Ayah 2:275538 یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے کسی کو قرض حسنہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اگر کسی کو قرض دیتے ہیں تو وہ بھی سود پر۔ یہ ان لوگوں کیلئے زجر ہے جو دنیا میں سود لیتے ہیں قیامت کے دن ان کا حشر اس طرح ہوگا کہ جب وہ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے حواس باختہ ہوں گے اور وہ اس شخص کی مانند دیوانہ وار لڑکھڑاتے ہوئے میدان حشر کی طرف چلیں گے، جسے شیطان نے ہاتھ لگا کر دیوانہ کردیا ہو۔ قیامت کے دن میدان حشر میں سود خواروں کی یہ خصوصی علامت ہوگی۔ جس سے ہر ایک انہیں پہچان لے گا اور یہ میدانِ حشر میں انہیں رسوا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ولعل اللہ تعالیٰ جعل ذالک علامۃ لہ یعرف بھا یوم الجمع الاعظم عقبۃ لہ کما جعل لبعض المطیعین امارۃ تلیق بہ یعرف بھا کر امۃ لہ (روح ص 49 ج 3) وقالواکلہم ببعث کالمجنون عقوبۃ لہ وتمقیتا عند جمیع اھل المحشر (قرطبی ص 354 ج 3) امام سید محمود آلوسی فرماتے ہیں کہ شیطان کے مس سے جنون کا پیدا ہونا اطباء کی اس تحقیق کے خلاف نہیں ہے کہ جنون غلبہ سوداء سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک چیز کے کئی سبب ہوسکتے ہیں۔ جنون کا سبب قریب تو غلبہ سوداء ہے۔ مگر سبب بعید مس شیطان ہے۔ جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے مثلاً یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی کے اخلاطِ فاسدہ میں جنون پیدا کرنے کی استعداد اپنے کمال تک پہنچ جائے اور اس کے بعد مس شیطانی سے جنون بالفعل پیدا ہوجائے لیکن ضروری نہیں کہ ہر مس شیطانی موجب جنون ہو اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہر جنون میں مس شیطانی کا دخل ہو (روح ص 49 ج 3)539 ذالک سے گذشتہ عذاب کی طرف اشارہ ہے۔ ذالک العقاب (مدارک ص 501 ج 1) ذالک اشارۃ الی الا کل او الی ما نزل بھم من العذاب (روح ص 50 ج 3) یہ انہیں اس جرم کی سزا دی جائے گی کہ انہوں نے تجارتی کاروبار اور سودی کاروبار کو یکساں قرار دیا۔ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں برابر نہیں ہیں۔ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے چناچہ تجارت کو تو اللہ نے جائز اور حلال کیا ہے مگر ربا اور سود کو حرام ٹھہرایا ہے جب ربا کی حرمت نازل ہوئی تو کافر سود خواروں نے اس کے جواب میں الزامی طور پر کہا کہ بیع بھی تو ربا ہی کی طرح نفع کمانھر بیع وشرا کے ذریعے نفع کمانا بھی حرام ہونا چاہئے یہ انہوں نے الزاماً کہا حالانکہ انہیں کہنا یوں چاہئے تھا کہ ربا بھی بیع ہی کی طرح ہے لہذا جس طرح بیع جائز ہے اسی طرح ربا بھی جائز ہونا چاہیے۔540 حرمت سود نازل ہونیکے بعد جس نے سود لینے اور اسے جائز ٹھہرانے سے توبہ کرلی اب گذشتہ گناہ پر اس کو مواخذہ نہیں ہوگا اور جو سود وہ لے چکا ہے اسے واپس کرنا ضروری نہیں جو لے چکا سو لے چکا۔ ای ما تقدم اخذہ قبل التحریم لا یستترد منہ (روح ص 51 ج 3) وامرہ الی اللہ۔ اور آخرت کا معاملہ خدا کے سپرد ہے چاہے تو اسے معاف فرما دے۔ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ الخ۔ حرمت سود کے نزول کے بعد جو شخص پھر سود لینے لگے اور اسے جائز سمجھنے لگے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ قرآن ہمیشہ کفرو ایمان کے کامل درجے بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٓئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ ۔ مسند احمد میں ہے کہ من لم یحکم کے معنی ہیں من لم یعتقد تو اس سے بھی اس طرف اشارہ ہے کہ یہاں عدم حکم کا کامل درجہ مراد ہے۔ یعنی انکار، اسی لیے اس پر کفر کا اطلاق کیا گیا۔
