2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:1
سورة البقرہ نام اور تعداد آیات اس سورت کا نام سورة بقرہ ہے اور اسی نام سے حدیث اور آثار صحابہ میں اس کا ذکر موجود ہے جس روایت میں سورة بقرہ کہنے کو منع کیا ہے وہ صحیح نہیں (ابن کثیر) تعداد آیات دو سو چھیاسی ہے اور کلمات چھ ہزار دو سو اکیس اور حروف پچیس ہزار پانسو ہیں (ابن کثیر) زمانہ نزول یہ سورت مدنی ہے، یعنی ہجرت مدینہ طیبہ کے بعد نازل ہوئی اگرچہ اس کی بعض آیات مکہ مکرمہ میں حج کے وقت نازل ہوئی ہیں مگر وہ بھی باصطلاح مفسرین مدنی کہلاتی ہیں، سورة بقرہ قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت اور مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے اس کا نزول شروع ہوا اور مختلف زمانوں میں مختلف آیتیں نازل ہوتی رہیں یہاں تک کہ ربا یعنی سود کے متعلق جو آیات ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی آخری عمر میں فتح مکہ کے بعد نازل ہوئیں اور اس کی ایک آیت واتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ (281: 2) تو قرآن کی بالکل آخری آیت ہے جو 10 ھ ذی الحجہ کو منیٰ کے مقام پر نازل ہوئی جبکہ آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع کے فرائض ادا کرنے میں مشغول تھے (قرطبی) اور اس کے اسّی نوّے دن کے بعد آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی اور وحی الہی کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا، فضائل سورة بقرہ یہ قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت اور بہت سے احکام پر مشتمل ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سورة ٔ بقرہ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بدنصیبی ہے، اور اہل باطل اس پر قابو نہیں پاسکتے، قرطبی نے حضرت معاویہ سے نقل کیا ہے کہ اس جگہ اہل باطل سے مراد جادوگر ہیں مراد یہ ہے کہ اس سورت کے پڑھنے والے پر کسی کا جادو نہ چلے گا (قرطبی از مسلم بروایت ابوامامہ باہلی) اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة بقرہ پڑھی جائے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے (ابن کثیر از حاکم) اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورة بقرہ سنام القرآن اور ذروۃ القرآن ہے سنام اور ذروہ ہر چیز کے اعلیٰ و افضل حصہ کو کہا جاتا ہے، اس کی ہر آیت کے نزول کے وقت اسی فرشتے اس کے جلو میں نازل ہوئے ہیں، (ابن کثیر از مسند احمد) اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ اس سورت میں ایک آیۃ ایسی ہے جو تمام آیات قرآن میں اشرف و افضل ہے اور وہ آیت الکرسی ہے (ابن کثیر از ترمذی) حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ سورة بقرہ کی دس آیتیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو رات میں پڑھ لے تو اس رات کو جن شیطان گھر میں داخل نہ ہوگا اور اس کو اور اس کے اہل عیال کو اس رات میں کوئی آفت، بیماری رنج وغم وغیرہ ناگوار چیز پیش نہ آئے گی اور اگر یہ آیتیں کسی مجنون پر پڑھی جائیں تو اس کو افاقہ ہوجائے وہ دس آیتیں یہ ہیں چار آیتیں شروع سورة بقرہ کی پھر تین آیتیں درمیانی یعنی آیۃ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں، پھر آخر سورة بقرہ کی تین آیتیں۔ احکام و مسائل مضامین و مسائل کے اعتبار سے بھی سورة بقرہ کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے ابن عربی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ سورة بقرہ میں ایک ہزار امر اور ایک ہزار نہی اور ایک ہزار حکمتیں ایک ہزار خبر اور قصص ہیں (قرطبی وابن کثیر) یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے جب سورة بقرہ کو تفسیر کے ساتھ پڑھا تو اس کی تعلیم میں بارہ سال خرچ ہوئے اور حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ سورت آ ٹھ سال میں پڑھی (قرطبی) سورة فاتحہ درحقیقت پورے قرآن کا خلاصہ ہے اس کے بنیادی مضامین تین ہیں اوّل اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، یعنی پروردگار عالم ہونے کا بیان دوسرے اس کا مستحق عبادت ہونا اور اس کے سوا کسی کا لائق عبادت نہ ہونا تیسرے طلب ہدایت سورة فاتحہ کا آخری مضمون صراط مستقیم کی ہدایت طلب کرنا ہے اور درحقیقت پورا قرآن اس کے جواب میں ہے کہ جو شخص صراط مستقیم چاہتا ہے قرآن ہی میں ملے گا، اسی لئے فاتحہ کے بعد پہلی سورت سورة بقرہ رکھی گئی اور اس کو ذلک الکتٰب سے شروع کرکے اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ جس صراط مستقیم کو تم ڈھونڈہتے ہو وہ یہ کتاب ہے، اس کے بعد اس سورت میں اول ایمان کے بنیادی اصول توحید، رسالت، آخرت اجمالی طور پر اور آخر سورت میں ایمان مفصل بیان فرمایا گیا ہے اور درمیان میں ہر شعبہ زندگی، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاق، اصلاح، ظاہر و باطن کے متعلق ہدایات کے بنیادی اصول اور ان کے ساتھ بہت سی جزئیات بیان ہوئی ہیں، خلاصہ تفسیر، یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں (یعنی قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں اگرچہ کوئی نافہم اس میں شبہ رکھتا ہو کیونکہ یقینی بات کسی کے شبہ کرنے میں بھی حقیقت میں یقینی ہی رہتی ہے) راہ بتلانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو جو یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں پر (یعنی جو چیزیں ان کے حواس وعقل سے پوشیدہ ہیں صرف اللہ و رسول کے فرمانے سے ان کو صحیح مان لیتے ہیں) اور قائم رکھتے ہیں نماز کو (قائم رکھنا یہ ہے کہ اس کو اس پابندی کے ساتھ اس کے وقت میں پورے شرائط وارکان کے ساتھ ادا کریں) اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (یعنی نیک کاموں میں) اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں (مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان قرآن پر بھی ہے اور پہلی کتابوں پر بھی اور ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں عمل کرنا دوسری بات ہے جتنی کتابیں اللہ نے پہلے انبیاء پر نازل فرمائی ہیں ان کو سچا سمجھنا فرض اور شرط ایمان ہے یعنی یہ سمجھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں وہ صحیح ہیں خود غرض لوگوں نے جو اس میں تبدیل و تحریف کی ہے وہ غلط ہے رہ گیا عمل سو وہ صرف قرآن پر ہوگا پہلی کتابیں سب منسوخ ہوگئیں ان پر عمل جائز نہیں) اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پورے کامیاب (یعنی ایسے لوگوں کو دنیا میں تو یہ نعمت ملی کہ راہ حق ملی اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابی ان کے لیے ہے) ، حل لغات ذٰلِكَ کسی دور کی چیز کی طرف اشارہ کے لئے استعمال ہوتا ہے، رَيْبٌ شک وشبہ، ھُدًى ہدایت سے بنا ہے اور ہدایت کے معنی رہنمائی مُتَّقِيْنَ جن میں صفت تقویٰ ہو، تقویٰ کے لفظی معنی بچنے کے ہیں مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے غَيْبِ لفظی معنی ہر وہ چیز جو انسان کی نظر اور دوسرے حواس سماعت وغیرہ سے باہر ہو يـقِيْمُوْنَ اقامت سے بنا ہے جس کے معنی سیدھا کرنے کے ہیں اور نماز کا سیدھا کرنا یہ کہ آداب اور خشوع خضوع کے ساتھ ادا کی جائے رَزَقْنٰھُمْ رزق سے بنا ہے جس کے معنی ہیں روزی اور گذارے کا سامان دینا يُنْفِقُوْنَ انفاق سے بنا ہے خرچ کرنے کے معنی میں آتا ہے اٰخِرَةُ لغت میں مؤ خر اور بعد میں آنے والی چیز کو آخرہ کہا جاتا ہے اس جگہ عالم دنیا کے مقابلے میں عالم آخرت بولا گیا يُوْقِنُوْنَ ایقان سے ہے اور وہ یقین سے بنا ہے اور یقین اس کو کہتے ہیں جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو مُفْلِحُوْنَ افلاح سے اور وہ فلاح سے بنا ہے فلاح کے معنی پوری کامیابی۔ معارف و مسائل حروف مقطعہ جو بہت سی سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی تحقیق بہت سی سورتوں کے شروع میں چند حرفوں سے مرکب ایک کلمہ لایا گیا ہے جیسے الۗمّۗ، حٓمٓ، الۗمٓصٓ وغیرہ ان کو اصطلاح میں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان میں سے ہر حرف جدا جدا ساکن پڑھا جاتا ہے، الف، لام، میم، حروف مقطعہ جو اوائل سورة میں آئے ہیں ان کے متعلق بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ اسماء الہیہ کے رموز ہیں مگر جمہور صحابہ وتابعین اور علماء امت کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ حروف رموز اور اسرار ہیں جس کا علم سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کو نہیں اور ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اس کا علم بطور ایک راز کے دیا گیا ہو جس کی تبلیغ امت کے لئے روک دی گئی ہو اسی لئے آنحضرت ﷺ سے ان حروف کی تفسیر و تشریح میں کچھ منقول نہیں امام تفسیر قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار فرمایا ہے ان کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ؛ عامر شعبی، سفیان ثوری اور ایک جماعت محدّثین نے فرمایا ہے کہ ہر آسمانی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص رموز و اسرار ہوتے ہیں اسی طرح یہ حروف مقطعہ قرآن میں حق تعالیٰ کا راز ہے اس لئے یہ ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف حق تعالیٰ ہی کو ہے ہمارے لئے ان میں بحث و گفتگو بھی جائز نہیں مگر اس کے باوجود ہمارے فائدے سے خالی نہیں اول تو ان پر ایمان لانا پھر ان کا پڑھنا ہمارے لئے ثواب عظیم ہے دوسرے ان کے پڑھنے کے معنوی فوائد و برکات ہیں جو اگرچہ ہمیں معلوم نہ ہوں مگر غیب سے وہ ہمیں پہنچتے ہیں، پھر فرمایا حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی مرتضیٰ ، عبداللہ بن مسعود وغیرہ جمہور صحابہ کا ان حروف کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسرار ہیں، ہمیں ان پر ایمان لانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور جس طرح آئے ہیں ان کی تلاوت کرنا چاہئے مگر معنی معلوم کرنے کی فکر میں پڑنا درست نہیں، ابن کثیر نے بھی قرطبی وغیرہ سے نقل کرکے اسی مضمون کو ترجیح دی ہے اور بعض اکابر علماء سے جو ان حروف کے معنی منقول ہیں اس سے صرف تمثیل و تنبیہ اور تسہیل مقصود ہے یہ نہیں کہ امر وحق تعالیٰ یہ ہے اس لئے اس کو بھی غلط کہنا تحقیق علماء کے خلاف ہے،
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

اس کتاب میں کچھ شک نہیں راہ بتلاتی ہے ڈرنے والوں کو

(آیت) ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ لفظ ذٰلِكَ کسی دور کی چیز کی طرف اشارے کے لئے آتا ہے اور كِتٰب سے مراد قرآن کریم ہے، ریب کے معنی شک وشبہ، معنی یہ ہیں کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں یہ موقع بظاہر اشارہ بعید کا نہیں تھا کیونکہ اسی قرآن کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو لوگوں کے سامنے ہے مگر اشارہ بعید سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ سورة فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی درخواست کی گئی تھی یہ سارا قرآن اس درخواست کا جواب بصورت قبولیت اور صراط مستقیم کی تشریح و تفصیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے یہ دعا سن لی اور قرآن کریم بھیج دیا جو ہدایت کا آفتاب ہے جو شخص ہدایت چاہتا ہے وہ اس کو پڑھے سمجھے اور اس کے مقتضٰی پر عمل کرے، اور پھر اس کے متعلق ارشاد ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کیونکہ کسی کلام میں شک وشبہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ خود کلام میں غلطی ہو تو وہ کلام محل شک وشبہ ہوجاتا ہے دوسرے یہ کہ سمجھنے والے کی فہم میں غلطی ہو، اس صورت میں کلام محل شک وشبہ نہیں ہوتا گو کج یا کم فہمی کی وجہ سے کسی کو شبہ ہوجائے جس کا ذکر خود قرآن کریم میں چند آیتوں کے بعد ان کنتم فی ریبٍ میں آیا ہے، اس لئے ہزاروں کم فہموں یا کج فہموں کے شبہات و اعتراضات کے باوجود یہ کہنا صحیح ہے کہ اس کتاب میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے یعنی مخصوص ہدایت جو نجات آخرت کا ذریعہ بنے وہ متقین ہی کا حصہ ہے اگرچہ قرآن کی ہدایت نہ صرف نوع بشر کے لئے بلکہ تمام کائنات عالم کے لئے عام ہے سورة فاتحہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ ہدایت کے تین درجے ہیں ایک درجہ تمام نوع انسان بلکہ تمام حیوانات وغیرہ کے لئے بھی عام اور شامل ہے دوسرا درجہ مؤمنین کے لئے خاص اور تیسرا درجہ مقربین خاص کے لئے مخصوص ہے پھر اس کے درجات کی کوئی حد و انتہاء نہیں قرآن کریم کے مختلف مواقع میں کہیں ہدایت عامہ کا ذکر آیا ہے کہیں ہدایت خاصہ کا اس جگہ ہدایت ذکر ہے اس لئے متقین کی تخصیص کی گئی ہے اس پر یہ شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہدایت کی زیادہ ضرورت تو ان لوگوں کو ہے جو متقی نہیں کیونکہ مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ اس جگہ متقین کی خصوصیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن غیر متقی لوگوں کے لئے ہدایت نہیں ہے، متقین کی خاص صفات اس کے بعد دو آیتوں میں متقین کی مخصوص صفات و علامات بیان کر کے یہ بتلادیا گیا ہے کہ یہ جماعت ہدایت یافتہ ہے انھیں کا راستہ صراط مستقیم ہے جس کو سیدھا راستہ مطلوب ہو اس جماعت میں شامل ہوجائے ان کے ساتھ رہے ان کے عقائد ونظریات اور اعمال و اخلاق کو اپنا نصب العین بنائے، شاید یہی وجہ ہے کہ متقین کی مخصوص صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے، اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی یہی لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے رب کی طرف سے ملی ہے اور یہی لوگ ہیں پورے کامیاب، متقین کی صفات جو ان دو آیتوں میں بیان ہوئی ہیں ان میں ایمان کی اجمالی تعریف اور اس کے بنیادی اصول بھی آگئے ہیں اور عمل صالح کے بنیادی اصول بھی اس لئے ان صفات کو ذرا وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ،
