3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsجواھر القرآن

Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو خرچ کئے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں201 اور دبا لیتے ہیں غصہ اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو اور اللہ چاہتا ہے نیکی کرنے والوں کو

201 یہ اَلْمُتَّقِیْنَ کی نعت ہے اور فریق اعلیٰ کی پہلی صفت ہے اس میں ترغیب الی الانفاق کا پہلی بار اعادہ کیا گیا ہے۔ ظرف یُنْفِقُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور سَرَّاء سے فراخی اور ضَرَّاء سے تنگدستی مراد ہے۔ عن ابن عباس فی العسر والیسر (ابن جریر ص 57 ج 4) یعنی وہ ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خواہ دولت مند ہوں یا مفلوک الحال ہوں۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ یہ فریق اعلیٰ کی دوسری صفت ہے۔ کظم الغیظ کے معنی غصہ پی جانے اور ضطب کرنے کے ہیں یعنی وہ لوگ غصے کی حالت میں مغلوب الغضب نہیں ہوجاتے بلکہ غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر قابو پالیتے ہیں اور اس کو عملی جامہ نہیں پہناتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اَلْکَظِمِیْنَ الْغَیظَ فرمایا ہے الفاقدین الغیظ نہیں فرمایا کیونکہ غصہ غیرت وحمیت اور حرارت طبیعیہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے اس لیے غصہ کا بالکل پیدا ہی نہ ہونا یہ کوئی خوبی نہیں بلکہ عیب ہے خوبی تو یہ ہے کہ غصہ آئے لیکن اسے ضبط کرلیا جائے وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ یہ فریق اعلیٰ کی تیسری صفت ہے یعنی وہ قصور وار لوگوں کے قصور معاف کردیتے ہیں اور دل میں کسی قسم کی ناراضگی نہیں رکھتے یہ درجہ اَلْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ سے بلند تر ہے یعنی وہ نہ صرف یہ کہ غصہ پی جاتے ہیں اور انتقام نہیں لیتے بلکہ سرے سے قصور اور خطا ہی کو معاف کردیتے ہیں اور خطا کار کے متعلق دل میں کوئی کدورت نہیں رکھتے۔ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یہ ماقبل کا تکملہ اور احسان سے یہاں انعام مراد ہے اور یہ درجہ پہلے دونوں درجوں سے بلند تر ہے یعنی وہ عفو و درگذر سے آگے بڑھ کر انعام واکرام اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کھلا گناہ یا برا کام کریں اپنے حق میں تو یاد کریں اللہ کو اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی202 اور کون ہے گناہ بخشنے والا سوا اللہ کے203 اور اڑتے نہیں اپنے کئے پر اور وہ جانتے ہیں

202 اس کا عطف اَلَّذِیْنَ یُنفِقُوْنَ پر ہے اور یہ متقین کے فریق ادنی کا ذکر ہے۔ ذکر اللہ تعالیٰ فی ھذہ الایۃ صنفا ھم دون الضیف الاول فالحقھم بہ برجستہ ومنہ فھؤلاء ھم التوابون (القرطبی ص 209 ج 4) فاحشہ اور ظلم نفس کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ فاحشہ سے کبیرہ گناہ اور ظلم ونفس سے صغیرہ گناہ مراد ہے۔ الفاحشۃ ہی الکبیرۃ وظلم النفس ہی الصغیرۃ (کبیر ص 77 ج 3، بحر ص 59 ج 3، مدارک ص 142 ج 1) اور بعض نے کہا ہے کہ فاحشہ مطلق گناہ کو کہتے ہیں اس کا تعلق خواہ بندے کی حق تلفی سے ہو یا خدا کی حق تلفی سے۔ الفاحشۃ تطلق علی کل معصیۃ (قرطبی ص 210 ج 4) اور ظلم نفس سے حقوق اللہ کا اتلاف مراد ہے۔ وظلم النفس مابین العبد وبین ربہ (بحر ص 59 ج 3) بہر تقدیر فاحشہ میں اس تیر انداز دستے کا جرم بھی داخل ہے جن کو جنگ احد میں حضرت نبی اکرم ﷺ نے ایک پہاڑ راستے پر متعین فرمایا تھا۔ اور ان کو حکم دیا تھا کہ اگرچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوجائے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں۔ مگر ان سے اس معاملہ میں کوتاہی ہوگئی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ وایاما کان فباطلاق الفظ ینتظم ما فعلہ المرماۃ انتظاما اولیاء (روح ص 60 ج 4) یہ آیت ان دو گروہوں کو بھی شامل ہے۔ جو منافقین کی دیکھا دیکھی ہمت ہارنے لگے تھے۔ مگر اللہ نے ان کو سنبھلنے کی توفیق دے دی۔ اسی طرح جو مسلمان جنگ احد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے تھے اور بعد میں تائب ہوگئے تھے۔ وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ ذَکَرُوْا اللہَ سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ بغاوت و انکار کے جذبہ کے تحت خدا کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ احکام الٰہی سے ذہول اور وعید اخروی سے غفلت کی وجہ سے ان سے معصیت کا ارتکاب ہوجاتا ہے۔ مگر جونہی ان کو خدا کا حکم اور اس کی وعیدیں یاد آتی ہیں وہ فوراً نادم ہوجاتے اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ 203 ۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تنبیہ فرما دی کہ اللہ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا نہ کوئی پیغمبر، نہ کوئی ولی اور نہ کوئی فرشتہ اس لیے اللہ کے سوا کسی کے سامنے گناہ کی معافی کی درخواست نہ کی جائے۔ وَلَمْ یُصِرُّوْ ا عَلیٰ مَافَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ یعنی جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے تو وہ فوراً پشیمان ہو کر خدا سے استغفار کرتے ہیں اور جان بوجھ کر گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ اصرار یہ ہے کہ انسان بار بار گناہ کرے اور دل سے ہر دفعہ یوں کہے کہ اچھا اب کہ گناہ کرلیتا ہوں کل توبہ کرلوں گا والاصرار ھو التسویف والتسویف ان یقول اتوب غدا (قرطبی ص 211 ج 4) تو اس اصرار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے کبھی توبہ کی توفیق نہیں ملتی اور وہ اسی طرح گناہوں میں ملوث ہی دنیا سے چل لیتا ہے۔
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

انہی کی جزا ہے بخشش ان کے رب کی اور باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہینگے وہ لوگ ان باغوں میں اور کیا خوب مزدوری ہے کام کرنیوالوں کی204

204 یہ دونوں فریقوں کے لیے مشترکہ اخروی بشارت ہے کہ ان کو گناہوں کی معافی مل جائے گی۔ اور بطور انعام جنت کی پر عیش اور دائمی زندگی نصیب ہوگی اس معافی نامہ میں وہ تمام مسلمان بھی داخل ہیں جن سے جنگ احد میں مختلف شکلوں میں غلطیاں اور کو تاہیاں سرزد ہوگئی تھیں۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

ہوچکے ہیں تم سے پہلے واقعات سو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا205

205 یہ تخویف دنیوی ہے اور سُنَنٌ کے سے مراد گذشتہ مکذبین کے واقعات ہیں ای وقائع فی الامم المکذبۃ (روح ص 64 ج 4) یعنی اللہ کی توحید اور خدا کے پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کی تباہی و بربادی کے کئی واقعات تم سے پہلے وقوع پذیر ہوچکے ہیں ان سے اندازہ لگا لو کہ مکذبین کا کیا حشر ہوا۔ اس سے مسلمانوں کو گناہوں (مثلا ً سود خوری، میدان جنگ میں بزدلی دکھانے اور میر کی اطاعت سے سرتابی کرنے وغیرہ سے بچنے اور طاعات (مثلاً جہاد، انفاق، اطاعت امیر وغیرہ) بجالانے کی ترغیب دینا مقصود ہے (روح )
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ بیان ہے لوگوں کے واسطے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کو206

206 ھٰذَا کا اشارہ قرآن کی طرف ہے۔ قال الحسن وقتادۃ وابن جریج والربیع الاشارۃ الی القرآن (بحر ص 61 ج 3) قرآن کی صفت بیان کو تمام لوگوں کے لیے عام کیا۔ اور ہدایت وموعظت کو متقین سے مخصوص کردیا کیونکہ یہ قرآن اعلان و اظہار اور بلاغ وبیان تو تمام دنیا کے لیے ہے لیکن اس کی ہدایت اور پندونصیحت سے نفع صرف وہی لوگ اٹھاتے ہیں۔ جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہو اور وہ اللہ کی طرف انابت کریں اور ضد وعناد سے بچیں یا ھذا سے پہلے تمام مذکورہ واقعات کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان رکھتے ہو207

