3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والا

2 ۔ پہلا حصہ۔ توحید ذکرِ مضمون توحید بار اول :۔ اس پر کلام سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۔ یہ دعویٰ توحید ہے۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ مبتدا محذوف کی خبر ہے (مدارک ج 1 ص 113) یہاں سے لے کر اَلْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ تک دعوی توحید کی پہلی دلیل ہے۔ جو تین ضمنی دلیلوں پر مشتمل ہے۔ (1 1) دلیل وحی۔ (2) دلیل نقلی اور (3) دلیل عقلی۔ پہیل دونوں دلیلوں کا ذکر اشارۃً ہے اور تیسری کا صراحۃً ۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اتاری تجھ پر کتاب سچی3 تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی اور اتارا تورات اور انجیل کو

3 ۔ یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی آپ کا یہ دعویٰ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ وحی ربانی کے تابع ہے۔ اللہ نے آپ پر جو کتاب نازل فرمائی ہے اس میں آپ کو یہ دعویٰ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اور اتارے فیصلے4 بیشک جو منکر ہوئے اللہ کی آیتوں سے ان کے واسطے سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والاف 5

ف 4 مصدقا الکتاب سے حال مؤکدہ ہے (روح ص 76، بحر ج 2 ص 377) مَابَیْنَ یَدَیْهِ سے کتب سابقہ مراد ہیں۔ قرآن مجید کے کتب سابقہ کی تصدیق کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کتب سابقہ میں توحید و رسالت، نفی شرک اور عدل و احسان کے جو احکام بیان کیے گئے ہیں قرآن ان سے اختلاف نہیں کرتا بلکہ ان کی تصدیق کرتا ہے۔ المراد منہ انہ لم یبعث نبیا قط الا بالدعاء الی توحیدہ والایمان وتنزیھہہ عما لا یلیق بہ والعدل والاحسان والشرائع التیھی صلاح اھل کل زمان فالقران مصدق لتلک الکتب فی کل ذالک (بحر ج 2 ص 377) اور اَلْفُرْقَان سے مراد قرآن ہے۔ کیونکہ اس سے حق و باطل اور حلال و حرام میں امتیاز ہوتا ہے (روح ج 3 ص 77، خازن ج 1 ص 267) اس آیت میں دلیل نقلی من الکتب السابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ دعوی صرف قرآن ہی میں نہیں۔۔ بلکہ تمام کتب سابقہ جو اپنے اپنے زمانہ میں لوگوں کیلئے ذریعہ ہدایت تھیں ان میں بھی یہ دعویٰ توحید موجود تھا۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 1 میں موجود ہے۔ وَاٰتَیْنَا مُوْسیٰ الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَاهُ ھُدیً لِّبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَلَّاتَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس دعوی توحید کے ساتھ اپنی آخری کتاب حوق و باطل کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آخری رسول ﷺ پر نازل فرمائی۔ 5 یہ دعوی توحید کو مدلل بیان فرمانے کے بعد نہ ماننے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 3:5–6

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

اللہ پر چھپی نہیں کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا زبردست ہے حکمت والا

6 یہ عقلی دلیل ہے معبود اور مستعان صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو ہر چیز کو جانتا ہو اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو اور وہ قادر مطلق ہو اور ہر کام اس کی قدرت کے تحت داخل ہو اس آیت میں پہلی شق بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس کے علم محیط سے باہر نہیں اس کے برعکس حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) میں یہ صفت موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ یہ عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے۔ جس میں دوسری شق کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیی ایسا قادر مطلق ہے کہ ماں کے پیٹ میں اپنے اختیار سے بچے کی صورت گری کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ محترمہ (علیہما السلام) تو ایسا ہرگز نہیں کرسکتے تھے۔ بلکہ ان کی صورتیں بھی اللہ ہی نے ان کی ماؤں کے رحموں میں بنائی تھیں۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ لَا اِلٰهَ اِلَّاھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم۔ یہ دلیل عقلی کا نتیجہ ہے۔ نتیجہ کا بیان صراحت سے فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ تقریب تام ہے اور دلیل دعوی کے عین مطابق ہے۔ نصاری کے شبہ کا جواب : پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ عیسایوں کے دلوں میں توحید و رسالت سے متعلق بعض شبہات تھے۔ جنہیں ایک ایک کر کے اس سورت میں دور کیا گیا ہے۔ ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں روح اللہ، کلمۃ اللہ، ابن اللہ جیسا کہ انجیل میں ہے اور اس قسم کے اور کوئی الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نسبت ہے۔ جس کی بنا پر وہ اللہ کے نائب ہیں اور اللہ نے ان کو غیب دانی اور حاجت روائی کے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت میں ان کے اسی شبہ کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی ان کے معنی واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں مشابہ یعنی جن کے معنیٰ معلوم یا معیّن نہیں7 سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلا نے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے8 اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے9 اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں10 اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے

7 اس میں شک نہیں کہ یہ کتاب تو خدا ہی نے نازل کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے الفاظ موجود ہیں مگر اس کی آیتیں اپنے مفہوم ومعنی کے اعتبار سے دو قسم کی ہیں ایک محکم دوم متشابہ، محکم تو وہ ہیں جن کا معنی متفق علیہ اور مفہوم معقول اور قابل فہم ہو اور متشابہ وہ ہیں جن کی تاویل مختلف فیہ ہو اور ان کا ظاہر فہم سے بالا ہو۔ مثلاً حروف مقطعات اور ید اللہ، روح اللہ اور کلمۃ اللہ وغیرہ۔ المحکماتھی المتفق علی تاویلھا والمعقول معناھا والمتشابھات فی المختلف فی تاویلھا (المعتصر من مختصر مشکل الآثار طحاوی ج 2 ص 164) ھُنَّ اُمُّ الْکِتَابِ ۔ یعنی کتاب کی اصل اور مرکزی حصہ اور احکام کا محور یہی محکمات ہیں احکام انہیں سے ثابت ہوں گے نہ کہ متشابہات سے بلکہ متشابہات کا مفہوم محکمات کی روشنی میں متعین کیا جائے گا۔ ای اصلہ والعمده فیہ یرد الیھا غیرھا (روح ج 2 ص 80) 8 ۔ زِیغٌ سے دل کی کجی، حق سے روگردانی اور ہوائے نفس کی طرف میلان مراد ہے۔ ای میل عن الحق الی الاھواء (ابو السعود ج 2 ص 601) فتنہ سے مراد شروفساد ہے۔ یعنی جن لوگوں کے دل حق سے متنفر اور باطل کی طرف مائل ہیں وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑجاتے ہیں جس سے ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کریں۔ وہ متشابہات کے اصل مفہوم کی کرید میں لگ جاتے ہیں۔ جب ان کا اصل مفہوم حاصل نہیں کر پاتے تو مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ 9 یہ جملہ یَتَّبِعُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے۔ یعنی یہ بدباطن لوگ متشابہات کا اصل مفہوم معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ناممکن ہے کیونکہ متشابہات کا صحیح علم تو صرف خدا کو ہے ان کو اور کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ ان کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے۔ وَمَایَعْلَمُ تَاوِیْلَهٗ اِلَّا اللہَ پر وقف لازم ہے۔ اور اس کے بعد جملہ مستانفہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ متشابہات کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں جیسا کہ ابن عباس، عائشہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، عمر بن عبدالعزیز عروة بن الزبیر، امام مالک، ابو عبید، کسائی، فراء اور اخفش وغیرہمہ سے منقول ہے۔ وعلی ھذا القول لا یعلم المتشابہ الا اللہ وھذا قول ابن عباس وعائشۃ والحسن ومالک بن انس والکسائی والفراء ومن المعتزلۃ قول ابی علی الجبائی وھو المختار عندنا (کبیر ج 2 ص 602) ھذا قول ابن عمر وابن عباس وعائشۃ وعروۃ بن الزبیر وعمر بن عبدالعزیز وغیر وھو مذھب الکسائی والاخفش والفراء وابی عبید وغیرھم وروی ذالک عن ابن مسعود وابی بن کعب (قرطبی ج 4 ص 16) یہی حنفیہ کا مسلک ہے اور یہی راجح ہے۔ وھو الذی ذھب الیہ الحنفیۃ و رجح الثانی (ای الوقف علی الا اللہ) بانہ مذھب الاکثرین من اصحاب رسول اللہ ﷺ والتابعین واتباعہم خصوصاً اھل السنۃ وھوَ اصح الروایات عن ابن عباس ؓ (روح ج 3 ص 84) 10 وہ تو زائغین کا حال تھا اب راسخین کا حال بھی سن لیجئے۔ راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں۔ جو علم دین میں پختہ کار اور فہم سلیم اور طبع مستقیم کے مالک ہیں وہ متشابہات کے پیچھے نہیں پڑتے۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ یہ متشابہات اللہ کی طرف سے ہیں اور ان سے اللہ کی مراد برحق ہے راسخ فی العلم زیادہ سے زیادہ یہ کرتے ہیں کہ متشابہات کو محکمات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اگر محکمات کی روشنی میں ان کا کوئی مفہوم ان کی سمجھ میں آجائے تو محکمات کی طرح اس پر بھی عمل کرلیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی مفہوم سمجھ میں نہ آئے تو پھر خاموش ہوجاتے ہیں اور صرف ایمان بالمتشابہات پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور ظن وتخمین سے ان کا کوئی مفہوم متعین کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ فاھل الحق یردون المتشابہ الی عاملہ ثم یلتمسون تاویلہ من المحکم الذی ھو ام الکتب فان وجدوہ فیہ عملوا بہ کما عملوا بالمحکم فان لم یجدوا لقصورھم لم یتجاوزوا فی ذالک الایمان بہ ولا استعملوا فیہ الظنون المحرم استعمالھا فی غیرہ فکیف بہ (المعتصر من مختصر مشکل الآثار للطحاوی ج 2 ص 165) اور لفظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ بھی چونکہ متشابہات میں سے ہیں اس لیے ان کا صحیح مفہوم خدا کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ ظن وتخمین سے عیسائیوں نے جو ان الفاظ کا مفہوم سمجھ رکھا ہے اور جس کی بناء پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود اور الہ ٹھہرا لیا ہے۔ یہ سب ان کی کجروی اور کور باطنی کا نتیجہ ہے۔ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا اُولُوْا الْاَلْبَابِ ۔ نصیحت صرف وہی لوگ حاصل کرتے ہیں۔ جن کی عقلیں سلیم اور جن کے ذہن صاف ہوں۔ اس سے راسخین فی العلم کی مدح وثنا کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے رب نہ پھیر ہمارے دلوں کو جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور عنایت کر ہم کو اپنے پاس سے رحمت تو ہی ہے سب کچھ دینے والاف 11

11 یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم متشابہات پر ایمان لائے اور ان کے صحیح علم کو تیرے حوالے کیا اور ظن وتخمین سے ان پر رائے زنی سے اجتناب کیا اے اللہ ہمیں ہدایت کی اسی راہ پر قائم رکھنا اور ہمارے دلوں کو باطل کی طرف مائل نہ کرنا اور اپنی رحمت سے دستگیری فرمانا۔
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے رب تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کچھ شبہ نہیں بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ12

12 یہ بھی راسخین کی دعا ہی کا حصہ ہے۔ اس میں اعتراف ہے کہ قیامت ضرورآئے گی اور اللہ تعالیٰ تمام بنی آدم کو حشر میں جمع کرے گا۔ اور سب سے حساب لے گا۔ اللہ کے نیک بندے ہر وقت فکر آخرت میں لگے رہتے ہیں اور خدا کے سامنے حساب و کتاب کے نظارے سے ہر وقت ترساں اور لرزاں رہتے ہیں۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں ہرگز کام نہ آویں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے سامنے کچھ13 اور وہی ہیں ایندھن دوزخ کے14

13 عیسائیوں کو ان کے شبہ کا معقول جواب دینے کے بعد دنیوی اور اخروی تخویف سنائی کہ ان معقول اور واضح دلائل کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر قائم رہو گے اور اللہ کی توحید کی واضح آیات کا انکار کرتے رہو گے تو قوم فرعون کے سے بد انجام کے لیے تیار ہوجاؤ جنہیں دنیا میں عذاب غرق سے ہلاک کیا گیا اور آخرت میں بھی سخت عذاب دیا جائے گا۔ اور جب اللہ کا عذاب آپہنچے گا۔ اس وقت مال و دولت اور اولاد وانصار کام نہیں آئینگے۔ 14 جو لوگ توحید کے دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کے باوجود آیات الٰہی کا انکار کریں، توحید کو چھوڑ شرک اختیار کریں، غیر اللہ کی عبادت کریں اور حاجت ومشکلات میں غیر اللہ کو پکاریں۔ ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہونگے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
Ayah 3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

جیسے دستور فرعون والوں کا اور جو ان سے پہلے تھے15 جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو پھر پکڑا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر اور اللہ کا عذاب سخت ہے16

15 کَدَابِ اٰلِ فِرْعَوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای دابھم کداب ال فرعون اور دابٌ کے معنی حال ہیں یعنی تکذیب و انکار میں ان کافروں کا حلا اور رویہ بالکل وہی ہے جو فرعونیوں اور ان سے پہلے کافروں کا تھا۔ اسی طرح عذاب میں بھی ان کا وہی حال ہوگا جو ان کا ہوا۔ داب ھؤلاء الکفرۃ فی تکذیب الحق کداب من قبلھم من اٰل فرعون وغیرھم (مدارک ج 1 ص 511) ای حال ھؤلاء فی الکفر و استحقاق العذاب کحال ال فرعون (روح ج 3 ص 93) 16 یہ ان کے داب اور حال کی تفسیر ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انہیں ان کے جرائم کی وجہ سے مبتلائے عذاب کردیا اور ایسے لوگوں کے لیے خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔ آیات سے مراد یہاں کتب الٰہی کی آیتیں ہیں یا مراد اللہ کی توحید اور انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت کے دلائل ہیں۔ والمراد بالآیات اما المتلو فی کتب اللہ تعالیٰ او العلامات الدالۃ علی توحید اللہ تعالیٰ وصدق الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام (روح ج 3 ص 94، بحر ج 2 س 390) یحتمل ان یرید الآیات المتلوۃ ویحتمل ان یرید الآیات المنصوبۃ للدلالۃ علی الوحدانیۃ (قرطبی ج 4 ص 36)
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کہہ دے کافروں کو کہ اب تم مغلوب ہو گے اور ہانکے جاؤ گے دوزخ کی طرف اور کیا برا ٹھکانا ہے17

17 یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں کفار کی مغضوبیت اور ان کا مستحق عذاب ہونا بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

ابھی گزر چکا ہے تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں میں جن میں مقابلہ ہوا ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اللہ کی راہ میں اور دوسری فوج کافروں کی ہے دیکھتے ہیں یہ ان کو اپنے سے دو چند صریح آنکھوں سے18 اور اللہ زور دیتا ہے19 اپنی مدد کا جس کو چاہے اسی میں عبرت ہے دیکھنے والوں کو

