Ayah 2:1الف۔ لا ... م می ...(1) م۔ 1
حروفِ مقطعات :
1: قرآن کریم میں انتیس سورتیں ہیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے وہ سورتیں درج ذیل ہیں :
(1) البقرہ ، 2 (2) آل عمران 3 ، (3) الاعراف 7 ، (4) یونس 10 ، (5) ہود 11 ، (6) یوسف 12 ، (7) الرعد 13 ، (8) ابراہیم 14 ، (9) الحجر 15 ، (10) مریم 19 ، (11) طہٰ 20 ، (12) الشعرا 26 ، (13) النمل 27 ، (14) القصص 28 ، (15) العنکبوت 29 ، (16) الروم 30 ، (17) لقمان 31 ، (18) السجدہ 32 ، (19) یٰسین 36 ، (20) ص 35 ، (21) المؤمن 40 ، (22) حم السجدہ 41 ، (23) الشوری 42 ، (24) الزخرف 43 ، (25) الدخان 44 ، (26) الجاثیہ 45 ، (27) الاحقاف 46 ، (28) ق 50 ، (29) القلم 68 ۔
ان سورتوں میں جو حروف استعمال کئے گئے ہیں ان کا رسم خط اس طرح کا ہے :
ا لٓمّٓ، ا لٓرٰ ، حٰمٓ عٓسٓقٓ ، ا لٓمّٓصٓ ، ا لٓمّٓرٰ ، كٓهٰیٰعٓصٓ ، طٰسٓمّٓ، طٰسٓ ، حٰمٓ ، طٰہٰ ، یٰسٓ ، قٓ ، صٓ ، نٓ.
اس رسم خط میں جو حروف ہجاء استعمال ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
الف حاء راء سین صاد طا عین قاف کاف لام میم نون ہاء یاء
ا ح ر س ص ط ع ق ک ل م ن ہ ی
جو کُل چودہ حروف ہیں۔
مفسرین کرام نے ان حروف کے متعلق مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اللہ کے بہت سے اسرار و رموز ہیں جن کی اطلاع کسی انسان کو نہیں دی گئی۔ یہ حروف بھی ان میں شامل ہیں۔
بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کے معانی رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہیں کیونکہ یہ اللہ اور سول کے اسرار و خفایا ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔
بعض نے ان کو متشابہات میں شمار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ان میں گفتگو کرنا جرم عظیم ہے لیکن ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان کے مخصوص معانی تحریر کئے ہیں اور یہ اختلاف صحابہ کرام ؓ سے شروع ہو کر آج تک بدستور چلا آرہا ہے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس میں اس طرح کی گفتگو کرنے کی گنجائش باقی تھی لہٰذا کسی گروہ کو مطعون کرنے کی ضرورت تھی نہ ہے بلکہ اس میں وسعت یہ ہے کہ کتاب و سنت اور حالات زمانہ نزول قرآن کی رعایت سے اب بھی کوئی نظریہ بیان کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ دنیا کی ضلالت و گمراہی دور ہو اور علم حق و عمل صالح کی قاہرانہ قوت نافذ ہو۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے اس امر کو تسلیم کرلیں کہ قرآن کریم کا ایک حصہ اگرچہ وہ بہت ہی کم ہو ایسا بھی ہے جس کے مطالب کوئی فرد بشر نہیں جانتا تو دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن کریم کا کوئی ایک جزو ایسا ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لئے یہ بیکار ہے حالانکہ قرآن کریم اپنی نسبت اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ” ہدی للناس “ ہے ، ” برہان “ ہے ، ” بصائر “ ہے ، ” نور “ ہے ، ” بصیرت “ ہے اور یہ کہ وہ ” العلم “ ہے اور دنیا کے پاس اس کے سوا جو کچھ ہے وہ ظن ہے تخمین ہے اٹکل کی باتیں اور قیاسات ہیں لہٰذا یہ ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ حروف مقطعات کا علم کسی کو نہیں دیا گیا بلکہ اس کے برعکس یہ کہا جاسکتا ہے کہ حروف مقطعات وہ حروف ہیں جن کو زمانہ نزول کے امی اور ناخواندہ لوگ بھی اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اس بات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اب بھی کلام جاہلیت کے جو نمونے محفوظ ہیں ان میں اس کی مثالیں ہمیں دستیاب ہیں۔ جیسے
^فقلت لھا قفی فقالت لی ق
میں نے اس سانڈنی سوار عورت سے کہا کہ ٹھہر جا اس نے کہا قاف (وقفت) یعنی میں ٹھہر گئی۔
اس طرح کی مثالوں سے ہمیں یہ یقیناً معلوم ہوجاتا ہے کہ عرب میں حروف مقطعات کا استعمال عام طور پر ہوتا تھا ، اور عرب کے لوگ اس سے اجنبی نہ تھے اگر یہ کوئی جدت طرازی ہوتی تو ضرور تھا کہ سب سے پہلے وہی لوگ اس کی مخالفت کرتے کیونکہ ان سے بڑھ کر قرآن کا دشمن اور کون ہوسکتا تھا ؟ تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جاسکتا جس سے اس امر کی تائید ہوسکے کہ کسی عرب نے اس وقت اعتراض کیا ہو۔ لہٰذا ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ :
الم ھذا و مثلہ من حروف الھجاءنی اوائل لسور لیست بایت متشابھات ولا باسماء ولا افعال عند النحاۃ واھل التصریف انماھی حروف تنبیہ واستفتاح تنبہ السامع والمخاطب علی ما بعدھا من الکلام وقعت فی اولہ ومدت صوتًا۔
ا لٓمّٓ، اور اسی طرح کے دوسرے حروف ہجاء یعنی حروف مقطعات جو کئی ایک سورتوں کے شروع میں آئے ہیں یہ نہ تو آیات متشابہات ہیں اور نہ ہی اسماء و افعال بلکہ یہ وہ حروف ہیں جو اہل زبان کے نزدیک سامع اور مخاطب کو متوجہ کرنے کے لئے بولے جاتے ہیں تاکہ سامع آنے والی باتوں اور احکام کو اچھی طرح سمجھ کر سُن لیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حروف کو لمبا لمبا کر کے ادا کیا جاتا ہے۔
قارئین سے التماس ہے کہ ان سورتوں کا بغور مطالعہ کریں جن کے شروع میں یہ حروف مقطعات بولے گئے ہیں تو آپ یقیناً ان میں ایسے احکام اور اسی طرح کے مضامین پائیں گے جن کے بیان کرنے سے پہلے واقعی سامعین کو متوجہ اور متنبہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ فافھم و تتدبر
Ayah 2:2موعودہ کتاب :
2: اس سورت میں بنی اسرائیل سے خطاب ہے ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے نازل کرنے کا وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا گیا تھا اور اس میں ذرا شک و اشتباہ کی گنجائش نہیں ، اس کی صداقت توراۃ کی حسب ذیل عبارت سے ہوتی ہے :
” میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا ، اور جو کچھ میں اسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا۔ “ (الاستثناء 18 : 18)
اور قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ :
” اے اہل مکہ ! تمہاری طرف ہم نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو تمہارے کاموں پر اسی طرح گواہ بناکر بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف موسیٰ علیہ اسلام کو بھیجا تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور دریا میں غرق ہوا تم بھی اپنا انجام سوچ لو۔ “ (المزمل 73 : 15۔ 16)
گویا کتاب کھولتے ہی فریقین یعنی تسلیم کرنے والے اور نہ تسلیم کرنے والے دونوں طرح کے لوگوں کو تنبیہ کردی تاکہ وہ ہوشیار ہوجائیں اور دل کے کان کھول کر سن لیں۔
یہ کتاب الٰہی ہے اس کا ہر مضمون برحق اور اس کا ہر لفظ صدق ہے اس کا ہر دعویٰ مدلل ہے اس کی ہر حقیقت ثابت شدہ ہے اب اگر کسی بدنصیب کو اس کے خلاف نظر آتا ہے تو گناہ چشمہ آفتاب کا نہیں قصور شپرۃ چشمی کا ہے۔ سبحان اللہ !
