Ayah 3:13غزوہ بدر سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت : یہ اوپر والے دعوے کی دلیل ایک ایسے واقعے سے پیش کی گئی ہے جس پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ اشارہ بدر کے واقعے کے طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے حاملین اور اس کے مخالفین میں اس وقت جو کشمکش برپا ہے اس میں بالآخر شکست مخالفین ہی کو ہوگی۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کی ایک نشانی اس معرکے میں موجود ہے جو قریش اور مسلمانوں کے درمیان میں پیش آچکا ہے۔ اس معرکے میں ایک گروہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اٹھا تھا، اور دوسرا، جو کفار کا تھا، شیطان کا کلمہ بلند کرنے لیے۔ ہرچند کفار کی تعداد ہزار سے متجاوز تھی اور مسلمان کل تین سو تیرہ تھے لیکن جب مقابلے کی نوبت آئی تو کفار نے کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کی وجہ سے ہوئی اور فتح و شکست کا اصلی تعلق تعداد کی کثرت و قلت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہی سے ہے اور یہ تائید و نصرت ان کو حاصل ہوتی ہے جو اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اٹھتے ہیں۔ جو لوگ آنکھیں رکھتے ہیں وہ اس واقعے میں مستقبل کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں کہ حق و باطل کی یہ آوایزش بالآخر کس فیصلے پر ختم ہونے والی ہے۔ بدر کے واقعہ میں کفار کے ان تمام گروہوں کے لیے غلبہ حق کی نشانی موجود تھی جو اس وقت قرآن اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ اس وقت یہود، نصاری اور قریش تین جماعتیں براہ راست اسلام کی مخالفت کر رہی تھیں، اب دیکھیے کہ ان تینوں جماعتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کس طرح بدر کے معرکے کو ایک نشانی بنایا۔
یہود کے لیے نشانی : جہاں تک یہود کا تعلق ہے سورة بقرہ میں ہم، طالوت و جالوت کی جنگ کے سلسلہ میں بیان کرچکے ہیں کہ یہ جنگ اپنے مقصد، اپنی خصوصیات، اپنے نقشہ اور طالوت کی فوج کے تعداد کے لحاظ سے بالکل جنگ بدر کا آئینہ تھی۔ جس طرح مسلمان اپنے گھروں سے نکالے اور اپنے قبلہ سے محروم کیے گئے تھے اسی طرح بنی اسرائیل بھی اپنے گھروں سے بےدخل اور اپنے قبلہ۔ تابوت۔ سے محروم کیے گئے تھے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کے ساتھ تین سو تیرہ آدمی تھے اسی طرح طالوت کے ساتھ بھی، جیسا کہ بنی اسرائیل کی روایات سے معلوم ہوتا ہے، اتنے ہی آدمی تھے، جس طرح نبی ﷺ نے معرکہ سے پہلے اپنی فوج کے حوصلے کا امتحان لیا، اسی طرح ایک خاص طریقے پر طالوت نے بھی اپنے ساتھیوں کے عزم و نظم کی جانچ کی، پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس جنگ میں اپنی تائید و نصرت سے نوازا کہ نہایت ناموافق اور نامساعد حالات میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور قریش کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے اسی طرح طالوت کی اور ان کے ساتھیوں کی بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور ان کے ساتھیوں کی قلیل تعداد دشمنوں کی نہایت بھاری تعداد پر غالب رہی اور فلسطینیوں کا مشہور سپہ سالار حضرت داود کی فلاخن سے ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ ان دونوں جنگوں کی یہ حیرت انگیز مشابہت یہود پر بالک واضح تھی۔ ایک کا سارا نقشہ اپنے صحیفوں میں دیکھ چکے تھے اور دوسری کا سارا ماجرا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اس وجہ سے ان کے لیے یہ اندازہ کرلینا کچھ مشکل نہیں تھا کہ بدر کے میدان میں ہتھیاروں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ حق و باطل کی جنگ تھی اور انسانوں اور انسانوں کی آویزش نہیں بلکہ فرشتوں اور شیطانوں کی جنگ تھی۔ چناچہ قرآن میں جیسا کہ سورة انفال کی تفسیر میں ہم وضاحت کریں گے، اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ یہود پر یہ حقیقت پوری طرح آشکارا تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے نبی آخر الزمان ﷺ کی اس نشانی کی کوئی قدر نہیں کی اور برابر اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے۔ اسی طرح نصاری کے لیے بھی اس جنگ میں بہت بڑی نشانی آنحضرت ﷺ کی صداقت کی موجود تھی۔ یوحنا کے مکاشفات میں یہ مکاشفہ موجود ہے کہ نبی موعود (خاتم النبیین، ﷺ جب ظاہر ہوں گے تو وہ حق کی طاقت کے ساتھ جہاد کریں گے اور ان کے جلو میں کرّوبیوں کا لشکر ہوگا۔ یہ پیشینگوئی بدر کے موقع پر اس طرح ظاہر ہوئی کہ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ملائکہ کو کفار سے لڑتے دیکھا۔ اس نشانی کے بعد بھی اگر نصاری متشابہات کے چکروں میں ہی پھنسے رہے، اعتراف حق کی سعادت انہیں حاصل نہیں ہوئی تو اس کو ان کی بدبختی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔۔ قریش کے لیے تو یہ جنگ ان کے اپنے مطالبے کے لحاظ سے بھی قرآن اور اسلام کی حقانیت کی ایک ناقابل تردید شہادت تھی۔ انہوں نے خود نہایت آشکارا طور پر اس جنگ کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی ایک کسوٹی قرار دیا تھا۔ ان کا اپنا اعلان یہ تھا کہ اس جنگ میں جس کی جیت ہوگی وہ حق پر سمجھا جائے گا اور جس کو شکست ہوگی وہ باطل پر۔ ابوجہل نے عین میدانِ جنگ میں یہ دعا کی تھی کہ اللہم اقطعنا للرحم فاعنہ الغداۃ، اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ رشتہ رحم کا کاٹنے والا بنا ہے کل تو اس کو کچل دیجیو۔ اس جنگ کے متعلق قرآن نے بھی اور آنحضرت ﷺ نے بھی نہایت غیر مبہم الفاظ میں پیشین گوئیاں فرمائی تھیں جو حرف بحرف پوری ہوئیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو قریش کے خاص خاص لیڈروں کے قتل ہونے کی جگہیں تک متعین کردی تھیں اور جنگ کے خاتمہ پر لوگوں نے دیکھا کہ حضور کی ہر بات سچی ثابت ہوئی۔ چناچہ انہی وجوہ سے قرآن نے غزوہ بدر کو فرقان سے تعبیر فرمایا جس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسا امتیاز قائم کردیا جس سے اسلام کے موافقین کو اپنے برحق ہونے کی دلیل مل گئی اور اس کے مخالفین پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی۔
حذف کا ایک اسلوب : آیت میں اہل ایمان کے گروہ کی صفت یہ بیان کی ہے کہ ”یہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا تھا“ لیکن کفار کے متعلق اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ ان کی جنگ کس کی راہ میں تھی۔ اس تصریح کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کا یہ معروف اسلوب قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے کہ دو مقابل باتوں میں سے بخیال اختصار ایک مقابل کو حذف کردیتے ہیں اس لیے کہ مذکور خود محذوف کی طرف رہنمائی کردیتا ہے۔ یہاں اس اسلوب کے بموجب پوری بات اگر کھول دی جائے تو یوں ہوگی فِئَةٌ مومنۃ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ تقاتل فی سبیل للطاغوت۔ فقرے کے پہلے حصے میں سے لفظ مومنۃ، کو حذف کردیا اور دوسرے میں سے فی سبیل الطاغوت کو، اس لیے کہ دوسرے میں کافرۃ کی صفت پہلے میں مومنۃ کا پتہ دے رہی ہے اور پہلے میں فی سبیل اللہ کا حوالہ دوسرے میں فی سبیل الطاغوت کی ضرورت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ حذف کا ایہ اسلوب قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے، جو واضح نہ ہو تو کلام کا اصلی زور سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ ایجاز کی ایک شاخ ہے اور ایجاز بلاغت کی جان ہے۔