207 یہاں پھر مضمون جہاد کا اعادہ کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ رکوع 18 میں فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ تک چلا گیا ہے۔ اس ٓیت میں اللہ تعالیٰ نے تشجیع علی القتال اور ترغیب الی الجہاد کی کے ساتے ساتھ مسلمانوں کو جنگ احد کے نقصانات کے بارے میں تسلی بھی دی ہے اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی ہے۔ عزاھم وسلاھم بما نالھم یوم احد من القتل والجراح وحثھم علی قتال عدوھم ونھاھم عن العجز و الفشل (قرطبی ص 216 ج 4) لَاتَھِنُوْا، وَھْنٌ سے ہے جس کے معنی کمزور دکھانے کے ہیں یعنی اے ایمان والو دشمن کے مقابلہ میں کمزوری اور بدلی مت دکھاؤ اور احد میں جو کچھ ہوچکا اب اس کا غم اور افسوس چھوڑ دو اور یاد رکھو اگر تم ایمان کے تمام تقاضے صحیح معنوں میں پورے کرو گے۔ تو دنیا میں ہمیشہ سر بلند اور غالب رہو گے اور دنیا کی کوئی طاقت تم کو مغلوب ومقہور نہیں کرسکے گی۔ ہاں اگر کبھی وقتی طور پر شکست بھی ہوگئی تو وہ اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان کے طور پر ہوگی۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر پہنچا تم کو زخم تو پہنچ چکا ہے ان کو بھی زخم ایسا ہی208 اور یہ دن باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو لوگوں میں اور اس لئے کہ معلوم کرے اللہ جن کو ایمان ہے اور کرے تم میں سے شہید اور اللہ کو محبت نہیں ظلم کرنیوالوں سے209

208 یہ جہاد سے متعلق مذکورہ شبہ کا علی سبیل الترقی جواب ہے اور القوم سے مشرکین مراد ہیں۔ اور فَقَدْ مَسَّ الْقَوْم جزائے محذوف کے قائم مقام ہے مثلاً فَلَا تَحْزَنُوْا یعنی اگر احد میں تم نے مشرکین کی طرف سے زتو اس کا غم مت کرو وہ بھی تو بدر میں تمہارے ہاتھوں شکست کھاچکے ہیں۔ اگر احد میں تم کو شکست ہوئی تو یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی یہ بھی ممکن ہے کہ جزائے محذوف فلا تضعفوا (بحر ص 62 ج 3، مدارک ص 143 ج 1) یعنی اگر احد میں تم کو شکست ہوئی ہے تو تم اس سے شکستہ خاطر نہ ہوجاؤ اور نہ آئندہ کے لیے جہاد میں کمزوری دکھاؤ تم دیکھتے نہیں کہ بدر میں مشرکین کو تمہارے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی مگر اس کے باوجود وہ کمزور نہیں ہوئے اور احد میں تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے لاؤ لشکر لے کر پہنچ گئے۔ جنگ احد میں ستر مسلمان شہید اور ستر زخمی ہوئے تھے۔ 209 وَلِیَعْلَمَ میں واو عاطفہ ہے۔ اور اس کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ ای لیکون کیت وکیت ولیعلم الخ۔ اور معطوف علیہ محذوف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ مداولت ایام سے مقصد صرف کھرے کھوٹے کا اظہار ہی نہیں۔ بلکہ اس میں اور بھی کئی مصلحتیں ہیں۔ (کبیر ص 82 ج 3) لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ واؤ زئداہ ہے اور لِیَعْلَمَ ما قبل کی علت ہے۔ اور یَتَّخِذَ ، لِیَعْلَمَ پر معطوف ہے اور علم سے یہاں اظہار اور تمیز مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ازل ہی سے سب کو جانتا ہے اور شہداء سے شہداء احد مراد ہیں واراد بھم شہداء احد کما قالہ الحسن قتادۃ وابن اسحاق (روح ص 69 ج 4) حاصل آیت یہ ہوا کہ ہم فتح وشکست کو تمہارے دشمنوں کے درمیان اس لیے گھماتے ہیں تاکہ مومنوں اور منافقوں کو ظاہر کر کے ایک دوسرے سے ممتاز اور الگ کردیں اور خوش قسمت مومنوں کو درجہ شہادت سے سرفراز کریں۔ ای لیری اللہ الذین ایمنوا فیمیز المؤمن من المنافق ویتخذ منکم شھداء یکرم اقواما بالشھادة (معالم ص 357 ج 1) ۔ وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظَّا لِمِیْنَ یعنی ان کافروں ظالموں کی وقتی فتح سے ان کے حق پر ہونے کا تو کسی کے دل میں وسوسہ بھی نہ آئے اللہ تعالیٰ تو ان کو پسند ہی نہیں کرتا۔ کافروں کی یہ ہنگامی کامیابیاں تو اللہ کی تکوینی مصلحتوں کے تحت رونما ہورہی ہیں۔
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس واسطے کہ پاک صاف کرے اللہ ایمان والوں کو اور مٹا دیوے کافروں کو210

210 یہ بھی لِیَعْلَمَ پر معطوف ہے۔ تمحیص کے معنی ہیں خالص کرنا اور یہاں مراد ہے گناہوں سے پاک وصاف کرنا اور محق سے مراد مٹانا اور غنا کرنا ہے یعنی فتح وشکست کے الٹ پھیر کرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ تاکہ ایمان والوں کو گناہوں کی میل سے پاک وصاف کیا جائے اور کافروں کا ستیصال کر کے ان کا نام ونشان مٹا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر فتح کافروں کی ہو تو اس سے مومن اور منافق میں امتیاز ہوتا ہے۔ اور مسلمان مقتولین شہادت کا درجہ پاتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ مومنوں کو گناہوں سے پاک کرتا ہے اور اگر فتح مسلمانوں کی ہو تو اس سے کافروں کا استیصال ہوتا ہے۔ یعنی ان کانت الدولۃ علی المومنین فلیتمیزوا الستشہاد والتمحیص وان کانت علی الکافرین فلتمحصھم ومحوا اٰثارھم (مدارک ص 143 ج 1)
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہوجاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو211

211 ترغیب الی الجہاد کے بعد یہ مومنوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے اور علم سے یہاں بھی بدستور اظہار اور تمییز مراد ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے احد میں کمزوری دکھائی اور شکست خوردہ ہو کر بھاگ نکلے تھے یہاں فتح وشکست کے الٹ پھیر کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے۔ جو مداولت کی مذکورہ تینوں علتوں کا نتیجہ ہے۔ خطاب للمنھزمین یوم احد وھو کلام مستانف لبیان ماھی الغایۃ القصوی من المداولۃ والنتیجۃ لما ذکر من العلل الثلث الاول (روح ص 70 ج 4) یعنی تم احد کی شکست وریخت اور جراحات سے اس قدر کیوں دلگیر ہو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت کے اعلیٰ درجات ابتلاء وامتحان، میدان جنگ میں کشت وخون اور صبر و استقامت کے بغیر ہی حاصل کرلوگے ؟ ہرگز نہیں بلکہ تم کو بڑے بڑے مشکل اور دشوار امتحانات سے گزرنا ہوگا۔ میدان جنگ میں ہمت و استقلال سے محض اللہ کی رضا کی خاطر اور توحید کو سربلند کرنے کے لیے جہاد کرنا ہوگا۔ اور پھر جہاد میں تمہارا مالی نقصان بھی ہوگا۔ تمہیں زخم بھی آئیں گے اور احباب و اقارب کی شہادت کا صدمہ بھی اٹھانا ہوگا۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو آنکھوں کے سامنے212

212 اَنْ تَلْقَوْهٗ اور رَاَیْتُمُوْهُ میں ضمیر منصوب الموت کی طرف راجع ہے اور الموت سے موت شہادت مراد ہے۔ المراد بالموت ھنا الموت فی سبیل اللہ تعالیٰ وھی الشہادۃ (روح ص 71 ج 4) اس آیت میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں اس غیر حاضری پر سخت نادم ہوئے اور تمنا کرنے لگے کاش کہ اب ہمیں اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ملے اور ہم بھی شہادت کی سعادت عظمی حاصل کرلیں۔ لیکن جب ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنگ احد میں اپنی تمنائے شہادت پورا کرنے کا موقع دیا تو ان میں سے بہت سوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ثابت قدم نہ رہ سکے اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر و عتاب فرمایا کہ تم تو شہادت فی سبیل اللہ کی تمنا کرتے تھے لیکن جب اللہ نے تم کو موقع دیا اور تم نے اپنی آنکھوں سے اس کا معائنہ کرلیا تو میدان چھوڑ بھاگے فلایۃ عتاب فی حق من انھزم لا سیما وکان منھم حمل للنبی ﷺ علی الخروج من المدینۃ (قرطبی ص 231 ج 3)
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہے ہوچکے اس سے پہلے بہت رسول213 پھر کیا اگر وہ مرگیا یا مارا گیا تو تم پھر جاؤ گے الٹے پاؤں اور جو کوئی پھرجائے گا الٹے پاؤں تو ہرگز نہ بگاڑیگا اللہ کا کچھ214 اور اللہ ثواب دے گا شکر گزاروں کو