یہی وجہ ہے کہ ارشاد یہ نہیں ہوا کہ اس کے بارے میں کسی کو شک و تردد لاحق ہی نہیں ہوگا بلکہ ارشاد یہ ہوا کہ خود یہ کتاب اس کے مضامین شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ ” لَا رَیْبَ فِیْهِ “ سے مقصود نفی ریب کی تاکید ہے اس لئے ترکیب کلام بجائے ” لا فیہ ریب “ کے ” لَا رَیْبَ فِیْهِ “ رکھی گئی کہ اس میں زور اس سے زیادہ تھا۔
متقین کے لئے ہدایت ہے :
3: زندگی کے تمام کاموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں۔ بعض طبیعتیں محتاط ہوتی ہیں بعض بےپروا ہوتی ہیں۔ جن کی طبیعت محتاط ہوتی ہے وہ ہر کام میں سمجھ بوجھ کے بعد قدم اٹھاتے ہیں۔ اچھے ، برے ، نفع و نقصان ، نشیب و فراز کا خیال رکھتے ہیں۔ جس کام میں برائی دیکھتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ جس میں اچھائی دیکھتے ہیں اختیار کرلیتے ہیں برخلاف اس کے جو لوگ بےپروا ہوتے ہیں ان کی طبیعتیں بےلگام اور چھوٹ ہوتی ہیں جو راہ دکھائی دے گی چل پڑیں گے جس کام کا خیال آجائے گا کر بیٹھیں گے۔ جو غذا سامنے آجائے گی کھالیں گے جس بات کو بیان کیا اس پر اڑجائیں گے۔ اچھائی ، برائی ، نفع و نقصان ، دلیل اور توجیہ کسی بات کی بھی انہیں پروا نہیں ہوگی۔
جس حالت کو یہاں احتیاط سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کو قرآن کریم تقویٰ سے تعبیر کرتا ہے۔ ” متقی “ یعنی ایسا آدمی جو اپنے فکر و عمل میں بےپروا نہیں ہوتا۔ ہر بات کو درستگی کے ساتھ سمجھنے اور کرنے کی کھٹک رکھتا ہے۔ برائی اور نقصان سے بچنا چاہتا ہے ، اچھائی اور فائدہ کی جستجو رکھتا ہے ایسے ہی لوگ تعلیم حق یعنی قرآن کریم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کامیاب ہوسکتے ہیں۔
حضرت عمر ؓ نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا تھا کہ تقویٰ کی حقیقت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ تم کبھی ایسے راستے میں نہیں چلے جس میں کانٹے ہوں ؟ ” اما سدکت طریقاً ذا شوک ؟ “ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہاں ! چلا ہوں۔ حضرت ابی نے کہا تو ایسی حالت میں آپ نے کیا کیا ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے کوشش کی کہ کانٹوں سے بچ کر نکل جائوں ابی نے کہا بس ! یہی تقویٰ کی حقیقت ہے۔ فذلک التقوی۔
تقویٰ کے معنی اس طرح بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” جعل النفس فی وقاتیہ مما یخاف “ ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کرنا جو اس کے لئے ضرر و نقصان کا باعث ہو اور ” حافظ النفس مما یوثم “ گناہ کی جانب دعوت دینے والی چیزوں سے پرہیز کرنا اور ان کے قریب نہ جانا۔
بہرحال ان تمام تصریحات نے بتادیا کہ اس کتاب یعنی قرآن کریم میں ایسی ہدایتیں اور بصیرتیں موجود ہیں جن کو دیکھ کر متقی قبول کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کی فطرت ہدایت و بصیرت ہی کو قبول کرسکتی ہے۔
ہدایت وتقویٰ کی مزید تشریح :
4: قرآن کریم کے مطالعہ کے وقت اس کا اپنا بتایا ہوا وصف اول یعنی ” ھدی “ سے یہ خوب ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ کوئی تاریخ کا دفتر نہیں جس میں سنہ اور ترتیب کے ساتھ پچھلے زمانہ کے حالات و واقعات درج کئے گئے ہیں نہ ہی یہ کوئی سائنس کی کتاب ہے کہ علوم طبیعی اور ریاضی کے مسائل کا حل اس کے اوراق میں تلاش کیا جائے۔
کوئی فلسفہ کا مقالہ نہیں کہ پڑھنے والے ظنون و نظریات ہی میں الجھے رہیں۔ کوئی افسانہ نہیں کہ قارئین دل بہلانے کے لئے اس کا مطالعہ کریں۔ اس کی اصل اور بنیادی حیثیت صرف یہ ہے کہ یہ ہدایت نامہ ہے ، دستور حیات ہے مکمل و مفصل نقشہ زندگی ہے۔ پھر
” لِّلْمُتَّقِیْنَ “ کی قید لگا کر صاف بتا دیا کہ اس قانون عام اور ہدایت تام سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے اندر خوف الٰہی موجود ہو۔ کتاب ہدایت تو ساری دنیا کے لئے ہے خطاب سارے عالم سے کررہی ہے لیکن عملاً اس نے نفع صرف وہی لوگ حاصل کریں گے جن کے اندر حق کی طلب اور تلاش ہے اور جن کا ضمیر زندہ ہے۔ آفتاب اپنی جگہ عالمتاب سہی لیکن جن کی بصارت ہی ضائع ہوچکی ہو ، ان کے لئے تیز سے تیز شعاع بھی بیکار ہے۔ زمین اگر مردہ ہے تو اس کے حق میں بڑی سے بڑی بارش بھی بےاثر ہے۔ غذا کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو ہیضہ کے مریض کے لئے کبھی مفید نہیں ہوسکتی بلکہ مضر ہی ہوگی۔ بس ! قرآن کریم سے استفادہ کے لئے اولین شرط دل کے اندر کا تقویٰ ہے۔ ھوفی نفسہ ہدہ ولکن لا یندالہ الا الابرار ۔ (ابن کثیر)
صاحب تقویٰ کون لوگ ہیں ؟
اس کے بعد دو آیتوں میں متقیوں کی مخصوص صفات علامات بیان کر کے بتلا دیا ہے کہ یہ جماعت ہدایت یافتہ ہے انہی لوگوں کی اختیار کردہ راہ سیدھی راہ ہے۔ جس کو سیدھی راہ مطلوب ہو اس جماعت میں شامل ہوجائے ان کے ساتھ رہے۔ ان کے عقائد و نظریات اور اعمال و اخلاق کو اپنے نصب العین بنائے۔ ان دونوں آیتوں میں متقیوں کی پانچ صفات ذکر کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں :
i: ایمان بالغیب۔ ii: اقامت صلوٰۃ۔ iii: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ۔ iv: جو کچھ پیغمبر اسلام ﷺ پر نازل ہوا جو کچھ آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا اس پر ایمان لانا اور جو انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوا اس پر ایمان لانا۔ v: اور قیامت کے دن کو سچے دل سے تسلیم کرنا۔
صاحب تقویٰ کی پانچ صفات جو اس جگہ بیان کی گئی ہیں ان کی وضاحت آگے آنے والی آیات ِ کریمات میں کردی گئی ہے اور پھر اس وضاحت کی مزید وضاحت تفسیر میں موجود ہے۔
Ayah 2:3ایمان بالغیب :
5: انسان کے علم و ادراک کا ذریعہ حواس خمسہ ہیں ، یعنی دیکھنے ، سننے ، سونگھنے ، چکھنے اور چھونے کی قوتیں۔ جو کچھ ان کے ذریعہ معلوم ہوسکتا ہے اس کے لئے محسوس ہے جو ان کے ذریعہ معلوم نہیں کرسکتا وہ غیر محسوس ہے ، قرآن کریم نے اس مطلب کے لئے غیب اور شہادت کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ عالم غیب وہ ہے جو غیر محسوسات ہے۔ عالم شہادت یعنی محسوسات ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ توحید الٰہی کی بنیاد یہ ہے کہ ان حقائق پر یقین رکھے جو اس کے لئے غیر محسوس ہیں لیکن وجدان ان کی شہادت دیتا ہے اور وحی الٰہی نے اس کی خبر دی ہے مثلاً اللہ کی ذات وصفات۔ ملائکہ کا وجود۔ وحی و نبوت ، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور زندگی کے بعد موت کا لزوم ، عذاب وثواب ، دنیا کی ابتدائی پیدائش اور عالم آخرت کے احوال و واردات وغیرہ۔
