Ayah 2:189358 الْاَهِلَّةِھلال کی جمع ہے جس کے معنی نئے چاند کے ہیں۔ بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے چاند کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ چاند سورج کی طرح ایک حال پر نہیں رہتا ہر ماہ کا چاند پہلے باریک سا ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے چودھویں تاریخ کو پورا ہوجاتا ہے اور پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ دوبارہ پہلے کی طرح باریک رہ جاتا ہے۔ ذکر ان رسول اللہ ﷺ سئل عن زیادۃ الاھلة ونقصانھا فی اختلاف احوالھا (ابن جریر ص 104 ج 2)359 یہ اس سوال کا جواب ہے۔ یعنی یہ چاند لوگوں کے لیے اپنے معاملات میں تعیین اوقات کا ذریعہ ہے۔ نیز ان کے سب سے بڑے مذہبی اور سماجی اجتماع حج کی تعیین بھی اسی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے کے متعلق چونکہ سوال نامناسب اور موقع اور محل کے مطابق نہیں تھا اس لیے ان کے سوال کے مطابق جواب نہیں دیا گیا بلکہ جواب میں چاند کی کمی بیشی کی حکمت بیان کر کے اشارہ فرمایا ہے کہ ایسے بیکار اور بےفائدہ سوالوں اور کاموں اجتناب چاہئے۔ چناچہ مثال کے طور پر ان کی ایک فضول رسم آگے بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ایسے فضول کام نیکی میں داخل نہیں ہیں لیکن حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ پوچھا تھا کہ حج کیلئے اشہر حج کی تعیین ضروری ہے یا حج دوسرے مہینوں میں بھی کیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب دیا گیا کہ اشہر حج کی تعیین ضروری ہے۔ مگر اس طرح بھی آیت کا ماقبل سے کوئی ربط ظاہر نہیں ہوتا اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سوال یہ تھا کہ روزہ بذات خود قرب خداوندی کا ذریعہ ہے اس کے لیے ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کی تخصیص کیا ضروری ہے چاند دیکھے بغیر کوئی سے تیس دنوں کے روزے رکھ لیے جائیں تو کیا حرج ہے تو جواب دیا گیا کہ رمضان کی تخصیص ضروری ہے۔ اور اسی لیے چاند کی کمی بیشی سے بارہ ماہ معین کیے گئے ہیں تاکہ ہر شخص آسانی سے ایک ماہ کا اختتام اور دوسرے ماہ کی ابتداء سمجھ سکے۔ 360 زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ حج کے احرام کی حالت میں اپنے گھروں میں دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ مکان کی پچھلی دیوار توڑ کر یا اسے پھاند کر گھر میں آتے تھے اور اس کو وہ بہت بڑی عبادت سمجھتے تھے اسلام کے بعد نو مسلموں نے بھی اپنی عادت قدیمہ کے مطابق ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس غلط روش سے منع فرمایا اور ان پر واضح فرمادیا کہ یہ غیر معقول حرکت نیکی اور ثواب کا کام نہیں۔ ان ناسا من العرب کانوا اذا حجوا لم یدخلوا بیوتھم من ابوابھا کانوا ینقبون فی ادبارھا الخ (ابن جریر ص 105 ج 2) 361 یعنی نیکی یہ نہیں کہ تم اس قسم کی جہلانہ رسموں کی پابندی کرو بلکہ نیکی حقیقت تو تقوی ہے اس لیے تم تقویٰ اختیار کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لاؤ۔ اور جن کاموں سے اس نے روکا ہے ان سے بچو۔ یہ ماقبل کے لیے ایک تمثیل تھی۔ یعنی چاند کے بارے میں سوال کرنا بالکل بےمعنی اور الٹا سا سوال ہے بلکہ اسی طرح جیسا کہ حج کے موقع پر گھروں میں پچھلی طرف سے داخل ہونا ایک الٹا کام ہے۔ 362 دنیا اور آخرت میں فلاح اور کامیابی کا راز خوف خدا ہی میں مضمر ہے خدا سے ڈر کر اس کے مقرر کیے ہوئے آئینِ حیات کے اتباع ہی سے دین ودنیا میں کامیابی اور کامرانی حاصل ہوسکتی ہے۔ يَااَيُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ سے لے کر یہاں تک تین امور انتظامیہ قصاص، وصیت، مال غیر سے اجتناب او ایک امر مصلح یعنی روزہ کا بیان تھا اب آگے جہاد کا حکم ہے۔
Ayah 2:190363 ربط۔ دوسرے حصہ میں پہلے تین امور انتظامیہ بیان فرمائے کیونکہ نظم ونسق اور اتحاد باہمی کے بغیر جہاد ناممکن ہے۔ پھر ایک اور امر مصلح بیان فرمایا کہ باطن کی صفائی ہو اور امور انتظامیہ پر بخوشی عمل کیا جاسکے اب آگے اصل مضمون کا ذکر ہے یعنی امر قتال اور یہ قتال محض اللہ کی توحید کو بلند کرنے کے لیے ہے۔ مسلمانوں نے مکہ میں پورے تیرہ برس انتہائی مظلومیت کی حالت میں گذارے۔ مشرکین کی طرف سے ہر قسم کی ایذائیں اور تکلیفیں برداشت کیں۔ آخر مدینہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے مگر دشمنوں نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی اپنی مدافعت کے لیے جنگ کرنے کی اجازت دیدی۔ لیکن ساتھ ہی تین شرطیں بھی عائد فرما دیں۔ اول یہ کہ لڑائی میں پہل نہ کریں اور صرف اس صورت میں لڑیں جبکہ کفار خود لڑائی کا آغاز کریں۔ ظاھرہ من یناجزکم القتال ابتداء او دفعاً عن الحق (بحر ص 65 ج 2) دوم لڑائی صرف انہیں سے کی جائے جو میدان جنگ میں تم سے لڑ رہے ہیں یا دشمن کو کمک پہنچا رہے ہیں یا انہیں جنگ کی تدبیریں بتا رہے ہیں۔ اور جو لوگ لڑائی میں کسی قسم کا حصہ نہیں لے رہے ان سے تعرض نہ کیا جائے یہ دونوں شرطیں۔ الذین یقاتلونک سے مفہوم ہیں تیسری شرط ولا تعتدوا کہ حد سے تجاوز نہ کرو۔ اس کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کا قول ہے۔ لا تقال من لا یقاتلک یعنی النساء والصبیان والرھبان (ابن جریر ص 107 ج 2) یعنی جو لوگ لڑنے کے قابل نہیں یا لڑائی میں شریک نہیں ہیں مثلاً عورتیں، بچے اور ان کے مذہبی رہنما وغیرہ انہیں مت قتل کرو۔ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ (اللہ کی راہ میں) یہاں سبیل سے مراد اللہ کا دین اور اس کی توحید ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے دین کو عزت حاصل ہو اور کلمۂ توحید سربلند ہو۔ ای جاھدوالاعزاز الدین واعلاء کلمته (روح ص 74 ج 2) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ۔ یہ حکم ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ مقررہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 2:191364 ھُمْ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ کی طرف راجع ہے۔ ضمیر المفعول عائد علی الذین یقاتلونکم وھذا امر بقتلھم وحید عم عام فی کل مکان حلال او حرام الخ۔ (بحر ص 66 ج 2) یعنی جو مشرکین تمہارے ساتھ برسرپیکار ہیں جب وہ تم سے لڑنے کے لیے نکل پڑیں تو جہاں کہیں بھی تمہاری ان سے مڈ بھیڑ ہوجائے تم ان سے لڑو اور قتل کرو خواہ حرم ہی میں مقابلہ کیوں نہ ہوجائے۔ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ۔ حیث یہاں تعلیلیہ ہے یعنی ان کو مکہ سے نکالو کیونکہ انہوں نے تم کو نکالا ہے یا ظرفیہ یعنی جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ وہاں سے تم ان کو نکالو۔ یعنی مکہ مکرمہ سے یا حیث تشبیہ کے لیے ہے۔ یعنی جس طرح انہوں نے تم کو سرزمین مکہ سے نکالا ہے اسی طرح تم ان کو وہاں سے نکال دو ۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے قتل واخراج میں سے جو ممکن ہو اس پر عمل کرو۔ والمراد افعلوا کل مایتیسر لکم من ھذین الامرین فی حق المشرکین (روح 75 ج 2) 365 یہ اقتلوہم کی علت ہے اور فتنہ سے مراد شرک ہے۔ مشرکین نے مسلمانوں پر طنز کیا تھا کہ انہوں نے حرم کعبہ کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی اور اس میں جنگ و قتال شروع کردیا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے جو بیت اللہ کو شرک وبت پرستی کا مرکز بنا دیا ہے۔ ای شرکھم باللہ اشد حراماً من القتل الذی عیروکم بہ فی شان ابن الحضرمی (بحر ص 66 ج 2) وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت فرمادی کہ وہ حدود حرم میں مشرکین سے لڑنے میں پہل نہ کریں۔ ہاں اگر مشرکین حدود حرم میں داخل ہو کر مسلمانوں سے لڑنے لگیں تو اب مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے ان سے لڑیں۔ كَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ۔ ایسے ضدی اور معاند کفار کی یہی سزا ہے کہ جب وہ حرم کعبہ میں بھی شر و فساد اور قتل و خونریزی سے باز نہ آئیں تو وہیں ان کا خاتمہ کردیا جائے۔
Ayah 2:192366 یعنی اگر وہ ایمان لے آئیں اور شرک چھوڑ دیں اور جنگ و قتال سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گذشتہ گناہ معاف فرما کر انہیں اپنی رحمت میں شامل فرما لے گا۔ ای عن قتالکم بالایمان فان اللہ یغفرلہم جمیع ما تقدم ویرحم کلا منھم بالعفو عما اجترموا (قرطبی ص 353 ج 2) وَقٰتِلُوْھُمْالخ یہاں بھی ہُمْ کی ضمیر ان مشرکینِ عرب کی طرف راجع ہے اور فتنۃ سے مراد شرک ہے یعنی مشرکین عرب سے اس وقت تک جہاد جاری رکھو جب تک کہ سرزمین عرب سے شرک کا بالکل خاتمہ ہوجائے۔ اور ہر طرف صرف اللہ ہی کی عبادت اور پکار ہونے لگے۔ ضمیر المفعول عائد علی من قاتلہ وھم کفار مکہ والفتنۃ ھنا الشرک وما تابعہ من اذی امسلمین امروا بقتالھم حتی لا یعبدوا غیر اللہ ولا یسن بھم سنۃ اھل الکتاب فی قبول الجزیۃ قالہ ابن عباس (بحر ص 67 ج 2) یعنی لا یکون شرک باللہ وحتی لا یعبدو دونہ احد (ابن جریر ص 109 ج 2)
Ayah 2:193ف 367: اگر وہ کفر وشرک سے باز آجائیں اور تم سے لڑائی بند کردیں اور دین اسلام اور توحید کو قبول کرلیں تو پھر ان پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ البتہ ان میں سے جو ظالم ہوں یعنی کفر وشرک پر قائم ہوں اور تم سے برسر پیکار ہوں ان سے بیشک لڑو۔ اور انہیں قتل کرو۔ فان انتھوا عن قتالکم ودخلوا فی ملتکم واقروا بما الز مکم اللہ من فرائضہ وترکوا ماھم علیہ من عبادۃ الاوثان (ابن جریر ص 109 ج 2) اور عدوان سے یہاں جنگ اور سزائے قتل مراد ہے۔ والمراد بالعدوان ھھنا المعاقبۃ والمقاتلۃ (ابن کثیر ص 227 ج 1) (ابن کثیر ص 227 ج 1)
Ayah 2:194368 سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے یعنی محرم، رجب، ذیقعدہ اور ذی الحجہ اشہر الحرم کہلاتے تھے اور ان میں جنگ و قتال جائز نہیں تھا۔ ذیقعدہ کے مہینے میں حضرت رسول خدا ﷺ صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ بقصد عمرہ مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو مقام حدیبیہ میں روک دیا اور مسلمانوں پر تیر اندازی اور سنگ باری کے ذریعہ اس عزت والے مہینہ میں جنگ کی ابتداء کی۔ اس وقت دونوں فریقوں میں یہ معاہدہ ہوا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کریں۔ جب اگلے سال مسلمان عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے دل میں تردد پیدا ہوا کہ اگر کفار نے پہل کی اور لڑائی شروع کردی تو پھر ہم کیا کریں اگر جوابی کاروائی نہ کریں تو یہ بھی مناسب نہیں گ اگر لڑیں تو عزت والے مہینے کی بےحرمتی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جوابی کاروائی میں تم پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ عزت والا مہینہ تو عزت والے مہینے کے بدلے ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے اس مہینے کی حرمت کو قائم نہیں رکھا اور تم سے لڑنے لگے ہیں تو تم پر سے بھی اس کا احترام ساقط ہے۔ قاتلھم المشرکون عام الحدیبیۃ فی ذیقعدۃ قتالا خفیفا بالرمی بالسھام والحجارۃ فاتفق خروجھم لعمرۃ القضاء فیہ فکرھوا ان یقاتلوھم۔۔۔ فقیل ھذا الشھر بذلک وھت کہ بھتکہ فلا تبالوا بہ (روح ص 77 ج 2) وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ۔ اور عزت و حرمت والی چیزیں تو برابر اور عوض ومعاوضہ کی چیزیں ہیں۔ اگر وہ انکا احترام کریں تو تم بھی احترام کرو اور اگر وہ احترام نہ کریں تو تم پر بھی لازم نہیں۔369 یہ ماقبل پر متفرع ہے یعنی اگر وہ تم پر زیادتی کریں مثلاً شہر حرم میں تمہارے ساتھ لڑائی کی ابتدا کریں تو تم بھی جوابی کارروائی کرو مگر تمہاری جوابی کاروائی ان کے ظلم وعدوان سے بڑھ کر نہ ہو۔ عربی محاورات میں فعل کی جزا کو نفس فعل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شہر حرم میں تمہارے ساتھ لڑائی کی ابتدا کریں تو تم بھی جوابی کاروائی کرو مگر تمہاری جوابی کاروائی ان کے ظلم وعدوان سے بڑھ کر نہ ہو۔ عربی محاورات میں فعل کی جزا کو نفس فعل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی محاورے کے مطابق یہاں مسلمانوں کی جوابی کاروائی کو جو مشرکین کی زیادتی کی جزا تھی، اعتداء اور زیادتی سے تعبیر کیا ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ۔ کیسا زریں اصول ہے یہ اسلام کا کہ دشمن سے انتقام لینے میں بھی خوف خدا کو بیچ میں رکھ دیا کہ کہیں دشمن پر زیادتی نہ ہوجائے اور پھر ساتھ ہی مسلمانوں کو اطمینان دلادیا کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو ہمیشہ میری مدد تمہارے شامل حال رہے گی۔
Ayah 2:195370 جہاد کے حکم کے بعد اب یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ خرچ کے بغیر جہاد ناممکن ہے۔ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ سے بخل کر کے اور جہاد سے جی چرا کر اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ بترک الغزو الانفاق فیہ روح ص 77 ج 2) کیونکہ خرچ کے بغیر جہاد نہیں ہوسکتا اور جہاد کے بغیر نہ توحید قائم ہوسکتی ہے اور نہ مشرکین کا زور ٹوٹ سکتا ہے۔ وَاَحْسِنُوا۔ اور اپنے تمام اعمال کو اخلاص اور حسن نیت سے بجا لاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلصین کو بہت پسند کرتا ہے۔