Ayah 2:276541 محق کے معنی باطل کرنے اور گھٹانے کے ہیں والمحق النقصد والذھاب (قرطبی۔ ص 362 ج 3) مطلب یہ ہے کہ ربا سے کمائی ہوئی دولت میں برکت نہیں ہوتی اگرچہ مقدار میں وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور جس مال میں سود کی ملاوٹ ہوجائے گی اس کا انجام ضیاع ہوگا اور وہ مال کبھی نہ کبھی ضائع اور برباد ہو کر رہے گا۔ یذھب ببرکتہ ویھلک المال الذی یدخل فیہ (مدارک ص 108 ج 1) اس کے برعکس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور خیرات دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے اور مال بڑھتا ہے۔ ینمیھا ویزیدھا ای یزید المال الذی اخرجت منہ الصدقۃ ویبارک فیہ (مدارک ص 108 ج 1) وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ۔ کفار، کافر کا مبالغہ ہے۔ یعنی جو لوگ سود کو حلال سمجھنے کے کفر عظیم کے مرتکب ہیں اور ساتھ ہی سودی کاروبار کے گناہ میں ملوث ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں پسند نہیں کرتا۔ عظیم الکفر باستحلال الربا متمار فی الاثم باکلہ (مدارک ص 108 ج 1) سود خوروں اور سود کو حلال سمجھنے والوں کو عذاب کی خوشخبری کا بیان ہے۔ جو ایمان لانے کے بعد آگے ان لوگوں کیلئے اجر آخرت کی خوشخبری کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد تمام بدنی اور مالی عبادتیں ادا کرتے ہیں اور سود لینا تو درکنار وہ اللہ کی راہ میں دل کھولکر مال خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 2:277542 اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔
Ayah 2:278543 قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے بنو مغیرہ کو سود پر قرض دیا ہوا تھا۔ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد ثقیف کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ نزول حرمت سے پہلے جو سودی معاہدے ہوچکے ہیں ان پر اس حرمت کا اطلاق نہیں ہے آیت کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کوئی سودی کاروبار کا معاہدہ نہ کیا جائے۔ اسی غلط فہمی کی بنا پر انہوں نے بنو مغیرہ سے سود کی رقموں کا مطالبہ کیا لیکن بنو مغیرہ نے یہ کہہ کر سود دینے سے انکار کردیا کہ اسلام میں سود حرام ہوچکا ہے اور اس کی ادائیگی ساقط ہوچکی ہے۔ جب یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی جب قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے یہ آیت سنی تو وہ فوراً اس مطالبہ سے دست کش ہوگئے۔ ؓ وارضاہم (قرطبی ص 363 ج 1، روح ص 53 ج 3، کبیر ص 540 ج 2) مطلب یہ ہے کہ جو ربا تم پہلے لے چکے ہو اس کی واپسی کا تم سے اسلام مطالبہ نہیں کرتا۔ لیکن جو ربا قرضدار کے ذمہ باقی ہے اسے لینے کی اجازت نہیں۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ خدا کے حکم کے سامنے گردنیں جھکا دو اور اس کی نافرمانی سے باز آجاؤ۔
Ayah 2:279544 سود خوروں کیلئے یہ وعید شدید اور زبردست زجر ہے۔ یعنی اے سود خورو ! اگر تم سود لینے سے باز نہیں آتے تو تمہیں خدا اور خدا کے رسول کی طرف سے اعلان جنت ہے اب ان سے جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ۔ چونکہ اسلامی حکومت کا سربراہ اسلام نافذ کرنے میں خدا اور رسول خدا ﷺ کا نائب ہوتا ہے اس لیے سود خوروں سے جنگ کو عملی جامہ پہنانا اس کا فرض ہے اگر سود خور سود کو حلال سمجھتے ہیں تو وہ مرتد ہیں کیونکہ انہوں نے خدا کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال سمجھ لیا اس لیے بوجوہ ارتداد ان سے جنگ کی جائے اور اگر انہوں نے سود کو حلال تو نہیں سمجھا لیکن سود لینا ترک نہیں کیا تو وہ اسلامی حکومت کے آئین کے باغی ہیں اس لیے بوجہ بغاوت ان سے جنگ لازم ہے۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا۔ ای ما امرتم بہ من التقاء وترک البقایا اما مع انکار حرمتہ واما مع الاعتراف فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ وھو کحرب المرتدین علی الاول وکحرب البغاة علی الثانی (روح ص 53 ج 3، قرطبی ص 364 ج 3، خازن ص 654 ج 1) 545 اگر تم نے آئندہ کیلئے سود لینے سے توبہ کرلی ہے تو تم اپنا راس المال لے سکتے ہو مگر اس سے زائد لینے کی اجازت نہیں تاکہ نہ مقروض پر ظلم ہو اور نہ تم پر۔ آجکل بعض لوگ جن کے دماغوں پر بینک کا سود حلال کرنیکا جنون سوار ہے وہ کہتے ہیں کہ سود صرف وہی حرام ہے جس میں کسی فریق پر ظلم ہو اور بینک کے سود میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاملہ فریقین کی رضام خدا جانے ان لوگوں کے ذہنوں میں ظلم کا کونسا تصور جاگزیں ہے۔ قرآن مجید نے تو اصل رقم سے زائد رقم وصول کرنے ہی کو ایک فریق کے حق میں ظلم قرار دیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرضخواہ کو حکم دیا کہ تم اپنا اصل مال لے سکتے ہو مگر اس سے زائد لینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی اصل رقم چھوڑنے کا مطالبہ ہے تاکہ تم دونوں فریق ظلم سے بچ جاؤ کیونکہ مقروض سے مقدار قرض سے زائد رقم وصول کرنا اس کے حق میں ظلم ہے اور قرضخواہ کے راس المال میں کمی کرنا اس کے حق میں ظلم ہے لاتظلمون غرماء کم باخذ الزیادۃ ولا تظلمون انتم من قبلھم بالنقص من راس المال (روح ص 53 ج 3) یہاں کان تامہ اور ذوعسرۃ اسکا فاعل ہے۔ فنظرۃ میں فاء جزائیہ ہے اور نظرۃ مصدر ہے اور اس کے معنی مہلت دینے کے ہیں اور یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے یعنی فعلیکم نظرۃ (روح ص 54 ج 3) مطلب یہ ہے کہ اگر مقروض تنگدست ہو اور فوری طور پر تمہارا راس المال واپس نہ کرسکتا ہو تو اسے مہلت دیدو اور جب وہ قرض ادا کرنے کے قابل ہوجائے اس وقت اس سے اپنا حق وصول کرلو۔
Ayah 2:280546 اَنْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد مبتدا ہے اور خَیْرٌ لَکُمْ جاس کی خبر ہے۔ پہلے قرض کا مطالبہ کرنے میں نرمی برتنے کی تلقین فرمائی اب یہاں سرے سے اصل مطالبہ سے ہی دستبردار ہوجانے کی ترغیب دی یعنی اگر مقروض اتنا غریب ہو کہ قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو تم اسے معاف کردو اس طرح تمہیں اور زیادہ ثواب ملیگا۔ یعنی مہلت دینے کی نسبت اس میں زیادہ ثواب ہے۔ ای اکثر ثوابا من الانظار (روح ص 54 ج 3) یعنی ان التصدق خیر لکم و افضل لان فیہ الثناء الجمیل فی الدنیا والثواب الجزیل فی العقبی (خازن ص 254 ج 1) یہ تبشیر اخروی تھی اب آگے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 2:281547 اس آیت کے پہلے حصے میں برے اعمال سے بچنے اور دوسرے حصے میں نیک اعمال بجالانے کی ترغیب ہے۔ یوماً سے مراد قیامت کا دن ہے یوم قیامت کی دہشتنا کی کے پیش نظر گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہ سن کر کہ وہاں بےانصافی نہیں ہوگی بلکہ اعمال کی پوری پوری جزا دی جائیگی دل میں نیک اعمال کا مزید شوق پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک جہاد اور انفاق کا مضمون مع متعلقات ختم ہوا۔ اب آگے تیسری بار امور انتظامیہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اگلے رکوع میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر ادھار پر لین دین کیا جائے تو اسے لکھ لینا چاہیے اس ضمن میں تحریر لکھنے شہادت اور رہن کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں یہ سب امور انتظامیہ ہیں یہ احکام اس لیے ذکر کیے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے باہمی معاملات کا انتظام حسن و خوبی سے چلتا رہے اور باہمی نزاع اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔
Ayah 2:282548 یہاں لفظ اِنْ جو شک کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے کے بجائے لفظ اِذَا اسستعمال کیا گیا ہے جو وقع فعل پر دلالت کرتا ہے اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ لین دین کا معاملہ جب بالفعل واقع ہو اس وقت وثیقہ لکھنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے نہیں۔ یہاں لفظ دین عام ہے۔ ثمن اور مبیع دونوں کو شامل ہے۔ تمام تجارتی معاملات چار قسموں میں منحصر ہیں (1) بیع العین بالعین یعنی سودا دست بدست ہو۔ اس کا حکم آگے اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةًمیں آرہا ہے (2) بیع الدین بالدین یعنی سودے کی مجلس میں نہ خریدار قیمت ادا کرے اور نہ فروخت کنندہ مال حوالے کرے دونوں چیزیں ادھار ہوں یہ بیع ناجائز ہے (3) بیع العین بالدین یعنی خریدار مال وصول کرلے لیکن رقم بعد کو ادا کرنے کا وعدہ کرے (4) بیع الدین بالعین یعنی خریدار رقم پہلے ادا کردے لیکن مال بعد میں وصول کرے اسے اصطلاح شریعت میں بیع سلم کہتے ہیں ان دونوں قسموں کا حکم اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم کوئی ایسا سودا کرو جس میں قیمت یا مبیع (فروخت شدہ چیز) ادھار ہو اس کو لکھ لیا کرو۔ القول الثالث وھو قول اکثر المفسرین، بقی ھنا قسمان بیع العین بالدین وھو ما اذا باع شیئا بثمن مؤجل وبیع الدین بالعین وھو المسمی بالسلم وکلاھما داخلان تحت ھذہ الایۃ (کبیر ص 548 ج 2) یہ معاملہ لکھنے کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کا نزاع اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔ جمہور کے نزدیک یہ تحریر مستحب ہے۔ بقرینہ مابعد فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔ یعنی اگر کسی نے کسی پر اعتماد کرتے ہوئے اس سے تحریر نہ لکھوائی ہو تو مؤخر الذکر اداء حق میں کوتاہی نہ کرے۔ والجمھور علی استحبابہ (ابو السعود ص 546 ج 2، روح ص 55 ج 3) 549 یہ لکھنے کے شرعی طریقے کا بیان ہے۔ باِلْعَدْلِ لِیَکْتُب سے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ تحریر لکھے وہ عدل و انصاف سے کام لے اور فریقین میں سے کسی ایک کی طرفداری کر کے دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ ۔ یہ کاتب کیلئے دوسری ہدایت ہے یعنی اگر کاتب سے ایسی تحریر لکھنے کو کہا جائے تو اسے انکار نہیں کرنا چاہئے۔550 یہاں یہ ہدایت فرمائی کہ تحریر لکھوانے کی ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوتی ہے جس نے دوسرے کا حق دینا ہو کیونکہ یہ تحریربمنزلہ اقرار ہے اور اقرار اسی کی طرف سے ہوتا ہے جس کے ذمہ کچھ واجب الادا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی تلقین فرما دی کہ جس کے ذمہ حق ہو۔ دستاویز لکھواتے وقت اسے خدا خوفی سے کام لینا چاہئے اور جتنا اس نے دوسرے کا دینا ہے وہ صحیح صحیح لکھا جانا چاہیے اور اس میں ذرہ برابر کمی نہیں کرنی چاہئے۔ 