2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب لیا ہم نے تم سے قرار131 اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو کہ پکڑو جو کتاب ہے تم کو دی زور سے132 اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم ڈرو

ف 131 ۔ یہ پہلی خباثت ہے۔ یہاں میثاق سے مراد تورات پر عمل کرنے کا عہد میثاق ہے۔ بقول مافی التورۃ (مدارک ص 72 ج 1) بالمحافظۃ علی ما فی التورۃ (ابو السعود ص 554 ج 1) وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس پر عمل کرو تو انہوں نے کہا کہ یہ احکام سخت ہیں جب تک اللہ خود ہم سے ہمکلام نہ ہو اور اسے ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ہم نہیں مانیں گے جس طرح آج کل مغرب زدہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام سخت ہیں جو موجودہ زمانے کے لیے غیر مفید ہیں اس لیے ان میں ترمیم ہونی چاہیے۔ اس پر انہیں صاعقہ بھیج کر ہلاک کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر انہیں دوبارہ زندہ کردیا گیا مگر اس کے بعد پھر بھی وہ تورات کو ماننے پر تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ تورات پر عمل کرنے کا عہد کرو ورنہ پہاڑ گرا کر تمہیں ہلاک کردیا جائیگا تو اس پر سب نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ دین میں تو جبرواکراہ نہیں تو پھر اسرائیلیوں پر پہاڑ لٹکا کر انہیں تورات پر عمل کرنے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابتداء قبول اسلام پر کسی کو مجبور کرنے کی اسلام میں قطعاً کوئی اجازت نہیں البتہ قبول اسلام کے بعد اگر کوئی شخص اسلام کے دستور حیات سے بغاوت کرے گا تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اسلام صرف چند مذہبی رسوم و احکام کا نام نہیں بلکہ وہ احکم الحاکمین کی حکومت سلطنت کا کامل دستور اور مکمل آئین ہے اس لیے اسے قبول کرنے کے بعد اس سے بغاوت کو بشرط ضرورت جبرواکراہ اور قوت و طاقت کے ذریعے روکا جائیگا بشرطیکہ حکومت اسلامی ہو۔ جیسا کہ دنیا کی تمام حکومتوں کا اصول ہے کہ وہ اپنے دستور اور آئین سے بغاوت وسرکشی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتیں۔ اسرائیلی چونکہ اسلام قبول کرچکے تھے اور اب اس کے دستور یعنی توراۃ سے جو اس وقت اسلام کا دستور تھا۔ سے بغاوت کر رہے تھے۔ اس لیے اسے برداشت نہیں کیا گیا اور بجبر واکراہ ان سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لیا گیا۔132 ۔ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے یعنی ہم نے کوہ طور ان کے اوپر کھڑا کر کے ان سے کہا کہ تورات کی صورت میں جو احکام ہم نے تمہیں دئیے ہیں ان کی سختی سے پابندی کرو۔ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ ۔ اور اس کتاب کو درس و تدریس کے ذریعے یاد رکھو۔ اس میں غور وفکر کرو اور اس کے امر ونہی پر عمل کرو واحفظوا ما فیہ وادرسوہ ولا تنسوہ ولا تغفلوا عنہ (مدارک ص 43 ج 1، کبیر ص 552 ج 1) ای تدبروہ واحفظوا وامرہ ووعیدہ ولا تنسو ولا تضیعوہ (قرطبی ص 437 ج 1) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ تاکہ تم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب سے بچ سکول کی تنجوا من الہلاک فی الدنیا والعذاب فی العقبی (معالم ص 58 ج 1)
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم پھرگئے اس کے بعد133 سو اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی مہربانی تو ضرور تم تباہ ہوتے134

ف 133 ۔ یہ اشارہ مذکورہ عہد و پیمان کی طرف ہے یعنی پختہ عہد و پیمان کے بعد پھر تم نے حسب عادت قدیمہ اس سے اعراض کیا۔ اور اسے پس پشت ڈال دیا من بعد اخذ ذلک المیثاق المؤکد (ابو السعود ص 55 ج 1) ای اعرضتم عن الوفاء بالمیثاق بعد اخذہ وخالفتم (روح ص 280 ج 1)134 ۔ لیکن اس عہد شکنی کے باوجود اللہ نے اپنی خاص نوازش ومہربانی سے تمہیں موقع پر فوراً ہلاک نہ کیا اور سنبھلنے کے لیے تمہیں مزید مہلت دیدی اگر وہ ایسا نہ کرتا تو دنیا سے کب کا تمہارا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔ ولو لا فضل اللہ تعالیٰ علیکم بالامہال وتاخیر العذاب لکنتم من الہا لیکن (ابو السعود ص 555 ج 1) ۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم خوب جان چکے ہو جنہوں نے کہ تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں135 تو ہم نے کہا ان سے ہوجاؤ بندر ذلیل136

ف 135 ۔ سبت یعنی ہفتے کا دن دین یہود میں متبرک اور مقدس دن تھا جیسا کہ مسلمانوں کے لیے جمعہ اور عیسائیوں کے لیے اتوار ہے ہفتہ کے دن انہیں مچھلی کے شکار سے روکا گیا تھا مگر انہوں نے خدا کے اس حکم کی پرواہ نہ کی اور ہفتہ کے دن بھی شکار سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عبرتناک سزا دی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہ واقعہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا اور جن اسرائیلیوں کا یہ واقعہ ہے وہ ساحل سمندر پر واقع ایلہ نامی گاؤں کے باشندے تھے (روح ص 282 ج 1، کبیر ص 553 ج 1)136 ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور انہیں ذلیل بندر بنا دیا یہ مسخ حقیق اور حسی تھا مجازی اور معنوی نہیں تھا اور مسخ کے بعد تین دن کے اندر اندر سب ہلاک ہوگئے۔ وظاھر القران انہم مسخوا قردۃ علی الحقیقۃ وعلی ذلک جمہور المفسرین وھو الصحیح۔۔۔۔ ولم یعیوشوا اکثر من ثلثہ ایام (روح صص 283 ج 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے موجودہ بنی اسرائیل کو خطاب کر کے اور فرمایا کہ اپنے اسلام کے عصیان وعدوان کا یہ واقعہ تو تم اچھی طرح جانتے ہو یہ تمہاری آبائی تاریخ کا ایک مسلم واقعہ ہے اور ان کا جو حشر ہوا وہ بھی تمہیں بخوبی معلوم تو اب اس واقعہ سے اندازہ کرلو کہ اگر تم اسی طرح عصیان وعدوان اور تمرد وسرکشی میں رہے تو تم پر بھی قہر خداوندی نازل ہو کر رہے گا۔ انہ تعالیٰ لما اخبرھم بما عامل بہ اصحاب السبت فکانہ یقول لہم اما تخافوان ان ینزل علیکم بسبب تمردکم ما نزل علیہم من العذاب فلا تغتروا بالامہال المحدود علیکم (کبیر ص 553 ج 1)
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر کیا ہم نے اس واقعہ کو عبرت137 ان لوگوں کے لئے جو وہاں تھے اور جو پیچھے آنے والے تھے اور نصیحت ڈرنے والوں کے واسطے

ف 137 ھا کی ضمیر مذکورہ سزا کی طرف راجع ہے نکالا۔ نکال کے معنی عبرت کے ہیں نکالا عبرۃ تنکل المعتبر بھا ای تمنعہ وتروغہ (ابو السعود ص 557 ج 1 لما بین یدیہا۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس واقعہ کے ظہور کے وقت قرب و جوار میں موجد تھے۔ ای لمن قرب منھا (ص 247 ج 1) لما حولہا من القری (بحر ص 247 ج 1) وما خلفہا وہ لوگ جو اس زمانہ کے بعد ہوں گے۔ ای من جاء بعدھم (نہر) وما یحدچ بعدھا من القری التی لم تکن (بحر) یعنی ہم نے اس سزا کو موجودہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بنا دیا کہ وہ اسے یاد کر کے خدا سے ڈرتے رہیں اور اس کی حدود کی پابندی کرنے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دیتا ہے یا متقین سے عام پرہیزگار اور خدا ترس لوگ مراد ہیں الذین نھوھم عن الاعتداٗ من صالحی قومہم او لکل متق سمعھا (مدارک ص 42 ج 1) ۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اللہ فرماتا ہے تم کو ذبح کرو ایک گائے138 وہ بولے کیا تو ہم سے ہنسی کرتا ہے139 کہا پناہ خدا کی کہ ہوں میں جاہلوں میں

ف 138 ۔ یہ دوسری خباثت ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا مگر وہ خبث باطن کی وجہ سے اس حکم کو مذاق سمجھنے لگے اور اس معاملہ کو چالیس سال تک ٹالتے رہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ گائے ذبح کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کو اس کے عم زادوں نے اس کی دولت حاصل کرنے کے لیے رات کی تاریکی میں قتل کردیا۔ صبح ہوئی تو شوروغل بپا کردیا اور معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایات حاصل کر کے انہیں گائے ذبح کر کے اس کا کوئی حصہ مقول کے جسم سے لگانے کا حکم دیا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتا دے۔ اس واقعہ کا پہلا حصہ بعد میں واذ قتلتم نفسا فادارئتم فیھا میں مذکور ہے اور واذ قال موسیٰ لقومہ میں واقعہ کا آخری حصہ مذکور ہے۔ واقعہ کی ترتیب کو اس لیے بدلا گیا تاکہ ایک ہی واقعہ سے متعلق ان کی دو خباثتوں کی واضح طور پر نشاندہی کی جاسکے اول گائے ذبح کرنے کے سلسلے میں پس وپیش اور ٹال مٹول دوم بےگناہوں پر قتل کا الزام۔ اگر واقعہ کو اصل ترتیب سے ذکر کیا جاتا تو اس سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے۔ لیکن حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ یہ دو مستقل واقعے ہیں جیسا کہ گذشتہ واقعات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ واذ سے جتنے واقعات بیان کیے گئے ہیں وہ سب مستقل واقعات ہیں۔ نیز بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ گائے ذبح کرنے کے حکم اور گائے حاصل کر کے ذبح کرنے کے درمیان چالیس سال کا طویل وقفہ تھا (مدارک ص 44 ج 1، کبیرص 564 ج 1) نعش کا اتنا عرصہ بےگور وکفن پڑا رہنا اور پھر متعفن نہ ہونا یہ امور بھی عقل و قیاس سے بعید ہیں۔ اس سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ دو مستقل واقعے ہیں ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہو طویل پس وپیش اور جستجو کے بعد جب وہ مطلوبہ گائے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں تو قتل کا واقعہ پیش آگیا ہو اور انہیں اس گائے کا گوشت مقتول کے بدن سے لگانے کا حکم دیا گیا ہوتا کہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشاندہی کرے وقیل انہ یجوز ان یکون ترتیب نزولھا علی موسیٰ (علیہ السلام) علی حسب تلاوتھا بان یامرھم اللہ تعالیٰ بذبح البقرۃ ثم یقع القتل فیؤمر وا بضرب بعضھا (روح ص 285 ج 1، قرطبی ص 445 ج 1) لیکن ایک سوال باقی رہ جائیگا کہ اس صورت میں گائے ذبح کرنے کے حکم کی وجہ کیا ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک واقعہ ہونے کی صورت میں جس چیز کو مفسرین کرام نے ذبح کیلئے گائے ہی کو منتخب کرنے کی حکمت کہا ہے اس صورت میں وہی ذبح بقرہ کی علت ہوگی۔ مصریوں کے ساتھ صدیوں رہنے کی وجہ سے وجہ سے اسرائیلی بھی گوسالہ پرستی کے شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔ وہ گائے کی پوجا کرتے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے باوجود انہیں گوسالہ پرستی سے قدرے انس باقی تھا اگرچہ عملی طور پر وہ گائے کی پوجا نہیں کرتے تھے لیکن گوسالہ پرستی سے وہ پورے طور متنفر بھی نہیں تھے جبھی تو سامری کے گوسالہ کو دیکھتے ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اس لیے ان کے سابق معبود کو ان کی نظروں میں ذلیل کرنے اور انہیں اس کی عبادت سے کلی طور پر متنفر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تاکہ توحید کی جڑیں ان کے دلوں کی گہرائیوں میں پھیل کر خوب مضبوط ہوسکیں۔ وقیل انما امروا بذبح البقرۃ دون غیرھا من البھائم لانھا افضل قرا بینھم ولعبادتہم العجل فاراد اللہ ان یھون معبودھم عندھم (مدارک ص 44 ج 1) وانما اختص البقر من سائر الحیوانات لانھم کانوا یعظمون البقر ویعبدونھا من دون اللہ فاختبر وا بذلک الخ (بحر ص 250 ج 1) ۔ 139 ۔ اسرائیلی سمجھے کہ گائے تو ایک مقدس اور معظم جانور ہے۔ بھلا اللہ تعالیٰ اسے ذبح کرنے کا حکم کس طرح دے سکتا ہے یا انہوں نے ذبح بقرہ کے ذریعے قاتل کے پتہ لگانے کو بعید از عقل سمجھا اس لیے کہا ہو نہ ہو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہم سے ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ ۔ کیونکہ احکام خداوندی کی تبلیغ میں تمسخر کرنا جاہلوں اور بیوقوفوں کا کام ہے اور انبیا (علیہم السلام) کو یہ چیز زیب نہیں دیتی لان الہز فی اثنا تبلیغ امر اللہ سبحانہ جھل وسفہ (ابو السعود ص 559 ج 1) ۔
Ayah 2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

بولے کہ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کہ وہ گائے کیسی ہے140 کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ بن بیاہی درمیان میں ہے بڑھاپے اور جوانی کے اب کر ڈالو جو تم کو حکم ملا ہے

ف140 اب یہاں سے اسرائیلیوں کے تعنت اور حکم خداوندی کے امتثال میں لیت ولعل کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یہاں مَا ھِیَ کے ذریعے گائے کی حقیقت مختصہ سے سوال نہیں ہے بلکہ یہ سوال محض ایضاح حال کیلئے ہے لَا فَارِضٌ وَلَا بِکْرٌ یعنی وہ نہ بوڑھی ہو اور نہ بچی الفارض اسم للمسنۃ التی انقطعت ولاد تھا من الکبر والبکر اسم للصغیرۃ التی لم تلد من الصغر (روح ص 7-286 ج 1) عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ ۔ یہ ماقبل کی تاکید ہے، عوان اسے کہتے ہیں جو مذکورہ دونوں عمروں کے درمیان ہو وسط بین السنین (معالم ص 60 ج 1) ای لاھی صغیرۃ ولاھی مسنۃ (قرطبی ص 449 ج 1) فَافْعَلُوْا مَا تُـؤْمَرُوْن۔ یعنی حکم کی تعمیل کرو اور زیادہ سوال و جواب نہ کرو۔ ای من ذبح البقرۃ ولا تکرروا السوال ولا تتعنتوا (روح ص 288 ج 1) تجدید للامر وتاکید وتنبیہ علی ترک التعنت فما ترکوہ (قرطبی ص 449 ج 1) ۔
Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

بولے کہ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کیسا ہے اس کا رنگ141 کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے زرد خوب گہری ہے اس کی زردی خوش آتی ہے دیکھنے والوں کو

141 جب عمر کے متعلق اطمینان ہوگیا تو اب رنگ کے متعلق سوال کردیا صَفْرَاۗءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا۔ فاقع کے معنی تیز زرد رنگ والے کے ہیں شدید الصفرۃ تکاد من صفر تھا تبیض (ابن کثیر ص 111 ج 1) تَسُرُّ النّٰظِرِيْنَ یعنی اس کا تیز اور گہرا زرد رنگ بد نما نہ ہو بلکہ ایسا خوشمنا ہو کہ دیکھنے والے اسے دیکھ کر راحت اور سرور محسوس کریں۔
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