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو کہ یقین کرتے ہیں بےدیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(آیت) الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ یعنی خدا سے ڈرنے والے لوگ ایسے ہیں کہ یقین کرتے ہیں بےدیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اس سے کچھ خرچ کرتے ہیں، اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیںایمان بالغیب، اقامت صلوٰۃ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اس کے ضمن میں بہت سے اہم مسائل آگئے ہیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے، پہلا مسئلہ ایمان کی تعریف ایمان کی تعریف کو قرآن کریم نے يُؤ ْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ کے صرف دو لفظوں میں پورا بیان کردیا ہے لفظ ایمان اور غیب کے معنی سمجھ لئے جاویں تو ایمان کی پوری حقیقت اور تعریف سمجھ میں آجاتی ہے، لغت میں کسی کی بات کو کسی کے اعتماد پر یقینی طور سے مان لینے کا نام ایمان ہے اسی لئے محسوسات ومشاہدات میں کسی کے قول کی تصدیق کرنے کو ایمان نہیں کہتے مثلا شخص سفید کپڑے کو سفید یا سیاہ کو سیاہ کہہ رہا ہے اور دوسرا اس کی تصدیق کرتا ہے اس کو تصدیق کرنا تو کہیں گے ایمان لانا نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس تصدیق میں قائل کے اعتماد کو کوئی دخل نہیں بلکہ یہ تصدیق مشاہدہ کی بناء پر ہے اور اصطلاح شرع میں خبر رسول کو بغیر مشاہدہ کے محض رسول کے اعتماد پر یقینی طور سے مان لینے کا نام ایمان ہے لفظ غیب لغت میں ایسی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جو بدیہی طور پر انسان کو معلوم ہوں، اور نہ انسان کے حواس خمسہ اس کا پتہ لگا سکیں یعنی نہ وہ آنکھ سے نظر آئیں نہ کان سے سنائی دیں، نہ ناک سے سونگھ کر یا زبان سے چکھ کر ان کا علم ہوسکے اور نہ ہاتھ سے چھو کر ان کو معلوم کیا جاسکے، قرآن میں لفظ غیب سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور ان کا علم بداہت عقل اور حواس خمسہ کے ذریعہ نہیں ہوسکتا اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات بھی آجاتی ہیں تقدیری امور جنت و دوزخ کے حالات، قیامت اور اس میں پیش آنیوالے واقعات بھی، فرشتے، تمام آسمانی کتابیں اور تمام انبیاء سابقین بھی جس کی تفصیل اسی سورة بقرہ کے ختم پر اٰمَنَ الرَسُول میں بیان کی گئی ہے گویا یہاں مجمل کا بیان ہوا ہے اور آخری آیت میں ایمان مفصل کا، تو اب ایمان بالغیب کے معنے یہ ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ جو ہدایات وتعلیمات لے کر آئے ہیں ان سب کو یقینی طور پر دل سے ماننا شرط یہ ہے کہ اس تعلیم کا رسول اللہ ﷺ سے منقول ہونا قطعی طور پر ثابت ہو جمہور اہل اسلام کے نزدیک ایمان کی یہی تعریف ہے (عقیدہ طحاوی عقائد نسفی وغیرہ) اس تعریف میں ماننے کا نام ایمان بتلایا گیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض جاننے کو ایمان نہیں کہتے کیونکہ جہاں تک جاننے کا تعلق ہے وہ تو ابلیس و شیطان اور بہت سے کفار کو بھی حاصل ہے کہ ان کو آنحضرت ﷺ کے صدق کا یقین تھا مگر اس کو مانا نہیں اس لئے وہ مومن نہیں، دوسرا مسئلہ اقامت صلو ٰۃ اقامت کے معنی محض نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز کو ہر جہت اور ہر حیثیت سے درست کرنے کا نام اقامت ہے جس میں نماز کے تمام فرائض، واجبات، مستحبات، اور پھر ان پر دوام والتزام یہ سب اقامت کے مفہوم میں داخل ہیں اور صحیح یہ ہے کہ اس جگہ نماز سے کوئی خاص نماز مراد نہیں بلکہ فرائض وواجبات اور نفلی نمازوں کو یہ لفظ شامل ہے خلاصہ مضمون یہ ہوا کہ وہ لوگ جو نمازوں کی پابندی بھی قواعد شرعیہ کے مطابق کرتے ہیں، اور ان کے پورے آداب بھی بجا لاتے ہیں، تیسرا مسئلہ ! اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اس میں بھی صحیح اور تحقیقی بات جس کو جمہور مفسّرین نے اختیار فرمایا ہے یہی ہے کہ ہر قسم کا وہ خرچ داخل ہے جو اللہ کی راہ میں کیا جائے خواہ فرض زکو ٰۃ ہو، یا دوسرے صدقات واجبہ یا نفلی صدقات و خیرات، کیونکہ قرآن کریم میں جہاں کہیں لفظ انفاق استعمال ہوا عموماً نفلی صدقات میں یا عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے زکوٰۃ فرض کے لئے عموماً لفظ زکوٰۃ ہی آیا ہے، اس مختصر جملہ میں لفظ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ پر غور کیجئے تو ایک یہ لفظ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ایک قوی داعیہ شریف انسان کے دل میں پیدا کردیتا ہے کہ جو کچھ مال ہمارے پاس ہے یہ سب خدا ہی کا عطا کیا ہوا اور اسی کی امانت ہے، اگر ہم اس تمام مال کو بھی اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لئے خرچ کردیں تو حق اور بجا ہے اس میں بھی ہمارا کوئی احسان نہیں، جان دی ہوئی اسی کی تھی، حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا، اس پر مزید اضافہ لفظ مِمَّا نے کردیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دیئے ہوئے مال کو بھی پورا خرچ کرنا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ خرچ کرنا ہے، یہاں متقین کی صفات کا بیان کرتے ہوئے اول ایمان بالغیب کا ذکر فرمایا گیا پھر اقامت نماز اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ایمان کی اہمیت تو سب کو معلوم ہے کہ وہی اصل الاصول اور سارے اعمال کی مقبولیت کا دارومدار ہے لیکن جب ایمان کے ساتھ اعمال کا بیان کیا جائے، تو ان کی فہرست طویل اور فرائض وواجبات کی تعداد کثیر ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اعمال میں سے صرف دو عمل نماز اور انفاق مال کے ذکر پر اکتفا کرنے میں کیا راز ہے ؟ اس میں غالبا اسی طرف اشارہ ہے کہ جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے، اس کا ذکر کرنے پر اکتفاء کیا گیا اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال و عبادات ان کے ضمن میں آگئے اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے گویا اس آیت میں ایمان کی مکمل تعریف کے ساتھ اسلام کے مفہوم کی طرف بھی اشارہ ہوگیا اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس جگہ اس کی بھی وضاحت کردی جائے کہ ایمان اور اسلام میں کیا فرق ہے ؟ ایمان اور اسلام میں فرق لغت میں ایمان کسی چیز کی دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے اور اسلام اطاعت و فرمانبرداری کا، ایمان کا محل قلب ہے اور اسلام کا بھی قلب اور سب اعضاء وجوارح لیکن شرعا ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول کی محض دل میں تصدیق کرلینا شرعاً اس وقت تک معتبر نہیں جب زبان سے اس تصدیق کا اظہار یا فرمانبرداری کا اقرار اس وقت تک معتبر نہیں جب تک دل میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق نہ ہو، خلاصہ یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے ایمان اور اسلام الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث میں اسی لغوی مفہوم کی بناء پر ایمان اور اسلام میں فرق کا ذکر بھی ہے مگر شرعا ایمان بدون اسلام کے اور اسلام بدون ایمان کے معتبر نہیں، جب اسلام یعنی ظاہری اقرار و فرمانبرداری کے ساتھ دل میں ایمان نہ ہو تو اس کو قرآن کی اصطلاح میں نفاق کا نام دیا گیا ہے اور اس کو کھلے کفر سے زیادہ شدید جرم ٹھہرایا ہے، (4: 147) یعنی منافقین جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں رہیں گے، اسی طرح ایمان یعنی تصدیق قلبی کے ساتھ اگر اقرار و اطاعت نہ ہو تو اس کو بھی قرآنی نصوص میں کفر ہی قرار دیا ہے ارشاد يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُم (2: 146) یعنی یہ کفار رسول اللہ ﷺ اور آپ کی حقانیت کو ایسے یقینی طریق پر جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں، اور دوسری جگہ ارشاد ہے، وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (14: 27) یعنی یہ لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا یقین کامل ہے اور ان کی یہ حرکت محض ظلم وتکبّر کی وجہ سے ہے، میرے استاذ محترم حضرت العلاّمہ سیّد محمد انور شاہ کشمیری ؒ ، اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتے تھے کہ ایمان اور اسلام کی مسافت ایک ہے فرق صرف ابتداء اسلام ظاہر عمل سے شروع ہوتا ہے اور قلب پر پہنچ کر مکمل سمجھا جاتا ہے اگر تصدیق قلبی ظاہری اقرار و اطاعت تک نہ پہنچنے وہ تصدیق ایمان معتبر نہیں، اسی طرح اگر ظاہری اطاعت و اقرار تصدیق قلبی تک نہ پہنچنے تو وہ اسلام معتبر نہیں، امام غزالی اور امام سبکی کی بھی یہی تحقیق ہے اور امام ابن ہمام نے مسامرہ میں اس تحقیق پر تمام اہل حق کا اتفاق ذکر کیا ہے،
Ayahs 2:4–5

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

وہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے۔

(آیت) وَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ یعنی متقین ایسے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہی لوگ یقین رکھتے ہیں، اس آیت میں متقین کی باقی صفات کا بیان ہے جس میں ایمان بالغیب کی کچھ تفصیل اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ عہد رسالت میں مؤمنین متقین دو طرح کے حضرات تھے ایک وہ جو پہلے مشرکین میں سے تھے پھر مشرف باسلام ہوئے دوسرے وہ جو پہلے اہل کتاب یہودی یا نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے اس سے پہلی آیت میں طبقہ کا ذکر تھا اور اس آیت میں دوسرے طبقہ کا ذکر ہے اسی لئے اس آیت میں قرآن پر ایمان لانے کے ساتھ پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کی بھی تصریح فرمائی گئی کہ وہ حسب تصریح حدیث دوسرے ثواب کے مستحق ہیں ایک پچھلی کتابوں کے زمانے میں ان پر ایمان لانے اور عمل کرنے کا ثواب دوسرے قرآن کے زمانے میں قرآن پر ایمان لانے اور عمل کرنے کا ثواب پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا آج بھی ہر مسلمان کے لئے لازم ہے فرق اتنا ہے کہ آج ان کتابوں پر ایمان اس طرح ہوگا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں نازل فرمایا تھا وہ سب حق ہے اور اس زمانے کے لئے وہی واجب العمل تھا مگر قرآن نازل ہونے کے بعد چونکہ پچھلی کتابیں اور شریعتیں سب منسوخ ہوگئیں تو اب عمل صرف قرآن ہی پر ہوگا، مسئلہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل آیت کے اس طرز بیان سے ایک اہم اصولی مسئلہ بھی نکل آیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کی وحی آخری وحی کیونکہ اگر قرآن کے بعد کوئی اور کتاب یا وحی بھی نازل ہونے والی ہوتی تو جس طرح اس آیت میں پچھلی کتابوں اور وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح آئندہ نازل ہونے والی کتاب اور وحی پر ایمان لانے کا ذکر بھی ضروری ہوتا بلکہ اس کی ضرورت زیادہ تھی کیونکہ تورات و انجیل اور تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا تو پہلے سے جاری اور معلوم تھا اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی سلسلہ وحی اور نبوت جاری ہوتا تو ضرورت اس کی تھی کہ اس کتاب اور اس نبی کا ذکر زیادہ اہتمام سے کیا جاتا جو بعد میں آنے والے ہوں تاکہ کسی کو اشتباہ نہ رہے، مگر قرآن نے جہاں ایمان کا ذکر کیا تو آنحضرت ﷺ سے پہلے نازل ہونے والی وحی اور پہلے انبیاء کا ذکر فرمایا بعد میں آنے والی کسی وحی یا نبی کا کہیں قطعاً ذکر نہیں پھر صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن کریم میں یہ بھی مضمون اول سے آخر تک مختلف مقامات میں چالیس پچاس آیتوں میں آیا ہے سب میں آنحضرت ﷺ سے پہلے انبیاء پہلی وحی، پہلی کتابوں کا ذکر ہے کسی ایک آیت میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ آئندہ بھی کوئی وحی یا نبی آنے والا ہے جس پر ایمان لانا ہے مثلاً ارشاد ہے (1) وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ (سورة نحل43) (2) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ (سورة مومن78) (3) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا (سورة روم4) (4) وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ (سورة نساء60) (5) وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ (سورة زمر65) (6) كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ (سورة شوریٰ3) (7) كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ (سورة بقرہ183) (8) سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا (سورة اسرائیل77) ان آیات میں اور ان کی امثال دوسری آیات میں جہاں کہیں نبی یا رسول یا وحی و کتاب بھیجنے کا ذکر ہے سب کے ساتھ مِنْ قَبْلِ اور مِنْ قَبْلِكَ کی قید لگی ہوئی ہے کہیں مِنْ بَعدِ کا اشارہ تک نہیں اگر ختم نبوت اور انقطاع وحی کا دوسری آیات میں صراحۃ ذکر نہ ہوتا تو قرآن کا یہ طرز ہی اس مضمون کی شہادت کے لئے کافی تھا مسئلہ ختم نبوت پر قرآنی تصریحات اور احادیث متواترہ کی شہادت اور امت کا اجماع تفصیل کے ساتھ دیکھنا ہو تو میرا رسالہ ختم نبوت دیکھا جائے، متقین کی تفسیر میں صفت ایمان بالآخرۃ اس آیت میں متقین کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آخرت سے مراد وہ دار آخرت ہے جس کو قرآن میں