یعنی جس چیز کو ہمارے ظاہری اور باطنی حواس ادارک نہیں کرسکتے وہ غیب ہے۔ ارباب تقویٰ کی اولین خصوصیت یہ بتائی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے ہر اس چیز کو ماننے کے لئے تیار ہیں جس کو انہوں نے کسی طریق پر بھی محسوس نہیں کیا۔ گویا کہ درمیانی حجاب اٹھادیئے جائیں تو ان کے یقین و اذعان میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔ ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کا کہنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا دونوں برابر ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی صحبت وہم نشینی اور قرآن کریم کی تعلیم وتربیت نے ایسے ارباب طہارت پیدا کردیئے ہیں جن کا طغرائے امتیاز یہی تھا کہ وہ بغیر کسی دلیل و حجت کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری میں داخل ہوگئے اور اللہ پر ایمان لائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طورِ سینا سے توراۃ لے کر آتے ہیں نبی اسرائیل کو اس پر ایمان لانے کا کہتے ہیں لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً (2 : 25) جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو ظاہر میں نہ دیکھ لیں ہم کسی طرح تمہارا یقین کرنے والے نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سے بہتر اور اشرف مخلوق انسان ہے اور پھر انسانوں میں بہتر اور اشرف انبیاء (علیہم السلام) تھے اور انبیاء (علیہم السلام) میں ارفع و اعلیٰ مقام ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمیں تسلیم ہے کہ آپ ﷺ کا دائرہ ادراک بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے بہت بڑا ہے اور ظاہر ہے کہ جتنا دائرہ ادراک بڑا ہوگا۔ اتنا ہی دائرہ غیب چھوٹا ہوگا تاہم آپ ﷺ مخلوق ہیں اور مخلوق کے لئے غیب کا ہونا ضروری ہے عالم الغیب صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے یعنی اللہ۔ اسے جب عالم الغیب کہا جاتا ہے تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو سب بندوں کے لئے غیب ہی ہوتی ہیں۔ ” غیب “ کی اضافت یہاں صرف بندوں کی جانب ہوتی ہے ورنہ حق تعالیٰ کے لئے تو جس طرح دور و نزدیک ، آسان و دشوار ، بڑا اور چھوٹا سب یکساں ہیں اور ان کے باہمی فرق بےمعنی ہیں اسی طرح غیب و شہود بھی بالکل ایک ہیں۔
کوئی انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، ایک منزل پر پہنچ کر اس کے علم کی بھی انتہا ہوجاتی ہے اور دائرئہ غیب اس کا شروع ہوجاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانا تو زیر نظر آیت اور اس جیسی بیشمار آیات کریمات میں متقیوں کی سب سے پہلی علامت بیان کی گئی ہے۔ اب اگر خدانخواستہ کسی کے لیے غیب ہے ہی نہیں تو وہ ایمان کس چیز پر لائے گا ؟ انبیاء (علیہم السلام) تو متقی ہی نہیں بلکہ متقیوں کے سردار و پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان اگر مغیبات اور مخفیات پر نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا ؟ یاد رہے دین کا مغز کہیے یا ایمان کی روح۔ وہ یہی علم غیب کا عقیدہ ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے کوئی چیز غیب و پوشیدہ ہے ہی نہیں وہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کا مرتکب ہے اور آپ ﷺ کی نبوت کا انکاری ہے۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ 00
:ii اقامت صلوٰۃ :
6: لغوی طور پر صلوٰۃ کا لفظ دعا اور رحمت کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کو ایک اصطلاحی معنی کے لئے مخصوص کرلیا ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنے طرز عمل سے اس کی تفسیر بیان فرمادی ہے اور اب اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ نماز ہے۔ یعنی نماز ادا کریں اس طرح کہ فرائض و واجبات ، سنن و مستحبات کا اچھی طرح خیال ہو اوقات کی پابندی ہو اور تعدیل ارکان پیش نظر رہیں اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سامنے رکھو کہ : (صلوا کما رایتمونی اصلی) یعنی نماز ادا کرو جس طرح کہ تم نے مجھے نماز ادا کرتے دیکھا ہے۔ آج جس کا خاکہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔
پھر اقامت نماز میں نماز کی تکمیل صوری و معنوی ہر طرح کی آگئی۔ کسی شئے کی اقامت کرنے کے معنی عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ اسے اس طرح ادا کیا جائے جو اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق ایک جامع تشریح ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ “ کی صاحب جلالین نے اپنے دو مختصر لفظوں میں کردی یعنی ” ای یاتون بھا بحقوقھا “ ان دیکھے رب کے سامنے جھکنے ، سر عبودیت خم کرنے ، اس سے گہرا ربط وتعلق پیدا کرنے اور خود افراد امت میں باہم نظم و ضبط پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے اور سب سے بڑھ کر امام کی متابعت میں قومی زندگی کے لئے وہ سبق رکھا گیا ہے جس کو آج امت مسلمہ نے مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا ہے۔ حالانکہ بدنی عبادتوں میں یہی فریضہ سب سے اعلیٰ اور ایمان و توحید کا سب سے بڑا عملی مظہر ہے۔ فرد کے لئے اسلامی نماز باجماعت کے جو اخلاقی ، طبی ، مادی فائدے ہیں نیز ملت اسلامیہ کے لئے جو معاشرتی ، اجتماعی مصلحتیں ہیں ، ان کی جھلک کہیں دور سے دیکھ کر یہود ، مسیح اور منکرین تک اس کے دلدادہ ہوگئے تھے اور ان کے اہل علم اپنی تحریروں میں بار بار اس کا ذکر داد و مدح کے لہجہ میں کرچکے ہیں۔
ذرا غور کریں کہ جب سورة مزمل نازل ہوئی اور ” قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ002 “ کا حکم ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس میں صرف رسول اللہ ﷺ ہی مخاطب تھے لیکن صحابہ ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوگئے۔ تمام شب یا شب کا اکثر حصہ اللہ کے حضور میں کھڑے رہتے اور یہ کھڑا ہونا تدبر و تفکر کا کھڑا ہونا تھا۔ یہ اس وقت کی حالت ہے جب کہ ابھی پانچ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں جس وقت نمازوں کا حکم ہوا یعنی فرضیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ کی کیفیت یہ تھی کہ اپنے اپنے کاروبار ، کام دھندے میں مصروف ہیں کہ ” حی علی الصلوٰۃ “ کے الفاظ کان میں پڑے اور سب کچھ چھوڑ کر فوراً مسجد میں آگئے۔ چناچہ انہی کے متعلق کہا گیا کہ : رِجَالٌ 1ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ (النور 24 : 37) یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام سنتے ہیں تو اس پر قربان ہونے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی ان کو اپنی دلفریبیوں میں محبوبتیوں کا شیفتہ نہیں بناسکتی۔ اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب وہ نماز پڑھے تو یہ بات سمجھ لے کہ جس طرح میں اس وقت ” حی علی الصلوٰۃ “ کے الفاظ سنتے ہی مسجد میں آگیا ہوں۔ ایسے ہی جب کبھی اسلام کو میری زندگی کی ضرورت ہو تو میں فوراً اپنے آپ کو پیش کر دوں اور کوئی چیز بھی میرے لیے رکاوٹ کا باعث نہ بن جائے۔ سوتے وقت ہر مسلمان اپنے ایمان و اسلام کو دیکھے کہ اللہ کے ساتھ میں نے جو عہد باندھا ہے اس میں کسی قسم کی کمی تو نہیں پیدا ہوگئی اور کیا میں اس کے نام پر اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں ؟ اور پھر کم از کم یہ تو یاد رکھے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہے : ” حاسبوا قبل تحا سبوا “ یعنی ہر شخص اپنے لیے خود محتسب ہوجائے اور قبل اسکے کہ دوسرے لوگ اس پر حرف گیری کریں وہ خود ہی اپنے عیوب کو دیکھے اور اصلاح کرنے کی سعی کرے کہ : اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ 1ؕ کا حکم میری نماز سے پورا ہو رہا ہے یا نہیں ؟
iii: انفاق فی سبیل اللہ :