بولے دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کس قسم کی ہے142 وہ کیونکہ اس گائے میں شبہ پڑا ہے ہم کو، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پالیں گے

142 یہ اسرائیلیوں کی سرکشی اور ان کے خبث باطن کی انتہا ہے کہ حکم خداوندی کی تعمیل میں کیسی چالاکی سے پس وپیش کر رہے ہیں اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيْنَا یعنی مذکورہ بالا اوصاف تو بہت سی گائیوں میں پائے جاتے ہیں ان سے گائے کی تعیین نہیں ہوتی اس لیے مزید وضاحت فرمائی جائے۔ وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْن بار بار سوال کی وجہ سے گائے کے حصول میں دشواری بڑھ رہی تھی اس لیے اب انہوں نے اپنی غلطی محسوس کی اور اس پر نادم ہوئے اور آخری سوال میں اپنی کامیابی کو مشیت ایزدی سے معلق کیا گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم مطلوبہ گائے حاصل کر کے ہی دم لیں گے۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ انشائ اللہ نہ کہتے تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے تھے (قرطبی ص 452 ج 1) ۔
Ayah 2:71

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے محنت کرنے والی نہیں143 کہ جوتتی ہو زمین کو یا پانی دیتی ہو کھیتی کو بےعیب ہے کوئی داغ اس میں نہیں بولے اب لایا تو ٹھیک بات پھر اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے

143 یعنی اس سے محنت کا کام نہ لیا جاتا ہو۔ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ ۔ یہ ماقبل کی تفسیر ہے۔ مُسَلّمَۃٌ بےعیب ہو بریئۃ من العیوب (معالم ص 61 ج 1) لَّا شِيَةَ فِيْهَا۔ وہ یک رنگ ہو اور اس میں کسی دوسرے رنگ کا داغ دھبہ نہ ہو ای لیس فیھا لون یخالف معظم لونھاھی صفرا کلھا لابیاض فیھا و لاحمرۃ ولا سواد (قرطبی ص 454 ج 1) جِئْتَ بِالْحَقِّ ۔ یہاں حق بمعنی حقیقت ہے۔ یعنی اب تم نے مطلوبہ گائے کی ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی ہے۔ ای اظھرت حقیقۃ ما امرنا بہ فالحق ھنا بمعنی الحقیقۃ (روح ص 291 ج 1) فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْن۔ یعنی ان کی طبیعت گائے کے ذبح کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس لیے بار بار سوال کرتے تھے۔ ذبح تو کیا مگر بڑی مشکل سے بنی اسرائیل کو کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تھا۔ مگر انہوں نے ازراہ تعنت اس میں موشگافیاں شروع کردیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ بالا اوصاف کی گائے کے لیے ایک طرف تو انہیں بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی اور دوسرا عرصہ دراز تک اس کی تلاش میں مارے مارے پھرے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر وہ کوئی سی گائے لیکر ذبح کر ڈالتے تو ان کا کام بن جاتا۔ لو ذبحوا ای بقرۃ ارادوا الاجزاتہم ولکن شددوا علی انفسہم فشدد اللہ تعالیٰ علیہم (روح ص 288 ج 1) ۔
Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے144 اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے

ف 144 یہ تیسری خباثت ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق یہ مذکورہ واقعہ کا پہلا حصہ ہے جسے بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق یہ مستقل واقعہ ہے جو پہلے واقعہ کے بعد پیش آیا۔ ادّٰرَءْتُمْ ۔ درئ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہٹانے اور دفع کرنے کے ہیں اور یہ اصل میں تدارئتم تھا۔ تا کو قرب مخرج کی وجہ سے دال سے تبدیل کیا گیا اور پھر اسے ساکن کر کے دوسرے دال میں ادغام کردیا گیا اور ابتدائ میں ہمزہ وصل کا اضافہ کیا گیا۔ باب تفاعل کا خاصہ مشارکت ہے اس لیے مطلب یہ ہوا کہ تم میں سے ہر شخص قتل کا الزام دوسرے پر پھینکنے لگا۔ وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْن یعنی جس چیز کو تم مسلسل چھپانے کی کوشش کر رہے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا۔ کی ضمیر نفس کی طرف راجع ہے کیونکہ نفس مؤنث معنوی ہے۔ اس کی طرف مذکر ومؤنث دونوں ضمیریں راجع ہوسکتی ہیں اور بَعْضِہَا کی ضمیر گائے کی طرف راجع ہے۔ القتیلۃ ببعض نفسہا کالید ونحوھا واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پھر ہم نے کہا مارو اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردوں کو145 اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تاکہ تم غور کرو

ف 145 یہ جملہ معترضہ ہے جو اس واقعہ کی عبرت اور موعظت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے۔ اس واقعہ میں منکرین حشر ونشر کے لیے عبرت ہے یعنی جس طرح اللہ نے اس مردہ کو زندہ کردیا تھا اسی طرح وہ تمام مردوں کو زندہ کرے گا۔ وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْن اللہ تعالیٰ قدرت کے یہ نشانات اس لیے ظاہر فرماتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تاکہ تم عقل سے کام لے کر اس کی قدرت کاملہ پر استدلال کرسکو ویریکم ایتہ علی انہ قادر علی کل شیئ لعلکم تعقلون فتعملون علی قضیۃ عقولکم وھی ان من قدر علی احیائ نفس واحدۃ قدر علی احیائ جمیعھا (مدارک ص 44 ج 1) یعنی جو ذات ایک مردہ کو زندہ کرسکتی ہے وہ سب کو خعلت حیات دوبارہ عطا کرسکتی۔ اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعد 146 سو وہ ہوگئے جیسے پتھر یا ان سے بھی سخت147 اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے جاری ہوتی ہیں نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور نکلتا ہے ان سے پانی اور ان میں ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے148

146 ۔ ذالک سے تمام گذشتہ واقعات، انعامات، آیات اور معجزات کی طرف اشارہ ہے۔ ما سبق من الایات التی علموھا (روح ص 295 ج 1) یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ ان تمام آیات ومعجزات اور تخویفات وتبشیرات کے بعد تمہارے دل نرم ہوجاتے ہیں۔ ان میں خوف پیدا ہوجاتا ہے اور پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کے حکام کی پیروی کرتے اور سچی نیت سے اس کی اطاعت کرتے مگر اس کے باوجود تمہارے دل سخت ہوگئے اور تم نے بڑھ چڑھ کر حدود اللہ کو توڑا اور اس کے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ ثُمَّ یہاں تراخی بیان کے لیے نہیں بلکہ استبعاد کے لیے ہے۔ ثم لاستبعاد القسوۃ بعد مشاھدۃ مایزیلہا (ابو السعود ص 537 ج 1) یعنی قبول حق کی طرف ان کے دل ذرا مائل نہ ہوئے مذکورہ بالا عبرتناک اور عبرت انگیز واقعات کے مشاہدہ کرنے کے بعد نرم ہونے کے بجائے ان کے دل اور سخت ہوگئے۔147 اور سخت بھی کیسے پتھر کی طرح بلکہ پتھر سے بھی سخت وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ۔ کیونکہ پتھر تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ قال الشیخ (رح) تعالیٰ الواو تعلیلیۃ (کذا فی المغنی لابن ہشام ص 33 ج 1) وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ ۔ اور کچھ پتھر ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے تھوڑا بہت پانی نکل آتا ہے۔ وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو خوف خدا کے مارے گر پڑتے ہیں۔ پتھروں سے پانی کا نکلنا تو کوئی بعید نہیں البتہ پتھروں کے خوف خدا سے گرنے پر شبہ کیا جاسکتا ہے مگر یہ بھی کوئی بعید نہیں کیونکہ تمام جمادات کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک قسم کا شعور عطا کیا ہوا ہے جسے شعور بسیط کہتے ہیں۔ اور اس شعور کی بنا پر جمادات میں خوف ومسرت، حب وبغض اور دیگر اعراض پائے جاتے ہیں۔ چناچہ ایک حدیث میں احد پہاڑ کے متعلق آتا ہے۔ احد جبل یحبنا ونحبہ یعنی احد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ پتھر تو پھر بھی کسی درجہ میں تاثر قبول کرتے ہیں مگر ان کے دل اتنے سخت ہیں کہ ان میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ والمعنی ان الحجارۃ تتاثر وتنفعل وقلوب ھؤلالا تتاثر ولا تنفعل عن امر اللہ تعالیٰ اصلاً ۔148 یہ ان کی بد اعمالیوں پر وعید ہے یعنی جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور انہیں ساری بد اعمالیوں کی ضرور سزا دیگا۔ یہاں تک نوع ثانی ختم ہوئی جس میں ان کی خباثتوں کا ذکر تھا۔ اب آگے اس نوع کا تتمہ ہے جس میں خباثت کے لحاظ سے یہودیوں کے پانچ گروہوں کا ذکر ہے۔ پہلا گروہ احبارو رہبان یعنی یہودیوں کے علمائ اور درویشوں کا ہے جو سمجھ بوجھ کر تورات میں تحریف کرتے تھے۔ دوسرا گروہ منافقین یہود کا تھا۔ تیسرا گروہ ان پڑھ اور جہلائ کا تھا جو مولویوں اور پیروں کی بتائی ہوئی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔ چوتھا گروہ ان علمائ یہود کا تھا جو تحریری طور پر تورات کی تحریف کرتے تھے۔ اور پانچواں گروہ ان صاحبزادگان کا تھا جن کو اپنے آبائ و اجداد پر ناز تھا۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

