2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsجواھر القرآن

Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہوچکے ہیں موسیٰ سے اس سے پہلے206 اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے207

206 یہاں ام منقطعہ بمعنی بل ہے اور مفید اضراب ہے۔ یعنی ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال کے لیے (بحر ص 346 ج 1) اور تریدون سے خطاب بتفصیل بالامنافقین یہود کو ہے۔ یعنی تم نے اس بات میں غور نہ کیا کہ اللہ کے سوا کوئی یارومددگار اور حافظ وناصر نہیں اور تم نے راعنا کے ذریعے مسلمانوں میں شرک پھیلانے کی کوشش ترک نہ کی بلکہ شرک کی بنیادیں رکھنے کے لیے الٹے سیدھے مطالبات پیش کردئیے۔ تمہارے یہ مطالبات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے گئے تھے۔207 کفر کو ایمان سے تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح دے اور بجائے ایمان کے کفر کو اختیار کرے۔ ای یختارہ ویاخذہ لنفسہ (ابو السعود ص 676 ج 1) یعنی جس شخص نے پیغمبر پر معاندانہ سوالات کر کے کفر اختیار کیا وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنا دیں208 بسبب اپنے دلی حسد209 کے بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

208 اہل کتاب سے بعض مفسرین نے علمائ یہود مراد لیے ہیں لیکن یہ کوئی علمائ یہود ہی سے مخصوص نہیں۔ عیسائی پادریوں کی بھی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے اور آج پادری لوگ جس سرگرمی سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش مصروف ہیں وہ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ آیت میں لَوْ مصدریہ ہے اور کفاراً یریدون کا مفعول ثانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ یہ اہل کتاب تمہیں اسلام سے پھیر کر دوبارہ کافر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کبھی تو موہم شرک الفاظ تمہاری زبانوں سے کہلواتے ہیں اور کبھی پیغمبر خدا ﷺ سے دوسری مشرکانہ رسوم جاری کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔209 حَسَداً ۔ وَدَّکا مفعول لہ ہے یعنی وہ مسلمانوں کا ارتداد محض ذاتی بغض وعداوت اور حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں اور اس بغض وحسد کا سرچشمہ ان کی نفسانی خواہشات ہیں۔ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۔ یعنی مسلمانوں کو مرتد کرنے کے سلسلے میں ان کی سرگرمیاں کسی غلط فہمی یا نادانی پر مبنی نہیں ہیں بلکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں دیدہ دانستہ کر رہے ہیں۔ تورات کے بیانات اور محمد ﷺ کے معجزات سے حق ان پر واضح ہوچکا ہے۔ اس لیے اب وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں۔ محض رشک وحسد کیوجہ سے کر رہے ہیں۔ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۔ امر سے مراد حکم جہاد ہے۔ والمراد بہ الامر بالقتال (روح ص 357 ج 1) اہل کتاب کی مذکورہ حرکتوں پر مسلمانوں کا اشتعال لازمی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انتقامی کارروائی سے فی الحال منع فرمایا۔ اور عفو درگزر کا حکم دیا یعنی جہاد کا حکم آنے تک صبر و سکون اور عفو و درگذر سے کام لو۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيْرٌ۔ وہ جب چاہے گا ان سرکشوں اور معاندوں سے انتقام لے لیگا اور اسلام اور اہل اسلام کی مدد کریگا۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ201 اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس211 بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے

210 وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ جب تک جہاد کا حکم نہیں آتا اس وقت تک نماز، زکوۃ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی کرتے رہو۔ نماز اور زکوۃ وغیرہ امور مصلحہ میں سے ہیں ان سے باطن کی اصلاح ہوتی ہے جس سے ایک طرف تو دشمنوں کی تکلیف واذیت پر صبر و سکون کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف ان سے عقیدہ توحید میں پختگی اور استواری پیدا ہوتی ہے جو مسلمان کو دشمنانِ توحید اور باغیانِ اسلام سے جہاد کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ 211 پہلے عفو و درگذر اور نماز وزکوۃ کا حکم دیا ہے یہاں انہیں احکام کی ترغیب فرمائی کہ اگر تم ان میں سے کوئی سا نیک کام کروگے تو وہ ضائع نہیں کیا جائیگا بلکہ اس کا ثواب اللہ کے پاس محفوظ رہیگا۔ جسے تم آخرت میں اللہ کے یہاں پاؤگے اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْر۔ یہ بھی ماقبل کی تاکید ہے۔ یعنی تمہیں تمہاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بدلہ بھی ملیگا۔ کیونکہ تمہاری ہر نیکی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے لہذا نیکی کے ضائع ہونے کا وہاں ادنی احتمال بھی نہیں۔ اہل کتاب اور مشرکین مسلمانوں کے خلاف ہر حربہ استعمال کرچکے۔ ان میں شرک پھیلانے اور انہین گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرچکے انہیں ہر موقع پر ناکامی اور نامرادی کا سامنا کرنا پڑا تو اب انہوں نے پینترا بدل کر ایک اور پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ یعنی اپنے غلط اور مشرکانہ عقائد اور اعمال کو عجیب رنگ آمیزی اور ملمع سازی سے مسلمانوں کے سامنے پیش کرنے لگے۔ چناچہ اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ان ناشائستہ حرکات کا شکوہ فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ معقول وجوہ سے ان کی اصلاح بھی فرمادی ہے۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاوینگے جنت میں مگر جو ہونگے یہودی یا نصرانی212 یہ آرزوئیں باندھ لی ہیں انہوں نے، کہدے لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ّ ہو

212 پانچ شکوے ۔ پہلا شکوہ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ آخرت میں نجات صرف یہودیوں کی ہوگی اور عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ ان کے بغیر جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے گناہوں کا کفارہ اور نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو۔ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ وہ پیر زادے اور پیغمبر زادے ہیں۔ اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لیے جنت صرف انہی کے لیے ہے۔ درحقیقت یہود ونصاری اس دعویٰ سے اسلام پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور لوگوں کے دلوں میں اسلام سے برگشتگی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ نجات تو صرف ان کے دین سے وابستہ ہے۔ لہذا ان کے دین کی موجودگی میں دین اسلام کی کیا ضرورت ہے۔ آگے اس دعویٰ کی تردید ہے۔ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۔ امانی کی تحقیق پہلے گذر چکی ہے کہ اس سے مراد ان کی باطل اور جھوٹی خواہشات ہیں اور ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ای شھواتھم الباطلۃ التی تمنوھا (معالم و خازن ص 83 ج 1) یعنی یہ محض آرزوئیں ہی آرزوئیں ہیں قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ یہود ونصاری کی تبکیت اور انہیں لاجواب کرنے کے لیے ان سے ان کے دعویٰ پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے یعنی اگر تم اپنے مذکورہ دعویٰ میں سچے ہو تو اس پر کوئی دلیل پر یش کرو۔ اس کے بعد نجات اخروی کا اصل قانون بیان فرمایا ہے۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے تابع کردیا منہ اپنا اللہ کے اور وہ نیک کام کرنیوالا ہے تو اسی کے لئے ہے ثواب اس کا اپنے رب کے پاس213 اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگے214

213 بلی یہود و نصاری کے دعویٰ کی تردید وتکذیب کے لیے لایا گیا ہے۔ وجہ کے معنی چہرہ کے ہیں لیکن یہاں مجازاً اس سے مراد ذات یا ارادہ اور قصد ہے۔ یعنی اس نے اپنی ذات کو خدا کے سپرد کردیا۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا۔ اخلص لہ نفسہ او قصدہ فلم یشرک بہ تعالیٰ غیرہ او لم یقصد سواہ۔ (روح ص 360 ج 1) وَھُوَ مُحْسِنٌ۔ اَسْلَمَ کے فاعل سے حال ہے۔ جب یہود اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا تو اس کا جواب دیا گیا کیوں نہیں۔ جس نے بھی اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیا اور صرف اسی کا ہو کر رہ گیا اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کیا۔ اور ہر کام میں صرف اللہ کی رضا کو مد نظر رکھا تو اس کا اجر ہرگز ضائع نہیں ہوگا بلکہ خدا کے یہاں محفوظ رہیگا۔ تو معلوم ہو اجنت میں صرف وہ جائے گا۔ جو شرک نہ کرے لہذا یہود ونصاریٰ کا دعویٰ غلط ہے کہ ان کے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ کیونکہ وہ تو حضرت عزیر اور حضرت مسیح کی عبادت کرتے اور ان کو پکارتے ہیں۔214 اس جملے کی تینوں ضمیریں مَنْ کی طرف راجع ہیں کیونکہ وہ معنیً جمع ہے یعنی ان لوگوں کو آخرت میں نہ گذشتہ زمانہ پر افسوس ہوگا نہ آئندہ کا غم ستائے گا۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر215 اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر باوجودیکہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں216 ان ہی کی سی بات اب اللہ حکم کریگا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے217

