Ayah 2:1ف 2 ۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں جو قرآن مجید کی انیس سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں۔ مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے ان سورتوں کی ابتداء میں ذکر کرنے کی حکمتیں، ان کے ظاہری معانی اور ان کی تمثیلات بیان فرمائی ہیں۔ مفسرین کرام نے جو کچھ بیان کیا ہے اسے ان حروف مقطعات کے حقیقی معانی اور مرادات الٰہی تو نہیں کہا جاسکتا زیادہ سے زیادہ انہیں فوائد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ حروف بےمعنی اور مہمل نہیں ہیں ان سے مراد خداوندی متعین ضرور ہیں لیکن اس کا بھید اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ ہذا علم مستور وسر محجوب استاثر اللہ تبارک وتعالیٰ بہ (تفسیر کبیر ص 227 ج 1، روح المعانی بمعناہ ص 82 ج 3) خلفائے راشدین اور حضرت ابن مسعود ؓ سے یہی منقول ہے۔ اسی طرح عامر شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خثیم، ابن حبان اور ابوبکر انباری رحمہم اللہ تعالیٰ بھی اسی کے قائل ہیں (قرطبی ص 154 ج 1، ابن کثیر ص 36 ج 1 بیضاوی ص 6) حضرت صدیق اکبر ؓ سے منقول ہے۔ لکل کتاب سر وسر القرآن اوائل السور (روح المعانی ص 100 ج 1 تفسیر کبیر ص 227 ج 1) یعنی ہر کتاب کا ایک بھید ہوتا ہے اور قرآن کا بھید سورتوں کے ابتدائی حصے یعنی حروف مقطعات ہیں۔ امام شعبی فرماتے ہیں۔ سر اللہ تعالیٰ فلا تطلبوہ (روح المعانی ص 100 ج 1، تفسیر کبیر ص 224 ج 1) یعنی یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ کا بھید ہیں ان کے پیچھے مت پڑو۔
سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کے ذکر کرنے میں جو حکمتیں مفسرین کرام نے بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اعمالِ شرعیہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کی حکمت اور علت ہماری سمجھ میں آسکے، جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ۔ یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ نماز میں قیام اور رکوع و سجود وغیرہ کے ذریعے اپنے مالک اور آقا کے سامنے انتہائی عاجزی اور بےچارگی کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ روزہ سے شہواتِ نفسانیہ کو کمزور کر کے روحانی پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ بھوک کے تجربہ سے غریبوں اور بھوکوں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور زکوۃ کے ذریعے ضرورت سے زائد دولت سوسائٹی کے معذور اور محتاج طبقہ میں تقسیم کر کے ان کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ دوسری قسم ان اعمال کی ہے جن کی حکمت اور علت ہماری سمجھ سے بالا تر ہے مگر ہم ایسے اعمال بجا لانے کے مکلف ہیں جیسا کہ افعالِ حج ہیں۔ مثلاً صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) طواف میں رمل کرنا (کندھوں کو ہلا ہلا کر چلنا) اور جمرات پر سنگریزے پھینکنا۔ کمال انقیاد اور تسلیم اسی کا نام ہے کہ احکم الحاکمین کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے خواہ اس کی علت سمجھ میں آئے یا نہ آئے بلکہ اطاعت کرنے کے لیے علت دریافت کرنا بےادبی میں داخل ہے۔
اعمالِ شرعیہ کی طرح اقوال کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو وہ ہیں جن کا مفہوم ہماری سمجھ میں آسکتا ہے۔ ایسے اقوال کے پڑھنے، ان کے معانی میں غور وفکر کرنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کچھ اقوال ایسے ہیں جن کا مفہوم ہماری عقل وفہم سے ماوراء ہے مگر ہمیں ان کے بھی ماننے اور پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے (تفسیر کبیر، تفصیل ص 231 ج 1) سورة آل عمران کی اس آیت کا یہی مطلب ہے۔ ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ (ترجمہ) وہ ایسا ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کا ایک حصہ وہ آیتیں ہیں جو محکم ہیں (یعنی ان کا مطلب واضح اور ظاہر ہے) یہی آیتیں (اس) کتاب کا اصلی مدار ہیں۔ اور اس میں کچھ آیتیں ایسی ہیں جن کی مراد مشتبہ ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہیں وہ (دین میں) شورش ڈھونڈنے اور اس کا مطلب تلاش کرنے کی غرض سے اسی کے پیچھے ہولیتے ہیں جس کی مراد مشتبہ ہے حالانکہ اس کا مطلب بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ جو لوگ علم (دین) میں پختہ کار ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اس پر (اجمالاً ) یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو اہل عقل ہیں :۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوگیا کہ قرآن مجید کی آیتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک محکمات یعنی وہ جن کا مطلب معلوم اور مراد متعین ہے۔ ان کا حکم یہ ہے کہ ان کے مطابق عمل کرنا واجب ہے۔ دوسری متشابہات یعنی وہ جن کی مراد مشتبہ ہے۔ اللہ کے سوا ان کی صحیح مراد کسی کو معلوم نہیں۔ علمائے ربانیین کا متشابہات کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں لیکن ان کا اصل مقصد خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ متشابہات کی دو قسمیں ہیں۔ قسم اول حروف مقطعات جو بعض سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں۔ جیسے۔ الم۔ الرا۔ المرا۔ طہ حم۔ وغیرہ (ابن کثیر ص 345 ج 1، روح المعانی ص 82 ج 3، خازن ومعالم ص 22 ج 1 ص 269 ج 1، قرطبی ص 154 ج 1) اور قسم دوم وہ الفاظ ہیں جن کے ظاہری اور لغوی معانی تو معلوم ہوں لیکن ان کی اصل مراد سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہ ہو جیسے اللہ کی طرف یَدٌ (ہاتھ) وَجْہٌ (چہرہ) وغیرہ کی اضافت جیسے فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِاور يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ۔
(اس سورۃ کا تعارف پڑھنے کے لئے جواہرالقرآن کتابی نسخہ ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اسے یہاں نقل نہیں کیا جا رہا۔)
Ayah 2:2ف 3: اس آیت کریمہ میں ترکیب نحوی کی کئی صورتیں ہیں۔ (1) ذٰلِكَ الْكِتٰب ُ مبتدا اور لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ جملہ اس کی خبر ہو۔ (2) ذٰلِك َمبتدا ہو اور الْكِتٰبُاس کی پہلی خبر اور لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ خبر بعد خبر ہو یا علیحدہ جملہ ہو۔ اس صورت میں الْكِتٰبُ کا الف لام حقیقت کے لیے ہوگا۔ اور ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کا مطلب یہ ہوگا کہ کامل اور صحیح معنوں میں کتاب یہی (قرآن) ہے۔ (روح المعانی ص 106 ج 1) یا الکتاب کا الف لام عہد کیلئے ہوگا۔ اور اس سے اشارہ اس کتاب کی طرف ہوگا جس کے نزول کی بشارت تورات وانجیل کے ذریعے یہود ونصاریٰ کو مل چکی تھی اور وہ جانتے تھے کہ بنی اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگا۔ اور اس پر اللہ کی طرف سے کتاب نازل ہوگی (روح المعانی ص 105 ج 1) مگر اس صورت میں لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ کو علیحدہ جملہ قرار دینا زیادہ موزوں ہوگا۔ اور ترجمہ یوں ہوگا، بیشک یہ وہی کتاب ہے یعنی جس کی بشارت انبیاء سابقین دے چکے ہیں۔ ذلک الکتب ای الکتب الذی اخبر الانبیاء المتقدمون بان اللہ تعالیٰ سینزلہ علی النبی المبعوث من ولد اسماعیل (تفسیر کبیر ص 37 ج 1)