18 یہ ماقبل کا تتمہ ہے اور قل کے تحت داخل ہے اور اس میں جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد کافروں کے مقابلہ میں بہت کم تھی مگر مسلمانوں کے رعب اور ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے۔ مسلمانوں کا کافروں کو دوگنا نظر آنا یہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں پر مسلمانوں کی ہیبت بٹھانے کے لیے اس کا اظہار فرمایا۔ اس آیت سے جنگ بدر میں شریک ہونیوالے صحابہ کرام ؓ کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا۔ فِئَهٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۔ یعنی وہ ایک ایسی جماعت تھی۔ جو محض اللہ کے دین کی خاطر لڑ رہی تھی۔ اللہ کی طرف سے یہ ان کے اخلاص اور ایمان کامل کی زبردست شہادت ہے۔ 19 اللہ تعالیٰ جس کی چاہے ظاہری اسباب کے بغیر بھی مدد کرسکتا ہے۔ جس طرح بدر میں مسلمانوں کی مدد کی اور انہیں کفار پر غلبہ عطا کیا حالانکہ تعداد اور ظاہری اسباب میں وہ مسلمانوں سے زیادہ تھے۔ اس واقعہ میں عقل وبصیرت رکھنے والوں کے لیے کافی عبرت ہے اس لیے اے یہودیو ! تم اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو اور اب بھی موقع ہے تکذیب و انکار سے باز آجاؤ اور اسلام قبول کرلو۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور مویشی اور کھیتی20 یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ کے پاس ہے اچھا ٹھکانا

ٖ 20 یہ عیسائیوں کے علماء اور گدی نشینوں کے مسئلہ توحید کو نہ ماننے کی وجہ ہے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے مسئلہ توحید کو مان لیا تو یہ ساری شان و شوکت جاتی رہتی ہے اور سونے چاندی کے لبریز خزانوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آجکل کے بہت سے مولوی اور گدی نشین بھی حق بیان نہیں کرتے کیونکہ اس طرح دنیوی ٹھاٹھ اور اندھی آمدنی ہاتھ سے جاتی ہے۔ نیز اس میں ایک شبہ کا جواب بھی ہے۔ شبہ یہ ہے کہ اگر مشرکین مبغوض اور مستحق عذاب ہیں تو ان کے پاس اس قدر دولت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب دیا کہ یہ دنیا کی دولت چند روزہ اور بالکل حقیر چیز ہے۔ اس کی وجہ سے تمہیں دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ جیسے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لَایَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ الْبَلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ (آل عمران رکوع 20) نیز ارشاد ہے۔ وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَوْلَادِ (حدید رکوع 3) والترغیب فی حسن المرجع الی اللہ تعالیٰ فی الاخرۃ (قرطبی ج 4 ص 37)
Ayah 3:15

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

کہہ دے کیا بتاؤں میں تم کو اس سے بہتر21 پرہیزگاروں کے لئے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور عورتیں ہیں ستھری اور رضامندی اللہ کی22 اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے

21 یہ ماقبل ہی کی تقریر وتاکید ہے۔ دنیوی سامان اور فانی منافع بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ آخرت کی نعمتیں اور جنت کے منافع۔ کمیت وکیفیت کے اعتبار سے نیز دوام بقاء کے اعتبار سے دنیوی سازوسامان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ انہ تعالیٰ لما عدد نعم الدنیا بین ان منافع الاخرۃ خیر منھا (کبیر ج 2 ص 620) ذَالِکُمْ کا اشارہ مذکورہ سازوسامان کی طرف ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے تبشیر بنعم الجنۃ وترغیب فی الآخرۃ بعد التزیید فی الدین یعنی دنیوی ساز و سامان سے نفرت دلانے کے بعد یہاں اخروی نعمتوں کی بشارت اور ترغیب دی ہے (کذا فی المدارک ج 1 ص 116) 22 لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا خبر مقدوم ہے اور جَنَّاتٍ تَجْرِیْ الخ مع معطوفات مبتدا مؤخر ہے اور یہ ماقبل کی تفصیل ہے۔ کلام مستانف فیہ دلالۃ علی بیان ماھو خیر من ذالکم فجنات مبتدا واللذین التقوا خبر (مدارک ج 1 ص 116) یعنی دنیوی منافع سے جو چیزیں بہتر ہیں وہ یہ ہیں کہ اللہ سے ڈرنے والوں کو آخرت میں نہروں اور چشموں والے دائمی اور غیر فانی باغات اور پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی اس سے معلوم ہوگیا کہ خیر سے مراد جنات ہیں۔ وَاللہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھتا ہے۔ کسی بندے کا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ہر شخص کو اس کے ہر عمل کی جزا ملے گی۔
Ayah 3:16

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ہیں سو بخش دے ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے23

23 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ محل خبر میں ہے اور اَلْعِبَاد، لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا کی نعت یا اس سے بدل ہے۔ وان یکون فی حیز الخبر علی انہ تابع للذین اتقوا نعتا او بدلا (روح ج 3 ص 102) یعنی جن لوگوں کے لیے مذکورہ اخروی نعمتیں ہیں وہ اپنے ایمان اور اعمال پر نازاں و شاداں نہیں رہتے بلکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے اور اس کی رحمت کی پناہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت میں نفس ایمان پر طلب مغفرت کو متفرع کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس ایمان ہی سے بندہ اللہ کی رحمت ومغفرت اور جہنم سے رستگاری کا مستحق ہوجاتا ہے اور باقی طاعات اس کیلئے موقوف علیہ نہیں ہیں۔ دل ھذا علی ان العبد بمجرد الایمان یستوجب الرحمۃ والمغفرۃ من اللہ تعالیٰ (کبیر ج 2 ص 622، کذا فی الروح ج 3 ص 102، البحر ج 2 ص 399)
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے اور حکم بجا لا نے والے اور خرچ کرنے والے اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات میں24

24 اَلصّٰبِرِیْنَ محل خبر میں ہے اور مع معطوفات اَلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ہی کا تابع ہے۔ اَلصّٰبِرِیْنَ مسئلہ توحید بیان کرنے میں ہر تکلیف اور مصیبت میں صبر واستقلالی سے کام لینے والے۔ اَلصّٰدِقِیْنَ ظاہر و باطن میں سچے باتوں میں بھی اوروں کے ارادوں میں بھی۔ اَلْقٰنِتِیْنَ اللہ کی اطاعت اور عبادت پر ہمیشہ قائم رہنے والے۔ اَلْمُنٰفِقِیْنَ اللہ کی دی ہوئی دولت سے توحید اور دین اسلام کی اشاعت میں خرچ کرنے والے۔ اَلْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ بوقت سحر نماز پڑھنے والے اور مسئلہ توحید کے بیان میں کوتاہی اور دوسرے گناہوں کیلئے اللہ سے بخشش مانگنے والے۔ الکل من الروح۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ نے گواہی دی کہ کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی وہی حاکم انصاف کا ہے25 کسی کی بندگی نہیں سوا اس کے زبردست حکمت والاف 26

