نہر الشریعہ
اب واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ جب ان لوگوں نے طالوت کی بادشاہت تسلیم کرلی اور وہ انہیں لے کر جہاد کو چلے، حضرت سدی کے قول کے مطابق ان کی تعداد اسی ہزار تھی، راستے میں طالوت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ساتھ آزمانے والا ہے، حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان تھی اس کا نام نہر الشریعہ تھا، طالوت نے انہیں ہوشیار کردیا کہ کوئی اس نہر کا پانی نہ پیئے، اگر پی لے گا تو میرے ساتھ نہ چگے، ایک آدھ گھونٹ اگر کسی نے پی لی تو کچھ حرج نہیں، لیکن جب وہاں پہنچے پیاس کی شدت تھی، نہر پر جھک پڑے اور خوب پیٹ بھر کر پانی پی لیا مگر کچھ لوگ ایسے پختہ ایمان والے بھی تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–250
سورة الْبَقَرَة 271
ممکن ہے اس سے مراد دریائے اردن ہو یا کوئی اور ندی یا نالہ۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اس کے پار اترنا چاہتا تھا، مگر چونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی قوم کے اندر اخلاقی انضباط بہت کم رہ گیا ہے، اس لیے اس نے کار آمد اور ناکارہ لوگوں کو ممیز کرنے کے لیے یہ آزمائش تجویز کی۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ تھوڑی دیر کے لیے اپنی پیاس تک ضبط نہ کرسکیں، ان پر کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دشمن کے مقابلے میں پامردی دکھائیں گے جس سے پہلے ہی وہ شکست کھاچکے ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 272
غالباً یہ کہنے والے وہی لوگ ہوں گے، جنہوں نے دریا پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مظاہرہ کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–251
(3) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر…
Read the full tafseer →فَصَلَ فَصُوْلاً کے معنی کہیں سے چلنے، نکلنے اور روانہ ہونے کے لیں۔ یعنی طالوت اپنی فوجیں لے کر مہم پر روانہ ہوئے۔ تورات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہم فلسطیوں کے مقابلہ کے لیے تھی جن کا سردار جاتی جو لیت تھا، جس کا ذکر قرآن نے جالوت کے نام سے کیا ہے۔ اس جنگ میں طالور اور جالوت کی فوجوں کے ایک دوسرے کے بالمقابل فوج آرائی کی جو شکل بیان ہوئی ہے وہ بالکل اس شکل سے ملتی ہے جو ہمارے ہاں بدر کے موقع پر کفار اور مسلمانوں کے مابین پیش آئی۔ سموئیل میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔“ پھر فلستیوں نے جنگ کے لیے اپنی فوجیں جمع کیں اور یہوداہ کے شہر شو کہ میں فراہم ہوئے اور شو کہ اور عزیقہ کے درمیان افسدمی میں…
Read the full tafseer →249۔ 1 یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان ہے (ابن کثیر)
249۔ 2 اطاعت امیر ہر حال میں ضروری ہے تاہم دشمن سے معرکہ آرائی کے وقت تو اس کی اہمیت دو چند بلکہ صد چند ہوجاتی ہے دوسرے جنگ میں کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ فوجی اس دوران بھوک پیاس اور دیگر تکلیفات کو نہایت حوصلے سے برداشت کرے۔ چناچہ ان دونوں باتوں کی تربیت اور امتحان کے لئے طالوت نے کہا کہ نہر پر تمہاری پہلی آزمائش ہوگی لیکن تنبیہ کے باوجود اکثریت نے پانی پی لیا۔ اس طرح نہ پینے والوں کی تعداد 313 بتائی گئی ہے جو اصحاب بدر کی تعداد ہے۔ واللہ عالم۔
249۔ 3 ان اہل ایمان نے بھی ابتداء جب دشمن کی بڑی تعداد دیکھی تو اپنی قلیل تعداد کے پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–250
167: یہ دریائے اردن تھا اور یہ امتحان بظاہر یہ دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا کہ لشکر کے کتنے لوگ ہیں جو اپنے امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ رکھتے ہیں کہ اس پر اپنی خواہشات کو بھی قربان کردیں کیونکہ اس طرح کی جنگ میں ایسی مضبوط اطاعت کے بغیر کام نہیں چلتا۔
