Ayah 2:214410 مثل سے گذشتہ انبیاء کی امتوں کے سے شدائد اور مصائب مراد ہیں۔ ای حالھم التیھی مثل فی الشدۃ (مدارک ص 84 ج 1) اس میں خطاب صحابہ کرام سے ہے۔ اور یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کے جن بلند مقامات کے تم طالب ہو۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ تم تکلیفوں اور آزمائشوں میں پڑے بغیر ہی وہاں تک پہنچ جاؤگے۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ بلند درجات حاصل کرنے کے لیے تمہیں مال وجان کی قربانی دینی پڑے گی۔ تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ مال وجان اور اولاد کے ذریعے جہاد کرنا پڑے گا۔ ٖ 411 یہ امم سابقہ کے حال کا بیان ہے۔ باساء سے مالی نقصان اور معاشی بدحالی مراد ہے۔ اور ضراء سے جانی نقصان اور جسمانی تکلیفیں اور بیماریاں مراد ہیں۔ الباساء والضراء السقم (ابن کثیر ص 251 ج 1) اور زلزلوا کے معنی ہیں۔ ازعجوا ازعاجا شدیدا بانواع البلایا (روح ص 104 ج 2) یعنی مصائب و تکالیف کی شدت اور کثرت سے ان کے دل دھل گئے۔ اور شدت و اضطراب اور بےچینی کی حالت میں پیغمبر اور مومنین طلب نصرت کے طور پر کہنے لگے۔ آخر اللہ کی نصرت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مصائب وشدائد میں ان سے مدد کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ جب کفار اور مشرکین کے ہاتھوں ان کی مصیبتیں اور تکلیفیں انتہا کو پہنچ جاتیں تو انبیاء ومؤمنین یہ سمجھتے کہ اب تو تکلیفیں انتہا کو پہنچ چکی ہیں اب تو اللہ کی مدد ضرور آنی چاہئے۔ پھر شدت اضطراب اللہ کی مدد پہنچنے کی تمنا کرتے۔412 اس تمنا اور طلب کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوتا کہ ثابت قدم رہو۔ ہماری مدد اور نصرت پہنچنے ہی والی ہے۔ اس سے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا۔ کہ تکلیفیں اور آزمائشیں ان پر بھی آئیں گی۔ لہذا انہیں ان کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔
Ayah 2:215413 مضمون انفاق کا دوسری بار بیان۔ آیت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ سوال منفَق کے متعلق ہے یعنی کیا اور کس قدر خرچ کریں اور جواب میں خرچ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس بات کو چھوڑو کہ کیا اور کتنا خرچ کرنا چاہیے۔ اصل چیز تو مصرف ہے۔ اس لیے تم جو کچھ بھی خرچ کرو خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ وہ صحیح مصرف میں خرچ ہو۔ ظاھر الایۃ انہ سئل عن المنفق فاجاب ببیان المصرف صریحا لانہ اھم فان اعتداد النفقۃ باعتبارہ (روح ص 105 ج 2) حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ سوال یہ تھا کہ کتنا خرچ کریں تو جواب ملا کہ جتنا چاہے خرچ کرو مجھے تو کچھ نہیں دینا بلکہ اپنے والدین وغیرہ ہی کو دینا ہے۔414414 ان الفاظ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اور ابن السبیل کے عموم میں جہاد فی سبیل اللہ کا مسافر بھی شامل ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ نیکی خواہ کوئی ہو مالی ہو یا بدنی، چھوٹی ہو یا بڑی اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ اس لیے وہ ہر نیکی کی پوری پوری جزا دے گا۔ یہاں تک انفاق کا ذکر تھا۔
Ayah 2:216415 مضمونِ جہاد کا تیسری باز ذکر۔ کُرْہْ سے طبعاً ناپسندیدہ چیز مراد ہے۔ مال وجان کا ضیاع ہمیشہ انسانی طبیعت کو گراں محسوس ہوتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ کا امر بالجہاد ناپسند تھا۔ ای شاق علیکم قال بعض اھل المعانی ھذا لکرہ من حیث نفور الطبع عنہ لما فیہ من مؤنۃ الحال ومشقۃ النفس وخطر الروح لا انھم کر ھو امر اللہ تعالیٰ (معالم ص 171 ج 1) عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ بعض چیزیں اپنے ظاہری اور مادی نقصانات کی وجہ سے تمہیں ناپسند ہوں اور تم انہیں اچھا نہ سمجھتے ہو مگر انجام کے لحاظ سے اور پوشیدہ فوائد کے لحاظ سے وہ تمہارے لیے خیر و برکت اور فلاح دارین کا باعث ہوں۔ مثلاً جہاد ہی کو لے لیجئے جو بظاہر قتل و خونریزی اور مال وجان کے ضیاع کی وجہ سے تمہیں ناپسند ہے مگر اس کا انجام بہتر ہے۔ کیونکہ جہاد ہی سے تم اپنا اور اپنے دین کا نام دنیا میں سر بلند کرسکتے ہو۔ اس کے وقار اور اس کی شان و شوکت کو قائم رکھ سکتے ہو۔ جہاد ہی سے تم اپنی عزت وآبرو اور اپنے مال وجان کی حفاظت کرسکتے ہو اور جہاد ہی سے تم غازیوں اور شہیدوں کے درجات حاصل کرسکتے ہو۔ اس سے بھی مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کرنا مقصود ہے۔416 اسی طرح یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایک چیز کے ظاہری فوائد کی وجہ سے تم اسے پسند کرو مگر حقیقت میں وہ چیز تمہارے حق میں سخت مضر ہو۔ مثلاً جہاد میں شرکت نہ کرنے اور آرام و راحت سے گھر بیٹھے رہنے کو تم پسند کرتے ہو۔ اس لیے کہ اس طرح مال وجان محفوظ رہے گا۔ لیکن در اصل ترک جہاد میں تمہارا سراسر نقصان اور خسارہ دارین ہے۔ کیونکہ اس طرح تم کافروں کے ہاتھوں ذلیل ہوجاؤ گے۔ وہ تمہارا ستیاناس کردیں گے۔ مال لوٹ لیں گے۔ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیں گے۔ تمہارے شہروں پر قبضہ کرلیں گے۔ اور تمہارا دین دنیا سے مٹاڈالیں گے۔ یہ دوسری طرز پر جہاد کی ترغیب ہے۔ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَاللہ تعالیٰ کا علم کامل اور ہر چیز پر حاوی ہے۔ انسان کا علم ناقص اور محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے فوائد اور نقصانات سے بخوبی آگاہ اور ہر کام کی حکمتوں کو جانتا ہے۔ لہذا اس نے جو جہاد کا حکم دیا ہے اس میں یقیناً مسلمانوں کی بھلائی اور بہتری ہے
