خوئے بدرا بہانہ بسیار
مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے کسی کو اپنا بادشاہ بنا دینے کی خواہش اپنے پیغمبر سے کی تو پیغمبر نے بحکم الہ حضرت طالوت کو پیش کیا جو شاہی خاندان سے نہ تھے، ایک لشکری تھے، شاہی خاندان یہود کی اولاد تھی اور یہ ان میں سے نہ تھے تو قوم نے اعتراض کیا کہ حقدار بادشاہت کے تو اس سے بہت زیادہ ہم ہیں پھر دوسری بات یہ کہ اس کے پاس مال بھی نہیں، مفلس شخص ہے، بعض کہتے ہیں یہ سقے تھے کسی نے کہا یہ دباغ تھے، پس پہلی سرکشی تو اعتراض کی صورت میں احکام نبوی کے سامنے ان سے یہ ہوئی، پیغمبر نے انہیں جواب دیا کہ یہ تعین میری رائے سے نہیں جس میں میں دوبارہ غور کرسکوں، یہ تو اللہ جل شانہ کا حکم ہے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَ 269
بائیبل میں اس کا نام ساؤل لکھا ہے۔ یہ قبیلہ بن یمین کا ایک تیس سالہ نوجوان تھا۔ ”بنی اسرائیل میں اس سے خوبصورت کوئی شخص نہ تھا اور ایسا قد آور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے۔“ اپنے باپ کے گمشدہ گدھے ڈھونڈنے نکلا تھا۔ راستے میں جب سموئیل نبی کی قیام گاہ کے قریب پہنچا، تو اللہ تعالیٰ نے نبی کو اشارہ کیا کہ یہی شخص ہے جس کو ہم نے بنی اسرائیل کی بادشاہی کے لیے منتخب کیا ہے۔ چناچہ سموئیل نبی اسے اپنے گھر لائے، تیل کی کپی لے کر اس کے سر پر انڈیلی اور اسے چوما اور کہا کہ ”خداوند نے تجھے مسح کیا تاکہ تو اس کی میراث کا پیشوا ہو۔“ اس کے بعد انہوں نے بنی اسرائیل کا اجتماع عام کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–248
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
مقصود اس مقام میں زیادہ ترغیب قتال کی ہے اوپر کا قصہ اسی کی تمہید ہے انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون اسی کی تائید ہے آگے طالوت و جالوت کا قصہ اسی کی تاکید ہے نیز اللہ تعالیٰ نے اس قصے میں قبض وبسط کا بھی مشاہدہ کرا دیا جس کا ذکر ماقبل کی آیت واللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُطُ میں آیا ہے کہ فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے باداشاہت چھین لینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔
طالوت اور جالوت کا قصہ
(اے مخاطب) کیا تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ ؑ کے بعد ہوا ہے تحقیق نہیں ہوا (جس سے پہلے ان پر کافر جالوت غالب آچکا تھا اور ان کے کئی صوبے دبالئے تھے) جب کہ ان لوگوں نے اپنے ایک…
Read the full tafseer →لفظ ‘ بعد ’ کا مفہوم :‘ بعث ’ کے معنی اتھانے، ابھارنے، بھیجنے کے ہیں پھر اسی مفہوم سے اس کے اندر مامور کرنے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ چونکہ اس سارہ کا انتخاب سموئیل نے خدا کی ہدایت کے مطابق کیا تھا، جیسا کہ تورات سے بھی ثابت ہے اور قرآن کے الفاظ ‘ اصطفہ علیکم ’ سے بھی واضح ہے، اس وجہ سے اس کے لیے بعث کا لفظ استعمال ہوا۔
طالوت اور ساؤل :“ طالوت ”یہ اس مامور کا نام ہے۔ تورات میں ان کا نام ساؤل آیا ہے۔ اور ان کے غیر معمولی طور پر قد آور ہونے کا ذکر خاص طور پر ہوا ہے۔“ اور جب وہ لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا تو ایسا قد آور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے۔ کچھ بعید نہیں کہ اپنے اس غیر معمولی قد و قامت کی…
Read the full tafseer →247۔ 1 حضرت طالوت اس نسل سے نہیں تھے جس سے بنی اسرائیل کے باشاہوں کا سلسلہ چلا آرہا تھا یہ غریب اور ایک عام فوجی تھے جس پر انہوں نے اعتراض کیا پیغمبر نے کہا یہ میرا انتخاب نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں مقرر کیا ہے علاوہ ازیں قیادت کے لئے مال سے زیادہ عقل وعلم اور جسمانی قوت و طاقت کی ضرورت ہے اور طالوت اس میں تم سب میں ممتاز ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس منصب کے لئے چن لیا ہے چناچہ اگلی آیت میں ایک اور نشانی کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–247
