Al-Baqara 2:248

Al-Baqara · from ayah 248

2:248

وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟۠وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اٰيَةَ مُلۡکِهٖۤ اَنۡ يَّاۡتِيَکُمُ التَّابُوۡتُ فِيۡهِ سَکِيۡنَةٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوۡسٰى وَاٰلُ هٰرُوۡنَ تَحۡمِلُهُ الۡمَلٰٓئِكَةُ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And their prophet said to them, "Indeed, a sign of his kingship is that the chest will come to you in which is assurance from your Lord and a remnant of what the family of Moses and the family of Aaron had left, carried by the angels. Indeed in that is a sign for you, if you are believers."

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 32 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:248

اس کے ساتھ اُن کے نبی نے اُن کو یہ بھی بتایا کہ "خدا کی طرف سے اُس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا، جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے سکون قلب کا سامان ہے، جس میں آل موسیٰؑ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں، اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں اگر تم مومن ہو، تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ﻇاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وه صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر ﻻئیں گے۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان سے ان کے نبی نے یہ بھی کہا کہ : طالوت کی بادشاہت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (واپس) آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکینت کا سامان ہے، اور موسیٰ اور ہارون نے جو اشیاء چھوڑی تھیں ان میں سے کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے اگر تم مومن ہو تو تمہارے لیے اس میں بڑی نشانی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسی ٰ او ر معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا: اس کی سلطنت (کے مِن جانِبِ اﷲ ہونے) کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آئے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکونِ قلب کا سامان ہوگا اور کچھ آلِ موسٰی اور آلِ ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہوں گے اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہوگا، اگر تم ایمان والے ہو تو بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے نبی نے ان سے کہا بیشک اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک تسلی ہے اور اس میں سے چند باقی ماندہ چیزیں ہیں جو موسیٰ کی آل اور ہارون کی آل نے چھوڑا تھا، فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے، بیشک اس میں تمہارے لیے یقینا ایک نشانی ہے، اگر تم مومن ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ان کے نبی نے ان سے کہا : طالوت کی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ (اس کے عہد حکومت میں) تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکون قلب کا سامان ہے اور وہ باقی ماندہ اشیاء بھی ہیں جو آل موسیٰ اور آل ہارون نے چھوڑی تھیں۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھا لائیں گے۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو تو اس واقعہ میں بھی تمہارے لیے کافی نشانی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان تسکین اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ صندون کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے نبی نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آجائے گا جو تم سے چھین لیا گیا تھا اور جس میں تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے تمہارے رب کی جانب سے اور کچھ باقی ماندہ اشیاء ان چیزوں میں سے جن کو چھوڑا ہے آل موسیٰ اور آل ہارون نے اٹھا لائیں گے اس کو فرشتے بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم واقعی ایماندار ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان سے ان کے نبی نے کہا کہ اس کی امارت کا نشان یہ ہے۔ کہ تمہارے پاس وہ صندوق (از خو د) آجائے گا جس میں (سامان) تسکین تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں بھی جنہیں آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں۔ اس (صندوق) کو فرشتے لے آئیں گے۔ بیشک اس واقعہ میں تمہارے لئے ایک نشان ہے۔ اگر تم ایمان والے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ آل موسیٰ ؑ اور آل ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے یقیناً اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے، جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر تم مومن ہو تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Their Prophet further informed them, "The sign of his appointment as king from Allah is that during his reign you will get back the Ark, wherein are the means of your peace of mind from your Lord, and which contains the sacred relics of the family of Moses and Aaron, and which is being borne at this time by the angels. Herein is a great Sign for you, if you are true believers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their prophet said to them: :The sign of his kingship is that the Ark shall come to you, carried by the angels, having therein tranquillity from your Lord, and the remains of what the House of Musa and the House of Harun (Aaron) had left. Surely, in it there is a sign for you, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani

Their prophet said to them: :The sign of his kingship is that the Ark shall come to you, carried by the angels, having therein tranquillity from your Lord, and the remains of what the House of Musa and the House of Harun (Aaron) had left. Surely, in it there is a sign for you, if you are believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And their Prophet said to them: "Verily! The sign of His kingdom is that there shall come to you At-Tabut, wherein is Sakinah (peace and reassurance) from your Lord and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind, carried by the angels. Verily, in this is a sign for you if you are indeed believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And their Prophet said unto them: Lo! the token of his kingdom is that there shall come unto you the ark wherein is peace of reassurance from your Lord, and a remnant of that which the house of Moses and the house of Aaron left behind, the angels bearing it. Lo! herein shall be a token for you if (in truth) ye are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And their prophet said to them, "Indeed, a sign of his kingship is that the chest will come to you in which is assurance from your Lord and a remnant of what the family of Moses and the family of Aaron had left, carried by the angels. Indeed in that is a sign for you, if you are believers."

