2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تو تم پر یہی حرام کیا ہے مردہ جانور اور لہو اور گوشت سور کا اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا314 پھر جو کوئی بےاختیار ہوجائے نہ تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں315 بیشک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان

314 اب یہاں سے ان چیزوں کی حرمت کا بیان شروع ہوتا ہے جن کو مشرکین حلال سمجھتے تھے۔ اس آیت میں حصر کے ساتھ چار چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ 1 ۔ مردار۔ 2 ۔ بہنے والا خون۔ 3 ۔ خنزیر۔ 4 ۔ نذر لغیر اللہ۔ اب ایک اشکال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اِنَّمَا کلمہ حصر استعمال کر کے حرام چیزوں کو صرف چار میں بند کردیا ہے حالانکہ ان چار چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں جن کی حرمت خود قرآن میں اپنی جگہ مذکور ہے تو پھر اس حصر کا کیا مطلب ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں چوپایوں کی حلت و حرمت کا کوئی قانون بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصود صرف مشرکین کی خود ساختہ تحیلیل کی تردید ہے۔ مشرکین نے بحیر، سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کو جن کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا اپنی طرف سے حرام کر رکھا تھا۔ تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن چیزوں کو تم نے حرام ٹھہرا رکھا ہے وہ حرام نہیں ہیں بلکہ حرام تو صرف یہ اشیاء ہیں۔ لیس المراد من الایۃ قصر الحرمۃ علی ما ذکر مطلقاً کما ھو الظاھر۔۔۔ بل مقید بما اعتقدوہ حلالا (روح ص 43 ج 2) میتة سے مراد ہر وہ جانور ہے جو ذبح کیے یا ہلاک کیے بغیر از خود مرجائے یا اسے ذبح تو کیا جائے لیکن وہ ذبح شرعی طریقہ کے مطابق نہ ہو۔ وھی التی ماتت من غیر زکوۃ شروعیۃ (روح ص 41 ج 2) جس طرح مردار کا گوشت کھانا حرام ہے اسی طرح اس کے باقی تمام اجزاء سے فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں۔ البتہ اس کے بال، ہڈی بشرطیکہ اسے تمام رطوبتوں سے پاک صاف کرلیا گیا ہو، اور اس کا چمڑہ دباغت (رنگائی) کے بعد پاک ہیں۔ ان کا استعمال جائز ہے اور دَمْ (خون) سے مراد دم، مسفوح ہے یعنی وہ خون جو جانور کے بدن کے کسی حصہ سے بہہ کر نکلے جیسا کہ ذبح کے وقت رگوں سے خون نکلتا ہے۔ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ ۔ خنزیر کے تمام اجزاء یعنی گوشت کھال، ہڈی، چربی، بال وغیرہ سب حرام ہیں۔ اس کے بدن کے کسی حصہ سے انتفاع جائز نہیں کیونکہ وہ نجس العین ہے اور گوشت کی تخصیص صرف اس لیے کی گئی ہے کہ گوشت ہی جانور کا مقصودی اور ضروری حصہ ہوتا ہے جب وہ حرام ہے تو باقی اجزاء بطریق اولی حرام ہوں گے۔ ان مھرمات میں سے چوتھی چیز مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰه ِہے۔ اُھِلَّ اِھْلَال سے ہے جس کے معنی آواز بلند کرنے اور شہرت دینے کے ہیں۔ الاھلال اصلہ رفع الصوت (کبیر ص 120 ج 2) یعنی وہ جانور بھی حرام ہیں جنہیں غیر اللہ کے نام پر شہرت دیدی جائے۔ اور غیر اللہ کی تعظیم اور خوشنودی کے لیے نامزد کردیا جائے۔ مثلا اگر کسی مشرک نے اپنے معبود کے لیے بکرا یا مرغا نامزد کردیا یا کسی مسلمان نے کسی نبی یا ولی کے لیے کوئی جانور نامزد کردیا اور مقصد یہ رکھا کہ یہ راضی ہوجائیں گے اور میری حاجت پوری کردیں گے یا مشکل آسان کردیں گے تو یہ جانور حرام ہیں اگر اسی نیت سے ان کو ذبح کیا گیا اور ذبح کے وقت خدا ہی کا نام لے کر ان کی گردن پر چھری چلائی تو پھر بھی یہ حلال نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اس مشرکانہ نیت کی وجہ سے وہ جانور حرام ہوگیا ہے۔ لہذا اب خدا کا نام لے کر ذبح کرنے سے وہ حلال اور پاک نہیں ہوگا جس طرح کتاب اور خنزیر خدا کا نام لے کر ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح غیر اللہ کی تعظیم اور خوشنودی کی خاطر نامزد کیا ہوا جانور بھی خدا کا نام لے کر ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوسکتا۔ جو شخص غیر اللہ کے تقرب اور رضا کے لیے ایسا کرتا ہے یعنی غیر اللہ کے لیے جانور کو نامزد کر کے پھر اسی نیت پر اسے ذبح بھی کر ڈالتا ہے تو وہ شخص مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور وہ ذبیحہ حرام ہوتا ہے۔ قال العلماء لو ان مسلماا ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہا التقرب الی غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحۃ مرتد (کبیر ص 121 ج 2، نیشاپوری ص 102 ج 2) ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فتاوی عزیزیہ میں رقمطراز ہیں کہ :۔ در حدیث صحیح وارد شدہ کہ ملعون من ذبح لغیر اللہ یعنی ہر کہ بذبح جانور تقرب بغیر خدا نماید ملعون است خواہ در وقت ذبح نام خدا بگیرد یا نہ۔ زیرا کہ چوں شہرت داد کہ ایں جانور برائے فلانست ذکر نام خدا بوقت ذبح فائدہ نہ کرد چہ آں جانور منسوب با آں غیر گشت وخبثے در آں پیدا شد کہ زیادہ از خبث مردار است وہرگاہ ایں خبث دروے سرایت کرد و دیگر بذکر نام خداوند حلال نمی شود مانند سگ وخوک کہ اگر بنام خداوند مذبح شوند حلال نمی گردند (فتاویٰ عزیزی ص 56 ج 1) ترجمہ : صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص جانور ذبح کرنے سے غیر اللہ کا تقرب چاہے وہ معلون ہے۔ ذبح کے وقت خدا کا نام لے یا نہ لے کیونکہ جب اس نے مشہور کردیا کہ یہ جانور فلاں غیر خدا کے لیے ہے تو ذبح کے وقت خدا کا نام لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جب وہ جانور بطور نذر ومنت غیر خدا کی طرف منسوب ہوگیا تو اس میں مردار سے بھی بڑھ کر نجاست پیدا ہوگئی اور اس میں اس طرح گھس جائے گی کہ اب وہ خدا کا نام لے کر ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوگا جس طرح کتا اور خنزیر ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتے۔ اس کی مزید تحقیق سورة مائدہ میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالی۔315 اس آیت میں اضطراری حالت کا حکم بیان فرمایا کہ اگر کوئی شخص بھوک سے مرا جارہا ہو اور کھانے کے لیے کوئی حلال چیز موجود نہ ہو، یا کسی کو کسی ظالم و جابر نے حرام چیز کھانے پر مجبور کیا ہو اور نہ کھانے کی صورت میں جان کا خطرہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں مذکورہ بالا حرام چیزوں مثلاغیر اللہ کی نیاز وغیرہ میں سے بقدر ضرورت کھالے تو اسے گناہ نہیں ہوگا۔ وھذہ الضرورۃ لھا سببان احدھما الجوع الشدید وان لا یجد ماکولا حلالا یسد بہ الرمق فعند ذلک یکون مضطرا الثانی اذا اکرھہ علی تناولہ مکرہ فیحل لہ تناولہ (کبیر ص 121 ج 2) مگر اس اجازت کے ساتھ دو قیدیں بھی لگا دیں ایک غیر باغ کی اور دوسری ولا عاد کی۔ غیر باغ کا مطلب یہ ہے کہ صرف بوقت ضرورت کھائے اور بلا ضرورت نہ کھائے اور ولا عاد کا مطلب ہے کہ بقدر سد رمق کھائے اور ساتھ نہ لائے مگر آج کل عرسوں میں کیا ہوتا ہے غیر اللہ کی نیازیں پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور پھر بطور تبرک باندھ کر ساتھ گھر لے جاتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ جو تمہارے گناہوں پر بھی بعض اوقات مواخذہ نہیں کرتا اور مشکل اوقات میں آسانیاں بہم پہنچا دیتا ہے۔
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب316 اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ317 اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن318 اور نہ پاک کریگا ان کو اور ان کے لئے ہے عذاب دردناک