165: یہاں نبی سے مراد حضرت سموئیل ؑ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد پیغمبر بنائے گئے تھے، سورة مائدہ (5: 24) میں مذکور ہے کہ فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو ان عمالقہ سے جہاد کرنے کی دعوت دی تھی جو بنی اسرائیل کے وطن فلسطین پر قابض ہوگئے تھے مگر بنی اسرائیل نے انکار کردیا، جس کی سزاء میں انہیں صحرائے سینا میں محصور کردیا گیا اور اسی حالت میں حضرت موسیٰ ؑ کی وفات ہوگئی، بعد میں حضرت یوشع ؑ کی قیادت میں فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا، حضرت یوشع ؑ آخر عمر تک ان کی نگرانی کرتے رہے اور ان کے معاملات کے تصفیے کے لئے قاضی مقررکئے، تقریباً تین سو سال تک…
Read the full tafseer →اس بحث و تکرار اور سوال و جواب سے بنی اسرائیل کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے ، جس کا تذکرہ اس سورت میں بارہا ہوا ہے ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر ہو ، جس کی قیادت میں رہ کر ، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کریں ، لیکن بادشاہ کے تقرر کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے سرجھکالئے ، گردنیں پھیرلیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہ کی تقرری اور نبی کی جانب سے اس کی اطلاع پر اس معاملے میں بحث و تکرار میں مشغول ہوگئے ۔ طالوت کی بادشاہت پر ناک بھنویں چڑھانے لگے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ طالوت کے مقابلے میں اپنے آپ کو موروثی طور پر زیادہ مستحق رکھتے ہیں ۔ طالوت ایک تو شاہی خاندان سے نہ…
Read the full tafseer →2 طالوت کی قوم میں آگے سے سلطنت نہ تھی غریب محنتی آدمی تھے ان (بنی اسرائیل) کی نظر میں سلطنت کے قابل نظر نہ آئے، اور بوجہ مال و دولت اپنے آپ کو سلطنت کے لائق خیال کیا، نبی نے فرمایا کہ سلطنت کسی کا حق نہیں اور سلطنت کی بڑی لیاقت ہے عقل اور بدن میں زیادتی اور وسعت ہونی جس میں طالوت تم سے افضل ہے۔
فائدہ : بنی اسرائیل نے جب یہ سنا تو پھر کہا پیغمبر سے کہ اس کے سوا کوئی اور دلیل بھی ان کی بادشاہت پر دکھلا دو تاکہ ہمارے دل میں کوئی اشتباہ نہ رہے نبی نے دعا کی جناب الہٰی میں اور طالوت کی سلطنت کی دوسری نشانی بیان فرما دی گئی۔
Read the full tafseer →آیت 247 وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط۔
ان کا نام تورات میں ساؤل Saul آیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اصل نام ساؤل ہو ‘ لیکن چونکہ وہ بہت قد آور تھے اس لیے ان کا ایک صفاتی نام یا لقب طالوت ہو۔ طالوت کے معنی لمبے تڑنگے کے ہیں۔
قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا
وَنَحْنُ اَحَقُّ بالْمُلْکِ مِنْہُ
وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط۔
وہ تو مفلس ہے ‘ اسے تو اللہ تعالیٰ نے زیادہ دولت بھی نہیں دی ہے۔ کیونکہ ان کے معیارات یہی تھے کہ جو دولت مند ہے وہی صاحب عزت ہے۔
قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٹہُ عَلَیْکُمْ ۔
یہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ‘…
Read the full tafseer →345 چناچہ بنی اسرائیل کے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا جو ایک تیس سالہ جوان، خوبصورت اور قد آور شخص تھا۔ اس پر کئی لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ طالوت کے پاس نہ مال و دولت اور نہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، بھلا یہ ہمارا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے ؟ اس سے تو ہم ہی اچھے اور بادشاہت کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ قیادت کے لیے مال و دولت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ طالوت میں موجود ہیں اور تم سے بہت زیادہ ہیں۔ لہذا تمہیں فضول قسم کی کٹ حجتیوں سے باز آنا چاہیے۔