25:۔ ذکر مضمون توحید بار دوم۔ یہ دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ کی شہادت کتب سابقہ میں اور فرشتوں کی شہات انبیاء (علیہم السلام) کے پاس اور علماء ربانیین بھی لکھ گئے ہیں۔ اور قَائِماً بِالْقِسْطِ تینوں سے حال ہے۔ اس میں توحید پر دلیل نقلی کی تین قسموں سے استدلال کیا گیا ہے۔ (1) دلیل نقلی کتب سابقہ سے (2) دلیل نقلی فرشتوں سے اور (3) دلیل نقلی انبیاء (علیہم السلام) اور علماء ربا نیین سے شَھِدَ اللہُ سے مراد ہے اللہ کی شہادت کتب سابقہ میں اس سے قسم اوّل کی طرف اشارہ ہے اور شہادت ملائکہ سے قسم دوم اور شہادت اولی العلم سے قسم سوم مراد ہے۔ 26 یہ دلائل ثلثہ کا نتیجہ اور ثمرہ ہے اور یہ دونوں صفتیں ذکر کرکے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ قوت کے اعتبار سے وہ سب پر غالب اور تدبیر و حکمت کے لحاظ سے ہر چیز پر حاوی ہے اس لیے اسے کسی شریک اور معاون کی ضرورت بھی نہیں۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بیشک دین جو ہے اللہ کے ہاں سو یہی مسلمانی حکم برداری27 اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے28 اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے

27:۔ یہ ماقبل ہی کی تاکید وتائید ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے یہاں پسندیدہ دین صرف اسلام ہی ہے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا دین بھی اسلام ہی تھا اور کتب سابقہ میں بھی یہی دین پیش کیا گیا۔ ہر قسم کی عبادت اور اطاعت کو خالصاً اللہ کے لیے کرنے اور صرف اللہ ہی کو عبادت وطاعت کا مستحق سمجھنے کا نام اسلام ہے۔ قال ابن الانباری المسلم معانہ المخلص للہ عبادتہ فالاسلام معناہ اخلاص الدین والعقیدۃ للہ تعالیٰ (کبیر ج 2 ص 628) سورة انعام رکوع 20 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ قلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ لَاشَرِیْکَ لَهٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْن۔ 28 اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْالْکِتَابَ سے یہود ونصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتب سابقہ میں دین اسلام اور مسئلہ توحید کو کھول کر بیان کردیا تھا چناچہ علماء اہل کتاب بھی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں۔ باقی توحید کے بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے یا تورات وانجیل میں توحید کے خلاف جو مواد ملتا ہے۔ یہ علماء یہود ونصاریٰ کی ضد اور بغض وحسد کا نتیجہ ہے اور تورات وانجیل میں تحریف بھی انہی کے ہاتھوں کی کارروائی ہے۔ یہاں تک دلیل عقل ونقل اور دلیل وحی سے ثابت کیا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ اور یہ بات کتب سابقہ میں اللہ کی شہادت سے اور فرشتوں، انبیاء سابقین اور علماء ربانیین کی شہادت سے بھی ثابت ہوچکی ہے اس کے بعد اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامِ سے مضمون بالا کی تاکید اور تائید فرمائی کہ اللہ کی خالص عبادت اور اس کی خالص پکار والا دین ہی اللہ کے یہاں پسندیدہ ہے اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس مسئلہ توحید میں اختلاف کیا۔ مسئلہ توحید میں اختلاف کرنیوالوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ اول یہ کہ اس اجماعی اور اتفاقی مسئلہ میں اختلاف کرنے والے صرف اہل کتاب کے علماء ہی ہیں۔ سب سے پہلے اختلاف ان علماء ہی نے کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے پیروکار ان کے پیچھے لگ گئے۔ چناچہ سورة بقرہ رکوع 26 میں اختلاف کو اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَاب (یعنی اہل کتاب کے علماء) میں منحصر فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے . وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمُ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ وَمَا ختَلَفَ فِیهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ الآیۃ۔ دوم یہ کہ مسئلہ توحید میں انکا اختلاف جہالت ونادانی یا کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ مسئلہ توحید کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہیں اس کا پورا پورا علم ہے اس لیے انہوں نے یہ اختلاف جاننے اور سمجھنے کے بعد کیا ہے جیسا کہ آیت زیر تفسیر میں ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اختلاف کو اس وقت سے مخصوص کیا ہے۔ جب کہ اللہ کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کے ذڑیعے توحید کا صحیح علم ان کے پاس آچکا تھا۔ سوم یہ کہ مسئلہ تحید میں ان کا اختلاف دیانت اور تحقیق پر مبنی نہ تھا بلکہ محض بغض وحسد اور ضد وعناد کی وجہ سے تھا۔ چناچہ سورة شوری (رکوع 2) میں ہے۔ وَمَا تَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَھُمْ ۔ یہاں بَغْیاً ۔ تَفَرَّقُوْا کا مفعول لہ ہے اور تفرق واختلاف کی علت بیان کر رہا ہے اور آیت زیر تفسیر میں بھی بَغْیاً ، اِخْتَلَفَ کی علت بیان کر رہا ہے۔ مطلب یہ کہ اہل کتاب کا تفرق واختلاف محض بغض وحسد کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی اور وجہ سے۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللہِ ۔ توحید کو مذکورہ بالا دلائل عقلیہ ونقلیہ سے واضح کردینے کے بعد اب کسی کا انکار مسموع نہیں ہوگا اور ان دلائل قطعیہ کے مقابلہ میں گمراہ مولویوں اور پیروں کے اقوال اور محرفین کی تحریفات حجت نہیں ہوں گی اور جو لوگ ان کی تقلید کرینگے وہ معذور نہیں ہوں گے جیسا کہ سورة شوری (رکوع 2) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اَلَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِیْ اللہِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ ۔ اس لیے اب اللہ کی توحید اور اس کی آیات کا انکار کرنیوالوں کو حساب و کتاب کے انجام سے خبردار رہنا چاہیے۔ یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے میں نے تابع کیا اپنا منہ اللہ کے حکم پر اور انہوں نے بھی کہ جو میرے ساتھ ہیں29 اور کہہ دے کتاب والوں کو اور اَن پڑھوں کو کہ تم بھی تابع ہوتے ہو پھر اگر وہ تابع ہوئے تو انہوں نے پائی راہ سیدھی30 اور اگر منہ پھیریں تو تیرے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے

ٖ 29 اگر عوم اہل کتاب اپنے گمراہ اور ضدی مولویوں اور پیروں کے شرکیہ اقوال اور عبارتیں پیش کریں تو آپ اس کا صاف صاف جواب دیدیں کہ توحید کے عقلی اور نقلی قطعی دلائل کے مقابلے میں یہ شرکیہ عبارتیں ناقابل تسلیم ہیں اس لیے میں اور میرے تمام متبعین صرف اللہ ہی کو اپنا حاکم اور معبود سمجھتے ہیں صرف اسی کی عبادت کرتے اور صرف اسے ہی پکارتے ہیں۔ ٖ 30 اَسْلَمْتُمْ صورۃً استفہام ہے لیکن معنیً امر ہے۔ ھو استفہام فی معرض التقریر والمقصود منہ الامر (کبیر ج 2 ص 631) اور اُمِّیِّیْنَ سے مراد مشرکین عرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اہل کتاب اور مشرکین عرب سے فرمائیں کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور دعا و پکار میں کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں اور ضدی لوگوں کی شرکیہ عبارتیں چھوڑ کر مسئلہ توحید کو مان لیں تو وہ بھی آپ اور آپ ﷺ کے متبعین کی طرح ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ کیونکہ اسلام ہی حق اور اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ۔ اور اگر وہ اعراض کریں اور اسلام قبول نہ کریں اور ضدی لوگوں کی عبارتیں چھوڑ کر مسئلہ توحید نہ مانیں تو اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ حکم پہنچانا تھا وہ آپ نے کما حقہ پہنچا دیا۔ ای لایضرک شیئا اذما علیک الا البلاغ وقد اوتیہ علی اکمل وجہ وابلغہ (روح ج 3 ص 109) اور اللہ اپنے بندوں کے حالات بخوبی جانتا ہے اس لیے وہ انہیں ان کے اعمال پر پوری پوری جزا دیگا۔
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کے حکموں کا اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو بغیر حق اور قتل کرتے ہیں ان کو جو حکم کرتے ہیں انصاف کرنے کا لوگوں میں سے سو خوشخبری سنا دے ان کو عذاب دردناک کی31