ترکیب 1 اور 3 میں ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَمیں دو احتمال ہیں یا تو یہ جملہ پہلے مبتدا کی خبر بعد خبر ہوگا یا یہ علیحدہ جملہ ہوگا۔ اور اس کا مبتداء ھُوَ محذوف ہوگا۔ ان دونوں ترکیبوں کی صورت میں لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔکا مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب کے اللہ کی طرف سے ہونے میں اور اس کے مضامین کی صحت اور واقعیت میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ یہاں نفس قرآن میں شک کی نفی مقصود ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس میں کسی فرد بشر کو شک نہیں کیونکہ کسی آدمی کا قرآنی مضامین کی صحت یا اس کے من عند اللہ ہونے میں شک کرنا اس کے اپنے قصور فہم کا نتیجہ ہے۔ یہ ریب اس کے اپنے فہم میں ہے نہ کہ قرآن میں۔ اس لیے یہاں مقصود یہ ہے کہ یہ کتاب فی نفسہ ہر قسم کے شک وریب سے پاک ہے۔ اس کے دلائل واضحہ اور براہین قاہرہ نے اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں چھوڑی (قرطبی ص 159 ج 1، مدارک ص 10 ج 1، کبیر ص 243 ج 1)
(3) ۔ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ مبتداء لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ جملہ معترضہ برائے تاکید ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ خبر، اس صورت میں آیت کا ترجمہ یوں ہوگا۔ بیشک یہ کتاب ڈر والوں کے لیے سراپا ہدایت ہے۔ اس ترکیب کی صورت میں نہ ریب کے متعلق کوئی اشکال وارد ہوتا ہے اور نہ ہی کسی لفظ کو مقدر ماننے کی ضرورت ہے۔ حضرت شیخ (رح) اسی ترکیب کو ترجیح دیا کرتے تھے۔
یہاں ایک شبہ کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی کئی دوسری آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب (قرآن) بلا تخصیص تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔ چناچہ ارشاد باری ہے ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۔ مگر اس آیت میں قرآن کے ہدایت ہونے کو متقی لوگوں کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بلا شبہ قرآن تا قیامت تمام بنی آدم کے لیے ہدایت ہے۔ مگر چونکہ اس کی ہدایت سے فائدہ صرف وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دلوں میں خوف خدا ہو۔ اس لیے یہاں صرف متقین کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر 344 ج 11 ۔ روح المعانی ص 110 جلد 1) یا متقین سے مراد المنیبین الی اللہ الذین یتقون الضد ویجتنبون العناد۔ یعنی جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہو اور راہ حق کے طالب ہیں، جب وہ ضد وعناد کو بالائے طاق رکھ کر نظر اوصاف سے اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو ان پر یہ کتاب یقیناً ہدایت کی راہیں کھول دیگی اور ان کے دلوں کو ضرور نور ہدایت سے روشن ومنور کردے گی۔ کما قال اللہ تعالیٰ وَمَا يَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِیْب ( سورة مومن رکوع 2) وَيَهْدِيْ اِلَیْهِ مَنْ يُّنِیْب (شوری 2) مَنْ خَشِییَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ ( سورة ق رکوع 3) وَيَھْدِيْ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَ (رعد رکوع 4) قالہ الشیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ
امر دوم یعنی ہدایت کو قبول کرنے اور اس کو رد کرنے کے اعتبار سے لوگوں کی تین قسموں کا بیان
پہلی جماعت : یعنی وہ لوگ جو ظاہر و باطن میں مسلمان ہیں۔ ان کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔
Ayah 2:3ف 4 ۔ متقین کی پہلی صفت، یومنون، ایمان سے ماخوذ ہے اور ایمان کے معنی دل سے ماننے اور تصدیق کرنے کے ہیں (قرطبی ص 162 ج 1) اور غیب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو حس و عقل کی رسائی اور دسترس سے ماورا ہو۔ ما لا یقع تحت الشعور ولا تقضیہ بداھۃ العقل (روح المعانی ص 114 ج 1) وھو قول جمہور المفسرین ان الغیب ھو الذی یکون غائباً عن الحاسۃ (تفسیر کبیر ص 250 ج 1) اور یہاں غیب سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا ادراک عقل وحس سے ناممکن ہے اور ان کے متعلق جو کچھ بھی معلوم ہے وہ پیغمبر خدا ﷺ کی اطلاع واخبار ہی سے معلوم ہے۔ مثلاً ذات باری تعالی، فرشتے، کتب سماویہ، انبیائے متقدمین علیہم السلام، احوالِ برزخ، علامات قیامت، حشر ونشر، صراط ومیزان، جنت و دوزخ وغیرہ۔ کل ما اخبر بہ الرسول (علیہ السلام) مما لا تھتدی الیہ العقول من اشراط الساعۃ و عذاب القبر والحشر والنشر والصراط والمیزان والجنۃ والنار الخ (قرطبی ص 163 ج 1) انہ ما اخبر بہ الرسول ﷺ فی حدیث جبریل (علیہ السلام) وھو اللہ تعالیٰ و ملائکتہ ورسلہ والیوم الاخر والقدر خیرہ وشرہ الخ (روح المعانی ص 114 ج 1، ابن کثیر ص 41 ج 1، قرطبی ص 163 ج 1، ابن جریر ص 78 ک 1) تو آیت کا ماحصل یہ ہوا کہ وہ لوگ ان تمام امور کو جو ان کی عقل وفہم اور حس وادراک سے باہر ہیں، محض پیغمبر (علیہ السلام) کی اطلاع پر سچا مانتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
یہاں ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ عالم غیب کی تمام اشیاء اور ان سے متعلق احوال و کوائف مثلاً عالم برزخ اور مابعد الحشر کی تفصیلات و کوائف کو مخبر صادق ﷺ کے بیان کے مطابق ہی مانا جائیگا۔ ظن وتخمین اور عالم شہادت پر قیاس کے ذریعے عالم غیب کی کوئی چیز ثابت نہیں کی جاسکتی۔ عالم غیب کے امور جو نصوص قطعیہ سے ثابت ہیں مثلاً عذاب قبر، حشر ونشر وغیرہ ان کا انکار کفر اور جو امور دلائل ظنیہ سے ثابت ہیں مثلاً زندوں کے بعض اعمال سے مردوں منتفع ہونا (مثلاً ایصالِ ثواب) امت کے صلوۃ وسلام کا حضور ﷺ کو پہنچنا، اور عالم برزخ میں ارواح کا اجساد مثالیہ میں متمثل ہو کر عبادات اور دیگر افعال بجالانا وغیرہ ان کا انکار بدعت ہے اور وہ امور جن کی بنیاد محض ضعیف اور بالکل کمزور روایتوں پر ہو ان کے انکار سے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ ایسے امور کے ردوقبول میں قرآنی ارشادات اور صحیح روایتوں سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ مردوں کا سننا، امت کے اعمال کا نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے سامنے پیش ہونا وغیرہ ایسے ہی امور ہیں۔ ان امور کی پوری تحقیق اپنی اپنی جگہ آئے گی۔