Read the full tafseer →936 ۔ طالوت بن کش تاریخ میں قوم اسرائیل کے پہلے بادشاہ تسلیم کیے گئے ہیں۔ زمانہ حکومت 1028 ق۔ م تا 10 12 ق۔ م یہ وہی ہیں جن کا ذکر توریت میں ساؤل Saul کے نام سے آیا ہے۔ توریت میں ان کی نصب حکومت کا ذکر حسب دستور طوالت کے ساتھ موجود ہے :۔ ” اور خداوند نے ساؤل کے آنے سے ایک دن پیشتر سموئیل کے کان میں کہہ دیا تھا کہ کل اسی وقت میں ایک شخص کو بنیمین کی سرزمین سے تجھ پاس بھیجوں گا۔ سو تو اس پر تیل ملیو کہ وہ میری قوم اسرائیل کا حاکم ہوتا کہ میرے لوگوں کو فلسطیوں کے ہاتھ سے چھڑائے۔ سو جب سموئیل ساؤل سے دوچار ہوا تو وہیں خداوند نے کہا کہ دیکھ یہی شخص ہے جس کی بابت میں نے تجھے کہا تھا یہی میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–247
اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاءِ ، مَلاء، کسی قوم کے ان اشراف اور اہل حل و عقد کو کہا جاتا ہے جو خاص مشیر اور قائد ہوتے ہیں جن کے دیکھنے سے آنکھیں اور دل رعب سے بھر جاتے ہیں، مَلَا، کے لغوی معنی بھرنے کے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) ۔ جس پیغمبر کا یہاں ذکر ہے ان کا نام شمویل بتلایا جاتا ہے، ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ بعد تک تو ٹھیک رہے پھر ان میں انحراف آگیا دین میں بدعات ایجاد کرلیں حتیٰ کہ بتوں کی پوجا شروع کردی، انبیاء ان کو روکتے رہے، لیکن یہ معصیت اور شرک سے باز نہ آئے جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل پر عمالقہ غالب آگئے…
Read the full tafseer →وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ( اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے ( اور چونکہ بنی اسرائیل میں نبوت کے خاندان میں سے لادی بن یعقوب کی اولاد چلی آتی تھی اور شاہی خاندان میں سے یہود کی اولاد تھی اور طالوت بنیا میں کی اولاد میں سے ایک فقیر آدمی تھے اس لیے۔
قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ (انہوں نے کہا کہ اس کی سلطنت ہم پر کہاں سے ہوسکتی ہے حالانکہ سلطنت کے تو اس سے ہم زیادہ مستحق ہیں (کیونکہ ہم شاہی خاندان میں…
Read the full tafseer →(247) اور شموئیل ؑ نے ان کا کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بنایا ہے، وہ کہنے لگے ان کو ہم پر حق حکمرانی کیسے حاصل ہوسکتا ہے، وہ شاہی خاندان سے نہیں ہے، اس کی نسبت ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں کیوں کہ ہم شاہی خاندان سے ہیں اور وہ اتنا سرمایہ دار بھی نہیں ہے کہ وہ فوج پر خرچ کرسکے، شموئیل ؑ نے فرمایا کہ بادشاہت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انتخاب کیا ہے ان کو جنگ وسیاست میں بڑائی حاصل ہے اور جسمانی طور پر بھی قوت میں وہ تم سے زیادہ ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت دنیا میں جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اگر وہ شاہی خاندان سے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ وسعت دینے والا ہے اور یہ بات بھی جانتے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ۭ: ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ یہاں غور کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طالوت کا نام بتادیا، آگے چل کر داؤد ؑ کا نام اور دشمنوں کے سردار جالوت کا نام بھی بتادیا، مگر اس نبی کا نام نہیں بتایا۔ یقیناً اس میں کوئی حکمت ہے، جو بظاہر یہ ہے کہ نبی کوئی بھی ہو واجب الاطاعت ہوتا ہے، اس کا نام مشہور ہو یا نہ ہو۔ اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ ہم اس نبی کے نام کی تعیین کا تکلف نہ کریں۔
قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا : طالوت کو بادشاہ مقرر کرنے پر سرداروں نے دو اعتراض کیے، ایک تو یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 247۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقال لھم نبیھم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا “۔ یعنی تم نے جو اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا کو قبول کرلیا ہے اور طالوت پانی پلاتے تھے بعض نے کہا : وہ چمڑا رنگنے کا کام کرتے تھے اور بعض نے کہا ہے : وہ اجرت پر کام کرتے تھے اور عالم بھی تھے پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہی بلند کردیا جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ وہ حضرت بنیامین کے قبلے سے تھے اور وہ نہ تو نبوت کے قبیلے سے تھے اور نہ ہی بادشاہت کے قبیلے سے اور نبوت بنی لاوی میں تھی اور بادشاہت یہودا کے قبیلے میں تھی، سو اسی وجہ سے انہوں نے انکار کیا۔
حضرت وہب بن منبہ نے کہا ہے : جب بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–247
بنی اسرائیل کی جہاد سے روگردانی
(1) ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے اپنے نوجوان حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنی اسرائیل پر بنایا یوشع بن نون ان میں اللہ کی کتاب تورات اور اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) کی سنت کو لے کر چلتے رہے۔ پھر جب یوسع بن نون کی وفات ہونے لگی تو انہوں نے ان کے درمیان دوسرے آدمی کو خلیفہ بنا دیا۔ وہ آدمی ان میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) کی سنت کو لے کر چلتا رہا پھر (اس کے بعد) اور آدمی…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [لَہُمْ : ان سے ] [نَبِیُّہُمْ : ان کے نبی نے ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ] [قَدْ بَعَثَ : مقرر کیا ہے ] [لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [طَالُوْتَ : طالوت کو ] [مَلِکًا : بادشاہ ] [قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگی ] [لَہُ : اس کے لیے ] [الْمُلْکُ : بادشاہت ] [عَلَیْنَا : ہم پر ] [وَ : حالانکہ ] [نَحْنُ : ہم ] [اَحَقُّ : زیادہ حق دار ہیں ] [بِالْمُلْکِ : بادشاہت کے ] [مِنْہُ : اس سے ] [وَلَمْ یُؤْتَ : اور اس کو دی ہی نہیں گئی ] [سَعَۃً : کوئی وسعت ] [مِّنَ الْمَالِ : مال میں سے ] [قَالَ : (نبی نے) کہا ] [اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ نے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 247–248
بنی اسرائیل کا ایک واقعہ اور طالوت کی بادشاہت کا ذکر
ان آیات کریمہ میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پورا واقعہ پارہ کے ختم کے قریب تک بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے لیے جہاں تذکیر نعمت ہے وہاں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والتحیۃ کے لیے بھی بہت سی عبرتیں ہیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعدانہی کی قوم میں سے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو یکے بعد دیگرے آتے رہے، حضرت یوشع، حضرت شمعون، شمویل اور حضرت کالب بن یوقنا اور حضرت حزقیل ( علیہ السلام) کے اسماء گرامی لکھے ہیں۔ یہ حضرات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی تبلیغ اور توریت کے مضامین بیان فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–252
قصہ طالوت وجالوت۔
برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔
قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔
ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…
Read the full tafseer →482 ۔ یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یہاں سے اس واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے اس حکم سے روگردانی کی۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کے سامنے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا امیر لشکر مقرر کیا ہے لہذا تم اس کی اطاعت کرو اور متحد ہو کر اس کی کمان میں جہاد کرو۔483 حضرت شموئیل (علیہ السلام) کا یہ اعلان سنتے ہی دولت مند اسرائیلی بول اٹھے اور تعجب اور حیرت سے کہنے لگے کہ طالوت جو ایک غریب اور مفلس آدمی ہے اسے ہم پر امارت اور ریاست کا کس طرح حق حاصل ہوسکتا ہے جبکہ ہم میں دولت مند اور اہل ثروت قوم میں موجود ہیں۔ نیز طالوت نہ تو سبط نبوت یعنی لاوی بن یعقوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 247–248