7: رزق کا لفظ کلام عرب میں بڑے وسیع معنی رکھتا ہے اس کے اندر ہر قسم کی نعمتیں آجاتی ہیں خواہ ظاہری و مادی ہوں مثلاً مال و جان اور اولاد یا معنوی اور روحانی ہوں مثلاً علم و حکمت اور فہم و فراست۔ اس جگہ بھی ” رَزَقْنٰهُمْ “ فرما کر ہر رزق کو اپنی جانب منسوب کر کے بتا دیا کہ جو نعمت ، جتنی اور جس قسم کی بھی انسان کو ملتی ہے۔ سب اللہ ہی کے فیض و عطا کا ثمرہ ہوتی ہے۔ انسان کی بنائی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ ” یُنْفِقُوْنَۙ003 “ متقیوں کی تیسری صفت ارشاد ہوئی ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے انہیں جو بھی ظاہری و معنوی نعمتیں عطا ہوئی ہیں ، وہ حق کی راہ میں صرف کرتے ہیں اور اللہ کی مخالفت ، عدوان اور عصیان میں صرف نہیں کرتے۔
متقیوں کی یہ تیسری صفت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ دنیوی اغراض و مقاصد کو پس پشت ڈال کر صرف اللہ کی رضا کے لئے سب کچھ خرچ کرنے کے لئے تیار ہوں جاتے ہیں ، دین کی خاطر جان و مال کی قربانی کرنا معمولی بات نہیں ہے جب تک کہ انسان کا معاشی نقطہ نظر بالکل ہی تبدیل نہ ہوجائے وہ اس بات پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنی ذاتی یا قومی اغراض سے بالاتر ہو کر محض ایک اعلیٰ درجے کے اخلاقی مقصد کی خاطر اپنے مال بےدریغ صرف کرنے لگے۔ مادہ پرست لوگ جو پیسہ حاصل کرنے کے لئے جیتے ہوں اور پیسے پیسے پر جان دیتے ہوں اور جن کی نگاہ ہر وقت نفع و نقصان کی میزان پر ہی جمی رہتی ہو کبھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ مقاصد عالیہ کے لئے کچھ کرسکیں ۔ وہ بظاہر اخلاقی مقاصد کے لئے کچھ خرچ کرتے بھی ہیں تو پہلے اپنی ذات یا اپنی برادری یا اپنی قوم کے مادی منافع کا حساب لگا لیتے ہیں۔ اس ذہنیت کے ساتھ انسان اس دین کی راہ پر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ جس کا مطالبہ یہ ہے کہ دنیوی فائدے اور نقصان سے بےپرواہو کر محض اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے اپنا وقت ، اپنی قوتیں اور اپنی کمائیاں خرچ کرو۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی نظر وسعت ، حوصلے میں فراخی ، دل میں کشادگی اور سب سے بڑھ کر خالص رضاء الٰہی کی طلب ہی ان کو اس راہ کی طرف لے آتی کے وہ جو کچھ خرچ کرنا چاہتے ہیں صرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں اور صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ان کا مطمح نظر ہوتا ہے۔
Ayah 2:4ایمان بالقرآن :
8: متقیوں کی چوتھی صفت میں ارشاد ہوا ہے : یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ : یعنی اے پیغمبر اسلام ! یہ وہ لوگ ہیں جو سچائی تم پر نازل ہوئی ہے ، اس پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے کہ قرآن کریم کے طریق استدلال کا اولین مبداء تعقل و تفکر کی دعوت ہے وہ جابجا اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لئے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی عقل و بصیرت سے کام لے اور جہاں تک ہو سکتا ہے اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کرے ۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو تدبر و تفکر کی دعوت سے خالی ہو ۔ ارشاد الٰہی ہے :
وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ 1ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ؟ (الذاریات 51 : 20 ، 21)
اور یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں معرفت حق کی بہت سی نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی پھر کیا تم دیکھتے نہیں ؟
پھر رسول ﷺ کی ” حیثیت “ کہ جو کچھ اس پر نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لانا ہی دراصل ایمان کہلانے کا مستحق ہے ۔ اپنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتی ہے کیونکہ اس عبارت سے یہ مسئلہ صاف ہوجاتا ہے کہ تین چیزیں الگ الگ ہیں۔ ایک کلام نازل کرنے والا یعنی اللہ۔ دوسراوہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا یعنی اللہ کا رسول ﷺ اور تیسرا خود قرآن کریم۔ تاکہ دنیا والوں کو یہ جملہ واضح کر دے کہ بروز ، تمثل ، حلول اور وحدت الوجود کے عوامی مفہوم سب کے سب مشرکانہ ونیم مشرکانہ عقائد ہیں جن کی جڑ اس سے مکمل طور پر کٹ جاتی ہے۔ کیونکہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ نہ کلام متمثل ہوا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کا اوتار انسانی قا لب میں آیا ہے کہ وہ حقیقت میں اللہ ہی ہو ، بلکہ رسول اللہ ﷺ ایک مستقل انسانی شخصیت رکھتا ہے اور پھر صرف یہی نہیں کہ یہ حیثیت اس خاتم الانبیاء کی ہے بلکہ ہر رسول جو بھی اللہ سے پیغام پا کر مبعوث ہوا سب کا یہی حال ہے کہ وہ نہایت ہی سچے انسان تھے نہ ان میں سے کسی نے اللہ میں حلول کیا اور نہ ہی اللہ ان میں سے کسی میں حلول کر گیا تھا۔ گویا نہ ایسا ہوا اور نہ ایسا ہو سکتا تھا۔
v: ایمان بالرسل وبا لکتب :
9: متقیوں کی پانچویں صفت : وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ 1ۚ یعنی وہ ان تمام سچائیوں پر ایمان رکھتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی سچائی سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ غور کیجئے کہ قرآن کریم نے اس بات کو کس طرح صاف کردیا کہ سلسلہ ارشاد و ہدایت کوئی نئی پیدا شدہ چیز نہیں بلکہ یہ تو اس وقت سے قائم ہے جب سے انسان نے دنیا میں قدم رکھا۔ یعنی سلسلہ وحی کی عمر اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانیت کی اور ایمان کے لئے تصدیق صرف ختم المرسلین ہی کی کافی نہیں بلکہ سارے انبیاء ورسل کی تصدیق ضروری ہے اور اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ، پھر صرف یہی نہیں بلکہ تمام سابق انبیاء میں سے کسی ایک کی تکذیب بھی سب کی تکذیب کے مترادف ہے۔
یہ جملہ ارشاد فرما کر ایک طرف تو محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے مبعوث ہونے والے سارے رسولوں کی حیثیت اور ان کے پیغامات کی تصدیق کرا دی اور دوسری طرف یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت آنے والے رسول یعنی محمدرسول اللہ ﷺ پر نبوت کو ختم کیا جا رہا ہے لہٰذا جس طرح پہلے رسولوں اور ان پر نازل کی گئی کتابوں پر ایمان لانے والے ہی متقین تھے ایسے ہی اب محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم نبوت ہوجانے اور آپ پر جو پیغام نازل ہوچکا ہے اس کے بعد کوئی پیغام اللہ کی طرف سے نہ آنے پر یقین رکھنا بھی متقیوں کی صفت ہے ۔ وہ انسان کبھی متقی نہیں ہو سکتا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی یا اللہ کی طرف سے کوئی پیغام آیا ہوا تسلیم کرے۔