5: متقی لوگوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم رکھتے ہیں۔ نماز قائم رکھنے سے اس کو اس کے تمام فرائض وواجبات، سنن ومستحبات اور حقوق وآداب کے ساتھ ادا کرنا مراد ہے۔ یا تون بحقوقھا (تفسیر جلالین ص 4) عن ابن عباس اقامۃ الصلوۃ اتمام الرکوع والسجود والتلاوۃ والخشوع والاقبال علیھا فیہا وقال قتادۃ اقامۃ الصلوۃ المحافظۃ علی مواقیتھا ووضوئھا ورکوعھا وسجودھا (ابن کثیر ص 42 ج 1) اقام تھا عبارۃ عن تعدیل ارکانھا وحفظھا من ان یقع خلل فی فرائضھا وسننھا وادابھا، (تفسیر کبیر ص 251 ج 1) ان عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز کی ایک ظاہری صورت ہے اور ایک باطنی حقیقت، ظاہری صورت تو یہ ہے کہ شرع طریقہ کے مطابق نمازی کا بدن، اس کے کپڑے اور نماز پڑھنے کی جگہ پاک ہو۔ اور نماز کو اس کے تمام ظاہری ارکان وآداب کی شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے ادا کیا جائے اور نماز کی باطنی صورت یہ ہے کہ نماز کو فریضہ خداوندی سمجھ کر محض رضائے مولی کی کی خاطر پورے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے اور نماز کے دوران نماز ہی کو اپنے دل کی توجہ کا مرکز بنایا جائے۔ خیالاتِ فاسدہ اور وساوس شیطانیہ سے دل کو خالی اور پاک رکھا جائے۔ لہذا نماز کو ان تمام ظاہری اور باطنی حقوق کے ساتھ ادا کرنے کا نام اقامتِ صلوۃ ہے اور یہی متقین کی دوسری صفت ہے۔ اس صفت میں جس قدر کمال یا نقص ہوگا اسی قدر اتقاء میں فرق پڑجائے گا۔
6: یہ متقین کی تیسری صفت ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے زکوۃ مراد لی ہے مگر اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ آیت اپنے عموم پر ہی محمول ہے اور تمام حقوق مالیہ کی ادائیگی کو شامل ہے خواہ وہ واجب ہوں یا غیر واجب، مثلاً زکوۃ، نفلی صدقہ، قربانی، اپنی ذات اور اہل و عیال پر خرچ وغیرہ۔ واولی لتاویلات بالایۃ واحقھا بصفۃ القوم ان یکون کانوا لجمیع اللازم فی اموالھم مودین زکوۃ کان ذلک او نفقۃ من لزمتہ نفقتہ من اھل و عیال وغیرھم ممن تجب علیہم نفقتہ بالقرابۃ والملک وغیر ذلک (ابن جریر ص 80 ج 1، ابن کثیر ص 42 ج 1) ویدخل فیہ انفاق الواجب کالزکوۃ و النذر والانفاق علی النفس وعلی من تجب نفقتہ علیہ والانفاق فی الجھاد واذا وجب علیہ والانفاق فی لمندوب وھو صدقۃ التطوع ومواساۃ الاخوان وھذہ کلھامما یمدح بھا (خازن ص 26 ج 1) بلکہ آیت اس سے بھی زیادہ عموم کی متحمل ہے۔ لفظ " ما " اپنے عموم اور وسعت کی وجہ سے ان تمام انعامات کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائے ہیں۔ خواہ مادی انعامات جیسے مال واولاد، دولت و ثروت اور قوت وصحت وغیرہ۔ خواہ علمی جیسے علم وہنر، عقل و حکمت اور فہم و فراست وغیرہ۔ لہذا اپنی قوت وصحت اور اولاد کے ذریعے دوسروں کی مدد کرنا، علم و حکمت سکھانا، مفید اور مخلصانہ مشوروں سے تعاون کرنا یہ سب اس آیت کے تحت داخل ہیں۔ (الانفاق البذل من النعم الظاھرۃ والباطنۃ وعلم لا یقال بہ ککنز لا ینفق منہ۔ روح المعانی ص 118 ج 1) ۔ وقال بعض المتقدمین فی تاویل قولہ تعالیٰ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَای مما علمناھم یعلمون (قرطبی ص 179 ج 1)
Ayah 2:4ف 7 ۔ یہ متقین کی چوتھی صفت ہے۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ وحی جو حضرت رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ دوسری وہ وحی جو پہلے پیغمبروں پر اتری۔ پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابوں پر ایمان لانے سے مراد صرف یہ ہے کہ انہیں اللہ کی طرف سے مانا جائے اور انہیں سچا سمجھا جائے ان پر عمل کرنا واجب نہیں۔ اور آنحضرت ﷺ کی وحی پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حق اور من عنداللہ ماننے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کیا جائے اور اپنی زندگی اس کی ہدایت کے مطابق بسر کی جائے۔ آپ کی وحی صرف قرآن مجید ہی میں منحصر نہیں بلکہ آپ کے تمام دینی ارشادات جو کتب احادیث میں موجود ہیں یہ سب وحی تھے تو جس طرح قرآن پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح قرآن کے علاوہ دوسری وحی کو ماننا بھی فرض ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بعد وحی منقطع ہوچکی ہے اگر جاری ہوتی تو یہاں اس پر بھی ایمان لانے کا ذکر ضرور ہوتا۔ اس آیت میں جس ایمان کا ذکر ہے وہ حقیقت میں ایمان بالغیب ہی کا ایک شعبہ ہے۔ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْب ِکے الفاظ پورے عالم غیب پر حاوی تھے۔ مگر اس آیت میں عالم غیب کی صرف دو چیزوں کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے یعنی گذشتہ وحی اور موجودہ وحی پر ایمان لانا۔ تو اس تخصیص بعد التعمیم سے یہود ونصاریٰ میں سے جو لوگ ایمان لا چکے تھے ان کی عزت افزائی اور ان کی فضیلت کا اظہار مقصود ہے (روح المعانی ص 120 ج 1، تفسیر کبیر ص 254 ج 1، تفسیر مظہری ص 21 ج 1)
8 ۔ یہ متقین کی پانچویں صفت ہے۔ یہاں آخرت سے مراد دار آخرت یعنی قیامت ہے نہ کہ نبوت جیسا کہ منکرین ختم نبوت کا خیال ہے۔ چناچہ دوسری آیت میں ارشاد ہے۔ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَھِىَ الْحَـيَوَانُ ۔ (عنکبوت رکوع 7) ۔ قیامت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ حشر ونشر، حساب وکتاب، جنت و دوزخ اور یوم قیامت کو جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب کچھ مانتے اور اس کے وقوع پر یقین رکھتے ہیں۔
یہاں تک تو دعوت توحید کو قبول کرنے والوں اور کتاب ہدایت سے منتفع ہونے والوں کی صفات و علامات کا ذکر تھا۔ اب آگے ان صفات کا ثمرہ اور ان کے حاملین کی جزا کا بیان ہے
Ayah 2:5ف 9 ۔ دونوں جگہوں میں اُولٰۗىِٕكَ کا اشارہ مذکورہ بالا صفات کے حاملیں کی طرف ہے۔ ای المتصفون بما تقدم من الایمان بالغیب واقام الصلوۃ والانفاق من الذی رزقہم الخ (تفسیر ابن کثیر ص 44 ج 1) ای الذین ھذہ صفتہم (تفسیر خازن ص 26 ج 1) ای اھل ھذہ الصفۃ (معالم ص 26 ج 1) یعنی جو لوگ مذکورہ صفات سے متصف ہیں دنیا میں وہ سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی ہوگی۔ فان الہدی فی الدنیا والفلاح فی الاخرۃ (روح المعانی ص 125 ج 1) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفلحون کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہو (تفسیر ابن کثیر ص 44 ج 1) یعنی سیدھی راہ پر چلنے اور کتاب ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْن َمیں ھُمُ ضمیر فصل ہے جو حصر اور تخصیص کے معنی پیدا کرتی ہے۔ (تفسیر بیضاوی ص 8 تفسیر مظہری ص 22 ج 1) معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ مرتکب کبیرہ مخلد فی النار ہے اور اس کے لیے نجات نہیں کیونکہ اس آیت نے فلاح کو مذکورہ صفات والے مومنوں میں محصور کردیا ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ جن میں یہ صفات نہ ہوں وہ فلاح سے محروم رہیں گے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں حصر مطلق فلاح کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ فلاح کامل کے اعتبار سے ہے۔ یعنی فلاح کامل تو صرف انہی لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہوں گے۔ البتہ مطلق فلاح ان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جن لوگوں میں بعض عملی خامیاں ہونگی نجات و فلاح تو آخر ان کو بھی حاصل ہوجائے گی۔ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ یدل علی انہم الکاملون فی الفلاح فیلزم ان یکون صاحب الکبیرۃ غیر کامل فی الفلاح (تفسیر کبیر ص 257: ج۔۔۔ ) المراد المفلحون الکاملون فی الفلاح ویلزم منہ عدم کمال فلاح من لیس منھم لا عدم الفلاح مطلقاً (تفسیر مظہری ص 22 ج 1 تفسیر بیضاوی ص 8) یہاں تک تو ان لوگوں کا ذکر تھا جنہوں نے کتاب ہدایت کو دل وجان سے مانا اور اسے اپنی زندگی کا دستور العمل بنایا۔ اب آگے دوسری جماعت کا ذکر ہے۔
