Ayah 3:175267 یہ جملہ مستانفہ ہے اس میں شیطان کی شرارت و شیطینت کا ذکر فرمایا نیز ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ جس طرح اس موقع پر وہ شیطان کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوئے اور نہ اس سے ڈرے ہیں اسی طرح آئندہ بھی وہ شیطان کے چیلوں سے مت خوف کھائیں اور صرف مجھ سے ڈریں۔ ذَالِکُمْ میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اشارہ اس پروپیگنڈا کرنے والے کی طرف ہے جو مسلمانوں سے کفار کی جمعیت اور کثرت سامان کا ذکر کر کے ان کی ہمتیں پست کرنا چاہتا تھا۔ اور یُخَوِّفُکُمْ اَوْلِیَاءَہ (روح ج 4 ص 129، کبیر ج 3 ص 148) اور اَوْلِیَاءَہ میں ضمیر الشیطان کی طرف راجع ہے اور اَوْلِیَاءَ الشَّیْطٰنِ سے یہاں ابو سفیان و من معہ (بحر ج 3 ص ص 120) ۔ شیطان جب بھی بنی آدم کو غلط راستہ پر ڈالنا چاہتا ہے تو اپنے انسانی چیلوں کو سامنے کردیتا ہے جو شیطان کی پوری پوری نمائندگی کرتے ہیں چناچہ ابو سفیان کی طرف سے جن لوگوں (عبد القیس کے سواروں یا نعیم بن مسعود ثقفی علی اختلاف القولین) نے مسلمانوں کو بد دل کرنے کی کوشش کی تھیں وہ شیطان ہی کے ایجنٹ تھے اور اسی کے سیکھے سکھائے تھے تو آیت کا مطلب یہ ہوا اے ایمان والو ! یہ تمہیں بد دل کرنیوالا اور تمہاری ہمت پست کرنے کی کوشش کرنیوالا در اصل شیطان ہے جو اپنے دوستوں (ابو سفیان وغیرہ) سے تم کو خوفزدہ اور مرعوب کرنا چاہتا ہے لیکن تم خدا پر بھروسہ رکھو اور جس طرح اس موقع پر تم نے استقامت اور جرات دکھائی ہے اور شیطان کے دوستوں سے مرعوب نہیں ہوئے۔ اسی طرح آئندہ بھی کبھی ان سے خوفزدہ مت ہونا اور ہمیشہ صرف مجھ سے ڈرنا اور میرے احکام کی تعمیل کرنا کیونکہ ایمان کا تقاضا یہی ہے۔ لان الایمان یقتضی ان یوثر العبد خوف اللہ علی خوف ؟ (مدارک ج ص 152) ۔
Ayah 3:176268 یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے اَلَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ سے مراد وہ منافقین ہیں جنہوں نے جنگ احد کے موقع پر اپنے قول وعمل سے کھلم کھلا کفر کا اظہار کردیا تھا۔ ولمراد بالموصول المنافقون من المتخلفی (ابو السعود ج 3 ص 148) ۔ ادھر مسلمانوں کو معمولی سی شکست ہوئی ادھر وہ علانیہ کفر میں جا پڑے اور الٹے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگے۔ یہاں بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ان منافقین کے علانیہ کفر میں پڑنے پر غم کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن یہ مناسب نہیں کیونکہ کفر قبیح ہے اور اس پرحضور ﷺ کا غمگین ہونا آپ کی شان رحمت اور حرص علی الایمان کے عین مطابق تھا۔ بلکہ یہاں آپ کو اس خوف پر غم کرنے سے منع فرمایا کہ یہ منافقین جواب علانیہ کفر کا اظہار کر رہے ہیں کہیں دوسرے کافروں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش نہ کریں اور انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ جیسا کہ اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوْ اللہَ شیْئاً اس پر دال ہے والمراد لا یحزنک خوف ان یضروک و یعینوا علیک ویدل علی ذالک ایلاء قولہ تعالیٰ اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوْا اللہَ شَیْئاً (روح ج 4 ص 133) ۔ اِنَّھُمْ لَنْ یَضُرُّوْ اللہَ شَیْئاً ۔ یہاں لَنْ یَّضُرُّوْا کے بعد مضاف محذوف ہے ای لن یضروا بذالک اولیاء اللہ البتۃ (ابو السعود ج 3 ص 148) ۔ یعنی وہ اللہ کے دوستوں (حضرت نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہ مذکورہ نہی کی علت اور تسلی کی تکمیل ہے۔ یرید اللہ ان لا یجعل لھم خطا فی الاخرۃ۔ یعنی ان کے کفر میں دوڑ دوڑ کر گرنے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت مضمر ہے کہ دنیا میں وہ اپنے اعمالنامے خوب سیاہ کرلیں اور جو کچھ نیکی ان کے پلے میں ہے اس کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں دے دیا جائے اور آخرت میں ان کے لیے صرف عذاب عظیم ہو اور اجر وثواب میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو۔ ای حکمتہ فیھم انہ یرید بمشیئتہ و قدرتہ ان لا یجعل لھم نصیبا فی الاخرۃ (ابن کثیر ج 1 ص 432) ۔
Ayah 3:177269 ۔ یہ آیت عام ہے اور تمام کفار کو شامل ہے الایۃ الاولی فیمن نافق من المتخلفین۔ والثانیۃ فی جمیع الکفار او علی العکس (مدارک ج 1 ص 156) ۔
Ayah 3:178270 اِنَّمَا نُمْلِی لَھُمْ میں مَا مصدریہ ہے اور وہ اپنے ما بعد کے ساتھ بتاویل مفرد مبتدا ہے اور خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْ اس کی خبر ہے ما مع ما بعدھا فی تقدیر المصدر والتقدیر لا یحسبن الذین کفروا ان املائی لھم خیر (کبیر ج 3 ص 151) ۔ اور یہ جملہ لا یحسبن کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اس کا فاعل ہے والفعل مسند الی الموصول و ان بما فی حیزھا سا ادۃ مسد مفعولیہ (ابو السعود ج 3 ص 151) ۔ یعنی دنیا میں ہم نے کافروں کو زندہ رہنے اور عیش و عشرت میں منہمک رہنے کی مہلت دے رکھی ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہماری طرف سے یہ مہلت ان کے حق میں اچھی اور عمدہ نتائج کی حامل ہے بلکہ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْا اِثْماً ان کو ہمارا مہلت دینا ان کے لیے خیر اور بہتر نہیں یہ مہلت ان کو صرف اس لیے دی جا رہی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ گناہ کر کے آخرت میں اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْن اور وہ ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہیں اور ان کفار کے لمبی عمر کے ساتھ گناہوں میں اضافہ ہونا اور ان کا ذلت آمیز عذاب کے مستحق ہونا یہ سب چیزیں ان کے کفر اختیاری کا نتیجہ ہیں۔ کیونکہ جب ایک شخص سمجھ بوجھ کر محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے تو اسے قبول حق کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔
Ayah 3:179271 حضرت شیخ نے فرمایا کہ یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ مومنوں پر اللہ کی آزمائشیں کیوں آتی ہیں تو جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ مومن اور منافق آپس میں ملے جلے رہیں اور ان میں کوئی امتیاز نہ ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا فرما دیتا ہے تاکہ منافق ظاہر ہو کر مخلص مومنوں سے جدا ہوجائیں۔ مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ سے وہ حالت مراد ہے جس میں مخلص مومنین میں منافقین ملے ہوئے ہوں۔ من اختلاط المومنین المخلصین والمنافقین (مدارک ج 1 ص 153) ۔ اَلخَبِیْث سے منافق اور اَلطَّیِّب سے مخلص مومن مراد ہے منافق کو اس کے کفر و نفاق کی باطنی نجاست و خباثت کی بنا پر الخبیث فرمایا اور مخلص مومن کا قلب اخلاص اور نور ایمان کی طہارت و نورانیت کی وجہ سے طیب و طاہر ہوتا ہے اور پھر باطنی طہارت کے ساتھ اسے عملی اور اخلاقی طہارت بھی حاصل ہوتی ہے اس لیے اسے الطیب سے تعبیر فرمایا۔