213 یہ بھی مومنین کے لیے زجر ہے جنگ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر کی امارت میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ لشکر کی پشت پر متعین فرمایا تاکہ دشمن پیچھے سے آکر حملہ نہ کرسکے۔ اور ان کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو فتح ہو یا شکست وہ ہر حال میں اسی جگہ ڈٹے رہیں اور یہاں سے ہرگز نہ ہلیں ادھر جنگ شروع ہوگئی اورحضور ﷺ اور صحابہ نے مشرکین پر ایسا زبردست حملہ کیا کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ سب بھاگ نکلے۔ جب تیرانداز دستہ نے دیکھا کہ میدان مشرکین سے خالی ہوچکا ہے اور مسلمان فتحیاب ہو کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہماری فتح ہوچکی ہے اس لیے اب یہاں ٹھہرے رہنے کی ضرورت نہیں چناچہ وہ اپنے امیر کے روکنے کے باوجود مورچہ چھوڑ کر میدان کی طرف لپکے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے صرف چند تیر انداز حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ باقی رہ گئے چناچہ جب سپاہ مشرکین کے دائیں بازو کے امیر خالد بن ولید نے دیکھا کہ مسلمانوں کی پشت خالی ہے تو اڑھائی سو سواروں کے دستے سے فوراً پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ ادھر عبداللہ بن قمیہ آنحضرت ﷺ پر حملہ آور ہوا حضرت مصعب بن عمیر جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کا جھنڈا تھا آنحضرت ﷺ کو بجانے کے لیے سامنے ہوگئے اور ابن قمیہ شقی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ابن قمیہ نے سمجھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کر ڈالا ہے اس لیے چلا کر کہا کہ میں نے محمد کو قتل کردیا اس پر ابلیس لعین نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ محمد قتل ہوگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر مسلمانوں کی ہمتیں پست ہوگئیں۔ کچھ ان میں سے بھاگ نکلے اور کچھ مشرکین سے صلح کی سوچنے لگے۔ ادھر اس افواہ سے منافقین نے فائدہ اٹھا یا۔ اور بعض ضعیف الایمان مسلمانوں سے کہنے لگے کہ اگر محمد قتل ہوگئے ہیں تو تم اپنے پہلے دین میں واپس آجاؤ۔ وذالک ان المنافقین قالوا الضعۃ المسلمین ان کان محمد قتل فالحقوا بدینکم (کبیر ص 87 ج 3) اس پر بعض انصاریوں نے ان سے کہا کہ اگر محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا۔ آؤ اسی مقصد اور مشن کی خاطر لڑو جس کی خاطر محمد ﷺ لڑتے رہے یعنی دین اسلام اور رب محمد ﷺ کی توحید اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ خدا نہیں ہیں کہ ان پر موت نہ آئے بلکہ وہ اللہ کے رسول ہی تو ہیں اور موت تو ہر جاندار کے لیے مقدر ہے جو اپنے وقت پر ضرور آئے گی۔ تو کیا اگر محمد ﷺ فوت ہوجائیں یا شہید کردئیے جائیں تو تم دین اسلام کو چھوڑ کر پھر سے پہلا دین قبول کرلو گے آپ سے پہلے بھی تو ہزاروں پیغمبر گزرے ہیں۔ لیکن جب وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تو ان کی امتوں نے ان کی وفات کے بعد ان کے دین کو چھوڑا نہیں بلکہ وہ ان کے بعد بھی انہیں کے ادیان پر قائم رہے۔ حاصل یہ کہ پیغمبر کی وفات سے اس کا دین ختم نہیں ہوجاتا۔ اور نہ باطل ہوجاتا ہے۔ 214 لیکن اس فہمائش کے باوجود اگر کوئی دین اسلام سے پھرجائے تو وہ خدا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اور ہی اس کے ارتداد سے مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی صداقت پر کچھ اثر پڑے گا۔ بلکہ اس سے وہ اپنی ہی عاقبت خراب کرے گا۔ بل یضر نفسہ یعرضھا للعقاب بسبب الخالفۃ واللہ تعالیٰ لاتنفعہ الطاعۃ ولا تضرہ العصیۃ لغناہ (قرطبی ص 226 ج 4) وَسَیَجْزِیْ اللہُ الشَّاکِرِیْنَ اور جو لوگ نعمت اسلام کی قدر کریں گے اور دین توحید پر قائم اور ثابت قدم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اس کی عمدہ جزا دے گا۔ الذین لم ینقلبوا وسماھم شاکرین لانھم شکروا نعمۃ اسلام فیما فعلا (مدارک ص 144 ج 1) ۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی مر نہیں سکتا بغیر حکم اللہ کے لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر215 اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا دیویں گے ہم اس کو دنیا ہی سے216 اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت کا اس میں سے دیویں گے ہم اس کو اور ہم ثواب دینگے احسان ماننے والوں کو

215 پھر مضمون جہاد کا اعادہ ہے یہاں سے وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ تک مختلف طریقوں سے ترغیب الی القتال ہے۔ ھذا حض علی الجھاد واعلام ان الموت لا بد منہ (قرطبی ص 226 ج 4) یعنی موت کے ڈر سے جہاد مت ترک کرو کیونکہ موت تو ہر حال میں اپنے مقررہ وقت پر آئے گی خواہ تم گھر ہی کیوں نہ بیٹھے رہو اور اس لیے پھر بہتر یہی ہے کہ تم خدا کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جاؤ اور رتبہ شہادت حاصل کرو۔ 216 جہاد کرنے سے گھاٹے میں کوئی بھی نہیں رہتا کیونکہ موت تو ہر حال میں آکر رہے گی۔ خواہ گھر بیٹھا رہے یا جہاد میں شریک ہو۔ جہاد سے اگر کسی کی غرض ثواب دنیا یعنی مال غنیمت ہو تو اسے اس سے جو اس کا مقدر ہے مل جاتا ہے اور اگر کسی کی غرض محض اللہ کے دین کو سر بلند کرنا اور آخرت میں اجر وثواب پانا ہو تو اللہ کے یہاں اس کی بھی کمی نہیں اس آیت میں تیر انداز دستہ کے فعل سے تعریض ہے۔ جنہوں نے مال غنیمت کی خاطر اپنا مورچہ چھوڑا۔ نیز ان لوگوں کی مدح ہے جو مورچہ پر اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ وھذا تعریض بمن شفلتھما لغنائم یوم احد من مصلحۃ رسول اللہ ﷺ واشارۃ الی مدح الثابتین مع رسول اللہ ﷺ (روح ص 78 ج 4) سَسَنَجْزِیْ الشَّاکِرِیْنَ ۔ جنگ احد میں جو لوگ ثابت قدم رہے اور اپنے فرائض سے غافل ہو کر مال غنیمت کی طرف مائل نہیں ہوئے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مزید انعام واکرام کا وعدہ فرمایا ہے۔ جزا کی کمیت وکیفیت کو مبہم چھوڑ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ ان کی جزا اس قدر جزیل و جمیل ہوگی کہ اس کا اندازہ سوا اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ وسنجزی الجزاء المبھم الذین شکروا نعمۃ اللہ فلم یشغلھم شیئ عن الجھاد (مدارک ص 145، ج 1)
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں217 اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے

217 یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے مخلص اور بہادر مجاہدین کی ہمت و شجاعت اور ان کے عزم و استقلال کا ذکر کرے زجر آمیز انداز سے مسلمانوں کو غیر وجرات دلائی ہے اور انبیاء سابقین کے متبعین کی طرح ثابت قدم رہنے کی تلقین کی ومعنی الایۃ تشجیع المؤمنین والمر بالابتداء بمن تقدم من خیار اتباع الانبیاء (قرطبی ص 229 ج 4) ، رِبِّیُّوْنَ ۔ رِبِّیٌُّ کی جمع ہے جو رَبٌّ کی طرف منسوب ہے اور اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے مخلص اللہ والے اور فرمانبردار لوگ مراد ہیں۔ والربیون الربانیوں (مدارک ص 145 ج 1) اور بعض نے کہا ہے کہ رِبِّیٌّ رِبَّةٌ کی طرف منسوب ہے جس کے معنی جماعت کے ہیں اور رِبِّیٌّ کے معنی مطلق جماعت کثیر یا دس ہزار افراد پر مشتمل جماعت کے ہیں تو اس طرح رِبِّیُّوْنَ کے معنی ہوں گے بہت سی جماعتیں یا ہزارہا افراد پر مشتمل جماعتیں۔ والربیون الالوف الکثیرۃ وقال ابن بن تغلب الربی عشرۃ الاف (قرطبی ص 230 ج 4) مَاوَھَنُوْا انہوں نے جہاد کی مشقتوں اور تکلیفوں کے پیش نظر بزدلی نہیں دکھائی۔ وَمَا ضَعُفُوْا۔ یعنی مست اور کمزور نہیں ہوئے۔ وَمَاسْتَکَانُوْا اور دشمن کے سامنے جھکے نہیں نہ صلح کے لیے اور نہ اس کا دین قبول کرنے کے لیے ای فما جبنوا وما فتروا عن الجھاد ومخضعوا لعدوھم (روح ص 84 ج 4) وَاللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس قدر تکلیفیں اٹھائیں اور صبر واستقامات دکھائیں۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر218

