Al-Baqara 2:250

Al-Baqara · from ayah 250

2:250

وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۟ؕوَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَـالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ قَالُوۡا رَبَّنَآ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِيۡنَؕ

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they went forth to [face] Goliath and his soldiers, they said, "Our Lord, pour upon us patience and plant firmly our feet and give us victory over the disbelieving people."

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 33 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:250

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے، تو انہوں نے دعا کی: "اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب یہ لوگ جالوت اور اس کے لشکروں کے آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار صبر و استقلال کی صفت ہم پر انڈیل دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور ہمیں اس کافر قوم کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا فرمادے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے پاؤں جمے رکھ کافر لوگوں پرہماری مدد کر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابل ہوئے تو عرض کرنے لگے: اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر میں وسعت ارزانی فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے سامنے ہوئے تو کہنے لگے اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ان کافر لوگوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلہ ہوا تو کہنے لگے : اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ان کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انہوں نے دعا کی، اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدم جمائے رکھ، اور کافر قوم پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب وہ قوت ایمان و یقین سے معمور و سرشار مجاہد میدان کارزار میں نکلے تو انہوں نے ظاہری اسباب و وسائل کے فرق و تفاوت سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عرض کیا اے ہمارے رب اپنے خاص کرم اور عنایت سے ہم پر فیضان فرما دے صبر اور استقامت کا ہمیں نواز دے ثابت قدمی کے جوہر سے اور ہماری مدد فرما ان کافر لوگوں کے مقابلے میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابل آئے تو بولے اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہمیں غالب کر کافر لوگوں پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب وہ مقابلے پر نکلے جالوت اور اس کے لشکروں کے تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور (میدان جنگ میں) ہمارے قدموں کو جمادے اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ میں نکلے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر

— محترمہ رفعت اعجاز

Accordingly, when they marched forward to fight with Goliath and his hosts, they prayed, "Our Lord, bless us with fortitude, make firm our foothold and give us victory over the unbelieving host."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when they faced Jalut and his troops, they said: :Our Lord, pour out endurance on us, make firm our feet and help us against the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani

And when they faced Jalut and his troops, they said: :Our Lord, pour out endurance on us, make firm our feet and help us against the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they advanced to meet Jalut (Goliath) and his forces, they invoked: "Our Lord! Pour forth on us patience, and set firm our feet and make us victorious over the disbelieving people."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they went into the field against Goliath and his hosts they said: Our Lord! Bestow on us endurance, make our foothold sure, and give us help against the disbelieving folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they went forth to [face] Goliath and his soldiers, they said, "Our Lord, pour upon us patience and plant firmly our feet and give us victory over the disbelieving people."

— Saheeh International

Advancing towards Goliath and his army, they prayed to God for patience, steadfastness in battle, and for victory over the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

And when they went out against Jalut and his forces they said: Our Lord, pour down upon us patience, and make our steps firm and assist us against the unbelieving people.

— Muhammad Habib Shakir

And when they arrayed themselves against Jalut and his hosts, they said: our Lord pour forth on us patience, and set firm our feet, and make us triumph over the infidel people.

— Abdul Majid Daryabadi

When they advanced to meet Goliath and his forces, they prayed: "Our Lord! Pour out constancy on us and make our steps firm: Help us against those that reject faith."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:250

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 250–251

جالوت مارا گیا یعنی جس وقت مسلمانوں کی اس مختصر جماعت نے کفار کے ٹڈی دل لشکر دیکھے تو جناب باری میں گڑگڑا کر دعائیں کرنی شروع کیں کہ اے اللہ ہمیں صبر و ثبات کا پہاڑ بنا دے۔ لڑائی کے وقت ہمارے قدم جما دے، منہ موڑنے اور بھاگنے سے ہمیں بچا لے اور ان دشمنوں پر ہمیں غالب کر، چناچہ ان کی عاجزانہ اور مخلصانہ دعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے اور یہ مٹھی بھر جماعت اس ٹڈی دل لشکر کو تہس نہس کردیتی ہے اور حضرت داؤد کے ہاتھوں مخالفین کا سردار اور سرتاج جالوت مارا جاتا ہے، اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت طالوت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جالوت کو قتل کرو گے تو میں اپنی بیٹی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 249–250