Ayah 2:196371 ربط۔ جہاد اور انفاق کے بعد اب یہاں سے دوسرے امورمصلحہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ امور مصلحہ کا ذکر ساتھ ساتھ چل رہا ہے تاکہ باطن کی اصلح ہوتی رہے۔ اور خدا کے احکام کی تعمیل طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ جہاد کے بعد حج کا ذکر کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم میرے گھر میں حاضر ہو کر مجھ سے دعا مانگو اور مدد کی درخواست کرو میں تمہاری مدد کروں گا اور مشرکین پر تم کو غلبہ دوں گا۔ اور تمہیں قیامت تک قائم رکھوں گا۔ کیونکہ بیت اللہ کی حاضری لوگوں کے لیے قیام کا باعث ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ جَعَلَ اللہُ الْکَعْبةَ الْبَیْتَ الْحرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ (مائدہ ع 12) علامہ نسفی نے لکھا ہے کہ اگر ایک سال کوئی آدمی حج کو نہ جائے تو تمام جہان تباہ ہوجائے۔ قیل لو ترکوہ عاما لم ینظروا ولم یؤخروا (مدارک ص 235 ج 1) اور حج وعمرہ کے اتمام سے مراد یہ ہے کہ ان کو ان کے فرائض وواجبات کے ساتھ ادا کیا جائے اور ان میں سستی نہ کی جائے اور للہ کا مطلب یہ ہے کہ حج محض اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے حج سے تجارت یا نمائش مقصود نہ ہو۔ وادوھما تامین بشرائطھما وفرائضہما لوجہ اللہ تعالیٰ بلا تو ان ونقصان (مدارک ص 78 ج 1) اب آگے احکام کی جزوی تفصیلات کا ذکر ہے۔ 372 یہاں ما موصولہ ہے اور من الہدای اس کا بیان ہے اور اس کے بعد علیکم اسم فعل محذوف ہے اور یہ جملہ شرط کی جزاء ہے اس آیت میں احصار کا حکم بیان فرمایا احصار سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص احرام باندھ کر بغرض حج یا عمرہ بیت اللہ کی طر جا رہا ہو لیکن راستے میں کسی دشمن یا بیماری کی وجہ سے یا راستے کی کسی رکاوٹ کی بنا پر وہ بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے تو اب وہ حج تو کر نہیں سکتا۔ لیکن احرام سے بھی باہر آنا ہے۔ اس لیے یہاں ایسے عازم حج کو احرام کھولنے کا طریقہ بتایا ہے کہ وہ قربانی کا ایک جانور حرم میں بھیج دے تاکہ وقت مقررہ پر اسے اس کی طرف سے ذبح کردیا جائے۔ ھدی اس جانور کو کہتے ہیں جو بیت اللہ میں بطور ہدایہ بھیجا جائے۔ اور اس میں وہ تمام جانور جائز ہیں جو قربانی میں جائز ہیں۔373 محل سے حدود حرم مراد ہیں کیونکہ حاجیوں کے لیے قربانی کی وہی جگہ ہے۔ ای مکانہ الذی یجب نحرہ فیہ وھو الحرم (مدارک ص 78 ج 1) سر منڈانا چونکہ احرام سے باہر آنے کی علامت ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ جب تک تمہیں یقین نہ ہوجائے کہ تمہاری ہدی حدود حرم تک پہنچ گئی ہے اس وقت تک تم سر منڈا کر احرام سے باہر مت نکلو۔ 374 یہ ولا تحلقوا پر متفرع ہے یہاں بیمار کا حکم بیان فرمایا کہ اگر کوئی عازم حج بیمار ہوجائے اور ایسی بیماری لاحق ہو جس کی وجہ سے قبل از وقت سر منڈانے کی ضرور پیش آجائے یا اس کے سر میں پھوڑے پھنسیاں نکل آئیں جن کی وجہ سے سر منڈانا پڑے۔376 تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قبل از وقت سر منڈا لے لیکن اسے اس کا شرعی فدیہ ادا کرنا پڑے گا۔ اور فدیہ تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے یا تو تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو صدقہ فطر کے اندازے کے مطابق غلہ دے اور یا پھر ایک جانور کی قربانی کرے خواہ بکری ہو خواہ گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ۔ 376 اب یہاں سے حالت امن کے احکام کا بیان شروع ہوتا ہے۔ امن سے مراد یہ ہے کہ احصار کی حالت نہ ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمتع کا حکم بیان فرمایا ہے۔ حج اور عمرہ کرنے کے تین طریقے ہیں (1) افراد یعنی پہلے حج کا احرام باندھ کر حج کیا جائے اور اس کا احرام شرعی طریقہ سے ختم کر کے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے۔ والافراد وھو ان یحرم بالحج وبعد الفراغ منہ بالعمرۃ (روح ص 82 ج 2) یا برعکس کیا جائے یعنی پہلے عمرہ کیا جائے اور اس کا احرام ختم کر کے پھر حج کا احرام باندھ کر حج بجا لائے لیکن یہ ضروری نہیں کہ دونوں ایک ساتھ ہوں۔ (2) قران۔ قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ احرام باندھتے وقت دونوں کی نیت کرے اور دعا میں بھی دونوں کا نام لے اور پھر حج کے احکام ادا کرے اور ان کے ساتھ ہی عمرہ کے احکام بجا لائے۔ القران ھو ان یحرم بھما معاً ویاتی بمناسک الحج فیدخل فیھا مناسک العمرۃ (روح ) ۔ (3) تمتع اور وہ یہ ہے کہ پہلے عمرہ کا احرام باندھے اور اس کے احکام بجا لائے اور پھر مکہ مکرمہ سے حج کا احرام باندھ لے اور اس کے مناسک ادا کرے اور پھر حج کا احرام کھول دے وھو ان یحرم بالعمرۃ فی اشھر الحج ویاتی بمناسکھا ثم یحرم بالحج من جوف مکة ویاتی باعمالہ (روح) پھر تمتع کی دو قسمیں ہیں ایک مع سوق الہدی یعنی قربانی کا جانور ساتھ ہو۔ دوم بغیر سوق الہدی یعنی قربانی کا جانور ساتھ نہ ہو۔ پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ عمرہ بجا لانے کے بعد احرام نہ کھولے بلکہ مناسک حج ادا کرنے کے بعد دونوں احرام اکٹھے کھولے اور دوسری صورت میں عمرہ ادا کرنے کے بعد سر کے بال ترشوا کر عمرہ کے احکام سے حلال ہوجائے اور پھر مکہ میں مقیم رہے اور یوم ترویہ یا اس سے پہلے مکہ مکرمہ ہی سے حج کا احرام باندھے اور حج ادا کر کے اس کا احرام کھول دے۔ اس آیت میں تمتع کا حکم بیان فرمایا ہے کہ جو شخص تمتع کرے اس پر ایک جانور کی قربانی لازم ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں تمتع کو لغوی معنوں پر محمول کر کے قران کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے مگر آیت کے الفاظ اس کے متحمل نہیں کیونکہ آیت میں الی انتہاء کے لیے ہے اور اس میں عمرہ سے حج کی طرف منتقل ہونے کا ذکر ہے اور یہ چیز صرف تمتع پر صادق آسکتی ہے نہ کہ قران پر کیونکہ قران میں حج اور عمرہ دونوں اکٹھے ادا کیے جاتے ہیں اس لیے یہاں صرف تمتع کا ذکر ہے اور قران کا ذکر واتموا الحج والعمرۃ للہ میں آچکا ہے کیونکہ واؤ مطلق جمع کیلئے ہے اس لیے آیت افراد اور قران دونوں کو شامل ہے۔ قالہ الشیخ الانور (رح) تعالی۔377 جو شخص تمتع کرے مگر ہدی دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ تو اس کے لیے یہاں ایک رخصت کی صورت بیان فرما دی کہ وہ اس کی جگہ دس روزے رکھ لے ان میں سے تین روزے تو ایام حج ہی میں رکھے اور سات حج سے فارغ ہونے کے بعد، واپس لوٹنے سے گھر واپس آنا مراد نہیں بلکہ اعمال حج سے فراغت مراد ہے۔ وقال ابو حنیفۃ ؓ المراد من الرجوع الفراغ من اعمال الحج والاخذ فی الرجوع (کبیر ص 241 ج 2) لہذا اگر کوئی حج سے فارغ ہو کر مکہ ہی میں سات روزے بھی رکھ لے تو جائز ہے۔ 