218 یہ ماقبل کا تتمہ اور تاکید ہے حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی امتوں کے جان نثار مجاہدین جہاد میں سستی بزدلی اور کمزور دکھانے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے اس طرح صبر و استقامت کی دعائیں اور گناہوں کی معافی کے لیے درخواستیں کیا کرتے تھے اس لیے تمہارا طرز عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پھر دیا اللہ نے ان کو ثواب دنیا کا اور خوب ثواب آخرت کا اور اللہ محبت رکھتا ہے نیک کام کرنے والوں سے219

219 تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقلال کے عوض اور ان کی دعاء وازری کی بنا پر ان کو دنیا کی جزاء یعنی فتح ونصرت اور مال غنیمت بھی دی اور آخرت میں بھی ان کو اجر جزیل ثواب جمیل اور جنات نعیم عطا کرنے کا فیصلہ فرمایا اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اخلاص نیت اور احسان عمل کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ مخلص اور محسن لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔
Ayah 3:149

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم کہا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو پھیر دیں گے الٹے پاؤں پھر جا پڑو گے تم نقصان میں220

220 یہ مومنوں کو کافروں کے اتباع سے زجر ہے۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ الذین کفروا سے مشرکین مراد ہیں جو مسلمانوں کو شرک کی طرف بلاتے اور ان کو جہاد میں شریک ہونے روکتے تھے۔ قال السدی ھم ابو سفیان و اصحابہ من عباد الاوثان (بحر ص 76 ج 3) یعنی اے ایمان والو مشرکین کی اطاعت مت کرو اور جہاد میں سستی اور کمزوری مت دکھاؤ یا اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْ سے وہ منافقین مراد ہیں جنہوں نے شکست احد کے وقت مسلمانوں سے کہا تھا کہ اپنے آبائی دین میں واپس آجاؤ قال علی ؓ یعنی المنافقین فی قولھم للمؤومنین عند الھزیمۃ ارجعوا الی اخوانکم وادخلوا فی دینکم (معالم ص 262 ج 1) یعنی اگر تم ان منافقوں کی بات مان لو گے تو وہ تمہیں پھر کفر وشرک کی طرف دھکیل دیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دنیا اور آخرت کی خیر وسعادت سے محروم ہوجاؤ گے اور یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔
Ayah 3:150

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ تمہارا مددگار ہے اور اس کی مدد سب سے بہتر ہے221

221 یہ مشرکین اور منافقین تمہارے خیر خواہ نہیں ہیں یہ کبھی آڑے وقت میں تمہارے کام نہیں آئیں گے اس لیے اللہ تعالیٰ جو تمہارا دوست اور بہترین ناصر و مددگار ہے جو کسی سے مغلوب نہیں ہوتا اور جو زندہ جاوید ہے اور کبھی نہیں مرے گا اس کے ہوتے ہوئے تم کیوں کمزوری دکھاتے اور نصرت ویاری اور پناہ جوئی کے لیے غیروں کی طرف جھکتے ہو ان آیتوں کا شان نزول اگرچہ خاص ہے لیکن ان کا حکم قیامت تک کے لیے عام ہے اگر مسلمان کسی بھی زمانے میں کفار ومشرکین کی اطاعت کریں گے اور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہبی معاملات، ملکی اور سیاسی مسائل، معاشی اور معاشرتی امور میں غیر مسلموں کی تقلید کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غیر شعوری طور پر اسلام سے بالکل بیگانہ ہوجائیں گے۔ نام اسلام کا ہوگا مگر کام سارے کافرانہ ہوں گے جیسا کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

اب ڈالیں گے ہم کافروں کے دل میں ہیبت اس واسطے کہ انہوں نے شریک ٹھہرایا اللہ کا جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری222 اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے ظالموں کا

222 یہ آیت ماقبل کا تتمہ ہے۔ اَلرُّعْبُ خوف وہراس۔ بِمَا میں باء سببیہ ہے اور بِهٖ میں ضمیر دوسرے مَا کی طرف راجع ہے جو معبودان باطل سے کنایہ ہے۔ اور اس کا مضاف محذوف ہے ای بمعبودیتہ سلطاناً حجت اور دلیل۔ حجۃ وبیانا وعذرا وبرھانا (قرطبی ص 233 ج 4) یعنی کافروں کی اطاعت مت کرو اور کمزوری مت دکھاؤ ہم تمہاری مدد کریں گے اور دیکھو ہم بھی ان مشرکین کے دلوں پر تمہارا رعب اور خوف مسلط کیے دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ بزدلانہ انداز میں شکست کھا کر بھاگ نکلیں گے اور یہ اس لیے کہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی عباددت میں ایسے معبودوں کو شریک کرتے ہیں جن کے معبود ہونے اور غائبانہ دعاء و پکار کے لائق ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل اور حجت نازل نہیں فرمائی یعنی ان کی بزدلی اور خوف وہراس کی وجہ اور علت شرک ہے کیونکہ مشرک کا اعتماد اور بھروسہ غیر اللہ کے کمزور ترین سہاروں پر ہوتا ہے اور کمزور سہاروں پر اعتماد کا اثر نفسیاتی اور تکوینی طور پر ہمیشہ خوف، کمزوری اور بزدلی ہوتا ہے۔ اور یہ القاء رعب کا واقعہ عین جنگ احد میں نہایت معجزانہ طریقے سے پیش آیا۔ احد میں جب مشرکین نے تیر انداز دستہ کی غلطی سے یہ فائدہ اٹھا کر پیچھے سے مسلمانوں پر پر حملہ کردیا۔ اورحضور ﷺ کے شہید ہونے کی افواہ پھیلا دی۔ اس پر مسلمان بد دل ہو کر منتشر ہوگئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ ثابت قدم رہی اس پر اس پر حضرت نبی اکرم ﷺ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو آواز دی جب ان کو پتہ چلا کہ آپ تو زندہ ہیں اور شہید نہیں ہوئے تو سب واپس آکر آپ کے گرد جمع ہونے لگے اس وقت مشرکین کے دلوں پر مسلمانوں کا اسقدر رعب چھایا کہ سب میدان چھوڑ بھاگےحضور ﷺ نے ان کا تعاقب کرنے کا حکم دیا چناچہ مسلمان مجاہدین نے حمراء الاسد (ایک جگہ) تک مشرکین کا تعاقب کیا۔ ان الکفار لما استوالوا علی المسلمین وھزموھم اوقع اللہ الرعب فی قلوبھم فترکوھم وفروا منھم من غیر سبب (کبیر ص 94 ج 3) وَبئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ ۔ دنیا میں تو ان کو تمہارے ہاتھوں ذلیل کروں ہی گا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے بد ترین ٹھکانا ہے یعنی جہنم۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور اللہ تو سچا کرچکا تم سے اپنا وعدہ جب تم قتل کرنے لگے ان کو اس کے حکم سے223 یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز224 کوئی تم میں سے چاہتا تھا دنیا اور کوئی تم میں سے چاہتا تھا آخرت پھر تم کو الٹ دیا ان پر سے تاکہ تم کو آزماوے225 اور وہ تو تم کو معاف کرچکا اور اللہ کا فضل ہے ایمان والوں پر226