کس نے کس کو دگنا دیکھا : يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ میں يَّرَوْنَھُمْ کی قراءت نافع نے تَّرَوْنَھُمْ کی ہے لیکن یہ قراءت ہمارے نزدیک بطور تفسیر ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ فعل مخاطبین یعنی کفار کے لیے ہے۔ یعنی اے کافرو ! تمہارا حال یہ تھا کہ تم مسلمانوں کو اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی اس تفسیر سے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ حریف کو اپنے سے دگنا دیکھنے کا معاملہ مسلمانوں کو نہیں پیش آیا بلکہ کفار کو پیش آیا۔ نافع کی یہ تاویل بہت صحیح معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ آیت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ایک آیت (نشانی) بنایا اور اس بات کی بھی خاص طور پر تصریح فرمائی کہ انہوں نے اس نشانی کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ اگر واقعہ اس کے برعکس ہوتا، مسلمانوں نے کفار کو اپنے سے دگنا دیکھا ہوتا تو اس میں کفار کے لیے کیا نشانی تھی اور ان کو مخاطب کر کے اس نشانی کا ذکر کیوں کیا جاتا ؟
ایک سوال کا جواب : ایک سوال ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہاں پیدا ہو۔ وہ یہ کہ سورة انفال میں جہاں غزوہ بدر کا واقعہ بیان ہوا ہے وہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار بھی مسلمانوں کی نظر میں کم کر کے دکھائے گئے تھے اور مسلمان بھی کفار کی نگاہوں میں کم دکھائے گئے تھے۔ یہ چیز آیت کی مذکورہ بالا تاویل کے خلاف پڑتی ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ کم دکھانے اور زیادہ دکھانے کا معاملہ دو مختلف مرحلوں میں دو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوا ہے۔ میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے تو بلاشبہ یہی صورت رہی کہ مسلمانوں نے بھی کفار کی تعداد معمولی محسوس کی اور کفار نے بھی مسلمانوں کو نہایت حقیر پوزیشن میں محسوس کیا لیکن میدانِ جنگ میں عملاً اتر جانے اور جنگ کے بالفعل شروع ہوجانے کے بعد دفعۃً صورت حال بدل گئی۔ اب جو کفار نے میدان جنگ پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ نقشہ ہی اور ہے، فرشتوں کی شرکت سے مسلمانوں کی فوج کو اتنی فوقیت حاصل ہوگئی کہ وہ کفار کی نگاہوں میں ان سے دگنی نظر آنے لگی۔ قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف مرحلوں میں ظاہر ہونا ایک خدا ساز بات تھی اور مقصود اس سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ حق و باطل کو ایک دوسرے سے ٹکرائے اور حق کی امداد کے لیے اپنی غیبی تائید و نصرت ظاہر فرما کر حق کے مخالفوں پر اپنی حجت تمام کرے۔ چناچہ اس حکمت کے تحت اس نے ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کو اور کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کو کم کر دکھایا تاکہ ان میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے سے ٹکر لینے سے خوف نہ کھائے۔ لیکن جب دونوں میں ٹکر ہوگئی اور میدان جنگ گرم ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعے سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار میدانِ جنگ کا نقشہ دیکھ کر بالکل مرعوب ہوگئے۔ یہاں ہم سورة انفال کی متعلق آیتیں نقل کیے دیتے ہیں تاکہ دونوں موقعوں کا فرق اور دونوں کی حکمت و مصلحت سامنے آجائے۔ ارشاد ہوا ہے ”إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ وَلَكِنْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولا لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ (42)إِذْ يُرِيكَهُمُ اللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلا وَلَوْ أَرَاكَهُمْ كَثِيرًا لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَلَكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (43) وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولا وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ (44): اور یاد کرو جب تم وادی کے ورلے کنارے پر تھے اور وہ پرلے سرے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم ایک دوسرے کو الٹی میتم دے کر نکلتے تو میعاد میں ضرور اختلاف کرتے لیکن اللہ نے اس کا سامان کیا تاکہ ایسے معاملے کا فیصلہ فرمائے جس کا فیصلہ ہونا طے ہوچکا تھا۔ تاکہ جس کو ہلاکت کی راہ اختیار کرنی ہے وہ یہ راہ اتمامِ حجت کے بعد اختیار کرے، اور جسے زندگی کی راہ اختیار کرنی ہے وہ بھی دلیل کے ساتھ یہ راہ اپنائے۔ بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ خیال کرو جب کہ اللہ تمہیں ان کو دکھا تا ہے رویا میں قلیل التعداد اور اگر وہ ان کو کثیر التعداد دکھاتا تو تم ہمت ہار بیٹھتے اور اس امر میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچایا۔ وہ سینوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے اور خیال کرو جب کہ تمہیں ان کو دکھاتا ہے اس وقت جب کہ تم آمنے سامنے ہوئے، تمہاری نگاہوں میں تھوڑ اور تم کو دکھاتا ہے ان کی نگاہوں میں تھوڑا تاکہ ایک ایسے معاملے کا فیصلہ کردے جس کا فیصلہ کرنا طے ہوچکا ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں“ (انفال :42-44)۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ آیت زیر بحث اور آیات انفال میں موقع و محل کا فرق ہے۔ انفال میں جس موقع کا ذکر ہے وہ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، جنگ شروع ہونے سے پہلے کا ہے۔ اور آیت زیر بحث میں جنگ شروع ہوجانے کے بعد کا، جب تائید الٰہی ملائکہ کی کمک کی صورت میں ظاہر ہوگئی ہے۔ اس طرح ان دونوں آیتوں میں پوری پوری موافقت ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انفال میں بھی یہ اشارہ موجود ہے کہ جنگ شروع ہوجانے کے بعد کفار کو میدان جنگ کا نقشہ کچھ اور ہی نظر آیا اور اس مشاہدہ نے ان کے حوصلے پست کردیے۔ ان اشارات کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ وہیں ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ یہود اگرچہ در پردہ قریش کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کی سازش میں شریک رہے لیکن بدر کا نقشہ دیکھ کر انہوں نے بھی ہمت چھوڑ دی۔ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت سے جس کو چاہے نواز سکتا ہے، کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور جس کو وہ اپنی تائید و نصرت سے نوازے اس کے لیے کثرت وقلت کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو قطرے کو دریا اور ذرے کو آفتاب بنا دے۔ کتنے کمزور و ناتواں گروہوں کو اس نے دل با دل فوجوں پر فتح عطا فرمائی ہے۔ فتح و شکست کا اصلی سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ : عبرت کا مفہوم : عبرت کے معنی ہیں ایک حقیقت سے دوسرے حقیقت تک عبور کر جانا۔ ایک صاحب بصیرت اور ایک بلید میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ایک اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتا لیکن دوسرے کے لیے ایک معمولی سی نشانی، ایک ادنی سی تنبیہ اور ایک سرسری سا اشارہ حقائق کا ایک دفتر کھول دیتا ہے۔ ایک دروازہ اس کے لیے کھل جائے تو دوسرے دروازے کھولنے کے ھ لیے کلید ہاتھ آجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو قرآن ”اولو الابصار“ کہتا ہے کیونکہ ان کی آنکھوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت کا نور بھی ہوتا ہے جو جزو میں کل اور قطرہ میں دجلہ کے مشاہدہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Ayah 3:14’ تزئین ‘ کی حقیقت : شہوات کا لفظ یہاں مشتہیات یعنی مرغوبات کے معنی میں ہے۔ مال و اولاد اور زن و فرزند ان چیزوں میں سے ہیں جو انسان کو بالطبع مرغوں بھی ہیں اور ان کو مرغوب ہونا چاہیے بھی۔ اس لیے کہ یہ چیزیں اس کے ذاتی و نوعی بقا کے لوازم میں سے ہیں لیکن یہاں مجرد ان کی رغبت زیر بحث نہیں ہے بلکہ ان کی تزئین کا ذکر ہے۔ تزئین کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز اس طرح آنکھوں میں کھب جائے کہ آدمی اس کے اثر سے ہر چیز اسی کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے۔ یہاں تک کہ اس سے الگ ہو کر اس کے لیے کسی چیز کو دیکھنا ممکن ہی نہ رہا جائے۔ وہ ہر چیز کو تولنے اور پرکھنے کے لیے اسی کو پیمانہ اور کسوٹی قرار دے لے۔ کسی چیز کی رغبت کا اس درجہ غلبہ ظاہر ہے فاطر فطرت کے منشا کے خلاف ہے۔ اسی سے زندگی میں وہ بےاعتدالیاں ظہور میں آتی ہیں جو انسان کو فطرت اور شریعت کے جادہ مستقیم سے ہٹا دیتی ہیں۔ یہ ایک بیماری کی حالت ہے جو بےبصیرتی اور حدود الٰہی کے عدم احترام یا بالفاظ دیگر عدم تقوی سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں اصل دخل نفس اور شیطان کا ہوتا ہے۔ نفس اپنی چاہتوں میں فطری حدود سے آگے نکل جاتا ہے، پھر شیطان ان چاہتوں پر ایسا دلفریب ملمع کردیتا ہے کہ آدمی کی نظر ان سے ہٹ کر کسی اور طرف کا رخ ہی نہیں کرتی۔ قرآن نے اسی وجہ سے اس تزئین کو دوسرے مقامات میں شیطانوں کی طرف منسوب کیا ہے۔۔ ”قنطار اور مقنطرۃ“ کا مفہوم : قنطار کے معنی مال کثیر کے ہیں۔ اس کے ساتھ مقنطرۃ کی صفت اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس عربی میں ”لیل الیل“ یا ’ ظل ظلیل ‘ وغیرہ کی ترکیبیں استعمال ہوئی ہیں۔ ”مسومۃ“ سومۃ سے ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ مسومۃ کے معنی ہوں گے، نشان زدہ چونکہ اصیل اور نفیس گھوڑوں پر بالعموم نشان لگایا جاتا ہے اس وجہ سے یہ لفظ اصالت اور عمدگی کی تعبیر کے لیے معروف ہوگیا۔
”للناس“ سے ایک خاص گروہ مراد ہے : آیت میں ”للناس“ کا لفظ اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن مراد اس سے ایک خاص گروہ ہے۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح قرآن میں ’ انسان ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور مقصود اس سے مخصوص وہ گروہ ہوتا ہے جس کے حالات اس مقام میں زیر بحث ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق وسباق دلیل ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو بصیرت اور تقوی سے عاری ہیں اس وجہ سے دنیا کی مرغوبات پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں اور قرآن جن اعلی اقدار کی طرف توجہ دلا رہا ہے ان کی طرف وہ آنکھ ہی نہیں اٹھا تے۔
مرغوبات نفس کے بیان میں ایک خاص ترتیب ملحوط نگاہ میں رکھنے کی ہے۔ پہلے اہل و عیال کا ذکر کیا ہے اس لیے کہ محبت کے لحاط سے سب سے اونچا مقام انہی کا ہے، دوسری چیزوں کی محبت اصلاً ان کے تابع ہے بلکہ زیادہ تر انہی کے لیے ہے۔ اس کے بعد مال کا ذکر ہے، اور مال میں سونے کا ذکر اس کی گراں قیمتی کی وجہ سے دوسرے نقود پر مقدم ہے۔ سروسامان میں سب سے پہلے گھوڑوں کا ذکر ہے اس لیے کہ اہل عرب زینت، فخر اور دفاع، تینوں کے نقطہ نظر سے گھوڑے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اس کے بعد چوپایوں کا ذکر ہے اس لیے کہ تمد کے ظہور سے پہلے بدویت کے دور میں معاش کا انحصار بیشتر انہی پر تھا۔ آخر میں کھیت اور باغ کا ذکر ہے اس لیے کہ ان کی اہمیت تمدن کے دور میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے جب انسان نے شہروں اور دیہاتوں کی رہائش اختیار کی ہے۔ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا کے چھوٹے سے فقرے میں معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ اس میں اس دنیا کی ناپائداری کی طرف بھی اشارہ ہے، ان چیزوں کی بےحقیقتی کی طرف بھی، اور ایک عالم باقی کے مقابل میں اس جہانِ فانی کی ناپائدار لذتوں پر ریجھنے کی حماقت کی طرف بھی۔ نظم کے پہلو سے یہ آیت گویا اوپر کی آیت 9 کے مضمون کی تشریح ہے۔ اس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اصل چیز جو لوگوں کو قرآن کی مخالفت پر اکسا رہی ہے وہ ہے تو اس دنیا کی محبت اور اس کی مرغوبات کی طمع لیکن اس بیماری کو چھپائے رکھنے کے لیے یہ طرح طرح کے شبہات و شکوکو اور اعتراضات ایجاد کرتے اور پھیلاتے ہیں تاکہ اس طرح اپنے اس گریز کے لیے جواز پیدا کریں۔