دوسری جماعت (کفار) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کو ظاہراً و باطناً ٹھکرا دیا، نہ دل سے مانا نہ زبان سے، بلکہ اپنی پوری طاقت سے اس کی مخالفت کی۔
Ayah 2:6ف 10 ۔ اس آیت میں كَفَرُوْاسے مراد مطلق کافر مراد نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم (علیہ السلام) کی تبلیغ پر ہزاروں کافر ایمان لائے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلکہ اس سے مراد خاص قسم کے کافر ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو حق کو اچھی طرح سمجھ چکے اور پہچان چکے ہوں مگر محض ضد اور عناد کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہوں۔ ضد و انکار کی وجہ سے ان کے ضمیر مردہ اور دل سیاہ ہوچکے ہیں اس لیے وعظ ونصیحت اور تبلیغ وانذار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ ای ستروا الحق عناداً (مدارک) مشرکین مکہ میں ابو جہل، ابولھب، ولید بن مغیرہ وغیرہ اور یہود کے بعض علماء اور رؤسا مثلا حی بن اخطب، کعب بن اشرف وغیرہ اسی قسم کے کافر تھے۔ (ابو السعود ص 283 ج 1، قرطبی ص 184 ج 1 نیشا پوری ص 140 ج 1) جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا یہی حال مشرکین مکہ کا تھا۔ اور احبارِ یہود کے متعلق ارشاد ہے۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ( سورة بقرہ ع 11) اور ءَاَنْذَرْتَھُمْ میں ہمزہ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکھ تسویہ کے لیے ہے کیونکہ جو ہمزہ سواء، مادری، ما ابالی، لیت شعری وغیرہ کے بعد آئے وہ تسویہ کیلئے ہوتا ہے۔ اور علامت اس کی یہ ہے کہ مصدر اس کے مدخول کے قائم مقام ہوسکے (مغنی ابن ہشام ص 16 ج 1) اور رضی شرح کافیہ (ص 328 ج 2) میں ہے ان الہمزۃ تستعمل مطرداً مع ام التسویۃ اور اَمْ اس آیت میں احد الامرین کے لیے نہیں بلکہ یہ امْ متصلہ ہے اور تسویہ کیلئے (رضی شرح کافیہ ص 314 ج 2، مغنی ص 39 ج 1) " ترکیب نحوی "۔ الذین کفروا موصول مع الصلۃ اسم ان، سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم بتاویل المصدر، مبتداء موخر اور یہ جملہ خبر ان ہے (تفسیر مظہری ص 23 ج 1، رضی ص 317 ج 2) لَا يُؤْمِنُوْنَ جملہ مفسرہ ہے جو ماقبل کی تفسیر کرتا ہے جملۃ مفسرۃ لاجمال ما قبلھا فیما فیہ الاستواء (تفسیر مظہری ص 23 ج 1، روح المعانی ص 129 ج 1) یعنی ان کافروں کے حق میں آپ کے انذار اور عدم انذار کے یکساں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور وہ ایمان نہیں لائیں گے یا لَا يُؤْمِنُوْنَ جملہ اِنَّ کی خبر ہے۔ اور سواء علیہم الخ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ وخبر ان والجملۃ قبلھا اعتراض (روح المعانی ص 130 ج 1، تفسیر مظہری ص 23 ج 1، مدارک ص 13 ج 1) آیت کا مفہوم دونوں صورتوں ایک ہی ہے۔
Ayahs 2:7–8ف 11 ۔ یہ جملہ معللہ ہے اور ماقبل کی علت اور اس کا سبب بیان کر رہا ہے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما بین فی الایۃ انھم لا یومنون اخبر فی ھذہ الایۃ باالسبب الذی لاجلہ لم یومنوا وھو الختم (تفسیر کبیر ص 270 ج 1) خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ استیناف تعلیلی لما سبق من الحکم (ابو السعود ص 288 ج 1 اشارۃ الی برھان لمی للحکم السابق (روح المعانی ص 131 ج 1) یعنی پیغمبر خدا ﷺ کے انذار کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ قبول حق کی تمام راہیں ان پر بند ہوچکی ہیں اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اس دولت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے۔ اب یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اور اس طرح ان پر قبول ہدایت کی تمام راہیں روک دیں تو پھر اگر وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر مرگئے تو انہیں سزا کس قصور پر دی جائے گی ؟ کیونکہ مہر خداوندی کی وجہ سے وہ کفر پر مرنے پر مجبور تھے۔ لہذا یہ بات عدل و انصاف کے منافی ہے کہ ایسے لوگوں کو سزا دی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے، وہ کسی کو بلا قصور سزا نہیں دیتا اس آیت میں ان کافروں کا جو انجام بیان کیا گیا ہے وہ خود ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ دیکھنے سننے کے لیے اسے آنکھیں اور کان دئیے غور وفکر اور سوچ بچار کیلئے اسے دل و دماغ اور عقل و شعور کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ ارشاد ہے۔ وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ( سورة نحل رکوع 11) پھر آفاق وانفس کے واضح اور روشن دلائل کے دفتر اس کے سامنے کھول دئیے تاکہ وہ اپنے حواس کے ذریعے ان میں غور وفکر کر کے حق و باطل میں امتیاز کرسکے۔ سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (حم السجدہ رکوع 6) اور پھر اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ سیدھی راہ دکھانے اور عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ حق سمجھانے کے لیے پیغمبر بھی بھیجے جنہوں نے دن رات اللہ کا پیغام انہیں سنایا اور ان کے تمام شبہات دور کر کے اللہ کی حجت ان پر قائم کی۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ( سورة نساء رکوع 23) لیکن اس کے باوجود کہ حق ان پر واضح ہوگیا۔ اور انہوں نے حق کو اچھی طرح پہچان لیا۔ انہوں نے حق کو نہ مانا بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے کفر و انکار پر ڈٹے رہے۔ نہ آنکھوں سے کام لیا نہ کانوں سے۔ نہ عقل و شعور ہی کو استعمال کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ کفر و انکار ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر کے ان کی طبیعت ثانیہ بن گیا۔ ان کے حواس بیکار ہوگئے اور حق کا احساس و شعور ہمیشہ کیلئے ان سے رخصت ہوگیا۔ اور ان پر گمراہی کی ایک ایسی تاریکی اور ظلمت چھا گئی کہ اب وہ اس سے باہر نہیں آسکتے۔ گمراہی کی اس کیفیت کو مہر سے تعبیر کیا گیا ہے تو یہ مہر جو لگی ہے تو وہ قانونِ تکوینی کے تحت اپنے اسباب وعلل کی بنا پر لگی ہے۔ جب کوئی شخص حق کو پہچاننے کے بعد محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنے ارادے اور اختیار سے کفر کو ایمان پر ترجیح دیتا ہے تو اس سے ایمان کی توفیق چھین لی جاتی ہے اور اس کے حواس بیکار ہوجاتے ہیں اور وہ جدھر جانا چاہے اسے ادھر ہی کو دھکیل دیا جاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْےَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰهِ ( سورة احقاف رکوع 3) اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا ( سورة نساء رکوع 17)