223 حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ احد کی ہنگامی شکست کی وجہ سے دشمنوں نے مسلمانوں کے سامنے جس شبہ کا اظہار کیا اور جس کی وجہ سے بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ واقعی اللہ نے تو ہمیں مدد اور نصرت کا وعدہ دیا تھا تو پھر ہمیں شکست کیوں ہوئی۔ قال ناس من اصحابہ من این اصابنا ھذا وقد وعدن اللہ النصر (مدارک ص 146 ج 1) اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کا اصل جواب ارشاد فرمایا ہے اور مسلمانوں کی اس ہنگامی شکست کی اصل وجہ بیان فرمائی ہے اس سے پہلے دو دفعہ اس شبہ کا جواب گذر چکا ہے جس کا حاصل صرف تسلی اور دلاسا ہے۔ صَدَقَ راست کرد یعنی سچ کردکھایا ای حقق (مدارک) حَسٌ کاٹنا اور قتل کرنا۔ بِِاِذْنِهٖ ۔ یعنی اللہ کی توفیق اور اس کی طرف سے اسباب کی آسانی سے ای بتیسیرہ و توفیقہ (روح ص 89 ج 4) اور وعدہ سے مراد نصرت وامداد کا وعدہ جو اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا الخ (رکوع 13) میں مذکور ہے یعنی اللہ نے تو اپنے وعدہ کے مطابق تمہاری مدد کی اور تمہیں ہمت اور توفیق عطا فرمائی چناچہ یہ اللہ کی مدد ہی اس کی طرف سے ہمت افزائی ہی کا اثر تھا کہ تم جنگ میں مشرکین کو کاٹ کاٹ کر ڈھیر کر ہے تھے۔ اور کشتوں کے پشتے لگا رہے تھے۔ 224 یہ شکست کی اصل وجہ کا بیان ہےحضور ﷺ نے عبداللہ بن جبیر کی سر کر گی میں 50 تیر اندازوں کا دستہ ایک گھاٹی میں متعین فرمایا تھا جب مسلمانوں کی فتح ہوگئی تو ان تیز اندازوں میں اختلاف رائے ہوگیا اکثر نے کہا اب ہمارا یہاں ٹھہرنا ضروری نہیں کیونکہ ہماری فتح ہوچکی ہے۔ امیر دستہ اور تقریباً دس اور سپاہیوں نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں یہیں کھڑے رہنے کا حکم ہے اس لیے اپنے مورچہ کو مت چھوڑو لیکن وہ نہ مانے اورحضور ﷺ کے احکام نیز اپنے امیر کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے گھاٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ اور مال غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہوگئے۔ مَاتُحِبُّوْنَ ۔ مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست مطلب یہ کہ اللہ نے تو اپنا وعدہ پورا فرمادیا۔ یہاں تک کہ تم نے اپنا محبوب مقصد (یعنی فتح وظفر) پالیا مگر اس کے بعد تم نے کمزوری ہمت کا ثبوت دیا اور میرے پیغمبر کے حکم کی تعمیل میں جھگڑنے لگے اور آخر امر رسول ﷺ اور حکم امیر کی خلاف ورزی کی اور درہ چھوڑدیا اور نتیجہ میں میں تمہاری فتح شکست میں بدل گئی۔ حاصل یہ کہ جو کچھ ہوا محض تمہاری اپنی غلطی کی بنا پر ہوا۔ اللہ کے وعدہ نصرت میں کوئی تخلف نہیں ہوا۔ 225 یہ ان مومنوں کے لیے زجر و عتاب ہے جنہوں نے طمع مال کی خاطر درہ چھوڑ دیا اور جو اپنے امیر کے ساتھ ثابت قدم رہے اور محض ثواب آخرت کی خاطر اس درہ پر ہی اپنے امیر کے ہمراہ حملہ آور مشرکوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ان کے حسن صنیع کی طرف اشارہ ہے۔ العتاب مع امن انھزم لا مع من ثبت فان من ثبت فاز بالثواب (قرطبی ص 237 ج 4) ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ جب تم نے یہ غلطی کی تو اللہ نے تم کو کافروں سے پھیر دیا اور تم منہزم ہو کر منتشر ہوگئے۔ لَیَبْتَلِیکُمْ اللہ نے یہ وقتی شکست بھی تمہیں نیچا دکھانے اور مشرکین کے سامنے ذلیل کرنے کے لیے نہیں دی تھی۔ بلکہ اس سے تمہارا ابتلاء وامتحان مقصود تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے درہ چھوڑنے والوں اور میدان سے بھاگنے والوں کیلئے عام معافی نامہ جب اس غلطی اور کوتاہی کے بعد وہ سخت نادم ہوئے اور گڑگڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ازروئے تفضل وترحم ان کی دعائیں قبول کیں اور ان کو معافی عطا فرمائئی لہذا اب آخرت میں ان کو اس پر گرفت نہیں ہوگی۔ المراد بذالک العفو عن الذنب وھو عام لسائر المنہزمین (روح ص 90 ج 4) 226 ۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں مسلمانوں پر متفضل اور مہربان ہے اگر ان کو شکست دیتا ہے تو امتحان وابتلا میں ثابت قدم رہنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے۔ کیونکہ اس سے ان کا ابتلاء مقصود ہوتا ہے جو ان کے حق میں سراسر رحمت ہے امتحان وابتلاء میں ثابت قدم رہنے سے ان کے ایمان میں پختگی آتی ہے اور ان کے دل شکوک و شبہات کی میل کچیل سے صاف اور مجلی ہوجاتے ہیں۔ ھو متفضل علیھم فی جمیع الاحوال سواء ادیل لھم او ادیل علیھم لان الابتلاء رحمۃ کما ان النصرۃ رحمۃ (مدارک ص 146 ج 1) یہ مومنین اور حضرات صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت کی انتہا ہے۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

جب تم چڑھے چلے جاتے تھے اور پیچھے پھر کر نہ دیکھتے تھے کسی کو اور رسول ﷺ پکارتا تھا تم کو تمہارے پیچھے سے227 پھر پہنچا تم کو غم عوض میں غم کے تاکہ تم غم نہ کیا کرو اس پر جو ہاتھ سے نکل جاوے اور نہ اس پر کہ جو کچھ پیش آجاوے228 اور اللہ کو خبر ہے تمہارے کام کی

27 اِذ ظرف صَرَفَکُمْ سے متعلق ہے اِذْ تُصْعِدُوْنَ متعلق بصرفکم (ابو السعود ص 98 ج 3) ۔ تُصْعِدُوْنَ جب تم وادیوں میں سے ہو کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (قرطبی ص 239 ج 4) تَلْوٗنَ ۔ لَیٌُّ سے ہے جس کے معنی گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنے کے ہیں۔ فِیْ اُخْرٰکُمْ پیچھے سے۔ یَدْعُوْکُمْ مِّنْ وَّرَائِکُمْ (روح ص 91 ج 4) جب اللہ نے تم کو کافروں سے پھیر کر منہزم کردیا تو تمہارا یہ حال تھا کہ تم بدحواسی کے عالم میں میدان سے وادیوں میں بھاگ رہے گے اور خوف وہراس کی وجہ سے ادھر ادھر گردن موڑ کی کسی طرف نہیں دیکھتے تھے اور خدا کا رسول تمہیں پیچھے سے واپس بلا رہا تھا۔ اس میں بھاگنے والون کے زبردست زجر اور توبیخ ہے کہ خدا کا رسول جس کے حکم کی تعمیل تم پر فرض تھی وہ تمہیں بلا رہا تھا۔ لیکن تم سیدھے بھاگے جا رہے تھے۔ 228 غم اول سے مراد قتل وہزیمت کا غم ہے اور غم ثانی سے آنحضور ﷺ کا رنج مراد ہے جو مسلمانوں کی وجہ سے آپ کو اٹھانا پڑا۔ ای اثابکم عما بسبب غم اذقتموہ رسول اللہ ﷺ بعصیانکم لہ ومخالفتکم امرہ (روح ص 92 ج 4) ۔ لِکَیْلا اگر اَثَابَکُمْ سے متعلق ہو تو بظاہر مفہوم غیر مرتبط سا ہوجاتا ہے کیونکہ غم کی جزا غم سے دینا حزن کا سبب تو بن سکتا ہے نہ کہ عدم حزن کا اس لیے حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ لِکَیْلَا اَثَابَکُمْ سے متعلق نہیں بلکہ اس کا متعلق محذوف ہے ای اخبرکم بذالک المذکور لکیلا تحزنوا الخ اور یہاں پہلی تمام زجریں بیان کرنے کی وجہ بتائی ہے مطلب یہ کہ ان تمام مذکورہ واقعات کی اطلاع تم کو اس لیے دے رہا ہوں تاکہ تم فوت شدہ منافع اور جو تکلیفیں تم کو پہنچی ہیں ان پر افسوس اور غم نہ کرو۔ حضرت شاہ ولی اللہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ این پند دادن برائے آنست کرتا اندوہناک نشوید۔ اللہ تمہارے ظاہری اعمال اور باطنی اغراض کو بخوبی جانتا ہے اس لیے ظاہر و باطن میں اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو اس طرح اس میں نیک کاموں کی ترغیب اور برے کاموں سے ترہیب ہے وھذا فی ترغیب فی الطاعۃ وترھیب عن المعصیۃ (مدارک ص 147 ج 1) ۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر تم پر اتارا تنگی کے بعد امن کو جو اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس اونگھ نے بعض کو تم میں سے229 بعضوں کو فکر پڑ رہا تھا اپنی جان کا خیال کرتے تھے اللہ پر جھوٹے خیال جاہلوں جیسے230 کہتے تھے کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں231 تو کہہ سب کام ہے اللہ کے ہاتھ وہ اپنے جی میں چھپاتے ہیں جو تجھ سے ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں اگر کچھ کام ہوتا ہمارے ہاتھ تو ہم مارے نہ جاتے اس جگہ232 تو کہہ اگر تم ہوتے اپنے گھروں میں البتہ باہر نکلتے جن پر لکھ دیا تھا مارا جانا اپنے پڑاؤ پر233 اور اللہ کو آزمانا تھا جو کچھ تمہارے جی میں ہے اور صاف کرنا تھا اس کا جو تمہارے دل میں ہے234 اور اللہ جانتا ہے دلوں کے بھید235

