2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پہنچیں اپنی عدت تک458 تو رکھ لو ان کو موافق دستور کے یا چھوڑ دو ان کو بھلی طرح سے اور نہ روکے رکھو ان کو ستانے کے لئے تاکہ ان پر زیادتی کرو459 اور جو ایسا کرے گا وہ بیشک اپنا ہی نقصان کرے گا460 اور مت ٹھہراؤ اللہ کے احکام کو ہنسی اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اسکو کہ جو اتاری تم پر کتاب اور علم کی باتیں کہ تم کو نصیحت کرتا ہے اس کے ساتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے

458 اَجَلَھُنَّ میں اجل سے مراد عدت ہے اور بلوغ اجل سے عدت کا قریب الاختتام ہونا مراد ہے بقرینة فامسکوھن بمعروف الخ کیونکہ رجعت تو عدت کے اندر ہی ہوسکتی ہے۔ اختتام عدت کے بعد نہیں ہوسکتی المراد مقاربتہ دون انقضائہ (احکام القرآن جصاص) طلاق رجعی کے بعد خاوند کو دو اختیار دئیے گئے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو عدت کے اندر رجوع کر کے مطلقہ بیوی کو پھر اپنے گھر میں آباد کرلے۔ یا عدت میں رجوع نہ کرے اور اسے چھوڑ دے مگر اللہ تعالیٰ کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ عورت کو کسی صورت میں تنگ کیا جائے۔ اگر دوبارہ اس سے زوجیت کے تعلقات استوار کیے جائیں تو اسے دوبارہ اپنی زوجیت میں لا کر تنگ کرنا مقصود نہ ہو۔ اسی طرح اگر اسے چھوڑ دینے ہی کا فیصلہ کیا جائے تو بھی شرعی حدود کی پابندی سے باہمی نزاعات کو ختم کرنے کے لیے کیا جائے نہ کہ عورت کو ذلیل کرنے اور اس کی دل شکنی کے لیے اور ممکن ہے کہ تسریح بمعروف سے مطلقہ کو ثیاب متعہ دینے کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اس آیت کا مفہوم بعینہ وہی ہے جو الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں مذکور ہوچکا ہے۔ پھر اس کا اعادہ کیوں کیا گیا ؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو عام حکم دیا کہ رجعی طلاق کے بعد عدت کے زمانہ میں جو تم نے مطلقہ کے متعلق فیصلہ کیا ہے۔ اختتام عدت کے قریب اس پر ایک دفعہ پھر غورفکر کرلو۔۔ ممکن ہے کہ پہلے فیصلہ کی نسبت اب زیادہ بہتر اور زیادہ مفید فیصلہ کرسکو۔ ھذا تفصیل ما اشار الیہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔459 یہ حکم ماقبل کی تاکید اور توضیح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ اپنی بیوی کو تنگ کرنے کیلئے انہیں طلاق دے دیتے۔ جب ان کی عدت قریب الاختتام ہوتی تو رجوع کرلیتے پھر کچھ عرصہ بعد طلاق دیدیتے اور رجوع کرلیتے یہ سلسلہ جاری رکھتے تاکہ وہ بچاری نہ اس کے پاس آرام اور سکون کی زندگی گذار سکے اور نہ ہی کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرسکے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ اگر مطلقہ رجعیہ کو واپس لانا چاہو تو حسن معاشرت کی نیت سے واپس لاؤ تنگ کرنے اور اسے تکلیف پہنچانے کی غرض سے ایسا نہ کرو۔ روی مالک عن ثور بن زید الدیلی ان الرجل کان یطلق تہ ثم یراجعہا ولا حاجۃ لہ بھا ولا یرید امساکھا کی ما یطول بذلک علدۃ ولیضارھا فانزل اللہ تعالیٰ ولا تمسکوھن ضرارا الایۃ (قرطبی ص 156 ج 3) نقلہ ابن کثیر ص 281 ج 1، عن ابن عباس و مجاھد ومسروق والحسن وقتادة والضحاک والربیع ومقاتل بن حیان وغیر واحد۔460 حقوق زوجیت میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے یہ ایک وعید شدید ہے۔ یعنی جو بیوی کو محض تنگ کرنے کی غرض سے اپنے پاس روکے گا وہ ظالم ہے اور اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ اس بد سلوکی کی دنیا یا آخرت یا دونوں میں سخت سزا پائے گا۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ نکاح کرلیں اپنے انہی خاوندوں سے461 جب کہ راضی ہوجاویں آپس میں موافق دستور کے یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو کہ تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس میں تمہارے واسطے بڑی ستھرائی ہے اور بہت پاکیزگی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مسنگ
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور بچے والی عورتیں دودھ پلاویں اپنے بچوں کو دو برس پورے جو کوئی چاہیے کہ پوری کرے دودھ کی مدت462 اور لڑکے والے یعنی باپ پر ہے کھانا اور کپڑا ان عورتوں کا موافق دستور کے463 تکلیف نہیں دی جاتی کسی کو مگر اس کی گنجائش کے موافق نہ نقصان دیا جاوے ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو کہ جس کا وہ بچہ ہے464 یعنی باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور وارثوں پر بھی یہی لازم ہے پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں یعنی دو برس کے اندر ہی اپنی رضا اور مشورہ سے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم لوگ چاہو کہ دودھ پلواؤ کسی دایہ سے اپنی اولاد کو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ حوالہ کر دو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا موافق دستور کے465 اور ڈرو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتا ہے