Ayah 2:217417 قتال فیہ، الشھر الحرام سے بدل الاشتمال ہے اور الشہر الحرام سے مراد یہاں رجب ہے۔ اور یسئلون کا فاعل مشرکین ہیں۔ ایک دفعہ مقام نخلہ میں مسلمانوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوگیا جس میں ایک مشرک عمر بن الحضرمی مارا گیا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ آج جمادی الاخر کی آخری یعنی تیس تاریخ ہے مگر اتفاق سے چاند انتیس کا تھا اور اس دن رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ کانوا یظنون تلک اللیلۃ من جمادی وکانت اول رجب ولم یشعروا (ابن جریر ص 197 ج 2) جب اس واقعہ کا علم مشرکین قریش کو ہوا تو ان کا ایک وفدحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ سے سوال کیا کہ کیا رجب جو کہ شہر حرام ہے اس میں قتال جائز ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ سوال مسلمانوں کیا تھا۔ کیونکہ اس واقعہ کی وجہ سے انہیں ندامت ہوئی کہ ہم نے شہر حرام میں قتل کر کے بڑا گناہ کیا ہے۔ قُلْ قِتَالٌ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ واقعی اشہر حرم میں قتال (لڑائی کرنا) بہت بڑا گناہ ہے۔ 418 یہاں سے شہر حرام میں قتال کے جواز کی پانچ دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ صَدٌّ اور قِتَالٌ دونوں نکرے ہیں اور چونکہ دونوں کے ساتھ جار مجرور متعلق ہے اس لیے ان میں تخصیص پیدا ہوگئی ہے اور ان کا مبتدا ہونا صحیح ہے۔ جیسا کہ امام ابن مالک نے الفیہ میں اس کی مثال یوں دی ہے۔ ورغبۃ فی الخیر خیر سبیلا للہ سے مراد اسلام ہے۔ عن سبیل اللہ وھو الاسلام (روح ص 109 ج 2) یعنی اسلام سے اور توحید سے روکنا اور یہ پہلی علت ہے وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔ اس کا عطف سبیل اللہ پر ہے۔ یعنی مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکنا یہ دوسری علت ہے۔419 اور مسجد حرام کے اہل کو وہاں سے نکالنا اور اہل سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور مومنین ہیں۔ یہ لوگ مسجد حرام کے اہل اس لیے تھے کہ یہ اس کی آبادی کے پورے پورے حقوق ادا کرتے تھے۔ چناچہ اس کا سب سے بڑا حق تو یہی تھا کہ اس میں صرف خدائے واحد کی عبادت کی جائے اور اس میں شرک نہ کیا جائے۔ اور اس حق کو وہ کما حقہ ادا کرتے تھے۔ وھم النبی ﷺ والمؤمنون وانما کانوا اھلہ لانھم القائمون بحقوقہ (روح ص 109 ج 2) یہ تیسری علت ہے۔ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (ابن جریر ص 197 ج 2) اسی طرح شرک جو تم شہر حرام میں کرتے ہو وہ قتل سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ یہ چوتھی علت ہے۔ حاصل جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے رجب کے مہینہ میں جو قتل کیا ہے وہ عمدا اور قصداً اس ماہ میں نہیں کیا بلکہ غلطی سے کیا ہے اور تم جو یہ گناہ ہمیشہ عزت والے مہینوں میں کرتے رہتے ہو وہ قتل سے کہیں بڑھ کر ہیں تم ان کا خیال نہیں کرتے ہو۔ اور اگر سوال مسلمانوں نے کیا تھا۔ تو پھر جواب کی نوعیت تسلی کی ہوگی۔ یعنی مسلمان کو تسلی دی کہ اگر تم سے رجب میں قتل ہوگیا ہے تو یہ کوئی زیادہ بڑی گناہ کی بات نہیں خود مشرکین اشہر حرم میں جو جو کرتوت کرتے ہیں وہ قتل سے بھی بڑے گناہ ہیں۔420 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ یعنی اگر تمہیں مشرکین سے اشہر حرم میں لڑنا پڑے تو بےکھٹکے ان سے لڑو۔ کیونکہ مشرکین تو اس بات کا تہیہ کرچکے ہیں کہ وہ بلا امتیاز اشہر حرم ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ تمہیں دین اسلام سے پھیر کر دوبارہ کافر بنا لیں۔ یہ اشہر حرم میں جواز قتال کی پانچویں علت ہے۔ الغرض اشہر حرم میں قتال نہ کرنے کی تو صرف ایک علت ہے مگر قتال کے جواز کی پانچ علتیں ہیں اِنِ اسْتَطَاعُوْا یعنی اگر ان کے اختیار میں اور قابو میں ہو۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بات بعید ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں اور تمہیں دوبارہ کافر بنا سکیں۔ قولہ ان استطاعوا استبعاد لاستطاعتھم کقول الرجل لعدوہ ان ظفرت بی فلا تبق علی (کبیر ص 323 ج 2، مدارک 1)421 یہ مسلمانوں کے لیے تخویف اور ڈراوا ہے۔ فالایۃ تھدید للمسلمین لیثبتوا علی دین الاسلام (قرطبی ص 46 ج 3) یعنی تم میں سے اگر کوئی مشرکین کے کہنے سننے سے اپنے دین یعنی اسلام سے پھر گیا اور توبہ کے بغیر کفر پر مرگیا تو اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت جائیں گے اور ان کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا مرتد کے دنیا میں اعمال ضائع ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کی وجہ سے جو اسے فوائد حاصل تھے وہ ان سے محروم ہوجائے گا۔ اور آخرت میں اس کے اسلام پر جو اجر وثواب مرتب ہونے والا تھا۔ وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ لبطلان ماتخیلوہ وفوات ما للاسلام من الفوائد فی الاولی وسقط الثواب فی الاخری (روح ص 110 ج 2)422 یعنی مرتدین کی وہی سزا ہے جو دوسرے کافروں کی ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ اور ان کا گذشتہ ایمان ان کے کام نہیں آئے گا۔ کسائر الکفرۃ ولا یغنی عنھم ایمانھم السابق علی الردۃ شیئا (روح ص 110 ج 2) اب آگے جہاد فی سبیل اللہ کا اجر وثواب بیان کر کے جہاد کی مزید ترغیب فرمائی ہے اور جن مسلمانوں سے رجب میں غلطی سے قتل ہوگیا تھا۔ اور انہوں نے مذکورہ بالا جواب سے یہ تو سمجھ لیا تھا کہ وہ گناہ سے بچ گئے ہیں۔ مگر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید اس مہم کے سر کرنے میں وہ ثواب سے محروم رہیں گے تو اگلی آیت میں انہیں خوشخبری دی کہ انہیں اللہ کی رحمت سے ضرور حصہ ملے گا۔ انہیں ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 2:218423 ایمان چونکہ تمام اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور اس کے بغیر نہ ہجرت مفید ہے نہ جہاد۔ اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کی خاطر اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنا وطن چھوڑا۔ وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کو سربلند کرنے کے لیے کفار سے جہاد کیا۔ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ۔ اُولٰۗىِٕكَ سے صفات بالا کے حاملین کی طرف اشارہ ہے اور رجاء سے قطع اور یقین مراد ہے۔ المراد من الرجاء القطع والیقین۔ کو مزید اطمینان دلا دیا کہ گناہ کی معافی کے ساتھ ساتھ اجر وثواب بھی ملے گا
Ayah 2:219425 ۔ ربط : حرمت والے مہینوں میں قتال کی دو جہتیں تھیں۔ ایک جہت سے ناجائز ہے۔ حرمت نفوس کے مقابلہ میں چونکہ توحید زیاہ اہم ہے۔ لہذا شرک کے استیصال کے لیے ان مہینوں میں قتال کرو۔ آگے اسی مناسبت سے پانچ اور ذوجہتین مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ہر مسئلہ کا تعلق دفع شرک سے ہے جن کا خلاصہ پانچویں مسئلہ کے بعد آرہا ہے۔ پہلا مسئلہ یعنی آپ سے شراب کی حلت و حرمت کے متعلق پوچھتے ہیں اور شراب سے مراد ہر وہ سیال ہے جو مسکر ہو اور عقل میں فتور پیدا کرے۔ خواہ کسی چیز سے تیار کیا گیا ہو اور خواہ اس کا کوئی سا نام رکھدیا گیا ہو۔ الحق الذی لا ینبغی العدول عنہ ان الشراب المتخذ مما عدا الغیب کیف کان وبای اسم متی کان بحیث یسکر من لم یتعودہ حرام وقلیلہ ککثیرہ ویجد شاربہ الخ (روح ج 2 ص 113 اسی طرح میسر سے بھی جوئے کی تمام قسمیں مراد ہیں۔ خواہ وہ لاٹری کی صورت میں ہو امدادی کمیٹی کی شکل میں یا ان کے سوا جو کھیلوں پر یا گھوڑوں کی دوڑ وغیرہ پر بازی لگائی جاتی ہے یہ سب میسر میں داخل ہیں۔ وفی حکم المیسر انواع القمار من النرد والشطرنج وغیرھما (مدارک ج 1 ص 86) ۔426 یعنی شراب اور جوئے میں ایک طرف تو بہت بڑا گناہ ہے مگر ساتھ ہی ان میں لوگوں کیلئے جسمانی اور مالی فوائد بھی ہیں۔ مثلا شراب میں لذت و سرور کے علاوہ بدن کو تقویت پہنچتی ہے اور اس کی تجارت سے نفع ہوتا ہے اور جوئے سے بغیر محنت ومشقت کے مال ہاتھ آجاتا ہے۔ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا لیکن ان سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہے وہ ان کے فوائد سے کہیں زیادہ بڑی ہیں۔ ان سے حاصل ہونیوالے فوائد تو محض مادی اور گھٹیا قسم کے ہیں مگر ان کے نقصانات دین ودنیا کے لیے تباہ کن ہیں۔ یہاں سے اشارہ نکلا کہ معمولی مادی فوائد کے لیے دین ودنیا کو برباد نہ کرو اور شراب اور جوئے سے پرہیز کرو۔