کیونکہ اگر قرآن کریم کے بعد کوئی کتاب یا وحی بھی نازل ہونے والی ہوتی تو جس طرح اس آیت میں پچھلی کتابوں اور وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح آئندہ نازل ہونے والی کتاب اور وحی پر ایمان لانے کا ذکر بھی ضرور ہوتا بلکہ اس کی ضرورت اور بھی زیادہ تھی کیونکہ تورات و انجیل اور تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا تو پہلے ہی جاری اور معلوم تھا اگر نبی مکرم رسول معظم ﷺ کے بعد بھی سلسلہ وحی اور نبوت جاری ہوتا تو ضرورت اس کی تھی کہ اس کتاب اور اس نبی کا ذکر زیادہ اہتمام سے کیا جاتا جیسا کہ پیچھے ہوتا چلا آرہا تھا کہ جو بعد میں آنے والے ہوں ان کے متعلق کسی کو اشتباہ نہ رہے۔ مگر قرآن نے جہاں ایمان کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ سے پہلے نازل ہونے والی وحی اور پہلے انبیاء کا ذکر فرمایا لیکن بعد میں آنے والی کسی وحی یا نبی کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر صرف اس آیت میں نہیں بلکہ قرآن کریم میں یہ مضمون اول سے آخر تک بیسویں دفعہ مختلف مقامات پر آچکا ہے۔ سب میں رسول اللہ ﷺ سے پہلے انبیاء پہلی وحی اور پہلی کتابوں کا ذکر ہے کسی ایک آیت میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ آئندہ بھی کوئی وحی یا نبی آنے والا ہے جس پر ایمان لانا ہے۔ یہاں اشارہ کردیا ہے تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
vi: ایمان بالآخرۃ :
10: زیر نظر آیت میں جو متقیوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ان میں سے متقیوں کا یہ چھٹا اور آخری وصف بیان کیا گیا ہے۔ جو الآخرۃ یا عالم آخرت ہے یعنی وہ عالم جو موجودہ سلسلہ زندگی کے بعد شروع ہوگا۔ اسے آخرت کہا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ اس دنیوی زندگی کے خاتمہ کے بعد پیش آئے گا۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر کہیں دار الآخرۃ سے آیا ہے اور کہیں صرف آخرۃ سے ۔ اس میں سب سے ضروری اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جزا و سزا کے لئے ایک مستقل آئندہ عالم پر یقین رکھنا دین صحیح کے لوازم میں سے ہے اور اس سے تردیدہو جاتی ہے ان باطل مذاہب کی جو کہنے کو تو مذہب ہیں لیکن یہاں تو سرے سے جزاء اعمال ہی کے قائل نہیں یا قائل ہیں تو اس جزاء و سزا کا محل و مکان اسی عالم موجود کو سمجھتے ہیں۔ خواہ ایک ہی قالب میں یا کئی کئی قالبوں میں۔ بعض جدید اہل باطل نے الآخرۃ کا ترجمہ کیا ہے : ” زمانہ آخری کی وحی “ تاکہ اس سے ان کی خود ساختہ نبوت کا اجرا قرآن سے ثابت ہو ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ یہ ترجمہ ہے نہ تفسیر بلکہ یہ قرآن کریم اور عربی لغت دونوں کے ساتھ تمسخر و تلعب ہے جو متقیوں کے اوصاف سے بہت بعید ہے۔
قابل یاد داشت امریہ ہے کہ آخرۃ نام ہے ایک مجموعہ نظریات کا جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔
یہ نظریہ ہونا کہ اس عالم دنیا کے مکمل خاتمہ کے بعد اللہ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوع انسانی کو جو ابتدائی زمانہ سے انتہائی زمانہ یعنی قیامت تک اس دھرتی پر پیدا ہوئی تھی بیک وقت دوبارا پیدا کر دے گا اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا مکمل حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
یہ نظریہ کہ آخری زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار اس دنیا کی خوش حالی اور بدحالی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں کامیاب وہی ہے جو اللہ کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے گا اور ناکام وہی اصل ناکام ہوگا جو وہاں ناکام ہوگا۔
یہ نظریہ کہ اللہ تعالیٰ کے آخری فیصلے میں جو کامیاب قرار پائیں گے وہ جنت کے اور اس کے انعامات کے مستحق ہوں گے اور جو ناکام ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور دوزخ کا عذاب انہیں کے حصہ میں آئے گا۔
یہ نظریہ کہ دنیا کا موجودہ نظام یقیناً مبدل ہے لیکن اس کی تبدیلی کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
یہ نظریہ کہ انسان اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اپنے تمام اعمال کا اپنے مالک حقیقی کے سامنے جوابدہ ہے۔
یہ نظریہ کہ اللہ کے سوا اس دن کسی کا کوئی حمایتی اور بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا اور اس دارالعمل میں جن لوگوں پر انحصار کر کے اس نے ارتکاب جرم کیا ہے اس کے ہرگز کام نہیں آسکیں گے۔
Ayah 2:5یہی گروہ کامیاب گروہ ہے :
11: ان سارے اوصاف کا جن کا ذکر متقیوں کے ضمن میں کیا گیا ہے ماحصل یہ ہوا کہ وہ لوگ ہیں جن کا ضمیر زندہ ہے اور ان کے دل خوف الٰہی سے سرشار ہوتے ہیں۔ ان کا اعتقاد اس مادی دنیا سے بہت پرے یعنی عالم غیب ہوتا ہے جس کی اصل اور بنیاد حقیقی اللہ کی ذات ہے ان کے تعلق مع اللہ کا عملاً اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ یہ لوگ نمازوں کو ادا کرتے ہیں جس طرح کہ ان کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو یہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ ہی کی مخلوق پر صرف کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے برحق ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری معلم و ہادی ہونے اور قرآن کریم کے آخری کلام الٰہی ہونے پر یقین رکھتے ہیں پھر اس کے ساتھ ہی پورے سلسلہ وحی اور نظام نبوت کی تصدیق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ وحی کے ختم المرسلین ﷺ پر ختم ہونے پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کا کامل ایمان یوم آخرت یعنی روز جزا پر ہے اور اپنے ہر معاملہ میں اس کو یاد رکھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ہی اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو راہ راست پر ہیں وہی فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم کو بھی ان لوگوں میں شمار فرما۔
یہی وہ گروہ ہے جو کامیاب و کامران ہوا اور جس کا ذکر قرآن کریم میں مختلف پیرائیوں سے کیا گیا ہے قارئین کی سہولت کے لئے دو آیات کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اس نیک گروہ میں شامل ہونے کا شوق پیدا ہو۔ ارشاد الٰہی ہے :
ا لٓمّٓۚ001 تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ002 ہُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ003 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ ہُمْ بِالْاٰخِرَةِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَؕ004 اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى ہُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 005 (لقمان 31 : 1 ، 5)
” الف .... لام .... میم اچھی طرح سن لو کہ یہ آیات کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کی ہیں جس کی ہر بات حکمت سے بھری ہوئی ہے اور کوئی بات بھی حکمت سے خالی نہیں ۔ یہ آیات سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں اور حسن عمل کا طریقہ اختیار کرنے والوں کے لئے سراسر رحمت ہیں۔ جو لوگ نمازوں کو قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، جو بات جذبہ قربانی اور ایثار کو ان کے دلوں میں مضبوط کردیتی ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں جس سے احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور آخرت میں فلاح و نجات یہی پائیں گے اور کامیاب و کامران رہیں گے۔ “