551 جس کے ذمہ حق ہو اگر وہ کم فہم ہو یا بہت بوڑھا ہو یا کسی اور وجہ سے دستاویز نہ لکھوا سکتا ہو مثلاً گونگا ہو یا زبان نہ جانتا ہو وغیرہ تو پھر اس کی طرف سے اس کا ولی عدل و انصاف سے دستاویز لکھوا کر صاحب حق کے حوالے کرے۔552 یہاں شہادت کے احکام بیان فرمائے ہیں یعنی مذکورہ بالا معاملہ میں تحریر پر دو گواہ بھی بنا لو۔ آیت میں خطاب مومنوں کو ہے اور ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے مردوں میں سے دو گواہ منتخب کریں اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ گواہوں کا مسلمان ہونا۔ بالغ مرد اور آزاد ہونا شرط ہے وفی ذکر الرجال مضافا الی ضمیر المخاطبین دلالۃ علی اشتراط الاسلام والبلوغ والذکورۃ فی الشادھدین والحریۃ لان المتبادر من الرجال الکاملون (روح ص 57 ج 3) ای من رجال المومنین والحریۃ والبلوغ مشروط مع الاسلام (مدارک ص 106 ج 1) اگر گواہی کیلئے دو مرد میسر نہ آسکیں تو ایک مرد کیساتھ ایسی دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے جو قابل اعتماد ہوں۔ عورتوں پر چونکہ نسیان غالب ہوتا ہے اس لیے دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ شہداء کا لفظ یہاں عام ہے اور جو لوگ کسی معاملہ میں گواہ بن چکے ہوں یا انہیں گواہ بننے کیلئے کہا جائے دونوں کو شامل ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے۔ اذما دعوا الاداء الشھادۃ او لتحملھا (روح ص 60 ج 3) مطلب یہ ہے کہ اگر گواہوں کو گواہی دینے کیلئے یا کسی معاملہ میں گواہ بننے کیلئے بلایا جائے تو انہیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔553 تَکْتُبُوْہُ میں ضمیر مفعول دین یا ھق کی طرف راجع ہے اور صَغِیْراً اَوْ کَبِیْراً دونوں اس سے حال ہیں۔ یعنی دین اور ادھار کا معاملہ ہر حال میں لکھ لیا کرو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا محض سستی کی وجہ سے اس میں کوتاہی نہ کرو۔ اِلیٰ اَجَلِہٖ میں الی بمنعی مع ہے یعنی تحریر میں اداء حق کی آخری مدت بھی لکھو۔554 ذَالِکُمْ سے لکھنے کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے معاملہ کو لکھ لینا زیادہ سے زیادہ قرین انصاف ہے اور اس طرح گواہی بھی ہر قسم کے ردوبدل سے محفوظ رہے گی اور معاملہ ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا تر رہیگا۔ اِلَّا اَن تَکُوْنَ تِجَارَۃًحَاضِرَۃً ۔ یہ ماقبل سے استثناء ہے، پہلے بیان فرمایا کہ اگر کسی لین دین کے معاملہ میں قیمت یا مبیع ادھار ہو تو اس کے متعلق ایک دستاویز لکھ لو یہاں فرمایا کہ اگر سودا دست بدست ہو اور کوئی چیز ادھار نہ ہو تو پھر لکھنا ضروری نہیں۔ امام عاصم کے علاوہ باقی قراء نے تجارۃ کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں کَانَ تامہ ہوگا اور تجارۃ اس کا فاعل ہوگا۔ امام عاصم کی قراءت میں تجارۃ منصوب ہے اور تکون کی خبر ہے اس کا اسم اسمیں ضمیر مستتر ہے جس کا مرجع فراء کے نزدیک تجارۃ موخر ہے بعض کے نزدیک اسکا مرجع معاملہ ہے جو سیاق کلام سے مفہوم (روح ص 61 ج 3) وقال الشیخ (رح) تعالیٰ الضمیر یعود الی المبیع والثمن جمیعا وحمل التجارۃ علیھا بتقدیر ذات ای الا ان تکون، ذات المبیع تجارۃ حاضرہ۔555 بعض مفسرین نے اس حکم کو معاملہ بالدین سے مخصوص کیا ہے اور بعض نے اسے عموم پر محمول کیا ہے بہرحال یہ حکم جمہور کے نزدیک استحبابی ہے۔ وَلَا یُضَارَّ کَاتِبٌ وَّلَا شَھِیْدٌ۔ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ کسی کو ضرر نہ پہنچایا جائے۔ دستاویز لکھنے والے اور گواہ کو اس سلسلہ میں تکلیف نہ دی جائے مثلاً اگر کوئی کاتب یا گواہ کسی مجبوری کی بنا پر یہ خدمت انجام دینے سے قاصر ہو تو اسے اس پر مجبور نہ کیا جائے یا کاتب اور گواہ کو بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ تم نے یہ معاملہ کیوں لکھا یا تم نے اس بارے میں کیوں گواہی دی۔556 ۔ اگر تم ایسا کرو گے اور دوسروں کو ضرر پہنچانے سے باز نہیں رہو گے تو یہ تمہاری طرف سے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہوگی اس لیے تم اللہ کے احکام کے بارے میں اس سے ڈرتے رہو۔ اور یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ تمہیں احکام دین سکھاتا ہے اور اس کا اسے حق پہنچتا ہے کیونکہ وہ دین و دنیا کی تمام مصلحتیں بخوبی جانتا ہے
Ayah 2:283557 یعنی اگر حالت سفر میں تم کسی سے معاملہ بالدین کرو (ادھار خرید وفروخت کرو) اور دستاویز لکھنے والا نہ مل سکے تو پھر جس کے ذمہ حق ہے اس سے کوئی چیز مثلاً زیور وغیرہ رہن رکھ لو تاکہ تمہیں اطمینان ہوجائے اور حق کے ضائع ہونے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ رِھٰنٌ کے بعد تناسب ذالک محذوف ہے یہاں سفر کی قید اتفاقی ہے احترازی نہیں ہے۔ کیونکہ سفر میں یہ احتمال قوی ہے کہ کاتب میسر نہ آسکے اس لیے رہن رکھنا حالت سفر سے مخصوص نہیں بلکہ حالت حضر میں بھی جائز ہے۔ اسی طرح اگر لکھنے والا بھی مل جائے تو بھی رہن رکھنا اور لینا جائز ہے۔ اتفقت الفقھاء الیوم علی ان الرھن فی السفر والحضر سواء وفی مال وجود الکاتب وعدمہ (کبیر ص 558 ج 2) ۔558 امانت سے یہاں وہ حق مراد ہے جو مدیون کے ذمہ واجب الادا ہے یعنی اگر ایک شخص دوسرے کو امین سمجھ کر اس سے ادھار خرید وفروخت کرتا ہے اور اس سے کسی قسم کی دستاویز نہیں لیتا۔ نہ کسی کو گواہ بناتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز بطور رہن اس سے لیتا ہے اپنے پاس بلکہ اس کی امات ودیانت پر اعتماد کرتے ہوئے معاملہ کرے تو دوسرے شخص پر لازم ہے کہ وہ اس کا حق ادا کرے اور خدا سے ڈرے نہ اس کے حق میں کمی کرے اور نہ ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے۔ الَّذِی ائْتُمِنَ ، فَلْیُؤِدِّ کا فاعل اور اَمَانَتُہٗ اس کا مفعول ہے۔559 یہ گواہوں کیلئے ہدایت ہے کہ جب وہ کسی معاملہ میں گواہ بن جائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ صحیح صحیح گواہی دیں اور اس کا کوئی حصہ چھپا کر یا اس میں ترمیم کر کے کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ کوئی معمولی گناہ نہیں کرتا بلکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شخص کا دل مجرم ہے کیونکہ جبتک دل میں کسی فعل کا ارادہ پیدا نہ ہو اس وقت تک اعضاء سے کوئی فعل سرزد نہیں ہوسکتا اور دل چونکہ تمام بدن کا مدبر اور بادشاہ ہے اس لیے اس کا جرم بھی بہت بڑا ہوگا۔ لانہ اشرف الاجزاء ورئیسھا وفعلہ اعظم من افعال سائر الجوارح فیکون فی الکلام تنبیہ علی ان الکتمان من اعظم الذنوب (روح ص 63 ج 3) اللہ تعالیٰ تمہارے ہر فعل سے باخبر اور واقف ہے وہ تمہارے ارادے کو بھی جانتا ہے اس لیے وہ ضرور تمہارے اعمال کی تمہیں جزا دیگا۔ یہاں پر امور انتظامیہ کا بیان ختم ہوگیا اب آگے توحید پر چوتھی دلیل عقلی پیش کی گئی ہے۔
توحید پر چوتھی عقلی دلیل
اس سے پہلے سورت کے مختلف حصوں میں تین دفعہ دعویٰ توحید مذکور ہوچکا ہے اور ہر جگہ اسے عقلی دلائل سے مدلل کیا گیا ہے دعویٰ توحید کو بار بار دہرانے کی وجہ بھی مذکور ہوچکی ہے یہاں سورت کے آخری رکوع کی ابتداء میں دعویٰ توحید پر عقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔
Ayah 2:284560 یہ ایک ایسا جامع جملہ ہے کہ یہ ساری کائنات کو شامل ہے اور کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہتی اور للہ خبر ہے جسے افادہ حصر کیلئے مبتدا پر مقدم کیا گیا ہے یعنی ساری کائنات پر تنہا اللہ ہی کا قبضہ ہے اور ہر چیز اسی ہی کے تصرف واختیار میں ہے اور اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لہذا عبادت بھی اسی ہی کی کرو اور حاجات ومشکلات میں صرف اسی ہی کو پکارو۔ 561 یہاں مَا سے مراد اعتقادات اختیاریہ ہیں کہ وساوس کیونکہ ابداء اور اخفاء دونوں میں اختیار فاعل کو دخل ہے۔ اور وساوس خود بخود دل میں آتے ہیں ان میں فاعل کو کوئی دخل نہیں ہوتا اس لیے وساوس پر کوئی مواخذہ نہیں کیونکہ وہ اس آیت کے تحت داخل ہی نہیں۔ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَاءُ الخ۔ محاسبہ کے بعد جسے وہ چاہے گا محض اپنے فضل و احسان سے معاف کردیگا اور جسے چاہے گا قانون عدل و حکمت کے تحت سزا دیگا۔
Ayah 2:285562 اس سورة جلیلہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت نماز، زکوۃ، حج، نکاح، طلاق، جہاد، انفاق اور حرمت ربا وغیرہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اب سورت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ خدا کا پیغمبر اور تمام مومنین ان احکام کو دل وجان سے تسلیم کرچکے ہیں۔ اور عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا ہیں آگے اس کی قدرے تفصیل ہے۔ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ الخ۔ خدا کا پیغمبر اور سارے کے سارے مومن خدا کی توحید پر ایمان لا چکے ہیں۔ خدا کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے تمام رسولوں کے برحق ہونے پر بھی ایمان لا چکے ہیں۔ رسولوں کے درمیان تفریق کی نفی سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام رسولوں کو مانتے ہیں ایسا نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔ جس طرح عیسائیوں نے حضرت خاتم النبیین ﷺ اور یہودیوں نے آپ کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا۔ 563 قَالُوْا کا عطف اٰمَنَ پر ہے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا۔ یہاں ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا تذکرہ کیا۔ وھو حکایۃ لامتثالھم الاوامر والنواھی اثر حکایۃ ایاماھم (روح ص 68 ج 3) سَمِعْنَا کے معنی اَجَبْنَا کے ہیں اور غُفْرَانَکَ سے پہلے طَلَبْنَا فعل محذوف ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ بعض مفسرین نے اِغْفِرْ محذوف مانا ہے۔ یعنی وہ سب زبان سے اعلان کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم نے تیرے تمام احکام قبول کیے اور تیری مکمل اطاعت کا عہد کیا اور ہم تمجھ سے عفو و درگذر کی درخواست کرتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر ہم نے تیرے سامنے حاضر ہونا ہے۔
Ayah 2:286564 اللہ تعالیٰ کا یہ ایک عام قانون ہے کہ وہ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور اس سے ایسے احکام کی تعمیل کا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کی طاقت سے باہر ہوں۔ اس سورت کے تمام احکام انسان کے دائرہ قدرت میں داخل ہیں اور اس میں کوئی ایسا حکم نہیں جس کی تعمیل انسان کیلئے ناممکن ہو کیونکہ تمام مومنین ان احکا کو دل وجان سے قبول کر کے انہیں عملی زندگی میں اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَااکْتَسَبَتْ ۔ یہ ایک دوسرا قانون ہے کہ ہر آدمی کو اس کے اپنے ہی نیک اعمال کا نفع پہنچے گا اور ہر شخص اپنے ہی بد اعمال کی سزا پائے گا۔ ٖ 565 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی قَالُوْا کے تحت داخل ہے اور مومنین کی بقیہ دعاؤں کی حکایت ہے اور بعض کا خیال ہے کہ دعا کی تعلیم ہے اور اس سے پہلے قُوْلُوْا محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو تعلیم دے رہا ہے کہ اس طرح دعا مانگا کرو۔ اور نسیان سے یہاں ترک اور خطا سے عصیان مراد ہے۔ والمراد من الاول الترک والمراد من الثانی العصیان (روح ص 70 ج 3) والقول ؟ فی تفسیر النسیان ان یحمل علی الترک (کبیر ص 578 ج 2) کذا فی مشکل الاثار۔ یعنی اے اللہ اگر ہم سے عمداً یا خطاً تیری نافرمانی ہوجائے تو اس پر مؤاخذہ نہ فرمانا مومنین کی پہلی دعا ہے جس میں گناہوں کی مغفرت کی درخواست ہے۔ 566 اِصْراً سے مراد وہ احکام ہیں جو مشکل ہوں اور جنہیں انسان مشقت سے برداشت کرسکے والمراد بہ التکالیف الشاقۃ (روح ص 70 ج 3، ابو السعود ص 578 ج 2) جس طرح یہودیوں پر تھے مثلاً مال سے چوتھا حصہ زکوۃ دینا اور ناپاک کپڑے کا پانی سے پاک نہ ہونا وغیرہ۔ قال المفسرون ان اللہ تعالیٰ امرھم باداء ربع اموالھم فی الزکوۃ ومن اصاب ثوبہ نجاسۃ امر بقطعھا الک (کبیر ص 578 ج 2)567 یہ مومنوں کی تیسری دعا ہے اور اس میں درخواست کی گئی ہے کہ انہیں ایسی مصائب اور آزمائشوں میں نہ ڈالا جائے جو ان کی طاقت اور بساط سے بڑھ کر ہوں۔ واعف عنا واغفر لنا وارحمنا الخ۔ یہ آخری دعا ہے مومنین ایک طرف اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا عتراف کر کے اللہ سے عفو و درگذر کی التجا کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ سے اس کی رحمت مانگتے ہیں مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اسباب مہیا کرنے کے بعد محض اللہ کی رحمت اور اس کی مدد پر اعتماد کرتے ہیں۔ سورة بقرہ کی تفسیر ختم ہوئی والحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی رسول الکریم وعلی جمیع عبادہ الصالحین۔
سورة بقرہ میں آیات توحید
1 ۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 21ۙالَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً ۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
2 ۔ كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28 ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۤ ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ
3 ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 106 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْر
4 ۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ 116 بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ
5 ۔ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ۭ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
6 ۔ صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ 138 قُلْ اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللّٰهِ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۚ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۚ وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ
7 ۔ وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ 163ۧاِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۠ وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ
8 ۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ 255 لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ
9 ۔ۧلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ۭ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر۔