215 ۔ دوسرا شکوہ۔ یہودیوں نے کہا کہ نصاریٰ کا دین باطل ہے کیونکہ وہ تثلیث اور الوہیت مسیح کے قائل ہیں۔ انہوں نے شرک کو اپنا دین بنایا ہوا ہے لہذا ان کا دین غلط ہے۔ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰي شَيْءٍ ۔ اور عیسائی بولے کہ یہودیوں کا دین باطل ہے اور غلط ہے کیونکہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور انجیل مقدس کو نہیں۔ وَھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ ۔ الکتاب میں الف لام جنس کے لیے ہے اور اس سے مراد تورات اور انجیل ہے یعنی یہ دونوں فریق اپنی اپنی کتاب پڑھتے ہیں اور پھر ایسا دعویٰ کرتے ہیں جس کی تردید خود ان کی اپنی کتاب کرتی ہے یا الکتاب سے مراد تورات ہے کیونکہ تورات کو نصاریٰ بھی مانتے ہیں۔ مطلب یہ کہ دونوں فریق ایک ہی کتاب کو مانتے ہیں۔ پھر اس کے باوجود ایک دوسرے کے دین کا ابطال کرتے ہیں۔ 216 الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ یعنی جو لوگ علم نہیں رکھتے جن کے پاس کتاب اور اللہ کا دیا ہوا رشد وہدایت کا علم نہیں ہے۔ یہاں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں۔ وھم مشرکوا العرب فی قول الجمھور (روح ص 361 ج 1) مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۔ ان اہل کتاب اور اہل علم کی طرح مشرکین عرب بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتے تھے۔ اور اپنے دین جاہلیت اور شرک کے سوا باقی تمام ادیان کو باطل سمجھتے تھے۔ قالوا لاھل کل دین لیسوا علی شئی (مدارک ص 55 ج 1) قالوا فی نبیھم محمد ﷺ و اصحابہ انھم لیسوا علی شئی من الدین (معالم ص 83 ج 1) جواب کا ماحصل یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ کا یہ دعویٰ بھی عرب کے جاہل مشرکوں کے دعویٰ کی طرح سراسر جاہلانہ اور احمقانہ ہے۔ 219 بینھم کی ضمیر یہودو نصاریٰ کی طرف راجع ہے۔ یوام القیمۃ فیما دونوں ظرفیں یحکم کے متعلق ہیں۔ فیہ یختلفون کے متعلق ہے یعنی دنیا میں تو یہ جھگڑتے ہی رہیں گے۔ ان کے جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ تو قیامت کے دن خدا ہی کریگا۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا218 اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے219 ان کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے

218 تیسرا شکوہ من یہاں استفہام انکاری کیلئے ہے۔ یعنی خدا کے گھروں سے روکنے والوں سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ولا یراد بالاستفہام حقیقۃ وانما ھو بمعنی النفی فیول الی الخبر ای الا احد اظلم من ذلک (روح ص 263 ج 1) من منع اور مساجد اللہ میں مفسرین نے بعض روایات کی بنا پر تخصیص کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں جنہوں نے یہودیوں کو بیت المقدس سے نکالا اور بیت المقدس کو مسمار کیا اور بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مقام حدیبیہ پر بیت اللہ سے روکا لیکن بہتر یہ ہے کہ آیت اپنے عموم پر رہے۔ اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہو جو مسجدوں کو غیر آباد کرے۔ خواہ انہیں گرا کر خواہ ان میں خالص توحید کے ذکر سے روک کر۔ خواہ ان میں شرک کی تبلیغ اور غیر اللہ کی پکار کے ذریعے۔ وظاھر الایۃ العموم فی کل مانع وفی کل مسجد وخصوص السبب لا یمنعہ (روح ص 363 ج 1) مساجد اللہ مبدل منہ ہے اور ان یذکفر فیھا اسمہ بدل الاشتمال ہے۔ اور اللہ کے ذکر سے یہاں مطلق ذکر مراد نہیں کیونکہ اس سے تو دنیا کا کوئی کافر سے کافر انسان بھی نہیں روک سکتا۔ بلکہ ذکر اللہ سے نفی شرک اور توحید کے ساتھ اللہ کا ذکر مراد ہے۔ ای ان یذکر فیھا اسمہ وحدہ قالہ الشیخ (رح) تعالیَ مطلب یہ ہے کہ جو شخص خدا کے گھروں میں خالص توحید کے ساتھ خدا کے ذکر سے روکتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی یا مشرک اور خواہ کوئی آج کل کا بناسپتی مسلمان۔ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ۭ۔ تخریب عام ہے۔ خواہ عمارت کے گرانے سے ہو، خواہ خالص توحید کے ساتھ خدا کے ذکر اور نماز سے روکنے کے ذریعہ ہو۔ 219 انہیں تو خدا کے گھروں میں ان کی تعظیم و حرمت کی بنا پر ڈرتے ڈرتے داخل ہونا چاہیے تھا۔ چہ جائیکہ یہ ظالم ان کی تخریب کے درپے ہوجاتے۔ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْم۔ ایسے ظالموں کے لیے دنیا میں ذلت ورسوائی اور آخرت میں عذاب جہنم ہے۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ220 بیشک اللہ بےانتہا بخشش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے،

ف 220 اس آیت میں خطاب مسلمانوں کو ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ اگر کفار ومشرکین تمہیں مسجدوں سے روکیں تو تم فکر مت کرو۔ مشرق ومغرب اور باقی تمام اطراف اللہ ہی کی ہیں۔ تم جہاں کہیں بھی ہوا کرو وہیں سے قبلہ رخ ہو کر میری عبادت کرلیا کرو اور نماز پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ تم جہاں بھی اسے پکاروگے وہ تمہاری پکار سن گا۔ ای ففی ای امکان فعلتم التولیۃ سطر القبلۃ (روح ص 365 ج 1، مدارک ص 55 ج 1) اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ کی حکومت اور رحمت بہت وسیع ہے اور وہ بندوں کے مصالح سے بخوبی واقف ہے اسی لیے اس نے عبادت کے معاملہ میں کسی جگہ کی تخصیص نہیں فرمائی کہ یہاں عبادت کرو اور یہاں نہ کرو۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد221، وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں222 سب اسی کے تابعدار ہیں

چوتھا شکوہ۔221 قالوا کا فاعل یہود، نصاری اور مشرکین عرب تینوں گروہ ہیں۔ کیونکہ تینوں کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے لیے حقیقی اولاد ثابت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہ حضرت اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے ہیں کہ اس نے ان کو بیٹے بنا لیا ہے اور بیٹے سے ان کی مراد نائب ومختار تھی یعنی جس طرح بیٹا اپنے باپ کا نائب ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنے اختیارات میں سے کچھ اختیارات دیکر اور اپنے نائب بنا کر دنیا میں بھیجا ہوا ہے۔ اب وہ اللہ کے عطائی اختیارات مثلا علم غیب، حاجت روائی، مشکل کشائی وغیرہ کے ذریعہ لوگوں کے حالات سے واقف رہتے ہیں۔ ان کی غائبانہ پکار سنتے اور ان کی حاجات ومشکلات میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اب آگے اس کا جواب ہے۔ 222 زمین و آسمان کی ہر مخلوق خدا کی مملوک اور ہر چیز اس کی ملکیت ہے خواہ انبیا ہوں یا ملائکہ۔ خواہ اللہ کے نیک بندے اور دیگر اشیا۔ لہذا یہ سب خدا کے مملوک ہوئے تو پھر اس کے بیٹے کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز بیٹے کی ضرورت تو اس کو ہوتی ہے جو محتاج ہو اور فانی ہو تاکہ اس کا نام زندہ رہے اور اس کا کوئی وارث ہوسکے تو اللہ تعالیٰ تو محتاج نہیں اور نہ وہ فانی ہے وہ زمین و آسمان کا تنہا مالک اور بادشاہ ہے۔ زمین و آسمان کے تمام اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے اسے کسی نائب یا وارث کی ضرورت نہیں۔ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق جن میں حضرت عزیر حضرت مسیح اور ملائکہ کرام بھی شامل ہیں سب خدا کے فرمانبردار اور مطیع ہیں۔ اور اس کی ربوبیت کے مقر اور اس کے دربار میں اپنی عبدیت کے معترف ہیں۔ اور اپنی حاجات میں اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بیٹے کیونکر بن سکتے ہیں بلکہ وہ تو اس کے برگزیدہ بندے ہیں۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