اب کیا تم اے مسلمانو توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات149 اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے

ف 149 ۔ یہاں ہمزہ استفہام انکار وتوبیخ کے لیے اور خطاب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ہے مطلب یہ کہ آپ ان یہود سے یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ ایمان لے آئیں گے کیونکہ ان کے اس وقت یہ پانچ گروہ ہیں اور ان سب کی خباثت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان سے ایمان کی توقع بیکار ہے۔ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ ۔ اس فریق سے یہود کے وہ علمائ مراد ہیں جوحضور ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ المراد بالفریق من کان فی زمن محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر ص 575 ج 1) قال مجاھد الذین یحرفونہ والذین یکتمونہ ھم العلمائ منھم (ابن کثیر ص 115 ج 1) اور کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ ۔ یہود کے علمائ اچھی طرح جانتے تھے کہ محمد ﷺ خدا کے آخری رسول ہیں اور توراۃ میں جس آخری پیغمبر کا ذکر ہے وہ آپ ہی ہیں مگر جان بوجھ کر وہ ان آیتوں میں تحریف کرتے جن میں آپ کے اوصاف مذکور ہوتے تھے۔ ان کی یہ تحریف کسی غلط فہمی پر مبنی نہ تھی بلکہ دیدہ و دانستہ تھی عمدوا الی ما انزلہ اللہ فی کتابہم من نعت محمد ﷺ فحرفوہ عن مواضعہ (ابن کثیر ص 115 ج 1) یہاں تحریف عام ہے لفظی اور معنوی دونوں کو شامل ہے۔ علمائ یہود دونوں طرح کی تحریف کیا کرتے تھے۔ کبھی توراۃ کی آیتوں کے الفاظ ہی تبدیل کردیتے اور کبھی ان کے مضمون کو اس طرح مسخ کر کے بیان کرتے کہ اصل مطلب سے انہیں کوئی تعلق ہی باقی نہ رہ جاتا۔ قرآن مجید کے الفاظ میں تو تحریف ناممکن ہے۔ البتہ قرآن کی معنوی تحریف کرنے والے یہودیوں کے جانشین مولویوں اور پیروں کی آج امت محمدیہ میں بھی کمی نہیں۔ قرآن مجید کی معنوی تحریف کی ایک دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔ پنجاب کے ایک پیر قرآن مجید کی ایک آیت اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُم کی تفسیر یوں کیا کرتے تھے کہ یہاں اَنَا کی خبر محذوف ہے اصل میں یہ آیت یوں تھی انما انا بشر مثلکم یعنی میں تو میں ہوں اور بشر تمہاری طرح ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ بڑے بڑے مولویوں اور پیروں کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ قرآن میں جہاں کہیں من دون اللہ یعنی غیر خدا کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے وہاں عبادت سے مراد بندگی ہے۔ غائبانہ دعائ و پکار مراد نہیں۔ اسی طرح من دون اللہ سے مراد بت ہیں نہ کہ اللہ کے نیک بندے حالانکہ عبادت کے معنی صحیح حدیث میں پکار اور دعائ کے آئے ہیں۔ نیز من دون اللہ سے خود قرآنی تصریحات کے مطابق کہیں انبیائ اور کہیں فرشتے مراد ہیں۔ کہیں اولیائ اللہ اور کہیں جن مراد ہیں اور کہیں بت بھی مراد ہیں۔ مگر مولوی اور پیر اصل حقیقت کو جانتے پہچانتے ہوئے محض حقیر دنیا کی خاطر عوام کو اصل بات نہیں بتاتے۔ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے150 اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں تم کیوں کہہ دیتے ہو ان سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے کیا تم نہیں سمجھتے

ف 150 یہ منافقین یہود کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۔ یعنی جب منافقین یہود ان یہودیوں سے ملتے جو منافق نہیں تھے۔ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ ۔ جب منافقین یہود مسلمانوں سے ملتے تو انہیں اپنے ایمان کا یقین دلاتے اور ان کی خوشامد کیلئے ان سے کہہ دیتے کہحضور ﷺ کی صفات ونعوت تورات میں مذکور ہیں اور وہ تمام صفات آپ پر منطبق ہوتی ہیں لیکن یہ منافق اپنے لیڈروں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹ پلاتے کہ تم وہ اسرار مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے تم کو تورات میں بتائے ہیں ای تخبرون المؤمنین بما بینہ اللہ تعالیٰ لکم خاصۃ من نعت نبیہ محمد ﷺ (روح ص 299 ج 1) لِيُحَاۗجُّوْكُمْ بِهٖ ۔ یعنی قیامت کے دن اللہ کے سامنے تمہارے ان اقراروں سے تم پر احتجاج کرینگے اس لیے تم عقل سے کام لو اور اس معاملے میں احتیاط برتو۔
Ayah 2:77

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں151

ف 151 یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے اگر ان کے منافقین مسلمانوں کو نہیں بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی مسلمانوں کو بتا دیگا۔ فحینئذ یظھر اللہ تعالیٰ للمومنین ما ارادوا اخفائہ بواسطۃ الوحی الی النبی ﷺ فیحصل المحاجۃ (ابو السعود ص 585 ج) تو مسلمانوں کو پھر بھی احتجاج کا موقع مل جائے گا۔
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں بےپڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی152 سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور ان کے پاس کچھ نہیں مگر خیالات

