2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 2:150–153

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں سے تو نکلے منہ کر اپنا مسجد الحرام کی طرف اور جس جگہ تم ہوا کرو منہ کرو اسی کی286 طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جھگڑنے کا موقع مگر جو ان میں بےانصاف ہیں287 سو ان سے (یعنی ان کے اعتراضوں سے) نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور اس واسطے کہ کامل کروں تم پر فضل اپنا تاکہ تم پاؤ راہ سیدھی

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں کا پڑھتا ہے تمہارے آگے آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تم کو اور سکھلاتا ہے تم کو کتاب اور اس کے اسرار اور سکھاتا ہے تم کو جو تم نہ جانتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے مسلمانو ! مدد لو صبر اور نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا الصخرۃ وھذا النبی۔۔۔ الی الصخرۃ فلایکون النبی الموعود (روح ص 17 ج 2) مشرکین کا یہ اعتراض تھا کہ محمد ﷺ دعویٰ تو یہ کرتا ہے کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہے مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کی مخالفت کرتا ہے لہذا وہ ملت ابراہیمی پر بھی نہیں۔ اب تحویل قبلہ سے مشرکین کا یہ اعتراض بھی رفع ہوگیا۔ وتدفع احتجاج المشرکین بانہ (علیہ الصلوۃ والسلام) یدعی ملۃ ابراہیم ویخالف قبلتہ (روح ص 17 ج 2) یعنی ہم نے تحویل قبلہ کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ مخالفین کو ان معقول اعتراضات کا موقع بھی نہ مل سکے۔ 287 ۔ یہ الناس سے استثناء ہے۔ ا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔ سے مراد معاندین لوگ ہیں۔ الا المعاندین منہم (مدارک ص 65 ج 1) یعنی مخالفین میں سے جو لوگ ضدی نہیں ہیں تحویل قبلہ کے بعد ان کے پاس تو کوئی معقول اعتراض باقی نہیں رہے گا۔ البتہ جو لوگ ضدوعناد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں وہ تو تحویل قبلہ کے بعد بھی حجت بازی سے باز نہیں آئیں گے۔ چناچہ یہودی یہ کہیں گے، محض اپنے آبائی شہر کی محبت اور آبائی دین کی طرف ربت کی وجہ سے اس پیغمبر نے کعبہ کو قبلہ بنایا ہے۔ مشرکین معاندین کہیں گے کہ اب اسے سمجھ آئی ہے اس نے اپنے باپ دادا کا قبلہ مان لیا ہے، اور عنقریب ہی اپنے دین کو چھوڑ چھاڑ ہمارے دین واپس آنا چاہتا ہے وغیر ذالک۔ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ۔ لہذا تم ان کی مخالفت سے مت ڈرو اور تحویل قبلہ کے بارے میں ان کی اعتراضات کی پروا مت کرو اور میرے عذاب سے ڈرو اور میرے احکام کی تعمیل کرو۔ فلا تخافوا مطانعہم فی قبلتکم فانھم لا یضرونکم (مدارک ص 65 ج 1) ۔ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ ۔ اس کا عطف لِئَلَّا يَكُوْنَ ۔ پر ہے۔ اتمامِ نعمت سے یہاں مراد تعیینِ قبلہ ہے۔ واتمام النعمۃ الھدایۃ الی القبلۃ (قرطبی ص 170 ج 2) تحویل قبلہ اس لیے کی ہے کہ تم پر دنیوی اور روحانی نعمتوں کا اتمام کروں۔ دنیا میں اس طرح کہ کعبہ کو تماہررا مرکز اور قبلہ بنادینے کی وجہ سے تمہیں وہ شرف اور برتری حاصل ہوگی جو اور کسی کو حاصل نہیں۔ ماحصل للعرب من لاشرف بتحویل القبلۃ الی الکعبۃ (بحر ص 443 ج 1) کعبہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات و تجلیات کا مرکز ہے اس لیے نماز جیسی عبادت کے لیے جو مومنین کے لیے معراج کا درجہ رکھتی ہے۔ خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا سب سے بڑی اخروی اور روحانی نعمت ہے۔ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ تاکہ تمہیں ملت ابراہیمی کی سیدھی راہ مل جائے۔ كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۔ اس کی تفسیر رکوع 15 میں گذر چکی ہے۔ کاف تشبیہ کے لیے ہے اور مَا مصدریہ ہے یعنی جس طرح ہم نے ان خوبیوں والا پیغمبر تم میں بھیج کر تم پر بہت بڑا انعام و احسان کیا۔ اسی طرح تعیین قبلہ سے ہم نے تم پر اپنی نعمت تام کردی۔ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ اور وہ پیغمبر تمہیں وہ باتیں بتاتا ہے جن کو نہ تم جانتے ہو اور نہ وحی کے بغیر ان کو معلوم کرسکتے ہو۔ مما لا طریق الی معرفتہ سوی الوحی (روح ص 19 ج 2) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خاتم النبیین ﷺ کی پانچ صفتیں یا پانچ حیثیتیں بیان فرمائی ہیں۔ 1 ۔ آپ کتاب اللہ کی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سناتے ہیں۔ 2 ۔ آپ لوگوں کو کتاب اللہ کے الفاظ کی کیفیت ادا، اس کے مطالب ومعانی اور اسرار و رموز سکھاتے ہیں۔ 3 ۔ اپنی سنت اور اسوہ حسنہ کے ذریعے کتاب اللہ کے احکام کی صحیح تعبیر وتصویر اور ان کا عملی نمونہ بتاتے ہیں۔ 4 ۔ ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کی روحانی تربیت کر کے ان کے عقائد، اعمال اور اخلاق کا تزکیہ بھی فرماتے ہیں۔ 5 ۔ تمام امور دین جن کا لوگوں کو علم نہ ہو، اور نہ ہی وہ کسی ذریعہ سے ان کا علم حاصل کرسکیں۔ خدا کا پیغمبر ایسے تمام امور میں اللہ کی طرف سے ان کی راہنمائی کرتا ہے اور اس آیت میں یہ تمام افعال رَسُوْلاً سے حال ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام صفات وحیٹیات سے اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو متصف کر کے بھیجا ہے۔ یہ نہیں کہ لوگوں نے اور سوسائٹی کے افراد نے یہ ڈیوٹیاں آپ کے ذمہ لگا دی تھیں جیسا کہ منکرین حدیث کہتے ہیں کہحضور ﷺ کی خدا کی طرف سے ڈیوٹی صرف یہ تھی کہ آپ آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں اور بس۔ باقی کام آپ نے اپنے طور پر کیے۔ یا لوگوں کی درخواست پر آپ ایسا کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید کی یہ آیت اس خیال کی تردید کرتی ہے اور واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ یہ تمام ذمہ داریاں خدا کی طرف سے آپ کے سپرد تھیں لہذا آپ کے ہر قول وفعل اور آپ کی ہر سنت پر عمل واجب ہے بشرطیکہ وہ صحت کے ساتھ ہم تک پہنچ جائے۔ کیونکہحضور ﷺ کی سنت اور آپ کے اسوہ کے بغیر قرآن کا سمجھنا ناممکن ہے۔ ړفَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ۔ لہٰذا تم میرے انعامات کے شکریہ کے طور پر ہر وقت مجھے یاد رکھو۔ میرے احکام مانو۔ اصرف میری ہی عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو تو میں بھی تمہیں اجر وثواب اور مزید انعام واکرام سے نوازوں گا۔ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِتوحید کی پابندی اور احکام کی تعمیل سے میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ کفر وشرک اور طغیان وعصیان سے میری نعمتوں کی ناقدری نہ کرو۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں :۔ واشکروا لی ایہا المؤمنون فیما انعمت علیکم من الاسلام والھدایۃ للدین الذی شرعتہ لانبیائی واصفیائی (ابن جریر ص 22 ج 2) یعنی اے ایمان والو ! میری اس نعمت کا شکر ادا کرو کہ میں نے تم کو اسلام اور دین توحید کی توفیق دی ہے جسے میں نے اپنے تمام انبیاء اور برگزیدہ بندوں کے لیے مقرر کیا تھا۔ ۧيٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۔ مسلمانوں کو آئے دن دشمنانِ اسلام کی طرف سے مصائب و تکالیف کا سامنا تو ہوتا ہی رہتا تھا۔ اب تحویل قبلہ کی وجہ سے معاندین کو ایذا رسانی کا ایک اور بہانہ ہاتھ آگیا۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ وہ ہر قسم کی مشکلات اور مصائب میں اپنے خدا پر بھروسہ رکھیں اسی کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھیں اور اسی کے آگے جھکیں۔ صبروصلوۃ کی پابندی ان میں ایسا استقلال اور سکون پیدا کرے گی کہ وہ دنیا ومافیہا سے بےنیاز اور ہر خطرہ سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ صبر کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ خصوصی مدد فرماتا ہے۔ یہ اس خصوصی نصرت ویاری ہی کے آثار تھے کہ صحابہ کرام ؓ کئی معرکوں میں قلت عدد اور بےسروسامانی کے باوجود فتح یاب ہوئے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور نہ کہو ان کو جو مارے گئے خدا کی راہ میں کہ مردے ہیں288 بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو خبر نہیں