31 :۔ یہ منکرین اور توحید کے مبلغین کے قاتلوں کیلئے زجر اور اخروی تخویف ہے۔ اَلَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضد اور عناد کیوجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور مسئلہ توحید کو نہیں مانتے۔
Ayah 3:22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی ہیں جن کی محنت ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار32

32:۔ اُولئِکَ کا اشارہ مذکورہ صفات شنیعہ (کفر بآیات اللہ، قتل انبیاء (علیہم السلام) وقتل آمرین بالقسط) کے حاملین کی طرف ہے۔ اور دنیا میں اعمال کے بےنتیجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں وہ ان تمام حقوق سے محروم رہیں جن کا ایک مسلمان مستحق ہوتا ہے۔ مثلاً مال وجان کی حفاظت اور استحقاق مدح وغیرہ اور آخرت میں اعمال کے ضائع ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اعمال بےاثر ثابت ہونگے۔ اور دفع عذاب اور جلب ثواب کا سبب نہیں بن سکیں گے۔ ای اولئک المتصفون بتلک الصفات الشنیعۃ الذین بطلت اعمالھم وسقطت عن حیز الاعتبار وخدلت عن الثمره فی الدنیا حیث لم تحقن دمائھم واموالھم ولم یستحقوا بھا مدحا وثناء وفی الآخرۃ حیث لم تدفع عنہم العذاب ولم ینالوا الیھا الثواب (روح ج 3 ص 109)
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب انہیں حکم کرے پھر منہ پھیرتے ہیں بعضے ان میں سے تغافل کر کے33

33 اس آیت میں اہل کتاب کے غایت تمرد اور ان کی اتنہائی سرکشی کا شکوہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی کتاب سے اعراض کر کے گمراہ اور ضدی مولویوں کی عبارتوں سے تمسک کرتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ سے اہل کتاب کے عالم مراد ہیں اور کتاب اللہ سے مراد تورات وانجیل ہے۔ وکانوا یرعون الی حکم التوراۃ والانجیل وکانوا یوبون (کبیر ج 2 ص 634) حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود کو دین اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ تمہارا دین کونسا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں دین ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوں جو شرک و باطل سے بیزار اور توحید کے داعی اور پرستار تھے اس پر وہ کہنے لگے کہ وہ تو یہودی تھے تو آپ نے فرمایا کہ تورات لاؤ اور اسی سے اس کا فیصلہ کرلو مگر وہ اس پر تیار نہ ہوئے اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی ج 2 ص 50)
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ کہتے ہیں وہ ہم کو ہرگز نہ لگے گی آگ دوزخ کی مگر چند دن گنتی کے34 اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی باتوں پر

34 ذالک کا اشارہ تولی اور اعراض کی طرف ہے جو یتولی کے ضمن میں مذکور ہے۔ یعنی کتاب اللہ کے فیصلے سے اعراض اور روگردانی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف چند دنوں کے لیے عذاب دیا جائے گا۔ اس لیے خدا کی نافرمانی اور کتاب اللہ سے روگردانی کا جرم ان کی نگاہوں میں بالکل معمولی چیز ہے۔ وَغَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِھِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ نیز ان یہودیوں کے ضدی اور معاند مولویوں اور پیروں نے جو من گھڑت باتیں اور اپنی شرکیہ عبارتیں دین کا جزو بنا رکھی تھیں۔ ان کی وجہ سے وہ دھوکے اور فریب میں مبتلا تھے کہ چونکہ ہم اللہ کے لاڈلے اور چہیتے ہیں اس لیے ہمیں ہمارے گناہوں پر معمولی سی گرفت ہوگی۔ ای غرھم افتراء ھم علی اللہ وھو قولھم نحن ابناء اللہ واحباءہ فلا یعذبنا بذنوبناالا مدة یسرة (مدارک ج 1 ص 118)
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پھر کیا ہوگا حال جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن کہ اس کے آنے میں کچھ شبہ نہیں اور پورا پاویگا ہر کوئی اپنا کیا اور ان کی حق تلفی نہ ہوگی35

35 یہ ان فریب خوردہ یہودیوں کے لیے اخروی تخویف ہے۔ لِیَوْمٍ میں لام بمعنی فی ہے۔ (قرطبی ج 4 ص 51، روح ج 3 ص 112) یعنی دنیا میں تو وہ کتاب اللہ کی طرف آنے سے انکار کر رہے ہیں اور جھوٹی آرزؤوں سے دل بہلا رہے ہیں مگر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ان سب کو ایک ایسے دن میں جمع کریں گے۔ جس کی آمد میں کوئی شک نہیں اور ان کی آرزؤوں کے علی الرغم ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائیگی اور اپنے ذاتی اعمال صالحہ کے بغیر بزرگوں سے انتساب کسی کام نہیں آئے گا۔ اور وہاں کسی پر ظلم بھی نہیں ہوگا۔ نہ کسی کے اعمال صالحہ کی جزا میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی کے گناہوں کی واجبی سزا میں اضافہ کیا جائیگا اور اور نہ کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا دی جائے گی۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور سلطنت چھین لیوے جس سے چاہے اور عزت دیوے جس کو چاہے اور ذلیل کرے جس کو چاہے تیرے ہاتھ ہے سب خوبی36 بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

36:۔ ذکر توحید بار سوم۔ قُلِ اللّٰھُمَّ ۔ جب دلائل عقلیہ ونقلیہ سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں تو اب اسکا ثمرہ بیان فرمایا کہ غائبانہ حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارو اور پکارتے وقت یوں کہا کرو اے اللہ ان صفات کے مالک میری فلاں حاجت پوری کر۔ اَللّٰھُمَّ ۔ خلیل اور سیبویہ اور بصرہ کے نحویوں کی رائے میں اصل میں یَا اَللہُ تھا۔ حرف ندا کو حذف کر کے اس کے عوض میں میم مشددہ مفتوحہ کا آخر میں اضافہ کردیا گیا۔ مٰلِکَ الْمُلْکِ ۔ امام مبرد اور زجاج کے نزدیک یہ اللّٰھُمَّ کی صفت ہے اور اسی لیے منسوب ہے کیونکہ منادی مفرد مبنی علی الضم کی صفت جب مضاف ہو تو وہ منصوب ہوتی ہے۔ وانتصاب مالک علی الوصفیۃ عند المبرد والزجاج (روح ج 3 ص 113، کبیر ج 2 ص 638) اور مُلْک بضم میم سے کامل قدرت واختیار اور مکمل غلبہ واقتدار مراد ہے تو مَالِکُ الْمُلْکِ کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی متصرف اور ہر قسم کے اختیار واقتدار کا واحد مالک ہے۔ تمام تصرفات اور اختیارات اسی کے قبضہ میں ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ فمالک الملک ھو الملک المحقیقی المتصرف بما شاء کیف شاء ایجادا او اعداما وامتۃً وتعذیبا واثابۃ من غیر مشارک ولا مانع (روح ج 3 ص 113) جب یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک علی الاطلاق ہے تو اس کے بعد کچھ تصرفات کا ذکر کیا۔ جو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ ۔ یہ جملہ مع معطوفات منادی سے حال ہے۔ کیونکہ منادی معنیً مفعول ہوتا ہے۔ یا یہ جملہ مع معطوفات منادی کی صفت ہے اور جملہ (جو اگرچہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے) جب کسی مفرد معرفہ کے ساتھ مخصوص ہو تو وہ معرفہ کے حکم میں ہوتا ہے اور معرفہ کی صفت واقع ہوسکتا ہے۔ کما فی الرضی قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ اور یہاں ملک سے مراد حکومت وسلطنت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو جسے چاہتا ہے دنیا کی حکومت دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ جیسا کہ آئے دن حکومتوں میں ردوبدل اور انقلاب رونما ہوتا رہتا ہے۔ اَلْخَیْرُ مبتدا مؤخر ہے اور اس میں الف لام استغراق کے لیے ہے۔ بِیَدِکَ خبر مقدم ہے تاکہ حصر اور تخصیص کا فائدہ دے۔ اور یَد سے یہاں قدرت اور قبضہ مراد ہے۔ یعنی ہرق سم کی خیر اور بھلائی صرف تیری ہی قدرت اور صرف تیرے ہی قبضہ واختیار میں ہے اور متصرف علی الاطلاق تو ہی ہے۔ تیرے سوا کوئی مالک ومختار، قادر و کارساز، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔ تعریف الخیر للتعمیم وتقدیم الخبر للتخصیص ای بقدرتک الخیر کلہ لا بقدرة احد من غیرک تتصرف فیہ قبضا وبسطا جسما تقتضیہ مشیتک (ابو السعود ج 2 ص 641) ۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرے دن کو رات میں37 اور تو نکالے زندہ مردہ سے اور نکالے مردہ زندہ سے اور تو رزق دے جس کو چاہے بیشمار