ف 152 یہ تیسرا گروہ ہے جاہل اور کندہ ناتراش مریدوں اور عقیدتمندوں کا کہ جو غلط سلط باتیں اپنے علمائ اور فقرائ سے سن لیں بس انہیں کو دین سمجھ لیا۔ یہ خود تو تورات پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔ یہ خود تو تورات پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔ اِلَّآ اَمَانِىَّ ۔ من گھڑت قصوں، جھوٹی آرزوؤں اور تمناؤں کے بغیر جو انہوں نے اپنے غلط کار اور محرف علمائ سے سن رکھی تھیں اور وہ کچھ نہیں جانتے الا اکاذیب اخذوھا تقلیدا من شیاطینھم المحرفین (روح ص 301 ج 1) اکاذیب مختلقۃ سمعوھا من علمائہم فنقلوھا علی التقلید (بحر ص 275 ج 1) وہ آرزئیں اور تمنائیں کیا تھیں وہ بھی سن لیجئے علمائ یہود نے عوام کو بتا رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان سے گناہوں کا مواخذہ نہیں کرے گا۔ اور ہمارے آبائ و اجداد یعنی انبیائ (علیہم السلام) انہیں بخشوا لیں گے۔ اور جنت ہمارے اور ہمارے مریدین ہی کے لیے ہے۔ اور اگر ہم میں سے کوئی دوزخ میں گیا بھی تو شند ہی دنوں کے لیے جائے گا۔ جس طرح آج کل بناوٹی پیروں نے اپنے مریدوں کو یہی کچھ سکھا رکھا ہے۔ چناچہ ان کے مریدین علانیہ کہتے ہیں۔ ہمیں نماز روزے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اپنا ہاتھ کامل پیر کے ہاتھ میں دے رکھا ہے وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پل صراط سے پار کردیں گے۔ اور اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے اور یہ بیچارے نمازی تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ وامانیہم ان اللہ یعفو عنھم ویرحمھم ولا یؤاخذھم بخطایاھم وان ابائھم الانبیائ یشفعون لھم (بحر ص 275 ج 1، روح ص 2-301 ج 1) وان الجنۃ لا یدخلھا الا من کان ھودا وان النار لا تمسہم الا ایاما معدودۃ (روح ص 302 ج 1) وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ ۔ مگر یہ سب ان کے اوہام باطلہ اور ظنون فاسدہ ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے153 تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی اس کمائی سے154

ف 153 یہ چوتھا گروہ ہے اور یہ بھی ان کے خواص اور علمائ ہی کی ایک جماعت ہے۔ انہوں نے یہ کیا کہ اپنی طرف سے تورات کے چند نسخے تیار کیے اور تورات میں جہاں کہیں توحید کا بیان تھا یاحضور ﷺ کا ذکر اور آپ کی نعت تھی اسے اس طرح بدل ڈالا کہ اصل سے اسے کوئی نسبت ہی نہ رہی۔ پھر اصل تورات کے نسخے چھپا ڈالے اور اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہوئے محرف نسخے اپنے عوام اور مشرکین عرب میں تقسیم کردئیے اور کہتے یہ تھے کہ دیکھو یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں تو اس نبی کا کہیں ذکر نہیں اور نہ ہی اس توحید کا بیان ہے جو وہ پیش کرتا ہے (روح ص 302 ج 1) اس جرم کی سنگینی اور ان بدکردار علمائ کی تحقیر وتذلیل کے پیش نظر ان کا ذکر ویل وہلاکت اور ذلت ورسوائی کی وعید شدید کے ساتھ کیا ہے۔ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا۔ اس تحریف وتبدیل سے ان کا مقصد کوئی دین کی خدمت نہیں بلکہ محض دولت دنیا کی خاطر انہوں نے ایسا کیا۔ دولت دنیا خواہ ڈھیروں ہو مگر آخرت اور دین کے مقابلے میں وہ بالکل حقیر اور بےحقیقت ہے اس حقارت کے پیش نظر اسے قلیل فرمایا۔154 یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ پہلے وعید کا صرف اجمالی ذکر تھا اب اس کے ساتھ اس کی علت کا بھی ذکر ہے۔ اور لفظ ویل کے تکرار سے وعید میں شدت اور مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ الفائ لتفصیل ما اجمل مافیہ من التنصیس بالعلۃ ولا یخفی ما فی ھذا الاجمال والتفصیل من المبالغۃ فی الوعید والزجر والتھویل (روح ص 303 ج 1) یعنی ان کی اس وعید کا سبب ان کی تحریف وتبدیل اور وہ حرام کمائی ہے جو وہ تحریف کے ذریعے کماتے ہیں۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہم کو ہرگز آگ نہ لگے گی مگر چند روز گنے چنے155 کہہ دو کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار کہ اب ہرگز خلاف نہ کریگا اللہ اپنے قرار کے یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے

ف 155 یہ پانچواں گروہ صاحب زادگان کا ہے۔ جنہوں نے مکروفریب سے عوام کو یقین دلا رکھا تھا کہ وہ چونکہ اللہ کے پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ان کی نسل پاک پشتوں سے نکلی ہوئی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مواخذہ نہیں کرے گا اور بڑے بڑوں کی طفیل انہیں معاف کردے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ دعوی نقل فرمایا ہے۔ نَحْنُ اَبْنَائُ اللہِ وَاَحِبَّائُہ (مائدہ ع 3) اور اگر ہمیں سزا دی بھی گئی تو وہ محض معمولی سی اور چند دنوں کیلئے ہوگی۔ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا۔ یہ یہودیوں کے مذکورہ دعویٰ کی تردید ہے۔ یعنی جہنم سے محفوظ رہنے کیلئے تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ تمہیں اس سے محفوظ رکھے گا یعنی اگر اس نے ایسا عہد کیا ہوا ہے تو پھر تو وہ یقیناً اسے پورا کرے گا مگر یہ ظاہر ہے کہ اللہ نے تم سے ایسا کوئی عہد نہیں کیا۔ یا عہد سے مراد عہد توحید ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کر کے اللہ سے توحید کا عہد کرلیا ہے کیونکہ جس نے اللہ سے توحید کا عہد کیا ہوا ہے اللہ نے بھی اسے جہنم سے بچانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ قال ابن مسعود عہدا بالتوحید یدل علیہ قولہ تعالیٰ الا من اتخذ عند الرحمن عھدا یعنی قولہ لا الہ الا اللہ (معالم ص 66 ج 1) وروی عن ابن عباس ؓ ان معنی الایۃ ھل قلتم لا الہ الا اللہ وامنتم واطعتم (روح ص 304 ج 1) ۔
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے کمایا گناہ156 اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے157

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

156 بلیٰ حرف استدراک ہے ماقبل کی نفی اور مابعد کا اثبات کرتا ہے۔ وبلی وبل حرفا استدراک ومعناہھی نفی الخبر الماضی و اثبات الخبر المستقبل (معالم ص 66 ج 1) یہ بھی یہودیوں کے غلط دعو وں اور ان کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید ہے۔ یعنی جیسا تم نے سمجھ رکھا ہے اور دل میں کئی امیدیں اور آرزوئیں پال رکھی ہیں ایسا نہیں بلکہ ہر بد کردار کو خواہ وہ کوئی ہو اس کے بد اعمال کی ضرور سزا ملے گی۔ یقول اللہ تعالیٰ لیس الامر کما تمنیتم ولا کما تشتھون بل الامر من عمل سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ۔۔۔ فہذا من اھل النار (ابن کثیر ص 119 ج 1) اور سیئہ سے یہاں کفر وشرک مراد ہے۔ وذھب کثیر من السلف الی انھا ھھنا الکفر (روح ص 306 ج 1) سیئۃ شرکا عن ابن عباس و مجاھد وغیرھما ؓ (مدارک ص 46 ج 1) اور ممکن ہے کہ سیئہ سے مراد مطلق معصیت ہو جو سب کو شامل ہو۔ واحاطت بہ خطیئتہ اور گناہوں نے اسے گھیر لیا ہو یہانتک کہ اس پر نیکی کی تمام راہیں بند کردی ہوں اور اس پر گناہوں کا اس قدر غلبہ ہو کہ اس کے پلے کوئی نیکی نہ ہو یہ ان تک کہ ایمان بھی مفقود ہو۔ لہذا اس صورت میں یہ آیت مومنین کو شامل نہ ہوگی۔ بلکہ صرف مشرکین اور کفار ہی سے متعلق ہوگی لہذا معتزلہ اور خوارج کا اس آیت سے استدلال کہ مومن عاصی مخلد فی النار ہوگا باطل ہوگیا۔ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ اور خلود سے یہاں دوام مراد ہے۔157 کفار ومشرکین کی وعید کے بعد یہاں مومنین صالحین کے لیے خلود فی الجنۃ کی خوشخبری بیان کی ہے اور یہاں بھی خلود سے مراد دوام ہے۔ امام سید محمود آلوسی (رح) تعالیٰ نے یہاں دو لطیف نکتے بیان فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ عمل کا عطف ایمان پر اس بات کی دلیل ہے کہ عمل ایمان کی حقیقت سے خارج ہے اور اس کا جزو نہیں کیونکہ جزو کا عطف کل پر نہیں ہوسکتا۔ دوم یہ کہ اصحاب نار کی وعید بیان کرتے وقت حرف فا استعمال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مابعد ما قبل پر مرتب اور اس کا نتیجہ ہے لیکن اصحب جنت کو خلود فی الجنۃ کی خوشخبری سناتے ہوئے صرف فا استعمال نہیں فرمایا تو اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل نار کا خلود فی النار ان کے اعمال سیئہ کا نتیجہ ہے اور اہل جنت کا خلود فی الجنہ محض اللہ کی مہربانی اور اس کے لطف وکرم سے ہے (روح ص 307 ج 1) یہاں تک نوع ثانی ختم ہوئی۔ نوع ثالث اس میں نزول قرآن کے وقت موجود بنی اسرائیل کی خباثتیں اور شرارتیں بیان کی گئی ہیں یعنی ضد وعناد اور عدوان وعصیان کوئی تمہارے اسلاف ہی میں منحصر تھا تم بھی انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہو۔ یعنی جو احکام تورات میں تم تمام بنی اسرائیل کو دئیے گئے تھے اور جو عہود تم سے لیے گئے تھے تمہارے اسلاف نے ان احکام کو ٹھکرایا اور ان عہود کو توڑا اب تم بھی اللہ تعالیٰ کے ان احکام سے سرتابی کر رہے ہو اور اس کے عہود مواثیق کو پاش پاش کر رہے ہو۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی158 اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے159 اور کہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رہیو زکوٰۃ پھر تم پھرگئے مگر تھوڑے سے160 تم میں اور تم ہو ہی پھرنے والے