229 نُعَاساً ، اَمَنَةً سے بدل ہے جب مسلمانوں کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی جو مخلص مسلمان میدان میں باقی تھے ان پر ایک دم غنودگی طار ہوگئی اور وہ کھڑے کھڑے ہی اونگھنے لگے۔ اور ان کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ چھوٹ کر زمین پر گرنے لگیں۔ عین لڑائی اور ہنگامہ کا رازار میں نیند کا ا آجانایہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی اس کا اثر یہ ہوا کہ تھکے ہارے، زخموں سے چور اور سہمے ہوئے مجاہدین کے دلوں سے خوف وہراس کا اثر کافور ہوگیا اور وہ تازہ دم ہو کر از سر نو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ طَائِفةٌ مِّنْکُم یہ غنودگی تمام مسلمانوں پر طاری نہیں ہوئی بلکہ صرف مخلص مومنین پر ان ھذہ الطائفۃ ھم المؤمنون الذین کافوا علی البصیرۃ فی ایمانھم (کبیر ص 103 ج 3) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنے انعام و احسان کا ذکر فرمایا کہ کس طرح اس نے شکست وخذلان کے بعد دوبارہ فتح عطا کی اور کس طرح ان کے خوف ہراس کو سکون و اطمینان سے تبدیل کیا۔ جو لوگ صادق الایمان تھے ان پر عین معرکہ جنگ میں غوندگی ڈال دی جس سے خوف ہراس جاتا رہا۔ 230 اس طائفہ سے منافقین مراد ہیں اجمع الفرسرون علی ان ھذہ الطائفۃ ھم المنافقون (بحر ص 87 ج 3) قد اھمتھم ان فسہم ان کو تو بس اپنی جانوں کی فکر تھی نہ اسلام کی فکر تھی۔ نہ پیغمبر خدا ﷺ کا خیال تھا اور نہ مسلمانوں کا۔ کیونکہپ یہ لوگ تو آئے ہی مال غنیمت کی خاطر تھے نہ کہ اسلام کے لیے غَیْرَالْحَقِّ خلاف حقیقت اور ایسا گمان جو خدا کے ایان شان نہ ہو۔ یَظُنُّوْنَ بِاللہِ غیر الظن الحق الذی یجب ان یظن بہ (کبیر ص 105 ج 3) ظَنَّ الْجَاھِلِیَّةِ یہ مفعول مطلق ہے، تشبیہ کے لیے یا ماقبل سے بدل ہے اور لفظ جاہلیت محاورہ قرآنی میں اسلام سے پہلے ؟ شرک کے لیے استعمال ہوا ہے اہل اخلاص پر تو ہلکی سی نیند طاری کردی جو ان کے لیے زوال خوف اور ثبات و استقامت کا باعث ہوئی لیکن منافقین اس رحمت نعاس سے محروم رہے اس لیے ان کی گھبراہٹ اور بزدلی بحال رہی اور لگے وہ اپنے کفر ونفاق کا اظہار کرنے اور اللہ کی ذات منزہ صفات سے متعلق ایسی بدگمانیا کرنے لگے جو سراسر اس کی شان نے پایاں کے خلاف اور بالکل دور جاہلیت کے مشرکوں اور جاہلوں کے خیالات باطلہ سے ملتی جلتی تھیں مثلاً وہ یہ گمان کرنے لگے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سے تائید ونصرت اور فتح وظفر کا وعدہ کرے اور پھر اسے پورا نہ کرے۔ ای ٰطنون ان اخلاف وعدہ سبحانہ حاصل (روح ص 54 ج 4) ۔ 231 وہ تو ان کے باطن کا حال تھا اب ظاہر کا حال بھی سن لو۔ استفہام انکار کے لیے ہے اور امر سے فتح ونصرت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کا محمد ہم سے وعدہ کرتا ہے وہ ہرگز نہیں آئے۔ المعنی یقول لیس لنا من الظفر الذی وعدنا بہ محمد شیئ (قرطبی ص 242 ج 4) یا استفہام اپنے اصل پر ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ منافقین بطور سوال نیاز مندانہحضور ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ حضور ! جس فتح ونصرت کا اللہ نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے کیا وہ آئے گی۔ یقول الحاضرون منھم لرسول اللہ ﷺ علی صورۃ لاسترشاد ھل لنا من امر اللہ تعالیٰ ووعدہ بالنصر شیئ (روح ص 95 ج 4) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ جواب دینے کا حکم دیا کہ فتح ونصرت کا معاملہ مکمل طور پر خدا کے اختیار میں ہے جب اس نے اپنے رسول سے وعدہ کرلیا تو وہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ یُخْفُوْنَ فِیْ اَنْفُسِہِمْ مَّالَا یُبْدُوْنَ لَک۔ ان کی یہ ساری نیاز مندیاں اور چاپلوسیاں محض منافقانہ ہیں وہ اپنے دلوں میں ایسی ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں جن کو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتے۔ 232 یہ ماقبل سے بدل ہے یا سوال مقدر کا جواب ہے۔ اور منافقین جو کچھ اپنے دلوں میں چھپائے پھرتے تھے۔ اس کا بیان ہے۔ والجملۃ لما بدل من یخفون او استئناف وقع جوابا عن سؤال نشا مما قبلہ کانہ قیل مالذی اخفوہ۔ فقیل ذالک (روح ص 96 ج 1) اور المر سے وہی فتح ونصرت کا وعدہ مراد ہے منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف وعدہ وغیرہ نہیں اگر واقعی محمد ﷺ کے ذریعے اللہ نے ہم سے فتح ونصرت کا کوئی وعدہ کیا ہوتا تو ہم یوں بری طرح شکست نہ کھاتے اور نہ ہی اس طرح ہمارے عزیز رشتہ دار قتل ہوتے دوسرے لفظوں میں یہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب تھی بعض مفسرین نے الامر سے تدبیر اور مشورہ مراد لیا ہے۔ مِنَ الْاَمْرِ قیل من الری والتدبیر (بحر ص 89 ج 3) یعنی وہ آپس میں کہتے ہیں کہ ہماری تو سنی کسی نے نہیں ہم نے تو کہا تھا کہ ہم مدینہ سے باہر نکلیں ہی نہیں اپنے گھروں ہی میں رہیں اگر ہماری رائے مان لی جاتی اور ہمارے مشورہ پر عمل کرلیا جاتا تو نہ ہمیں یہ ہزیمت ہوتی اور نہ ہمارا اس قدر خون ہوتا۔ 233 مَضَاجِعْ جمع مضجع کی ہے اور اس سے قتل ہو کر گرنے کی جگہ مراد ہے جہاں اللہ کے علم میں ان کا قتل مقدر تھا ای مصارعھم التی علم اللہ تعالیٰ وقدر قتلھم فیھا (روح ص 96 ج 4) یہ منافقین کے مذکورہ بالا قول کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت کا وقت مقدر کسی صورت میں نہیں ٹل سکتا اور نہ تدبیر و احتیاط سے قضاء وقدر کو بدلا جاسکتا ہے اے منافقین ! اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلتے اور گھروں ہی میں بیٹھے رہتے تو جن لوگوں کا قتل اللہ کے علم ازلی میں غزوہ احد میں مقدر ہوچکا تھا وہ اللہ کے تکوینی اور تقدیری قانون کے ماتحت ضرور اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے اور اپنی قتل گاہوں میں پہنچ کر یقیناً قتل ہوجاتے بھلا اللہ کے تکوینی احکام بھی کسی سے ٹل سکتے ہیں ؟ ومعنی الایۃ ان الحذر لا ینفع من القدر التدبیر لا یقاوم التقدیر فالذین قدر علیھم القتل وقضاہ وحکم بہ علیھم لا بدو ان یقتلوا الخ (خازن 366 ج 1) ۔ 234 وَلِیَبْتَلِیَ میں واؤ عاطفہ ہے اور اس کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ ای فعل ذالک لمصالح جمۃ وللابتاوالتمحیص (مدارک ص 147 ج 1) اور یہ خطاب عام ہے مومنین اور منافقین دونوں کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جہاد فرض کیا اور پھر جنگ احد میں تھوڑی دیر کے لیے امداد ونصرت کو روک لیا اور تمہیں شکست دے دی یہ سب کچھ بہت ہی حکمتوں کے تحت کیا جن میں سے ایک یہ تھی کہ تاکہ تمہارے صبر و استقلال کا امتحان لیا جائے اور تمہارے دلوں کے پوشیدہ رازوں کو منکشف کیا جائے یعنی مخلصین کا اخلاص اور منافقین کا نفاق ظاہر کیا جائے۔ لیختبر اللہ تعالیٰ ما فی صدورکم باعمالکم۔ ای لیکشف ما فی قلوبکم من مخفیات الامور او النفاق یمیزھا (روح ص 97 ج 4) ۔ 235 اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی سے دلوں کے بھید جانتا ہے اس لیے اسے تو ابتلاء وامتحان کی ضرورت نہیں البتہ بعض مصلحتوں کی بنا پر وہ اپنے بندوں کو امتحان میں مبتلا کرتا ہے مثلاً مخلص مؤمنین کی تمرین وتثلیث اور منافقین کے نفاق کا کشف و اظہار وغیرہ۔
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ہٹ گئے جس دن لڑیں دو236 فوجیں سو ان کو بہکا دیا شیطان نے ان کے گناہ کی شامت سے اور ان کو بخش چکا اللہ، اللہ بخشنے والا ہے تحمل کرنے والاف 237