37 :۔ یہ بھی مع معطوفات منادی سے حال یا اس کی صفت ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے سے دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا مراد ہے۔ مثلاً اگر رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہوجائے جیسا کہ موسم گرما میں ہوتا ہے تو دن بڑا ہوجاتا ہے اور اگر دن کا کچھ حصہ رات میں شامل ہوجائے تو رات بڑی ہوجاتی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور حسن وغیرھم سے منقول ہے ای تدخل ما نقص من احدھما فی الآخر (قرطبی ج 4 ص 54) اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے لیل ونہار کا اختلاف اور رات دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا مراد ہے۔ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ زندہ سے مراد مومن اور مردہ سے مراد کافر ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ مومن سے کافر اور کافر سے مومن پیدا کرتا ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) سے کنعان اور آزر سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ یخرج المومن من الکافر کا براھیم من اٰزر والکافر من المومن مثل کنعان من نوح (علیہ السلام) (کبیر ج 2 ص 643، قرطبی ج 4 ص 56) ور بعض مفسرین کا قول ہے کہ مردہ سے مراد نطفہ اور انڈا ہے۔ جو جاندار سے نکلتے ہیں اور زندہ سے مراد جاندار ہیں جو نطفہ اور انڈے سے پیدا ہوتے ہیں (کبیر، قرطبی وغیرہ ) ۔ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغِیْرِ حِسَابٍ ۔ یہاں تک صفتیں تمام ہوئیں اور مقصود بالنداء محذوف ہے ای اقض حاجتی یعنی ای مالک الملک الخ میری ہر حاجت پوری کر۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

نہ بناویں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر38 اور جو کوئی یہ کام کرے تو نہیں اس کو اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ کرنا چاہو تم ان سے بچاؤ39 اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنے سے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے40

38:۔ اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے قطع تعلقی کا حکم دیا جارہا ہے۔ پہلے بیان فرمایا کہ مالک الملک، معزو مذل اور قادر مطلق صرف اللہ ہی ہے اس لیے اسی پر بھروسہ رکھو اور ان کافروں کی پرواہ نہ کرو۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ جو محض ضدوعناد کی وجہ سے توحید کو نہیں مانتے اور اسلام قبول نہیں کرتے۔ چناچہ وفد نجران باوجود بےدلیل ہونے کے شرک پر اڑا رہا اور یہودیوں کو کتاب اللہ (تورات) کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا۔ مگر وہ محض ضد کی وجہ سے تورات کا فیصلہ ماننے سے بھی انکاری ہوگئے اس لیے مسلمانوں حکم دیا کہ ان سے ہر قسم کے دوستانہ تعلقات منقطع کرلیں۔ 39:۔ یہ مومنوں کے لیے زجر ہے۔ یعنی جو مسلمان ان کافروں سے دوستی رکھے گے خدا کی دوستی کا رشتہ اس سے منقطع ہوجائے گا اور خدا کی جماعت میں اس کا شمار نہیں ہوگا ای فلیس من حزب اللہ ولا من اولیائہ فی شیئ (قرطبی ج 4 ص 57) کافروں سے معاملات اور دلی دوستی تو کسی صورت میں جائز نہیں البتہ اگر ان سے جان کا خطرہ ہو یا اس کے علاوہ کسی بھاری نقصان کا اندیشہ ہو تو ظاہری طور پر میل ملاقات اور خاطر مدارت میں کوئی حرج نہیں۔ 40:. اس لیے ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز رہو۔
Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم چھپاؤ گے اپنے جی کی بات یا اسے ظاہر کرو گے جانتا ہے اس کو اللہ41 اور اس کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

41:۔ یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اللہ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اگر تم خفیہ طور پر ان کافروں سے تعلقات رکھو گے تو یہ بھی اس کے علم میں ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ہی تمہیں اس کی سزا دے دے۔ وَیَعْلَمُ مَافِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے تمام معلومات اور حقائق پر حاوی اور ہر چیز پر قادر بھی ہے اس لیے وہ کافروں سے تمہاری پوشیدہ دوستی کو جانتا اور اس پر سزا بھی دے سکتا ہے۔
Ayahs 3:30–31

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن موجود پاویگا ہر شخص جو کچھ کہ کی ہے اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کہ کی ہے اس نے برائی42 آرزو کریگا کہ مجھ میں اور اس میں فرق پڑجاوے دور کا اور اللہ ڈراتا ہے تم کو اپنے سے اور اللہ بہت مہربان ہے بندوں پر43

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

42:۔ یوم کا عامل تَرَدُّ جو بعد میں آرہا ہے اور یہ تخویف اخروی ہے۔ تَوَدُّ لَوْ اَن بَیْنَھَا وَبَیْنَهٗ اَمَداً بَعِیْداً ۔ قیامت کے دن جب ہر آدمی کے نیک اور برے اعمال اس کے سامنے کردئیے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ہوگا تو ہر آدمی تمنا کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے بد اعمال کے درمیان بہت فاصلہ ہوتا اور وہ ان کو نہ دیکھ پاتا۔ فیکون الضمیر فی بینہ عائد اعلی ما عملت من سوء (بحر ج 2 ص 427) ۔ 43 اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عین رحمت اور مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے تاکہ وہ اس کی نافرمانیوں سے باز رہیں اور اس کی اطاعت کریں اور اسی میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی ہے۔
Ayahs 3:32–33

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور رسول کا پھر اگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت نہیں ہے کافروں سے44