طٰسٓ 1۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ کِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ001 ہُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ002 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ ہُمْ بِالْاٰخِرَةِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ 003 (النمل 27 : 1 ، 3)
” ط اس .... ن ، خوب سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ یہ قرآن کریم اور کتاب الٰہی کی ایسی آیات ہیں جو اپنی تعلیمات ، احکام اور ہدایات کھول کھول کر اور واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ دوسری صفت اس کتاب مبین کی یہ ہے کہ مؤمنوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور ہدایت کرنے والی اور سر تا سر بشارت و خوشخبری ہے۔ ایسے مؤمنین کے لئے آخرت میں سعادت عظمیٰ ہے جو پانچوں اوقات کی فرض نمازوں کو پورے آداب و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے غریبوں کو ان کا حصہ دیتے ہیں یعنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور قیامت کی آمد پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ “
Ayah 2:6کفار کون ہیں ؟
12: ہر تحریک کے دور میں تین قسم کے لوگوں کا پیدا ہونا ضروری ہے :
i: وہ جو اس تحریک کے حامیان کار ہوں۔
ii: وہ جو مکمل طور پر اس کے مخالف اور نہ ماننے والے ہوں۔
iii: ایسے لوگ جن کے تعلقات دونوں طرف موجود ہوں۔
بس ! دوسری قسم کے لوگوں کو جو اسلامی تحریک کے سخت مخالف ہیں اسلام کی زبان میں کفار کہا جاتا ہے ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو کافر یعنی انکار کرنے والے ہی کہا جائے گا۔ یہی لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور باطل پر جمے رہتے ہیں۔ انکی استعداد قبول حق کے باب میں روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں خصوصی اشارہ یہود مدینہ کی جانب ہے ان کا کفر کفر جحود کی قسم کا تھا یعنی یہ نبی آخر الزمان کی بابت پیش گوئیاں اور ان کی علامات سے اچھی طرح واقف تھے اور پھر دانستہ جان بوجھ کر حق سے اعراض واخفا کرتے تھے کہ اپنی دینی ریاست اور دنیوی سیادت میں فرق نہ پڑے۔ کفر کو سمجھنے کے لئے فطرت انسانی پر غور و فکر کریں تو معلوم ہوجائے گا۔
فطرت انسانی کے متعلق اختلاف مذاہب :
13: اب تک فطرت کے بارے میں دنیا کے خیالات حسب ذیل رہے ہیں :
(ا) : انسان کی فطرت میں بدی ہی بدی ہے ، باہر کی تربیت اس کو عارضی طور پر خوشنما کردیتی ہے ، وہ خصائص فطرت کے اعتبار سے بالکل حیوان ہے لیکن تربیت پذیری کے لحاظ سے اس پر فوقیت رکھتا ہے درخت کی شاخیں متناسب نہیں ہوتیں لیکن ان کو کاٹ کر اور چھیل کر درست کرلیا جاتا ہے۔ ڈیوجانس کلبی اس فلسفہ اخلاق کا مشہود معروف پیشوا گزرا ہے۔
(ب) : انسان کی فطرت بالکل سادہ ہے اس میں نہ نیکی ہے نہ بدی ، وہ محض ایک منفعل ، اثر پذیر اور نقش انگیز وجود ہے وہ ایک دامن ہے جس کے اندر گنجائش کے سوا کچھ نہیں۔ اگر اس کو پتھر ملا ہے تو اس کو بھر لے گا ، پھول ملے ہیں تو ان کو چن لے گا۔ حکماء یونان میں اس مذہب کا ایک دور رہ چکا ہے۔ گزشتہ اسلامی گروہوں نے بھی زیادہ تر اس کی پیروی کی۔ آج یورپ میں بھی حکماء اخلاق کا ایک بڑا گروہ یہی کہتا ہے۔
(ج) : نیکی اور بدی انسان کی فطرت میں موجود ہے بالقوہ وہ شیطان اور فرشتہ دونوں ہے دنیا میں آکر جس قسم کے خارجی اثرات اس کو ملتے ہیں انہیں کے مطابق اس کی کوئی ایک قوت نشو ونما پاتی اور بروز کرتی ہے اگر نیکی کے اثرات ملے تو قوت ملکوتی ابھرے گی اور چمکے گی۔ لیکن اگر اس کے برخلاف بدی کا گردو غبار چھا جائے گا تو نیکی کی چمک ماند پڑجائے گی اور بدی کی تاریکی پھیل جائے گی۔ دنیا کے قدیم و جدید دوروں میں اس مذہب نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ ارسطو کا یہی مذہب تھا۔ تقریباً تمام حکماء اسلام اس کے قائل نظرآتے ہیں۔ ابن مسکویہ اس کا داعی ہے۔ دور جدید کے حکمائے اخلاق نے اسی کے آگے اپنی گردنیں خم کی ہیں۔ فخر الدین رازی (رح) نے اسی مذہب کے مطابق تفسیر کی ہے۔ دیکھنے کا شوق ہو تو وَ ہَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ0010 اور فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ008 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 2:7قرآن کریم کا فیصلہ :
14: لیکن قرآن کریم نے ان سب سے الگ اپنی راہ نکالی ہے وہ کہتا ہے کہ انسان خالص و کامل نیکی ہے۔ اس میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس میں برائی کمانے کی استعداد بھی پائی جاتی ہے۔ یعنی جس قدر بھی برائی ہے وہ اس کا کسب خارجی ہے۔ نیکی اس کا فطری عمل اور بدی غیر فطری ، خارجی اور یکسر صناعی ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو یہ فطرت ہے اگر بد ہے تو یہ تصنع ہے۔ قرآن کریم اسی کو فطرتِ صالحہ ، دین الٰہی ، دین قیم ، دین حنیفی ، صراط مستقیم ، فطرت اللہ ، صبغۃ اللہ اور اسلام کہتا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ انسان کی اصل فطرت اسلام ہے اور کفر ایک صناعی اور غیر فطری عمل ، اگر ایک انسان مسلم ہے تو اس کو یوں کہو کہ وہ اپنی اصلی فطرت صالحہ پر قائم ہے اس کی فطری روشنی نور دے رہی ہے لیکن اگر ایک انسان مسلم نہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ فطرت حقیقی کا چراغ بجھ گیا ہے ، اس کے اندر کا آئینہ زنگ آلود ہوگیا ہے ، گردوغبار کی کثافت نے اس کو سیاہ کردیا ہے اور وہ فطرت کی صورت حقیقی کی جگہ ایک مسخ شدہ غیر فطری و مصنوعی جانور بن گیا ہے۔ معصیت سے یہ فطری آئینہ زنگ آلود ہوتا ہے اور کفر ، زنگ آلودگی کی وہ آخری حالت ہے جبکہ آئینہ بالکل سیاہ ہوگیا اور ایک دھندلی سی چمک بھی اسی میں باقی نہ رہی۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ 1ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌٞ (البقرہ 2 : 7) سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 006 (البقرہ 2 : 6) اُولٰٓىِٕكَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ 1ؕ (الاعراف 7 : 179) لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَاٞ (الاعراف 7 : 179) وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ (الاسراء 17 : 46)
یہی معنی ہیں مسلم شریف کی اس حدیث کے کہ : ( مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاہُ یُهَوِّدَانِهِ وَیُنَصِّرَانِهِ وَیُمَجِّسَانِهِ ) (مسلم : 2254) بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اپنی اصلی اور بےمیل فطرات ہی پر پیدا ہوتا ہے۔ اب باہر کی ہوائیں اس کے اندر کی روشنی کو تہ وبالا کرنے لگتی ہیں اگر یہودیت کے اثرات اس پر غالب آگئے تو یہودیت کا جھونکا اس کے چراغ فطرت کو گل کر دے گا۔ اگر نصرانیت یا مجوسیت کا طوفان اٹھا تو اس میں اس کی کشش فطرت ڈگمگانے لگے گی۔
جب اللہ نے ذریت انسان سے پوچھا : ” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “ کیا میں ہی تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو اس نے فطری طور پر تصدیق کی اور ” بَلٰى “ کہا اب اگر تصدیق کی جگہ انکار کرتا ہے تو یہ اس کی فطرت کی صدا نہیں بلکہ ایک غیر فطری صناعی ہے۔
اسی فطرت کا نام قلب سلیم ہے ” اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ 0084 “ جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے حضور میں فطرت صالحہ غیر آلود کے ساتھ حاضر ہوئے اس کی فطرت کو باہر کا کوئی بڑے سے بڑا جلوہ بھی مرعوب وہیبت زدہ نہ کرسکا۔