272 یہ ماقبل پر معطوف ہے اور لِیَطَّلِعَکُمْ میں خطاب مومنوں سے ہے بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ خطاب عام ہے مومنوں اور کافروں سب کو شامل ہے۔ والاول اولی یہ بھی سوال مقدر کا جواب۔ مومنوں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں کوئی علامت دی جائے جس سے وہ مومن اور منافق میں پہچان کرسکیں۔ ان المؤمنین سالوا ان یعطوا علامۃ یفرقون بھا بین المومن والمنافق فنزلت (روح ج 4 ص 138) ۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نہ تو ایسا کرے گا کہ مومنوں اور کافروں کو باہم ملا جلا رہنے دے اور ان میں حد امتیاز قائم نہ کرے بلکہ وہ ضرور منافقین کو مومنین سے جدا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا۔ کہ تم کو غیب کا علم دے دے اور تم دل کی پوشیدہ باتوں پر مطلع ہوجاؤ اور اس طرح مومن اور منافق کو پہچان لیا کرو بلکہ تمہارے لیے ایک ہی صورت ہے کہ امتحان و ابتلاء اور تکلیف و محنت کے ذریعے بطور استدلال تم مومن اور منافق میں امتیاز کرلو جیسا کہ احد میں واقع ہوا یا معشر المؤمنین ای ما کان اللہ لیعین لکم المنافقین حتی تعرفوھم و کن ذالک لکم بالتکلف والمحنۃ و قد ظھر ذالک فی یوم احد فان المنافقین تخلفوا واظھروا الشماتۃ (قرطبی ج 4 ص 289) ۔ باقی رہا اطلاع الغیب کے ذریعے مومن و منافق میں امتیاز کرنا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے بعض رسولوں کو منتخب کرتا ہے اور بذریعہ وحی ان کو اطلاع دیتا ہے۔
تحقیق مزید : جہاں تک آیت کے نفس مفہوم کا تعلق تھا وہ تو اوپر بیان ہوچکا ہے اب یہاں اہل بدعت کے ایک مغالطہ کا رد مقصود ہے مبتدعین اس آیت سے حضرت نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے لیے کلی علم غیب ثابت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں الغیب میں الف لام استغراق کیلئے ہے اس آیت میں غیر انبیاء سے الغیب یعنی کلی غیب کی نفی کی گئی ہے اور پھر لکن سے برگزیدہ رسولوں کے لیے الغیب یعنی کلی غیب کو ثابت کیا گیا ہے لیکن یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے۔ اولا اس لیے کہ الف لام بلا شبہ استغراق کے لیے بھی آتا ہے لیکن یہ اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے اور الف لام عہد خارجی میں اصل اور حقیقت ہے۔ چناچہ علامہ تفتا زانی فرماتے ہیں۔ التعریف لا یلزم ان یکون للاستغراق بل العہد ھو الاصل (التلویح ص 160) یعنی لام تعریف کے لیے ضروری نہیں کہ وہ استغراق کے لیے ہو بلکہ اصل تو عہد خارجی ہے اور مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی فرماتے ہیں۔ انما الفرق بان الجنس لا یحتاج الی مؤنۃ المقام الخطابی بخلاف الاستغراق (حاشیہ عبدالغفور ص 2) یعنی جنس اور استغراق میں فرق بایں طور ہے کہ جنس کے لیے مقام خطابی کے قرینہ کی ضرورت نہیں لیکن استغراق قرینہ کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ استغراق میں الف لام کا استعمال مجازی ہے۔ کیونکہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ قرینہ کے محتاج ہمیشہ مجازی معنی ہوتے ہیں۔ اور حقیقی معنی محتاج قرینہ نہیں ہوتے۔ اور فاضل محقق مولانا نور محمد لکھتے ہیں۔ قال العلامۃ تفتا زانی فی بعض تصانیف انھم اختلفوا فی اللام المزید بعد رفع الاسم بالابتداء کما فی سلام علیک فذبھب بعضھم الی انھا تعریف الجنس اذ لا عھد ھنا ولا ثالث لمعنی اللام باتفاق ائمۃ اللغۃ۔ اس کے بعد صاحب لباب الاعراب سے نقل کیا ہے۔ اللام لا یفید الا التعریف والاسم لا یدل الا علی الجنس فاذن لا یکون ثمہ الاستغراق نعم یصار الیہ بقرینۃ المقام لا ان یکون مدلول اللام (حاشیہ عبد الغفور ص 3) دونوں عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ الف لام باتفاق ائمہ لغت عہد خارجی اور جنس میں اصل اور حقیقت ہے اور استغراق میں اس کا استعمال مجازی اور محتاج قرینہ ہے، ہکذا فی المتن المتین وغیرہ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ استغراق الف لام کا مجازی استعمال ہے تو بلا قرینہ صارفہ حقیقت یعنی عہد خارجی کو چھوڑ کر استغراق مراد لینا ہرگز جائز نہیں۔ لان المجاز فرع الحقیقۃ اور مجازی معنی صرف اسی وقت مراد لیے جاتے ہیں۔ جب حقیقت متعذر ہو متی تعذر الحقیقۃ ارد المجاز۔ لیکن یہاں تو حقیقی معنی متعذر نہیں ہیں۔ بلکہ ممکن اور عین مراد ہیں کما سیاتی ثانیا۔ اس آیت میں الف لام کو استغراق پر محمول کرنا ویسے بھی مقام کے مناسب نہیں کیونکہ مقام تو عہد خارجی کا مقتضی ہے اس لیے کہ سوال تو غیب کے ایک خاص معاملہ کے بارے میں تھا یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں صاف صاف بتا دے کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے یعنی ان کے دلوں میں نفاق ہے اس لیے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس غیب کی بات پر مطلع فرمادے۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ رسول کو اس غیب کی اطلاع دیدے۔ اس لیے الغیب میں الف لام عہد خارجی کے لیے ہے اور اس سے وہ مخصوص غیب مراد ہے یعنی منافقوں کی نشاندہی بذریعہ وحی الٰہی۔ ثالثا تمام مفسرین حضرات نے یہاں الغیب سے بعض علم غیب مراد لیا ہے۔ ماکان و ما یکون اور جمیع مغیبات کا کلی اور تفصیلی علم کسی نے بھی مراد نہیں یا تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ الف لام استغراق کے لیے نہیں۔ چناچہ علامہ قاضی بیضاوی اس آیت میں تفسیر میں فرماتے ہیں ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء فیوحی الیہ و یخبرہ ببعض المغیبات (بیضاوی ج 1 ص 56) لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے۔ چن لیتا ہے تو اس کی طرف وحی کرتا ہے اور اسے بعض مغیبات کی خبر دیتا ہے۔ امام بغوی فرماتے ہیں۔ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَاءُ فیطلعہ علی بعض علم الغیب (معالم ج 1 ص 382) لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب فرما لیتا ہے تو اسے بعض علم غیب پر مطلع فرما دیتا ہے علامہ خازن لکھتے ہیں۔ یعنی ولکن اللہ یصطفی و یختار من رسلہ من یشاء فیطلعہ علی ما یشاء من غیبہ (خازن ج 1 ص 382) ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جیسے چاہتا ہے چن لیتا ہے اور اپنے جس بعض غیب کی چاہتا ہے اس کو اطلاع دے دیتا ہے اور علامہ ابن صفی لکھتے ہیں۔ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسِلِہٖ مَنْ یَّشَاءُ فیخبرہ ببعض المغیبات (جامع البیان ص 66) اور مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں۔ فیطلعہ علی البعض من علوم الغیب احیانا (تفسیر مظہری 2 ص 185) یعنی اللہ تعالیٰ جس کو رسول منتخب کرتا ہے اسے بعض غیوب کی اطلاع دیتا ہے اور وہ بھی احیانا یعنی کبھی کبھی۔ رابعا اگر یہاں تمام قواعد عربیت اور اصول تفسیر کے خلاف الف لام استغراق کے لیے مان لیا جائے اور یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کو ماکان و ما یکون کا کلی اور تفصیلی علم غیب تھا تو اس سے مذکورہ بالا خرابیوں کے علاوہ قرآن مجید کی ان بہت سی آیتوں کی تکذیب لازم آئے گی جن میں نہایت صراحت سےحضور ﷺ کی ذات گرامی سے کلی علم غیب کی نفی کی گئی ہے مثلاً : (1) ۔ وَمِّمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُم اور کچھ تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں جو نفاق کے حد کمال کو پہنچے ہوئے ہیں آپ بھی ان کو نہیں جانتے (کہ یہ منافق ہیں بس) ہم ان کو جانتے ہیں۔ اس آیت میں حضرت نبی کریم ﷺ سے صراحۃً مدینہ کے ان منافقین کی پہچان کی نفی کی گئی ہے جو اپنا نفاق چھپانے میں انتہائی حزم و احتیاط سے کام لیتے تھے یہ آیت سورة توبہ کی ہے جو سورة آل عمران کے بعد نازل ہوئی تھی تو اگر آل عمران کی آیت سےحضور ﷺ کے لیے کلی علم غیب ثابت کیا جائے تو سورة توبہ کی بعد میں نازل ہونے والی آیت اس کی نفی کرتی ہے اور یہ کھلا ہوا تضاد ہے جس کا خدا کے کلام میں پایا جانا محال ہے۔ لہذا صحیح بات یہی ہے کہ زیر تفسیر آیت میں نہ الف لام استغراق کیلئے ہے اور نہ ہی اس سےحضور ﷺ کے لیے ماکان ومایکون کا کلی علم غیب ثابت ہے۔ (2) ۔ عَفَا اللہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ حَتّیٰ یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ (توبہ رکوع 1) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف (تو) کردیا (لیکن) آپ نے ان کو (ایسی جلدی) اجازت کیوں دے دی جب تک آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور آپ جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے حضرت نبی کریم ﷺ نے منافقین کو جنگ میں شریک نہ ہونے کی اجازت دے دی آپ نے ان کی چکنی چپڑی باتوں سے واقعی ان کو معذور سمجھ لیا حالانکہ وہ جھوٹے اور مکار تھے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ نازل فرمائی کہ آپ نے تمام عذر کرنے والوں کو کیوں اجازت دے دی۔ یہاں تک کہ آپ کو عذر میں سچے اور جھوٹے کا علم ہوجاتا تو اس سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کو عذر میں سچے اور جھوٹے کی پہچان نہ تھی۔ یہ آیت بھی سورة توبہ کی ہے۔
(2) ۔ یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکَ تَبْتَغیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ (تحریم) ۔ اے نبی کیوں حرام کرتا ہے تو اس چیز کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے (اور وہ بھی) اپنی بیویوں کی رضا جوئی کے لیے۔ حضرت رسول خدا ﷺ نے ایک دفعہ بعض ازواج مطہرات کی خاطر شہد نہ کھانے کی قسم کھالی تھی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ کو قسم سے دستبردار ہونے کا حکم دیا گیا تو معلوم کہ اس وقت تک آپ کو ماکان و ما یکون کا کلی غیب حاصل نہیں تھا۔ اگر آپ کو کلی غیب ہوتا تو آپ ایک ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہ فرماتے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہ ہوتی۔ یہ سورت بھی آل عمران کے بعد نازل ہوئی تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں الغیب میں استغراق ہرگز مراد نہیں۔
(4) ۔ سورة منافقون جو آل عمران کے بعد نازل ہوئی ہے اس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس واقعہ کی تفصیل کتب حدیث میں موجود ہے چناچہ صحیح بخاری ج 2 ص 727 پر ہے۔ حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک غزوہ میں نے عبداللہ بن ابی منافق کو کہتے سنا کہ پیغمبر کے ساتھیوں کی مالی امداد مت کرو تاکہ وہ بھوکے مرتے ہوئے اس کا ساتھ چھوڑ دیں اور اب جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو العیاذ باللہ ان کمینوں کو شہر سے نکال باہر کریں گے۔ میں نے یہ باتیںحضور ﷺ تک پہنچائیں تو آپ نے اس منافق کو بلا کر اس سے پوچھا تو وہ صاف مکر گیا۔ اور اس نے قسمیں کھا کھا کر اپنی سچائی کا آپ کو یقین دلا دیا چناچہ آپ نے میری تکذیب اور اس کی تصدیق فرما دی جس سے مجھے جس سے مجھے بہت صدمہ ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون کی ابتدائی آیتیں نازل فرما کر اصل حقیقت واضح فرمائی کہ ان منافقوں نے یہ باتیں کہی ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے لفظ بلفظ ان باتوں کی تصدیق فرمائی جو میں نے بیان کی تھیں اورحضور ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری باتوں کی تصدیق فرما دی ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کو اس واقعہ تک بھی کلی غیب حاصل نہیں تھا۔ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے۔ جو 9 ھ میں پیش آیا۔ تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آل عمران کی آیت میں استغراق مراد نہیں اور نہ ہی اس آیت میں آپ کے کلی علم غیب کا کوئی ثبوت ہے۔
(5) ۔ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِداً ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقاً بیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ ۔ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا الْحُسْنٰی۔ وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ۔ لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا (توبہ) اور جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ (اسلام کو) ضرر پہنچائیں اور اس میں بیٹھ کر کفر کی باتیں کریں۔ اور ایمان والوں میں تفریق ڈالیں اور ان لوگوں کو گھات کی جگہ مہیا کریں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں اور وہ قسمیں کھا جائیں گے کہ بجز بھلائی کے ہماری کوئی نیت نہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ آپ اس میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے نہ ہوں۔ ابو عامر ایک نہایت ہی خبیث اور مکار پادری تھا۔ جو خود تو قیصر روم کے پاس پہنچا تاکہ اسے مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ کرسکے۔ ادھر مدینہ کے منافقین کو لکھا کہ وہ مسجد کے نام پر ایک عمارت بنائیں اور نماز کے بہانے اس میں جمع ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کیا کریں اور اس کے خفیہ خطوط بھی ان کو اسی جگہ ملا کریں گے۔ نیز اگر کبھی وہ مدینہ آیا تو اس کا قیام بھی یہیں ہوگا۔ چناچہ انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک مسجد نما عمارت بنا لی اورحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر لگے قسمیں کھانے کہ حضرت ہمارا ارادہ نیک ہے ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ مسجد قبا ہم سے دور ہے اور بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا وہاں تک پہنچنا دشوار ہے اس لیے ہم نے یہ مسجد بنائی ہے تاکہ یہ لوگ اس میں آسانی سے نمازیں ادا کرسکیں۔ اور ہماری دلی خواہش ہے کہ اس مسجد کا افتتاح آپ کی نماز سے ہو اس لیے آپ اس میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے چلیں۔ اس وقتحضور ﷺ غزوہ تبوک کی مہم پر جا رہے تھے اس لیے آپ نے ان سے وعدہ فرما لیا کہ تبوک سے واپسی پر میں تمہاری نئی مسجد میں آؤں گا۔ اور اس میں نماز بھی پڑھوں گا۔ چناچہ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں ولو قدمنا انشاء اللہ تعالیٰ اتینا کم فصیلنا لکم فیہ (تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 388) یعنی اگر انشاء اللہ اس مہم سے بخیریت واپس آگئے تو تمہاری مسجد میں جا کر نماز پڑھیں گے۔ جب آپ غزوہ تبوک سے بخیریت واپس تشریف لے آئے تو دل میں ایفائے عہد کا خیال آگیا لیکن اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو اصل حقیقت حال سے آگاہ فرما دیا تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو جمیع مغیبات کا علم نہیں تھا۔ اگر آپ کو کلی غیب کا علم ہوتا تو ان منافقین کی مکاری اور عیاری کا بھی علم ہوتا اور آپ مسجد ضرار میں تشریف لے جا کر نماز پڑھنے کا وعدہ نہ فرماتے۔ مندرجہ بالا پانچ آیتیں سورة آل عمران کے بعد نازل شدہ سورتوں کی ہیں اور ان میں آنحضرت ﷺ سے کلی علم غیب کی صاف صاف نفی ہوتی ہے لہذا معلوم ہوا کہ آل عمران کی اس آیت میں الغیب کا الف لام استغراق کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی یہاں الغیب سے ماکان و ما یکون کا کلی علم غیب مراد ہے بلکہ الف لام یہاں عہد کے لیے ہے اور الغیب سے احد میں بےوفائی کرنے والے منافقین کی پہچان مراد ہے حاصل یہ کہ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے علم غیب کلی پر استدلال کرنا سراسر غلط اور باطل ہے۔
273 جب یہ بات واضح ہوگئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ غیب پر مطلع نہیں کرنے کا تو اب تمہارے لیے صرف یہی چیز باقی رہ جاتی ہے کہ تم اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاؤ اور اس پر قائم رہو تمہارا کام ایمان و تصدیق ہے نہ کہ علم غیب حاصل کرنے کی تمنا کرنا۔ ای علیکم التصدیق لا التشوف الی اطلاع الغیب (قرطبی ج 4 ص 290) ۔ یہاں اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ ہی کو قادر مطلق مانو اور صرف اسے ہی عالم الغیب اور پوشیدہ باتیں جاننے والا سمجھو اور رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں اللہ نے ان کو اپنی رسالت کے لیے چنا ہے اور وہ عالم الغیب نہیں ہیں ان کو صرف اتنا ہی غیب معلوم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا اور وہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر دین میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ فامنوا باللہ و رسلہ بان تقدروہ حق قدرہ وتعلمونہ و ھذہ مطلعا علی الغیوب وان تنزلوھم منازلھم بان تعلموھم عبادا مجتبین لا یعلمون الا ما علیھم اللہ و لا یخبرون الا بما اخبر اللہ بہ من الغیوب او لیسوا من علم الغیب فی شیء (بحر ج 3 ص 127) ۔ المراد من الایمان باللہ تعالیٰ ان یعلموہ وحدہ مطلعا علی الغیب و من الایمان برسلہ ان یعلموھم عبادا مجتبین لا یعلمون الا ما علمھم اللہ تعالیٰ ولا یقولون الا ما یوحی الیھم فی امر الشرائع (روح ج 4 ص 138) ۔ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا الخ۔ اور اگر تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر کما حقہ ایمان لے آؤ گے اور پھر اللہ کے اوامرو نواہی میں اس کی مخالفت سے بچو گے تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و احسان سے تم کو اتنا بڑا اجر اور ثواب عطا کرے گا۔ جو اندازے اور حساب سے باہر ہوگا۔ لایکتنہ ولا یجد فی الدنیا و الاخرۃ (روح ج 4 ص 139) ۔
خلاصہ ماقبل :۔ شبہ متعلقہ جہاد کا باالتدریج جواب ارشاد فرمایا۔ پہلے اِذْ ھَمَّتْ طَّائِفَتٰنِ سے لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ تک فرمایا کہ تم کو کب بےیارو مددگار چھوڑا ہے۔ میدان احد میں بھی تمہاری مدد کی تم میں سے دو قبیلوں نے بزدلی دکھانے اور جنگ میں شریک نہ ہونے کا ارادہ کرلیا تو اللہ نے ان کو تھام لیا اور ان کی ہمتیں مضبوط کردیں اور اس سے پہلے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تم تعداد میں کم اور بےسرو سامان تھے۔ لیکن پھر بھی اللہ نے تم کو فتح یاب فرمایا۔ اس کے بعد رکوع 14 میں علی سبیل الترقی فرمایا۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ یہ شکست اللہ کی حکمت بالغہ کا عین مقتضا تھی اللہ تعالیٰ مخلص مومنوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اگر احد میں تمہیں مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تو ہوا کیا تمہارے دشمن بھی تو تمہارے ہاتھوں اس قدر نقصان اٹھا چکے ہیں۔ آخر میں اس سے ترقی کر کے فرمایا۔ وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللہُ وَعْدَہ الخ۔ یہ شبہ کا اصل جواب ہے یعنی اللہ نے تو اپنا وعدہ پورا فرما دیا اور وعدہ کے مطابق تمہاری امداد فرمائی اور تم کو فتح بھی دے دی۔ لیکن تمہاری کوتاہی اور امر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے تمہاری فتح شکست میں بدل گئی۔
اب تک چار فریقوں کا ذکر آچکا ہے۔ (1) ۔ مومنین مخلصین۔ (2) ۔ منافقین طاعنین۔ (3) ۔ شہداء اور (4) حضرت پیغمبر خدا ﷺ وَ لَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا الخ سے یَغْشیٰ طَائِفَۃٌ مَّنْکُمْ تک مخلصین کا ذکر ہے جس میں ان کو زجریں بھی ہیں اور قتال وانفاق کی ترغیبیں بھی ان کی کوتاہیوں پر عفو و درگذر کا اعلان بھی تاکہ ان کی ان فروگذاشتوں کی بنا پر کوئی ان کے خلاف زبان طعن نہ کھولے اس لیے ایک ہی رکوع میں دو دفعہ اعلان فرمایا۔ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ اور وَلَقَدْ عَفَا اللہُ عَنْھُمْ ، پھر فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ الخ۔ سے حضرت پیغمبر ﷺ کے مشفقانہ برتاؤ کی تعریف و تحسین فرمائی کہ جن کی غلطی شکست کا سبب بنی اور اسی طرح جو مسلمان شکست خوردہ ہو کر بھاگے ان پر سختی نہیں فرمائی۔ بلکہ پیار و محبت سے ان کی دلجوئی کہ نہ دل میں ان کے بارے میں کدورت باقی رکھی اور نہ زبان سے سختی کی فرمایا آپ کی نرم خوئی اور مشفقانہ برتاؤ یہ سب آپ پر اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے آپ کو ایسے کریمانہ اخلاق کی دولت عطا فرمائی ہے اگر آپ ان سے سختی کا برتاؤ کرتے تو وہ سب بد دل ہو کر آپ سے برگشتہ ہوجاتے آخر میں ارشاد ہوا کہ آپ ان سے درگذر فرمائیں اور آئندہ کے لیے امور مہمہ میں ان سے مشورہ کریں تاکہ مزید ان کی دلجوئی ہوجائے اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوگیا کہ اگر ماتحتوں سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو ان سے سختی نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان سے نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ اور طَائِفَۃٌ قَدْ اَھَّمَّتْھُمْ اَنْفُسُہُمْ سے اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ تک منافقین کے مختلف حالات بیان کیے ہیں اور درمیان میں ان کو زجر فرمایا کہ پیغمبر ﷺ کی وہ مشفق و مہربان ہستی جو نہ دل میں کسی کے خلاف کینہ رکھے اور نہ زبان سے سختی کرے۔ کیا اس پر خیانت کا طعن کرتے ہو۔ لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَیْ الْمُؤْمِنِیْنَ الخ پیغمبر ﷺ کی ذات تو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اس پر طعن کرنے کی بجائے تمہیں تو اس نعمت عظمی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا سے لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُوْمِنِیْنَ تک اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے فضیلت اور ان کے ثواب کا ذکر ہے۔ پھر اَلَّذِینْ اسْتَجَابُوْا سے فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ تک تین چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلے تمام مومنین مخلصین کی شان اور ان کی تعریف فرمائی۔ جو اللہ کی راہ میں لڑے۔ زخموں پر زخم کھائے اور عزیزوں کی شہادت کے صدمات برداشت کیے۔ پہلے ان کو زجریں کی تھیں یہاں ان کی دلجوئی فرمائی تاکہ ان کے زخمی دلوں کی مرہم پٹی ہوجائے پھر وَ لَا یَحْزُنْکَ سے حضرت نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ ان شریر منافقوں کا غم نہ کریں یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اس کے بعد منافقین اور مشرکین کو زجر فرمایا اور ان کو عذاب اخروی سے تخویف فرمائی۔
Ayah 3:180274 وَلَا یَحْسَبَنَّ سے وَ اللہُ بِمَاتَعْمَلُوْنَ خَبِیْر تک مضمون انفاق کا پہلی بار اعادہ ہے۔ یہاں جہاد میں خرچ کرنے کی ترغیب فرمائی ہے یعنی تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے ہو۔ یہ سب کچھ دیا ہوا تو اللہ ہی کا ہے پھر اس کا دیا ہوا مال اسی کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرنا بہت بری بات ہے۔ آخر تم مرو گے اور سب کچھ دنیا میں چھوڑ جاؤ گے۔ باقی تو صرف اللہ ہی رہے گا۔ سورة آل عمران اور سورة بقرہ میں مضمون انفاق کی آیتوں سے اس آیت کا ربط اس طرح ہے۔ سورة بقرہ میں ایک جگہ فرمایا۔ وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پھر فرمایا مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا۔ آل عمران میں علی سبیل الترقی فرمایا۔ لَا تَاکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تو درکنار تم تو قرضہ بھی سود کے بغیر نہیں دیتے ہو۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ تم ہر حال (فی السراء والضراء) اللہ کی توحید اور اس کے دین کی خاطر مال خرچ کرتے اور توحید کو ماننے والوں کی غلطیوں پر غصہ پی جاتے اور ان سے درگذر کرتے۔ اب یہاں فرمایا یاد رکھو اگر اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کیا اور اگر بخل ہی کرتے رہو گے تو آخرت میں اس کی سزا پاؤ گے اور اس کا برا نتیجہ بھگتو گے۔ وجہ الارتباط انہ تعالیٰ لما بالغ فی التحریض علی بذل الارواح فی الجھاد وغیرہ شرع ھنا فی التحریض علی بذل المال وبین الوعید الشدید لمن یبخل الخ (روح ج 4 ص 139) ۔ یہاں لَایَحْسَبَنَّ کا پہلا مفعول محذوف ہے یعنی البخل اور خَیْرًا لَّھُمْ اس کا دوسرا مفعول ہے اور ھُوَ ضمیر فصل ہے۔ قال الخلیل وسیبویہ والفراء المعنی البخل خیرا لھم ای لایحسبن الباخلون البخل خیرا لھم (قرطبی ج 4 ص 290) ۔ بخیل اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے فعل بخل کو اپنے حق میں مفید سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ نادان خیال کرتے ہیں کہ خرچ کرنے سے مال کم ہوجائے گا۔ لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے۔ بخل ان کے لیے مفید نہیں بلکہ سخت مضر اور بری چیز ہے جیسا کہ آیت کے اگلے حصہ میں بیان فرمایا۔ 275 یہ بخل کے مضر اور شر ہونے کا بیان ہے اور بخل کرنے والوں کو یعنی مال کی زکات ادا نہ کرنے والوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ نہ کرنیوالوں کے لیے تخویف اخروی ہے یہ آیت اپنے ظاہر پر محمول ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا من اٰتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکوتہ مثل لہ مالہ شجاعا اقرع لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیمۃ یاخذ بلھزمیتہ یعنی شدقیہ یقول انا مالک انا کترک ثم تلا ھذہ الایۃ (بخاری ج 2 ص 655) ۔ جس کو اللہ نے مال دیا لیکن اس نے اس کا حق ادا نہ کیا تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے اژدہا کی صورت میں متمثل کیا جائے گا۔ جس کی آنکھوں پر سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر اس سے کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
276 زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ہر چیز کا مالک اللہ ہے۔ یہ تمام اموال واملاک جو ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں یہ سب اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں اور آخر کار یہ تمام مدعی مر کھپ جائیں گے اور صرف اللہ ہی باقی رہے گا۔ جب یہ تمام اموال و املاک جو اللہ ہیں۔ اسی کے عطا کردہ ہیں اور انجام کار بھی اسی کی رہیں گی تو پھر ان چیزوں کے خرچ کرنے میں بخل کرنا اور وہ بھی اللہ کی راہ میں اور بھی مذموم اور بری بات ہے۔
