Ayah 2:255500 یہاں دعوی توحید کا دوبارہ اعادہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے یہاں اعادہ دعویٰ سے مقصد شفاعت قہری کی نفی ہے جیسا کہ یہود ونصاریٰ کا خیال تھا کہ ہمارے آباء و اجداد جو اللہ کے پیارے اور برگزیدہ پیغمبر تھے وہ ہمیں خدا کو ان کی سفارش ماننی پڑے گی تو مطلب یہ ہوا کہ جس طرح اللہ کے سوا کوئی کارساز اور اور فریاد رس نہیں۔ جس کو پکارا جائے یا جس کی تعظیم اور رضا جوئی کے لیے نذریں نیازیں دی جائیں اسی طرح اس کے سامنے کوئی شفیع غالب بھی نہیں کہ دنیا وآخرت میں مصیبت کے وقت اس کی پناہ ڈھونڈی جائے اور اسے سفارشی بنایا جائے۔ لہذا کسی کو شفیع غالب سمجھ کر نہ پکارا جائے۔ اس جگہ دعویٰ توحید کا اعادہ ماقبل کی دلیل بھی ہے۔ یعنی کافروں کے اصل ظالم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ شرک کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ دعوی توحید پر یہاں چھ عقلی دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی دلیل اَلْـحَيُّ وہ زندہ ہے ایسا زندہ کہ زندگی اس کی صفت ذاتی ہے وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہیگاجس پر کبھی عدم نہیں آیا اور نہ ہی کبھی اس پر موت آئیگی جیسا کہ سورة فرقان میں ہے۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَايَمُوْتُ ۔ دوسری دلیل اَلْقَیُّوْمُ ۔ وہ خود بھی قائم ودائم ہے۔ اور ہر چیز کو بھی اس نے سہارا دے رکھا اور قائم کر رکھا ہے وہ سب کا رازق اور نگہبان ہے۔ القائم الحافظ لکل شیئ والمعطی لہ ما بہ قوامہ۔ (روح ص 8 ج 3) تیسری دلیل لا تاخذہ سنۃ ولا نوم۔ وہ ہر وقت خبردار اور بیدار رہتا ہے اور اپنی مخلوق سے کبھی غافل نہیں ہوتا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ نوم انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں محدثین کرام (رح) کا مسلک یہ ہے کہ وہ ناقض وضو نہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رات اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے گھر میں بسر کی۔ آنحضرت ﷺ نماز عشا ادا کر کے حضرت میمونہ کے گھر تشریف لائے اور چار رکعت نماز ادا فرمائی اور پھر سو گئے۔ رات کے آخری حصہ میں آپ بیدار ہوئے اور وضو فرما کر نماز تہجد۔ وتر اور فجر کی سنتیں ادا کین۔ اس کے بعد پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ مؤذن نے آپ کو اطلاع دی اور آپ نے جا کر نماز فجر ادا کی۔ لیکن وضو نہیں فرمایا۔ اس موقع پر روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔ فصلی فی تلک اللیلۃ ثلث عشرۃ رکعۃ ثم نام رسول اللہ ﷺ حتی نفخ وکان اذا نام نفخ ثم اتاہ المؤذن فخرج فصلی ولم یتوضا اور بعض روایتوں میں ہے ثم نام حتی سمعت غطیطہ (صحیح مسلم ص 260 ج 1) اس یط رح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک روایت میں ہے قالت عائشۃ فقلت یا رسول اللہ اتنام قبل ان توتر فقال یا عائشۃ ان عینی تنامان ولا نیام قلبی (جامع ترمذی وغیرہ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میری صرف آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتا رہتا ہے۔ لیکن حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس کا یہ واقعہ کوئی راویوں نے بیان کیا ہے اور اس ایک ہی واقعہ کی تفصیلات بیان کرنے میں راویوں کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ حضرت شیخ نے اس واقعہ کے اکثر طرق نقل کر کے ان کے باہمی اختلافات کی نشاندہی فرما دی ہے۔ ملاحظہ ہو آپ کی نصنیف تحریرات حدیث از ص 64 تا ص 66 مثلاً ایک روایت میں ہے کہ نماز عشا کے بعدحضور ﷺ نے حضرت میمونہ کے گھر چار رکعت نماز ادا کی اور پھر آپ سو گئے۔ یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی ایک روایت میں سونے اور خراٹوں کا ذکر نماز تہجد اور صبح کی سنتوں کے درمیان کیا گیا ہے اور ایک دوسری روایت میں یہ دونوں چیزیں صبح کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان مذکور ہیں۔ اسی طرح بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس رات آپ تہجد کی نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سوئے اور پھر اٹھ کر وضو فرمایا۔ لیکن دوسری روایتوں میں ہر دو رکعتوں کے بعد نین اور وضو کا ذکر ندارد ہے۔ ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ بعض روایتوں میں فجر کی سنتوں کے بعد مطلق نیند اور خراٹوں کا ذکر ہے۔ بعض میں اضطجاع (یعنی پہلو کے بل لیٹنا) اور بعض میں احتباء (یعنی گھٹنوں کو کھڑے کر کے دونوں ہاتھوں کا دائرہ بنا کر ان کے سہارے بیٹھنا) کا ذکر ہے۔
یہ واقعہ چوں کہ ایک ہی دفعہ پیش آیا ہے اس لیے اس کی تفصیلات میں اس قدر متضاد اختلافات کا وجود ناممکن ہے۔ لیکن مختلف طرق میں غور وفکر سے تطبیق و ترجیح کی حسب ذیل صورت نظر آتی ہے۔ اصل روایت میں نیند اور خراٹوں کا ذکر صرف ان چار رکعتوں کے بعد ہے۔ جو نماز عشاء کے بعد آپ ﷺ نے حضرت میمونہ ؓ کے گھر ادا کی تھیں۔ لیکن بعض راویوں نے تہجد کے بعد یا فجر کی سنتوں کے بعد بھی اس کا ذکر کردیا۔ اسی طرح اصل واقعہ میں یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد حضور ﷺ نے احتباء فرمایا اور اسی حالت میں آپ کو خفیف سی نیند آگئی اور سانس نکلنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ جس کر اوی نے نفخ سے تعبیر کیا ہے۔ اور نفخ ہی کو بعض راویوں نے غطیط یا خطیط (خراٹے) سے تعبیر کر ڈالا ہے۔ جیسا کہ حافظ بدر الدین عینی فرماتے ہیں۔ نفخ بالخاء المعجمۃ ای من خیشومہ وھو المجمر عنہ بعض راویوں نے روایت بالمعنی کر کے ثم اضطجع فنام سے ادا کردیا۔
باقی رہی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ والی روایت تو اس کے الفاظ تو بظاہر قاعدہ کلیہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بحالت خواب نیند سے صرف آپ ﷺ کی آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔ لیکن آپ کا دل ہمیشہ بیدار رہتا تھا۔ لیکن درحقیقت یہ قاعدہ کلیہ نہیں تھا۔ بلکہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کی آنکھیں اور قلب مبارک دونوں چیزیں نیند سے متاثر ہوجاتی تھیں اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ صرف آنکھیں نیند سے بند ہوجاتیں لیکن دل بیدار رہتا۔ چنانچلہ لیلۃ التجریس میں جس طرف پہلے اشارہ گزر چکا ہے۔ جب نیند کی وجہ سے آپ کی اور آپ کے ہم سفر صحابہ کی نماز فجر فوت ہوگئی۔ تو آپ نے از سر نو وضو کر کے نماز ادا فرمائی۔ اس واقعہ کی توجیہہ کرتے ہوئے بعض محدثین نے فرمایا ہے کہ اس موقع پر آپ کی آنکھوں کے ساتھ دل پر بھی نیند طاری ہوگئی تھی۔ اس لیے آپ وقت پر بیدارنہ ہس کے اور اسی لیے آپ نے وضو کی تجدید فرمائی جیسا کہ اوجز المسالک شرح موطا امام مالک ص 418 ج 1 میں ہے۔ انہ کان فی وقت ینام وفی وقت لاینام وفی وقت لا ینام فصادف الوادی نومہ۔