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو سارے جہان سے

44:۔ یہ فَاِنَّ اللہَ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ تک تخویف علی سبیل الترقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کو حکم دیا ہے آپ مسلمانوں سے کہہ دیں کہ کافروں سے دوستی مت کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو اپنی محبت کا مرکز بناؤ اور اللہ کی محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرو اگر پیغمبر کی اطاعت سے روگردانی کروگے تو اسلام سے خارج ہو کر کافروں میں شامل ہوجاؤ گے اور کافروں کا انجام سب سے بد تر ہوگا۔ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ۔ یہ امر کا جواب ہے۔ یعنی جب تم میری اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوجائے گا اور تم سے محبت کرے گا۔ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ، یہ یُحْبِبْکُمْ پر معطوف ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ ۔ لیکن اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے اعراض کریں تو اللہ تالیٰ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا اور انہیں اپنے انعام واکرام سے نہیں نوازتا۔
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

جو اولاد تھے ایک دوسرے کی45 اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

45 ذکر توحید بار چہارم۔ ذُرِّیَّةً ، اٰلین سے بدل یا حالواقع ہے۔ نصب علی البدلیۃ من الآلین او الحالیۃ منہما (روح ج 3 ص 132) یہود ونصاریٰ اس شبہ میں گرفتار تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو باقی مخلوق سے منتخب کر کے سب سے اونچا مقام اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اور انہیں خاص خاص اختیارات بھی عطا کیے ہیں۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کارساز اور معبود سمجھ کر پکارنا اور پوجنا شروع کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) باوجود علو مرتبت اور رفعت شان کے انسان اور بشر تھے اور باہم ایک دوسرے کی اولاد اور نسل تھے اور اپنی پیدائش اور بقا میں محتاج تھے۔ اس لیے وہ معبود اور کارساز نہیں ہوسکتے۔ ان نصاریٰ نجران لما غلوا فی عیسیٰ (علیہ السلام) وجعلوہ ابن اللہ سبحانہ واتخذوہ الہا نزلت ردا علیھم واعلاما لھم بانہ من ذریۃ البشر المنقلبین فی الاطوار المستحیلۃ علی الالہ (روح ج 3 ص 130، بحر ج 2 ص 234) ۔ وَاللہُ سَمِیعٌ عَلِیْمٌ۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ جن بزرگوں سے متعلق معبود ہونے کا شبہ تھا اسے دو طرح سے رفع کیا گیا۔ اول اس طرح کہ یہ حجرات باہم والد ومولود ہیں۔ دوم۔ یہ حضرات ہر چیز کو جاننے اور سننے والے نہیں ہیں۔ سمیع بکل شیء اور علیم بکل شیء صرف اللہ کی صفت ہے۔ اس لیے وہی معبود برحق ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والاف 46

46:۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ حضرت مریم صدیقہ کو بھی معبود مانتے تھے۔ انہیں شبہ اس لیے ہوا کہ بچپن میں بےموسم کے پھل ان کے پاس موجود ہوتے تھے تو اس سے انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کو کچھ مافوق الاسباب اختیار حاصل تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ دیکھو تو سہی حضرت مریم کتنی دعاؤں کے بعد پیدا ہوئیں اور کس طرح ان کی پرورش کی گئی۔ بھلا جو اپنی پیدائش اور پرورش میں دوسروں کی محتاج ہو وہ کس طرح معبود بن سکتی ہے۔ جب حضرت مریم کی والدہ امید سے ہوئیں تو انہوں نے نذر مانی کہ اے اللہ میرے بطن سے جو بچہ پیدا ہوگا۔ وہ تیری عبادت اور تیرے گھر کی خدمت کے لیے وقف ہوگا۔ لَکَ میں لام تعلیل کے لیے ہے۔ واللام من لک للتعلیل والمراد لخدمۃ ؟ (روح۔ ج 3 ص 133) معنی لک ای لعبادتک (قرطبی ج 4 ص 66) ان کی شریعت میں اس قسم کی نذر ماننا جائز تھا۔
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس کو جنا بولی اے رب میں نے تو اس کو لڑکی جنی47 اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ اس نے جنا اور بیٹا نہ ہوجیسی وہ بیٹی48 اور میں نے اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے49

47 جب لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں افسوس ہوا اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنے لگیں کہ یہ تو لڑکی ہے اب میں اپنی نذر پوری نہیں کرسکتی اگر لڑکا ہوتا تو اسے تو اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے وقف کردیا جاتا۔ کیونکہ اسرائیلی شریعت میں لڑکی سے یہ خدمت نہیں لی جاسکتی تھی۔ 48 یہ جملہ معترضہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ حضرت مریم کی والدہ کا مقولہ نہیں ہے۔ یعنی اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اس لڑکی کی جگہ اگر لڑکا پیدا ہوتا تو وہ اس لڑکی کے برابر نہ ہوتا کیونکہ جو اسرار و رموز اس لڑکی سے وابستہ ہیں۔ وہ اس کے لڑکا ہونے کی صورت میں مفقود ہوتے۔ ولیس الذکر الذی طلبت کالانثی التی وھبت لھا واللام فیھما للعھد (مدارک ج 1 ص 120) 49:۔ یہ حضرت مریم کی والدہ کا مقولہ ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ اے اللہ میں نے اس بچی کا نام مریم رکھا ہے اور اسے اور اس کی اولاد کو شیطان کے شر سے تیری پناہ اور حفاظت میں دیتی ہوں۔ کس قدر خالص توحید کا جذبہ ہے۔ بلاشبہ ہر قسم کے شر سے صرف اللہ ہی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی جیسا کہحضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پہلو میں انگلی سے چوکا لگاتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیخ اٹھتا ہے لیکن مریم اور اس کے بیٹے کو اللہ نے شیطان کے چوکے سے محفوظ رکھا (قرطبی ج 4 ص 68، روح ج 3 ص 137 وغیرہ)
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح کا قبول50 اور بڑھایا اس کو اچھی طرح بڑھانا اور سپرد کی زکریا کو جس وقت آتے اس کے پاس زکریا حجرے میں پاتے اس کے پاس کچھ کھانا51 کہا اے مریم کہاں سے آیا تیرے پاس یہ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے آتا ہے52 اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بےقیاس53

50:۔ اسرائیلی شریعت میں اگرچہ خدمت مسجد کے لیے با شعور اور عاقل لڑکے ہی کی نذر قبول ہوسکتی تھی اور لڑکی کی نذر قبول نہیں ہوتی تھی۔ لیکن حضرت مریم کی والدہ کا اخلاص اور ان کی تضرع وزاری اللہ کو پسند آئی۔ اس لیے اس نے حضرت مریم کی مسنی ہی میں نذر قبول فرما لی (کبیر ج 2 ص 658، روح ج 3 ص 138) وَاَنْبَتَھَا نَبَاتاً حَسَناً اور جسمانی روحانی اور اخلاقی اعتبار سے اس بچی کی بہت عمدہ تربیت فرمائی۔ عبارۃ عن حسن النشاۃ والجودۃ فی خلق وخلق فانشاھا علی الطاعۃ والعبادۃ (بحر ج 2 ص 144) ۔ 51:۔ محراب کے معنی حجرے اور خلوت گاہ کے ہیں۔ رزق سے کھانے پینے کی چیزیں مراد ہیں اور رِزْقاً کی تنوین تفخیم کے لیے ہے اور کُلَّإَا تکرار فعل پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت مریم کے والد ان کے بچپن ہی میں وفات پا چکے تھے اس لیے ان کی پرورش کا سوال پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ کے ذریعے کیا گیا۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا آپ رشتہ میں حضرت مریم کے خالو بھی تھے اس لیے وہی ان کے کفیل ہوئے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب بھی حضرت مریم کے حجرہ میں آتے ان کے پاس بےموسم کے تروتازہ پھل دیکھتے۔ تواترت الروایات بہ ان زکریا (علیہ السلام) کان یجد عندھا فاکہۃ الشتا فی الصیف وفاکہۃ الصیف فی الشتاء (کبیر ج 2 ص 660) 52:۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ان سے پوچھتے کہ اے مریم یہ تروتازہ پھل کہاں سے آئے ہیں۔ تو وہ جواب دیتیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اللہ نے کسی انسان کے واسطہ کے بغیر مجھے دئیے ہیں میں اپنے اختیار سے کہیں سے نہیں لائی ہوں۔ اس سے عیسائیوں کے اس شبہ کا ازالہ کردیا۔ کہ حضرت مریم اپنے اختیار سے بےموسم کے پھل حاصل کرلیتی تھیں۔ 53 اللہ کو یہ قدرت اور اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے بلا حساب فراخی سے روزی عطا کرے اس میں کسی فرد بشر کو اختیار حاصل نہیں۔ حضر مریم صدیقہ پیغمبر نہیں تھیں بلکہ اولیاء اللہ میں سے تھیں۔ اس لیے بلا واسطہ بشر اس عجیب و غریب رزق کا اللہ کی طرف سے ان کے پاس آنا ان کی کرامت تھی۔ یہ آیت کرامات اولیاء کے حق ہونے کی واضح دلیل ہے۔ واستدل بالآت جواز الکرامۃ للاولیاء لان مریم لا نبوۃ لھا علی المشھور وھذا ھو الذی ذھب الیہ اھل السنۃ والشیعۃ وخالف فی ذالک المعتزلۃ (روح ج 3 ص 140) ۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے کہا اے رب میرے عطا کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ54 بیشک تو سننے والا ہے دعا کو