Ayahs 3:181–182277 یہ ترغیب علی الانفاق اور تخویف اخروی کے بعد منافقین یہود کا شکوی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی اَقْرَضُوْا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا سے ترغیب دی تو وہ ازراہ استہزاء و تمسخر کہنے لگے کہ اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں کیونکہ وہ ہم سے قرض مانگ رہا ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا۔ یہ تخویف اخروی ہے اور یہاں سین تاکید کے لیے ہے اور لکھنے کی نسبت اللہ کی طرف مجازی ہے یعنی جو کچھ انہوں نے کہا ہے ہم ضرور کراماً کاتبین کو اسے لکھنے کا حکم دیں گے اور اسے ضرور قلمبند کرلیا جائے گا۔ ای نا مر الحفظۃ باثبات قولھم الخ (قرطبی ج 4 ص 494) ۔ والسین للتاکید ای لن یفوتنا ابدا تدوینہ واثباتہ الخ (روح ج 4 ص 141) ۔ وَقَتْلِھِمُ الْاَنْبِیَاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ ، یہ مَا قَالُوْا پر معطوف ہے یعنی ہم نے ان کا مذکورہ بالا قول اور قتل انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے قتل پر رضا مندی کا جرم بھی ان کے اعمال ناموں میں ثبت کرلیا ہے قیامت کے دن وہ خود ہی اپنے اعمالنامے پڑھ لیں گے اس وقت ان کے عذاب میں اضافہ کرنے اور ان کی حسرت و یاس بڑھانے کے لیے ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے ان سابقہ گناہوں کی پاداش میں جہنم کا عذاب چکھو۔ یہاں تک یہود کے لیے وعید اور تخویف اخروی ہے۔ ذَالِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکم وَاِنَّ اللہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعِبِیْد یہ ماقبل ہی کا تتمہ ہے اس میں بیان فرمایا کہ سزا ان کے خود کردہ گناہوں کی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں کہ بندوں کو ناحق سزا دے۔
Ayah 3:183278 یہ پہلے اَلَّذِیْنَ قَالُوْا سے بدل ہے اور اس میں یہود کے ایک قول باطل اور ان کے ایک صریح بہتان کا شکوی ہے جہاں انہوں نے ازراہ تمسخر یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے جو بندوں سے خیرات مانگتا ہے وہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ پر یہ صریح بہتان بھی باندھا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں ہم کو یہ حکم دیا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ آسمان سے آگ آئے اور اس کی قربانی کو کھا جائے اس وقت تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طعن کرنا تھا کہ چونکہ آپ نے ایسا کوئی معجزہ نہیں دکھایا اس لیے آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں (عیاذاً باللہ) نیز وہ کہتے کہ پہلے پیغمبر تو قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ لیکن یہ قربانی کا گوشت کھاتا ہے اور پہلے رسولوں کی مخالفت کرتا ہے اس لیے یہ کس طرح رسول ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہم اس کے پیش کردہ مسئلہ توحید کو بھی نہیں مانتے۔ ان دعوی اولئک الیھود ھذا العھد من مفتریاتھم (روح ج 4 ص 144) ۔ 279 یہ یہود کے کذب و افتراء شکوی اور ان کے مطالبہ کا جواب ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان کو یہ جواب دیں کہ مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ کے کئی رسول تمہارے پاس آئے اور انہوں نے تمہیں کئی معجزے بھی دکھائے اور خاص طور پر جس معجزے کا تم اب مطالبہ کر رہے ہو یعنی آسمانوں سے آگ اترے اور قربانی کی چیز کھا جائے، وہ بھی تمہیں دکھایا گیا لیکن اس کے باوجود تم نے ان رسولوں کو نہ مانا بلکہ ان میں سے کئی ایک کو تمہارے باپ دادا نے قتل بھی کردیا اس لیے تمہارا مخصوص معجزے کا مطالبہ تلاش حق اور طلب ہدایت پر مبنی نہیں بلکہ محض تعنت اور ضد کی وجہ سے تم یہ مطالبہ کر رہے ہو اگر تم اپنے مطالبہ میں صادق ہوتے اور تم سچائی اور ہدایت کے طالب ہوتے تو ان رسولوں کو مان لیتے اور ان پر ایمان لے آتے، ان کی تکذیب نہ کرتے اور نہ ان کو قتل کرتے فالمعنی ان ھذا منکم معشر الیھود تعلل و تعنت او لو جاء بالقربان لتعللوا بغیر ذالک مما یقترحونہ (بحر ج 3 ص 163) ۔
Ayah 3:184280 یہ ایک طرف حضرت رسول خدا ﷺ کے لیے تسلی ہے اور دوسری طرف جھٹلانیوالوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے فرمایا اگر یہ اہل کتاب آپ پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ اس سے غمگین اور دلگیر نہ ہوں اس قسم کے ضدی اور متعنت لوگ پہلے رسولوں کے وقت بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی ان کی تکذیب کی حالانکہ وہ تمام پیغمبر دلائل و معجزات اور اللہ کی طرف سے نور ہدایت پھیلانے والی کتابیں لے کر آئے تھے اس لیے یہ معاملہ تو پہلے انبیاء (علیہ السلام) کو بھی پیش آچکا ہے۔ وفی ذالک کمال توبیخھم و توضیح صدقہ ﷺ و تسلیۃ لہ لیس فوقھا تسلیۃ (روح ج 4 ص 145) ۔
Ayah 3:185281 یہاں دوبارہ مضمون جہاد کا اعادہ ہے اور جہاد کرنے کی ترغیب فرمائی ہے کہ جہاد میں شریک نہ ہونے کی وجہ تو یہی ہوسکتی ہے کہ اس میں موت کا ڈر ہے کہ کہیں مارے نہ جائیں لیکن یاد رکھو موت کا مزہ تو ہر کسی کو چکھنا ہے اور موت ہر حال میں آئے گی خواہ تم گھروں میں بیٹھے رہو یا قتال میں شرکت کرو اس لیے تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم جہاد کرو کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بہت بڑی نیکی اور اعلیٰ درجہ کا نیک عمل ہے اس کے دنیوی فوائد مثلاً اپنے مال و جان، عزت و آبرو اور ملک و ملت کی حفاظت اور مال غنیمت وغیرہ کے علاوہ آخرت میں بھی تمہیں اس کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ فمن زحزح عن النار الخ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر اللہ کی راہ میں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے تو سیدھے جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
282 یہ مضمون انفاق کا دوسری بار اعادہ ہے یعنی دولت دنیا تمہیں اس قدر محبوب ہے کہ تم اسے اللہ کی راہ میں بھی خرچ نہیں کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ دولت تم کو کچھ فائدہ دے گی۔ لیکن سن لو یہ دنیا کی زندگی اور اس کا سازوسامان اور مال و متاع بالکل عارضی اور فانی ہے اجر آخرت پر جو تمہیں اللہ کی راہ میں مال و جان دینے سے حاصل ہوگا۔ اس چند روزہ دنیوی عیش و عشرت کو کیوں ترجیح دیتے ہو یہ سراسر دھوکے کا سودا ہے جو اپنی ظاہری خوب صورتی سے تم کو آخرت سے غافل کر رہا ہے۔ وما نفع الحیاۃ الدنیا الا نفع الغرور ای نفع یغفل عن النفع الحقیقی لدوامہ وھو النفع فی الحیاۃ الاخرویۃ (بحر ج 3 ص 134) ای تغر المومن و تخدعہ فیظن طول البقاء وھی فانیۃ (قرطبی ج 4 ص 302) ۔