316 نذر غیر اللہ کے احکام بیان کرنے کے بعد اب ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف اخروی بیان فرمائی جو نہ صرف یہ کہ نذر غیرا للہ کے احکام چھپاتے ہیں بلکہ خود غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے بھی ہیں جن کو اللہ نے صاف صاف حرام فرمایا ہے۔ آج کل جو مولوی اور گدی نشین نذر ونیاز کا صحیح مسئلہ بیان نہیں کرتے بلکہ خود غیر اللہ کی نیازیں مزے سے کھاتے ان کے لیے بھی آخرت میں یہی سزا مقرر ہے۔ یہ آیت اگرچہ یہود کے حق میں نازل ہوئی تھی جو تورات میں بیان کیے ہوئے حلت و حرمت وغیرہ کے احکام اور آنحضرت ﷺ کے تورات میں بیان کردہ اوصاف چھپاتے تھے لیکن اس کا حکم عام ہے اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے علماء کو بھی شامل ہے جو خدا کی کتاب کے احکام کماحقہ لوگوں تک نہیں پہنچاتے خصوصاً توحید کے اثبات اور شرک و بدعت اور نیازات غیر اللہ کی تردید کے متعلق قرآنی آیات کو لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے۔ اور اس حق پوشی سے ان کا مقصد صرف دنیا کی حقیر دولت کمانا اور اپنی گدیوں کو محفوظ کرنا ہوتا ہے کیونکہ حق بتانے سے ناجائز نذرونیاز کی تمام آمدنیاں بند ہوجاتی ہیں اس لیے ان دنیوی منافع اور آمدنیوں کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نذریں غیر اللہ کے خدائی احکام لوگوں سے چھپائیں کیونکہ اگر عوام کو معلوم ہوجائے کہ غیر اللہ نذر ونیاز دین میں ناجائز اور حرام ہے تو پھر وہ کیوں انہیں نذریں نیازیں پیش کریں گے۔ 317 حق چھپانے کی وجہ سے جو رقمیں، نذریں اور ہدیے ان کو ملتے ہیں۔ یہ سب جہنم کی آگ ہیں اور یہ ظالم دنیا میں یہ چیزیں کھا کر جہنم کی آگ سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ چونکہ یہ چیزیں جہنم کی آگ میں جلنے کا سبب اور موجب ہیں تو گویا یہی جہنم کی آگ ہیں۔ لانہ لما اکل ما یوجب النار فکانہ اکل النار (کبیر ص 123 ج 2)318 ان سے کلام نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ قیام کے دن خدا کی رحمت و شفقت سے محروم کردئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ مہربانی اور رحمت کے ساتھ ان سے کلام نہیں کرے گا بلکہ حکم ہوگا اخسئوا (دفع ہوجاؤ) اور انہیں نیازیں کھانے اور دوسرے گناہوں کی میل اور گندگی سے پاک نہیں کرے گا۔ ای لایطھرھم من دنس الذنوب (روح ص 24 ج 2) اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ ۔ ان لوگوں نے تو حق چھپا کر ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی۔ کتاب اللہ جس کے احکام سراسر حق وہدایت تھے اور جس میں نذرونیاز غیر اللہ کی حرمت موجود تھی اسے چھپایا اور ہدایت کی جگہ گمراہی پھیلائی۔ محض دنیا کی حقیر دولت اور گدیوں کی حفاظت کی خاطر بسبب کتمانھم الحق للمطامع الدنیۃ والاغراض الدنیویۃ (روح ص 44 ج 2) اگر یہ لوگ نذر غیر اللہ کا مسئلہ جس کی حرمت ان کی کتاب میں بصراحت مذکور ہے اور اسی طرح دیگر مسائل کو بیان کرتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے تو ان کے لیے مغفرت تھی لیکن انہوں نے یہ مسئلہ چھپایا اور عملاً اس کی خلاف ورزی کی اس وجہ سے ان کے لیے عذاب ہے انہوں نے دنیا میں تو ہدایت کی بجائے گمراہی اختیار کی اور آخرت کی زندگی کے لیے جو سب سے بڑی نعمت ہدایت یافتہ ہونے کی صورت میں ان کے لیے مقدر تھی اسے گمراہی اختیار کر کے عذاب دائمی سے تبدیل کرلیا۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب بدلے بخشش کے سو کس قدر صبر کرنے والے ہیں وہ دوزخ پر319

319 یہ فعل التعجب ہے یعنی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنیکے لیے وہ بہت دلیر ہیں جبھی تو وہ بےکھٹکے کتمان ِ حق کیے جا رہے ہیں۔ اور خدا کے عذاب کی ذرا پرواہ نہیں کرتے ما اشجعہم علی النار اذ یعملون عملا یؤدی الیھا (قرطبی ص 236 ج 2)
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ اللہ نے نازل فرمائی کتاب سچی320 اور جنہوں نے اختلاف ڈالا کتاب میں وہ بیشک ضد میں دور جا پڑے321

320 ذٰلِکَ سے مذکورہ عذاب کی طرف اشارہ ہے اور بان۔ لیستیقنوا محذوف کے متعلق ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہ ھُوَ الْحَقُّ (حج ع 1) ای لتستیقنوا بان اللہ الخ اور ایک جگہ فرمایا۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوْا اللہ وَرَسُوْلَہ (انفال ع 2) اور اَلْکِتَاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ الکتب جنس ہے۔ الحق سے مراد سچائی یا دلیل اور حجت ہے۔ بالحق ای بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی ص 237 ج 2) اور بالحق میں با بمعنی لام ہے اور اس کے بعد مضاف محذوف ہے ای لاظہار الحق (مدارک) یعنی یہ عذاب اس لیے دیا جائے گا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ نے ان پر اظہار حق کے للیے کتاب نازل فرمائی جس میں نیازات غیر اللہ کی حرمت کا بیان تھا مگر وہ باز نہ آئے کیونکہ وہ محض ضدی اور معاند تھے۔ 321 اب جن لوگوں نے ہماری کتابوں میں اختلاف پیدا کیا ہے اور ان کے تمام احکام کو قبول کرنے میں تامل کیا ہے ان لوگوں کے پاس نہ کوئی صحیح دلیل ہے اور نہ کوئی معقول عذر۔ انہوں نے محض شدید مخالفت کی بنا پر ایسا کیا ہے اور یہ مخالفت قبول حق سے بہت دور ہے اور ضد وعناد کی حد تک پہنچی ہوئی ہے تو جو لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کو چھپائیں اور گمراہی کی راہ اختیار کریں۔ ان کی یہی سزا ہے۔ چناچہ یہودی علماء اور ان کے پیر جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ نذر غیر اللہ کی حرمت ان کی تورات میں موجود ہے مگر اس کے باوجود وہ اس کو چھپاتے ہیں وہ محض ضد اور عناد کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس عذاب شدید کے مستحق ٹھہرائے گئے ہیں۔ یہی حال بعض موجودہ پیروں اور گدی نشینوں کا ہے جو محض ضد وعناد کی وجہ سے گمراہ ہورہے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ جنہوں نے اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے محض ضدوعناد کی وجہ سے اختلاف کیا ہے اور دوسری جگہ فرمایا کہ اختلاف صرف بڑے بڑے عالموں اور پیروں نے کیا ہے۔ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ ۔ (بقرہ :213) اور ایک اور جگہ فرمایا کہ ان علماء اہل کتاب نے اختلاف جان بوجھ کر کیا وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ (آل عمران ع 2)
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف322 یا مغرب کی لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر333 اور دے مال اس کی محبت پر324 رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور ما نگنے والوں کو اور گردنیں چھڑا نے میں325 اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب عہد کریں326 اور صبر کرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت327 ہی لوگ ہیں سچے328 اور یہی ہیں پرہیزگار