نکتہ : اپنے مالی اور بدنی منافع کے لیے کسی کو ادنی مارپیٹ اور مالی نقصان نہ پہنچاؤ لیکن شرک باللہ کے مقابلہ میں کسی کی جان تک نہ چھوڑو اور بےخوف مار ڈالو۔427 دوسرا ذوجہتین مسئلہ۔ یہ مسئلہ پہلے بھی گذر چکا ہے۔ وہاں اس کے جواب میں مصارف کا ذکر کیا گیا اور یہاں مقدار کا ذکر ہے کہ کتنا مال خرچ کرنا ہے۔ قُلِ الْعَفْوَ ۔ عفو سے مراد وہ مال ہے جو ضروری حوائج سے زائد ہو۔ فالمعنی انفقوا مافضل عن حوائجکم (قرطبی ص 61 ج 3) ای انفقوا ما فضل عن قدر الحاجۃ (مدارک ج 1 ص 86) ۔ كَذٰلِكَ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ ۔ جس طرح یہاں خرچ کرنے کا حکم بیان کیا ہے کہ ضرورت سے زائد خرچ کرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تمام احکام بیان کرتا ہے۔ اور ان میں تمہاری سہولت اور تمہارے فائدے کو مد نظر رکھتا ہے فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ظرف تَتَفَكَّرُوْنَکے متعلق ہے یعنی یہ سہولت کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ تم دین ودنیا کے معاملہ میں غور کرو اور اپنی دولت کا ایک حصہ اصلاح معاش پر خرچ کرو اور باقی ماندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ فتحسبون عن اموالکم ما یصلحکم فی معاش الدنیا وتنفقون الباقی فیما ینفعکم فی العقبی (قرطبی ص 64 ج 2) انفاق میں بھی دو جہتیں تھیں۔ ایک مالی نقصان۔ دوسرا اخروی نفع۔ اخوی نفع دنیوی نقصان کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے اس لیے ضروریات زندگی سے زائد روپیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ لیکن اگر جہاد فرض ہوجائے تو شرک کو مٹانے کے لیے سارا مال خرچ کر ڈالو۔
Ayah 2:220ف 428 تیسرا مسئلہ قرآن مجید میں یتیموں کا مال کھانے کی سخت ممانعت وارد ہوئی تو صحابہ کرام میں سے جس جس کے زیر کفالت کوئی یتیم تھا۔ انہوں نے یتیموں کے کھانے پینے کا انتظام اپنے سے الگ کردیا۔ اگر کسی یتیم کا کچھ بچ رہتا تو وہ دوسرے وقت یتیم کو دیدیا جاتا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ کھانا خراب ہوجاتا۔ نیز ان کا کھانا علیحدہ تیار کرنے میں بہت دقت تھی۔ اس لیے صحابہ کرام نےحضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا یتیموں کے کھانے کا علیحدہ انتظام رکھا جائے یا اپنے ساتھ ملانے کی اجازت ہے ؟ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ وہ طریقہ اختیار کرو جس میں یتیموں کی اصلاح ہو اور ان کا فائدہ ہو۔ یعنی یتیموں کو مال دینا واجب نہیں۔ البتہ ان کی خیر خواہی ضروری ہے۔
قاعدہ : قرآن مجید میں جہاں دو مسئلے بیان کرنے ہوں اور ان میں سے ایک سیاق سے معلوم ہوجائے اور ایک سیاق سے معلوم نہ ہو تو جو مسئلہ سیاق سے معلوم ہوجائے اس کی صراحت نہیں کی جاتی اور جو سیاق سے معلوم نہ ہو اسے صراحۃً بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہے۔ یہ بات سیاق سے معلوم تھی کہ یتامی کو مال دینا ضروری نہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا اور ان کی اصلاح کا ذکر کیا گیا ہے۔429 اور اگر تم ان کے کھانے پینے کا انتظام اپنے ساتھ مخلوط رکھو تو اس کی بھی اجازت ہے کیونکہ وہ بھی تمہارے بھائی ہیں اگر بھائیوں بھائیوں میں رضامندی سے تھوڑا بہت ادھر ادھر ہوجاوے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ غرض یہ ہے کہ یتیموں کا مال ناحق نہ کھایا جائے۔ اس آیت میں بشرط اصلاح یتیموں کو ساتھ رکھنے کی ترغیب فرمائی ہے۔ 430 اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے کہ یتیموں کا خرچ اکٹھا کرنے سے کس کی نیت نیک ہے اور کس کی نیت خراب ہے۔ کون یتیموں کے مال کی اصلاح اور حفاظت چاہتا ہے۔ اور کون ان کے مال میں خیانت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ الذی یقصد بالمخالطۃ الخیانۃ وافساد مال الیتیم واکلہ بغیر حق عن الذی یقصد الاصلاح (معالم ص 179 ج 3) ۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ۔ مخالطت کی اجازت دے کر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سہولت پیدا کردی ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کی اجازت نہ دیتا اور تم پر اس معاملہ میں تنگی پیدا کردیتا۔ ای لضیق علیکم ولم یجوز لکم مخالطتھم (روح ص 117) ۔ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ وہ جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ مگر وہ صرف وہی احکام صادر فرماتا ہے جو اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوں۔ اس کی بھی دو جہتیں تھیں۔ اگر یتیموں کا مال علیحدہ رکھا جائے تو اس میں حرج ہے اور اگر ملایا جائے تو احتیاط نہیں رہتی۔ نکتہ : اگر یتامیٰ کے پاس اپنا مال موجود ہو تو ان پر اپنا مال خرچ کرنا ضروری نہیں البتہ ان کے مال کی اصلاح اور حفاظت ضروری ہے لیکن مشرکین کے مقابلہ میں شرک مٹانے کے لیے جہاد میں سب مال خرچ کرنا نہایت ضروری ہے۔