501 یہ چوتھی دلیل ہے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب کو اسی نے پیدا کی اور سب کچھ اسی کے قبضہ اور اختیار و تصرف میں ہے۔ پھر کون ہے جو اس پر جبر کرسکے اور اس سے اپنی بات منوا سکے۔ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۔ یہ پانچویں دلیل ہے۔ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا اور نہ ہی اس کی مرضی کے خلاف کسی مجرم کو سفارش کر کے سزا سے بچا سکتا ہے جیسا کہ عام مشرکوں کا خیال تھا کہ جن بزرگوں کو ہم پکارتے ہیں وہ ہمیں بخشوا لیں گے۔ اور خدا سے ہمارے تمام کام بھی کرا دیں گے۔ وفی ذلک تاییس الکفار حیث زعموا ان الھتھم شفعاء لھم عند اللہ تعالیٰ (روح ص 9 ج 3) حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ شفاعت کا مسئلہ قرآن مجید میں مختلف عنوانات سے بیان کیا گیا ہے۔ کہیں فرمایا مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ (بقرہ رکوع 34) کہیں فرمایا لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَهُ قَوْلاً (طہ رکوع 6) کہیں ارشاد ہے اِلَّا لِمَنِ ارْتَضیٰ (انبیاء رکوع 2) کہیں فرمایا اِلَّا مَنْ شَھِدَ بِالْحَقِّ (زخرف رکوع 7) کہیں ارشاد ہے۔ لَايَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً (نبا رکوع 2) ان کے علاوہ اور بہت سی آیتوں میں مسئلہ شفاعت مذکور ہے۔ ان تمام آیتون کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ ان میں شفاعت قہری کی نفی کی گئی ہے۔ جس کے مشرکین معتقد تھے اور اس کے سوا شفاعت کی ایک اور قسم کا اثبات کیا گیا ہے۔ یعنی شفاعت بالاذن۔ پھر اس جائز شفاعت کی دو قسمیں ہیں ایک شفاعت فی الدنیا اور دوم شفاعت فی الاخرت۔ شفاعت فی الدنیا یعنی دنیا میں شفاعت مومن اور کافر دونوں کے لیے جائز ہے۔ مومن کے لیے دنیا میں شفاعت یہ ہے کہ اس کے گناہوں کی بخشش اور حق پر اس کی استقامت کے لیے دعا کرے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو امر ہوا۔ وَصَلِّ عَلَیْھِْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمُ اللّٰه (توبہ ع 12) اور کافر کے لیے شفاعت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے راہ راست پر آجانے کی دعا کرے۔ لیکن یہ صرف اسی وقت تک جائز ہے جب تک اس کے دل پر مہرجباریت نہ لگ جائے اور جب یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے دل پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔ اس وقت اس کے حق میں دنیا میں شفاعت نہ کی جائے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں وارد ہے۔ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ اَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْه۔ باقی رہی آخرت میں شفاعت تو وہ قبل العلم مومنوں اور کافروں دونوں کے لیے جائز ہے۔ لیکن بعد العلم صرف مومنوں کے لیے جائز ہے اور کافروں کے لیے جائز نہیں۔ اور علم سے مراد یہ ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ مشفوع لہ مومن ہے یا کافر۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے۔ آنحضور ﷺ قیامت کے دن قبل العلم کافروں کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو فرشتے جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ تو آنحضرت ﷺ اصحابی اصحابی پکار کر ان کی شفاعت فرمائیں گے۔ اس پر اللہ کی طرف سے آپ کو جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں۔ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ اس پر آپ خاموش ہوجائیں گے اور پھر ان کی شفاعت نہیں کرینگے۔
ان آیتوں کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں پہلے شفاعت کرنے والوں کو باقاعدہ اذن دیا جائے گا کہ فلاں فلاں کے لیے شفاعت کرو تو قبول ہوگی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے (صرف آنحضرت ﷺ کے لیے آخرت میں شفاعت کبری کا اذن ملنا ثابت ہے) اس لیے من اذن لہ اور لمن اذن لہ وغیرہ سے اذن کا متبادر مفہوم یعنی اجازت مراد نہیں ہے۔ بلکہ دوسری آیتوں کی روشنی میں اس آیت میں مشفوع لہ سے مراد مومن ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے۔ اِلَّا مَنْ شَھِدَ بِالْحَقِّ ۔ جس نے حق کی شہادت دی یعنی مومن۔ اس کی تائید ایک دوسری آیت سے ہوتی ہے اِلَّا لِمَنِ ارْتَضیٰجس کو خدا پسند کرے اور وہ صرف مومن ہی ہوسکتا ہے جن آیتوں میں بلا اجازت کلام کی نفی ہے۔ وہاں آخرت کی شفاعت مراد ہے۔ اور مشفوع لہ صرف ایمان والے ہیں اور جن آیتوں میں کلام کی نفی کی گئی ہے ان میں دنیا کی شفاعت سے متعلق ہیں اور بعض آخرت سے اور بعض دونوں کی محتمل ہیں مسئلہ شفاعت کی پوری تحقیق سورة یونس کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یہ چھٹی دلیل ہے اور یہ محاورہ ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کا بیان مقصود ہے۔ یعنی وہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کے تمام ظاہر و باطن اور گذشتہ وآئندہ حالات وواقعات کو خوب جانتا ہے۔ دلیل علی احاطة علمہ بجمیع الکائنات ماضیھا حاضرھا ومستقبلھا (ابن کثیر ص 309 ج 1 ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْمیں ضمیر غائب مَنْ ذَ الَّذِیْ کی طرف راجع ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کو مشرکین اپنے شفعاء غالب سمجھتے تھے۔ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اور اس کی مخلوق میں سے کوئی جن وبشر، کوئی پیغمبر یا کوئی فرشتہ اللہ کے معلومات میں سے کسی ایک چیز کی حقیقت اور کنہ کو بھی نہیں جانتا۔ ہاں جو تھوڑا بہت علم اللہ نے ان کو دیدیا ہے۔ اس سے آگے ان کے علم کی حدود نہیں بڑھ سکتیں۔ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ کرسی سے یا تو اس کا حقیقی معنی مراد ہے۔ لیکن اس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یا اس سے مراد علم ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے یا یہ قدرت اور سلطنت سے کنایہ ہے۔ (معالم ص 227 ج 1) المراد من الکرسی السلطان والقدرة والملک (کبیر ص 470 ج 2) مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت اور حکومت پوری کائنات پر حاوی ہے۔ سب اس کے محکوم ومملوک ہیں اور کوئی اس کا شریک اور ہمسر نہیں۔ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا۔ زمین و آسمان کی حفاظت اور نگہبانی سے وہ تھکتا اور اکتاتا نہیں۔ یہ ساتویں دلیل ہے۔ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ ۔ وہ ہر چیز سے بلند تر اور بزرگ تر، ہر چیز اس کے سامنے ہیچ اور حقیر ہے۔ یہ آیت کریمہ آیة الکرسی کے نام سے مشہور ہے اور قرآن مجید کی تمام آیتوں سے افضل ہے اس لیے کہ اس میں اللہ کی توحید اور اس کی صفات کا کامل اور جامع بیان ہے۔ آیت الکرسی کی ابتدا میں بھی حصر ہے۔ یعنی ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ میں اور آخر میں بھی یعنی ھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُمیں۔ کیونکہ دونوں جگہوں میں خبریں معرفہ ہیں اس لیے آیت کے باقی تمام حصے بھی حصر پر ہی محمول ہوں گے۔ کیونکہ یہ قانون ہے کہ کلام کے کسی ایک حصہ میں جب حصر ہو تو اس کے باقی حصے بھی حصر پر ہی محمول ہوتے ہیں۔
Ayah 2:256503 یہ آیت جہاد سے متعلق ہے اور اس میں جہاد سے متعلق ایک شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے۔ یعنی جہاد کا مقصد یہ نہیں کہ کافروں کو بزور شمشیر مسلمان بنایا جائے بلکہ اس کا مقصد جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے یہ ہے کہ دنیا کو فتنہ فساد سے پاک کیا جائے اور کفار کو مومنوں کو جبرا کافر بنانے سے روکا جائے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قاتلوا حتی لا تکون فتنۃ ای حتی لا یفتن مومن (مدارک) ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل پر جبر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دل اسی بات کو مانتا ہے جسے وہ اپنے اختیار سے پسند کرتا ہے۔ اس لیے اسلام میں کسی کو جبراً مومن بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اس طرح انسان مجبور ہوجائے گا۔ اور اس سے اس کا اختیار چھن جائے گا اور ابتلاء وامتحان کی حکمت فوت ہوجائے گی نیزجبر کا مطلب تو یہ ہوتا ہے۔ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ایسے فعل پر مجبور کیا جائے۔ جس میں فی نفسہ کوئی بہتری نہ ہو یا اگر ہو تو اس کو نظر نہ آتی ہو۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام سرتاپا خیر ہی خیر ہے۔ نیز اسلام کی راہ اس قدر واضح ہوچکی ہے کہ کفر کی راہ سے اس کا امتیاز بالکل آسان ہے۔ ادنی تامل سے اسلام کی خوبیاں اور کفر کی برائیاں سمجھ میں آسکتی ہیں اور انسان رضا ورغبت سے اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے اس لیے جبرواکراہ کی ضرورت ہی نہیں۔ ہاں اگر کوئی مسلمان عیاذاً باللہ دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلا جائے تو وہ چونکہ اسلام کا باغی ہے۔ اس لیے اسے دوبارہ اسلامی آئین قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اگر اس نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا تو اسے مسلمانوں کی جماعت میں شامل کرلیا جائے گا ورنہ اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۔ یہ ماقبل کی علت ہے تعلیل صدر بکلمة التحقیق لزیادة تقریر مضمونہ (روح ص 13 ج 3) 504 حضرت عمر، حسین بن علی، مجاہد اور قتادہ سے منقول ہے کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ امام مالک اور امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ کے سوا ہر معبود طاغوت ہے۔ و عن مالک بن انس کل ماعبد من دون اللہ تعالیٰ (روح ص 13 ج 3) والصواب من القول عندی فی الطاغوت انہ کل ذی طغیان علی اللہ نعبد من دونہ اما بقھر منہ لمن عبدہ واما بطاعة ممن عبدہ انسانا کان ذالک المعبود او یشطانا او وثنا او صنما او کائنا ماکان من شیئ (ابن جریر ص 12 ج 3 اور العروة الوثقی سے مراد ایمان اور خالص توحید ہے بالعروة الوثقی قال مجاھد العروة الایمان (قرطبی ص 282 ج 3) یعنی جس نے شیطان کا اتباع ترک کردیا اور ہر غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دی اور کفر وشرک سے توبہ کر کے خدائے واحد پر دل وجان سے ایمان لے آیا اس نے ایک ایسی مضبوط اور محکم کڑی کو تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گی۔ یہ مضبوط کڑی ایمان اور اسلام ہے۔ جسے تھام لینے کے بعد دنیا اور آخرت میں خدا کی راہنمائی اور دستگیری حاصل ہوجاتی ہے دل مطمئن ہوجاتا ہے اور تمام کام آسان ہوجاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے دو تکوینی قانون بیان فرمائے ہیں۔ پہلا قانون یہ ہے کہ اگر کسی وقت مومنوں کے دلوں میں توحید کے بارے میں کوئی ادنی سا شبہ بھی واقع ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً شبہات کے اندھیروں کو نور ہدایت سے دور فرما کر ان کے دلوں کو مطمئن کردیتا ہے اور دوسرا قانون یہ ہے کہ اگر کبھی کسی مشرک کے دل میں دلائل توحید کو دیکھ کر توحید کی طرف میلان سا پیدا ہوجاتا ہے تو جھٹ شیاطین ان کو شبہات کی الجھنوں میں ڈال کر ان کے راہ راستہ پر آنے کے امکان کو ختم کردیتے ہیں۔
Ayah 2:257505 یہ پہلے قانون کا بیان ہے۔ ولی کے معنی ناصر اور مددگار کے ہیں۔ ظلمات سے کفر وشرک اور شبہات کے اندھیرے مراد ہیں اور نور سے مراد یقین و ایمان کی روشنی ہے اور الذین آمنوا سے وہ لوگ مراد ہیں جو حق کے متلاشی اور ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ولمراد بھم من اراد الایمان (روح ص 14 ج 3) یعنی جو لوگ حق کے طالب ہوں الہدی کی طرف انابت کریں اور ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا اور ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں کفر وشرک اور شکوک و شبہات کی الجھنوں سے نکال کر ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور اور دولت یقین سے مالا مال کردیتا ہے۔506 یہ دوسرا قانون ہے۔ لیکن جو لوگ ضد وعناد کی وجہ سے کفر پر رہنا چاہتے ہیں اور اپنے اختیار سے کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے ایمان کی توفیق چھین کر شیطانوں کو ان پر مسلط کردیتا ہے جو ان کے دلوں میں طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے دل شبہات کی سیاہی سے بالکل ڈھک جاتے ہیں اور ان سے فطری نور چھین لیا جاتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ جاتی ہے۔ 507 اولئک کا اشارہ الذین کفروا کی طرف ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے عناداً اور اختیاراً کفر قبول کیا ہے۔ وہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد اللہ نے تین قصے بیان فرمائے ہیں۔ جو ان دونوں قاعدوں پر لف ونشر غیر مرتب کے طور پر متفرع ہیں۔