378 مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ محض تاکید ہے یا کاملة سے فضیلت اور ثواب میں کامل مراد ہے اور یہ اس شبہ کے ازالہ کے لیے فرمایا کہ اگر کسی ٓٓٓادمی کے دل یہ خیال پیدا ہو کہ قربانی کی جگہ دس روزے کس طرح کام دے سکیں گے۔ یہ تو اس کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔ تو فرمایا کم نہیں ہیں بلکہ یہ دس روزے فضیلت اور ثواب کے لحاظ سے ہدی کے برابر ہوں گے۔ اور ہدی کا پورا پورا بدل ہوں گے۔ 379 ذٰلکَ کا اشارہ تمتع کی طرف ہے جو فمن تمتع کے ضمن میں مذکور ہے۔ ای التمتع بالعمرۃ الی الحج لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام (ابن جریر ص 144 ج 2) مطلب یہ ہے کہ تمتع اور اسی طرح قران صرف ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو مکہ مکرمہ نہ رہتے ہوں۔ یعنی باہر سے آنے والون کے لیے مکہ یعنی حدود حرم میں رہنے والوں کے لیے جائز نہیں ہیں۔ امام شافعی لک کا اشارہ ہدی اور بدل ہدی کی طرف راجع کرتے اور ہدی یا بدل ہدی کو آفاقی متمتع پر ایک جنایت کی وجہ سے واجب قرار دیتے ہیں۔ آفاقی پر اپنے میقات سے حج کا احرام باندھنا واجب تھا لیکن تمتع کی صورت میں اس نے میقات سے عمرہ کا احرام باندھا اور بیت اللہ میں آخری عمرہ ادا کیا۔ اب چونکہ حج کا احرام اس نے حرم سے باندھا ہے اور اس طرح ترک واجب کا ارتکاب کیا ہے لہذا اس جنایت کی وجہ اس پر ہدی واجب ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس صورت میں ذلک علی من ہونا چاہئے تھا نہ کہ لمن کیونکہ ہدی واجب ہے اور واجب کا صلہ علی آتا ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔ اللہ کے اوامر ونواہی میں اس سے ڈرتے رہو اور یہ بات ذہن میں رکھو کہ نافرمانوں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے تاکہ تم اس کی نافرمانی سے بچے رہو۔
Ayah 2:197ف 380 الحج سے پہلے وقت مضاف محذوف ہے یعنی حج کا وقت مشہور معروف مہینے ہیں اور وہ شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ ۔ فرض کے معنے یہاں مقرر اور لازم کرلینے کے ہیں اور حج لازم کرلینے سے مراد یہ ہے کہ حج کا احرام باندھ لے ای الزم نفسہ فیھن الحج بالاحرام (روح ص 85 ج 2) رفث سے فحش کلامی، جماع اور اس کے محرکات مثلاً بوسہ اور لمس وغیرہ مراد ہیں۔ ای لاجماع او لا فحش فی الکلام (روح ص 86 ج 2) الجماع ودواعیہ محظورۃ علی المحرم (ابوبکر جصاص) اور فسوق سے ہر قسم کے غیر شرعی افعال کا ارتکاب مراد ہے۔ ولا خروج عن حدود الشرع بارتکاب المحظورات (روح ص 86 ج 2) اور جدال سے ساتھیوں اور نوکروں سے جھگڑا اور سخت کلامی مراد ہے۔ ولا خصام مع الخدم والرفقۃ (روح ص 86 ج 2) اور فِیْ الْحَجِّ سے ایام حج مراد ہیں۔ یعنی جو شخص احرام باندھ کر حج پر روانہ ہوجائے، ایام حج میں اسے ان تمام چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ۔ اس لیے تمہاری کوئی نیکی ضائع اور رائگاں نہیں جائے گی بلکہ تمہارے درجات اخلاص کے مطابق تمہیں ہر نیکی کا صلہ ملے گا۔ 381 کچھ لوگ زاد سفر کے بغیر ہی سفر حج پر نکل پڑتے اور اپنے آپ کو متوکل کہتے لیکن راستہ میں گداگری کرتے اور لوگوں پر بوجھ بن جاتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ گھر سے سفر خرچ لے کر چلو۔ وکان اھل الین لا یتزودون ویقولون نحن متوکلون فیکونون کلا علی الناس فنزل فیھم (مدارک ص 79 ج 1) فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۔ یہاں گداگری اور سوال کرنے سے بچنا مراد ہے۔ یعنی سب سے اچھا زاد راہ اپنی عزت نفس اور خود داری کی حفاظت کی خاطر گداگری اور سوال سے بچنا ہے۔ وتزودوا ما تبلغون بہ فان خیر الزاد ما تکفون بہ وجوھکم عن السوال (کبیر ص 2531 ج 2) اور یہ وہی زاد راہ ہے جو انسان اپنے گھر سے لے کر چلے نہ کہ وہ نام نہاد توکل وَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ۔ تمام احکام میں میرے لیے تقویٰ اختیار کرو۔ اور میرے سوا کسی سے مت ڈرو۔ کیونکہ عقل کامل کا یہی تقاضا ہے۔ ای اخلصوا لی التقویٰ فان مقتضی العقل الخالص عن الشوائب ذلک (روح ص 86 ج 2)
Ayah 2:198382 یہاں فضل سے مراد تجارت اور تلاش معاش ہے وھو الربح والنفع بالتجارۃ والکراء (مدارک ص 80 ج 1)383 مکہ مکرمہ سے تقریباً بارہ میل کے فاصلہ پر ایک بہت بڑا میدان ہے اس کا نام عرفات ہے 9 ذی الحجہ کو پچھلے پہر تمام حاجی یہاں پہنچ جاتے ہیں اور آخر وقت عصر تک تکبیر وتہلیل اور ذکر اللہ میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کا نام اصطلاح شرع میں وقوف عرفہ ہے اور یہ حج کا بہت بڑا رکن ہے۔ غروب آفتاب کے بعد یہاں سے مزدلفہ کے لیے روانگی ہوتی ہے اور مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب کی نماز عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے کو افاضہ کہتی ہیں اور مشعر الحرام اصل میں تو وہ میدان ہے جو مزدلفہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان ہے مگر ذکر اللہ کے حق میں سارا میدان مزدلفہ مشعر حرام ہے اور مشعر حرام کی تخصیص شرف وفضیلت کے لیے ہے۔ اور یہ میدان مکہ مکرمہ سے کوئی چھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ویسے تو تمام اعمال حج میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم ہے لیکن مزدلفہ کی رات میں خصوصیت سے حکم دے کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ رات اپنی قومی بڑائی اور خاندانی برتری کے اظہار کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی عیش وطرب اور جشن میلہ کے لیے ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا کہ مختلف قبیلوں کے شعراء اور خطباء اپنی قومی برتری کے اظہار کے لیے قصیدے اور خطبے پڑھا کرتے تھے۔ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۔ پھر اللہ کی یاد اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق کرو۔ اپنی مرضی اور خواہش سے نئے نئے طریقے ایجاد نہ کرو۔ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ۔ یعنی خدا کی ہدایت اور رہنمائی سے پہلے تم بالکل دین و ایمان سے غافل اور بیخبر تھے۔ والمراد من الضلال الجھل بالایمان ومراسم الطاعات (روح ص 89 ج 2) تو اللہ نے اپنا پیغمبر بھیج کر تمہیں مناسک حج اور دیگر احکام سے آگاہ فرمایا۔