Ayah 2:221431 چوتھا مسئلہ۔ یہاں ایک طرف تو حسن و جمال اور دنیوی مال و دولت ہے اور دوسری طرف مشرک یا مشرکہ کی رفاقت سے اپنے دین کی بربادی کا خطرہ ہے۔ دوسری جہت کو ترجیح دے کر مشرک مرد سے مومنہ کا اور مشرک عورت سے مومن مرد کا نکاح حرام قرار دیدیا۔ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ ۔ حسن و جمال اور دنیوی مال دین اور ایمان کے مقابلہ میں بےحقیقت ہیں اس لیے ایمان دار لونڈی جو ظاہری حسن اور دنیوی مال سے محروم ہو اس آزاد عورت سے بہتر ہے جو حسینہ وجمیلہ ہونے کے ساتھ دولتمند بھی ہو مگر مشرکہ ہو۔ حسن اور دنیوی مال کو شرک کے مقابلہ میں ٹھکر ادو اور مشرکین سے رشتہ نکاح مت جوڑو۔ 432 جس طرح مومن مرد کا نکاح مشرک عورت سے جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مومن عورت کا نکاح مشرک مرد سے جائز نہیں۔ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں " اگر مرد یا عورت نے شرک کیا ان کا نکاح ٹوٹ گیا۔۔ شرک یہ کہ اللہ کی صفت غیر میں جانے۔ مثلاً کسی کو سمجھے کہ اس کو ہر بات معلوم ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے یا ہمارا بھلا برا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور یہ کہ اللہ تعظیم غیر پر خرچ کرے مثلا کسی چیز کو سجدہ کرے اور اس سے حاجت مانگے اس کو مختار جان کر۔ 433 مشرک مرد اور مشرک عورتیں باہمی میل جول اور رہن سہن کے ذریعے شرک اور کفر کی طرف بلاتے ہیں۔ جس کا انجام جہنم کا عذاب ہے۔ ای الی الاعمال الموجبۃ للنار (قرطبی ص 80 ج 3) اس لیے ان کے ساتھ رشتہ ناطہ مت کرو۔ وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ ۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی صحبت ورفاقت اور ان کے میل جول کے ذریعے اعتقاد حق اور عمل صالح کی دعوت دیتا ہے جن کا ثمرہ اور نتیجہ اللہ کی بخشش اور جنت ہے ای الی اعتقاد الحق والعلمل الصالح الموصلین الیھما (روح ص 130 ج 2) ۔ بِاِذْنِہٖ ای بتوفیقہ الذی من جملتہ ارشاد لمؤمنین لمقاربھم الی الخیر (روح ص 120 ج 2) یہ محض اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے کہ وہ ایمان والوں کے ذریعے ان کے متعلقین کو سیدھی راہ دکھا دیتا ہے اس لیے مسلمانوں کو رشتہ ناطہ کرتے وقت ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کو معیار قرار دینا چاہئے نہ کہ ظاہری شان و شوکت اور مال و دولت کو۔
Ayah 2:222434 پانچواں مسئلہ۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ حیض والی عورت اپنی منکوحہ ہے تو اس سے صحبت جائز ہے لیکن اگر حالت حیض کو مد نظر رکھا جائے تو صحبت جائز نہیں کیونکہ عورت کا بدن ناپاک ہے۔ نیز فریقین کے بیمار ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے اس لیے ترجیح اس شق کو دے کر اس حالت میں صحبت کو حرام قرار دیدیا گیا جس کی وجہ سے وطی کی حرمت عارضی ہے اور حیض سے طہارت کے بعد وطی جائز ہے۔ اس تلذذ کو اذی کے مقابلہ میں ترک کردو۔ اگر ایذا بدنی ہو تو چند روز بیوی سے مقاربت نہ کرو لیکن اگر بیوی مشرکہ ہو تو اسے سرے سے چھوڑ ہی دو ۔435 قُلْ ھُوَ اَذًى۔ یعنی حیض کی حالت میں وطی عورت کے لیے باعث تکلیف ہونے کے ساتھ ساتھ مرد کے لیے بھی بدبو اور نجاست کی وجہ سے موجب تکلیف ہے۔ ای ھو شیئ تتاذی بہ المراۃ وغیرھا ای برائحۃ دم الحیض (قرطبی ص 85 ج 3) فَاعْتَزِلُوا النِّسَاۗءَ فِي الْمَحِيْضِ ۔ مقصد یہ ہے کہ زمانہ حیض میں بیوی کی مجامعت سے پرہیز کیا جائے یہ مطلب نہیں کہ حالت حیض میں عورتوں سے بالکل ہی علیحدگی اختیار کی جائے اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔ والمراد من اعتزال النساء اجتناب مجامعتھن (روح ص 121 ج 2) والمراد من ھذ الاعترزال ترک المجامعۃ لا ترک المجالسۃ او الملابسۃ فان ذلک جائز (فتح البیان ص 285 ج 1)
خلاصہ :۔ دوسروں کو نقصان نہ پہنچاؤ اور ان کی خاطر اپنے مالی اور بدنی منافع قربان کردو لیکن جہاد میں مشرک کو بےخوف مار ڈالو۔ انفاق میں اگرچہ دنیاوی نقصان ہے لیکن اخروی نفع کی وجہ سے ضرورت سے زائد مال خرچ کرو لیکن شرک کے مقابلہ میں تمام مال خرچ کر ڈالو۔ دفع شرک کے موقع کے بغیر بھی یتیم کا مال اس کے سپرد کرنا ضروری نہیں البتہ ان کے مال کی اصلاح ضروری ہے خواہ علیحدہ رکھو یا اپنے ساتھ ملاؤ لیکن مشرکہ بیوی سے مخالطت اور میل جول حرام ہے اور اگر مشرکہ نہیں تو بوجہ حیض چند روز اس سے قربت نہ کرو۔436 یہ حکم سابق کی تاکید ہے۔ نصاری حالت حیض میں عورتوں سے جماع بھی کرلیا کرتے تھے اور یہودی اس حالت میں بالکل ہی عورتوں سے قطع تعلق کرلیتے۔ یہاں تک کہ ان کا کھانا پینا بھی الگ کرلیتے۔ مگر اسلام نے اس افراط وتفریط کے درمیان ایک عمدہ راہ بتائی کہ اس حالت میں جماع سے پرہیز کرو۔ مگر اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے میں ان کے ساتھ ہی رہو سہو۔ اور جماع سے ممانعت صرف اس وقت تک ہے کہ وہ حیض سے پاک ہوجائیں اور انہیں حیض کا آنا بند ہوجائے۔437 تَطَھَّرْنَ باب تفعل سے ہے جو مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے یہاں اس سے طہارت بالماء یعنی غسل مراد ہے۔ فاذا تطھرن یعنی بالماء (قرطبی ص 88 ج 3) یہاں ایک شبہ کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ نے عدم قربت کی غایت مطلق طہر بیان فرمائی ہے۔ یعنی جماع کی ممانعت صرف حیض سے پاک ہونے تک ہے۔ جب حیض آنا بند ہوجائے تو جماع جائز ہے مگر فاذا تطھرن جو اپنے ماقبل پر متضرع ہے۔ یہاں جواز جماع تطہر بالماء یعنی غسل پر موقوف کیا ہے۔ یعنی جب وہ غسل کرلیں تو ان سے جماع کی اجازت ہے تو آیت کے پہلے حصہ سے معلوم ہوا کہ صرف انقطاعِ حیض سے وطی جائز ہوجاتی ہے مگر آیت کا دوسرا حصہ اس امر کا مقتضی ہے کہ غسل کے بعد وطی جائز ہے۔ دونوں حصوں میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حیض منقطع ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حیض پورے دس دن جاری رہنے کے بعد بند ہو۔ دس دن چونکہ حیض کی اکثر مدت ہے۔ اس لیے اس کے بعد حیض آنے کا کوئی امکان نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حیض دس دن سے کم مدت جاری رہنے کے بعد بند ہو۔ دونوں صورتوں کے احکام الگ الگ ہیں۔ پہلی صورت میں خون حیض بند ہوجانے کے بعد غسل سے پہلے بھی وطی جائز ہے لیکن دوسری صورت میں غسل سے پہلے جماع جائز نہیں تو اس آیت میں دونوں صورتوں کے احکام بیان کیے گے ہیں اور آیت میں صنعت احتیاک ہے یعنی ایک لفظ آیت کے پہلے حصہ سے محذوف ہے اور ایک دوسرے حصہ سے جو لفظ پہلے حصے میں مذکور ہے وہ دوسرے حصہ میں لفظ محذوف پر دلالت کرتا ہے اور جو دوسرے حصہ میں مذکور ہے وہ پہلے حصہ میں لفظ محذوف پر دلالت کرتا ہے اور اصل عبارت یوں تھی۔ ولا تقربوھن حتی یطھرن ویطھرن فاذا طھرن وتطھرن فاتوھن۔ تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ عورتوں سے جماع مت کرو یہاں تک کہ وہ خون حیض سے پاک ہوجائیں اور انہیں خون آنا بند ہوجائے (یہ پہلی صورت کا حکم ہے) اور یہاں تک کہ وہ غسل کرلیں (یہ دوسری صورت کا حکم ہے) پس جب وہ خون حیض سے پاک ہوجائیں (یہ حتی یطہرن پر متفرع ہے) اور غسل کرلیں۔ ) یہ یطہرن بالتشدید پر متفرع ہے تو تمہیں ان سے جماع کی اجازت ہے۔ یہ تقریر حضرت سید انور شاہ صاحب (رح) کی ہے۔ جو انہوں نے درس بخاری میں بیان فرمائی تھی۔ فاتوھن جماع سے کنایہ ہے اور من حیث امرکم اللہ میں مقام وطی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی طہارت کے بعد جس مقام میں وطی کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہے اس مقام میں تم وطی کرسکتے ہو اور اس سے مراد عورت کا قبل ہے۔ کیونکہ وطی کا فطری اور طبعی مقام یہی ہے اور اس کے فطری ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ چوپائے جن کی رہنمائی صرف فطرت ہی کرتی ہے، وہ اپنی جنس کے اسی مقام میں فعل جماع کرتے ہیں۔438 توابین سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے مذکورہ بالا حکام کی تعمیل میں کوتاہی ہوجائے اور وہ فوراً اس سے سچی توبہ کرلیں مما عسی یندر منھم من ارتکاب بعض الذنوب کالاتیان فی الحیض (روح ص 124 ج 2) اور متطہرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو حالت حیض اور غیر فطری مقام میں بیوی کی وطی سے پرہیز کرتے ہیں۔ المراد لا یاتیھا فی زمان الحیض وان لا یاتیھا فی غیر الماتی الخ ( کبیرص 351 ج 2)