Ayah 2:258508 یہ پہلا واقعہ ہے جو دوسرے قاعدے پر متفرع ہے۔ اور اس پر بطور تمثیل ذکر کیا گیا ہے کہ ضدی اور معاند آدمی کو وضوع حق کے باوجود قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔ جیسا کہ نمرود کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ٹھوس اور اطمینان بخش دلائل سے خدا کی توحید واضح کر کے اس پر حجت خداوندی قائم کردی۔ مگر اس کے باوجود اس نے اسے قبول نہ کیا کیونکہ وہ ضد وعناد کی وجہ سے قبول حق کی استعداد سے محروم ہوچکا تھا اور اپنے کو خدا کا اوتار سمجھتا تھا۔ ھذا الذی حاج ابراہیم فی ربہ وھو ملک بابل نمرود بن کنعان بن کوش بن سام بن نوح (ابن کثیر ص 313 ج 1، قرطبی ص 283 ج 3) ان سے پہلے لام تعلیلیہ محذوف ہے۔ یعنی خدا کے بارے میں اس کے جھگڑنے کا سبب یہ تھا کہ خدا نے اس کو حکومت دی، اقتدار بخشا اور وہ نشہ اقتدار سے مخمور ہو کر غرور کرنے لگا اور خدا شریک بن بیٹھا۔ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ یعنی ان ایتاء الملک ابطرہ واورثہ الکبر مخاج لذالک (مدارک ص 102 ج 1)509 اِذْ ظرف حاج کے متعلق ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول نمرود کے سوال کا جواب ہے۔ نمرود نے سوال کیا تھا کہ وہ رب کونسا ہے جس کی توحید کی تو دعوت دیتا ہے۔ قالہ اثر قول نمرود من ربک الذی تدعو الیہ (روح ص 16 ج 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں اللہ کی دو ایسی صفتوں کا ذکر کیا جو بالکل واضح تھیں اور جن کا روز مرہ کی زندگی میں نمرود بھی مشاہدہ کرتا تھا۔ یعنی زندہ کرنا، پیدا کرنا اور مارنا۔ موت وحیات خدا کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے زندگی سلب کرلیتا ہے۔ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ۔ اس ضدی ملعون نے ان کو قول کو غلط مفہوم میں لیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ جس کو زندگی دیتا یا جس سے زندگی چھینتا ہے۔ وہ ظاہری اسباب ہی کے ذریعے ایسا کرتا ہے اور اسطرح ظاہری اسباب کے ذریعے تو میں بھی ایسا کرسکتا ہوں۔ مثلاً جسے چاہوں معاف کردوں اور جسے چاہوں قتل کرا دوں۔ نمرود خوب جانتا تھا کہ موت وحیات اس کے قبضہ میں نہیں۔ مگر محض ضدوعناد اور ڈھٹائی کی بناء پر اس نے یہ جواب دیا۔ وانا اراد ان یدعی لنفسہ ھذا المقام عنادا ومکابرة (ابن کثیر ص 313 ج 1) ۔510 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ وہ ضد اور ڈھٹائی پر تلا ہوا ہے۔ اس لیے فوراً ایسی دلیل پیش کردی جس کے سامنے وہ بالکل بےبس ہوگیا اور اس کی ضد اور ڈھٹائی کی بھی پیش نہ چل سکی۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا ان کی پہلی دلیل اس سرکش پر کارگر نہیں ہوئی تو فوراً دوسری دلیل پیش فرما دی جس طرح طبیب حاذق جب دیکھتا ہے کہ مریض کو ایک نسخہ سے فائدہ نہیں ہوا تو اس کیلئے دوسرا نسخہ تجویز کردیتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے اگر تو خدا ہے تو اسے مغرب کی طرف سے نکال کر دکھادے۔ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۔ اس پر وہ کافر جھگڑالو حیرت زدہ ہوگیا اور اپنا سا منہ لیکر رہ گیا۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ۔ جو لوگ ضدوعناد کیوجہ سے حق قبول نہیں کرتے اور اپنے لیے عذاب جہنم کا سامان مہیا کرتے ہیں ایسے ظالموں کو خدا ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یعنی جو لوگ ضد اور عناد کی وجہ سے توحید کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ کی طرف انابت نہیں کرتے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ جاتی ہے اور وہ کسی صورت میں راہ راست پر نہیں آسکتے۔
Ayah 2:259511 ۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جو پہلے قاعدہ پر متفرع ہے اور او تنویعیہ ہے یعنی دوسری نوع کے بیان کے لیے۔ یہ قصہ پہلے قاعدہ پر متفرع ہے اور اس کی تمثیل ہے کہ جو لوگ اللہ کی طرف انابت کرتے ہیں۔ حق وصداقت اور اطمینان باطن کے متلاشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کیدستگیری کرتا اور ان کے اطمینان کا سامان مہیا کرتا ہے۔ استشھاد علی ما ذکر من ولایتہ تعالیٰ للمومنین وتقریر لہ (ابو السعود ص 483 ج 2) کالذی میں کاف تمثیل کے لیے ہے یعنی اس کے منجملہ شواہد میں سے ایک یہ ہے۔ اس قسم کے اور بھی کوئی واقعات ہوچکے ہیں۔ مثلا ایک واقعہ پارہ دوم میں الم تر الی الذین خرجوا میں مذکور ہوا ہے کہ بعض مومنوں کو قتال نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مار کر پھر زندہ فرمایا۔ یا کاف زائدہ ہے۔ الَّذِيْ مَرَّکے بارے میں اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) تھے۔ والمار ھو عزیر بن شرخیاکما اخرجہ الحاکم عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ واسحق بن بشر عن ابن عباس وعبداللہ بن سلام والیہ ذھب قتادة وعکرمۃ والربیع والضحاک والسدی وخلق کثیر (روح ص 20 ج 3) اور قریہ سے مراد بیت المقدس ہے جسے بخت نصر نے تباہ وبرباد کردیا تھا۔ وقال عکرمۃ والربیع ووھ بھی بیت المقدس وکان قد خربھا بخت نصر وھذا ھو الاشھر (روح ص 21 ج 3، بحر ص 291 ج 2)512 انہوں نے جب اس کی تباہی کا منظر دیکھا تو اظہار تاسف کے طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی والوں کو دوبارہ کس طرح ذندہ کرے گا۔ مطلب یہ نہیں کہ انہیں ان کے دوبارہ جی اٹھنے کا یقین نہیں تھا بلکہ وہ کیفیت احیاء کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کیفیت احیاء کا مشاہدہ کرانے کے لیے ان پر موت وارد کردی اور وہ پورے سو سال اسی حالت میں زمین کے اوپر ہی پڑے رہے اور سو سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۭ۔ یہ سوال و جواب احاطہ صفات سے ان کے عجز کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے حالت موت کی مدت صرف ایک دن یا اس سے بھی کم بتائی یہ محض ان کا اندازہ اور تخمینہ تھا۔ سو سال کا عرصہ انہیں یک روزہ خواب کی طرح معلوم ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالت موت میں یہ جلیل القدر پیغمبر (علیہ السلام) اختلاف لیل ونہار اور انقلابات زمانہ سے بالکل بیخبر تھا۔ اگر انہیں ان چیزوں کا احساس ہوتا تو ملت کا وہ یہ تخمینہ بیان نہ کرتے بلکہ ان کو پوری مدت کا ٹھیک ٹھیک علم ہوتا۔ اس واقعہ سے سماع موتی کی نفی ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت عزیر (علیہ السلام) دنیا میں ہونے والے تمام انقلابات سے بیخبر تھے۔ سو سال کے عرصہ میں نہ تورات دن کے اختلاف کا ان کو پتہ چلا اور نہ ہی انہیں بیرونی آوازیں سنائی دیں۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وفات کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کی ارواح طیبہ ان کے ابدان مبارکہ میں موجود نہیں رہتیں اور ان کی حیات دنیوی ناسوتی نہیں ہوتی بلکہ برزخی ہوتی ہے۔513 یعنی تم تو پورے سو سال حالت موت میں رہے ہو۔ مگر دیکھ لو اس کے باوجود تمہارا کھانا پینا خراب نہیں ہوا۔ اس میں کسی قسم کا تغیر اور بو پیدا نہیں ہوئی بلکہ وہ آج بھی اسی طرح تروتازہ ہے۔ جس طرح آج سے سو سال پہلے تھا۔ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ الخ۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) جب یہاں سے گذرے تھے اس وقت گدھے پر سوار تھے۔ آرام کرنے کے لیے گدھے کو وہاں چھوڑ کر لیٹ گئے۔ اور حالت نوم ہی میں ان کی روح قبض کرلی گئی۔ ادھر گدھا بھی مرگیا اور اس اثناء میں اس کا گوشت پوست تو مٹی نے کھالیا۔ مگر ہڈیوں کا ڈھانچہ صحیح سلامت پڑا رہا۔ تو اللہ نے فرمایا اپنے گدھے کی طرف بھی دیکھ ہم اسے کس طرح زندہ کرتے ہیں تاکہ ہم تمہیں بعث بعد الموت یعنی دوبارہ جی اٹھنے پر لوگوں کے لیے دلیل اور برہان بنا دیں۔ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ ودلالة علی البعث بعد الموت (قرطبی ص 294 ج 3) ۔514 انشاز کے معنی ہلانے اور جنبش دینے کے ہیں۔ ہماری قدرت کاملہ کا اپنی آنکھوں سے نظارہ کرلو اور مشاہدہ کرلو کہ ہم کس طرح گدھے کی ہڈیوں کو گوشت پوست پہنا کر اور اس میں روح پھونک کر اسے دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دیکھے دیکھتے ہی گدھے کو زندہ کردیا۔ 515 علم سے یہاں علم مشاہدہ اور معاینہ مراد ہے۔ کیونکہ خدا کی قدرت کا علم ویقین تو انہیں پہلے بھی حاصل تھا۔ مگر وہ علم شہود نہیں تھا۔ قال حکنی انہ اخبر عن نفسہ عندما عاین من قدرة اللہ تعالیٰ فی احیائہ الموتی فتیقن ذالک بالمشاھدة (قرطبی ص 296 ج 3) ۔
Ayah 2:260516 یہ واقعہ بھی پہلے قاعدہ پر متفرع ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اگرچہ اللہ کی قدرت علی الحیاء کا پورا پورا یقین تھا۔ وہ اس کی کیفیت کا مشاہدہ کر کے مزید اطمینانِ قلب حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا۔ کیونکہ جو علم مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے وہ بدیہی اور ضروری ہوتا ہے اور علم استدلالی سے زیادہ محکم اور پائیدار ہوتا ہے۔ معناہ بلی امنت ولکن لازید سکرنا وطمانیۃ ببضاعۃ علم المقدرۃ علم الاستدلال وتظاھرالادلۃ اسکن للقلوب وازید للبصیرۃ (مدارک ص 103 ج 1) لم یکن ابراہیم علیہ اسلام شاکا احیاء اللہ الموتی قط وانما طلب المعاینۃ (قرطبی ص 297 ج 3) ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کہ کیا تمہیں میری قدرت علی الاحیاء پر ایمان نہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ جواب کہ ایمان تو ہے۔ لیکن آنکھوں سے مشاہدہ کر کے مزید اطمینان چاہتا ہوں۔ اس سوال و جواب سے اسی حقیقت کو واضح کرنا مقصود ہے۔ تاکہ سامعین میں سے کسی کو حضرت خلیل (علیہ السلام) کے ایمان کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی نہ پیدا ہو۔ 517 صُرْ ، صار یصور صوراً سے امر ہے جس کے معنی ہلانے ور مائل کرنے کے ہیں۔ یعنی چار پرندے لو اور انہیں اپنے ساتھ خوب مانوس کرلو اور بلا لو تاکہ بعد میں پہچاننے میں دقت نہ ہو۔ المعنی املھن الیک ای اضممھن واجمعھن الیک (قرطبی ص 301 ج 3) ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰي كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا۔ پھر انہیں ذبح کر کے اور ان کے ٹکڑے اکر کے ان کے اجزاء کو قرب و جوار کے پہاڑوں پر رکھ دو ۔ فقولہ " الیک " علی تاویل الامالۃ والضم متعلق بصرھن وفی الکلام متروک فاملھن الیک ثم قطعھن (قرطبی ص 301 ج 3) ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا۔ پھر انہیں اپنی طرف بلاؤ۔ تو وہ زندہ ہو کر صحیح سلامت دوڑتے ہوئے تمہارے پاس چلے آئیں گے۔518 یہ کیفیت دیکھ کر تمہیں علم شہود حاصل ہوجائے گا۔ کہ اللہ تعا الیٰ بڑا زبردست ہے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں مگر وہ کرتا وہی کچھ ہے۔ جو حکمت کے عین مطابق ہو اب آگے پھر انفاق فی سبیل اللہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا پہلے بھی بیان ہوچکا ہے۔ مگر پہلے جہاد کا مضمون زیادہ تھا اور انفاق کا کم تھا۔ اب یہاں سے انفاق کا مضمون تفصیل سے بیان ہوتا ہے۔ یہ تفصیل مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ سے لے کروَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ تک چلی گئی ہے۔ یعنی پورے تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ پہلے رکوع میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب بیان فرما کر خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ریاکاری سے بچنے اور اخلاص کو اپنا معمول بنانے کا حکم دیا ہے۔ اخلاص اور ریاکاری کی مثالیں دے کر اخلاص کا اجر اور ریا کا برا نتیجہ واضح فرمایا ہے۔ دوسرے رکوع میں حلال اور طیب مال خرچ کرنے کا حکم دیا فرمایا ہے اور تیسرے رکوع میں انفاق بطور قرض کی ایک مذموم اور ناجائز صورت سے منع فرمایا ہے۔
Ayah 2:261519 یہ اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ جسے ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے یعنی جو لوگ اخلاص کے ساتھ محض اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے۔ جیسے ایک آدمی زمین میں ایک دانہ بو دیتا ہے۔ اس ایک دانہ سے سات شاخوں والا پودا پھوٹ نکلتا ہے۔ اور ہر شاخ پر ایک ایک خوشہ ہوتا ہے اور ہر خوشہ میں ایک سودانہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک دانہ سے سات سو دانہ حاصل ہوا۔ تو جس طرح ایک دانہ زمین میں کاشت کرنے سے ساتھ سو گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح خدا کی راہ میں خرچ کی ہوئی دولت کی ایک اکائی (پیسہ، آنہ، روپیہ وغیرہ) خدا کے یہاں سات سو گنا بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً ایک روپیہ خرچ کرنے سات سو روپیہ خرچ کرنیگا ثواب ملیگا۔ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ۔ جہاد میں اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کرنے والوں کو سات سو گنا ثواب تو ہر حال میں ملے گا۔ لیکن اگر خرچ کرنے والے کا تقویٰ ، اخلاص نیت اور مال کی طہارت اور پاکیزگی عام سطح سے بلند ہوگی تو اسے سات سو گنا سے بھی زیادہ ثواب ملیگا۔ ای بحسب اخلاصہ فی عملہ (ابن کثیر ص 317 ج 1) المتصدق اذا کان صالحا والمال طیبا ویضعہ موضعہ فیصیر الشواب اکثر (قرطبی ص 303 ج 3) وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔ وہ بڑی وسعت والا ہے اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں وہ جتنا چاہے دے سکتا ہے اور وہ خرچ کرنے والوں کی نیتوں سے بھی آگاہ ہے اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کتنے ثواب کا مستحق ہے۔