نیا پیدا کرنیوالا ہے آسمان اور زمین کا223 اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے

223 وہ زمین و آسمان کو بغیر کسی کی مدد کے اور بغیر کسی سابقہ مثال کے از سر نو پیدا کرنے والا ہے اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا۔ یہاں قضی بمعنی اراد ہے۔ ای اراد شیئا (روح ص 368 ج 1) یعنی وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْن۔ تو بس ارادہ کرتے ہی وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ کُنْ کہنے سے ہوجانا یہ سرعت اور جلدی سے کنایہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ لفظ کن بولتا ہے تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ وہاں تو صرف ارادہ کی دیر ہوتی ہے کہ چیز پیدا ہوجاتی ہے۔ وھذا مجاز عن سرعۃ التکوین و تمثیل و لا قول ثم (مدارک ص 56 ج 1) تو جو اللہ اتنا زبردست اور قادر ہو کہ صرف ارادہ کرے اور کام ہوجائے تو تم ہی بتاؤ کہ اسے نائبوں کی کیا ضرورت ہے۔ لہذا اس کا کوئی مددگار اور نائب نہیں۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے224 کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت اسی طرح کہہ چکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہی کی سی بات225 ایک سے ہیں دل ان کے بیشک ہم نے بیان کردیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں

224 ۔ پانچواں شکوہ۔ چوتھا شکوہ توحید میں گڑ بڑ کرنے سے متعلق تھا۔ اور یہ رسالت پر جرح وقدح سے متعلق ہے۔ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ سے بعض نے مشرکین عرب مراد لیے ہیں اور بعض نے یہود ونصاریٰ لیکن بہتر یہ ہے کہ اس سے تینوں گروہ مراد ہوں کیونکہ بےجا اور معاندانہ سوال تینوں گروہوں سے ثابت ہیں۔ مشرکین نے مطالبہ کیا تھا۔ فَلْیَاتِنَا بِاٰ یَۃٍ کَمَا اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ (انبیا رکوع 1) اور یہود ونصاری کے متعلق ارشاد ہے۔ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتَابِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَاباً مِّنَ السَّمَا (نسا ع 22) باقی رہی یہ بات کہ مشرکین تو بےعلم ہوئے کیونکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب نہیں تھی۔ اہل کتاب کیسے لا یعلمون کے تحت داخل ہوں گے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی جاہلانہ حرکات اور بدعملی کی بنا پر ان کے علم کی نفی کی گئی ہے۔ وعلی الاخیرین لتجاھلہم او لعدم علمھم بمقتضاہ (روح ص 370 ج 1) لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کلام کرتا ہے یا جس طرح انبیا کی طرف وحی بھیجتا ہے اس طرح وہ براہ راست یا بذریعہ وحی ہم سے کیوں ہمکلام نہیں ہوتا۔ اور براہ راست ہمیں ہی ہدایت نامہ کیوں نہیں دیدیتا۔ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ۔ آیت سے آنحضرت ﷺ کی صداقت کی دلیل مراد ہے۔ یہ سوالات ان کی انتہائی سرکشی اور ضد وعناد کا نتیجہ تھے۔ آنحضرت ﷺ کی صداقت کے واضح دلائل ان کے سامنے تھے۔ وہ کئی ایک معجزات بھی دیکھ چکے تھے۔ مگر اس کے باوجود مزید دلائل کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس لیے کہ ماننا مقصود نہیں تھا۔ بلکہ محض ضد وعناد اور بغض وحسد کا اظہار مد نظر تھا۔225 یعنی یہ سرکشانہ اور معاندانہ رویہ کوئی ان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں۔ ان سے پہلے ان کے آباؤ اجداد بھی ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسیٰ اَکْبَرَ مِنْ ذَالِکَ (نسا ع 22) تَشَابَهَتْ قُلُوْبُھُمْ ۔ بےبصیرتی اور ضد وعناد میں ان کے اور ان کے بڑے بڑوں کے دل ملے ہوئے ہیں۔ نہ ان کے سوالات طلب حق پر مبنی تھے نہ ان کے مطالبات کسی نیک غرض پر مبنی ہیں۔ ای قلوب ھؤلا و من قبلھم فی العمی والعناد (روح ص 370 ج 1) ۭ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ ۔ ان لوگوں کا مقصد محض سرکشی اور ضد ہے۔ ورنہ دلائل وآیات کو تو ہم کھول کھول کر بیان کرچکے ہیں۔ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ ۔ جو لوگ صدق نیت کے ساتھ حق ویقین کی جستجو کرنے والے ہیں ان کے اطمینان کے لیے تو وہ آیات کافی وشافی ہیں۔ الطالبون معرفۃ حقائق الاشیا علی یقین وصحۃ (ابن جریر ص 388 ج 1) ای یطلبون الیقین (بیضاوی ص 36) البتہ ضدوعناد کا کوئی علاج نہیں۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

بیشک ہم نے تچھکو بھیجا ہے سچا دین دیکر226 خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی

226 حق سے مراد قرآن اور دین اسلام ہے اور ظرف ارسلنا کے متعلق ہے (کبیر ص 701 ج 1) بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًایہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْم۔ جو لوگ کفر و انکار کر کے جہنم میں چلے گئے ان کے متعلق آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کی تبلیغ کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوا، وہ ایمان کیوں نہیں لائے اور جہنم میں کیوں چلے گئے۔ جب اہل کتاب اور مشرکین کا کفر و انکار، ضد اور عناد کی حد تک پہنچ گیا۔ تو اس پر آنحضرت ﷺ کو محض شفقت علی الخلق کی بنا پر رنج اور افسوس ہوا۔ کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ اس فکر میں کیوں پڑتے ہیں۔ ہم نے آپ کو قرآن جیسی حق وصداقت اور رشد وہدایت سے لبریز کتاب دیکر بھیجا ہے اور آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کریں اور ماننے والوں کو خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو ڈراوا سنادیں۔ باقی رہا منوانا تو یہ آپ کا فرض نہیں اور نہ ہی یہ آپ کے بس کی بات ہے۔ اس لیے جو لوگ کفر و انکار کر کے جہنم میں جاتے ہیں جائیں ان کے متعلق آپ سے کوئی سوال نہیں ہوگا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے عدم ایمان کا آپ کی طرف سے عذر بیان فرمادیا کہ اس بد انجام کا سبب وہ خود ہیں۔ آپ کی تبلیغ کا قصور نہیں۔ بےبسی وبیچارگی کی حد ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ مالک ومختار اور متصرف ہوتے تو دنیا میں کوئی کافر نظر نہ آتا بلکہ آپ سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال کردیتے۔ اب آگے یہود ونصاری کی اسلام سے شدت عداوت اور صلابت علی الکفر کا بیان فرمایا ہے۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور ہرگز راضی نہ ہونگے227 تجھ سے یہود اور نہ نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا تو کہدے جو راہ اللہ بتلا دے وہی راہ سیدھی ہے228 اور اگر بالفرض تو تابعداری کرے ان کی خواہشوں کی229 بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنیوالا اور نہ مددگار230