— Saheeh International

Their Prophet further told them, "As the evidence of his authority, he will bring to you the Ark which will be a comfort to you from your Lord and a legacy of the household of Moses and Aaron. It will be carried by the angels. This is the evidence for you if you have faith."

— Muhammad Sarwar

And the prophet said to them: Surely the sign of His kingdom is, that there shall come to you the chest in which there is tranquillity from your Lord and residue of the relics of what the children of Musa and the children of Haroun have left, the angels bearing it; most surely there is a sign in this for those who believe.

— Muhammad Habib Shakir

And their prophet said unto them: verily the sign of his dominion is that there shall come unto you the ark wherein is tranquillity from your Lord and the relic of that which the household of Musa and the household of Harun had left, the angels bearing it; verily, herein is a sign for you if ye are believers.

— Abdul Majid Daryabadi

And (further) their Prophet said to them: "A Sign of his authority is that there shall come to you the Ark of the covenant, with (an assurance) therein of security from your Lord, and the relics left by the family of Moses and the family of Aaron, carried by angels. In this is a symbol for you if ye indeed have faith."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:248

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

تابوت سکینہ اور جنگ طالوت و جالوت نبی فرما رہے ہی کہ طالوت کی بادشاہت کی پہلی علامت برکت یہ ہے کہ کھویا ہوا تابوت سکینہ انہیں پھر مل جائے گا، جس میں وقار و عزت دلجمعی اور جلالت رافت و رحمت ہے جس میں اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں تم بخوبی جانتے ہو، بعض کا قول ہے کہ سکینہ ایک سونے کا طشت تھا جس میں انبیاء کے دل دھوئے جاتے تھے جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور جس میں آپ نے توراۃ کی تختیاں رکھی تھیں، کسی نے کہا ہے اس کا منہ بھی تھا جیسے انسان کا منہ ہوتا ہے اور روح بھی تھی، ہاتھ بھی تھا، دو سر تھے، دو پر تھے اور دم بھی تھی، وہب کہتے ہیں مردہ بلی کا سر تھا جب وہ تابوت میں بولتا تو انہیں نصرت کا یقین ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 270 بائیبل کا بیان اس باب میں قرآن سے کسی حد تک مختلف ہے۔ تاہم اس سے اصل واقع کی تفصیلات پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صندوق، جسے بنی اسرائیل اصطلاحاً ”عہد کا صندوق“ کہتے تھے، ایک لڑائی کے موقع پر فلسطینی مشرکین نے بنی اسرائیل سے چھین لیا تھا، لیکن یہ مشرکین کے جس شہر اور جس بستی میں رکھا گیا، وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ آخر کار انہوں نے خوف کے مارے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر گاڑی کو ہانک دیا۔ غالباً اسی معاملے کی طرف قرآن ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت وہ صندوق فرشتوں کی حفاظت میں تھا، کیونکہ وہ گاڑی بغیر کسی گاڑی بان کے ہانک دی گئی تھی اور اللہ کے حکم سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 246–248

خلاصہ تفسیر ربط آیات مقصود اس مقام میں زیادہ ترغیب قتال کی ہے اوپر کا قصہ اسی کی تمہید ہے انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون اسی کی تائید ہے آگے طالوت و جالوت کا قصہ اسی کی تاکید ہے نیز اللہ تعالیٰ نے اس قصے میں قبض وبسط کا بھی مشاہدہ کرا دیا جس کا ذکر ماقبل کی آیت واللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُطُ میں آیا ہے کہ فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے باداشاہت چھین لینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔ طالوت اور جالوت کا قصہ (اے مخاطب) کیا تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ ؑ کے بعد ہوا ہے تحقیق نہیں ہوا (جس سے پہلے ان پر کافر جالوت غالب آچکا تھا اور ان کے کئی صوبے دبالئے تھے) جب کہ ان لوگوں نے اپنے ایک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