فائدہ نمبر 462 مسنگ 463 مولود لہ سے مراد باپ ہے کیونکہ بچہ اسی کے لیے پیدا ہوتا ہے۔ اور اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچے کی ماں کا خرچ از قسم خوراک و لباس باپ کے ذمہ ہے۔ اور معروف سے مراد یہ ہے کہ خرچ میں نہ اسراف ہو اور نہ تنگی۔ بلکہ مرد کی مالی حالت کے مناسب ہو۔ ای بلا اسراف وتقتیر (روح ص 146 ج 2، مدارک ج 1 ص 92) ای بالمتعارف فی عرف الشرع من غیر تفریط ولا افراط (قرطبی ص 163 ج 3) یدل علی ان الواجب من النفقة والکسوة ھو علی قدر حال الرجل فی اعسارہ ویسارہ (احکام القران للجصاص) لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا۔ امام نسفی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ معروف کی تفسیر ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے نہ تو خاوند کو اس کی وسعت سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے اور نہ ہی عورت کو تنگ دستی کی زندگی گذارنے پر۔ ای لا تکلف المراةللصبر علی التقتیر فی الجرة ولا یکلف الزوج ما ھو اسراف بل یراعی القصد (قرطبی ص 166 ج 3)464 بیٹے کی وجہ سے خاوند کی طرف سے عورت کو اور عورت کی طرف سے خاوند کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے مثلاً اگر ماں کسی بیماری یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے دودھ نہ پلا سکتی ہو تو اسے مجبور نہ کیا جائے۔ یا اگر وہ دودھ پلانا چاہتی ہو تو بلا وجہ اس سے بچہ نہ چھینا جائے اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے اور ماں کی طرف سے تکلیف دینے کی صورت یہ ہے کہ وہ خاوند کو تنگ کرنے کے لیے بچہ کو دودھ نہ پلائے یا اس کی وسعت سے زیادہ اس پر اخراجات کا بوجھ ڈالے۔ وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۚ۔ اگر بچے کا باپ مرجائے تو بچے کے ورثا پر وہ تمام حقوق ادا کرنے واجب ہوں گے جو باپ پر واجب تھے۔ مثلاً اس کی والدہ کی خوراک، اس کالباس اور اسے تکلیف نہ دینا وغیرہ علیہ مثل ما علی والد الطفل من الانفاق علی والدة الطفل والقیام بحقوقھا وعدم الاضرار بھا وھو قول الجمھور (ابن کثیر ص 284 ج 1) ۔ یہ اس صورت میں ہے جب بچے کا اپنا مال موجود نہ ہو۔ اگر اس کا اپنا مال ہو تو اس کے اور اس کی والدہ کے اخراجات اس کے مال میں سے ادا کئے جائیں گے۔ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا۔ مدت رضاعت (دو سال) کی تکمیل سے پہلے اگر خاوند بیوی بچے کی ضرورت اور مصلحت کو سامنے رکھ کر باہمی رضامندی اور مشورہ سے اس کا دودھ چھڑا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔۔465 اٰتَیْتُمْ ۔ میں ایتاء سے مقررہ اجرت دینے کی ذمہ داری اور ضمانت اٹھانا مراد ہے اور معروف سے شرعاً اور مروةً اچھا اور مستحسن طریقہ مراد ہے۔ اور بعض دفعہ والدہ کی موجودگی میں بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر بچے کو کسی دوسری عورت کا یا دایہ کا دودھ پلانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے تو اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بوقت ضرورت ایسا کرنا جائز ہے بشرطیکہ دایہ کی مقررہ اجرت جو شرعاً اور عرفاً مناسب ہو۔ ٹال مٹول اور کمی بیشی کے بغیر اس کے حوالے کردی جائے۔ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ اللہ سے ڈرو اور اس کی حدود کو مت توڑو اور یقین رکھو کہ وہ حاضر و ناظر ہے۔ اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ اس لیے تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق جزاء سزا ملے گی۔ یہاں احکام رضاع کا بیان تھا۔ آگے بیوہ کی عدت اور اس سے متعلق بعض دوسرے احکام کا بیان ہے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ مرجاویں تم میں سے اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو466 تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں قاعدہ کے موافق467 اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبر ہے

466 پہلے گذر چکا ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ اور دس دن صرف اسی صورت میں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو۔ اگر وہ حاملہ ہوگی تو اس کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ سورة طلاق میں مذکور ہے467 اس آیت میں بیوہ عورتوں کے کسی آدمی سے شرعی عقد کرنا چاہیں تو ان کے اولیاء کو انہیں اس سے نہیں روکنا چاہئے بشرطیکہ وہ اپنے کفو میں نکاح کریں۔ غیر کفو میں نکاح کرنے سے رشتہ داروں کو روکنے کا حق ہے۔ آج کل بیوہ عورتوں پر انتہائی ظلم کیا جاتا ہے۔ بعض عورتیں عین جوانی میں بیوہ ہوجاتی ہیں مگر انہیں عمر بھر خاوند کے بغیر رہنا پڑتا ہے اور ورثاء انہیں عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور اس میں اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر جہالت اور خدا کی نافرمانی ہے اور اس بیوہ کی حق تلفی ہے۔ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ اس لیے اس کے احکام کی مخالفت مت کرو۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ اشارہ میں کہو پیغام نکاح ان عورتوں کا یا پوشیدہ رکھو اپنے دل میں468 اللہ کو معلوم ہے کہ تم البتہ ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا و عدہ نہ کر رکھو چھپ کر مگر یہی کہ کہہ دو کوئی بات رواج شریعت کے موافق اور نہ ارادہ کرو نکاح کا یہاں تک کہ پہنچ جاوے عدت مقررہ اپنی انتہا کو469 اور جان رکھو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے سو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور تحمل کرنیوالا ہے

468 بیوہ عورت کے سامنے اس سے نکاح کرنے کے ارادے کا اظہار عدت کے دوران صراحةً جائز نہیں۔ البتہ اشارةً ایسا کرے تو جائز ہے۔ مثلاً بیوہ یا اس کے ولی کے سامنے یوں کہے کہ " خدا کرے کہ میرا گھر بھی آباد ہوجائے "۔ یا اس قسم کا کوئی اور جملہ۔ اسی طرح اگر دل میں ارادہ کرلے کہ عدت کے بعد اس سے نکاح کروں گا مگر اس کا صراحة اظہار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ تم ضرور ان کا ذکر کروگے۔ اور دل میں ان کی طرف دھیان کروگے اور اس سلسلے میں اپنے اوپر پورا کنٹرول نہیں کرسکو گے۔ اس لیے تہیں اشارةً ذکر کرنے کی اجازت دیدی لیکن نکاح کرنے کا صریح وعدہ اس کی نہ علانیہ اجازت ہے اور نہ پوشیدہ طور پر۔ اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ قولاً معروفاً سے وہی اشارہ اور کنایہ مراد ہے469 یہ مقابل کی تاکید و تفصیل ہے۔ اور عزم سے مراد وہ پختہ ارادہ ہے جو مقارن فعل ہو۔ والمراد بہ العزم المقارن (روح ص 152 ج 2) یعنی عدت گذرنے سے پہلے عزم نکاح کا اظہار مت کرو۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىْٓ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ اپنے بطن کو درست رکھو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔ اور جو اس سے معافی مانگے وہ اسے معاف کردیتا ہے۔ اور معانی نہ مانگنے والوں کا بھی جلدی مواخذہ نہیں فرماتا بلکہ انہیں توبہ کرنے کے لیے مہلت دیتا ہے۔ بیوہ کی عدت اور اس کے نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد آگے طلاق کے مزید کچھ احکام ومسائل بیان کیے گئے ہیں۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

کچھ گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دو تم عورتوں کو اس وقت کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور نہ مقرر کیا ہو ان کے لئے کچھ مہر470 اور ان کو کچھ خرچ دو مقدور والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے لازم ہے نیکی کرنے والوں پر