دارالقرار، دارالحیوان اور عقبیٰ نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے اور پورا قرآن اس کے ذکر اور اس کے ہولناک حالات سے بھرا ہوا ہے، آخرت پر ایمان ایک انقلابی عقیدہ ہے آخرت پر ایمان لان اگرچہ ایمان بالغیب کے لفظ میں آچکا ہے مگر اس کو پھر صراحۃً اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ اجزائے ایمان میں اس حیثیت سے سب میں اہم جز ہے کہ مقفضائے ایمان پر عمل کا جذبہ پیدا کرنا اسی کا اثر ہے، اور اسلامی عقائد میں یہی وہ انقلابی عقیدہ ہے جس نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور جس نے آسمانی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو پہلے اخلاق و اعمال میں اور پھر دنیا کی سیاست میں بھی تمام اقوام عالم کے مقابلے میں ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور جو عقیدہ توحید و رسالت کی طرح تمام انبیاء اور تمام شرائع میں مشترک اور متفق علیہ چلا آتا ہے، وجہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے سامنے صرف دنیا کی زندگی اور اسی کی عیش و عشرت ان کا انتہائ مقصود ہے اسی کی تکلیف کو تکلیف سمجھتے ہیں آخرت کی زندگی اور اعمال کے حساب کتاب اور جزاء وسزا کو وہ نہیں مانتے وہ جب جھوٹ، سچ اور حلال حرام کی تفریق کو اپنی عیش و عشرت میں خلل انداز ہوتے دیکھیں تو ان کو جرائم سے روکنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی، حکومت کے تعزیری قوانین قطعاً انسداد جرائم اور اصلاح اخلاق کے لئے کافی نہیں عادی مجرم تو ان سزاؤں کے عادی ہو ہی جاتے ہیں کوئی شریف انسان اگر تعزیری سزا کے خوف سے اپنی خواہشات کو ترک بھی کرے تو اسی حد تک کہ اس کو حکومت کی داروگیر کا خطرہ ہو، خلوتوں میں اور راز دارانہ طریقوں پر جہاں حکومت اور اس کے قوانین کی رسائی نہیں، اسے کون مجبور کرسکتا ہے کہ اپنی عیش و عشرت اور خواہش کو چھوڑ کر پابندیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے، ہاں وہ صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کی ظاہری اور باطنی حالت جلوت وخلوت میں یکساں ہوسکتی ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ مکان کے بند دروازوں اور ان پر پہرہ چوکیوں میں اور رات کی تاریکیوں میں بھی کوئی دیکھنے والا مجھے دیکھ رہا ہے کوئی کوئی لکھنے والا میرے اعمال کو لکھ رہا ہے، یہی وہ عقیدہ تھا جس پر پورا عمل کرنے کی وجہ سے اسلام کے ابتدائی دور میں ایسا پاکباز معاشرہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی صورت دیکھ کر، چال چلن دیکھ کر لوگ دل وجان سے اسلام کے گرویدہ ہوجاتے تھے، یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں بالاٰخرۃ کے ساتھ یؤ منون نہیں بلکہ یوقنون استعمال فرمایا گیا ہے، کیونکہ ایمان کا مقابل تکذیب ہے، اور ایقان کا مقابل شک وتردد اس میں اشارہ ہے کہ آخرت کی زندگی کی محض تصدیق کرنا مقصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس کا ایسا یقین ضروری ہے جیسے کوئی چیز آنکھوں کے سامنے ہو، متقین کی یہی صفت ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب، پھر جزا وسزا کا نقشہ ہر وقت ان کے سامنے رہتا ہے، وہ شخص جو دوسروں کا حق غصب کرنے کے لئے جھوٹے مقدمے لڑتا ہے، جھوٹی گواہی دے رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف حرام مال کمانے اور کھانے میں لگا ہوا ہے یا دنیا کے ذلیل مقاصد حاصل کرنے کے لئے خلاف شرع ذرائع اختیار کر رہا ہے، وہ ہزار بار آخرت پر ایمان لانے کا اقرار کرے اور ظاہر شریعت میں اس کو مومن کہا بھی جائے لیکن قرآن جس ایقان کا مطالبہ کرتا ہے وہ اسے حاصل نہیں اور وہ ہی انسان کی زندگی میں انقلاب لانیوالی چیز ہے اسی کے نتیجے میں متقین کو ہدایت اور کامیابی کا وہ انعام دیا گیا ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کی پانچویں آیت میں ہے، اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی بس یہی لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پورے کامیاب ،
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوچکے برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہ لائیں گے

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ کافر ہوچکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لاویں گے (یہ بات ان کافروں کے متعلق ہے جن کی نسبت خدا تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا عام کافر مراد نہیں ان میں بہت سے لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے) بند لگا دیا ہے اللہ نے انکے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لئے سزا بڑا ہے، معارف و مسائل خلاصہ مضمون مع ربط۔ سورة بقرہ کی پہلی آیتوں میں قرآن کریم کا کتاب ہدایت اور ہر شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد ان خوش نصیب لوگوں کا ذکر تھا، جنہوں نے اس کتاب ہدایت سے پورا فائدہ اٹھایا جن کو قرآن کی اصطلاح میں مؤمنین اور متقین کا لقب دیا گیا ہے اور ان حضرات کی مخصوص صفات و علامات بھی بیان کی گئیں اس کے بعد پندرہ آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس ہدایت کو قبول نہیں کیا بلکہ انکار وعناد سے پیش آئے پھر ان لوگوں میں دو گروہ تھے ایک وہ جنہوں نے کھل کر انکار و مخالفت کا راستہ اختیار کیا جن کو قرآن کی اصطلاح میں کافر کہا گیا دوسرے وہ لوگ جو اپنی اخلاقی پستی اور دنیا کی ذلیل اغراض کی بنا پر یہ جرأت بھی نہ کرسکے کہ ضمیر کی آواز اور دلی عقیدے کو صاف طور پر ظاہر کردیتے بلکہ دھوکہ اور فریب کی راہ اختیار کی مسلمانوں سے یہ کہتے کہ ہم مسلمان ہیں، قرآن اور اس کی ہدایات کو مانتے ہیں تمہارے ساتھ ہیں اور دلوں میں ان کے کفر و انکار تھا کفار کی مجسلوں میں جاکر یہ کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور ان کے راز معلوم کرنے کے لئے ہم ان سے ملتے ہیں، اس گروہ کا نام قرآن کی اصطلاح میں منافق ہے یہ پندرہ آیتیں ہیں جو قرآن کو نہ ماننے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں ان میں سے مذکورہ دو آیتوں میں کھلے کافروں کا ذکر ہے اور آگے تیرہ آیتوں میں منافقین کا ذکر اور ان کے متعلقہ حالات و علامات اور ان کا انجام مذکورہ ہے، ان تمام آیات کی تفصیل پر یک جائی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم نے سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں ایک طرف تو چشمہ ہدایت کا پتہ دے دیا کہ وہ قرآن ہے اور دوسری طرف تمام اقوام کو اسی ہدایت کے قبول یا انکار کے معیار سے دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک ہدایت یافتہ جن کو مؤمنین ومتقین کہا جاتا ہے دوسرے ہدایت سے انحراف و انکار کرنے والے جن کو کافر یا منافق کہا جاتا ہے، پہلی قسم