‘ تابوت ’ کی حقیقت :‘ تابوت ’ کے معنی صندوق کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد بنی اسرائیل کا وہ صندوق ہے جس کو تورات میں ‘ خدا کا صندوق ’ یا ‘ خدا کے عہد کا صندوق ’ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے زمانے سے لے کر بیت المقدس کی تعمیر تک اسی صندوق کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت حاصل رہی۔ وہ اس کو اپنے خیمہ عبادت میں ایک مخصوص مقام پر نہایت مخصوص اہتمام کے ساتھ پردوں کے بیچ میں رکھتے اور تمام دعا و عبادت میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے۔ ان کے رِبّی اور کاہن غیبی رہنمائی کے لیے بھی اسی کو مرجع بناتے۔ مشکل حالات، قومی مصائب اور جنگ کے میدانوں میں بھی بنی اسرائیل کا حوصلہ قائم رکھنے میں اس صندوق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

248۔ 1 صندوق یعنی تابوت جو توب سے ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے (فتح القدیر) اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ؑ کے تبرکات تھے یہ تابوت بھی ان کے دشمن چھین کرلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرشتوں کے ذریعے سے حضرت طالوت کے دروازے پر پہنچا دیا جسے دیکھ کر بنو اسرائیل خوش بھی ہوئے اور اسے طالوت کی بادشاہی کے لئے منجانب اللہ نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ان کے لئے ایک اعجاز (آیت) اور فتح و سکینت کا سبب قرار دیا سکینت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت کا ایسا نزول ہے جو وہ اپنے خاص بندوں پر نازل فرماتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

166: جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ ماننے سے انکار کیا اور ان کے بادشاہ مقرر ہونے پر کوئی نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سموئیل ؑ سے کہلوایا کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ اشدودی قوم کے لوگ جو متبرک صندوق اٹھا کرلے گئے تھے ان کے زمانے میں، اللہ کے فرشتے وہ صندوق تمہارے پاس اٹھا کرلے آئیں گے، اسرائیلی روایات کے مطابق اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اشدودیوں نے وہ صندوق ایک مندر میں لے جاکر رکھا مگر اس کے بعد وہ طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا شروع ہوگئے، کبھی ان کے بت اوندھے پڑے ہوئے ملتے، کبھی گلٹیوں کی وبا پھیل جاتی، کبھی چوہوں کی کثرت پریشان کرتی، آخر کار ان کے نجومیوں نے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تیہ کی سرگردانی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے زمانہ مابعد میں اس دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت ہوشع نبی تھے ۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان پر حملہ کیا ۔ ان سے ان کا علاقہ بھی چھین لیا اور وہ تبرکات بھی چھین لئے جو ان کے پاس ایک بکس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے خاندانوں سے محفوظ چلے آرہے تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس بکس میں تورات کا وہ نسخہ بھی محفوظ تھا ، جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نبی وقت نے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علامت قراردیا کہ یہ معجزہ تمہارے سامنے رونما ہوگا۔ یہ بکس تمہارے پاس لوٹ آئے گا ۔ فرشتے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیائے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کہا کہ وہ کافر جہاں صندوق رکھتے وہیں وبا اور بلا آتی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کی اور موسم نہایت گرم تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 248 وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ہٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلآءِکَۃُ ط طالوت کی امارت اور بادشاہی کی علامت کے طور پر وہ صندوق تمہارے پاس واپس آجائے گا۔ اصل میں یہ تابوت سکینہ لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تھا ‘ جس میں بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہ السلام کے تبرکات محفوظ تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صندوق اب بھی مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ میں موجود ہے۔ انہوں نے بعض ذرائع سے فوٹو لے کر اس کی دستاویزی فلم بھی دکھا دی ہے۔ یہ تابوت سکینہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

346 اس صندوق کو بنی اسرائیل عہد کا صندوق کہتے تھے جس میں آل موسیٰ و ہارون کے تبرکات رکھے ہوئے تھے۔ مثلاً پتھر کی وہ تختیاں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو عطا کی تھیں اور تورات کا وہ اصل نسخہ جسے موسیٰ (علیہ السلام) نے خود لکھوایا تھا اور ایک بوتل میں من تھا جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا رہا۔ نیز اس میں وہ عصائے موسیٰ بھی تھا جو سانپ بن جاتا تھا۔ یہ کچھ تھا بنی اسرائیل کے سکون قلب کا سامان جو اس صندوق میں محفوظ تھا اور یہ ہر وقت ان کے پاس رہتا تھا اور جب دشمن سے جنگ ہوتی تو اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی وساطت سے فتح و نصرت کی دعا کرتے۔ ایک لڑائی کے موقعہ پر مشرک بادشاہ جالوت نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

