Ayah 2:90177 یہاں اشترائ کے معنے بیچنے کے ہیں یعنی جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانیں بیچ دی ہیں اور جس کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے وہ بہت برا ہے۔ یہ نوع خامس کا تتمہ ہے۔ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۔ یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے یعنی جس برے کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ آیات بینات کا کفر و انکار ہے اور مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۔ جس کا کا کِتَاب مصدق کے الفاظ میں پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ والمراد بما انزل اللہ کتب مصدق (روح ص 321 ج 1) بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ ۔ بَغْيًا، اَنْ يَّكْفُرُوْا۔ کا مفعول لہ ہے اور ان کے کفر و انکار کی علت بیان کر رہا ہے اور مِنْ فَضْلِہٖ سے وحی مراد ہے۔ اور مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۔ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب نے قرآن کا انکار کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں کیا وہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انکار محض بغض وحسد کی بنا پر کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آخری نبی بھی ہمارے خاندان بنی اسرائیل ہی میں سے ہوگا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ تو بنی اسمعیل میں پیدا ہوگیا ہے تو حسد کرنے لگے کہ بنی اسمعیل کے پیغمبر پر کیوں وحی نازل ہوئی ہے۔ انھم ظنوا ان ھذا الفضل العظیم بالنبوۃ المنتظرۃ یحصل فی قومھم فلما وجدوہ فی العرب حملھم ذلک علی البغی والحسد (کبیر ص 620 ج 1) یعنی وہ دوہرے غضب کے مستحق ہوگئے ایک غضب تو توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے اور گوسالہ پرستی کی وجہ سے نازل ہوا، اور دوسرا غضب آخری نبی ﷺ کو نہ ماننے کی وجہ سے ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْن۔ اور ان کافروں کے لیے ایسا عذاب تیار ہے جو ان کے بغض وعناد اور کبر و غرور کو توڑ کر انہیں ذلیل و خوار کردے گا۔ اب آگے یہود کے دعوی و ایمان کی تردید وتکذیب ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے پانچ دلیلیں قائم فرمائی ہیں۔
یہود کے ایک قول باطل کی تردید
یہاں تک افہام و تفہیم اور تبلیغ و ارشاد کے تمام ذرائع اور طریقے استعمال کرنے کے بعد آگے یہودیوں کی انتہائی ضد اور ہٹ دھرمی کا شکوہ کیا جارہا ہے اور ان کی غلط بیانی کا مسکت جواب دیا جا رہا ہے۔
Ayah 2:91178 جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کتاب اپنے آخری رسول ﷺ پر اتاری ہے اس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو خدا کی کتاب کو مانتے ہیں۔ ہم کب اس کا انکار کرتے ہیں ؟ مگر صرف اسکو جو ہم پر نازل ہوئی۔ یعنی ہم تو صرف اپنی کتاب تورات کو مانتے ہیں اس کے سوا کسی اور کتاب کو نہیں مانیں گے۔ وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۔ یہ قَالُوْا پر معطوف اور قول یہود کے لیے بطور تتمہ لایا گیا ہے وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ۔ یہ یہود کے کذب دعوی کی پہلی اور دوسری دلیل ہے اگر وہ اپنے دعوی میں سچے ہوتے تو قرآن پر ضرور ایمان لاتے۔ کیونکہ قرآن خود تعلیمات حقہ کا حامل اور اصول دین میں پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے لیکن ان کی ضد اور عصبیت کی حد یہ ہے کہ قرآن باوجودیکہ حق ہے اور پھر قرآن کوئی نئی اور غیر مانوس بات بھی پیش نہیں کرتا بلکہ وہ وہی دعوت توحید پیش کرتا ہے جو ان کی تورات میں موجود ہے مگر چونکہ یہ قرآن ان کی قوم کے کسی آدمی پر نازل نہیں ہوا اس لیے وہ اسے نہیں مانتے۔
179 یہ یہودیوں کے دعویٰ ایمان میں جھوٹے ہونے کی تیسری دلیل ہے یعنی تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ تم اپنی قوم کے انبیائ کو مانتے ہو۔ نیز اس وحی اور کتاب کو مانتے ہو جو تم پر نازل ہوئی ہے اگر تمہارا اپنی قوم کے انبیا اور اپنی کتاب پر ایمان ہوتا تو تم نے اللہ کے پیغمبروں کو کیوں قتل کیا ہوتا ؟ کیونکہ تورات تو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ بلکہ وہ تو انبیائ (علیہم السلام) کے اتباع کا حکم دیتی ہے۔ اس سے یہودیوں نے ایمان بالانبیائ اور ایمان بالنبوۃ کے دعویٰ کی حقیقت معلوم ہوگئی۔
Ayah 2:92180 یہ یہودیوں کے کذب دعویٰ کی چوتھی دلیل ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس توحید باری کے واضح دلائل لیکر آئے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ الا ظھر ان یراد بالدلائل الدالۃ علی الوحدانیۃ فانہ ادخل فی التفریع بما بعد (روح ص 325) ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۔ بَعْدِہ کی ضمیر کا مرجع جملہ ماقبل کا مضمون ہے۔ ای بعد مجی موسیٰ (علیہ السلام) بھا (روح ص 325 ج 1) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توحید کے دلائل واضحہ کے ساتھ آمد کے بعد تم نے گوسالہ کو معبود اور کارساز بنا لیا۔ اور اس کی نذریں اور منتیں دینا شروع کردیا۔ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ اور اس شرک اور گوسالہ پرستی کی وجہ سے اس سے ان کے دعوی توحید کا پول اور کذب ظاہر ہوگیا۔
Ayah 2:93181 یہ یہودیوں کے کذب دعویٰ کی پانچویں دلیل ہے یعنی تورات کو بھی تم نے ہرگز نہیں مانا۔ جب تورات تمہارے سامنے پیش کی گئی تو تم نے اسے ماننے اور اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ چناچہ تورات کو منوانے کے لیے ہم نے کوہ طور کو اٹھا کر تمہارے سروں پر کھڑا کیا۔ تمہارے سروں پر پہاڑ کھڑا کر کے تمہیں یہ حکم دیا گیا کہ تورات کے احکام کو قبول کرو اور ان پر مضبوطی سے عمل کرو۔ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا۔ تو ان ظالموں نے زبان سے تو ماننے کا اقرار کرلیا لیکن عملی طور پر نافرمانی کی اور اسے نہ مانا۔ یا واؤ مطلق جمع کے لیے۔ سمعنا وعصینا دونوں باتیں انہوں نے مختلف اوقات میں کہی تھیں۔ سمعنا تو اس وقت کہا جب پہاڑ ان کے سر پر لا کر کھڑا کیا گیا اور عصینا اس وقت کہا جب پہاڑ ہٹا دیا گیا۔182 یہ لوگ تورات پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ کفر وشرک سے انہیں خاص انس رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سامری کے گوسالہ کی محبت ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور شرک وبت پرستی کی محبت ان کے رگ وپے میں اس طرح جاری وساری تھی جس طرح کپڑے میں رنگ اور جسم کی گہرائیوں میں پانی سرایت کرجاتا ہے۔ کما یتداخل الصبغ الثوب والشراب اعماق البدن (بیضاوی ص 31) اس گوسالہ پرستی کی گہری محبت ہی کا نتیجہ تھا کہ کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تو انہوں نے اس میں پس وپیش کیا تو کیا تورات شرک اور بت پرستی کی اجازت دیتی ہے ؟183 اگر واقعی تم مومن ہو تو یہ بھلا ایمان ہے جو تم سے ایسے ناشائستہ اور برے افعال کا ارتکاب کرا رہا ہے۔ یعنی قتل انبیائ، شرک اور گوسالہ پرستی اور تورات کا انکار۔ یہ تمام امور قبیحہ اور افعال شنیعہ مقتضائے ایمان کے خلاف ہیں۔ لہذا تمہارا اپنے انبیائ (علیہم السلام) پر نازل شدہ ہدایت اور وحی پر بھی ایمان نہیں ہے۔
