Ayah 2:132251 بِھَا کی ضمیر کا مرجع ملت ہے اور یعقوب کا عطف ابراہیم پر ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو سب کے جد اعلیٰ ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ ہیں۔ ان دونوں حضرت نے بوقت وفات اپنی اپنی اولاد کو ملت توحید پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی۔ ۭيٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ ۔ نیز انہوں نے اپنی اپنی اولاد کو یہ بھی بتایا کہ اللہ نے تمہارے واسطے دین اسلام کو منتخب اور پسند فرمایا ہے۔ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ لہذا تم مرتے دم تک اسی دین اسلام اور ملت توحید پر قائم رہنا اور اللہ کی عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔ لہذا اے یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب اپنے اسلاف کرام اور آباؤاجداد کا حال سن لو کہ وہ توحید کے کس قدر پابند اور شرک سے کس قدر متنفر تھے کہ موت کے وقت بھی توحید کو نہ بھولے اور اپنی اولادوں کو مرتے دم تک توحید پر قائم رہنے کی وصیت کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔ تمہارا بھی دعویٰ ہے کہ تم ان بزرگوں کو مانتے ہو مگر تم نے اس توحید کو چھوڑ دیا جس کے وہ قائل تھے اور خود انہیں بزرگوں کو خدا نائب اور شریک بنا کر پوجنے اور پکارنے لگے لہذا اس شرک کو چھوڑ اور میرے پیغمبر کے پیش کردہ دعویٰ توحید کو مانو کیونکہ یہی توحید تمہارے باپ دادوں کی وراثت ہے۔
Ayah 2:133252 یہودیوں نے حضور علیہ الصلوہ والسلام سے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تو اپنی اولاد کو یہودیت پر رہنے کی وصیت فرمائی تھی اس لیے ہم ان کی وصیت کو چھوڑ کر دین اسلام کو کس طرح قبول کریں۔ قالوا للنبی ﷺ الست تعلم ان یعقبو لما مات اوصی بنیہ بالیھودیۃ (روح ص 390 ج 1، جامع ص 21) تو ان یہودیوں کے کذب وافترا کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ یہاں اَمْ منقطعہ ہے بمعنی بل اضرابیہ و استفہام انکاری۔ مطلب یہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی کیونکہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے جب ان کی وفات کا وقت قریب تھا اور وہ اپنی اولاد کو وصیت کر رہے تھے ای ماکنتم حاضرین حین احتضارہ الموت (علیہ الصلوۃ والسلام) وسؤالہ بنیہ عن الدین فلم تدعون ما تدعون (روح ص 390 ج 1) اور ہوسکتا ہے کہ اَمْ متصلہ ہو اور استفہام تقریری ہو اور مطلب یہ ہو کہ تمہارے اسلاف تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ اپنی اولاد کو اسلام اور توحید پر قائم رہنے کی وصیت کر رہے تھے اور انہیں بخوبی معلوم تھا اور ان کی وساطت سے تم بھی جانتے ہو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہودیت کی کوئی وصیت نہیں کی تھی پھر کیوں جان بوجھ کر ان پر الزام لگاتے ہو۔ ولک ان تجعل الاستفہام للتقریر ای کانت اوائلکم حاضرین حین وصی بنیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) بالاسلام والتوحید وانتم عالمون بذلک فما لکم تدعون علیہ خلاف ماتعلمون (روح ص 390 ج 1) اِذْ حَضَرَ میں اِذْ ، شُھَدَاءَ سے متعلق ہے۔253 اِذْ قَالَ ، اِذْ حَضَرَ سے بدل ہے۔ والعامل فی اذا الاولی معنی الشھادۃ واذا الثانیۃ بدل من الاولی۔ (قرطبی ص 137 ج 2) یعنی کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب بوقت وفات اپنی اولاد سے امتحانا پوچھ رہے تھے کہ تم میری موت کے بعد کس کی پوجا کرو گے۔254 ۔ اِلٰھاً وَاحِداً ۔ اِلٰھَکَ سے بدل ہے جو تاکید اور احتمال العدد کو قطع کرنے کے لیے لایا گیا ہے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سعادت مند فرزندوں نے بیک زبان جواب دیا کہ ہم تو اسی خدائے واحد کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور جو آپ کے ا آبائے کرام حضرت ابراہیم، اسمعیل اور حضرت اسحاق (علیہم السلام) کا معبود ہے۔ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ اور ہم مرتے دم تک اسی کے مطیع فرمان اور منقاد رہیں گے اور اسی کی خالص عبادت کرینگے اور اس کی عبادت اور پکار میں، اس کی نذرومنت میں کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے۔ یہودیو ! اب بتاؤ تم تو کہتے تھے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہودیت کی وصیت کی تھی حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ انہوں نے مرتے وقت اپنی اولاد سے اسلام اور توحید پر قائم رہنے کا عہد واقرار لیا تھا۔
Ayah 2:134255 تِلْکَ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اشارہ ہے۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین کو اپنے بزرگوں پر ناز تھا اور وہ اپنی صاحبزادگی کے غرور میں مسرور تھے اور کہتے تھے کہ اچھا اگر ہم بدکار ہیں تو کیا ہوا ہمارے آباء و اجداد تو نیک اور توحید پرست تھے جب وہ جنت میں جائیں گے تو ہم بھی ان کے طفیل بخش دئیے جائیں گے اور ہمیں بھی جنت میں جگہ مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا غرور شکن جواب دیا کہ وہ جماعت تو گذر چکی اور ان کے کمالات بھی ان کے ساتھ ہی گئے۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۔ ان کا کیا ان کے آگے آئے گا اور تمہارا کیا تمہارے آگے۔ لہذا دل سے یہ بات نکال ڈالو کہ ان کے نیک اعمال کی بدولت تم بھی جنت میں چلے جآگے۔ محض اس انتساب سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ البتہ ان جیسے اعمال کروگے تو اس سے یقیناً نفع پاؤگے۔ بعینہ یہی حال آج کل کے بعض گدی نشینوں کا ہے کہ وہ اپنے مریدوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور ناز سے کہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد بہت نیک اور اللہ کے پیارے تھے۔ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اور تم سے ان کے اعمال کا حساب نہیں مانگا جائے گا۔ بلکہ تم سے تمہارے اپنے اعمال کی پرسش ہوگی۔ توحید و رسالت کو دلائل سے مدلل اور واضح کرنے کے بعد یہود ونصاریٰ کے بعض غلط نظریات کی تردید کی ہے۔