288 پہلے مصائب پر سبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ اب یہاں بیان فرمایا کہ تحویل قبلہ کے معاملہ میں اگر کوئی مسلمان یہودیوں کے ہاتھوں شہید ہوجائے تو اس کی موت چونکہ اللہ کی راہ میں واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اسے مردہ مت کہو اسی طرح جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر کافروں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہو کرداغِ جدائی دے گئے کیونکہ وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں۔ انہیں بھی مردے مت کہو۔ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ بلکہ وہ تو زندہ ہیں۔ لیکن تمہیں اس کا ادراک نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ ان کو دنیا سے رخصت ہوجانے اور فی سبیل اللہ مقتول ہو کر طبعی موت پاجانے کے بعد عالم برزخ میں ایک امتیازی زندگی اور حیات عطا کی جاتی ہے جو دوسرے غیر شہداء مومنین کو حاصل نہیں ہوتی اور اس حیات کا تعلق چونکہ عالم برزخ سے ہے۔ اس لیے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ تم اپنے حواس ومشاعر سے اس کا ادراک نہیں کرسکتے۔ اس مسئلہ کی مکمل تحقیق سورة آل عمران میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور تھوڑی سی بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے289 اور خو شخبری دے ان صبر کرنیوالوں کو

289 بلآء کے معنی آزمانے اور امتحان لینے کے ہیں۔ والمعنی لنمتحننکم (قرطبی ص 173 ج 2) یعنی ہم تمہارا امتحان لیں گے۔ خوف سے مراد دشمن کا خوف ہے اور اس میں وہ تمام ڈراوے، دھکمیاں اور مشکلات ومصائب بھی داخل ہیں جو تحویل قبلہ کے سلسلہ میں ان کو یہود کی طرف سے پہنچیں گی۔ اور بھوک سے قحط سالی مراد ہے۔ اموال کی کمی سے مویشیوں اور کھیتیوں کا ضائع ہونا، جانوں کی کمی سے عزیزوں اور دوستوں کی موت اور پھلوں کی کمی سے باغات کی تباہی یا بچوں کی موت مراد ہے۔ کیونکہ بچہ انسان کا ایک عمدہ نتیجہ اور پیارا پھل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ تم پر اللہ کی طرف سے امتحان وابتلاء کے طور پر مشکلات ومصائب آئیں گی تاکہ کھرے کھوٹے میں امتیاز ہوجائے۔ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ ۔ یہاںحضور ﷺ کو مخاطب فرمایا کہ آپ مصائب میں صبر کرنے والوں اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کو خوشخبری سنا دیں اس سے معلوم ہوا کہ مصائب ومشکلات کے ذریعے مسلمانوں کا امتحان لے کر انہیں صبر و استقلال کا سبق سکھانا مقصود ہے۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں290

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر

290 اگر تحویل قبلہ کے سلسلہ میں انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ یہ الصابرین کی صفت ہے اور اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اجر وثواب کے مستحق صرف وہی صابر ہیں، جو مصیبت کی ابتداء میں صبر کرتے ہیں۔ لہذا جو لوگ نزول مصیبت کے وقت انتہائی بےصبر اور جزع وفزع کا اظہار کریں اور بعد میں صبر کریں، وہ اس اجر کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ مصیبت کے بھول جانے پر تو صبر کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ اصل صبر جس پر اجر وثواب ملتا ہے وہ تو صدمہ کی ابتداء میں ہوتا ہے۔ اشارۃ الی ان الاجر لمن صبر وقت اصاب تھا کما فی الخبر انما الصبر عند اول صدمۃ (روح ص 23 ج 2) اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر تو یہ ہے کہ مصیبت کے وقت زبان سے واویلا اور جاہلیت کی باتیں کرنے کی بجائے انا للہ وانا الیہ راجعون کہنا چاہئے۔ یعنی ہم اللہ کے مملوک اور غلام ہیں وہ ہمارا مالک وآقا ہے۔ ہمارے امور میں اسے ہر قسم کے تصرف کا اختیار ہے اور ہم اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ دنیا میں اگرچہ ہم مصائب میں مبتلا رہے ہیں اور کفار کی ایذائیں سہی ہیں۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ ہمیں چین و آرام عنایت فرمائیگا پہلے حصہ میں بندگی اور مملوکیت کا اعتراف ہے اور دوسرے حصہ میں بعث بعد الموت کا اقرار ہے۔ وللہ معناہ الاقرار بالملک والعبودیۃ للہ فھو المتصرف فینا بما یرید من الامور وانا الیہ راجعون اقرار بالبعث (اُولئِک یہ مذکورہ بالا صابرین کی طرف اشارہ ہے یعنی جو لوگ مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ ۔ کہتے ہیں۔ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ۔ صلوٰت صلوۃ کی جمع ہے جس سے دنیا وآخرت میں اللہ کی عفو و درگذر، رحمت و برکت، اور اس کا اعزاز واکرام مراد ہے۔ وصلوۃ اللہ علی عبدہ عفوہ ورحمتہ وبرکتہ و تشریفہ ایاہ فی الدنیا والاخرۃ (قرطبی ص 177 ج 2) اور رحمۃ کا لفظ تاکید اور مزید تعمیم کے لیے ہے۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت اور اس کی عنایات خاصہ کے مستحق ہوں گے۔ ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ۔ یہاں مہتدون سے فائزون مراد ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کی خدا نے صفائی دیدی اور انہیں اپنی رحمت خاصہ سے نواز دیا ان سے بڑھ کر کون کامیاب ہے۔ والمعنی اولئک ھم الفائزون بمطالبھم الدینیۃ والدنیوۃ فان من نال تزکیۃ اللہ تعالیٰ ورحمتہ لم یفتہ مطلب (روح ص 24 ج 2)
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی291 سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ تو کچھ گناہ نہیں اس کو کہ طواف کرے ان دونوں میں292 اور جو کوئی اپنی خوشی سے کرے کچھ نیکی تو اللہ قدرداں ہے سب کچھ جاننے والا