470 اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ کا عطف تَمَسُّوْھُنَّ پر ہے اور وہ بھی نفی کے تحت داخل ہے۔ یعنی جن عورتوں کو مس نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی ان کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو۔ اگر ان کو طلاق دیدی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ وَمَتِّعُوْھُنَّ یعنی جن عورتوں کیلئے نکاح کے وقت مہر مقرر نہیں کیا گیا۔ ان کو اگر مس سے پہلے طلاق دیدی جائے تو ان کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں۔ متعہ کے کپڑے تین ہیں۔ قمیص، دوپٹہ اور چادر قال الامام ابو حنیفة ھی درع وخمار ومکحفة (روح ص 153 ج 2) مس (ہاتھ لگانے) سے یہاں وطی مراد ہے خواہ حقیقةً ہو خواہ حکماً ۔ حقیقی وطی تو ظاہر ہے۔ حکمی وطی سے خلوت صحیحہ مراد ہے۔ اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ خاوند بیوی کسی ایسی تنہائی کی جگہ موجود ہوں۔ جہاں کوئی چیز مانع وطی موجود نہ ہو۔ مس اور تقدیر مہر کے لحاظ سے مطلقہ کی چار قسمیں ہیں (1) یہ کہ مطلقہ کا مہر نکاح کے وقت مقرر کیا تھا۔ اور مس حقیقی یا حکمی کے بعد اسے طلاق دی گئی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے مقررہ مہر دیا جائے گا۔ اور اس میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ اس کا حکم پہلے رکوع 29 میں بیان ہوچکا ہے۔ (2) وہ عورت جسے دخول سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اور اس کا مہر بھی مقرر نہ ہو۔ اس کے لیے مہر نہیں ہے۔ البتہ اسے ثیاب متعہ دئیے جائیں گے۔ اس آیت میں اسی عورت کا حکم بیان کیا گیا ہے (3) وہ عورت جسے وطی سے پہلے طلاق دیدی جائے لیکن اس کا مہر مقرر ہو۔ تو اس کا حکم اگلی آیت میں آرہا ہے کہ اسے مقررہ مہر کا نصف دیا جائے (4) وہ عورت جسے وطی کے بعد طلاق دی جائے مگر اس کا مہر مقرر نہ ہو تو اسے مہر مثل دیا جائے گا۔ جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۔ یعنی ثیاب متعہ کی مالیت کا انحصار خاوند کی مالی حالت پر ہے۔ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ مَتَاعاً بمعنی تمتیعاً متعوھنکا مفعول مطلق ہے بالمعروف ظرف مستقر ہے جو متلبسا محذوف سے متعلق ہے۔ اور متاعا کی صفت اولیٰ ہے۔ یعنی ثیاب متعہ ایسے طریقہ سے دو جو شرعاً اور عرفاً مستحسن ہو۔ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ ۔ یہ متاعاً کی صفت ثانیہ ہے اور حقاً کے معنی واجباً کے ہیں صفة لمتاعاً ای متاعاً واجبا علیھم (مدارک (ص 94 ج 1) یعنی خوش معاملہ اور حسن سلوک کرنے والے لوگوں پر متعہ واجب اور لازم ہے۔ محسنین کی تخصیص ترغیب وتحضیض کے لیے فرمائی۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھہرا چکے تھے تم ان کے لئے مہر تو لازم ہو آدھا اس کا کہ تم مقرر کرچکے تھے471 مگر یہ کہ درگزر کریں عورتیں یا درگزر کرے وہ شخص کہ اسے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی یعنی خاوند اور تم مرد درگزر کرو تو قریب ہے پرہیزگاری سے اور نہ بھلا دو احسان کرنا آپس میں بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھتا ہے

471 یہ اس عورت کا حکم ہے جسے دخول سے پہلے طلاق دیدی گئی ہو اور اس کا مہر بوقت نکاح مقرر ہوچکا ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے مقررہ مہر کا نصف دیا جائے گا۔ اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۭ۔ ہاں اگر عورت اپنا حق معاف کردے اور نصف مہر جو اس کا حق ہے اس سے بھی دستبردار ہوجائے یا خاوند فیاضی سے کام لے اور مہر معجل کی صورت میں جو اسے نصف واپس لینے کا حق ہے وہ واپس نہ لے یا مہر مؤجل کی صورت میں پور امہر مطلقہ کو دیدے تو یہ صورت ماقبل سے مستثنی ہے اور یہ اقدام دونوں طرف سے مستحسن اور قابل تعریف ہے۔ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۔ حسن سلوک اور باہمی لطف و احسان کو طلاق کے موقع پر بھی نہ بھولو۔ بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ عفو اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔ مثلاً مہر کا معاف کردینا یا مہر میں اضافہ کردینا یا مہر مقرر ہونے کی صورت میں متعہ کے کپڑے دینا وغیر۔ سب حسن سلوک اور احسان میں داخل ہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ اس لیے تمہارا کوئی عمل رائیگاں نہیں جائیگا۔ اور تمہیں ہر نیکی کی جزا ملے گی۔
Ayahs 2:238–239

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

خبردار رہو سب نمازوں سے اور بیچ والی نماز سے472 اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو ڈر ہو کسی کا تو پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جس وقت تم امن پاؤ تو یاد کر اللہ کو جس طرح کہ تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے

472 حسن سلوک اور احسان کی ترغیب کے بعد نمازوں کی پابندی کا حکم دیا کیونکہ نماز ایک امر مصلح ہے۔ جس سے ظاہر و باطن کی طہارت ہوتی ہے۔ اور اخلاق رذیلہ سے باطن پاک ہو کر اخلاق حسنہ سے معمور ہوجاتا ہے۔ نیز نماز کو باجماعت ادا کرنے سے باہمی محبت والفت اور اتحاد واتفاق کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے نماز حسن معاشرت، حسن سلوک اور احسان کے لیے بہت بڑی معاون ہے۔ صلوۃ وسطیٰ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے گئے ہیں کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔ الثانی انھا العصر لانھا بین صلاتی النھار وصلاتی اللیل وھو المروی عن علی والحسن وابن عباس وابن مسعود وخلق کثیر وعلیہ الشافعیة والاکثرون صححوا انھا صلوۃ العصر (روح ص 156 ج 2) ۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اس سے نماز عصر مراد ہے کیونکہ وہ دن کی دو نمازوں اور رات کی دو نمازوں کے درمیان ہے۔ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ۔ قانتین کے معنی خاشعین کے ہیں۔ یعنی نماز میں خشوع اور عجز و انکساری سے قیام کیا کرو۔ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا۔ یعنی اگر جنگ میں نماز کا وقت آجائے اور دشمن کی طرف سے حملہ کے خطرہ کی وجہ سے اطمینان سے باقاعدہ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو پاپیادہ یا سواری کی حالت میں جس طرح بھی ممکن ہو اسی طرح سے نماز ادا کرلو مگر ایسی خوف وہراس کی حالت میں بھی نماز معاف نہیں۔ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ ۔ لیکن اگر خوف زائل ہوجائے اور حالت امن ہو تو پھر معمول کے مطابق نماز پڑھو جس طرح اللہ تعالیٰ نے امن اور خوف کی مختلف حالتوں کے احکام بیان فرمائے ہیں جن کا نزول وحی سے قبل تمہیں کوئی علم نہیں تھا۔
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجاویں اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو وصیت کردیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالنے کے گھر سے473 پھر اگر وہ عورتیں آپ نکل جاویں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں بھلی بات474 اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