اس سے معلوم ہوا کہ ان کے حواس پر مہر کا لگنا، اور سعادتِ ایمان سے ان کی ابدی محرومی، یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ان کے جحود و انکار اور ضدوعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس مہر کی وجہ سے انہیں کفر پر مجبور کیا گیا ہے۔ حضرت شیخ روح اللہ روحہ اسے ' مہرجباریت " سے تعبیر فرمایا کرتے تھے۔ اور عارف رومی (رح) کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
ایں نہ جبر و معنی جباریست معنی جابریت رازاری ست
اب یہاں ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ میں مہر لگانے کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مہر لگنا ان کے اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک تمام افعال عباد کا خالق خدا تعالیٰ ہے اور ہر کام کیلئے فاعل مباشر اور سبب کا ہونا ضروری ہے اور کام کو چونکہ تینوں سے نسبت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مخلوق ہونے کی نسبت، فاعل سے صدور کی اور سبب سے ترتب کی۔ اس لیے فعل کو تینوں کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو قتل و غارت گری کے جرم میں پھانسی دے دی جاتی ہے تو اس پر لوگ مختلف عبارتوں سے رائے زنی کریں گے۔ کوئی کہے گا " اللہ نے اس کا بیڑا غرق کردیا " کوئی کہے گا۔ اس نے خود ہی اپنا خانہ خراب کردیا۔ اور کوئی یوں گویا ہوگا کہ بد اعمالیاں اسے لے ڈوبیں۔ اپنی اپنی جگھ تینوں فقرے صحیح ہیں۔ جس نے اس مجرم کی تباہی کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے اس کی ہرگز یہ غرض نہیں اور نہ ہی سامعین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کی تباہی کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ مجرم بری الذمہ اور بےقصور ہے بلکہ اس کی تباہی کو اللہ کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ خالق الافعال ہے۔ باقی رہی اس کی تباہی تو وہ اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح مہر لگانے کو مختلف نسبتوں کی وجہ سے مختلف ذوات کی طرف منسوب کیا گیا ہے مہر لگنے کا اصل سبب چونکہ ان کے اپنے اعمال تھے اس لیے کبھی اس کیفیت کو ان کے اعمال سے وابستہ کیا گیا۔ كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (تطفیف) اور کبھی ان معاندین نے اس مہر کی سی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے سب کچھ اپنی ہی طرف منسوب کرلیا۔ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ (حم السجدۃ رکوع 1) اور اللہ تعالیٰ چونکہ خالق الافعال، علۃ العلل اور مسبب الاسباب ہے اس لیے اس لحاظ سے مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کی گئی ہے جیسا کہ زیر بحث آیت میں ہے اس لیے مہر لگانے کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے ایمان سے ان کی محرومی، کفر پر موت اور ابدی عذاب کی ذمہ داری اللہ پر عائد نہیں ہوتی یہ سب کچھ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور ان کا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔
تیسری جماعت (منافقین) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظاہری طور پر اسلام تو قبول کرلیا مگر باطن میں کافر ہی رہے۔ ان لوگوں نے زبان سے تو اسلام کا اقرار کیا۔ مگر دل سے انکار کیا۔
Ayah 2:9ف 12 ۔ اس آیت میں منافقین کے ایمان کی حقیقت بیان فرمائی کہ زبان سے تو وہ اللہ کی توحید اور آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل یقین و ایمان اور تصدیق وا ان سے یکسر خالی ہیں۔ اس کے بعد منافقت اور دو رخی چال سے ان منافقین کی غرض وغایت بیان کی گئی ہے۔
13 ۔ اس دو رخی چال سے وہ مسلمانوں کو فریب دیکر ان سے دنیوی اور مادی فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلینے سے دنیوی احکام میں وہ مسلمان ہی شمار ہوں گے۔ ان کا جان ومال محفوظ ہوجائے گا اور مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت اور دیگر مادی فوائد میں وہ ان کے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے۔ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰه َپر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ دھوکہ اور فریب تو اسے دیا جاسکتا ہے جو لاعلم ہو اور حقیقت سے ناواقف ہو لیکن اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب والشہادۃ ہے، اور ہر ظاہر اور ہر چھپی چیز کو جانتا ہے۔ اسے کیونکر دھوکہ دیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے ای یخدعون رسول اللہ (تفسیر مدارک ص 15 ج 1، قرطبی ص 195 ج 1، مظہری ص 25 ج 1، خازن ومعالم ص 28 ج 1، کبیر ص 284 ج 1، روح المعانی ص 146 ج 1 نیشا پوری ص 153 ج 1، بحر المحیط ص 56 ج 1) یعنی وہ اللہ کے رسول کو دھوکہ دیتے ہیں (اس سے یہ بھی بخوبی ظاہر اور معلوم ہوگیا کہ ان تمام مفسرین اہل سنت وجماعت کا یہ متفقہ اور مسلمہ عقیدہ تھا کہ حضرت نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) عالم الغیب نہ تھے نہ ذاتی طور پر نہ عطائی طور پر) یا اللہ کو دھوکہ دینے سے ایمان والوں کو دھوکہ دینا مراد ہے کیونکہ اللہ والوں کو دھوکہ دینا اور وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ مومن توحید کے پابند ہیں۔ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ کو دھوکہ دینا۔ وقیل المراد بہ المومنون واذا خادعوا المومنین فکانھم خادعوا اللہ تعالیٰ (خازن ص 28 ج 1) وقیل ذکر اللہ ھھنا تحسین المقصود بالمخادعۃ الذین امنوا (معالم ص 28 ج 1) اس صورت میں وآ تفسیریہ ہوگی۔ اور وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کا عطف ما قبل پر تفسیری ہوگا۔
14 ۔ منافق یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی اس دورنگی پالیسی سے مسلمانوں کو دھوکہ دیکر مزے کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے رہے بلکہ اپنی جانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اس منافقانہ روش سے غیر شعوری طور پر اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔
15 ۔ مگر انہیں اس بات کا شعور واحساس تک نہیں ہے کہ ان کی یہ غلط روش خود انہی کی تباہی کا باعث ہوگی اور اس کا وبال خود انہی پر پڑے گا۔ (قرطبی ص 197 ج 1، معالم ص 28 ج 1) اگلی آیت میں منافقین کے حال پر مزید روشنی ڈالی ہے۔
Ayah 2:10ف 16 ۔ ان کے باطن کی خرابی اور فساد عقائد کو بیماری سے تعبیر فرمایا۔ والمرض عبارۃ مستعارۃ للفساد الذی فی عقائدھم (قرطبی ص 197 ج 1 اور یہ لفظ نفاق رشک وریب، جحود و انکار، پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں سے عداوت اور بغض وحسد وغیرہ سب کو شامل ہے۔ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ شَک ونفاق (معالم ص 28 ج 1، ابن جریر ص 93 ج۔۔ استعیر ھھنا لما فی قلوبھم من الجھل وسوء العقیدۃ وعداوۃ النبی ﷺ وغیر ذلک من فنون الکفر (ابو السعود ص 307 ج 1) ومجازا بان یستعار لبعض اعراض القلب کسوء الاعتقاد والغل والحسد والمیل الی المعاصی فان صدورھم کانت تغلی علی رسول اللہ ﷺ غکا وغبقا (تفسیر نیشا پوری ص 154 ج 1) اور بیماری عضو کی اس غیر طبعی حالت کا نام ہے جس کی وجہ سے عضو کے طبعی افعال میں خلل وفتور واقع ہوجائے۔ یہ تمام امور چونکہ دل کو خدا کی معرفت اور اس کی سچی اطاعت اور مخلصانہ عبادت سے روکتے ہیں اس لیے یہ سب روحانی اور قلبی امراض ہیں (من الکبیر بتصرف۔