291 یہ دوسرے شبہ کا جواب ہے۔ یہ صفا ومروہ وہی دونوں پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ ؓ نے اپنے معصوم بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لیے پانی کی تلاش میں سات چکر کاٹے تھے۔ بعد میں مشرکین نے ان پہاڑیوں پر دو بت نصب کردئیے اور ان کی پوجا پاٹ شروع کردی۔ صفا پر اساف کا بت اور مروہ پر نائلہ کا بت تھا۔ مشرکین صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرتے وقت ان بتوں کو بھی ہاتھ لگاتے اور چومتے تھے۔ غلبہ اسلام کے بعد ان بتوں کو توڑ دیا گیا لیکن ان بتوں کی وجہ سے اور گذشتہ زمانے میں ان دونوں پہاڑیوں کے مشرکوں کا تیرتھ بنے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کے میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت اور انقباض سا پیدا ہوگیا تو انہوں نےحضور ﷺ کی خدمت میں اپنے اس شبہ کا اظہار کیا۔ ممکن ہے کہ یہود اور مشرکین نے بھی عناداً یہ اعتراض کیا ہو کہ ان پہاڑیوں پر تو آج تک شرک اور بت پرستی ہوتی رہی ہے اور یہ پیغمبر ان پہاڑیوں کی تعظیم کرتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی توحید کی یادگاریں ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قائم کی تھیں۔ اس لیے ان کا طواف بھی کیا کرو تاکہ ملت ابراہیم کی اتباع پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔ 292 یہ ماقبل پر مرتب ہے اور جناح کے معنی گناہ کے ہیں۔ یعنی جب صفا اور مروہ خدا کی توحید کی یادگاریں ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اسے ان کے طواف کرنے میں قطعاً کوئی گناہ نہیں۔ اور نہ ہی گذ شتہ زمانہ میں ان پہاڑیوں کے شرک گاہ ہونے کی وجہ سے اس کے دل میں کسی قسم کا انقباض ہونا چاہیے اور یہاں طواف سے دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی اور دوڑ مراد ہے جو حج اور عمرہ کے موقع پر کی جاتی ہے۔ یہ سعی حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب اور باقی ائمہ کے نزدیک فرض ہے۔ فریقین کے دلائل کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ بعض لوگوں نے لاجناح کے لفظ سے سعی کے عدم وجوب پر استدلال کیا ہے کیونکہ جناح کی نفی سے عدم لزوم متبادر ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جناح کی نفی مطلق جواز پر دلالت کرتی ہے۔ واجب اور غیر واجب کے درمیان قدر مشترک ہے۔ لہذا نفی وجوب پر اس کی کوئی دلالت نہیں۔ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۔ لفظ خیر عام ہے۔ اور ہر نیکی کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خوشی خوشی نیکی کے کام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے اور وہ بڑا قدر دان ہے۔ ان کے اخلاص پر مبنی اعمال کی ضرور انہیں جزا دے گا۔ وقال الحسن المراد منہ جمیع الطاعات وھذا اولی لانہ اوفق لعموم اللفظ (کبیر ص 67 ج 2)
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں293 بعد اس کے کہ ہم ان کو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے

293 یہاں اہل کتاب کو زجر اور وعید سنائی جا رہی ہے جنہوں نے امر قبلہ اور صفا ومروہ کے بارے میں تورات وانجیل کے احکام کو چھپایا تھا۔ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَسے مراد یہود اور نصاری ہیں۔ نزلت فی اھل الکتاب من الیھود والنصاری (کبیر ص 67 ج 2) والاقرب انھا نزلت فی الیھود والحکم عام (روح ص 26 ج 2) یعنی یہ آیت نازل تو علماء یہود کے حق میں ہوئی ہے۔ لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اگر امت محمدیہ کے علماء بھی علماء یہود کی روش پر چل کر آیات بینات کو چھپانے لگیں گے تو وہ بھی انہی کے ساتھ ہونگے۔ بینات کا مطلب ہے واضح دلائل اور کھلے نشانات مرادحضور ﷺ کی صفات ہیں جو تورات اور انجیل میں مذکور تھیں۔ اور عموم کی صورت میں بینات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہونگی جن سے مسئلہ توحید کو خوب واضح کر کے بیان کیا گیا ہے اور جن میں مثالیں دے دے کر شرک کی تردید اور توحید کا اثبات کیا گیا ہے اور ہدیً سے مراد توحید اور احکام کی آیتیں ہیں۔ مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۔ الکتاب جنس ہے اور اس سے مراد تورات وانجیل ہے اور عموم کی صورت میں قرآن مجید بھی اس میں شامل ہوگا۔ یعنی ہم نے آیات بینات اور رشدوہدایت کی باتیں کھول کھول کر اس لیے بیان کیں تاکہ انہیں لوگوں تک پہنچایا جائے۔ لیکن لوگوں نے محض نفسانی خواہشات کی خاطر انہیں چھپا ڈالا اور لوگوں پر ان کو ظاہر نہ کیا۔ اُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ ۔ خدا کی لعنت یہ ہے کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کردے گا۔ اور ان کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائے گا اور فرشتوں اور جنوں اور انسانوں کی لعنت سے لعنت کی بد دعاء مراد ہے۔ ای یبعدھم عن رحمتہ ویذیقھم الیم نقمتہ۔۔ ان لعنۃ اللاعنین بمعنی الدعاء علیہم بالابعاد عن رحمۃ اللہ تعالیٰ (روح ص 27 ج 2) یعنی حق چھپانے والوں پر خدا کی بھی لعنت اور پھٹکار پڑتی ہے اور انسان اور جن وملک بھی ان پر لعنت کی بددعاء کرتے ہیں۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کردیا حق بات کو294 تو ان کو معاف کرتا ہوں اور میں ہوں بڑا معاف کر نیوالا نہایت مہربان

294 یہ ماقبل سے استثناء ہے اور تَابُواْ سے مراد یہ ہے کہ امر قبلہ اور صفا ومروہ کے معاملہ میں انہوں نے حق بات چھپانے سے توبہ کرلی اور اصلحوا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اصلاح کرلی اور حق بات کو مان لیا اور بینوا سے مراد یہ ہے کہ جس حق کو چھپاتے رہے یعنی امر قبلہ اور معاملہ صفا ومروہ۔ اب اسے خوب بیان کیا اور اس کی خوب اشاعت کی۔ فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۔ یعنی میں ایسی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں۔ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۔ اور نہ صرف توبہ ہی قبول کرتا ہوں بلکہ پچھلے گناہ معاف کر کے اس کو اپنی رحمت میں لے لیتا ہوں یہ تو ان علماء کا حکم تھا جو تحویل قبلہ اور صفا ومروہ کے شعائر اللہ میں سے ہونے کو حق جانتے تھے اور پھر جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے لیکن بعد میں توبہ کرلی۔ اب آگے ان لوگوں کا حکم بیان فرمایا جو سرے سے ان باتوں کو مانتے ہی نہ تھے اور ان کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے295 کافر ہی انہی پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی

295 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اسم موصول عموم کے لیے ہے اور کفروا سے تمام منکرین اور کفار مراد ہیں۔ کذا قال الامام الرازی (کبیر ص 70 ج 2) اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ۔ جملہ اسمیہ استمرار اور دوام کے لیے ہے یعنی ایسے لوگوں پر ہمیشہ خدا کی لعنت برستی رہتی ہے اور فرشتے اور تمام انسان بھی ان پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہوگا ان پر سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی296

ف 296 وہ لعنت و پھٹکار میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے عذاب میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔ یہاں تک تو آں حضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات اور شبہات کا جواب تھا۔ اور کتمان حق کے انجام بد کا ذکر تھا۔ ربط۔ گذشتہ آیتوں کا ماقبل سے تو ربط یہ ہے کہ ان میں تحویل قبلہ اور صفا ومروہ سے متعلقہ احکام کو چھپانے والوں اور سرے سے ان کا انکار کرنے والوں کے لیے وعید شدید اور کتمان احکام سے تو یہ کرنے والوں، اپنی اصلاح کرنے والوں اور ان کو بیان کرنے والوں کے لیے بشارت کا بیان تھا اور مابعد والی آیتوں سے ان کا ربط اس طرح ہے کہ اگلی آیتوں میں دعویٰ توحید کا اعادہ کیا گیا ہے۔ لہذا مسئلہ توحید کو چھپانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کا بھی وہی حشر ہوگا جو پہلے بیان ہوا۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے297 کوئی معبود نہیں اس کے سوا298 بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا

297 یہاں دعویٰ توحید کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ہوگیا کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار واجب ہے اور جس کا چھپانا کسی حال میں بھی جائز نہیں وہ توحید ہے۔ لما حذر تعالیٰ من کتمان الحق بین ان اول مایجب اظھارہ ولا یجوز کتمانہ امر التوحید (قرطبی ص 190 ج 2) اور اعادہ دعویٰ کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے کہ شروع میں تو شرک فی الدعاء کی نفی تھی۔ اب یہاں سے شرک فعلی کی نفی مقصود ہے یعنی جس طرح اللہ کے سوا کوئی پکارنے کے لائق نہیں اسی طرح اللہ کے سوا نذرومنت کا مستحق بھی کوئی نہیں اور نہ ہی کسی کی تعظیم کے لیے سانڈ وغیرہ چھوڑنے جائز ہیں جیسا کہ آگے اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ الخ میں غیر اللہ کی نذرونیاز اور كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا الخ میں تحریمات لغیر اللہ کا بیان آرہا ہے۔ اِلٰہٌ سے مراد وہ زات ہے جو عالم الغیب، قادر علی الاطلاق، مالک ومختار، حاجت روا ومشکل کشا ہونے کی وجہ سے تمام عبادات مالیہ، بدنیہ، اور لسانیہ کی مستحق ہو، جسے حاجات میں پکارا جائے، مصائب وبلیات میں جس کی پناہ ڈھونڈی جائے، جس کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کی نذریں اور منتیں دی جائیں۔ اور رنج وبلا اور قحط ووباء میں جس کی دہائی دی جائے اس سے مدد طلب کی جائے۔ اور واحد سے مراد یہ ہے کہ وہ بےمثل او بیگانہ ہے۔ ذات وصفات میں بےنظیر ہے۔ اور استحقاق عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ و اکثر الناس علی ان الواحد ھنا بمعنی لا نظیر لہ ولا شبیہ فی ذاتہ ولا فی صفاتہ ولا فی افعالہ۔۔۔ واصح الاقوال عند ذی العقول السلیمۃ انہ الذی لا نظیر لہ ولا شبیہ لہ فی استحقاق العبادۃ (روح ص 30 ج 2) فرد فی الوھیتہ لاشریک لہ فیھا ولا یصح ان یسمی غیرہ الھاً (مدارک ص 67 ج 1) لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۔ لا نفی جنس کے لیے ہے اور اس کی خبر محذوف ہے اور الا بمعنی غَیْرُ ہے ای لا الہ موجود غیرہ یعنی نفس الامر اور عالم وجود میں اللہ کے سوا کسی الٰہ کا نام ونشان تک موجود نہیں۔ پہلے جملہ سے اس بات کی نفی کی ہے کہ دنیا میں مستحق عبادت صرف اللہ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ تو شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید دنیا میں اللہ کے سوا کوئی اور بھی الہ ہو، لیکن مستحق عبادت نہ ہو، تو اس جملہ میں سرے سے وجود الہ ہی کی نفی فرمادی۔ ومزیح علی ما قیل لام عسی ان یتوھم ان فی الوجود الھا لکن لا یستحق العبادۃ (روح ص 30 ج 2)298 یہ دونوں صفتیں دعویٰ توحید پر بطور دلیل لائی گئی ہیں۔ کیونکہ رحمن تو وہ ہے جس نے ہمیں دنیوی انعامات سے مالا مال فرمایا ہے۔ اور رحیم وہ ہے جو آخرت میں ہم پر اپنی رحمت خاصہ کے دروازے کھولے گا۔ جب دنیا وآخرت میں وہی ہمارا ولی نعمت اور محسن ومربی ہے اور باقی ساری کائنات ارضی وسماوی اور مخلوقات نوری وناری اور خاکی سب اس کی محتاج ودست نگر ہے تو وہی رحمن ورحیم ہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے۔ اس کے سوا کوئی علوی یا سفلی، ارضی یا سماوی، نوری، ناری یا خاکی عبادت کا مستحق نہیں۔ نہ پکارنے کے لائق نہ نذرومنت کے۔ یہاں تک تو دعویٰ توحید کا اعادہ تھا۔ آگے اس کے اثبات کے لیے عقلی دلیل بیان کی گئی ہے جو مختلف سات دلیلوں پر مشتمل ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں299 اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں اور پانی میں جس کو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جِلایا اس سے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں جو کہ تابعدار ہے اس کے حکم کا درمیان آسمان و زمین کے بیشک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے

299 اِنّ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ اور فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِمعہ معطوفات اِنَّ کی خبر ہے۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنا اور نہ صرف ان کی ذوات کو بلکہ ان کے دیگر متعلقات کو اور پھر فضائے آسمانی اور بطن ارضی میں بےبہا خزانوں کو پیدا کرنا یہ اس کی توحید کی پہلی عقلی دلیل ہے۔ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔ یعنی رات دن کی آمدورفت، روشنی اور تاریکی میں، کمی اور زیادتی میں ان کا یہ اختلاف یہ دوسری دلیل ہے۔ تیسری دلیل۔ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ۔ یہ خَلْقِ السَّمٰوٰتِپر معطوف ہے۔ لفظ فلک مفرد وجمع دونوں طرح استمعال ہوتا ہے۔ یہاں بطور جمع استعمال ہوا ہے۔ بِمَا میں مَا مصدریہ ہے یا ما موصولہ۔ یعنی جو بحری جہاز سمندروں میں مال تجارت لے کر نقل و حرکت کرتے ہیں، یہ بھی خدا کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے۔ چوتھی دلیل وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ ۔ الفلک پر معطوف ہے۔ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا آسمانوں سے بارش کا اتارنا، پھر اس کے ذریعے خشک اور بنجر زمین کو سرسبز اور شاداب کرنا اور اس میں ہر قسم کی سبزیاں، غلے، پھل پھول اور جڑی بوٹیاں پیدا کرنا یہ سب اس کی وحدانیت کے منہ بولتے دلائل ہیں۔ پانچویں دلیل وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ یہ انزل پر معطوف ہے۔ یعنی ہر قسم کے چوپائے اور جانور زمین میں پھیلا دئیے۔ چھٹی دلیل۔ وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِیہ مَااَنْزَلَ پر معطوف ہے۔ اور تصریف الریاح سے ہوآوں کا مختلف سمتوں سے چلنا اور مختلف اوصاف سے متصف ہونا مثلاً سرد، گرم، تیز اور آہستہ وغیرہ۔ ساتویں دلیل وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ بادل کے زمین و آسمان کے درمیان مسخر اور تابع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ تو زمین پر اتر آتا ہے اور نہ آسمانوں میں اتنی بلندی پر چلا جاتا ہے جہاں ہمارے لیے اس میں کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ وہ فضا میں معلق رہتا ہے اور خدا کے حکم سے ہوائیں اسے ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں (قرطبی ص 201 ج 2، روح ص 33 ج 2) لَاٰیٰتٍ یہ اِنَّ کا اسم ہے اور اس کی تنکیر تفخیم شان کیلئے ہے یعنی امور مذکورہ میں بہت زیادہ اور بہت بڑی دلیلیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ، رحمت واسعہ اور زبردست حکمت و دانائی پر دلالت کرتی ہیں اور ان سب کا مقتضی یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ ہی ہے۔ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ۔ یعنی دلائل صرف غور وفکر اور سوچ بچار کرنے والوں کے لیے ہیں۔ بلاشبہ اگر ان دلائل میں فکر وتامل کیا جائے تو ان سے خداوند قادر ودانا کی وحدانیت کا پورا پورا یقین ہوجاتا ہے اور دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کی عبادت اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ زبردست قدرت، گہری حکمت اور وسیع علم کا مالک ہے۔ اس کی رحمت و شفقت کائنات کے ذرہ ذرہ کو شامل ہے۔ پھر ان تمام صفات وافعال میں وہ واحد ویکتا ہے۔ ان افعال میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ حصر مخاطبین کے عقائد کے مطابق ہے، کیونکہ مشرکین مکہ ان تمام امور کو خدا ہی کے ساتھ مخصوص مانتے تھے اور ان افعال میں وہ کسی کو خدا کا شریک نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ خود قرآن میں اس کی صراحت موجود ہے۔ تو جب ان تمام صفات وافعال میں وہ یکتا تو پھر استحقاق عبادت میں بھی اسے واحد و یکتا ہی سمجھو۔ اسی کے سامنے جھکو، اسی کو پکارو اور اسی کی رضا جوئی کے لیے نذریں اور منتیں دو ۔ یہاں دعویٰ توحید کے اعادہ سے شرف فعلی یعنی غیر اللہ کی نذرونیاز اور تحریمات لغیر اللہ کی تردید مقصود ہے اور اسی پر یہ سات عقلی دلائل قائم کیے گئے ہیں۔ یہ ساتوں دلائل نہایت لطیف اور دلنشیں پیرایہ میں اس دعویٰ پر منطبق ہوتے ہیں۔ نذرو منت ہمیشہ تین چیزوں سے دی جاتی ہے۔ 1 ۔ زمین کی پیداوار مثلاً غلے، پھل، میوے اور کپڑے وغیرہ۔ 2 ۔ جانور۔ 3 ۔ نقد روپیہ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ عقلی دلیل اس بات پر قائم فرمائی ہے کہ تینوں چیزوں میں سے کسی چیز کی نذرومنت خدا کے سوا کسی کے لیے عقلاً جائز نہیں اور صرف خدا ہی ہر قسم کی نذرومنت کا مستحق ہے۔ دلیل کے دعویٰ پر انطباق کی صورت حسب ذیل ہے۔ غلے، پھل وغیرہ سب زمین میں پیدا ہوتے ہیں۔ زمین اپنی قوت نامیہ کے ذریعہ ان کی پرورش کرتی ہے۔ بارش کے ذریعہ زمین کی قوت نامیہ میں اضافہ ہوتا ہے اور بارش ہی سے یہ قوت زمین میں محفوظ رہتی ہے اور بارش ہی سے کھیتیاں سر سبز و شاداب ہوتی ہیں۔ رات کے وقت چاند اور تاروں کے اثرات سے پھلوں اور میووں کے ذرائقوں اور رنگوں کی تکمیل ہوتی ہے دن کی گرمی اور رات کی شبنم، کھیتوں، پھلوں اور میووں کو پختگی کی حد تک پہنچاتی ہے اور پھر ہر جاندار اور ذی روح (جس کا پیدا کرنیوالا اللہ ہی ہے) کی زندگی اور حیات زمین کی مذکورہ بالا پیداوار پر ہی موقوف ہے۔ اس کے بعد زمین کی اس پیداوار اور ان جانوروں کے ذریعہ ہی تم اپنے ملک میں اور بحری جہازوں کے ذریعہ دوسرے ملکوں میں تجارت کر کے دولت کماتے ہو۔ تو یہ تینوں چیزوں، زمین کی پیداوار اور جانور اور دولت تم جن جن ذرائع واسباب سے حاصل کرتے ہو ان تمام ذرائع اور اسباب کا خالق تم بھی مانتے ہو کہ اللہ ہی ہے اور یہ تمام اسی کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہیں اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔ اور تم نے جو خدا کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ان میں سے کسی نے ان چیزوں میں سے ایک چیز بھی نہیں بنائی اور نہ ہی ان کو ان چیزوں کا علم ہے۔ تو اب عقل و دانش اور جذبہ شکر گذاری ونعمت شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ اس رحمن ورحیم اور محسن ومنعم کے ان بےپایاں احسانات و انعامات کا شکر ادا کرنے اور اس کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے اسی کی نذریں، نیازیں اور منتیں دی جائیں۔ زمین کی پیداوار میں اسی کے نام کا حسہ مقرر کیا جائے۔ روپیہ اسی کے نام پر خرچ کیا جائے۔ جانور اسی کا تقرب ڈھونڈنے کیلئے، اسی کی تعظیم کے لیے، اسی کے نام پر قربان کیے جائیں۔
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو دوست ان کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی300 اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی301 اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جب کہ دیکھیں گے عذاب کہ قوت ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے302