Ayah 3:15مخاطبین کو زاویہ نگاہ بدلنے کی دعوت : یہ مخاطبین کو زاویہ نگاہ بدلنے کی دعوت ہے اس لیے کہ اس کے بدلے بغیر قرآنی اقدار کی طلب دل میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ قرآن کے نزدیک انسان کی اصل بیماری اس کی تنگ نظری اور پست حوصلگی ہے۔ وہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی کو کل زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ جس کے سبب سے اس کی ساری بھاگ دوڑ اسی دنیا کی مرغوبات و مطلوبات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو ابدی اور لازوال ہے۔ اگر انسان اس زندگی کی طلب میں تقوی کی روش اختیار کرے یعنی اس دنیا سے متعلق خدا نے جو حدود حرام و حلال ٹھہرا دیے ہیں ان کی پابندی کرے تو اسے آخرت کی ابدی زندگی میں وہ نعمتیں ملیں گی جن کا آج وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ نعمتوں میں ’ ازواج مطہرہ ‘ کا ذکر خاص طور پر فرمایا ہے۔ اس لفظ پر بقرہ کی آیت 25 کے تحت ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہاں خاص طور پر جنت کی نعمتوں میں اس کا ذکر اس وجہ سے ہوا کہ اوپر آیت 14 میں واضح ہوچکا ہے کہ دنیا کے مرغوبات میں سر فہرست جس چیز کو جگہ حاصل ہے وہ اہل و عیال ہیں اس وجہ سے جنت کی نعمتوں میں بھی ان کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔ ”رضوان“ کے معنی تو خدا کی خوشنودی اور رضا مندی کے ہیں لیکن قرآن میں یہ لفظ بالعموم جنت کی نعمتوں کی ایک جامع تعبیر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جب اس کا ذکر ہوگیا تو گویا ہر نعمت کا ذکر ہوگیا۔ اس کا بھی جس کے لیے تعبیر کا کوئی جامہ موجود ہے اور اس کا بھی جو گمان و خیال اور قیاس ووہم ہر چیز سے بالا تر ہے۔ ”بصیر بالعباد میں دھمکی اور تسلی دونوں ہے : وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ ، دھمکی اور تسلی دونوں ہی قسم کے مواقع پر استعمال ہوسکتا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ تسلی کے محل میں ہے۔ یعنی جو لوگ آخرت کے لیے اس دنیا کی زندگی میں تقوی کی روش اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان تمام قربانیوں اور مشقتوں سے باخبر ہے۔ ان کو ان تمام قربانیوں کا پورا پورا صلہ دے گا، ان کی کوئی قربانی بھی ضائع نہیں جائے گی۔
Ayah 3:16اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ الایۃ (پچھلی آیت میں موجود جملہ) لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا سے بدل ہے۔ یہ تفصیل ان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو قرآن کی اس دعوت کو قبول کر کے آخرت سے غافل کرنے والی مرغوبات سے دستکش ہوگئے اور اپنی پچھلی زندگی کی خود فراموشیوں سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کی پاکیزہ زندگی میں آگئے۔ ساتھ ہی اس میں ایک خاموش تبلیغ بھی ان لوگوں کے لیے ہے جو اس راہ پر آنے سے ہچکچا رہے تھے اور اپنی اس ہچکچاہٹ کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے پیدا کر رہے تھے۔
Ayah 3:17حاملین قرآن کا کردار : اَلصّٰبِرِيْنَ الایۃ۔ یہ دوسرا بدل ہے۔ اس سے ان اخلاقی اوصاف کی وضاحت ہوگئی ہے جن سے یہ پاکیزہ صفات گروہ متصف ہے اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ وہ اخلاق و کردار کن اجزا سے مرکب ہے جو قرآن کا حامل ہونے کے لیے ضروری ہے۔ یہ آیت گویا اس کے بالکل ضد اخلاق و کردار پیش کر ہے جو اوپر زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ والی آیت میں نمایاں ہوا۔۔ یہاں صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استٖغفار۔ صبر کی حقیقت نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و استقامت ہے۔ غربت، بیماری، مصیبت، مخالفت، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دو چار ہونا پڑے عزم و ہمت کے ساتھ ان کو برداشت کرے، ان کا مقابلہ کرے، ان سے عہدہ بر آ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے مکان کے حد تک موقف حق پر جما رہے۔ دل کو مایوسی اور گھبراہٹ سے، زبان کو شکوہ تقدیر سے اور اپنی گردن کو کسی باطل کے آگے جھکنے سے بچائے۔ دین کا بڑا حصہ اسی صبر پر قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ وصف نہ ہو تو کوئی طمع، کوئی ترغیب، کوئی آزمائش بھی اس کو حق سے ہٹا کر باطل کے آگے سرنگوں کر دے سکتی ہے۔ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنا چاہے اور اس پر چل کر استوار رہنے کا آرزو مند ہو اسے سب سے پہلے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرنی چاہیے۔ مزاحمتوں کے مقابلے کے لیے اور اس راہ میں ہر قدم پر مزاحمتوں سے مقابلہ ہے۔ اصلی ہتھیار بندے کے پاس یہی ہے۔ فلسفہ دین کے نقطہ سے دین نصف شکر ہے اور نصف صبر۔ لیکن عملی تجربہ گواہ ہے کہ آدمی میں صبر نہ ہو تو شکر کا حق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ یہاں چونکہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہیں سچائی کی سب سے بڑی بلندی پر چرھنے کی دعوت دی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کے سامنے، جن لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ان کے کردار میں سب سے پہلے ان کے صبر ہی کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔
’ صدق ‘ کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابق واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح پختگی اور ٹھوس پن ہے نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہو رہی ہیں آزمائش سے بھی ویسی ہی مضبوط ثابت ہوں تو ایسی نیزے کو عربی میں صادق الکعوب کہیں گے۔ زبان دل سے ہم آہنگ ہو، عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں، عقیدہ اور فعل دونوں ہم عناں ہوں، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر و باطن انہی سے روشن ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی ساری معنویت ختم ہو کر رہ جاتی ہے یہی چیز ہے جو انسان کو وہ پر پرواز عطا کرتی ہے جس سے وہ روحانی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس سے اس کے صبر کو بھی سہارا ملتا ہے۔ ”قنوت“ کی اصل روح اللہ جل شانہ کے لیے تواضع و تذلل ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں کے شعور اور اس کی بےنہایت عظمتوں کے احساس کا قدرتی ثمرہ ہے۔ یہ نعمت کو شکر کا اور مصیبت کو صبر کا ذریعہ بناتی ہے اور ہر حالت میں بندے کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔ اصلاً تو یہ عقل و دل کی فروتنی اور انکساری ہے لیکن جس طرح قلب کی ہر حالت کا عکس انسان کے ظاہر پر بھی نمایاں ہوتا ہے اسی طرح اس کا عکس بھی انسان کی وضع قطع، چال ڈھال، گفتار کردار ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہ اس غرور اور گھمنڈ کی ضد ہے جو نعمتوں کو اپنے استحقاق ذاتی کا ثمرہ سمجھنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس تلون اور بےصبرے پن کے بھی منافی ہے جو صبر و صدق کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔ انفاق کے معنی واضح ہیں۔ یہ مرغوبات دنیا کی اس محبت کی ضد صفت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا۔ اگر مرغوبات دنیا کی محبت دل پر اس طرح چھا جائے کہ وہ خدا اور بندوں کے حقوق سے انسان کو روک دے تو یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے ”زین للناس“ سے تعبیر کیا ہے۔ انفاق کی خصلت اس امر کی شہادت ہے کہ صاحب انفاق کی نظر میں اصلی قدر و قیمت دنیوی خزف ریزوں کی نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی لازوال نعمتوں کی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں ساری قدر و قیمت بس اس فانی دنیا کی فانی لذتوں ہی کی ہے، آخرت کی زندگی کا اس کے ذہن میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ ”استغفار“ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے تضرع وزاری کہ وہ اپنے بندے کی کو تاہیوں، گناہوں اور جرموں پر پردہ ڈالے۔ یہ تضرع اس حیا اور خوف کا نتیجہ ہے جو بندے کے دل میں اپنے پروردگار کے بےپایاں احسانات و انعامات کے احساس اور اس کے عدل و انتقام کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ”وقت سحر“ کی قید لگی ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ وقت قبولیت استٖغفار کے لیے سب سے زیادہ موزوں، ریا کی آفتوں سے سب زیادہ محفوظ، دلجمعی اور آیات الٰہی میں تفکر و تدبر کے لیے سب سے زیادہ ساز گار ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں ہی میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ہوئی ہے اور یہ رب کریم کا عظیم احسان ہے کہ اس نے استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ استغفار کی قبولیت کے لیے سب سے زیادہ سازگار وقت کا بھی خود ہی پتہ دے دیا۔ اس ٹکڑے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے جہاں ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کن صفات کے لوگ ہیں جو قرآن کے حامل ہوسکتے ہیں وہیں یہ بات بھی اس سے نکلی کہ وہ موانع کیا ہیں جو قرآن کے ان مخالفین اور قرآن کے درمیان حائل ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان میں وہ صبر نہیں ہے جو نفس اور شیطان کی مزاحمتوں کے مقابل میں ان کو پابر جا رکھ سکے، وہ صدق نہیں ہے جو ان کے عقیدہ اور عمل، قول اور فعل، ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرسکے، وہ قنوت نہیں جو سب سے بڑے صاحب حق کے آگے ان کی گردن اور ان کے دل دونوں کو جھکا دے، ابدی زندگی کا وہ شوق نہیں ہے جو انہیں آخرت کے لیے دنیا کو قربان کرنے پر ابھار سکے اور خدائے منعم و دیان کی نعمتوں اور نقمتوں کا وہ شعور و احساس نہیں ہے جو انہیں غفلت کے بستروں سے اٹھا کر مناجات سحر کے لیے ان کو ان کے رب کے حضور لا کھڑا کرے۔ اور ساتھ ہی اسلوب بیان نے ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی کردیا کہ آج جن لوگوں نے اس قرآن کو قبول کرلیا ہے اور اس کے پھیلانے میں اللہ کے رسول کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ان صفات سے متصف ہیں اور ان سفات سے متصف ہونے ہی کے سبب سے وہ اس بار گراں کے اٹھانے کے اہل بن سکے ہیں۔
آگلی آیات 18 تا 22 کا مضمون : وہی اوپر والا مضمون ایک دوسری شاندار تمہید کے ساتھ ایک دوسرے پہلو سے بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ، اس کے فرشتوں اور علم حقیقی کے تمام حاملین کی شہادت ابتدا سے یہی ہے کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا اور عزیز و حکیم ہے۔ اس نے بندوں کی ہدایت اور ان کو عدل و قسط پر قائم کرنے کے لیے جو دین عطا فرمایا وہ اسلام ہے، یہی دین اللہ کا حقیقی دین ہے، یہی دین اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے بھیجا لیکن یہود و نصاریٰ نے اپنی باہمی ضدم ضدا کے سبب سے دیدہ و دانستہ اس دین میں اختلافات برپا کیے اور اسلام کے بجائے یہودیت و نصرانیت کے الگ الگ بت کھڑے کرلیے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر یہود و نصاری تم سے اس دین حقیقی کے باب میں جھگڑنا چاہتے ہیں تو تم ان کی اس مخالفت کو ذرا خاطر میں نہ لاؤ بلکہ صاف صاف اہل کتاب کو بھی اور قریش کو بھی سنا دو کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے تو اسلام کی راہ اختیار کرلی ہے، اب جس کا جی چاہے اپنی گمراہی پر اڑا رہے۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف اس پیغام کو پہنچا دینے کی ہے، اس کے بعد معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ وہ سب کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے جس کو جس چیز کا سزا وار پائے گا اس کو وہ دے گا۔ آگے پیغمبر ﷺ ہی کے واسطے سے اہل کتاب کو یہ دھمکی دی ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں، جنہوں نے اللہ کے نبیوں کا خون ناحق بہایا ہے اور جو دین کے مصلحین و مجددین اور عدل و قسط کے علم برداروں کے درپے آزار و قتل رہے، اب ان کی عدالت کا وقت آگیا ہے، اب وہ خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے، ان کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت جائیں گے اور کوئی ان کا حامی و مددگار نہ بن سکے گا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 3:18توحید اور قسط کی شہادت کے تین پہلو : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قائم بالقسط ہونے پر اپنی، اپنے فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا حوالہ دیا ہے۔ یہ شہادت تین مختلف پہلوؤں سے ہے۔ 1۔ آفاق کی شہادت : ایک تو آفاق کی شہادت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اس کو جس طرح بنایا ہے اور جس طرح اس کے نظام کو چلا رہا ہے اس سے اس بات کی ساف شہادت مل رہے ہیں کہ وہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے۔ قرآن نے اس شہادت کو توحید کی دلیل کے عنوان سے اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اسی نظام کائنات سے قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہر گوشے میں اس کائنات کے خالق نے ایک میزان رکھی ہے، مجال نہیں کہ کوئی شے اپنے معین محور و مدار سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا خالق و فاطر عدل و قسط کو پسند کرتا ہے، یہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس عدل و قسط سے بال برابر بھی انحراف کرے۔ قرآن میں اس حقیقت کے شواہد بہت ہیں۔ ہم بخیالِ اختصار صرف ایک آیت بطور مثال نقل کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ۔ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ۔ أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ : سورج اور چاند دونوں ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں، ستارے اور درخت سب سجدہ کرتے ہیں۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں ایک میزان رکھی، کہ تم بھی میزان کے معاملے تجاوز نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو“ (رحمان :5-9)۔ یعنی یہ کائنات اپنے وجود سے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق عدل و قسط کو پسند کرنے والا ہے اور اس کے سورج اور چاند، شجر و حجر، آسمان و زمین اپنی زبان حال سے ہر وقت یہ سبق دے رہے ہیں کہ جس طرح وہ خدا کے مقرر کردہ پیمانے سے سرِ مو تجاوز نہیں کرتے، ان کی ہر حرکت اس پیمانے سے نبی پتلی ہوتی ہے اسی طرح انسان بھی اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا کی میزان میں نپی تلی روش اختیار کرے، اس کے ٹھہرائے ہوئے حدود سے ذرا بھی تجاوز نہ کرے۔ 2۔ تاریخ کی شہادت : اسی آفاقی شہادت کے ذیل میں قوموں کی تاریخ بھی آتی ہے۔ قرآن نے قوموں کی تاریخ بھی پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ومالک اس کو ایک نظام عدل و قسط کے تحت چلا رہا ہے۔ اس کے اسٹیج پر یکے بعد یگرے وہ مختلف قوموں کو بھیجتا ہے اور ان کا امتحان کرتا ہے کہ وہ خدا کے قانون عدل وقسط کے اندر اپنے اختیار اور اپنی قوتوں کو استعمال کرتی ہیں یا اس سے بغاوت اور سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ جب تک کوئی قوم خدا کے حدود کے اندر رہ کر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے، وہ اس کو برومند کرتا اور پروان چڑھاتا ہے، جب وہ اس راہ سے ہٹ کر سرکشی کی راہ اختیار کرلیتی ہے تو ایک خاص حد تک مہلت دے چکنے کے بعد وہ اس کو فنا کردیتا ہے اور دوسری قوم کو اس کی وارث بناتا ہے۔ قرآن نے اس سنت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ 3۔ انفس کی شہادت۔ دوسری شہادت انفس کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ خود توحید کی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس شہادت کے دلائل ہم اپنی اس کتاب میں بھی جگہ جگہ بیان کر رہے ہیں اور خاص اس موضوع پر ہم نے حقیقت شرک اور حقیقت توحید کے نام سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ تفصیل کے طالب ان کو پڑھیں۔ انسانی فطرت کی یہی توحید پسندی ہے جس کے سبب سے قرآن نے توحید کو دین فطرت قرار دیا ہے۔ ”فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا : اللہ کی بنائی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا“۔ اور یہی علد پسندی ہے جس کی بنا پر جزا و سزا کے منکرین سے قرآن یہ سوال کرتا ہے ”أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ : کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے، تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو“ (قلم :35-36)۔۔ 4۔ وحی کی شہادت : تیسری شہادت وحی کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پسند ناپسند اور اپنے اوامرو نواہی سے بندوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے بیشمار نبی اور رسول بھیجے اور ان سب پر اپنی توحید اور اپنے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی اور ان نبیوں اور رسولوں نے یہ شہادت اپنی اپنی امتوں کو پہنچائی۔ اس شہادت کے آثار و نشانات آج بھی ان امتوں کی روایات اور ان کے صحیفوں کی تعلیمات میں موجود ہیں لیکن انہوں نے ان آثار و روایات کو نظر انداز کر کے اپنے آپ کو ایسے نظریات و عقائد میں مبتلا کرلیا جو توحید کے بھی منافی ہیں اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کے بھی، لیکن ان امتوں کی اس غلط روش کی وجہ سے وہ اپنی ان اعلی صفات سے دستبردار نہیں ہوگیا ہے بلکہ وہ بدستور ان سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ چناچہ انہیں صفات کا یہ تقاضا ہے کہ اس نے قرآن کو، جیسا کہ اوپر کی تمہید میں گزرا، حق و باطل کے درمیان فرقان بنا کر اتارا تاکہ حق و عدل کی صراط مستقیم پھر واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور باطل پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا کی وحدانیت اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت کسی ایک ہی پہلو سے نہیں مل رہی ہے بلکہ تین مختلف پہلوؤں سے مل رہی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا نظام اور اس کی تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے، اس کی پیدا کی ہوئی فطرت اس پر گواہ ہے اور اس کے پیغمبروں نے ہمیشہ اس حقیقت کی منادی کی ہے۔ اس آیت میں یہ بات نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے تیس پاروں میں اس اجمال کی تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شہادت کے ساتھ یہاں ملائکہ کی شہادت کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک امر واقعی کا اظہاو بیان ہے۔ کائنات میں خدا کے ارادوں کے نفاذ کا ذریعہ اور خدا کے پیغمبروں اس کی وحی پہنچانے کا واسطہ ملائکہ ہی بنتے ہیں اس وجہ سے خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کے اس کی مخلوقات میں شاہد اول وہی ہیں۔ ان کی گواہی ایک امر واقعی ہونے سے قطع نظر اس پہلو سے بھی خاص طور بیان ہوئی کہ نادانوں نے ان کو خدا کا شریک اور شفاعت باطل کا واسطہ قرار دے کر توحید کی بھی نفی کی اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کی بھی۔ اس لیے کہ جب تصور یہ ہو کہ سفارش حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے سکتی ہے تو پھر خدا قائم بالقسط کہاں رہا ؟ فرشتوں کے متعلق اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے قرآن نے خود ان کی زبان سے بھی جگہ جگہ ان کے اعترافات کا حوالہ دیا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”وما مِنَّا إِلا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ (164) وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ (165) وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ (166): اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک متعین مقام ہے اور ہم تو صفین باندھ کر حاضر رہنے والے ہیں اور ہم تو اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“ (صافات : 164-166)۔ فرشتوں سے متعلق ایک تفصیلی بحث سورة بقرہ میں بضمن آیت ایمان ہم کرچکے ہیں۔
اولوالعلم کی شہادت : ملائکہ کے بعد اولو العلم کی شہادت کا ذکر ہے۔ العلم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے دنیا کو ملا ہے۔ اس پر مفصل بحث ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ اس علم کے حاملین نے ہر دور میں خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی ہے یہ مصلحین و مجددین کے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں اور جنہوں نے اللہ کے دین کو بدعات اور آمیزشوں سے پاک کر کے عقائد کو توحید خالص کی بنیاد پر اور شرائع و قوانین اور اعمال و اخلاق کو حق و عدل کی اساس پر استوار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کی طرف آگے کی آیت میں ”یامرون بالقسط“ کے لفظ سے اشارہ ہوا ہے اور جن کے متعلق فرمایا ہے کہ اہل کتاب ان کو قتل کرتے رہے ہیں۔۔ حکمت دین کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ یہاں اللہ اور ملائکہ کے ساتھ حاملین علم کا حوالہ ہے اور توحید کے ساتھ عدل و قسط کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اہل علم کا کیا مقام ہے اور خدائی شریعت کے نظام میں عدل و قسط کا کیا درجہ و مرتبہ ہے۔ علم حقیقی کے حاملین ملائکہ کے زمرہ سے نسبت رکھنے والے ہیں اور عدل و قسط کا درجہ صفات الٰہی میں اتنا بلند وارفع ہے کہ توحید کے بعد سب سے پہلے جس کا ذکر ہوسکتا ہے وہ یہی ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم : ”قائما بالقسط“ ترکیب کے لحاظ سے ہمارے نزدیک ”انہ“ کی ضمیر سے حال پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں، تمام اختیار و تصرف تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس اختیار و تصرف کو ٹھیک ٹھیک عدل و قسط کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم وہی ہے جو ہم عام بول چال میں حق، عدل، انصاف وغیرہ کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا ضد ظلم، جور اور اس معنی کے دوسرے الفاظ ہیں۔ فکر، عمل، قول، اخلاق، کردار مظاہر اور اشکال غرض ظاہر و باطن کے ہر گوشے میں ایک نقطہ تو وہ ہے جو ہر چیز کے خالق و فاطر کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کے اندر ہے، اس کو نقطہ اعتدال یا بالفاظ دیگر مرجع عدل و قسط سمجیے۔ اگر کسی گوشے میں اس نقطہ سے شوشے کے برابر بھی انحراف واقع ہوجائے تو یہ بات عدل و قسط کے منافی ہوگی۔ اعتبارات اور نسبتوں کی تبدیلی سے تعبیرات بدل بدل جائیں گی۔ کسی دائرے میں ہم اس سے انحراف کو ظلم و جور سے تعبیر کریں گے، کسی گوشے میں بد صورتی اور بد ہیئتی سے، اسی طرح کسی پہلو میں اس اعتدال کو حق وعدل سے تعبیر کریں گے، کسی محل میں حسن و جمال سے لیکن اصل حقیقت ہر جگہ ایک ہی ہوگی۔ وہ یہ کہ ایک شے اپنے اصل فطری مقام سے ہٹ گئی تو بگار پیدا ہوگیا اور اگر اپنے جوڑ سے پیوست ہوگئی تو بناؤ نمودار ہوگیا۔۔ خالق کائنات چونکہ اس دنیا کا خالق ومالک ہے اس وجہ سے اس کو اس کا بگاڑ نہیں بلکہ بناؤ مطلوب ہے۔ اس کے نظام تکوینی کی اس نے اس طرح چول سے چول بٹھائی ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے اور اگر اس کی قدرت ہی کی کسی معجز نمائی سے کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوتا نظر آتا ہے تو دفعۃ اسی کے کارفرما ہاتھ اس کو درست کرنے کے لیے نمودار ہوجاتے ہیں تاکہ جس توازن پر یہ کارخانہ قائم ہے اس میں کوئی خلل نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کی یہی توازن پسندی ہماری زندگی کے اس دائرے کے لیے بھی ہے جس دائرے میں اس نے ہمیں محدود قسم کی آزادی دی ہے۔ جب ہم اپنے اختیار کو غلط استعمال کرکے اپنے اخلاق و عمل کے کسی گوشے میں فساد پیدا کرلیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھیل تو دیتا ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے، اس کی عدل پسندی یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ہمیں ہماری خواہشات کی پیروی کے لیے آزاد اور اس کے نتیجے میں اپنی خلق کو تاراج و پامال ہونے کے لیے چھور دے بلکہ وہ اس ڈھیل پر گرفت کرتا ہے اور ہمارے پیدا کیے ہوئے بگاڑ کو از سرِ نو درست کردیتا ہے اس لیے کہ وہ قائم بالقسط ہے۔ اس قیام بالقسط ہی کے لیے اس نے مکافات عمل کا قانون رکھا ہے، اسی کے لیے اس نے انبیاء و شرائع کے بھیجنے کا سلسلہ جاری کیا، اسی کے لیے اس نے یہ اہتمام فرمایا کہ جب شریعت میں تحریفات و بدعات سے فساد پیدا ہوجائے تو مجددین و مصلحین اس کی اصلاح و تجدید کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں، اسی کی خاطر اس نے قوموں کے عروج وزوال کو ان کے اخلاقی عروج وزوال کے تابع کیا اور پھر سب سے بڑھ کر اس عدل و قسط ہی کے کامل ظہور کے لیے اس نے ایک ایسا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی میزانِ عدل نصب ہوگی اور وہ تول کر بتائے گی کہ کس کا کون سا عمل ترازو میں پورا ہے، کون سا نہیں، اور پھر اسی کے مطابق جزا وسزا ہوگی۔۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوط رہے کہ ایک ہی آیت میں دو مرتبہ کلمہ توحید کا اعادہ ہے اور دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو الگ الگ صفتوں کا حوالہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قائم بالقسط ہے، پھر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزیز و حکیم ہے، اس اسلوب میں مخاطب، اہل کتاب کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا، فرشتوں اور تمام حاملین علم کی شہادت یہی ہے کہ خدا کے سوا کوئی الہ نہیں اور وہ الہ امور دنیا سے بےتعلق نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی خواہشات کی چراگاہ میں شتر بےمہار کی طرح چھور رکھے، وہ دندناتے پھریں اور وہ حی وقیوم ہونے کے باوجود ان کا کوئی نوٹس نہ لے بلکہ وہ تمہاری خواہشوں کے علی الرغم اپنے نظام عدل و قسط کو ضرور قائم کرے گا اور کوئی اس کا ہاتھ نہ پکڑ سکے گا، پھر فرمایا کہ وہ ایسا کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ وحدہ لا شریک بھی ہے اور عزیز و حکیم بھی۔ اس کی عزت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا رے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یا تو وہ بےبس اور حق لیے غیر سے خالی ہے یا وہ ایک کھلنڈرا ہے جس نے دنیا کو محض ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی عظیم ہستی کے متعلق اس قسم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ایمان بالقسط ایمان کے اہم ارکان میں سے ہے : اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی صفت پر ایمان لانا ایمان باللہ کے نہایت اہم اجزا میں سے ہے اور اسلام کی حقیقت میں تو اس کو اس درجہ دخل ہے کہ گویا اسلام عبارت ہی اسی سے ہے۔ اس کی یہ اہمیت تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے متعلق استاذ امام کے چند نکات یہاں درج کردیے جائیں تاکہ جو لوگ حکمت دین پر غور کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مولانا ؒ کے نزدیک اس صفت کی اہمیت مندرجہ ذیل پہلوؤں سے ہے۔
ایمان بالقسط کی اہمیت کے چار پہلو : 1۔ ایمان امن سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اعتماد و اعتقاد اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ایمان کے لیے ناگزیر ہے کہ آدمی کو اللہ کے وجود پر یقین راسخ ہو۔ لیکن یہ چیز اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک یہ اعتماد نہ کیا جائے کہ عقل اصلاً رہنمائی کے لیے بنی ہے نہ کہ گمراہ کرنے لیے۔ یعنی یہ مانا جائے کہ عقل اپنی فطرت کے لحاظ سے انسان کے اندر ایک میزان قسط ہے۔ پھر یہ چیز ایک اور نتیجہ کو مستلزم ہے کہ فطرت کو اس کے فاطر نے حق وعدل کے اصولوں پر استوار کیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بہمہ وجوہِ عدل و قسط، عدل و قسط کو پسند کرنے والا اور اس کو قائم کرنے والا ہے۔ یہ تمام نتائج عقلاً لازم بلکہ بدیہیات میں سے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے حق ہونے کا ثبوت اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک فاطر فطرت کو حق و عدل نہ مانا جائے۔ اسی سے اس کے تمام افعال کا حق و صدق ہونا ثابت ہوگا۔ جس طرح عقلاً یہ چیز لازم ہے اسی طرح اخلاقی مسلمان سے بھی اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی کو اللہ تعالیٰ نے فطرت میں داخل کیا ہے اور دلوں میں اس کے قبول کرنے اور اس کی عزت کرنے کی رغبت ودیعت فرمائی ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خود تو نیکی کو پسند کریں اور خدا کو نیکی کو پسند کرنے والا نہ قرار دیں۔ ہم اپنی اس خیر پسندی کی صحت و اصابت پر اطمینان کس طرح کرسکتے ہیں اگر خود فاطر کی خیر پسندی پر ہمارا دل مطمئن نہ ہو۔ ہم اس کو نیکی کر کے خوش کرنا تو اسی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ہم یہ اطمینان رکھتے ہیں کہ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے۔ اس کو اچھی صفات سے موصوف کرنا بھی اسی بنیاد پر ہے کہ ان صفات کو پسند کرنے کے معاملے میں ہمیں اپنی فطرت کے صحیح ہونے پر پورا اعتماد ہے۔ 2۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی اصل خدا کی محبت ہے۔ ہم ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جس سے ہم محبت کرتے ہیں، جس سے امید رکھتے ہیں اور جس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ یہ چیز اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ ظلم و ناانصافی کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ وہ اپنا انعام انہی پر فرمائے گا جو اس کی اطاعت کریں گے اور سزا انہی کو دے گا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ کسی ظالم و نامنصف آقا سے محبت کرنا انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ 3۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات پر غور کرنے سے فطرت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا جو تقاضا ابھرتا ہے اس کی بنیاد شکر پر ہے۔ یہ شکر اس صورت میں لازم ہوتا ہے جب ہم یہ مانیں کہ یہ منعم کا حق اور اس کے انعام کا مقتضا ہے۔ یہی رمز ہے کہ قرآن میں شرک کو ظلم، اور ایمان کو شکر قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر تمام حقوق کے استحقاق کی بنیاد عدل کے وجوب پر رکھی گئی ہے۔ یہ شریعت اور قانون کی ایک بدیہی حقیقت ہے۔ اس وجہ سے ہر شریعت کی اساس و بنیاد قسط ہے۔ 4۔ چوتھا یہ کہ ایمان کا ثمرہ اطاعتِ الٰہی ہے اور اطاعت کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گوشے میں افعال اور ان کے اثرات میں یہ رشتہ اپنے خلق و تدبیر اور اپنے امر و حکم سے قائم کر رکھا ہے اور مختلف طریقوں سے اس حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہم چونکہ اعمال کے ان نتائج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اس وجہ سے اس کے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر اس بات پر ہمارا ایمان نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرسکتا تو تمام اعمال کی بنیاد ہی ڈھے جائے گی اور پھر سارا اعتماد دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز پر رہ جائے گا یا تو نصاریٰ کی طرح جھوٹی شفاعت پر جن کا سارا اعتماد حضرت مسیح ؑ پر ہے، جن کو معبود بنا کر وہ ان کی عبادت کرتے اور جن سے خدا سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں یا پھر یہود کی طرح کامل سرگشتگی اور ناعاقبت بینی پر۔ انہوں نے ہوا کے رخ پر اپنی کشتی چھوڑ دی، اپنے تکبر اور حسد کے سبب سے وہ خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے، گویا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اور بد میں امتیاز کے لیے کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔ اس ضلالت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر پورا یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے، اس کا ہر حکم عدل اور اس کا ہر وعدہ سچا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ”تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا“۔
ان چاروں پہلوؤں پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے گی کہ ایمان بالقسط ایمان کے نہایت اہم ارکان میں سے ہے اور اس پر عقائد، اخلاق اور شرائع کے نہایت بنیادی مسائل مبنی ہیں۔
Ayah 3:19”الدین“ سے مراد دین حقیقی، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اتارا اس پر الف لام اسی طرح کا ہے جس طرح کا ”الکتب“ پر ہے۔ اس کی وضاحت تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ ”العلم“ سے مراد علم حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کو واضح کرنے اور اختلاف کو دور کردینے کے لیے نازل ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو صحیح زندگی گزارنے کا طیرقہ بتانے کے لیے ایک دین عدل و قسط کی میزان ہے۔ یہی دین اس کائنات کے تمام نظام تکوینی میں نافذ ہے۔ اسی دین پر فطرتِ انسانی کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہی دین اس نے ابتدا سے تمام نبیوں اور رسولوں پر اتارا۔ اس سے الگ اس نے کسی کو کوئی اور دین نہیں دیا لیکن یہود و نصاری نے باہمی اختلاف وعناد اور ضدم ضدا کی وجہ سے اس میں بہت سے اختلافات پیدا کردیے اور یہودیت و نصرانیت کے ناموں سے اپنے الگ الگ دین کھڑے کرلیے۔ ان کا یہ اختلاف کسی بیخبر ی پر مبنی نہیں تھا بلکہ حق واضح ہوجانے کے باوجود محض شرارت نفس، باہمی عناد اور اپنی اپنی بدعات کی پچ میں تھا۔ اس طرح انہوں نے اللہ کی عظیم نعمت پا کر ضائع کردی۔ اللہ چونکہ حی وقیوم اور قائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس نے اس نظام عدل و قسط یعنی اسلام کو از سرِ نو تازہ اور مکمل صورت میں نازل فرمایا تاکہ لوگ ہدایت کی صراط مستقیم پائیں اور دنیا وآخرت دونوں کی فلاح حاصل کریں۔ اب بھی اگر انہوں نے وہی روش اختیار کیے رکھی جو اس سے پہلے اختیار کی اور خدا کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حساب بہت جلد چکا دینے والا ہے۔ یعنی یہ مہلت جو انہیں ملی ہوئی ہے اس کو بہت طویل نہ سمجھیں بلکہ حضرت یحییٰ کے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی آچکا ہے اور وہاں تفصیل کے ساتھ اس پر گفتگو کرچکے ہیں۔ ہم آیت نقل کیے دیتے ہیں۔ تفصیل کے ساتھ اس پر گفتگو کرچکے ہیں۔ ہم آیت نقل کیے دیتے ہیں۔ تفصیل کے طالب اسی مقام میں اس کی تفسیر دیکھیں۔ فرمایا ہے ”كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ : لوگوں کو اللہ نے ایک ہی امت بنایا پھر انہوں نے اختلافات پیدا کیے تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے خوش خبری دیتے ہوئے اور آگاہ کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری حق کے ساتھ تاکہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے۔ اور اس میں اختلاف انہی لوگوں نے کیا جن کو یہ کتاب ملی، کھلی کھلی تنبیہات کے باوجود، محض آپس کی ضدم ضدا کے سبب سے، تو اللہ نے ایمان لانے والوں کو اپنی توفیق بخشی سے اس حق کی ہدایت دی جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے“ (بقرہ :213)۔