Ayah 3:186283 یہاں تیسری بار مضمون انفاق و قتال کا لف و نشر مرتب کے طور پر اعادہ کیا گیا ہے۔ فرمایا ابھی تم پر مال و جان کے سلسلے میں کئی امتحانات آئیں گے۔ مال میں امتحان یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر کارہائے خیر میں مال خرچ کرنے کا حکم ہوگا۔ یا مال پر آفات و بلیات آئیں گی اور جان میں ابتلاء یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہوگا۔ قتل و جراح، قید و بند اور دیگر مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ای لتختبرن (فی اموالکم) بالانفاق فی سبیل اللہ و بما یقع فیھا من الافات (وفی انفسکم) بالقتل والاسر والجراح و ما یرد علیھا من انواع المصائب (مدارک ج 1 ص 155) ۔ اس لیے ان امتحانات کے لیے تیار ہوجاؤ اور ان تکالیف کو برداشت کرنے کے لیے اپنی ہمتوں کو آمادہ کرلو۔ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْالْکِتٰبَ الخ یہ بھی ابتلاء ہی کی ایک صورت ہے اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰب سے یہود و نصاریٰ اور اَلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مشرکین عرب مراد ہیں اور اَذًی کَثِیْرًا سے آنحضرت ﷺ کے حق میں توہین آمیز کلمات، ہجویہ نظمیں، اسلام اور مسلمانوں پر طعن وتشنیع اور ان کا تمسخر مراد ہے۔ من الطعن فی الدین الحنیف و القدح فی احکام الشرع الشریف و صد من اراد ان یومن وتخطئۃ من اٰمن و ما کان من کعب بن الاشرف و اضرابہ من ھجاء المومنین الخ (ابو السعود ج 3 ص 167) ۔ یعنی تم اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت کچھ طعن و ملامت اور تحقیر و تذلیل کی باتیں سنو گے اور یہ بھی تمہارے حق میں ایک امتحان ہوگا۔ ان دشمنان دین اور اعداء اسلام کی باتیں سن کر تم بد دل مت ہونا۔ نہ ہمت ہارنا اور نہ ہی ان کی باتوں سے مشتعل ہو کر سنجیدگی اور تقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا اور ان تمام امتحانات کا صبر و تحمل اور متانت سے مقابلہ کرنا۔
284 اس میں ایمان والوں کو بوقت ابتلاء و امتحان جرات و شجاعت سے کام لینے اور اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دی گئی تکلیفوں پر صبر و ثبات کا دامن تھامنے کی تلقین کی گئی ہے ذَالِکَ سے صبر وتقویٰ کی طرف اشارہ ہے اور عزم الامور (ابو السعود ج 3 ص 167) ۔ اس سے موجودہ دور کے مبلغین توحید کو سبق حاصل کرنا چاہئے اگر آج کل کے مشرک مولوی، پیر اور گدی نشین ان کو گالیاں دیں، ان پر طعن وتشنیع کریں اور ان کو بےادب اور گستاخ کہہ کر بد نام کرنے کی کوشش کریں تو انہیں ان کی پر وہ کیے بغیر صبر و تحمل اور ثبات و استقلال سے اپنا کام جاری رکھنا چاہئے۔
Ayah 3:187285 یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے پہلے مومنوں کو تشجیع دلائی کہ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دی گئی ایذاؤں پر صبر کریں اب یہاں اہل کتاب کے لیے زجر کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ حق یعنی مسئلہ توحید کو مانیں گے اور اسے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں لیکن انہوں نے اس عہد و میثاق کی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَنَبَذُوْہُ وَرَاءَ ظَھُوْرِھِمْ ۔ ھم ضمیر میثاق کی طرف راجع ہے انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کی پابندی نہ کی۔ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔ بہ کی ضمیر الکتاب کی طرف راجع ہے جس کتاب کو کھول کھول کر بیان کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس کتاب کو بیان کرنے کی بجائے اسے عوام سے پوشیدہ رکھا۔ اور کوئی حق بات ان کے کانوں تک نہ پہنچنے دی اور یہ سب کچھ محض دنیائے دنی کی حقیر دولت اور دنیا کی فانی اور عارضی عیش اور اپنی گدیوں کی حفاظت کی خاطر کیا۔ اس آیت میں خاص طور پر علماء یہود مراد ہیں۔ یعنی ؟ واشیع و اشباھھما من الاحبار (ابن جریر ج 4 ص 126) یہ لوگ محض اپنی دنیوی ریاست عزت و وقار اور نذر ونیاز کی آمدنی کی حفاظت کے لیے حق چھپاتے تھے اور عوام کو الو بنا کر غلط راہ پر ڈال رکھا تھا۔
Ayah 3:188286 اس کا تعلق وَلَا تَکْتُمُوْنَہ سے ہے اور مَا اَتَوا سے کتمان حق اور تحریف کا فعل مراد ہے یعنی پہلے تو ان علماء اہل کتاب نے عہد کیا تھا کہ وہ حق بیان کریں گے مگر اب وہ ایک طرف تو عہد شکنی کر کے حق چھپا رہے ہیں اور پھر اس فعل پر خوش بھی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ہو اور ان کی حق بیانی دیانت وامانت اور ان کے علم و فضل کی تعریف کی جائے۔ قال ابن عباس ؓ ھم الیھود حرفوا التوراۃ وفرحوا بذالک واحبوا ان یوصفوا بالدیانۃ والفضل (ابو السعود ج 3 ص 170) ۔
287 یہ علماء یہود کے لیے تخویف اخروی ہے اور اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے یا ہر مخاطب سے ان کی ظاہری شان و شوکت اور ٹھاٹھ سے کوئی یہ اندازہ نہ کر بیٹھے کہ شاید آخرت میں بھی یہ لوگ عیش میں ہوں گے بلکہ اس بات کا تو کسی کے ذہن میں گمان اور خیال بھی نہ آنے پائے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے بلکہ انہیں مفسدانہ اور گمراہانہ کارروائیوں کی ضرور سزا ملے گی جو بہت ہی دردناک ہوگی۔ فاخبر ان لھم عذابا الیما بما افسدوا الدین علی عباد اللہ (قرطبی ج 4 ص 306) ۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے گدی نشین اور بدعت پسند مولوی محض اپنی گدیوں اور اپنے جھوٹے وقار کی خاطر مسئلہ توحید کو چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے۔ سورة آل عمران میں چار مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ توحید، رسالت، جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ۔ اب یہاں ان چاروں کا اعادہ کیا گیا ہے۔ پہلے مضمونِ توحید کا اعادہ ہے۔ سورة آل عمران میں چونکہ زیادہ تر نصاریٰ کی اصلاح مد نظر تھی، جو حضرت عیسیٰ ، مائی مریم اور آل عمران کو کارساز سمجھتے اور ان کو پکارتے تھے۔ اس لیے فرمایا لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰواتِ والْاَرضِ ۔
Ayah 3:189288 یعنی سب کچھ اللہ کا ہے نہ کہ حضرت عیسی، حضرت مریم اور آل عمران کے کسی بزرگ کا۔ اور ہر چیز کا خالق اور ہر چیز پر قادر بھی صرف اللہ ہی ہے نہ کہ یہ حضرات جب زمین و آسمان کا مالک اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی قدرت اس قدر کامل اور حاوی ہے کہ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں تو پھر عبادت اور پکار کے لائق بھی صرف وہی ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اور اس کے سامنے نہ کوئی شفیع غالب ہے اور نہ کوئی صفاتِ کارسازی میں اس کا شریک و نائب ہے۔ ای السلطان القاھر فیھما بحیث یتصرف فیھما و فیما فیھما کیف ما یشاء ویرید ایجادا و اعداما احیاء و اماتۃ تعذیبا واثابۃ من غیر ان یکون لغیرہ شائبۃ دخل فی شیء من ذلک بوجہ من الوجوہ (ابو السعود ج 3 ص 172) ۔
Ayah 3:190289 یہ بھی دعوی توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کی آمد و رفت میں عقل و فہم رکھنے والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اللہ کی توحید، اس کی کمال صنعت و حکمت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ اگر نظام فلکی کو دیکھا جائے تو اس میں سورج اور چاند، لا تعداد ستارے، آسمانوں اور سیاروں کی حرکات اور گردش فلک، آسمان کے آثار و نتائج، زمین کی شکل و صورت، اس پر اگنے والی کھیتیاں، باغات، پھل پھول اور زمین کے پیٹ کے خزانے، موسموں کی تبدیلی، دن رات کا اختلاف۔ دن رات کی کمی بیشی، غرضیکہ یہ امور اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور اس پورے نظام کا نظم و نسق قائم رکھنے والا بڑا ہی مدبر، صنعت و حکمت میں فرد اور صفات کمال میں واحد و یکتا ہے۔