300 یہ مشرکین کے لیے زجر ہے توحید پر عقلی دلائل قائم کرنے کے بعد ان لوگوں کا یہ حال بیان فرمایا ہے جو ان واضح اور روشن دلائل کے ہوتے ہوئے پھر شرک کرتے ہیں اور اپنے معبودوں کے ساتھ خدا کی محبت کا سا برتاؤ کرتے ہیں۔ اَنْدَاداً ۔ ند کی جمع ہے جس کے معنی مثل اور مشابہ کے ہیں اور یہاں انداد سے مراد اوثان ہیں۔ یعنی پتھر کی وہ مورتیاں جو مشرکین نے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی شکل و صورت پر بنارکھی تھیں اور ان سے محبت اور تعظیم کا وہی معاملہ کرتے تھے جو انہیں خدا سے کرنا چاہیے تھا۔ خداوند تعالیٰ چونکہ خالق ومالک اور محسن ومنعم ہے لہذا اس کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے اور اسی کے سامنے جھکا جائے، اسی سے مانگا جائے اور اسی کی نذرومنت دی جائے۔ مگر مشرکین یہی معاملات اپنے انداد سے کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خدا کے سوا کارساز بنا رکھا ہے۔ ان کی عبادت کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ ان سے نفع ونقصان کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں ان کے لیے نذریں مانتے اور ان کی خوشنودی اور تعظیم کے لیے بحیرہ، سائبہ چھوڑتے ہیں۔ انھا ہی الاوثان التی اتخذوھا الھۃ لتقربھم الی اللہ زلفا ورجوا من عندھا النفع والضرر وقصدوھا بالمسائل ونذروا لھا النذر وقربوا لھا القرابین وھو قول اکثر المفسرین (کبیر ص 501 ج 1) بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں انداد اور اوثان واصنام سے پتھر کے تراشیدہ بت مراد ہیں۔ مشرکین انہیں کو سب کچھ سمجھتے تھے اور انہیں کے لیے سب کچھ کرتے تھے۔ مگر یہ سمجھنا نادانی ہے کیونکہ بت تو انہوں نے محض توجہ کی یکسوائی اور یادگار کے طور پر رکھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ عبادت وتعظیم کا جو سلوک کرتے تھے وہ محض اس لیے کرتے تھے کہ وہ ان کے بزرگوں کے مجسمے اور ان کی یادگاریں ہیں اور اس عبادت وتعظیم سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی ہمیں خوشنودی حاصل ہوجائے اور وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کردیں۔ اگر کوئی شخص بت نہ بنائے اور بت کے بغیر ہی اللہ کے نیک بندوں سے محبت وعقیدت اور عبادت وتعظیم کا وہی برتاؤ کرے جو اسے اللہ سے کرنا چاہئے۔ مثلاً اسے عالم الغیب، مالک ومختار، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کے نام کی نذریں نیازیں دے اور اس سے نفع ونقصان کی توقع رکھے تو اس شخص نے اس اللہ کے نیک بندے کو خدا کا نِدْ بنادیا اور اسے اس وحدہ لا شکریک کا مثل اور شریک ٹھہرایا۔ کیونکہ اس نے اس سے محبت کا وہ معاملہ کیا جو اسے صرف خدا ہی سے کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے یہاں انداد کے تحت ہر وہ شخص اور ہر وہ چیز مندرج ہے جس سے خدا کی محبت کا سا سلوک کیا جائے۔ 301 ۔ مشرکین نے تو خدا کی محبت میں کئی ایک شریک بنا رکھے ہیں لیکن مومنین خدا کی محبت میں کسی کو اس کا مثل اور شریک نہیں سمجھتے اور غیر خدا کے ساتھ خدا کی محبت کا سا سلوک نہیں کرتے اور خدا کی محبت ان کے دلوں میں ہر چیز کی محبت سے بڑھ کر ہے۔ محبت کے درجات مختلف ہیں۔ خدا کی محبت، رسول خدا ﷺ کی محبت، بزرگان دین کی محبت، ماں باپ کی محبت، بھائی بہنوں کی محبت، اولاد کی محبت وغیرہ۔ ہر ایک سے محبت کا وہی سلوک کیا جائے گا جو اس کے شایانِ شان اور مناسب حال ہو۔ خدا کی محبت یہ ہے کہ اسی کی عبادت بجا لائے، اسی کو پکارے، اسی سے مانگے، اسی کی نذرومنت دے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی محبت یہ ہے کہ اپ کو خدا کا سچا اور آخری رسول مانے۔ دل وجان سے آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرے، آپ پر صلوۃ وسلام بھیجے اور اسی میں اپنی سعادت اور نجات سمجھے۔ بزرگانِ دین کی محبت یہ ہے کہ انہیوں اپنے پیشوا سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چلے۔ علی ہذ القیاس۔ اب کوئی پیغمبر خدا ﷺ کی عبادت کرنے لگے۔ آپ کو مالک و مختار سمجھ کر پکارنے لگے۔ آپ کی نذریں منتیں دینے لگے تو وہ محب رسول نہیں بلکہ مشرک ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے پیرو ومرشد کو مثیل رسول سمجھنے لگے اور شریعت کے احکام میں اسے پیغمبر کی طرح اتھارٹی ماننے لگے تو وہ بھی اس اندھی محبت کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کے مناسب حال محبت کرنی لازم ہے۔ 302 یہ مشرکین کے لیے تخویف ہے۔ اس آیت میں دو ترکیبیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ لَوْ شرطیہ ہے اور اس کا جواب شدید العذاب کے بعد محذوف ہے یعنی لما فعلوا اور یری کا مفعول حال انفسہم محذوف ہے اور اذ یرون العذاب ظرف یری کے متعلق ہے اور عذاب سے اخروی عذاب مراد ہے اور ان القوۃ سے پہلے با سببیہ محذوف ہے اور یہ اذ یرون کا سبب ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ قیامت میں جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے اس وقت ان کا کیا حال ہوگا تو وہ ہرگز شرک نہ کریں اور وہ عذاب اس لیے پائیں گے کہ قیامت کے دن سارا زور اور اختیار صرف اللہ کا ہوگا اور اس کا عذاب نہایت سخت ہوگا اور جن کو مشرکوں نے اپنے سفارشی اور حیلہ ساز سمجھا ہوا تھا وہ سب بےبس اور عاجز ثابت ہوں گے۔ اس صورت اذ تبرا، اذ یرون العذاب سے بدل ہوگا دوسری صورت یہ ہے کہ لَوْ تمنی کے لیے ہے جس کا جواب نہیں ہوتا۔ یری بمعنی یعلم ہے (قرطبی ص 205 ج 2) اور عذاب سے دنیوی عذاب مراد ہے ان القوۃ الخ اور ان اللہ الخ منصوب منزع خافض۔ یری کے دونوں مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش یہ مشرک جب دنیا میں مصائب وآلام کی صورت میں خدا کا عذاب دیکھتے تھے اس وقت اس بات کا یقین کرلیتے کہ ہر قسم کی قوت و طاقت اور تصرف واختیار صرف خدا ہی کو حاصل ہے اور اس کی گرفت نہایت زبردست ہے اور یہ بات ان کی سمجھ میں آجاتی کہ اللہ کے سوا کوئی پیغمبر یا ولی یا کوئی فرشتہ ناصر و مددگار اور مختار و متصرف نہیں اور نہ اللہ کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔ اس صورت میں اِذْ تَبرا تخویف اخروی کے لیے استیناف ہوگا۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جبکہ بیزار ہوجاویں گے وہ کہ جن کی پیروی کی تھی ان سے کہ جو ان کے پیرو ہوئے تھے اور دیکھیں گے عذاب اور منقطع ہوجائیں گے ان کے سب علاقے303