322 ۔ لفظ بر عام ہے اور نیکی تمام انواع کو شامل ہے۔ البر جامع لانواع الخیر والطاعات المقربۃ الی اللہ تعالیٰ والخطاب لاھل الکتابین۔ (روح ص 44 ج 2) اس آیت میں یہود ونصاریٰ کو خطاب ہے۔ بحث رسالت کے اختتام پر تحویل قبلہ کے متعلق دوبارہاہل کتاب کے خیال کی تردید فرما دی ہے۔ تحویل قبلہ کے معاملہ کو اہل کتاب کو بڑے شدومد کے ساتھ بیان کرتے تھے اور اس کے ذریعہ لوگوں کو آنحضرت ﷺ سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکیداً ان کا دوبارہ رد فرمایا ہے۔ یہودی مغرب کی طرف بیت المقدس کو صحیح قبلہ سمجھتے تھے اور عیسائی جانب مشرق کو کیونکہ حضرت مریم درد زہ کے وقت شہر سے مشرق کی جانب نکلی تھیں اور دونوں گروہوں کا عقیدہ تھا کہ ان کا قبلہ صحیح ہے باقی تمام قبلے غلط ہیں۔ اور اصل نیکی یہ نہیں ہے بلکہ اصل نیکی تو خالص ایمان اور عمل صالح یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننا اور ان کی تعمیل ہے وہ جس سمت منہ کرنے کا حکم دیدے۔ بس وہی اصل قبلہ ہے نیز اس میں ان مشرک اقوام کی بھی تردید ہے جو ان سمتوں کو خیر وشر اور موت وحیات کا منبع ومصدر سمجھ کر مقدس جانتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ 323 البر چونکہ معنی ہے اور مِنْ اٰمَنَ ذات ہے جو اس پر محمول نہیں ہوسکتی اس لیے یہاں یا تو البر سے پہلے " ذا " محذوف ہے یا مَنْ آمن سے پہلے بر مضاف محذوف ہے یعنی ولکن ذالبر من امن یا ولکن البر بر من امن، یہود ونصاریٰ کے باطل خیال کی تردیدی کے بعد اصل نیکی کا بیان فرمایا کہ اصل نیکی تو ایمان اور عمل صالح ہے۔ چناچہ اس آیت میں ایمان کا ذکر ہے۔ یعنی اللہ پر، قیامت پر، فرشتوں پر، خدا کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر۔ لیکن ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو خالص ہو اور شرک سے پاک ہو یہودونصاریٰ کے ایمان کی طرح نہ ہو جو خدا پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو خدا کے شریک سمجھتے تھے اور انہیں پکارتے تھے والمراد بھذالایمان ایمان خال عن شائبۃ الاشراک لا اکالایمان الیھود والنصآری القائلین عزیر ابن اللہ والمسیح ابن اللہ۔ (روح س 45 ج 2) اسی طرح فرشتوں، پیغمبر اور کتابوں پر بھی بلا تفریق ایمان لائے۔ ایسا نہ ہو کہ بعض فرشتوں اور پیغمبروں کو مانے اور بعض سے عداوت رکھے اسی طرح بعض کتابوں کو مانے اور بعض کو نہ مانے۔ ایسا ایمان قابل قبول نہیں۔ 324 اب یہاں سے اعمال صالحہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اعمال کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق مال خرچ کرنے سے ہے۔ دوسرے وہ جن کا تعلق انسان کے بدن سے ہے۔ حُبِۤہٖ کی ضمیر المال کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال و دولت کی محبت کے باوجود وہ اسے خرچ کرے۔ ذوی القربی۔ یہ اٰتی کا مفعول ہے اور رشتہ دار سے مراد غریب اور محتاج رشتہ دار ہیں والیتامی یتیم کی جمع ہے اور یتیم ہر اس نابالغ کو کہتے ہیں جس کا باپ مرچکا ہو جب یتیم کا اپنا کوئی مال نہ ہو تو اس کی پرورش بھی اس کے قریبی رشتہ داروں پر لازم ہے۔ والمسکین۔ مسکین کی جمع ہے یعنی حاجت مند اور محتاج وابن السبیل یعنی مسافر جب سفر میں بےخرچ ہوجائے اگرچہ اس کے گھر میں مال موجود ہو۔ والسائلین۔ اس سے مراد بھی حاجت مند لوگ ہی ہیں تو مساکین اور سائلین میں یہ فرق ہے کہ مساکین وہ ہیں جو کسی سے نہ مانگیں اور سائلین وہ ہیں جو مانگ لیں۔ اھل الحاجۃ ثم ھم ضربان منھم من یکف عن السؤال وھو المراد ھھنا ومنھم من یسال ویتبسط وھو المراد بقولہ والسائلین (کبیر ص 146 ج 2)325 رَقَبَۃ کی جمع ہے اور رقبہ سے مجازا شخص مراد ہے۔ الرقبۃ مجاز عن الشخص (روح ص 47 ج 2) رقاب میں خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چھڑا یا جائے۔ ای فی تخلیص الرقاب وفکا کہا (روح ص 47 ج 2) یہاں فک رقاب سے بعض مفسرین نے غلاموں کو آزاد کرانا اور بعض نے قیدیوں کو چھڑانا مراد لیا ہے مگر عموم لفظ اس بات کا مقتضی ہے کہ اس سے یہ دونوں مراد ہوں اور ان کے علاوہ وہ مقروض جو موحد ہو اور مشرک نہ ہو اس کی امداد کرنا بھی اس میں شامل ہو۔ یہاں تک مالی صدقات کا ذکر تھا۔ اب آگے نماز کا ذکر ہے جو تمام عبادات بدنیہ میں سب سے اعلی۔ وَاَقَامَ الصَّلٰوة۔ اقامت صلوۃ کا مفہوم اوَیُقِیمُوْنَ الصَّلٰوةَکے تحت گذر چکا ہے۔ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۔ پہلے نفلی صدقات کا ذکر تھا یہاں فرضی صدقہ یعنی زکوۃ کا ذکر فرمایا ہے۔ والمراد بالصلوۃ المفروضۃ کالزکوۃ فی واتی الزکوۃ بناء علی ان المراد بما مر من ایتاء المال نوافل الصدقات (روح ص 47 ج 2) ۔326 عقائد وعامل کی تصحیح کے بعد اب حسن اخلاق کا ذکر کیا جارہا ہے اور عہد سے یہاں کوئی خاص عہد مراد نہیں بلکہ اس سے ہر وہ عہد مراد ہے جس کسی انسان نے کسی دوسرے انسان سے کیا ہو یا اللہ تعالیٰ سے کیا۔ ای فیما بینہم وبین اللہ تعالیٰ وفیما بینہم وبین الناس۔ (قرطبی ص 343 ج 2) والظاھر حمل العھد علی ما یشمل حقوق الحق وحقوق الخلق (روح ص 47 ج 2) انسانوں سے کیے گئے صرف ان وعدوں کا پورا کرنا جائز اور لازم ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہوں۔ خلاف شریعت کام کے متعلق وعدہ پورا کرنا جائز نہیں۔ خدا سے کیے ہوئے عہد میں خدا کے نام کی نذر اور خدا کے نام کی قسم بھی شامل ہیں۔ اگر خدا کے لیے نذر مانی ہے تو اسے پورا کرنا واجب ہے البتہ غیر اللہ کی نذرومنت ناجائز اور شرک ہے اور کوئی جہالت سے مان بیٹھے تو اس سے توبہ کرے اور اس کو پورا نہ کرے۔ اسی طرح اگر کسی نے خدا کے نام کی قسم کھائی ہے اگر وہ ناجائز کام پر نہیں تو اسے ضرور پورا کرے اگر ناجائز کام پر ہے تو قسم توڑ دے۔ غیر اللہ کے نام کی قسم کھانی درست نہیں۔ الصّٰبِرِیْنَ ۔ منصوب علی المدح اور اس کا عامل محذوف ہے یعنی امدح۔ الصابرین کو ماقبل سے اس لیے جدا کیا گیا ہے تاکہ صابرین کی مزید فضیلت ثابت ہوجائے۔ الباسآء والضراء۔ دونوں کے معنی شدت اور تکلیف کے ہیں لیکن باساء کا تعلق مال سے ہے یعنی فقر وفاقہ وغیرہ اور ضراء کا تعلق بدن سے ہے جیسے بیماری، الباساء فی الاموال کالفقر والضراء فی النفس کالمرض (بیضاوی ص 46) اور الباس سے مراد جنگ و جہاد ہے ای وقت القتال وجھاد العدو (روح ص 48 ج 2) مطلب یہ کہ صرف آرام سے نماز پڑھنے ہی سے کام نہیں چلے گا بلکہ جہاد بھی کرنا پڑے گا۔ اور مال وجان میں تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی۔ اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے۔ 328 اُولئِکسے مذکورہ بالا صفات سے متصف لوگ مراد ہیں یعنی نیکی کے سچے طالب تو وہ لوگ ہیں جن میں ایمان وعمل (یعنی اللہ کے احکام کو دل وجان سے ماننے) اور حسن اخلاق کی مذکورہ بالا تمام خوبیاں موجود ہوں نہ کہ وہ لوگ جنہوں نے مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے کو ہی نیکی سمجھ رکھا ہے اور اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اور یہی لوگ پرہیز گار ہیں۔ یہ آیت تمام اعمالِ خیر کی جامع ہے۔ اس میں تمام بنیادی عقائد اور ضروری اعمال آگئے ہیں اس لحاط سے یہ آیت اصول دین میں سے ایک بہت بڑی اصل ہے۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض ہوا تم پر (قصاص) برابری کرنا مقتولوں میں329 آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت330 پھر جس کو معاف کیا جائے331 اس کے بھائی کی طرف سے332 کچھ بھی تو تابعداری کرنی چاہیے موافق دستور کے اور ادا کرنا چاہیے اس کو خوبی کے ساتھ333 یہ آسانی ہوئی تمہارے رب کی طرف سے اور مہربانی پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لئے ہے عذاب دردناک