227 یہ آنحضرت ﷺ کو بطور زجر وتنبیہ فرمایا کہ وہ شرک وگمراہی میں اس قدر پختہ ہیں کہ کبھی توحید کو نہیں مانیں گے اس لیے آپ ان کی خواہشات کا اتباع نہ کرنا۔ آنحضرت ﷺ کو یہود ونصاریٰ کے مسلمان ہوجانے کی انتہائی خواہش تھی اور آپ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس معمولی ملاطفت سے یہ راضی ہونے کے نہیں۔ یہ تو آپ سے صرف اسی صورت میں راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کی شریعت کی اتباع کرلیں اور ان کا دین اپنا لیں۔ یہودی حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت مسیح (علیہما السلام) کو خدا کا نائب اور متصرف ومختار سمجھ کر پکارتے ہیں، آپ بھی ان کو پکارنا شروع کردیں اور ان کی دیگر مشرکانہ اور جاہلانہ رسمیں بجا لائیں تو بس یہ لوگ آپ سے راضی ہوجائیں گے۔ اس طرح آپ کے دل میں ان کے ایمان لانے کی جو ادنی سی امید تھی اسے بھی ختم کردیا۔ گویا ان کا ایمان لانا امکان سے باہر ہے کیونکہ اسے ایک امر محال پر معلق کیا گیا ہے۔ نہحضور ﷺ ان کے دین کی پیروی کرسکتے ہیں نہ وہ ایمان لاسکتے ہیں۔ ملت سے مراد شریعت اور دین ہے۔228 یہود ونصاریٰ کے گذشتہ مقالات و حالات ان کے اس دعویٰ پر مبنی تھے کہ صرف ان کا دین ہی حق ہے اور ہدایت صرف یہودیت اور عیسائیت میں ہے تو اس کا جواب دیا کہ ان کا دعویٰ باطل ہے بلکہ اصل ہدایت تو دین اسلام میں ہے۔ ھُدَى اللّٰهِسے مراد اسلام ہے۔ ھُدَى اللّٰهِ ۔ وھو الاسلام الذی انت علیہ ھو الہدی (بحر ص 368 ج 1) یعنی اے پیغمبر ! اللہ کی ہدایت یعنی دین اسلام جس پر آپ ہیں اور جس کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں۔ اصل ہدایت یہی ہے جو اللہ کو پسند ہے اور جو آخرت میں کام آنے والی ہے۔ اس سےحضور ﷺ اور آپ کی امت کو متنبہ اور خبردار کیا گیا ہے کہ کہیں یہود ونصاری کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنی عاقبت نہ خراب کرلیں۔229 اَھْوَاۗء ہَوٰی کی جمع ہے جس کے معنی نفس کی خواہش کے ہیں۔ اہواء سے مراد ان کے وہ باطل عقائد ہیں جو انہوں نے محض خواہشاتِ نفسانیہ کے پیچھے لگ کر بنائے ہوئے تھے اور جنہیں وہ ملت اور دین کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ای اٰرائھم الزائغۃ المنحرفۃ عن الح قالصادرۃ عنھم بتبعیۃ شھوات انفسھم (روح ص 372 ج 1) جس طرح آج کل کے بعض پیروں اور مولویوں نے نفسانی خواہشات اور شیطانی وساوس کو دین بنایا ہوا ہے اور جو ان کے خانہ ساز دین کو نہ مانے وہ ان کے نزدیک مردود اور راندۂ خدا ہے۔ ولا تتبع میں خطاب ا آنحضرت ﷺ سے ہے۔ مگر آپ ﷺ کی وساطت سے یہ خطاب آپ کی امت کو بھی شامل ہے۔ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۔ علم سے مراد وحی ہے یعنی اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے حق و باطل واضح ہوجانے کے بعد اور یہود ونصاری کے عقائد کا بطلان و فساد آشکارا ہوچکنے کے بعد اگر تم میں سے کسی نے ان کی خواہشات باطلہ کی پیروی کرلی۔230 یہ لئن کا جواب ہے یعنی اگر تم میں سے کسی نے ان کی پیروی کرلی تو اس کا کوئی حمایتی اور یارومددگار نہیں ہوگا۔ جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ آنحضرت ﷺ کا یہود ونصاریٰ کی خواہشات کی طرف تو ادنی سا جھکاؤ بھی متصور نہیں ہوسکتا۔ پھر آپ کو مخاطب کر کے یہ تنبیہ کیوں کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت کو دین باطل اور شرک و بدعت کے اتباع کے خوفناک اور دردناک انجام سے شدت و مبالغہ کے ساتھ روکنا مقصود ہے تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات جانشین ہوجائے کہ شرک و بدعت کا اتباع اتنا بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے کہ اگر بفرض محال وہ سیدالانبیاء ﷺ سے بھی (نعوذ باللہ) سرزد ہوجائے تو اس کی سزا سے انہیں بھی مستثناء نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے حق میں کسی پیغمبر، فرشتے یا پیر کی سفارش قبول کی جائے گی تو پھر ہم کس باغ کی مولی ہیں۔ اس سے امت محمدیہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ فیہ تھدید ووعید شدید للامۃ عن اتباع طرائق الیہود والنصاری بعد ماعلموا من القران والسنۃ (ابن کثیر ص 163 ج 1) افسوس کا مقام ہے کہ آج توحید وسنت کی جگہ شرک و بدعت کو دین سمجھ کر اس کی اتباع کی جارہی ہے۔ غیر اللہ کو پکارنا، بزرگوں کی نذریں منتیں دینا، قبروں پر عرس لگانا، قبروں پر غلاف ڈالنا اور چراغ جلانا وغیرہ آج دین اسلام کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ العیاذ باللہ العظیم۔ دعوی توحید پر نقلی دلیل یہاں تک تو اہل کتاب میں سے نہ ماننے والوں کا ذکر تھا اب آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جو ان میں سے ایمان لے آئے۔ جنہوں نے تورات کو کما حقہ پڑھا۔ اس میں کسی قسم کی تحریف نہ کی اور پھر اس کی تعلیم کے مطابق عمل بھی کیا اس آیت کا تعلق اصل دعویٰ اُعْبُدُوْا رَبَّکُم سے ہے اور یہ اس دعویٰ کی نقلی دلیل ہے۔
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اسکو پڑھتے ہیں جو حق ہے اسکے پڑھنے کا231 وہی اس پر یقین لاتے ہیں232 اور جو کوئی منکر ہوگا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں233