303 یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب مشرکین اپنے معبودوں اور مشرک پیشوآں اور پیروں کو مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ ان سے جدا ہوجائیں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اس آیت میں قیامت کا یہ حسرتناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا۔ (یعنی متبوعین) سے یہاں مشرک علماء اور رؤسا مراد ہیں جو دنیا میں اپنے ماننے والوں اور ماتحتوں کو شرک سکھایا کرتے تھے اور توحید سے انہیں دور رکھا کرتے تھے۔ انھم السادۃ من مشرکی الانس (کبیر ص 111 ج 2) بِھِمْ میں ب بمعنی عن ہے اور اسباب سے مراد محبت، نسل اور دین کے وہ تعلقات ہیں جن کو مشرکین نے اپنی نجات کے لیے کافی سمجھ رکھا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ منظر بھی سامنے لاؤ جب متبوعین یعنی شرک کے داعی اور مبلغ اپنے ماننے والوں سے بیزار ہو کر ان سے جدا ہوجائیں گے۔ اپنا بد انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کے تمام باہمی مزعومہ رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ چناچہ متبوعین ان سے صاف کہہ دیں گے۔ اَنَحْنُ صَدَدْنَاکُمْ عَنِ الْھُدٰی بَعْدَاِذْجَاءَکُمْ ۔ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْن ( سورة سبا)
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور کہیں گے پیرو کیا اچھا ہوتا جو ہم کو دنیا کی طرف لوٹ جانا مل جاتا تو پھر ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوگئے304 اسی طرح پر دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے کام حسرت دلا نے کو305 اور وہ ہرگز نکلنے والے نہیں نار سے306

304 مشرکین انتہائی حسرت ویاس کے عالم میں آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے اور ہم ان سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کریں جس طرح آج انہوں نے ہم کو چھوڑ دیا ہے اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو ہم کبھی شرک نہیں کریں گے اور صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان گمراہ کرنے والوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے فلا نلتفت الیھم بل فوحد اللہ وحدہ بالعبادۃ (ابن کثیر ص 203 ج 1) ۔305 کذلک یہاں ویسا ہی ہے جیسا کہ کذلک جعلناکم امۃ وسطاً میں ہے اور رؤیت سے رؤیت بصری مراد ہے اور حسرات، اعمالھم سے حال ہے وحال من اعمالھم ان کانت بصریۃ (روح ص 36 ج 2) یعنی اس طرح ان کے مزعومہ اسباب نجات کو باطل کر کے اور ان کی آرزٓوں پر پانی پھیر کر ہم ان کے اعمال کو سراپا حسرت ندامت بناکر ان کو دکھائیں گے۔ یعنی ان کی وہ تمام عبادتیں جو دنیا میں انہوں نے کی تھیں شرک کی وجہ سے سب رائیگاں جائیں گی اور آخرت میں حسرت ندامت کے بغیر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ 306 اور وہ کفار اور مشرکین کبھی جہنم سے نہیں نکل سکینگے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ دلیل علی خلود الکفار فیھا وانھم لا یخرجون منھا (قرطبی ص 207 ج 2 ۔ۭ وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّار کی ترکیب مسند الیہ میں نفی حصر کا فائدہ دیتی ہے یعنی خروج من النار کی نفی کفار میں محصور ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ جو مومن گنہگار اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں جائیں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ جیسا کہ معتزلہ وخوارج کا خیال ہے۔ المتبادر فی امثالہ حصڑ النفی فی المسند الیہ۔۔۔ ففیہ اشارۃ الی عدم خلود عصاۃ المومنین الداخلین فی قولہ تعالیٰ والذین امنوا اشد حبا للہ فی النار (روح ص 37 ج)
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ307 اور پیروی نہ کرو شیطان کی308 بیشک وہ تمہارا دشمن ہے صریح

ف 307:۔ دلائل توحید اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی کے بعد اب آگے شرک فعلی کی دونوں قسموں یعنی تحریم لغیر اللہ اور نذر لغیر اللہ یا بالفاظ دیگر تحریمات مشرکین اور نیازات مشرکین کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کو خوش کرنے کے لیے دو قسم کا شرک فعلی کیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ وہ جانوروں کو اپنے معبودوں کے لیے نامزد اور معین کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ وہ جہاں چاہیں بلا روک گھو میں پھریں اور کھائیں پئیں۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس سے ہمارے معبود ہم پر خوش اور مہربان ہوجائیں گے اور آڑے وقت ہماری مدد کریں گے اور ہمارے مال وجان میں برکت دیں گے اور ہم سے بیماری اور تکلیف دور کریں گے۔ ایسے جانوروں کے متعلق انہوں نے یہ عقیدہ بنایا ہوا تھا کہ ان کا کھانا، ان کا دودھ پینا اور ان سے کسی قسم کا انتاع جائز نہیں۔ وہ اس کے کھانے اور اس سے انتفاع کو حرام سمجھتے تھے اور ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے اس جانور کو استعمال کیا یا اسے کوئی تکلیف پہنچائی تو ہمارے معبود ہم پر ناراض ہوجائیں گے اور ہمیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ مشرک اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے معبودوں کی خوشی کے لیے محض اپنے وہم باطل اور خیال خام کے تحت حرام کردیتی تھے۔ حالانکہ انہیں اس کا کوئی حق نہیں تھا۔ یہ تو تحریمات مشرکین یا تحریمات لغیر اللہ ہیں۔ شرک فعلی کی دوسری قسم یہ تھی کہ وہ مصائب سے نجات اور مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے معبودوں کی نذریں اور منتیں مانتے تھے۔ مثلاً کہتے تھے کہ اگر ہمارا فلاں کام ہوگیا یا فلاں مصیبت ٹل گئی تو ہم فلاں معبود کے استھان اور اس کی عبادت گاہ پر غلہ، نقدی، کپڑا یا کوئی جانور بطور نذر ونیاز لے جائینگے یا وہاں لے جائے بغیر ہی غربا میں تقسیم کردیں گے۔ اور کھی ایسا بھی کرتے تھے کہ حاجت اور مصیبت کے بغیر ہی اپنے مال مویشی میں اپنے معبودوں کا حصہ مقرر کردیتے تھے اور اس سے ان کا یہ مقصد ہوتا تھا کہ ہمارے معبود ہم سے خوش رہیں گے اور ہمارے مال وجان میں برکت دینگے اور ہمارے مال وجان کو مصائب اور بیماریوں سے محفوظ رکھیں گے۔ یہ نذور مشرکین یا نذور لغیر اللہ کہلاتی ہیں اور ان کے متعلق مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان کا کھانا اور استعمال کرنا جائز ہے حالانکہ یہ چیزیں تقرب غیر اللہ کے لیے نامزد ہوجانے کی وجہ سے حرام ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسم کی تعیینات اور تخصیصات کا حکم بیان فرمایا جو مشرکین نے اپنے زعم میں جائز کر رکھی تھیں۔ چناچہ فرمایا کہ جن حلال وطیب چیزوں کو تم نے اپنے طرف سے حرام کر رکھا ہے وہ حلال ہیں ان کو کھاو اور جو نذریں نیازیں تم نے غیر اللہ کی خوشنودی اور تعظیم کے لیے مقرر کر رکھی ہیں اور انہیں تم حلال سمجھتے ہو، وہ قطعاً حرام ہیں انہیں مت کھاؤ۔ چناچہ پہلے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْاسے اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَتک تحریمات مشرکین یعنی تحریم لغیر اللہ کا حکم بیان کیا گیا ہے اور اِنَّمَا حَرَّمَسے لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍتک نذر لغیر اللہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ان جانوروں کی حلت کا اعلان کرنے کے لیے نازل ہوئی جن کو بعض لوگوں نے بالکل حرام کر رکھا تھا۔ یعنی بحیرہ سائبہ وغیرہ قال ابن عباس ؓ نزلت الایۃ فی الذین حرموا علی انفسہم السوائب والوصائل والبحائر (کبیر ص 113 ج 2) انھا نزلت فی ثقیت وخزاعۃ وبنی مدلج فیما حرموہ علی انفسہم من الانعام (قرطبی ص 207 ج 2) اس آیت میں حلالاً طیباً سے وہ حلال جانور مراد ہیں جو مشرکین نے اپنی طرف سے حرام کر رکھے تھے مثلاً بحیر، سائبہ وغیرہ وقد فسرھا بعضھم بالبحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام یعنی کلوا البحیرۃ واخواتھا ولا تاکلوا المیتۃ واخواتھا (تفسیر حمدی ص 37) اس مسئلہ کی مزید تحقیق سورة مائدہ رکوع نمبر 14 میں آئے گی۔ اس آیت سے تمام حلال اشیاء سے انتفاع کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔ 308 خطوات خطوۃ کی جمع ہے یعنی نقوش قدم ای اثارہ کما حکی عن الخلیل (روح ص 29 ج 2) اور اس سے وہ تمام گمراہی کے طریقے مراد ہیں جو شیطان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ اور اس کے جاری کیے ہوئے طریقوں مثلاً تحریمات لغیر اللہ وغیرہ سے پرہیز کرو۔ وھی طرائقہ ومسال کہ فیما اضل اتباعہ فیہ من تحریم البحائر والسوائب والوصائل ونحوھا (ابن کثیر ص 203 ج 1) یہ شیطان سے نفر دلانے کے لیے فرمایا۔ یعنی شیطان تو تمہارا علانیہ دشمن ہے وہ ہمیشہ تمہیں ہلاکت وتباہی کی راہ ہی بتائیگا۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو یہی حکم کرے گا تم کو کہ برے کام اور بےحیائی کرو309 اور جھوٹ لگاؤ اللہ پر وہ باتیں جن کو تم نہیں جانتے310