یہود کو مباہلہ کا چیلنج
جس طرح آج کل کے بعض پیشہ ور گدی نشین اپنے مریدوں کے سامنے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ چونکہ بزرگوں کی اولاد ہیں اس لیے وہ اور ان کے مرید خیر و عافیت سے ضرور جنت میں جائیں گے اسی طرح یہودیوں کے مولی اور پیر بھی دعویٰ کرتے تھے کہ جنت میں صرف وہی اور ان کے پیروکار جائیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے افہام و تفہیم کی انواع کے بیان اور ان کے ایک باطل قول کی تردید کے بعد ان کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ یہ چیلنج ان کے اسی سب سے بلند بانگ دعویٰ کے جواب میں ہے کہ ہم اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کی اولاد ہیں، اس لیے ہم خدا کے چہیتے اور محبوب ہیں اور جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا۔ سبب نزولھا قولھم لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الخ وَنَحْنُ اَبْنَائُ اللہ وَاَحبائ ہ الخ ولن تمسنا النار الخ (روح ص 327 ج 1، قرطبی ص 33 ج 1، معالم ص 71 ج 1، ابن کثیر ص 127 ج 1) تو اس کا جواب مباہلہ سے دیا گیا۔
Ayah 2:94184 الدار الاخرۃ سے مراد جنت ہے اور الناس سے مراد تمام وہ لوگ ہیں جو ان کے دین پر نہیں تھے فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ۔ یعنی ہر فریق دوسرے کی موت کی تمنا کرے یعنی موت کی بد دعا کرے جیسا کہ مباہلہ میں ہوتا ہے۔ ای ادعوا بالموت علی الکاذب من الفریقین والمراد منہ المباھلۃ کما صح عن ابن عباس ؓ عنھما وغیرہ من السلف (جامع البیان ص 16، قرطبی ص 33 ج 1) اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو کہ جنت صرف تمہارے ہی لیے تو آؤ اور مباہلہ کرو۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں تمنی موت سے اپنی موت کی تمنا مراد ہے یعنی اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اللہ سے اپنی لیے موت مانگو کیونکہ جس شخص کو یقین ہو کہ وہ جنت میں جائے گا اس کی دلی خواہش یہ ہوگی کہ وہ اس دنیا کے جھمیلوں سے نجات پائے اور آخرت کی طرف منتقل ہو کر جنت میں اپنا بسیرا کرے۔
Ayah 2:95185 یہودیوں کو اپنی سابقہ بد اعمالیوں کی بنا پر اس بات کا یقین ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹ ہیں اس لیے وہ مباہلہ پر کبھی تیار نہ ہوں گے اور نہ ہی موت کی آرزو کریں گے۔ انھم فی دعواھم کاذبون (معالم ص 71 ج 1، قرطبی ص 33 ج 2) وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی تدبیروں اور ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہے۔
Ayah 2:96186 تجد میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور ھم کی ضمیر ان یہودیوں کی طرف ہے جن کا پہلے ذکر ہورہا ہے یعنی اے پیغمبر ﷺ یہ موت کی تمنا کبھی نہیں کرینگے۔ کیونکہ یہ لوگ زندگی پر بڑے حریص ہیں اور تمام لوگوں سے بڑھ کر انہیں زندگی پیاری ہے کیونکہ انہیں اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنا بد انجام معلوم ہے یا ان کی حرص کی وجہ یہ تھی کہ عوام الناس پر ان کے تقدس واقتدار کا سکہ بیٹھا ہوا تھا اور نذرونیاز کی بےحساب آمدنی کا سلسلہ جاری تھا۔ اس مفت کے عیش و عشرت کی وجہ سے وہ چاہتے تھے کہ ہمیشہ زندہ رہیں۔
187 من حیث المعنی اس کا عطف الناس پر ہے یعنی یہ یہودی تو مشرکوں سے بھی بڑھ کر زندگی پر حریص ہیں کیونکہ مشرکوں کو آخرت میں عذاب کا کوئی ڈر نہیں تھا اس لیے کہ وہ آخرت کے قائل ہی نہیں تھے اور نہ ہی یہودیوں کے مولویوں اور پیروں کی طرح انہیں نذورنیاز کی آمدنیاں وصول ہوتی تھیں۔ يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۔ ھم کی ضمیر بھی ان یہودیوں کی طرف راجع ہے یہ ان کی حرص کی زیادتی کا مزید بیان ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کی یہ آرزو ہے کہ اسے ایک ہزار سال زندگی ملے ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ ۔ ما نافیہ ہے ھُوَ اس کا اسم اور بمزحزحہ اس کی خبر ہے اور ان یعمر مبتدا کا بیان ہے یعنی طویل عمر کا دیا جانا عذاب سے نہیں بچا ستاْ ۔ کیونکہ ہزار سال کے بعد آخر موت ہے۔ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور ان کے تمام ظاہر و باطن اعمال سے باخبر ہے اس لیے لامحالہ انہیں ان کے اعمال کی سزا دے گا۔
یہودیوں کے شبہات کا ازالہ
افہام و تفہیم کے دوران مخاطب کے ذہن میں بعض شبہات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے جبتک ان شبہات کا ازالہ نہ کیا جائے اس وقت تک مخاطب کو اطمینان قلب حاصل نہیں ہوسکتا۔ گذشتہ سات رکوعات میں یہودیوں کو سمجھانے اور ان کو راہ راست پر لانے کے لیے افہام و تفہیم کے تمام ممکنہ ذرائع اختیار کیے گئے ہیں۔ اب آخر میں ان کے تین شبہات کا جواب دیا جارہا ہے۔
پہلا شبہ :۔ یہودیوں کو جب معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر وحی لانے والے حضرت جبریل علیہ الساللم تو کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ تو ہمیشہ عذاب ہلاکت اور کخط سالی کا پیغام لایا کرتا ہے۔ نیز جب بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا تھا اس کو تہس نہس اور بیت المقدس کو برباد کردیا۔ اسی طرح یہ جبریل ہمارے اندرونی راز اور پوشیدہ بھید محمد ﷺ کو بتاتا ہے اس لیے یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے (بحر ص 319 ج 1، روح ص 331 ج 1) چونکہ توحید کا پیغام یہ فرشتہ لایا ہے ہم اسے ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ ہاں اگر يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ کا پیغام، يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْانِعْمَتِیْ ، وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اوروَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ ۔ اور دیگر احکام میکائیل فرشتہ نے لائے ہوتے تو ہم انہیں بخوشی قبول کرلیتے۔ یہ اگرچہ حقیقت میں محض ضد پر مبنی اور نہ ماننے کا ایک لنگڑا بہانہ تھا لیکن ناصح حکیم جل مجدہ نے اس کا بھی نہایت اور معقول جواب دیا ہے۔۔