سورة الْبَقَرَة 271 ممکن ہے اس سے مراد دریائے اردن ہو یا کوئی اور ندی یا نالہ۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اس کے پار اترنا چاہتا تھا، مگر چونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی قوم کے اندر اخلاقی انضباط بہت کم رہ گیا ہے، اس لیے اس نے کار آمد اور ناکارہ لوگوں کو ممیز کرنے کے لیے یہ آزمائش تجویز کی۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ تھوڑی دیر کے لیے اپنی پیاس تک ضبط نہ کرسکیں، ان پر کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دشمن کے مقابلے میں پامردی دکھائیں گے جس سے پہلے ہی وہ شکست کھاچکے ہیں۔ سورة الْبَقَرَة 272 غالباً یہ کہنے والے وہی لوگ ہوں گے، جنہوں نے دریا پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مظاہرہ کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 249–251

(3) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جالوت، فلسطینیوں کا سپہ سالار تھا۔ تورات میں اس کا نام جاتی جو لیت آیا ہے۔ یہ بڑا گرانڈیل، دیوہیکل اور ماہر جنگ سپہ سالار مانا جاتا تھا، دشمنوں پر اس کا بڑا رعب تھا، خاص طور پر بنی اسرائیل اس سے بہت مرعوب تھے۔ حضرت داود کی زندگی کا آغاز : داوٗد، یہ وہی حضرت داود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا اور جن کی صلب سے حضرت سلیمان ؑ پیدا ہوئے۔ ان کی ابتداء غریبانہ لیکن انتہا نہایت شاندار ہوئی۔ انہوں نے اپنے بارے میں خود فرمایا ہے کہ خداوند نے مجھے بھیڑ سالے سے نکالا اور اسرائیل کے تخت پر لا بٹھایا۔ یہ طالوت کی اس فوج میں شامل تھے جس کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس شمولیت کے متعلق تورات میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

250۔ 1 جالوت اس دشمن فوج کا کمانڈر اور سربراہ تھا جس سے طالوت اور ان کے رفقاء کا مقابلہ تھا یہ قوم عمالقہ تھی جو اپنے وقت کی بڑی جنگجو اور بہادر فوج سمجھی جاتی تھی ان کی اس شہرت کے پیش نظر عین معرکہ آرائی کے وقت اہل ایمان نے بارگاہ الٰہی میں صبرو اثبات اور کفر کے مقابلے میں ایمان کی فتح و کامیابی کی دعا مانگی۔ گویا مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نصرت الٰہی کے لئے ایسے موقعوں پر بطور خاص طلبگار رہیں جیسے جنگ بدر میں نبی ﷺ نے نہایت آہو زاری سے فتح اور نصرت کی دعائیں مانگیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے منظور فرمایا اور مسلمانوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کافروں کی بڑی تعداد پر غالب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 249–250

167: یہ دریائے اردن تھا اور یہ امتحان بظاہر یہ دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا کہ لشکر کے کتنے لوگ ہیں جو اپنے امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ رکھتے ہیں کہ اس پر اپنی خواہشات کو بھی قربان کردیں کیونکہ اس طرح کی جنگ میں ایسی مضبوط اطاعت کے بغیر کام نہیں چلتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ہے صحیح طریقہ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر۔ “ یہ ایسی تعبیر ہے جس سے فیضان صبر کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اللہ کی طرف سے فیضان اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک برتن بھر کر ان پر انڈیل دیا جائے اور ان کا پیالہ دل اس سے لبریز ہوجائے ۔ اس کے نتیجے میں ان پر طمانیت اور سکینت نازل ہوجاتی ہے اور وہ اس ہولناک معرکے کے تیارہوجاتے ہیں ۔” ہمارے قدم جمادے۔ “ اس لئے کہ قدم اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ وہی ہے جو ان کو اپنی جگہ ثابت کرتا ہے کہ متزلزل نہ ہوں ، پھسلیں نہیں ، جگہ چھوڑ کر نہ جائیں ” اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب فرما۔ “ موقف واضح ہے ایمان کا مقابلہ کفر کے ساتھ ہے حق باطل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 250–251