Ayah 2:135256 شکوہ۔ باوجود اس کے کہ یہود ونصاریٰ کے آباء و اجداد جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے وہ سب کے سب دین اسلام اور ملت توحید کے پابند تھے لیکن یہ خود بھی شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں اور لوگوں کو بھی شرک کی دعوت دیتے ہیں اور خود بھی مشرکانہ عقائد کو عین ہدایت تصور کرتے ہیں چناچہ یہودی کہتے تھے کہ تم یہودی بن جاؤ اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا نائب اور متصرف سمجھو اور نصاریٰ کہتے تھے کہ تم عیسائی ہوجاؤ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا نائب اور نجات دہندہ سمجھو تو تمہیں راہ ہدایت مل جائے گی۔
257 جواب شکوہ۔ ملۃ منصوب ہے اور اس کا عامل نتبع محذوف ہے اور خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے یعنی آپ انہیں جواب دیں کہ ہم یہودیت اور نصرانیت قبول نہیں کرینگے بلکہ ہم تو ملت ابراہیمی کی پابندی کریں گے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین توحید کی پیروی کریں گے جو باطل اور مشرکانہ ادیان سے کنارہ کش اور دور تھے۔ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْن۔ یہ مدعی یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب تو مشرک وبت پرست ہیں لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے دور تھے لہذا ہم تو انہی کی پیروی کریں گے۔ یہ ان جھوٹے مدعیان ابراہیمیت کے لیے تازیانہ عبرت ہے جنہوں نے توحید کو چھوڑ کر شرک کو دین بنایا ہوا تھا اور بزرگوں کو خدا کا نائب اور متصرف سمجھ کر انہیں پکارتے تھے۔ والمقصود التعرض باھل الکتاب والعرب الذین یدعون اتباعہ۔ فان فی کل طائفۃ منھم شرکا فالیھود قالوا عزیر ابن اللہ والنصاری المسیح ابن اللہ والعرب عبدوا الاصنام وقالوا الملئکۃ بنات اللہ (روح 294 ج 1) یہ تو اہل کتاب کے غلط نظریے کا الزامی جواب تھا۔ یعنی انہوں نے کہا کہ یہودی یا نصرانی ہوجاؤ تو جواب دیا گیا کہ ہم تو ابراہیمی ہونگے۔ یہودی یا نصرانی نہیں ہونگے۔ اب آگے اس کا تحقیقی جواب دیا گیا ہے کہ آبائی نسبت یا قبائلی عصبیت پر ایمان کا مدار نہیں بلکہ ایمان تو اللہ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور اس کے دیگر احکام ماننے کا نام ہے۔
Ayah 2:136258 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے کہ تم انہیں جواب دو کہ ہم یہودیت یا نصرانیت کو نہیں جانتے۔ ہم تو خدائے واحد کی توحید پر ایمان رکھتے ہیں وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا۔ اور اپنے آخری رسول کی وساطت سے جو کچھ اس نے ہم پر اتارا ہے، ہم اسے بھی مانتے ہیں۔259 حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں مختلف خاندانوں کو قبائل کہا جاتا ہے اسی طرح بنی اسرائیل کے خاندان اسباط کہلاتے تھے۔ والسبط فی بنی اسرائیل بمنزلۃ القبیلۃ فی ولد اسمعیل (قرطبی ص 141 ج 2) یعنی ہم ان تمام صحائف کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم، اسمعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) پر نازل ہوئے نیز ان صحائف کو جو بنی اسرائیل میں ہونے والے باقی تمام انبیاء کرام پر اترے۔260 اور ہم تورات وانجیل کو بھی مانتے ہیں۔ تورات وانجیل کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اور اپنے اپنے وقت میں سرچشمہ ہدایت اور واجب العمل تھیں۔ اب ان پر عمل واجب نہیں۔ یہود ونصاریٰ کی وجہ سے اسباط کے بعد حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔ وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۔ ان کے علاوہ باقی تمام نببیوں پر جو کچھ اترا ہم اس پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کو برحق مانتے ہیں اور ان میں کسی نسلی یا قبائلی بنیاد پر تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں جیسے یہود ونصاریٰ نے کیا ہے۔ ای کما فرق اھل الکتاب فامنوا ببعض وکفروا ببعض بل نومن بھم جمیعا (روح ص 390 ج 1) وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ لَہ کی تقدیم کی وجہ سے اس میں جو حصر پیدا ہوگیا۔ یعنی ہم ایمان تو ان تمام انبیاء پر لاتے ہیں اور جو کچھ ان پر اترا اسے بھی مانتے ہیں لیکن انقیادِ عبودیت کو صرف اللہ کے ساتھ ہی مخصوص کرتے ہیں اور اپنی تمام ضروریات وحاجات کو اسی کے سپرد کرتے ہیں اور اسی کو مختار و متصرف سمجھتے ہوئے خالص اس کی عبادت کرتے اور اسے ہی پکارتے ہیں جیسا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
Ayah 2:137261 یہود ونصاریٰ مدعی تھے کہ ہدایت کا مدار یہودیت اور نصرانیت ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا اصل معیار بیان فرمایا کہ اصل ہدایت تو انبیاء کرام اور ان کی تعلیمات کی پیروی کا نام ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین اگر ایسا ہی ایمان لے آئیں جیسا کہ تمہارا ایمان ہے یعنی تمام انبیاء پر ایمان تو پھر یقینا وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ۔ اور اگر وہ تم جیسا ایمان لانے سے پہلو تہی کریں اور اس سے انکار کریں تو سمجھ لو کہ یہ لوگ بغض وحسد اور ضدوعناد میں گرفتار ہیں طلب ہدایت یا احقاق حق ان کا مقصد نہیں ہے۔ ای فماھم الا فی خلاف وعداوۃ ولیسوا من طلب الحق فی شئی (مدارک ص 61 ج 1) لیس غرضھم طلب الدین والانقیاد للحق وانما غرضھم المنازعۃ واطھار والعداوۃ (کبیر ص 751 ج 1) فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۔ یہ دشمنان توحید کی مخالفت وعداوت کے مقابلہ میںحضور ﷺ کے لیے تسلی اور مدد کا وعدہ ہے کہ آپ کی شدید مخالفت اور کثرت عدد کی پرواہ نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ان کے کفر و انکار اور ضدوعناد کو بھی جانتا ہے اور آپ کے خلوص اور طہارت باطن سے بھی واقف ہیں۔ اس ایت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کا ایمان معیاری اور عنداللہ مقبول تھا۔ اور وہ ہدایت یافتہ تھے۔ کیونکہ یہود ونصاری اور مشرکین کا ہدایت یافتہ ہونا ان جیسا ایمان لانے پر موقوف کیا گیا ہے۔
Ayah 2:138262 یہ منصوب ہے اور اس کا عامل محذوف ہے۔ قُولُوْا اٰمَنا کی مناسبت سے یہاں قَبِلْنَا کو حذف ماننا زیادہ موزوں ہے۔ ای قبلنا صِبْغۃَ اللہِ اور صِبْغَۃَ اللہِ سے سے مراد دین توحید اور ملت حصہ ہے۔ نصرانی اپنے بچوں اور ان کے مذہب میں داخل ہونے والوں کو ایک خاص قسم کے زرد رنگ میں نہلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اب یہ پاکیزہ اور پکا نصرانی بن گیا ہے اور گناہوں سے پاک ہوگیا ہے اس فعل کو وہ ھمیسھ کہتے ہیں تو اس کے جواب میں مسلمانوں کو ارشاد ہوا کہ تم کہو کہ ہم نے تو اللہ کے دین اور اس کی توحید کا رنگ قبول کرلیا ہے۔ جس سے ہر قسم کی نجاست دور ہوجاتی ہے۔263 یہاں استفہام انکار کے لیے ہے یعنی اللہ کے رنگ سے کسی کا رنگ اچھا نہیں اللہ کا رنگ تو اسلام اور توحید کا رنگ ہے۔ جسے قبول کرلینے سے ظاہر و باطن طاہر وطیب ہوجاتا ہے۔ اور اس مصنوعی اور بناوٹی رنگ میں یہ خوبی کہاں ؟ وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُوْنَ ۔ ہم نے اللہ کے دین اور توحید کے رنگ کو قبول کرلیا ہے۔ اس لیے ہم تو ہر قسم کی عبادت صرف اللہ ہی کے لیے بجا لائیں گے۔ تمام مالی، بدنی اور زبانی عبادتیں اسی کے ساتھ مخصوص کریں گے۔ اسی کی تہذیبیں منتیں دیں گے۔ اسی کے سامنے سجدہ کریں گے۔ اور اسی کو پکاریں گے۔ یہ جملہ ماقبل کا خلاصہ اور مقصود ہے۔