Read the full tafseer →یہاں پہلے قدم پر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کا انتخاب کیوں فرمایا تھا۔ وہ ایک سخت معرکہ سر کرنے جارہے تھے ، لیکن ان کے ساتھ جو فوج تھی وہ شکست خوردہ لوگوں پر مشتمل تھی ۔ یہ لوگ اپنی طویل تاریخ میں بار بار ہزیمت اٹھاچکے تھے ۔ اور بار بار ذلت اٹھانے کے خوگر ہوگئے تھے ۔۔ اور مقاتلہ ایک فاتح اور غالب قوم کی فوج کے ساتھ تھا ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اس ظاہریہ شان و شوکت والی فوج کے مقابلے میں ایک ایسی فوج لے کر جائیں جن کے ضمیر قوت ، پوشیدہ قوت سے بھرے ہوئے ہوں ، یہ پوشیدہ قوت ، قوت ارادہ ہی ہوسکتی ہے۔ اتنا پختہ ارادہ کہ وہ ہر خواہش اور ہر رجحان کو ضبط کرسکے ۔ وہ…
Read the full tafseer →1 ہوس سے طالوت کے ساتھ چلنے کو سب تیار ہوگئے طالوت نے کہہ دیا کہ جو کوئی جوان زور آور اور بےفکر ہو وہ چلے ایسے بھی اسّی (80) ہزار نکلے پھر طالوت نے ان کو آزمانا چاہا ایک منزل میں پانی نہ ملا دوسری منزل میں ایک نہر ملی طالوت نے حکم کردیا جو ایک چلو سے زیادہ پانی پیوے وہ میرے ساتھ نہ چلے صرف تین سو تیرہ ان کے ساتھ رہ گئے اور سب جدا ہوگئے جنہوں نے ایک چلّو سے زیادہ نہ پیا ان کی پیاس بجھی اور جنہوں نے زیادہ پیا ان کو اور پیاس زیادہ لگی اور آگے نہ چل سکے۔
Read the full tafseer →آیت 249 فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ لا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍج فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ج وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ اِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًم بِیَدِہٖج
اصل میں ہر کمانڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ سے پہلے اپنے ساتھیوں کے جوش و جذبہ اور عزم و حوصلہ ‘ morale کو پرکھے اور نظم ‘ discipline کی حالت کو دیکھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی غزوۂ بدر سے قبل مشاورت کی تھی کہ مسلمانو ! ایک طرف جنوب سے کیل کانٹے سے لیس ایک لشکر آ رہا ہے اور دوسری طرف شمال سے مال و اسباب سے لدا پھندا ایک قافلہ آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا…
Read the full tafseer →348 چناچہ بادشاہ طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کا ایک لشکر جرار جالوت کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوا۔ طالوتنے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس نے بزدلی دکھانا ہو وہ ہمارے ساتھ نہ نکلے۔ بنی اسرائیل زبانی باتوں میں بڑے دلیر تھے۔ چناچہ ان کی تعداد ستر ہزار ہوگئی راستہ میں ایک منزل پر پانی نہ ملا تو طالوت سے شکایت کی۔ طالوت نے کہا آگے ایک نہر آتو رہی ہے مگر تم لوگ اس میں سے سیر ہو کر پانی نہ پینا، صرف ایک آدھ گھونٹ پی لینا اور یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے۔ کہ اگر تم اپنی پیاس بھی برداشت نہ کرسکے تو لڑائی میں کیا کارنامے سر انجام دو گے ؟ لہذا میں تو صرف اس آدمی کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا جو اپنی پیاس…
Read the full tafseer →947 ۔ (اپنی ضبط فوج والوں سے) (آیت) ” فصل “ یعنی دشمن کے مقابلہ میں بڑھے۔
948 ۔ (صبروثبات، ضبط اور ڈسپلن میں) (آیت) ” نھر “ دریا سے یہاں مراد دریائے یردن Jorden ہے۔ یہ دریا بڑا نہیں، براہ راست لمبائی 65 میل کی ہے۔ البتہ اس کے خم وپیچ ملا کر کوئی 200 میل کی ہے۔ علاقہ فلسطین میں اہم ترین دریا یہی ہے، اور گویا ملک کی قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے۔ چناچہ یردن کے اس پار اور اس پار علاقوں کی تقسیم خود توریت میں درج ہے۔ (یوشع۔ 1: 14، 15) اس کا بہاؤ شمال میں سے جنوب کی جانب ہے۔ اور یہ بحر جلیل اور بحر طبریہ ہوتا ہوا بحرمردہ Dead Sea میں جا گرتا ہے۔ اس کا پانی شروع میں تو صاف شفاف، شیریں ہے، لیکن آگے چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