473 وَصِیَّةً فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی لیصوا، اور متاعاً ، وصیۃً کا بیان ہے اور غَیْرَ اِخْرَاجٍ ماقبل کی تاکید ہے۔ یعنی جو لوگ فوت ہوجائیں اور ان کی بیوائیں پیچھے رہ جائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ مرنے سے قبل ورثاء کو ان کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ایک سال تک انہیں گھر سے نہ نکالا جائے اور سال بھر انہیں اس کے ترکہ سے خرچ دیا جائے۔ 474 یعنی اگر وہ عدت واجبہ چار ماہ اور دس دن گذارنے کے بعد اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر چلی جائیں اور کسی مناسب جگہ عقد شرعی کرلیں تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اور وہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا اور اس کا ہر حکم حکمت اور مصلحت کے ماتحت ہوتا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حکم اس وقت تھا جب میراث کے احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔ اب یہ حکم آیت میراث سے منسوخ ہوچکا ہے کیونکہ اب خاوند کے ترکہ میں بیوہ کا حصہ مقرر ہوچکا ہے۔ اس لیے اب اس کے حق میں وصیت کا حکم باقی نہیں منسوخ کلہ عند جمھور العلماء (قرطبی ص 227 ج 3) ثم ان اللہ نسخ ھذین الحکمین اما الوصیة بالنفقة والسکنی فلان القران دل علی ثبوت المیراث لھا والسنة دلت علی انہ لا وصیۃ لوارث فصار مجموع القران والسنۃ ناسخاً للوصیةللزوجة بالنفقة والسکنے فی الحول (کبیر ص 433 ج 2) حضرت شیخ رحمةا للہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس وصیت کو استحباب پر محمول کیا جائے تو اس آیت کو منسوخ کہنے کی ضرورت نہیں اور یہ حکم استحبابی اب بھی باقی ہے یعنی اگر بیوہ ایک سال تک رہتی ہے تو تم اس کو تنگ کر کے نہ نکالو۔ ہاں اگر خود بخود چار ماہ اور دس دن والی عدت واجبہ جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے، گذارنے کے بعد کسی مناسب جگہ نکاح کرلیتی ہے تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ سال تک بیٹھنا وجوبی حکم نہیں بلکہ استحبابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے وَصِیَّةً اور غَیْرَ اِخْرَاجٍ اور مَتَاعاً اِلیَ الْحَوْل اور فَاِنْ خَرَجْنَ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے اس آیت کو منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 2:241–242

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ہے قاعدہ کے موافق لازم ہے پرہیزگاروں پر475

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تمہارے واسطے اپنے حکم تاکہ تم سمجھ لو

ف 475” متاع “ کا یہ حکم تمام مطلقات کے لیے ہے اور یہ حکم استحبابی ہے البتہ جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق ہوجائے اور اس کا مہر مقرر نہ ہو اس کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ ” کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تعقلون “ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے معاش و معاشرت کے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم انہیں سمجھو اور سمجھ کر ان پر عمل کرو۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے پھر فرمایا ان کو اللہ نے کہ مرجاؤ476 پھر ان کو زندہ کردیا بیشک اللہ فضل کرنے والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے477

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ بیشک خوب سنتا جانتا ہے

476 یہاں سے پھر اصل موضوع یعنی مسئلہ جہاد کا بیان شروع کیا جارہا ہے۔ درمیان میں امور انتظامیہ اور امور مصلحہ بیان کیے گئے ہیں۔ مسئلہ جہاد کو دوبارہ ذکر کرنے سے پہلے ایک قدیم واقعہ بطور عبرت اور تخویف بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ کا ہے۔ جب ان کو جہاد کا حکم ملا تو وہ گھروں سے بھاگ نکلے کہ کہیں وہ جہاد میں شریک ہو کر لقمہ اجل نہ بن جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی اور وہ مرگئے۔ وہ نکلے تھے جان بچانے کے لیے مگر یہ تدبیر ان کے کام نہ آئی جس موت سے بھاگتے تھے۔ اسی کا لقمہ بن گئے۔ ھم قوم من بنی اسرائیل دعاھم ملکھم الی الجھاد فھربوا حذر الموت فاماتھم اللہ تعالیٰ ثمانیة ایام ثم احیاھم (ابو السعود ج 2 ص 426) ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اللہ نے پھر انہیں زندہ کردیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرلیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ خدا کی قدرت کے سامنے کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ واقعہ نقل کر کے مسلمانوں کو ڈر سنایا کہ وہ جہاد سے جی نہ چرائیں کیونکہ موت تو بہر حال آئے گی۔ جہاد سے بھاگ کر موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔477 اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جن میں لوگوں کا فائدہ ہو مگر وہ ان احکام کو پامال کرتے ہیں اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ اب آگے حکم جہاد کا اعادہ فرمایا ہے۔ وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ یہ خطاب امت محمدیہ سے ہے۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور ان اسرائیلیوں کی طرح بزدلی نہ دکھاؤ جو موت کے ڈر سے گھر چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری باتیں سنتا ہے۔ اس لیے اسے معلوم ہے کون تم میں سے دوسروں کو جہاد کی ترغیب دیتا ہے اور کون جہاد سے متنفر کرتا ہے اور وہ دل کے بھید جانتا ہے۔ اس لیے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کون دین کی خاطر جہاد کرتا ہے۔ اور کون مال غنیمت اور نیک نامی حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوتا ہے۔ ای ھو یسمع کلامکم فی ترغیب لغیر فی الجھاد وفی تنفیر الغیر عنہ وعلیم بما فی صدور کم من البواعث و الاغراض فان ذلک الجھاد لغرض الدین او لعاجل الدنیا (کبیر ص 438 ج 2) ۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون شخص ہے ایسا جو کہ قرض دے اللہ کو اچھا قرض478 پھر دو گنا کر دے اللہ اس کو کئی گنا اور اللہ ہی تنگی کردیتا ہے اور وہی کشادہ کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