231 موصول عہد کے لیے ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لا چکے تھے۔ مثلاً عبداللہ بن سلام، ابن صوریا اور ابن یامین وغیرہ قال الضحاک ھم من امن من الیھود کا بن سلام وابن صوریا وابن یامین (بحر ص 369 ج 1) الکتب سے مراد تورات وانجیل ہیں علی ارادۃ الجنس اور تلاوت کے معنی یہاں اتباع اور پیروی کے ہیں جیسا کہ وَالْقَمَرِ اِذَاتَلَاھَا میں تلا بمعنی اتبعھا وذھب علی اثرھا کے ہیں۔ ای یتبعونہ حق اتباعہ۔۔۔ قال عکرمۃ اما سمعت قول اللہ تعالیٰ والقمر اذا تلاھا (قرطبی ص 95 ج 2) یعنی وہ اہل کتاب اپنی کتاب کی اتباع کا حق ادا کرتے ہیں حق اتباع یہ ہے کہ وہ اس کے تمام اوامر ونواہی کی تعمیل کرتے ہیں اور اس میں لفظی یا معنوی تحریف نہیں کرتے اور اگر تلاوت بمعنی قرائت ہو تو مطلب پھر بھی یہی ہوگا کہ وہ اسے اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح وہ نازل ہوئی ہے اور اس کی تحریف نہیں کرتے۔ یقرء ونہ کما انزل اللہ ولا یحرفون الکلم عن مواضعہ ولا یتا ولونہ علی غیر الحق (کبیر ص 703 ج 1) 232 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ۔ بِهٖکی ضمیر کو بعض مفسرین نے الکتاب کی طرف راجع کیا ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ اور اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖدونوں کا مفہوم ایک ہی ہوگا اور تنوع عبارت اور تاکید کے بغیر جملہ ثانیہ کا کوئی فائدہ نہیں ۃ وگا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ ضمیر حضرت نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہو کیونکہ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَمیں آپ کا ذکر گذر چکا ہے تو اس صورت میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہوگا۔ یا ضمیر ھُدَى اللّٰهِکی طرف راجع ہو ہو۔ (بحر ص 370 ج 1) تو دونوں صورتوں میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو اہل کتاب اپنی کتاب کو کما حقہ پڑھتے ہیں اس کے اوامر ونواہی کی تعمیل کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں کرتے وہ تو اس آخری نبی کو مانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں یا اس کی لائی ہوئی ہدایت کو مانتے ہیں۔ جب تمہارے یہ علماء تسلیم کرتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ پیغمبر سچا ہے اور جو دعویٰ توحید اس نے پیش کیا ہے وہ بھی صحیح اور درست ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس پیغمبر کی صداقت اور اس کی پیش کردہ دعوت توحید کی حقانیت خود ان کی اپنی کتاب میں بھی مذکور ہے جبھی تو انہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اس طرح یہ آیت دعوی توحید کی نقلی دلیل ہوگی۔ 233 جن لوگوں نے اس پیغمبر ﷺ اور ان کی لائی ہوئی ہدایت کا انکار کیا وہ سخت خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے ایمان کے عوض کفر خرید کر سودا ہی ایسا کیا ہے جس میں سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعامات و احسانات کا ایک ایک کر کے ذکر کیا ہے۔ پھر ان کی شرارتوں اور خباثتوں کو واضح فرمایا ہے۔ ان کی سرکشی اور ضدوعناد کی مثالیں بیان کی ہیں سب کچھ یاد دلا کر اب آخر میں انعامات یاد کرنے اور عذاب وانتقام سے ڈرنے کا حکم دیا ہے اس مکرر ترغیب وترہیب کے بعد اس سلسلہ مضامین کو ختم کردیا ہے۔ نیز یہ ترغیب وترہیب آئندہ مضامین کے لیے بطور تمہید لائی گئی ہے۔
Ayah 2:122

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو احسان ہمارے جو ہم نے تم پر کئے اور اس کو کہ ہم نے تم کو بڑائی دی اہل عالم پر،234

234 میرے ان تمام انعامات کو یاد کرو جو ابھی ابھی تمہیں یاد دلائے ہیں خصوصاً اس نعمت توحید کو جس کی وجہ سے تمہارے اسلاف کو دنیا میں سب سے اونچا اور ممتاز مقام حاصل ہوا۔
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کی طرف سے ذرا بھی اور نہ قبول کیا جاویگا اس کی طرف سے بدلہ اور نہ کام آوے اس کو سفارش اور نہ ان کو مدد پہنچے235

235 میرے پیغمبر پر ایمان لے آؤ اور دعوت توحید مان لو ورنہ قیامت کے دن تیرے عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔ حصہ دوم۔ رسالت وما یتعلق بہا یہ حصہ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ سے شروع ہو کر بائیسویں رکوع میں وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْن پر ختم ہوا ہے۔ پہلے مختصر سی تمہید ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی صداقت اور حقیقت نبوت پر یہود ونصاریٰ اور مشرکین کے مسلمات سے دلائل پیش کیے گئے ہیں، پھر رسالت پر چند شبہات کے جوابات اور آخر میں پیغامِ رسالت یعنی مسئلہ توحید کی مزید عقلی دلائل سے وضاحت کی گئی ہے۔ نزول قرآن کے وقت عرب میں مذہبی لحاظ سے تین گروہ زیادہ مشہور ومعروف تھے (1) مشرکین عرب (2) یہودی (3) نصاری۔ یہ تینوں گروہ نسلی اور روحانی اعتبار سے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے منسلک کرتے تھے۔ مشرکین عرب بت پرستی کے باوجود اپنے آپ کو ابراہیمی کہتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متبع ہونے کے مدعی تھے اور پھر نرا دعویٰ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ شریعت ابراہیمی کے بعض اعمال بھی بجا لاتے تھے۔ گو ان اعمال کی شکل و صورت مسخ کر ڈالی تھی۔ مثلاً حج کرنا، قربانی دینا، ڈاڑھی رکھنا، ختنہ کرانا وغیرہ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہما السلام) سے محبت وعقیدت غلو کے درجے تک پہنچی ہوئی تھی۔ چناچہ ان دونوں بزرگوں کے بت بنا کر بیت اللہ میں رکھے ہوئے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔ ان کی نذریں منتیں دیتے، ان کے نام پر سانڈ چھوڑتے اور انہیں حاجت روا، مشکل کشا اور عالم الغیب سمجھ کر غائبانہ پکارتے تھے۔ اسی طرح یہودی اور عیسائی بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا مانتے تھے۔ اور ہر دو فریق کا دعویٰ تھا کہ وہ ان کے مذہب پر ہیں اور ان کا مذہب انہیں سے چلا ہے۔ ان کے علاوہ یہودونصاریٰ حضرت اسحق، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ (علیہم السلام) اور اس سلسلے کے باقی تمام پیغمبروں کو بھی مانتے تھے۔ نصاریٰ ان سب کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھی قائل اور متبع تھے۔ مخاطبیبن کے نزدیک ان مسلم شخصیات کی تصدیقات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کی صداقت پر دو دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی دلیل تو یہ ہے کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی آمد اور بعثت کیلئے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل (علیہما السلام) نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر خدا کی جناب سے دعا کی تھی کہ " اے اللہ ! اس شہر مکہ میں ایک ایسا رسول بھیجنا جو ان کو تیرے احکام سنائے، تیرا دین سکھائے اور ان کے ظاہر و باطن کا تزکیہ کرے "۔ اب وہ رسول آگیا ہے اور بالکل انہیں صفات سے متصف ہے جو دعائے ابراہیم میں مذکور تھیں۔ لہذا اگر تم ابراہیمی ہونے کے دعوی میں سچے ہوں تو اس پیغمبر کو مان لو جو ان کی دعا کا ثمرہ ہے۔ دوسری دلیل یہ دی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم، حضرت اسحق، حضرت یعقوب (علیہم السلام) اور ان کے سلسلہ کے باقی تمام پیغمبر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب کے سب دین توحید کے پابند تھے، صرف ایک خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ صرف اسے ہی حاجات ومشکلات میں پکارا کرتے تھے۔ مرتے وقت اپنی اولاد کو بھی توحید پر پابند رہنے کی وصیت کیا کرتے تھے۔ یہ تمام بزرگ شرک وبت پرستی سے سخت بیزار تھے۔ چونکہ نظریہ توحید کے اعتبار سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمہارے ان تمام بزرگوں سے متفق ہیں اور اسی نظریہ توحید کی دعوت دیتے اور تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں جو خود تمہارے ان روحانی اور جسمانی آباؤ اجداد کا تھا۔ لہذا جس طرح یہ چیز اس نظریہ کے حق ہونے کی دلیل ہے اسی طرح اس توحید کے پیش کرنے والے حضرت محمد ﷺ کی صداقت کی بھی دلیل ہے۔ رسالت پر مخالفین کو جو شبہات تھے ان کی تقریر ان کے مواقع پر آئے گی۔ تمہید : تمہید میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے اور سب کے مذہبی پیشوا تھے۔ انہوں نے ہی خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی خالص عباد سے آباد کیا۔ اس تمہید پر اگلے دلائل کی بناء ہے نیز آگے تحویل قبلہ کا حکم آرہا ہے یہ اس کے لیے بھی تمہید ہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے اس لیے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے پر اعتراض بےجا ہے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں236 پھر اسنے وہ پوری کیں تب فرمایا میں تجھ کو کروں گا سب لوگوں کا پیشوا237 بولا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا نہیں پہنچے گا میرا قرار ظالموں کو238