Ayah 3:191290 اَلَّذِیْنَ یَذَّکَّرُوْنَ سے بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ تک اُولِی الْاَ لْبَاب کے اوصاف اور ان کے حالات کا ذکر ہے۔ یہاں تک ان کی صفتیں بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے اور اس کی توحید کو بیان کرتے اور اسے ہی پکارتے رہتے ہیں اور کسی حال میں بھی اس سے غافل نہیں ہوتے۔ دوم یہ کہ وہ زمین و آسمان کی مخلوقات اور کائنات عالم میں غور و تدبر کرتے رہتے ہیں اور کائنات کے ذرے ذرے سے اللہ کی توحید پر استدلال کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔
291 یہ اُوْلِی الْاَلْبَاب کی دعا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اعتراف کرتے اور کہتے ہیں اے اللہ ! تو ہی کا رساز ہے نظام عالم کے پیدا کرنے میں اور اسے چلانے میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ ای یقولون ما خلقتہ عبثا وھزلا بل خلقتہ دلیلا علی قدرتک و حکمتک۔ (قرطبی ج 4 ص 315) ۔
Ayah 3:192292 یہ اُولِیْ الْاَلْبَاب کی دوسری دعا ہے جس میں عذاب جہنم سے پناہ مانگنے کے لیے انتہائی تضرع وزاری کا اظہار ہے اور پہلی دعا کیلئے بمنزلہ علت ہے۔ یعنی اے ہمارے پروردگار تو جن مشرکوں اور نافرمانوں کو جہنم میں داخل کردے گا ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا اور انہیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور جہنم کا داخلہ انتہائی ذلت اور ہلاکت کی آخری منزل ہوگی اس لیے اے ہمارے مہربان پروردگار ہمیں اس سے محفوظ فرمائیے گا۔
Ayah 3:193293 یہ بھی ان کی دعا کی حکایت ہے اور اس میں مضمون رسالت کا اعادہ ہے کیونکہ منادی سے یہاں حضرت رسول خدا ﷺ مراد ہیں۔ یعنی اے اللہ ! تیرے پیغمبر نے مسئلہ توحید بیان کیا، ہم نے اسے مان لیا۔ جیسا کہ ابن عباس ؓ ، ابن مسعود ؓ اور ابن جریج وغیرہم سے منقول ہے۔ والمراد بالمنادی رسول اللہ ﷺ وھو المروی عن ابن مسعود و ابن عباس وابن جریج و اختارہ الجبائی وغیرہ (روح ج 4 ص 163) ۔
Ayah 3:194294 یہاں تک اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں تھیں ان سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کے پیارے اور نیک بندے تو خود اللہ کے محتاج اور اس کے سامنے عاجز ہیں اور وہ ہر دم اس کو یاد کرتے اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں اور ہر حال میں اسے ہی پکارتے ہیں اس لیے وہ کسی طرح بھی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔
Ayah 3:195295 یہاں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا دعائیں کرنے والوں کو خوشخبری سنائی ہے کہ ان کی دعائیں اس نے قبول فرمالیں کیونکہ وہ کسی کا کوئی عمل ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر اجر وثواب دیتا ہے۔ عمل کرنیوالا خواہ مرد ہو یا عورت۔ اس لیے کہ وہ دونوں کوئی جدا جدا مخلوق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی نوع کی دو شاخیں ہیں اور اعمال کی قبولیت تو عامل کے اخلاص پر موقوف ہے نہ کہ اس کے نر یا مادہ ہونے پر فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا سے وَ اللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ تک مضمون جہاد کا اعادہ ہے اس میں قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے اور مجاہدین و شہداء کے لیے بشارت اخروی کا ذکر ہے اور اس کے ضمن میں ترغیب الی الانفاق کا مضمون بھی آگیا ہے۔
Ayahs 3:196–197296 لَا یَغُرَّنَّکَ میں خطاب آں حضرت ﷺ سے ہے اور مراد آپ کی امت ہے الخطاب للنبی ﷺ و المراد منہ امتہ و کثیرا ما یخاطب سید القوم بشیء و یراد اتباعہ فیقوم خطابہ مقام خطابھم (روح ج 4 ص 171) اور یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب عام ہو نبی کریم ﷺ کو اور بطریق تغلیب امت کو بھی۔ ویحتمل ان یکون عاما للنبی ﷺ وغیرہ بطریق التغلیب تطییبا لقلوب المخاطبین (روح) اور تقلب فی البلاد سے بسلسلہ تجارت مختلف شہروں میں آمد و رفت مراد ہے۔ والمراد بتلقب الذین کفروا فی البلاد تصرفھم فی التجارات و المکاسب (کبیر ج 3 ص 185) یعنی کافروں کی تجارتیں، ان کے پاس دولت کی فراوانی اور وسعت عیش کہیں آپ کو اس دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ خدا کے یہاں ان کی کوئی قدر و منزلت ہے اور آخرت میں بھی ان کو اسی طرح عیش و عشرت کی مسرتیں حاصل ہوں گی۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ یہ دنیا کی حقیر دولت اور چند روزی عیش و عشرت خدا کے اس اجر وثواب کے مقابلہ میں بالکل قلیل اور بےوقعت ہے جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔ اس لیے اے ایمان والو ! دنیوی منافع کو کوئی وقعت نہ دو بلکہ اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کی خاطر اپنی دولت جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر نیک کاموں میں خرچ کرو۔ ثُمَّ مَاوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہَادُ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بجائے عیش و طرب اور لہو و لعب میں اپنی دولت برباد کرتے ہیں۔
Ayah 3:198297 یہ بشارتِ اخروی ہے ماقبل سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ تجارت ہر حال میں بری چیز ہے اس لیے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اپنے ہر کام مثلاً تجارت، زراعت، معیشت، معاشرت وغیرہ میں اللہ کی رضامندی اور اس کے احکام کی پابندی کو مد نظر رکھیں تو ان کے لیے آخرت میں خدا کے یہاں شاندار مہمانی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لیے جو ثواب مقدر ہے وہ دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ وَ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۔ مشرکوں کا مال ترویج شرک کے لیے اور مومنین کا مال اشاعت توحید کے لیے خرچ ہوتا ہے اس لیے توحید کی خاطر خرچ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ اس طرح اس آیت سے ترغیب الی الانفاق کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 3:199298 پہلے وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِینْ اُوْتُوْا لْکِتٰبَ الخ (رکوع 19) میں مسئلہ توحید کو نہ ماننے والے اہل کتاب کو زجر کے مقابلہ میں یہاں ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے جو ان میں دعویٰ مذکورہ مان چکے ہیں اور اس میں نہ ماننے والوں کے لیے ترغیب کا پہلو بھی موجود ہے۔ یعنی اکثر اہل کتاب مسئلہ توحید نہیں مانتے۔ حالانکہ ان میں سے بعض مان چکے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حق نہ ہوتا تو وہ کیوں مانتے۔ اس لیے انہیں بھی مسئلہ توحید پر ایمان لے آنا چاہئے۔