158 یہ موجودہ بنی اسرائیل کی پہلی خباثت ہے۔ بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وساطت سے تورات میں ان احکام کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا۔ سب سے پہلا عہد جو ان سے لیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اسی کو کارساز اور مالک ومختار سمجھیں اور اسے ہی حاجات میں پکاریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ توحید چونکہ حق اللہ ہے اور تمام اعمال کی روح وجان ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ لَا تَعْبُدُونَ بظاہر خبر ہے لیکن معنی کے لحاظ سے امر ہے اور یہ تعبیر اس لیے اختیار کی کہ امر بصورت خبر زیادہ موکد ہوتا ہے۔ قال الزمخشری خبر بمعنی الطلب وھو اکد (ابن کثیر ص 119 ج 1) وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۔ حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا درجہ ہے اور ان میں پھر والدین کے حقوق سب پر مقدم ہیں اس لیے حق اللہ کے بعد ماں باپ سے حسن سلوک کا حکم دیا۔ قرآن مجید میں کئی جگہ توحید کے ساتھ ساتھ والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وباالوالدین، لاتعبدون پر معطوف ہے۔ اور اس کا متعلق تُحْسِنُوْنَ محذوف ہے اور اِحْسَاناً اس فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ حقوق اللہ کے بعد والدین کے حقوق کماحقہ ادا کرو۔ والدین کے حقوق بہت ہیں مثلا ان کا اکرام واحترام کرنا، ان کے جائز احکام کی تعمیل کرنا، ادب سے اور نرمی سے باتیں کرنا، ان کی مالی اعانت کرنا وغیرہ، والدین کے یہ حقوق بہرحال لازم ہیں اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر والدین مشرک ہوں اور شرک کرنے پر مجبور کریں تو اس معاملہ میں ان کی اطاعت جائز نہیں البت ان سے حسن سلوک فرض ہے۔159 ان سب کا عطف الوالدین پر ہے۔ والدین کے بعد رشتہ داروں یتیموں اور غریبوں سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ یہاں حسن سلوک سے مراد ان کی مالی اعانت ہے۔ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا۔ اور بنی اسرائیل سے اس امر کا عہد لیا گیا تھا کہ وہ تمام لوگوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں۔ حُسْناً قَوْلاً اور زکوۃ دینے کا عہد بھی لیا گیا تھا۔ یہاں نماز اور زکوۃ سے وہی نماز وزکوۃ مراد ہے جو بنی اسرائیل پر فرض تھی۔160 لیکن تم نے یہ عہد پورا نہ کیا بلکہ ان احکام سے روگردانی کی، توحید کو چھوڑ دیا اور شرک اختیار کرلیا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور اپنے دوسرے بزرگوں کو خدا کے نائب اور کارساز مانا۔ انسانی حقوق پامال کیے۔ نماز وزکوۃ سے لاپرواہی کی اور تم میں سے بہت تھوڑے اس عہد پر قائم رہے۔ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْن۔ یہ اعراض اور عہد شکنی تم سے کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ تمہاری عادت قدیمہ ہی یہی ہے۔ تمہارے آبائ و اجداد کا بھی یہی شیوہ تھا۔ اب تمہارا دستور بھی یہی ہے ای وانتم قوم عادتکم الاعراض والتولی عن المواثیق (روح ص 310 ج 1) آج اگر دیکھا جائے تو بنی اسرائیل کے یہ تمام حالات مسلمانوں میں بھی پیدا ہوچکے ہیں جس طرح وہ اللہ کے نبیوں اور ولیوں کو خدا کا شریک بناتے اور پکارتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی حدیں توڑتے تھے بالکل اسی طرح آج اہل اسلام بھی کر رہے ہیں۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کرلیا اور تم مانتے ہو161

161 یہ دوسری خباثت ہے۔ بنی اسرائیل سے تورات میں یہ بھی عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں اتفاق سے رہیں اور خانہ جنگیوں سے اجتناب کریں اپنے کسی بھائی کو اس کے گھر سے نہ نکالیں اور نہ ہی کسی کو قتل کریں۔ ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ ۔ اور تم نسلاً بعد نسلً اس عہد و پیمان کا اقرار کرتے چلے آئے ہو اور آج بھی تم معترف ہو کہ تم نے اس عہد کا اقرار کیا اور اسے قبول کیا۔
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہ لوگ ہو کہ ویسے ہی خون کرتے ہو آپس میں162 اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن163 سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے164 اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو ان کا بدلہ دے کر چھڑاتے ہو165 حالانکہ حرام ہے تم پر ان کا نکال دینا بھی، تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو5 سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں166 اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سے سخت عذاب میں167 اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے168