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ وہ مغلوب ہوگئے دشمن نے ان کے بہت سے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ ان کے بچوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیا۔ انہوں نے نبی وقت حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیں۔ جس کی سرکردگی میں ہم دشمن سے جنگ کرکے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے سکیں اور اپنے گھروں کو لوٹ سکیں نیز اپنے مردوں اور عورتوں کو دشمن کی غلامی سے نجات دلائیں ان کے نبی نے فرمایا کہ دیکھنا کہیں اپنے وعدے سے پھر نہ جانا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہم آپ کی طرف سے مقرر کیے گئے بادشاہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ لَہُمْ نَبِيُّہُمْ اِنَّ اللہَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا 0 ۭ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَہُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْہُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ 0 ۭ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ 0 ۭ وَاللہُ يُؤْتِيْ مُلْكَہٗ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 247
طلت
طَالُوتٌ اسمٌ أعجميٌّ.
أنى
أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف .
( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے…
Read the full tafseer →1 ؎ سۃ کی اصل وسعۃ بفتح واو ہے اور حق اس کا کسرہ ہے لیکن چونکہ مستقبل میں حذف کیا گیا مصدر میں بھی حذف ہوا اور مستقبل میں اصل کسرہ تھا لیکن حرف حلق کی رعایت سے فتح دیا گیا ورنہ وعدیعدعدۃ کے طور پر کسر کا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 247–248
وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَـکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَـہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْـکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ط وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْـکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّـکُمْ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُـہٗ الْمَلٰٓئِکَۃُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 247–248
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
وہی ہوا جس کا پیغمبر نے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جب سرداران قوم کے مطالبہ پر جناب طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کردیا گیا تو بنی اسرائیل حسب عادت بہانے تراشتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ بن جائے ؟ جب کہ اس کے پاس مال واسباب کی فراوانی نہیں۔ پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی اور علمی صلاحیتوں سے تم پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔
لیکن اس کے باوجود انہیں اطمینان نہ ہوا انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ اس کے سربراہ ہونے کی کوئی نشانی ہونی چاہیے۔…
Read the full tafseer →247 : وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ ان کے پیغمبر ( علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے طالوت کو مقرر فرمایا ہے۔ نحو : طالوت یہ جالوت کی طرح عجمی نام ہے اور اسی طرح دائود بھی یہ غیر منصرف ہیں علمیت کی وجہ سے اور عجمہ ہونے کی بناء پر مَلِکًا۔ (ایک بادشاہ) یہ حال ہے۔
قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا (انہوں نے کہا کیسے ہوگی اس کو سربراہی ہم پر) یعنی کیسے ؟ اور کہاں سے ؟ اس میں طالوت کی سپہ سالاری کا انکار اور اس پر اظہار بعد ہے کہ یہ بہت دور کی بات ہے۔
وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ (ہم اس سے زیادہ سربراہی کے حقدار…
Read the full tafseer →(تفسیر) 247۔:
(آیت)” وقال لھم نبیھم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا “۔ اور یہ اس طرح کہ حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لیے بادشاہ بھیجے ، پس اس کو ایک عصا دیا گیا جس میں مقدس تیل تھا اور اسے کہا گیا کہ تمہارا بادشاہ وہ ہوگا جس کا قد اس عصا کے برابر ہوگا اور اس سینگ کو دیکھنا جس میں تیل ہے پس جب وہ (بادشاہ ہونے والا) آدمی تجھ پر داخل ہوگا تو یہ تیل سینگ والا جوش مارے گا حرکت کرے گا پس وہ بنواسرائیل کا بادشاہ ہے پس یہ تیل اس کے سر کو لگانا اور اس کو ان پر بادشاہ مقرر کردینا ۔
طالوت کا نام اور وجہ تسمیہ :
طالوت کا عبرانی نام ساول بن قیس تھا جو کہ بنیامین بن یعقوب کی…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی بادشاہی سبط یہود میں چلی آتی تھی طالوت اس خاندان میں کا نہیں تھا ایک فوجی سبط بن یامین کا تھا اور کچھ مال دار بھی نہ تھا اس لئے جب حضرت شمویل نے بادشاہی کے لئے طالوت کا نام لیا تو بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور اپنے آپ کو ہر ایک خاندان کے لوگوں نے بادشاہی کا مستحق بتلایا کس لئے کہ طالوت بن یامین کے خاندان میں سے تھا یہ اور یہ خاندان بنی اسرائیل کے سب خاندانوں میں گھٹیا کہلاتا تھا۔ حضرت شمویل نے ان کے اعتراض کا جواب دیا کہ بادشاہی کے لئے طالوت کا انتخاب میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ انتخاب ہوا ہے اس لئے کہ طالوت بہ نسبت تم لوگوں کے عقل اور قدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–247
چناچہ فرمایا : (آیت) مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ” ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے ؟ “ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ” اچھا “ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصود محض رضائے الٰہی ہو۔ : (آیت) فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭ” پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔ “ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–247
قول باری ہے (ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا قالوا انی یکون لہ الملک علینا، (a) بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ کہنے لگے کہ ہم پر اسے کس طرح حکومت حاصل ہوسکتی ہے) آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ امامت میں وراثت نہیں ہے کیونکہ جب یہود نے اپنے اوپر ایسے شخص کو بادشاہ بنائے جانے کو ناپسند کیا جو اہل نبوت اور سلطنت میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ طالوت علم اور قوت کی بنا پر اس اعزاز کے مستحق ٹھہرے ہیں نسب کی بنا پر نہیں۔
نیز آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ علم اور ذاتی فضائل کے مقابلے میں نسب کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ خوبیاں نسب پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 247–248
700 بادشاہی کے خاندانی حقدار ہونے کا دعویٰ : سو انہوں نے اپنے پیغمبر کے انتخاب پر اعتراض کرتے ہوئے کہ طالوت ہمارا امیر اور حاکم کس طرح بن سکتا ہے جبکہ ہم اس کے مقابلے میں حکومت و بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں۔ ہمارا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔ کیونکہ ہم لوگ یہودا کی اولاد میں سے ہیں جس میں بادشاہت ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ تو ہم تو بادشاہی کا موروثی حق رکھتے ہیں۔ تو پھر ہم پر طالوت بادشاہ کس طرح ہوسکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں خاندانی اور موروثی طور پر ہم بادشاہی کا حق رکھتے ہیں۔ سو انہوں نے وہی کیا جس کا خدشہ انکے پیغمبر نے ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے اول تو اپنے اس امیر کی امارت اور اس کی تعیین ہی پر…