لیکن یہاں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے عام قاری کو اشتباہ ہوتا ہے کہ جب اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگادی تو ان کا قصور کیا رہا۔ حالانکہ یہ ایک پیرایہ بیان ہے تاکہ قاری ان تعلیمات کو سرسری نظر سے پڑھ کر چلتا نہ بنے بلکہ غور و فکر سے بھی کام لے تاکہ وہ کلام الٰہی کی خوبیوں سے واقف ہو سکے۔ یہاں جو حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دین الٰہی کی اشاعت کے لئے آپ ﷺ کے اندر اتنی تڑپ تھی۔ دل چاہتا تھا کہ یہ کافر سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں تاکہ یہ جانوروں کی صف سے نکل کر انسانوں کی صف میں شمار ہوں لیکن یہاں یہ حقیقت آپ ﷺ کو بتائی گئی ہے کہ آپ کچھ بھی کر ڈالئے ان کے حق میں سب یکساں ہیں۔ یہ بدبخت اپنی صلاحیت حق شناسی کو ضائع کرچکے ہیں لیکن آپ ﷺ کا اجر تبلیغ بہر حال ثابت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک خبر ہے جو خبیر مطلق اپنے بندہ کو دے رہا ہے ایک اطلاع ہے جو علیم کل اپنے رسول کو پہنچا رہا ہے۔ مرضی الٰہی سے ایک شائبہ تعلق بھی نہیں۔ ” علم “ اور ” مرضی “ کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ عوام کے ذہن ان دو بالکل مختلف قانونوں کے درمیان خلط مبحث کر کے اپنے آپ کو عجیب الجھنوں میں ڈال لیتے ہیں۔ حالانکہ ذرا غورو فکر سے کام لیں تو کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔
غور کرو کہ طبیب حاذق اپنے علم کی رو سے مدتوں پیشتر خبر دے دیتا ہے کہ فلاں بدپرہیز ، خود رائے مریض اچھا نہ ہوگا کیا اس پیشگوئی اور اس خبر میں شفیق طبیب کی خواہش ومرضی کو بھی کچھ دخل ہوتا ہے ؟ اس کافر کا ناقابل ایمان ہونا اللہ کے اس خبر دینے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا اس کافر کے ناقابل ایمان ہونے کی وجہ سے واقع ہوا ہے اور ناقابل ایمان ہونے کی صفت خود اس کی شرارت وعناد اور مخالفت حق کے سبب سے پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں اس کی پیدائش کے اندر استعداد قبول حق رکھی ہے مگر یہ شخص خود اپنی ہوائے نفس اور خود غرضی کی وجہ سے حق کی مخالفت کرتا ہے یہاں تک کہ ایک روز وہ استعداد فنا ہوجاتی ہے۔ چونکہ حق قبول کرنے یا نہ کرنے کے قانون کا خالق حقیقی اللہ ہی ہے اسی لئے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
ہاں ! یہاں ایک بات اور بھی یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ قلب یعنی دل سے مراد سینہ کے ندر جو ایک مضغہ گوشت ہے جو عام بول چال اور اصطلاح میں دل کہلاتا ہے وہ مراد نہیں بلکہ وہ دل مراد ہے جو محاورۃ زبان میں احساس ، عقل ، ارادہ سب کا مرکز ہے انسانی زبان میں دل اسی کو کہا جاتا ہے اور افعال ارادی کا صدور اسی سے ہوتا ہے اللہ کی طرف سے مہر لگ جانے کا یہ فعل اس کے کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ اس کا سبب۔ اس نے اپنے لئے جو کچھ اختیار کیا وہی اللہ تعالیٰ اسے بحیثیت علت العلل و مسبّب الاسباب اپنے قانون تکوینی نہ کہ قانون رضا کے تحت دینے لگتا ہے۔
وحی الٰہی کا نزول کیوں ؟
15: شرائع الٰہیہ کا نزول اس لئے ہوتا ہے کہ انسان نے صناعی اور خارجی ضلالت کا جو زنگ فطرۃ صالحہ پر چڑھا لیا ہے اسے دور کردے اور اس کی اصل روشنی پھر چمک اٹھے اس لئے ہدایت الٰہی کو قرآن کریم نے ” ذکر “ اور کفر و ضلالت کو ” نسیان “ کہا ہے۔ نسیان کی انتہا غفلت ہے۔ اس کو قرآن نے منتہائے ضلالت قرار دیا ہے لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَاٞ کی یہی تفسیر خود اللہ تعالیٰ نے فرمادی جہاں ارشاد فرمایا : كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ 1ؕ (الحشر 59 : 19) یعنی اپنی فطرت صالحہ کو بھول گئے کیونکہ فطرت صالحہ تو وہی تھی جس نے ” بَلٰى “ کہا تھا۔ یعنی اللہ کی ربوبیت اور اس کے رشتہ کا اقرار کیا تھا اب اگر وہ اس ہستی کے رشتہ کو بھلا رہے ہیں جس کے سامنے اصلی فطرۃ ” بَلٰى“ کہہ چکی ہے ، تو اس رشتہ کو نہیں بھلا رہے بلکہ اپنی فطرت اصلی کو بھلا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قانون کی وضاحت قرآن کریم کے صفحات میں ان گنت مقامات پر کی ہے یہاں دو تین جگہوں کی نشاندہی کردی جاتی ہے تاکہ قارئین جہاں کہیں ایسی آیات کریمات آئیں ان کا مفہوم وہی سمجھیں جو یہاں بیان کیا گیا ہے اور ہر بار تشریح کی ضرورت نہ رہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ 008 وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ۠ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ 009 وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 0010 اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ 1ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ 0011 (یاسین 36 : 8 ، 11)
” ہم نے گمراہی اور شیطان کی غلامی کے طوق ان کی گردنوں میں ڈال دیئے جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں اور ان کے سر پھنس کر رہ گئے ہیں ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک ان کے پیچھے اس طرح ان کو ڈھانک دیا ہے لہٰذا وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ اور ان کے لیے یکساں ہے آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بن دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرے۔ سو ایسے شخص کو مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری سنادیجئے۔ “
اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ 1ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ 1ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ 0018
(فاطر 35 : 18)
” اے پیغمبر اسلام ! آپ صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے کرتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ “
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ ہٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ۙ0048 الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ ہُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ 0049 وَ ہٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ 1ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ (رح) 0050 (الانبیاء 21 : 48 ، 50)
” اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ ہم نے موسیٰ و ہارون کو فرقان اور وحی الٰہی کی روشنی اور متقیوں کے لئے نصیحت دی تھی۔ ان متقیوں کے لئے جو اپنے پروردگار کی ہستی سے بغیر دیکھے ہوئے ڈرتے ہیں اور آنے والی گھڑی کے تصور سے بھی لرزاں رہتے ہیں اور یہ قرآن کریم بھی نصیحت ہے برکت والی۔ ہم نے اسے نازل کیا پھر کیا تمہیں اس سے انکار ہے ؟ “
جن لوگوں کی فطرت صالح مسخ ہوگئی ہے :