Ayah 2:262520 خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کا ثواب بیان کرنے کے بعد اب ان امور کو بیان کیا جاتا ہے جو مذکورہ بالا ثواب کے استحقاق کے لیے ضروری ہیں۔ مَنٌّ کے معنی احسان جتلانے کے ہیں اور اذی کے معنی تکلیف دینے کے ہیں اور اس سے مراد ہر وہ قول وفعل ہے۔ جس سے متصدق علیہ (جس کو خیرات دی جائے) کو تکلیف پہنچے۔ مثلاً اسے یہ کہے کہ " یار بڑا جھگڑالو ہے، چمٹ ہی گیا ہے چھوڑتا ہی نہیں "۔ " کیسا ہٹہ کٹہ ہے کماتا کیوں نہیں "۔ صدقہ کرنے کے بعد لینے والے سے کام کرانا بھی اذی میں داخل ہے۔ اس لحاظ سے احسان جتلانا بھی اذی میں داخل ہے مگر احسان جتلانے کی بیماری چونکہ عام تھی۔ اس لیے اسے علیحدہ ذکر کیا۔ لھم اجرھم عند ربھم۔ یعنی جو لوگ صدقہ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طریقے سے سائل کو تکلیف دیتے ہیں صدقہ و خیرات کا ثواب صرف انہیں لوگوں کو ملتا ہے۔ کیوں کہ من اور اذی دونوں ایسی برائیاں ہیں کہ ان کی وجہ سے صدقہ اللہ کی رضا کے لیے نہیں رہتا۔ اس لیے صدقہ باطل ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں سے اس کا کوئی اجر وثواب نہیں ملتا۔
Ayah 2:263521 قول معروف سے مراد ہے سائل کو نرمی سے ٹال دینا اور مغفرۃ سے مراد یہ ہے کہ اگر سائل درشتی سے پیش آئے تو اس سے درگذر کیا جائے اور ناشائستہ الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ ای کلام جمیل یرد بہ السائل مثلا یرحمک اللہ ویرزقکم اللہ انشاء اللہ تعالیٰ اعطیک بعد ھذا ومغفۃ ای ستر لما وقع من السائل من الالحاف فی المسئلۃ وغیرہ مما یثقل علی المسئول وصفح عنہ (روح ص 34 ج 3) وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَلِيْمٌ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے صدقات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے تمہاری ہی اصلاح مقصود ہے اور وہ برد با رہے۔ گناہوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا۔
Ayah 2:264522 اب یہاں نہایت تاکید کے ساتھ من اور اذی سے منع فرمایا ہے اور واضح کردیا ہے کہ من اور اذی سے صدقہ باطل ہوجتا ہے اور اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ الَّذِيْ يُنْفِقُسے مراد منافق یا مشرک ہے۔ و غالب المفسرین قال ان المراد بہ المنافق (روح ص 35 ج 3) رئاء۔ ینفق کا مفعول لہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک منافق ریا کار کی مثال دے کر ایمان والوں کو سمجھایا کہ جس طرح وہ منافق محض لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خیرات کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ پر اس کا ایمان ہے اور نہ محاسبہ آخرت پر طو ظاہر ہے کہ رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کی طلب کا تو اس کے دل میں کھٹکا تک نہیں ہوگا تو جس طرح اس ریا کار منافق کی خیرات بالکل رائیگاں اور اکارت ہے اور اس کیلئے کوئی ثواب نہیں۔ اے ایمان والو ! اسی طرح تم بھی اپنے صدقات کو من اور اذی کے ذریعے باطل نہ کرو جس طرح اس ریاکار نے ریاکاری سے اپنا عمل باطل کردیا۔ 523 فَمَثَلُهٗ کی ضمیر سے ریاکار خرچ کنندہ مراد ہے۔ صفوان کے معنی ہموار اور صاف پتھر وابل۔ شدید بارش اور صلد وہ صاف پتھر جس پر کوئی گردوغبار نہ ہو۔ جو شخص ریاکاری سے مال خرچ کرتا ہے۔ اس کے عمل کے رائیگاں اور بےنتیجہ ہونے کی مثال یہ ہے کہ جس طرح ایک بالکل صاف اور نرم پتھر ہو ہو اور اس پر معمولی سی مٹی ہو پھر اس پر سخت زور کی بارش ہوجائے تو وہ پتھر مٹی سے بالکل صآف ہوجاتا ہے اور اس پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ یہی حال ریاکاروں کے غیر مخلصانہ اور ریا کارانہ اعمال کا ہے کہ وہ ریاکاری کے سیلاب میں بہہ کر ضائع ہوجاتے ہیں اور ان پر کوئی ثواب نہیں ملتا۔ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ۭ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کیا ہے مگر آخرت میں کوئی چیز ہاتھ نہیں آئے گی۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ جن کو اللہ نے عقل وبصیرت کی دولت دی۔ مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور جان بوجھ کر کفر اختیار کیا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ ایمان کی توفیق چھین لیتا ہے اور انہیں ہدایت نہیں دیتا۔
Ayah 2:265524 ریاکاروں اور منافقوں کی مثال بیان کرنے کے بعد ان مومنین کے صدقات کی مثال بیان فرمائی جو محض اللہ کی رضا جوئی اور تزکیہ نفوس حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ابتغاء مفعول لہ ہے۔ تثبیتاً اس پر معطوف ہے۔ من انفسہم میں من ابتدائیہ ہے۔ یعنی وہ اللہ کی رضاجوئی اور دل کے کامل یقین اور ایمان کی وجہ سے خرچ کرتے ہیں۔ وقال الشعبی والسدی وقاتادة ایضا وابن زید وابو صالح وغیرھم تثبیتا معناہ وتیقنا ای ان نفوسھم بھا بصائر فھی تثبتھم علی الانفاق فی طاعة اللہ تعالیٰ تثبیتا (قرطبی ص 314 ج 3) ربوة کے معنی ہیں۔ ٹیلہ یعنی وہ جگہ جو دوسری زمین کی نسبت کچھ اونچی ہو۔ اور طل سے یہاں شبنم مراد نہیں۔ بلکہ ہلکی اور خفیف بارش مراد ہے۔ والطل المطر الضعیف المستدق من القطر الخفیف قالہ ابن عباس وغیرہ (قرطبی ص 317 ج 3) تمثیل کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے اور پورے ایمان واخلاص کے ساتھ مال خرچ کرتے ہیں۔ ان کے صداقات اس طرح پھولتے پھلتے اور بار آور ہوتے ہیں جس طرح ٹیلے پر ایک باغ ہو اور اس پر موسلا دھار بارش برسے تو اس باغ کافی پھل دیتا ہے۔ اسی طرح اخلاص نیت سے کیے ہوئے صدقات کا اجر خدا کے یہاں کئی گنا ملتا ہے اگر اخلاص اعلی درجہ کا نہ بھی ہو تو مطلق ایمان اور نیت کی درستی بھی صدقات کا ثواب بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ اس لیے وہ مخلص اور ریاکار کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