آیت نمبر 249 تا 252
ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب…
Read the full tafseer →فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ ( پھر جب طالوت فوجیں لے کر (شہر سے باہر) نکلا) فصل کے معنی اصل میں قطع کے ہیں اور یہ متعدی ہے یعنی اپنے آپ کو انہوں نے شہر سے الگ کرلیا۔ کثیر الاستعمال ہونے کی وجہ سے مفعول کو حذف کردیا۔ تو بمنزلہ فعل لازم کے ہوگیا یعنی ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف کوچ کرجانا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے تابوت کو دیکھا اور (اپنی مدد ہونے کا انہیں یقین ہوگیا تو پھر سب کے سب فوراً جہاد کے لیے کمر بستہ ہوگئے اس پر طالوت نے کہا کہ میرے ساتھ وہی آدمی چلیں جو جوان ‘ خوبصورت ‘ مجرد ہوں اس کہنے پر مقاتل کے قول کے مطابق ستّر ہزار جوان نکلے اور بعض کا قول ہے کہ اسّی ہزار تھے…
Read the full tafseer →(249) جب حضرت طالوت لشکر لے کر روانہ ہوئے تو انہیں چٹیل زمین سے واسطہ پڑا جہاں گرمی اور پیاس کی سخت شدت تھی، انہوں نے پانی مانگا، طالوت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک جاری نہر سے تمہیں آزمائے گا، سو جو شخص اس نہر سے زیادہ پانی پیئے گا وہ تو میرے ساتھ میرے دشمن کے مقابلے کے لیے نہیں جائے گا اور نہ اس نہر کو پار کرسکے گا
اور جو اس میں سے نہیں پیئے گا وہ میرے ساتھ ہوگا لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے، (آیت) ”غرفۃ“۔ غین کی زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس میں ایک چلو مراد ہوگا، جو ان کی پیاس اور ان کے جانوروں کے لیے کافی ہوجائے گا، چناچہ جب لوگ نہر پر پہنچے تو نہر تو نہر کے کنارے پر کھڑے ہو کر سب…
Read the full tafseer →فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ ”بِالْجُنُوْدِ“ (لشکروں) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد لڑنے کے لیے نکلی تھی۔ طالوت نے ان کی اطاعت، جفاکشی، بھوک پیاس اور میدان جنگ میں صبر کا امتحان لینا ضروری سمجھا، تاکہ صرف وہ شخص ساتھ جائے جس میں یہ صفات موجود ہوں، مگر اس امتحان میں تھوڑے سے لوگ کامیاب ہوئے، باقی نا کام ہوگئے۔ کامیاب ہونے والے نہر سے پار ہوئے تو دشمن کی تعداد دیکھ کر ان میں سے کچھ کمزور ایمان والے کہہ اٹھے کہ ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے کی طاقت نہیں، مگر پختہ ایمان والوں نے، جنھیں اللہ سے ملاقات کا یقین تھا، ان کی ہمت بندھائی کہ لڑائی میں قلت و کثرت…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 249
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما فصل طالوت بالجنود “۔ فصل کا معنی ہے جب وہ ان کے ساتھ نکلا فصلت انشیء فانفصل یعنی میں نے شے کو کاٹا پس وہ کٹ گئی۔
حضرت وہب بن منبہ ؓ نے کہا ہے : جب طالوت روانہ ہوا تو لشکریوں نے اسے کہا : بیشک ہم سے نہیں اٹھائے جاسکتے لہذا تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے نہرجاری کردے تو طالوت نے انہیں کہا : بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔
سدی کے قول کے مطابق فوجوں کی تعداد اسی ہزار تھی، اور حضرت وہب نے کہا ہے کوئی بھی اس سے پیچھے نہ رہا تھا سوائے اس کے جو صغر سنی یا کبر سنی یا مرض کی وجہ سے معذور تھا…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ طالوت کے ساتھ اسی ہزار آدمی نکلے اور جالوت انتہائی جنگجو تھا اور ان میں سخت لڑائی والا تھا وہ اپنے لشکر کے آگے چلتا تھا اس کے ساتھی اس کے پاس جمع ہوتے۔ تو مخالف شکست کھا جاتا تھا۔ جب یہ لوگ نکلے تو طالوت نے اپنے ساتھیوں سے کہا لفظ آیت ” فلما فصل طالوت بالجنود، قال ان اللہ مبتلیکم بنھر، فمن شرب منہ فلیس منی “ (اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعہ آزمانے والا ہے) تو ان لوگوں نے جالوت سے ڈرتے ہوئے اس میں سے پی لیا۔ تو ان میں سے چار ہزار نے (نہر کو) عبور کیا اور چھپتر ہزار واپس لوٹ گئے جس نے اس میں سے پی لیا وہ پیاسا ہوگیا اور جس نے اس میں سے…
Read the full tafseer →[ فَلَمَّا : پھر جب ] [فَصَلَ : دور ہوا (یعنی روانہ ہوا) ] [طَالُوْتُ : طالوت ] [بِالْجُنُوْدِ : لشکروں کے ساتھ ] [قَالَ : تو اس نے کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [مُبْتَلِیْکُمْ : تم لوگوں کو آزمانے والا ہے ] [بِنَہَرٍ : ایک نہر سے ] [فَمَنْ : پس جس نے ] [شَرِبَ : پیا ] [مِنْہُ : اس سے ] [فَلَیْسَ : تو وہ نہیں ہے ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [وَمَنْ : اور جس نے ] [لَّمْ یَطْعَمْہُ : چکھا ہی نہیں اس کو ] [فَاِنَّہٗ : تو بیشک وہ ہے ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [اِلاَّ : مگر یہ کہ ] [مَنِ : جس نے ] [اغْتَرَفَ : احتیاط سے بھرا ] [غُرْفَۃً : (صرف) ایک چلّو ] [بِیَدِہٖ : اپنے ہاتھ سے ] [فَشَرِبُوْا : پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–252
قصہ طالوت وجالوت۔
برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔
قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔
ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…
Read the full tafseer →486:۔ جس فوج کو طالوت لے کر دشمن کے مقابلہ میں نکلے تھے ان میں کچھ مخلص تھے مگر اکثریت ان لوگوں کی تھی جو اخلاص کی خوبیوں سے محروم تھے اور اتنی بڑی فوج جو ہزارہاں سپاہیوں پر مشتمل تھی اس میں منافقین بھی ہوں گے اس لیے ضروری تھا کہ منافقین اور مخلصین امتیاز کیا جائے اور میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی غیر مخلصین کو الگ کردیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی جنگ میں موجودگی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوا کرتی ہے اس لیے راستہ میں واقع ہونے والے ایک دریا کے ذریعے ان کا امتحان کیا گیا۔
487 یہ امتحان کی تفصیل ہے یعنی جو شخص اس میں سے پیٹ بھر کر پانی پی لے گا وہ میرے ساتھیوں اور رفیقوں میں سے نہیں ہے۔ اور وہ میرے…
Read the full tafseer →ربطہ آیات
گذشتہ درس میں طالوت کے بطور بادشاہ تقرر کا بیان آچکا ہے جب اللہ کے نبی نے بنی اسرائیل کی درخواست کے مطابق طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو انہوں نے اسے اپنا امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ کہنے لگے کہ یہ تو ایک غریب آدمی ہے اس کے پاس مال و دولت نہیں ہے ہم اسے اپنا بادشاہ کیسے تسلیم کرلیں۔ اس سے زیادہ تو بادشاہت کے ہم حقدار ہیں مگر اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو علم اور جسمانی طاقت سے نوازا ہے نیز یہ انتخاب اللہ تعالیٰ کا ہے جس کو چاہے بادشاہت دے دے۔ لہٰذا تمہیں اس پر معترض نہیں ہوناچاہئے۔ اللہ کے پیغمبر نے فرمایا کہ دیکھو طالوت کے تقرر کی ایک خاص نشانی یہ ہے کہ تمہارا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُـنُوْدِ 0 ۙ قَالَ اِنَّ اللہَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَہَرٍ 0 ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَيْسَ مِنِّىْ 0 ۚ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّىْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًۢ بِيَدِہٖ 0 ۚ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ 0 ۭ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَوَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ 0 ۙ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ 0 ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللہِ 0 ۙ كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِيْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيْرَۃًۢ بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ 249
لَمَّا
يستعمل علی وجهين…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 248–252
ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ لا قَالَ اِنَّ اللَّہَ مُبْتَلِیْـکُمْ بِنَہَرٍج فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ج وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّـہٗ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً م بِیَدِہٖ ج فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ ط فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَوَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ لا قَالُوْا لَاطَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ط قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰـقُوا اللُّہِ لا کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔
(پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر چلے تو انھوں نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : واقعہ طالوت و جالوت کی تفصیل جاری ہے۔
جناب طالوت قوم کے حالات اور عادات کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ پہلے ان کی آزمائش کرنا چاہیے تاکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی طاقت و صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اسی سے ٹریننگ اور فوجی مشقوں کا اصول نکلا ہے۔ جنا بِ طالوت نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے راستے میں ایک نہر آنے والی ہے اور وہ نہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے آزمائش ہوگی۔ جس نے نہر سے سیر ہو کر پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں ہوگا چلو بھر پانی پینا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جو نہی وہ نہر کے کنارے پہنچے تو چند لوگوں کو چھوڑ کر ان کی اکثریت نے خوب…
Read the full tafseer →249 : فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ (جب طالوت لشکر لے کر جدا ہوئے) فصلکا معنی خرج یعنی نکلنا ہے۔ یعنی جب نکلے اپنے اس شہر سے دشمن کے خلاف جہاد کے لئے۔
تعدادِ لشکر :
بالجنود کا لفظ موضع حال میں ہے یعنی لشکروں کو ساتھ لینے والے تھے۔ جن کی تعداد اسی ہزار تھی۔ یہ وقت گرمی کا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے پانی کی نہر جاری کر دے۔
قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ (انہوں نے کہا بیشک اللہ تمہارا امتحان کرنے والے ہیں) یعنی تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرنے والے ہیں جیسا امتحان لینے والا کرتا ہے۔
دریائے فلسطین :
بِنَہَرٍ (ایک دریا کے ساتھ) یہ دریائے فلسطین ہے۔ یہ ابتلاء اسی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 249۔:
(آیت)” فلما فصل طالوت بالجنود “۔ (طالوت) ان کو لے کر نکلا ، فصل کا اصل معنی قطع ہے یعنی اپنے ٹھکانہ کو قطع کیا (یعنی چھوڑا) اس حال میں کہ وہ اور جگہ کی طرف کوچ کرنے والا تھا پس طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلا اور وہ سترہزار لڑاکا جوان تھے اور بعض نے کہا ہے کہ اسی ہزار جوان تھے ان میں سے پیچھے کوئی نہ رہا مگر بوڑھا بڑھاپے کی وجہ سے اور مریض مرض کی وجہ سے یا پھر معذور اپنے عذر کی وجہ سے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے جب تابوت کو دیکھا تو نصرت خداوندی کا انہیں یقین ہوگیا، پس انہوں نے جہاد کی طرف جلدی کی ۔