Ayah 2:199384 قریش نے زمانہ جاہلیت سے اپنے لیے ایک امتیاز قائم کیا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے برتر سمجھتے تھے اور حج کے موقع پر مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے جبکہ دوسرے تمام لوگ عرفات تک جاتے۔ اور وہاں وقوف کر کے واپس آتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر یہ بات بھی یاد رکھو کہ واپس وہیں سے لوٹا کرو۔ جہاں سے عام لوگ واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے اخرج البخاری عن عائشۃ رضیا للہ عنہا قالت کانت قریش ومن دان دینھا یقفوان بالمزدلفۃ وکانوا یسمون الحمس وکانت سائر العرب یقفون بعرفات (روح ص 89 ج 2) اس آیت میں ثُمَّ تعقیب کے لیے ہے یعنی عرفات تک وہاں تک جاؤ اور وہیں سے تمہاری واپسی ہونی چاہئے۔385 اگر مناسک حج کی ادائیگی میں یا موقف کے سلسلے میں کوئی غلطی ہوجائے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ استغفار کرو کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں سے رحمت اور مغفرت سے پیش آتا ہے۔
Ayah 2:200386 زمانہ جاہلیت میں مشرکین عرب حج سے فارغ ہو کر مل کر بیٹھتے اور اپنے آباء و اجداد کی تعریفیں کرتے اور اپنی خاندانی بڑائی بیان کرتے اور اپنے بڑوں کے کارناموں پر فخر کرتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح پہلے تم لوگ اپنے آباء کی بڑائی بیان کرتے تھے اس طرح اب اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کیا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تو تم اپنے باپ دادا سے بھی بڑھ کر کیا کرو۔ اب آگے حاجیوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔387 پہلی قسم کے حاجی تو وہ ہیں کہ جس طرح ان کی زندگی کی ساری تگ ودو کا مطلب صرف حصول دنیا ہوتا ہے اسی طرح حج بھی وہ دنیوی اغراض ہی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ مشرکین عرب۔ یہ لوگ حج اس لیے کرتے تھے کہ حج کے موقع پر اور حج سے فارغ ہو کر اپنے آبائی مفاخر بیان کریں اور اپنی عظمت اور بڑائی کا اظہار کریں۔ نیز ان مقامات مقدسہ میں اللہ تعالیٰ سے دولت، مال مویشی اور دشمنوں پر فتح مندی کے لیے دعا کریں۔ چناچہ یہ لوگ وقوف عرفہ اور وقوف مزدلفہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے اونٹ گائے اور بھیڑ بکری کے لیے دعائیں کرتے مگر اللہ سے بخشش اور انعام اخروی کی دعا کبھی نہ کرتے۔ عن ابن عباس ؓ ان المشرکین کانوا یقولون اذا وقفوا اللھم ارزقنا ابلا وبقراً وغنیماً وعبیداً واماءً او ما کانوا یطلبون التوبۃ والمغفرۃ (کبیر ص 229 ج 2) کانوا یسئلون الابل والغنم والظفر بالعدو و لا یطلبون الاخرۃ (قرطبی ص 433 ج 2) تو ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بس جو کچھ ہم نے دینا تھا، دنیا میں دے دیا۔ آخرت میں ان کے لیے کچھ نہیں البتہ جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayahs 2:201–202388 یہ حاجیوں کی دوسری قسم ہے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے دنیوی مقاصد کے لیے دعا کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ آخرت میں کامیابی اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ اور حسنۃ سے دونوں جگہ دنیا وآخرت کی تمام نعمتیں مراد ہیں۔ والذی علیہ اکثر اھل العلم ان المراد بالحسنتین نعم الدنیا والاخرۃ وھذا وھ الصحیح (قرطبی ص 432 ج 2) یہ گروہ مومنین کا ہے جو حج کے موقع پر اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی نمام نعمتیں مانگتے ہیں ا۔ ان کا مطمع نظر صرف دنیا ہی نہیں ہوتی اور یہی مومن کی شان ہونی چاہئے بلکہ مومن کا اصل مقصد تو طلب آخرت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دنیوی منافع حاصل کرنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ دنیا طلب آخرت کی راہ میں حائل نہ ہوجاوے۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا۔ یہ دوسری قسم کے حاجیوں کی جزاء ہے یعنی انہیں ان کی نیکی اور دعاء کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولئک کا اشارہ دونوں فریقوں کی طرف ہو کہ فریقین میں سے ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا ملے گی (مدارک ص 81 ج 1، بحر ص 106 ج 3) وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ۔ وہ لوگوں کی کثرت کے باوجود تھوڑے سے وقت میں سب کا حساب لے لیگا۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ جلدی ہی حساب لینے والا ہے۔ کیونکہ قیامت قریب ہے اس لیے نیکی کی طرف توجہ کرو۔
Ayah 2:203389 ایاما معدودات سے مراد تین ایام تشریق ہیں یعنی 10، 11، 12 ذوالحجہ 9 ذی الحجہ کی رات مزدلفہ میں گزار کر علی الصباح حجاج کرام منی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ مقام مکہ مکرمہ سے کوئی چار میل کے فاصلے پر شام سے ذرا مغرب کی طرف ہٹ کر واقع ہے۔ اس جگہ 10 سے لے کر 12 کو غروب آفتاب تک قربانیاں کی جاتی ہیں اور جمرات کی رمی کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہ ایام، تکبیر وتہلیل اور میری حمدوثنا اور دعاء و پکار ہی میں گذارو۔390 منی میں قیام کے دوران تین جگہوں پر جنہیں جمرات کہتے ہیں۔ کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔ پہلے دن یعنی 10 کو طلوع صبح کے وقت اور سب سے آخر میں جمرہ عقبہ پر۔ ہر جمرہ پر سات کنکریاں پھینکے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منی میں قیام کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دسویں تاریخ کے بعد دو دن ٹھہرے دونوں صورتوں کا اختیار دیا ہے کہ جس پر چاہے عمل کرے کوئی گناہ نہیں۔ مگر یہ گناہ وثواب تو اس کے لیے ہے جسے خدا کا خوف ہو اور گناہ وثواب کا احساس ہو جس کے دل میں خدا کا خوف نہیں اسے گناہ وثواب کی کیا پرواہ ہے۔391 اپنے تمام اعمال میں خدا سے ڈرتے رہو اور اس بات کا یقین رکھو کہ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد تم خدا کے یہاں اکٹھے کیے جاؤ گے اور تمہارے تمام اعمال کا حساب ہوگا۔
Ayah 2:204392 ۔ ربط :۔ یہاں تک تو حج کے ضروری احکام کا بیان تھا۔ حکم جہاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میرے گھر کی اس طریقے سے حاضری دو اور اس طریقہ سے مجھ سے دعا مانگو تو میں تمہیں فتح دوں گا۔ اب آگے پھر جہاد کا حکم آرہا ہے۔ چناچہ اگلی آیت سے جہاد کی دوسری بارترغیب وتحضیض شروع ہورہی ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ سے لے کرفَاِنَّ اللهَ بِهٖ عَلِیْم تک ترغیب الی الجہاد ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کئی طریقوں سے جہاد کی ترغیب دی ہے۔ (1) شروفساد برپا کرنے والے اور فتنہ انگیز عناصر جنہوں نے زمین کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے ایسے لوگوں کا خاتمہ کیوں نہیں کردیتے ہو۔ ایسے شریر لوگوں سے جہاد نہ کرنا بھی اتباع شیطان میں داخل ہے۔ (2) جہاد کے ذریعے خدا کی رضا حاصل کرو۔ (2) اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اس کے تمام احکام مانو ان میں سے ایک جہاد بھی ہے (4) اگر خدا کے احکام سے سرتابی کروگے تو سخت سزا ملے گی بنی اسرائیل کا حال دیکھ لو خدا کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کا کیا حشر ہوا۔ (5) مشرکین اور کفار دولت دنیا کے نشہ میں بدمست ہو کر اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لہذا ان سے جہاد کرو۔ (6) اللہ کے فطری دین توحید میں لوگوں نے اختلاف پیدا کر رکھا ہے ان کی بیخ کنی کرو۔ (7) جنت میں جانا آسان کام نہیں۔ اس کی خاطر تمہیں مال وجان کی قربانی دینی پڑے گی (8) اللہ کے دین کی خاطر جہاد میں جو کچھ بھی خرچ کروگے وہ ضائع نہیں جائے گا۔ یہ پہلی ترغیب ہے۔ یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو محض دنیوی اغراض ومقاصد کے پیش نظر آپ سے ایسی میٹھی اور فصیح وبلیغ باتیں کرتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں کو بہت وقعت دینے لگتے ہیں اور ان کو پسند کرتے ہیں۔ المعنی ومنھم من یروقک ویعظم فی نفسک ما یقولہ (روح ص 94 ج 2، مدارک ص 81 صج 1) بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اخنس بن شریق ہے جو بہت بڑا منافق تھا مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت ہر اس ادمی کے حق میں ہے جو ان آیات میں مذکورہ اوصاف کا حامل ہو۔ القول الثانی وھو اختیار اکثر المحققین والمفسرین ان ھذہ الایۃ عامۃ فی حق کل من کان موصوفاً بھذہ الصفات المذکورۃ (کبیر ص 277 ج 2) وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ۔ اللہ کو گواہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قسمیں کھاتے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ وہ " خدا شاہد ہے، خدا گواہ ہے " وغیرہ الفاظ کہتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مافی الضمیر کی سچائی پر خدا کو گواہ بناتے ہیں۔ اور قسمیں کھا کھا کر آپ کو اپنے اخلاص کا یقین دلاتے ہیں حالانکہ وہ آپ کے شدید ترین مخالف ہوتے ہیں۔
Ayah 2:205393 جب تک آپ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں اس وقت تک تو چکنی چپڑی باتیں کرتے رہتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی مخصف ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں تو شر و فساد برپا کرنے کی سعی اور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شروفساد سے یا تو کھیتوں اور مویشیوں کی تباہی مراد ہے اور یا مراد یہ ہے کہ آپ کے پاس سے اٹھ کر مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی بابت شبہات پیدا کرتا ہے اور کفر وشرک کی تائید میں عجیب و غریب حیلے نکالتا ہے۔ انہ کان بعد الانصراف من حضرۃ النبی (علیہ السلام) یشتغل بادخال الشبہ فی قلوب المسلمین وباستخراج الحیل فی تقویۃ الکفر (کبیر ص 280 ج 2) وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۔ جیسا کہ اخنس نے کیا تھا کہحضور ﷺ کے پاس بیٹھ کر اسلام سے محبت کا اظہار کرتا رہا جب آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکلا تو مسلمانوں کے ایک کھیت کے پاس سے گذرا تو کھیت کو جلا دیا اور ان کے مویشی قتل کردئیے۔ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ۔ اللہ تعالیٰ شروفساد کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے فساد سے اجتناب کرو ورنہ اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا۔
Ayah 2:206394 اصل میں ذِلَّةٌ کی ضد ہے مگر یہاں اس سے نخوت اور غرور مراد ہے۔ العزۃ فی الاصل خلاف الذل وارید بھا الانفةوالحمیةمجازاً (روح ص 96 ج 2) اور پھر اس نفاق اور فطری خباثت کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی درجہ کا ضدی اور متکبر بھی ہے۔ یہاں تک کہ جب کوئی خیر خواہ ازراہِ نصیحت اسے خدا سے ڈرنے اور شر و فساد سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے تو نخوت اور غرور اسے اور گناہ پر آمادہ کردیتا ہے۔ اور وہ پہلے سے بھی بڑھ کر شروفساد میں حصہ لیتا ہے۔ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ ۭ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ۔ کسی ناصح مشفق کی نصیحت اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اسے جہنم کی آگ سیدھا کرے گی جو بہت ہی بری جگہ ہے۔
Ayah 2:207ٖ 395 یہ دوسری ترغیب ہے۔ یشری شراء سے ہے جس کے معنی یہاں بیچنے کے ہیں اور اس سے جہاد میں جان دینا مراد ہے۔ ابتغاء یشری کا مفعول لہ ہے۔ ای یبیعھا ببذلہا فی الجھاد (روح ص 96 ج 2) یعنی منافقین کے مقابلہ میں کچھ ایسے مخلص اور جان نثار لوگ بھی ہیں جو محض اللہ کی رضا کے لیے جہاد میں اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں۔ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَاد۔ عباد سے مرادمؤمنین ہیں۔ مؤمنین پر اللہ تعالیٰ خاص طور پر مہربان ہے کہ انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے اپنی راہ میں پیاری جانیں دینے کی راہ دکھائی اور اپنی رضا مندی کے حصول کے طریقے انہیں بتائے۔
Ayah 2:208396 یہ جہاد کی تیسری ترغیب ہے۔ کَافَّةً ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے اور سلم کے معنی استسلام اور اطاعت کلی کے ہیں۔ یعنی تم سارے کے سارے مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ اور کوئی اس اطاعت سے باہر نہ رہے۔ ای استسلموا اللہ واطیعوہ۔ کافة لا یخرج احد منکم یدہ عن طاعتہ (مدارک ص 82 ج 1) یا اس کے معنی امن اور صلح وآشتی کے ہیں اور اس سے مراد دین اسلام ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۔ احکام کی جگہ جاہلانہ رسوم کی پابندی مت کرو۔ اور نہ ہی ایسا کرو کہ اسلام کے بعض احکام کو مانو اور بعض احکام کو نہ مانو۔ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے وہ ہمیشہ تمہیں گمراہ کرنے کے متعلق ہی سوچتا رہتا ہے اور تمہارے دلوں میں نئے نئے خیالات اور نئی نئی جدتیں پیدا کرتا ہے تاکہ تمہارے عقائد و اعمال کو خراب کر ڈالے۔ بعض نومسلم جنہوں نے یہودیت ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا انہوں نے بعض سابقہ رسموں کو ترک نہ کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا
Ayah 2:209397 یہ زجر اور تخویف ہے اور چوتھی ترغیب ہے۔ یعنی جب دلائل واضحہ تمہارے پاس آچکے ہیں اور دین اسلام کی صداقت وحقانیت تم پر واضح ہوچکی ہے تو اب بھی اگر تم پھسل گئے اور ڈگمگا گئے یعنی اسلام کے بعض احکام پر عمل نہ کیا مثلاً جہاد کرنا چھوڑ دیا تو پھر سن لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست اور صاحب حکمت ہے اسے سزا دینے سے کوئی نہیں روک سکتا اور بتقاضائے حکمت جو سزا دینا چاہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