309 اِنَّما کلمہ حصر ہے اور مطلب یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ شیطنت ہی کرے گا۔ اس سے بھلائی یا خیر خواہی کی کوئی توقع نہیں۔ السوء سے مراد وہ افعال ہیں جو عقلاً برے اور قبیح ہوں اور الفحشاء وہ جن کو شریعت نے بھی برا ٹھہرایا ہو۔ یہاں الفحشاء سے طواف بحالت عریانی مراد ہے۔ مشرکین ننگا طواف کرنے کو بھی اپنے معبودوں کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھتے تھے اس لیے باقی امور شرکیہ کے ساتھ اس سے بھی منع فرمایا۔ 310 یہ السوء پر معطوف ہے۔ قول بغیر علم سے یہاں خدا پر افتراء مراد ہے یعنی جس طرح شیطان دیگر برے اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح وہ دین کے بارے میں خدا پر بہتان تراشی پر اکساتا ہے جو لوگ اپنی خواہشات نفس کو دین کہتے ہیں، وہ خدا پر افتراء کرتے ہیں کیونکہ ان کی خواہشات کو خدا نے دین نہیں بنایا۔ چناچہ خدا کی حلال چیزوں کو حرام کرنا اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرانا اور برہنہ ہو کر طواف کرنے کو عبادت سمجھنا یہ سب خدا پر افتراء اور شیطان کا فریب ہے۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو311 بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ

311 مشرکین اپنی طرف سے اشیاء کی تحریم کرتے تھے۔ جب انہیں کہا جاتا کہ ان آبائی رسموں کو چھوڑ کر خدا کی کتاب کی پیروی کرو تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے دین ہی کی پیروی کرینگے اور اس کے مقابلہ میں کسی اور دین کو نہیں مانیں گے۔ یہ ان کی جہالت اور ضدوجمود کی حد تھی تو اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا جواب دیا اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـاوَّلَا يَهْتَدُوْنَ ۔ یعنی اگر ان کے آباء و اجداد صاحب علم ہوتے توحید کو جانتے ہوتے اور راہ ہدایت پر ہوتے اور پھر یہ لوگ ان کا اتباع کرتے تو کوئی بات بھی تھی۔ تو کیا اگرچہ وہ دین سے ناواقف اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں پھر بھی یہ ان کا اتباع کریں گے۔
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور مثال ان کافروں کی ایسی ہے جیسے پکارے کوئی شخص ایک چیز کو جو کچھ نہ سنے سوا پکارنے اور چلانے کے312 بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ کچھ نہیں سمجھتے

312 یہ کفار ومشرکین کی مثال ہے جو اندھا دھند اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ مَا اسم موصول ہے، اور اس سے مراد چوپائے ہیں جو آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ مشرکین کی نادانی اور بےحسی کی مثال ہے یعنی جس طرح ایک چوپائے کو آواز دی جائے تو وہ آواز تو سن لے گا لیکن جو کچھ اس کو کہا گیا ہے اس کا مطلب نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح ان کا حال ہے کہ یہ آواز تو سن لیتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ عن مجاھد کمث الذی ینعق مثل ضربہ اللہ لمن یسمع ما یقال لہ ولا یعقل کمثل البھیمۃ تسمع النعیق ولا تعقل (ابن جریر ص 46 ج 2) یہ آواز حق سے بہرے ہیں۔ کیونکہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور حق بات کا اقرار کرنے کے لیے ان کی زبانیں گونگی ہیں اور وہ سیدھی راہ سے اندھے ہیں۔ جب علم کے تمام راستے ہی بند ہیں تو کیا خاک سمجھیں گے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور شکر کرو اللہ کا313 اگر تم اسی کے بندے ہو

313 پہلے عام انسانوں سے خطاب تھا۔ اب مسلمانون کو حکم ہورہا ہے کہ وہ مشرکین کی طرح حلال و حرام کے بارے میں من مانی نہ کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حلال کیا ہے ان کو نہ صرف حلال سمجھیں بلکہ ان کو کھائیں اور اس طرح اپنے عمل سے بھی اپنے اعتقاد کی تصدیق کردیں بعض اوقات انسان ایک چیز کو عقیدے کی حد تک تو مان لیتا ہے لیکن اس پر عمل کرنے سے جھجکتا ہے اس لیے ایمان والوں سے ارشاد فرمایا کہ اگر واقعی دل وجان سے تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو اور تحریمات لغیر اللہ کے ذریعے شرک سے سچی توبہ کرچکے ہو تو اس بات کا عملی ثبوت بھی دو اور وہ یہ ہے کہ سائبہ بحیرہ وغیرہ کو کھاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ابھی تم خالص اللہ کی عبادت نہیں کر رہے ہو بلکہ تمہارے اعمال میں شرک کا شائبہ موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا شکر بھی بجا لاؤ جس نے تم کو یہ حلال چیزیں عطا فرمائی ہیں کیونکہ اس کا شکر بھی ایک بہت بڑی عبادت ہے اور اس کے بغیر عبادت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کا ایک شکریہ یہ بھی ہے کہ انہیں شرک کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور اپنی طرف سے ان کو حرام نہ کیا جائے۔