Ayah 2:266525 یہ ریاکاروں کے اعمال کے ضائع اور بےنتیجہ ہونے کی دوسری تمثیل ہے۔ یعنی ایک آدمی جو بوڑا ہوچکا ہو اور روزی کمانے کے لائق نہ رہا ہو اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہو جو ابھی کمانے کے قابل نہ ہوں۔ اس کا ایک کھجوروں اور انگوروں کا سرسبز و شاداب باغ ہو اور اس کو بگولا جلا دے یعنی عین اس وقت وہ باغ جل کر تباہ ہوجائے۔ جب کہ مالک اس کے پھل کا سخت محتاج ہو۔ یہی ریاکاروں کے اعمال کا حشر ہوگا۔ کہ میدان حشر میں جب ان کی سخت ضرورت ہوگی وہ کام نہیں آسکیں گے۔ کیونکہ وہ تو دنیا ہی میں ریاکاری کے بگولوں سے جل کر راکھ ہوچکے ہوں گے۔ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ ۔ اللہ تعالیٰ اس طرح تمثیلات کے ذریعے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور وفکر کرو اور انجام سوچ کر کوئی قدم اٹھاؤ
Ayah 2:267526 یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کہ اللہ کی راہ میں حلال وطیب اور عمدہ چیزیں خرچ کرو۔ مال حرام اور بےکار چیزیں خدا کی راہ میں نہ دو ۔ یہاں امر وجوب کے لیے ہے اور اس سے مراد زکوۃ مفروضہ ہے۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ، عبدیہ سلمانی اور ابن سیرین سے منقول ہے۔ عن عبیدة السمانی قال سالت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجھہ عن ھذہ الایة فقال نزلت فی الزکاة المفروضة (روح ص 39 ج 3) فقال علی بن ابی طالب عبیدة السلمانی وابن سیرینھی الزکاةا لمفروضة (قرطبی ص 320 ج 3) مَا كَسَبْتُمْ ۔ سے مال تجارت اور وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۠۔ سے زمین کی پیداوار مثلاً غلہ اور مع دنیا وغیرہ تو اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ جس طرح مال تجارت میں فرض ہے۔ اسی طرح زمین کی پیداوار میں بھی فرض ہے۔ والتفصیل فی کتب الفقہ۔527 ۔ وَلَا تَيَمَّمُوا۔ تیمم سے ہے۔ جس کے معنی قصد اور ارادہ کرنے کے ہیں یہ اصل میں لاتتیمموا تھا۔ ایک تاء بطور تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ منہ، تنفقون کے متعلق ہے اور یہ تیمموا کے فاعل سے حال مقدر ہے۔ ای لاتقصدوا الخبیث فاعلین الانفاق منہ اور وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ ، تنفقون کی ضمیر سے حال ہے اور الخبیث سے بیکار اور روی چیز مراد ہے۔ الخبیث ای الردی (روح ص 39 ج 3) یعنی ردی اور گھٹیا چیزیں خدا کی راہ میں دنے کا ارادہ تک مت کرو۔ اپنا حال ہی دیکھ لو اگر تمہیں تمہارے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی ردی چیز دے دی جائے تو تم اسے لینے کے لیے تیار نہیں ہو اور بطیب خاطر اسے قبول نہیں کرتے ہو۔ تو پھر خدا کی راہ میں ایسی ناپسندیدہ چیزیں کیوں دیتے ہو۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ۔ اس بات کا یقین رکھو کہ اللہ کو تمہارے صدقات کی ضرورت نہیں وہ ان سے بےنیاز ہے یہ احکام محض تمہاری بھلائی اور بہبود کے لیے نازل کرتا ہے۔ اور وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ اس لیے اس کامل کے نام پر عمدہ سے عمدہ اور پاکیزہ تر چیزیں قربان کرو۔ نہ کہ گھٹیا اور بےکار چیزیں۔
Ayah 2:268528 یعد، وعد سے مشتق ہے اور وعد اصل لغت کے اعتبار سے خیر وشر دونوں میں مستعمل ہے۔ یہاں بقرینہ ما بعد شر کے لیے ہے اور اس کے معنی تخویف یعنی ڈرانے کے ہیں اور الفحشاء ہر بری خصلت کو کہتے ہیں۔ مگر یہاں اس سے بخل مراد ہے۔ ای الخصلۃ الفحشاء وھی البخل وترک الصدقات (روح ص 40 جلد 3) المراد بھا فی حذا الموضع البخل (جصاص) حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ فحشاء سے یہاں بخل مراد ہے اور باقی اکثر جگہوں میں اس سے زنا مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر مال خرچ کریں گے تو دولت کم ہوجائے گی اور مفلس ہوجاؤ گے۔ اس قسم کے وسوسے ڈال کر بخل اور کنجوسی پر اکساتا ہے۔ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۭ۔ لیکن اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ مال خرچ کرنے پر گناہوں کی معافی اور دولت میں اضافہ کا وعدہ فرماتا ہے۔ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ وسعت والا ہے وہ خرچ کرنے کی ہمت اور خرچ کرنے پر فراخی عطا کرتا ہے۔ ور وہ غیب وشہادت کا جاننے والا ہے اسے معلوم ہے کہ کون خرچ کرتا ہے اور کہاں اور کس نیت سے خرچ کرتا ہے۔ والمراد ھنا انہ سبحانہ وتعالیٰ یعطی من سعۃ ویعلم حیث یضع ذالک ویعلم الغیب والشھادۃ (قرطبی ص 329 ج 3)
Ayah 2:269529 حکمت سے مراد دین ودنیا کی صحیح سمجھ ہے جو ہر قول اور عمل میں انسان کی صحیح رہنمائی کرے۔ قال مجاھد الاصابة فی القول والفعل (قرطبی ص 330 ج 3) او عن مجاھد انھا الاصابة فی القول والعمل (روح ص 41 ج 3) دولت کو صحیح مصارف میں خرچ کرنے اور دیگر اعمال واقوال میں ہر لحاظ سے صحیح اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی سجھ اور ملکہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے سرفراز فرماتا ہے۔ یہ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکتا اور دونوں قسم کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمت خیر کثیر فرمایا۔530 پند ونصیحت سن تو ہر کوئی لیتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ نے حکمت اور عقل دی۔
Ayah 2:270531 تم جو صدقہ کرتے ہو خواہ فرضی ہو خواہ نفلی۔ اللہ کی راہ میں یا شیطان کی راہ میں تھوڑا ہو یا زیادہ۔ اسی طرح تم جو نذریں مانتے ہو۔ خواہ وہ اللہ کی تعظیم ورضا کے لیے ہوں خواہ غیر اللہ کی تعظیم اور خوشنودی کیلئے۔ اللہ ان سے بیخبر نہیں سب کو جانتا ہے اور ہر ایک پر اس کے مطابق جزا دے گا۔ وما انفقتم من نفقة فی سبیل اللہ او فی سبیل الشیطان او نذرتم من نذر فی طاعة اللہ او فی معصیة فان اللہ یعلمہ لا یخفی علیہ وھو مجازیکم علیہ (مدارک ص 106 ج 1) حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نذر کے دو معنی آتے ہیں ایک معنی مشہور جس کا صلہ علی آتا ہے۔ دوسرا معنی عہد وپیمار کرنا جس کا صلہ الی ہوتا ہے یہاں معنی ثانی مراد ہے تاکہ حدیث کی مخالفت لازم نہ آئے کہ نذر سے بخیل کا مال خرچ کرانا ہوتا ہے لہذا معنی یوں ہونگے کہ تم جو عہدوپیمان کرتے ہو کہ تم خدا کے واسطے دوگے لہذا عہد پورا کرو اور مال دو ۔ 532 خدا کے احکام کو ٹھکرا کر اپنے حق میں ناانصافی اور ظلم کرنیوالوں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں اس ظلم کے بد انجام یعنی عذاب الٰہی سے بچا سکے نہ بذریعہ طاقت نہ بذریعہ سفارش ای اعوان ینصرونہ من باس اللہ تعالیٰ لاشفاعۃ ولا مدافعۃ (روح ص 43 ج 3) ظالمین کا لفظ عام ہے تمام ریاکار، خیرات کر کے احسان جتلانے والے، اللہ کی راہ میں گھٹیا چیزیں دینے والے، ناجائز مصارف میں دولت خرچ کرنیوالے، خلاف شریعت نذریں منتیں ماننے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنیوالے وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ فیشمل المنفقین بالریاء والمن والاذی والمتحرین للخبیث فی الانفاق والمنفقین فی باطل والنذرین فی معصیۃ والممتتنعین عن اداء ما نذروا فی حق والباخلین بالصدقة مما اتاھم اللہ تعالیٰ من فضلہ (روح ص 43 ج 3)