Ayah 2:210398 یہ تخویف دنیوی ہے۔ وہ شریر لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں اور جن کی شرارتیں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب وہ قیامت سے پہلے شروفساد سے باز نہیں آئیں گے۔ ان سے کیوں جہاد نہیں کرتے ہو۔ یُنْظَرُوْنَ کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے (روح ص 98 ج 2) یہودی اللہ تعالیٰ کے جسم کے قائل تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جب ٹھاٹھ اور شان و شوکت سے آتا ہے تو بادلوں پر سواری کر کے آتا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تجلی ڈالی تھی وہ بادلوں ہی سے ڈالی تھی۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں کے خیال کے مطابق فرمایا کہ یہ یہودی جو اسلام کو قبول نہیں کر رہے یہ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں پر سوار ہو کر آئیں اور قیامت قائم ہوجائے تو پھر انہیں اسلام کی صداقت کا یقین ہوجائے گا۔ اور وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ وذلک لان الیھود کانوا علی مذھب التشبیہ وکانوا یجوزون علی اللہ لمجئ ولذھاب وکانوا یقولون انہ تعالیٰ تجلی لموسی (علیہ السلام) علی الطور فی ظلل من الغمام (کبیر ص 293 ج 2) اور تورات میں ہے۔ " دیکھو خداوند ایک تیز رو بادل پر سوار ہو کر مصر میں آتا ہے اور مصر کے بت اس کے حضور لرزاں ہوں گے "۔ (کتاب یسعیاہ باب 19 فقر 1)
تنبیہ :۔ اہل سنت کے نزیک اللہ تعالیٰ نہ جسم ہے اور نہ کسی جسم کے مشابہ ہے۔ اور آنا جانا جسم کی صفات میں سے ہے اس لیے اللہ تعالیٰ آمدورفت سے منزہ اور پاک ہے۔ اس لیے بہت سے مفسرین نے اس آیت کو متشابہات میں قرار دیا ہے اور اس کی تفسیر سے سکوت اختیار کیا ہے۔ اور بعض نے یہاں مضاف محذوف مانا ہے یعنی امر اللہ یا عذاب اللہ۔ جو توجیہہ ہم نے اوپر لکھی ہے اسے امام رازی (رح) نے ترجیح دی ہے۔ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۔ اور بندوں کے حساب و کتاب کا معاملہ طے ہوجائے اور نیک وبد اپنے اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔ ای اتم امرالعباد وحسابھم فاثیب الطائع وعوقب العاصی (روح ص 99 ج 2) وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 2:211399 یہ نافرمانی کے انجام اور تخویف دنیوی کا ایک نمونہ بیان فرمایا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف حق واضح ہوجانے کے بعد جو لوگ نہیں مانتے ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے انہیں حق سمجھانے کے لیے کس قدر واضح نشانیاں دیں۔ تورات نازل کی پیغمبروں کے معجزے ان کو دکھلائے مگر انہوں نے جد وعناد سے ان کا انکار کیا پھر ان کو کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا کیا گیا۔ 400 نعمت سے مراد اللہ تعالیٰ کی آیتیں اور وہ دلائل ہیں جو رشد وہدایت کا سبب تھے کیونکہ ہدایت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور تبدیل نعمت سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ان اسباب ہدایت سے کام نہ لیا اور جو ہدایت ان سے حاصل کرنی چاہئے تھی اسے حاصل نہ کیا اور انہی اسباب کے ذریعے کفر اور گمراہی خریدی مثلاً تورات میں تحریف کر کے، اس کے احکام کو ٹھکرا کر اور معجزات کا انکار کر کے۔ المراد آیاتہ ودلائلہ وھی من اجل اقسام نعم اللہ لانھا اسباب الھدی والنجاۃ من الضلالۃ۔ المراد بتبدیلھا ان اللہ تعالیٰ اظہرھا لتکون اسباب ھدٰھم فجعلوھا اسباب ضلالتھم (کبیر ص 297 ج 2) یعنی جو شخص رشد وہدایت کے اسباب وذرائع کو غلط استعمال کر کے ان سے گمراہی اور فسق وفجور کا کام لے اسے خدا کی گرفت سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی گرفت سخت اور اس کا عذاب عبرت ناک ہے۔ یہ بھی ترک جہاد پر تخوف ہے۔ اس واقعہ سے مسلمانوں کی تنبیہ مقصود ہے کہ دیکھو اللہ کی نافرمانی کا یہ انجام ہے۔
Ayah 2:212401 یہ مقابل کی علت ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کی ہدایت سے منہ موڑا، اس کے انبیاء کی تکذیب کی، اس کی آیات کو جھٹلایا اور اس کی توحید کا انکار کیا انہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا اور اس کا سبب کیا تھا ؟ فرمایا ان لوگوں کے دلوں میں دنیا کی دولت اور ظاہری شان و شوکت کی محبت بس چکی ہے۔ دین کے مقابلہ میں دنیوی وقار واقتدار، زندگی کی مادی آسائشیں اور ٹھاٹھ باٹھ انہیں بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو قبول کیا ہے جس سے انہیں تمام دنیوی مقاصد اور مادی خواہشات کے پورا ہوجانے کی قوی امید ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام قبول کر کے ان لوگوں نے کیا حاصل کیا ہے۔ ان کے پاس دولت ہے، نہ زمینیں، محلات ہیں، نہ باغات۔ کیونکہ ان کوتاہ نظروں اور کج فہموں نے ان چیزوں ہی کو زندگی کا ماحصل سمجھا ہوا ہے۔ 402 واؤ حالیہ ہے حالانکیہ غرباء جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے تمام احکام تعمیل کرتے ہیں قیامت کے دن ان کافروں سے بہت بلند درجات میں ہوں گے کیونکہ ایسے ضدی اور معاند کفار ومنافقین کا ٹھکانا جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوگا اور یہ خدا سے ڈرنے والے فقراء مؤمنین اعلیٰ علیین میں ہونگے۔ فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۔ ای فی الدرجۃ لانھم فی الجنۃ والکفار فی النار (قرطبی ص 29 ج 3) لان الفقراء فی علیین والکفار والمنافقین فی اسفل السافلین (معالم ص 168 ج 1)403 باقی رہا دنیا میں کثرت رزق اور مال وزر کی فراوانی کا سوال تو یہ چیز خدا کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے بےحساب دولت دیدے کسی مسلمان کو دیدے یا کسی کافر کو اس لیے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت جسے چاہتا ہے دنیا کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ دولت کی کمی بیشی سے حق و باطل کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اس آیت نے اس شبہ کا ازالہ بھی کردیا جس کے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ کہ اگر کافر حق پر نہیں ہیں تو اللہ نے انہیں اتنی دولت کیوں دی ہے تو فرمایا کہ یہ دولت تو چند روزہ ہے اور محض دنیا کی زینت اور رونق ہے آخرت میں تو صرف یہی ایمان اور تقویٰ کام آئے گا۔