329/1 ۔ حصہ دوم (1) جہاد فی سبیل اللہ۔ (2) انفاق فی سبیل اللہ تمہید : یہاں تک سورة بقرہ کا پہلا حصہ جس میں توحید و رسالت کا بیان تھا، ختم ہوگیا۔ اب آگے دوسرا حصہ شروع ہورہا ہے۔ اس حصہ میں دو مسئلے بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے۔ ایک جہاد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں اللہ کی توحید اور اس کے دین کی خاطر لڑنا اور دوسرا انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے دین کی خاطر اپنی دولت خرچ کرنا۔ اصل مسائل شروع کرنے سے پہلے امور انتظامیہ بیان فرمائے ہیں کیونکہ باہمی نظم وضبط اور محبت وانس کے بغیر اجتماعی قوت کے ساتھ جہاد ناممکن ہے اور امور انتظامیہ کی پابندی صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف اور اس کا باطن درست اور اس کی نیت نیک ہو اس لیے امور انتظامیہ کے ساتھ اور ان کے درمیان چند امور مصلحہ کا ذکر فرما دیا۔ مثلاً نماز روزہ، حج۔ اس کے بعد جہاد کا ذکر ہے اور جہاد کے حکم کے ساتھ ساتھ امور مصلحہ بھی ذکر ہو رہے ہیں تاکہ روزہ سے باطن کی صفائی حاصل ہوجائے اور حج کے موقع پر بیت اللہ میں حاضر ہو کر اللہ سے فتح کے لیے دعا کرو کیونکہ وہاں دعا قبول ہوتی ہے اور نماز سے باہمی محبت پیدا ہوگی۔ 329/2 امور انتظامیہ میں سے یہ پہلا امر انتظامی ہے۔ یہودیوں کے مذہب میں قتل کی سزا صرف قتل ہی تھی۔ معافی کی صورت کوئی نہیں تھی۔ عیسائیوں کے یہاں بس ایک ہی عفو و درگذر کا قانون تھا۔ قصاص نہیں تھا۔ عرب میں قصاص اور عفو دونوں چیزیں موجود تھیں۔ لیکن ان میں بہت افراط وتفریط سے کام لیا جاتا تھا۔ اگر قاتل کوئی معمولی آدمی ہوتا اور مقتوھل بڑا خاندانی تو اس کے عوض قاتل کے قبیلہ سے کئی آدمی قتل کردئیے جاتے تھے۔ اس طرح بڑے لوگ اپنے زخموں کے عوض بھی دگنی تگنی دیتیں وصول کرتے تو اللہ تعالیٰ نے قصاص اور دیت کے احکام نازل فرما کر ان تمام بےاعتدالیوں کی اصلاح فرما دی۔ قصاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو (کبیر ص 150 ج 2، روح ص 49 ج 2) یہاں مراد یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے قتل کیا جائے اور قصاص صرف حکومت ہی لے سکتی ہے عوام کو اختیار نہیں ہے کہ وہ خود اپنے مقتولیں کا قصاص لیتے پھریں کیونکہ اس سے بہت بڑی بےاعتدالیوں کا دروازہ کھل جائے گا۔ عداوتیں بڑھ جائیں گی اور زمین میں دنگا فساد برپا ہوجائے گا۔ اتفق ائمۃ الفتویٰ علی انہ لا یجوز لاحد ان یقتص من احد حقہ دون السلطان ولیس للناس ان یقتص بعضہم من بعض (قرطبی ص 256 ج 2) ۔330 حنفیہ کے نزدیک اگر کسی آزاد نے غلام کو یا کسی مرد نے عورت کو قتل کردیا تو غلام کے بدلے آزاد اور عورت کے بدلے مرد کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ حضرت علی، حضرت ابن مسعود ؓ ، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، ابن ابی لیلی، قتادہ اور حکم بن عتیبہ کا بھی یہی مسلک ہے (قرطبی ص 246 ج 2) امام شافعی اور دوسرے ائمہ کے نزدیک غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ البتہ عورت کے بدلے مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ اس آیت میں چونکہ آزاد کا آزاد سے اور غلام کا غلام سے اور عورت کا عورت سے تقابل کیا گیا ہے اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد کو آزاد کے بدلے، غلام کو غلام کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلتے تو قتل کیا جائے گا لیکن آزاد کو غلام کے بدلے اور مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اس تقابل کا مفہوم مخالف یہی ہے۔ اس طرح یہ آیت فریقین کے خلاف جاتی ہے۔ امام شافعی نے تو اس کا جواب یہ دیا کہ اس آیت کا ایک حصہ یعنی الانثی با لانثی حدیث سے منسوخ ہے۔ حنفیہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ آزاد کے بدلے غلام قتل نہ کرنے کا حکم آیت کے مفہوم مخالف سے لیا گیا ہے حالانکہ مفہوم مخالف احکام شرعیہ میں حجت نہیں ہے۔ قالہ صاحب المدارک۔ فائدہ :۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب (رح) نے فرمایا کہ مفہوم مخالف اثبات احکام از قسم حلال و حرام کے لیے تو معبتر نہیں البتہ تقدیم وتاخیر یا حصر وغیرہ کا نکتہ بیان کرنے کے لیے اسے ذکر کیا جاسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ، الحر بالحر، میں حصر مقصود نہیں ہے بلکہ مقصد صرف قصاص میں مساوات بیان کرنا ہے یعنی جاہلیت کے زمانہ میں قصاص کے بارے میں جو زیادتیاں کی جاتی تھیں ان کی روک تھام مقصود ہے۔ قالہ الامام ولی اللہ الدھلوی (رح)۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ قصاص کے معنوں میں عموم ہے کہ یہ لفظ قتل اور جراحت دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی آدمی کے ساتھ وہی کچھ کرنا جو اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو۔ اما القصاص فھو ان یفعل بالانسان مثل ما فعل (کبیر ص 150 ج 2) نیز صراح میں قصاص کے یہ معنی لکھے ہیں " کشندہ را باز کشتن وجراحت کردن عوض جراحت " تو آیت میں قصاص بالنفس اور قصاص بالاطراف دونوں کا ذکر ہے۔ چناچہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰيمیں قصاص بالنفس کا حکم ہے۔ اور، الحر بالحر میں قصاص فی الاطراف کا حکم ہے۔ اب اگر مفہوم مخالف بھی مراد لے لیا جائے تب بھی یہ آیت حنفیہ کے خلاف نہیں جاتی۔ کیونکہ قصاص فی الاطراف میں آزاد کے اعضاء کو غلام کے بدلے اور مرد کے اعضاء کو عورت کے بدلے قطع نہیں کیا جاتا۔ قالہ الشیخ روح اللہ تعالیٰ روحہ۔ یہ تو قصاص کا حکم تھا۔ یعنی قصاص نفس اور قصاص اطراف۔ اب آگے فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ سے دیت اور خون بہا کا بیان ہے (دیت نفس اور دیت اطراف)331 مَنْ سے مراد قاتل ہے اور لہ کی ضمیر اسی کی طرف راجع ہے۔ اور مِنْ اَخِیْه ِ میں ضمیر مجرور مَنْ کی طرف راجع ہے اور اَخِیْهِ سے مراد مقتول ہے اور مقتول کی طرف سے معافی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ورثا معاف کردیں۔ مقتول کو قاتل کا بھائی کہہ کر اس لیے ذکر کیا کہ قاتل کے دل میں شفقت اور ندامت کے جذبات پیدا ہوں کہ جسے اس نے قتل کیا ہے وہ کوئی غیر نہیں تھا بلکہ دین اور بشریت میں اس کا بھائی تھا۔ سماہ اخا استعطافا بتذکیر اخوۃ البشریۃ والدین (روح ص 50 ج 2)332 شَیءٌ کی تنوین تنکیر کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء کی طرف سے سب کچھ نہ سہی کچھ ہی معافی دیدی جائے۔ مثلاً قصاص معاف کردیا جائے اور دیت لے لی جائے۔ 333 صلح ہوجانے کی صورت میں قاتل اور مقتول کے ورثاء دونوں کو حسن سلوک کی تلقین فرمائی یعنی مقتول کے ورثاء بھی معقول طریقے سے خون بہا کا مطالبہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ فریق ثانی کو تنگ کرنے کے لیے خون بہا کے مطالبہ میں سختی کریں اور نہ زیادہ کا مطالبہ کریں اسی طرح قاتل کو بھی چاہئے کہ وہ مقررہ رقم معاہدے کے مطاق ادا کرے اور ٹال مٹول نہ کرے۔ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْذالک کا اشارہ حکم مذکور کی طرف ہے۔ یعنی عفو اور دیت کی مشروعیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف اور مہربانی ہے کہ اس نے معافی اور خون بہا کی صورتیں پیدا کردی ہیں کیونکہ عفو کی صورت میں قاتل کو سہولت ہے۔ اور دیت کی صورت میں مقتول کے ورثاء کا فائدہ ہے۔ لما فی مشروعیۃ العفو تسھیل علی القاتل وفی شرعیۃ الدیۃ نفع لاولیاء المقتول (روح ص 51 ج 2) ۔ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَالخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو حدود اللہ کے واضح ہوجانے کے بعد ان سے تجاوز کریں۔ مثلاً قاتل کے بجائے کسی بےگناہ کو قتل کردیں یا معافی اور خون بہا وصول کرنے کے بعد قاتل کو قتل کردیں یا بےگناہ پر قتل کا الزام لگا کر اس پر جھوٹا دعویٰ دائر کردیں۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے اے عقلمندو تاکہ تم بچتے رہو334