پس طالوت نے کہا کہ میں جو کچھ یہ (بھیڑ) دیکھا رہاہوں ان سب کی ضرورت نہیں ۔…
Read the full tafseer →جب تابوت سکینہ طالوت کے پاس آگیا تو بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت کا پورا یقین ہوگیا کہ اس کی بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سب نے اس کی اطاعت اور فرماں برداری قبول کرلی اور تابوت سکینہ کے واپس آجانے کے سبب سے یہ بھی ان سب کو یقین ہوگیا کہ اب تابوت کی برکت سے ضرور ہم کو دشمن پر فتح ہوگی اس واسطے جس وقت طالوت نے لڑائی پر جانے کا قصد کیا تو اسی ہزار آدمی کے قریب کا لشکر اس کے ساتھ ہوا ایک منزل میں پانی نہ ملا گرمی کا موسم تھا پانی کے نہ ملنے سے لشکر میں بڑی پریشانی پھیل گئی دوسری منزل میں ایک نہر ملی اور نہر کے اس پار دشمن کی فوج مقابلہ کو تیار تھی طالوت نے یہ سمجھ کر کہ ایک دن کی پیاس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو نکون ہے ؟ چناچہ فرمایا : (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔ “ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بےصبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے : (آیت) وَمَنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 248–249
قول باری ہے (فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی لا من اغترف غرفۃ بیدہ، (a) جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ کلو کوئی پی لے تو پی لے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دریا سے پینے سے مراد منہ لگاکر اور اپنے ہونٹ پانی پر رکھ کر پنا ہے۔ اس لئے کہ آیت میں دریا سے پینے اور پیاس بجھانے کی ممانعت تھی۔ البتہ ایک آدھ چلو بھر لینے کی اجازت تھی۔
یہ تشریح امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔ ” میں نے اگر دریائے فرات سے پانی پی لیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ “ تو اسے منہ لگاکر پینے پر محمول کیا جائے گا۔ اگر…
Read the full tafseer →707 لشکر بنی اسرائیل کیلئے ایک آزمائش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب طالوت اپنے اس لشکر کے ساتھ روانہ ہونے لگے تو ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو آگے ایک نہر کے ذریعے تم لوگوں کی آزمائش ہونے والی ہے۔ تاکہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو سکے، اور سچے اور پختہ کار لوگ آزمائش کے اس مرحلے سے گزر کر دوسروں سے الگ ہوجائیں، اور خام اور ناقص لوگ ان سے الگ ہوجائیں، کیونکہ معرکہ جہاد و قتال میں ایسے پختہ کار اور سچے پکے مومن ہی ثابت قدمی دکھا سکتے ہیں جو اپنی خواہشات پر قابو پانے والے اور کنٹرول رکھنے والے ہوں۔ بہرکیف حضرت طالوت نے اپنی فوج کی وفاداری و اطاعت گزاری اور انکے ڈسپلن کی آزمائش کیلئے یہ اعلان کیا کہ…
Read the full tafseer →مجاہدین کی آزمائش
تشریح : اس آیت میں سب سے پہلے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا ذکر ہے کہ وہ جس کو چاہے عزت دے جیسا کہ طالوت کو بیٹھے بٹھائے بادشاہت مل گئی اور جسے چاہے فقیر کر دے یہ سب انسان کی قدرت سے باہر ہے۔ انسان کا کام ہے اللہ پر مکمل بھروسہ کرکے ہر نیک کام میں پوری کوشش کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
یہاں اس بات کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ طالوت نے اپنا لشکر لیا اور جالوت کے مقابلہ کے لئے چل پڑا۔ راستہ میں دریائے اردن (بیان کیا جاتا ہے) آتا تھا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کی تاکہ سچے اور جھوٹے سپاہیوں کی چھانٹی ہوجائے۔ ہوا اس طرح کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–253
آیات 249- 253
اسرارو معارف
فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔
اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔
اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…
Read the full tafseer →ف 1 اس نہر سے مراد دریائے اردن ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جس کی فلسطین میں بہت اہمیت ہے۔ مطلب یہ تھا کہ جو شخص جہاد کی راہ میں بھوک پیاس اور تکالیف برداست کرنے کی ہمت رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو یہ ہمت نہیں رکھتا وہ ابھی سے الگ ہوجائے۔2 اتنی تعداد جتنی غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تھی۔ یعنی تین سو تیرہ۔ حضرت براء کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر کے روز مسلمانوں کی تعداد اتنی تھی جتنی ان لوگوں کی جنہوں طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)3 بعض نے لکھا ہے کہ یہ کہنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے نہر پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مضاہرہ کردیا تھا…
Read the full tafseer →(2:249) فلما فصل طالوت بالجنود قال ان اللہ مبتلیکم بنھر۔
آیت سے قبل اور درمیان آیت بعض جگہ عبارت مقدرہ ہے۔ تقدیر کلام (بحوالہ تفسیر خازن) یوں ہے : فلما جاء ھم التابوت واقروا بالملک لطالوت تاھب للخروج الی الجھاد فاسرعوا لطاعتہ وخرجوا معہ وذلک قولہ تعالیٰ (فلما فصل طالوت بالجنود) ای خرج من بیت المقدس بالجنودوھم سبعون الفا و ذلک انھم لما رأو التابوت لم یشکروا فی النصر فسادعوا الی الخروج فی الجھاد وکان مسیرھم فی شدید فشکوا الی طالوت قلۃ الماء بینھم وبین عدوھم و قالوا ان المیاء لا تحملنا فادع اللہ ان یجری لنا نھراً و (قال) طالوت (ان اللہ مبتلیکم بنھر) یعنی جب تابوت ان کے پاس آپہنچا اور انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–251
لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251
الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 246 تا 251
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…
Read the full tafseer →” تابوت سکینہ “ طالوت کے پاس آگیا تو بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت کا پورا یقین ہوگیا اور سب نے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری قبول کرلی، اور سب کو یقین ہوگیا کہ اب اس تابوت کی برکت سے ضرور ہم کو دشمن پر فتح ہوگی۔ اس واسطے طالوت نے لڑائی پر جانے کا قصد کیا تو ستر ہزار آدمی کے قریب کا لشکر اس کے ہمراہ ہوا۔ ایک منزل میں پانی نہیں ملا۔ گرمی کا موسم تھا پریشانی پھیل گئی۔ دوسری منزل میں ایک نہر ملی اور نہر کے اس پر دشمن کی فوج مقابلہ کو تیار تھی۔ طالوت نے سمجھ کر کہ ایک دن کی پیاس کے بعد پیٹ بھر پانی پی جاویں گے تو بالکل کاہل ہوجاویں گے، لشکر میں حکم دے دیا کہ جو شخص پیٹ بھر کر پانی پئے وہ میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–250
[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔
Read the full tafseer →قلت کی فتح کثرت پر :
(ف 1) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل بالآخر قائل ہوگئے اور بجبر واکراہ طالوت کی امارت قبول کرلی ، وہ ان کو لے کر نکلا ، راستے میں اردن وفسطین کے درمیان ایک دریا پڑتا تھا ، آپ نے فرمایا دیکھو دریا سے سیر کر پانی پینا تمہارے لئے ممنوع ہے ۔ البتہ اگر چلو سے منہ تر کرلو تو مضائقہ نہیں مقصد ان کا امتحان لینا تھا کہ ان میں مجاہدانہ جفاکشی کی عادت بھی ہے یا نہیں اس امتحان میں چند آدمیوں کے سوا سب ناکام رہے ، آگے بڑھ کر جالوت کا لشکر جرار تھا ، یہ دیکھ کر گھبراگئے اور کہہ اٹھے کہ ہم میں تو جنگ کی ہمت نہیں سوا ان قلیل نفوس کے جن کے دلوں میں صحیح ایمان جاگزین تھا اور وہ…
Read the full tafseer →ف 3 پھر جب طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا اور وہ اپنے لشکر اور فوجوں کو لے کر بیت المقدس سے نکلا اور عمالقہ کی طرف چلا تو طالوت نے شمویل (علیہ السلام) نبی کو وحی کے موافق اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تم سب کی ایک نہر کے ذریعہ آزمائش کرنے والا ہے ، لہٰذا جو شخص اس میں سے سیر ہو کر پانی پئے گا وہ میرے ہمراہمیوں سے نہ ہوگا اور وہ مجھ سے نہ ہوگا اور جو شخص اس کے پانی کو بالکل نہیں چکھے گا اور اس پانی کو زبان پر بھی نہیں رکھے گا تو لاریب وہ میرے ہمراہ اور میرے دین ہوگا اور میرا مطیع سمجھا جائے گا ، مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ میں ایک چلوبھر لے تو اس قدر پانی کی رخصت ہے پھر سب نے نہر پر پہنچتے…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ راقم کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاوں بھی اکھاڑ دیتا ہے اللہ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا۔
Read the full tafseer →طالوت کا لشکر کے ساتھ میدان جنگ کی طرف جانا اور لشکر کی آزمائش کرنا :
416: سب سے پہلے ہم کو غور کرنا چاہئے کہ جہاں طالوت وجالوت میں لڑائی ہوئی تھی وہ کونسا مقام تھا ؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فلسطینی ایک مقام کوہ غریقاہ آفس و میم میں جمع ہوئے تھے اور بنی اسرائیل وادی ایلاہ میں۔ دونوں لشکروں کے درمیان دریائے شورق واقع تھا فلسطینی اس کے بائیں کنارے پر یعنی جانب جنوب تھے اور بنی اسرائیل اس کے دائیں کنارہ پر یعنی جانب شمال تھے اور یہیں سے بنی اسرائیل نے طالوت کی کمان میں دریا کو عبور کر کے فلسطینیوں پر حملہ کیا تھا پس قرآن کریم کے ان لفظوں کی کہ ” اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ “ جغرافیہ اور تایخ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–251
Verse 249: قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ (He said: Allah is going to test you by a
river).
The wisdom behind this test, as perceived by this humble commentator, appears to be as follows. Not difficult to imagine is the excitement created on such occasions but there are not many who would stay firm in their hour of trial. And should such a time come, the weakness shown by such people becomes contagious making others panic as well. Allah Almighty willed that such people be pruned out. This purpose was accomplished by this test, which is very appropriate, because steadfastness is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–250
271. This may refer either to the river Jordan or to some other river or stream in that region. Saul wanted to take the Israelite army across the river. He was aware, however, that there was little moral discipline and restraint left in them. Hence he hit upon this device to distinguish the worthy from the worthyless. Those who could not endure thirst even for a short while, would not be expected to remain steadfast in their confrontation with an enemy at whose hands they had already taken a beating.
272. These were presumable the people who had shown their impatience on the bank of the…
Read the full tafseer →