2 جب سامنے ہوئے جالوت کے یعنی وہی تین سو تیرہ آدمی اور انہی تین سو تیرہ میں حضرت داؤد کے والد اور ان کے چھ بھائی اور خود حضرت داؤد بھی تھے حضرت داؤد کو راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ اٹھا لے ہم کو ہم جالوت کو قتل کریں گے جب مقابلہ ہوا جالوت خود باہر نکلا اور کہا میں اکیلا تم سب کو کافی ہوں میرے سامنے آتے جاؤ حضرت شموئیل نے حضرت داؤد کے باپ کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھکو دکھلا اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قد آور تھے حضرت داؤد کو نہیں دکھایا ان کا قد چھوٹا تھا اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا انہوں نے کہا ماروں گا پھر جالوت کے سامنے گئے اور انہی تینوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 250 وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ بَرَزَ کے معنی ہیں ظاہر ہوجانا ‘ آمنے سامنے آجانا۔ اب دونوں لشکر میدان جنگ میں آمنے سامنے آئے۔ ادھر طالوت کا لشکر ہے اور ادھر جالوت کا۔ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا اَفْرَغَ کا مفہوم ہے کسی برتن سے کسی کے اوپر پانی اس طرح گرا دینا کہ وہ برتن خالی ہوجائے۔ طالوت اور ان کے ساتھی اہل ایمان نے دشمن کے ّ مدمقابل آنے پر دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر کا فیضان فرما ‘ صبر کی بارش فرما دے۔ وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ یہ دعا گویا اہل ایمان کو تلقین کی جا رہی ہے کہ جب بدر کے موقع پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

350 یہی اللہ کے نیک بندوں کی علامت ہے کہ وہ اپنی ہمت اور سامان جنگ پر ہی بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عاجزی سے اللہ کو یاد کرتے اس سے صبر اور ثابت قدمی کی توفیق طلب کرتے اور اپنی فتح کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں اور جالوت کے اس مختصر سے لشکر نے بھی اللہ سے گڑگڑا کر ایسی دعائیں کیں جیسی جنگ بدر کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے کی تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

956 ۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ کے لشکر کے سپاہیوں کو آداب جنگ کی تعلیم ہے، کہ بہ خلاف عام دنیوی سپاہیوں کے ان کا تکیہ قوت و شوکت پر نہیں، بلکہ نصرت الہی پر ہوتا ہے۔ قرآن اور توریت موجودہ کے بیانوں کا مقابلہ کردیا جائے، توریت میں نفس جنگ کے خشک و خارجی واقعات کی تفصیل قرآن سے کہیں زائد ہے۔ لیکن وہ بس اسی پر قانع ہے۔ گویا کتاب تذکرہ وتاریخ کی ہے۔ ؛ قرآن مجید اس کے برخلاف ہر موقع پر تعلیم اصول دین اور اخلاق عالیہ کی دیتا جاتا ہے۔ اور یہی اس نے یہاں بھی کیا۔ (آیت) ” افرغ علینا صبرا “۔ یعنی ہمیں ثبات قلب کی توفیق دے۔ (آیت) ” ثبت اقدامنا “ یعنی ہمیں ثبات قدم نصیب کر۔ (آیت) ” فانصرنا “ ثبات قلب وثبات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 249–252