Read the full tafseer →سپہ سالار کی خصوصیات
تشریح : اس آیت میں طالوت کا ذکر ہے۔ طالوت ایک تیس سالہ نوجوان تھے ان کا زمانہ 1028 قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ قبیلہ بن یا میں کے ایک معمولی خاندان سے انکا تعلق تھا جو کہ مالی لحاظ سے بہت کمزور تھا مگر ذہنی، علمی اور جسمانی لحاظ سے وہ بہت ہی مضبوط تھے۔ یہودیوں نے اپنی نالائقی کے سبب پھر نکتہ چینی شروع کردی کہ یہ تو غریب آدمی ہے ہم پر یہ بادشاہ کیسے بن سکتا ہے۔ یہ قصہ بھی قرآن پاک میں اسی لئے بیان کیا گیا ہے کہ سرداری اور حکومت کرنے کے لئے مالدار ہونا ضروری نہیں، بلکہ عقل و فہم اور صحت زیادہ ضروری ہے۔ پھر نبی نے ان کو سمجھایا کہ حکومت اور سرداری کے لئے اللہ کے نزدیک مالدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–248
آیات 243- 248
اسرارو معارف
الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →ف 1 بایئبل میں اس نبی کا نام سموئیل (شموئیل) لکھا ہے جن کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تقریبا ایک ہزار سال بیشتر کا ہے۔ قدیم مفسرین نے اس واقعہ کی تفصیل میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کچھ عرصہ تو بنی اسرائیل کا کام ٹھیک چلتا رہا پھر ان میں بدعات نے راہ پالی حتی کہ بعض لوگ بتوں کی پوجا کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا۔ جنہوں نے جالوگ بادشاہ کی سردکردگی میں ان کے بہت سے علاقے چھین لیے اور لاتعداد افراد کو غلام بنا لیا وہ لوگ بھاگ کر بیت المقد میں جمع ہوئے اور اپنے نبی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے…
Read the full tafseer →(2:247) وقال لہم نبی ہم۔ یعنی جب بنی اسرائیل کی اس استدعا ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ (آپ ہمارے لئے ایک سردار مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جماد کریں) پر حضرت سموئیل نے اللہ سے دعا کی اور دعا کی قبولیت پر اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا سردار مقرر فرمایا تو حضرت سموئیل نے ان سے کہا وقال لہم ۔۔
قد بعث لکم۔ قد ماضی پر داخل ہوکر ماضی قریب کے معنی دیتا ہے (اللہ تعالیٰ نے) مقرر کیا ہے۔
طالوت۔ بوجہ معرفہ و عجمیت کے غیر منصرف ہے اور مثل داؤد۔ و۔ جالوت کے ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ الطول سے عربی لفظ ہے اور اس کی اصل طولوت مثل رھبوت ورحموت ہے۔ واؤ کو الف سے بدلا۔ اس کا غیر منصرف ہونا بوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–251
لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251
الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 246 تا 251
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…
Read the full tafseer →طالوت کی قوم میں پہلے سلطنت نہ تھی اور کچھ مال دار بھی نہ تھے۔ اس لئے جب حضرت شمویل (علیہ السلام) نے بادشاہی کے لئے طالوت کا نام لیا تو بنی اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور اپنے خاندان کے لوگوں کو مستحق بتلایا اور کہا کہ طالوت بن یا مین کے خاندان میں سے تھا جو سب سے گھٹیا خاندان کہلاتا تھا۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کہ بادشاہی کے لئے طالوت کا انتخاب میں نے اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ انتخاب ہوا ہے “ کہ جو قد وقامت کا ایک پیمانہ اپنے نبی کو بتلایا تھا وہ طالوت کے قد کے برابر نکلا۔ آخر کو اللہ کے نبی نے قطع حجت کے لئے یہ بھی فرما دیا کہ سب اللہ کے اختیار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–250
[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔
Read the full tafseer →معیار امارت :