162 یہاں سے اسرائیلیوں کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ یعنی تمہیں خانہ جنگی سے منع کیا تھا مگر تم پختہ اقرار کے باوجود باز نہ رہے اور اپنے بھائی بندوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے دو مشہور قبیلے اوس اور خزرج صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن چلے آرہے تھے۔ مدینہ میں اور اس کے گردونواح کی بستیوں میں یہودی بھی ایک اقلیت کی حیثیت سے آباد تھے اور ان کے دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر مشہور تھے۔ اقلیت کو ہمیشہ دوسروں کے سہارے جینا پڑتا ہے اس لیے بنی قریظہ نے قبیلہ اوس سے معاہدہ کرلیا اور بنی نضیر قبیلہ خزرج کے حلیف بن گئے۔ اوس اور خزرج کے درمیان آئے دن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اس لیے ان کے معاہد یہودیوں کو بھی اپنے حلیف قبیلہ سے مل کر ان لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا اور اس طرح ایک طرف کے یہودیوں کے ہاتھوں دوسری طرف کے کئی یہودی قتل ہوجاتے تھے۔ اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔163 مذکورہ جنگ وجدال اور قتل و غارت کے دوران فریقین میں سے کئی خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑ کر بےخانما ہونا پڑتا۔ ہر فریق کی اپنے گھروں سے بےدخلی کا سبب دوسرے فریق کے یہودی بنتے کیونکہ یہودیوں کا ایک فریق اپنے حلیف کافروں سے مل کر فریق ثانی کے حلیف یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتا۔ اس لیے اخراج کو ان کی طرف منسوب کیا۔164 تظاہرون اصل میں تتظاہرون تھا ایک تائ بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے اور یہ تخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ علیھم میں ھم ضمیر فریقاً کی طرف راجع ہے جو معنیً جمع ہے۔ اِثْمٌ سے مراد خدا کی نافرمانی اور دعدوان سے مراد ظلم ہے۔ بالاثم والعدوان بالمعصیۃ والظلم (معالم ص 67 ج 1) مطلب یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے خلاف غیر اقوام کی مدد کرتے ہو اور یہ مدد بھی کسی نیک اور تعمیری کام کے لیے نہیں ہوتی۔ اس میں ایک طرف تو تم خدا کی نافرمانی کرتے ہو۔ کیونکہ اس نے تمہیں اپنے بھائی بندوں کے قتل اور اخراج سے منع کیا ہے اور دوسری طرف قتل واخراج کے ذریعے اپنے بھائیوں پر ظلم کرتے اور ان کی حق تلفی کرتے ہو۔165 بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ یہودیوں کے ایک فریق کے آدمی دوسرے فریق کے ہاتھوں قید ہوجاتے تو یہ لوگ فدیہ دے کر اپنے قیدیوں کو چھڑا لیتے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو وہ لوگ کہتے کہ خدا نے ہمیں فدیہ دیکر قیدیوں کو چھڑا لینے کا حکم دیا ہے ہم اس لیے ایسا کرتے ہیں۔ وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ ۔ یہ جملہ بھی تخرجون کی ضمیر سے حال ہے یعنی فدیہ دیکر قیدی کو چھوڑنے کے حکم پر تو تم عمل کرتے ہو مگر اپنے بھائیوں کو ان کے گھروں سے نکالتے وقت یہ خیال نہیں کرتے ہو کہ ایسا کرنا تم پر حرام ہے۔ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۔ استفہام تہدید اور دھمکی کے طور پر ہے اور الکتاب سے مراد تورات ہے کیونکہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے یعنی تم نے تورات کے ایک حصے کو مان لیا اور ایک حصہ کو ٹھکرا دیا فدیہ دینے کے حکم پر عمل کرلیا اور قتل واخراج سے نہی کی پروا نہ کی۔166 خدا کی بعض حکموں کو ماننا اور بعض کو رد کردینا یہ بہت بڑا جرم ہے اور خدائی احکام کے ساتھ ایک قسم کا تمسخر اور استہزائ ہے اس آیت میں اس جرم کی سزا بیان فرمائی ہے کہ تم میں سے جو شخص ایسا کرے گا وہ دنیا وآخرت میں مغضوب اور مقہور ہوگا۔ دنیا میں ذلت ورسوائی کے سوا اسے کچھ نہیں ملے گا۔ چناچہ یہودیوں کا یہی حشر ہوا کہ اس کے چند ہی سال بعد بنی نضیر کو ذلت و خواری سے جلا وطن کیا گیا اور بنی قریظہ کے مردوں کو قتل کیا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا گیا۔167 اور قیامت کے دن انہیں بہت ہی سخت عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔ اشد العذاب سے مراد جہنم کا ابدی عذاب ہے اور وہ سب سے سخت اس لحاظ سے ہوگا کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ والمراد بہ الخلود فی النار واشدیتہ من حیث انہ لا انقضائ لہ (روح ص 314 ج 1) 168 یہ گذشتہ وعید کے لیے ایک قسم کی تاکید ہے یعنی اللہ تعالیٰ گھات میں ہے۔ وہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں وہ تمہارے اعمال کی تم کو پوری پوری سزا دیگا۔ ان آیتوں کے مخاطب وہ بنی اسرائیل ہیں جو حضرت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں موجود تھے لیکن اب پوری امت محمدیہ بھی ان احکام کی مخاطب اور مکلف ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓ سے منقول ہے۔ عن عمر ؓ انہ قال ان بنی اسرائیل قد۔۔ وانتم تعنون بھذا یا امۃ محمد وبما یجری مجراہ (روح ص 315 ج 1) ۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے169 سو نہ ہلکا ہوگا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی

169 ان لوگوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی حالانکہ آخرت حاصل کرنیکا پورا پورا سامان ان کے پاس موجود تھا۔ خدا کی کتاب تورات ان کے پاس موجود تھی مگر انہوں نے اس پر عمل کر کے سامانِ آخرت تیار کرنیے کے بجائے اسے دنیا حاصل کرنیکا ذریعہ بنایا۔ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ ۔ ان کے عذاب میں قطعاً کوئی تخفیف نہیں ہوگی نہ دنیوی سزا میں نہ اخروی میں وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ۔ فعل مجہول لا کر اور فاعل کا ذکر نہ کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مذکورہ عذاب سے بچانے کے لیے انہیں کسی طرف سے کسی قسم کی مدد نہیں پہنچے گی نہ دولت دنیا کے ذریعے انہیں عذاب سے چھڑا جاسکے گا، نہ ان کے اسلاف کی وجاہت اور بزرگی کام آسکے گی اور نہ ہی انہیں اپنے ان بزرگوں کی سفارش اور کارسازی سے نجات مل سکے گی۔ جن کو انہوں نے خدا کے نائب اور کارساز سمجھے رکھا۔ یہ بات کوئی بنی اسرائیل ہی سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تو اللہ کا ایک عالمگیر اور اٹل قانون ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے اور اس کی طرف سے آنیوالی تکلیفوں سے کسی کو کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ نوع رابع اس میں بنی اسرائیل کے آباؤاجداد کی انتہائی کج روی اور سنگدلی کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ اول تکذیب رسل، دوم قتل انبیا، یعنی احکام کا ماننا نہ ماننا ایک طرف رہا۔ تمہارے اسلاف کی کج روی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خدا کے احکام لانے والے اس کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور سرے سے انہیں مانا ہی نہیں اور پھر تکذیب ہی پر بس نہیں کی بلکہ بعض انبیا (علیہم السلام) کو تو وہ سنگدل قتل کرنے سے بھی نہ چوکے۔
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور بیشک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب170 اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح171 اور قوت دی اس کو روح پاک سے پھر بھلا کیا جب تمہارے پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبّر کرنے لگے172 پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو تم نے قتل کردیا173