دوسرا شبہ :۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہود سے بار بار فرمایا کہ محمد ﷺ اور اس پر نازل کی گئی کتاب کوئی نیا مسئلہ نہیں پیش کر رہے بلکہ یہ وہی پیغام توحید پیش کر رہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے ذریعے پیش فرمایا اور ان کے بعد آنے والے ہزاروں انبیائے کرام (علیہم السلام) اس کی تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ہیں تو اس پر یہودیوں کے علما نے کہا کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ محمد ﷺ اور قرآن نے جو نظریہ پیش کیا ہے بعینہ تورات کا اور ہمارے پیغمبروں کا بھی یہی نظریہ تھا کیونکہ ہمارے اور اوراد وظائف اور تورات میں تو غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت موجود ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) (عیاذاً باللہ) غیر اللہ کو پکارا کرتے تھے اور اسی وجہ سے جن وانس پر ان کی حکومت قائم تھی۔ اگر تورات میں اس کی اجازت نہ ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے اور عوام کو گمراہ کرنیکے لیے جادو کی پوتھیاں ان کو دکھاتے جو شیطانوں نے گھڑ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ لگادی تھیں (کبیر ص 636 ج 1) یہودی یہ پوتھیاں لوگوں کو دکھاتے اور کہتے دیکھو، یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خاص یادداشتیں ہیں اور ان میں غیر اللہ کو پکارنا لکھا ہے۔
تیسرا شبہ :۔ تیسرا شبہ ان کا یہ تھا کہ اگر غیر اللہ کو پکارنا ناجائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ دو مقرب فرشتوں ہاروت اور ماروت کو جادو سکھانے کے لیے کیوں دنیا میں بھیجتا ؟ حالانکہ جادو میں غیر اللہ ہی کو پکارا جاتا ہے۔ اور ارواح خبیثہ سے استمداد واستعانت کی جاتی ہے (اس کی مذید تحقیق آگے آرہی ہے) تو اس سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ کو پکارنا اور غیر اللہ سے استعانت کرنا جائز ہے۔ اب ترتیب وار تینوں شبہات کے جوابات دئیے جاتے ہیں۔
پہلے شبہ کا جواب :۔
Ayah 2:97188 مَنْ شرطیہ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ای فعدالۃ ولا وجہ لھا او ما اشبہ ھذا التقدیر (بحر ص 320 ج 1) ای من کان عدوہ فلا انصاف لہ (جامع ص 17) پیغمبر خدا ﷺ کو حکم ملا کہ آپ ان کے شبہ کا جواب دیں کہ جو شخص حضرت جبریل کا دشمن ہے اس کی دشمنی بلا وجہ ہے اور انصاف پر مبنی نہیں آگے اس کی پانچ علتیں اور دلیلیں بیان کی گئی ہیں فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ ۔ یہ جزا محذوف کی پہلی علت ہے۔ یعنی جبرئیل سے عداوت رکھنا تو بالکل بےمعنی اور غیر منصفانہ حرکت ہے اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ آپ کے قلب پر نازل کیا ہے وہ اپنے پاس سے اور اپنی مرضی سے نازل نہیں کیا بلکہ وہ تو اللہ کا کلام ہے اور انہوں نے اللہ ہی کے حکم سے نازل کیا ہے اس لیے حضرت جبریل سے دشمنی سراسر حماقت ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۔ یہ جزا محذوف کی دوسری علت ہے اور مُصَدِّقًا، نَزَّلَهٗ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی جو کتاب حضرت جبریل نے اللہ کے حکم سے حضرت محمد ﷺ پر اتاری ہے وہ بھی کوئی نئی اور انوکھی نہیں، بلکہ پہلی کتابوں کے بنیادی اور اصولی مضامین کی تصدیق کرتی ہے۔ اور وہی دعوت توحید پیش کرتی ہے جو اس ہے یعنی جو حضرت جبریل نے اللہ کے حکم سے حضرت محمد ﷺ پر اتاری ہے وہ بھی کوئی نئی اور انوکھی نہیں، بلکہ پہلی کتابوں کے بنیادی اور اصولی مضامین کی تصدیق کرتی ہے۔ اور وہی دعوت توحید پیش کرتی ہے جو اس سے پہلے خود تورات نے پیش کی تھی۔ ھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ ۔ دونوں مصدقاً پر معطوف ہیں۔ یہاں قرآن کی دو صفتیں اور بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ سیدھی راہ دکھاتا ہے اور کفر وشرک کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور توحید کی روشنی کی طرف لاتا ہے دوسری یہ کہ وہ ماننے والوں کو آخرت میں ابدی زندگی کی خوشخبری سناتا ہے تو ایسی کتاب لانے والے سے عداوت سرسر بےانصافی اور حماقت ہے۔
Ayah 2:98189 پچھلی آیت میں تو دلائل سے عداوتِ جبریل کی غیر معقولیت بیان کی تھی اب اس آیت میں جبریل اور دوسرے فرشتوں سے عداوت رکھنے والوں کا انجام بیان کیا ہے اس لیے یہ عداوت سے اسم ہے اور عداوت محبت اور دوستی کی ضد ہے اور اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جو دوستی اور محبت کے منافی ہو۔ تمام فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور دوسرے فرشتوں سے عداوت رکھنے والوں کا انجام بیان کیا ہے اس لیے یہ عداوت جبریل کی غیر معقولیت کی پانچویں دلیل۔ عدوٌ عداوت سے اسم ہے اور عداوت محبت اور دوستی کی ضد ہے اور اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جو دوستی اور محبت کے منافی ہو۔ تمام فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور میکال کی تخصیص باقی فرشتوں پر ان کی فضیلت اور برتری کے اظہار کے لیے یا دونوں کی تخصیص باقی فرشتوں پر ان کی فضیلت اور برتری کے اظہار کے لیے یا دونوں کی تخصیص اس لیے کی ہے کہ یہودیوں نے ان دونوں کا ذکر کیا تھا اور انہیں کے سبب سے یہ آیت نازل ہوئی۔ لان الیہود ذکر وھما ونزلت الایۃ بسببھما (روح ص 324 ج 1) ۔ من شرطیہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیرہ فھو کافر مجزی باشد العذاب (روح ص 334 ج 1) یعنی جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا خصوصاً جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو وہ کافر ہے اور اسے سخت سزا دی جائے گی۔ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ ۔ یہ جواب شرط محذوف کی علت ہے یعنی ان کی سزا کی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے اور ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سزا دیگا اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں سے دشمنی خدا کی ناراضی اور اس کے غضب کا موجب ہے آگے اہل کتاب کے لیے زجر وتنبیہ ہے۔
Ayah 2:99190 ہم نے آپ کو ایسے واضح دلائل اور ایسی کھلی نشانیاں دی ہیں کہ ان کا انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے فسق وفجور کر اپنا شیوہ بنا رکھا ہے التمردون فی الکف الخارجون عن الحدود (روح ص 335 ج 1) یہ یہودی ضد وعناد اور تمرد وسرکشی میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایسے واضح دلائل کا بےکھٹک انکار کردیتے ہیں۔
Ayah 2:100191 ان کے طغیان وعصیان کا یہ حال ہے کہ انہوں نے جب کبھی کوئی عہد کیا اسے پورا نہ کیا بلکہ ان میں ہمیشہ ایک بہت بڑی جماعت عہد شکنی پر کمر بستہ رہی۔ گویا عہد شکنی، غداری اور نافرمانی ان کی عادت قدیمہ اور قومی خصوصیت ہے۔ بَلْ اَكْثَرُھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ بلکہ ان کی اکثریت کا تو اپنی کتاب پر بھی مخلصانہ ایمان نہیں تھا صرف منافقانہ طور پر زبانی اقرار تھا لیکن ان کا عمل اس کے خلاف تھا۔ (کبیر ص 634 ج 1) تو جن کے خبث باطن کا یہ حال ہو کہ اپنی کتاب اور اپنے رسول کو بھی نہ مانیں بھلا وہ دوسری قوم کے نبی اور اس کی کتاب کو کیوں ماننے لگے۔