17 ۔ شک ونفاق اور بغض وحسد کی یہ بیماری جو ان کے دلوں کو لگی ہوئی تھی کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتی گئی۔ جوں جوں قرآن نازل ہوتا ان کا کفر وانفاق بڑھتا جاتا۔ کیونکہ ہر آیت کے ساتھ وہ منافقانہ سلوک کرتے۔ بظاہر اسے مانتے لیکن دل میں اس کا انکار کرتے یا جوں جوں پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں کو دشمنوں پر غلبہ واقتدار حاصل ہوتا گیا اور دین اسلام کی شان و شوکت میں ترقی ہوتی گئی تو ان کے دلوں کی جلن اور تکلیف اور ان کے سینوں میں بغض وحسد کی آگ بڑھتی گئی۔ اور زیادۃ اللہ تعالیٰ عرضھم اما بتضعیف حسدھم بنعم اللہ تعالیٰ علی رسولہ ﷺ والمومنین او ظلمۃ قلوبھم بتجدد کفرھم بما ینزل سبحانہ شیئا فشیا من الایات والذکر الحکیم (روح ص 145 ۔ 150) ۔ فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا میں فاء تعقیب کیلئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فاء کا مابعد ما قبل پر مرتب ہے۔ والفاء للدلالۃ علی ترتب مضمونھا ؟ ؟ (ابو السعود ص 307 ج 1) یعنی ان کی بیماری انہیں کی بد اعمالیوں اور بد پرہیزیوں کا نتیجہ ہے۔ باقی رہا اضافۂ مرض کو خدا کی طرف منسوب کرنا تو وہ محض اس لیے ہے کہ وہ مسبب الاسباب ہے اور فاعل حقیقی ہے۔ آیت کے ان دونوں حصوں میں منافقین کے انجام کی علت اور سبب کا بیان تھا ا آگے ان کے انجام کا ذکر ہے۔
18 ۔ منافقین خبث باطن اور فساد عقیدہ کی خطرناک بیماری میں مبتلا تھے۔ خدا کی طرف سے آیات شفا لگاتار نازل ہوتی رہیں۔ مگر انہوں نے ان سے اعراض کیا اور ان سے فائدہ اٹھانے کی ادنی سی کوشش نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا مرض بڑھتا گیا اور آخر ان کی ہلاکت کا باعث ہوا اور وہ دائمی عذاب اور دردناک سزا کے مستحق قرار پائے۔ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ یہاں با سببیت کے لیے اور ما مصدریہ ہے (روح ص 150 ج 1، ابو السعود ص 309 ج 1) اور فعل کانوقسد و دوام و استمرار کیلئے ہے (ابو السعود، روح ص 152 ج 1) یعنی مسلسل کذب بیانی اور نفاق پر لگاتار اصرار کی وجہ سے انہیں مذکورہ سزا کا حکم سنایا گیا ہے اور یہاں جھوٹ بولنے سے وہی نفاق مراد ہے۔ یعنی دل میں اسلام کا انکار چھپائے ہوئے ہیں مگر زبان سے اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِکا اقرار کرتے ہیں۔ ومعناہ بکذبھم وقولھم امنا ولیسوا بمومنین (قرطبی ص 198 ج 1) ای بکذبھم فی قولھم امنا باللہ وبا لیوم الاخر (مدارک ص 16 ج 1) آگے منافقین کی مزید خباثتیں ذکر کرکے ان کے حال کو اور واضح کیا گیا ہے۔
Ayah 2:11ف 19 ۔ منافقین بظاہر مسلمان تھے لیکن در پردہ کافروں سے ربط قائم کر رکھا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے اور اس طرح فتنہ و فساد کیلئے زمین ہموار کر رہے تھے۔ وکان فساد المنافقین فی الارض انھم کانوا مما یلون الکفار ویمالئونھم علی المسلمین بافشاء اسرارھم الیھم واغرائھم علیھم وذلک مما یودی الی ھیج الفتن بینھم (مدارک ص 16 ج 1) والفساد منھا النفاق الذی مما صافوا بہ الکفار فاطلعوھم علی اسرار المومنین فان کل ذلک یودی الی خراب الارض وقلۃ الخیر ونزع البرکۃ وتعطل المنافع (روح ص 153 ج 1) ۔
20 ۔ یعنی ہم نے جو مسلمانوں اور کافروں دونوں فریقوں سے میل جول قائم کر رکھا ہے اس سے ہمارا مقصود صرف دونوں فریقوں میں صلح وآشتی کی فضا پیدا کرنا ہے اور کچھ نہیں ان ھذہ المداواۃ سعی فی الاصلاح بین المسلمین والکفار (کبیر ص 288 ج 1) قالو انما نرید الاصلاح بین المومنین واھل الکتاب (ابن جریر ص 97 ج 1)/
Ayah 2:12ف 21 ۔ یہ منافقوں کے دعویٰ کا نہایت ہی بلیغ طریقہ سے رد ہے۔ جملہ مستانفہ لا کر اور حرف تنبیہ سے سامعین کو متوجہ کر کے حرف تاکید اور کلمہ حصر سے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ یہ لوگ مصلح ہونے کا دعوی کر رہے ہیں حالانکہ فتنہ و فساد کا سرچشمہ یہی لوگ ہیں اور زیادہ تر فساد انہیں کے ذریعے پھیل رہا ہے۔
22 ۔ ان کے دل مرض نفاق کی وجہ سے اس حد تک مردہ اور بےحس ہوچکے تھے کہ اصلاح و فساد میں امتیاز نہیں کرپاتے اور شر و فساد کو امن وصلاح قرار دے رہے ہیں۔ وھذا امانا شئی عن جھل مرکب فاعتقد وا الفساد صلاح واصروا واستکبروا استکبارا (روغ ص 153 ج 1)
Ayah 2:13ف 23 ۔ یہ منافقین کی دوسری خباثت ہے۔ زبان سے آمنا کہہ کر مومن ہونے کا دعویٰ تو وہ پہلے ہی کرچکے تھے۔ یہاں دوبارہ انہیں ایمان لانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ وہ منافقانہ طور پر ایمان لائے ہوئے تھے اب انہیں مخلصانہ طور پر ایمان لانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ ای ایمانا مقروناً بالاخلاص بعیدا عن النفاق (کبیر ص 289 ج 1) مقروناً بالاخلاص خالصا عن شوائب النفاق (روح ص 154 ج 1) اور الناس میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے مراد مہاجرین وانصار ہیں یا وہ مومنین مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لا چکے تھے۔ عبداللہ بن سلام وغیرہ من مومنی اھل لکتاب وقیل کما امن المھاجرون والانصار (معالم ص 29 ج 1) انہا للعرمدای کما امن رسول اللہ و من معدوھم ناس معبودون او عبداللہ بن سلام واشیاعہ (کبیر ص 288 ج 1، مدارک ص 17 ج 1) ۔
24 ۔ یہ منافقین کا قول ہے اور لفظ سفہاء سے انہوں نے صحابہ کرام پر طنز کیا ہے یعنی ہم (خاکش بدہن) ان بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں جو اپنے نفع ونقصان کو بھی نہیں سوچتے۔ وانما سفہوھم جھلا منھم حیث اشگغلوا بمالایجدی فی زعمھم (روح ص 155 ج 1) ۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ منافقین صاحب اقتدار لوگ تھے وہ دولت واقتدار کے نشہ میں مخمور طبقہ دین اسلام کو باطل سمجھتا تھا اور جو شخص باطل دین کو قبول کرے وہ بیوقوف ہوتا ہے (کہ ص 289 ج 1) جیسا کہ آج کل روشن خیالی کے مرض میں مبتلا اور نشہ اقتدار میں بد مست طقہا دین کا درد رکھنے والوں اور ان کی خدا اور رسول کے احکام سے بغاوت پر حرف گیری کرنے والوں کو کم فہم، دقیانوی اور موجودہ دور کے تقاضوں سے بیخبر وغیرہ القاب سے سرفراز فرماتے ہیں۔ یہ بعینہ ان منافقین کی تقلید ہے۔
25 ۔ یہاں بھی اسی زور اور تاکید کے ساتھ منافقین کا رد کیا گیا ہے۔ یعنی اصل میں بیوقوف تو وہ خود ہیں جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کے متفقہ دین کو قبول کرنیوالوں پر سفاہت اور کم عقلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ الا انھم ھم السفہاء دون المونین المصدقین باللہ وبرسولہ وثوابہ و عقابہ (ابن جریر ص 99 ج 1) ۔
26 ۔ ان کی جہالت اور نادانی کا یہ عالم کہ وہ اپنی اس کھلی ہوئی حماقت اور سفاہت کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔
فائدہ : ان آیتوں سے صحابہ کرام ؓ کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوئی ہے یہ آیتیں ان کے مومنین مخلصین ہونے کا بین اور لافانی ثبوت ہیں ان کا ایمان اس قدر کامل، شوائب نفاق سے اس قدر پاک، خدا کے نزدیک اس قدر پسندیدہ اور مقبول ہے کہ اسے منافقین کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے نیز اس مبارک جماعت کو بیوقوف کہنے والوں کو پرلے درجہ کے بیوقوف قرار دیا ہے۔