وہ ہے جن کا راستہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں طلب کیا گیا ہے اور دوسری قسم وہ ہے جن کے راستہ سے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ میں پناہ مانگی گئی ہے، قرآن کریم کی اس تعلیم سے ایک اصولی مسئلہ یہ بھی نکل آیا کہ اقوام عالم کے حصوں یا گروہوں میں ایسی تقسیم جو تقسیم جو اصول پر اثر انداز ہوسکے وہ صرف اصول ونظریات ہی کے اعتبار سے ہوسکتی ہے، نسب، وطن، زبان، رنگ اور جغرافیائی حالات ایسی چیزیں نہیں جن کے اشتراک یا اختلاف سے قوموں کے ٹکڑے کئے جاسکیں، قرآن کریم کا اس بارے میں واضح فیصلہ بھی سورة تغابن میں مذکور ہے، خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ (2: 64) یعنی اللہ نے تم سب کو پیدا کیا، پھر کچھ لوگ تم میں سے مومن اور کچھ کافر ہوگئے، مذکور الصدر دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے کفر و انکار میں ضد اور عناد تک پہنچ گئے تھے اور اس ضد کی وجہ سے وہ کسی حق بات کو سننے اور روشن دلیل کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہ تھے، ایسے لوگوں کے بارے میں سُنّۃ اللہ یہی ہے کہ ان کو ایک سزا اسی جہان میں نقدیہ دی جاتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، کانوں، آنکھوں کو حق وصدق کے قبول کرنے سے بند کردیا جاتا ہے، ان کا حال حق وصدق کے بارے میں ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا نہ ان کو سمجھنے کی عقل نہ دیکھنے کے لئے آنکھیں نہ سننے کے لئے کان۔ آیت میں ایسے لوگوں کا عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ذکر کیا گیا ہے، کفر کی تعریف کفر کے لفظی معنی چھپانے کے ہیں ناشکری کو بھی کفر اس لئے کہتے ہیں کہ محسن کے احسان کو چھپانا ہے اصطلاح شریعت میں جن چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے ان میں سے کسی چیز کے انکار کا نام کفر ہے مثلاً ایمان کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت قطعی و یقینی ہے ان سب چیزوں کی دل سے تصدیق کرنا اور حق سمجھنا اس لئے جو شخص آنحضرت ﷺ کی ان تعلیمات میں سے جن کا ثبوت یقینی اور قطعی ہے کسی ایک کو بھی حق نہ سمجھے اور اس کی تصدیق نہ کرے وہ کافر کہلائے گا، اِنذار کے معنیٰ لفظ انداز ایسی خبر دینا جس سے خوف پیدا ہو جیسا کہ ابشار ایسی خبر دینے کو کہتے ہیں جس سے سرور پیدا ہو، اردو زبان میں اس کا ترجمہ ڈرانے سے کیا جاتا ہے مگر درحقیقت مطلقاً ڈرانے کو انذار نہیں کہتے بلکہ ڈرانا جو شفقت و رحمت کی بناء پر ہو جیسے اولاد کو آگ سے، سانپ بچھوّ اور درندوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی لئے جو ڈاکو، چور ظالم، کسی انسان کو دھمکاتے ڈراتے ہیں اس کو انذار اور ان لوگوں کو نذیر نہیں کہا جاتا، انبیاء کو خصوصیت سے نذیر کا لقب دیا جاتا ہے کہ وہ ازراہ شفقت آئندہ آنے والے مصائب سے ڈراتے ہیں انبیاء کے لئے اس لفظ کو اختیار کرنے میں اس کی ہدایت ہے کہ مصلح مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ مخاطب کی خیرخواہی کیساتھ ہمدردی سے گفتگو کرے محض ایک کلمہ پہنچا دینا مقصد نہ ہو، اس آیت میں رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ ضدی اور معاند کفار جو حقیقت کو پہچاننے کے باوجود کفر و انکار پر جمے ہوئے ہیں یا اپنے تکبر اور کج رائی کی بناء پر کسی حق بات کو سننے اور روشن دلائل کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کی اصلاح اور ایمان کے متعلق جو آپ کوشش کرتے ہیں ان کے لئے مؤ ثر ثابت نہ ہوگی بلکہ آپ کا کوشش کرنا اور نہ کرنا ان کے حق میں برابر ہے، اس کی وجہ اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے سوچنے سمجھنے کے جتنے راستے تھے وہ سب بند ہیں اس لئے ان سے اصلاح کی توقع رکھنا درد سر ہے، کسی چیز پر مہر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے، ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے کا یہی مطلب ہے کہ ان میں قبول حق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، ان کی اس حالت کو دلوں اور کانوں پر مہر کرنے سے تعبیر فرمایا ہے مگر آنکھوں کے لئے مہر کے بجائے پردہ پڑنے کا ذکر کیا گیا، اس میں حکمت یہ ہے کہ دلوں میں آنے والا کوئی مضمون یا کوئی فکر و خیال کسی ایک سمت سے نہیں آسکتی ہے ان کی بندش جب ہی ہوسکتی ہے جب ان پر مہر کردی جائے بخلاف آنکھوں کے کہ ان کا ادراک صرف ایک سمت یعنی سامنے سے ہوسکتا ہے اور جب سامنے پردہ پڑجائے تو آنکھوں کا ادراک ختم ہوجاتا ہے (مظہری)
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

(1) گناہوں کی دنیوی سزا سلب توفیق ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ کفر اور ہر گناہ کی اصل سزا تو آخرت میں ملے گی مگر بعض گناہوں کی کچھ سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے پھر دنیا کی سزا بعض اوقات یہ شکل اختیار کرتی ہے کہ اصلاح حال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، انسان آخرت کے حساب و کتاب سے بےفکر ہو کر اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں بڑہتا چلا جاتا ہے اور اس کی برائی کا احساس بھی اس کے دل سے جاتا رہتا ہے ایسے حال کے متعلق بعض بزرگوں کا ارشاد ہے ان من جزاء السۃ السیۃ بعدھا وان من جزاء الحسنۃ الحسنۃ بعدھا یعنی گناہ کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو کھینچ لاتا ہے جس طرح نیکی کا نقد بدلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچ لاتی ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جس طرح سفید کپڑے پر ایک سیاہ نقطہ انسان کو ناگوار نظر آتا ہے پہلے نقطہ گناہ سے بھی انسان پریشان ہوتا ہے لیکن اگر اس نے اس گناہ سے توبہ نہ کی اور دوسرا گناہ کرلیا تو ایک دوسرا نقطہ سیاہ لگ جاتا ہے، اور اسی طرح ہر گناہ پر سیاہ نقطے لگتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ سیاہی سارے قلب پر محیط ہوجاتی ہے، اور اب اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ نہ کسی اچھی چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے نہ بری چیز کو برا غرض نیکی بدی کا امتیاز اس کے دل سے اٹھ جاتا ہے اور پھر فرمایا کہ اسی ظلمت وسیاہی کا نام قرآن کریم میں ران یا راین آیا ہے كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (مشکوٰۃ ازمسند احمد و ترمذی) اور ترمذی نے سند صحیح کے ساتھ بروایت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرلے جو صاف ہوجاتا ہے (قرطبی) (2) نصیحت ناصح کے لئے ہر حال میں مفید ہے مخاطب قبول کرے یا نہ کرے اس آیت میں ازلی کافروں کے لئے رسول اللہ ﷺ کا وعظ و نصیحت کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر قرار دئیے گئے ہیں مگر ان کے ساتھ علیہم کی قید لگا کر بتلا دیا کہ یہ برابری کفار کے حق میں ہے رسول اللہ ﷺ کے حق میں نہیں بلکہ ان کو تو تبلیغ وتعلیم اور اصلاح خلق کی کوشش کا ثواب بہرحال ملے گا اسی لئے پورے قرآن کریم کی کسی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ایسے لوگوں کو بھی دعوت ایمان دینے سے روکا نہیں گیا اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت دین اور اصلاح کا کام کرتا ہے خواہ مؤ ثر ہو یا نہ ہو اس کو بہرحال اپنے عمل کا ثواب ملتا ہے، ایک شبہ کا جواب اس آیت کا مضمون وہی ہے جو سورة مطففین کی اس آیت کا ہے كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (14: 83) یعنی ایسا نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے زنگ بیٹھ گیا ہے جس میں حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ ان بداعمالیاں اور سرکشی ہی ان کے دلوں کا زنگ بن گیا ہے اسی زنگ کو آیت مذکورہ میں مہر یا پردہ کے لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے اس پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں پر مہر کردی اور جو اس کو ماؤف کردیا ہے تو یہ اپنے کفر میں معذور ہوگئے پھر ان کو عذاب کیسا ؟ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے اس لئے اس تباہی استعداد کے فاعل اور مسبب یہ خود ہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے تمام افعال کے خالق ہونے کی حیثیت سے اس جگہ مہر کرنے کو اپنی طرف نسبت کر کے یہ بتلادیا کہ جب ان لوگوں نے قبول حق کی صلاحیت و استعداد کو اپنے اختیار سے تباہ کرنا چاہا تو سنت الٓیہ کے مطابق ہم نے وہ بد استعداد کی کیفیت ان کے قلوب اور حواس میں پیدا کردی۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں

خلاصہ تفسیر اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں (بلکہ) چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے (یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود اپنے ہی کو بھگتنا پڑے گا) ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا اللہ نے ان کا مرض (اس مرض میں ان کی بداعتقادی اور اسلام اور مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر حسد میں جلنا اور ہر وقت اپنا کفر ظاہر ہوجانے کی فکر وخلجان سب داخل ہیں مسلمانوں کی ترقی سے ان کا مرض حسد اور بڑہنا واضح ہے) اور ان کے لئے سزائے دردناک ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے (یعنی ایمان کا جھوٹا دعویٰ کیا کرتے تھے) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح ہی کرنے والے ہیں ان کی دو رخی روش سے جب فتنے فساد واقع ہونے لگے اور کسی خیرخواہ نے فہمائش کی کہ ایسی کاروائی موجب فساد ہوا کرتی ہے اس کو چھوڑ دو تو اس کے جواب میں یہ اپنے آپ کو بجائے مفسد کے مصلح بتاتے ہیں یعنی اپنے فساد ہی کو اصلاح سمجھتے ہیں) یاد رکھو بیشک یہی لوگ مفسد ہیں لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے (یہ تو ان کی جہالت اور غباوت کا بیان ہے کہ اپنے عیب ہی کو ہنر سمجھتے ہیں آگے دوسری جہالت کا بیان کہ دوسروں کے ہنر کو یعنی ایمان خالص کو عیب اور حقیر سمجھتے ہیں) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لے آؤ جیسا ایمان لائے ہیں اور لوگ تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لاویں گے جیسا ایمان لے آئے ہیں یہ بیوقوف یاد رکھو کہ بیشک یہی ہیں بیوقوف لیکن اس کا علم نہیں رکھتے (یہ منافق ایسی کھلی ہوئی بات بظاہر غریب مسلمانوں کے سامنے کرلیتے ہوں گے جن سے ان کو کوئی اندیشہ نہ تھا ورنہ عام طور پر تو وہ اپنے کفر کو چھپاتے پھرتے ہیں (اور جب ملتے ہیں وہ منافقین ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس بیشک تمہارے ساتھ ہیں ہم تو مسلمانوں سے صرف استہزا کیا کرتے ہیں (یعنی ہم مسلمانوں سے بطور تمسخر کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ورنہ ہم تو تمہارے ہم مشرب ہیں آگے ان کے استہزا کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی استہزاء کر رہے ہیں ان کے ساتھ اور ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں ان کو کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں ہو رہے ہیں (وہ اللہ کا استہزاء یہی ہے کہ ان کو مہلت دی جارہی ہے جب وہ خوب کفر میں کامل ہوجاویں اور جرم سنگین ہوجاوے اس وقت اچانک پکڑ لئے جاویں گے اس کو استہزاء کے عنوان سے تعبیر کردیا گیا) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی لے لی بجائے ہدایت کے تو نفع بخش نہ ہوئی ان کی یہ تجارت اور نہ یہ ٹھیک طریقہ پر چلے (یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت جیسی قیمتی چیز کے بدلہ میں گمراہی لے لی) ان کی حالت اس شخص کی حالت کے مشابہ ہے جس نے کہیں آگ جلائی ہو پھر جب روشن کردیا ہو اس آگ نے اس شخص کے گردا گرد کی سب چیزوں کو ایسی حالت میں سلب کرلیا ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی کو اور چھوڑ دیا ہو ان کو اندھیروں میں کہ کچھ دیکھتے بھالتے نہ ہوں (تو جس طرح یہ شخص اور اس کے ساتھی روشنی کے بعد اندھیرے میں رہ گئے اسی طرح منافقین حق واضح ہو کر سامنے آجانے کے بعد گمراہی کے اندھیرے میں جا پھنسے اور جس طرح آگ جلانے والوں کی آنکھ، کان، زبان، اندھیرے میں بیکار ہوگئے اسی طرح گمراہی کے اندھیرے میں پھنس کر ان کی یہ حالت ہوگئی کہ گویا وہ) بہرے ہیں گونگے ہیں، اندھے ہیں سو یہ اب رجوع نہ ہوں گے، (کہ ان کے حواس حق کو دیکھنے سننے سمجھنے کے قابل نہ رہی، یہ مثال تو ان منافقین کی تھی جو خوب دل کھول کر کفر پر جمے ہوئے ہیں کبھی ایمان کا دھیان بھی دل میں نہیں آتا، آگے منافقین کے اس گروہ کی مثال ہے جو فی الواقع تردد میں تھے کبھی کبھی اسلام کی حقانیت دیکھ کر اس کی طرف مائل ہونے لگتے پھر جب اغراض نفسانی کا غلبہ ہوتا تو یہ میلان بدل جاتا تھا) یا ان منافقوں کی ایسی مثال ہے جیسے آسمان کی طرف سے بارش ہو اس میں اندھیری بھی ہو اور رعد برق بھی ہو جو لوگ اس بارش میں چل رہے ہیں وہ ٹھونسے لیتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے سبب اندیشہ موت سے، اور اللہ تعالیٰ احاطہ میں لئے ہے کافروں کو برق کی یہ حالت ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کی بنیائی اس نے لے لی جہاں ذرا ان کو بجلی کی چمک ہوئی تو اس کی روشنی میں چلنا شروع کردیا، اور جب ان پر تاریکی ہوئی پھر کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ تعالیٰ ارادہ کرتے تو ان کے کان اور آنکھ سب سلب کرلیتے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں (تو جس طرح یہ لوگ کبھی طوفان بادو باراں میں کبھی چلنے سے رہ جاتے ہیں کبھی موقع پاکر آگے چلنے لگتے ہیں یہی حال ان متردود منافقین کا ہے) (4) جھوٹ ایک گھناؤ نی چیز ہے یہاں منافقین کے قول اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِر میں غور کیجئے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے کافر ہونے کے باوجود اپنی دانست میں جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ دعوٰی ایمان کے لئے صرف اللہ اور روز قیامت پر ایمان کا ذکر کرتے ہیں ایمان بالرسول کا ذکر اس لئے نہیں کرتے کہ جھوٹ نہ ہوجائے اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ ایسی گندی اور گھناؤ نی چیز ہے کہ کوئی شریف آدمی خواہ کافر، فاسق ہو جھوٹ بولنا پسند نہیں کرتا، یہ دوسری بات ہے کہ ان کا دعویٰ ایمان باللہ وبالیوم الآخر بھی قرآنی اصطلاح کے خلاف ہونے کی وجہ سے نتیجۃً جھوٹ ثابت ہوا،