236 اَلْجَمْعَانِ (دو لشکر) یعنی مسلمانوں کا اور مشرکوں کا جنگ احد میں جن صحابیوں سے لغزش ہوگئی تھی اور وہ مشرکین کے اچانک ہلے پر بدحواس ہو کر بھاگ نکلے تھے اس آیت میں ان کی مزید تسکین و تسلی فرمائی اور آئندہ کے لیے محتاط رہنے کی تلقین فرمائی۔ بعض ما کسبوا سے یا توتیر انداز دستے کا اپنے مورچہ کو چھوڑدینا دمراد ہے کیونکہ احد میں مسلمانوں کی شکست اس لغزش کا سب سے زیادہ دخل ہے یا اس سے ان کے بعض گذشتہ گناہ مراد ہیں کیونکہ بعض اوقات انسان اپنی شامت اعمال کی وجہ سے بھی خدا کی تائید ونصرت سے محروم ہوجاتا ہے اور ایک گناہ سے دوسرے گناہ کیلئے آمادہ کرنے کا شیطان کو بھی موقع مل جاتا ہے یعنی جنگ احد میں جو مسلمان شکست خوردہ ہو کر بھاگ نکلے تھے ان کے کسی پچھلے گناہ کی شامت سے شیطان نے ان کو بہکا پھسلا کر ان کے قدم ڈگمگادئیے اور وہ میدان سے ہٹ گئے۔ اس سے چند آیتیں پہلے بھی اللہ نے ان مومنین کے لیے معافی کا اعلان فرمایا اب ان کی مزید تسکین وتشفی کے لیے دوبارہ معافی کا اعلان فرمادیا اللہ کا فضل وکرم اور اس کی شفقت و رحمت سے بھرپور الفاظ کے ساتھ تیر اندازوں یا میدان سے ہٹنے والوں سے جو لغزش ہوئی اس پر صرف تنبیہ فرمائی اور اس کی پاداش میں کوئی تباہ کن شکست بھی نہیں دی۔ اور پھر ان کا قصور بھی ایسا معاف فرمایا کہ آخرت میں اس پر ان کی کوئی داروگیر نہیں ہوگی اس لیے اب اس قصور کی بنا پر دنیا میں ان صحابہ کرام ؓ پر طعن وملامت کرنے کا بھی کسی کو حق نہیں۔ 237 جو لوگ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں اللہ ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور آخرت میں ان پر مواخذہ نہیں فرمائے گا اور جو مجرم اور گنہگار اس سے معافی نہیں مانگتے ان پر فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ انہیں توبہ و استغفار کا موقع دیتا ہے۔
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو تم نہ ہو ان کی طرح جو کافر ہوئے اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو جب وہ سفر کو نکلیں ملک میں یا ہوں جہاد میں اگر رہتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے238 تاکہ اللہ ڈالے اس گمان سے افسوس ان کے دلوں میں239 اور اللہ ہی جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے سب کام دیکھتا ہے240

238 اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے منافقین مراد ہیں وھم المنافقون کعبداللہ بن ابی و اصحابہ (روح ص 99 ج 4) لِاِخْوَانِھِمْ میں لام بمعنی فِیْ ہے اور اخوان سے یہاں مذہبی بھائی مراد ہیں یعنی منافقین اور اگر اخوت سے نسبی اخوت مراد ہو تو اس میں وہ مخلص مومنین بھی شامل ہوں گے جو ان کے ہم نسب تھے۔ ای فی حق اخوانھم فی النسب او فی النفاق (مدارک ص 184 ج 1) اس آیت لَااِلیَ اللہِ تُحْشَرُوْنَ تک ایمان والوں کو خطاب ہے اور ان کو ان منافقین کی طرح ہونے سے روکا گیا ہے جن کا تقدیر پر بھی ایمان نہیں تھا اور وہ اپنے ان مذہبی بھائیوں (منافقوں، یا نسبی بھائیوں (مسلمانوں) کے حق میں جو کسی تجارتی یا دوسرے سفر میں مرگئے یا کسی غزوہ میں شہید ہوگئے یوں کہتے تھے کہ اگر یہ ہمارے بھائی سفر پر نہ جاتے اور محمد ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوتے تو موت اور قتل سے بچ جاتے اور زندہ رہ کر خوب مزے کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب فرمایا کہ محی اور ممیت تو میں خود ہوں موت وحیات میرے اپنے قبضہ میں ہے اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہو گے تو وہاں بھی موت تمہیں اپنے معین وقت پر آکر دبوچ لے گی اس لیے اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ جس کو جہاں چاہے مارے اور پھر اللہ کی راہ میں اور پھر جہاد کرتے ہوئے مرجانا تو سراسر اللہ کی رحمت ومغفرت کا موجب ہے ان آیتوں میں خطاب مومنوں سے ہے لیکن اس کے ضمن میں منافقوں کو زجر بھی کیا گیا ہے۔ 239 لِیَجْعَلَ میں لام عاقبت کا ہے اور قَالُوْا سے متعلق ہے ای قالوا ذالک واعتقدوا لیکون ذالک حسرۃ فی قلوبھم (مدارک ص 148 ج 1) یعنی ان منافقوں نے مذکورہ بالا بات کہی کہ اگر وہ گھر رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اور دل میں بھی یہ اعتقاد جمالیا کہ واقعی گھر میں رہنا موت اور قتل سے بچا سکتا ہے تو اس اعتقاد کا نتیجہ اور انجام یہ ہوگا کہ ان کے دلوں میں حسرت وافسوس اور ندامت و پیشمانی پیدا ہوگی اور اس سے ان کو سخت اذیت اور تکلیف پہنچے گی۔ والاشارۃ الی القول لکن باعتبار ما فیہ من الاعتقاد واللام لام العاقبۃ (روح ص 101 ج 4) اور اگر لام کا متعلق محذوف مانیں یعن القی اللہ ذالک الاعتقاد فی قلوبھم تو اس صورت میں لام عاقبت کا نہیں بلکہ تعلیلیہ ہوگا۔ 240 یہ منافقوں کے قول مذکور کا رد ہے اور موت وحیات اللہ کے اختیار میں ہے سفروحضرت کو اس میں کوئی دخل نہیں وہ جب چاہے مسافر اور مجاہد کو زندہ سلامت واپس لے آئے اور جب چاہے گھر میں بیٹھے بٹھائے اور جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کو لقمہ اجل بنا دے۔
Ayah 3:157

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم مارے گئے اللہ کی راہ میں یا مرگئے تو بخشش اللہ کی اور مہربانی اس کی بہتر ہے اس چیز سے جو وہ جمع کرتے ہیں241

241 لَئِنْ قَتَلْتُمْ کی جزا محذوف ہے۔ یعنی فلا تحزنوا۔ اور مَغْفِرۃ ةٌالخ جزاء محذوف کی علت ہے اور یَجْمَعُوْنَ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کی طرف راجع ہے کفار اور منافقین چونکہ دنیا کے بندے تھے ان کی ساری دوڑ دھوپ بس صرف دنیوی فوائد کے لیے تھے اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ ان کی عمریں بہت لمبی ہوں اور وہ دنیا میں رہ کر خوب مزے کریں۔ سفر میں مرنے والوں اور اللہ کی راہ میں شہید ہونیوالوں کے بارے میں ان کا مذکورہ قول جہاں ان کے باطنی خیالات اور قلبی رجحانات کو طشت ازبام کرتا ہے وہاں اس سے یہ بھی ممکن تھا کہ کہیں مسلمانوں کے دلوں میں کم ہمتی یا جہاد سے جی چرانے کا وسوسہ پیدا ہوجائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایمان والوں کو جہاد کی ترغیب فرمائی اور اللہ کی راہ میں ان کو جو تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں ان کے بارے میں ان کی تسلی اور تشفی فرمادی۔ وفیہ ترغیب المؤمنین فی الجھاد۔ وتعزیۃ لھم وتسلیۃ فما اصابھم فی سبیل اللہ تعالیٰ اثر ابطال ما عسی ان یثبطھم عن اعلاء کلمۃ اللہ تعالیٰ (روح ص 104 ج 4) یعنی اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارا جائے یا کسی اور دینی کام میں موت طبعی سے مرجائے تو غم کرنے کی ضرورت سے نہیں کیونکہ اللہ کی رحمت ومغفرت ان نفسانی خطوط اور دنیوی منافع سے کہیں بہتر ہے جن کو حاصل کرنے میں یہ کفار اور منافقین دن رات مصروف ہیں۔
Ayah 3:158