(ف 1) جناب طالوت (علیہ السلام) کو حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے امیر مقرر کردیا اور بنی اسرائیل سے کہا ، تمہارا مطالبہ پورا ہوا ۔ اب جہاد کے لئے تیار ہوجاؤ تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ طالوت کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ، اعتراض یہ تھا کہ طالوت (علیہ السلام) کے پاس مال و دولت کے ڈھیر نہیں اور وہ سرمایہ دار نہیں آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اللہ کی اجازت سے کیا ہے اور وہ قوت وعلم میں تم سب پر فائق ہے ، جس کے معنی یہ ہیں کہ معیار امارت نسل ونسب کا امتیاز نہیں اور نہ دولت وسرمایہ کی فراوانی بلکہ علم وقوت ہے ، جو زیادہ عالم ، زیادہ بہادر اور جسور ہے ، وہی امارت کا اہل ہے ۔
Read the full tafseer →ف 1 اور ان لوگوں سے جو بادشاہ کا مطالبہ کر رہے تھے ان کے پیغمبر حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت (علیہ السلام) کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے اس پر وہ کہنے لگے کہ طالوت کو ہم پر حکومت اور حکمرانی کا حق کیسے مل سکتا ہے حالانکہ اس کے مقابلہ میں ہم حکومت و حکمرانی کے زیادہ مستحق اور حق دار ہیں اور اس کو تو کچھ مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی۔ یہ سن کر ان کے پیغمبر نے جواب دیا کہ اول تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلے میں اس کو پسند اور منتخب فرمایا ہے اور پھر اس کی سیاسی امور اور جنگی فنون کا علم وسیع پیمانے پر دیا اور اس کے ظاہری جسم اور قدر و قامت کے پھیلائو میں اس کو زیادتی…
Read the full tafseer →ف 3۔ بادشاہ ہونے کے لیے اس علم کی ضرورت زیادہ ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی مناسب ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میں وقعت وہیبت پیدا ہو۔
Read the full tafseer →فوجی سپہ سالار یعنی کمانڈر انچیف کیسا ہونا چاہیے ؟
413: بنی اسرائیل کی درخواست پر ان کے وقت کے نبی سموئیل نے طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا اور یہ تقرر اللہ کے ایک نبی سموئیل کا کیا ہوا تھا جو اس نے اللہ کے حکم سے مقرر کیا تھا۔ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے سرداروں اور مالداروں کا خیال تھا کہ حکومت و فرمانروائی اور فوجوں کی امارت کے لیے وجہ انتخاب صرف دولت ہی ہو سکتی ہے پھر ان کو اپنی فراخی اور فارغ البالی پر ناز تھا ، وہ طالوت جیسے مفلس و غریب شخص کو اپنا امیر کیسے دیکھ سکتے تھے ، اس لیے اعتراض شروع کردیئے۔ نبی نے کہا کہ امارت کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے :
! : علم تاکہ ملک کا نظم و نسق قائم رکھ سکے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–248
Commentary
1. Verse 246: إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (When they said to a prophet of theirs: "Send us a king so that we may fight in the way of Allah)."
These people from the Bani Isra'il had abandoned the injunctions given by Allah Almighty. When the infidel Amalekites were made to rule over them, they began thinking about correcting the situation. The name of the prophet mentioned here is Samuel (Arabic: Hebrew: Shemuel).
Verse 248: The story of Talut and Jalut
The Bani Isra'il used to have the legacy of a wooden chest (also…
Read the full tafseer →269. In the Bible he is called Saul. He was a thirty-year-old Benjaminite youth. 'There was not a man among the people of Israel more handsome than he; from his shoulders upward he was taller than any of the people' (1 Samuel 9: 2) . He went out in search of the lost asses of his father. During this search, he passed through the house of Samuel and God informed Samuel that this was the person who had been chosen to govern the people of Israel. Samuel brought Saul to his house, took a vial of oil, poured it on his head,. kissed him and said: 'Has not the Lord anointed you to be the prince over…
Read the full tafseer →