Ayah 2:223439 حرث مصدر ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ ای مواضع حرثکم (روح ص 124 ج 2) یعنی تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی اور زراعت کی جگہیں ہیں۔ عوتوں کو کھیتوں سے تشبیہ دی ہے۔ کیونکہ جس طرح کھیتوں میں بیج ڈالنے سے اس میں مختلف قسم کے پھل میوے اور غلے پید اہوتے ہیں۔ اسی طرح عورت کے رحم میں تخم ریزی کرنے سے اولاد پیدا ہوتی ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ فرمادیا کہ بیوی سے اگرچہ اور بھی کئی منافع حاصل کیے جاتے ہیں۔ لیکن نکاح کا اصل مقصد نسل کشی اور توالد وتناسل ہے۔ جو لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے بچوں کی پیدائش روکنے کے درپے ہیں وہ شادی کی اصل غرض وغایت ہی سے نابلد ہیں۔ شاید انہوں نے شادی کی غرض وغایت صرف جنسی تسکین ہی سمجھ رکھی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس معاملہ میں انسان اور دیگر حیوانات میں کوئی حد امتیاز باقی نہیں رہے گی۔440 اَنیّٰ یہاں کَیْفَ کے معنوں میں ہے۔ یعنی تم اپنی کھیتی میں جاؤ۔ جس طرف سے چاہو۔ یہودیوں میں مشہور تھا کہ اگر بیوی سے پشت کی طرف سے جماع کیا جائے تو اس طرح حمل قرار پاجانے کی صورت میں جو بچہ پیدا ہوگا۔ وہ بھینگا ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کی تردید فرمائی کہ جس کیفیت اور جس ہیئت سے تم چاہو اپنی بیویوں سے جماع کرسکتے ہو لیکن یہ خیال رہے کہ جماع ہو مقام حرث ہی میں اس سے تجاوز کر کے مقام فرث (پاخانہ کی راہ) کی طرف مت بڑھنا۔ یہاں بھی فاتوھن کی بجائے فاتوا حرثکم سے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ صرف اسی مقام میں وطی جائز ہے جو کھیتی اور نسل کشی کی جگہ ہے۔ اس سے عورتوں سے غیر فطری فعل کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے اپنی بیوی سے غیر فطری فعل کیا اس نے مجھ پر نازل کیے گئے اللہ کے احکام کی تکذیب کی۔ تو اللہ کا جو حکم اس بارے میں آپ پر نازل ہوا ہے وہ یہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے صرف مقام حرث میں وطی کی اجازت دی ہے۔441 یعنی اپنے لیے کوئی عمل صالح آگے بھیج دو ۔ اس سے جماع کے وقت اللہ کا نام لینا اور شیطان سے پناہ مانگنا مراد ہے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ دعاء پڑھ کر بیوی سے صحبت میں مشغول ہوگا تو اگر اس صحبت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں فرزند عطا کیا تو وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا۔ دعاء یہ ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا (روح ص 125 ج 2) وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے اوامر ونواہی کی تعمیل کرتے رہو وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ اور یہ حقیقت ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ ایک نہ ایک دن ضرور اس کے سامنے جزا وسزا کے لیے حاضر ہونا ہے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ یہ چیز خوف خدا پیدا کرنے میں ممد اور معاون ہو۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ جن مومنوں نے مذکورہ بالا احکام کو قبول کرلیا اور ان کی تعمیل کی انہیں بےحد وبے اندازہ انعام واکرام کی خوشخبری دے دیجئے۔
Ayah 2:224442 ربط :۔ پانچ ذوجہتین مسائل کے بعد امور انتظامیہ کا دوبارہ ذکر۔ جب بیویاں حیض سے پاک ہوجائیں تو ان سے مخالطت کرو۔ اگر تم ان سے صحبت نہ کرنے کی قسم بھی کھاچکے ہو تو اسے توڑ ڈالو۔ اور قسم توڑنے کا کفارہ دے دو ۔ زمانہ جاہلیت میں ایک بری رسم یہ تھی کہ لوگ نیک کاموں پر خدا کی قسم کھالیتے تھے مثلاً فلاں رشتہ دار سے نیک سلوک نہیں کرینگے۔ فلاں دو آدمیوں کے درمیان صلح نہیں کرائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اور پھر ان قسموں کی پابندی کرتے۔ اور اس طرح خدا کے نام کو نیک کام کے نہ کرنے کا بہانہ بنا لیتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔ کیونکہ اس سے بہت سے امور انتظامیہ میں تعطل پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ عُرْضَةً کے معنی ہدف اور نشانہ کے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے معنی حاجز اور مانع کے بھی ہیں اور یہاں یہی معنی زیادہ چسپاں ہیں۔ العرضۃ عبارۃ عن المانع (کبیر ص 356 ج 1) لِاِیْمَانِکُمْ کا لام تعلیل کیلئے ہے۔443 اَنْ مصدریہ ہے اور اس سے پہلے حرف جار مِنْ مقدر ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نام کو اپنی قسموں کی وجہ سے نیکی اور تقویٰ کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کیلئے مانع نہ بناؤ۔ تقدیر الایۃ ولا تجعلوا ذکر اللہ مانعاً بسبب ایمانکم من ان تبروا الخ (کبیر ص 356 ج 2) حضرت شیخ نے فرمایا کہ ایمان سے ماعلیہ الایمان مراد ہے۔ یعنی وہ امور جن پر قسم کھائی جائے۔ مطلب یہ کہ اللہ کے نام کو نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بین الناس سے روکنے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اگر کہیں ایسی قسم کھا بیٹھو تو اسے فوراً توڑ ڈالو۔444 اللہ تعالیٰ تمہارے اقوال و اعمال کو بخوبی سنتا اور جانتا ہے اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر منہ سے نکالو۔ اور ہر کام خدا کی رضا کیلئے کرو۔ اس آیت میں یمین منعقدہ کا ایک حکم بیان کیا ہے کہ نیکی کے کاموں پر قسمیں مت کھایا کرو اور قسموں کے بہانے نیکی کے کام مت چھوڑو۔ آگے یمین لغو اور یمین غموس کا ذکر ہے۔
