بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے دشمن پر غلبہ پا لیا تھا لیکن ایک دستہ جو ایک اہم درے کی حفاظت پر مامور تھا اور جس کو حضور کی طرف سے ہدایت تھی کہ وہ کسی حال میں بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑے قبل از وقت اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہوگیا۔ صرف تھوڑے سے آدمی اس دستے کے اپنی جگہ پر قائم رہے۔ اس چیز سے دشمن کے ایک دستہ نے فائدہ اٹھایا اور کا وا لگا کر اس نے پشت سے مسلمانوں پر حملہ کردیا اور یہ حملہ ایسا اچانک اور کامیاب ہوا کہ مسلمان اوسان کھوبیٹھے۔ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

یاد کرو، جب کہ تم منہ اٹھائے بھاگے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور خدا کا رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ تم دل شکستہ نہ ہوا کرو، نہ کسی نقصان پر اور نہ کسی مصیبت پر اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے۔

’ اصعاد ‘ کا مفہوم : اصعاد کے اصل معنی کسی چڑھائی کی سمت میں جانے کے ہیں۔ اسی سے اصعد فی العدد کا محاورہ نکلا جس کے معنی کسی سمت میں منہ اٹھائے بھاگ کھڑے ہونے کے ہیں۔ غَمًّـا بِغَمٍّ کا مفہوم : غَمًّـا بِغَمٍّ میں ’ ب ‘ تلبس کے مفہوم میں ہے یعنی ایک غم تو شکست کا تھا ہی، اس کے ساتھ لپٹا ہوا ایک اور غم بھی سامنے آگیا، ہمارے نزدیک اس غم سے مراد وہ غم ہے جو اس دوران میں مسلمانوں کو کفار کی اڑائی ہوئی اس افواہ سے پہنچا کہ نبی ﷺ بھی شہید کردیے گئے۔ اس افواہ کا ذکر تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں بھی ہے اور قرآن کی اس آیت سے بھی اس کا اشارہ نکلتا ہے اس لیے کہ فرمایا ہے کہ تم اس بگ ٹٹ بھاگے چلے جا رہے تھے کہ تمہیں اپنے داہنے بائیں کا بھی ہوش نہیں ہرا تھا کہ تم ذرا مڑ کے دیکھ سکتے کہ کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ اس رسول کی طرف بھی تم نے توجہ نہیں کی جو تمہارے پیچھے سے تمہیں برابر پکارتا رہا کہ اللہ کے بندو، میری طرف آؤ۔ اس کے بعد ’‘ کے ساتھ، جو عربی میں نتیجہ کے بیان کے لیے آئی، اس غم کا ذکر کیا ہے۔ اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ غم پیغمبر کی ذات ہی سے متعلق ہوگا تاکہ پیغمبر کی جو ناقدر ان سے صادر ہوئی ہے اس پر ان کو تنبیہ کی جائے۔ اس آیت کے نظام کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اوپر والی آیت پر پھر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اوپر فرمایا تھا کہ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ یعنی خدا نے تمہاری فلاں فلاں غلطیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے تمہیں پسپا کردیا تاکہ تمہیں ابتلاء میں ڈالے۔ اس کے بعد یہ واضح فرما دیا کہ یہ ابتلا میں ڈالنا اس لیے ہوا کہ خدا نے تم کو تم ہاری غلطی پر سزا دینے کے بجائے یہ پسند فرمایا کہ تمہیں معاف کرے اور تم پر اپنا فضل فرمائے۔ اس کے بعد اِذْ تُصْعِدُوْنَ سے لے کر فَاَثَابَكُمْ غَمًّـا بِغَمٍّ تک اس ابتلا کی تفصیل ہے۔ پھر لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ میں اس ابتلا کا وہ فائدہ مذکور ہوا ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوسکتا ہے اگر وہ اس کا حق ادا کریں۔ ابتلاء کا مقصد۔ یہ امر محتاجِ بیان نہیں ہے کہ ابتلا خدا کا عذاب نہیں ہے بلکہ اس کی رحمت ہے۔ عذاب کفار پر آتا ہے اور ابتلا میں اہل ایمان مبتلا کیے جاتے ہیں۔ عذاب کا مقصد کفار کو مٹانا ہوتا ہے۔ اور ابتلا کا مقصد اہل ایمان کو عقلی و اخلاقی کمزوریوں سے پاک کرنا۔ ایک موت ہے دوسرا زندگی۔ قانونِ الٰہی یہ ہے کہ جب تک اللہ کسی قوم کو باقی رکھنا چاہتا ہے اس وقت تک وہ اس کے جرموں پر اس طرح کی سزا نہیں دیتا جس طرح کی سزا مجرموں اور باغیوں کو دی جاتی ہے بلکہ مختلف آزمائشوں اور امتحانوں کے ذریعہ سے اس کے اندر پیدا ہونے والی بیماریوں کو وہ دور فرماتا رہتا ہے۔ ہلاکت کے حوالہ وہ کسی قوم کو اسی وقت کرتا ہے جب وہ زندگی کے اصلی اوصاف سے بالکل خالی ہوجاتی ہے۔ احد کے ابتلاء میں ازالہ غم کے پہلو : رہا یہ سول کہ احد کے اس ابتلا میں حزن سے بچانے والی کیا بات تھی تو اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں حزن سے مراد وہ عام رنج و غم نہیں ہے جو کسی موقع کے ضائع ہوجانے یا کوئی نقصان پہنچ جانے پر فطرتاً ہوجایا کرتا ہے بلکہ اس سے مراد وہ مایوسی اور دل شکستگی ہے جو انسان کے عزم و حوصلہ کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔ اوپر آیت 139 لاتھنوا ولا تحزنوا میں اسی حزن سے منع فرمایا ہے۔ یہ مایوسی اور دل شکستگی پیدا کرنے والے متعدد اسباب اس وقت موجود تھے جو اصلاح و علاج کے محتاج تھے۔ مثلاً یہ کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی تھا جو اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ جو شخص نبی ہو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو لازماً ہر مہم میں کامیابی ہی حاصل ہونی چاہیے، ان کے لیے شکست ان کے نزدیک ان کے تمام دعوے کو مشتبہ کردینے کے مترادف تھی۔ اسی طرح ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی تھا جو اس وہم میں مبتلا تھا کہ جب ہم مسلمان ہیں اور پیغمبر کا ساتھ ہم نے دیا ہے تو ہمیں اپنی غلطیوں کے خمیازے سے بالا تر ہونا چاہئے، کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کا سارا اعتماد اپنی رائے اور اپنی تدبیروں پر ہی تھا، ان پر یہ حقیقت واضح نہیں تھی کہ اس دنیا میں تدبیر ہی کار فرما نہیں ہے بلکہ اصلی کار فرما تقدیر ہے۔ ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی تھا جو خدا کے بارے میں اس طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا تھے جو زمانہ جاہلیت کی باقیات میں سے تھیں۔ ان تمام گروہوں کی طرف آگے کی آیات میں اشارات آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب اتنی ساری غلط فہمیاں اور خام خیالیاں مسلمانوں میں موجود تھیں تو ان کے ہوتے ہوئے ناممکن تھا کہ وہ ان حالات و مشکلات کا مقابلہ کرسکتے جن سے وہ ہر قدم پر دو چار تھے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اس غزوہ احد کے ابتلا کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ان میں بہت سی خام خیالیوں سے پاک کردیا جن سے نازک اوقات میں ان کے عزم و حوصلے کو تزلزل پیش آسکتا تھا۔ ان مضامین کو کھولنے والی جو آیتیں خود اس سورة میں ہیں وہ بعض اوپر گزر چکی ہیں اور بعض آگے آرہی ہیں، البتہ سورة حدید کی ایک آیت ہم یہاں نقل کرتے ہیں، اس سے ایک نہایت اہم گوشے پر روشنی پڑتی ہے مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الأرْضِ وَلا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22) لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (23): تمہیں جو مالی یا جانی تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ ہم نے وجود میں لانے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ رکھی ہے۔ یہ اللہ کے لیے ایک معمولی بات ہے، تاکہ تم غم نہ کرو اگر کوئی موقع تم سے کھو جائے اور نہ اتراؤ اس چیز پر جو اس نے تم کو بخشی ہے۔ اللہ اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