Ayah 2:101دوسرے شبہ کا جواب :۔ 192 رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ جب ان اسرائیلیوں کے پاس خدا کا پیغمبر ایسا پیغام لے کر آیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کی تصدیق کرتا ہے اور جو دعوت توحید اور اصول دین انہوں نے بیان کیے ہیں ان کی تائید و توثیق کرتا ہے۔ صدق مافیھا من قواعد التوحید و اصول الدین واخبار الامم والمواعظ والحکم (روح ص 336 ج 1) نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ ۔ یہ لَمَّا کا جواب ہے اور الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔ سے مراد یہی یہودی ہیں اور كِتٰبَ اللّٰهِ ۔ سے تورات مراد ہے اور نَبَذَ کا مفعول ہے یعنی جب اللہ کا سچا پیغمبر تورات کی تصدیق کرتا ہوا ان کے پاس آیا تو ان تورات پر ایمان کے دعویداروں نے تورات کے احکام کو ٹھکرا دیا اور ان کی ذرا پروا نہ کی۔ تورات میں اس سے آخری نبی کے ظہور کی پیشگوئی اور آپ کی صفات و علامات موجود تھیں اور تورات میں یہ حکم بھی موجود تھا کہ جب یہ نبی ظاہر ہو تو اس پر ایمان لانا۔ اور یہودیوں کے علما اچھی طرح جانتے تھے کہ تورات میں جس پیغمبر کا ذکر ہے وہ آپ ہی ہیں مگر اس کے باوجود آپ کو نہ مانا اور تورات کے حکم کو پس پشت ڈال دیا۔ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ انہوں نے تورات کے حکم کی اس طرح لاپرواہی کی اور اسے اس طرح ٹھکرا دیا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔
Ayah 2:102193 شیاطین سے سرکش جن اور ابلیس کے چیلے مرد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ والمتبادر من الشیاطین مردۃ الجن وھو قول الاکثرین (روح ص 337 ج 1) ان یہودیوں نے تورات میں آخری نبی پر ایمان لانے کے حکم ہی کو نہیں ٹھکرا یا بلکہ انہوں نے تو تورات کی دعوت توحید کو بھی پامال کردیا اور اسے چھوڑ کر شیطانی جادو اور ٹوٹکوں کے پیچھے پڑگئے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں شیطانوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے گھڑے تھے۔ جب یہودیوں نے قرآن کی دعوت توحید کے مقابلے میں غیر اللہ کی پکار کا جواز ثابت کرنے کے لیے تورات پیش کی تو تورات مسئلہ توحید پر قرآن سے متفق نکلی تو اب یہودی اپنی خفت مٹانے کے لیے جادو کی وہ پوتھیاں نکال لائے جو شیطانوں نے لکھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے مومن وزیر آصف بن برخیا اور ہاروت وماروت فرشتوں کے ناموں سے مشہور کر کھی تھیں اور نسلاً بعد نسل موجودہ یہود تک پہنچی تھیں۔ قال السدی عارضت الیہود محمدا ﷺ بالتوراۃ فاتفقت التورۃ والقران فنبذوا التوراۃ واخذوا بکتب اص وسحرھا روت وماروت (قرطبی ص 41 ج 2، کبیر ص 635 ج 1، نیشابور ص 341 ج 1) 194 جادو میں چونکہ غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے اس لیے ایسا جادو صریح شرک اور کفر ہے جب یہودی جادو، اور ٹوٹکوں کی پوتھیاں نکال لائے اور کہا دیکھو، یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خاص نوشتے ہیں اور وہ جادو کیا کرتے اور غیر اللہ کو پکارا کرتے تھے بلکہ اسی کی بنا پر وہ جنوں پر حکومت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس دعویٰ کی تردید وتکذیب فرما کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خاص نوشتے ہیں اور وہ جادو کیا کرتے اور غیر اللہ کو پکارا کرتے تھے بلکہ اسی کی بنا پر وہ جنوں پر حکومت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس دعویٰ کی تردید وتکذیب فرما کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اس کفر وشرک سے برائت کا اعلان فرمایا کہ سلیمان پیغمبر نے تو ایسا کفر وشرک کبھی نہیں کیا جو یہ لوگ ان کے ذمے لگا رہے ہیں۔ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا۔ لکن ماقبل کی نفی اور مابعد کے اثبات کے لیے آتا ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ جادو، اور کفروشرک نہیں کیا بلکہ یہ سب شیطانوں کی کارستانیاں ہیں۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں شیطانوں نے ایک کتاب تیار کی جس میں جادو اور شرک تھا۔ اور لوگوں میں اس کی اشاعت کی اور اس میں لکھا ہوا جادو لوگوں کو لکھانے لگے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے وہ کتابیں حاصل کر کے اپنے تخت کے نیچے دفن کرادیں۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو جنوں نے وہ کتابیں پھر سے نکال لیں اور اب لوگوں میں مشہور کرنا شروع کردیا کہ یہ یہ حضرت سلیمان کے مخصوص نوشتے اور ان کا خاص علمی خزانہ ہے جسے انہوں نے ہم سے چھپایا ہوا تھا اور بعض نوشتوں کی ابتدا میں تو ان خبیثوں نے یہ الفاظ بھی بڑھا دئیے تھے۔ ھذا ما کتب آصف بن برخیا للملک سلیمان بن داود من ذخائر کنوز العلم یعنی یہ علم کے ذخیروں میں سے وہ خزانہ ہے جسے آصف بن برخیا نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے لکھا تھا۔ جنوں نے یہ کتابیں نکال کر لوگوں میں پھیلانا۔ اور انہیں سکھانا شروع کردیں (ھذا کلہ من ابن جریر ص 339 ج 1) رفتہ رفہو یہی نوشتے اور پوتھیاں آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کے پاس بھی پہنچ گئیں۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں شیاطین آسمان کے قریب جا کر آئندہ کاموں سے متعلق فرشتوں کی باتیں سنتے اور ان میں اپنی طرف سے سینکڑوں جھوٹ ملا کر کاہنوں اور نجومیوں کو بتاتے اور وہ ان تمام باتوں کو کتابوں میں لکھ کر لوگوں میں پھیلاتے اور انہیں سکھاتے۔ اور چونکہ کوئی بات سچی بھی ہوجاتی تھی اس لیے انہوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ جن غیب جانتے ہیں۔ اور یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خاص علم ہے اور اسی علم کے ذریعے انہوں نے جن وانس اور ہوا کو تابع کر رکھا ہے (مدارک ص 51 ج 1، نیچا پوری ص 341 ج 1) اگر اس روایت کو پیش نظر رکھا جائے تو شیاطین سے شیاطین الجن اور شیاطین الانس دونوں مراد ہونے چاہئیں کیونکہ اس کام کو شروع تو شیاطین الجن نے کیا تھا لیکن لوگوں میں اس کی تعلیم و اشاعت شیاطین الانس کے ذریعے ہوئی۔