Ayah 2:139264 یہ خطاب یہودونصاری سے ہے اور فی اللہ میں مضاف محذوف ہے۔ ای فی دینہ اوالقرب منہ (قرطبی ص 140 ج 2) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا یعنی تم ہم سے اللہ کے دین اور اس کی توحید کے بارے میں جھگڑتے ہو کہ اللہ کا سچا دین یہودیت اور نصرانیت ہے اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو خدا کے نائب اور مختار اور متصرف مانے بغیر خدا راضی نہیں ہوسکتا۔ نیز ہم چونکہ اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لیے ہم خدا سے زیادہ قریب ہیں قالوا نحن اولی باللہ منکم لاننا ابناء اللہ واحباء ہ (قرطبی ص 145 ج 2) وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۔ لیکن یہ تمہارا جھگڑا بالکل لغو ہے۔ اس لیے کہ جس طرح وہ تمہارا رب ہے اسی طرح وہ ہمارا رب ہے۔ ہمارا تمہارا پروردگار اور آقا وہی ہے، اس کے سوا کوئی آقا اور داتا نہیں اور اس کی ربوبیت کسی قوم اور قبیلے کے ساتھ مخصوص بھی نہیں ہے۔ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۔ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ اور ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ خدا کا قرب تو انسان کو اس کے اعمال کے مطابق حاصل ہوتا ہے۔ اگر اس کے اعمال شرک اور ریاء سے پاک ہوں گے تو مقبول ہوں گے۔ اور اسے قرب خداوندی حاصل ہوگا۔ اور اگر اس کے اعمال شرک کی نجاست سے آلودہ ہوں گے تو وہ راندۂ درگاہ ہوگا اور سید ھا جہنم میں جائیگا وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ ۔ اس لیے ہم تو اپنے اعمال کو محض خدا کی رضامندی کے لیے بجا لاتے ہیں۔ اور ان کو شرک اور ریا کاری سے پاک رکھتے ہیں۔ قال سعید بن جبیر الاخلاص ان لا تشرک فی دینہ ولا ترائی احدا فی عملہ (روح ص 399 ج 1) یہ جملہ بھی مقصودی ہے۔ یہاں تین مقصودی جملے یکے بعد دیگرے آئے ہیں یعنی نَحْنُ لَہ مُسْلِمُوْنَ اور نَحْنُ لہ عَابِدُوْن اور نَحْنُ لَہ مُخْلِصُوْن مقصد یہ ہے کہ اے ایمان والو اس بات کا اعلان کردو کہ ایمان تو ہم تمام پیغمبروں پر لائے ہیں اور سب کی نبوت کا اقرار کیا ہے۔ لیکن جھکیں گے صرف اللہ کے آگے اور عبادت بھی صرف اسی ہی کی کریں گے اور پکاریں گے بھی خالصاً صرف اسی ہی کو ان کاموں میں کسی پیغمبر کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے۔
Ayah 2:140265 جب یہود ونصاریٰ کو ہر طرح کے دلائل سے لاجواب کردیا گیا اور کہا گیا کہ اگر توحید معیارِ صداقت ہے تو ہم موحد ہیں۔ اور اگر اتباع معیار حق ہے تو ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے پیغام توحید کو مانتے ہیں۔ مگر جب ان سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے یہ غلط پروپیگنڈا شروع کردیا۔ کہ پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) تو ان کے مذہب پر تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سب یہودی تھے اور نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ سب نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا کہ کیا اب تم یہ کہتے ہو کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) تمہارے مذہب پر تھے اور تمہاری طرح عیاذاً باللہ مشرک تھے۔ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ۔ جواب شکوہ۔ کیا ان انبیاء کے دین اور مذہب کو تم خدا سے زیادہ جانتے ہو، ظاہر ہے کہ اللہ کا علم تم سے زیادہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے پہلے واضح طور پر بیان فرمادیا ہے کہ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین اسلام تھا اور وہ سب کے سب توحید پر قائم تھے۔ اور مشرک نہیں تھے۔ 266 یہ اہل کتاب کے لیے زجر ہے اور شکوہ کا جواب بھی ہے۔ استفہام انکار کے لیے ہے اور شہادت سے اللہ تعالیٰ کی وہ شہادت مراد ہے جو تورات اور انجیل میں موجود ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) توحید پر تھے اور مذاہب باطلہ سے کوسوں دور تھے۔ شہادۃ التوراۃ والانجیل علی الانبیاء کانوا علی التوحید والحنیفیۃ (کبیر ص 754 ج 1) یعنی سب سے بڑا ظالم وہ ہے جس نے اللہ کی اس شہادت کو چھپایا جو اس کے پاس موجود ہے جیسا کہ یہود اور نصاری نے کیا۔ ان کے پاس تورات وانجیل میں انبیائے کرام کے توحید پرست ہونے کی شہادت موجود تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان کو یہودی اور نصرانی ظاہر کیا۔267 یہ ان کے لیے وعید شدید ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں، انبیائے کرام پر تمہارے غلط افتراء ات اور خدا کی شہادت کا کتمان اور تمہارے دوسرے اعمال سب اس کی نظر میں ہیں وہ تمہیں اس کی پوری پوری سزا دے گا۔
Ayah 2:141268 یہود اور نصاریٰ کے دلوں میں اپنے آباء و اجداد پر فخر و غرور مضبوطی سے بیٹھ چکا تھا اور وہ اپنی نجات کے بےبس اپنے اسلاف ہی کے اعمال کو کافی سمجھتے تھے اس لیے ان کے اس بےفائدہ فخر کو توڑنے کے لیے اور انہیں اس غلط خیال کے بد انجام سے ڈرانے کے لیے اس آیت کا اعادہ کیا گیا۔ تکریر لما تقدم للمبالغۃ فی التحذیر عما استحکم فی الطباع عن الفتخار بالآباء والاتکال علیہم (روح ص 401 ج 1) یہاں تک توحید و رسالت کے نقلی دلائل کا بیان تھا۔ اب آگے رسالت کے متعلق یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کے بعض شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔۔
پہلا شبہ : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ سولہ یا سترہ ماہ بعد آپ کو خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم مل گیا۔ تحویل قبلہ کا حکم دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بطور پیش گوئی آپ کو بتادیا کہ مستقبل قریب میں جب آپ کو تحویل قبلہ کا حکم ملے گا اس وقت احمق اور بیوقوف لوگ اس بات پر اعتراض کریں گے کوئی کہے گا کہ اس نے بیت المقدس کو جو تمام انبیاء کا قبلہ تھا چھوڑ دیا ہے اس لیے یہ پیغمبر نہیں، کوئی کہے گا کہ بیت المقدس سے بیت اللہ کا رخ کیا ہے شاید وطن کی یاد نے ستایا ہے اور دیکھو عنقریب مدینہ چھوڑ کر مکہ واپس آنے والا ہے غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ یا اعتراض کا جواب دیا ہے۔
Ayah 2:142269 یقول کو بعض مفسرین نے ماضی کے معنوں میں لیا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ آیت تحویل قبلہ کے بعد نازل ہوئی۔ لیکن جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ سَیَقُوْل استقبل کے لیے ہے اور یہ آیت تحویل قبلہ سے پہلے نازل ہوئی ہے اللہ نے بیوقوفوں کے اعتراض کی پہلے ہی سے آپ کو اطلاع دے دی تھی۔ سیقول ظاھر فی الاستقبال وانہ اخبار من اللہ تعالیٰ نبیہ ﷺ انہ یصدر منھم ھذ القول فی المستقبل وذلک قبل ان یؤمر وا باستقبال الکعبۃ (بحر ص 419 ج 1) السفہاء سے بعض نے یہود مراد لیے ہیں اور بعض نے مشرکین مکہ اور بعض نے منافقین۔ لیکن لفظ اپنے عموم کے لحاظ سے سب کو شامل ہے اس لیے اسے عموم پر محمول کرنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ یہ سب دشمن تھے تحویل قبلہ کی آڑ میں موقع پا کر سب نے اعتراضات کیے تھے۔ ان یکون الکل قد قال ذلک لان العداء مجہولون علی القدح والطعن فاذا وجدوامجالا۔ لم یترکوا مقللا (کبیر ص 4 ج 1)270 یہ سُفَہَاء کا مقولہ ہے اور ما استفہامیہ ہے اور استفہام طنز اور استہزا کے لیے ہے۔ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ ۔ استہزء وا بالمسلمین (قرطبی ص 148 ج 2) قبلتھم سے مراد بیت المقدس ہے جو پہلے مسلمانوں کا قبلہ تھا۔ یعنی کم عقل اور احمق لوگ اعتراض کیں گے۔ اور بطور طنز کہیں گے کہ ان مسلمانوں کو اپنے پہلے قبلہ سے کس چیز نے ہٹا دیا ہے ؟ یعنی ایک طرف تو یہ شخص پہلے انبیاء کے اتباع کا دعویٰ کرتا ہے۔ دوسری طرف انبیاء کا قبلہ چھوڑ رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حیران و سرگرداں ہے اور اس پر حق مشتبہ ہوگیا ہے ان کے اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے چار جواب دئیے ہیں دو اجمالی اور دو تفصیلی۔ اس اعتراض کے جوابات کا سلسلہ انیسویں رکوع میں وَاُولئکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ تک چلا گیا ہے۔ 271 پہلا اجمالی جواب۔ یعنی تمام سمتیں اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ اور کسی سمت میں کوئی تقدس نہیں رکھا ہوا۔ وہ جس طرف چاہے منہ کرنے کا حکم دے دے۔ اور ہم تو حکم کے بندے ہیں پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا تو ادھر منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے اب کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ملا ہے تو اس حکم کی تعمیل کریں گے کیونکہ اس کے احکام کی تعمیل ہی اصل ہدایت ہے۔ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اور اس کا ہر حکم سیدھی راہ ہے۔
Ayah 2:143ف 272 مفسرین نے کذالک کو تشبیہ کے لیے قرار دیا ہے۔ لیکن حضرت شیخ نے فرمایا کہ کذالک یہاں تشبیہ متعارف کے لیے نہیں ہے لہذا مشبہ اور مشبہ بہ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ وسط کے معنی خیار اور بہتر کے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ اس طرح ہم نے تم کو بہترین اور خیر امت بنادیا ہے یعنی یہ ہمارا کمال ہے اسی طرح اور بھی کئی جگہوں میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کیلئے ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَکَذٰلِکَ اَنْز (رح) لْنٰہُ حُکْماً عَرَبِیاً (رعد ع 5) یعنی قرآن کو ایسا حکم عربی بنانا ہمارا کمال ہے۔ چونکہ دنیا کی رہنمائی اور پیشوائی تمہارے سپرد ہونے والی ہے اس لیے کعبہ کو جو جغرافیائی اعتبار سے ساری دنیا کے سینٹر میں واقع ہے تمہارا مرکز بنادیا ہے۔273 یہ مرکزیت تمہیں اس لیے عطا کی ہے تاکہ میرا پیغمبر تم کو میری توحید بتائے۔ اور میرے احکام سے تم کو آگاہ کرے اور تم دوسرے لوگوں کو توحید بتاؤ اور ان تک میرے احکام پہنچاؤ۔ اس میں خطاب صحابہ کرام سے ہے۔۔ اور شہداء شہید کی جمع ہے۔ جو شہادۃ سے ماخوذ ہے۔ جن کے معنی ہیں بیان کرنا اس لیے شہید اور اسی طرح شاہد کے معنی ہوں گے اللہ کی توحید بیان کرنے والا اور راہ حق بتانیوالا۔ جیسا کہ علامہ ابن صفی حنفی نے لکھا ہے۔ انا ارسلناک شاھدا اللہ بالوحدانیۃ (جامع ص 364) یعنی آپ کو ہم نے توحید بیان کرنے والا بنا کر بھیجا اسی طرح سورة مائدہ میں وَکَانُواْ عَلَیہِ شُھَدَاءَ کے تحت علامہ موصوف لکھتے ہیں رقبء لئلا یبدل (جامع ص 100) ۔ یعنی علماء یہود تورات کے محافظ تھے کہ اس میں تبدیلی نہ ہونے پائے اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر محدث دہلوی نے سورة مزمل میں شَاھِداً کا ترجمہ بتانے والا کیا ہے۔ اِنااَرْسَلْنَا اِلَیْکُم رَسُوْلاً شَاھِداً عَلَیْکُم (ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا۔ شاہ عبدالقادر) لیکن شرک پسند اور بدعت نواز مولوی کہتے ہیں کہ یہاں شہید کے معنی گواہ کے ہیں اور گواہ صرف وہی ہوسکتا ہے جو موقع پر موجود ہو اور واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو امت پر گواہ فرمایا تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ ہر امتی کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور اس کی تمام حرکات و سکنات کو دیکھتے ہیں ورنہ گواہ نہیں بن سکتے تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ ہر جگہ اور ہر وقت حاضر وناظر ہیں۔
پہلا جواب : لفظ شہید یہاں بمعنی گواہ نہیں بلکہ جیسا کہ پہلے جامع البیان اور ترجمہ موضح قرآن کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں شہید کے معنی بیان کرنے والے اور بتانے والے کے ہیں۔ اور سیاق وسباق کے اعتبار سے بھی یہی معنی موزوں ہیں۔ کیوں کہ اسی آیت میں صحابہ کرام کے لیے بھی لفظ شہداء استعمال کیا گیا ہے اور یہ لفظ بعینہ وہی مفہوم ادا کر رہا ہے۔ جو سورة آل عمران رکوع 3 ایک پوری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۔