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے تو البتہ اللہ ہی کے آگے اکٹھے ہو گے تم سب242

242 اگر تم طبعی موت مرجاؤ یا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہوجاؤ تو تمہارے لیے خوف وہراس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ تم موت اور قتل کے بعد خدائے غفور روحیم کی بارگاہ میں حاضر کیے جاؤ گے جو تمہیں اپنی رحمت اور بخشش سے نوازے گا آخرت میں خدا کی رحمت ومغفرت کے امیدوار صرف تم ایمان والے ہو کفار، مشرکین اور منافقین آخرت میں رحمت ومغفرت کے بجائے خدا کے غضب و عقاب کا موردبنیں گے۔ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا سے یہاں تک خطاب ایمان والوں سے ہے لیکن اس سے منافقین کا زجر بھی مقصود ہے۔
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

سو کچھ اللہ ہی کی رحمت ہے جو تو نرم دل مل گیا ان کو اور اگر تو ہوتا تندخو سخت دل تو متفرق ہوجاتے تیرے پاس سے243 سو تو ان کو معاف کر اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور ان سے مشورہ لے کام میں244 پھر جب قصد کرچکا تو اس کام کا تو پھر بھروسہ کر اللہ پر اللہ کو محبت ہے توکل والوں سے245

243 یہاں سے وَعَلیَ اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ تک آنحضرت ﷺ نے ان سے نہایت ہی مشفقانہ سلوک فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے نیک سلوک کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کا یہ سلوک محض اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کے دل میں القا فرمایا کہ آپ ان سے رفق اور مہربانی کا سلوک کریں اگر اس موقعہ پر آپ ان صحابہ کا سختی سے نوٹس لیتے اور درشتی سے پیش آتے تو ان کے دل ٹوٹ جاتے اور ان کے دلوں میں نفرت کے جذبات انگڑائیاں لینے لگتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ آپ سے علیحدہ ہوجاتے۔ انہ (علیہ السلام) لما رفق بمن تولی یوم احد ولم یغنھم بین الرب تعالیٰ انہ انما فعل ذالک بتوفیق اللہ تعالیٰ ایاہ (قرطبی ج 4 ص 348) فَظٌّ بد زبان غَلِیْظَ الْقَلْبُ سخت دل۔ 244 صحابہ کرام سے مزید رحمت و شفقت سے پیش آنے کی تلقین فرمائی کہ ان سے جو غلطی ہوئی اس سے آپ بھی درگذر فرمائیں اور اللہ سے بھی ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ اور ان میں جو اصحاب رائے ہیں ان سے تو آپ جنگی معاملات اور دیگر امور جن کے بارے وحی سے کوئی حکم نازل نہ ہوا ہو ان سے مشورہ بھی فرمایا کریں اس سے ان کے دلوں میں مزید خوشی اور راحت پیدا ہوگی نیز ان کی قدر دانی ہوگی۔ وَشَاوِرْھُمْ ای فی امرالحرب ونحوہ ممالمینزل علیک فیہ وحی تطییبا لنفوسہم وترویحا لقلوبھم ورفعا لاقدارھم (مدارک ص 148 ج 1) ۔ 245 جب مشورہ وغیر ہولے اور آپ کسی کام کا عزم اور پختہ ارادہ کرلیں تو اس میں کامیابی کے لیے آپ کا اعتماد اور بھروسہ محض اللہ پر ہونا چاہئے نہ کہ اسباب وذرائع پر اور مشوروں پر المعنی اذا حصل الرای التاکد بالمشورۃ فلا یجب ان یقع الاعتماد علیہ بل یجب ان یکون الاعتماد علی اعانۃ اللہ وتسدیدہ وعصمتہ الخ (کبیر ج 3 ص 122) کیونکہ اسباب میں تاثیر پیدا کرنا اور باہمی صلاح ومشورہ سے سوچی ہوئی تدبیروں اور سکیموں کو کامیاب کرنا اور مقاصد وحاجات کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لانہ سبحانہ السند الاقوم والمجا الاعظم الذی لا تؤثر الاسباب الا بہ ولا تنقضی الحاج الا عندہ بابہ (روح ص 108 ج 4) ۔ اس لیے جنگ و قتال سے پہلے تمام ممکنہ اسباب مہیا کرنے اور باہمی مشورہ کرنے کے بعد کامیابی کے لیے محض اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کر کے میدان جنگ میں کود پڑو اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھ دے گا۔ کیونکہ جو لوگ ظاہری اسباب مہیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پہ بھروسہ کرتے اور تمام نتائج کو اس کے سپرد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا اور ان کی مدد فرماتا ہے۔
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہو سکے گا اور اگر مدد نہ کرے تمہاری تو پھر ایسا کون ہے جو مدد کرسکے تمہاری اس کے بعد246 اور اللہ ہی پر بھروسہ چاہئیے مسلمانوں کو

246 ۔ فتح وشکست اور نصرت وخذلان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مدد کرنے پر آتا ہے تو بےسروسامانی کے باوجود غلبہ عطا فرما دیتا ہے اور بڑی بڑی طاقت ور اور کثیر فوجوں کو مغلوب کردیتا ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا بےسروسامان اور مٹھی بھر مسلمانوں نے اللہ کی تائید وامداد سے مشرکین کی عظیم فوج کو شکست فاش دیدی لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہاری امداد اور نصرت سے دست کش ہوجائے تو پھر زمین و آسمان میں کوئی تمہارا ناصروغمخوار اور یارومددگار نہیں ہوگا جیسا کہ جنگ احد میں ہوا۔ اس لیے حقیقی اعتماد اور بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہونا چاہئے۔ وَعَلیَ اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے صرف ایک اللہ کو اپنا معبود (عبادت اور پکار کے لائق، کارساز، حاجت روا اور مشکلکشا مانا ہے اور ان کا ایمان ہے کہ صرف اللہ پر توکل واعتماد ہی سے ان کو ہر کام میں کامیابی اور ہر میدان میں غلبہ حاصل ہوگا اور وہ جانتے ہیں کہ قضاء وقدر اسی کے ہاتھ میں ہے اور کار گاہ عالم کا ہر معاملہ اس کے قبضہ میں ہے۔ یعنی لما ثبت ان الامر کلہ بید اللہ وانہ قادر لقضاءہ ودافع لحکمہ واجب ان لایتوکل المؤمن الا علیہ (کبیر ج 3 ص 123) ۔
Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نبی کا کام نہیں کہ کچھ چھپا رکھے247 اور جو کوئی چھپاویگا وہ لائیگا اپنی چھپائی چیز دن قیامت کے پھر پورا پاویگا ہر کوئی جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا248

247 ۔ یہاں سے لے کر وَاللہُ بَصِیْرٌ بِمَایَعْمَلُوْنَ تک منافقین کے لیے زجر اور ان کا شکوہ ہے جنگ بدر کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کیا جارہا تھا اس وقت ایک جبہ یا چادر ذخیرہ غنیمت سے غائب پایا گیا تو بعض منافقین نے کہہ دیا کہ رسول نے لے لیا ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بطور زجر فرمایا کہ مال غنیمت سے اس طرح بلا اطلاع کوئی چیز لے لینا تو صریح خیانت ہے اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرلے۔ جواب کے اس طرز سے اشارہ فرمادیا کہ نبوت اور خیانت کسی ایک شخص میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ خیانت ایک جرم اور کبیرہ گناہ ہے اور انبیاء (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں المراد ان النبوۃ والخیانۃ لا یجتمعان (کبیر ج 3 ص 124) ۔ المعنی انہ لا یمکن ذالک منہ لان الغلول معصیۃ والنبی ﷺ معصوم من المعاصی فاعین ان یقع فی شیئ منھا وھذا النفی اشارۃ الی انہ لا ینبغی ان یتوھم فیہ ذالک (بحر ج 3 ص ؟ ) ۔ قرآن مجید کے اس مختصر اور بلیغ جملے نے ان تمام غلط خیالات کی تردید کردی۔ جو نبوت کے بارے میں کسی کے دل میں پیدا ہوسکتے تھے مشرکین اور منافقین تو ویسے ہی مرتبہ نبوت کے شرف وفضل سے ناواقف اور بیخبر تھے اہل کتاب اگرچہ نبوت سے آشنا تھے مگر رفتہ رفتہ ان کے خیال میں نبی کی حیثیت صرف کاہن کی سی رہ گئی اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ نبی ایک کاہن ہوتا ہے جو آئندہ کی خبریں دیتا ہے اور عصمت کو وہ لازمہ نبوت نہیں سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ بائیبل میں جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) کی طرف کئی کبیرہ گناہ منسوب کیے گئے ہیں اس آیت میں ان تمام غلط خیالات کی تردید فرما دی۔ 248 جو شخص دنیا میں خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ مال خیانت اٹھائے ہوئے عدالت خداوندی میں حاضر ہوگا۔