942 ۔ (یا وہ غیبی تصرف جو تمہارے اطمینان کا کام دے سکے) کچھ عجب نہیں جو بنی اسرائیل نے اپنی قدیم اعجوبہ پرستی کی بنا پر طالوت کے لیے کسی غیبی نشان کا مطالبہ اپنے پیغمبر سے کیا ہو، اور وہ اس کے جواب میں بہ ایماء الہی یہ فرما رہے ہوں۔ 943 ۔ (درآنحالیکہ تم مدت دراز سے اپنی اس متاع عزیز سے محروم ہو) (آیت) ” یاتیکم “ یعنی از خود بغیر کسی خاص جدوجہد کے آجائے (آیت) ” التابوت “ اس خاص صنددق کا اصطلاحی نام تابوت سکینہ ہے۔ یہ بنی اسرائیل کا اہم ترین ملی وقومی ورثہ تھا۔ اس کے اندر اصل نسخہ توریت مع تبرکات انبیاء محفوظ تھا۔ اسرائیلی اس کو انتہائی برکت و تقدیس کی چیز سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ برتاؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ آیَۃَ مُلْکِہِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ ۔ (الآیۃ) تابوت، جو توب سے مشتق ہے، تاء مجرورہ زائدہ ہے جیسے ملکوت میں، اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لئے اس کو تابوت کہا گیا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) ۔ اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے تبرکات تھے، اس تابوت کو ان کے دشمن عمالقہ چھین کرلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعہ حضرت طالوت کے دروازہ پر پہنچا دیا جسے دیکھ کر بنی اسرائیل بہت خوش ہوئے اور من جانب اللہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ ( اور ان کے نبی نے ان سے کہا) یعنی جبکہ انہوں نے طالوت کے برگزیدہ ہونے کی ان سے نشانی مانگی۔ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖٓ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ (بےشک طالوت کے بادشاہ ہونے کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس ایک تابوت آئے گا) تابوت بروزن فعولست توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں اور اسے تابوت اس لیے کہتے تھے کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر اسی میں چلی جاتی تھی۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد صندوق ہے جو شمشماد کی لکڑی کا تھا اور اس پر سنہر اکام تھا تین ہاتھ کے قریب لمبا اور دو ہاتھ چوڑا تھا یہ روایت ابن منذر نے وہب بن منبہ سے نقل کی ہے۔ اور بعض کا قول یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(248) شموئیل ؑ نے فرمایا ان کی بادشاہت اللہ کی طرف سے ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ صندوق جو تم سے لیا گیا تھا تمہارے پاس آجائے گا اس میں رحمت اور طمانیت ہوگی اور سکینہ کے معنی نصرت اور مدد کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں یعنی اس میں اس قسم کی زردی ہوگی جیسے انسان کی صورت ہوتی ہے، اور اس میں کچھ چیزیں بھی ہوں گی جن کو حضرت موسیٰ ؑ چھوڑ گئے یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب اور الواح (تختیاں) اور ان کا عصا اور جو ہارون ؑ چھوڑ گئے ہیں جیسے ان کی چادر اور اس کا صافہ (پگڑی) اس صندوق کو تمہارے پاس فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور صندوق کو تمہارے پاس لوٹائے جانے میں اس بات کی اور نشانی ہوگی کہ طالوت کی بادشاہت اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ۔۔ : بنی اسرائیل کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اور طالوت کی بادشاہت پر یقین میں اضافے کے لیے نبی نے طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے کی ایک نشانی بیان فرمائی کہ وہ تابوت (جو دشمن تم سے چھین کرلے گیا تھا) جس کے ہوتے ہوئے تمہیں (دشمن کے مقابلے کے وقت) سکون و اطمینان حاصل رہتا تھا اور جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کی چند باقی ماندہ چیزیں تھیں، وہ تابوت تمہارے پاس آجائے گا، جسے فرشتے اٹھا لائیں گے۔ چناچہ اس تابوت (صندوق) کے آجانے سے بنی اسرائیل کے حوصلے بلند ہوگئے اور وہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 248۔ (آیت) ” وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکی ان یاتیکم التابوت “۔ یہ بمعنی اتیان التابوت ہے، یعنی تابوت کا آنا ان کی بادشاہی کی نشانی ہے اور تابوت (صندوق) کے بارے جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) پر نازل فرمایا (اتار) اور وہ آپ کے پاس رہا، یہاں تک کہ (وراثۃ) چلتے چلتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچ گیا بنی اسرائیل اس کی برکت سے ان پر غالب آتے تھے جو کوئی ان سے جنگ لڑتے حتی کہ بنی اسرائیل نافرمان ہوگئے تو ان سے تابوت چھین لیا گیا اور عمالقہ نے اسے چھینا تھا، سدی کے قول کے مطابق وہ جالوت اور اس کے ساتھی تھے اور انہوں نے ان سے تابوت چھین لیا۔ ،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن المنذر نے زہری سے زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے تھے کہ مجھ کو عثمان بن عفان ؓ نے حکم فرمایا کہ اس کے لئے ایک صحف لکھ دے۔ پھر فرمایا میں تیرے ساتھ ایک فصیح زبان والا آدمی بھی لگا دوں گا تم دونوں اس کام پر اکٹھے جاؤ اور اس کو لکھ دو اور اس میں جو تم اختلاف کرو تو اس کو میرے پاس لے آؤ۔ حضرت زید نے فرمایا میں ” التابوہ “ کہتا ہوں اور ایان بن سعید نے فرمایا ” التابوت “ ہم اس کو حضرت عثمان کے پاس لے گئے تو انہوں نے فرمایا ” التابوت “ لکھو چناچہ ” التابوت “ لکھ دیا گیا۔ (2) سعید بن منصور، عبد بن حمید نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالَ : اور کہا ] [لَہُمْ : ان سے ] [نَبِیُّہُمْ : ان کے نبی نے ] [اِنَّ : بیشک ] [اٰیَۃَ مُلْکِہٖ : اس کی بادشاہت کی نشانی ہے ] [اَنْ : کہ ] [یَّاْتِیَکُمُ : آئے گا تمہارے پاس ] [التَّابُوْتُ : تابوت ] [فِیْہِ : اس میں ] [سَکِیْنَۃٌ : اطمینان ہے ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی جانب) سے ] [وَبَـقِیَّۃٌ : اور باقی ماندہ ہے ] [مِّمَّا : اس میں سے جو ] [تَرَکَ : چھوڑا ] [اٰلُ مُوْسٰی : موسٰی (علیہ السلام) کے پیروکاروں نے ] [وَاٰلُ ہٰرُوْنَ : اور ہارون (علیہ السلام) کے پیروکاروں نے ] [تَحْمِلُہُ : اٹھائے ہوئے ہوں گے اس کو ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتے ] [اِنَّ : بیشک ] [فِیْ ذٰلِکَ : اس میں ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 247–248