16: پس جن لوگوں نے اپنی فطرت صالحہ کو مسخ کرلیا ہے اور اس کی روشنی کو آندھی اور طوفان سے محفوظ نہ رکھا اس پر ظلمت اور تاریکی چھا گئی اور انسانیت سے نکل کر حیوانوں کے دائرہ میں داخل ہوگئے۔ اب ان کے لئے نبی و رسول کا انداز و عدم انداز برابر ہے ، علم و معرفت حاصل کرنے کے تین ہی ذرائع تھے دل ، آنکھ اور کان۔ مگر کفر کی زنگ آلودگی نے ان کے آئینہ کو بالکل سیاہ کردیا اور ایک دھندلی سی چمک بھی ان میں باقی نہ رہی۔ اب ان کو جس قدر بھی عذاب دیاجائے گا کم ہے کہ انہوں نے اپنی تصدیق کو بھلا دیا جو ان کے اندر ودیعت کی گئی تھی۔ اس مضمون کو اللہ نے تصریف آیات کے ذریعے بہت اچھی طرح سمجھا یا لیکن فی زمانناً عوام تو عوام ہمارے علماء کرام بھی دل کی آنکھیں بند کرکے اور قفل لگا کر پڑھنے کے آدی ہوچکے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہوتا ہے :
وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ 005
(حم السجدۃ 41 : 5)
” اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں تک تمہاری دعوت کے پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے دل اوجھل اور اوٹ میں ہیں اور تمہاری آواز حق سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اس لئے ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہوچکا ہے تم اپنا عمل جاری رکھو اور ہم ابھی اپنے اعمال کرتے رہیں گے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں۔ “
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ 1ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا 1ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا 0057 (الکہف 18 : 57)
” پھر بھلا اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ؟ جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی گئی ہو اور وہ اس سے اعراض کرے اور اپنے کئے کو بالکل بھول جائے کہ گویا اس نے کیا ہی نہیں ، جن لوگوں نے ایسی روش اختیار کر رکھی ہے ہم نے اپنے قانون کے مطابق ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں وہ قرآن کی بات سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے ، اور ان کے کانوں میں گویا ثقل و گرانی ہے وہ کبھی نصیحت کی بات نہیں سن سکتے۔ آپ انہیں کتنا ہی خیر خواہانہ انداز سے راہ راست کی دعوت دیں وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ “
قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ00136 اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ00137 وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ00138
(الشعرا 26 : 136 ، 138)
” ہود (علیہ السلام) کی دعوت سن کر من چلے سردار بولے تمہارا ہمیں وعظ و نصیحت کرنا نہ کرنا یکساں ہے کیونکہ ایسی باتیں خبطی لوگ ہمیشہ کرتے ہی آئے ہیں ، تمدن اسی طرح ترقی کرتا رہا۔ اور دنیا کی گاڑی اسی طرح اپنی پٹڑی پر چلتی رہی کوئی آفت نہ آئی اور ہم پر بھی کوئی عذاب نہیں آئے گا یہ تمہارے سہانے خواب تمہیں کو مبارک ہوں۔ “
Ayah 2:8منافقین کا گروہ :
17: اب تک قرآن کریم نے دو قسم کے انسانوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک مؤمن فرمانبردار ، قانون الٰہی کے مطیع۔ دوسرے کافر ، نافرمان ، قانون الٰہی کے منکر و باغی۔ اب ذکر ایک تیسرے قسم کے لوگوں کا شروع ہورہا ہے۔ حقیقت میں تو یہ بھی کافر و منکر ہی ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے کفر و انکار پر مکرو فریب کا پردہ ڈال رکھا ہوتا ہے یعنی زبان پر دعویٰ اسلام رکھتے ہیں لیکن دل ان کے تصدیق نہیں کرتے۔ صرف زبان سے دعویٰ و اقرار کرتے ہیں جس میں قلبی تصدیق ہرگز شامل نہیں ہوتی۔ ان ننگ انسانیت انسانوں کو اصطلاح شریعت میں منافق کہا گیا ہے۔ نفاق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان بھلائی کا علان و اظہار کرتا رہے لیکن اندر ہی اندر شر کو چھپائے رکھے اور جب موقع دیکھے شر کے پھیلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے لیکن شر کے پھیلانے کا انداز ایسا اختیار کرے کہ ضرورت کے وقت وہ شر کو اپنی چرب زبانی اور چالاکی سے خیر ثابت کرنے کی پوری کوشش کرے اور اس منافقت کو تین اقسام میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
(ا) : ظاہر ایمان کا اظہار ہو لیکن حقیقت میں وہ تمام ضروریات ملی کا منکر اور تعلیم الٰہیہ کا شدید دشمن ہو۔
(ب) : فسق و فجور کی کثرت اور عدوان و ضلالت کا اثر اس درجہ غالب آگیا ہو کہ دنیا کو دین پر اور کفر کو اسلام پر ترجیح دے۔
(ج) : ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے تذبذب اور اضطراب میں ہو۔
اگر آپ ان تینوں مراتب کو پیش نظر رکھیں گے تو کتاب و سنت کے تمام مقامات جو ان کے مختلف حالات بیان کریں گے مکمل طور پر حل ہوجائیں گے اور کسی آیت اور حدیث میں اختلاف معلوم نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے منافق کی علامتیں اس طرح بیان فرمائی ہیں : فرمایا : ” ہر بات میں جھوٹ کہے گا ، ہمیشہ بدعہدی کرے گا ، خائن اور بےایمان ہوگا ، جھگڑے کے وقت گالیوں پر اتر آئے گا “۔
منافقین کا سردار کون تھا ؟
نفاق یعنی جھوٹا اظہار اسلام مکہ میں بالکل نہ تھا۔ نفاق کی بنیاد مدینہ میں پڑی وہ بھی خصوصاً غزوۃ بدر کے بعد جب اسلام کو روز بروز دنیوی عظمت و شوکت حاصل ہونا شروع ہوگئی۔ اس وقت بعض لوگوں نے اپنے کو محض تقیتاً بلاشائبہ ایمان و صداقت مؤمن و مسلم کہنا شروع کردیا۔ اس وقت اس پارٹی کا سرغنہ عبداللہ بن ابی ّبن سلول ایک بااثر شخص تھا۔ وہاں کے لوگوں نے اسلام کی آمد سے پہلے اس کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ چناچہ بادشاہی کی علامت یعنی تاج بھی تیار ہوچکا تھا۔ اس دور میں رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے۔ شہر کی تمام جماعتوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ آپ ﷺ ہی ان کے تمام مناقشات و منازعات کا فیصلہ کریں۔ عبداللہ کے لئے اس وقت اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ اپنی کمزوری کو محسوس کر کے خاموشی اختیار کرے ، مخالفت کرنے کی طاقت نہ تھی یعنی کھلا کافر رہنا بھی اس کے لئے دشوار ہوگیا انجام کار اس نے بھی اسلام کا اظہار کردیا اور مسلمانوں کے ساتھ مل گیا لیکن دراصل اس کی یہی کوشش رہی کہ ہوسکے تو مسلمانوں کا نام و نشان دنیا سے مٹادیا جائے۔ اس کی چالوں اور چالاکیوں سے اسلام کا دفتر بھرا پڑا ہے اس کا تعلق بنو خزرج سے تھا لیکن اس کا اثر و رسوخ اپنے حریف قبیلہ بنو اوس پر بھی موجود تھا۔ آج کی زبان میں یہ اپنے وقت کا بہترین سیاستدان اور ایک زمانہ کا مانا ہوا لیڈر تھا۔ اس نے جب اسلام کے قدم مدینہ میں جمتے دیکھے تو اس کو اپنی دکان اجڑتی نظر آنے لگی۔ اس نے ذرا دیر نہ کی اور اپنے پیرؤوں کے کان میں یہ افسوں پھونک دیا کہ تم بھی زبان سے اس تحریک کے ساتھ وابستگی کا اعلان کر دو لیکن دل میں اپنے عقائد کو مزید پختہ کرلو اور وقت کا انتظار کرو۔ افسوس ! کہ اسلام کے دعویٰ داروں میں آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں بلکہ اس ملک پاکستان میں تو دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے جا رہے ہیں جو مذہب اور سیاست کفر میں پیوندکاری کا کام سر انجام دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس طرح کفر کا نام اسلام رکھ دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دھوکہ دہیوں اور مکاریوں سے نجات دے۔