دوسرا جواب : اگر مان لیا جائے کہ اس آیت میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ گواہ صرف وہی شخص بن سکتا ہے جو موقع پر موجود ہو اور واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے کیونکہ فقہائے حنفیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ گواہی کے لیے واقعہ کا آنکھوں سے مشاہدہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ قرآن مجید میں وارد ہے۔ وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ الایۃ۔ یہاں اس شخص کو شاہد (گواہ) فرمایا جس نے زلیخا کی دست اندازی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ محض علامات کی بنا پر گواہی دی تو معلوم ہوا کہ گواہی کے لیے مشاہدہ ضروری نہیں اسی طرح اگر ایک شخص موقعہ پر موجود نہ ہو۔ لیکن واقعہ کی خبر اس تک کسی ایسے معتبر اور باوثوق ذریعہ سے پہنچ جائے جس سے اس کو اقعہ کی صداقت کا یقین ہوجائے تو اس کیلئے گواہی دینا جائز ہے۔ چناچہ ہدایہ ج 3 ص 157 پر ہے انما یجوز للشاھد ان یشھد بالاشتھار وذلک بالتواتر او اخبار من یثق بہ۔
تیسرا جواب :۔ شہید کے معنی یہاں نگہبان اور رقیب کے ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ خدا کا رسول تم پر (یعنی صحابہ کرام پر) نگہبان ہے تاکہ تم دین اسلام سے نہ ہٹنے پاؤ اور دین میں تحریف نہ ہونے پائے۔ اور تم ان لوگوں پر نگہبان ہو جو تم سے دین سیکھیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں دیکھوں گا۔ کہ میری امت کے کچھ لوگ لائے جا رہے ہوں گے لیکن قبل اس کے کہ وہ مجھ تک حوض کوثر پر پہنچیں انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ تو میں کہوں گا کہ یہ تو میرے امتی ہیں۔ تو مجھے جواب ملے گا کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے آپ کو معلوم نہیں تو :۔ فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (صحیح بخاری ص 665 ج 2) میں اس کے جواب میں وہی کچھ کہوں گا جو اللہ کا نیک بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کہے گا۔ کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر نگران رہا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ اس حدیث میںحضور ﷺ نے خود بیان فرمادیا کہ جب تک میں ان موجود رہا ان کے حالات سے آگاہ رہا تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا گواہ ہونا صحابہ کے لیے ہے اور ہر امتی پر آپ گواہ نہیں ہیں اور نہ ہر جگہ حاضر وناظر ہیں۔
چوتھا جواب۔ یا گواہ سے مراد یہ ہے کہ جب قیامت کے دن آپ کی امت پہلی امتوں پر گواہی دے گی کہ ان کے پیغمبروں نے ان کو اللہ کے احکام پہنچائے ہیں اور آپ اپنی امت پر تبلیغ رسالت کی گواہی دیں گے۔ جیسا کہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں۔ لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ، لتکون ھذہ الامۃ شھداء علی الناس ان الرسل قد بلغتکم ویکون الرسول علی ھذہ الامۃ شہیدا ان قد بلغ ما ارسل بہ (ابن جریر ص 6 ج 2) جیسا کہ حدیث میں ہے۔ یجاء بنوح (علیہ السلام) یوم القیامۃ فیقال لہ ھل بلغت فیقول بلغت یعنی نعم یا رب فیسئل امتہ ھل بلغکم فیقولون ماجاءنا من نذیر فیقال من شھودک فیقول محمد وامتہ فقال رسول اللہ ﷺ فیجاء بکم فتشہدون (الصحیح البخاری ص 1092 ج 2) یعنی قیامت کے دن حضرت نوح (علیہ السلام) سے سوال ہوگا کیا تو نے میرے احکام اپنی امت تک پہنچائے تو وہ جواب دیں گے کہ اے میرے رب میں نے پہنچادئیے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی امت سے سوال فرمائے گا کیا اس نے تم کو میرے احکام پہنچائے تو وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہیں۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا۔ تیرے گواہ کون ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ محمد ﷺ اور آپ کی امت میری گواہ ہے توحضور ﷺ نے فرمایا چناچہ پھر تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ قوم نوح امت محمدیہ پر اعتراض کرے گی کہ تم کس طرح گواہی دے سکتے ہو تم اس وقت موجود ہی نہیں تھے۔ تو امت محمدیہ جواب دے گی۔ ان اللہ تعالیٰ بعث الینا رسولا وانزل علیہ الکتاب فکان فیما انزل الینا خبرکم) یعنی اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا رسول بھیجا اور اس پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں تمہارا ذکر بھی فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید اور اس کے احکام کما حقہ پہنچائے تھے۔
پانچواں جواب : اگر بالفرض مان لیا جائے کہ تمام دلائل قطعیہ اور نصوص صریحہ کے خلاف یہاں لفظ شہید کے معنی حاضر وناظر ہی کے ہیں اور اس سےحضور ﷺ کا حاضر وناظر ہونا ثابت ہورہا ہے تو پھر صرفحضور ﷺ ہی کو نہیں بلکہ ساری امت محمدیہ کو حاضر وناظر ماننا پڑے گا کیونکہ اسی آیت میں امت محمدیہ کے لیے بھی لفظ شہداء استعمال کیا گیا ہے جو شہید کی جمع ہے۔ بلکہ اس صورت میں تو امت کا رتبہ حضور ﷺ سے بھی بڑھ جائے گا۔ کیونکہ آپ تو صرف اپنی امت کے گواہ ہیں اور یہ امت پہلی تمام امتوں پر گواہ ہے۔ جیسا کہ لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِسے ظاہر ہے۔
چھٹا جواب۔ اگر شہید کے وہی معنی تسلیم کرلیے جائیں جو مبتدعین کہتے ہیں تو اس آیت اور قرآن مجید کی دوسری آیتوں کے درمیان ایسا اختلاف اور تضاد رونما ہوگا جس کا اٹھانا ممکن نہیں ہوگا۔ مثلا سورة بقرہ جس میں یہ آیت ہے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی۔ اس کے بعد تقریبا، 16، 17 سورتیں اور نازل ہوئیں اور ان کے بعد سورة منافقون نازل ہوئی جس کا شان نزول صحیح روایتوں کے مطابق یہ ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر میں عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے موقع پا کر اپنے ساتھی منافقین سے کہا اس پیگمبر اور اس کے ساتھیوں نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔ ان کی وجہ سے ہمیں بہت تکلیف ہے۔ جب ہم مدینہ واپس پہنچیں گے تو (العیاذ باللہ) ان کمینوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ عبداللہ کی یہ باتیں ایک کم سن صحابی حضرت زید بن ارقم نے سن لیں اور اپنے چچا سے کہہ دیں۔ انہوں نے سارا ماجر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کردیا۔ تو آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر پوچھا تو اس نے قسمیں کھا کرحضور ﷺ کو یہ باور کرادیا کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ چناچہ آپ نے زید بن ارقم کو جھٹلادیا اور عبداللہ بن ابی کو سچا مان لیا۔ تو اس پر سورة منافقون نازل ہوئی جس سے آپ پر حقیقت حال منکشف ہوئی۔ اگر آپ حاضر وناظر ہوتے تو یقینا آپ کو عبداللہ بن ابی کی باتیں معلوم ہوجاتیں اور آپ زید بن ارقم کی تصدیق فرماتے اور عبداللہ کی قسموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کو جھٹلا دیتے۔ اس لیے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شَھِیْد کے معنی یہاں حاضر وناظر کے نہیں ہیں جیسا کہ فریق مخالف کا زعم ہے۔