ف 478 حکم جہاد کے بعد یہ جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے اور اللہ کو قرض دینے سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مراد ہے۔ والمراد النفقة فی الجھاد لانہ لما امر بالقتال فی سبیل اللہ ویحتاج فیہ الی المال حث علی الصدقة لیتھیا اسباب الجھاد (مدارک ص 97 ج 1) ۔ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭ۔ اللہ کی راہ میں دیا ہوا تمہارا مال ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اصل استحقاق سے کہیں زیادہ تمہیں اس کا اجر وثواب دیا جائے گا۔ وَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۔ جہاد میں خرچ کرنے کی وجہ سے دولت کی کمی کا خطرہ محسوس نہ کرو کیونکہ دولت کی کمی بیشی اور رزق کی فراخی وتنگی تو خدا کے اختیار میں ہے جب اس نے دولت دی ہے تو اسے اس کی راہ میں خرچ کرو۔ وہ تمہیں اور زیادہ دے گا پہلے خرچ کرنے پر ثواب آخرت کا وعدہ فرمایا۔ اور یہاں دنیا میں وسعت رزق کی امید دلائی۔ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ۔ انجام کار خدا کے سامنے حاضر کیے جاؤگے اور تم سے سوال کیا جائیگا کہ تم نے خدا کی دی ہوئی دولت کہاں کہاں خرچ کی وہاں ایک ایک پائی کا حساب ہوگا اس لیے اب وقت ہے اپنی دولت کو خدا کے پسندیدہ مصارف میں خرچ کرلو جن میں سب سے بہتر مصرف جہاد ہے۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ایک جماعت بنی اسرائیل کو موسیٰ کے بعد جب انہوں نے کہا اپنے نبی سے مقرر کر دو ہمارے لئے ایک بادشاہ تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں479 پیغمبر نے کہا کیا تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر حکم ہو تم کو لڑائی کا تو تم اس وقت نہ لڑو480 وہ بولے ہم کو کیا ہوا کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں اور ہم تو نکال دیئے گئے اپنے گھروں سے اور بیٹوں سے پھر جب حکم ہوا ان کو لڑائی کا تو وہ سب پھرگئے مگر تھوڑے سے ان میں کے481 اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے گناہ گاروں کو

479 بنی اسرائیل کا یہ واقعہ ترغیب الی الجہاد کے لیے ذکر فرمایا ہے۔ نیز اس واقعہ سے یہ سبق دیا کہ جہاد امیر اور اطاعتِ امیر کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ واقعہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً ایک ہزار سال قبل کا ہے۔ اور جس نبی کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد حضرت شموئیل (علیہ السلام) ہیں۔ قال ابو عبیدة ھو اشمویل بن حنة بن العاقر وعلیہ الاکثر (روح ص 164 ج 2) اس زمانہ میں قوم عمالقہ کا غلبہ ہوچکا تھا انہوں نے بنی اسرائیل کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کے ان کو وہاں سے نکال دیا تو قوم کے شرفاء اور اصحاب الرائے نے حضرت شموئیل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے ایک امیر مقرر فرمائیں تاکہ ہم اس کی ماتحتی میں دشمنانِ دین سے جہاد کریں۔480 حضرت شموئیل (علیہ السلام) کو یقیناً بنی اسرائیل کی گذشتہ تاریخ اور ان کی سابقہ کج روی کی روایات معلوم تھیں اس لیے فرمایا کہ سوچ سمجھ کر بات کہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اصرار پر تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور پھر تم جہاد کرنے سے پس وپیش کرنے لگو اور بزدل بن جاؤ۔ قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَاۗىِٕنَا۔ تو انہوں نے اس کا جواب دیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم جہاد نہ کریں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال بےگھر کردیا گیا ہے اور ہمیں اپنے بیٹوں سے جدا کردیا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف تو جہاد کے متعلق خدا کا حکم ہوگا اور دوسری طرف یہ صورت حال ہے تو اب اس سے بڑھ کر جہاد کا اور کیا محرک ہوسکتا ہے۔ 481 مگر وہی کچھ ہوا جس کا حضرت شموئیل (علیہ السلام) کو اندیشہ تھا۔ شروع میں تو ان لوگوں نے بڑی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔ مگر دشمن کی تعداد، اس کی شان و شوکت اور اس کا لاؤ لشکر دیکھ کر ان میں سے اکثر ہمت ہار بیٹے۔ ہزاروں میں سے صرف تین سو تیرہ ثابت قدم رہے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور فرمایا ان سے ان کے نبی نے بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ482 کہنے لگے کیونکر ہوسکتی ہے اس کی حکومت ہم پر اور ہم زیادہ مستحق ہیں سلطنت کے اس سے اور اس کو نہیں ملی کشائش مال میں483 پیغمبر نے کہا بیشک اللہ نے پسند فرمایا اس کو تم پر اور زیادہ فراخی دی اس کو علم اور جسم میں اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہے اور اللہ ہے فضل کرنے والا سب کچھ جاننے والاف 484

482 ۔ یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یہاں سے اس واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے اس حکم سے روگردانی کی۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کے سامنے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا امیر لشکر مقرر کیا ہے لہذا تم اس کی اطاعت کرو اور متحد ہو کر اس کی کمان میں جہاد کرو۔483 حضرت شموئیل (علیہ السلام) کا یہ اعلان سنتے ہی دولت مند اسرائیلی بول اٹھے اور تعجب اور حیرت سے کہنے لگے کہ طالوت جو ایک غریب اور مفلس آدمی ہے اسے ہم پر امارت اور ریاست کا کس طرح حق حاصل ہوسکتا ہے جبکہ ہم میں دولت مند اور اہل ثروت قوم میں موجود ہیں۔ نیز طالوت نہ تو سبط نبوت یعنی لاوی بن یعقوب کی اولاد میں سے ہے اور نہ سبط مملکت یعنی یہودا کی اولاد سے کیونکہ طالوت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے بنیامین کی اولاد سے تھا۔ اس لیے اس کے مقابلہ میں ہم امیر بننے کے زیادہ مستحق ہیں۔ یہ استفہام اظہار تعجب اور حیرت کے لیے ہے۔ اس سے ان کا مقصد پیغمبر کی تکذیب وتردید نہیں تھی۔ بلکہ اس انتخاب پر حیرت وتعجب مقصود تھا۔ والاستفھام حقیقی او للتعجب لا لتکذیب نبیھم والانکار علیہ فی رای (روح ص 166 ج 2 ۔484 اللہ کے پیغمبر نے ان کے شبہ کے تین طرح کے جواب دئیے (1) یہ انتخاب انسانی نہیں بلکہ خدائی ہے۔ اس لیے جو حکمتیں اور مصلحتیں اس میں پوشیدہ ہیں وہاں تک تمہارے سطحی ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ اسے بلا چون وچرا مان لو۔ (2) تم نے جو امارت وسیادت کا معیار مقرر کیا ہوا ہے کہ امیر وہی ہوسکتا ہے جو دولت مند ہو اور خاندان امارت سے تعلق رکھتا ہو تو دراصل یہ کوئی معیار نہیں۔ ان دو صفتوں کی جگہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو دو ایسی خوبیاں عطا فرمائی ہیں جن کا امیر میں ہونا نہایت ضروری ہے اور جو ان پہلی دو صفتوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ ایک علم علم دوسری جسمانی طاقت۔ یہ دونوں خوبیاں تم سب سے بڑھ کر طالوت میں موجود ہیں۔ (3) حکومت اور امارت خدا کے اختیار میں ہے اور تمام بندے بھی اسی کے مخلوق ومملوک ہیں۔ اس لیے وہ جسے چاہتا ہے امارت وسیادت سے سرفراز فرماتا ہے اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور کہا بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہ طالوت کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ آوے تمہارے پاس ایک صندوق کہ جس میں تسلی خاطر ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو چھوڑ گئی تھی موسیٰ اور ہارون کی اولاد اٹھا لاویں گے اس صندوق کو فرشتے485 بیشک اس میں پوری نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم یقین رکھتے ہو