تحقیق السحر :۔ اس آیت میں جادو کو کفر کہا گیا ہے اس لیے جادو سے یہاں دواؤں کے ذریعے ہاتھ کی صفائی سے عجیب و غریب کرتب دکھانے مراد نہیں کیونکہ بعض لوگ ان پر بھی جادو، اور سحر کا اطلاق کردیتے ہیں اور یہ کفر بھی نہیں بلکہ اس سے جادو کی وہ تمام قسمیں مراد ہیں جن میں غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے اور ارواحِ خبیثہ سے استعانت کی جاتی ہے اور اس میں شرکیہ وظائف پڑھے جاتے ہیں۔ ویستعان فی تحصیلہ بالتقرب الی الشیطان بارتکاب القبائح قولا کا رقی التی فیھا الفاظ الشرک الخ (روح ص 338 ج 1) شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ جادو کی تیرہ قسمیں ہیں اور سب کا خلاصہ غیر اللہ کو پکارنا، غیر اللہ کو قادر اور عالم الغیب سمجھنا ہے اس کے بعد فرمایا ہے کہ جادوگر کی سزا قتل ہے اور قتل کے بعد نہ اس کا جنازہ پڑھا جائے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں، اے برادر ادعا لغیر اللہ کہ برولے آثار عجیبہ ظاہر می شود سحر است ہمیں است ماہیت در الفاظ دعوت قمری ای مرسل الرحمۃ ومنزل النعمۃ ودر دعوت عطار وکل ما حصل لی من الخیر فہو منک ونیز گویند ایہا العالم بحفیات الامور والمطلع علی السرائر ودر تفسیر عزیزی است اگر در سحر قولی را فعلی کہ موجب کفر باشد مثل ذکرنام بتاں وارواح حبیثہ بہ تعظیمی کہ شایانِ رب العزت است مثلی اثبات عموم علوم وقدرت وغیب دانی ومشکل کشائی یا ذبح لغیر اللہ یا سجدہ لغیر اللہ وغیر ذلک واقع شود بلا شبہ آں سحر، کفر است وصاحب آں مرتد شود، انتہی مختصراً فی التوسل لابن تیمیہ ص 130 استغاثہ لغیر اللہ و اقسام لغیر اللہ سحر است۔
اسی طرح امام ابن تیمیہ۔ قاعدہ جلیلہ۔ میں فرماتے ہیں کہ جادو میں غیر اللہ کو پکارنا لازم ہے۔
جس طرح یہودیوں نے اللہ کے معصوم پیغمبر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ذمہ جادو، اور غیر اللہ کو پکارنے جیسا شرک لگا دیا تھا اور ثبوت میں غیر مستند نوشتے پیش کیے تھے اسی طرح آجکل بھی قرآن کی خالص توحید کے مقابلہ میں شرک پسند پیر اور بدعت نواز مولی اپنے شرکیہ اعمال و عقائد اور بدعات کو جائز ثابت کرنے کے لیے امام ابوحنیفہ شیخ عبدالقادر جیلانی، امام شعرانی اور دیگر بزرگانِ دین کا نام لیتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ حضرات بھی غیر اللہ کو نہ صرف پکارنے کی اجازت دیتے تھے بلکہ خود بھی پکارا کرتے تھے اور ثبوت قصیدہ نعمانیہ، قصیدہ غوثیہ، لطائف المنن اور بہجۃ الاسرار، ایسی غیر مستند اور بےسروپا کتابیں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بزرگانِ دین اس قسم کی خرافات سے بالکل بری تھے۔ اگر قرآن کے مقابلہ میں ایسی عبارتیں اور کتابیں بزرگوں کی طرف منسوب کر کے پیش کی جائیں تو اگر وہ واقعی وہ بزرگ اور اولیائ اللہ تھے جیسے مذکورہ بزرگان تو اس نسبت کا صاف انکار کردینا چاہیے جس طرح وضاعوں اور کذابوں نے حضرت رسول اللہ ﷺ کے ذمہ جھوٹی حدیثیں لگادی ہیں اسی طرح توحید کے غداروں اور سنت کے باغیوں نے یہ من گھڑت خرافات ان بزرگوں کے ذمہ لگادی ہیں اور اگر ان عبارتوں کی نسبت ان بزرگوں کی طرف صحت سے ثابت ہوجائے تو ان میں تاویل کی جائے اور ان کا ایسا محمل بیان کیا جائے جو قواعد شرعیہ کے موافق ہوا، اور اگر الفاظ میں تاویل کی گنجائش نہ ہو تو کہا جائے کہ یہ کلمات اس شخص سے غلبہ حال کی حالت میں صادر ہوئے ہوں گے جس میں وہ معذور ہے۔ بہرحال قواعد شرعیہ کے خلاف کسی کا کوئی قابل قبول نہیں خواہ وہ کتنا ہی بڑا ولی اور امام کیوں نہ ہو۔ شریعت اماموں اور ولیوں کے تابع نہیں بلکہ امام اور ولی شریعت کے تابع ہیں۔
195 وَمَااُنْزِلَ میں مَا موصولہ ہے نافیہ نہیں جیسا کہ بعض کو غلطی لگی ہے اس کا عطف ما تَتْلُوا پر ہے یعنی یہودیوں نے تورات کا پیغام توحید چھوڑ چھاڑ کر شیطانی ٹوٹکوں اور ہاروت وماروت کے جادو کی اتباع اور پیروی شروع کردی۔ یہاں انزل سے مراد وحی نہیں بلکہ الہام کے ذریعے تعلیم مراد ہے۔ الانزال بمعنی الالھام والتعلیم (معالم ص 75 ج 1) الملکین میں مشہور قرائت لام کے فتحہ سے ہے۔ القرائ ۃ المشہور بفتح اللام (کبیر ص 651 ج 1) اسی بنا پر محققین کی رائے یہ ہے کہ ہاروت اور ماروت دونوں فرشتے تھے جنہیں لوگوں کے امتحان اور ابتلا کے لیے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھیجا تھا۔ ذھب کثیر عن السلف الی انھما کانا ملکین من السما وانہما انزلا الی الارض (ابن کثیر ص 137 ج 1) وھذان الملکان انزلا لتعلیم السحق ابتلا من اللہ تعالیٰ للناس (روح ص 340 ج 1)
ان فرشتوں کو زمین پر اتارنے کی وجہ کے متعلق علمائے محققین نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں سحر اور جادو کا چرچا عام تھا اور جادوگر بکثرت تھے بعض دفعہ جادوگر نبوت کا دعویٰ کردیتے اور جادو کے عجیب و غریب کرتب دکھا کر لوگوں سے اپنی جھوٹی نبوت منوالیتے۔ جادوگر لوگوں کو ایسے ایسے شعبدے دکھاتے کہ وہ حیران رہ جاتے۔ سفلی عملیات اور جادو کے ٹوٹکوں سے عوام اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں حق سمجھنے لگے اور ان کے ذہنوں میں ایسی الجھنیں پیدا ہوگئیں کہ وہ جادو اور معجزہ کے درمیان امتیاز نہیں کرپاتے تھے۔ اس طرح جادو کے ذریعہ روز بروز گمراہی پھیل رہی تھی۔ لوگ انبیا علیہم السلام، اللہ کے نیک بندوں اور جادوگروں اور شعبدہ بازوں کو ایک ہی سمجھنے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کا فیصلہ کرنے اور جادو اور معجزہ میں امتیاز قائم کرنے کے لیے ان فرشتوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کر کے زمین پر بھیجا تاکہ لوگ جادو اور معجزہ کی حقیقت اور باہمی امتیاز کو سمجھ کر جادوگروں کے مکر و فریب سے بچ سکیں۔ (من الکبیر ص 652 ج 1، والروح ص 340 ج 1، والبحر ص 329 ج 1)
یہودیوں نے ہاروت وماروت کے متعلق ایک عجیب و غریب اور جھوٹا قصہ مشہور کر رکھا تھا جس کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ نے ان دونوں فرشتوں کو بطور آزمائش بشری لوازمات دیکر زمین پر بھیجا تو انہوں نے ایک کنجری زہرہ کے ورغلانے پر بت کو سجدہ کیا۔ شراب نوشی کی، ایک آدمی کو ناحق قتل کیا۔ اور زہرہ کنجری سے منہ کالا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے زہرہ کنجری کو اسم اعظم بتا دیا اور وہ اس کے ذریعے آسمان پر چلی گئی تو اللہ نے اسے زہرہ سیارہ بنا دیا۔ ہاروت وماروت اپنے گناہوں کی وجہ سے آسمان پر نہ جاسکے اور اب انہیں الٹا لٹکا کر عذاب دیا جار ہا ہے۔ تعجب ہے کہ بعض مفسرین نے یہ جھوٹا قصہ بلا نکیر اپنی کتابوں میں درج کردیا ہے۔ لیکن محققین مفسرین نے اس پر شدید انکار کیا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ : واعلن ان ھذہ الروایۃ فاسدۃ مردودۃ غیر مقبولۃ لانہ لیس فی کتاب مایدل علی ذلک بل فیہ مایبطلھا (کبیر ص 652 ج 1) قرطبی لکھتے ہیں۔ قلنا ھذا کلہ ضعیف وبعید عن ابن عمرو غیرہ لا یصح منہ شیئ (قرطبی ص 52 ج 1) ۔ امام ابو حیان رقمطراز ہیں۔ وھذا کلہ لا یصح منہ شیئ والملائکۃ معصومون لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون (بحر ص 309 ج 1) ۔ علامہ خازن لکھتے ہیں فبان بھذہ الوجوہ رکۃ ھذہ القصۃ (ص 78 ج 1) ۔ علامہ سید محمود آلوسی حنفی۔ امام رازی (رح) کا مذکورہ بالا قول نقل کر کے عراقی سے نقل فرماتے ہیں۔ ونص الشھاب العراقی علی ان من اعتقد فی ھاروت وماروت انھما ملکان یعذبان علی خطیئتہما مع الزھرۃ فھو کافر باللہ تعالیٰ العظیم (روح ص 341 ج 1) یہ واقعہ موضح ِ قرآن میں بھی ہے جو شاہ عبدالقادر محدث دہلوی کے نام پر کتابی صورت میں چھپی ہوئی ہے مگر محققین مثلا محدث العصر حضرت علامہ مولانا سید محمد انور شاہ صاحب (رح) تعالیٰ کے نزدیک یہ تفسیر شاہ عبدالقادر کی نہیں ہے کسی نے لکھ کر ان کے نام منسوب کردی ہے۔ حضرت شاہ صاحب کی موضح قرآن صرف وہی حواشی ہیں جو قرآن مجید کے حاشیہ پر چھپے ہوئے ہیں۔ بعض ناشرین نے اب ان میں بھی کچھ اور ردو بدل کردیا ہے۔ 196 يُعَلِّمٰنِتعلیم سے ہے۔ اور تعلیم کے معنی یہاں درس و تدریس کے نہیں ہیں بلکہ یہاں تعلیم بمعنی اعلام ہے۔ انہ من الاعلام لا من التعلیم فیعلمان بمعنی یُعْلَمَانِ (قرطبی ص 54 ج 1) وقرا طلحۃ بن مصرف یُعْلِمَان من الاعلام لا من التعلیم وعلیھا حمل بعضھم قرائۃ التشدید (روح ص 344 ج 1) اور من زائدہ ہے تاکید استغراق کے لیے۔ (روح ص 343 ج 1) فتنہ کے معنی آزمائش اور امتحان کے ہیں۔ واما الفتنۃ فی ھذ الاموضع فان معناھا الاختبار والابتلا (ابن جریر ص 348 ج 1) الفتنۃ الاختبار والامتحان (ابو السعود ص 653 ج 1) یعنی جب کوئی ان دونوں فرشتوں کے پاس جادو سیکھنے کے لیے آتا تو وہ پہلے ازراہ خیر خواہی اس پر یہ واضح کردیتے تھے کہ دیکھو جادو پر اعتقاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا کفر ہے اور ہم تو محض اس لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ جادو اور معجزہ کا فرق لوگوں پر واضح کردیں لہذا جادو کے جو اصول ہم تمہیں بتلائی گے ان کو ناجائز طور پر استعمال نہ کرنا اور اس طرح ہم تمہارے لیے امتحان اور آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ دیکھنا کہیں جادو کے پیچھے پڑ کر اپنا ایمان نہ ضائع کر بیٹھنا۔ مذکورہ بیان سے ہاروت وماروت فرشتوں کا دامن بھی شرک اور جادو سے پاک ہوگیا جو کہ یہودیوں نے ان کے ذمہ لگایا تھا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ وہ خود جادو نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ہی غیر اللہ کو پکارتے تھے وہ تو اللہ کے حکم سے محض لوگوں کے امتحان کے لیے جادو کی حقیقت واضح کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔197 فرشتوں کے روکنے کے باوجود لوگ اس جادو کو ناجائز طور پر استعمال کرنے لگے اور زیادہ تر خاوند، بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اسے استعمال کرتے تھے۔ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۔ جادو ٹوٹکے اور تعویذ گنڈے سے جو بھی آثار ظاہر ہوتے ہیں وہ اللہ کے حکم اور اس کی قضا سے ہوتے ہیں کیونکہ فاعل اور موثر حقیقی وہی ہے نہ کہ یہ چیزیں۔ یہ چیزیوں تو محض اسباب کا درجہ رکھتی ہیں۔ قال سفیان الثوری لا بقضائہ وقدرتہ ومشیتہ (معالم ص 78 ج 1) اس لیے ضروری نہیں ہر ٹوٹکے اور تعویذ گنڈے کا اثر ظاہرہو۔ 198 یہ بدبخت یہودی جو کچھ سیکھ رہے ہیں اس کے ذریعہ دوسروں کو نقصان پہنچانا تو ان کے بس کی بات نہیں البتہ اس جادو کا دنیا اور آخرت میں ان کے لیے سراسر نقصان ہی نقصان ہے اور اس میں انہیں ذرہ برابر فائدہ نہیں۔ ۭ وَلَقَدْ عَلِمُوْا۔ علمو کا فاعل یہودیوں کے علما ہیں۔ قیل عائد علی علماے الیہود (بحر ص 333 ج 1) اِْتَرَاہُ میں ضمیر مفعول ما تتلوا کی طرف راجع ہے جس سے مراد جادو ہے۔ اور اشترا سے مراد استبدال ہے۔ ای استبدال ما تتلو الشیاطین بکتاب اللہ (ابو السعود ص 657 ج 1) یعنی ان یہودیوں کے مولویوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جس نے خدا کی کتاب کو چھوڑ کر اس پر جادو اور سحر کی پوتھیوں کو ترجیح دی اور توحید سے منہ موڑ کر شرک اور غیر اللہ کو پکارنے میں لگ گیا وہ آخرت میں سخت بد نصیب ہوگا۔ خدا کی کتاب سے تورات یا قرآن مراد ہے۔ علامہ ابو حیان ایک صورت یہ بھی لکھتے ہیں کہ اشتراہ کی ضمیر تورات یا قرآن شریف کی طرف عائد ہو، اور اشترا بمعنی بیع ہو یعنی جس نے تورات یا قرآن کو چھوڑ اس کے عوض جادو کی کتابوں پر عمل کرنا شروع کردیا۔ اور کتابھم الذی باعوہ بالسحر اوا القران لانہ تعوضوا عنہ بکتب السحر (بحر ص 334 ج 1)
199 بئس کا مخصوص بالذم محذوف ہے یعنی السحر اور شَرَوا بمعنی باعوا ہے اور انفسھم سے پہلے لفظ حظوظ محذوف ہے۔ یعنی یہ جادو جس کے عوض انہوں نے اپنی آخرت کا حصہ بیچ ڈالا ہے وہ بہت ہی بری چیز ہے۔ ای بئس ما باعوا بہ حظوظ انفسہم السحر (من البحر ص 334 ج 1، والروح ص 346 ج 1) لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْن۔ وہ اس سودے کے خسارے کو جانتے تھے مگر چونکہ انہوں نے اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کیا اس لیے ان سے علم کی نفی کی ہے۔
Ayah 2:103200 اگر یہ یہودی اللہ کے آخری رسول ﷺ اور قرآن پر ایمان لے آتے اور جادو کو چھوڑ کر قرآن کے مطابق عمل کرتے۔ یہ ان معاندین کے لیے ترغیب ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی رحمت و شفقت ہے کہ وہ ایسے سرکشوں اور ضدیوں کے یے بھی رشدوہدایت کی تمام راہیں کھولتا ہے۔ لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ ۭ۔ یہ معنیً لَوْ کا جواب ہے۔ یعنی اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو انہیں اللہ کی طرف سے اجر ملتا اور اللہ کا ثواب یقیناً سحر اور کفر سے بہتر ہے۔ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ۔ کاش کہ وہ اس حقیقت کو جانتے ہوتے۔
یہاں تک تو یہودیوں کے شبہات کا جواب تھا۔ اب آگے مسلمانوں کو یہودیوں کے ہتھکنڈوں اور ان کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یہودی تحریف وتلبیس کے ماہر تو تھے ہی جس کی قرآن نے بھی شبہات دی ہے اور خود موجودہ تورات بھی ان کی تحریف اور تلبیسِ حق کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہودیوں نے سوچا کہ مسلمانوں میں علانیہ طور پر اور براہ راست شرک کا داخل کرنا تو بہت مشکل ہے لہذا کسی تدبیر اور سازش سے کام لینا چاہئے۔ مسلمان آنحضرت ﷺ کی توجہ اپنی طرف منعطف کرانے کے لیے لفظ راعنا استعمال کرتے تھے اس لفظ کے چونکہ دو معنی تھے ایک صحیح اور ایک موہم شرک اس لیے منافقین یہود نے بھی آپ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ کو راعنا کے لفظ سے مخاطب کرنا شروع کردیا۔ بظاہر اس لفظ کے معنی بہت عمدہ تھے یعنی ہمارا بھی خیال فرمائیے۔ یہودیوں نے سوچا کہ جب یہ لفط مسلمانوں میں رائج ہوچکا ہے تو ہمیں اس سے اپنا مطلب نکالنا چاہیے۔ کیونکہ اس لفظ کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ ہماری نگہبانی اور حفاظت فرمائیے۔ راعنا فی اللغۃ ارعنا ولنرعک لان المفاعلۃ من اثنین فتکون من رعاک اللہ ای احفظنا ولنحفظک وارقبنا ولنرقبک (قرطبی ص 57 ج 2) اس لفظ سے ان کا مقصد مسلمانوں میں غیر اللہ کے حافظ وناصر ہونے کا خیال ڈالنا تھا تاکہ غیر شعوری طور پر مسلمانوں میں شرک کا عقیدہ رائج ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے موہم شرک لفظ سے منع فرمادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ موہم شرک الفاظ کا استعمال جائز نہیں۔ ان سے ہر حال میں اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ جیسا کہ آج کل بعض جاہلوں میں اسی قسم کے موہم شرک الفاظ رائج ہیں۔ مثلا، جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول نے چاہا، اور، یا پیر استاد، اور، یارسول اللہ، اور، یا خواجہ معین الدین اجمیری، وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 2:104201 اللہ نے مسلمانوں کو راعنا کے لفظ سے منع فرمادیا کیونکہ یہ لفظ موہم شرک تھا اور اس کے تحت یہودیوں کی ناپاک نیتیں تھیں اور اس کی جگہ انظرنا کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ وَاسْمَعُوْا۔ میرے امرونہی کو غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ ای ما امرتکم بہ ونھیتکم عنہ بجد (روح ص 349 ھ 1) اس سے ایسے الفاظ کہنے اور ایسی رسموں کی بنا رکھنے ممانعت ثابت ہوئی جو مبدا شرک ہوں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قُلْ لَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ۔ الایۃ کا علان کرنیکا حکم دیا تاکہ نصاری کی طرح مسلمان حضور ﷺ کو عالم الغیب اور مالک ومختار نہ سمجھنے لگیں۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے اللہ میری قبر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ شرک کا اڈہ نہ بن جائے۔ کذا فی الخازن۔ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ۔ اس کا تعلق لَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۔ سے ہے یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے اُعْبُدُوْ ا رَبَّکُمْ وَلَاتَجْعَلُوْا للہ اَنْدَاداً تو وہ اس کے مقابلہ میں جادو منتر پیش کردیتے ہیں۔ اب یہاں فرمایا گیا کہ وہ تو مشرک ہیں ہی اب تمہارے اندر بھی موہم شرک الفاظ کے ذریعے شرک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اَلْکَافِرِیْنَ میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے مراد وہ سازشی یہود ہیں جنہوں نے بد نیتی سے لفظ راعنا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اب آگے اہل کتاب اور مشرکین کی ایک اور بری اور ناپاک خواہش کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 2:105202 یَوَدُّ وَدٌّ سے ہے سے ہے جس کے معنی چاہنے اور پسند کرنے کے ہیں۔ اور مِنْ اَھْلِ الکْکِتٰب میں من بیانیہ ہے اور وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ کا عطف اَھْلِ الْکِتٰب پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام اہل کتاب کافر ہیں جب تک وہ آخری رسول اور آخری کتاب پر ایمان نہ لائیں اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ من الاولی للبیان لان الذین کفرو جنس تحتہ نوعان اھل الکتب والمشرکون (مدارک ص 53 ج 1، کبیر ص 657 ج 1) اور خَیْرٌ کو بعض مفسرین نے بعض معانی کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اسے عام رہنے دیا جائے تاکہ وہ تمام انواع خیر کو شامل ہوجائے او عام فی انواع الخیر کلھالان المذکورین لا یودون تنزیل جمیع ذلک علی المومنین عداوۃ وحسدا وخوفا من فوات الدراسۃ وزوال الریاسۃ (ورح ص 350 ج 1) اب آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ یہودیوں کے خبث باطن اور تمہاری بد خواہی کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو وہ تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور وہ یہودی اور اسی طرح نصاریٰ اور مشرکین اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی انعام واکرام یا کسی قسم کی بہتری اور بھلائی نازل ہو۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ تم پر قرآن نازل ہو تمہیں دشمنوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہو یا کسی قسم کا کوئی فائدہ اور نفع پہنچے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تمام انواع خیر کے مستحق ہم ہی ہیں۔ اور ان کی یہ خواہش محض عداوت اور بغض وحسد پر مبنی تھی۔ نیز انہیں یہ خطرہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر وحی نازل ہوگئی تو ہمارے مدرسے اور ہماری آمدنی کی دکانیں بند ہوجائیں گی اور ہماری شان و شوکت خاک میں مل جائے گی۔ 203 یہاں بھی لفظ رحمت عام ہے اور ان تمام انواع ِ رحمت کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی وقت اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ الرحمۃ فی ھذہ الایۃ عامۃ لجمیع انواعھا قد منح اللہ بھا عبادہ قدیما وجدیدا (قرطبی ص 61 ج 2) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی رحمت کا مستحق ہے اور جسے وہ چاہتا ہے اپنی نوازشات کے لیے منتخب کرلیتا ہے، لوگوں کی خواہشات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بعض مفسرین نے خیر اور رحمت سے وحی مراد لی ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ پہلے انبیا بنی اسرائیل میں پیدا ہوتے رہے۔ جب آخری رسول ﷺ بنی اسمعیل سے پیدا ہوئے تو یہودیوں نے تعصب اور حسد کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ وقیل معنی الایۃ ان اللہ تعالیٰ بعث الانبیا من والد اسحاق فلما بعث النبی ﷺ من ولد اسمعیل لم یقع ذالک بود الیہود ومحبتھم (معالم ص 79 ج 1) لیکن مشرکین کے بغض وحسد کیلئے یہ وجہ موزوں نہیں بلکہ یہ چیز تو ان کے لیے باعث فخر ہے کیونکہ وہ سب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ ۭوَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تو وسیع ہے اس لیے بعض کی محرومی اس کی مشیت اور حکمت کے تحت ہے نہ کہ اس کے فضل اور مہربانی کی کمی کی وجہ سے۔ وان حرمان بعض عبادہ لیس لضیق فضلہ بل لمشیتہ وما عرف فیہ من حکمتہ (روح ص 351 ج 1)
یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو اصل عداوت تو دعوت توحید سے تھی اور وہ اس عداوت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے تھے۔ کبھی تو راعنا جیسے موہم شرک الفاظ مسلمانوں کی زبانوں سے کہلا کر ان میں شرک داخل کرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ اور بےجا اعتراضات کرتے۔ کبھی کہتے یہ لوگ اس قابل نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان پر وحی یا کوئی بھلائی نازل ہو اور کبھی کہتے کہ اگر یہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے احکام کیوں بدلتے رہتے ہیں ؟ محمد ﷺ مسلمانوں کو ایک حکم دیتا ہے پھر اس کے خلاف دوسرا حکم صادر کردیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محمد کا اپنا کلام ہے خدا کا کلام نہیں۔ نزلت لما قال المشرکون او الیہود الا ترون الی محمد ﷺ بامر اصحابہ بامر ثم ینھاھم عنہ ویامرھم بخلافہ۔۔۔ ما ھذا الا کلام محمد ﷺ ویقول من تلقائ نفسہ (روح ص 351 ج 1) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط پروپیگنڈے کا جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور مالک ومختار ہے اور جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