ایک شبہ : بعض مبتدعین یہاں حضرت شاہ عبدالعزیز قدس سرہ کی ایک عبارت پیش کر کے اس سےحضور ﷺ کا حاضر وناظر ہونا ثابت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ شاہ صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے " یعنی وباشد رسول شما برشما گواہ زیرا کہ او مطلع است بہ نور نبوت بہ رتبہ ہر متدین بدین خود کہ درکدام درجہ از دین من رسیدہ الخ (تفسیر عزیزی ص 636 ج 1) " یعنی اور ہے رسول تمہارا تم پر گواہ کیونکہ آپ نور نبوت سے اپنے ہر امتی کا رتبہ جانتے ہیں کہ وہ کس درجہ پر پہنچا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ ہر امتی کے تفصیلی حالات سے آگاہ ہیں اور حاضر وناظر ہیں۔
جواب : یہ عبارت حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) کی نہیں ہے بلکہ مدرج ہے بعد میں کسی نے بڑھائی ہے کیونکہ اس کے بعد آگے چل کر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " شہادت درینجا بمعنی گواہی نیست بلکہ بمعنی اطلاع ونگہبانی است تاز اجادۂ حق بیرون نردند چناچہ وَاللہُ علیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ۔ و در مقولہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ۔ (تفسیر عزیزی ص 641) یعنی اس آیت میں شہید بمعنی گواہ نہیں بلکہ اس کے معنی نگران اور نگہبان کے ہیں یہ عبارت اس بات کا کھلا ہوا قرینہ ہے کہ پہلی عبارت حضرت شاہ صاحب کی نہیں ہے کیونکہ دوسری عبارت میں انہوں نے لفظ شہید کا جو مفہوم بیان فرما ہے وہ پہلی عبارت کے بالکل منافی ہے۔274 ووسرا جواب : یہ دوسرا جواب ہے اور پہلے جواب کی تفصیل ہے یعنی تحویل قبلہ کا حکم ہم نے اس لیے دیا ہے تاکہ کھرے کھوٹے اور مخلص و منافق میں امتیاز ہوجائے۔ مکہ معظمہ میں تو آپ کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے ہجرت کے بعد بیت المقدس قبلہ مقرر کیا گیا۔ اور پھر سولہ سترہ ماہ کے بعد دوبارہ کعبہ ہی کو قبلہ مقرر کیا گیا اس طرح نسخ قبلہ دو دفعہ واقع ہوئی ہے۔ یہاں جَعَلَ بمعنی صَیَۤرَ ہے لہذا اس کے دو مفعول ہونے چاہئیں۔ چناچہ اس کا مفعول اول محذوف ہے۔ یعنی الکعبۃ اور القبلۃ مفعول ثانی ہے۔ اور التی کنت علیھا الکعبۃ کی صفت ہے۔ والمعنی وما جعلنا الکعبۃ التی کانت قبلۃ لک اولا ثم صرفت عنھا الی بیت المقدس قبلتک الان الا لنعلم (بحر ص 423 ج 1) یعنی کعبہ جو پہلے آپ کا قبلہ تھا اور جس کے بعد بیت المقدس کو آپ کا قبلہ بنایا گیا اب دوبارہ آپ کا قبلہ صرف اس لیے مقرر کیا گیا ہے۔ تاکہ فرمانبردار اور نافرمان میں امتیاز ہوجائے۔ 275 لِنَعْلَمَ استقبال کے لیے ہے لہذا اس سے شبہ پڑتا ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں تھا کہ کون مانے گا اور کون نہیں مانے گا۔ حالانکہ یہ چیز اہل اسلام کے عقیدہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ازل سے ابد تک تمام کلیات وجزئیات کا علم رکھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد خارج میں تمییز اور اظہار ہے۔ ارید بہ التمییز فی الخارج (روح ص 6 ج 1) فوضع العلم موضع التمییز لان بہ یقع التمییز (مدارک ص 63 ج 1) یعنی ہم نے تحویل قبلہ اس لیے کی ہے تاکہ ہمارے پیغمبر کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں امتیاز ہوجائے جو لوگ وتحویل قبلہ کے حکم کو بخوشی مان لیں گے وہ فرماں بردار ہوں گے اور جو نہ مانیں گے بلکہ اس کی پھبتی اڑائیں گے وہ نافرمان ہوں گے۔ چناچہ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقع پر کئی مسلمان مرتد ہوگئے۔ مگر یہ وہی مسلمان تھے جو بظاہر مسلمان کہلاتے تھے لیکن حقیقت میں مسلمان نہیں تھے یعنی منافقین یہ لوگ پہلے تو پوشیدہ طور پر مخالفت کرتے تھے مگر تحویل قبلہ کے موقع پر علانیہ اس کا تمسخر اڑانا شروع کردیا۔ تاکہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں بھی شبہات پیدا ہوجائیں تحویل قبلہ بھی مخلص و منافق اور طیب وخبیث کے درمیان امتیاز کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۔ ہدایت سے مراد ایمان ہے۔ ای خلق الھدی الذی ھو الایمان فی قلوبھم (قرطبی ص 157 ج 2) یعنی تحویل قبلہ ایک بھاری آزمائش تھی مگر جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان پیدا کردیا تھا ان کے لیے اس کا مقابلہ کرنا آسان تھا۔ کیونکہ وہ نہ مصلحتوں کو دیکھتے ہیں۔ نہ حکمتوں کو۔ ان کی زندگی کا ماحصل تو بس ایمان و تسلیم ہے جہاں حکم ہوا وہیں سر جھکادیا۔276 ایمان سے مراد نماز ہے جیسا کہ صحیح روایتوں میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ تحویل قبلہ کی بعد بعض مسلمانوں نےحضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ کہ یارسول اللہ جو مسلمان بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے فوت ہوگئے ہیں ان کی نمازوں کا کیا ہوگا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع نہیں کرے گا۔ بیت المقدس کی تمہاری پڑھی ہوئی نمازیں سب درست ہیں کیونکہ وہ بھی ہمارے حکم کے مطابق پڑھی گئی تھیں۔ اس طرح یہ سوال مقدر کا جواب ہے اور ممکن ہے ایمان اپنے ہی مفہوم یعنی تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان پر باقی ہو۔ تو اس صورت میں اس آیت میں مسلمانوں کے اس شبہ کا ازالہ ہوگا۔ کہ جب اصل قبلہ کعبہ تھا تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے اور اسے اپنا قبلہ سمجھنے سے ہمارے ایمان میں تو کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ ایسا شفیق ومہربان ہے کہ اس کے تمام احکام شفقت و رحمت پر مبنی ہیں چناچہ تحویل قبلہ کا حکم بھی اسی قبیل سے ہے۔ اور وہ کسی کا اخلاص اور ایمان کے ساتھ کیا ہوا عمل کبھی ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 2:144277 آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ کعبہ کو آپ کا قبلہ بنادیا جائے کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا۔ نیز اہل عرب کے لیے اس میں زیادہ کشش تھی۔ اور انہیں اسلام سے قریب لانے کا ایک عمدہ ذریعہ تھا۔ اہل کتاب میں سے جنہوں نے ایمان لانا تھا وہ لا چکے تھے اور جو باقی تھے ان کے ایمان سے آپ مایوس تھے جسا کہ اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُۤوْمِنُوْا لَکُم الایۃ اور وَلَنْ تَرْضیٰ عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی الایۃ۔ سے واضح ہے اور آپ کو یہ توقع بھی کہ تحویل قبلہ ہوجائے گی۔ کیوں کہ اب دین کی امات وسیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔ اس لیے اب ضروری تھا کہ قبلہ وہی مقرر ہو۔ جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) کا تھا اس لیے آپ وحی کی آمد کی توقع پر بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم آپ کی بےچینی اور انتظار کو دیکھ رہے ہیں مگر بعض حکمتوں کے تحت اب تک آپ کو تحویل قبلہ کا حکم نہیں دیا۔ آیت کا مذکورہ بالا مطلب اس روایت کی بنا پر ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ وحی کی آمد کے منتظر رہتے تھے اور بوجہ اشتیاق بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تھے لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ لفظ نقلب باب تفعل سے ہے جس کا خاصہ تکلف ہے۔ صراح میں تقلب الشیئ ظھر البطن کالحیۃ تتقلب فی الرمضاء۔ یعنی سخت گرمی میں سانپ کے تکلیف کے ساتھ چلنے پر تقلب کا لفظ بولتے ہیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم دیکھ رہے ہیں تکلیف اور ناگواری کے ساتھ آپ کے بار بار آسمان کی طرف دیکھنے کو کہ کہیں تحویل قبلہ کا حکم نہ آجائے کیونکہ آپ کی خواہش یہ تھی۔ ابھی تحویل قبلہ نہ ہو اور بیت المقدس ہی قبلھ رہے تاکہ اس معاملہ یہودیوں سے موافقت رہے۔ اور شاید وہ اسی وجہ سے ایمان قبول کرلیں۔ آیت کا یہ مفہوم حضرت شیخ (رح) نے بیان فرمایا ہے۔ یہ مفہوم چونکہ لغت اور عرف کے بھی مطابق ہے اور اس سے اسلام کے کسی منصوص اور قطعی حکم کی مخالفت بھی نہیں ہوئی اس لیے آیت کی یہ تفسیر وتاویل، تفسیر بالرائے کے دائرہ میں داخل نہیں بلکہ یہ اس تاویل کے زمرہ میں داخل ہے جس کی شرعاً اجازت ہے۔ چناچہ علماء تفسیر نے لکھا ہے التاویل صرف الایۃ الی معنی موافق لما قبلھا وبعدھا تحتملہ الایۃ غیر مخالف الکتاب والسنۃ من طریق الاستنباط (الاتقان فی علوم القران ص 420 و تفسیر خان ص 6 ج 1) یعنی تاویل یہ ہے کہ آیت کو ایک ایسے معنی پر محمول کیا جائے جو سیاق وسباق کے مطابق ہو اور آیت میں (لغۃً وعرفاً ) اس کی گنجائش بھی ہو اور وہ کتاب وسنت سے مستنبط احکام کے خلاف بھی نہ ہو اور پھر اس تفسیر کی تائید میں دو قرینے بھی موجود ہیں۔ پہلا قرینہ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات پر زجر فرمایا کہ یہ لوگ اس قدر حاسد اور ضدی ہیں کہ کبھی آپ کا اتباع نہیں کریں گے اس لیے آپ ایسے لوگوں کا اس قدر کیوں خیال فرماتے ہیں دوسرا قرینہ وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَیہ بھی اس پر شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ یہود کو دین کی طرف مائل کرنے اور ان کے قلوب کی تالیف کے لیے ان سے کسی قدر ظاہری موافقت (مثلاً اتحاد قبلہ) قائم رکھنے کے متمنی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ باقی رہی وہ روایت جس کی بنا پر پہلا مطلب بیان کیا گیا ہے تو اس کے بارے میں گذارش ہے کہ اکثر حدیثیں روایت بالمعنی کے طریق پر روایت کی گئی ہیں۔ یہ حقیقت تمام محدثین کے نزدیک تسلیم شدہ ہے۔ اور زیر بحث روایت بھی اسی طریق پر نقل کی گئی ہے۔ اور اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 667 میں ہے قلا رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعۃ حت تطلع الشمس من مغربھا فاذا طلعت وراھا اٰيٰتِ رَبِّكَ سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے لیکن بعض راویوں نے اس حدیث سے اپنے فہم کے مطابق یہی سمجھا اور روایت بالمعنی کے ذریعہ بیان کردیا کہ بعض آیات ربک سے طلوع شمن از جانب مغرب مراد ہے۔ حالانکہ یہ جبرحضور ﷺ کے منشا کے خلاف ہے اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول، ہمین ادھر ہی منہ کرکے نماز پر ھنے کی اجازت دے دیں گے۔ اور حضرت شیخ کے بیان کردہ مفہوم کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو ایسے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جائے گا جسے آپ پسند کریں گے۔278 یہ پہلے وعدہ کا ایفا اور تحویل قبلہ کا حکم ہے۔ شطر کے معنی طرف اور جانب کے ہیں۔ المسجد الحرام کے معنی عزت وحرمات والی مسجد کے ہیں کیونکہ اس مسجد میں اور اس کی حدود میں جنگ وجدال اور شکار وغیرہ جائز نہیں اور وجہ سے مراد سارا بدن ہے۔ الماد من الوجہ ھھنا جملۃ بدن الانسان (کبیر ص 202 ج 2) مفسرین نے لکھا ہے کہ قبلہ تو خانہ کعبہ ہے مگر آیت میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مسجد حرام سے دور دلیل علی ان الواجب مراعاۃ الجھۃ دون العین (مدارک ص 64 ج 1) البتہ جو لوگ خانہ کعبہ کے پاس موجود ہوں ان کے لیے عین کعبہ کی طرف رخ کرنا واجب ہے۔ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۔ جو لوگ دوسرے علاقوں میں رہتے ہیں ان کے لیے مسجد حرام کی سمت کی طرف منہ کرلینا کافی ہے عین کعبہ کی طرف رخ کرنا واجب نہیں وذکر المسجد الحرام دون الکعبۃ السلام کو خطاب فرمایا اس سےحضور ﷺ کی یا جگہ کی خصوصیت مفہوم ہوسکتی تھی کیونکہ یہ آیتیں مدنی ہیں۔ اب اس آیت میں صراحت کے ساتھ اس حکم کو تمام افراد کے لیے اور تمام جگہوں کے لیے عام کردیا ہے یعنی تم جہاں کہیں ہو نماز میں مسجد حرام کی سمت منہ کرلیا کرو۔ 279 یہ تحویل قبلہ کی دوسری اجمالی دلیل ہے۔ الذین اوتوا الکتب سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں اور انہ کی ضمیر تحویل قبلہ کی طرف راجع ہے یعنی امر القبلۃ وتحویلھا الی الکعبۃ (خازن و معالم ص 104 ج 1) وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ ۔ میں خبر کی تعریف نے حصر کے معنی پیدا کردئیے ہیں۔ یعنی اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ قبلہ کے بارے میں یہی حکم حق ہے کہحضور ﷺ کا قبلہ خانہ کعبہ ہو جو کچھ یہ سب لوگ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں۔ جن لوگوں نے تحویل قبلہ کے معاملہ میں تسلیم وانقیاد سے کام لیا ہے اللہ تعالیٰ نہیں بھی جانتا ہے اور جنہوں ان کا استہزا کیا ہے، وہ ان کے اعمال سے بھی بخوبی واقف ہے۔ اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ الضمیر علی القراء تین لجمیع الناس فیکون وعدا ووعید الفریقین من المومنین والکافرین (روح ص 10 ج 2)