334 قصاص اگرچہ بظاہر بہت دشوار اور برا معلوم ہوتا ہے مگر عقلمند اور صاحب ہوش لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ قصاص تو زندگی کا باعث ہے کیونکہ قصا ص کے خوف سے قاتل قتل سے رک جائے گا اور اس طرح قاتل اور مقتول کی جان بچ جائے گی۔ اسی طرح قتل سے قاتل اور مقتول کے قبیلوں میں عداوت اور انتقام جس آگ کے بھڑکنے کا اندیشہ ہے وہ بھی نہیں بھڑکے گی۔ اور اس طرح دونوں خاندان قتل و خونریزی سے بچ کر آرام اور چین کی زندگی بسر کریں گے۔ اس لیے ارشاد فرمایا۔ اے دانش ورو ! قصاص بری چیز نہیں بلکہ یہ تو تمہاری جانوں کی حفاظت کی ضمانت اور تمہاری زندگی کا بیمہ ہے۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ قصاص سے ایک طرف تو تم دنیا میں قتل اور خون خرابہ سے بچ جاو ٓ گے اور دوسری طرف آخرت میں قتل اور فساد فی الارض کے عذاب سے بچ جاؤگے۔
Ayahs 2:180–181

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

فرض کردیا گیا تم پر جب حاضر ہو کسی کو تم میں موت بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال335 وصیت کرنا ماں باپ کے واسطے اور رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ یہ حکم لازم ہے پرہیزگاروں پر

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی بدل ڈالے وصیت کو بعد اس کے جو سن چکا تو اس کا گناہ انہی پر ہے جنہوں نے اس کو بدلا بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

335 ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْالخ۔ خیر سے مراد یہاں مال ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے۔ وَمَاتُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ (بقرہ ع 37) اور معروف سے مراد عدل اور انصاف ہے یعنی وصیت کرنے میں باقی ورثاء کا بھی خیال رکھے کہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَمتقین سے مراد مومنین ہیں اور متقین کی تعبیر سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ حکم وصیت اور اسی طرح دیگر احکامِ الٰہی کی رعایت متقیوں اور پرہیز گاروں کا شیوہ ہے۔ وضع المظھر موضع المضمر للدلالۃ علی ان المحافظۃ علی الوصیۃ والقیام بھا من شعائر المتقین الخائفین من اللہ (روح ص 55 ج 2) ۭفَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗالخ۔ بدلہ اور سمعہ کی منصوب ضمیریں ایصاء کی طرف راجع ہیں جو ماقبل سے مفہوم ہے۔ اِثْمُہٗ کی ضمیر تبدیل کی طرف راجع ہے جو بَدَّلَہٗ میں مذکور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص میت کا وصی ہے یا وصیت کا شاہد ہے اگر یہ لوگ بعد میں میت کی وصیت میں ردوبدل کردیں یا سرے سے وصیت کا انکار ہی کردیں تو اس تبدیل وتغییر کا گناہ ان تبدیل کرنے والوں پر ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والوں اور وصیت میں ردوبدل کرنے والوں کے اقوال وافعال کو سنتا اور جانتا ہے۔ اور وہ ان کے مطابق ہر ایک کو جز ادیگا۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جو کوئی خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرف داری کا یا گناہ کا پھر صلح کرادے ان میں باہم336 تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

336 جنف کے معنی حق سے ناحق کی طرف میلان کے ہیں۔ یہاں اس سے بلا قصد غلطی سے میلان عن الصواب مراد ہے اور اثما سے قصداً میلان عن الصواب مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے آدمی کو ڈر ہو کہ وصیت کرنے والا غلطی سے یا عمداً وصیت میں شرعی ضابطہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے یا دوسرے ورثاء کی حق تلفی کر رہا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی رہنمائی کرے اور اسے حق اور انصاف کی راہ بتائے۔ یہ شخص گنہگار نہیں ہوگا بلکہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وہ گنہگاروں کو بھی معاف کردیتا ہے جو نیک نیتی سے اصلاح کرنے والے ہیں۔ ان کو اپنی رحمت سے کیوں نہیں نوازے گا۔ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا مگر آیت میراث سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اب والدین کے لیے اور اسی طرح دوسرے ورثاء کے لیے وصیت جائز نہیں۔ ثم ھذ الحکم کان فی بدء الاسلام ثم نسخ بایۃ المیراث (روح ص 53 ج 2) حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے جن پانچ آیتوں کو منسوخ مانا ہے ان میں سے ایک یہ ہے لیکن بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے چناچہ صاحب مدارک فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرک ماں باپ اور رشتہ داروں کے حق میں نازل ہوئی تھی اور حکم استحبابی ہے وجوب کے لیے نہیں ہے۔ وقیل کیر منسوخۃ لانھا نزلت فی حق من لیس بوارث بسبب الکفر۔۔ فشرعت الوصیۃ فیما بینہم قضاء لحق القرابۃ ندباً (مدارک ص 73 ج 1) اور حضرت شیخ (رح) اس کی توجیہ اس طرح فرماتے ہیں کہ یہاں وصیت والدین اوراقربین کے لیے نہیں بلکہ والدین اوراقربین کو ہے اور المعروف سے مراد حکم شرعی ہے اور مطلب یہ ہے کہ مرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ماں باپ اور رشتہ داروں کو اس بات کی وصیت کرے کہ وہ اس کا ترکہ حکم شرعی کے مطابق تقسیم کریں۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ337 جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر338 تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ

337 یہاں سے امور مصلحہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے روزہ کا حکم فرمایا۔ اس سے پہلے وصیت میں گڑ بڑ کر کے کسی کا حق مارنے سے منع فرمایا اور آگے چل کر وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِسے دوبارہ مال حرام کھانے سے ممانعت فرمائی۔ ان دونوں انتظامی امور کے درمیان ایک امر مصلح یعنی روزہ کا ذکر فرمایا کیونکہ روزہ مال حرام سے اجتناب میں ممد ومعاون ہے بایں طور کہ روزہ سے قرب خداوندی حاصل ہوتا ہے۔ خدا کی محبت اور نیکی کی رغبت بڑھتی ہے۔ باطن پاک وصاف ہوجاتا ہے اور دل گناہوں سے پاک اور مال حرام سے متنفر ہوجاتا ہے چناچہ اسی نکتہ کے لیے احکام روزہ کے درمیان فرمایا۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌالخ۔ کیونکہ ایک روزہ سے انسان ستر سال کی مسافت سے بھی زیادہ خداوند تعالیٰ سے نزدیک ہوجاتا ہے۔ 338 یعنی روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں کیے گئے بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے اور یہ تشبیہ تمام اوصاف میں نہیں ہے بلکہ نفس وجوب میں ہے۔ روزہ ہر پیغمبر کی شریعت میں فرض رہا ہے۔ البتہ روزوں کی تعداد اور وقت میں فرق تھا۔ علی الانبیاء والامم من لدن آدم (علیہ السلام) الی عہدکم فھو عبادۃ قدیمۃ (مدارک ص 73 ج 1) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ یہاں روزہ کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے کہ روزہ بظاہر فاقہ اور تکلیف معلوم ہوتا ہے مگر اس میں تمہارے لیے روحانی فوائد ہیں اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ تم روزے رکھنے سے متقی اور پرہیز گار بن جاؤگے۔ کیونکہ روزہ رکھنے سے قوت شہوانیہ ضعیف ہوجائے گی اور نفس کی خواہش مرغوبات نفسانیہ کی طرف کم ہوجائے گی جس کا نتیجہ گناہوں سے بچنے اور نیکی کے کاموں میں رغبت کی صورت میں ظاہر ہوگا اور یہی تقویٰ ہے اس روحانی تزکیہ کے علاوہ روزہ سے بدن کی اصلاح بھی ہوتی ہے اس لیے مادی اور روحانی دونوں قسم کے فوائد کا حامل ہے۔ ۙاَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۔ یہ کُتِبَ کا مفعول فیہ ہے۔ نصب علی الظرف لکتب ای کتب علیکم الصیام فی ایام (قرطبی ص 256 ج 2) اور ایام معدودات (گنتی کے چند دن) سے مراد ماہ رمضان ہے اور یہ حوصلہ بڑھانے کے لیے فرمایا کہ روزے کوئی زیادہ نہیں ہیں بلکہ گنتی کے چند دن ہیں۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍالخ روزہ کی فرضیت کا حکم دینے کے بعد معذورین کے لیے رعایت کا اعلان فرمادیا کہ جو مسلمان بیمار ہو اور روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو یا کسی شخص کو رمضان میں لمبا سفر پیش آئے تو ان کو اجازت ہے کہ وہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں اور جتنے روزے ان سے چھوٹ جائیں رمضان کے بعد ان کی قضا دے کر ماہ رمضان کے روزوں کی تعداد پوری کرلیں۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دنوں سے339 اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا340 پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

339 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ شروع میں روزے علی التخییر فرض تھے یعنی ہر آدمی کو اکتیار تھا کہ چاہے وہ روزے رکھے یا اگر طاقت ہو تو ہر روزہ کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادے بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض کا خیال ہے یہاں لا مقدر ہے اور اصل میں عبارت یوں ہے۔ ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ لَايُطِيْقُوْنَهٗ ۔ یا ہمزۂ افعال سلب ماخذ کیلئے ہے اور ضمیر منصوب سے مراد روزہ ہے اور اس میں شیخ فانی، حاملہ اور دودھ پلانیوالی عورت کا حکم بیان کیا گیا ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یطیقونہ میں ضمیر منصوب فدیہ کی طرف راجع ہے جو بعد میں مذکور ہے لیکن رتبۃً مقدم ہے کیونکہ وہ مبتداء موخر ہے اور اس آیت سے مراد صدۃ الفطر کا حکم ہے یعنی جو لوگ صدقۃ الفطر کی طاقت رکھتے ہیں ان پر صدقۃ الفطر واجب ہے (الفوز الکبیر) اور مولانا انور شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں ایام بیض کے روزوں کا ذکر ہے اور یہ حکم انہی سے متعلق ہے اور اب بھی یہ حکم باقی ہے۔ ایام بیض کے روزوں میں تخییر ہے چاہے روزے رکھے یا ہر روزہ کے عوض فدیہ دیدے۔ کیونکہ ابھی تک رمضان کی فرضیت نازل نہیں ہوئی تھی۔ وھذا الحکم ایضا یتعلق بالایام البیض ولا تعلق لہ برمضان الخ (فیض البار ج 3 ص 145) دوسری توجیہ یہ فرمائی کہ اطاق یطیق کا استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی چیز بڑی مشقت سے برداشت کی جائے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ مشکل اور مشقت سے روزہ رکھ سکیں۔ وہ فدیہ دیدیں تو اس صورت میں اس سے مراد رمضان کے روزے ہوں گے۔ اور یہ آیت شیخ فانی کے حق میں ہوگی اور اس صورت میں لا کو مقدر کرنے یا ہمزہ کو سلب ماخذ کے لیے ماننے کی ضرورت نہ رہے گی یہ علامہ سے منقول ہے۔ قال الزمخشری ما حاصلہ ان فعل الاطاقۃ بما دتہ لا یستعمل الا فیما یتعذر او یتعسر الخ (فیض البار ص 946 ج 3)340 فدیہ کی معین مقدار تو بہرحال لازم ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے اس کی مقدار میں اضافہ کردے یا ایک کی بجائے دو مسکین کو کھانا کھلا دے تو یہ اس کے لیے اور بہتر اور مزید اجر وچواب کا موجب ہے۔ ای زاد علی مسکین واحد فاطعم مکان کل یوم مسکینین فاکثرو قیل من زاد علی القدر الواجب علیہ فاعطی صاعا وعلیہ مد (معالم ص 130 ج 1) وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ اَنْ مصدریہ ہے اور ان تصوموا بتاویل مفرد مبتدا ہے اور خیر لکم اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سفر اور بیماری کی حالت میں گرچہ رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اگر سفر میں زیادہ تکلیف کا احتمال نہ ہو اور بیماری بھی زیادہ شدید نہ ہو تو روزہ رکھنا بہتر ہے وان تصوموا فی السفر والمرض غیر الشاق (قرطبی ص 290 ج 2) اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ اِنْ کا جواب محذوف ہے ای اخترتموہ یعنی اگر تمہیں معلوم ہو کہ روزہ رکھنے میں کیا فضیلت ہے تو تم سفر اور بیماری میں بھی روزہ رکھو۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

مہینہ341 رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن342 ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو343

341 شھر مبتدا ہے اور اَلّذِی الخ اس کی صفت اور فَمَنْ شَھِدَ الخ اس کی خبر ہے اور شَھْرُ رَمَضَانَ کی صفت چونکہ اسم موصول ہے اور اس وجہ سے وہ متضمن معنی شرط ہے اس لیے اس کی خبر پر فاء کا دخول صحیح ہے۔ شھر رمضان مبتداء خبرہ الموصول بعدہ او فمن شھد و لفاء لتضمنہ معنی الشرط لکونہ موصوف بالموصول (روح ص 59 ج 2) یہاں ماہ رمضان کی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ جس مہینے کے روزوں کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہ بہت ہی فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس میں قرآن مجید اتارا گیا۔ رمضان میں قرآن مجید اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ رمضان میں اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ کیونکہ سارا قرآن تو تقریبا تئیس سال میں نازل ہوا تھا۔ ای ابتدا فیہ انزالہ وکان ذلک لیلۃ القدر (روح ص 61 ج 2) 342 ھدی اور بینات دونوں القران سے حال ہیں یعنی قرآن تمام دنیا جہاں والوں کے لیے ہدایت کا ایک جامع پروگرام ہے اور پھر اس کے دلائل ایسے ٹھوس اور واضح ہیں جو ہدایت کی تمام راہوں کو روشن کرتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم کرتے ہیں۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۔ جن کے نزدیک پہلے روزے کی جگہ فدیہ دینا جائز تھا۔ ان کے نزدیک یہ آیت اس حکم کی ناسخ ہے۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍالخ مریض اور مسافر کا حکم اگرچہ پہلے بیان ہوچکا تھا لیکن فمن شھد کی سراحت سے اس حکم کے نسخ کا احتمال ہوسکتا تھا اس لیے اس حکم کا اعادہ فرمادیا وتکریرہ لئلا یتوھم نسخہ کما نسخ قرینہ (روح ص 62 ج 2) يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ۡ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی مہربانی اور وسعت رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے عذر کی حالت میں روزہ کی معافی دیدی اور ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔343 اس سے پہلے تین احکام بیان فرمائے ہیں یہاں تینوں کی الگ الگ علتیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلے ایک حکم تو یہ تھا کہ رمضان کے پورے روزے رکھو۔ سفر اور بیماری کی حالت میں جو روزے رہ جائیں۔ رمضان کے بعد ان کی قضا دو ۔ دوسرا حکم چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کے طریقہ کے متعلق تھا اور تیسرا حکم بیماری اور سفر کی حالت میں رخصت کا تھا۔ اب یہاں ترتیب وار تینوں کی علتیں بیان فرمائی ہیں۔ یعنی رمضان کے روزوں کی گنتی کا خیال رکھنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ تمہاری گنتی پوری ہوجائے۔ اور کوئی روزہ کم نہ رہے۔ اور قضا کا طریقہ تمہیں بتایا تاکہ تم اللہ کے اس احسان پر اس کی عظمت اور برتری کا اقرار کرو۔ اور عذر کی حالت میں تمہیں روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی تاکہ تم اس کے اس انعام کا شکریہ ادا کرو۔ فقولہ لتکملوا علۃ الامر بمراعاۃ العدۃ ولتکبرو علۃ ما علم عن کیفیۃ القضاٗ والخروج عن عھدۃ الفطرۃ ولعلکم تشکرون علۃ الترخیص (مدارک ص 74 ج 1)
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں344 قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو345 جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا346 اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں

344 یہ جملہ معترضہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے قرب کا بیان ہے روزہ چونکہ قرب الٰہی حاصل کرنے کا موجب ہے اس لیے روزہ کے بعد قرب الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور بڑائی کا بیان تھا اس لیے اس سے اللہ کے بعد کا تصور آسکتا تھا۔ اس لیے صحابہ ؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ہمارا خدا دور ہے یا نزدیک۔ اگر دور ہے تو اس کو زور زور سے پکاریں اور اگر نزدیک ہے تو آہستہ پکاریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عَنِّىْ کے معنی ہیں میرے قرب اور بعد کے متعلق یعنی پیگمبر جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں کہ آیا ہمار رب قریب ہے یا دور، تو آپ ان سے فرمائیں کہ میں نزدیک ہوں دور نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ہر جگہ قریب ہے جہاں چاہو اس کی عبادت کرو اور جہاں سے چاہو پکارو لیکن مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی قبروں پر جا کر ان کو مافوق الاسباب حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے پکارتے ہیں وہ اللہ کے بندے وہاں بھی ان سے دور ہوتے ہیں اور ان کی دعاء و پکار کو نہ سن سکتے ہیں اور نہ ان کی حاجت روائی کی قدرت رکھتے ہیں۔ 345 اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کی دلیل بیان فرمائی ہے۔ یہاں اجابت کے معنی قبول کرنے کے ہیں اور دعاء کے معنی عبادت کے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خالص میری عبادت کرتے ہیں اور توحید کے پابند ہیں ان کی عبادت اور پکار قبول کرلیتا ہوں تو اس سے معلوم ہوا کہ مشرک کی عبادت اور دعاء مردود ہوتی ہے ای اقبل عبادۃ من عبدنی فالدعاء بمعنی العبادۃ والاجابۃ بمعنی القبول (قرطبی ص 308 ج 2)346 جس طرح وہ مجھے حاجات میں پکارتے ہیں اور میں ان کی پکار سنتا ہوں اسی طرح انہیں بھی چاہئے کہ وہ میری دعوت ایمان و توحید قبول کریں اور میری اطاعت وفرمانبرداری کریں۔ فلیستجیبوا لی اذا دعوتھم للایمان والطاعۃ کما انی اجیبھم اذا دعونی لحوائجھم (مدارک ص 75 ج 1، روح ص 64 ج 2) ۔ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ ۔ اور خالص ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اس میں شرک کی ملاوٹ نہ کریں۔ امر بالثبات والمداومة علی الایمان (روح ص 64 ج 2) ۔ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ۔ تاکہ ان پر رشدوہدایت کے دروازے کھل جائیں اور وہ دین ودنیا کی مصالح کو سمجھ سکیں۔ ای یھتدون لمصالح دینھم ودنیا ھم (روح ص 64 ج 2)
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

حلال ہوا تم کو روزہ کی رات میں بےحجاب ہونا اپنی عورتوں سے347 وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو انکی348 اللہ کو معلوم ہے کہ تم خیانت کرتے تھے اپنی جانوں سے سو معاف کیا تم کو349 اور درگزر کی تم سے پھر ملو اپنی عورتوں سے اور طلب کرو اس کو جو لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے350 اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری سفید صبح کی جدا دھاری سیاہ سے351 پھر پورا کرو روزہ کو رات تک352 اور نہ ملو عورتوں سے جب تک کہ تم اعتکاف کرو مسجدوں میں353 یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی سو ان کے نزدیک نہ جاؤ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ بچتے رہیں354