Ayah 2:14ف 27 ۔ یہ منافقوں کی تیسری خباثت ہے کہ جب وہ بااثر اور مخلص مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم خالص ایمان لا چکے ہیں آمنا سے منافقین مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلانا چاہتے تھے کہ اب انہوں نے نفاق چھوڑ دیا ہے اور دل سے خالص ایمان قبول کرلیا ہے کیونکہ ان کا زبانی ایمان تو مسلمانوں کو پہلے بھی معلوم تھا۔ فالمراد اخلصنا بالقلب والدلیل علیہ انا الاقرار باللسان کان معلوما منھم (کبیر ص 309 ج 1) مگر یہی لفظ ان کے نفاق کی غمازی کرتا ہے کیونکہ مسلمانوں کو پہلے سے اس نفاق کا علم تھا اب اس کی تردید کیلئے اور ان کے دلوں میں اپنے اخلاص کا سکہ بٹھانے کے لئے انہیں کوئی تاکیدی جملہ استعمال کرنا چاہئے تھا مگر اس کے باوجود وہ سرسری طور پر صرف اٰمَنَّا کا لفظ استعمال کرتے ہیں اس لیے کہ نفاق قلبی کی وجہ سے وہ تاکیدی جملے کو گوارا نہیں کرسکتے۔
28 ۔ خلا کا صلہ عام طور پر با آتا ہے مگر یہاں الی آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں خلا ذہاب کے معنوں کو متضمن ہے اور مطلب یہ ہے کہ منافقین مسلمانوں سے ملنے کے بعد جب اپنے لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو وہاں مسلمانوں کے سامنے کئے ہوئے اقرار کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ اس تضمین کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے منافقین کی منافقت خوب عیاں ہوجاتی ہے۔ لہذا الی ذاھبین محذوف سے متعلق ہے جو خلوا کے فاعل سے حال ہے۔ ای خلوا ذاھبین الی شیاطینہم۔ اور شیاطین سے علمائے یہود، اور شرک وکفر کے لیڈر مراد ہیں۔ شیاطینھمسادتھم وکبراءھم و رؤساء ھم من احبار الیھود رءوس المشرکین والمنافقین (ابن کثیر ص 501 ج 1)
29 ۔ یعنی دین اور ایمان اور عقیدہ میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ انا صاحبوکم وموافقوکم علی دینکم (مدارک ص 17، 18 ج 1)
30 ۔ یعنی ہم دل سے تھوڑے مسلمان ہیں۔ دل سے تو تمہارے ساتھ ہیں۔ مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار محض استہزاء اور تمسخر کے طور پر اور انہیں بیوقوف بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ تاکہ وہ ہمیں مسلمان سمجھیں اور ہم سے مسلمانوں کا سا معاملہ کریں۔ ہمارا مال وجان محفوظ ہوجائے اور ہمیں مال غنیمت وغیرہ میں سے حصہ مل جایا کرے۔ انما نستخف بھم فی ذلک القول لصون دمائنا واموالنا وذریاتنا (نہر ص 70 ج 1) ۔
Ayah 2:15ف 31 ۔ بعض اوقات " جرم " کی سزا پر لفظ " جرم " کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس تمسخر اور استہزا کی سزا دیگا۔ ان ینتقم منھم ویعاقبہم ویسخر بہم ویجازبھم علی استھزائہم فسمی العقوبۃ باسم الذنب (قرطبی ص 207 ج 1) اور بعض نے کہا کہ جس طرح منافقین مسلمانوں کو بنا رہے ہیں اسی طرح اللہ بھی منافقوں کو بنا رہا ہے اور ان سے تمسخر کا سا معاملہ کر رہا ہے مثلا دنیا میں ان پر اسلام کے احکام جاری کرا رکھے ہیں اور انہیں مہلت دے رکھی ہے۔ جب وہ کفر وسرکشی کی انتہا کو پہنچ جائینگے تو اچانک دھر لیے جائینگے۔ منافقین ان چیزوں کو اپنے حق میں مفید سمجھ رہے ہیں مگر حقیقت میں یہ چیزیں ان کی تباہی اور بربادی کا پیش خیمہ ہیں۔ الایۃ جاریۃ علی سبیل التمثیل والمراد یعاملھم سبحانہ معاملۃ المستھزئ اما فی الدنیا باجراء احکام الاسلام واستدراجھم من حیث لا یعلمون (روح ص 159 ج 1)
32 ۔ دوسری تفسیر کے مطابق یہ اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ کا بیان ہے۔ معطوف علی قولہ سبحانہ وتعالی يَسْتَهْزِئُ بِهِمْکالبیان لہ علی رائ (روح ص 159 ج 1) فِىْ طُغْيَانِهِمْ ، وَيَمُدُّھُمْ سے متعلق ہے اور يَعْمَھُوْنَ ضمیر مفعول سے حال ہے۔ یعنی وہ انہیں سرکشی اور گمراہی میں بڑھا رہا ہے اور وہ بےاطمینانی اور شک و تردد میں حیران و سرگرداں پھر رہے ہیں۔
Ayah 2:16ف 33 ۔ اُولٰۗىِٕكَ سے مذکورہ منافقین کی طرف اشارہ ہے جن کی خباثتوں کا ابھی ابھی ذکر ہوا ہے۔ ان کی تمام خباثتوں کا سرچشمہ اختیاری گمراہی ہے۔ انہوں نے راہ ہدایت کو چھوڑ کر راہ ضلالت پر چلنے کی ٹھان لی ہے۔ اشتراء کے معنی خریدے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ خریداری کیلئے ضروری ہے کہ قیمت خریدار کے پاس موجود ہو۔ یہاں ہدایت کو گمراہی کی قیمت قرار دیا گیا ہے جس کے عوض منافقوں نے گمراہی مول لی تو اس سے لازم آتا ہے کہ منافقین پہلے ہدایت پر تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ شروع ہی سے منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں اشتراء بمعنی استبدال نہیں بلکہ محض ترجیح اور اختیار کے معنی میں ہے ان الاشتراء مجاز عن الاختیار فکانہ تعالیٰ قال اختاروا الضلالۃ علی الھدی (روح ص 191 ج 1) یعنی انہوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی اور ہدایت کی بجائے گمراہی کو اختیار کیا۔ لیکن اس صورت میں بالہدای کی باء بمعنی علی ہوگی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اشتراء اپنے حقیقی معنوں ہی میں ہے اور ہدایت سے مراد وہ فطری ہدایت ہے جو اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے۔ المراد بالھدی الجبلی وقد کان حاصلا لھم حقیقۃ فان کل مولود یولد علی الفطرۃ (روح ص 191 ج 1) اس صورت میں تمام الفاظ اپنی حقیقت پر رہتے ہیں اور کسی قسم کے مجاز کا ارتکاب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
34 ۔ مگر یہ سودا ان کیلئے نفع بخش ثابت نہ ہوا اور ہوتا بھی کیسے انہوں نے یہ سودا ہی بےعقلی اور بےبصیرتی سے کیا ہے اور ایک ایسی چیز خرید لی ہے جس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔
Ayah 2:17ف 35 ۔ عام مفسرین کی رائے مطابق اب یہاں سے منافقوں کی دو مثالیں بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی مثال مَتلُھُم سے لے کر لَایَرْجِعُوْن تک اور دوسری ۙاَوْ كَصَيِّبٍ سے لیکر آخر رکوع تک۔
36 ۔ آگے چل کر ان آگ جلانے والوں کے لیے جمع کی ضمیر ذکر کی گئی ہے۔ اس لیے یہاں الذی معنی جمع ہے۔ اسْـتَوْقَدَ اور حَوْلَہٗ میں لفظ کے لحاظ سے ضمیر واحد استعمال کی گئی ہے اور جمع کی ضمیروں میں معنی کا لحاظ کیا گیا ہے۔
37 ۔ یہ ما قبل کی تفسیر ہے یعنی جب آگ کی وجہ سے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو اچانک آگ بجھ گئی اور وہ روشنی ان سے سلب کرلی گئی اور وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چھوڑ دئیے گئے اور انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ اس تمثیل میں منافقین کے زبانی اقرار ایمان کو آگ جلانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اظہار اسلام کے بعد بطور مسلمان جو فوائد انہیں حاصل ہوئے اسے ماحول کی روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور روشنی سلب کرلینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا نفاق نیص (علیہ السلام) پر ظاہر کر کے انہیں ان فوائد سے محروم کردیا اور انہیں پھر سے کفر وضلالت کی تاریکیوں میں چھوڑ دیا (کبیر ص 294 ج 1) ۔