Ayah 2:145280 یہاں بھی اہل کتاب کی ضد وعناد کا بیان ہے یعنی اس کے باوجود کہ یہ لوگ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو جانتے ہیں مگر ضدوعناد اور حسد کی وجہ سے اپنا قبلہ چھوڑ کر آپ کا اتباع نہیں کریں گے۔ اگرچہ آپ تحویل قبلہ کی حقیت کے تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردیں۔ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۔ اہل کتابحضور ﷺ کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے تھے کہ اے محمد پھر سے بیت المقدس کو اپنا قبلہ مان لے تو ہم تجھے نبی مان لیں گے اور تیرا اتباع کریں گے (روح ص 11 ج 2) تو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی اس آرزو کو ختم کردیا کہ یہ امر محال ہے کہ تو اے محمد ﷺ ان کے قبلہ کو دوبارہ قبول کرلے اس لیے انہیں اس قسم کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۔ یعنی اہل کتاب کی ضدوعناد اور بغض وحسد کا معاملہ کوئی آپ کے ساتھ ہی مخصوص نہیں۔ یہ لوگ تو آپس میں بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ان میں آپس میں بھی بغض وحسد کی آگ شعلہ زن ہے۔ چناچہ یہود ونصاریٰ آپس میں بھی ایک دوسرے کا قبلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہود، نصاریٰ کے دین اور قبلہ کو غلط سمجھتے ہیں اور نصاریٰ یہود کے دین اور قبلہ کو یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا قبلہ مشرق کی سمت تھی۔ فالیھود تستقبل بیت المقدس والنصاری مطلع الشمس (مدارک ص 64 ج 1)281 آیت میں خطاب آنحضرت سے ہے۔ آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ کے معاملہ میں فی الحال یہود سے موافقت رہے اس سے شاید ان کے دل دین اسلام کی طرف مائل ہوجائیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا۔ اگر بفرض محال آپ ان کی خواہشات کا اتباع کرنے لگے تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔ آنحضرت ﷺ خواہشات نفس کا اتباع کرینگے تو آپ کا شمار بھی اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں میں ہوگا۔ خواہشات نفس سے مراد اہل باطل کا دین ہے۔ کیونکہ وہ ان کی نفسانی خواہشات اور خود ساختہ آرزؤوں ہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً ان علماء کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو رواداری کے جنون میں مشرکین اور اہل باطل کے بعض مشرکانہ اور جاہلانہ عقائد و اعمال کی تحسین کر بیٹھتے ہیں۔ یا کم از کم مداہنت سے کام لیتے ہوئے خاموش ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 2:146–147282 الذین سے اہل کتاب کے اہل علم لوگ مراد ہیں۔ وان کان عاما بحسب اللفظ لکنہ مختص بالعلماء منھم (کبیر ص 37 ج 2) یعرفونہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کے ان اوساف کی طرف راجع ہے جن کا ذکر بطور خطاب سے بیان کیے گئے ہیں کہ علماء اہل کتاب حضور ﷺ کی صداقت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تورات وانجیل میں حضور ﷺ کے اوصاف اس وضاحت کی ذات کو بنانا اگرچہ فی نفسہ صحیح ہے لیکن سیاق سباق کے مناسب نہیں لہذا یعرفونہ کی ضمیر اور قبلہ کی طرف راجع ہے۔ القول الثانی الضمیر فی قولہ یعرفونہ راجع الی امر القبلۃ (کبیر ص 38 ج 2) تو مطلب یہ ہوگا کہ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو اہل کتاب اسی طرح یقینی طور پر جانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بچوں کو جانتے ہیں۔ 283 مگر اس کے باوجود ان کی ایک جماعت حق کو چھپاتی ہے۔ اورحضور ﷺ کے بیان شدہ اوصاف یا تحویل قبلہ کے معاملہ پر پردہ ڈالتی ہے۔ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان میں سے ایمان نہیں لائے تھے۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔ الحق میں الف لام عہد کے لیے ہے۔ یعنی جس حق کو وہ چھپا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس سےحضور ﷺ کی صفت ونعت مراد ہے یا تحویل قبلہ کا معاملہ۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ۔ یعنی اہل کتاب کے جان بوجھ کر حق کو چھپانے کی وجہ سے حق کی حقانیت میں کوئی فرق نہیں آسکتا اور ان کے کتمان کے باوجود حق پھر بھی حق ہی ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔
Ayah 2:148284 کُلٍ کی تنوین عوض کے لیے ہے۔ ای لکل قوم اور وجھۃ کے معنی قبلۃ کے ہیں (مدارک ص 65 ج 1) مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کا ایک علیحدہ قبلہ ہے اور ہر مذہب وملت کے متبعین اپنے اپنے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۔ خطاب مسلمانوں سے ہے یعنی ہر قوم اپنے اپنے قبلہ کا اتباع کرتی ہے۔ تم اللہ کے حکم کے مطابق نیکی کے کاموں میں سب پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور جس طرف اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے اسی طرف منہ کرو۔ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا۔ یہ تخویف اخروی ہے تم سب مسلمان اور تمہارے دشمن جہاں کہیں بھی ہونگے وہ تمہیں قیامت کے دن ایک جگہ جمع کردیگا اور تمہارے تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔ لہذا فضول جھگروں اور بحثوں کو چھوڑو اور خدا کی عبادت کرو اور اس کے احکام کا اتباع کرو جو اصل نیکی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ مارنا اور پھر منتشر اجزاء کو جمع کر کے ان میں دوبارہ جان ڈالنا بھی اس کی قدرت کے تحت داخل ہے۔
Ayah 2:149ف 285 تحویل قبلہ سے متعلق پہلا حکم بھی اگرچہ عام تھا لیکن یہاں اس بات کی صراحت فرما دی کہ یہاں حکم قیام مدینہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام احوال سفر وحضر کو شامل ہے۔ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔ اور یہ استقبال کعبہ کا حکم اللہ کی طرف سے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ استقبال ھذہ القبلۃ ھو الحق ای الثابت الذی لا یعرض لہ نسخ ولا تبدیل (بحر ص 639 ج 1) ای الثابت الموافق للحکمۃ (روح ص 16 ج 2) وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ تمہارے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں اور وہ تمہارے نیک وبد اعمال کے مطابق تمہیں جزا دے گا۔