Ayah 2:225445 یہ یمین لغو کا حکم ہے۔ کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ نہ دنیا میں کفارہ ہے نہ آخرت میں سزا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یمین لغو کی صورت یہ ہے کہ کسی نہ کسی گذشتہ واقعہ کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کے متعلق قسم کھائی کہ ایسا ہوا ہے حالانکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا۔ فعندنا ھو ان یحلف جیسے اس نے کسی کو بتاتے وقت اس پر قسم کھالی کہ خالد لاہور چلا گیا ہے حالانکہ یہ خبر غلط تھی مگر زید نے اس خبر کو صحیح سمجھ کر قسم کھائی تو یہ یمین لغو ہوگی اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، نخعی، زہری، قتادہ، سلیمان بن یسار وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ وقول ابی حنیفۃ ھو قول ابن عباس والحسن والمجاھد والنخعی والزھری وسلیمان بن یسار وقتادۃ والسدی ومکحول (کبیر ص 357 ج 2) وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۔ یہ یمین غموس کا حکم ہے۔ اور یمین غموس یہ ہے کہ عمداً اور قصداً کسی گذشتہ واقعہ کے متعلق جھوٹی قسم کھائی جائے۔ یعنی یمین لغوپر تو کوئی مواخذہ نہیں البتہ دل کے ارادہ اور قصد سے تم جو جھوٹی قسمیں کھاؤگے، ان پر مواخذہ ہوگا۔ اور یہ مواخذہ اخروی عذاب کی صورت میں ہوگا۔ دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ وہ بخشنے والا ہے چناچہ غیر ارادی اور لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا۔ اور بردبار ہے۔ ارادۃً جھوٹی قسموں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ بندوں کو توبہ کرنے اور گناہوں پر نادم ہونے کا موقع دیتا ہے۔
Ayah 2:226446 ربط : قسم کی جاہلی رسموں میں سے ایک ایلاء کا غلط استعمال تھا۔ اس لیے یمین کے بعد جاہلی ایلاء کی اصلاح فرمائی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ناراض ہوجاتا اور اس کو ناپسند کرتا تو وہ اس سے ایلاء کرلیتا۔ یعنی قسم کھالیتا کہ میں اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کروں گا۔ اور ایلاء کی ان کے رواج میں کوئی مدت مقرر نہیں تھی۔ اس لیے ایک طرف تو خاوند ایلاء کی وجہ سے ساری عمر اپنی بیوی سے تعلقات زوجیت منقطع رکھتا دوسری طرف وہ عورت اس کی زوجیت سے خارج بھی نہ ہوتی تاکہ وہ دوسرے آدمی سے نکاح کرلے۔ اس طرح وہ بیچاری ساری عمر معلق رہتی تھی اور تکلیف اٹھاتی تھی۔ اسلام نے ان خرابیوں کو دور کرنے کیلئے جاہلیت کے ایلاء میں اصلاح کی اور اس کے لیے چار ماہ مدت مقرر کردی تاکہ خاوند ایلاء کے بعد اس عرصہ میں اپنی بیوی کے متعلق آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر کوئی رائے قائم کرے اگر سوچ بچار کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے کہ اسے اپنی بیوی سے صلح کرلینی چاہئے اور دوبارہ اس سے تعلقات زوجیت استوار کرلینے چاہئیں تو اسے چاہئے کہ وہ ایلاء کے دن سے چار ماہ کے اندر اندار اس سے ہمبستری کرلے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے اور اگر اس عرصہ میں اس نے یہی طے کیا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی اس بیوی سے تعلقات برقرار رکھنا نہیں چاہتا تو وہ چار ماہ تک اس کے قریب نہ جائے اور اس سے صحبت نہ کرے۔ چار ماہ کا عرصہ گزرنے پر خود بخودعورت کو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی جس کی عدت گذارنے کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کرلے۔ یؤلون، ایلاء سے ہے۔ جس کے لغوی معنی مطلق قسم کھالینے کے ہیں۔ مگر اصطلاح شرع میں بیوی سے ترک صحبت پر قسم کھانے کو ایلاء کہتے ہیں۔ اما فی عرف الشرع فھو یمین علی ترک الوطئ (کبیر ص 359 ج 2) ایلاء کے مختلف الفاظ ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ یہ جملہ خبر مقدم ہے۔ تربص اربعۃ اشہر ج۔ تربص کے معنی انتظار اور توقف کے ہیں اور یہ جملہ مبتداء موخر ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرلیتے ہیں (یعنی ان سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں) ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے تاکہ وہ اس معاملہ میں اچھی طرح غور وفکر کرلیں۔ فَاِنْ فَاۗءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ فاء و کے معنی رجعوا کے ہیں۔ یعنی حلف اٹھانے کے بعد اگر وہ چار ماہ کے اندر اندر ترک جماع سے رجوع کرلیں۔ اور عورت کو تکلیف دینے اور اسے چھوڑنے کے ارادے سے باز آجائیں اور اپنی قسم توڑ ڈالیں تو اللہ تعالیٰ قسم توڑنے اور عورت کو بلاوجہ تکلیف پہنچانے کا گناہ معاف کردیگا اور آئندہ کے لیے اصلاح احوال کے ارادے کی تکمیل میں اپنی رحمت اور مہربانی سے مدد دیگا اور اگر عورت کو چھوڑنے ہی کا ارادہ ہو تو اس کا حکم اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 2:227447 اور اگر وہ اپنی بیویوں کو چھوڑنے اور انہیں طلاق دینے ہی کا عزم کرلیں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سنتا اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک مدت ایلاء کے بعد تفریق کے لئے قاضی کی ضرورت ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ کے نزدیک تفریق کے لئے قاضی کی ضرورت نہیں بلکہ چار ماہ گذرنے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی۔ کما ھو منقول عن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وزید بن ارقم وابن مسعود ؓ رواہ الامام محمد بن الحسن (رح) فی المؤطا ص 263 آگے چار امور انتظامیہ کا ذکر فرمایا ہے۔ (1) طلاق (2) عدت (3) رضاعت اور (4) نکاح۔ ایلاء کے ذکر میں چونکہ طلاق کا ذکر آگیا۔ اس لیے اس مناسبت سے پہلے طلاق کے اور عدت کے احکام بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 2:228448 عدت کے اعتبار سے عورت کی کئی قسمیں ہیں (1) صغیرہ جو ابھی تک بالغ نہ ہوئی ہو (2) جو عمر سے بالغ ہوئی ہو اور ابھی تک حیض نہ آیا ہو۔ (3) بڑھاپے کی وجہ سے جس کو حیض آنا بند ہوچکا ہو۔ ان کو اگر طلاق ہوجائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ اس کا بیان سورة طلاق پارہ 28 میں ہے۔ (4) حاملہ عورت اگر اسے طلاق مل جائے یا اس کا خاوند مرجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اس کا بیان بھی سورة طلاق میں ہے۔ (5) وہ عورت جو حاملہ نہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس کا بیان سورة بقرہ رکوع 30 میں ہے۔ (6) وہ عورت جو نہ حاملہ ہو نہ صغیرہ اور نہ آئسہ اگر اسے طلاق مل جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے اس آیت میں اس کی عدت کا ذکر ہے۔ (7) وہ عورت جسے خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق مل جائے اس کی کوئی عدت نہیں۔ اس کا حکم سورة احزاب رکوع 6 میں بیان کیا گیا۔ قروء، قرءٌ کی جمع ہے۔ یہ لفظ حیض اور طہر دونوں معنوں میں مشترک ہے مگر یہاں اس سے مراد حیض ہے کیونکہ اس آیت میں ثلثتہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے خاص ہے اور کتاب اللہ کے خاص پر عمل فرض ہوتا ہے لیکن اگر اس آیت میں قرء سے مراد طہر لیا جائے تو خاص پر عمل نہیں ہوسکتا کیونکہ طلاق بہرحال طہر میں دی جائے گی۔ حالت حیض میں طلاق دینی جائز نہیں۔ اب جس طہر میں طلاق دی گئی ہے۔ اگر اس کو شمار کیا جائے تو طلاق کے بعد تین طہر پورے نہیں ہوتے بلکہ دو پورے اور تیسرے کا کچھ حصہ اور اگر اس طہر کو نظر انداز کردیا جائے تو عدت تین طہروں سے بڑھ جائے گی لیکن اگر قرءٌ سے حیض مراد لیا جائے تو اس قسم کی کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی اور طلاق والے طہر کے بعد والے پورے تین حیض عدت ہوگی۔449 حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ما سے مراد حمل اور حیض ہے۔ یعنی اگر معتدہ حاملہ ہو یا اسے حیض آجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ حمل یا حیض کو چھپائے اور کسی پر ظاہر نہ کرے۔ قال ابن عمر الحمل والحیض ای لا یحل لھا ان کانت حاملۃ ان تکتم حملھا ولا ان کانت حائضاً ان تکتم حیضھا الخ (روح ص 133 ج 2) زمانہ جاہلیت میں بعض طلاق یافتہ عورتیں زمانہ عدت میں بعض اغراض کے تحت ایسا کیا کرتی تھیں۔ چناچہ بعض حاملہ عورتیں جن کو طلاق مل جاتی وہ اپنا حمل ظاہر نہ کرتیں۔ کیونکہ اگر وہ حمل ظاہر کردیتی ہیں تو بچہ پیدا ہونے تک کوئی ان سے نکاح نہیں کریگا۔ اور یہ بچہ پہلے خاوند کا قرار پائے گا اور دوسرا خاوند اس کی پرورش کے سلسلے میں مناسب توجہ اور شفقت سے کام نہیں لے گا۔ اس لیے وہ حمل کا کسی سے ذکر نہ کرتیں اور ورثاء سے کہ دیتیں کہ ہماری عدت گذر چکی ہے۔ اور دوسرے خاوند سے نکاح کرلیتیں اس طرح وہ بچہ دوسرے خاوند کے نکاح میں پیدا ہوتا اور اسی سے ملحق ہوجاتا اور بعض معتدہ عورتیں جو حاملہ نہ ہوتیں وہ آخری حیض ختم ہونے سے پہلے ہی کہہ دیتیں کہ ان کا حیض بند ہوچکا ہے اور وہ پاک ہوچکی ہیں تاکہ خاوند کا حق رجعت باطل ہوجائے اور وہ رجوع نہ کرسکے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس ناشائستہ حرکت سے منع فرمایا ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں خاوند کی حق تلفی ہوتی ہے۔ جو کسی طرح جائز نہیں۔ پہلی صورت میں ایک شخص کا بیٹا دوسرے سے ملحق ہوجاتا ہے۔ اور دوسری صورت میں خاوند کا حق رجعت باطل ہوجاتا ہے۔450 ۔ اِنْ شرطیہ ہے مگر یہ شرط تعلیق کے لیے نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ بالا نہی ایمان کے ساتھ مشروط نہیں ہے کہ ایمان والی عورتوں کے لیے تو حمل اور حیض کو چھپانا جائز نہیں اور غیر مؤمنہ مثلاً کتابیہ کے لیے چھپانا جائز ہے۔ بلکہ یہ شرط محض وعید وتہدید کیلئے ہے۔ یعنی جو عورتیں خدا پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں ان کی یہ شان نہیں کہ وہ خدا کے احکام کی مخالفت کریں۔ ھذا وعید عظیم شدید لتاکید حرمۃ الکتمان (قرطبی ص 119 ج 3) لیس المراد ان ذلک النھی مشروط بکونھا مؤمنۃ ولا شک ان ھذا تھدید شدید علی النساء (کبیر ص 369 ج 2) حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں ایمان کا کامل درجہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جن عورتوں کا ایمان کامل ہے وہ تو مافی الارحام کو نہیں چھپائیں گی۔ اور اللہ کے اس حکم کی پوری پوری تعمیل کرینگی۔451 بُعُوْلَةٌ بَعْلٗ کی جمع ہے جس کے معنی خاوند کے ہیں البعولة جمع البعل وھو الزوج (قرطبی ص 119 ج 3) رَدٌّ مصدر ہے جو اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے اور اس سے مطلقہ عورتوں کو نکاح اور زوجیت میں واپس لے آنا مراد ہے اور یہ صرف رجع طلاق سے مخصوص ہے۔ احق بردھن الی النکاح والرجعۃ الیھن۔ وھذا اذا کان الطلاق رجعیاً للایۃ بعدھا (روح ص 134 ج 2) اور ذلک سے زمانہ عدت کی طرف اشارہ ہے۔ ای فی زمان التربص (ابو السعود ص 369 ج 2) مطلب یہ ہے کہ طلاق رجع کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اگر عورت رضامند نہ ہو تو بھی خاوند کو ایسا کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ وصیغة التفضیل لافادة اذا اراد الرجعةوالمراة تاباھا وجب ایثار قولہ علی قولھا (ابو السعود ج 2 ص 369) اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا۔ یہاں بھی صحبت ورجعت کے لیے ارادہ اصلاح کا اشتراط مراد ہے اور ارادہ اصلاح کی ترغیب مقصود ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ رجعت سے خاوند کی نیت اصلاح احوال کی ہونی چاہئے نہ کہ عورت کو تکلیف دینے اور ضرر پہنچانے کی۔ ولیس المراد بہ شرطیة قصد الاصالح لصحة الرجعة بل ھو الحث علیہ والزجر عن قصد الضرار (ابو السعود ص 370 ج 2) لیس المراد من التعلیق اشتراط جواز الرجعة بارادةالاصلاح بل المراد تحریضھم علی قصد الاصلاح (روح ص 134 ج 2) آیت کے پچھلے حصہ میں عورت پر خاوند کی فوقیت اور برتری کی طرف اشارہ تھا۔ اب اگلے حصے میں صراحت کردی گئی کہ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جن کی ادائیگی مردوں کے ذمے ہے تاکہ مرد اس بھول اور غلط فہمی نہ رہیں کہ ان کے ذمہ عورتوں کا کوئی حق نہیں۔452 یعنی جس طرح مردں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں اسی طرح مردوں پر عورتوں کے حقوق کی یہ مماثلت کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے نہیں بلکہ محض وجوب کے اعتبار سے ہے۔ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے اسی طرح مردوں پر عورتوں کے حقوق کا ادا کرنا فرض ہے۔ والمراد بالمماثلۃ المماثلۃ فی الوجوب لا فی جنس الفعل (روح ص 124 ج 2) ۔ بِالْمَعْرُوْفِ سے اس طرف اشارہ ہے کہ خاوند بیوی کے یہ حقوق شریعت اور عقل سلیم کے مطابق ہوں گے جو حقوق اپنی طرف سے گھڑ کی بنائے گئے۔ یا رسوم جاہلیت کی پیداوار ہوں ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔ بالمعروف بالوجہ الذی لا ینکر فی الشروع عادات الناس (مدارک ص 90 ج 1) ۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ۔ البتہ مردوں کا حق عورتوں کی نسبت کچھ زائد ہے۔ اور انہیں عورتوں پر فضیلت ہے کیونکہ وہ گھر کے منتظم ہوتے ہیں۔ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اس لیے وہ جو چاہے حکم دے کوئی اس کا مزاحم نہیں۔ نیز اس کے تمام احکام ضرور کسی نہ کسی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔
Ayah 2:229453 ۔ یہاں الطلاق بمعنی مصدر یعنی التطلیق ہے وھو بمعنی التطلیق الذی ھو فعل الرجل (روح ص 135 ج 2) یعنی طلاق دینے کا فعل جس کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے اور نکاح کے بغیر عورت کو دوبارہ اپنی زوجیت میں رکھا جاسکتا ہے وہ دو بار طلاق ہے۔ بشرطیکہ طلاق لفظ صریح کے ساتھ ہو۔ نہ کہ کنایہ کے ساتھ اگر خاوند نے اپنی بیوی کو دو صریح طلاقیں دیدیں تو یہ رجعی ہونگی۔ اور ان کے بعد عدت کے اندر اندر وہ رجوع کرسکتا ہے اور اپنی بیوی کو بغیر نکاح دوبارہ اپنے گھر میں آباد کرسکتا ہے۔ اور اگر عدت گذر گئی تو اب بھی اسے واپس لاسکتا ہے مگر اب نکاح کی ضرورت ہوگی۔ زمانہ جاہلیت میں طلاق کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی جو شخص جتنی چاہتا اپنی بیوی کو طلاقیں دیتا۔ اور پھر عدت گذرنے سے پہلے رجوع کرلیتا۔ بعض لوگ عورتوں کو تنگ کرنے کے لیے باربار ایسا کیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس کا سد باب کیا۔ اور رجوع کرنے کی اجازت کو دو طلاقوں تک محدود فرمادیا۔ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۔ فاء فصیحہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مابعد اس کے ماقبل پر مرتب ہے یعنی دو طلاقیں دینے کے بعد خاوند کو اختیار ہے۔ اگر چاہے تو عدت کے اندر رجوع کرلے یا اس کی عدت گذرجانے دے تاکہ عدت گذر جانے سے خود بخود رشتہ نکاح منقطع ہوجائے مگر رشتہ نکاح منقطع کرنے سے نیت خیر کی ہو۔ یعنی باہمی نزاع و خلاف کو ختم کرنا مقصود ہو۔ عورت کی دل شکنی اور اس کو تکلیف دینا مقصود نہ ہو۔ بعض لوگوں نے ایک روایت کی بناء پر او تسریح باحسان سے تیسری طلاق مراد لی ہے۔ یعنی دو طلاقوں کے بعد یا تو عدت کے اندر رجوع کرلے یا دوسرے طہر میں اسے تیسری طلاق دیدے تاکہ وہ بائن ہوجائے تو اس صورت میں۔ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗالآیہ اس کا بیان ہوگا اور علیحدہ طلاق نہیں ہوگی مگر پہلا معنی راجح ہے۔ اور حضرت ابن مسعود، ابن عباس مجاہد، عروہ اور قتادہ ؓ سے منقول ہے (ابن جریر ص 259 ج 2) اور جس روایت کی بناء پر تسریح باحسان سے تیسری طلاق مراد لی گئی ہے اس کے متعلق علامہ قرطبی نے نقل کیا ہے کہ وہ ثابت نہیں۔ وذکر ال کیا الطبری ھذا الخبر وقال انہ غیر ثابت من جھۃ النقل (قرطبی ج 3 ص 128) لیکن الطلاق مرتن عام ہے اس سے کہ یہ دونوں طلاقیں بلا بدل ہوں یا ان میں سے ایک بطور خلع ہو لہذا طلاق بصورت خلع جو اس کے بعد مذکور ہے وہ تیسری طلاق نہیں بلکہ ان دو ہی میں شامل ہے لہذا فان طلقھا سے تیسری طلاق کا ذکر ہے۔454 زمانہ جاہلیت کی ایک ظالمانہ رسم یہ تھی کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو جو کچھ اسے دیا ہوا ہوتا وہ بھی اس سے چھین لیتا تو اللہ تعالیٰ نے اس بدسلوکی سے منع فرمایا کہ جو کچھ تم اپنی بیویوں کے دے چکے ہو۔ طلاق کے بعد اس میں سے کچھ بھی مت واپس لو۔ البتہ ایک صورت میں طلاق کے عوض کچھ مال لینے کی اجازت دیدی اور وہ یہ ہے کہ خاوند بیوی کے تعلقات اس قدر کشیدہ ہوجائیں کہ ان کے درمیان صلح کی کوئی صورت نہ نکل سکے اور عورت کی طرف سے شرعی حدود کے مطابق حقوق زوجیت ادا کرنے کی کوئی توقع باقی نہ رہے اور طلاق ناگزیر ہوجائے تو اس صورت میں جائز ہے کہ عورت کچھ دیکر خاوند سے طلاق حاصل کرلے۔ طلاق کی اس صورت کو شریعت کی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔455 یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت فرما دی کہ خلع کی صورت میں عورت کے لیے خاوند کو مال دینا اور خاوند کو اس کا مال لینا جائز ہے۔ اور خلع حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک طلاق بائن ہے۔ حضرت عثمان، علی ابن مسعود، ثوری، ازاعی اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی منقول ہے۔ روی عن عثمان وعلی ابن مسعود وجماعۃ من التابعین ھو طلاق وبہ قال مالک والثوری والاوزاعی وابوحنیفۃ و اصحابہ والشافعی فی احد قولیہ (قرطبی ص 143 ج 3) لیکن شوافع کے نزدیک خلع طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے۔ لہذا ان کے نزدیک ولا یحل سے فیما افتدت بہ تک جملہ معترضہ ہے بیان خلع کے لیے اور فان طلقھا سے تیسری طلاق مراد ہے۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا۔ یعنی احکام مذکورہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو لوگ اللہ کی حدود توڑتے ہیں وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 2:230456 اس کا تعلق الطلاق مرتٰن سے ہے اور اس میں تین طلاقوں کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ دو طلاقوں کے بعد تو اگر رجعی ہوں، خاوند رجوع کرسکتا ہے اور اگر ایک بصورت خلع ہو تو بھی دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن اگر اس نے عدت کے اندر تیسری طلاق بھی دیدی تو اب وہ اس سے نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح ہی کرسکتا ہے۔ البتہ ایک طریقہ ہے جس سے وہ عورت دوبارہ اس کے نکاح میں آسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ عورت انقاء عدت کے بعد کسی دوسرے آدمی سے نکاح کرے اور وہ آدمی اس سے صحبت کے بعد اسے طلاق دیدے اور اس کی عدت گزر جائے تو پہلا خاوند اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں یہی حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی اجازت سے نکاح منعقد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہاں فعلِ نکاح کو عورت کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔457 یہ ماقبل کی تفصیل ہے اور طَلَّقَ کا فاعل دوسرا خاوند ہے۔ یعنی اگر دوسرا خاوند بھی اس کو طلاق دیدے تو یہ عورت اور اس کا پہلا خاوند اگر یہ سمجھتے ہوں کہ اب وہ شرعی حدود کے مطابق ایک دوسرے کے حقوق ادا کرسکیں گے تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ دوبارہ نکاح کر کے تعلقات زوجیت استوار کرلیں۔ مگر اس مطلقہ کے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کے جواز کے لیے پاچ شرطیں ہیں (1) پہلے خاوند کی عدت پوری کریں (2) عدت کے بعد دوسرے خاوند سے شرعی عقد کرے (3) دوسرا خاوند اس سے وطی کرے (4) وطی کے بعد دوسرا خاوند اسے طلاق دے دے۔ (5) دوسرے خاوند کی طلاق کی عدت پوری کرے۔ ان میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہوگی تو پہلے شوہر سے اس کا نکاح جائز نہیں۔ مذھب جمھور المجتھدین ان المطلقة بالثلاث لا تحل لذلک الزوج الا بخمس طرائق تعتد منہ وتعقد لسانی ویطاھا ثم یطلقھا ثم تعتد منہ (کبیر ص 379 ج 2) وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُھَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ۔ حدود اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام اور قوانین ہیں اللہ تعالیٰ علم وبصیرت رکھنے والوں کے لیے اپنے احکام بیان فرمایا تا ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر ان پر عمل کریں اور ان کی پابندی کریں۔