آیت نمبر 249 تا 252 ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ( اور جب وہ ( یعنی طالوت اور ان کی فوج) جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلہ میں آئے (یعنی دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوئی) تو انہوں نے (یعنی طالوت اور ان کے ساتھیوں نے) دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں صبر (یعنی استقلال) دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں پر ہمیں فتح دے) یہ تمام انبیا اور صالحین کا طریقہ ہے کہ جب انہیں کوئی دشوار امر پیش آتا ہے تو وہ دعا کے ذریعہ سے اللہ کے سامنے التجا کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(250) چناچہ جب یہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے تو سچے حضرات دعا مانگنے لگے کہ پروردگار صبر کے ساتھ ہمیں عزت عطا فرما اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور جالوت اور اس کے لشکر پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفْرِغْ عَلَيْنَا : یہ باب افعال سے امر کا صیغہ ہے، جس کا معنی برتن انڈیل کر خالی کرنا ہے، یعنی انھوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہم پر پورا صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافروں پر ہماری مدد فرما۔ یہ بڑی جامع اور حسن ترتیب سے آراستہ دعا ہے، کیونکہ صبر آتا ہے تو ثابت قدمی ملتی ہے ثابت قدمی ہو تو نصرت الٰہی ملتی ہے۔ معلوم ہوا مومن کے لیے میدان جنگ میں بھی تیاری کے باوجود سب سے بڑا ہتھیار اللہ پر اعتماد اور اس سے دعا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 350۔ برزوا جب وہ براز میں آگئے اور براز سے مراد وسیع زمین میں سے کشادہ اور کھلا میدان ہے، جالوت عمالقہ کا امیر تھا اور ان کا بادشاہ تھا اس کا سایہ ایک میل تھا اور کہا جاتا ہے کہ (قوم) بربر اس کی نسل سے ہے اور اس کے بارے میں روایت ہے کہ اس کی فوج میں تین لاکھ گھڑ سوار تھے اور عکرمہ نے کہا ہے : نوے ہزار تھے اور جب مومنین نے اپنے دشمن کی کثرت کو دیکھا تو انہوں نے اپنے رب کی بارگاہ میں عجز و انکساری کی اور یہ رب العالمین کے اس قول کی طرح ہے : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فما وھنو لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین، وما کان قولھم الا ان قالوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 250–252

(1) فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طالوت لشکر پر امیر تھے داؤد کے باپ نے اسے بھائیوں کی طرف سے کوئی چیز دے کر بھیجا۔ اور داؤد نے طالوت سے فرمایا میرے لئے کیا انعام ہوگا اگر میں جالوت کو قتل کر دوں ؟ طالوت نے کہا تیرے لئے میری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ ہوگا۔ اور میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح بھی کر دوں گا۔ داؤد نے تو برہ اٹھایا اور اس میں تین پتھر رکھے پھر انہوں نے نام لیا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس میں داخل کرتے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو میرا اور میرے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَمَّا : اور جب ] [بَرَزُوْا : وہ لوگ سامنے آئے ] [لِجَالُوْتَ : جالوت کے ] [وَجُنُوْدِہٖ : اور اس کے لشکروں کے ] [قَالُوْا : تو ان لوگوں نے کہا ] [رَبَّـنَـآ : اے ہمارے ربّ ! ] [اَفْرِغْ : تو انڈیل دے ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [صَبْرًا : ثابت قدمی کو ] [وَّثَـبِّتْ : اور تو جما دے ] [اَقْدَامَنَا : ہمارے قدموں کو ] [وَانْصُرْنَا : اور تو ہماری مدد کر ] [عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ : کافر قوم (کے مقابلہ) پر ] ب ر ز بَرَزَ (ن) بُرُوْزًا : صاف اور کھلی فضا میں نمودار ہونا۔ (1) کہیں سے نکلنا۔ (2) کسی کے سامنے آنا ‘ ظاہر ہونا۔{ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ } (النسائ :81) ” پھر جب وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 249–252

طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 246–252

قصہ طالوت وجالوت۔ برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔ قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔ ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

491 بَرَزُوْ ا کے معنی ہیں صاروا فی البراز وھو الفیح من الارض المتسع (قرطبی ص 256 ج 3، بحر ص 267 ج 2) یعنی جب وہ کھلے میدان میں جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے ہوئے تو چونکہ دشمن کی فوج 90 ہزار اور بروایت تین لاکھ سواروں پر مشتمل تھی اور مسلمان صرف 313 تھے اس لیے انہوں نے گڑ گڑا کر نہایت ہی عاجزی اور تضرع سے خدا سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں صبر و استقلال اور ثابت قدمی عطا کرنا اور کافروں کی اس فوج پر ہمیں فتح مند فرمانا۔ فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی مدد فرمائی چناچہ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی مدد فرمائی چناچہ انہوں نے اللہ کی توفیق ونصرت سے ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 250–251

ربطہ آیات گذشتہ درس میں طالوت کے لشکر کی روانگی کا تذکرہ تھا کہ جب وہ دشمن کی طرف چلے تو راستے میں طالوت نے اپنی فوج کو آزمایا کہ یہ لوگ کس حد تک تکالیف برداشت کرسکتے ہیں۔ راستے میں نہر پڑتی ہے اللہ کے حکم سے طالوت نے اپنے سپاہیوں کو اس نہر سے پانی پینے سے منع کردیا۔ اور پیاس برداشت کر نیکی تلقین کی۔ ہاں البتہ سخت شدت کی صورت میں چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت دی مگر لشکر کی اکثریت پیاس برداشت نہ کرسکی اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا جسکی وجہ سے ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگئی اور وہ آگے سفر کرنے کے قابل نہ رہے لہٰذا تھک ہار کر وہیں بیٹھ گئے۔ طالوت صرف 313 سپاہیوں کا لشکر لے کر نہر سے پار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝ 250 ۭ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 248–252

ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

راہِ حق میں نکلنے والوں کی دعا وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجُالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَـآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقُوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (اور جب سامنا ہوا جالوت اور اس کی فوجوں سے تو انھوں نے دعا کی اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر انڈیل دے ‘ ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما) (250) ایک محدود تعداد اسلحہ جنگ کی کمی اور دشمن کے مقابلے میں بےسروسامانی کو محسوس کرتے ہوئے ان سرفروشوں نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے کہ الٰہی دشمن بہت طاقتور ہے اور ہم نہایت کمزور ہیں۔ اس کی طاقت کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ البتہ تیری ذات پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 250–251

فہم القرآن جب طالوت کے لشکر کا جالوت کے لشکروں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو جذبۂ ایمان سے سرشارمجاہد اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگے کہ بار الٰہا ! ہمیں حوصلہ، ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ عطا فرما ! سو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جناب داوٗد (علیہ السلام) نے کفار کے کمانڈر جالوت کو قتل کیا۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو بہت بڑی مملکت سونپتے ہوئے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہی داوٗد (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جو پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا علم وفضل عطا کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 250: وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ (جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے) یعنی ان سے لڑائی کرنے نکلے۔ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَاصَبْرًا (کہنے لگے اے ہمارے رب تو انڈیل ہم پر صبر) افراغ کا معنی انڈیلنا ہے صبر سے مراد لڑائی میں ثابت قدمی ہے۔ وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا (اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر) ہمارے دلوں کو مضبوط کر کے اور ہمارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال کر۔ وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (اور تو کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما) یعنی ہماری اعانت فرما۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 250۔: (آیت)” ولما بزوا “۔ طالوت اور اس کا لشرک یعنی ایمان والے ، (آیت)” لجالوت و جنودہ “۔ مشرکین کے لیے اور ” برزوا “ کا معنی ہے زمین کی کھلی جگہ پر نمودار ہوئے ، براز زمین کا وہ حصہ جو نمایاں ہو اور برابر ہو ۔ (آیت)” قالوا ربنا افرغ علینا “۔ اتار دے انڈیل دے (آیت)” صبراوثبت اقدامنا “۔ ہمارے دلوں کو قوی فرما۔ (آیت)” وانصرنا علی القوم الکافرین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 250–252

(250 ۔ 252) ۔ جب جالوت کے ایک بہت بڑے لشکر سے طالوت اور اصحاب طالوت کا مقابلہ ہوا اس وقت طالوت کے لشکر کے ایمان دار لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ صبر اور استقامت کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دشمن کے لشکر پر ان کو فتح دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور پھر حضرت شمویل کے انتقال کے بعد نبوت اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت سب کچھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا۔ اس کے بعد آیت میں ایک عادت الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض سرکشوں کی سرکشی اپنے بعض بندوں کے ذریعہ سے ہمیشہ اسی طرح رفع کرتارہتا ہے جس طرح جالوت کی سرکشی جو بڑا جابر مشہور تھا طالوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 249–252

جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو نکون ہے ؟ چناچہ فرمایا : (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔ “ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بےصبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے : (آیت) وَمَنْ لَّمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 250–256

قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔ نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

714 سچے اہل ایمان کا قابل تقلید نمونہ : کہ وہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسی سے دعا کرنے لگے۔ سو یہ طریقہ ہے مومن صادق کا، کہ وہ اپنے بس کی حد تک ضروری اسباب و وسائل تیار کرلے۔ اور مقدور کی حد تک ان سے کام بھی لے، مگر اصل بھروسہ اور اعتماد ان اسباب و وسائل پر نہیں، بلکہ ان اسباب کے خالق ومالک پر رکھے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ اور یہ سب چیزیں اسی کے حکم و فرمان کے تابع ہیں۔ پس جان بوجھ کر اسباب و وسائل سے منہ موڑنا، اور ان کو ترک کرنا بھی غلط ہے۔ اور اسباب ہی پر تکیہ کرنا، انہی کو سب کچھ سمجھ لینا اور مسبب الاسباب کی طرف رجوع نہ کرنا، اس سے بھی برا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 250–251

صبر و استقامت تشریح : اس آیت میں گزشتہ آیت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ جب طالوت کا لشکر جالوت کے مقابلہ میں آیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے فتح و کامیابی کی دعا کی کہ ” اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو صبر اور مضبوطی عطا کر، ہمارے قدم مضبوط کر دے، ہماری پوری مدد کر اور ہمیں کافروں کی قوم پر فتح نصیب کر۔ “ اللہ کی مدد کافروں پر فتح حاصل کرنے کے لئے مانگی گئی تھی اور بڑے خلوص اور اعتماد سے مانگی گئی تھی سو اللہ تعالیٰ نے قبول کی، ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے کافروں کو شکست دی واقعہ اس طرح ہوا کہ جب جالوت نے آکر مقابلہ کی دعوت دی تو کوئی بھی اس کے مقابلہ کی ہمت نہ کرسکا اس پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 249–253

آیات 249- 253 اسرارو معارف فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔ اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔ اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 250–251

ف 4 انہی تین سو تیرہ میں سے ایک حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے۔ اسرائیل روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں غلیل تھی جس سے انہوں نے یکے بعد دیگرے جالوت کو تین پتھر مارے جو اس کے ماتھے پر لگے اور وہ مرگیا۔ طالوت نے ان سے وعدہ کررکھا تھا کہا گر وہ جالوت کو قتل کردیں گے تو ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے گا اور سلطنت میں انہیں اپنا سہیم بنالے گا چناچہ طالوت نے اپنا وعدہ پورا کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت دادؤد کے متعلق فرمایا : اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلطنت دی، یعنی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) کے بعد نبوت (ابن کثیر) اور علمہ ممایشاء سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔ (معالم)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:250) برزوا۔ وہ لڑائی کے لئے نکلے۔ ماضی جمع مذکر غائب بروز (باب نصر) مصدر بمعنی کھلم کھلا ظاہر ہونا میدان جنگ میں صف سے مدمقابل سے لڑنے کے لئے نکلنے کو مبارزت کہتے ہیں۔ بروز۔ کی مختلف اقسام ہیں :۔ (1) بذاتہ کسی چیز کا خود ظاہر کرنا۔ جیسے وتری الارض باردۃ (18:47) اور تم دیکھے کہ زمین کھل گئی ۔ کیونکہ اس روز مکان اور مکین اور مکین سب مٹ جائینگے۔ اور زمین ازخود کھل جائے گی۔ اسی لئے میدان جنگ میں صف سے نکلنے کو مبارزت کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے لبرز الذین کرب علیہم القتل الی مضاجعم (3:154) تو جن کی تقدیر میں قتل لکھ دیا گیا ہے وہ تو اپنے مقتلوں کی کی طرف نکل کر ہی رہیں گے۔ (2) چھپی ہوئی چیز کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 246–251

لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251 الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 246 تا 251 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

طالوت کی جالوت سے جنگ اور طالوت کی فتح جب جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابل طلب کیا وہ اس کی قوت جسامت دیکھ کر گھبرائے کیونکہ وہ بڑا جابر، قوی، شہ زور اور قد آور تھا۔ طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا میں اسے اپنی بیٹی نکاح میں دوں گا اور نصف ملک اس کو دوں گا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا تو طالوت نے اپنے نبی حضرت شمویل (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ بار گاہ الہٰی میں دعا کریں۔ آپ نے دعا کی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جالوت کو قتل کریں گے۔ طالوت نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دوں اور نصف ملک پیش کروں۔ آپ نے قبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 245–250

[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اللہ سے طلب اعانت : (ف 2) اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ صرف مادی سازوسامان پر بھروسہ درست نہیں ، اللہ تعالیٰ کی اعانت خاص کا بھی متوقع رہنا چاہئے ، اس لئے کہ حالات کی تبدیلی اسی کے اختیار میں ہے ، وہ چاہئے تو ابرہہ کے لشکر جرار کو چھوٹی چھوٹی چڑیوں سے غارت کر دے اور غیب سے کچھ سامان پیدا کر دے جس کا کوئی مداوا نہ ہو سکے ۔ مومن و کافر کی ذہنیت میں یہی عظیم فرق ہے کافر ظاہری آلات حیات کو دیکھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور کسی دوسری چیز کی خواہش نہیں رکھتا ، مگر تمام ممکن تیاریوں کے بعد طالب نصرت رہتا ہے ۔ وہ ہر دم افراغ صبر اور ثابت قدمی کی دعائیں کرتا رہتا ہے اور جب ان مختلف ذہنیت رکھنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان جالوت اور اس کی فوجوں کے بالمقابل کھلے میدان میں نکل کر آئے تو حضرت حق کی جناب میں دعا کرنے لگے اور انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر و استقلال انڈیل دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ا س کا فرقوم پر ہم کو غالب کر اور ہماری مدد فرما ۔ براز زمین کے کھلے میدان کو کہتے ہیں اور جو چیز کھلے میدان میں ہوتی ہے وہ نمایاں اور ظاہر ہوتی ہے اس لئے بزار کا ترجمہ ظہور کرتے ہیں ظاہر ہوئے سامنے آئے۔ مطلب یہ ہے کہ میدان جنگ میں نکل کر سامنے آئے۔ افراغ کے معنی میں انڈیلنا ، اردو میں بولا کرتے ہیں ے۔ ساری مشک انڈیل دو ، صراحی میں جو کچھ ہے سب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اس دعا کی ترتیب بڑی پاکیزہ ہے کہ غلبہ کے لیے چونکہ ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے پہلے اس کی دعا کی اور ثابت قدمی کا مدار ثابت قلب پر ہے اس لیے اس سے پہلے ثبات قلب کی دعا کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میدان کار رزا میں جب فریقین نبرد آزما ہوئے : 419: میدان کار راز گرم ہوگیا فدائی لشکر طالوت کی معیت میں جالوت کے ساتھ نبرد آزما ہورہا ہے میدان جنگ میں جو کچھ ہوتا ہے سب ہورہا ہے تو طالوت کے ساتھیوں نے استقلال ، صبر و استقامت کی دعا کی اور فرمایا : رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا : اے ہمارے رب ! ہم صبر و ثبات کے پیاسوں پر صبر کے جام انڈیل دے اور ہمارے قدم میدان جنگ میں جمادے۔ ” وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ00250 “ اور منکرین حق کے گروہ پر ہم کو فتح نصیب فرما۔ غور کرو کہ اللہ کے لشکر کے سپاہیوں کو آداب جنگ کی تعلیم ہے کہ برخلاف عام دنیوی سپاہیوں کے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 249–251

Verse 249: قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ (He said: Allah is going to test you by a river). The wisdom behind this test, as perceived by this humble commentator, appears to be as follows. Not difficult to imagine is the excitement created on such occasions but there are not many who would stay firm in their hour of trial. And should such a time come, the weakness shown by such people becomes contagious making others panic as well. Allah Almighty willed that such people be pruned out. This purpose was accomplished by this test, which is very appropriate, because steadfastness is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 249–250

271. This may refer either to the river Jordan or to some other river or stream in that region. Saul wanted to take the Israelite army across the river. He was aware, however, that there was little moral discipline and restraint left in them. Hence he hit upon this device to distinguish the worthy from the worthyless. Those who could not endure thirst even for a short while, would not be expected to remain steadfast in their confrontation with an enemy at whose hands they had already taken a beating. 272. These were presumable the people who had shown their impatience on the bank of the…

Read the full tafseer →