485 جب اسرائیلیوں نے طالوت کی امارت پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تو حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے حکم الٰہی سے اعلان فرمایا کہ طالوت کے من جانب اللہ امیر ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تابوت سکینہ جو کبھی تمہارے پاس تھا مگر فلسطینی اسے تم سے چھین کرلے گئے تھے جس میں تمہارے لیے اطمینان قلب کا سامان ہے اور اس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کے باقی ماندہ تبرکات ہیں وہ تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ جب سے فلسطینی وہ تابوت چھین کرلے گئے وہ چین سے نہ بیٹھے کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخرتنگ آکر اس صندوق کو بیل گاڑی پر لادا اور اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرشتوں کو متعین کردیا جو بیلوں کو ہانک کر بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔ (کذا فی البحر المحیط ص 263 ج 2، و تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 302) لیکن حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ فرشتے اس صندوق کو ہوا میں اڑا کر لائے تھے۔ اور لا کر طالوت کے سامنے رکھ دیا۔ تمام لوگ یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ قال ابن عباس جاءت الملائکة تحمل التابوت بین السماء والارض حتی وضعتہ بین یدی طالوت والناس ینظرون (ابن کثیر ص 301 ج 1) سَکِیْنَةٌ (یعنی سکون و اطمینان کا باعث اور سبب) سے مراد تورات ہے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے486 سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں487 اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرے ایک چلو اپنے ہاتھ سے پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے488 پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کے تو کہنے لگے طاقت نہیں ہم کو آج جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی489 کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سے ملنا ہے بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی ہے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے490 اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

486:۔ جس فوج کو طالوت لے کر دشمن کے مقابلہ میں نکلے تھے ان میں کچھ مخلص تھے مگر اکثریت ان لوگوں کی تھی جو اخلاص کی خوبیوں سے محروم تھے اور اتنی بڑی فوج جو ہزارہاں سپاہیوں پر مشتمل تھی اس میں منافقین بھی ہوں گے اس لیے ضروری تھا کہ منافقین اور مخلصین امتیاز کیا جائے اور میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی غیر مخلصین کو الگ کردیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی جنگ میں موجودگی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوا کرتی ہے اس لیے راستہ میں واقع ہونے والے ایک دریا کے ذریعے ان کا امتحان کیا گیا۔ 487 یہ امتحان کی تفصیل ہے یعنی جو شخص اس میں سے پیٹ بھر کر پانی پی لے گا وہ میرے ساتھیوں اور رفیقوں میں سے نہیں ہے۔ اور وہ میرے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوسکے گا۔ نفی صرف رفاقت کی ہے ان کو ایمان سے خارج قرار دینا مقصود نہیں۔ ای تفسیر من اصحابی فی ھذہ الحرب ولم یخرجھم (قرطبی ص 252 ج 3) ۔ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۔ اور جس نے پانی کو نہ چکھا وہ میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ ۔ اصل حکم تو وہی تھا کہ اس پانی میں سے کوئی چکھے تک نہیں مگر ساتھ رخصت دے دی کہ اگر کوئی ایک ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے تو مضائقہ نہیں مگر پیٹ بھر پانی پینے کی اجازت نہیں۔ معناہ الرخصۃ فی اغتراف الغرفۃ بالید دون الکرع (مدارک ص 98 ج 1) ۔488 موسم چونکہ گرمی کا تھا اور انہیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی اس لیے انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا البتہ کچھ لوگوں نے جو 313 تھے اللہ کے حکم کا احترام کیا اور پانی نہ پیابس ایک چلو پر ہی اکتفا کیا جس کی اللہ نے اجازت دی تھی۔489 اکثر مفسرین کا خیال ہے والذین آمنوا سے وہ مومن مراد ہیں جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا کیونکہ صرف اتنے ہی لوگوں نے طالوت کے ساتھ دریا کو عبور کیا تھا۔ اور جنہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا تھا وہ تو اس قابل ہی رہے تھے کہ فوج کے ساتھ مارچ کرسکیں اس لیے وہ وہیں رہ گئے و اکثر المفسرین علی انہ انما جاوز معہ النھر من لم یشرب جملۃ (قرطبی ص 355 ج 3) لیکن دریا عبور کرنے کے بعد جب ان لوگوں کا دشمن کی فوج سے آمنا سامنا ہوا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے بتقاضائے بشریت کمزوری دکھائی۔ دشمن فوج کا سردار جالوت بڑا قوی ہیکل، شہ زور اور بہادر تھا اور اس کی فوج ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھی جو سارے کے سارے جنگی سازوسامان سے لیس تھے اس لیے بعض مسلمانوں نے یہ منظر دیکھ کر کہ دیا کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی ہم میں تو طاقت نہیں کیونکہ وہ ہمارے مقابلہ میں تعداد کے لحاظ سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں اور سامان جنگ کے اعتبار سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔490 ظن یہاں یقین معنوں میں ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ والظن ھما بمعنی الیقین (قرطبی ص 255 ج 1) یظنون ای یستیقنون (روح ص 171 ج 2) یعنی ان میں سے جو لوگ اصحاب عزم پختہ ایمان والے تھے جب انہوں نے یہ صورتحال دیکھی تو مسلمانوں کو سمجھانے لگے کہ فتح وشکست کا مدار فوج اور سامان کی کثرت وقلت پر نہیں بلکہ یہ معاملہ تو خدا کے اختیار میں ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کئی چھوٹے چھوٹے لشکروں کو محض اپنی مدد اور توفیق سے بڑی بڑی فوجوں پر فتح دی ہے اس لیے تم ہمت مت ہارو اور جم کر استقلال کے ساتھ دشمن سے لڑؤ۔ اللہ تمہاری مدد کریگا اور تمہاری قلت کے باوجود تم کو دشمن کی کثیر فوج پر فتح دیگا۔ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ کیوکن کہ وہ صبر و استقلال کا دامن تھامنے والوں کی ضرور مدد کرتا ہے۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب سامنے ہوئے جالوت کے اور اس کی فوجوں کے تو بولے اے رب ہمارے ڈال دے ہمارے دلوں میں صبر اور جمائے رکھ ہمارے پاؤں اور مدد کر ہماری اس کافر قوم پر491