236 اِذْ کا عامل قال ہے جو آگے آرہا ہے۔ والاتخیار ان یکون العامل فیہ ملفوظا بہ وھو قال انی جاعلک (بحر ص 374 ج 1) ابتلا کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے تو اس سے اس کا مقصد بندوں کے احوال کو جاننا نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو پہلے بھی جانتا ہے بلکہ اس سے ان کے احوال کا خود ان کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے اظہار مقصود ہوتا ہے تاکہ خود ان بندوں پر اپنی حقیقت واضح ہوجائے اور دوسروں کو اس سے سبق حاصل ہوسکے۔ وابتلاء اللہ العباد لیس لیعلم احوالھم بالابتلائ ولانہ عالم بھم ولکن لیعلم العباد احوالھم (معالم ص 88 ج 1) کلمات کلمہ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ امور اور احکام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا امتحان لیا تھا۔ ان کلمات کے بارے میں مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کیے گئے۔ بعض نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس سے مراد خصائل فطرت ہیں یعنی کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں اور زیر ناف کے بال صاف کرنا وغیرہ۔ بعض نے اسی قسم کے کچھ اور احکام ذکر کیے ہیں لیکن اتنے بڑے جلیل القدر پیغمبر کا ابتلاء اور پھر ایسے آسان احکام میں، یہ بات قریب قیاس معلوم نہیں ہوتی۔ یہ صحیح ہے کہ ان خصائل کو حدیث میں ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے مگر حدیث میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ جن کلمات میں ان کا امتحان لیا گیا تھا وہ یہ خصائل ہیں۔ اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ اس سے مراد پیارے بیٹے اور پیاری جان کی قربانی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے کی قربانی دینے کا اشارہ فرمایا تو وہ اس کے لیے تیار ہوگئے۔ اللہ کی توحید کی خاطر انہیں آگ میں ڈالا گیا مگر اس شدت میں بھی انہوں نے صبر کیا اور صرف اللہ کو مدد کے لیے پکارا اور غیر اللہ کی مدد کا خیال تک دل میں نہ لائے۔ العاشرھی مابتلاہ بہ فی مالہ وولدہ ونفسہ فسلم مالہ للضیفان وولدہ للقربان ونفسہ للنیران وقلبہ للرحمن فاتخذہ اللہ خلیلا (بحر ص 375 ج 1) فَاَتَـمَّهُنَّ ۔ وہ امتحان میں پورے اترے اور تمام باتوں کو خدا کی مرضی کے مطابق کر دکھایا۔237 یہاں امام سے مراد صاحب ِ شریعت رسول ہے یعنی وہ رسول جو پہلے کسی نبی کا متبع نہ ہو بلکہ اس کے بعد آنے والے تمام انبیا اس کا اتباع کریں۔ اس سے مراد شیعوں کا اصطلاحے امام نہیں ہے۔ قال اھل التحقیق والمراد بالامام ھہنا النبی ای صاحب شرع متبع (بحر ص 376 ج 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتلا میں کامیابی پر اعزاز واکرام کے طور پر آپ کو قیامت تک آنے والی نسلوں کا اصول دین اور عقائد توحید میں امام و پیشوا بنا دیا۔ قیامت تک جو رسول اور نبی آئیں گے وہ انہی کی نسل سے ہونگے اور انہی کی ملت کے متبع ہوں گے۔ وامامتہ (علیہ السلام) عامۃ مؤبدۃ اذا لم یبعث نبی بعدہ الا کان من ذریتہ مامورا باتباع ملتہ (ابو السعود ص 712 ج 1) قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْیہ جَاعِلُکَ کے کاف پر معطوف ہے اور عطف تلقین کے قبیل سے ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تمام لوگوں کی پیشوائی کا اعزاز ملا تو خواہش ظاہر کی کہ ان کی اولاد سے بھی دین کے پیشوا اور انبیا پیدا ہوں۔ 238 عہد سے مراد وہی عہد امامت ہے جس سے نبوت مراد ہے۔ فالمتبادر من العھد لامامۃ ولیستھی ھنا الا النبوۃ (روح ص 377 ج 1) اور ظالمین سے مراد نافرمان ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہاری اولاد سے جو نافرمان ہونگے وہ اس نعمت سے محروم رہیں گے اور فرمانبرداروں میں سے جنہیں اللہ چاہے گا یہ مرتبہ نبوت عطا فرمائے گا۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دین میں تیری اقتدا کرینگے۔ اور فائدہ اٹھائیں گے عرض کیا میری اولاد سے بھی کوئی فائدہ اٹھائے گا فرمایا جس نے انابت کی اور ضد نہ کی وہ فائدہ اٹھائیگا۔ الحاصل اے یہود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاندوں کو کوئی فائدہ نہیں اور تم معاند ہو اس لیے ومن ذریتی سے مراد ہے ومن ینتفع من ذریتی۔ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْن۔ ای بالنفع لمن عاند۔ مطلب یہ جو ظالم اور مشرک ہوگا اور ضد کریگا وہ نفع نہیں اٹھائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ جو ظالم نہیں ہوگا وہ پیشوا بنے گا۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب مقرر کیا ہم نے خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے واسطے اور جگہ امن کی239 اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ240 اور حکم کیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو کہ پاک کر رکھو میرے گھر کو واسطے طواف کرنیوالوں کے اور اعتکاف کرنے والوں کے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے241

239 البیت سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ مثابۃً اسم ظرف ہے اور تا مبالغہ کے لیے ہے یعنی وہ مقام جہاں لوگ بار بار آئیں۔ امن مصدر ہے جس سے مراد موضع امن یعنی امن کی جگہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلا میں کامیابی کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرجع ومامون بنادیا ہے کہ دور دور سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں خصوصا حج کے موقع پر وہاں جمع ہوتے ہیں اور جو لوگ حرم کعبہ کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں وہ اللہ کی پناہ اور اس کے حفظ میں ہوتے ہیں۔ انسان تو انسان ان حدود میں پرندوں اور جانوروں کا شکار بھی جائز نہیں۔ وہ بھی وہاں محفوظ ومامون ہیں۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ اس گھر کو (یہاں دور دور سے لوگ میری عبادت کے لیے آتے ہیں اور خائفین پناہ لیتے ہیں) ہر قسم کی شرک کی گندگی سے پاک رکھنا۔240 اس میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور مقام ابراہیم سے وہ پتھر مراد ہے جس پر کھڑے ہو کر انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ وھو قول جمہور المسلمین (روح ص 379 ج 1) حج کے موقع پر اس جگہ جو دو رکعت نفل ادا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے تحت ہیں۔ اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک واجب ہیں۔241 لفظ عہد کا صلہ جب الی ہو تو اس کے معنی وصیت کرنے کے ہوتے ہیں اور اس سے مجازاً امر مراد ہوتا ہے۔ العہد اذا تعدی بالی یکون بمعنی التوصیۃ ویتجوز بہ عن الامر (روح ص 381 ج 1) لہٰذا یہاں عَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَکے معنی ہوں گے۔ امرنا ابراہیم واسمعیل۔ یعنی ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو حکم دیا۔ اَنْ مامور بہ کے بیان کے لیے ہے اور تطہیر کعبہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے بتوں اور بت پرستی سے پاک رکھیں اور اس میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور اس میں شرک نہ ہونے دیں۔ والمعنی انہ لاینصب فیہ وثن ولا یعبد انہ کان فیہ اصنام علی اشکال صالحیھم وانہ طال العہد فعبدت عن دون اللہ فامر اللہ بتطہیرہ من قلک الاوثان قالہ جبیر و مجاھد وعطاء ومقاتل (روح ص 380 ج 1، بحر ص 382 ج 1) بَيْتِىَ ۔ یعنی میرا گھر اس میں اضافت محض کعبہ کا شرف ظاہر کرنے کے لیے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا تو کوئی رہائشی گھر نہیں ہے یا یہ اضافت ایسی ہی ہے جس طرح مملوک یا مخلوق کی اضافت مالک اور خالق کی طرف ہوتی ہے۔ اضاف البیت الی نفسہ اضافہ تشریف و تکریم وھی اضافۃ مخلوق الی خالق ومملوک الی مالک (قرطبی ص 114 ج 2) لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ میں لام تعلیلیہ ہے۔ ای لاجلھم فاللام تعلیلیۃ (روح ص 381 ج 1) طائفین سے مراد وہ بیرونی لوگ ہیں جو وہاں جائیں اور الْعٰكِفِيْنَ سے وہاں کے باشندے مراد ہیں اور وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ سے مراد نمازی ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو حکم دیا کہ باہر سے آنے والوں، وہاں کے باشندوں اور دیگر تمام عبادت گزاروں کی خاطر میرے گھر کو شرک اور بت پرستی سے پاک رکھو اور وہاں اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کا طریقہ جاری کرو تاکہ ہر شخص کو توحید سے وابستگی پیدا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرک لوگ موقع پا کر بیت اللہ میں پھ بزرگوں کی مورتیاں رکھ کر شرک کرنا شروع کردیں اور بیت اللہ میں آنے جانے والے لوگوں میں شرک کے جراثیم پھیل جائیں۔ اس تمہید کے بعد اب اہل مکہ کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء کا ذکر ہے آپ نے ان کے لیے دو دعائیں کی تھیں ایک مادی اور دنیوی زندگی کے لیے اور دوسری روحانی اور اخروی زندگی کے لیے۔
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب بنا اس کو شہر امن کا242 اور روزی دے اس کے رہنے والوں کو میوے جو کوئی ان میں سے ایمان لاوے اللہ پر اور قیامت کے دن پر243 فرمایا اور جو کفر کریں اس کو بھی نفع پہنچاؤں گا تھوڑے دنوں244 پھر اس کو جبرا بلاؤنگا دوزخ کے عذاب میں اور وہ بری جگہ ہے رہنے کی