347 شروع شروع میں جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی اس وقت جس طرح دن کو کھانے پینے اور جماع سے علیحدگی کا حکم تھا اسی طرح رات کو بھی ان چیزوں سے بچنا لازم تھا۔ صرف اس قدر اجازت تھی کہ غروب آفتاب کے وقت روزہ افطار کرنے کے بعد سے لے کر سوجانے تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت تھی ایک دفعہ سوجانے کے بعد اجازت نہیں تھی اس تنگی کی وجہ سے بعض دفعہ صحابہ کرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑتی۔ چناچہ حضرت قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزہ سے تھے اور دن بھر ایک باغ میں مزدور کرتے رہے افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے کھانے کی کوئی چیز طلب کی۔ چونکہ کوئی چیز موجود نہیں تھی اس لیے ان کی بیوی کہیں سے کوئی چیز لینے کے لیے گئی۔ جب لیکر واپس آئی تو وہ دن کے تھکے ماندے سو چکے تھے اس لیے اب کچھ نہیں کھا سکے۔ صبح پھر روزہ رکھنا تھا۔ اگلے دن جب دوپہر ہوئی تو بیہوش ہوگئے۔ یہ واقعہحضور ﷺ سے بیان کیا گیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی ص 314 ج 2) لَيْلَةَ الصِّيَامِ ، الرَّفَثُکا مفعول فیہ ہے اور الرفث سے جماع مراد ہے۔ والرفث کنایۃ عن الجماع لان اللہ عز وجل کریم یکنی (قرطبی ص 315 ج 3) یعنی اب روزوں کی راتوں میں بیویوں سے مشغول ہونا تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ 348 یعنی اب رات کے وقت میاں بیوی کا باہمی اختلاط جائز ہے۔ عربی زبان میں لباس کے معنی راحت اور سکون کے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے یہاں یہی منقول ہے۔ ای ھن سکن لکم وانتم سکن لھن قالہ ابن عباس (روح ص 65 ج 2) یعنی عورتیں تمہارے لیے آرام اور سکون کا باعث ہیں اور تم ان کے لیے۔ 349 خیانت در اصل عہد پورا نہ کرنے سے عبارت ہے۔ الخیانۃ عبارۃ عن عدم الوفاء بما یجب علیہ (کبیر ص 201 ج 2) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اگر رمضان کی راتوں میں حرمت جماع کا حکم باقی رہتا تو تم اس کو پورا نہ کرسکتے اور تم سے اس حکم کی خلاف ورزی ہوجاتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے حرمت جماع کا حکم اٹھالیا اور بوقت شب بیوی سے مباشرت کی اجازت دیدی اس سے معلوم ہوا کہ ابھی صحابہ کرام ؓ سے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔ ان المراد علم اللہ انکم کنتم تختانون انفسکم لو دامت تلک الحرمۃ ومعناہ ان اللہ یعلم انہ لودام ذلک التکلیف الشاق لوقعوا فی الخیانۃ وعلی ھذا التفسیر ما وقعت الخیانۃ (کبیر ص 201 ج 2) فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر مہبانی فرمائی اور سابقہ حکم اٹھا لیا وسع علیکم ان اباح لکم الاکل والشرب والمباشرة فی کل اللیل (کبیر) بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض صحابہ سے خیانت یعنی حکم کی خلاف ورزی ہوگئی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے وہ حکم اٹھا لیا اور گذشتہ خیانت کا گناہ معاف کردیا۔350 مباشرت سے مراد جماع ہے اور مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۔ (جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں لکھا ہے) سے مراد اولاد ہے قال ابن عباس وومجاھد والحکم بن عتیبۃ وعکرمۃ والحسن والسدی والربیع والضحاک معناہ وابتغوا الولد (قرطبی ص 318 ج 2) یعنی اب اجازت ہے رات کو اپنی بیویوں سے مباشرت کرو اور خدا نے جو اولاد تمہاری قسمت میں لکھی ہے۔ اس کی تلاش کرو۔ اس آیت سے اس طرف اشارہ ہے کہ مباشرت سے جنسی تسکین کے علاوہ سب سے بڑا مقصد افزائشِ نسل ہے۔ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا۔ یعنی اب رات کے وقت عورتوں سے مباشرت کے علاوہ تمہیں کھانے پینے کی بھی اجازت ہے۔351 اس آیت میں تینوں چیزوں یعنی مباشرت، کھانے اور پینے کی آخری غایت اور حد بیان کردی ہے جس تک یہ تینوں کام جائز ہیں۔ غایۃ الثلاثة من الشیاء من الجماع والاکل والشرب (بحر ص 50 ج 2) حیط ابیض (سفید دھاری) سے روشنی کی وہ لمبی لکیر مراد ہے جو صبح کے وقت افق کے ساتھ ساتھ نمودار ہوتی ہے اور خیط اسود (سیادہ دھاری) سے مراد رات کی تاریکی ہے۔ الخیط الابیض ھو اول ما یبدو من الفجر المعترض فی الافق کالخیط المدود من الخیط الاسود وھو مایمتد من سواد اللیل (مدارک ص 75 ج 1) ۔ مِنَ الْفَجْرِیہ الخیط الابیض کا بیان ہے اور اس بیان سے اس طرف اشارہ ہے کہ سفیدی سے بیاض معترض یعنی صبح صادق کی سفیدی مراد ہے جو زمین کے ساتھ ساتھ پھیلتی ہے اور بیاض مستطیل یعنی صبح کی سفیدی مراد نہیں جو صبح صادق سے پہلے ایک لمبے خط کی صورت میں آسمان پر ظاہر ہوتی ہے۔ سیاہ دھاری سے سفید دھاری کے نمودار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رات کی تاریکی سے صبح صادق کی روشنی افق کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوجائے بس اس حد تک یعنی طلوع صبح صادق تک مباشرت اور کھانا پینا جائز ہے۔ 352 پہلے روزے کی ابتداء بیان کی۔ اب یہاں اس کی غایت کا ذکر ہے یعنی صبح صادق سے لے کر رات کی ابتداء تک روزہ پورا کرو۔ معلوم ہوا کہ رات روزہ میں داخل نہیں اور رات غروب آفتاب سے شروع ہوتی ہے لہذا غروب آفتاب کے ساتھ ہی روزہ ختم ہوجاتا ہے۔ غروب آفتاب کے بعد سرخی کے غائب ہونے کا انتظار کرنے کی ضرور نہیں بلکہ مکروہ ہے جیسا کہ جہلاء میں مشہور ہے۔ فظاھر الایۃ ان الصوم ینتہ عند دخول اللیل (کبیر ص 205 ج 2)353 اس آیت میں اعتکاف کا حکم بیان فرمایا ہے یعنی ویسے روزوں میں رات کے وقت بیوی سے مباشرت جائز ہے مگر اعتکاف کی صورت میں رات کو بھی مباشرت جائز نہیں۔ مباشرت سے مراد جماع ہے۔ اگر رات کے وقت معتکف نے بیوی سے صحبت کرلی تو اس کا اعتکاف باطل ہوگیا۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۔ تلک سے مذکورہ احکام کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ ان کے قریب بھی مت جاؤ۔ ای ھذہ الاحکام حدود اللہ فلا تخالفوھا (قرطبی ص 337 ج 2)354 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے روزے کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے احکام اوامر ونواہی کا علم ہوجائے اور وہ اس کے اوامر ونواہی کی مخالفت بچ کر پرہیز گار بن جائیں۔ اعتکاف کے مسائل : حنفیہ کے نزدیک رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں کسی ایسی مسجد میں اعتکاف بیٹھنا سنت موکدہ ہے جس میں پانچوں نمازیں باجماعت پڑھی جاتی ہوں۔ اگر ایک محلہ میں ایک آدمی اعتکاف بیٹھ جائے تو دوسروں سے اعتکاف ساقط ہوجائے گا کیونکہ وہ سنت کفایہ ہے۔ اعتکاف کے لیے مسجد اور روزہ شرط ہے۔ اعتکاف کی حالت میں طبعی حاجات مثلاً کھانا پینا اور قضائے حاجت کے بغیر مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔ بعض شرعی ضروریات کے لیے بھی مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔ مثلاً دوسری مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لیے جانا اگر اعتکاف والی مسجد میں جمعہ نہ ہوتا ہو۔ اور نماز جنازہ وغیرہ۔ اگر کسی طبعی یا شرعی ضرورت کے لیے مسجد سے باہر نکلے تو ضرورت سے زیادہ مسجد سے باہر نہ رہے اگر بلا ضرورت مسجد سے باہر رہا تو اس سے اعتکاف باطل ہوجائے گا۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ان سے اعتکاف بھی باطل ہوجاتا ہے۔ اعتکاف کی حالت میں نہ بلا ضرورت دنیوی باتیں جائز ہیں اور نہ ہی بالکل خاموش رہنا جائز ہے بلکہ ذکر اللہ، تلاوت قرآن اور صلوۃ وسلام میں مصروف رہنا چاہئے۔ قصاص اور وصیت دو انتظامی امر بیان کرنے کے بعد ایک امر مصلح یعنی روزہ کا بیان فرمایا۔ روزہ چونکہ تقویٰ و طہارت کی ترغیب دیتا ہے اور باطن کا تزکیہ کرتا ہے۔ کیونکہ روزہ کے ذریعہ مسلمان کو حلال مرغوبات سے باز رہنے کا عادی بنایا جارہا ہے۔ یعنی روزہ میں خدا کے حکم سے طلوع صبح صادق اور غروب آفتاب کے درمیان اکل وشرب اور جماع ممنوع ہے حالانکہ یہ چیزیں فی نفسہ حلال ہیں۔ روزہ میں حلال چیزوں سے روک کر حرام چیزوں سے دور رہنے اور بچنے کا جذبہ پیدا کیا گیا ہے چناچہ اسی مناسبت سے روزہ کے بعد اکل حرام کی ممانعت فرمائی۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق355 اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک356 کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کر کے (نا حق) تم کو معلوم ہے357

355 یہاں کھانے سے لینا اور قبضہ کرنا مراد ہے۔ المراد من الاکل مایعم الاخذ والاستیلاء (ص 69 ج 2) باطل سے مراد ہر وہ طریقہ ہے جو حرام ہو اور شریعت کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو۔ والمراد من الباطل الحرام کالسرقہ والغصب وکل ما لم یاذن باخذہ الشروع (روح ص 70 ج 2) تو اس تفسیر کے مطابق توحید اور حق چھپانے کی بنا پر جو نذریں، نیازیں اور تحفے تحائف وصول ہوں گے وہ بھی باطل ذریعے کے تحت داخل ہوں گے۔ اسی طرح رشوت، جھوٹے مدعی کی وکالت اور دیگر غیر شرعی پیشوں سے جو کمائی حاصل ہوگی وہ سب اس کے تحت آئے گی۔ 356 اس کا عطف تاکلوا پر ہے یعنی نہ غیر شرعی اور حرام ذریعے سے ایک دوسرے کا مال کھاؤ اور نہ ہی اپنا مال بطور رشوت حاکموں کو دو ۔ لتاکلوا فریقاًًًً من اموال الناس بالاثم۔ حکام کو رشوت دینے کا مقصد ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے کہ جو فیصلہ اپنے خلاف جاتا ہو اسے اپنے حق میں کرالیا جائے اور اس طرح ناجائز طور پر ایک اصل حقدار کی حق تلفی کر کے غیر شرعی طریقے سے اس پر قبضہ کیا جائے رشوت دینے کے اس گھٹیا مقصد کو اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کیا ہے۔ یعنی اس گھٹیا اور غیر شرعی مقصد کی خاطر حاکموں کو رشوت نہ دو ۔357 اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم دوسرے بھائی کی حق تلفی کر رہے ہو۔ اور اس کے مال پر ناجائز قبضہ کر رہے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص رشوت دے کر یا اپنی چرب زبانی کے ذریعے جج یا قاضی سے اپنے حق میں فیصلہ کرا کر دوسرے کا مال حاصل کرلیتا ہے تو قاضی کا فیصلہ اگرچہ بظاہر نافذ ہوجائے گا۔ مگر عنداللہ وہ شخص سخت مجرم ہے اور اس کا مال لینا اس کے لیے حرام ہے کیونکہ قاضی یا جج کے فیصلہ سے حرام چیز حلال نہیں ہوسکتی۔ ومن الاکل بالباطل ان یقضی القاضی لک وانت تعلم انک مبطل فالحرام لا یصیر حلالا بقضاء القاضی لانہ انما یقضی بالظاھر وھذا جماع فی الاموال (قرطبی ص 338 ج 2)