491 بَرَزُوْ ا کے معنی ہیں صاروا فی البراز وھو الفیح من الارض المتسع (قرطبی ص 256 ج 3، بحر ص 267 ج 2) یعنی جب وہ کھلے میدان میں جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے ہوئے تو چونکہ دشمن کی فوج 90 ہزار اور بروایت تین لاکھ سواروں پر مشتمل تھی اور مسلمان صرف 313 تھے اس لیے انہوں نے گڑ گڑا کر نہایت ہی عاجزی اور تضرع سے خدا سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں صبر و استقلال اور ثابت قدمی عطا کرنا اور کافروں کی اس فوج پر ہمیں فتح مند فرمانا۔ فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی مدد فرمائی چناچہ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی مدد فرمائی چناچہ انہوں نے اللہ کی توفیق ونصرت سے ان کو شکست دیدی اس واقعہ میں یہ جملہ مقصودی ہے یعنی ان کی قلت کے باوجود اللہ نے ان کو کثیر لشکر پر فتح دی اس لیے تم بھی اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد کرو۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر شکست دی مومنوں نے جالوت کے لشکر کو اللہ کے حکم سے اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو اور دی اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا ان کو جو چاہا492 اور اگر نہ ہوتا دفع کرا دیتا اللہ کا ایک کو دوسرے سے تو خراب ہوجاتا ملک493 لیکن اللہ بہت مہربان ہے جہان کے لوگوں پر

492 داؤد سے حضرت داؤد بن ایشا پیغمبر مراد ہیں اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا عام ہے۔ جو حکومت وسلطنت کیلئے ضروری دانائی اور نبوت کو بھی شامل ہے اور مایشاء ان تمام جنگی اور صنعتی علوم وفنون کو شامل ہے جو اللہ نے ان کو عطا فرمائے تھے فلسطینی عمالقہ کا سردار جالوت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں مارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی حکومت دی اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور مختلف علوم وفنون سکھائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ابھی کمسن نوجوان تھے۔ اور اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ یہ طالوت کی فوج میں پہلے شامل نہیں تھے البتہ ان کے ساتھ انکے بڑے بھائی شریک جہاد تھے۔ یہ تو محض لڑائی دیکھنے کیلئے وہاں چلے گئے لیکن جب وہاں پہنچے جو جالوت اپنے مقابلہ میں مبارز طلب کر رہا تھا۔ بنی اسرائیل میں سے جب کوئی اس کے مقابلے میں نہیں نکل رہا تھا تو حضرت داؤد نے ایک پتھر سے اس کا کام تمام کردیا (قرطبی ص 257 ج 3 وغیرہ) ۔493 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکومتوں کے انقلابات اور فتح وشکست کی تکوینی مصلحت اور حکمت بیان فرمائی ہے کہ جب کسی قوم یا حکومت کی طرف سے دوسروں پر ظلم وستم اور جبروتشدد کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ظلم وتشدد کو ختم کرنے کے لیے دوسری قوم کو کھڑا کردیتا ہے اور اس طرح ظلم وتعدی اور شروفساد سے زمین کو بچالیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور ظالم و جابر کو کھلا چھوڑ دیا جاتا تو زمین شروفساد کا گہوارہ بن کر رہ جاتی۔ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ۔ لیکن دنیا والوں پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ ایسے انقلابات سے عدل و انصاف اور امن و سکون کو قائم ودائم رکھے ہوئے ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ آیتیں اللہ کی ہیں ہم تجھ کو سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک اور تو بیشک ہمارے رسولوں میں ہے494

494 یہ جملہ معترضہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کی صداقت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے۔ یعنی گذشتہ واقعات کا صحیح صحیح علم جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ آپ سچے پیغمبر ہیں کیونکہ ان کا علم وحی الٰہی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ نبة اللہ تعالیٰ نبی ه ﷺ ان ھذہ الایات التی تقدم ذکرھا لایعلمھا الا نبی مرسل وقرطبی ص 261 ج 3) حیث تخبر بتلک الایات وقصص القرون الماضیة واخبارھا علی ماھی علیہ من غیر مطالعة کتاب ولا اجتماع باحد یخبر بذالک (روح ص 175 ج 2)
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے495 اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس یعنی جبرائیل سے496 اور اگر اللہ چاہتا تو نہ لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان پیغمبروں کے پیچھے بعد اسکے کہ پہنچ چکے ان کے پاس صاف حکم497 لیکن ان میں اختلاف پڑگیا پھر کوئی تو ان میں ایمان لایا اور کوئی کافر ہوا اور اگر چاہتا اللہ تو وہ باہم نہ لڑتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہے498