Ayah 2:271533 صدقات سے یہاں جمہور کے نزدیک نفلی صدقات مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اگر نفلی صدقات علانیہ غریبوں کو دئیے جائیں تو یہ بھی اچھا ہے کیونکہ اس سے دوسروں کے دلوں میں بھی خیرات کا جذبہ بیدار ہوگا اور اگر نفلی صدقات پوشیدہ طور پر مستحقین کو دے دئیے جائیں تو یہ علانیہ دینے سے بہتر ہے کیونکہ اس طرح عمل ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے لیکن اعمال مفروضہ مثلاً زکوۃ، صوم رمضان اور فرض نماز کا اظہار بہتر ہے۔ تاکہ ترک فرض کے الزام سے محفوظ رہے۔ والمراد من الصدقات علی ما ذھب الیہ جمھور المفسرین صدقات التطوع (روح ص 44 ج 3) ذھب جمہور المفسرین الی ان ھذہ الایۃ فی صدقۃ التطوع لان الاخفاء فیھا افضل من الاظھار وکذالک سائر العبادات الاخفاء افض (رح) فی تطوعھا لانتفاء الریاء عنھا ولیس کذالک الواجبات قال الحسن اظھار الزکوۃ احسن واخفاء التطوع افضل (کبیر ص 519 ج 2) ۔ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ ۭ۔ ان نیکیوں کی برکت سے اللہ تمہاری خطائیں معاف کردے گا۔ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عالم الغیب خبیر وبصیر اور حاضر وناظر ہونے کے نظرئیے کو بار بار دہرایا ہے۔ کیونکہ گناہوں سے بچنے کا سب سے زیادہ مؤثر اور اکسیری نسخہ یہی ہے۔
Ayah 2:272534 بعض مسلمان اس خیال سے اپنے کافر رشتہ داروں کو صدقہ نہیں دیتے تھے کہ شاید تنگدستی اور مفلسی کی وجہ سے ایمان لے آئیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کو صدقہ دیا کرو۔ باقی رہی ان کی ہدایت تو تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔ وہ اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کان ناس من الانصار لھم قرابات من بنی قریظةوالنضیر وکانوا لا یتصدقون علیھم رغبة منھم فی ان یسلموا اذا احتاجوا نزلت الایة بسبب اولئک (قرطبی ص 337 ج 3)535 تمہارے صدقات سے اگرچہ محتاجوں کو فائدہ پہنچتا ہے مگر یہ فائدہ دنیویو اور فانی ہے ان سے اصل فائدہ تو تم اٹھاؤگے جب آخرت میں ان صدقات کا ثواب تمہیں ملیگا۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ ۔ یہ لفظا خبر ہے مگر معنیً نہی ہے یعنی تم اللہ کی رضاجوئی کے سوا کسی اور غرض مثلا ریاکاری وغیرہ کے لیے خیرات مت کرو۔ الثانی ان ھذا وان کان ظاھر لاخبرا الا ان معناہ نھی ای ولا تنفقوا الا ابتغاء وجہ اللہ (کبیر ص 523 ج 2) وَمَا تُنْفِقُوْا الخ۔ یہ جملہ ماقبل کی تاکید ہے اور اس میں اخلاص نیت کی ترغیب ہے۔ مطلب یہ کہ اخلاص نیت سے تمہارا خرچ کیا ہوا مال رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ تمہیں اس کا وپرا پورا اجر وثواب ملے گا اور تمہاری ذرہ بھر حق تلفی نہیں ہوگی۔
Ayah 2:273536 لِلْفُقَرَاۗءِ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای حذہ الصدقات للفقراء (مدارک ص 107 ج 1) یعنی ان صدقات کے اصل مستحق تو وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں مراد مجاہدین اور طالبان علوم دین ہیں۔ جنہیں دین کے کاموں سے اتنی فراغت نہیں ملتی کہ وہ خود روزی کما سکیں۔ اصل میں یہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ یہ کم وبیش تین سو فقراء مہاجرین تھے جن کا کوئی کاروبار نہیں تھا۔ یہ لوگ ہر وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے اور علم دین حاصل کرتے تھے اور اگر ضرورت ہوتی تو جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ یہ فقیر اور محتاج مجاہد اور طالب علم چونکہ گداگری نہیں کرتے اور لوگوں سے بھیک نہیں مانگے۔ اس لیے جو لوگ ان کے حال سے واقف نہیں ہیں وہ انہیں دولت مند سمجھتے ہیں۔ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ ۔ سیما کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں اور الحاف کے معنی ہیں اصرار اور الحاح یعنی مانگنے میں ضد کرنا اور لیے بغیر نہ ٹلنا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مفلسی ان کے چہرے کی ظاہری۔ سیما کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ اور الحاف کے معنی ہیں اصرار اور الحاح یعنی مانگنے میں ضد کرنا اور لیے بغیر نہ ٹلنا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مفلسی ان کے چہرے کی ظاہری حالت۔ ان کی عاجزی اور انکساری سے معلوم ہوسکتی ہے۔ مگر وہ کسی سے ہرگز سوال نہیں کرتے۔ الحافا۔ سوالا محذوف کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ الحاح واصرار سے سوال نہیں کرتے تو اس سے معلوم ہوا کہ اگر بوقت ضرورت بغیر الحاح سوال کیا جائے تو جائز ہے جیسا کہ سورة توبہ کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ وَلَا عَلیَ الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لَا اَجِدُ مَا اَحْمِلُکُمْ عَلَیْهِ ۔ (توبہ رکوع 12) ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ۔ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہے وہ تمہیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 2:274537 اس ٓیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر وقت اور ہر حال میں خیرات کرنے اور خدمت دین میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے لیل ونہار سے عموم اوقات اور سرد علانیہ سے عموم احوال مراد ہے لیل کو نہار پر اور سر کو علانیہ پر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ صدقہ میں اخفاء اور چھپا کردینا افضل اور بہتر ہے۔ المراد باللیل والنھار جمیع الاوقات کما ان المراد بما بعدہ جمیع الاحوال وقدم اللیل علی النہار والسر علی العلانیۃ للایذان بمزیۃ الخفاء علی الاظہار (روح ص 47 ج 3)