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

دغابازی کرتے ہیں اللہ سے ایمان والوں سے اور دراصل کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے

معارف و مسائل ربط آیات جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة بقرہ کے شروع میں قرآن کریم کا شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد بیس آیتوں میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے اوّل پانچ آیتوں میں ماننے والوں کا تذکرہ متقین کے عنوان سے ہے، پھر دو آیتوں میں ایسے نہ ماننے والوں کا ذکر ہے جو کھلے طور پر قرآن کا معاندانہ انکار کرتے تھے، ان تیرہ آیتوں میں ایسے منکریں و کفار کا ذکر ہے جو ظاہر میں اپنے آپ کو مومن مسلمان کہتے تھے مگر حقیقت میں مومن نہ تھے ان لوگوں کا نام قرآن میں منافقین رکھا گیا ہے، مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں، بلکہ وہ چالبازی کرتے ہیں اللہ سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لاچکے ہیں اور واقع میں کسی کے ساتھ بھی چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے، اس میں ان کے دعوی ایمان کو غلط اور جھوٹ قرار دیا گیا اور یہ کہ ان کا یہ دعویٰ محض فریب ہے، یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دے سکتا اور غالباً یہ لوگ بھی ایسا نہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی چالبازی کو ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ چالبازی قرار دے کر فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ چالبازی کرتے ہیں (قرطبی عن الحسن) اسی لئے اس کا نتیجہ یہ بتلایا گیا کہ یہ بیوقوف اپنے سوا اور کسی کے ساتھ چالبازی نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ تو ہر دھوکہ و فریب سے بالاتر ہیں ہی ان کے رسول اور مؤمنین بھی اللہ کی وجہ سے ہر دھوکہ فریب سے محفوظ ہوجاتے ہیں کوئی نقصان ان کو نہیں پہنچتا البتہ ان کے دھوکہ، فریب کا وبال دنیا وآخرت میں خود انھیں پر پڑتا ہے، (5) انبیاء واولیا کے ساتھ برا سلوک کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ برائی کرنا ہے آیات مذکورہ میں منافقین کا ایک حال یہ بتلایا ہے يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کا قصد رکھتا ہو یا یہ سمجھنا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو فریب دے سکتا ہے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو دھوکہ دینے کے قصدے شنیع حرکتیں کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ میں اس کو اللہ کو دھوکہ دینا قرار دے کر یہ بتلا دیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی رسول یا ولی کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے کے حکم میں ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کی رفعت شان کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ آپ کی شان میں کوئی گُستاخی کرنا ایسا ہی جرم ہے جیسا اللہ جل شانہ کی شان میں گستاخی جرم ہے
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کیلئے عذاب دردناک ہے اس بات ہر کہ جھوٹ کہتے تھے

تیسری آیت میں فرمایا کہ ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا، اللہ نے ان کے مرض کو مرض اور بیماری اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے اعتدال مناسب سے نکل جائے اور اس کے افعال میں خلل پیدا ہوجائے جس کا آخری نتیجہ ہلاکت اور موت ہوتا ہے ، قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے، حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ دلوں کے امراض خواہشات نفسانی کے اتباع سے پیدا ہوتے ہیں جیسے بدن انسان کے امراض اخلاط انسان کی بےاعتدالی سے پیدا ہوتے ہیں اس آیت میں ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بڑا مرض ہے روحانی مرض ہونا تو ظاہر ہے کہ اوّل تو اپنے پیدا کرنے والے پالنے والے کی ناشکری اور اس کے احکام سے سرکشی جس کا نام کفر ہے یہ خود روح انسانی کے لئے سب سے بڑا مرض اور شرافت انسانی کے لئے بدترین داغ ہے دوسرے دنیا کی اغراض کی خاطر اس کو چھپاتے رہنا اور اپنی دل کی بات کو ظاہر کرنے کی بھی جرأت نہ ہونا یہ دوسری دنائت ہے جو روح کا بہت بڑا مرض ہے اور نفاق کا جسمانی مرض ہونا اس بناء پر ہے کہ منافق کے دل میں ہمیشہ یہ دغدغہ رہتا ہے کہ کہیں میرا اصلی حال نہ کھل جائے شب و روز اس کی فکر میں رہنا خود ایک جسمانی مرض ہے اس کے علاوہ اس مرض کا لازمی نتیجہ حسد ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر منافق کو جلن ہوگی مگر وہ مسکین اپنے دل کی سوزش کا اظہار بھی نہیں کرسکتا یہ اسباب ان کے جسمانی مرض بھی بن جاتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا مرض اور بھی بڑھادیا اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی سے جلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ ترقی دینا ہے اور ہر وقت اس کے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان کا یہ مرض بڑہتا ہی رہتا ہے، (6) جھوٹ بولنے کا وبال آیات مذکورہ میں منافقین کے عذاب الیم کی وجہ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ یعنی ان کے جھوٹ بولنے کو قرار دیا ہے حالانکہ ان کے کفر ونفاق کا جرم سب سے بڑا تھا اور دوسرے جرائم مسلمانوں سے حسد ان کے خلاف سازشیں بھی بڑے جرائم تھے مگر عذاب الیم کا سبب ان کا جھوٹ بولنے کو قرار دیا اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ان کا اصلی جرم تھا اسی بری عادت نے ان کو کفر ونفاق تک پہنچا دیا تھا اس لئے جرم کی حیثیت اگرچہ کفر ونفاق کی بڑھی ہوئی ہے مگر ان سب خرابیوں کی جڑ اور بنیاد جھوٹ بولنا ہے اسی لئے قرآن کریم نے جھوٹ بولنے کو بت پرستی کے ساتھ جوڑ کر اس طرح ارشاد فرمایا ہے ، فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (30: 22) یعنی بچو بت پرستی کی نجاست سے اور بچو جھوٹ بولنے سے۔