Ayah 2:106204 نسخ سے مراد یہ ہے کہ آیت کا حکم اٹھ جائے لیکن اس کی تلاوت باقی رہ جائے۔ اور انسائ سے مراد یہ ہے کہ حکم اور تلاوت دونوں اٹھ جائیں (بحر ص 343 ج 1) یہ راعنا کو منسوخ کر کے اس کی جگہ انظرنا کہنے کے حکم کی طرف اشارہ ہے، نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا۔ یعنی اگر ہم کسی حکم کو منسوخ کردیتے ہیں تو وہ بھی ہماری حکمت اور مصلحت کے عین مطابق ہوتا ہے اور ہم منسوخ شدہ حکم کی جگہ اس سے زیادہ مفید اور زیادہ آسان یا نفع اور سہولت میں اس کے برابر دوسرا حکم نازل کردیتے ہیں۔ ای بما ھو انفع لکم واسھل علیکم و اکثر لاجرکم او مثلھا فی المنفعۃ والثواب الخ (معالم ص 81 ج 1) ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ یہاں استفہام تقریری ہے اور اس کا مخاطب ہر سامع ہے۔ ھذا استفہام معناہ التقریر۔۔۔ والاولی ان یکون المخاطب السامع (بحر ص 344 ج 1) مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب تو اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اپنے بندوں پر احکام میں ردو بدل اور محو و اثبات کا اسے پورا پورا اختیار ہے۔ لہذا اس پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ اس سے اصل دعویٰ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے اور وہ انسانوں کی تمام حاجتیں اور ضرورتیں پوری کرسکتا اور ان کی تمام مشکلات آسان کرسکتا ہے۔ تو پھر اس کے سوا کیوں کسی اور کو پکارا جائے اور کیوں کسی اور سے استعانت کی جائے۔ اس آیت کا دوسرا ربط یہ ہے کہ اگر ہم کوئی ایسی رسم منسوخ کردیں جو موہم شرک ہو تو اس کی جگہ اس سے بہتر طریقہ رائج کردیتے ہیں جس طرح راعنا کا لفظ منسوخ کر کے اس کی جگہ انظرنا کا لفظ کہنے کا حکم دیا ہے۔
فائدہ : متقدمین حضرات نسخ کو اس کے وسیع معنوں میں لیتے تھے۔ یعنی وصف آیت کے مطلق تغیر کو نسخ کہتے تھے۔ اس لیے ان کے نزدیک پانچ سو سے بھی زیادہ آیتیں منسوخ ہیں۔ لیکن متاخرین نے نسخ کو محدود معنی میں استعمال کیا۔ یعنی آیت کا حکم مع التلاوۃ یا بدون التلاوۃ اٹھا دینے کو نسخ کہتے ہیں۔ اس لیے اس مفہوم کے پیش نظر بیس سے زیادہ آیتیں منسوخ نہیں ہیں۔ جیسا کہ علامہ سیوطی نے اتقان میں بسط و تفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن امام ولی اللہ دہلوی الفوز الکبیر کے باب دوم فصل دوم میں اس مفہوم کے تحت صرف پانچ آیتوں کو منسوخ مانتے ہیں اور باقی تمام آیتوں کی توجیہ فرماتے ہیں لیکن حضرت شیخ (رح) ان پانچ آیتوں کو بھی منسوخ نہیں مانتے تھے اور حضرت شاہ صاحب کی طرز پر ان پانچوں آیتوں کی ایسی توجیہ فرماتے تھے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پانچوں آیتوں کا حکم بھی تا قیامت باقی ہے۔ ان پانچوں آیتوں کی توجیہ اپنی اپنی جگہ آئے گی انشائ اللہ تعالی۔ بعض لوگ نسخ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پہلے ایک حکم دے کر پھر اسے واپس کیوں لیتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نسخ کے معنی پہلا حکم واپس لینے کے نہیں بلکہ اس سے پہلے حکم کی مدت کی انتہا کا بیان مقصود ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف اس مدت تک تھا۔ اس کے بعد کے لیے نہیں۔
Ayah 2:107205 یہاں بھی استفہام تقریر کے لیے ہے اور خطاب ہر سامع کو ہے۔ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ ملک السموت والارض مبتدا موخر اور لہ خبر مقدم ہے۔ اور اس کی تقدیم افادہ حصر کے لیے ہے یعنی زمین و آسمان کی سلطنت اور زمین و آسمان میں ہونے والے تمام امور کا اختیار صرف اللہ ہی کو حاصل ہے وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْر۔ یہ جملہ اَنَّ کی خبر پر معطوف ہے۔ پہلا مِنْ ابتدائیہ اور استغراق عموم نفی کے لیے ہے (روح ص 354 ج 1، ابو سعود ص 675 ج 1) ۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی بھی تمہارا حمایتی اور یارومددگار نہیں۔ نہ کوئی نوری نہ ناری نہ خاکی۔ یہ آیت اصل دعویٰ یعنی اعبدوا ربکم سے متعلق ہے اور اس پر عقلی دلیل ہے یعنی جب زمین و آسمان کی سلطنت اللہ ہی کے قبضہ میں ہے اور اس کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں تو حاجات مشکلات میں غائبانہ طور پر صرف اسے ہی پکارو اور اس کی عبادت اور دعا میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی حافظ وناصر اور نگہبان نہیں۔ اس لیے غیر اللہ کے لیے کوئی ایسا لفظ مت استعمال کرو جس سے اس قسم کے شرک کا وہم بھی ہو۔ مثلاًحضور ﷺ کو راعنا سے خطاب کرنا وغیرہ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پیغمبر خدا ﷺ پر بےجا سوالات کرنے سے منع فرمایا ہے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ مشرکین مکہ ایک درخت کو مقدس مانتے تھے۔ اس درخت پر کھانے پینے کی اشیا کے چڑھاوے چڑھاتے تھے۔ اور اس کی تعظیم بجالاتے اور پوجا کرتے تھے اور اسے ذات انواط کہتے تھے۔ بعض مسلمانوں نے بھیحضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی۔ یارسول اللہ آپ ہمارے لیے بھی ایک ایسا درخت مقرر فرمادیں تاکہ ہم بھی اس پر نذریں منتیں ڈالا کریں۔ مسلمانوں کا یہ سوال بعینہ ان اسرائیلیوں کی طرح تھا۔ جنہوں نے ایک بت پرست قوم کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سفارش کی تھی کہ آپ ہمارے لیے بھی ایک ایسا بت بنا دیں تاکہ ہم اس کی پوجا کریں۔ اس لا یعنی سوال پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں تنبیہ فرمائی (من الکبیر ص 665 ج 1 والنیشاپوری ص 358 ج 1) مگر اس روایت میں ایک بات کھٹکتی ہے اور وہ یہ کہ جن صحابہ کرام کا خود پیغمبر خدا ﷺ نے سالہا سال تزکیہ فرمایا ہو۔ اور جنہوں نے براہ راست شمع محمدی سے اپنے سینے نور توحید سے روشن کیے ہوں۔ ان سے یہ سوال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے یہ آیت چونکہ مدنی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ مدینہ ہی میں پیش آیا۔ مدینہ میں سینکڑوں یہود منافقانہ طور پر مسلمان تھے۔ کیونکہ ان کا اصل مقصد اسلام کا جامہ اوڑھ کر اسلام کی تخریب کرنا تھا۔ اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ان یہودیوں نے راعنا کا لفظ رائج کر کے مسلمانوں میں شرک داخل کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی اسی طرح ان منافقین یہود نے ہیحضور ﷺ سے یہ ذات انواط مقرر کرنے کا سوال کیا تھا۔ گویا کہ مسلمانوں میں شرک داخل کرنے کے لیے انہوں نے یہ ایک اور حربہ استعمال کیا۔ جو اس وقت کامیاب نہ ہوسکا۔