Ayah 2:18ف 38 ۔ اگرچہ ان کے ظاہری حواس درست ہیں لیکن جب انہوں نے ان حواس سے کام نہ لیا، کانوں سے حق نہ سنا۔ زبان سے حق کا اقرار نہ کیا، اور بصیرت کی آنکھوں سے حق کو نہ دیکھا تو گویا ان کے حواس ہی بیکار ہوچکے ہیں۔ اور وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ کانت حواسہم سلیمۃ ولکن لما سدوا عن الاصاغۃ الی الحق مسامعہم وابوا ان ینطقوا بہ السنتھم وان ینظروا ویبصروا بعیونھم جعلوا کانما ایفت مشعرھم (مدارک ص 20 ج 1) ۔
39 ۔ یعنی اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی راہ نہیں۔ لیکن حضرت شیخ علیہ الرحمۃ والغفران نے فرمایا کہ دنیا میں جب بھی کسی داعی توحید نے دعوت توحید پیش کی ہمیشہ لوگ دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ کچھ لوگوں نے دعوت توحید کو مان لیا اور مومنین کہلائے اور کچھ لوگوں نے اس دعوت کو نہ مانا وہ کفار کے نام سے موسوم ہوئے اگر مومنین کو مادی اور دنیوی اقتدار بھی حاصل ہوگیا تو کافروں میں خوشامدی لوگوں کی ایک جماعت پیدا ہوگئی۔ یہ لوگ ایک طرف مسلمانوں کے اقتدار سے مرعوب و خائف ہوتے اس لیے ان کے سامنے اسلام کا اظہار کرتے اور اپنے کو اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ ظاہر کرتے اور دوسری طرف کافروں سے ملے رہتے۔ یہ منافقین کی جماعت ہے۔ کافر بھی اسلام اور مسلمانوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں لیکن منافقین کافروں سے بھی زیادہ مضر اور خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ منافقین مسلمانوں میں ملے جلے رہتے ہیں اور مسلمان ان کو اپنی جماعت کے آدمی سمجھتے ہیں اس طرح منافقوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ ریشہ دوانیاں کرنے کا خوب موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے بن کر اس قدر نقصان پہنچاتے ہیں کہ اتنا دشمن اور بیگانے بھی نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں جماعتوں یعنی مومنین، کفار اور منافقین کا حال بیان کرنے کے بعد آخرالذکر دو جماعتوں کا حال خوب واضح کرنے کے لیے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک اعلانیہ کافروں کیلئے یعنی مَثَلُھُمْ سے لَا یَرْجِعُوْنَ تک اور ایک منافقوں کیلئے یعنی اَوْکَصَیِّبٍ سے آخر رکوع تک اس لیے مثلہم کی ضمیر مطلق کفار کی طرف راجع ہے۔ پہلی مثال کافروں کیلئے اور اس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًاسے آنحضرت ﷺ مراد ہوں گے جنہوں نے آیات بینات کے ذریعے رشد وہدایت کی آگ جلائی فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ مَا حَوْلَهٗ کے بعد یہ عبارت محذوف ہے وعندہ رجال اٰخرون۔ یعنی اس آگ جلانے والے کے پاس کچھ اور لوگ بھی موجود تھے مگر یہ لوگ اس آگ کی روشنی سے محروم رہے کیونکہ آگ کے لیے روشنی کے ساتھ ساتھ بینائی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ذَھَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِم ْاللہ نے ان سے نور بصیرت ہی چھین لیا۔ یہ کفار مکہ تھے جو آگ جلانے والے کے پاس موجود تھے جب قرب و جوار کے لوگ اس نور ہدایت سے مستفید ہورہے تھے اس وقت کفار مکہ ضد وعناد اور بغض وحسد کی وجہ سے کفر وعصیان اور جحود و انکار پر کمر بستہ ہوگئے تو اس کا لازمی وتکوینی نتیجہ یہ ہوا کہ ان سے وہ نور بصیرت جو فطرۃً ہر انسان کو ملتا ہے چھین لیا گیا، اور ان کے دلوں سے احساس حق کی صلاحیت سلب کرلی گئی۔ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ ۔ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر جباریت ثبت کردی گئی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے گئے اور انہیں گھپ اندھیرے میں چھوڑ دیا گیا کہ اب وہ کبھی راستہ نہیں دیکھ سکیں گے۔ ۻ بُكْمٌ عُمْىٌ فَھُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ۔ اس آیت کا مفہوم بعینہ وہی ہے جو خَتَمَ اللہ الخ کا ہے۔ بہرے اور اندھے تو اس لیے کہ ان کے کانوں پر مہر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ گونگے اس لئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ جب ان میں حق سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں تو حق گوئی کا وجود بھی نہیں ہوگا۔ جب کچھ سمجھیں گے ہی نہیں تو بولیں گے کیا ؟ اور لَا یَرْجِعُوْنَ کا یہاں وہی مفہوم ہے جو وہاں لَا یُوْمِنُوْنَ کا ہے۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ یہاں کفار کی ذوات کو ذات مستوقد سے تشبیہ نہیں دی گئی بلکہ ان کے قصے کو قصۂ مستوقد سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وانما شبھت قصتھم بقصۃ المستوقد (کبیر ص 295 ج 1) ۔
Ayah 2:19ف 40 ۔ مثال فریق ثالث یعنی منافقین۔ اَوْ کَصَیِّبٍ پہلی تفسیر کے مطابق یہ منافقین کی دوسری مثال ہے اور اَوْ تخییر کے لیے ہے اور حضرت شیخ (رح) کی تفسیر کے مطابق اَوْ تنویع کیلئے ہے۔ اور یہ منافقین کے حال کی واحد تمثیل ہے اور پھر اس تمثیل کی دو شقیں ہیں ایک وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ تک اور دوسری یَکَادُ الْبَرْقُ سے آخر رکوع تک۔ اور صَیِّبٌ سے پہلے لفظ ذوی یا اصحاب محذوف ہے ای کا صحاب صیب (معالم ص 31 ج 1) یعنی منافقون کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو شدید بارش میں گھر جائیں اور صَیِّب کے معنی موسلا دھار بارش کے ہیں۔
41 ۔ سماء ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اوپر کی جانب ہو اسماء کل ما علاک فاظلک (قرطبی ص 216 ج 1) اور یہاں سماء سے مراد بادل ہیں۔ ای من السحاب (معالم ص 31 ج 1) ۔
42 ۔ یجعلون اصابعہم۔ فیہ اندماج ای فی ذلک الموضع رجال قاعدون او لفظۃ ذوی محذوفۃ قبل صیب۔ یجعلون الخ ظلمات اور رعد سے متعلق ہے اور حَذَرَ الْمَوْت۔ یَجْعَلُوْنَ کا مفعول لہ ہے جو اس فعل کی علت بیان کر رہا ہے یعنی اس ڈر سے کہ کہیں صواعق کی گراجدار آواز سے وہ ہلاک نہ ہوجائیں وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں تاکہ وہ صواعق کی آواز سن ہی نہ سکیں۔ اس تمثیل میں صیب سے مراد ایمان یا قرآن ہے۔ ظلمات اور رعد سے وہ شدائد اور تکالیف مراد ہیں جو ایمان لانے کے بعد برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یا اس سے قرآنی وعیدیں اور تخویفیں مراد ہیں اور برق سے ایمان کے دنیوی فوائد یا قرآن میں رشد وہدایت کا ذکر مراد ہے اور صواعق سے مراد شرعی تکالیف یا قرآن کی وعد وعید کی آیات ہیں (کبیر ص 294 ج 1، معالم ص 32 ج 1، قرطبی ص 219 ج 1 وغیرہ) منافقین کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے تاکہ قرآن نہ سن سکیں کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ قرآن سننے سے کہیں ان کے دلوں میں ایمان نہ داخل ہوجائے اور ایمان قبول کرنے کو وہ موت کے مرادف سمجھتے تھے۔ جعلھم اصابعھم فی اذانھم لئلا یسمعوا القران فیؤمنوا بہ وبمحمد (علیہ السلام) وذالک عندھم کفر والکفر موت (قرطبی ص 218 ج 1)