54:۔ ایک شبہ کا جواب :۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے یہاں ایسی عمر میں بچے کے پیدا ہونے سے جس میں عادۃ بچہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ عیسائی اس شبہ میں پڑگئے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو کچھ تصرف اور اختیار حاصل تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے یہاں بڑھاپے میں بیٹا پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی۔ ھُنَالِکَ ظرف ہے زمان اور مکان دونوں کے لیے یہاں مکان کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے پاس بےموسم کے میوے دیکھے تو وہیں اللہ سے دعا کی اور خیال کیا کہ جو اللہ مریم کو بےموسم کا پھل دے سکتا ہے وہ مجھے بھی اس بڑھاپے میں فرزند عطا کرسکتا ہے (روح ج 3 ص 144) اس سے معلوم ہوا کہ ان کے تصرف واختیار میں تو کچھ نہیں تھا۔ بیٹے کے لیے تو وہ اللہ سے دعا کر رہے تھے۔ اس لیے وہ مالک ومختار یا متصرف کس طرح ہوسکتے ہیں۔ اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاءِ یہ بھی ان کی دعا ہی کا حصہ ہے۔ حرف تاکید اور جملہ اسمیہ لا کر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اللہ کے سامنے اعتراف کیا اے اللہ دعائیں قبول کرنے والا اور آرزوئیں بر لانے والا صرف تو ہی ہے۔ تیرے سوا اور کوئی حاجت روا اور مشکلکشا نہیں۔ بھلا جو اس طرح اللہ سے التجا کرے وہ کس طرح معبود اور کارساز ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر اس کو آواز دی فرشتوں نے جب وہ کھڑے تھے نماز میں حجرے کے اندر کہ اللہ تجھ کو خوشخبری دیتا ہے یحییٰ کی55 جو گواہی دیگا اللہ کے ایک حکم کی اور سردار ہوگا اور عورت کے پاس نہ جائیگا اور نبی ہوگا صالحین سے56

55 فَا تعقیب کیلئے ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ما بعد اس کے ماقبل پر مرتب ہے یعنی جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی دعا کی تو اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے فرشتے ان کے پاس بھیجے۔ چناچہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اس وقت فرشتوں نے آپ کو خوشخبری دی۔ 56:۔ مُصَدِّقاً مع معطوفات یحییٰ سے حال ہے اور کلمہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ چناچہ یہی حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور اجلہ مفسرین سے منقول ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمہ اس لیے کہا گیا کہ ان کی پیدائش اسباب عادیہ کے بغیر محض لفظ کن سے ہوئی۔ والمراد بالکلمۃ عیسیٰ (علیہ السلام) وھو المروی عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وعلیہ اجلۃ المفسرین وانما سمی عیسیٰ (علیہ السلام) بذلک لانہ وجد بکلمۃ کن۔ من دون توسط سبب عادی الخ (روح ج 3 ص 147) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) فی قول اکثر المفسرین وسمی عیسیٰ کلمۃ لانہ کان بکلمۃ اللہ تعالیٰ التیھی کن۔ فکان من غیر اب (قرطبی ج 4 ص 76) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی حیثیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے نقیب اور تصدیق کنندہ کی تھی۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی اس بات کی تصدیق کی جو کتب سابقہ میں لکھی ہوئی تھی کہ میں ایک شخص کو بغیر باپ کے پیدا کروں گا۔ بعض مفسرین نے تصدیق سے ایمان مراد لیا ہے۔ چناچہ وہ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں۔ وارید بھذا التصدیق الایمان وھو اول من امن بعیسی (علیہ السلام) وصدق انہ کلمۃ اللہ تعالیٰ وروح منہ فی المشھور (روح۔ ج 3 ص 147، کبیر ج ص 664) سیداً سے مراد ہے دین کے معاملات میں رہنما اور پاکبازی میں سب سے فائق اور برتر۔ حَصُوْراً جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور لذات وشہوات اور گناہوں سے کنارہ کش ہو۔ نَبِیّاً کے ساتھ مِنَ الصَّالِحِیْنَ کی قید بظاہر زئد معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر نبی لازمی طور پر صالح ہوتا ہے۔ لیکن یہ قید صلاح کا اعلیٰ درجہ بیان کرنے کے لیے ذکر کی گئی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو صلاح وتقویٰ کا درجہ اتم حاصل تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے زندگی بھر گناہ کا خیال تک نہیں کیا۔ کذا فی الکبیر ج 2 ص 665 ۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

کہا اے رب کہاں سے ہوگا میرے لڑکا اور پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا اور عورت میری بانجھ ہے57 فرمایا اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہے58

57:۔ اَنّیٰ بمعنی کیف ہے اور وَقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ اور وَامْرَاَتِیْ عَاقِر دونوں جملے حالیہ ہیں اور لِیْ میں یائے متکلم سے حال ہیں۔ خوشخبری سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اس پر تعجب ہوا کہ بیٹا پیدا ہونے کے ظاہری اسباب مفقود ہیں۔ میں ہوں تو ننانوے سال کا بوڑھا بیوی ہے تو وہ سرے سے قابل ولادت ہی نہیں۔ اس لیے ان حالات میں ہمارے ہاں بیٹے کا پیدا ہونا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ان الفاظ میں تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ 58 اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ میری قدرت کاملہ کی کوئی انتہا نہیں اسی طرح خلاف عادت بلا اسباب عادیہ میں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ آیة۔ اب اللہ سے دعا کی کہ کوئی ایسی علامت مقرر کی جائے۔ جس سے معلوم ہوجائے کہ بیوی امید سے ہے تاکہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرنے کا سامان پہلے ہی سے کیا جاسکے اور ظہور عادی تک اس میں تاخیر نہ ہو۔ نیز بطور شکر نعمت پہلے سے زیادہ عبادت کروں ای علامۃ اعلم بھا وقت حمل امراتی فازید فی العبادۃ شکرا لک (معالم و خازن ج 1 ص 290) لیتلقی تلک النعمۃ بالشکر حین حصولھا ولا یوخر حتی تظہر ظھورا معتادا (روح ج 3 ص 150)