Ayah 2:213404 یہاں وحدت سے دین اور عقیدے کی وحدت مراد ہے یعنی شروع میں لوگ ایک ہی دین پر تھے اور سارے کے سارے دین اسلام کے پابند اور توحید پرست تھے۔ متفقین علی عین الاسلام (مدارک ص 83 ج 1 متفقین علی التوحید مقرین لعبودیتہ (روح ص 100 ج 2) اس سے معلوم ہوا کہ آغاز فطرت میں انسان توحید پرست تھا۔ اور شرک کی بیماری بعد میں پھیلی ہے۔ پہلی کتابوں میں مسئلہ توحید موجود تھا بعض پلیدوں نے بسبب بغاوت توحید کی مخالفت کی اور پچھلے لوگ باغیوں کی عبارتیں دیکھ کر مسئلہ توحید کے بارے میں شبہات میں پڑگئے۔ لیکن ان کا شبہ خدا کے یہاں کتاب اللہ کی موجودگی میں قبول نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کرو۔ ٖ 405 یہ ماقبل پر مرتب ہے۔ لیکن اس میں بظاہر اشکال ہے کیونکہ سب لوگ دین توحید پر متفق تھے تو پھر پیغمبر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا حل یہ ہے کہ اس سے پہلے فَاخْتَلَفُوْا محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ شروع میں تو سب لوگ توحید پر متفق تھے لیکن بعد میں ان کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے تاکہ وہ انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری دیں اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ اور اس حذف پر آیت کا اگلاحصہ شاہد ہے کیوں کہ آگے ارشاد ہورہا ہے کہ ہم نے پیغمبروں کو کتابیں بھی دیں تاکہ وہ اللہ کی نازل کی ہوئی ہدایت کی روشنی میں لوگوں کے باہمی اختلاف فی التوحید کا فیصلہ کریں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی آمد سے پہلے ان میں توحید کے بارے میں اختلاف پیدا ہوچکا تھا جسے مٹانے کے لیے پیغمبر بھیجے گئے۔ نیز اسی مضمون کی ایک دوسری آیت میں فاختلفوا کی صراحت موجود ہے جیسا کہ سورة یونس رکوع 2 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَاکَانَ النَّاسُ اِلَّا اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخَتَلَفُوْا۔ اور چونکہ قرآن کے بعض حصے بعض حصوں کی تفسیر کرتے ہیں اس لیے یہاں بھی فاختلفوا محذوف ہے۔ وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ ۔ الکتاب میں لام جنس کیلئے ہے۔ بالحق، الکتاب سے حال ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر کے ساتھ ایک کتاب بھیجی جس میں دین حق کا بیان تھا۔ٖ 406 یہ بعثت انبیاء اور انزال کُتُب کی علت ہے اور یحکم کا فاعل اللہ ہے۔ یعنی جب لوگوں نے توحید پر اتفاق کے بعد اس میں اختلاف شروع کردیا، کچھ لوگ توحید پر قائم رہے اور کچھ لوگوں نے خدا کے سوا غیروں کی عبادت اور پکار شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت نامے دے کر پیغمبر بھیجے تاکہ اس طرح ان کے درمیان اختلاف کا فیصلہ کرے۔ فیصلہ سے یہاں دلائل وبراہین سے حق و باطل میں واضح اور کھلا ہوا امتیاز پیدا کرنا مراد ہے۔ اب جس کا جی چاہے توحید قبول کرے اور جس کا جی چاہے شرک کر کے اپنی عاقبت برباد کرلے۔ دونوں راستے دلائل سے سب کے سامنے واضح کردئیے گئے ہیں۔407 اُوْتُوہُ میں ضمیر مفعول الکتاب کی طرف راجع ہے۔ الذین اوتوا سے اس کتاب کے عالم اس کا درس و تدریس کرنے والے اور پیشوایانِ قوم مراد ہیں۔ الذین اوتوہ ارباب العلم بہ والدراسۃ لہ (بحر ص 137 ج 2) اور البینات سے مراد دلائل عقلیہ ہیں۔ یعنی کتاب کے ساتھ ساتھ ہم نے توحید پر عقلی دلائل بھی قائم کردئیے تھے۔ وھذہ البینات لا یمکن حملھا علی شیئ سوی الدلائل العقلیۃ التی نصبھا اللہ تعالیٰ (کبیر ص 307 ج 2) اور بغیا اختلف کا مفعول لہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق میں ہمیشہ اختلاف انہیں لوگوں نے ڈالا جو خدا کی کتاب کا علم رکھتے اور قوم کے پیشوا اور رہنما تھے۔ یعنی علماء سوٰ اور پیرانِ سوء اور اختلاف بھی انہوں نے کسی غلط فہمی کی بناء پر نہیں ڈالا بلکہ عقلی اور نقلی دلائل سے حق کو سمجھ بوجھ کر محض ضد اور عناد کی وجہ سے اختلاف کیا۔ ایک حصر تو یہاں مذکور ہے کہ اختلاف ڈالنے والے صرف پیشوایان سوء ہی ہیں اور کوئی نہیں اور دوسرا حصر کہ ان علماء سوء نے اختلاف ہمیشہ جان بوجھ کر ڈالا ہے یہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے نہیں ہے یہ سورة جاثیہ رکوع 2 میں مذکور ہے فَمَا اخْتَلَفُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَھُمْ ۔ اس آیت میں تین چیزیں بیان ہوئی (1) اختلاف کن لوگوں نے کیا (2) کب کیا اور (3) کیوں کیا۔ یعنی اختلاف ہمیشہ علماء سوء نے ڈالا اور جان بوجھ کر ڈالا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے ڈالا۔ 408 مِنَ الْحَقِّ ، مَاکا بیان ہے اور اذن سے مراد اللہ کی توفیق ہے۔ ای بتوفیقہ وتیسریہ (روح ص 102 ج 2) اور اٰمَنُوْاسے قصدوا الایمانمراد ہے۔ یعنی جو لوگ صدق دل سے ایمان کے طالب اور حق کے متلاشی تھے۔ علماء سوء تو ہمیشہ دین حق میں اختلاف ڈالنے میں مصروف رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ طالبان حق کو محض اپنی مہربانی اور توفیق سے توحید کی راہ دکھائی اور وہ فساد ماحول کے باوجود دین حق پر قائم رہے اور اگر الذین اوتوہ سے اہل کتاب مراد ہوں تو الذین امنوا سے امت محمدیہ مراد ہوگی۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ جن امور میں اہل کتاب کے درمیان اختلاف رہا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان میں صحیح راستہ دکھا دیا۔ مثلاً یہود ونصاریٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ یہودی تھے یا نصرانی تو اللہ نے ہمیں بتا دیا کہ وہ نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ حنیف ومسلم تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور عیسائیوں نے انہیں خدا بنالیا۔ مسلمانوں کو خدا نے بتایا کہ وہ خدا کے پیغمبر اور اس کے بندے تھے۔ وغیرہ ذلک۔409 وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اس کی مشیت ہمیشہ ان لوگوں کی ہدایت سے متعلق ہوتی ہے جو ضد اور عناد نہ کریں۔ اور صدق دل اور اخلاص عمل کے ساتھ راہ حق کے طالب ہوں۔ اس آیت میں بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ اختلافات میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی صحیح راہنمائی فرماتا ہے۔ نیز جہاد اس لیے بھی کرنا ضروری ہے کہ دین حق کے مٹانے والوں کا قلع قمع کیا جائے۔ یہاں ایک شبہ ہے کہ اختلاف تو اگلوں نے ڈالا تھا، پچھلوں کا کیا قصور ہے کہ ان سے جہاد کیا جائے۔ انہوں نے تو اگلوں کی تقلید کی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ یہ اگلوں کی اندھادھند پیروی میں معذور نہیں ہیں۔ کیونکہ عقلی اور نقلی دلائل ان کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے ان میں غور وفکر کر کے اور انصاف سے کام لے کر حق سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ چناچہ ارشاد ہے۔ وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ (شوری رکوع 2) ۔ جبکہ علماء ربانیین اللہ کی توحید دلائل سے مان چکے ہیں۔ اللہ کی طرف سے کتاب بھی نازل ہوچکی ہو تو اب باغیوں کے اقوال سے احتجاج مردود ہے۔