170 تمہاری ہدایت اور رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ کو شریعت کا ایک دستور دیا جس میں اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اور اس کے علاوہ اور بہت سے احکام دئیے گئے۔ الکتب سے تورات مراد ہے۔ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی زندگی میں تمہیں تورات پر عمل کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی انبیا ورسل کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں کی تعداد میں پیغمبر بھیجے وکانوا الی زمن عیسیٰ (علیہ السلام) اربعۃ الاف (روح ص 316 ج 1) بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں مثلاً حضرات یوشع، شمعون، داود، سلیمان، عزیر، حزقیل، الیاس، یونس، زکریا اور یحییٰ علیہم الصلوۃ والسلام۔ یہ سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر تھے۔171 البینات یعنی واضح اور کھلے دلائل، اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی اور مادر زاد اندھے کو تندرست کرنا وغیرہ یا البینات سے انجیل مراد ہے کیونکہ اس کی آیتیں بھی رشد وہدایت کی واضح نشانیاں تھیں۔ المعجزات الواضحات من احیائ الموتی وابرائ الاکمہ والابرص والاخبار با المغیبات او الانجیل (ابو السعود ص 612 ج 1) قرآن مجید میں کسی پیغمبر کو اس کے باپ کی طرف منسوب کر کے ذکر نہیں کیا گیا البتہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اکثر والدہ کی نسبت سے ذکر کیا گیا ہے اس میں ایک طرف تو ان لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں۔ اگر ان کا کوئی باپ ہوتا تو انہیں اس کی طرف منسوب کیا جاتا نہ کہ والدہ کی طرف، دوسری طرف ان عیسائیوں کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں فرمایا وہ نہ خدا ہے نہ خدا کا بیٹا یا جزو، بلکہ وہ ایک انسان اور بشر ہے۔ اور ایک عورت کا بیٹا ہے۔ ہاں اپنی پیغمبرانہ عظمت وشان کے لحاظ سے خدا کا محبوب اور مقرب پیغمبر ہے۔ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۔ روح قدس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں اور روح القدس سے تائید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے نفخہ سے ان کا حمل قرار پایا، ولادت کے وقت ان کی موجودگی کی وجہ سے شیطان کے اثر سے محفوظ رہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جہاں جاتے روح القدس ساتھ ہوتے۔ اسی طرح یہودیوں کی سازش قتل سے ان کو بچایا۔ یہ روح القدس سے تائید بھی ایک معجزہ تھا۔ یہاں بھی واضح فرمادیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باوجود علو مرتبت اور صاحب عزم پیغمبر ہونے کے ہماری تائید اور تقویت کے محتاج تھے جب وہ خود محتاج تھے تو اوروں کی کیا مدد کرینگے۔172 تمہیں سمجھانے کے لیے ہم نے ہزاروں پیغمبر بھیجے۔ تورات وانجیل میں واضح دلائل کے ساتھ تمہیں مسئلہ توحید سمجھایا، تمہارے اطمینان قلب کی خاطر پیغمبروں نے معجزے دکھائے مگر اس کے باوجود جب بھی کوئی پیغمبر دعوت توحید لیکر آیا اور خدا کی طرف سے دوسرے احکام تمہیں دئیے جو تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوتے تھے تو تم نے فوراً ان کا انکار کیا اور غرور سے انکو حقیر سمجھا اور تمہارا یہ رویہ کسی ایک پیغمبر کے ساتھ نہیں تھا بلکہ تم نے ہر پیغمبر کی آمد پر یہی کچھ کیا۔ 173 خدا کا ہر پیغمبر پیغام توحید لیکر آیا اور پیغام توحید جھوٹے پیروں، غلط کار مولویوں، دنیا پرست سرمایہ داروں اور نوابوں کے لیے پیغام موت ہے۔ کیونکہ پیغام توحید کو ماننے سے نذریں نیازیں جاتی ہیں عوام پر سے بناوٹی تقدس اور مصنوعی اقتدار کا اثر باطل ہوجاتا ہے۔ یہودیوں میں یہ طبقے موجود تھے اس لیے جب بھی کوئی پیغمبر آتا یہ لوگ اس کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے اور ڈٹ کر اس کی مخالفت اور تکذیب کرتے۔ اور اگر موقع مل جاتا تو اسے قتل کر ڈالتے۔ یہ ان کی انتہائی خباثت اور سنگدلی تھی (کبیر بتغییر یسیر)
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے، بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں174

174 یہ نوع رابع کا تتمہ ہے اور موجودہ یہودیوں کا مقولہ ہے۔ غلف اغلف کی جمع اور اغلف اسے کہتے ہیں جس پر غلاف چڑھا ہوا ہو۔ مطلب یہ کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے تمہاری دعوت اور وعظ وتبلیغ کا اثر ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت ابن عباس کی قرائت میں یہ لفظ غلف ہے جو غلاف کی جمع ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے دل تو پہلے ہی سے علم و حکمت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں محمد ﷺ اور قرآن کے علوم کی ضرورت نہیں۔ قال ابن عباس ای قلوبنا ممتلئۃ علما لا تحتاج الی محمد ﷺ ولا غیرہ (قرطبی ص 25 ج 1) بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِھِمْ ۔ بَل اضراب کے لیے ہے یعنی ایمان سے ان کی نفرت کی وجہ وہ نہیں جو انہوں نے بیان کی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے مسلسل انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں راندہ درگاہ کردیا ہے۔ انہیں اپنی رحمت سے دور کر کے ان سے ایمان کی توفیق چھین لی ہے۔ اس سے مراد مہر جباریت ہے فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ۔ قلیلاً مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے۔ اور مَا معنی قلت کی تاکید کیلئے ہے (روح ص 319 ج 1) مطلب یہ ہے کہ وہ بہت ہی تھوڑا ایمان لاتے ہیں۔ اس تھوڑے سے ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو وہ بعض چیزوں پر لاتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض۔ یا یہاں قلت عدم پر محمول ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ملعون ومقہور ہونے کی وجہ سے وہ ذرا ایمان نہیں لائیں گے۔ معناہ لا یؤمنون اصلا لا قلیلاولا کثیر الا کبیر ص 514 ج) نوع خامس نوع رابع میں یہودیوں کے اسلاف کی کج روی اور سنگدلی کا نمونہ پیش کیا گیا کہ انبیائ (علیہم السلام) کی تلقین وتبلیغ معجزات انبیائ (علیہم السلام) اور تورات وانجیل کی آیات بینات کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اب یہاں موجودہ یہودیوں کی کج روی اور شرارت کا ذکر ہے ج وا س سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ رشد وہدایت کے مذکورہ دلائل اور افہام و تفہیم کے معتبر ذرائع کی موجودگی میں کفر و انکار کے ساتھ ساتھ ان کے خبث باطن کا یہ حال ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے ظہور اور قرآن کے نزول سے قبل یہ لوگ ان دونوں کو مانتے تھے مگر جب ان کی جانی پہچانی ہوئی یہ چیزیں سامنے آئیں تو بغض وحسد، اور ضدوعناد کی وجہ سے دونوں کا انکار کردیا۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب پہنچی ان کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے175 جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو ان کے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر پھر جب پہنچا ان کو جس کو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہوگئے176 سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر

175 کتاب سے مراد قرآن ہے اور تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے ھوا القرآن وتنکیرہ للتفخیم (ابو السعود ص 617 ج 1) مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۔ مَا مَعَھُمْ سے مراد تورات ہے۔ یعنی قرآن مسئلہ توحید میں، تردید شرک میں، نبوت میں اور دیگر کئی احکام میں تورات کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔ قرآن کی صداقت کی ایک دلیل تو یہ ہوئی وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ ۔ یہاں یستفتحون بمعنی یفتحون ہے کیونکہ باب استفعال کی خصوصیت موافقت مجرم دے ہے جیسے استقر بھی بمعنی قر ہے اور فتح کے معنی بتانے اور خبر دینے کے بھی آتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے من قولھم فتح علیہ اذا علمہ ووقفہ کما فی قولہ تعالی۔ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ۔ (روح ص 320 ج 1) یعنی یہی یہودی اس سے پہلے کفار اور مشرکین کو بتایا کرتے تھے۔ عرب میں جو آخری نبی پید اہونے والا ہے اس کے ظہور کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ اور اس نبی پر اللہ کی طرف سے ایک کتاب نازل ہوگی۔ ای یعرفون المشرکین انبیا یبعث منہم وقد قرب زمانہ (روح ص 321 ج 1، بحر ص 303 ج 1) یہ قرآن اور صاحب قرآن کی صداقت پر دوسری دلیل ہے۔176 جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب آگئی اور خدا کا وہ رسول بھی آگیا جن کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے تو انہوں نے محض بغض وحسد اور ضدوعناد کی وجہ سے اور اپنے تقدس واقتدار کی حفاظت اور حرص دنیا کی خاطر ان دونوں کا انکار کردیا۔ بغیاً وحسداً وحرصاً علی الریاسۃ (مدارک ص 48 ج 1) کَفَروا لما اولی کا جواب ہے اور لما ثانیہ اولی کی تاکید ہے یا لما اولی کا جواب محذوف ہے اور یہ لما ثانیہ کا جواب ہے ۡ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۔ ان کافروں کے لیے کفر و انکار کی وجہ سے خدا کی رحمت سے دوری ہے نہ دنیا میں ایمان کی توفیق نصیب ہوگی نہ آخرت میں نجات نصیب ہوگی۔