بنی اسرائیل کا ایک واقعہ اور طالوت کی بادشاہت کا ذکر ان آیات کریمہ میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پورا واقعہ پارہ کے ختم کے قریب تک بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے لیے جہاں تذکیر نعمت ہے وہاں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والتحیۃ کے لیے بھی بہت سی عبرتیں ہیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعدانہی کی قوم میں سے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو یکے بعد دیگرے آتے رہے، حضرت یوشع، حضرت شمعون، شمویل اور حضرت کالب بن یوقنا اور حضرت حزقیل ( علیہ السلام) کے اسماء گرامی لکھے ہیں۔ یہ حضرات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی تبلیغ اور توریت کے مضامین بیان فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 246–252

قصہ طالوت وجالوت۔ برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔ قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔ ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

485 جب اسرائیلیوں نے طالوت کی امارت پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تو حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے حکم الٰہی سے اعلان فرمایا کہ طالوت کے من جانب اللہ امیر ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تابوت سکینہ جو کبھی تمہارے پاس تھا مگر فلسطینی اسے تم سے چھین کرلے گئے تھے جس میں تمہارے لیے اطمینان قلب کا سامان ہے اور اس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کے باقی ماندہ تبرکات ہیں وہ تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ جب سے فلسطینی وہ تابوت چھین کرلے گئے وہ چین سے نہ بیٹھے کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخرتنگ آکر اس صندوق کو بیل گاڑی پر لادا اور اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرشتوں کو متعین کردیا جو بیلوں کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 247–248

ربطہ آیات گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ وہ مغلوب ہوگئے دشمن نے ان کے بہت سے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ ان کے بچوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیا۔ انہوں نے نبی وقت حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیں۔ جس کی سرکردگی میں ہم دشمن سے جنگ کرکے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے سکیں اور اپنے گھروں کو لوٹ سکیں نیز اپنے مردوں اور عورتوں کو دشمن کی غلامی سے نجات دلائیں ان کے نبی نے فرمایا کہ دیکھنا کہیں اپنے وعدے سے پھر نہ جانا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہم آپ کی طرف سے مقرر کیے گئے بادشاہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ لَہُمْ نَبِيُّہُمْ اِنَّ اٰيَۃَ مُلْكِہٖٓ اَنْ يَّاْتِــيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْہِ سَكِيْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّۃٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ۝ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 248 ۧ تابوت التَّابُوت فيما بيننا معروف، أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ [ البقرة/ 248] ، قيل : کان شيئا منحوتا من الخشب فيه حكمة . وقیل : عبارة عن القلب، والسکينة عمّا فيه من العلم، وسمّي القلب سفط العلم، وبیت الحکمة، وتابوته، ووعاء ه، وصندوقه، وعلی هذا قيل : اجعل سرّك في وعاء غير سرب . وعلی تسمیته بالتابوت قال عمر لابن مسعود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 248–252

ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 247–248

وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَـکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَـہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْـکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ط وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْـکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّـکُمْ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُـہٗ الْمَلٰٓئِکَۃُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 247–248

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ وہی ہوا جس کا پیغمبر نے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جب سرداران قوم کے مطالبہ پر جناب طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کردیا گیا تو بنی اسرائیل حسب عادت بہانے تراشتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ بن جائے ؟ جب کہ اس کے پاس مال واسباب کی فراوانی نہیں۔ پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی اور علمی صلاحیتوں سے تم پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں اطمینان نہ ہوا انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ اس کے سربراہ ہونے کی کوئی نشانی ہونی چاہیے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 248 : وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ ٰایَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ (ان کو ان کے پیغمبر ( علیہ السلام) نے کہا بیشک اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت تمہارے پاس آجائے گا) یعنی وہ صندوق جس میں تورات تھی جب موسیٰ ( علیہ السلام) قتال کرتے اس کو آگے رکھتے بنی اسرائیل کے نفوس کو اس سے سکون حاصل رہتا۔ اور وہ فرار اختیار نہ کرتے۔ صندوق سکینہ : فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اس میں سکینہ ہے تمہارے رب کی طرف سے) سکون و اطمینان ہے وَبَقِیَّۃٌ۔ (بقیہ چیزیں) یعنی الواح کے ٹکڑے۔ عصائے موسیٰ ٗ ثیاب موسیٰ ٗ کچھ تورات۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کے نعل اور عمامہ ہارون ( علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 248۔: تابوت کا واقعہ : (آیت)” وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یتیکم التابوت “۔ اور تابوت (صندوق) کا قصہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تابوت نازل کیا جس میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی صورتیں تھیں اور یہ شمشاد (درخت) کی لکڑی کا تھا تین گز اور دو گز (ذراع سے مراد عربی گز ہے جو قریبا ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے پس وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس رہا) یہاں تک کہ حضرت آدم (علیہ السلام) فوت ہوگئے ، اس کے بعد حضرت شیث (علیہ السلام) کے پاس تھا پھر اولاد آدم کو وراثۃ منتقل ہوا ۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تھا ، اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

بنی اسرائیل میں ایک صندوق موروثی طور پر آتا تھا جس میں حضرت موسیٰ اور ہارون کے وقت کی چیزیں تبرک کی تھیں لڑائی کے وقت اس صندوق کو سب لشکر کے آگے لے چلنے سے تمام لشکر میں ایک طرح کی دل جمعی اور اس دل جمعی کے سبب سے ایک ہمت اور جرأت پیدا ہوجاتی تھی جس سے لشکری لوگ دل کھول کر دشمن سے لڑتے تھے اور فتح یاب ہوتے تھے اسی واسطے اس صندوق کا نام تابوت سکینہ رکھ گیا تھا تھا سکینہ کے معنی دل جمعی اور اطمینان کے ہیں بنی اسرائیل کے اعمال کی شامت سے تابوت سکینہ ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا حضرت شمویل نے بنی اسرائیل کو یہ جو سمجھا یا تھا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے اس کی علامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ عام طور پر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غور و فکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا :: (آیت) ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ” کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجیے تاہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ “ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 248–249

قول باری ہے (فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی لا من اغترف غرفۃ بیدہ، (a) جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ کلو کوئی پی لے تو پی لے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دریا سے پینے سے مراد منہ لگاکر اور اپنے ہونٹ پانی پر رکھ کر پنا ہے۔ اس لئے کہ آیت میں دریا سے پینے اور پیاس بجھانے کی ممانعت تھی۔ البتہ ایک آدھ چلو بھر لینے کی اجازت تھی۔ یہ تشریح امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔ ” میں نے اگر دریائے فرات سے پانی پی لیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ “ تو اسے منہ لگاکر پینے پر محمول کیا جائے گا۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 247–248

700 بادشاہی کے خاندانی حقدار ہونے کا دعویٰ : سو انہوں نے اپنے پیغمبر کے انتخاب پر اعتراض کرتے ہوئے کہ طالوت ہمارا امیر اور حاکم کس طرح بن سکتا ہے جبکہ ہم اس کے مقابلے میں حکومت و بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں۔ ہمارا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔ کیونکہ ہم لوگ یہودا کی اولاد میں سے ہیں جس میں بادشاہت ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ تو ہم تو بادشاہی کا موروثی حق رکھتے ہیں۔ تو پھر ہم پر طالوت بادشاہ کس طرح ہوسکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں خاندانی اور موروثی طور پر ہم بادشاہی کا حق رکھتے ہیں۔ سو انہوں نے وہی کیا جس کا خدشہ انکے پیغمبر نے ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے اول تو اپنے اس امیر کی امارت اور اس کی تعیین ہی پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

تابوت سکینہ تشریح : حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل پر بادشاہ مقرر کردیا اور ان کو یقین اور اطمینان دلانے کے لئے ان کو بتایا کہ وہ مبارک صندوق جو جالوت تم سے چھین کرلے گیا ہے۔ وہ طالوت کے زمانے میں تمہیں واپس مل جائے گا اور یہ ایک بڑی نشانی ہے طالوت کے اچھے بادشاہ ہونے کی۔ وہ مبارک صندوق کیا تھا اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اس میں تورات کا اصل نسخہ اور بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے تبرکات موجود تھے۔ بنی اسرائیل اس کو بےحد عزیز اور فتح کا نشان سمجھتے تھے وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ بلکہ لڑائی کے وقت اس کو آگے آگے رکھتے اس خیال سے کہ اس کی برکت سے فتح حاصل ہوجائے گی۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 243–248

آیات 243- 248 اسرارو معارف الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 مفسرین کے بیان کے مطابق یہ تابوت سکینتہ ایک صندوق تھا جو بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) زمانے سے چلا آرہا تھا اور اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) اودسرے انبیاء کے کچھ متبرک آثار (بقیی) تھے۔ بنی اسرائیل اپنی لڑائیوں میں اسے آگے آگے رکھتے اور اسے دیکھ کر حوصلہ اور ہمت محسوس کرتے تھے مگر ان کی بد اعمالیوں کے باعث ان کے دشمن یہ تابوت ان سے چھین کرلے گئے تھے۔ انہوں نے اسے اپنے معبد میں بت کے نیچے رکھ دیا تھا اس وجہ سے ان میں وبا پھوٹ پڑی اور تقریبا پانچ شہر ویران ہوگئے۔ چناچہ انہوں نے اسے منحوس سمجھ کر اور رات کو بیل گاڑی پر رکھ کر بنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:248) ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت۔ ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل ایۃ مضاف۔ ملکہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ان۔ تحقیق اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت (از خود) تمہارے پاس آجائے گا۔ تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لئے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی (تفسیر مظہری) اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔ فیہ سکینۃ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو تابوت ہے یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہوجائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 246–251

لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251 الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 246 تا 251 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت داؤد (علیہ السلام) اور جالوت کا واقعہ بنی اسرائیل میں ایک صندوق مورثی چلا آتا تھا جس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کے وقت کی چیزیں تبرکاً تھیں، لڑائی کے وقت اس صندوق کو سب لشکر کے آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا تھا اس واسطے اس صندوق کا نام ” تابوت سکینہ “ رکھا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے اعمال کی شامت سے تابوت سکینہ ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو یہ جو سمجھایا تھا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے اس کی علامت انہوں نے یہ بتلائی کہ :” تابوت سکینہ “ بغیر لڑائی کے خود بخود طالوت کے پاس آجاوے گا۔ اگر تم اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 245–250

[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

تابوت بنی اسرائیل : (ف 2) اس کے حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا طالوت (علیہ السلام) کی اہلیت امارت کو ثابت کرنے کے لئے کیا یہ کافی نہیں کہ وہ تابوت جو تم سے عمالقہ بزور چھین کرلے گئے ہیں وہ واپس لے آئے ۔ اس تابوت میں انبیاء سابقہ کے وصایا وہدایات تھیں اور وہ بنی اسرائیل کے لئے طمانیت و سکون کا روحانی سامان تھا ، حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا ، یہ تابوت واپس آجائے گا ، اگر تم نے جناب طالوت (علیہ السلام) کا ساتھ دیا تو (آیت) ” تحملہ الملئکۃ “ کے معنی یا تو یہ ہیں کہ فرشتے اس تابوت کو بطور اعجاز وتائید کھینچ کرلے آئیں گے اور یا جیسا کہ بائیبل میں لکھا ہے ، اس تابوت پر فرشتوں کی تصویریں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور ان کے نبی حضرت شمویل نے ان سے کہا کہ طالوت کے من جانب اللہ بادشاہ مقرر ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق بلا کسی سعی کے آجائے گا جس میں تمہارے رب کی جانب سے سکون و طمانیت اور برکت کا سامان ہے اور کچھ وہ بقیہ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) چھوڑ گئے تھے۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔ بلا شبہ اس صندوق کے آجانے میں تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے بشرطیکہ تم یقین کرنے والے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو۔ ( تیسیر) بنی اسرائیل میں اوپر کے لوگوں سے ایک صندوق چلا آتا تھا ان کا خیال اس کے متعلق یہ تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ صندوق اترا تھا ۔ بہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اس صندوق میں تبرکات تھے جالوت جب بنی اسرائیل پر غالب آیا تھا یہ صندوق بھی لے گیا تھا جب اللہ کو اس صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ سامان کیا کہ جہاں اس صندوق کو رکھتے وہاں سخت بلائیں نازل ہوتیں آخر ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس کو لاد کر بیلوں کو ہانک دیا فرشتے اس کو ہانک کر یہاں پہنچا گئے جس سے بنی اسرائیل کو بڑی خوشی ہوئی اور طالوت بادشاہ مسلم ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

415: ” التَّابُوْتُ “ کے معنی تو صندوق کے ہیں جو مشہور و معروف ہیں اسے ” توب “ سے مشتق کہا گیا ہے۔ چونکہ چیزیں یعنی کپڑے وغیرہ اس میں لوٹ لوٹ کر یعنی تہہ لگا کر رکھے جاتے ہیں اسی نسبت سے اس کو تابوت کہتے ہیں۔ ” تابوت “ کے معنی دل کے بھی ہیں جس کو عربی زبان میں ” قلب “ کہتے ہیں اور مثل مشہور ہے کہ : ” ما اودعت تابوتی شیئا فقدتہ “ میں نے اپنے دل کے سپرد کبھی کوئی شے نہیں کی جسے اس نے گم کردیا ہو۔ لغت کی تمام کتابوں میں تابوت کو دل بتایا گیا ہے جیسے لسان العرب اور مفردات امام راغب وغیرہ۔ اس جگہ ” تابوت “ دل مراد لے کر بھی معنی بیان کئے جاسکتے ہیں اور آیت قرآنی کے سارے الفاظ اس کے موید ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 246–248

Commentary 1. Verse 246: إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (When they said to a prophet of theirs: "Send us a king so that we may fight in the way of Allah)." These people from the Bani Isra'il had abandoned the injunctions given by Allah Almighty. When the infidel Amalekites were made to rule over them, they began thinking about correcting the situation. The name of the prophet mentioned here is Samuel (Arabic: Hebrew: Shemuel). Verse 248: The story of Talut and Jalut The Bani Isra'il used to have the legacy of a wooden chest (also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

270. The Biblical version of this incident is different from the Qur'anic one. The former sheds light, however, on certain details of the incident. It shows that during a military engagement the pagan Philistines had captured the 'Ark of the covenant'. Terrified of the scourge and pestilence which spread wherever they carried the Ark, these pagans placed it on a cart driven by milk cows, and sent it off. (1 Samuel 5-6 - Ed.) Perhaps the Qur'an alludes to this when it mentions angels, since the cart was driverless and it was the angels who kept it in their custody and brought it to the…

Read the full tafseer →