242 یہاں بھی اِذْ کا فاعل محذوف ہے یعنی اذکر ھا۔ بَلَدًاسے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ اٰمِنًافاعل نسبت کے لیے ہے جیسا کہ تامرولابن ای ذا امن۔ یہ پہلی دعاء کا پہلا حصہ ہے اس میں مکہ شہر کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کی دعاء ہے کہ اس شہر اور اس کے مضافات کو ڈاکوٓں، چوروں اور غارت گروں سے محفوظ رکھنا تاکہ وہاں کے باشندے امن وچین سے تیری خالص عبادت کرسکیں اور تیری توحید پھیلا سکیں۔ 243 یہ پہلی دعا کا دوسرا حصہ ہے مکہ اور اس کے مضافات پہاڑوں اور ریگستانوں سے گھرے ہوئے ہیں جہاں کھیتی باڑی کا کوئی امکان نہیں اس لیے ان کے معاشی اطمینان کے لیے بھی دعا کی کہ انہیں پھلوں سے روزی مہیا کی جائے۔ مَنْ اٰمَنَ ، اَھلَهٗسے بدل البعض ہے یعنی اہل مکہ میں سے جو مومن ہوں ان کو روزی عطا کرنا پہلے لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ۔ کا فیصلہ سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ شاید اس روحانی نعمت کی طرح یہ دنیوی نعمت بھی اللہ کے فرمانبرداروں کے ساتھ مخصوص ہوگی اس لیے آپ نے دعاء میں مومنین کی تخصیص کردی۔ لیکن اس شبہ کا اگلی آیت میں ازالہ کردیا گیا ہے ایمان کے تمام اجزاء کا ذکر کرنے کی بجائے صرف ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت یعنی مبدا ومعاد پر اس لیے اکتفا کیا ہے کہ ان دونوں پر ایمان لانا باقی پر ایمان لانے کو مستلزم ہے اور باقی تمام اجزائے ایمان اس کے ضمن میں آجاتے ہیں۔ واقتصر فی متعلق الایمان بذکر المبدا و المعاد لتضمن الایمان بھما بجمیع ما یجب الایمان بہ (روح ص 382 ج 1، بحر ص 383 ج 1) ۔ 244 وَمَنْ كَفَرَکا معطوف علیہ محذوف ہے۔ ای ارزق من امن ومن کفر (روح ص 383 ج 1) یعنی جو ایمان لائے گا اس کو بھی روزی دوں گا اور جو کفر کریگا اس کو بھی۔ فَاُمَتِّعُهٗ ۔ مَنْ كَفَرَپر معطوف ہے اور قَلِيْلًا، زَمَاناً محذوف کی صفت ہے اور اس سے مراد اس کی پوری زندگی کا زمانہ ہے وہ چونکہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے اس لیے اسے قلیل فرمایا۔ یعنی جو شخص کفر کریگا اسے بھی دنیا کی چند روزہ زندگی میں دنیوی رزق سے فائدہ اٹھانے کا موقع دوں گا۔ فنبہ سبحانہ وتعالیٰ علی ان الرزق رحمۃ دنیویۃ تعم المومن والکافر بخلاف الامامۃ والتقدم فی الدین (بیضاوی ص 37) ثُمَّ اَضْطَرُّهٗٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ ۔ لیکن آخرت میں کافر کو جہنم میں دھکیل دیا جائیگا جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اب آگے اپنے لیے دعا مانگتے ہیں۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یاد کر جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل اور دعاء کرتے تھے اے پروردگار ہمارے قبول کر ہم سے245 بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا

245 وَاِذْ يَرْفَعُ , وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُپر معطوف ہے اور اِذْ کا عامل یَقُوْلَانِ ہے رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاسے پہلے محذوف ہے (روح ص 384 ج 1) ویجوز ان یکون القول المحذوف ھو العامل فی اذ (بحر ص 388 ج 1) قواعد قاعدۃ کی جمع ہے جس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ اسمعیل کا عطف ابراہیم پر ہے۔ یعنی جب دونوں باپ بیٹا بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو اس وقت دعا مانگ رہے تھے کہ اے اللہ۔ محض اپنے فضل و رحمت سے ہمارے اعمال قبول فرما۔ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ انت ضمیر فصل اور خبر کا معرفہ ہونا حصر پر دلالت کرتا ہے اور جملہ کا اسمیہ اور ان سے مؤکد ہونا دونوں بزرگوں کی قوت یقین اور پختگی ایمان کو ظاہر کرتا ہے یعنی بیشک یقیناً صرف تو ہی ہماری دعاء کو قبول کرنے والا اور ہماری نیتوں کو جاننے والا ہے۔
Ayah 2:128

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے اور کر ہم کو حکم بردار اپنا246 اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرمانبردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر بیشک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان

246 مُسْلِمَيْنِ لَكَ ۔ اَسْلَمَ وَجْهَھ سے ماخوذ ہے۔ ای مخلصین موحدین لک (روح ص 285 ج 1) ای موحدین مخلصین لا نعبد الا ایاک (کبیر ص 730 ج 1) یعنی ہمیں مزید اخلاص نصیب فرما اور اپنی توحید اور خالص عبادت پر ثبات و دوام عنایت کر کہ ہمیشہ دل وجان اور زبان سے ہر نفع اور نقصان میں تجھے ہی پکاریں اور مالی، بدنی اور زبانی عبادتیں تیری ہی بجا لائیں۔ یعنی ہمیں صفت اخلاص، اپنی توحید، اور خالص عبادت پر قائم رکھ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآکا عطف اِجْعَلْنَا کی ضمیر مفعول پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری اولاد میں بھی ہمیشہ ایک ایسی جماعت برقرار رہے جو توحید کی پابند ہو، صرف تیری ہی عبادت کرے اور صرف تجھے ہی پکارے، توحید کی اشاعت کرے، اور شرک سے روکے۔ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا۔ یہاں اراءت بمعنی تعلیم ہے اور مناسک سے مراد احکام شریعت اور امور حج ہیں۔ علمنا وعرفنا۔۔۔ شرائع دیننا واعلام حجنا (معالم ص 94 ج 1) یعنی ہمیں احکام شریعت اور امور حج تعلیم فرما۔ وَتُبْ عَلَیْنَا۔ یہاں توبہ سے مراد وہ عوام کی توبہ نہیں جو گناہوں سے ہوتی ہے بلکہ یہ توبہ خواص الخواص کی ہے جس کا مقصد درجات کی بلندی اور مقامات کی رفعت کے لیے دعاء والتجا ہوتا ہے۔ وتوبۃ خواص الخواص لرفع الدرجات والترقی فی المقامات (روح ص 386 ج 1) اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۔ کیونکہ توبہ قبول کرنے والا اور اپنی رحمت کے سایہ میں لینے والا تو ہی ہے۔ اب آگے دوسری یعنی روحانی دعاء کا ذکر ہے۔
Ayah 2:129

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے پروردگار ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول247 انہی میں کا کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور تہ کی باتیں اور پاک کرے ان کو بیشک تو ہی ہے بہت زبردست بڑی حکمت والاف 248

247 ھُمْ ضمیر کا مرجع اُمَّةً مُّسْلِمَةًہے۔ رَسُوْلًا مِّنْھُمْیہاں بھی ھُمْ کا مرجع اُمَّةً مُّسْلِمَةًاور اُمَّةً مُّسْلِمَةًکے ساتھ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآکی قید گذر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں کی اولاد میں جو امت مسلمہ ہو ان میں سے ایک رسول برپا کرنا یہ دعا صرف اسی صورت میں پوری ہوسکتی ہے جب کہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ان صفات کا حامل رسول مبعوث ہو لہذا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں پیدا ہونے والے انبیاء کے ذریعے یہ دعاء پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ذُرِّيَّتِنَآ میں نَا سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اس لیے کہ بنائے کعبہ کے وقت یہی دونوں وہاں موجود تھے۔ منھم سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہ امت مسلمہ چونکہ انسان ہیں، خاکی ہیں، بشر اور بنی آدم ہیں لہذا ان میں سے جو رسول پیدا ہوگا وہ بھی انسان اور بشر ہی ہوگا نہ کہ کسی اور جنس اور نوع کا ہوگا۔ آگے اس رسول کی چند صفات بیان کی ہیں۔ پہلی صفت :۔ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ ۔ وہ انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کے الفاظ بلا کم وکاست ان تک پہنچائے۔ دوسری اور تیسری صفت :۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۔ ان کو کتاب و حکمت سکھائے۔ کتاب سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے الفاظ انہیں سمجھائے، ادائے الفاظ کی کیفیت بتائے، اس کی آیات کے مطالب ومعانی اور حقائق و اسرار سے آگاہ کرے۔ بان یفھمہم الفاظہ ویبین لھم کیفیۃ اداءہ ویوقفھم علی حقائقہ واسرارہ (روح ص 387 ج 1) اور حکمت سے مراد سنت اور احکام شریعت کی تشریح وتبیین ہے۔ وقال قتادۃ الحکمۃ السنۃ وبیان النبی الشرائع (قرطبی ص 131 ج 2، بحر ص 393 ج 1) یعنی اللہ کی کتاب کے احکام کی خدا کا پیغمبر جو زبانی تشریح و تفسیر کرے گا یا ان احکام کی کیفیت تعمیل بتائے گا حکمت سے یہ سب کچھ مراد ہے اور اسے ہی اصطلاحِ شریعت میں سنت کہا جاتا ہے اس کی مزید تشریح رکوع 18 میں آئے گی۔ وَيُزَكِّيْهِمْ ۔ یہ پیغمبر کی چوتھی صفت ہے یعنی وہ پیغمبر انہیں کفر وشرک کی نجاستوں، بد عملی کی آلائشوں اور بداخلاقی کی آلودگیوں سے پاک وصاف کرے۔248 یقیناً تو ہی سب پر غالب اور ہر حکمت کو جاننے والا ہے تجھے کسی دعاء کے ردو قبول پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور ہر دعاء کا ردو قبول بھی تیری حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء کا ظہور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت سے ہوا۔ اس دعاء کو یہود ونصاریٰ اور مشرکین کے سامنےحضور ﷺ کی صداقت پر بطور دلیل پیش کیا کہ یہی وہ پیغمبر ہے جس کے ظہور کے لیے تمہارے روحانی اور جسمانی باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ لہذا اس پر ایمان لاؤ اور اس کی لائی ہوئی دعوت توحید کو مانو کیونکہ یہ دعوت بھی وہی ہے جو خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے سامنے پیش کی اور مرتے وقت اس پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی۔
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو پھرے ابراہیم کے مذہب سے مگر وہی کہ جس نے احمق بنایا اپنے آپ249 کو اور بیشک ہم نے ان کو منتخب کیا دنیا میں اور وہ آخرت میں نیکوں میں ہیں

249 رغب کا صلہ جب عن آتا ہے تو اس کے معنی اعراض کے ہوتے ہیں۔ سَفِهَ نَفْسَهٗکے معنی ہیں جعلھا مھانۃ ذلیلۃ (روح ص 387 ج 1) یعنی جس نے اپنے آپ کو شرک و بدعت کی وجہ سے ذلیل و خوار کر رکھا ہو۔ اور یا اس کے معنی ہیں خسر نفسہ (بحر ص 394 ج 1، معالم ص 96 ج 1) یعنی جس نے اپنے آپ کو شرک کی وجہ سے خسارے میں ڈال رکھا ہو یا اس کے معنی حمق رایہ کے ہیں (ایضاً ) یعنی جس کی رائے احمقانہ ہو اور وہ بیوقوف ہو مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی تو سراسر اخلاص و توحید سے لبریز ہے اور اس کے تمام احکام عقل و فطرت کے مطابق ہیں اس لیے ایسی ملت سے صرف وہی اعراض کرسکتا ہے جو شرک میں ڈوبا ہوا ہو یا جس کی عقل میں فتور ہو۔ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا۔ اسی ملت وحدت اور دین توحید کی پیروی کی بنا پر تو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں سب کی پیشوائی کے لیے منتخب کیا تھا وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ۔ صالح فی الآخرت کے معنی ہیں کامیاب اور فائز المرام۔ الصالح فی الاخرۃ ھو الفائ (قرطبی ص 133 ج 2) ملت ابراہیمی ایک ایسی چیز ہے جس کے اتباع کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کمالات دنیویہ اور مقاصد اخرویہ حاصل ہوئے لہذا ایسی ملت سے اعراض کرنے والا شخص یقیناً سر پرا اور احمق ہے۔ امام قتادہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں جنہوں نے ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر یہودیت ونصرانیت اختیار کی۔ (قرطبی ص 132 ج 2) اور اپنے بزرگوں کو خدا کا شریک ونائب ٹھہرایا اور انہیں حاجات میں غائبانہ پکارنے لگے۔ نیز ان مشرکوں کا رد ہے جنہوں نے ابراہیمی ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ اللہ کی توحید سے بغاوت کی اور اس کے ساتھ شرک کیا (ابن کثیر ص 185 ج 1) اب آگے ملت ابراہیمی کی امتیازی خصوصیت اور اس کے خصوصی وصف یعنی توحید کا بیان ہے۔
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

یاد کرو جب اس کو کہا اس کے رب نے کہ حکم برداری کر250 تو بولا کہ میں حکم بردار ہوں تمام عالم کے پروردگار کا

250 اِذْ کا عامل اِصْطَفَیْنَا ہے۔ اَسْلِمْ ، اِسْلَام مصدر سے ہے۔ جس کے معنی تفویض اور حوالے کرنے کے ہیں جیسے اسلم وجھہہ یہاں بھی اس لفظ کا معنی یہی ہے یعنی اپنے اپ کو خدا کے حوالے کردے اور بالکل اسی کا ہوجا۔ اسی سے امیدیں وابستہ رکھ، اسی سے مانگ، اسی کو پکار اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ معناہ اسلم نفسک الی اللہ تعالیٰ وفوض امرک الیہ (خازن ص 97 ج 1) بعض نے اس کے معنی اخلاص کے لیے ہیں یعنی خالص اللہ کی عبادت کر اور اس کی عبادت کسی کو شریک نہ کر اور اپنی عبادت کو شرک سے بچا کر رکھ۔ اخلص دینک وعبادتک للہ واجعلھا سلیمۃ (خازن ص 96 ج 1) قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بلا تامل اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور فوراً مکمل اطاعت وانقیاد اور کامل فرمانبرداری کا اقرار کیا کہ میں نے اپنے آپ کو رب العلمین کے سپرد کیا اور اس کی پوری پوری اطاعت وفرمانبرداری قبول کی اور ہمیشہ اس کی توحید اور خالص عبادت پر کمر بستہ رہنے کا اعتراف کیا۔