495 امام رازی امام ابو مسلم سے ناقل ہیں کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے تسلیہ کے لیے ہے۔ پہلے اللہ نے اسرائیلیوں اور عیسائیوں کی کجروی اور کج بحثی کا ذکر کیا۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہم کو خدا کی ذات کا آنکھوں سے مشاہدہ کرادو اور بت پرستوں کی طرح ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کردو (یہ مطالبہ سورة اعراف رکوع 16 میں جو پہلے نازل ہوچکی تھی مذکور ہے) اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی تکذیب کرنا حضرت شمویل سے امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد طالوت کی امارت پر اعتراض کرنا وغیرہ۔ یہ تمام واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بڑی شان اور بزرگی والے تھے۔ ان کی قوموں کا رویہ آپ نے دیکھ لیا۔ لہذا اگر آپ کی قوم بھی قیام معجزات اور وضوع دلائل کے باوجود ایمان نہیں لاتی تو اس پر غمگین اور دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمام انبیاء اوراقوام عالم میں اللہ کا دستور ہی یہی ہے۔ (من الکبیر۔ ملخصا ص 451 ج 2) حضرات انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی تمام نور، ناری اور خاکی مخلوق سے افضل و برتر ہیں۔ البتہ ان کے درجات باہم متفاوت ہیں۔ ہر پیغمبر کو کوئی نہ کوئی ایسی خصوصیت حاصل ہے جو دوسرے کو حاصل نہیں۔ آگے اس کی تمثیل ہے۔ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ ۔ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ جن سے اللہ نے کوہ طور پر بلا واسطہ کلام فرمایا اور رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ۭ سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ المکلم موسیٰ (علیہ السلام) (قرطبی ص 264 ج 3، مدارک ص 99 ج 1) والمراد ببعضھم ھذا النبی ﷺ کما ینبئ عنہ الاخبار بکونہ ﷺ منھم (روح ص 2 ج 3، مدارک قرطبی)496 بینات سے معجزات اور انجیل کی آیات واضحہ مراد ہیں۔ روح القدس اور تائید کی تفسیر رکوع 11 میں گذر چکی ہے۔ امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر جزوی فضیلت ہے۔ لیکن تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل حضرت خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ اجمعت الامة علی ان بعض النبیاء افضل من بعض وعلی ان محمدا ﷺ افضل من الکل (کبیر ص 451 ج 2) ۔497 اگر اللہ چاہتا تو وہ دین حق کے واضح ہوجانے کے بعد تمام لوگوں کو توحید پر قائم رکھتا اور ان میں اختلاف واقع نہ ہونے دیتا اور اس طرح جنگ وجدال کی نوبت ہی نہ آتی۔ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ اللہ نے لوگوں سے اختیار چھین کر ان کی توحید قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ کیونکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ بندے کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کرتا تو ثواب و عقاب کا سلسلہ خدا کی حکمت بالغہ کے ساسر منافی اور بالکل بےمعنی ہوتا۔ نیز اس طرح ابتلاء اور آزمائش کی حکمت فوت ہوجاتی جو رسالت ونبوت کا صل مدعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل (علیہم السلام) کو بھیج کر اور ان کے ذریعے ایمان وتحید کا راستہ دلائل وبینات سے واضح فرما کر بندوں کا امتحان کیا کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا۔ چناچہ ارشاد ہے وَلَوْشَآءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرَاتِ ۔ اس لیے اللہ نے بندوں پر جبر نہیں کیا۔ بلکہ انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار اور پسند کے مطابق حق و باطل میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرلیں۔ اس لیے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ کسی نے ایمان اور توحید کی راہ اختیار کی اور کسی نے شرک وکفر کا راستہ لیا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا۔ حضرت شیخ نے فرمایا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الخ کے بعد اس جملے کا اعادہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُاس پر مرتب ہوسکے۔ یہ اعادہ، اعادہ لبعد العہد کے قبیل سے ہے۔ لوگوں میں دین کا اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بناء پر جنگ و قتال یہ سب کچھ خدا کے تصرف واختیار سے باہر نہیں۔ اگر وہ چاہتا تو اس اختلاف اور باہمی قتال کو روک سکتا تھا۔ مگر اس نے چاہا کہ لوگوں کو ایک راہ پر چلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بلکہ انہیں موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار سے جونسی راہ چاہیں اختیار کریں۔ حضرت شیخ علیہ الرحمة نے فرمایا کہ وجوب اور مشروعیت قتال کی ایک علت وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسِ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍمیں بیان ہوچکی ہے اور یہ مشروعیت قتال کی دوسری علت ہے یعنی اگر اللہ چاہتا تو جہاد و قتال کے بغیر ہی سب لوگوں کو دین حق اور توحید پر متفق کردیتا ہے۔ لیکن اس نے بندوں کے ابتلاء وامتحان کے لیے ان پر قتال واجب کردیا ہے۔ ان آیات کا خلاصہ ربط یہ ہے وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهسے مشروعیت جہاد کی علت بیان فرما کر تِلْکَ اٰيٰتُ اللّٰهِ الايةسے آنحضرت ﷺ کی صداقت بیان کی کیونکہ ان مذکورہ واقعات کی خبر آپ کو نہ تھی۔ یہ سب کچھ آپ وحی من جانب اللہ کے ذریعے بتا رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ کے ذکر مبارک کی مناسبت سے اس کے بعدتلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ الايةمیں باقی انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا سے يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُتک میں قتال کی دوسری علت بیان فرمائی۔ یعنی ہم نے تمام رسولوں کو فضیلت اور برتری عطا فرمائی اور بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ لیکن اس تفاوت درجات کے باوجود ان سب کا دین ایک تھا اور سب نے اپنے اپنے وقت میں دلائل وبینا سے دین توحید کو واضح فرمایا مگر ان کے بعد پچھلے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا۔ کچھ توحید پر قائم رہے اور کچھ توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگے یہاں تک کہ نوبت جنگ و قتال تک پہنچی اگر اللہ چاہتا تو تمام مشرکوں کو خود ہلاک کردیتا یا ان کو ایمان اور توحید قبول کرنے پر مجبور کردیتا تو جہاد و قتال کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ابتلاء اور آزمائش کے لیے قتال واجب کردیا۔498 اس کا ہر فعل اس کے اپنے ارادے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کا فعل نہ کسی دوسرے کے ارادہ کے ماتحت ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے اس کے ارادہ سے باز رکھ سکتا ہے اور امر بالقتال سے اس کا ارادہ بندوں کی آزمائش ہے کہ کون قتال و جہاد میں حصہ لیتا ہے اور کون نہیں لیتا۔ امر بالقتال اور ترغیب الی الجہاد کے بعد آگے پھر پانچویں بار جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کا حکم ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی پہلے اس دن کے آنے سے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہے اور نہ آشنائی اور نہ سفارش499 اور جو کافر ہیں وہی ہیں ظالم

499 یعنی نیکی کمانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع اس دنیا ہی میں ہے۔ دنیا میں کی ہوئی نیکی اور دنیا میں دی ہوئی خیرات ہی آخرت میں کام آئے گی۔ آخرت میں نہ تو تجارتی کاروبار ہوگا کہ عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کی رقم کما لے نہ وہاں دوست کام آئیں گے اور نہ ہی کسی کی سفارش کام آسکے گی یہاں اس شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہے۔ جس کے مشرکین قائل تھے یعنی شفاعت قہری۔ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ یہاں واؤ تعلیلیہ ہے۔ مطلب یہ کہ جہاد میں خرچ کرو۔ کیونکہ یہ کافر مشرک ہیں۔ اور شرک کو دنیا سے مٹانا ہے۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اصول عقائد اور آئین حیات کو نہ ماننے والے ہی اصل ظالم ہیں۔ جو خدا کی نافرمانی سے اپنی جانوں پر ظلم کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں