2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayah 2:41

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور مان لو اس کتاب کو جو میں نے اتاری ہے98 سچ بتانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے اور مت ہو سب میں اول منکر اس کے99 اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا100 اور مجھ ہی سے بچتے رہو

ف 98 ۔ یعنی جو کتاب میں نے اتاری ہے اور جو پیغمبر میں نے بھیجا ہے جن کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے ان پر ایمان لاؤ۔ یہ چوتھا امر ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ ۔ اللہ تعالیٰ کا جو دین تورات کی صورت میں تمہارے پاس موجود ہے۔ قرآن اور حضرت محمد ﷺ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ توحید و رسالت اور دیگر عقائد جو تورات میں پیش کیے گئے تھے حضرت محمد ﷺ نے بھی قرآن کے ذریعے وہی دعوت اور وہی عقائد پیش کیے ہیں۔ ای موافقا لما معکم من التورۃ فی التوحید والنبوۃ والاخبار ونعت النبی ﷺ (معالم ص 45 ج 1) اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ صرف اللہ ہی کو مالک ومختار اور متصرف و کارساز سمجھیں اور حاجات ومشکلات میں صرف اسے ہی نصرت ومدد کیلئے پکاریں چناچہ تورات کا یہ حوالہ خود قرآن نے پیش کیا۔ وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا (بنی اسرائیل :2) تورات کے اس مضمون کی قرآن مجید نے کئی جگہ تصدیق کی ہے چناچہ سورة مزمل میں ارشاد ہے۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلاً ۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی ہر قسم کی عبادت کے لائق نہیں، اس کے سوا حاجات ومشکلات میں کوئی ملجا وماوی نہیں لہذا اسے ہی پکارو، اسے ہی اپنا کارساز سمجھو، ضرورتوں اور مصیبتوں میں اسی ہی کی طرف رجوع کرو۔ 99 ۔ یہ پہلی نہی ہے۔ کَافِرٍ لفظاً مفرد ہے لیکن معنیً جمع ہے۔ معناہ اول من کفر بہ او اول فریق او فوج کافر بہ (کبیر ص 490 ج 1، قرطبی ص 233 ج 1) ان یہودیوں سے پہلے مشرکین عرب دعوت توحید کا انکار کرچکے تھے پھر انہیں سب سے پہلے انکار کرنے والے کیوں فرمایا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی حضرت محمد ﷺ کی آمد اور آپ پر نزول قرآن کو اچھی طرح جانتے تھے۔ آپ کے اوصاف حمیدہ تورات میں مذکور تھے۔ آپ کی بعثت سے پہلے یہودی عالم آپ کے ظہور کی خوشخبری دیا کرتے تھے۔ اور ان کو تورات کی وہ آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جن میں قرآن اور صاحب قرآن کا ذکر ہوتا تھا تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ بہت پہلے قرآنی دعوت کو قبول کرتے مگر اس کے برعکس انہوں نے جانتے پہچانتے اس کا انکار کردیا۔ اب ان کے مریدین اور مقتدین نیز ان کی اولاد ان کی دیکھا دیکھی کفر و انکار کرے گی۔ فان وظیفتکم ان تکونوا اول من اٰمن بہ لما انکم تعرفون حقیقۃ الامر (روح ص 224 ج 1) 100 ۔ یہ دوسری نہی ہے۔ یہودیوں کے علماء اور پیروں کی ساکھ اپنی قوم میں خاصی مضبوط تھی۔ عوام کو ان کے ساتھ گہری محبت اور عقیدت تھی۔ عوام ہمیشہ ان کی خوشنودی کے لیے انہیں نذریں نیازیں پیش کیا کرتے تھے۔ علمائے یہود کو یقین تھا کہ اگر ان کے عوام نے حضرت محمد ﷺ کو مان لیا تو ان کی ریاست اور شان و شوکت خاک میں مل جائیگی اور ان کی نذروشیرینی کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ چناچہ وہ تورات کی ان آیتوں کو اپنے عوام سے چھپانے لگے جن میں حضرت محمد ﷺ کی نعت اور آپ کی صفات و علامات بیان کی گئی تھیں۔ یہاں اسی کرتوت سے علماء یہود کو روکا گیا ہے اور لفظ اشتراء یہاں اپنے حقیقی معنوں میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد محض ترجیح اور استبدلال ہے۔ یعنی ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو اختیار کرنا۔ اس آیت میں دنیوی دولت اور فانی منافع کو اظہار حق پر ترجیح دینے کو اشتراء سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ثَمَناً کے ساتھ لفظ قَلِیْلاً بڑھانے سے دولت دنیا کی حقارت کی طرف اشارہ ہے یعنی میری آیتوں کے عوض تم جو رقم وصول کرتے ہو، وہ میری آیتوں یا دولت آخرت کی نسبت نہایت قلیل اور حقیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی آیتوں کو تھوڑی رقم کے عوض بیچنا جائز نہیں ہے اور زیادہ رقم کے عوض جائز ہے۔ (من الکبیر ص 491 ج، والروح ص 245 ج 1 وغیرہما) حق چھپا کر پیٹ کا جہنم بھرنے کی یہ سنت آج بھی جاری ہے۔ یہودیوں کی طرح بہت سے مولوی اور پیر آپ کو ایسے نظر آئیں گے جو لوگوں کو گیارھویں شریف کی ترغیب تو دیتے ہوں گے۔ اپنے دادا کی قبر پر حاضر ہو کر چڑھا وے اور نذریں پیش کرنے کی تلقین کرتے ہوں گے۔ حاجتوں اور مصیبتوں میں اولیاء اللہ کی قبروں پر حاضری دیکر انہیں مدد کیلئے پکارنے کی تعلیم بھی دیتے ہونگے مگر اپنے مریدوں کے سامنے آپ نے انہیں قرآن مجید کی ان آیتوں کا وعظ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا ہوگا جن میں اللہ نے غیر اللہ کی نذرونیاز اور چڑھاوے کو حرام کہا ہے اور جن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ میرے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں، میرے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز نہیں اس لیے میرے سوا حاجات ومشکلات میں کسی اور کو مت پکارو، کیونکہ ایسا کرنے سے یہودیوں کی طرح انہیں بھی یقین ہے کہ ان کی آمدنیاں بند ہوجائیں گی اور ان کا جھوٹا وقار ختم ہوجائے گا۔
Ayahs 2:42–43

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور مت ملاؤ صحیح میں غلط101 اور مت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ

ف 101 ۔ یہ تیسری نہی ہے۔ وَتَکْتُمُوْا الْحَقَّ اس کا عطف تَلْبِسُوْا اور یہ چوتھی نہی ہے۔ یہودی خود بھی کفر اور گمراہی میں مبتلا تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی ہر ممکن طریقہ سے گمراہ کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلی آیت میں خود یہود کو کفر وضلالت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔ اب اس آیت میں انہیں دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے سے روکا گیا ہے۔ اعلم ان قولہ سبحانہ وامنوا با انزلت امر یترک الکفر والضلال وقولہ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ ۔ علمائے یہود عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دو طرح کے حربے استعمال کرتے تھے جن لوگوں کوحضور ﷺ کی تورات میں بیان کی گئی صفات و علامات کا تھوڑا بہت علم تھا ان کے دلوں میں تو شبہات پیدا کر کے انہیں یقین دلا دیتے کہ یہ صفات و علامات اس پیغمبر پر منطبق نہیں ہوتیں۔ ایسے لوگوں کی ہدایت کا جو ادنی سا امکان پیدا ہوتا اسے وہ اس طرح ختم کردیتے۔ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ میں اسی کرتوت سے منع فرمایا ہے۔ اور جو لوگ بالکل ہی بیخبر اور جاہل تھے ان سے وہ حق بات کو چھپاتے تاکہ وہ اندھیرے ہی میں رہیں اور ان کی ہدایت پانے کا کوئی امکان پیدا ہی نہ ہو۔ وَتَكْتُمُوا الْحَــقَّ میں اس سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم لبس وکتمان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ خلق خدا کو گمراہ کرنا کتنا بڑا جرم ہے۔ اور اس کی سزا کس قدر سخت ہے اس لیے تمہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۔ یہ پانچواں امر ہے۔ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۔ یہ چھٹا امر ہے یعنی خود بھی ایمان لاؤ اور دوسرے لوگوں کو بھی ایمان لانے سے نہ روکو اور اس کے بعد اسلام کے دوسرے اعمال کی بھی پابندی کرو۔ بدنی اور مالی عبادتوں میں سب سے اہم نماز اور زکوۃ تھی اس لیے اس کا ذکر کردیا۔ نیز ان دونوں عبادتوں میں ان کی بنیادی بیماری یعنی حب دنیا کا مکمل علاج تھا اس لیے ایمان کے بعد سب سے پہلے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا۔ نماز سے باطن کی اصلاح ہوتی ہے۔ اس سے بغض وحسد کی بیماری سے دلوں کو شفا حاصل ہوتی ہے۔ اور زکوۃ سے حرص وطمع اور حب جاہ ومال سے نجات مل جاتی ہے۔ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ ۔ یہ ساتواں امر ہے۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ پورے پورے امت محمدیہ میں شامل ہوجاؤ اور اسلام کے تمام احکام قبول کرلو۔ رَاکِعِیْنَ سے مراد امت محمدیہ کے نمازیں ہیں کیونکہ رکوع امت محمدیہ کی خصوصیت ہے۔ ای صلوا مع الذین فی صلوتھم رکوع (معالم ص 46 ج 1)
Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے ہو اپنے آپ کو102 اور تم تو پڑھتے ہو کتاب پھر کیوں نہیں سوچتے ہو

ف 102 ۔ یہاں استفہام اظہار حیرت وتعجب کے لیے ہے یعنی تمہارا حال قابل تعجب ہے کہ تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو مگر خود نیکی نہیں کرتے ہو۔ یہ خطاب علمائے یہود سے ہے کہ وہ لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کی تلقین کرے تھے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ تورات میں نبی کریم (علیہ السلام) کی صداقت کی نشانیاں موجود تھیں مگر انہوں نے آپ کو نہ مانا۔ ان الیھود کانوا یامرون غیرھم باتباع التورۃ ثم انھم خالفوہ لانھم وجدوا فیھا ما یدل علی صدق محمد ﷺ ثم انھم ما امنوا بہ (کبیر ص 490 ج 1) بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب مشرکین مکہ یا یہودیوں کے مسلمان رشتہ داروں میں سے کوئی شخص پوشیدہ طور پر علمائے یہود سےحضور ﷺ کے بارے میں پوچھتا تو اسے کہتے کہ وہ پیغبر سچا ہے اسے مان لو لیکن خود اسے نہیں مانتے تھے کیونکہ انہیں اپنی نذروں اور نیازوں کے بند ہوجانے کا ڈر تھا۔ اذا جاء ھم احد فی الخفیۃ لاستعلام امر محمد ﷺ ققالوا ھو صادق فیما یقول وامرہ حق فاتبعوہ وھم کانوا لا یتبعونہ لطمعہم فی الھدایا والصلاۃ التی کانت تصل الیھم من اتباعھم (کبری ص 494 ج 1) نزلت فی علماء الیھود وذلک ان الرجل منھم کان یقول لقریبہ وحلیفہ من المومنین اذا سالہ عن امر محمد ﷺ اثبت علی دینہ فان امرہ حق وقولہ صدق (معالم ص 46 ج 1) وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۔ اور تم تورات کے عالم ہو۔ اور اسے پڑھتے رہتے ہو۔ اس میں حضرت خاتم النبیین ﷺ کی صفات و علامات مذکور ہیں۔ نیز اس میں نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہے۔ معناہ تقرءون التورۃ وتدرسونھا و تعلمون ما فیھا من الحث علی افعال البر والاعراض عن افعال الاثم (کبیر ص 490 ج 1) اَفَلَاتَعْقِلُوْن۔ تعجب ہے کہ مندرجہ بالا امور کے باوجود تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور مدد چاہو صبر سے اور نماز سے103 اور البتہ وہ بھاری ہے مگر انہی عاجزوں پر

ف 103 ۔ یہ آٹھواں امر ہے علمائے یہود کے اسلام (مسئلہ توحید) قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ اور ساتھ ہی حرام خوری کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہوچکے تھے۔ ان کے دلوں سے خوف خدا اور احساس حق بالکل محو ہوچکا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کا علاج بیان فرمایا۔ متصل بما قبلہ کانھم لما امروا بما یشق علیھم لما فیہ من الکفۃ وترک الریاسۃ والاعراض عن المال عولجو بذالک (بیضاوی ص 23) صبر اور نماز کی پابندی سے تم حب جاہ ومال کے جذبہ کو دبا سکو گے۔ کیونکہ جب تم نفس کو مرغوباتِ نفسانیہ سے روکنے کا پختہ ارادہ کرلو گے اور یہی صبر کا مفہوم ہے اور ساتھ ہی نماز کے پابند ہوجاؤگے تو نماز کا خشوع اور اس میں اللہ کا ذکر اور وعدو وعید اور ثواب و عقاب کی یاد یہ سب چیزیں مل کر تمہارے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک کر کے ان میں آخرت کی رغبت اور محبت بھردیں گی (من الکبیر ص 497 ج 1، الروح ص 249 ج 1) مشہور ہے۔ من یتصبر یصبرہ اللہ۔ صبر آر و آر زوہا راشتاب صبر کن واللہ اعلم بالصواب اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ ۔ اور وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ۔ اِنَّھَا کی ضمیر خصلۃ کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد استعانت بالصبر والصلوۃ ہے جو ماقبل سے مفہوم ہے یعنی نفس کو مرغوبات سے روکنا اور اسے دنیا کے گوناگوں منافع اور بوقلموں تحائف کو ترک کرنے پر آمادہ کرنا بہت ہی شاق اور دشوار کام ہے۔ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ ۔ البتہ جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہے اور وہ احکام خداوندی کے سامنے جھک جاتے ہیں، ان کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں کیونکہ انہیں تو اپنے آقا کی فرمانبرداری میں لذت محسوس ہوتی ہے۔
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں104 اپنے رب کے اور یہ کہ ان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

ف 104 ۔ لفظِ ظن عربی زبان میں شک اور یقین دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ الظن من الاضداد یکون شکا ویقیناً (معالم ص 47 ج 1) العرب قد تسمی الیقین ظنا والشک ظنا (ابن جریر ص 200 ج 1) یہاں یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یظنون یستیقنون (ابن جریر ص 271 ج 1) والظن ھنا فی قول الجمہور بمعنی الیقین (قرطبی ص 375 ج 1) یعنی وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں کسی کام پر آمادہ کرنے کے لیے دو ہی چیزیں محرک ہوسکتی ہیں۔ یعنی " امید " اور خوف۔ مُلٰقُوا رَبِّھِمْ میں صفت ربوبیت کی صراحت سے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے مہربان رب کے پاس جائیں گے جس سے ان کی تمام امیدیں وابستہ ہیں۔ وَاَنَّھُمْ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ۔ خدا کی طرف واپسی سے فوراً ذہن یوم آخرت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور اس کا نقشہ سامنے آجاتا ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کی حکومت اور عدالت نہیں ہوگی۔ اس سے ترہیب کا پہلو نکلتا ہے اور ان کے خوف آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ قال الشیخ (رح) تعالیٰ ثبت من ھذہ القصۃ ان لا تعبدوا من ھو عدو لکم واتبعوا ھدی الانبیاء علیھم السلام الذی اخذ علیکم العھد باتباعہ حین الاخذ علی ادم (علیہ السلام) حیث قال فمن تبع ھدای فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون فلما عمم الخطاب اولا یقول یَا اَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکم الایۃ فالان خص الخطاب باھل الکتاب بقولہ ۧيٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْاالخ۔ ونفی فی ضمنہ عبادۃ الانبیاء علیہم السلام۔ یعنی قصہ آدم وابلیس سے ثابت ہوا کہ ابلیس، آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم کا سخت دشمن ہے اس لیے اس کی عبادت مت کرو اور انبیاء (علیہم السلام) کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرو کیونکہ اتباع ہدی کا تم سے عہد لیا جاچکا ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے یا ایہا الناس الخ میں خطاب عام کے ذریعے مسئلہ توحید ماننے کی تمام بنی آدم کو دعوت دی اس کے بعد یبنی اسرائیل اذکروا الخ سے خاص اہل کتاب کو اس مسئلہ کی طرف متوجہ کیا عوام ہمیشہ تین گروہوں کے تابع ہوتے ہیں۔ عالموں کے، پیروں اور گدی نشینوں کے اور سوم نوابوں کے بنی اسرائیل کا خطاب عام سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو خطاب کر کے فرمایا کہ میری نعمتوں کو یاد کرو اور میرے احکام کی پیروی کا تم نے جو میرے ساتھ عہد کیا تھا اسے پورا کرو۔ ان دونوں باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ مسئلہ توحید کی مخالفت نہ کرو بلکہ اسے مان لو۔ اس کے عوض میں تم کو مزید نعمتیں دونگا اور دنیا وآخرت میں تم کو اجر عظیم عطا کروں گا۔ وَاٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلْتُ الخ مسئلہ توحید جو میں نے قرآن میں نازل کیا ہے اس کو مان لو یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ تمہاری کتاب تورات میں بھی موجود ہے اگر تم اس مسئلہ کا انکار کرو گے تو تمہاری دیکھا دیکھی تمہارے مرید اور تمہاری رعیت بھی اس کا انکار کرے گی۔ اور اس کا گناہ اور وبال بھی تمہارے سر ہوگا۔ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰ یَتِیْ الخ چند روزہ اور حقیر دنیوی منافع، مذہبی اور خانقاہی ریاست کے بدلے مسئلہ توحید کو نہ چھوڑووَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِل ِالخ۔ نہ بیخبر لوگوں سے مسئلہ توحید کو چھپاؤ اور جن کو اس کا تھوڑا بہت علم ہے ان پر اس کو گڈ مڈ نہ کرو۔ وَلَا تَشْتَرُوْا باٰیٰتِیْ امر مصلح ہے ہے۔ شرک کو چھوڑ کر مسئلہ توحید کو مان کر نماز قائم کرو۔ یہودیوں کے مولویوں، ان کے پیروں اور گدی نشینوں کا جو اقتدار ان کے عوام کے دلوں میں جما ہوا تھا ان کی مذہبی آمریت اور ریاست، عوام سے حاصل ہونے والے مالی اور دنیوی فوائد ان تمام چیزوں کو یکدم چھوڑنا نہایت مشکل کام تھا اور مسئلہ توحید کو ماننے سے یہ سب کچھ چھوڑنا پڑتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم فرمایا۔ کیونکہ نماز سے ظاہری اور باطنی طہارت حاصل ہوتی ہے اور زکوۃ دینے سے ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور حب جاہ ومال میں کمی واقع ہوتی ہے۔ وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۔ اور جب تم مسئلہ توحید کو مان لو گے تو ظاہر ہے کہ تمہاری نذر ونیاز کی تمام آمدنیاں بند ہوجائیں گی۔ اور بہت سے تمہارے مرید اور نیاز مند بھی تم سے منحرف ہوجائیں گے۔ اس لیے اس نقصان کی تلافی کے لیے نیز اس صدمہ کو بردارشت کرنے کے لیے تم صبر اور نماز سے کام لو۔ ۧيٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْاتک اجمال کے بعد تفصیل ہے اور اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَاور وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ ہی کا تفصیلی بیان ہے۔ بنی اسرائیل ایک ایسی قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید ماننے کی وجہ سے اپنی گوناگوں نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا لیکن جب اس قوم نے توحید کو چھوڑ کر شرک کرنا شروع کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے عذاب و عتاب کا نشانہ بنایا۔ اس اجمال کی تفصیل کو آگے پانچ انواع میں بیان کیا گیا ہے۔ نوع اول۔ یہ ترغیب وترہیب پر مشتمل ہے اس میں یہود کے آباء و اجداد پر آٹھ نعمتوں اور دو نقمتوں کا ذکر ہے۔ شروع میں اجمالی طور پر ترغیب وترہیب کا اعادہ ہے اور پھر تفصیل ہے۔ یہ نوع گویا کہ اذکروا نعمتی اور ایای فارھبون کی تشریح و توضیح اور تفصیل ہے۔
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کئے105 اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر

ف 105 ۔ یہ ترغیب ہے۔ اس کی تفسیر گزر چکی ہے۔ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ یہاں عالمین سے مراد صرف اس زمانے کے تمام لوگ ہیں یعنی اس آیت میں نزول قرآن کے وقت موجودہ یہودیوں کے باپ دادوں کی، ان کی تمام ہم عصر اقوام پر فضیلت کا اظہار مقصود ہے۔ المراد فضلتکم علی عالمی زمانکم (کبیر ص 500 ج 1، قرطبی ص 376 ج 1، معالم ص 47 ج 1) المراد بالعلمین سائر الموجودین فی وقت التفضیل (روح ص 250 ج 1) لہذا اس سے بنی اسرائیل کی آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت پر فضیلت لازم نہیں آتی۔ اور وجہ افضلیت کے لیے ہمیشہ کوئی امتیازی خوبی ہونی چاہیے اور وہ عقیدہ توحید ہے۔ زمانہ فترت میں صرف بنی اسرائیل ہی ایک ایسی قوم تھی جو مسلک توحید کی صدیوں پابند رہی۔ دنیا کی باقی قومیں کم وبیش شرک میں مبتلا تھیں لیکن رفتہ رفتہ قوم بنی اسرائیل بھی توحید سے دور ہوتی گئی۔ تاآنکہ حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے زمانے تک یہودی کئی قسم کے شرکوں میں مبتلا ہوچکے تھے۔ وَاتَّقُوْا يَوْمًا۔ یہ ترہیب ہے۔ یَوْماً نکرہ ہے۔ اور بعد میں آنے والی اس کی صفات متعین کر رہی ہیں کہ اس سے مراد یوم آخرت ہے۔ دنیا میں جرم کی سزا سے بچنے کے لیے عام طور پر چار ذرائع نجات میں سے کوئی ایک ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر مجرم ان کے ذریعے قرار واقعی سزا سے بچ جاتے ہیں (1) اگر مجرم کا باپ یا دادا یا اوپر کا کوئی مورث یا کوئی اور دور ونزدیک کا رشتہ دار دین یا دنیا کے لحاظ سے بڑا با اثر اور بارسوخ آدمی ہو، لوگ اس کے دنیوی کارناموں سے متاثر ہوں یا اس کی دینی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے اسے اللہ کا ولی مانتے ہوں اور اس سے دلی عقیدت رکھتے ہوں تو ایسے شخص سے تعلق رکھنے والے مجرم کو محض اس تعلق اور انتساب کی بنا پر چھوڑ دیا جاتا ہے (2) کسی با اثر اور صاحب اقتدار آدمی کی سفارش سے بھی مجرم کی سزا معاف کردی جاتی ہے۔ (3) بعض اوقات کچھ دے دلا کر مجرم بری کرالیا جاتا ہے (4) اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر زبردستی مجرم کو چھڑا لیا جاتا ہے۔ یہودیوں میں شرک اور بدعقیدگی اس درجہ راسخ ہوچکی تھی کہ ان کا خیال تھا کہ ان حربوں کے ذریعے آخرت کی سزا سے بھی بچا جاسکے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کردیا کہ وہاں یہ چیزیں کام نہیں آئیں گی۔
Ayah 2:48

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی106 اور قبول نہ ہو اس کی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلا اور نہ ان کو مدد پہنچے

ف 106 ۔ اس میں امر اول کی نفی ہے۔ ای لایغنی احد عن احد (ابن کثیر ص 89 ج 1) لاتقضی یوم القیامۃ نفس عن نفس شیئا عما وجب علیہا ولا تتوب عنھا ولا تحتمل لما اصابہا (روح ص 251 ج 1) وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ۔ یہ امر ثانی کی نفی ہے۔ معتزلہ اور دیگر فرق باطلہ کی منکرہ شفاعت نے اس آیت کے عموم سے نفی شفاعت پر استدلال کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مطلق شفاعت کی نفی نہیں بلکہ شفاعت قہری کی نفی ہے۔ جس طرح یہودیوں کا خیال تھا کہ ہمارے باپ دادا ہم کو ہماری بدعنوانیوں کے باوجود خدا کے عذاب سے چھڑا لیں گے اور اللہ کو ان کی سفارش ماننی پڑے گی۔ یا یہ نفی کفار اور مشرکین سے مخصوص ہے اور مطلب یہ ہے کہ کفار اور مشرکین کے حق میں کسی قسم کی شفاعت قبول نہیں ہوگی۔ والجواب انہا خاصۃ بالکفار للایات الواردۃ فی الشفاعۃ والاحادیث المرویۃ فیھا (ابو السعود ص 521 ج 1) وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ۔ یہاں تیسرے ذریعہ کے نافع ہونے کی نفی ہے۔ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ۔ یہ چوتھے ذریعہ کے غیر نافع ہونے کا اعلان ہے۔ آگے انعامات کی تفصیل ہے۔
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے107 جو کرتے تھے تم پر بڑا عذاب ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو108 اور اس میں آزمایش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی109

ف 107 ۔ یہ پہلا انعام ہے۔ آل فرعون سے مراد یہاں قوم فرعون ہے جو کفر وشرک کے مسلک میں اس کہ ہمنوا تھی۔ اما اٰل فرعون فلا شک ان المراد منہ ھھنا من کان من قوم فرعون وھم الذین عزموا علی اھلاک یبنی اسرائیل (کبیر ص 515 ج 1) اٰل فرعون قومہ واتباعہ واھل دینہ (قرطبی ص 381 ج 1) قوم فرعون سے نجات دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو مظالم ان پر توڑے جاتے تھے اور جو تکلیفیں اور ایذائیں انہیں دی جاتی تھیں ان سے ان کو بچا لیا۔ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ۔ فرعون کی قوم چونکہ حکمران تھی اور بنی اسرائیل محکوم تھے اس لیے قوم فرعون ان کو بیاب ر میں پکڑ لیتے اور ان سے سخت محنت اور مشقت کراتے۔ اس طرح انہیں جسمانی عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ 108 ۔ یہ ذہنی اور روحانی کوفت تھی جو انہیں فرعونیوں کی طرف سے اٹھانی پڑ رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے بیٹوں کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ فرعون نے سن رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ انبیاء و سلاطین پیدا ہوتے رہیں گے (یہاں تک کہ خاتم النبیین ﷺ کا ظہور ہوجائے) ۔ اس سے فرعون نے اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کیا۔ اور بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کا قتل عام شروع کردیا۔ عن ابن عباس ؓ انہ وقع الی فرعون وطبقتہ ما کان اللہ وعد ابراہیم ان یجعل فی ذریتہ انبیاء وملوکا فخافوا علی ذلک واتفقت کلمتھم علی اعداد رجال معھم الشفاء یطوفون فی بنی اسرائیل فلا یجدون مولودا ذکراً الا ذبحوہ (کبیر ص 517 ج 1) ۔ 109 ۔ لفظ " بلاء " نعمت اور مصیبت دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ فیقال للنعمۃ الشدیدۃ بلاء (کبیر ص 517 وغیرہ) یہاں اگر ذلک کا ارشارہ فرعونیوں کے افعال کی طرف ہو تو بلاء کے معنی ابتلاء اور مصیبت کے ہوں گے۔ اور اگر اشارہ نجات دینے کی طرف ہو تو اس کے معنی نعمت کے ہونگے اور یہی زیادہ موزوں ہے۔ البلاء ھھنا ھو المحنۃ ان اشیر بلفظ ذلکم الی صنع فرعون والنعمۃ ان اشیر بہ الی الانجاء وحملہ علی النعمۃ اولی لانہاھی التی صدرت من الرب تعالیٰ ولان موضع الحجۃ علی الیھود انعام اللہ تعالیٰ علی اسلافھم (کبیر ص 518 ج 1، کذا فی الروح ص 254 ج 1 والقرطبی ص 387 ج 1 والبیضاوی ص 24)
Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہاری وجہ سے دریا کو پھر بچا دیا ہم نے تم کو110 اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم کو دیکھ رہے تھے111

ف 110 ۔ یہ دوسرا انعام ہے۔ بِکُمْ میں با بمعنی لام ہے۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے سمندر کو چیر کر اس میں راستے بنائے۔ ای فرقنا لکم (معالم ص 49 ج 1، قرطبی ص 387 ج 1) یا " باء " سببیت کے لیے ہے۔ فرقناہ بسببکم وبسبب انجاء کم (کبیر ص 818 ج، روح ص 25 ج 1) اور البحر سے مراد یہاں بحر احمر ہے جس کا دوسرا نام بحر قلزم ہے ویذکران البحر ھو بحر القلزم (قرطبی ص 390 ج 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شب وروز تبلیغ میں مصروف رہے مگر فرعون اور اس کی قوم پر ان کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ و ارشاد اور معجزات کے ذریعے ان پر حجت خداوندی قائم کردی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مظلوم بنی اسرائیل کی آہ و پکار سن لی جو مدت ہائے دراز سے فرعونیوں کے ظلم وستم وسہہ رہے تھے اب فرعونیوں پر عذاب الٰہی کے نزول کا وقت آپہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کو ساتھ لے کر ہجرت کر جانے کا حکم دیدیا۔ چناچہ وہ راتوں رات چل نکلے اور چلتے چلتے سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ ادھر فرعون کو خبر ہوگئی۔ وہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر ان کی تلاش میں چل نکلا۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ سامنے سمندر ہے اور پیچھے دشمن اور دائیں بائیں پہاڑ تو گھبرا اٹھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی پا کر اپنا عصا سمندر میں مارا جس سے فوراً سمندر کا پانی سمٹ گیا اور اس میں بارہ کشادہ راستے بن گئے۔ اسرائیلی ان راستوں کے ذریعے سمندر پار کر کے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ 111 ۔ جب فرعون لاؤ لشکر لیکر ساحل سمندر پر پہنچا اور سمندر میں خشک راستے دیکھے تو اس نے بھی اپنا گھوڑا سمندر میں اتار دیا اور اس کے پیچھے سارا لشکر سمندر میں گھس گیا۔ جب سارا لاؤ لشکر سمندر میں اتر گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو جاری کر کے سب کو غرق کردیا فرعونیوں کے غرق ہونے کا یہ نظارہ اسرائیلیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
Ayahs 2:51–55

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے چالیس رات کا112 پھر تم نے بنا لیا بچھڑا موسیٰ کے بعد اور تم ظالم تھے

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر معاف کیا ہم نے تم کو اس پر بھی تاکہ تم احسان مانو

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان،

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے113 پھر آلیا تم کو بجلی نے اور تم دیکھ رہے تھے

ف 112 ۔ یہ تیسرا انعام ہے۔ سمندر پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے حکم خداوندی سے کوہ طور پر پہنچے۔ وہاں آپ نے چالیس راتیں بسر کیں۔ اور اللہ کی طرف سے تورات حاصل کی۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ ۔ اِتَّخَذْتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ای اتخذتم العجل الہاً ۔ یعنی تم نے گوسالہ کو معبود بنا لیا (ابو السعود ص 528 ج 1، قرطبی ص 396 ج 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر خود کوہ طور پر چلے گئے تو سامری نے جو ایک منافق تھا، سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو پگھلا کر ان سے بچھڑے کا بت تیار کیا اور حضرت ابن عباس اور معمر کے قول کے مطابق مٹی کی وہ مٹھی جو اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کی سواری کے پاؤں کی جگہ سے اٹھائی تھی اس میں ڈال دی جس سے اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور وہ جاندار بچھڑے کی طرح بولنے لگا۔ فلما جمعوہ القی السامری القبضۃ وقال کن عجلا جسدا لہ خوار فصار کذلک (روح ص 248 ج 16، قرطبی ص 235 ج 1) اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ بچھڑے کے پیٹ کی ساخت میں اس قسم کے سوراخ تھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہوتی تھی اس وقت ہو بہو بچھڑے کی سی آواز پیدا ہوجاتی۔ خوارہ وصوتہ کان بالریح لانہ کان عمل فیہ خروقا فاذا دخلت الریح فی جو فہ خار ولم تکن فیہ حیاۃ وھذا قول مجاھد (قرطبی ص 235 ج 1) سامری نے اسرائیلیوں سے کہا کہ یہ تمہارا رب ہے اس کی پوجا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس میں حلول کیے ہوئے ہے۔ یہی عقیدہ عیسائیوں کا تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) میں حلول کیے ہوئے ہے۔ یہی عقیدہ آج کل کے بعض غالی مبتدعین کا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرومرشد میں داخل ہے۔ چناچہ اسرائیلی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے روکنے کے باوجود گوسالہ سامری کی پوجا کرنے لگے۔ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ یعنی اس شرک کی وجہ سے تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ ۔ اس ارتکاب شرک کے بعد جب تم نے سچی توبہ کرلی تو ہم نے تمہارا یہ قصور معاف کردیا۔ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ تاکہ تم اس انعام کا شکریہ ادا کرو اور آئندہ کے لیے شرک سے باز رہو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو شعار زندگی بناؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چند دنوں کے لیے ہی اپنی امت سے غائب ہوئے تھے کہ سامری نے مکروفریب سے ان کی امت کو گمراہ کردیا۔ اس قسم کے سامری تقریباً ہر امت میں موجود ہوتے ہیں۔ امت محمدیہ میں بھی آج کئی مذہبی اور سیاسی سامری موجود ہیں جنہوں نے کمال عیاری سے سادہ لوح قسم کے لوگوں کو غلط راہ پر ڈال رکھا ہے۔ وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ ۔ یہ چوتھا انعام ہے۔ الکتاب اور الفرقان سے مراد تورات ہے کیونکہ یہ دونوں اس کی صفتیں ہیں۔ ان التورۃ لھا صفتان کونھا کتابا منزلا وکونہا فرقاناً تفرق بین الحق والباطل (کبیر ص 524 ج 1 کذا فی المعالم ص 52 ج 1) لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ تاکہ ایک جامع نظام زندگی تمہارے ہاتھ میں آجائے اور تم زندگی کے ہر شعبہ میں سیدھری راہ پر چل کر رضائے الٰہی حاصل کرسکو۔ پانچواں انعام۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے اور قوم کو گوسالہ پرستی میں مبتلاپایا تو انہیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ فَتُوْبُوْٓا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۔ یعنی جنہوں نے گوسالہ کی پوجا نہیں کی وہ ان کو قتل کریں جنہوں نے اس کی پوجا کی ہے۔ ای لیقتل بعضکم بعضا۔ وروی انہ امر من لم یعبد العجل ان یقتل من عبدہ (روح ص 260 ج 1) توبہ کی اصل تو یہ کہ آدمی گذشتہ گناہوں پر نادم ہو اور آئندہ کیلئے گناہوں کے ترک کا عزم مصمم کرے مگر اسرائیلیوں کی توبہ کی قبولیت کے لیے قتل نفس کو شرط قرار دیا گیا۔ لان اللہ تعالیٰ اوحی الی موسیٰ (علیہ السلام) ان شرط تو بھم قتل النفس (کبیر ص 527 ج 1) ۭ اِنَّھٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے جب اس نے ان کے دلوں کا اخلاص دیکھا تو ان کی توبہ قبول کرلی اور انہیں معاف کردیا۔113 ۔ یہ چھٹا انعام ہے یعنی جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں اس وقت تک ہم تمہارے بیان کی تصدیق نہیں کریں گے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لیکر اپنی قوم کے پاس آئے اور قبول توبہ کے مذکورہ بالا واقعہ کے بعد ان سے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس پر عمل کرو تو ان میں بعض گستاخ اور ضعیف الایمان قسم کے لوگوں نے کہا کہ جب تک ہم خود تورات کے متعلق اللہ کا حکم نہیں سنیں گے اس وقت تک نہیں مانیں گے۔ نیز ان میں سے بعض نے کہا کہ تورات کے احکام مشکل میں ہم سے ان پر عمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مشکل احکام نافذ فرمائے جس طرح آج کل نئی روشنی سے متاثر ذہنیتیں رکھنے والے مسلمان کہتے ہیں کہ جی قرآن کے کئی ایک احکام تو بڑے ہی سخت ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور ہی کیلئے موزوں تھے مگر اس ترقی یافتہ زمانہ میں تو وہ بالکل ہی ناقابل عمل ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ستر نیک اور برگزیدہ آدمیوں کو چن کر کوہ طور پر لے گئے وہاں انہوں نے پس پردہ اپنے کانوں سے اللہ کا کلام سنا مگر پھر بھی مطمئن نہ ہوئے اور ایک مہمل اور ناممکن مطالبہ پیش کردیا کہ اللہ کا کلام تو ہم نے سن لیا مگر ہمیں کامل اطمینان صرف اسی صورت میں ہوگا کہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ ۔ صاعقہ سے مراد گرجدار آواز ہے۔ صیحۃ سماویۃ خروا لھا صعقین میتین (ورح ص 262 ج 1) یہ مطالبہ چونکہ نہایت گستاخانہ اور محض ضد اور عناد پر مبنی تھا۔ طلب ہدایت کے لیے نہیں تھا اس لیے ان کو اس کی پاداش میں ایک گرجدار آواز کے ذریعے ہلاک کردیا گیا۔ لانھم لم یسالو سوال استرشاد بل سوال تعنت وعناد (مدارک ص 39 ج 1) لفرط العناد والتعنت وطلب المستحیل فانھم ظنوا انہ تعالیٰ یشبہ الاجسام فطلبوا رؤیتہ رؤیۃ الاجسام فی الجھات والاحیاز المقابلۃ للرای وھی محال اہ (بیضاوی ص 25) وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ یعنی تم نے اپنی آنکھوں سے صاعقہ کے ذریعے ایک دوسرے کو مرتے دیکھا۔ ای ینظر بعضکم لبعض حین اخذکم الموت (معالم ص 53 ج 1)
Ayah 2:56

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مرگئے پیچھے تاکہ تم احسان مانو114

ف 114 تاکہ تم دوبارہ جی اٹھنے کی نعمت کی قدر کرو اور میری بھیجی ہوئی تورات کو مانو اور عقیدہ توحید کے پابند رہو۔ معتزلہ اور روافض نے اس آیت سے امتناع رویت باری تعالیٰ پر استدلال کیا ہے۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ اس سے امتناع فی الدنیا ثابت ہوتا ہے نہ مطلق امتناع۔ اور اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ رویت باری تعالیٰ فی نفسہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں ممکن ہے لیکن دنیا میں اس کا وقوع نہیں ہوگا۔ البتہ آخرت میں مومنین دیدار الٰہی سے مشرف ومحظوظ ہوں گے۔ واھل السنۃ والسلف علی جو ازھا فیہما وقوعھا فیا لاخرۃ (قرطبی ص 403 ج 1)
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابر کا اور اتارا تم پر من اور سلویٰ115 کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے116

ف 115 ۔ یہ ساتواں انعام ہے۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ جب فرعون غرق ہوگیا اور اسرائیلی بالکل مطمئن ہوگئے تو انہیں قوم عمالقہ سے جو اس وقت ملک شام پر قابض تھے جہاد کر کے اپنا وطن آزاد کرانے کا حکم ملا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سر کردگی میں جہاد کے لیے چل نکلے جب قریب پہنچے اور عمالقہ کی طاقت اور قوت کا پتہ چلا تو ہمت ہار بیٹھے اور ان سے لڑنے صاف انکار کردیا۔ اس پر اللہ نے ان کو یہ سزا دی کہ وہ پورے چالیس سال میدان تیہ میں سرگرداں اور مارے مارے پھرتے رہے۔ یہ جنگل بالکل چٹیل اور بےآب وگیاہ تھا۔ اس میں نہ سایہ کے لیے کوئی درخت تھا نہ پینے کے لیے پانی اور نہ کھانے کے لیے کوئی چیز جب انہوں نے دھوپ کی شکایت کی، اللہ نے ان پر بادل پھیلا کر سایہ مہیا فرما دیا۔ جب بھوک کی شکایت کی، من وسلوی کا انتظام کردیا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ المن کے معنی ترنجبین کے ہیں وہ گوند کے مشابہ ایک میٹھی چیز ہے جو اوس کی طرح صبح کے وقت پودوں پر گرتی ہے۔ اسرائیلی جب صبح اٹھتے تو پودوں پر انہیں ترنجبین کی بہت بڑی مقدار ملتی جسے وہ مزے سے کھاتے۔ والمشہور انہ الترنجبین وھو شیئ یشبہ الصمغ حلو مع شئی من الحموضۃ کان ینزل علیہم کالطل (روح ص 263 ج 1) اور سلوی ایک قسم کی بٹیریں ہیں۔ وھو طائر یشبہ السمانی او ھو السمانی بعینہ (روح ص 264 ج 1) کان یبعث علیہم الجنوب فتحشر علیہم السلوی وھی السمانی فیذبح الرجل منھا مایکفیہ (مدارک ص 39 ج 1) یعنی اللہ تعالیٰ جنوب کی طرف سے ہوا چلا دیتا جس کے ساتھ بٹیریں اڑتی چلی آتیں اور وہ انہیں پکڑ کر ذبح کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک سہولت بھی مہیا کی کہ بٹیریں ان سے بھاگتی نہیں تھیں وہ جب چاہتے پکڑ لیتے تھے۔ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۔ قرآن مجید میں گذشتہ واقعات کے سلسلہ میں جہاں کہیں صیغہ امر استعمال ہوگا اس سے پہلے قال یا قلنا وغیرہ حسب موقع محذوف ہوگا (رضی ص) ولنا لھم کلوا من الطیبات (مدارک ص 39 ج 1، روح ص 264 ج 1، قرطبی ص 408 ج 1) ۔116 اسرائیلیوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اس سے اللہ کا انہوں نے کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنا ہی نقصان کیا۔ کیونکہ اس ناشکری کا وبال خود انہیں پر پڑا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ صرف اتنا ہی من وسلوی جمع کریں جتنا وہ کھا سکیں اور آئندہ کے لیے جمع نہ کریں مگر وہ حرص و لالچ کے بندے باز نہ آئے اور انہوں نے ذخیرہ اندوزی کر کے اللہ کی نافرمانی کی اور اس طرح انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے کہا داخل ہو اس شہر میں117 اور کھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو فراغت سے118 اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہتے جاؤ بخش دے119 تو معاف کردیں گے ہم تمہارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو

ف 117 ۔ یہ پہلا عذاب ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تو میدان تیہ ہی میں وفات ہوچکی تھی اور حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشیں ہوچکے۔ ادھر بنی اسرائیل کے وہ بڑے بوڑھے سرکش بھی ختم ہوچکے تھے جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا۔ اب حضرت یوشع (علیہ السلام) نے نوجوانوں کی نئی پود کو جہادِ عمالقہ پر آمادہ کیا اور ملک شام کو فتح کرلیا اس کے بعد انہیں بیت المقدس کے شہر میں داخل ہونے کا حکم ملا یہاں القریہ سے مراد بیت المقدس کا شہر ہے۔ وھو اختیار قتادۃ والربیع وابی مسلم الاصفہانی۔ انہ بیت المقدس (کبیر ص 534 ج 1)118 ۔ یہاں دنیوی لذائذ سے متمع ہونے کی اباحت فرمائی۔ وَّادْخُلُوا الْبَابَ ۔ الباب سے مراد بیت المقدس کا دروازہ ہے والمراد بھا علی المشہور احد ابواب بیت المقدس وتدعی الان باب حطۃ قالہ ابن عباس (روح ص 265 ج 1) وھو قول الضحاک و مجاھد وقتادۃ کبیر ص 534 ج 1) اور سجود سے مراد اصطلاحی سجدہ نہیں بلکہ محض انحنا اور جھکنا مراد ہے اور بعض نے اسے تواضع اور خضوع پر محمول کیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد اصطلاحی سجدہ ہو یعنی پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ قال الحسن اراد بہ نفس السجود الذی ھو الصاق الوجہ بالارض (کبیر ص 534 ج 1) امام رازی (رح) نے اس پر اشکال وارد کیا ہے کہ اگر سجدہ سے مراد اصطلاحی سجدہ ہو تو سجدہ کی حالت میں دروازے سے داخل ہونا ناممکن ہے مگر اشکال صرف اسی صورت میں ہے جبکہ دروازے سے فصیل شہر کا دروازہ مراد ہو لیکن اگر دروازہ سے بیت المقدس کی مسجد کا دروازہ مراد ہو جیسا کہ امام نسفی فرماتے ہیں باب القبلۃ التی کانوا یصلون الیھا (مدارک ص 39 ج 1) اور سجداً حال موکدہ نہ ہو بلکہ حال مقدرہ ہو جیسا کہ یا ایہا النبی انا ارسلناک شاہداً میں علامہ زمخشری نے لکھا ہے (کشاف ص 434 ج 2) تو اس صورت میں اصل عبارت یوں ہوگی وادخلوا باب المسجد مقدرین لکم السجود وقت حصولکم فیہ۔ اور مقصد یہ ہے کہ اس شہر میں کھانے پینے کی چیزیں کثرت اور فراوانی سے موجود ہیں۔ خوب فراخی سے کھاؤ، پیو اور ساتھ بطور شکر نعمت خدا کے گھر میں حاضر ہو کر اس کی عبادت بجا لاؤ۔ حضرت شیخ (رح) اسی معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔119 ۔ حِطَّۃٌمبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای مسئلتنا حطۃ (مدارک ص 40 ج 1، کبیر ص 535 ج 1) یعنی ہماری درخواست گناہوں کی معافی ہے۔ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ ۔ یہ ادخلوا اور قولو دونوں کا جواب ہے۔ یعنی جب تم میری عبادت بجا لاؤ گے اور مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو گے تو میں تمہارے تمام گناہ معاف کردوں گا۔ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ ۔ محسنین سے مخلصین کاملین مراد ہیں جیسا کہ حدیث جبریل میں احسان کی تفسیر میں سے ان تعبد اللہ کانک تراہ مطلب یہ کہ گناہوں کی معافی تو ان سب کے لیے ہے جو مذکورہ حکم کی تعمیل کرینگے مگر مخلصین کو مزید انعام واکرام سے نوازا جائیگا۔ یا محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے ماضی میں خدا کی نافرمانی نہیں کی تھی مثلا گوسالہ کی پوجا نہیں کی اور من وسلوی کا ذخیرہ نہیں کیا وغیرہ (قرطبی ص 415 ج 1 ۔
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہہ دی گئی تھی ان سے120 پھر اتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے121 ان کی عدول حکمی پر

ف 120 ۔ ان میں سے جو نافرمان اور برخود غلط کار تھے انہوں نے اللہ کی طرف سے تلقین کردہ الفاظ کو چھوڑ کر تمسخر و استہزاء کے طور پر کچھ اور ہی الفاظ الاپنے شروع کردئیے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے حِطَّۃٌ کی رٹ شروع کردی (قرطبی ص 415 ج 1، روح ص 266 ج 1 وغیرہ) قولی مخالفت کے ساتھ ساتھ انہوں نے عملاً بھی اللہ کے حکم کی مخالفت کی۔ چناچہ دروازے سے جھک کر گذرنے کے بجائے اکڑتے اور اتراتے ہوئے گذرے۔121 ۔ جن لوگوں نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کے حکم کو تمسخر سے بدل دیا ان پر ا آسمانی عذاب نازل کیا گیا۔ یہ عذاب طاعون کی بیماری کی صورت میں ان پر مسلط کیا گیا۔ والمراد بہ الطاعون (بیضاوی ص 25) وقال ابن زید بعث اللہ علیہم الطاعون (کبیر ص 537 ج 1) بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ۔ یہ عذاب ان پر ان کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے نازل کیا گیا۔ بسبب فسقھم المستمر (ابو السعود ص 539 ج 1) ۔
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے واسطے122 تو ہم نے کہا مار اپنے عصا کو پتھر پر سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے123 پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے124

ف 122 ۔ یہ آٹھواں انعام ہے۔ یہ واقعہ بھی میدانِ تیہ میں پیش آیا۔ وہاں جب اسرائیلیوں کو پیاس لگی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا۔ جمہور المفسرین اجمعوا علی ان ھذا الاستسقاء کان فی التیہ (کبیر ص 540 ج 1) تو انہوں نے خدا کے حکم سے پتھر پر عصا مارا جس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۔ الحجر میں الف لام عہد کے لیے ہے۔ اور اس سے کسی مخصوص اور معین پتھر کی طرف اشارہ ہے۔ کان حجرا معینا بدلیل انہ عرفہ بالاف واللام (معالم ص 55 ج 1)123 ۔ اسرائییوں کے بارہ قبیلے تھے اور ان میں باہم منافرت اور نااتفاقی تھی اس لیے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ چشمہ جاری کردیا کہ کہیں پیتے پیتے آپس میں برسر پیکار نہ ہوجائیں لکونھم کانوا اثنی عشر سبطا و کان بینہم تضاغن وتنافس فاجری اللہ تعالیٰ لکل سبط عینا یروھا لا یشر کہ فیھا احد من السبط الاخر دفعا لاثارۃ الشحناء (روح ص 271 ج 1) قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ ۔ یعنی ہر قبیلے کو اپنی گھاٹ معلوم ہوگئی اور ہر قبیلے کو بتادیا گیا کہ وہ صرف اپنی ہی گھاٹ سے پانی پی سکتے ہیں۔124 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس کا دیا ہوا رزق کھا پی کر اس کی زمین پر اس کی نافرمانی کر کے شر و فساد مت بپا کرو مفسدین حال موکدہ لعاملہا ہے (شرح شذور الذہب ابن ہشام ص 247)
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب کہا تم نے اے موسیٰ ہم ہرگز صبر نہ کریں گے ایک ہی طرح کے کھانے پر125 سو دعا مانگ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے کہ نکال دے ہمارے واسطے جو اگتا ہے زمین سے ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز4 کہا موسیٰ نے کیا لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے بدلہ میں جو بہتر ہے126 اترو کسی شہر میں تو تم کو ملے جو مانگتے ہو اور ڈالی گئی ان پر ذلت اور محتاجی127 اور پھرے اللہ کا غصّہ لے کر یہ اس لئے ہوا کہ نہیں مانتے تھے احکام خداوندی کو128 اور خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق یہ اس لئے کہ نافرمان تھے اور حد پر نہ رہتے تھے129

ف 125 ۔ یہ دوسرا عذاب ہے۔ یہ واقعہ بھی میدان تیہ کا ہے۔ جب بنی اسرائیل سالہا سال تک ایک ہی طرز کا کھانا یعنی من وسلوی کھا کھا کر اکتا گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ وہ اللہ سے درخواست کریں کہ وہ ہمارے لیے مختلف قسم کی ترکاریاں اور غلے پیدا کرے۔ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کرنے کی درخواست کی کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی دعاء اقرب الی الاجابۃ ہوتی ہے۔ اس سے زندہ بزرگ سے دعا کرانے کا جواز نکلتا ہے۔ وَفُوْمِہا۔ فوم کے معنی گیہوں اور لہسن دونوں کے آتے ہیں۔ لیکن یہاں لہسن مراد ہے۔ وھو مروی عن ابن عباس و مجاھد واختیار الکسائی (کبیر ص 544 ج 1) ۔126 ۔ استفہام اظہار تعجب کیلئے ہے، یعنی تعجب ہے کہ تم عمدہ چیز کے عوض گھٹیا چیز کا مطالبہ کر رہے ہو۔ من وسلوی کی ان طلب کردہ اشیاء پر ترجیح اور افضیلت کی وجہ یہ ہے کہ من وسلویٰ ایک قیمتی اور نہایت لذیذ غذا ہے اور ترکاریوں کی نسبت زیادہ مفید بھی ہے نیز ان کے حاصل کرنے میں کوئی تکلیف و دقت نہیں (روح ص 275 ج 1) ۔ اِھْبِطُوْا مِصْرًافَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ ۔ ان کا مطالبہ منظور ہوا اور انہیں اجازت مل گئی کہ وہ قرب و جوار کے کسی شہر میں چلے جائیں۔ انہیں منہ مانگی چیزیں مل جائیں گی۔127 ۔ الذلۃ سے مراد رسوائی اور المسکنت سے مراد فقر و احتیاج ہے والذلۃ الذل والصغار والمسکنۃ الفقر (قرطبی ص 430 ج 1) اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانی اور ضدوعناد کی وجہ سے بنی اسرائیل پر ذلت ورسوائی اور تنگدستی و محتاجی ہمیشہ کے لیے مسلط کردی گئی۔ دنیا میں یہ قوم جہاں بھی ہے ذلیل و خوار اور فقیر و محتاج ہے۔ اگر ان میں دولتمند ہیں بھی تو گنتی کے چند آدمی باقی رہے عوام تو ان کا شمار دنیا کی مفلس ترین اقوام میں ہے اب اسرائیلیوں کی ایک چھوٹی سی حکومت بھی دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوگئی ہے مگر یہ حکومت حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے پیش نظر ایک کاغذی ڈھانچہ سا کھڑا کر رکھا ہے اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں اور نہ ہی کوئی منفرد پالیسی ہے اگر آج امریکہ اس کی امداد سے دست کش ہوجائے تو سورج ڈھلنے سے پہلے اسرائیلی حکومت کی ہڈی پسلی سے وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ۔ باء و کے معنی یہاں استحقوا اور استوجبو کے ہیں (کبیر ص 547 ج 1، ابن کثیر ص 102 ج 1، ابن کثیر ص 102 ج 1، روح ص 276 ج 1) یعنی قوم بنی اسرائیل کفر وعصیان اور قتل انبیاء (علیہم السلام) کی وجہ سے غضب الٰہی کی مستحق ٹھہری۔ 128 ۔ آیات سے اللہ کی توحید کی آیتیں مراد ہیں یا اس سے مراد کتب سماویہ اور معجزات انبیاء ہیں ای یکذبون بایات اللہ ای بکتابہ ومعجزات انبیائہ عی سے ویحیی وزکریا و محمد علیہم السلام۔ يَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ ۔ یہ مضارع بھی کانوا کے تحت داخل ہے کان ماضی جب کسی فعل مضارع پر داخل ہو تو اس سے عام طور پر فعل میں دوام و استمرار کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ تکذیب آیات اور قتل انبیاء ان کی عادت مستمرہ ہوچکی تھی ایک طرف تو وہ توحید کا انکار کرتے تھے اور دوسری طرف توحید بیان کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرتے تھے۔ اور یہی ان کے استحقاق ِ غضب کا سبب بنی بِغَيْرِ الْحَقِّ ۔ کی قید سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تو معصوم ہوتے ہیں اس لیے ان کا قتل صرف ناحق ہی ہوسکتا ہے پھر بغیر الحق کی قید بڑھانے سے کیا فائدہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) ایک بہت بڑا گناہ اور عظیم جرم ہے اس لیے اس کی قباحت اور شناعت کو تاکید کے ساتھ بیان کرنے کے لیے اس قید کی صراحت کی گئی۔ تعظیم للشنعۃ والذنب الذی اتوہ (قرطبی ص 431 ج 1) ۔129 ۔ ذلک سے کفر بالآیات اور قتل انبیاء کی طرف اشارہ ہے۔ اشارۃ الی الکفر والقتل الواقعین سببا لما تقدم (روح ص 277 ج 1) بما میں با سببیہ اور ما مصدریہ ہے خدا کی نافرمانی اور حدود شکنی نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ آیات الٰہی کی تکذیب اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے لگے۔ کیونکہ جس طرح چھوٹی چھوٹی نیکیاں بڑی نیکیوں کی طرف لے جاتی ہیں اسی طرح بعض اوقات چھوٹ چھوٹے گناہ بڑے گناہوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ ای جرھم العصیان والتمادی فی العدوان الی ما ذکر من الکفر وقتل الانبیاء (علیہم السلام) فان صغار الذنوب اذا دو وم علیہا ادت الی کبارھاکما ان مداومۃ صغار الطاعات مؤدیۃ الی تحری کبارھا۔ (ابو السعود ص 548 ج 1 کذا فی البیضاوی ص 25) یہاں تک نوع اول کی تفصیل تھی۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے130 اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صائبین جو ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور روز قیامت پر اور کام کئے نیک تو ان کے لئے ہے ان کا ثواب ان کے رب کے پاس اور نہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے

ف 130 ۔ یہ آیت نوع اول کا تتمہ ہے۔ اور الذین امنوا سے مراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ہے۔ ای من امن بمحمد ﷺ (بحر ص 240 ج 1) وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا۔ یہودیت کے پیرو یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت۔ وَالنَّصٰرٰى۔ دین عیسوی کے متبعین وَالصّٰبِـــِٕيْنَ ۔ یہ لوگ بھی اہل کتاب ہی کا ایک گروہ ہیں۔ فرقۃ من اھل الکتاب (ابن کثیر ص 104 ج 1) مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ ۔ ہر فرقہ اپنے اپنے لقب اور نام پر خوش ہے مگر اصل ذریعہ نجات یہ القاب اور انتسابات نہیں ہیں بلکہ نجات کا مدار تو ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ یہاں یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ آیت میں صرف اللہ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ صرف اللہ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ صرف اللہ پر ایمان لانا نجات کے لیے کافی ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا ضروری نہیں تو اس کا جواب یہ ہے اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اس کی تمام صفات کمال اور نعوت جلال میں وحدہ لا شریک، یکتا اور بےمثل مانا جائے اور اس کے تمام احکام کی تعمیل کی جائے لہذا یہ جملہ ایمان بالرسل ایمان بالکتب، ایمان بالملئکۃ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ قد دخل فی الایمان باللہ الایمان بما اوجبہ اعنی الایمان برسلہ (کبیر ص 550 ج 1) دوسری بات یہ ہے یہاں ایمان باللہ کا ذکر اجمالی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں اس کی تفصیل موجود ہے چناچہ سورة حجرات رکوع 2 میں ارشاد ربانی ہے۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۔ اس آیت میں صاف اعلان کردیا گیا ہے کہ مومن صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اللہ کے تمام رسولوں پر بھی ایمان لائیں اور ایمان بھی ایسا لائیں جو ریب وتردد اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو اور پھر ان کی عملی زندگی بھی اس ایمان کے عین مطابق ہو اور رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں اور سب کو اللہ کے سچے رسو مانیں ایسا نہ ہو کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 150؀ۙاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ (النساء :151) اس آیت سے دونوں باتیں واضح طور پر معلوم ہوگئیں۔ اول یہ کہ جس طرح اللہ پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح اللہ کے رسول پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر نجات ناممکن ہے دوم یہ کہ بلا تفریق تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بعض پر ایمان لانا اور بعض پر ایمان نہ لانا نجات اور ایمان کے لیے کافی نہیں ہے بعض پیغمبروں کا انکار تمام پیغمبروں کے انکار کے برابر ہے۔ والیوم الاخر یوم آخرت اور اس میں جو کچھ ہونیوالا ہے سب پر ایمان لائے۔ تقریر بالا سے معلوم ہوا کہ یوم آخرت پر ایمان لانا اٰمن باللہ میں داخل ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ذکر صراحت سے کیا گیا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود ونصاری اگرچہ آخرت پر ایمان رکھتے تھے مگر ان کا تصور آخرت قرآن کے پیش کردہ تصور سے بالکل جدا گانہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ آخرت میں صرف یہودی یا نصرانی ہی جنت میں جائیں گے۔ ان کے سوا اور کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم آخرت پر امان لانے کا علیحدہ ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ آخرت پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے جس طرح محمد ﷺ نے وحی کے ذریعے اس کے احوال بیان فرمائے ہیں کہ آخرت میں کسی قوم یا گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوگی بلکہ وہاں صرف ایمان اور عمل صالح کام آئیں گے۔ نوع ثانی (اس میں نزول قرآن کے وقت موجود بنی اسرائیل کے باپ دادوں کی تین خباثتیں اور شرارتیں بیان کی گئی ہیں)